• title-pages-sunan-darmi-urdu-2
    ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن التمیمی الدارمی
    اللہ رب العزت نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا جو طریق و عمل مقرر  فرمایا ہے ،اسے ’دین اسلام‘کا عنوان دیا گیا ہے۔دین اسلام کی بنیاد وحی الہیٰ پر ہے ۔وحی کی دو صورتیں ہیں :اول ،وجی جلی یا وحی متلو یہ قرآن کریم کی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ۔دوم ،حدیث و سنت جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقریرات سے عبارت ہے ۔وحی کے یہ دونوں حصے لازم و ملزوم ہیں اور ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کو سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔چنانچہ حدیث و سنت کی اہمیت کے پیش نظر محدثین کرام نے اس کی تدوین و ترتیب اور جمع و حفاظت کا کام بے حد لگن اور محنت سے سر انجام دیا۔اخذ و روایت حدیث میں ایسی احتیاط و اہتمام کا ثبوت دیا کہ امت مسلمہ سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس کے نتیجے میں بے شمار کتب حدیث منظر عام پر آئیں ،جن میں سے ایک سنن دارمی بھی ہے جو کہ امام ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن ابن الفضل  بن بہرام الدارمی کی تالیف ہے ۔امام صاحب کی جلالت قدر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام مسلم،امام ترمذی،امام ابو داؤد،بقی بن مخلد اور حافظ ابو زرعہ رازی ایسے اساطین فن آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں ۔آپ کی سنن ،علم حدیث کا شان دار مجموعہ ہے ،جسے تحقیق و تخریج کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے یہ اس کی دوسری جلد ہے۔

  • title-1
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-2
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-3
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-6
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-5
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-4
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-7
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sunan-nisai-shreef-1
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

    موجودہ دور میں جہاں خود ساختہ قصے کہانیاں، بے سروپا نا ول و افسانے ہاتھوں ہاتھ لیے جا رہے ہیں وہیں احادیث سے محبت کا ذوق دم توڑ رہا ہے اسی کمی کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی اکادمی نے صحاح ستہ میں معتبر مقام رکھنے والی کتاب ’سنن نسائی‘ کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس کتاب کی افادیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم قارئین ’کتاب وسنت ڈاٹ کام‘ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ حسن ترتیب، طریق استدلال، صحت نقل، توضیح ابہامات اور بیان علل کے پیش نظر بعض مغاربہ نے اس کو تمام صحاح ستہ پر اولیت دی ہے۔ اس سے قبل یہ کتاب علامہ وحید الزماں کے نہایت سلیس ترجمہ اور بریکٹوں میں تشریح کے علاوہ مفید حواشی کےساتھ شائع ہوچکی ہے۔ لیکن اس کتاب میں کچھ مزید اضافہ جات کے ساتھ ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔ کتاب کے شروع میں امام نسائی اور نواب وحید الزماں کے حالات و خدمات بھی درج کر دئیے گئے ہیں۔

     

  • title-pages-sunan-nisai-shreef-1
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

    موجودہ دور میں جہاں خود ساختہ قصے کہانیاں، بے سروپا نا ول و افسانے ہاتھوں ہاتھ لیے جا رہے ہیں وہیں احادیث سے محبت کا ذوق دم توڑ رہا ہے اسی کمی کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی اکادمی نے صحاح ستہ میں معتبر مقام رکھنے والی کتاب ’سنن نسائی‘ کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس کتاب کی افادیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم قارئین ’کتاب وسنت ڈاٹ کام‘ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ حسن ترتیب، طریق استدلال، صحت نقل، توضیح ابہامات اور بیان علل کے پیش نظر بعض مغاربہ نے اس کو تمام صحاح ستہ پر اولیت دی ہے۔ اس سے قبل یہ کتاب علامہ وحید الزماں کے نہایت سلیس ترجمہ اور بریکٹوں میں تشریح کے علاوہ مفید حواشی کےساتھ شائع ہوچکی ہے۔ لیکن اس کتاب میں کچھ مزید اضافہ جات کے ساتھ ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔ کتاب کے شروع میں امام نسائی اور نواب وحید الزماں کے حالات و خدمات بھی درج کر دئیے گئے ہیں۔

     

  • title-pages-sunan-nisai-shreef-1
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

    موجودہ دور میں جہاں خود ساختہ قصے کہانیاں، بے سروپا نا ول و افسانے ہاتھوں ہاتھ لیے جا رہے ہیں وہیں احادیث سے محبت کا ذوق دم توڑ رہا ہے اسی کمی کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی اکادمی نے صحاح ستہ میں معتبر مقام رکھنے والی کتاب ’سنن نسائی‘ کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس کتاب کی افادیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم قارئین ’کتاب وسنت ڈاٹ کام‘ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ حسن ترتیب، طریق استدلال، صحت نقل، توضیح ابہامات اور بیان علل کے پیش نظر بعض مغاربہ نے اس کو تمام صحاح ستہ پر اولیت دی ہے۔ اس سے قبل یہ کتاب علامہ وحید الزماں کے نہایت سلیس ترجمہ اور بریکٹوں میں تشریح کے علاوہ مفید حواشی کےساتھ شائع ہوچکی ہے۔ لیکن اس کتاب میں کچھ مزید اضافہ جات کے ساتھ ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔ کتاب کے شروع میں امام نسائی اور نواب وحید الزماں کے حالات و خدمات بھی درج کر دئیے گئے ہیں۔

     

  • pages-from-sunan-nisai-mutrarjam-sarwar-gohar-1
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح و تفصیل کانام حدیث رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام   نے احادیث نبویہ کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے   بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدون او ر علماء امت نے کتب احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اور مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کا اردو زبان میں ترجمہ کر کے برصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئ ہے اس لیے ایک عرصے سے یہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کا اردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی کوششوں سے تحقیق حدیث کاجو ذوق پورے عالم اسلام میں عام ہوا اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جو ضعیف رویات ہیں ان کی نشاندہی کر کے اور ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام و مسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید و ضاحت بھی کردی جائے۔ سننِ اربعہ کی عربی شروحات میں تحقیق وتخریج کا اہتمام تو موجود تھا لیکن اردو تراجم میں نہیں تھا تو جب ان کے نئے ترجمے کر کے شائع کیے گیے اور ان میں احادیث کی تخریج وتحقیق کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ جیسے دارالسلام سے مطبوعہ سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، سنن ابو داؤد، میں احادیث کی مکمل تخریج وتحقیق پیش کی گئی ہے۔ اور اسی طرح بعض دوسرے اداروں نے بھی یہ کام کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’سنن نسائی شریف مترجم‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ ترجمہ جنا ب پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر ﷾ نے کیا ہے اور اس میں شیخ خلیل بن مامون شیحا کے نسخہ کو سامنے رکھتے ہوئے احادیث کی تخریج کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اور احادیث پر صحت وضعف کاحکم علامہ ناصر البانی ﷫ کے نسخہ کے مطابق لگایا گیا ہے۔ مکتبہ محمدیہ، لاہور نے اسے 3مجلدات میں شائع کر کے خدمت حدیث کی سعادت حاصل کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی تیاری میں شامل تمام احباب کی اس محنت کو قبول فرمائے۔ (آمین)

  • pages-from-sunan-nisai-mutrarjam-sarwar-gohar-2
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح و تفصیل کانام حدیث رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام   نے احادیث نبویہ کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے   بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدون او ر علماء امت نے کتب احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اور مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کا اردو زبان میں ترجمہ کر کے برصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئ ہے اس لیے ایک عرصے سے یہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کا اردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی کوششوں سے تحقیق حدیث کاجو ذوق پورے عالم اسلام میں عام ہوا اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جو ضعیف رویات ہیں ان کی نشاندہی کر کے اور ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام و مسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید و ضاحت بھی کردی جائے۔ سننِ اربعہ کی عربی شروحات میں تحقیق وتخریج کا اہتمام تو موجود تھا لیکن اردو تراجم میں نہیں تھا تو جب ان کے نئے ترجمے کر کے شائع کیے گیے اور ان میں احادیث کی تخریج وتحقیق کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ جیسے دارالسلام سے مطبوعہ سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، سنن ابو داؤد، میں احادیث کی مکمل تخریج وتحقیق پیش کی گئی ہے۔ اور اسی طرح بعض دوسرے اداروں نے بھی یہ کام کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’سنن نسائی شریف مترجم‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ ترجمہ جنا ب پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر ﷾ نے کیا ہے اور اس میں شیخ خلیل بن مامون شیحا کے نسخہ کو سامنے رکھتے ہوئے احادیث کی تخریج کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اور احادیث پر صحت وضعف کاحکم علامہ ناصر البانی ﷫ کے نسخہ کے مطابق لگایا گیا ہے۔ مکتبہ محمدیہ، لاہور نے اسے 3مجلدات میں شائع کر کے خدمت حدیث کی سعادت حاصل کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی تیاری میں شامل تمام احباب کی اس محنت کو قبول فرمائے۔ (آمین)

  • pages-from-sunan-nisai-mutrarjam-sarwar-gohar-3
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح و تفصیل کانام حدیث رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام   نے احادیث نبویہ کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے   بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدون او ر علماء امت نے کتب احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اور مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کا اردو زبان میں ترجمہ کر کے برصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئ ہے اس لیے ایک عرصے سے یہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کا اردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی کوششوں سے تحقیق حدیث کاجو ذوق پورے عالم اسلام میں عام ہوا اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جو ضعیف رویات ہیں ان کی نشاندہی کر کے اور ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام و مسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید و ضاحت بھی کردی جائے۔ سننِ اربعہ کی عربی شروحات میں تحقیق وتخریج کا اہتمام تو موجود تھا لیکن اردو تراجم میں نہیں تھا تو جب ان کے نئے ترجمے کر کے شائع کیے گیے اور ان میں احادیث کی تخریج وتحقیق کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ جیسے دارالسلام سے مطبوعہ سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، سنن ابو داؤد، میں احادیث کی مکمل تخریج وتحقیق پیش کی گئی ہے۔ اور اسی طرح بعض دوسرے اداروں نے بھی یہ کام کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’سنن نسائی شریف مترجم‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ ترجمہ جنا ب پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر ﷾ نے کیا ہے اور اس میں شیخ خلیل بن مامون شیحا کے نسخہ کو سامنے رکھتے ہوئے احادیث کی تخریج کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اور احادیث پر صحت وضعف کاحکم علامہ ناصر البانی ﷫ کے نسخہ کے مطابق لگایا گیا ہے۔ مکتبہ محمدیہ، لاہور نے اسے 3مجلدات میں شائع کر کے خدمت حدیث کی سعادت حاصل کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی تیاری میں شامل تمام احباب کی اس محنت کو قبول فرمائے۔ (آمین)

  • 100mashhoorzaeefahadees-copy
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    اس کتاب میں ان سو (۱۰۰) مشہور ضعیف اور من گھڑت احادیث کو یکجا کرنے کی سعی کی گئی ہے، جنہیں ہمارے معاشرے کے جاہل خطباء اور واعظین اپنی تقریروں میں پُرزور انداز میں بیان کرتے ہیں اور پھر عوام جس طرح سنتے ہیں اسی طرح ان پر عمل شروع کر دیتے ہیں، جس سے بدعات کا ظہور ہوتا ہے۔ مقدمہ میں ان ضروری معلومات کو بھی جمع کر دیا گیا ہے جو ضعیف اور من گھڑت احادیث سے متعلقہ تھیں۔ یہ مقدمہ ضعیف حدیث کی تعریف،ضعیف حدیث کی اقسام، احادیث گھڑنے کے اسباب، ضعیف حدیث کو ذکر کرنے کا حکم، ضعیف حدیث کو بیان کرنے کا طریقہ، ضعیف حدیث پر عمل کا حکم، ضعیف حدیث کی بنیاد پر دورِ حاضر میں مروّج بدعات، ضعیف و موضوع احادیث سے بچنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ، ضعیف احادیث اور بدعات پر عمل سے ہم کیسے بچیں؟: وہ کتب جن میں ضعیف اور موضوع احادیث جمع کی گڑی ہیں اور دیگر مفید معلومات پر مشتمل ہے۔

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-sayyed-abu-ul-aala-modoodi-ka-makhsoos-nazria-e-hadees
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    متحدہ پنجاب کے جن اہل حدیث خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی ﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید ہےاور آپ کے فتاویٰ جات کو بطور سند علمی حلقوں میں پیش کیا جاتا ہے۔مذکورہ خدمات کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں:’’ حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں‘‘۔عالم اسلام میں آپ ایک محدث کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔اگر آپ کے سامنے کسی بھی قسم کا الجھا ہوا مسئلہ پیش ہوتا تو آپ فوراً قرآن وسنت کی روشنی میں حل فرمادیتے آپ کو قرآن وسنت سے اس قدر محبت تھی کہ قرآن وسنت کا دفاع آپ کا شعار تھا اور سنت کےمعاملہ میں آپ نے کبھی بھی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سید ابو الاعلیٰ مودوی﷫ کا مخصوص نظریہ حدیث ‘‘حافظ عبداللہ محدث روپڑی ﷫ کی دفاع شبہات حدیث کے سلسلہ میں ایک علمی تصنیف ہے ۔مولانا مودوی نے انکار حدیث کے فتنہ سےمتاثر ہوکر حدیث کے متعلق دو شبہات (اسماء الرجال کی حیثیت،درایت اور ذوق حدیث کی حیثیت) پیش کیے تواس وقت کے علماء حق نے وقت کی نزاکت کے پیش نظر قلم اٹھایا اوراپنے اپنے انداز میں اس کا رد کیا۔اور پھر احباب جماعت کے اصرارپر 1955ء میں حضرت العلام حافظ عبداللہ مدث روپڑی ﷫نےبڑے احسن اور مدلل پیرائے میں ان شبہات کا جواب لکھا۔ کتاب ہذا انہی جوابات پر مشتمل ہے ۔جماعت اہل حدیث کے سینئر رہنما ،نائب ناظم اعلیٰ جامعہ اہل حدیث چوک دالگراں ،لاہور نے اس کتاب پر تبویب وتخریج کا کام کیا اور اسے محدث روپڑی اکیڈمی کی طرف سے شائع کیا بعد ازاں اس کتاب کو انڈیا میں حدیث پبلی کیشنز،دہلی نے شائع کیا زیرتبصرہ کتاب دہلی سے ہی

    شائع شدہ ہے۔(م۔ا)

  • title-page-sharah-arbaeen-e-navavi
    یحیٰ بن شرف النووی
    اربعین نویسی ،علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعدازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث،حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین ،عبادات،آداب زندگی ،زہد وتقوی او رخطبات وجہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر او رنمایاں نام ابوزکریا یحی بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے ۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام ترمنتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذہوں ۔اپنی حسن ترتیب او رمذکورۂ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ  اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات ،حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔اربعین کی افادیت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اس کی جامع او رمحقق شرح اردو میں بھی لکھی جائےجس سے علم وعمل کے متلاشیوں کو پیغام حق میسر آسکے ۔پروفیسر سعید صاحب نے اس ضرورت کو بڑے عالمانہ انداز میں ایک شگفتہ اسلوب کے ساتھ پورا کردیا ہے ۔اللہ تعالی انہیں جزائے خیر عطافرمائے ۔آمین

  • title-pages-shrha-arbaen-nowi-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی ﷺ سے  ہوا صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی  اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع  ہوچکی ہیں ۔زیر نظر شرح بھی  اسی سلسلے  کی ایک اہم کڑی ہے ۔جس میں احادیث کا ترجمہ  فوائد وتشریح انڈیا  کے جید عالم دین   شیخ  عبد الہادی عبد الخالق مدنی ﷾کی  کاوش ہے۔انہوں نے  آسان فہم انداز میں  بھر پور ترجمانی کی  ہے اورعلمی واصلاحی فوائد تحریر کیے ہیں ۔اس کتاب کی اہم خوبی ہرروایت  کی تخریج کےساتھ ساتھ  صحت وسقم کے اعتبار سے ہر روایت پر محدث العصر حالظ زبیر علی زئی﷫ کا نمایاں  حکم ہے ۔نیز احادیث کے متن کے لیے  دار المہناج بیروت  سے شائع شدہ اربعین نووی کے محقق نسخے  کو اصل قرار دیا گیا ہے ۔ جسے محققین نے  تین  قلمی نسخوں کی روشنی میں مرتب کیا ہے ۔اور اسی طرح فاضل نوجوان  مولانا عبد اللہ یوسف ذہبی﷾ (ایم فل سکالر لاہور انسٹی ٹیوٹ فارسوشل سائنسز) نے  اپنے رفقاء کے ساتھ بڑی محنت وجانفشانی سے اس کتاب کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے  ہر ممکن کوشش کی ہے ۔جس سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو طباعت کے  لیے تیار کرنے والے  تمام احباب کوجزائے خیر عطا فرمائے  ، ان کی دین ِاسلام کی اشاعت  وترویج کے لیے محنتوں کوقبول فرمائے  اور اس کتاب کو  عوام وخواص کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-sharha-arbaen-nowwi-chalees-ahadees-copy
    عبد المجید سوہدروی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی ﷺ سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع ہوچکی ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’شرح اربعین نووی‘‘ مولانا حکیم عبدالمجید سوہدروی ﷫ کی ہے۔انہوں نے کتبِ احادیث کا ترجمہ کرنے کا آغاز اربعین نووی سے ہی کیا اور ساتھ ہی بڑی آسان ، معاشرتی اوراخلاقی پہلوؤں پر مشتمل اور بہت سے نکات کی حامل شرح لکھی۔ جو پہلی بار 1955ء میں شائع ہوئی۔اس کےبعد اب جناب مولانا محمد نعمان فاروقی صاحب (مدیر مسلم پبلی کیشنز )نےاسے بڑی عمدہ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔اپنی افادیت کےباعث یہ کتاب اس قابل ہے کہ اسے خواتین کےمدارس میں عمومی طور پر اور بچوں کے مدارس کی ابتدائی کلاسوں میں اور دینی سکولوں کےنصاب میں شامل کیا جائے ۔جن احباب نےبھی کتاب کوطباعت کےلیےتیار کرنےمیں حصہ لیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-sharha-baloogh-ul-maraam-min-adillatil-ahkam-jilad-1
    حافظ ابن حجر عسقلانی

    اللہ رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘ چونکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونا تھا اس لیے ناگزیر تھا کہ آپﷺ کو ایک ایسی آخری اور مکمل تعلیم وہدایت دے کر بھیجا جاتا جو رہتی دنیا تک کافی رہتی‘ اس لیے نبیﷺ کو عنایت کی جانے والی اس ربانی تعلیم وہدایت کے بنیادی طور پر دو حصے ہیں‘ ایک قرآن مجید جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے کلام اللہ ہے دوسرے نبیﷺ کے وہ ارشادات اور آپﷺ کی وہ قولی اور عملی تعلیمات ہیں جو نبیﷺ اللہ کے نبی رسول اور نمائندے ہونے کی حیثیت سے امت کو دیتے تھے اور یہ تعلیمات قیامت تک کے لیے تھی اس لیے ان کی حفاظت وکتابت کے لیے بہت احتیاط کرتے ہوئے بہت سی کتب احادیث تالیف کی گئی ہیں جن میں سے ایک مختصر کتاب ’’بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام‘‘ کے نام سے حافظ ابن حجر کی معروف ہے ۔ اس کتاب میں نہایت عمدہ اسلوب اپنایا گیا ہے‘ اس کتاب میں ڈیڑھ ہزار سے زائد احادیث ہیں اور اس کی شرح کو مؤلف نے علم کا ایک سمندر بنا دیا ہے اور یہ عربی کتاب چھ جلدوں پر محیط ہے مگر اس کتاب کو مختصر کیا گیا ہے کیونکہ اتنی ضخیم کتاب سے سب کے لیے استفادہ اٹھانا مشکل تھا اس لیے اختصار کرتے ہوئے عربی متن کے من وعن ترجمہ کا التزام (احادیت کے ترجمہ میں عموماً الفاظ کے ترجمہ تک ہی محدود رہا جاتا ہے) اور عربی اور اردو کی تعبیر واسلوب میں بعینہ یکسانیت ہے اور اس کتاب میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ زبان کی روانی اور نرمی متاثر نہ ہو بلکہ قدرے ادبیت اور لذت پیدا ہو۔ اس کتاب میں مسائل کی تفریق وتفصیل اور عناوین کا قیام اور فنون کی تجزی کا بھی خیال رکھا گیا ہے‘ سند میں کلام کو’’روایۃ الحدیث‘‘ متن کی نکارت کو’’درایۃ الحدیث‘‘ حدیث کے قصہ کو’’قصۂ حدیث‘‘ اور حدیث کے خلاصے کو’’خلاصۂ حدیث‘‘کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ اور اس کتاب میں بعض اضافے بھی ہیں مثلاً مضمون حدیث‘نحوی تراکیب‘اماکن اور محاورات کی وضاحت وغیرہ۔اس کتاب کے مصنف حافظ ابن حجر عسقلانی قاہرہ میں بدھ 12 شعبان 773ھ بمطابق 18 فروری 1372ء کو پیدا ہوئے اور آپ  کا 79 سال 3 ماہ 26 یوم کی عمر میں اتوار 8 ذوالحجہ 852ھ بمطابق 2 فروری 1449ء کو بعد نمازِ عشاء انتقال کیا۔اور قرونِ وسطی کے محدثین کی فہرست میں آپ  کا نام بھی شمار کیا جاتا ہے‘ آپ کی تالیفات کی تعداد 150 کے قریب ہے جن میں سے الاصابہ فی تمييز الصحابہ‘فتح الباری شرح صحیح البخاری‘تہذيب التہذيب‘الدُر الکامنہ‘التقر يب التہذيب‘المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ اور بلوغ المرام من ادلۃ الاحكام آپ کی شاہکار تصانیف ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • pages-from-sharha-baloogh-ul-maraam-min-adillatil-ahkam-jilad-2
    حافظ ابن حجر عسقلانی

    اللہ رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح و فلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘ چونکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونا تھا اس لیے ناگزیر تھا کہ آپﷺ کو ایک ایسی آخری اور مکمل تعلیم وہدایت دے کر بھیجا جاتا جو رہتی دنیا تک کافی رہتی‘ اس لیے نبیﷺ کو عنایت کی جانے والی اس ربانی تعلیم وہدایت کے بنیادی طور پر دو حصے ہیں‘ ایک قرآن مجید جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے کلام اللہ ہے دوسرے نبیﷺ کے وہ ارشادات اور آپﷺ کی وہ قولی اور عملی تعلیمات ہیں جو نبیﷺ اللہ کے نبی رسول اور نمائندے ہونے کی حیثیت سے امت کو دیتے تھے اور یہ تعلیمات قیامت تک کے لیے تھی اس لیے ان کی حفاظت وکتابت کے لیے بہت احتیاط کرتے ہوئے بہت سی کتب احادیث تالیف کی گئی ہیں جن میں سے ایک مختصر کتاب’’بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام‘‘ کے نام سے حافظ ابن حجر کی معروف ہے ۔ اس کتاب میں نہایت عمدہ اسلوب اپنایا گیا ہے‘ اس کتاب میں ڈیڑھ ہزار سے زائد احادیث ہیں اور اس کی شرح کو مؤلف نے علم کا ایک سمندر بنا دیا ہے اور یہ عربی کتاب چھ جلدوں پر محیط ہے مگر اس کتاب کو مختصر کیا گیا ہے کیونکہ اتنی ضخیم کتاب سے سب کے لیے استفادہ اٹھانا مشکل تھا اس لیے اختصار کرتے ہوئے عربی متن کے من وعن ترجمہ کا التزام (احادیت کے ترجمہ میں عموماً الفاظ کے ترجمہ تک ہی محدود رہا جاتا ہے) اور عربی اور اردو کی تعبیر واسلوب میں بعینہ یکسانیت ہے اور اس کتاب میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ زبان کی روانی اور نرمی متاثر نہ ہو بلکہ قدرے ادبیت اور لذت پیدا ہو۔ اس کتاب میں مسائل کی تفریق وتفصیل اور عناوین کا قیام اور فنون کی تجزی کا بھی خیال رکھا گیا ہے‘ سند میں کلام کو’’روایۃ الحدیث‘‘ متن کی نکارت کو’’درایۃ الحدیث‘‘ حدیث کے قصہ کو’’قصۂ حدیث‘‘ اور حدیث کے خلاصے کو’’خلاصۂ حدیث‘‘کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ اور اس کتاب میں بعض اضافے بھی ہیں مثلاً مضمون حدیث‘نحوی تراکیب‘اماکن اور محاورات کی وضاحت وغیرہ۔اس کتاب کے مصنف حافظ ابن حجر عسقلانی قاہرہ میں بدھ 12 شعبان 773ھ بمطابق 18 فروری 1372ء کو پیدا ہوئے اور آپ  کا 79 سال 3 ماہ 26 یوم کی عمر میں اتوار 8 ذوالحجہ 852ھ بمطابق 2 فروری 1449ء کو بعد نمازِ عشاء انتقال کیا۔اور قرونِ وسطی کے محدثین کی فہرست میں آپ  کا نام بھی شمار کیا جاتا ہے‘ آپ کی تالیفات کی تعداد 150 کے قریب ہے جن میں سے الاصابہ فی تمييز الصحابہ‘فتح الباری شرح صحیح البخاری‘تہذيب التہذيب‘الدُر الکامنہ‘التقر يب التہذيب‘المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ اور بلوغ المرام من ادلۃ الاحكام آپ کی شاہکار تصانیف ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • sharahhadeesjibraeel-copy
    عبد المحسن العباد

    یہ کتاب دراصل الشیخ عبدالمحسن العباد کی تالیف ہے۔ جسے اردو ترجمہ کے قالب میں محقق العصر الشیخ الحافظ زبیر علی زئی نے ڈھالا ہے۔ یہ دراصل حدیث جبریل، کہ جس میں اسلام، ایمان اور احسان کا بیان ہے اور جس کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے آئے تھے، کی مستقل شرح ہے۔ علماء کی ایک جماعت سے اس حدیث کی بڑی شان منقول ہے۔ یہ حدیث ظاہری و باطنی عبادات کی تمام شروط کی شرح پر مشتمل ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم، آداب اور لطائف کی اقسام جمع ہیں۔ بعض علماء تو اس حدیث کو ام السنۃ کی طرح کہتے ہیں یعنی سنت کی ماں۔ کیونکہ اس نے علم سنت کے بنیادی جملے اکٹھے کر لئے ہیں۔

  • title-pages-sharah-hadith-e-jibreel--jadeed-audition--copy
    عبد المحسن العباد

    یہ کتاب دراصل الشیخ عبدالمحسن العباد کی تالیف ہے۔ جسے اردو ترجمہ کے قالب میں محقق العصر الشیخ الحافظ زبیر علی زئی نے ڈھالا ہے۔ یہ دراصل حدیث جبریل، کہ جس میں اسلام، ایمان اور احسان کا بیان ہے اور جس کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے آئے تھے، کی مستقل شرح ہے۔ علماء کی ایک جماعت سے اس حدیث کی بڑی شان منقول ہے۔ یہ حدیث ظاہری و باطنی عبادات کی تمام شروط کی شرح پر مشتمل ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم، آداب اور لطائف کی اقسام جمع ہیں۔ بعض علماء تو اس حدیث کو ام السنۃ کی طرح کہتے ہیں یعنی سنت کی ماں۔ کیونکہ اس نے علم سنت کے بنیادی جملے اکٹھے کر لئے ہیں۔(ف۔ر)

  • title-page-hadith-harqal-seirat-nabvi-k-
    حافظ محمد گوندلوی
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے اقوال وافعال او راحوال وآثار کاریکارڈ اصطلاحی زبان میں حدیث کہلاتا ہے جس سے آپ صلی اللہ  علیہ وسلم کی سیرت وسنت کا علم ہوتا ہے ارباب علم نے احادیث کی شروح لکھنےکا اہتمام کیا جس کے دواسالیب ہیں ایک  تو یہ ہے کہ کسی ایک مجموعہ حدیث کی مکمل شرح  کی جائے اوردوسرا یہ ہے کہ کسی ایک حدیث کو لے کر اس کی شرح کی جائے  زیرنظر کتاب ’’شرح حدیث ہرقل‘‘میں صحیح بخاری کی ایک حدیث کی مفصل تشریح کی گئی ہے جو کہ دوجلیل القدر علماء کے افادات پر مبنی ہے حدیث ہرقل میں دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے کردار کی عظمت او رسیرت کی رفعت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اس سلسلہ میں قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار اور سیرت کی عظمت کی گواہی دینے والٰے دو سخت ترین  دشمن او رکافر تھے گویا’’ الفضل ماشہدت بہ الاعداء‘‘ یعنی جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ۔فی زمانہ جبکہ بعض بدباطن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر بے بنیاد اعتراضات اچھال رہے ہیں اس کتاب کا مطالعہ بہت ہی مفید ثابت ہوگا۔


  • title-sharha-kitab-ul-jamea-min-balogh-ul-maraam
    ابن حجر العسقلانی
    بلوغ المرام من ادلۃ الأحکام، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی حدیث پر لکھی گئی مشہور و متداول کتاب ہے۔ یہ مختصر اور جامع مجموعہ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے۔ ’’کتاب الجامع‘‘ اسی کتاب کا ہی ایک حصہ ہے جس میں آداب و اخلاق سے متعلق احادیث نبویہ کو جمع کیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب شیخ الحدیث حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی حفظہ اللہ نے لکھی ہے جو ’’کتاب الجامع‘‘ کے ترجمے تخریج احادیث اور تشریح احادیث پر مشتمل ہے۔ کتاب ھذا کا ترجمہ و تشریح، سادگی و سلاست کا بہترین مرقع ہے۔ کتاب میں انسان کی اصلاح سے تعلق رکھنے والے چھ ابواب جمع کئے گئے ہیں جن سے نفس انسانی کی صحیح تربیت ہوتی ہے۔ جن میں ادب کے بیان، نیکی کرنے اور رشتہ داری ملانے کے بیان، دنیا سے بے رغبتی اور پرہیزگاری کے بیان، برے اخلاق سے ڈرانے کے بیان، اچھے اخلاق کی ترغیب کے بیان اور ذکر و دعاء کے بیان پر مشتمل ابواب شامل ہیں۔ یہ کتاب اِس لائق ہے کہ اس کو مدارس ‎،کلیات اور جامعات کے ابتدا کی کلاسوں میں شامل نصاب کیا جائے تاکہ تعمیر سیرت کردار کی تکمیل ہو سکے اور مسلمانوں کی کامیابی و کامرانی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔ (آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-shob-ul-iman-vol-1
    امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

    اسلام کے دو بنیادی اور صافی سر چشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ و تابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’شعب الایمان اردو‘‘ امام ابی بکر احمد بن الحسین البیھقی کی ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا قاضی ملک محمد اسماعیل صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایمان کے ستتر (77) شعبوں سے متعلق نصوص قرآنی، احادیث نبویہ، صحابۂ کرام﷢، تابعین و تبع تابعین اور صلحاء امت و صوفیائے کرام کے آثار، اقوال و اشعار پر مشتمل (11269) روایات کا جامع و مفصل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی سات جلدیں ہیں اساتذہ، طلباء اور دیگر لوگوں کے لئے نادر تحفہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اور اس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • pages-from-shob-ul-iman-vol-2
    امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

    اسلام کے دو بنیادی اور صافی سر چشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ و تابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’شعب الایمان اردو‘‘ امام ابی بکر احمد بن الحسین البیھقی کی ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا قاضی ملک محمد اسماعیل صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایمان کے ستتر (77) شعبوں سے متعلق نصوص قرآنی، احادیث نبویہ، صحابۂ کرام﷢، تابعین و تبع تابعین اور صلحاء امت و صوفیائے کرام کے آثار، اقوال و اشعار پر مشتمل (11269) روایات کا جامع و مفصل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی سات جلدیں ہیں اساتذہ، طلباء اور دیگر لوگوں کے لئے نادر تحفہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اور اس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • pages-from-shob-ul-iman-vol-3
    امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

    اسلام کے دو بنیادی اور صافی سر چشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ و تابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’شعب الایمان اردو‘‘ امام ابی بکر احمد بن الحسین البیھقی کی ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا قاضی ملک محمد اسماعیل صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایمان کے ستتر (77) شعبوں سے متعلق نصوص قرآنی، احادیث نبویہ، صحابۂ کرام﷢، تابعین و تبع تابعین اور صلحاء امت و صوفیائے کرام کے آثار، اقوال و اشعار پر مشتمل (11269) روایات کا جامع و مفصل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی سات جلدیں ہیں اساتذہ، طلباء اور دیگر لوگوں کے لئے نادر تحفہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اور اس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • pages-from-shob-ul-iman-vol-4
    امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

    اسلام کے دو بنیادی اور صافی سر چشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ و تابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’شعب الایمان اردو‘‘ امام ابی بکر احمد بن الحسین البیھقی کی ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا قاضی ملک محمد اسماعیل صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایمان کے ستتر (77) شعبوں سے متعلق نصوص قرآنی، احادیث نبویہ، صحابۂ کرام﷢، تابعین و تبع تابعین اور صلحاء امت و صوفیائے کرام کے آثار، اقوال و اشعار پر مشتمل (11269) روایات کا جامع و مفصل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی سات جلدیں ہیں اساتذہ، طلباء اور دیگر لوگوں کے لئے نادر تحفہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اور اس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • pages-from-shob-ul-iman-vol-5
    امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

    اسلام کے دو بنیادی اور صافی سر چشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ و تابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’شعب الایمان اردو‘‘ امام ابی بکر احمد بن الحسین البیھقی کی ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا قاضی ملک محمد اسماعیل صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایمان کے ستتر (77) شعبوں سے متعلق نصوص قرآنی، احادیث نبویہ، صحابۂ کرام﷢، تابعین و تبع تابعین اور صلحاء امت و صوفیائے کرام کے آثار، اقوال و اشعار پر مشتمل (11269) روایات کا جامع و مفصل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی سات جلدیں ہیں اساتذہ، طلباء اور دیگر لوگوں کے لئے نادر تحفہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اور اس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 207 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں