• pages-from-shob-ul-iman-vol-6
    امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

    اسلام کے دو بنیادی اور صافی سر چشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ و تابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’شعب الایمان اردو‘‘ امام ابی بکر احمد بن الحسین البیھقی کی ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا قاضی ملک محمد اسماعیل صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایمان کے ستتر (77) شعبوں سے متعلق نصوص قرآنی، احادیث نبویہ، صحابۂ کرام﷢، تابعین و تبع تابعین اور صلحاء امت و صوفیائے کرام کے آثار، اقوال و اشعار پر مشتمل (11269) روایات کا جامع و مفصل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی سات جلدیں ہیں اساتذہ، طلباء اور دیگر لوگوں کے لئے نادر تحفہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اور اس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • pages-from-shob-ul-iman-vol-7
    امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

    اسلام کے دو بنیادی اور صافی سر چشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ و تابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’شعب الایمان اردو‘‘ امام ابی بکر احمد بن الحسین البیھقی کی ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا قاضی ملک محمد اسماعیل صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایمان کے ستتر (77) شعبوں سے متعلق نصوص قرآنی، احادیث نبویہ، صحابۂ کرام﷢، تابعین و تبع تابعین اور صلحاء امت و صوفیائے کرام کے آثار، اقوال و اشعار پر مشتمل (11269) روایات کا جامع و مفصل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی سات جلدیں ہیں اساتذہ، طلباء اور دیگر لوگوں کے لئے نادر تحفہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اور اس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • pages-from-shamael-e-tirmazi
    امام ترمذی

    دینِ اسلام کاابلاغ او راس کی نشر واشاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہذا اس انعام الٰہی کی وجہ سےایک عام مسلمان کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ اصلاحِ انسانیت کےلیے  اللہ تعالیٰ نےامت مسلمہ کو ہی منتخب فرمایا ۔اور ہر دور میں مسلمانوں نےاپنی ذمہ داریوں کومحسوس کیا اور دین کی نشر واشاعت میں گرانقدر  خدمات انجام دیں۔دور  حاضر میں  ہر محاذ پر ملت  کفر مسلمانوں پر حملہ آور ہے  او راسلام اور مسلمانوں  کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور نفرت انگیز رویہ اپنائے ہوئےہیں او ر  آئے دن نعوذ باللہ  پیغمبر اسلام کی ذات  کوہدف تنقید کا نشانہ بنا کر انٹرنیشنل میڈیا کے  ذریعے  اس کی  خوب تشہیر کی جاتی ہے۔  تو یقینا ایسی صورت حال میں  رحمت کائناتﷺ کےاخلاقِ عالیہ اور آپﷺ کےپاکیزہ کردار اور سیرت کے روشن ،چمکتے اور دمکتے  واقعات کو دنیا میں عام  کرنے کی شدید ضرورت ہے  تاکہ  اسے پڑھ کر  امت مسلمہ اپنے پیارے  نبیﷺ کے خلاق  حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے  آگا ہ ہوسکے  اور آپ کی سیرت وکردارکوروشنی میں اپنی آنے والی نسل کی تربیت کر سکے ۔انسانیت کے انفرادى معاملات سے لے کراجتماعى بلکہ بین الاقوامى معاملات اورتعلقات کا کوئی ایسا گوشہ نہیں کہ جس کے متعلق پیارے پیغمبرﷺ نے راہنمائی نہ فرمائی ہو، کتب احادیث میں انسانى زندگی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں ہے یعنى انفرادى اور اجتماعی سیرت واخلاق سے متعلق محدثین نے پیارے پیغمبر ﷺ کے فرامین کی روشنى میں ہر چیز جمع فرمادی ہے زیر نظر کتاب "شمائل ترمذی" بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں امام ترمذی ﷫نے نہایت محنت وکاوش وعرق ریزی سے سیّد کائنات ،سيد ولد آدم، جناب محمد رسول ﷺکی سیرت وکردار کوبہت ہی خوبصورت اسلوب میں مرتب کیا ہے اوررسول اللہﷺ کی زندگی کاتقریبا ہر پہلو  موضوع بحث بنایاگیا۔اور آپ ﷺ کے عسرویسر، شب وروز اور سفر وحضرسے متعلقہ معلومات ‏کو احادیث کی روشنى میں جمع کردیا ہے۔ زیر تبصرہ نسخہ کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس کی فہرست لنک شدہ ہے جس سے کتاب کا مطالعہ کرنا اور اس سے استفادہ کرنا شمائل ترمذی   کے دوسرے ترجمہ نسخہ جات کی بنسبت آسان ہے ۔ اللہ تعالی کتاب کے مصنف ،مترجم اور ناشرین کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے   اہل ایمان کو   سیرت طیبہ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین)(م۔ا)

  • pages-from-sihaah-sittah-aur-un-key-muallifeen
    محمد عبدہ الفلاح الفیروزپوری

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔چنانچہ صحیحین ،سنن اربعہ،اصول خمسہ،اور صحاح ستہ وغیرہ اصطلاحات علماء کے ہاں معروف اور متداول چلی آ رہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "صحاح ستہ اور ان کے مولفین "الاستاذ محمد عبدہ الفلاح الفیروز آبادی﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے کتب احادیث کے ان طبقات میں سے آخری طبقہ (یعنی صحاح ستہ) کو منتخب کیا ہے اور ان کتب کے مولفین کی سوانح حیات، ان کی خدمات اور تصنیفات وغیرہ کو تفصیل سے جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • page-from-sahih-ibn-e-habban-jilad-1
    ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن و حدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح ابن حبان‘‘ امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی جس کا ترجمہ ابو العلاءمحمد محی الدین جہانگیر نے شاندار اسلوب میں کیا ہے۔ صحیح ابن حبان: امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی ؒ کی سب سے مایہ ناز تالیف ہےِ، اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بخاری ومسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بتایا ہے، ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے، مگر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے، کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ وہ ادنی شبہ پر بھی توقّف سے کام لیتے ہیںَ، اور یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب ہے۔ لیکن و اضح رہے کہ اس میں ساری حدیثیں صحیح نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ اس میں صحیح ، حسن کے ساتھ کچھ ضعیف حدیثیں بھی ہیں۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر شبیر برادرز کے ذمہ دراران نے آسان و معیاری اردو میں تخریج وتحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے ترجمہ کی سعادت ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر- حفظہ اللہ- نے حاصل کی ہے۔ فقہی ابواب پر مرتّب حدیث کا یہ مجموعہ طالبان علوم نبوت کیلئے ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔ رب کریم کتاب کے مؤلف، مترجم، محقق، ناشر، مراجع کو جزائے خیر دے، اور جملہ قارئین کے لئے اس کے نفع کو عام کرے۔ اور ہم سب کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنی زندگی میں حرزِ جاں بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • page-from-sahih-ibn-e-habban-jilad-2
    ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن و حدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح ابن حبان‘‘ امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی جس کا ترجمہ ابو العلاءمحمد محی الدین جہانگیر نے شاندار اسلوب میں کیا ہے۔ صحیح ابن حبان: امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی ؒ کی سب سے مایہ ناز تالیف ہےِ، اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بخاری ومسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بتایا ہے، ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے، مگر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے، کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ وہ ادنی شبہ پر بھی توقّف سے کام لیتے ہیںَ، اور یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب ہے۔ لیکن و اضح رہے کہ اس میں ساری حدیثیں صحیح نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ اس میں صحیح ، حسن کے ساتھ کچھ ضعیف حدیثیں بھی ہیں۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر شبیر برادرز کے ذمہ دراران نے آسان و معیاری اردو میں تخریج وتحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے ترجمہ کی سعادت ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر- حفظہ اللہ- نے حاصل کی ہے۔ فقہی ابواب پر مرتّب حدیث کا یہ مجموعہ طالبان علوم نبوت کیلئے ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔ رب کریم کتاب کے مؤلف، مترجم، محقق، ناشر، مراجع کو جزائے خیر دے، اور جملہ قارئین کے لئے اس کے نفع کو عام کرے۔ اور ہم سب کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنی زندگی میں حرزِ جاں بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • page-from-sahih-ibn-e-habban-jilad-3
    ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن و حدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح ابن حبان‘‘ امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی جس کا ترجمہ ابو العلاءمحمد محی الدین جہانگیر نے شاندار اسلوب میں کیا ہے۔ صحیح ابن حبان: امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی ؒ کی سب سے مایہ ناز تالیف ہےِ، اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بخاری ومسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بتایا ہے، ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے، مگر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے، کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ وہ ادنی شبہ پر بھی توقّف سے کام لیتے ہیںَ، اور یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب ہے۔ لیکن و اضح رہے کہ اس میں ساری حدیثیں صحیح نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ اس میں صحیح ، حسن کے ساتھ کچھ ضعیف حدیثیں بھی ہیں۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر شبیر برادرز کے ذمہ دراران نے آسان و معیاری اردو میں تخریج وتحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے ترجمہ کی سعادت ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر- حفظہ اللہ- نے حاصل کی ہے۔ فقہی ابواب پر مرتّب حدیث کا یہ مجموعہ طالبان علوم نبوت کیلئے ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔ رب کریم کتاب کے مؤلف، مترجم، محقق، ناشر، مراجع کو جزائے خیر دے، اور جملہ قارئین کے لئے اس کے نفع کو عام کرے۔ اور ہم سب کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنی زندگی میں حرزِ جاں بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • page-from-sahih-ibn-e-habban-jilad-4
    ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن و حدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح ابن حبان‘‘ امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی جس کا ترجمہ ابو العلاءمحمد محی الدین جہانگیر نے شاندار اسلوب میں کیا ہے۔ صحیح ابن حبان: امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی ؒ کی سب سے مایہ ناز تالیف ہےِ، اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بخاری و مسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بتایا ہے، ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے، مگر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے، کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ وہ ادنی شبہ پر بھی توقّف سے کام لیتے ہیںَ، اور یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب ہے۔ لیکن و اضح رہے کہ اس میں ساری حدیثیں صحیح نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ اس میں صحیح ، حسن کے ساتھ کچھ ضعیف حدیثیں بھی ہیں۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر شبیر برادرز کے ذمہ دراران نے آسان و معیاری اردو میں تخریج وتحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے ترجمہ کی سعادت ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر- حفظہ اللہ- نے حاصل کی ہے۔ فقہی ابواب پر مرتّب حدیث کا یہ مجموعہ طالبان علوم نبوت کیلئے ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔ رب کریم کتاب کے مؤلف، مترجم، محقق، ناشر، مراجع کو جزائے خیر دے، اور جملہ قارئین کے لئے اس کے نفع کو عام کرے۔ اور ہم سب کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنی زندگی میں حرزِ جاں بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • page-from-sahih-ibn-e-habban-jilad-5
    ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن و حدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح ابن حبان‘‘ امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی جس کا ترجمہ ابو العلاءمحمد محی الدین جہانگیر نے شاندار اسلوب میں کیا ہے۔ صحیح ابن حبان: امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی ؒ کی سب سے مایہ ناز تالیف ہےِ، اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بخاری و مسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بتایا ہے، ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے، مگر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے، کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ وہ ادنی شبہ پر بھی توقّف سے کام لیتے ہیںَ، اور یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب ہے۔ لیکن و اضح رہے کہ اس میں ساری حدیثیں صحیح نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ اس میں صحیح ، حسن کے ساتھ کچھ ضعیف حدیثیں بھی ہیں۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر شبیر برادرز کے ذمہ دراران نے آسان و معیاری اردو میں تخریج وتحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے ترجمہ کی سعادت ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر- حفظہ اللہ- نے حاصل کی ہے۔ فقہی ابواب پر مرتّب حدیث کا یہ مجموعہ طالبان علوم نبوت کیلئے ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔ رب کریم کتاب کے مؤلف، مترجم، محقق، ناشر، مراجع کو جزائے خیر دے، اور جملہ قارئین کے لئے اس کے نفع کو عام کرے۔ اور ہم سب کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنی زندگی میں حرزِ جاں بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • page-from-sahih-ibn-e-habban-jilad-6
    ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن و حدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح ابن حبان‘‘ امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی جس کا ترجمہ ابو العلاءمحمد محی الدین جہانگیر نے شاندار اسلوب میں کیا ہے۔ صحیح ابن حبان: امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی ؒ کی سب سے مایہ ناز تالیف ہےِ، اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بخاری و مسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بتایا ہے، ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے، مگر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے، کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ وہ ادنی شبہ پر بھی توقّف سے کام لیتے ہیںَ، اور یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب ہے۔ لیکن و اضح رہے کہ اس میں ساری حدیثیں صحیح نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ اس میں صحیح ، حسن کے ساتھ کچھ ضعیف حدیثیں بھی ہیں۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر شبیر برادرز کے ذمہ دراران نے آسان و معیاری اردو میں تخریج وتحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے ترجمہ کی سعادت ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر- حفظہ اللہ- نے حاصل کی ہے۔ فقہی ابواب پر مرتّب حدیث کا یہ مجموعہ طالبان علوم نبوت کیلئے ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔ رب کریم کتاب کے مؤلف، مترجم، محقق، ناشر، مراجع کو جزائے خیر دے، اور جملہ قارئین کے لئے اس کے نفع کو عام کرے۔ اور ہم سب کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنی زندگی میں حرزِ جاں بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • page-from-sahih-ibn-e-habban-jilad-7
    ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن و حدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح ابن حبان‘‘ امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی جس کا ترجمہ ابو العلاءمحمد محی الدین جہانگیر نے شاندار اسلوب میں کیا ہے۔ صحیح ابن حبان: امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی ؒ کی سب سے مایہ ناز تالیف ہےِ، اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بخاری و مسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بتایا ہے، ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے، مگر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے، کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ وہ ادنی شبہ پر بھی توقّف سے کام لیتے ہیںَ، اور یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب ہے۔ لیکن و اضح رہے کہ اس میں ساری حدیثیں صحیح نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ اس میں صحیح ، حسن کے ساتھ کچھ ضعیف حدیثیں بھی ہیں۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر شبیر برادرز کے ذمہ دراران نے آسان و معیاری اردو میں تخریج وتحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے ترجمہ کی سعادت ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر- حفظہ اللہ- نے حاصل کی ہے۔ فقہی ابواب پر مرتّب حدیث کا یہ مجموعہ طالبان علوم نبوت کیلئے ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔ رب کریم کتاب کے مؤلف، مترجم، محقق، ناشر، مراجع کو جزائے خیر دے، اور جملہ قارئین کے لئے اس کے نفع کو عام کرے۔ اور ہم سب کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنی زندگی میں حرزِ جاں بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • page-from-sahih-ibn-e-habban-jilad-8
    ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن و حدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح ابن حبان‘‘ امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی جس کا ترجمہ ابو العلاءمحمد محی الدین جہانگیر نے شاندار اسلوب میں کیا ہے۔ صحیح ابن حبان: امام ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی بستی ؒ کی سب سے مایہ ناز تالیف ہےِ، اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بخاری و مسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بتایا ہے، ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے، مگر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے، کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ وہ ادنی شبہ پر بھی توقّف سے کام لیتے ہیںَ، اور یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب ہے۔ لیکن و اضح رہے کہ اس میں ساری حدیثیں صحیح نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ اس میں صحیح ، حسن کے ساتھ کچھ ضعیف حدیثیں بھی ہیں۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر شبیر برادرز کے ذمہ دراران نے آسان و معیاری اردو میں تخریج وتحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے ترجمہ کی سعادت ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر- حفظہ اللہ- نے حاصل کی ہے۔ فقہی ابواب پر مرتّب حدیث کا یہ مجموعہ طالبان علوم نبوت کیلئے ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔ رب کریم کتاب کے مؤلف، مترجم، محقق، ناشر، مراجع کو جزائے خیر دے، اور جملہ قارئین کے لئے اس کے نفع کو عام کرے۔ اور ہم سب کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنی زندگی میں حرزِ جاں بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • title-pages-sahi-ibne-khuzima-1
    امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ

    امام ابن خزیمہ﷫ کاشمار اکابر محدثین او رنامور ائمہ فن میں ہوتا ہے احادیث پر ان کی نظر نہایت وسیع اور گہر ی تھی فقہ میں بھی ان کادرجہ نہایت بلند تھا وہ کم سنی میں ہی امام وحافظ حدیث کی حیثیت سے مشہور ہوگئے تھے ان کے معاصر علماء اور ارباب کمال ا ن کے علم وکمال کے معترف تھے امام ابن خزیمہ محدث وفقہی ہونے کے ساتھ ساتھ نامور مصنف بھی تھے ان کی تصنیفات 140 سے زائد ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب صحیح ابن خزیمہ علامہ ابن خزیمہ ﷫ کی سب سے اہم اور مایہ ناز کتاب ہے اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے حافظ ابن کثیر﷫ کہتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ نہایت مفید اور اہم کتابوں میں سے ہے اس کتاب میں امام ابن خزیمہ کی محدثانہ اور فقیہانہ صلاحیتوں کابھر پور اظہار کیا گیاہے اس میں انہوں نے حدیث رسول کو موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پرو دیا ہے اورفرامین مبارکہ سے علمی نکات کا استنباط کر کے امت مسلمہ کی راہنمائی کا عظیم فریضہ ادا کیاہے امام موصوف نے باطل فرقوں کارد خالص علمی انداز میں کیا ہے ۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر انصار السنہ پبلیکیشنز کے ذمہ دراران نے اردو دان طبقہ کے لیے اعلی معیار پر تخریج وتحقیق کے ساتھ طباعت سے آرستہ کیا ہے کتاب کے ترجمہ کی سعادت شیخ الحدیث مولانا محمد اجمل بھٹی ﷾(فاضل جامعہ لاہور اسلامیہ ،لاہور) نے حاصل کی اور فوائد کا فریضہ مولانا محمد فاروق رفیع﷾ (استاد جامعہ لاہور اسلامیہ،لاہور) نے سر انجام دیا ہے ۔ اللہ تعالی ناشرین کتاب کی جہود کو قبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام کردے ( آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے  کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahi-ibne-khuzima-1
    امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ

    امام ابن خزیمہ﷫ کاشمار اکابر محدثین او رنامور ائمہ فن میں ہوتا ہے احادیث پر ان کی نظر نہایت وسیع اور گہر ی تھی فقہ میں بھی ان کادرجہ نہایت بلند تھا وہ کم سنی میں ہی امام وحافظ حدیث کی حیثیت سے مشہور ہوگئے تھے ان کے معاصر علماء اور ارباب کمال ا ن کے علم وکمال کے معترف تھے امام ابن خزیمہ محدث وفقہی ہونے کے ساتھ ساتھ نامور مصنف بھی تھے ان کی تصنیفات 140 سے زائد ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب صحیح ابن خزیمہ علامہ ابن خزیمہ ﷫ کی سب سے اہم اور مایہ ناز کتاب ہے اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے حافظ ابن کثیر﷫ کہتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ نہایت مفید اور اہم کتابوں میں سے ہے اس کتاب میں امام ابن خزیمہ کی محدثانہ اور فقیہانہ صلاحیتوں کابھر پور اظہار کیا گیاہے اس میں انہوں نے حدیث رسول کو موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پرو دیا ہے اورفرامین مبارکہ سے علمی نکات کا استنباط کر کے امت مسلمہ کی راہنمائی کا عظیم فریضہ ادا کیاہے امام موصوف نے باطل فرقوں کارد خالص علمی انداز میں کیا ہے ۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر انصار السنہ پبلیکیشنز کے ذمہ دراران نے اردو دان طبقہ کے لیے اعلی معیار پر تخریج وتحقیق کے ساتھ طباعت سے آرستہ کیا ہے کتاب کے ترجمہ کی سعادت شیخ الحدیث مولانا محمد اجمل بھٹی ﷾(فاضل جامعہ لاہور اسلامیہ ،لاہور) نے حاصل کی اور فوائد کا فریضہ مولانا محمد فاروق رفیع﷾ (استاد جامعہ لاہور اسلامیہ،لاہور) نے سر انجام دیا ہے ۔ اللہ تعالی ناشرین کتاب کی جہود کو قبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام کردے ( آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے  کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahi-ibne-khuzima-1
    امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ

    امام ابن خزیمہ﷫ کاشمار اکابر محدثین او رنامور ائمہ فن میں ہوتا ہے احادیث پر ان کی نظر نہایت وسیع اور گہر ی تھی فقہ میں بھی ان کادرجہ نہایت بلند تھا وہ کم سنی میں ہی امام وحافظ حدیث کی حیثیت سے مشہور ہوگئے تھے ان کے معاصر علماء اور ارباب کمال ا ن کے علم وکمال کے معترف تھے امام ابن خزیمہ محدث وفقہی ہونے کے ساتھ ساتھ نامور مصنف بھی تھے ان کی تصنیفات 140 سے زائد ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب صحیح ابن خزیمہ علامہ ابن خزیمہ ﷫ کی سب سے اہم اور مایہ ناز کتاب ہے اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے حافظ ابن کثیر﷫ کہتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ نہایت مفید اور اہم کتابوں میں سے ہے اس کتاب میں امام ابن خزیمہ کی محدثانہ اور فقیہانہ صلاحیتوں کابھر پور اظہار کیا گیاہے اس میں انہوں نے حدیث رسول کو موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پرو دیا ہے اورفرامین مبارکہ سے علمی نکات کا استنباط کر کے امت مسلمہ کی راہنمائی کا عظیم فریضہ ادا کیاہے امام موصوف نے باطل فرقوں کارد خالص علمی انداز میں کیا ہے ۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر انصار السنہ پبلیکیشنز کے ذمہ دراران نے اردو دان طبقہ کے لیے اعلی معیار پر تخریج وتحقیق کے ساتھ طباعت سے آرستہ کیا ہے کتاب کے ترجمہ کی سعادت شیخ الحدیث مولانا محمد اجمل بھٹی ﷾(فاضل جامعہ لاہور اسلامیہ ،لاہور) نے حاصل کی اور فوائد کا فریضہ مولانا محمد فاروق رفیع﷾ (استاد جامعہ لاہور اسلامیہ،لاہور) نے سر انجام دیا ہے ۔ اللہ تعالی ناشرین کتاب کی جہود کو قبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام کردے ( آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے  کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sahi-ibne-khuzima-1
    امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ

    امام ابن خزیمہ﷫ کاشمار اکابر محدثین او رنامور ائمہ فن میں ہوتا ہے احادیث پر ان کی نظر نہایت وسیع اور گہر ی تھی فقہ میں بھی ان کادرجہ نہایت بلند تھا وہ کم سنی میں ہی امام وحافظ حدیث کی حیثیت سے مشہور ہوگئے تھے ان کے معاصر علماء اور ارباب کمال ا ن کے علم وکمال کے معترف تھے امام ابن خزیمہ محدث وفقہی ہونے کے ساتھ ساتھ نامور مصنف بھی تھے ان کی تصنیفات 140 سے زائد ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب صحیح ابن خزیمہ علامہ ابن خزیمہ ﷫ کی سب سے اہم اور مایہ ناز کتاب ہے اس کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے حافظ ابن کثیر﷫ کہتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ نہایت مفید اور اہم کتابوں میں سے ہے اس کتاب میں امام ابن خزیمہ کی محدثانہ اور فقیہانہ صلاحیتوں کابھر پور اظہار کیا گیاہے اس میں انہوں نے حدیث رسول کو موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پرو دیا ہے اورفرامین مبارکہ سے علمی نکات کا استنباط کر کے امت مسلمہ کی راہنمائی کا عظیم فریضہ ادا کیاہے امام موصوف نے باطل فرقوں کارد خالص علمی انداز میں کیا ہے ۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر انصار السنہ پبلیکیشنز کے ذمہ دراران نے اردو دان طبقہ کے لیے اعلی معیار پر تخریج وتحقیق کے ساتھ طباعت سے آرستہ کیا ہے کتاب کے ترجمہ کی سعادت شیخ الحدیث مولانا محمد اجمل بھٹی ﷾(فاضل جامعہ لاہور اسلامیہ ،لاہور) نے حاصل کی اور فوائد کا فریضہ مولانا محمد فاروق رفیع﷾ (استاد جامعہ لاہور اسلامیہ،لاہور) نے سر انجام دیا ہے ۔ اللہ تعالی ناشرین کتاب کی جہود کو قبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام کردے ( آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے  کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-sahi-al-adab-ul-mufrad-albani
    ناصر الدین البانی

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری ﷫ کی صحیح بخاری کے علاوہ بھی متعد د تصانیف ہیں۔ اسلامی آاداب واطوار کے موضوع پر امام بخاری نے ایک مستقل کتاب مرتب فرمائی ہے۔ جو ’’الادب المفرد‘‘ کے نام سےمعروف ومشہور ہے۔ اس میں تفصیل کے ساتھ ان احادیث کو پیش فرمایا ہے جن سے ایک اسلامی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک مسلمان کے شب وروز کیسے گزرتے ہیں وہ اپنے قریبی اعزہ وقارب کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے دوست واحباب اور پاس پڑوس کے تعلق سے اس کا کیا برتاؤ ہوتا ہے۔ ذاتی اعتبار سےاسے کس مضبوط کردار اور اخلاق کا حامل ہوتا چاہیے۔ ان جیسے بیسیوں موضوعات پر امام بخاری نے اس کتاب میں احادیث جمع فرمائی ہیں ۔ اس کتاب پر محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے علمی وتحقیقی کام کر کے اس کی افادیت دوچند فرمادی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب اسی کا ترجمہ ہے ۔ترجمہ کی سعادت عبدالقدوس ہاشمی نے حاصل کی ہے اور اردو ترجمے پر نظر ثانی کا فریضہ مولانا رفیق احمد رئیس سلفی نے انجام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ   مؤلف ،محقق ،مترجم ، کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

  • title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

  • title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

  • title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

  • title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے۔(م۔ا)

  • title-sahi-bukhari
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے   مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام   حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور   حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ مع مختصر فوائد بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا   محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی   1392ھ میں اسے   الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ   قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ   جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ۔ہند کی طرف سے طبع شدہ ہے جسے انہوں نے مکتبہ قدوسیہ،لاہور کی اجازت سے ہندوستان سے شائع کیا ۔(م۔ا)

  • title-sahi-bukhari
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے   مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام   حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور   حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ مع مختصر فوائد بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا   محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی   1392ھ میں اسے   الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ   قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ   جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ۔ہند کی طرف سے طبع شدہ ہے جسے انہوں نے مکتبہ قدوسیہ،لاہور کی اجازت سے ہندوستان سے شائع کیا ۔(م۔ا)

  • title-sahi-bukhari
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے   مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام   حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور   حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ مع مختصر فوائد بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا   محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی   1392ھ میں اسے   الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ   قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ   جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ۔ہند کی طرف سے طبع شدہ ہے جسے انہوں نے مکتبہ قدوسیہ،لاہور کی اجازت سے ہندوستان سے شائع کیا ۔(م۔ا)

  • title-sahi-bukhari
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے   مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام   حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور   حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ مع مختصر فوائد بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا   محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی   1392ھ میں اسے   الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ   قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ   جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ۔ہند کی طرف سے طبع شدہ ہے جسے انہوں نے مکتبہ قدوسیہ،لاہور کی اجازت سے ہندوستان سے شائع کیا ۔(م۔ا)

  • title-sahi-bukhari
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے   مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام   حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور   حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ مع مختصر فوائد بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا   محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی   1392ھ میں اسے   الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ   قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ   جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ۔ہند کی طرف سے طبع شدہ ہے جسے انہوں نے مکتبہ قدوسیہ،لاہور کی اجازت سے ہندوستان سے شائع کیا ۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 207 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں