• untitled-1
    محمد فواد عبد الباقی
    قرآن حکیم کے بعد شریعت اسلامیہ کابڑاماخذ احادیث رسول ہیں ۔صحابہ وتابعین اور ائمہ محدثین سے جیسے قرآن مقدس کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا ایسے احادیث نبویہ کو اپنے منور سینوں میں جگہ دی اور تعلیم و تدریس اور تحریر وتالیف کے ذریعے اس قدر مامون و محفوظ کیا کہ قیامت تک کےلیے آنے والے مسلمانوں کےلیے احادیث رسول تک انکی رسائی کو ممکن و آسان بنادیا ،جو امت پر محدثین کا بہت بڑا احسان ہے۔یہ محدثین اور علماسلف کی محنتوں اور کوششوں کا ثمرہ ہے کہ دین حنیف اصل شکل میں ہمارے پاس موجود ہےاور دینی مسائل کی تلاش میں ہمیں کو ئی دشواری نہیں-صحیح بخاری و صحیح مسلم احادیث کی دواہم کی کتب ہے ،جن کی صحت پر تمام امت کا اجماع ہے اور وہ احادیث مزید اہم اور صحت کے اعتبار سے اعلیٰ ہے ،جن پر بخاری ومسلم کا اتفاق ہے۔زیرنظر کتاب بخاری و مسلم کی متفق روایات کا مجموعہ ہے ،جن کی صحت مسلمہ اور مسائل قطعی ہیں ۔لہٰذاقارئین اس سے کسی قسم کے شکوک وشبہات کے بغیر فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • untitled-1
    محمد فواد عبد الباقی
    قرآن حکیم کے بعد شریعت اسلامیہ کابڑاماخذ احادیث رسول ہیں ۔صحابہ وتابعین اور ائمہ محدثین سے جیسے قرآن مقدس کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا ایسے احادیث نبویہ کو اپنے منور سینوں میں جگہ دی اور تعلیم و تدریس اور تحریر وتالیف کے ذریعے اس قدر مامون و محفوظ کیا کہ قیامت تک کےلیے آنے والے مسلمانوں کےلیے احادیث رسول تک انکی رسائی کو ممکن و آسان بنادیا ،جو امت پر محدثین کا بہت بڑا احسان ہے۔یہ محدثین اور علماسلف کی محنتوں اور کوششوں کا ثمرہ ہے کہ دین حنیف اصل شکل میں ہمارے پاس موجود ہےاور دینی مسائل کی تلاش میں ہمیں کو ئی دشواری نہیں-صحیح بخاری و صحیح مسلم احادیث کی دواہم کی کتب ہے ،جن کی صحت پر تمام امت کا اجماع ہے اور وہ احادیث مزید اہم اور صحت کے اعتبار سے اعلیٰ ہے ،جن پر بخاری ومسلم کا اتفاق ہے۔زیرنظر کتاب بخاری و مسلم کی متفق روایات کا مجموعہ ہے ،جن کی صحت مسلمہ اور مسائل قطعی ہیں ۔لہٰذاقارئین اس سے کسی قسم کے شکوک وشبہات کے بغیر فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-al-lamhat-1
    رئیس احمد ندوی
    مولانا محمد رئیس ندوی ہندوستان کے کبار علما میں سے تھے جنھوں نے پوری زندگی دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں بسر کی، جس سے بے شمار لوگ مستفید ہوئے اور آپ کے بعد بھی آپ کے چھوڑے ہوئے علمی و تحقیقی اور وقیع لٹریچر سے آنے والی نسلیں اپنے عقیدہ و عمل کی اصلاح میں فائدہ اٹھائیں گی۔ زیر نظر کتاب ’اللمحات إلی ما فی أنوار الباری من الظلمات‘ دراصل دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’انوارالباری شرح صحیح البخاری‘ کا جواب ہے، جس میں دیوبندی مؤلف نے ائمہ محدثین پر تنقید و تبصرہ میں حدودِ علم و ادب سے تجاوز کیا، اپنے مذہب کے مخالف علما و فقہا کے متعلق نازیبا زبان استعمال کی اور علمی مباحث میں تہذیب و شائستگی سے ہٹ کر ایسا لہجہ اختیار کیا جسے انصاف پسند دیوبندی حضرات نے بھی پسند نہیں کیا۔ زیر نظر کتاب ائمہ محدثین اور مسلک اہلحدیث کے دفاع پر مبنی ایک انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے مذہب و مسلک کی حقیقت بھی دلائل و براہین کی روشنی میں خواب واضح کی گئی ہے۔ مولانا ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’انوار الباری‘ میں لکھے گئے خلاف حقائق امور کا جائزہ لیا اور ائمہ محدثین و مسلک اہلحدیث کے خلاف مؤلف انوار کی شرانگیزیوں کا سدباب کیا جنھیں ملاحظہ کرنے کے بعد مؤلف انوار کی علمیت کی حقیقت بخوبی عیاں ہو جاتی ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں دلائل و براہین کی روشنی میں مخالفین کے بعض بنیادی مسلمات کی ایسی نقاب کشائی کی ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ہر شخص حقیقت کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ کتاب پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے جو قارئین کے لیے علم و تحقیق کے نئے در وا کرے گی۔(ع۔م)


  • title-pages-al-lamhat-1
    رئیس احمد ندوی
    مولانا محمد رئیس ندوی ہندوستان کے کبار علما میں سے تھے جنھوں نے پوری زندگی دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں بسر کی، جس سے بے شمار لوگ مستفید ہوئے اور آپ کے بعد بھی آپ کے چھوڑے ہوئے علمی و تحقیقی اور وقیع لٹریچر سے آنے والی نسلیں اپنے عقیدہ و عمل کی اصلاح میں فائدہ اٹھائیں گی۔ زیر نظر کتاب ’اللمحات إلی ما فی أنوار الباری من الظلمات‘ دراصل دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’انوارالباری شرح صحیح البخاری‘ کا جواب ہے، جس میں دیوبندی مؤلف نے ائمہ محدثین پر تنقید و تبصرہ میں حدودِ علم و ادب سے تجاوز کیا، اپنے مذہب کے مخالف علما و فقہا کے متعلق نازیبا زبان استعمال کی اور علمی مباحث میں تہذیب و شائستگی سے ہٹ کر ایسا لہجہ اختیار کیا جسے انصاف پسند دیوبندی حضرات نے بھی پسند نہیں کیا۔ زیر نظر کتاب ائمہ محدثین اور مسلک اہلحدیث کے دفاع پر مبنی ایک انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے مذہب و مسلک کی حقیقت بھی دلائل و براہین کی روشنی میں خواب واضح کی گئی ہے۔ مولانا ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’انوار الباری‘ میں لکھے گئے خلاف حقائق امور کا جائزہ لیا اور ائمہ محدثین و مسلک اہلحدیث کے خلاف مؤلف انوار کی شرانگیزیوں کا سدباب کیا جنھیں ملاحظہ کرنے کے بعد مؤلف انوار کی علمیت کی حقیقت بخوبی عیاں ہو جاتی ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں دلائل و براہین کی روشنی میں مخالفین کے بعض بنیادی مسلمات کی ایسی نقاب کشائی کی ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ہر شخص حقیقت کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ کتاب پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے جو قارئین کے لیے علم و تحقیق کے نئے در وا کرے گی۔(ع۔م)
  • title-pages-al-lamhat-1
    رئیس احمد ندوی
    مولانا محمد رئیس ندوی ہندوستان کے کبار علما میں سے تھے جنھوں نے پوری زندگی دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں بسر کی، جس سے بے شمار لوگ مستفید ہوئے اور آپ کے بعد بھی آپ کے چھوڑے ہوئے علمی و تحقیقی اور وقیع لٹریچر سے آنے والی نسلیں اپنے عقیدہ و عمل کی اصلاح میں فائدہ اٹھائیں گی۔ زیر نظر کتاب ’اللمحات إلی ما فی أنوار الباری من الظلمات‘ دراصل دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’انوارالباری شرح صحیح البخاری‘ کا جواب ہے، جس میں دیوبندی مؤلف نے ائمہ محدثین پر تنقید و تبصرہ میں حدودِ علم و ادب سے تجاوز کیا، اپنے مذہب کے مخالف علما و فقہا کے متعلق نازیبا زبان استعمال کی اور علمی مباحث میں تہذیب و شائستگی سے ہٹ کر ایسا لہجہ اختیار کیا جسے انصاف پسند دیوبندی حضرات نے بھی پسند نہیں کیا۔ زیر نظر کتاب ائمہ محدثین اور مسلک اہلحدیث کے دفاع پر مبنی ایک انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے مذہب و مسلک کی حقیقت بھی دلائل و براہین کی روشنی میں خواب واضح کی گئی ہے۔ مولانا ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’انوار الباری‘ میں لکھے گئے خلاف حقائق امور کا جائزہ لیا اور ائمہ محدثین و مسلک اہلحدیث کے خلاف مؤلف انوار کی شرانگیزیوں کا سدباب کیا جنھیں ملاحظہ کرنے کے بعد مؤلف انوار کی علمیت کی حقیقت بخوبی عیاں ہو جاتی ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں دلائل و براہین کی روشنی میں مخالفین کے بعض بنیادی مسلمات کی ایسی نقاب کشائی کی ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ہر شخص حقیقت کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ کتاب پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے جو قارئین کے لیے علم و تحقیق کے نئے در وا کرے گی۔(ع۔م)
  • title-pages-al-lamhat-1
    رئیس احمد ندوی
    مولانا محمد رئیس ندوی ہندوستان کے کبار علما میں سے تھے جنھوں نے پوری زندگی دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں بسر کی، جس سے بے شمار لوگ مستفید ہوئے اور آپ کے بعد بھی آپ کے چھوڑے ہوئے علمی و تحقیقی اور وقیع لٹریچر سے آنے والی نسلیں اپنے عقیدہ و عمل کی اصلاح میں فائدہ اٹھائیں گی۔ زیر نظر کتاب ’اللمحات إلی ما فی أنوار الباری من الظلمات‘ دراصل دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’انوارالباری شرح صحیح البخاری‘ کا جواب ہے، جس میں دیوبندی مؤلف نے ائمہ محدثین پر تنقید و تبصرہ میں حدودِ علم و ادب سے تجاوز کیا، اپنے مذہب کے مخالف علما و فقہا کے متعلق نازیبا زبان استعمال کی اور علمی مباحث میں تہذیب و شائستگی سے ہٹ کر ایسا لہجہ اختیار کیا جسے انصاف پسند دیوبندی حضرات نے بھی پسند نہیں کیا۔ زیر نظر کتاب ائمہ محدثین اور مسلک اہلحدیث کے دفاع پر مبنی ایک انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے مذہب و مسلک کی حقیقت بھی دلائل و براہین کی روشنی میں خواب واضح کی گئی ہے۔ مولانا ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’انوار الباری‘ میں لکھے گئے خلاف حقائق امور کا جائزہ لیا اور ائمہ محدثین و مسلک اہلحدیث کے خلاف مؤلف انوار کی شرانگیزیوں کا سدباب کیا جنھیں ملاحظہ کرنے کے بعد مؤلف انوار کی علمیت کی حقیقت بخوبی عیاں ہو جاتی ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں دلائل و براہین کی روشنی میں مخالفین کے بعض بنیادی مسلمات کی ایسی نقاب کشائی کی ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ہر شخص حقیقت کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ کتاب پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے جو قارئین کے لیے علم و تحقیق کے نئے در وا کرے گی۔(ع۔م)
  • title-pages-al-lamhat-1
    رئیس احمد ندوی
    مولانا محمد رئیس ندوی ہندوستان کے کبار علما میں سے تھے جنھوں نے پوری زندگی دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں بسر کی، جس سے بے شمار لوگ مستفید ہوئے اور آپ کے بعد بھی آپ کے چھوڑے ہوئے علمی و تحقیقی اور وقیع لٹریچر سے آنے والی نسلیں اپنے عقیدہ و عمل کی اصلاح میں فائدہ اٹھائیں گی۔ زیر نظر کتاب ’اللمحات إلی ما فی أنوار الباری من الظلمات‘ دراصل دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’انوارالباری شرح صحیح البخاری‘ کا جواب ہے، جس میں دیوبندی مؤلف نے ائمہ محدثین پر تنقید و تبصرہ میں حدودِ علم و ادب سے تجاوز کیا، اپنے مذہب کے مخالف علما و فقہا کے متعلق نازیبا زبان استعمال کی اور علمی مباحث میں تہذیب و شائستگی سے ہٹ کر ایسا لہجہ اختیار کیا جسے انصاف پسند دیوبندی حضرات نے بھی پسند نہیں کیا۔ زیر نظر کتاب ائمہ محدثین اور مسلک اہلحدیث کے دفاع پر مبنی ایک انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے مذہب و مسلک کی حقیقت بھی دلائل و براہین کی روشنی میں خواب واضح کی گئی ہے۔ مولانا ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’انوار الباری‘ میں لکھے گئے خلاف حقائق امور کا جائزہ لیا اور ائمہ محدثین و مسلک اہلحدیث کے خلاف مؤلف انوار کی شرانگیزیوں کا سدباب کیا جنھیں ملاحظہ کرنے کے بعد مؤلف انوار کی علمیت کی حقیقت بخوبی عیاں ہو جاتی ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں دلائل و براہین کی روشنی میں مخالفین کے بعض بنیادی مسلمات کی ایسی نقاب کشائی کی ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ہر شخص حقیقت کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ کتاب پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے جو قارئین کے لیے علم و تحقیق کے نئے در وا کرے گی۔(ع۔م)
  • title-pages-al-mustadrak-hakim
    حافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم نیساپوری
    اس وقت آپ کے سامنے امام حاکم کی مشہور زمانہ کتاب ’مستدرک علی الصحیحین‘ کا اردو قالب ہے۔ دراصل مستدرک حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں کسی صاحب کتاب محدث کی رہی ہوئی احادیث کو لیا جاتا ہے جو اس صاحب کتاب کے مجموعہ احادیث کے ہم پلہ احادیث پر مشتمل ہو۔ چنانچہ امام حاکم نے بھی امام بخاری و امام مسلم کی چھوٹی ہوئی ان حدیثوں کو اس میں جمع فرمایا ہے جو ان کی دونوں کتابوں کی شرطوں پر پوری اترتی ہیں پھر وجہ ترکِ حدیث کو کبھی تو آپ بتا دیتے ہیں لیکن کبھی اظہار لا علمی کر دیا کرتے ہیں، تاہم اپنی شرائط پر پورا اترنے والی احادیث کے لیے ایک عظیم محدث کی طرح دلائل بھی پیش کرتے ہیں جن میں ایک وزن ہے اگرچہ امام صاحب بہت ساری احادیث میں ان شروط کا لحاظ نہ رکھ پائے جن کا اہتمام امام بخاری و مسلم نے کیا تھا اس لیے بعض ضعیف اور موضوع روایات بھی اس میں شامل ہو گئی ہیں پھر بھی اححادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے جس کے لیے امام حاکم ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں۔ اردو ترجمے کا کام شاہ محمد چشتی نے کیا ہے۔ جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ترجموں میں میرا انداز نہایت سادہ ہے بلکہ اتنا سادہ کہ شاید کسی لفظ کے مفہوم سمجھنے کے لیے آپ کو نہ لغات کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی ان شاء اللہ کسی سے پوچھنے کا احتیاج ہو گا۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • page-from-al-mustadrak-alas-sahihain-1
    حافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم نیساپوری

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ للامام الحافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری کی ہے جس کا اردو ترجمہ الشیخ الحافظ ابی الفضل محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی نے خوبصورت اسلوب میں کیا ہے۔ المستدرک علی الصحیحین اس کی چھ جلدیں ہیں اور اسے مستدرک بھی کہتے ہیں اہل سنت کے مشہور عالم امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ حاکم نیشا پوریالحاکم نیشاپوری (متوفی 405ھ) کا مرتب کیا ہوا احادیث کا مجموعہ ہے۔ جو الحاکم نیشاپوری نے 72 سال کی عمر میں ترتیب دیا۔ حاکم نیشاپوری کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب کی تمام احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم یا دونوں کے معیار کے مطابق حسن اور صحیح احادیث ہیں۔ یہ کتاب المستدرک الحاکم کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن علماء اہل حدیث کا کہنا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ حدیث کی تصحیح میں متساہل تھے جس کی بنا پر مستدرک میں بہت ساری ضعیف اور موضوع حدیثیں ذکر کر ڈالی ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کتاب کا اختصار کیا اور اس پر بعض مفید تعلیقات بھی چڑھائی ہیں. بہرحال احادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے۔ ہم امام حاکم﷫، محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی اور دیگر سا تھیوں کے لئے دعا گو ہیں جنہوں نے اس کتاب پر کام کیا ہےانھیں اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (پ،ر،ر )

  • page-from-al-mustadrak-alas-sahihain-2
    حافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم نیساپوری

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ للامام الحافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری کی ہے جس کا اردو ترجمہ الشیخ الحافظ ابی الفضل محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی نے خوبصورت اسلوب میں کیا ہے۔ المستدرک علی الصحیحین اس کی چھ جلدیں ہیں اور اسے مستدرک بھی کہتے ہیں اہل سنت کے مشہور عالم امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ حاکم نیشا پوریالحاکم نیشاپوری (متوفی 405ھ) کا مرتب کیا ہوا احادیث کا مجموعہ ہے۔ جو الحاکم نیشاپوری نے 72 سال کی عمر میں ترتیب دیا۔ حاکم نیشاپوری کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب کی تمام احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم یا دونوں کے معیار کے مطابق حسن اور صحیح احادیث ہیں۔ یہ کتاب المستدرک الحاکم کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن علماء اہل حدیث کا کہنا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ حدیث کی تصحیح میں متساہل تھے جس کی بنا پر مستدرک میں بہت ساری ضعیف اور موضوع حدیثیں ذکر کر ڈالی ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کتاب کا اختصار کیا اور اس پر بعض مفید تعلیقات بھی چڑھائی ہیں. بہرحال احادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے۔ ہم امام حاکم﷫، محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی اور دیگر سا تھیوں کے لئے دعا گو ہیں جنہوں نے اس کتاب پر کام کیا ہےانھیں اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (پ،ر،ر )

  • page-from-al-mustadrak-alas-sahihain-3
    حافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم نیساپوری

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ للامام الحافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری کی ہے جس کا اردو ترجمہ الشیخ الحافظ ابی الفضل محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی نے خوبصورت اسلوب میں کیا ہے۔ المستدرک علی الصحیحین اس کی چھ جلدیں ہیں اور اسے مستدرک بھی کہتے ہیں اہل سنت کے مشہور عالم امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ حاکم نیشا پوریالحاکم نیشاپوری (متوفی 405ھ) کا مرتب کیا ہوا احادیث کا مجموعہ ہے۔ جو الحاکم نیشاپوری نے 72 سال کی عمر میں ترتیب دیا۔ حاکم نیشاپوری کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب کی تمام احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم یا دونوں کے معیار کے مطابق حسن اور صحیح احادیث ہیں۔ یہ کتاب المستدرک الحاکم کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن علماء اہل حدیث کا کہنا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ حدیث کی تصحیح میں متساہل تھے جس کی بنا پر مستدرک میں بہت ساری ضعیف اور موضوع حدیثیں ذکر کر ڈالی ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کتاب کا اختصار کیا اور اس پر بعض مفید تعلیقات بھی چڑھائی ہیں. بہرحال احادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے۔ ہم امام حاکم﷫، محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی اور دیگر سا تھیوں کے لئے دعا گو ہیں جنہوں نے اس کتاب پر کام کیا ہےانھیں اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (پ،ر،ر )

  • page-from-al-mustadrak-alas-sahihain-4
    حافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم نیساپوری

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ للامام الحافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری کی ہے جس کا اردو ترجمہ الشیخ الحافظ ابی الفضل محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی نے خوبصورت اسلوب میں کیا ہے۔ المستدرک علی الصحیحین اس کی چھ جلدیں ہیں اور اسے مستدرک بھی کہتے ہیں اہل سنت کے مشہور عالم امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ حاکم نیشا پوریالحاکم نیشاپوری (متوفی 405ھ) کا مرتب کیا ہوا احادیث کا مجموعہ ہے۔ جو الحاکم نیشاپوری نے 72 سال کی عمر میں ترتیب دیا۔ حاکم نیشاپوری کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب کی تمام احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم یا دونوں کے معیار کے مطابق حسن اور صحیح احادیث ہیں۔ یہ کتاب المستدرک الحاکم کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن علماء اہل حدیث کا کہنا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ حدیث کی تصحیح میں متساہل تھے جس کی بنا پر مستدرک میں بہت ساری ضعیف اور موضوع حدیثیں ذکر کر ڈالی ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کتاب کا اختصار کیا اور اس پر بعض مفید تعلیقات بھی چڑھائی ہیں. بہرحال احادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے۔ ہم امام حاکم﷫، محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی اور دیگر سا تھیوں کے لئے دعا گو ہیں جنہوں نے اس کتاب پر کام کیا ہےانھیں اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (پ،ر،ر )

  • page-from-al-mustadrak-alas-sahihain-5
    حافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم نیساپوری

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ للامام الحافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری کی ہے جس کا اردو ترجمہ الشیخ الحافظ ابی الفضل محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی نے خوبصورت اسلوب میں کیا ہے۔ المستدرک علی الصحیحین اس کی چھ جلدیں ہیں اور اسے مستدرک بھی کہتے ہیں اہل سنت کے مشہور عالم امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ حاکم نیشا پوریالحاکم نیشاپوری (متوفی 405ھ) کا مرتب کیا ہوا احادیث کا مجموعہ ہے۔ جو الحاکم نیشاپوری نے 72 سال کی عمر میں ترتیب دیا۔ حاکم نیشاپوری کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب کی تمام احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم یا دونوں کے معیار کے مطابق حسن اور صحیح احادیث ہیں۔ یہ کتاب المستدرک الحاکم کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن علماء اہل حدیث کا کہنا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ حدیث کی تصحیح میں متساہل تھے جس کی بنا پر مستدرک میں بہت ساری ضعیف اور موضوع حدیثیں ذکر کر ڈالی ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کتاب کا اختصار کیا اور اس پر بعض مفید تعلیقات بھی چڑھائی ہیں. بہرحال احادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے۔ ہم امام حاکم﷫، محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی اور دیگر سا تھیوں کے لئے دعا گو ہیں جنہوں نے اس کتاب پر کام کیا ہےانھیں اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (پ،ر،ر )

  • page-from-al-mustadrak-alas-sahihain-6
    حافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم نیساپوری

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ للامام الحافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری کی ہے جس کا اردو ترجمہ الشیخ الحافظ ابی الفضل محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی نے خوبصورت اسلوب میں کیا ہے۔ المستدرک علی الصحیحین اس کی چھ جلدیں ہیں اور اسے مستدرک بھی کہتے ہیں اہل سنت کے مشہور عالم امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ حاکم نیشا پوریالحاکم نیشاپوری (متوفی 405ھ) کا مرتب کیا ہوا احادیث کا مجموعہ ہے۔ جو الحاکم نیشاپوری نے 72 سال کی عمر میں ترتیب دیا۔ حاکم نیشاپوری کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب کی تمام احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم یا دونوں کے معیار کے مطابق حسن اور صحیح احادیث ہیں۔ یہ کتاب المستدرک الحاکم کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن علماء اہل حدیث کا کہنا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ حدیث کی تصحیح میں متساہل تھے جس کی بنا پر مستدرک میں بہت ساری ضعیف اور موضوع حدیثیں ذکر کر ڈالی ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کتاب کا اختصار کیا اور اس پر بعض مفید تعلیقات بھی چڑھائی ہیں. بہرحال احادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے۔ ہم امام حاکم﷫، محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی اور دیگر سا تھیوں کے لئے دعا گو ہیں جنہوں نے اس کتاب پر کام کیا ہےانھیں اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (پ،ر،ر )

  • pages-from-imam-bukhari-ka-manhaj
    عبد الحق بن عبد الواحد الہاشمی المکی

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفتِ حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری   ہے۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری ﷫ کی صحیح بخاری کے علاوہ بھی متعد د تصانیف ہیں۔ حدیث نبوی کے ذخائر میں صحیح بخاری کو گوناگوں فوائد اورمنفرد خصوصیات کی بنا پر اولین مقام   اور اصح الکتب بعد کتاب الله کا اعزاز حاصل ہے ۔بلاشبہ قرآن مجید کےبعد کسی اور کتاب کو یہ مقام حاصل نہیں ہوا۔ صحیح بخاری کو اپنے زمانہ تدوین سے لے کر ہردور میں یکساں مقبولیت حاصل رہی ۔ائمہ معاصرین اور متاخرین نے صحیح بخاری کی اسانید ومتون کی تنقید وتحقیق وتفتیش کرنے کے بعد اسے شرف ِقبولیت سےنوازا اوراس کی صحت پر اجماع کیا۔ اسی شہرت ومقبولیت کی بناپر ہر دور میں بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے   مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اوربعض اہل علم تراجم ابواب ، امام بخاری کااجتہادوغیرہ جیسے موضوعات   کو زیر بحث لائے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’امام بخاری﷫ کامنہج‘‘ محدث الحرمین الشیخ عبدالحق بن عبد الوحد الہاشمی﷫ کی عربی کتاب ’’عادات الامام البخاری فی صحیحہ‘ کا اردوترجمہ ہے۔ جسے ڈاکٹر عبدالغفار صاحب اور ڈاکٹر حافظ شبہاز حسن صاحب نے اردو قالب میں منتقل کیا ہے۔ یہ کتاب شیخ عبدالحق الہاشمی کی صحیح بخاری کی تدریس وتحقیق کانچوڑ ہے جس میں نہ صرف طلباء بلکہ علماء کے لیے بھی راہنمائی کا وافر سامان موجود ہے۔ اس کتاب میں سند و متن، تکرار احادیث، ترتیب کتب وابواب اوراستنباط واجتہاد میں امام بخاری﷫ کا منہج بیان کیاگیا ہے۔عربی نسخے کی تخریج وتحقیق محمد بن ناصر العجمی نے کی ہے۔ کتاب کےآخر میں محقق کی طرف سے صحیح بخاری کےبارے میں امام بخاری ﷫ کے نقطہ ہائے نظر سےمتعلق بہت سے مفید معلومات کا اضافہ بھی کیاگیا ہے۔ مترجمین کی طرف سے بھی بعض حوالہ جات کااضافہ کیاگیا ہے۔ کتاب کی نظر ثانی کا فریضہ پرو فیسر ڈاکٹر حافظ محمداسرائیل فاروقی﷾ نے ادا کیا ہے۔ اور ان کی نشاندہی کے مطابق ڈاکٹر حافظ شبہاز حسن نےبعض مفید تعلیقات اوراستدراکات کااضافہ کیا ہے ۔نیز کتاب کے شروع میں شیخ عبد الحق ہاشمی﷫ کے حالات واعتقادات پر مشتمل ایک مقالہ بھی شاملِ اشاعت ہے۔ جسے پروفیسرڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی ﷾ اور ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن ﷾ نے ہفت روزہ الاعتصام میں شائع کروایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اہل علم کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کےلیے اس کتاب کو صدقہ جاریہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-imsal-istlahat-ul-muhaddiseen-copy
    سلطان محمود محدث جلالپوری

    احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات  استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از ضرورری ہے  تاکہ  وہ اس  علم  میں کما حقہ درک حاصل  کر سکے ، ورنہ  اس کے فہم  وتفہیم  میں  بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر  ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں جو اس راہ کے سالکان کے مشعل راہ ہیں ۔ان میں ایک زیر تبصرہ  مختصر رسالہ ’’ اصطلاحات المحدثین‘‘ کے نام سے  مولانا سلطان محمود ﷫ نےبھی ترتیب  دیا تھا۔جو کہ اکثر مدارس  ہل حدیث میں میں شامل  نصاب ہے ۔ جس میں اس فن کی بنیادی اصطلاحات کی تفہیم کی گئی  ہے اور طلبہ سے بخوبی فائدہ  اٹھاتے  ہیں ۔لیکن  اس کتابچہ میں  اصطلاحات کےساتھ  ان کی مثالیں نہ تھیں جس کے  لیے مدرسین اور طلبا کو  کچھ دقت کا سامنا تھا ۔ مصنف کتاب کے  شاگرد رشید مولانا ابو عمار عمر فاروق سعیدی ﷾ نے اس مشکل کو  حل کرتے  ہو ئے  فٹ نوٹ میں حواشی کی  شکل  میں  مفید گرانقدر  علمی اضافہ جات کیے اور بر بحث پر اصول  حدیث کی متداول کتب  سے میسر  مفیدمثالیں اس میں  جمع کردی ہیں  جس طلبائے حدیث کےلیے  آسانی پیدا  ہوگی ہے ۔اس پر محقق العصر مولانا  ارشاد الحق اثری ﷾ کی  نظرثانی سے  اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔  کتب دینیہ کی اشاعت  کے  مثالی  ادارہ  دالابلاغ نے  اسے  بڑے عمدہ طریقہ سے  امثال اصطلاحات المحدثین کے نام شائع کیا ہے ۔اللہ تعالی  اس کتاب کو تیار کرنے والے تمام احباب کی  کاوشوں کو قبول فرمائے  (آمین)( م ۔ا ) 

  • amsaal-ul-hadees
    قاری محمد دلاور سلفی

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ رسولوں اور پیغمبروں کو مبعوث فرمایا جو گمراہی اور جہالت میں ڈوبی ہوئی بنی نوع کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے۔ سید الانبیاء ختمی المرتبت حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپﷺ کو قرآن جیسا عظیم معجزہ اور جوامع الکلم سے نوازہ۔ آپﷺ نے امت کی خاطر مشکلات و مصائب کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور عرب جیسے بادیہ نشینوں کو ایک ایسا مثالی معاشرہ بنایا جس کی نظیر دنیا کا کوئی اور مذہب نہیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنی پاک کلام میں بھی لوگوں کو انتہائی آسان فہم انداز میں مثالوں کے ساتھ صراط مستقیم کی ترغیب و تہدیب فرمائی ہے اور یہی طریقہ و اسلوب پیارے نبی اکرمﷺ نے اپنے صحابہ کے لیے اپنایا۔ نبی کریمﷺ نے امثال کے ساتھ احکام واضح کیے کیونکہ مثال کی صورت میں بیان کی گئی بات نہ صرف دلچسپی کا باعث ہوتی ہے بلکہ مخاطب کو جلد ذہن نشین ہو جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "امثال الحدیث" قاری محمد دلاور سلفی حفظہ اللہ کی منفرد اور سود مند تصنیف ہے۔ کتاب کی تفہیم و تخریج فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری حفظہ اللہ نے کی ہے جن کی شخصیات کاعلمی و ادبی حوالوں میں ایک معتبر نام ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمت و استقامت عطا فرمائے۔ آمین (عمیر)

  • title-pages-imrat-ul-quran-ka-tehqiqi-jaiza-copy
    عبد الوکیل ناصر

    عداوتوں میں سے بد ترین عداوت وہ ہوتی ہے جو دوستی کے پیرائے میں اختیار کی جائے اور انسان کو پتہ ہی نہ چل پائے کہ اس لباس خلعت میں ملبوس شخصیت اس کی دوست نہیں بلکہ اس کی دشمن ہے۔انسان اپنے کھلے دشمن سے نقصان اٹھا سکتا ہے ،مگر دھوکہ نہیں کھا سکتا ہے۔لیکن دوستی کے لباس میں ملبوس دشمن سے انسان نقصان بھی اٹھاتا ہے اور دھوکہ بھی کھاتا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کا مصداق بننے والے  حافظ ابو خالد ابراہیم المدنی ہیں،جو اپنے خود ساختہ شہوت پرستانہ نظریات کے لئے بہت سی احادیث نبویہ کو تختہ ستم بنا بیٹھے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ قرآن مجید کو معیار اول قرار دیتے دیتے اسے اپنا ہتھیار بے بدل بھی بنا بیٹھے ہیں کہ جب چاہا جیسے چاہا اسے توڑ مروڑ کر مغربی تہذیب کا لبادہ اڑھا دیا۔زیر تبصرہ کتاب " امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ " فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے نام نہاد سکالر  ابو خالد المدنی کی انکار حدیث پر مبنی  کتاب " امراۃ القرآن "کا علمی وتحقیقی رد کیا ہے ۔ابو خالد مدنی نے اپنی کتاب میں پردے کو جاہلانہ رسم قرار دیتے ہوئے اسے ملاؤں کی رسم قرار دیا ہے اور پردے سے متعلق احادیث نبویہ کا انکار کر دیا ہے۔چنانچہ فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾نے اس کی اس بدنام زمانہ کتاب کا ایک علمی وتحقیقی جواب دیا ہے،اور مستند دلائل کے ذریعے اس کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر﷾ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اصلاح امت کا ذریعہ بنائے۔آمین(راسخ)

     

  • pages-from-im-aan-ul-mawaazeeh-lahall-e-muqaddamah-mishkaat-ul-masabeeh
    احسان الحق فاروقی

    کسی بھی مسلمان کے لئے یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو تدریس ،تقریر یا تحریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچائے،آپ ﷺ نے ایسے سعادت مند افراد کے لئے تروتازگی کی دعا فرمائی ہے۔چنانچہ محدثین کرام ﷭نے اسی سعادت اور کامیابی کے حصول کے لئے کوششیں کیں احادیث نبویہ کو اپنی اپنی کتب میں جمع فرمایا۔انہی سعادت مند شخصیات میں سے ایک صاحب مشکوۃ المصابیح ہیں، جنہوں نے آسانی کی غرض سے متعدد کتب احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کتاب مرتب فرمائی، تاکہ کسی بھی مسئلہ سے متعلق احادیث ایک ہی جگہ جمع مل جائیں۔ مشکوۃ المصابیح کے شروع میں ایک عظیم الشان مقدمہ بھی موجود ہے، جس میں حدیث اور علوم حدیث کے بارے میں تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ لیکن اس مقدمے کو سمجھنا مبتدی طلباء کے لئے ایک دشوار امر تھا اور طویل عرصے سے اس کے حل کے لئے ایک ایسی جامع شرح کی ضرورت تھی جو اس کی مشکلات کو حل کر دے۔ زیر تبصرہ کتاب" امعان المواضیح لحل مقدمۃ مشکوۃ المصابیح " محترم مولانا احسان الحق فاروقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مشکوۃ المصابیح کے اسی مشکل مقدمے کو تفصیل کے ساتھ حل فرما دیا ہے اور تمام ممکنہ سوالات کے تسلی بخش جوابات دے دئے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • untitled-1
    محمد احمد زبیری
    زیر مطالعہ کتاب در اصل محمد احمد زبیری کا ایم فل کے لیے لکھا جانے والا مقالہ ہے۔ جس میں ملت اسلامیہ کے متحرک جزو کی حیثیت سے علم حدیث کی ترقی اور فروغ میں اندلس کا کیا حصہ ہے؟ جیسے بنیادی سوال کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ عالم اسلام کے جن خطوں نے حدیث اور دیگر اسلامی علوم و فنون کی خدمت کی اور اس میدان میں بے انتہا پیش رفت کی ان میں اسلامی اندلس نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں علوم قرآن، علوم حدیث و فقہ، فلسفہ و کلام، تصوف و احسان، تاریخ و سیرت نگاری، طبیعات و کیمیا غرضیکہ ہر میدان میں بیش قیمت کارنامے سرانجام دئیے گئے ہیں اور زندگی کے تقریباً سارے ہی شعبوں میں بھرپور ترقی ہوئی اس طرح ہر علم و فن میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جن کی علمی میدان میں ایک عظیم مقام حاصل ہوا۔ پیش نظر کتاب اس قسم کے تمام حالات و ظروف بیان کرتے ہوئے فتح اندلس سے پانچویں صدی ہجری کے محدثین کے تذکرے اور حدیث کے میدان میں ان کی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔(عین۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-incyclopedia-tareekh-e-aalam-1
    ولیم ایل لینگر
    انسانی معاشرے یا اس کے کسی حصے کے آغاز، ارتقاء ، ترقی اور تنزل کے بارے میں معلومات کا علم تاریخ کہلاتا ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات معلوم کرنے اور اس کے مطالعہ کا شوق بہت زیادہ پرانا ہے۔ انسان کو اپنے گردو پیش کے حالات سے اس وقت سے دلچسپی ہے جب کہ وہ جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرتا تھا ظاہر ہے کہ یہ شوق گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید پروان چڑھتا گیا۔ زیر نظر کتاب اسی شوق کی تکمیل کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ مصنف نے کتاب میں اختصار کے ساتھ تاریخ عالم پر مکمل فروگزاشت پیش کی ہیں جس میں دنیا میں بسنے والے تقریباً تمام ممالک کی تاریخی و واقعاتی حیثیت سامنے آگئی ہے۔ کتاب کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے جس کے مصنف ولیم ایل لینگر ہیں اردو ترجمہ پاکستان کی مشہور شخصیت غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ مصنف اگرچہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پھر بھی تاریخ اسلام پر وافر معلومات فراہم کی ہیں اگرچہ بعض جگہ پر ان کی معلومات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لا ریب یہ کتاب قابل تحسین اور ہر فرد کے لیے قابل مطالعہ ہے اور واقعتاً تاریخ عالم کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-incyclopedia-tareekh-e-aalam-1
    ولیم ایل لینگر
    انسانی معاشرے یا اس کے کسی حصے کے آغاز، ارتقاء ، ترقی اور تنزل کے بارے میں معلومات کا علم تاریخ کہلاتا ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات معلوم کرنے اور اس کے مطالعہ کا شوق بہت زیادہ پرانا ہے۔ انسان کو اپنے گردو پیش کے حالات سے اس وقت سے دلچسپی ہے جب کہ وہ جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرتا تھا ظاہر ہے کہ یہ شوق گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید پروان چڑھتا گیا۔ زیر نظر کتاب اسی شوق کی تکمیل کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ مصنف نے کتاب میں اختصار کے ساتھ تاریخ عالم پر مکمل فروگزاشت پیش کی ہیں جس میں دنیا میں بسنے والے تقریباً تمام ممالک کی تاریخی و واقعاتی حیثیت سامنے آگئی ہے۔ کتاب کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے جس کے مصنف ولیم ایل لینگر ہیں اردو ترجمہ پاکستان کی مشہور شخصیت غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ مصنف اگرچہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پھر بھی تاریخ اسلام پر وافر معلومات فراہم کی ہیں اگرچہ بعض جگہ پر ان کی معلومات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لا ریب یہ کتاب قابل تحسین اور ہر فرد کے لیے قابل مطالعہ ہے اور واقعتاً تاریخ عالم کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-incyclopedia-tareekh-e-aalam-1
    ولیم ایل لینگر
    انسانی معاشرے یا اس کے کسی حصے کے آغاز، ارتقاء ، ترقی اور تنزل کے بارے میں معلومات کا علم تاریخ کہلاتا ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات معلوم کرنے اور اس کے مطالعہ کا شوق بہت زیادہ پرانا ہے۔ انسان کو اپنے گردو پیش کے حالات سے اس وقت سے دلچسپی ہے جب کہ وہ جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرتا تھا ظاہر ہے کہ یہ شوق گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید پروان چڑھتا گیا۔ زیر نظر کتاب اسی شوق کی تکمیل کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ مصنف نے کتاب میں اختصار کے ساتھ تاریخ عالم پر مکمل فروگزاشت پیش کی ہیں جس میں دنیا میں بسنے والے تقریباً تمام ممالک کی تاریخی و واقعاتی حیثیت سامنے آگئی ہے۔ کتاب کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے جس کے مصنف ولیم ایل لینگر ہیں اردو ترجمہ پاکستان کی مشہور شخصیت غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ مصنف اگرچہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پھر بھی تاریخ اسلام پر وافر معلومات فراہم کی ہیں اگرچہ بعض جگہ پر ان کی معلومات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لا ریب یہ کتاب قابل تحسین اور ہر فرد کے لیے قابل مطالعہ ہے اور واقعتاً تاریخ عالم کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-anwaar-e-hadees
    حافظ عبد الستار حماد

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں ۔اربعین کے نام سے کئی علماء نے حدیث کے مجموعے مرتب کیے۔ اور اسی طرح 100 احادیث پر مشتمل ایک مجموعہ عارف با اللہ مولانا سید محمد داؤد غزنوی ﷫ نے ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں عبادات معاملات، اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل رااہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔عصر حاضر میں بھی کئی مزید مجموعات ِحدیث منظر عام پر آئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’انوار حدیث ‘‘بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے جید عالم دین مفتی جماعت شارح بخاری شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبد الستار حماد﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی کاوش ہے۔ جسے انہوں نے   ہفت روزہ اہل حدیث،لاہور کے مدیر مولانا محمدبشیر انصاری﷾ کی کاوش پر بڑے عمدہ انداز سے مرتب کیا ہے ۔موصوف نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے 100 احادیث کا انتخاب کرکے پانچ حصوں (عقائد وعبادات، حقوق ومعامالات، اخلاق وکردار، احکام ومسائل ، دعوات اذکار) میں تقسیم کیا ہے اور پھر اختصار کے ساتھ ان کی تشریح میں صحیح احادیث کو پیش کیا ہے۔ ابتدائی طلباء وطالبات کے لیے یہ کتاب بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور قبول عام کا درجہ عطا فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • title-page-inkar-e-hadees-ka-niya-roop-1
    غازی عزیر مبارکپوری
    پاک و ہند میں علماء اہل حدیث کی خدمت حدیث اسلامی تاریخ کاروشن باب ہے اہل علم نے ہر دور میں اس کی تحسین کی پاک وہند سے کتب حدیث کے نہایت مستند متون شائع ہوئے اس خطہ زمین میں کتب حدیث کی نہایت جامع ومانع شروح وحواشی تحریر کیے گئے۔بر صغیر میں فتنہ انکار حدیث صدیوں سے زوروں پر ہےاس کی بعض صورتیں ایسے صریح انکار حدیث پر مبنی ہیں جس کے حامل کا مسلمان ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے اس فتنہ کے بنیادی اسباب میں دین سے لاعلمی ،غیر مسلم تہذیب سے مرعوبیت اور سیاسی وفکری محکومی سرفہرست ہے یہ پڑھے لکھے تجدد پسند حضرات کافتنہ ہے جوعلوم اسلامیہ سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اسلام اور اس کے اوامر ونواہی سے جذباتی عقیدت رکھتے ہیں ۔فتنہ انکار حدیث  کو واضح کرنے اور عوام الناس کو اس سے متعارف کروانے کےلیے فدائیان کتاب وسنت نے دن رات محنت کی ان میں سے ایک غازی عزیر بھی ہیں جنہوں نے ’’انکار حدیث کا نیا روپ‘‘جیسی عظیم اور مفصل کتاب لکھ کر حدیث پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات کاحل پیش کردیاہے ۔اس کتاب میں جہاں منکرین قرآن وسنت کے تمام اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے وہاں حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسے اہم مضامین پر غازی صاحب نے اپنی مجتہدانہ بصیرت سے خوب روشنی ڈالی ہے جس کو پڑھنے کے بعد کسی صائب العقل او رسلیم الفطرت شخص کو حدیث کےمتعلقہ شکوک وشبہات دور کرنے میں مجال انکار نہیں رہتی۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔جس میں  حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسی اہم مباحث کی تفصیلی گفتگو کے ساتھ منکر ین حدیث امین احسن اصلاحی ک افکار کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے تاکہ وہ سادہ لوح افراد جوان کے پراپیگنڈے کاشکار ہوجاتے ہیں انہیں حقیقت حال کی خبر ہوسکے اورعامۃ الناس کو بھی اس فتنے سے آگاہی ہوسکے ۔
     


  • title-page-inkar-e-hadees-ka-niya-roop-jild-2
    غازی عزیر مبارکپوری
    پاک و ہند میں علماء اہل حدیث کی خدمت حدیث اسلامی تاریخ کاروشن باب ہے اہل علم نے ہر دور میں اس کی تحسین کی پاک وہند سے کتب حدیث کے نہایت مستند متون شائع ہوئے اس خطہ زمین میں کتب حدیث کی نہایت جامع ومانع شروح وحواشی تحریر کیے گئے۔بر صغیر میں فتنہ انکار حدیث صدیوں سے زوروں پر ہےاس کی بعض صورتیں ایسے صریح انکار حدیث پر مبنی ہیں جس کے حامل کا مسلمان ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے اس فتنہ کے بنیادی اسباب میں دین سے لاعلمی ،غیر مسلم تہذیب سے مرعوبیت اور سیاسی وفکری محکومی سرفہرست ہے یہ پڑھے لکھے تجدد پسند حضرات کافتنہ ہے جوعلوم اسلامیہ سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اسلام اور اس کے اوامر ونواہی سے جذباتی عقیدت رکھتے ہیں ۔فتنہ انکار حدیث  کو واضح کرنے اور عوام الناس کو اس سے متعارف کروانے کےلیے فدائیان کتاب وسنت نے دن رات محنت کی ان میں سے ایک غازی عزیر بھی ہیں جنہوں نے ’’انکار حدیث کا نیا روپ‘‘جیسی عظیم اور مفصل کتاب لکھ کر حدیث پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات کاحل پیش کردیاہے ۔اس کتاب میں جہاں منکرین قرآن وسنت کے تمام اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے وہاں حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسے اہم مضامین پر غازی صاحب نے اپنی مجتہدانہ بصیرت سے خوب روشنی ڈالی ہے جس کو پڑھنے کے بعد کسی صائب العقل او رسلیم الفطرت شخص کو حدیث کےمتعلقہ شکوک وشبہات دور کرنے میں مجال انکار نہیں رہتی۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔جس میں  حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسی اہم مباحث کی تفصیلی گفتگو کے ساتھ منکر ین حدیث امین احسن اصلاحی ک افکار کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے تاکہ وہ سادہ لوح افراد جوان کے پراپیگنڈے کاشکار ہوجاتے ہیں انہیں حقیقت حال کی خبر ہوسکے اورعامۃ الناس کو بھی اس فتنے سے آگاہی ہوسکے ۔
     
  • title-page-inkar-e-rajam-ek-fikri-gumrahi
    ڈاکٹر ابو عدنان سہیل
    انکار رجم ایک فکری گمراہی کے نام سے زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر ابو عدنان سہیل (اصل نام افتخار احمد ) نے مسئلہ رجم کے اثبات کے لیے منکرین رجم کے علمبردار عنایت اللہ سبحانی کے جواب میں تحریر کی –عنایت اللہ سبحانی نے حقیقت رجم نامی کتاب لکھ کر مسئلہ رجم جوکہ امت مسلمہ کا اجماعی مسئلہ ہے اس کوکمزور کرنے کی کوشش کی جس پر ڈاکٹرابو عدنان سہیل نے انکار رجم ایک فکری گمراہی کے نام سے اس کتاب کا جواب دیا ہے-مصنف نے عنایت اللہ سبحانی کے دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا سنجیدہ انداز میں علمی محاکمہ کرتے ہوئے قرآن وسنت کے دلائل اور صحابہ کرام کے عمل سے شادی شدہ زانی کی سزا رجم کوثابت کیا ہے-اور اسی طریقے سے رجم کی سزا کے منکرین جو کہ باطل تاویلات کا سہارا لیتے ہیں ان کی علمی خیانتوں کے بیان کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت کی تعلیمات کے حقائق اور ان کی حکمتوں پر سیر حاصل بحث کی ہے-
  • title-page-ahle-hadees-aur-jannat-ka-rasta-zubair-ali-zai
    حافظ زبیر علی زئی

    علم حدیث  ایک عظمت ورفعت پر مبنی موضوع ہے کیونکہ اس  کا تعلق براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے۔جتنا یہ بلند عظمت ہے اتنا ہی اس کے عروج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس کو مشکوک بنانے کی  سعی ناکام کی گئی۔علمائے حدیث نے دفاع حدیث کے لیے ہر موضوع پر گرانقدر تصنیفات لکھیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی عظمت حدیث کے نام سے عبدالرشید عراقی صاحب کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے عظمت حدیث کےساتھ ساتھ حجیت حدیث ،مقام حدیث،تدوین حدیث،اقسام کتب حدیث،اصطلاحات حدیث،مختلف محدثین ائمہ کرام جو کہ صحاح ستہ کے مصنفین ہیں ان کے حالات اور علمی خدمات،مختلف صحابہ کا تذکرہ  کرتے ہوئے مختلف شروحات حدیث کو اپنی اس کتاب میں موضوع بنایا ہے۔

     

     

     

  • pages-from-ahmiyyat-e-hadees
    سید محمد اسماعیل مشہدی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی توضیح وتشریح ہی ہے۔کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں۔ پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیین و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (النحل:44) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے۔ آپﷺنے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“(مسند احمد:24601)یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ (احزاب:21)خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ ﷺکو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلندی کا وہ مقام بلند نصیب ہے کہ ساری رفعتیں اس کے آگے سرنگوں ہیں حتی کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارے پر بغیر کسی تردد وتوقف کے اپنی مرضی سے دستبردار ہوجانا معیار ایمان و اسلام ٹھہرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہمیت حدیث‘‘سید محمداسماعیل مشہدی کے 1376ھ کو عام خاص باغ ،ملتان میں حدیث کی اہمیت کے موضوع پر سالانہ جلسہ میں کیےگیے خطاب کی کتابی صورت ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے منکرین حدیث کے چند اعتراضات کے مدلل جواب دیے اور حدیث کی اہمیت وحجیت کو خو ب اجاگر کیا۔ تو بعد ازاں اسے افادۂ عام کےلیے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ۔

  • title-pages-barre-sagheer-pak-w-hind-me-ilam-e-hadith-copy
    عبد الرشید عراقی

    برصغیر پاک وہند میں علم حدیث کا آغاز پہلی صدی ہجری سے ہوا اور دوسری صدی ہجری میں حضرت ربیع بن صبیح بصری(م160ھ) برصغیر میں وارد ہوئے اور اس کے بعد ہرصدی میں کوئی نہ کوئی محدث برصغیر میں تشریف لاتے رہے ۔برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیاعلمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
    زیر تبصرہ کتا ب’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث ‘‘ وطن عزیز کے معروف قلمکاروسوانح نگار مولانا عبد الرشید عراقی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے برصغیر پاک وہند کے علمائے اہل حدیث کی حدیثی خدمات کاتذکرہ کیا ہے ۔نیز علماء اہل حدیث نے خدمت حدیث کے سلسلے میں جو کتابیں تصنیف کیں کی ان کا اس کتاب میں ذکر کیا ہے بقول مصنف اس کتاب میں 436 کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔اور اس کے علاوہ چند مشہور علمائے کرام کے مختصر حالات بھی قلم بند کیے ہیں۔ علاوہ ازیں عراقی صاحب نےان کتابوں کا بھی ذکر کیا ہے جو حدیث کی حمایت وتائید اورنصرت ومدافعت میں لکھی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ عراقی صاحب کی تمام تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 292 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں