• copy-of-title-pages-tareekh-w-tadween-e-sunnat
    ڈاکٹر محمد عجاج الخطیب
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت قرآن مقدس کا بیانی،اسلامی شریعت کا بنیادی ماخذ اور وحی الہیٰ ہے۔امت کے ہاں متفقہ طور  پر اس کا یہی مقام ہے لیکن بعض نام نہادج مسلم اور غیر مسلم گروہ اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ سنت کی پوزیشن کو مشکوک بنایا جائے چنانچہ اس کے لیے وہ مختلق قسم کے بے سروپا اعتراضات کرتے رہتے ہیں تاکہ ریب وشک کے دواعی کو ابھارا جاسکے۔اس ضمن میں ان کا ایک  اعتراض ،جسے یہ بہت زیادہ اچھالتے ہیں کہ حدیث تو دو صدیوں کے بعد لکھی گئی لہذا اس کا کیا اعتبار؟بہت سے حضرات جو اسلامی تاریخ وثقافت سے بے خبر اور ’جدید علوم‘کے پروردہ ہوتے ہیں ،اس اعتراض سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔زیر نظر کتاب میں اسی اعتراض کا مدلل اور مصکت جواب دیا گیاہے۔اس کے مصنف ڈاکٹر عجاج الخطیب ہیں اور یہ کتاب ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو کلیۃ العلوم الشرعیۃ قاہرہ میں پیش کیا گیا۔فاضل مصنف نے ثابت کیا ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز عہد رسالت ہی سے شروع ہو گیا تھا۔مولانا عزیزالرحمن نے اس کارواں اردو ترجمہ کیا ہے ،جس سے اردو خواں طبقہ بھی اس سے مستفید ہو سکتا ہے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے تدوین حدیث کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گا اور حدیث وسنت پر ایمان وایقان میں اضافہ ہو گا۔(ط۔ا)

  • title-pages-tareekh-e-wahabiyat-haqaiq-k-aine-me
    ڈاکٹر محمد بن سعد الشویعر
    سلفی تحریک کو ابتداء سے لے کر موجودہ دور تک مختلف قسم کے الزامات و اتہامات اور دشنام طرازیوں کا سامنا ہے ۔ علماء سوء کی تمام تر توانائیاں اس نکتے پر کھپ رہی ہیں کہ اس تحریک کا راستہ کیسے روکا جائے ۔اس لیے کہ اس تحریک کی کامیابی اصل میں ان سیم و زر کے پجاریوں کی ناکامی ہے جنہوں نے دین کو بطور پیشہ کے اپنایا ہوا ہے ۔چنانچہ ان جضرات نے اللہ کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے    تحریک اور بانیان تحریک کے لیے ہر طرح کی گالی کو  جائز قرار دے لیا بلکہ لوگوں کو اس سے متنفر کر نے کے لیے  تحریک کے نام کو ہی گالی  بنادیا اور اس مقدس تحریک کے ڈانڈے  دوسری صدی ہجری کی  ،رستمی وہابیت ،سے جاملائے پھر زور و شور سے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ  شیخ محمد کی یہ تحریک در اصل خارجیوں کی اباضی تحریک وہابیت کی صدائے بازگشت ہے ،تاکہ علماء سلف کے فتاوی اور عوام الناس  کی نفرت کا رخ اباضی تحریک سے سلفی تحریک کی جانب موڑ دیا جائے۔اس تاریخی غلطی کی اصلاح اور الزامات و اتہامات کے مسکت جواب کے لیے  ڈاکٹر محمدبن  سعد  الشویعر کی یہ تالیف  نہایت ہی عمدہ کاوش ہے ۔موصوف مفتی اعظم سعودی عرب کے مشیر  اور مستند عالم دین ہیں ۔سلفی تحریک    سے آگاہی اوراس پر اعتراضات کے مسکت  اور شافی جوابات کے لیے شاید اس سے بہتر  کتاب دستیاب نہیں ہے۔  (ناصف)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tehreek-ahle-hadees-tareekh-k-aine-me
    قاضی محمد اسلم سیف
    مسلک اہل حدیث پر عموماً یہ اعتراض وارد کیا جاتا ہے کہ یہ ایک نو ایجاد مذہب ہے اور اس کے ڈانڈے اسلام دشمن قوتوں سے ملتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ’اہل حدیث‘ اس طرز فکر کا نام ہے جس کا سرچشمہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی مقدس شخصیات ہیں۔ مسلک ’اہل حدیث‘ کے بارے میں وارد کیے جانے والے تمام اعتراضات و شبہات کے ازالے کے لیے قاضی محمد اسلم سیف صاحب فیروز پوری تاریخی حقائق سے لیس ہو کر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے براہین قاطعہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث کسی خاص فرقہ یا گروہ کا نام نہیں ہے اور نہ ہی اصحاب الحدیث کی کوئی فنی اصطلاح ہے بلکہ یہ وہ نظریاتی اور اصلاحی تحریک ہے جس کا نصب العین کتاب و سنت کے ساتھ تمسک ہے۔ مولانا نے بہت سے حقائق کو مسلسل پیرایہ میں نظم کرتے ہوئے ہر دور میں اہل حدیث کے زاویہ نگاہ کو واضح صورت میں پیش کر دیا ہے۔ پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر دور کے اہل حدیث زعماء کے تجدیدی اور اصلاحی کارناموں کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔ کتاب کی خوبی یہی ہے کہ اہل الحدیث کےبارے میں تمام جزئیات و کلیات کے ذکر میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیا گیا۔(ع-م)
  • title-pages-tuhfa-e-hadith-copy
    محمد امین اثری

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث  ہیں جن کی تعلیمات وہدایات  پر  عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے  ضروری ہے ۔ قرآن مجید کی طرح  حدیث بھی دینِ اسلام  میں ایک  قطعی حجت ہے ۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی  ہے ۔احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ  عامۃ الناس  کےلیے  انتہائی دشوار  ہے ۔عامۃ الناس  کی ضرورت کے پیش  نظر کئی اہل علم  نے  مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں ۔اربعین کے نام سے  کئی علماء نے   حدیث کے  مجموعے مرتب کیے ۔اور اسی طرح  100 احادیث پر مشتمل  ایک  مجموعہ  عارف با اللہ  مولانا سید محمد داؤد غزنوی  ﷫ نے  ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘  کے  نام سے مرتب کیا جس میں  عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل  راہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب  میں شامل  ہے۔عصر  حاضر میں  بھی کئی مزید مجموعات ِحدیث منظر عام پر آئے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تحفۂ حدیث‘‘بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔یہ مجموعہ  حدیث  مولانا محمد اثری  کامرتب شدہ ہے  اس میں انہو ں  نے ان احادیث مبارکہ کو جمع کیا ہے جو انسان کی عملی زندگی سے تعلق  رکھتی ہیں ۔اور  اردو زبان میں  ان احادیث کی  وضاحت اورتفصیل سے ان کی تشریح بھی کردی ہے ۔اسلامی زندگی کی بابت احادیث صحیحہ کا یہ مستند تشریحی  مجموعہ  تقریباً  ساٹھ احادیث پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-tuhfatu-al-ahadees-sharha-nukhbatu-al-ahadees-copy
    سید داؤد غزنوی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے  استفتادہ  عامۃ الناس  کےلیے  انتہائی دشوار  ہے ۔عامۃ الناس  کی ضرورت کے پیش  نظر کئی اہل علم  نے  مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں  جن میں ایک  100 احادیث پر مشتمل  ایک  مجموعہ  عارف با اللہ  مولانا سید محمد داؤد غزنوی  ﷫ نے  نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے  نام سے مرتب کیا جس میں  عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل  رااہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب  میں شامل  ہے۔زیر نظر کتاب ’’ تحفۃ الاحادیث ‘‘مولانا داؤد غزنوی  کی کتاب نخبۃ الاحادیث کی شرح  ،سلیس وعام فہم ترجمہ  ہے ۔اس  میں  مترجم کی  طرف سے  لغوی  تشریح اور فوائد کااضافہ یقیناً ابتدائی طلبہ کے لیے  بہت مفید  ہے۔مترجم نے  تمام احادیث کی تخریج بھی کردی  ہے تاکہ اصل مراجع کی  طرف آسانی سے  رجوع کیا جاسکے ۔ اللہ تعالی اس  کتاب کا  فائد ہ عام فرمائے  اور مصنف ،مترجم  کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے  نوازے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-tuhfatuddurar
    ابن حجر العسقلانی

    اصولِ حدیث پر حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ کی سب سے پہلی اور اہم تصنیف ’’نخبۃ الفکر فی مصطلح اھل الاثر‘‘ ہے جو علمی حلقوں میں مختصر نام ’’نخبۃ الفکر‘‘ سے جانی جاتی ہےاور اپنی افادیت کے پیش نظر اکثر مدارس دینیہ   میں شامل نصاب ہے۔ اس مختصر رسالہ میں ابن حجر نے علومِ حدیث کے تمام اہم مباحث کا احاطہ کیا ہے ۔حدیث اوراصو ل میں نخبۃ الفکر کو وہی مقام حاصل ہے جو علم لغت میں خلیل بن احمد کی کتاب العین کو ۔مختصر ہونے کے باوجود یہ اصول حدیث میں اہم ترین مصدر ہے کیونکہ بعد میں لکھی جانے والی کتب اس سے بے نیاز نہیں ۔حافظ ابن حجر  نے ہی اس کتاب کی شرح ’’نزھۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر فی مصطلح اھل الاثر‘‘ کے نام سے لکھی جسے   متن کی طر ح قبول عام حاصل ہوا۔ اور پھر ان کے بعد کئی اہل علم نے نخبۃ الفکر کی شروح لکھی ۔ زیر نظر کتاب ’’تحفۃ الدرر ‘‘ بھی اردو زبان میں نخبۃ الفکر کی اہم شرح ہے۔جس   سے طلباء و اساتذہ کے لیے نخبۃ الفکر سے استفاد ہ اور اس میں موجود اصطلاحات حدیث کو سمجھنا آسا ن ہوگیا ہے ۔یہ شرح مولانا سعید احمد پالن پوری کی کاوش ہے ۔اللہ تعالی ٰ   مصنف   وشارح کی   علمی کاوش کو قبول فرمائے اور اسے طلباء کے لیے مفیدبنائے (آمین) م۔ا)

  • title-pages-tadween-e-hadith-copy
    اطہر بن جعفر اطہر الحق

    دورِجدید میں بعض تعلیم  یافتہ حضرات کے ذہنوں میں  یہ غلط خیال پایا جاتا ہے  کہ  رسول اللہﷺ کی  احادیثِ مبارکہ اپنے اولین دور میں  ضبطِ تحریر میں نہیں لائیں گئیں بلکہ صرف زبانی نقل وروایت پر اکتفاء کیاگیا۔اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دروخلافت میں  کم از کم ایک صدی گزرجانے کے بعد احادیث کے لکھے جانے اور ان کو مدون کئے جانے  کے کام کا آغاز  ہوا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے  اورعلمی وتاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔کیونکہنبی ﷺ کے عہد بابرکت میں حدیث و سنت کی تدوین کا سلسلہ ایک خاص انداز میں شروع ہو گیا تھا اور صحابہ کرام نے اس کی حفاظت و صیانت کو اپنا مقصد حیات قرار دے لیا تھا۔  نبی  کریم ﷺ نے  اپنے  صحابہ  کرام کو  حدیث کو محفوظ کرنے کے لیے    احادیث نبویہ کو  زبانی یاد کرنے اوراسے لکھنے کی ہدایات  فرمائیں ۔ اسی لیے  مسلمانوں نے نہ صرف قرآن کی حفاظت کا اہتمام کیا بلکہ حدیث کی حفاظت کے لئے بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں، ائمہ محدثین نے بھی حفظ احادیث اور کتابت حدیث کےذریعے   حفاظت  ِحدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اللہ کے رسول ﷺکو شروع میں یہ خوف لاحق تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ حدیث اور قرآن دونوں کو ایک ساتھ ملا کر لکھ لیں جس سے کچھ لوگوں کے لئے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوجائے، اسی لئے آپ ﷺ نے صحابہ کو احادیث لکھنے سے منع کر دیا تھا، جیسا کہ مسند احمد کی حدیث ہے:لا تكتبوا عني، ومن كتب عني شيئا سوى القرآن فليمحه (مسند أحمد)’’مجھ سے کچھ مت لکھو، اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ بات لکھی ہو اسے چاہیے کہ مٹا دے۔‘‘رسول اللہ ﷺکا یہ حکم سن 7 ہجری تک برقرار رہا، لیکن جب قرآن کی حفاظت کے تئیں اللہ کے رسول ﷺ کو اطمینان حاصل ہو گیا تو اپنے ساتھیوں کو احادیث بھی قلمبند کرنے کی عام اجازت دے دی، صحابہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو آپ کی باتیں سننے کے بعد انہیں باضابطہ لکھ لیا کرتے تھے۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص   کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ سے جو کچھ سنتا اسے یاد کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا، لوگوں نے مجھے روکا اور کہا: اللہ کے رسول ﷺایک انسان ہیں، کبھی خوشی کی حالت میں باتیں کرتے ہیں تو کبھی غصہ کی حالت میں، اس پر میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ پھر میں نے نبیﷺسے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:اكتب فوالذي نفسي بيده لا يخرج منه إلا حق (رواه أبو داود والحاكم)“لکھ لیا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔‘‘اسی طرح سیدنا  ابوهریرہ  بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے (فتح مکہ کے موقع پر) ایک خطبہ دیا. ابو شاہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے میرے لئے لکھوا دیجئے، آپ نے کہا: أكتبوا لأبي شاة اسے ابوشاہ کے لیے لکھ دو. (بخاری، مسلم)رسول  اللہ ﷺکے انتقال کے بعد قرآن جھليوں، ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، صحابہ نے اسے جمع کردیا، لیکن حدیث کو جمع کرنے کی طرف صحابہ کا دھیان نہیں گیا لیکن وہ زبانی طور پر ایک دوسرے تک اسے پہنچاتے رہے، اس کے باوجود کچھ صحابہ نے جو حدیثیں لکھی تھیں ان میں سے کچھ صحيفے مشہور ہو گئے تھے. جیسے ’’ صحیفہ صادقہ‘‘ جو ایک ہزار احادیث پر مشتمل عبداللہ بن عمرو بن عاص  عنہ کا صحیفہ تھا، اس کا زیادہ تر حصہ مسند احمد میں پایا جاتا ہے، ’’صحیفہ سمرہ بن جندب  ‘‘، ’’صحیفہ سعد بن عبادہ‘‘ ،’’ صحیفہ جابر بن عبداللہ انصاری  ‘‘۔ جب مختلف ممالک میں اسلام کا دائرہ وسیع ہونے لگا اور صحابہ کرام مختلف ملکوں میں پھیل گئے، پھر ان میں سے زیادہ تر لوگ وفات پاگئے اور لوگوں کی یادداشت میں بھی کمی آنے لگی تواب حدیث کو جمع کرنے کی ضرورت کا احساس ہوا، لہذا سن 99 ہجری میں جب عمر بن عبدالعزیز ﷫ مسلمانوں کے خلیفہ بنے اور مسلمانوں کے احوال پر نظر ڈالی  جس سے اس وقت مسلمان گزر رہے تھے تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ احادیث کی تدوین کا بندوبست کیا جائے، چنانچہ آپ نے اپنے حکام اور نمائندوں کو اس کا حکم دیتے ہوئے لکھا اور تاکید کی کہ اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث کو جمع کرنے کا کام شروع کر دیا جائے، جیساکہ آپ نے مدینہ کے قاضی ابو بکر بن حزم کو لکھا کہ: ’’تم دیکھو، اللہ کے رسول ﷺکی جو حدیثیں تمہیں ملیں انہیں لکھ لو کیوں کہ مجھے علم کے ختم ہونے اور علماء کے چلے جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘اسی طرح آپ نے دوسرے شہروں میں بھی ائمہ اور محدثین کو خطاب کیا کہ رسول اکرم ﷺکی حدیثیں جمع کرنے کی طرف توجہ دیں۔جب تیسری صدی آئی تو اس میں احادیث جمع کرنے کا ایک الگ طریقہ مشہورہوا کہ محض اللہ کے رسول ﷺ کی حدیثیں جمع کی گئیں، اور ان میں صحابہ کے قول اورو فعل کو شامل نہیں کیا گیا. اسی طرح مسانيد بھی لکھی گئیں ۔امیر المومنین  فی  الحدیث  امام محمد بن اسماعیل البخاری ﷫نے فقہی ترتيب کے مطابق محض صحیح احادیث کا مجموعہ تیار کیا جسے دنیا آج صحیح بخاری کے نام سے جانتی ہے جو حدیث کی صحیح اور مستند کتابوں میں پہلے نمبر پر آتی ہے، پھر ان کے بعد ان کے ہی شاگرد امام مسلم بن حجاج  ﷫نے صحیح حدیث کا ایک مجموعہ تیار کیا جو آج صحیح مسلم کے نام سے مقبول ہے. اور صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے.امام بخاری اور امام مسلم کے طریقے پر ان کے دور میں اور ان کے بعد بھی محدثین نے کتابیں لکھیں، آج حدیث کی بڑی کتابوں میں جو حدیثیں محفوظ ملتی ہیں انہیں جمع کرنے والے محدثین نے راویوں کے حوالے سے روایتیں بیان کی ہیں، صحابہ نے اللہ کے رسول ﷺکو جو کچھ کہتے سنا تھا یا کرتے دیکھا تھا اسے انہوں نے حفظ کیا اور کچھ لوگوں نے اسے لکھا پھر بعد کی نسل تک اسے پہنچایا، جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے پھر سننے والوں نے دوسروں کو سنایا یہاں تک کہ اسے جمع کر دیا گیا. جیسے فلاں نے فلاں سے کہا اور فلاں نے فلاں سے کہا کہ میں نے اپنے کانوں سے محمد ﷺکو ایسا فرماتے ہوئے سنا ہے. آ ج صرف مسلمانوں کو یہ اعزاز اور فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے رسول کی ایک ایک بات کو مکمل طور پر محفوظ کیا، اس کے لئے مسلمانوں نے اسماء الرجال کاعلم ایجاد کیا،  جس  کی گواہی ایک جرمن مستشرق ڈاکٹر اے سپرگر (Dr A. Springer)  نےدی   اور حافظ ابن حجر ﷫کی کتاب الإصابہ (مطبوعہ کلکتہ )کے مقدمہ میں لکھا ہے:’’دنیا کی تاریخ میں نہ پہلے دنیا کی کسی قوم کو یہ شرف حاصل ہوا نہ جدید مہذب دنیا میں کسی کو یہ فخر حاصل ہوا کہ اسماء الرجال کے تیکنک کو مسلمانوں کے انداز پر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں. مسلمانوں نے اس علم سے دنیا کو آگاہ کرکے ایک ریکارڈ قائم کر دیا ہے، اس ہمہ گیر اور عظیم علم کے ذریعہ 5 لاکھ لوگوں کی زندگیاں انتہائی باریکی  سے محفوظ ہو گئیں ‘‘۔زیر تبصرہ کتاب ’’تدوین حدیث‘‘سید اطہر بن جعفر  کی کتاب  تدوین قرآن حدیث اور تاریخ  کا  حصہ دوم تدوین حدیث ہے۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے    تدوین  حدیث کی تاریخ ، صحائف   حدیث  اورکتب حدیث  ومحدثین کا  تعارف پیش کرنےکے ساتھ ساتھ منکرین حدیث کے دلائل کا رد بھی پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-taraajim-ulmae-hadees-e-hind
    ملک ابو یحیٰ امام خان نوشہروی

    تاریخ ورجال کی کتابوں سے یہ بات نکھر کرسامنے آتی ہے کہ برصغیر پاک وہند میں اسلام دوراستوں سے آیا ہے ۔ ایک سندھ کی طرف سے اور دوسرا شمال مغربی جانب سے اورپہلےکافلے میں تووہ حضرات شامل تھےجن کاشمار صحابہ کرام﷢،مخضرمین ومدرکین میں ہوتا ہے۔جنہوں نے یہاں علم حدیث کا درس دیا۔ انہی کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ تھا کہ یہاں کےافراد کا عموماً تعلق براہ راست کتاب وسنت سے تھا۔ارض حجاز ونجد کی طرح   ارض ہند میں علماء نے حدیث رسول ﷺ کی اشاعت وترویج کےلیے درس وتدریس ،اور شروح حدیث کی صورت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تراجم علمائے حدیث ہند‘‘ہندوستان کے مشہور ومعروف سیرت نگار ابو یحییٰ امام خان نوشہروی﷫کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے ہندوستان کے   دوصد علماء حدیث کی سیرت وسوانح کو جمع کیا ہے ۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن برقی پریش دہلی سے 1938ء میں شائع ہوا ۔1971ء میں حافظ عبدالرشید اظہر﷫ کی نگرانی وکاوش سے اس کتاب کو دوبارہ شائع کیاگیا اور اس ایڈیشن میں اس وقت تک وفات پا جانےوالے علماء کی تاریخ وفات کی نشاندہی کردی گی تھی ۔ زیر تبصرہ ایڈیشن مکتبہ اہل حدیث ٹرسٹ کوٹ روڈ کراچی کا شائع شدہ ہے۔جو دراصل اشاعت اول کا عکس ہی ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-taleem-al-ahkam-min-baloogh-al-maram-copy
    ابو السلام محمد صدیق

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے  احوال ظروف کے  مطابق  مختلف  عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے  میں امام عبد الحق اشبیلی کی  کتاب  ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی  ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی  کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب  مختصر اور  ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے کتاب  کی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر  کئی اہل علم نے  اس  کی  شروحات لکھیں اور  ترجمے بھی کیے ۔ شروحات میں   بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام  وغیرہ  قابل ذکر ہیں۔  اردو زبان  میں   علامہ عبد التواب  ملتانی  ،مولانا  محمد سلیمان  کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ  بھی اہل علم کے ہاں  متعارف ہیں اور اسی طرح عصرکے  معروف سیرت نگار اور نامور عالم  دین  مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے  مختصر شرح  لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام  نےاسے  طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے  بڑا قبول عام حاصل ہے ۔ اور شیخ  الحدیث  حافظ عبدالسلام  بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی  بڑی اہم ہے  یہ تینوں کتب  کتاب  وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’  تعلیم الاحکام  من بلوغ المرام  کتاب الطہارت ‘‘ مجتہد العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کے شاگرد رشید  مولانا  ابو السلام  محمد صدیق سرگودھوی ﷫ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے ترجمہ کے ساتھ ساتھ  الفاظ کا حل  راوی  کے مختصر حالات اور سوال وجواب کی صورت میں  وہ تمام  مسائل بیان   کیے ہیں  جوپیش آمدہ حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں۔  لیکن یہ    صرف  کتاب الطہارت کا ترجمہ وتشریح  ہے ۔ محدث روپڑی کے تین جلدوں پر مشتمل   فتاویٰ  جات بھی  مولانا  صدیق  کے مرتب شدہ ہیں  اللہ تعالیٰ موصوف  کی  تمام خدمات کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-tafheem-al-qari-urdu-tarjuma-irshad-al-qari-copy
    حافظ محمد گوندلوی

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ حدیث  نبوی    کے ذخائر میں صحیح بخاری کو گوناگوں فوائد اورمنفرد  خصوصیات کی  بنا پر اولین مقام   اور  اصح  الکتب بعد کتاب الله کا اعزاز حاصل ہے ۔بلاشبہ قرآن مجید کےبعد  کسی اور کتاب  کو  یہ مقام حاصل نہیں  ہوا ۔  صحیح بخاری  کو اپنے  زمانہ تدوین سے لے کر ہردور میں یکساں مقبولیت حاصل رہی ۔ائمہ معاصرین اور متاخرین نے صحیح بخاری کی اسانید ومتون کی تنقید وتحقیق  وتفتیش کرنے کے بعد اسے شرف قبولیت سےنوازا اوراس کی صحت پر اجماع کیا ۔ اسی شہرت ومقبولیت کی بناپر ہر دور میں بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر کتا ب’’ تفہیم القاری اردو ترجمہ وتوضیح ارشاد القاری ‘‘ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی﷫ کی  ’’ارشاد القاری الی نقد فیض الباری ‘‘ کی  پہلی جلد کا  اردو ترجمہ ہے ۔ارشاد القاری الی نقد فیض الباری    چار جلدوں میں طبع ہوچکی  جو کہ  حافظ محمد گوندلوی اوران کے  تلمیذ رشید  حافظ عبد المنان نوری رحمہما اللہ کا  علمی شاہکار ہے۔ارشاد القاری کے مطالعہ سے ایک  طرف  حدیث نبوی کی عظمت اور منہج سلف کی پاسداری ظاہر ہوتی   ہے تو دوسری طرف  حدیث نبوی پر جو تقلیدی رنگ چڑھانے کی سعی نامشکور کی گئی ہے اسکو قرآن وحدیث کے دلائل کے ساتھ صاف کردیاگیا ہے اور حدیث نبوی کی حقیقت کوخوب آشکار کیا گیا ہے شاہ صاحب نے جس رنگ ڈھنگ سے کلام کی اور جہاں کہیں اپنی طرف سےفنی اوراصولی بحث  کر کے بڑا نکتہ بیان کیا۔حافظ گوندلوی﷫ اور نورپوری﷫ نے اسی انداز سےاس پر نقد کیا ہے اور اسی فنی اور اصولی بحث کی حقیقت کوبیان کرتے ہوئے  اس کا صحیح معنی ومفہوم بتایاہے۔ارشاد القاری چونکہ عربی زبان میں تھی  جسے  طلبہ اور عام علماء کےلیے سمجھنا دشوا ر تھا ۔ حافظ عبد المنان نوری ﷫ کے شاگرد خاص مولانا محمد طیب محمدی  صاحب  نے ارشاد القاری کی   تفہیم کے لیے اس کے ترجمہ کاآغاز کیا   اور صرف ایک ہی جلد کاترجمہ کر کے شائع کیا  جو ان کی بہت بڑی کاوش ہے  ۔اللہ تعالیٰ  ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اور انہیں   ارشاد القاری کا مکمل ترجمہ  وتوضیح کرنے کی توفیق دے (آمین)( م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-tafheem-e-sunnat-copy
    پروفیسر محمد اکرم نسیم ججہ

    اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی  علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان  دونوں ماخذوں میں سے کسی  ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض ہرکارے  کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" تفہیم سنت "محترم پروفیسر محمد اکرم نسیم ججہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  سنت نبوی کی اہمیت وفضیلت بیان کرتے ہوئے بدعات سے بچنے اور احتراز کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ (راسخ)

  • pages-from-talkhees-subulussalam-fi-sharha-bloogh-ul-maraam
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔ او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب کی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ۔ شروحات میں   بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اور اسی طرح عصرکے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے۔ کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تلخیص سبل السلام فی شرح بلوغ المرام‘‘ مفسر قرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی ﷫ کے بھائی محترم مولانا سلیمان کیلانی ﷫ کی کاوش ہے جو کہ دراصل سبل السلام شرح بلوغ المرام کی تلخیص کرکے اس کاآسان ترجمہ کیا گیاہے ۔مترجم موصوف نے اس میں کتاب کےاجتہادات اورمشکل مقامات ،مغلق الفاظ کواچھی طرح واضح کیا ہے۔ اور ضعیف حدیثوں کےوجہ ضعف پر اچھی طرح تبصرہ کیا ہے او ر کوئی ایسا مقام جوحل طلب ہونظر انداز نہیں کیا گیا۔یہ شرح دو اجزاء پر مشتمل ہے۔موصوف نے جز اول کا آغاز کتاب الطہارہ اور جز ثانی کا آغاز کتاب البیوع سےکیا ہے ۔موصوف نے یہ تلخیص، ترجمہ وحواشی کام 1935ء میں کیا تھا جوکہ اس کےکچھ عرصہ بعد طبع ہوا ۔موجودہ طبع تقریبا 1963ء کی ہے۔اس کے آخر میں حکیم محمد یوسف خادم کی طرف سے ’’الاعلام لاسماء الرجال الذین ذکرہم فی بلوغ المرام‘‘ کے نام سےاضافہ بھی لائق مطالعہ ہے جس میں انہوں نے بلوغ المرام میں مذکور رجال کا تعارف پیش کیاہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذاکےمترجم وشارح کی تمام کاوشوں کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-talkhees-nasb-ul-imaad-fi-jarha-al-hassan-ul-ziyaad-
    حافظ زبیر علی زئی

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل"یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح"یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب"تلخیص نصب العماد فی جرح الحسن بن زیاد" پاکستان کے معروف عالم دین محقق محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے راوی حدیث حسن بن زیاد کے بارے علماء جرح وتعدیل کے اقوال نقل کرتے ہوئے ان پر ضعف کا حکم لگایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • pages-from-tanveer-ul-afhaam-fee-hall-e-arabiyyah-bloogh-ul-mraam
    جاوید اقبال سیالکوٹی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔ او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔ انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔ اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب مختصر اور ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے۔ مسائل واحکام کا یہ نہایت اہم او ر گرانقدر مجموعہ علماء او رطلباء کےلیے یکساں مفید ہے۔ اپنی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر یہ کتاب دنیا بھر کے مدارسِ اسلامیہ میں داخل نصاب ہے۔ اور کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ہیں۔ شروحات میں بدر التمام،سبل السلام، فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں علامہ عبد التواب ملتانی ،مولانا محمد سلیمان کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ بھی اہل علم کے ہاں متعارف ہیں اور اسی طرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔ دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی بڑی اہم ہے یہ تینوں کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تنویر الافہام فی حل عربیۃ بلوغ المرام ‘‘ محترم مولانا جاوید اقبال سیالکوٹی ﷾ کی کاوش ہے۔ انہوں نےاس میں بلوغ المرام کی تراکیب کو حل کیا ہے۔ جس سے بلوغ المرام پڑہنے والے طلباء کے لیے آسانی ہوگئی ہے۔ تنویر الافہام محض بلوغ المرام کی چند احادیث کی ترکیب ہی نہیں بلکہ یہ عربی قواعد وانشا کا ایک مجموعہ بھی ہے تحریر وتفہیم کا انداز بالکل سہل ہے جسے گرائمر سے معمولی دلچسپی رکھنے والا بھی آسانی کے ساتھ سمجھ لیتا ہے اور پھر ترکیب کےان اصول وقواعد کو یاد کرلینے اور سمجھ لینے اوران کے استعمال میں مہارت حاصل ہوجانے کے بعد طالب علم عربی زبان میں لکھی ہوئی کسی بھی کتاب کو پڑھنے کی اپنے اندر استعداد پائے گا اور بآسانی اپنے مقصد تک پہنچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو طالبان علوم نبوت کے لیے نافع بنائے اور مصنف کے لیے اسے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-1
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-2
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-3
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-5
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-4
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tofiq-al-bari-sharha-sahih-bukhari
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • web-7
    ڈاکٹر عبد الکبیر محسن

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر   کتاب’’ توفیق الباری  شرح صحیح بخاری ‘‘پروفیسرڈاکٹر عبدالکبیر محسن﷾ کی 12 ضخیم  مجلدات  پر مشتمل عظیم الشان تالیف ہے  جسے نے  انہوں اپنے  والد گرامی مولانا عبد الحلیم (شیح  الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ) کے  حکم اور ہدایات کے  مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مؤلف نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،شرح تراجم شاہ ولی  اللہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان مذکورہ کتب  کے تمام اہم مباحث کا خلاصہ   اپنے  تصنیف میں پیش کردیا ہے  یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔توفیق الباری کی جلد اول مکتبہ  قدوسیہ او ر باقی گیارہ  جلدیں مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  نے  شائع کی   ہیں  اللہ  تعالی فاضل مؤلف کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-taiseer-mustalih-al-hadithurdu
    ڈاکٹر محمود الطحان
    علم کی دوقسمیں ہوتی ہیں پہلا یہ کہ وہ علم استدلالی واستنباطی ہو دوسرا یہ کہ وہ علم خبرکے ذریعے حاصل کیا جائے۔خبری علم میں اذعان ویقین کی صرف یہ صورت ہےکہ خبردرست اور صدق پرمبنی ہو۔ محدثین نے اسی مقصد کو حاصل کرنےکےلیے خبر کی صداقت کے کڑےاصول وضع کیے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی علم کو محدثین کی اصطلاح میں اصول حدیث کےنام سےیاد کیاجاتا ہے۔ علم اصول حدیث وہ علم ہے جو محدثین نے صرف اس لئے وضع کیاتھا تاکہ احادیث رسولﷺ میں تحقیق کرسکیں۔ علما نے اس علم پرسینکڑوں کتابیں لکھی ہیں جوکہ اپنی الگ الگ خصوصیات کی حامل ہیں۔ تاہم مشکل اور ادق فنی اصطلاحات کی وجہ سے ایک عام قاری کےلیے ان کتابوں سے استفادہ کرنا جوئے شیرلانے کے مترادف تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر محمود الطحان نے اس کار عظیم کا بیڑا اٹھایا اور اس علم میں ایک آسان ترین کتاب آپ کے ہاتھوںمیں تھمادی۔ یہ کتاب نہ صرف آسان ہے بلکہ جامع بھی ہے اور اپنی جامعیت کے باوجود زیادہ طویل اورمختصربھی نہیں ۔ اللہ انہیں جزائے خیر سے نوازے۔آمین۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • untitled-1
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی
    امام ترمذی کی جامع ترمذی کو جو مقام ملا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ جامع ترمذی کو بہت سے محاسن کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ جرح و تعدیل کا بیان، معمول بہا اورمتروکہ روایات کی وضاحت اور قبول و تاویل میں اختلاف اور علما کی تشریحات ایسی خصوصیات ہیں جو صرف جامع ترمذی سے مخصوص ہیں۔ جامع ترمذی کی اسی اہمیت کے پیش نظر متقدمین اور متاخرین نے اس کی بہت سی شروحات لکھی ہیں۔ اس وقت آپ کےسامنے اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہےجو کہ علامہ بدیع الزمان نے کیا ہے۔ انہوں نے بعض احادیث کے تحت تشریحی نوٹ لکھ کر اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ احادیث کے اردو تراجم والی کتب میں یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ احادیث کی نمبرنگ کا خاص اہتمام نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کوئی حدیث تلاش کرنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ اس کتاب کی بھی یہی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ احادیث کی تحقیق پیش کر دی جاتی تو کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • untitled-1
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی
    امام ترمذی کی جامع ترمذی کو جو مقام ملا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ جامع ترمذی کو بہت سے محاسن کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ جرح و تعدیل کا بیان، معمول بہا اورمتروکہ روایات کی وضاحت اور قبول و تاویل میں اختلاف اور علما کی تشریحات ایسی خصوصیات ہیں جو صرف جامع ترمذی سے مخصوص ہیں۔ جامع ترمذی کی اسی اہمیت کے پیش نظر متقدمین اور متاخرین نے اس کی بہت سی شروحات لکھی ہیں۔ اس وقت آپ کےسامنے اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہےجو کہ علامہ بدیع الزمان نے کیا ہے۔ انہوں نے بعض احادیث کے تحت تشریحی نوٹ لکھ کر اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ احادیث کے اردو تراجم والی کتب میں یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ احادیث کی نمبرنگ کا خاص اہتمام نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کوئی حدیث تلاش کرنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ اس کتاب کی بھی یہی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ احادیث کی تحقیق پیش کر دی جاتی تو کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-jamia-tirmazi-1-copy
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

    جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں ترجمہ کی تسہیل اور فوائد میں مذکورہ آیات کی تخریج کا کا م مولانا حافظ خالد سلفی (فاضل جامعہ رحمانیہ گارڈن ٹاؤن ،لاہور ) نےانجام دیاہے۔ جوکہ دیگر نسخوں میں نہیں ہے اسی امتیاز کی وجہ سے اس مترجم نسخہ کو بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ خالد اورناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2206 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں