• title-pages-tafheem-e-sunnat-copy
    پروفیسر محمد اکرم نسیم ججہ

    اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی  علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان  دونوں ماخذوں میں سے کسی  ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض ہرکارے  کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" تفہیم سنت "محترم پروفیسر محمد اکرم نسیم ججہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  سنت نبوی کی اہمیت وفضیلت بیان کرتے ہوئے بدعات سے بچنے اور احتراز کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ (راسخ)

  • pages-from-talkhees-subulussalam-fi-sharha-bloogh-ul-maraam
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔ او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب کی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ۔ شروحات میں   بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اور اسی طرح عصرکے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے۔ کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تلخیص سبل السلام فی شرح بلوغ المرام‘‘ مفسر قرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی ﷫ کے بھائی محترم مولانا سلیمان کیلانی ﷫ کی کاوش ہے جو کہ دراصل سبل السلام شرح بلوغ المرام کی تلخیص کرکے اس کاآسان ترجمہ کیا گیاہے ۔مترجم موصوف نے اس میں کتاب کےاجتہادات اورمشکل مقامات ،مغلق الفاظ کواچھی طرح واضح کیا ہے۔ اور ضعیف حدیثوں کےوجہ ضعف پر اچھی طرح تبصرہ کیا ہے او ر کوئی ایسا مقام جوحل طلب ہونظر انداز نہیں کیا گیا۔یہ شرح دو اجزاء پر مشتمل ہے۔موصوف نے جز اول کا آغاز کتاب الطہارہ اور جز ثانی کا آغاز کتاب البیوع سےکیا ہے ۔موصوف نے یہ تلخیص، ترجمہ وحواشی کام 1935ء میں کیا تھا جوکہ اس کےکچھ عرصہ بعد طبع ہوا ۔موجودہ طبع تقریبا 1963ء کی ہے۔اس کے آخر میں حکیم محمد یوسف خادم کی طرف سے ’’الاعلام لاسماء الرجال الذین ذکرہم فی بلوغ المرام‘‘ کے نام سےاضافہ بھی لائق مطالعہ ہے جس میں انہوں نے بلوغ المرام میں مذکور رجال کا تعارف پیش کیاہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذاکےمترجم وشارح کی تمام کاوشوں کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-talkhees-nasb-ul-imaad-fi-jarha-al-hassan-ul-ziyaad-
    حافظ زبیر علی زئی

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل"یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح"یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب"تلخیص نصب العماد فی جرح الحسن بن زیاد" پاکستان کے معروف عالم دین محقق محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے راوی حدیث حسن بن زیاد کے بارے علماء جرح وتعدیل کے اقوال نقل کرتے ہوئے ان پر ضعف کا حکم لگایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • pages-from-tanveer-ul-afhaam-fee-hall-e-arabiyyah-bloogh-ul-mraam
    جاوید اقبال سیالکوٹی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔ او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔ انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔ اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب مختصر اور ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے۔ مسائل واحکام کا یہ نہایت اہم او ر گرانقدر مجموعہ علماء او رطلباء کےلیے یکساں مفید ہے۔ اپنی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر یہ کتاب دنیا بھر کے مدارسِ اسلامیہ میں داخل نصاب ہے۔ اور کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ہیں۔ شروحات میں بدر التمام،سبل السلام، فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں علامہ عبد التواب ملتانی ،مولانا محمد سلیمان کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ بھی اہل علم کے ہاں متعارف ہیں اور اسی طرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔ دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی بڑی اہم ہے یہ تینوں کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تنویر الافہام فی حل عربیۃ بلوغ المرام ‘‘ محترم مولانا جاوید اقبال سیالکوٹی ﷾ کی کاوش ہے۔ انہوں نےاس میں بلوغ المرام کی تراکیب کو حل کیا ہے۔ جس سے بلوغ المرام پڑہنے والے طلباء کے لیے آسانی ہوگئی ہے۔ تنویر الافہام محض بلوغ المرام کی چند احادیث کی ترکیب ہی نہیں بلکہ یہ عربی قواعد وانشا کا ایک مجموعہ بھی ہے تحریر وتفہیم کا انداز بالکل سہل ہے جسے گرائمر سے معمولی دلچسپی رکھنے والا بھی آسانی کے ساتھ سمجھ لیتا ہے اور پھر ترکیب کےان اصول وقواعد کو یاد کرلینے اور سمجھ لینے اوران کے استعمال میں مہارت حاصل ہوجانے کے بعد طالب علم عربی زبان میں لکھی ہوئی کسی بھی کتاب کو پڑھنے کی اپنے اندر استعداد پائے گا اور بآسانی اپنے مقصد تک پہنچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو طالبان علوم نبوت کے لیے نافع بنائے اور مصنف کے لیے اسے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-1
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-2
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-3
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-5
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-4
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-7
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-taiseer-mustalih-al-hadithurdu
    ڈاکٹر محمود الطحان
    علم کی دوقسمیں ہوتی ہیں پہلا یہ کہ وہ علم استدلالی واستنباطی ہو دوسرا یہ کہ وہ علم خبرکے ذریعے حاصل کیا جائے۔خبری علم میں اذعان ویقین کی صرف یہ صورت ہےکہ خبردرست اور صدق پرمبنی ہو۔ محدثین نے اسی مقصد کو حاصل کرنےکےلیے خبر کی صداقت کے کڑےاصول وضع کیے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی علم کو محدثین کی اصطلاح میں اصول حدیث کےنام سےیاد کیاجاتا ہے۔ علم اصول حدیث وہ علم ہے جو محدثین نے صرف اس لئے وضع کیاتھا تاکہ احادیث رسولﷺ میں تحقیق کرسکیں۔ علما نے اس علم پرسینکڑوں کتابیں لکھی ہیں جوکہ اپنی الگ الگ خصوصیات کی حامل ہیں۔ تاہم مشکل اور ادق فنی اصطلاحات کی وجہ سے ایک عام قاری کےلیے ان کتابوں سے استفادہ کرنا جوئے شیرلانے کے مترادف تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر محمود الطحان نے اس کار عظیم کا بیڑا اٹھایا اور اس علم میں ایک آسان ترین کتاب آپ کے ہاتھوںمیں تھمادی۔ یہ کتاب نہ صرف آسان ہے بلکہ جامع بھی ہے اور اپنی جامعیت کے باوجود زیادہ طویل اورمختصربھی نہیں ۔ اللہ انہیں جزائے خیر سے نوازے۔آمین۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • untitled-1
    امام ترمذی
    امام ترمذی کی جامع ترمذی کو جو مقام ملا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ جامع ترمذی کو بہت سے محاسن کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ جرح و تعدیل کا بیان، معمول بہا اورمتروکہ روایات کی وضاحت اور قبول و تاویل میں اختلاف اور علما کی تشریحات ایسی خصوصیات ہیں جو صرف جامع ترمذی سے مخصوص ہیں۔ جامع ترمذی کی اسی اہمیت کے پیش نظر متقدمین اور متاخرین نے اس کی بہت سی شروحات لکھی ہیں۔ اس وقت آپ کےسامنے اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہےجو کہ علامہ بدیع الزمان نے کیا ہے۔ انہوں نے بعض احادیث کے تحت تشریحی نوٹ لکھ کر اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ احادیث کے اردو تراجم والی کتب میں یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ احادیث کی نمبرنگ کا خاص اہتمام نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کوئی حدیث تلاش کرنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ اس کتاب کی بھی یہی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ احادیث کی تحقیق پیش کر دی جاتی تو کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • untitled-1
    امام ترمذی
    امام ترمذی کی جامع ترمذی کو جو مقام ملا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ جامع ترمذی کو بہت سے محاسن کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ جرح و تعدیل کا بیان، معمول بہا اورمتروکہ روایات کی وضاحت اور قبول و تاویل میں اختلاف اور علما کی تشریحات ایسی خصوصیات ہیں جو صرف جامع ترمذی سے مخصوص ہیں۔ جامع ترمذی کی اسی اہمیت کے پیش نظر متقدمین اور متاخرین نے اس کی بہت سی شروحات لکھی ہیں۔ اس وقت آپ کےسامنے اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہےجو کہ علامہ بدیع الزمان نے کیا ہے۔ انہوں نے بعض احادیث کے تحت تشریحی نوٹ لکھ کر اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ احادیث کے اردو تراجم والی کتب میں یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ احادیث کی نمبرنگ کا خاص اہتمام نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کوئی حدیث تلاش کرنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ اس کتاب کی بھی یہی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ احادیث کی تحقیق پیش کر دی جاتی تو کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-jamia-tirmazi-1-copy
    امام ترمذی

    جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں ترجمہ کی تسہیل اور فوائد میں مذکورہ آیات کی تخریج کا کا م مولانا حافظ خالد سلفی (فاضل جامعہ رحمانیہ گارڈن ٹاؤن ،لاہور ) نےانجام دیاہے۔ جوکہ دیگر نسخوں میں نہیں ہے اسی امتیاز کی وجہ سے اس مترجم نسخہ کو بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ خالد اورناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-jamia-tirmazi-2-copy
    امام ترمذی

    جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں ترجمہ کی تسہیل اور فوائد میں مذکورہ آیات کی تخریج کا کا م مولانا حافظ خالد سلفی (فاضل جامعہ رحمانیہ گارڈن ٹاؤن ،لاہور ) نےانجام دیاہے۔ جوکہ دیگر نسخوں میں نہیں ہے اسی امتیاز کی وجہ سے اس مترجم نسخہ کو بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ خالد اورناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-jamia-tirmazi-mutarjam--tehqiq-w-takhreej-shuda-audition--1-copy
    امام ترمذی

    جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں حدیث کی ترقیم علامہ فواد عبد الباقی اورعلامہ ناصر الدین البانی﷫ کا حکم صحت وضعف حدیث بھی اس میں شامل ہے ۔نیز جامع ترمذی کے تحقیق وتخریج شدہ اس جدید ایڈیشن کی تسہیل وتہذیب محترم جناب حافظ محمد انور زاہد نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اگر چہ ویب سائٹ پر جامع ترمذہ کا ترجمہ موجود ہے لیکن یہ ایڈیشن چونکہ تحقیق وتخریج شدہ ہے اس لیے اسے بھی اسے ویب سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)( م۔ا)

  • title-pages-jamia-tirmazi-mutarjam--tehqiq-w-takhreej-shuda-audition--2-copy
    امام ترمذی

    جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں حدیث کی ترقیم علامہ فواد عبد الباقی اورعلامہ ناصر الدین البانی﷫ کا حکم صحت وضعف حدیث بھی اس میں شامل ہے ۔نیز جامع ترمذی کے تحقیق وتخریج شدہ اس جدید ایڈیشن کی تسہیل وتہذیب محترم جناب حافظ محمد انور زاہد نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اگر چہ ویب سائٹ پر جامع ترمذہ کا ترجمہ موجود ہے لیکن یہ ایڈیشن چونکہ تحقیق وتخریج شدہ ہے اس لیے اسے بھی اسے ویب سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)( م۔ا)

     

  • title-pages-jarah-w-tadeel-copy
    ڈاکٹر اقبال احمد محمد اسحاق بسکوہری

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں  زیر نظر کتاب ’’ جرح وتعدیل ‘‘انڈیا کے  اسلامی اسکالر  ڈاکٹر اقبال  احمد محمد اسحاق بسکوہری ﷾(صدر شعبہ حدیث ،جامعہ محمد منصورہ مالیگاؤں) کی تصنیف ہے۔جرح وتعدیل کے کےموضو ع اردو زبان میں ایک اہم کتاب ہے اور  طالبانِ علوم نبوت کے لیےگراں قد ر  تحفہ ہے  فاضل مصنف  نے اس  کتا ب میں  اسناد ،طبقات رجال ، قواعد جرح وتعدیل ،ائمہ جرح وتعدیل،کتب جرح وتعدیل کے بارے   فن  اصول حدیث ،جرح وتعدیل، اسماء الرجال، کے بنیادی  جدید وقدیم  مصادر ومراجع  سےمواد  تفصیلاً جمع کردیا ہے  جوکہ فن حدیث پر محققانہ اور نادر علمی دستاویز ہے۔اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کےسلسلے میں ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-jamat-e-islami-ka-nazria-hadith-aik-tanqedi-jaiza-copy
    محمد اسماعیل سلفی

    اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی  علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان  دونوں ماخذوں میں سے کسی  ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض قاصد  کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث، تنقیدی جائزہ"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب ﷫کی مایہ ناز تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مولانا ابو الاعلی مودودی صاحب﷫ اور ان کی قائم کردہ جماعت اسلام کا نظریہ حدیث بیان کیا ہے۔اللہ تعالی دفاع سنت نبوی کے سلسلے میں کی جانے والی ان کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • jannat-bula-rahi-hai
    حافظ فیض اللہ ناصر

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا   آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے   اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیےحور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر نظر کتاب ’’ جنت بلار ہی ہے ‘‘فاضل نوجوان حافظ فیض اللہ ناصر﷾ (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے صحیح اور مستند احادیث سےماخوذ ایسے ہی اعمال کوجمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو بہت مختصربھی ہیں اور بیش بہااجر وثواب کےموجب بھی۔ان چھوٹے چھوٹےاعمال پر عمل پیر ہوکر مسلمان   جنت کےوارث بن سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی تقریبا نصف درجن کتب کےمترجم ومرتب ہیں۔تصنیف وتالیف وترجمہ کے میدان میں موصوف کی حسنِ کارکردگی کے اعتراف   میں ان کی مادر علمی جامعہ لاہورالاسلامیہ،لاہور نے2014ء کے آغاز میں انہیں اعزازی شیلڈ وسند سے نوازاہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے۔آمین  (م۔ا)

  • copy-of-title-pages-jang-e-azeem-awwul-2
    سید فضل اللہ بخاری
    بیسویں صدی کے آغاز میں ایک ایسی عظیم جنگ رو بہ عمل آئی کہ روئے زمین پر ظلم اور خون آشامی کی الم ناک داستانیں رقم ہوئیں۔ اس سے قبل انسانی ادراک و تخیل اس قدر قتل و غارت گری، خونریزی اور درندگی سے آشنا نہ تھا۔ چشم متحیر نے 1914ء سے 1918ء تک انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کے تباہی کے ایسے مناظر دیکھے جن کے وقوع کے بعد انسان درندگی اور شیطنت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ زیر نظر کتاب اسی خون آشام داستان کو سپرد قلم کیا گیا ہے۔ جس میں کوشش کی گئی ہے کہ جنگ عظیم سے قبل شریکِ جنگ ممالک، یورپ اور باقی دنیا کے حالات و معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے جنگ کے اسباب و علل، احوال، نتائج اور اثرات پر سیر حاصل معلومات یکجا کرتے ہوئے موجودہ دور اور حالات کے تناظر میں بے لاگ اور جامع تبصرہ بھی قارئین کے لئے پیش کیا جائے۔ تاکہ کتاب نہ صرف تاریخ کی ایک اہم کڑی کے بیان پر محیط نہ ہو بلکہ مستقبل کے لیے آئینے اور مشعل کا کام بھی دے سکے۔(ع۔م)

    نوٹ
    جنگ عظیم حصہ دوم کی ڈاؤنلوڈنگ اور آن لائن مطالعہ کےلیے یہاں کلک کریں
  • copy-of-title-pages-jang-e-azeem-doam
    لوئیس ایل۔سنائڈر
    بیسویں صدی اپنی آغوش میں دو عظیم جنگیں لیے روپوش ہو گئی۔ اکیسویں صدی کا آغاز بھی بیسویں صدی کی خون آشامی سے مختلف نہیں ہے۔ عالمی طاقتیں امن عالم کے جاں فزا نعرے لگا کر لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے اور اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے میں مصروف ہیں۔ یہی عالمی طاقتیں جنگ عظیم اول میں آمنے سامنے ہوئیں تو ایک کروڑ سے زائد لوگ کام آئے۔ اور جب جنگ عظیم دوم میں ان کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو پانچ کروڑ لوگوں کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی اور کروڑوں لوگوں کو معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر امن کا سب سے بڑا علمبردار ہونے کا ثبوت دیا۔ زیر نظر کتاب جنگ عظیم دوم کے تمام پہلو آپ کے سامنے اس طرح عیاں کر دے گی کہ آپ جنگ کے تمام واقعات اپنے سامنے ہوتے دیکھ رہے ہوں گے۔ کتاب کے مصنف لوئیس ایل۔ سنائیڈر ہیں جس کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ مولانا غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ کتاب ایک تاریخی دستاویز کے ساتھ ساتھ مصنف کا غیر جانبدارانہ اور عرق ریزی سے کیا ہوا تجزیہ بھی ہے جس نے موضوع کے تمام پہلوؤں کو بخوبی سمیٹ لیا ہے۔ علاوہ ازیں مصنف نے انسانی تاریخ کا رخ موڑنے والے دو کرداروں ہٹلر اور مسولینی کی زندگیوں اور کارستانیوں سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ
    جنگ عظیم حصہ اول کی ڈاؤنلوڈنگ اور آن لائن مطالعہ کےلیے یہاں کلک کریں
  • jawahir-al-iman-sharha-lu-loo-wal-marjaan
    محمد فواد عبد الباقی
    ائمہ محدثین کے ہاں مسلم ہے کہ قرآن کریم کے بعد صحیح ترین احادیث وہ ہیں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے علامہ محمد فواد عبدالباقی پر جنہوں نے نہایت عرق ریزی سے بخاری ومسلم کی متفقہ احادیث کو اللؤلؤ والمرجان کی صورت میں یکجا کردیا۔بعد ازاں کتاب کی اسی اہمیت کے پیش نظر سینکڑوں مدارس کے نصاب میں اسے شامل کرلیا گیا۔ لیکن چونکہ اس کتاب کی کوئی مستقل شرح نہ تھی اس لیے مدرسین وطلبائے علوم دینیہ کو بعض مقامات پر اس کے حل وتفہیم میں مشکل پیش آتی۔ اسی مشکل کے پیش نظر عصر حاضر کے معروف ریسرچ سکالر اور مؤلف و مرتب کتب کثیرہ حافظ عمران ایوب لاہوری نے اس کی شرح کا بیڑہ اٹھایا جو آج بفضل اللہ زیور طباعت سے آراستہ ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔موصوف نے متن اور شرح کی تمام احادیث کی تخریج کی ہے ۔شرح میں جہاں صحیحین کے علاوہ دیگر کتب کی احادیث نقل کی ہیں وہاں ان پر صحت وضعف کا حکم بھی لگایا ہے ۔تشریح کے لیے زیادہ تر فتح الباری اور شرح النووی کو ہی پیش نظر رکھا ہے ۔شرح میں طوالت سے بچتے ہوئے اختصار اور جامعیت کو ملحوظ رکھا ہے ۔ ہرحدیث کے بعد مشکل الفاظ کے معنی وفوائد بھی قلم بند کیے ہیں۔ بطور خاص ہر مقام پر تعصب سے بالاتر ہوکر کسی خاص فقہی مکتبہ فکر کے بجائے محض دین اسلام کی ہر ترجمانی کی ہے ۔یوں سرور دو عالم کے سنہری فرامین پر مشتمل قیمتی ہیرے اور جواہرات کی چمک دو چند ہوگئی ہے ، جو طلبائے علوم دینیہ اور اساتذہ کرام کے علاوہ عام لوگوں کے دلوں کو بھی نور ایمان سے منور کرنے کے لیے نہایت اہمیت وافادیت کی حامل ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مفید شرح کو سب کے لیے ذریعہ ہدایت بنائے ۔آمین(ع۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-page-hujiyt-hadees
    حافظ عبد الستار حماد
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے جو اصلاً اس کتاب کی توضیح وتشریح ہی ہے جو اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی صورت میں نازل فرمائی ہے- کتاب ہذا میں شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے- فاضل مصنف نے کتاب کی دو ابواب میں تقسیم کی ہے  پہلے باب میں حجیت حدیث اور دوسرے باب میں انکار حدیث کے عوامل ومحرکات بیان کرتے ہوئے ایسے تمام عناصر کا قلع قمع کیا ہے جو حدیث وسنت کے متعلق شبہات واعتراضات وارد کر کے اس کی تشریعی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ قرآن کی من مانی اور خانہ زاد تشریحات کے ذریعے اسلام کی اپنی خواہشات کے عین مطابق تشریح پیش کی جا سکے-

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 384 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :