• title-pages-sahih-bukhari-ka-difa-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ،جسے امت  کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔امام بخاری﷫کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ بھی  ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ بھی  ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوتِ استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔ صحیح بخاری کی   کئی مختلف اہل علم نے شروحات ،ترجمے اور حواشی وغیرہ کا کام کیا ہے شروح صحیح بخاری میں فتح الباری کو ایک امتیازی مقام اور قبولِ عام حاصل ہے ۔لیکن بعض نام نہاد اہل علم ہمیشہ سے صحیح بخاری  پر اعتراضات کرتے چلے آئے  ہیں اور اس کی بعض روایات کو عقل سلیم سے سمجھنے کی بجائے اس پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ علماء حق نے ان کے کمزور اعتراضات اور بیہودہ تنقید کا  ہمیشہ مسکت اور مدلل جواب دے کر انہیں چپ رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " صحیح بخاری کا دفاع"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب﷫  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  صحیح بخاری پر کئے گئے اعتراضات کا علمی جائزہ پیش کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو حدیث نبویﷺ پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔آمین(راسخ)

  • copy-of-title-page-sahih-bukhari-ka-mutalia-aur-fitna-inkar-e-hadees
    حافظ ابو یحیٰ نور پوری
    قرآن مجید کے بعد صحیح بخاری سب کتابوں سے زیادہ صحیح کتاب ہے ۔جیسا کہ امت مسلمہ کے متفقہ تلقی بالقبول والے اصول (اصح الکتب بعد کتاب اللہ )اور اجماع سے ثابت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کہ منکرین حدیث نے صحیح بخاری کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے اور اسی سلسلے میں شبیر احمد ازہر میرٹھی نے ’اسماء الرجال‘کے بھیس میں ’صحیح بخاری کا مطالعہ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اس عظیم الشان کتاب پر بے جا الزام تراشی کر کے اس کی شان کو گھٹانے کی کوشش کی ہے جو بقول شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ بدعتی ہونے کی نشانی ہے۔زیر نظر کتاب میں فاضل نوجوان حافظ ابو یحیٰ نورپوری نے میرٹھی کی کتاب کا مفصل رد لکھا ہے اور اصول حدیث،علم اسماء الر جال اور اصول محدثین کی روشنی میں اس کی تردید کی ہے تاکہ عامۃ المسلمین منکرین حدیث کے فتنے اور تلبیسات سے محفوظ رہیں۔
  • pages-from-sahi-muslim-urdu-1
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نوویکی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے۔ پاک وہند میں بھی کئی اہل علم نے عربی  واردو  زبان میں اس کی  شروحات  وحواشی لکھے۔ عربی زبان میں نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں علامہ وحید الزمان کا ترجمہ قابل ذکر ہے اورطویل عرصہ سے یہی  ترجمہ متداول ہے۔لیکن  اس قدیم اردو کی تسہیل و تھذیب اوراحادیث کی ترقیم کرکے اب کئی مکتبات نے بڑی عمدہ طباعت کے ساتھ صحیح مسلم کا ترجمہ شائع کیا ہے۔ او ر دار السلام تو نے نئے ترجمہ وحواشی کے ساتھ اسے طبع کیا ہے۔ زیر تبصرہ صحیح مسلم کا ترجمہ محترم عزیز الرحمن صاحب نے کیا ہے جو کہ تین مجلدات پر مشتمل ہے۔ اور تینوں جلدوں کی فہارس عناوین ابواب کےساتھ  لنک شدہ ہیں۔ اسی لیے اسے  ویب سائٹ پر  پبلش کیا گیا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرنے میں آسانی ہوسکے۔(م۔ا)

  • pages-from-sahi-muslim-urdu-2
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نوویکی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے۔ پاک وہند میں بھی کئی اہل علم نے عربی  واردو  زبان میں اس کی  شروحات  وحواشی لکھے۔ عربی زبان میں نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں علامہ وحید الزمان  کا ترجمہ قابل ذکر ہے اورطویل عرصہ سے یہی  ترجمہ متداول ہے۔لیکن  اس قدیم اردو کی تسہیل و تھذیب اوراحادیث کی ترقیم کرکے اب کئی مکتبات نے بڑی عمدہ طباعت کے ساتھ صحیح مسلم کا ترجمہ شائع کیا ہے۔ او ر دار السلام تو نے نئے ترجمہ وحواشی کے ساتھ اسے طبع کیا ہے۔ زیر تبصرہ صحیح مسلم کا ترجمہ محترم عزیز الرحمن صاحب نے کیا ہے جو کہ تین مجلدات پر مشتمل ہے۔ اور تینوں جلدوں کی فہارس عناوین ابواب کےساتھ  لنک شدہ ہیں۔ اسی لیے اسے  ویب سائٹ پر  پبلش کیا گیا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرنے میں آسانی ہوسکے۔(م۔ا)

  • pages-from-sahi-muslim-urdu-3
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نوویکی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے۔ پاک وہند میں بھی کئی اہل علم نے عربی  واردو  زبان میں اس کی شروحات  وحواشی لکھے۔ عربی زبان میں نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں علامہ وحید الزمان کا ترجمہ قابل ذکر ہے اورطویل عرصہ سے یہی  ترجمہ متداول ہے۔لیکن  اس قدیم اردو کی تسہیل و تھذیب اوراحادیث کی ترقیم کرکے اب کئی مکتبات نے بڑی عمدہ طباعت کے ساتھ صحیح مسلم کا ترجمہ شائع کیا ہے۔ او ر دار السلام تو نے نئے ترجمہ وحواشی کے ساتھ اسے طبع کیا ہے۔ زیر تبصرہ صحیح مسلم کا ترجمہ محترم عزیز الرحمن صاحب نے کیا ہے جو کہ تین مجلدات پر مشتمل ہے۔ اور تینوں جلدوں کی فہارس عناوین ابواب کےساتھ  لنک شدہ ہیں۔ اسی لیے اسے  ویب سائٹ پر  پبلش کیا گیا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرنے میں آسانی ہوسکے۔(م۔ا)

  • title-pages-sahih-muslam-urdu-1-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے ۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے  پیش  نظر  صحیح بخاری کی طرح اس کی  بہت زیادہ  شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں  امام  نوویکی  شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل  ہے ۔پاک وہند میں  بھی  کئی اہل  علم  نے   عربی  واردو  زبان میں اس کی  شروحات  وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں  نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں  علامہ وحید الزمان  کا ترجمہ  قابل ذکر    ہے اورطویل  عرصہ سے یہی  ترجمہ   متداول ہے لیکن اب اس کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے کتب  ستہ کے ترجمے کرکے  شائع کیے جائیں۔ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا ۔ تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔تحقیق وتخریج  ،ترجمہ  وفوائد سے مزین دار السلام کی  چار کتابیں ( صحیح  بخاری ،سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ۔اور عنقریب  صحیح بخاری  کی مفصل اردو  شرح بھی   منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح  صحیح مسلم  ترجمہ و مختصر فوائد کے  ساتھ  بھی اسی سلسلہ کی کڑی  ہے صحیح مسلم  کے ترجمہ کی  تکمیل اور اس کی مفصل شرح کا  کام ابھی  جاری  ہے  ۔صحیح مسلم  کا یہ  ترجمہ  ومختصر  فوائد  پروفیسر محمد یحییٰ جلالپوری ﷾ نےتحریرکیے ہیں۔اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب  کی  کاوشوں کو  قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslam-urdu-2-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے ۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے  پیش  نظر  صحیح بخاری کی طرح اس کی  بہت زیادہ  شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں  امام  نوویکی  شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل  ہے ۔پاک وہند میں  بھی  کئی اہل  علم  نے   عربی  واردو  زبان میں اس کی  شروحات  وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں  نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں  علامہ وحید الزمان  کا ترجمہ  قابل ذکر    ہے اورطویل  عرصہ سے یہی  ترجمہ   متداول ہے لیکن اب اس کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے کتب  ستہ کے ترجمے کرکے  شائع کیے جائیں۔ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا ۔ تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔تحقیق وتخریج  ،ترجمہ  وفوائد سے مزین دار السلام کی  چار کتابیں ( صحیح  بخاری ،سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ۔اور عنقریب  صحیح بخاری  کی مفصل اردو  شرح بھی   منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح  صحیح مسلم  ترجمہ و مختصر فوائد کے  ساتھ  بھی اسی سلسلہ کی کڑی  ہے صحیح مسلم  کے ترجمہ کی  تکمیل اور اس کی مفصل شرح کا  کام ابھی  جاری  ہے  ۔صحیح مسلم  کا یہ  ترجمہ  ومختصر  فوائد  پروفیسر محمد یحییٰ جلالپوری ﷾ نےتحریرکیے ہیں۔اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب  کی  کاوشوں کو  قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslam-urdu-3-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے ۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے  پیش  نظر  صحیح بخاری کی طرح اس کی  بہت زیادہ  شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں  امام  نوویکی  شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل  ہے ۔پاک وہند میں  بھی  کئی اہل  علم  نے   عربی  واردو  زبان میں اس کی  شروحات  وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں  نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں  علامہ وحید الزمان  کا ترجمہ  قابل ذکر    ہے اورطویل  عرصہ سے یہی  ترجمہ   متداول ہے لیکن اب اس کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے کتب  ستہ کے ترجمے کرکے  شائع کیے جائیں۔ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا ۔ تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔تحقیق وتخریج  ،ترجمہ  وفوائد سے مزین دار السلام کی  چار کتابیں ( صحیح  بخاری ،سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ۔اور عنقریب  صحیح بخاری  کی مفصل اردو  شرح بھی   منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح  صحیح مسلم  ترجمہ و مختصر فوائد کے  ساتھ  بھی اسی سلسلہ کی کڑی  ہے صحیح مسلم  کے ترجمہ کی  تکمیل اور اس کی مفصل شرح کا  کام ابھی  جاری  ہے  ۔صحیح مسلم  کا یہ  ترجمہ  ومختصر  فوائد  پروفیسر محمد یحییٰ جلالپوری ﷾ نےتحریرکیے ہیں۔اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب  کی  کاوشوں کو  قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslim-dar-us-salam-5-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے ۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے  پیش  نظر  صحیح بخاری کی طرح اس کی  بہت زیادہ  شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں  امام  نوویکی  شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل  ہے ۔پاک وہند میں  بھی  کئی اہل  علم  نے   عربی  واردو  زبان میں اس کی  شروحات  وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں  نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں  علامہ وحید الزمان  کا ترجمہ  قابل ذکر    ہے اورطویل  عرصہ سے یہی  ترجمہ   متداول ہے لیکن اب اس کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے کتب  ستہ کے ترجمے کرکے  شائع کیے جائیں۔ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا ۔ تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔تحقیق وتخریج  ،ترجمہ  وفوائد سے مزین دار السلام کی  چار کتابیں ( صحیح  بخاری ،سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ۔اور عنقریب  صحیح بخاری  کی مفصل اردو  شرح بھی   منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح  صحیح مسلم  ترجمہ و مختصر فوائد کے  ساتھ  بھی اسی سلسلہ کی کڑی  ہے صحیح مسلم  کے ترجمہ کی  تکمیل اور اس کی مفصل شرح کا  کام ابھی  جاری  ہے  ۔صحیح مسلم  کا یہ  ترجمہ  ومختصر  فوائد  پروفیسر محمد یحییٰ جلالپوری ﷾ نےتحریرکیے ہیں۔اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب  کی  کاوشوں کو  قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslim-dar-us-salam-4-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے ۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے  پیش  نظر  صحیح بخاری کی طرح اس کی  بہت زیادہ  شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں  امام  نوویکی  شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل  ہے ۔پاک وہند میں  بھی  کئی اہل  علم  نے   عربی  واردو  زبان میں اس کی  شروحات  وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں  نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں  علامہ وحید الزمان  کا ترجمہ  قابل ذکر    ہے اورطویل  عرصہ سے یہی  ترجمہ   متداول ہے لیکن اب اس کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے کتب  ستہ کے ترجمے کرکے  شائع کیے جائیں۔ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا ۔ تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔تحقیق وتخریج  ،ترجمہ  وفوائد سے مزین دار السلام کی  چار کتابیں ( صحیح  بخاری ،سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ۔اور عنقریب  صحیح بخاری  کی مفصل اردو  شرح بھی   منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح  صحیح مسلم  ترجمہ و مختصر فوائد کے  ساتھ  بھی اسی سلسلہ کی کڑی  ہے صحیح مسلم  کے ترجمہ کی  تکمیل اور اس کی مفصل شرح کا  کام ابھی  جاری  ہے  ۔صحیح مسلم  کا یہ  ترجمہ  ومختصر  فوائد  پروفیسر محمد یحییٰ جلالپوری ﷾ نےتحریرکیے ہیں۔اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب  کی  کاوشوں کو  قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslam-shareef-1-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام مسلم کی وہ مہتم بالشان تصنیف ہے ،جو صحاح ستہ میں سے ایک اور صحیح بخاری کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب  ہے۔اس کی تمام روایات صحیح درجہ کی ہیں اور اس میں کوئی بھی روایت ضعیف یا موضوع نہیں ہے۔امام مسلم نے اس کتاب کو کئی لاکھ احادیث نبویہ کے مجموعہ سے منتخب فرما کر بڑی جانفشانی اور محنت سے مرتب فرمایا ہے۔اس کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ہر صحیح حدیث اپنی کتاب میں بیان نہیں کی بلکہ میں نےاس کتاب میں صرف وہ حدیث بیان کی ہے کہ جس کی صحت پر محدثین کا اجماع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چہار دانگ عالم میں ’صحیح مسلم‘ پوری آب وتاب کے کےساتھ جلوہ گر ہے۔ صحیح مسلم کا یہ طبع   کمپیوٹرائزڈچھ جلدوں اور علامہ وحید الزماں کے ترجمے پر مشتمل ہے،جسے خالد احسان پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔اس نسخے میں تمام احادیث کو نئے سرے سے کمپوز کیا گیا ہے اور راوی حدیث کے متن حدیث کا مرکزی حصہ الگ فونٹ میں لکھا گیا ہے تاکہ فرمان نبوی کا حصہ نمایاں ہو جائے۔تمام احادیث کی عالمی معیار کے مطابق نمبرنگ کی گئی ہےتاکہ قارئین کو حوالہ تلاش کرنے میں آسانی رہے۔عربی اعراب کی درستگی کے ساتھ ساتھ بعض جگہوں پر اردو زبان کے پرانے الفاظ کو جدید الفاظ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف ،مترجم ،اورناشر  کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو احادیث نبویہ پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین(راسخ) 

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslam-shareef-1-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام مسلم کی وہ مہتم بالشان تصنیف ہے ،جو صحاح ستہ میں سے ایک اور صحیح بخاری کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب  ہے۔اس کی تمام روایات صحیح درجہ کی ہیں اور اس میں کوئی بھی روایت ضعیف یا موضوع نہیں ہے۔امام مسلم نے اس کتاب کو کئی لاکھ احادیث نبویہ کے مجموعہ سے منتخب فرما کر بڑی جانفشانی اور محنت سے مرتب فرمایا ہے۔اس کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ہر صحیح حدیث اپنی کتاب میں بیان نہیں کی بلکہ میں نےاس کتاب میں صرف وہ حدیث بیان کی ہے کہ جس کی صحت پر محدثین کا اجماع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چہار دانگ عالم میں ’صحیح مسلم‘ پوری آب وتاب کے کےساتھ جلوہ گر ہے۔ صحیح مسلم کا یہ طبع   کمپیوٹرائزڈچھ جلدوں اور علامہ وحید الزماں کے ترجمے پر مشتمل ہے،جسے خالد احسان پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔اس نسخے میں تمام احادیث کو نئے سرے سے کمپوز کیا گیا ہے اور راوی حدیث کے متن حدیث کا مرکزی حصہ الگ فونٹ میں لکھا گیا ہے تاکہ فرمان نبوی کا حصہ نمایاں ہو جائے۔تمام احادیث کی عالمی معیار کے مطابق نمبرنگ کی گئی ہےتاکہ قارئین کو حوالہ تلاش کرنے میں آسانی رہے۔عربی اعراب کی درستگی کے ساتھ ساتھ بعض جگہوں پر اردو زبان کے پرانے الفاظ کو جدید الفاظ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف ،مترجم ،اورناشر  کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو احادیث نبویہ پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین(راسخ) 

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslam-shareef-1-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام مسلم کی وہ مہتم بالشان تصنیف ہے ،جو صحاح ستہ میں سے ایک اور صحیح بخاری کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب  ہے۔اس کی تمام روایات صحیح درجہ کی ہیں اور اس میں کوئی بھی روایت ضعیف یا موضوع نہیں ہے۔امام مسلم نے اس کتاب کو کئی لاکھ احادیث نبویہ کے مجموعہ سے منتخب فرما کر بڑی جانفشانی اور محنت سے مرتب فرمایا ہے۔اس کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ہر صحیح حدیث اپنی کتاب میں بیان نہیں کی بلکہ میں نےاس کتاب میں صرف وہ حدیث بیان کی ہے کہ جس کی صحت پر محدثین کا اجماع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چہار دانگ عالم میں ’صحیح مسلم‘ پوری آب وتاب کے کےساتھ جلوہ گر ہے۔ صحیح مسلم کا یہ طبع   کمپیوٹرائزڈچھ جلدوں اور علامہ وحید الزماں کے ترجمے پر مشتمل ہے،جسے خالد احسان پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔اس نسخے میں تمام احادیث کو نئے سرے سے کمپوز کیا گیا ہے اور راوی حدیث کے متن حدیث کا مرکزی حصہ الگ فونٹ میں لکھا گیا ہے تاکہ فرمان نبوی کا حصہ نمایاں ہو جائے۔تمام احادیث کی عالمی معیار کے مطابق نمبرنگ کی گئی ہےتاکہ قارئین کو حوالہ تلاش کرنے میں آسانی رہے۔عربی اعراب کی درستگی کے ساتھ ساتھ بعض جگہوں پر اردو زبان کے پرانے الفاظ کو جدید الفاظ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف ،مترجم ،اورناشر  کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو احادیث نبویہ پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین(راسخ) 

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslam-shareef-1-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام مسلم کی وہ مہتم بالشان تصنیف ہے ،جو صحاح ستہ میں سے ایک اور صحیح بخاری کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب  ہے۔اس کی تمام روایات صحیح درجہ کی ہیں اور اس میں کوئی بھی روایت ضعیف یا موضوع نہیں ہے۔امام مسلم نے اس کتاب کو کئی لاکھ احادیث نبویہ کے مجموعہ سے منتخب فرما کر بڑی جانفشانی اور محنت سے مرتب فرمایا ہے۔اس کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ہر صحیح حدیث اپنی کتاب میں بیان نہیں کی بلکہ میں نےاس کتاب میں صرف وہ حدیث بیان کی ہے کہ جس کی صحت پر محدثین کا اجماع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چہار دانگ عالم میں ’صحیح مسلم‘ پوری آب وتاب کے کےساتھ جلوہ گر ہے۔ صحیح مسلم کا یہ طبع   کمپیوٹرائزڈچھ جلدوں اور علامہ وحید الزماں کے ترجمے پر مشتمل ہے،جسے خالد احسان پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔اس نسخے میں تمام احادیث کو نئے سرے سے کمپوز کیا گیا ہے اور راوی حدیث کے متن حدیث کا مرکزی حصہ الگ فونٹ میں لکھا گیا ہے تاکہ فرمان نبوی کا حصہ نمایاں ہو جائے۔تمام احادیث کی عالمی معیار کے مطابق نمبرنگ کی گئی ہےتاکہ قارئین کو حوالہ تلاش کرنے میں آسانی رہے۔عربی اعراب کی درستگی کے ساتھ ساتھ بعض جگہوں پر اردو زبان کے پرانے الفاظ کو جدید الفاظ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف ،مترجم ،اورناشر  کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو احادیث نبویہ پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین(راسخ) 

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslam-shareef-1-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام مسلم کی وہ مہتم بالشان تصنیف ہے ،جو صحاح ستہ میں سے ایک اور صحیح بخاری کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب  ہے۔اس کی تمام روایات صحیح درجہ کی ہیں اور اس میں کوئی بھی روایت ضعیف یا موضوع نہیں ہے۔امام مسلم نے اس کتاب کو کئی لاکھ احادیث نبویہ کے مجموعہ سے منتخب فرما کر بڑی جانفشانی اور محنت سے مرتب فرمایا ہے۔اس کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ہر صحیح حدیث اپنی کتاب میں بیان نہیں کی بلکہ میں نےاس کتاب میں صرف وہ حدیث بیان کی ہے کہ جس کی صحت پر محدثین کا اجماع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چہار دانگ عالم میں ’صحیح مسلم‘ پوری آب وتاب کے کےساتھ جلوہ گر ہے۔ صحیح مسلم کا یہ طبع   کمپیوٹرائزڈچھ جلدوں اور علامہ وحید الزماں کے ترجمے پر مشتمل ہے،جسے خالد احسان پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔اس نسخے میں تمام احادیث کو نئے سرے سے کمپوز کیا گیا ہے اور راوی حدیث کے متن حدیث کا مرکزی حصہ الگ فونٹ میں لکھا گیا ہے تاکہ فرمان نبوی کا حصہ نمایاں ہو جائے۔تمام احادیث کی عالمی معیار کے مطابق نمبرنگ کی گئی ہےتاکہ قارئین کو حوالہ تلاش کرنے میں آسانی رہے۔عربی اعراب کی درستگی کے ساتھ ساتھ بعض جگہوں پر اردو زبان کے پرانے الفاظ کو جدید الفاظ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف ،مترجم ،اورناشر  کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو احادیث نبویہ پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین(راسخ) 

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahih-muslam-shareef-1-copy
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام مسلم کی وہ مہتم بالشان تصنیف ہے ،جو صحاح ستہ میں سے ایک اور صحیح بخاری کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب  ہے۔اس کی تمام روایات صحیح درجہ کی ہیں اور اس میں کوئی بھی روایت ضعیف یا موضوع نہیں ہے۔امام مسلم نے اس کتاب کو کئی لاکھ احادیث نبویہ کے مجموعہ سے منتخب فرما کر بڑی جانفشانی اور محنت سے مرتب فرمایا ہے۔اس کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ہر صحیح حدیث اپنی کتاب میں بیان نہیں کی بلکہ میں نےاس کتاب میں صرف وہ حدیث بیان کی ہے کہ جس کی صحت پر محدثین کا اجماع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چہار دانگ عالم میں ’صحیح مسلم‘ پوری آب وتاب کے کےساتھ جلوہ گر ہے۔ صحیح مسلم کا یہ طبع   کمپیوٹرائزڈچھ جلدوں اور علامہ وحید الزماں کے ترجمے پر مشتمل ہے،جسے خالد احسان پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔اس نسخے میں تمام احادیث کو نئے سرے سے کمپوز کیا گیا ہے اور راوی حدیث کے متن حدیث کا مرکزی حصہ الگ فونٹ میں لکھا گیا ہے تاکہ فرمان نبوی کا حصہ نمایاں ہو جائے۔تمام احادیث کی عالمی معیار کے مطابق نمبرنگ کی گئی ہےتاکہ قارئین کو حوالہ تلاش کرنے میں آسانی رہے۔عربی اعراب کی درستگی کے ساتھ ساتھ بعض جگہوں پر اردو زبان کے پرانے الفاظ کو جدید الفاظ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف ،مترجم ،اورناشر  کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو احادیث نبویہ پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین(راسخ) 

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-sahi-muslim-1
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام مسلم ﷫(204ھ۔261ھ) کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی زبان میں لکھی گئی شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نوویکی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔پاک وہند میں بھی کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں اس کی شروحات وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں علامہ وحید الزمان کا ترجمہ قابل ذکر   ہے اورطویل عرصہ سے یہی ترجمہ متداول ہے لیکن اب اس کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے کتب ستہ کے ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح مسلم مع مختصر شرح نووی وتخریج‘‘ علامہ وحید الزمان کی ترجمہ شدہ ہے۔لیکن اس میں اس ترجمہ کی قدم اردو کو تسہیل کےساتھ پیش کیا گیا ہے ۔صحیح مسلم کے کئی نسخے بازار میں دستیات ہیں مگر مکتبہ اسلامیہ، لاہور نےاس عظیم کتاب کو منفرد انداز اورامتیازی خوبیوں کےساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ یہ نسخہ درج ذیل امتیازات اور خصوصیات سے مزین ہے۔ مختلف نسخوں سےتقابل کے بعدصحیح ترین عبارت نقل کی گئی ہے،آیات کریمہ کی تخریج کا اہتمام کیا گیا ہے،تخریج حدیث اور رقم الحدیث کے ذریعے دیگر کتب احادیث کی طرف رہنمائی کامنفرد کام، مسلسل حدیث نمبر کا انتخاب، ہر حدیث مبارکہ کی مکمل تشریح حدیث کے ساتھ ہی مکمل کی گئی ہے،قارئین کی سہولت کے لیے حدیث کےمتن یعنی آپ ﷺ کے الفاظ کو سند اور دیگر عبارات سے الگ فونٹ کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔ اللہ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-sahi-muslim-2
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام مسلم ﷫(204ھ۔261ھ) کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی زبان میں لکھی گئی شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نوویکی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔پاک وہند میں بھی کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں اس کی شروحات وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں علامہ وحید الزمان کا ترجمہ قابل ذکر   ہے اورطویل عرصہ سے یہی ترجمہ متداول ہے لیکن اب اس کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے کتب ستہ کے ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح مسلم مع مختصر شرح نووی وتخریج‘‘ علامہ وحید الزمان کی ترجمہ شدہ ہے۔لیکن اس میں اس ترجمہ کی قدم اردو کو تسہیل کےساتھ پیش کیا گیا ہے ۔صحیح مسلم کے کئی نسخے بازار میں دستیات ہیں مگر مکتبہ اسلامیہ، لاہور نےاس عظیم کتاب کو منفرد انداز اورامتیازی خوبیوں کےساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ یہ نسخہ درج ذیل امتیازات اور خصوصیات سے مزین ہے۔ مختلف نسخوں سےتقابل کے بعدصحیح ترین عبارت نقل کی گئی ہے،آیات کریمہ کی تخریج کا اہتمام کیا گیا ہے،تخریج حدیث اور رقم الحدیث کے ذریعے دیگر کتب احادیث کی طرف رہنمائی کامنفرد کام، مسلسل حدیث نمبر کا انتخاب، ہر حدیث مبارکہ کی مکمل تشریح حدیث کے ساتھ ہی مکمل کی گئی ہے،قارئین کی سہولت کے لیے حدیث کےمتن یعنی آپ ﷺ کے الفاظ کو سند اور دیگر عبارات سے الگ فونٹ کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔ اللہ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-sahi-muslim-3
    امام مسلم بن الحجاج

    صحیح مسلم امام مسلم ﷫(204ھ۔261ھ) کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی زبان میں لکھی گئی شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نوویکی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔پاک وہند میں بھی کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں اس کی شروحات وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں علامہ وحید الزمان کا ترجمہ قابل ذکر   ہے اورطویل عرصہ سے یہی ترجمہ متداول ہے لیکن اب اس کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے کتب ستہ کے ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح مسلم مع مختصر شرح نووی وتخریج‘‘ علامہ وحید الزمان کی ترجمہ شدہ ہے۔لیکن اس میں اس ترجمہ کی قدم اردو کو تسہیل کےساتھ پیش کیا گیا ہے ۔صحیح مسلم کے کئی نسخے بازار میں دستیات ہیں مگر مکتبہ اسلامیہ، لاہور نےاس عظیم کتاب کو منفرد انداز اورامتیازی خوبیوں کےساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ یہ نسخہ درج ذیل امتیازات اور خصوصیات سے مزین ہے۔ مختلف نسخوں سےتقابل کے بعدصحیح ترین عبارت نقل کی گئی ہے،آیات کریمہ کی تخریج کا اہتمام کیا گیا ہے،تخریج حدیث اور رقم الحدیث کے ذریعے دیگر کتب احادیث کی طرف رہنمائی کامنفرد کام، مسلسل حدیث نمبر کا انتخاب، ہر حدیث مبارکہ کی مکمل تشریح حدیث کے ساتھ ہی مکمل کی گئی ہے،قارئین کی سہولت کے لیے حدیث کےمتن یعنی آپ ﷺ کے الفاظ کو سند اور دیگر عبارات سے الگ فونٹ کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔ اللہ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • sahih-muslim-mein-bazahir-do-ahadees-menin-taaruz
    محمد حسین میمن

    بعض لوگ سرسری طور پر حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ایسا ہی کچھ طرز عمل سود سے متعلق صحیح مسلم کی دو صحیح احادیث کے ساتھ اختیار کیا گیا،اور احادیث سمجھ میں آنے کی وجہ سے ان کو باہم متصادم قرار دے دیا گیا۔(کتاب پر معترض کا نام موجود نہیں ہے)حالانکہ مسلم شریف کی صحت پر تمام اہل علم کا اتفاق ہےامام مسلم ﷫خود اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔''میں صحیح مسلم میں ہر وہ حدیث نہیں لکھتا جو میرے نزدیک صحیح نہیں ہے مسلم میں تو صرف وہ احادیث لکھیں ہے جس پر اجماع ہوچکا ہے ۔''اور پھر بظاہردو متعارض احادیث کو جمع کرنے کے طریقے بھی محدثین کے معروف ہیں۔لیکن ان معروف طریقوں کو چھوڑ کر سرے سے ہی حدیث کا انکار کر دینا اسلام کی خدمت ہر گز نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب " صحیح مسلم میں بظاہر دو متعارض احادیث میں تطبیق " خادم حدیث مولانا محمد حسین میمن کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وحدیث اور اصول حدیث کی روشنی میں معترض کے اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-sahi-ya-sabit-hadees-e-rasool-saw-key-baghair-deen-namukammal-hai
    سید آصف عمری

    آنحضور ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کاتخیل جس طرح ملت اسلامیہ میں انتشار و خلفشار کا باعث بنا، اسی طرح انکار حدیث کا شوشہ بھی اپنے نتائج کے اعتبار سے کچھ کم خطرناک نہیں ہے۔ قرآن کریم کے بعد حدیث نبوی ﷺ اسلامی احکام و تعلیمات کا دوسرا بڑا مآخذ ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن مجید کو کما حقہ سمجھنے کے لیے، اس پر رضائے الٰہی کے مطابق عمل کرنے کے لیے حدیث نبویﷺ کا ہونا از حد ضروری اور اہم ہے۔ دین اسلام کے بے شمار احکامات حدیث رسول ﷺ کے بغیر ناقص ہیں مثلاً' نماز کاطریقہ، زکوٰۃ کا نصاب، حج کے مناسک وغیرہ۔ منکرین حدیث نے لوگوں کو حدیث رسول ﷺ کے متعلق شکوک و شبہات میں مبتلا کیا اور یہ نعرہ بلند کیا کہ امت کی راہنمائی کے لیے صرف قرآن ہی کافی ہے۔ اسلام کے مخالفین نے اسلام کو کمزور کرنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے ضعیف احادیث سے مسائل کو استنباط کرتے ہوئے دین اسلام کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کیں۔ زیر تبصرہ کتاب"صحیح یا ثابت حدیث رسول ﷺ کے بغیر دین نا مکمل ہے" ڈاکٹر سید آصف عمری کی تالیف ہے۔ موصوف نے اصول حدیث، تدوین حدیث کے کارنامے اور حدیث رسول ﷺ کے متعلق جامع بحث کی ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-sahihain-ki-riwayaat-aur-scientific-haqaeq-ka-taqabli-mutaleah
    باثرہ شغیف نورانی

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، مکمل ضابطۂ حیات او رتمام علوم کا عظیم خزینہ ہے۔ احادیثِ مبارکہ قرآن مجید کی تفسیر اور حکمت بیان کرتی ہے ۔صحیح بخاری ومسلم شریف کتاب اللہ کے بعد اتباعِ رسول کا واحد مستند ذریعہ ہے۔ احادیث مبارکہ صحیح سمت انسان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ یہ وہ قانون ہے جس میں انسانیت کی تعمیر اور سوسائٹی کی تنظیم کے لیے درست بنیادیں ملتی ہیں ۔ اس میں حکمت ودانائی کی وہ باتیں ہیں جو بنی نوع انسان کی روحانی وجسمانی شفا کا باعث ہیں۔ احادیث مبارکہ اگرچہ سائنس کی کتاب نہیں اور نہ ہی سائنسی تعلیم کی فراہمی کے لیے نازل ہوئی ہیں تاہم یہ کسی سائنسی انسائیکلوپیڈیا سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان میں ایسے سائنسی حقائق موجود ہیں جہاں آج کی جدید سائنس بھی ان کی حدود کے ادراک اورتعین کی دسترس نہیں رکھتی۔ زیر تبصرہ مقالہ ’’صحیحین کی روایات اور سائنسی حقائق کا تقابلی مطالعہ‘‘ محترمہ باثرہ شغیف کی کاوش ہے جسے انہوں نے ایم ایس علوم اسلامیہ کی ڈگری کےحصول کے لیے ڈاکٹر زاہدہ شبنم صاحبہ کی نگرانی مکمل کر کے شعبہ علوم اسلامیہ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی، لاہور میں پیش کیا۔ یہ مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ مقالہ کی تیاری میں مستند حوالہ جات کتب ، ویب سائٹس اور میڈیکل کتب سےمدد لی گئی ہے۔ مقالہ نگار نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کی سائنسی حقانیت کوثابت کیا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-al-sahifa-tu-al-sahiha-al-maroof-sahifa-hammam-bin-munabbah
    حافظ عبد اللہ شمیم
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث منضبط کی تھیں انہیں صحیفہ کا نام دیا گیا۔ ان صحائف میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا تھا کہ احادیث کی تعداد کتنی ہے۔ مثلاً حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کے صحیفوں میں 150 سے زیادہ احادیث تھیں۔ جبکہ عبداللہ بن عمرو بن عاص اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے صحیفوں میں ایک ہزار سے زائد احادیث موجود تھیں۔ زیر نظر صحیفہ ’ہمام بن منبہ‘ بھی حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کی ان روایات کا مجموعہ ہےجوانھوں نے اپنے شاگرد ہمام بن منبہ بن کامل الصنعانی کو لکھوائی تھیں۔ ’صحیفہ ہمام بن منبہ‘ اگرچہ کتب احادیث میں متعدد جگہوں میں بکھرا ہوا تھا لیکن اصل صحیفہ مفقود تھا۔ اللہ تعالیٰ محترم ڈاکٹر حمیداللہ کی قبر پر رحمت نازل فرمائے، کہ انہوں نے دمشق اور برلن کی لائبریری سے مکمل صحیفے کو دریافت کر لیا۔ اسی صحیفے کا اردو قالب اس وقت آپ کے سامنے ہے، جو حافظ حامد محمود الخضری اور ان کے تلمیذ حافظ عبداللہ شمیم کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جنہوں نے صحیفہ کے ترجمہ و تشریح اور تخریج و اضافہ کا کام نہایت عرق ریزی سے کیا ہے۔ اس صحیفہ کی کل 139 احادیث ہیں، ان میں سے 61 عقائد و ایمانیات، 46 عبادات، 9 معاملات، 17 اخلاق و آداب اور 6 متفرق مسائل سے تعلق رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں اس صحیفہ میں 12 قدسی احادیث بھی موجود ہیں۔(ع۔م)
  • sahifa-hammam-bin-munabbahupdat
    حافظ عبد اللہ شمیم
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث منضبط کی تھیں انہیں صحیفہ کا نام دیا گیا۔ ان صحائف میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا تھا کہ احادیث کی تعداد کتنی ہے۔ مثلاً حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کے صحیفوں میں 150 سے زیادہ احادیث تھیں۔ جبکہ عبداللہ بن عمرو بن عاص اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے صحیفوں میں ایک ہزار سے زائد احادیث موجود تھیں۔ زیر نظر صحیفہ ’ہمام بن منبہ‘ بھی حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کی ان روایات کا مجموعہ ہےجوانھوں نے اپنے شاگرد ہمام بن منبہ بن کامل الصنعانی کو لکھوائی تھیں۔ ’صحیفہ ہمام بن منبہ‘ اگرچہ کتب احادیث میں متعدد جگہوں میں بکھرا ہوا تھا لیکن اصل صحیفہ مفقود تھا۔ اللہ تعالیٰ محترم ڈاکٹر حمیداللہ کی قبر پر رحمت نازل فرمائے، کہ انہوں نے دمشق اور برلن کی لائبریری سے مکمل صحیفے کو دریافت کر لیا۔ اسی صحیفے کا اردو قالب اس وقت آپ کے سامنے ہے، جو حافظ حامد محمود الخضری اور ان کے تلمیذ حافظ عبداللہ شمیم کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جنہوں نے صحیفہ کے ترجمہ و تشریح اور تخریج و اضافہ کا کام نہایت عرق ریزی سے کیا ہے۔ اس صحیفہ کی کل 139 احادیث ہیں، ان میں سے 61 عقائد و ایمانیات، 46 عبادات، 9 معاملات، 17 اخلاق و آداب اور 6 متفرق مسائل سے تعلق رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں اس صحیفہ میں 12 قدسی احادیث بھی موجود ہیں۔(آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-sahyooni-ki-dastavazat
    ابن حسن

    یہودی جوقرآن مقدس کی روسے مغضوب علیہم ہیں ،پوری دنیاکواپنے زیرتسلط لاناچاہتے ہیں ۔اس مقصدکے لیے وہ بہت عرصے سے جدوجہدمیں مصروف ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے فری میسن کے نام سے ایک صیہونی تنظیم قائم کی ہے جوانتہائی خفیہ طریقے سے ان کےمفادات کےلیے کام  کرتی ہے ۔اس  کے اراکین بڑے بڑے افرادوامراوحکام ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے ذریعے بھی صیہونی اپنااثرورسوخ بڑھارہے ہیں۔اس کااندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ اقوام متحدہ کے دس انتہائی اہم اداروں میں ان کے اہم ترین عہدوں پر73یہودی فائزہیں۔اقوام متحدہ کے صرف نیویارک کے دفترمیں بائیس شعبوں کے سربراہ یہودی  ہیں۔دنیاکی معیشت پربھی یہودیوں کامضبوط کنٹرول ہے ۔یہ سب کچھ دراصل ان دستاویزات کی بنیادپرہے جویہودیوں کے دانابزرگوں نے تحریرکی ہیں۔ان میں وہ تمام اصول وتصورات درج کردیے گئے ہیں جن کی ورشنی میں پوری دنیاپریہودی اقتدارقائم ہوگا۔واضح رہے کہ یہودی انہیں جعلی دستاویزات قراردیتے ہیں،لیکن یہ محظ دھوکہ ہے ۔زیرنظرکتاب میں یہودیوں کے ان اصولوں کواردوزبان میں پیش کیاگیاہے ،جن کامطالعہ چشم کشاثابت ہوگا۔ان شاء اللہ ۔

     

     

  • title-pages-zarb-e-hadees
    محمد صادق سیالکوٹی
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت شریعت اسلامیہ کی اہم ترین اساس ہے۔حدیث پاک کو نظر انداز کر دیا جائے تو نہ قرآن کریم کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی دین پر مکمل عمل ممکن ہے۔بعض گمراہ لوگ جو دین کا انکار کرنا چاہتے تھے اور شریعت کی پابندیوں سےآزادی کے خواہاں تھے،انہوں نے اس مقصد کے لیے حدیث پاک کو مشکوک ٹھہرانے کی ناپاک سعی کی اور بالآخر اسے ناقابل اعتبار قرار دے کہ مسترد کر دیا۔بر صغیر میں اس حوالے سے مولوی عبداللہ چکڑالوی کا نام خارجی شہرت رکھتا ہے۔بعد ازاں مختلف لوگوں نے اس فتنے کی آبیاری کی اور بالآخر پاکستان میں چودھری غلام احمد پرویز نے اسے خوب رواج دیا۔علما نے اس فتنے کے رد میں بے شمار کتابیں لکھیں اور ساتھ ساتھ مثبت طور پر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت وضرورت سے بھی آگاہ کیا۔انہی میں مولانا محمد صادق سیالکوٹی رحمہ اللہ کی زیر نظر کتاب ’ضرب حدیث‘بھی ہے۔اس میں مولانا مرحوم نے انتہائی شستہ اور علمی انداز میں اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حدیث کی حجیت کا اثبات کیا ہے اور انکار حدیث کے نتائج پر بھی روشنی ڈالی ہے۔(ط۔ا)

  • pages-from-zaeef-ahadees-ki-marfat
    غازی عزیر مبارکپوری

    حدیث شریف دین کا دوسرا بڑا ماخذ ہے ۔ اور بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث درحقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیع جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ﷢ ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے-۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان ﷜ کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتنے کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس   کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے   کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں­۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا   او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔ امت محمدیہ ﷺ میں جہاں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو حدیثِ رسول کودین کے مآخذ کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے منکر رہے ہیں وہاں چند ایسے جری دروغ گو بھی موجود رہے ہیں جنہوں نے صدہا احادیث   وضع کر کے نبی کریم ﷺ کے نام مبارک سے لوگوں میں پھیلا کر حدیث مبارکہ ’’جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اس نے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنایا‘‘ کا مصداق بنے۔جبکہ صحیح حدیث باتفاق امت واجب العمل ہے ۔البتہ ضعیف احادیث کے متعلق علماء امت کا نظریہ مختلف رہا ہے ۔ چند علماء فضائل اعمال کے بارے میں وارد احادیث پر عمل کے جواز کے قائل ہیں جبکہ کچھ علماء اس بات کے قائل ہیں کہ جب تک کوئی حدیث مکمل طور پر محقق نہ ہو اس پر عمل کے لیے   ایک مسلمان کو کسی طور پر بھی مکلف نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ زیر نظر کتاب ’’ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت‘‘ ہندوستان کے ممتاز عالم دین غازی عزیر مبارکپوری ﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ضعیف حدیث کی پہنچان اور اس کی شرعی حیثیت کے حوالے سے مستند حوالہ جات سے مزین   مباحث کی پیش کی ہیں ۔اس موضوع پر اس کتاب سے قبل عربی زبان میں تو   کافی مواد موجود تھا لیکن اردو زبان میں اتنا   مستند اور تفصیلی مواد نہ تھا۔ لیکن کتاب ہذا کے مصنف موصوف نے بڑی محنت سے اردو داں طبقہ کےلیے یہ کتاب مرتب کی   جو کہ طالبان ِعلوم نبوت کے لیے   گراں قدر علمی تحفہ ہے ۔کتاب کے مصنف طویل عرصہ سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔اپنی روز مرہ کی مصرفیت کے علاوہ   اچھے   مضمون نگار ، مصنف ، مترجم بھی ہیں۔ موصوف نے جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور کے زیر نگر انی چلنے والے ادارے ’’معہد العالی للشریعۃ والقضاء ‘‘ میں حصول شہادہ کے لیے 1995ء میں ایک تحقیقی وعلمی ضخیم مقالہ بعنوان ’’اصلاحی اسلو ب تدبر حدیث ‘‘ تحریر کیا ۔ جو کہ بعد میں پہلے انڈیا اور پھر پاکستان میں مکتبہ قدوسیہ کی طرف سے ’’انکار حدیث کا نیا روپ‘‘ کے نام سے دوجلدوں میں شائع ہوا۔ یہ مقالہ الحمد للہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے کئی علمی وتحقیقی مضامین پاک وہند کے علمی رسائل وجرائد میں شائع ہوچکے ہیں ۔ اللہ تعالی ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے   اور ان کی جہود کو قبول فرمائے (آمین)۔ م۔ا

  • pages-from-zaeef-ahadees-ki-marfat-aur-un-ki-shari-haisiyyat-jadeed-edition
    غازی عزیر مبارکپوری

    حدیث شریف دین کا دوسرا بڑا ماخذ ہے۔ اور بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث درحقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے۔ نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیع جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام﷢ اس کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے-۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان ﷜ کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتنے کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس   کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کے لیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے، اسانید کے درجات مقرر کئے۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں­۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے۔ موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔ جس سے ہر جہت سے صحیح، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔ امت محمدیہ ﷺ میں جہاں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو حدیثِ رسول کودین کے مآخذ کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے منکر رہے ہیں وہاں چند ایسے جری دروغ گو بھی موجود رہے ہیں جنہوں نے صدہا احادیث وضع کر کے نبی کریم ﷺ کے نام مبارک سے لوگوں میں پھیلا کر حدیث مبارکہ ’’جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اس نے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنایا‘‘ کا مصداق بنے۔ جبکہ صحیح حدیث باتفاق امت واجب العمل ہے۔ البتہ ضعیف احادیث کے متعلق علماء امت کا نظریہ مختلف رہا ہے۔ چند علماء فضائل اعمال کے بارے میں وارد احادیث پر عمل کے جواز کے قائل ہیں جبکہ کچھ علماء اس بات کے قائل ہیں کہ جب تک کوئی حدیث مکمل طور پر محقق نہ ہو اس پر عمل کے لیے ایک مسلمان کو کسی طور پر بھی مکلف نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ زیر نظر کتاب ’’ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت‘‘ ہندوستان کے ممتاز عالم دین غازی عزیر مبارکپوری ﷾ کی تصنیف ہے۔ اس سے قبل بھی فاضل مصنف نے اس موضوع پر اسی نام سے کتاب کو تألیف کیا تھا مگر مذکورہ کتاب فاضل مصنف کی اسی موضوع پر ہے اور اسمیں مزید مفید اضافے کیے ہیں۔جس میں انہوں نے ضعیف حدیث کی پہنچان اور اس کی شرعی حیثیت کے حوالے سے مستند حوالہ جات سے مزین مباحث کی پیش کی ہیں۔ اس موضوع پر اس کتاب سے قبل عربی زبان میں تو کافی مواد موجود تھا لیکن اردو زبان میں اتنا مستند اور تفصیلی مواد نہ تھا۔ لیکن کتاب ہذا کے مصنف موصوف نے بڑی محنت سے اردو داں طبقہ کےلیے یہ کتاب مرتب کی جو کہ طالبان ِعلوم نبوت کے لیے گراں قدر علمی تحفہ ہے۔ کتاب کے مصنف طویل عرصہ سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔اپنی روز مرہ کی مصرفیت کے علاوہ اچھے مضمون نگار، مصنف ، مترجم بھی ہیں۔ موصوف نے جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور کے زیر نگر انی چلنے والے ادارے ’’معہد العالی للشریعۃ والقضاء ‘‘ میں حصول شہادہ کے لیے 1995ء میں ایک تحقیقی وعلمی ضخیم مقالہ بعنوان ’’اصلاحی اسلو ب تدبر حدیث ‘‘ تحریر کیا۔ جو کہ بعد میں پہلے انڈیا اور پھر پاکستان میں مکتبہ قدوسیہ کی طرف سے ’’انکار حدیث کا نیا روپ‘‘ کے نام سے دوجلدوں میں شائع ہوا۔ یہ مقالہ الحمد للہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ ان کے کئی علمی وتحقیقی مضامین پاک وہند کے علمی رسائل وجرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالی ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی جہود کو قبول فرمائے۔ (آمین)

  • title-pages-zaef-aur-mangharat-waqiyat-1-copy
    حافظ محمد انور زاھد

    حدیث شریف دین کا دوسرا بڑا ماخذ ہے ۔ اور بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث درحقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیع جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے-۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتنے کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ضعیف اورمن گھڑت واقعات‘‘حافظ محمد انوار زاہد ﷾ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے طبقات ابن سعد ، میزان الاعتدال ، سلسلۃ احادیث ضعیفہ،الخصائص الکبریٰ وغیرہ کتب حدیث سے ضعیف اور موضوع روایات کواخذ کر کے ان کا ترجمہ کر کے اسے چار جلدوں میں مرتب کیا ہے ۔ ضعیف اور من گھڑت کے واقعات کے سلسلے میں اردو زبان میں یہ ایک منفرد کاوش ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-zaef-aur-mangharat-waqiyat-2-copy
    حافظ محمد انور زاھد

    حدیث شریف دین کا دوسرا بڑا ماخذ ہے ۔ اور بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث درحقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیع جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے-۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتنے کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ضعیف اورمن گھڑت واقعات‘‘حافظ محمد انوار زاہد ﷾ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے طبقات ابن سعد ، میزان الاعتدال ، سلسلۃ احادیث ضعیفہ،الخصائص الکبریٰ وغیرہ کتب حدیث سے ضعیف اور موضوع روایات کواخذ کر کے ان کا ترجمہ کر کے اسے چار جلدوں میں مرتب کیا ہے ۔ ضعیف اور من گھڑت کے واقعات کے سلسلے میں اردو زبان میں یہ ایک منفرد کاوش ہے ۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2489 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں