Mohaddis Library Header
  • علامہ قاری علی بن سلطان محمد القاری

    اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن کریم کے ساتھ انسان کا تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کریم کی تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی آپ کے طریقہ سے نہ ہو اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں سے ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے امام بغوی ﷫ نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔ اس کتاب کو تالیف کے دور سے ہی شرق وغرب کے عوام وخواص دونوں میں یکساں طور مقبولیت حاصل ہے۔مصنفین ، علماء وطلبا ، واعظین وخطباء سب ہی اس کتاب سےاستفادہ کرتےچلے آرہےہیں۔یہ کتاب اپنی غایت درجہ علمی افادیت کے پیش نظر برصغیر پاک وہند کےدینی مدارس کےقدیم نصاب درس میں شامل چلی آرہی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں۔اوراس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے حتیٰ کہ خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے ۔یہ مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے بھی روشنی کامینارہ ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ ایسا ذخیرہ ہے کہ جوہر ایک مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔مدارس دینیہ میں مشکوٰۃ عربی شروح میں سے مرعاۃ المفاتیح اور مرقاۃ المفاتیح زیادہ مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب علی بن سلطان محمد القاری معروف ملا علی کی مشکوٰۃ المصابیح کی عربی شرح مرقاۃ المفاتیح کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔یہ شرح ملا علی قاری﷫ کے علم وفکر کا عظیم مجموعہ اور مشکوٰۃ المصابیح کی دیگر شروح میں ممتاز ہے۔مرقاۃ کا یہ اولین اردو ترجمہ ہے۔مترجمین نے ترجمہ کی سلاست اور روانی کو برقرار رکھتے ہوئے ترجمہ میں ہم آہنگی اور یکسانیت کاخاص اہتمام کیا ہے ۔اور احادیث کی مکمل تخریج کابھی اہتمام کیا ہے ۔اس مبسو ط عربی شرح کا ترجمہ جید علماء کی کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔جس سے مشکاۃ المصابیح کے مدرسین اور طلباء کے لیے آسانی ہوگئ ہے ۔یہ ترجمہ گیارہ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ مترجمین وناشرین کی اس اہم کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

  • علامہ قاری علی بن سلطان محمد القاری

    اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن کریم کے ساتھ انسان کا تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کریم کی تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی آپ کے طریقہ سے نہ ہو اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں سے ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے امام بغوی ﷫ نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔ اس کتاب کو تالیف کے دور سے ہی شرق وغرب کے عوام وخواص دونوں میں یکساں طور مقبولیت حاصل ہے۔مصنفین ، علماء وطلبا ، واعظین وخطباء سب ہی اس کتاب سےاستفادہ کرتےچلے آرہےہیں۔یہ کتاب اپنی غایت درجہ علمی افادیت کے پیش نظر برصغیر پاک وہند کےدینی مدارس کےقدیم نصاب درس میں شامل چلی آرہی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں۔اوراس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے حتیٰ کہ خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے ۔یہ مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے بھی روشنی کامینارہ ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ ایسا ذخیرہ ہے کہ جوہر ایک مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔مدارس دینیہ میں مشکوٰۃ عربی شروح میں سے مرعاۃ المفاتیح اور مرقاۃ المفاتیح زیادہ مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب علی بن سلطان محمد القاری معروف ملا علی کی مشکوٰۃ المصابیح کی عربی شرح مرقاۃ المفاتیح کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔یہ شرح ملا علی قاری﷫ کے علم وفکر کا عظیم مجموعہ اور مشکوٰۃ المصابیح کی دیگر شروح میں ممتاز ہے۔مرقاۃ کا یہ اولین اردو ترجمہ ہے۔مترجمین نے ترجمہ کی سلاست اور روانی کو برقرار رکھتے ہوئے ترجمہ میں ہم آہنگی اور یکسانیت کاخاص اہتمام کیا ہے ۔اور احادیث کی مکمل تخریج کابھی اہتمام کیا ہے ۔اس مبسو ط عربی شرح کا ترجمہ جید علماء کی کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔جس سے مشکاۃ المصابیح کے مدرسین اور طلباء کے لیے آسانی ہوگئ ہے ۔یہ ترجمہ گیارہ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ مترجمین وناشرین کی اس اہم کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

     

  • علامہ قاری علی بن سلطان محمد القاری

    اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن کریم کے ساتھ انسان کا تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کریم کی تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی آپ کے طریقہ سے نہ ہو اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں سے ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے امام بغوی ﷫ نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔ اس کتاب کو تالیف کے دور سے ہی شرق وغرب کے عوام وخواص دونوں میں یکساں طور مقبولیت حاصل ہے۔مصنفین ، علماء وطلبا ، واعظین وخطباء سب ہی اس کتاب سےاستفادہ کرتےچلے آرہےہیں۔یہ کتاب اپنی غایت درجہ علمی افادیت کے پیش نظر برصغیر پاک وہند کےدینی مدارس کےقدیم نصاب درس میں شامل چلی آرہی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں۔اوراس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے حتیٰ کہ خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے ۔یہ مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے بھی روشنی کامینارہ ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ ایسا ذخیرہ ہے کہ جوہر ایک مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔مدارس دینیہ میں مشکوٰۃ عربی شروح میں سے مرعاۃ المفاتیح اور مرقاۃ المفاتیح زیادہ مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب علی بن سلطان محمد القاری معروف ملا علی کی مشکوٰۃ المصابیح کی عربی شرح مرقاۃ المفاتیح کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔یہ شرح ملا علی قاری﷫ کے علم وفکر کا عظیم مجموعہ اور مشکوٰۃ المصابیح کی دیگر شروح میں ممتاز ہے۔مرقاۃ کا یہ اولین اردو ترجمہ ہے۔مترجمین نے ترجمہ کی سلاست اور روانی کو برقرار رکھتے ہوئے ترجمہ میں ہم آہنگی اور یکسانیت کاخاص اہتمام کیا ہے ۔اور احادیث کی مکمل تخریج کابھی اہتمام کیا ہے ۔اس مبسو ط عربی شرح کا ترجمہ جید علماء کی کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔جس سے مشکاۃ المصابیح کے مدرسین اور طلباء کے لیے آسانی ہوگئ ہے ۔یہ ترجمہ گیارہ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ مترجمین وناشرین کی اس اہم کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

     

  • علامہ قاری علی بن سلطان محمد القاری

    اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن کریم کے ساتھ انسان کا تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کریم کی تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی آپ کے طریقہ سے نہ ہو اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں سے ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے امام بغوی ﷫ نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔ اس کتاب کو تالیف کے دور سے ہی شرق وغرب کے عوام وخواص دونوں میں یکساں طور مقبولیت حاصل ہے۔مصنفین ، علماء وطلبا ، واعظین وخطباء سب ہی اس کتاب سےاستفادہ کرتےچلے آرہےہیں۔یہ کتاب اپنی غایت درجہ علمی افادیت کے پیش نظر برصغیر پاک وہند کےدینی مدارس کےقدیم نصاب درس میں شامل چلی آرہی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں۔اوراس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے حتیٰ کہ خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے ۔یہ مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے بھی روشنی کامینارہ ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ ایسا ذخیرہ ہے کہ جوہر ایک مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔مدارس دینیہ میں مشکوٰۃ عربی شروح میں سے مرعاۃ المفاتیح اور مرقاۃ المفاتیح زیادہ مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب علی بن سلطان محمد القاری معروف ملا علی کی مشکوٰۃ المصابیح کی عربی شرح مرقاۃ المفاتیح کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔یہ شرح ملا علی قاری﷫ کے علم وفکر کا عظیم مجموعہ اور مشکوٰۃ المصابیح کی دیگر شروح میں ممتاز ہے۔مرقاۃ کا یہ اولین اردو ترجمہ ہے۔مترجمین نے ترجمہ کی سلاست اور روانی کو برقرار رکھتے ہوئے ترجمہ میں ہم آہنگی اور یکسانیت کاخاص اہتمام کیا ہے ۔اور احادیث کی مکمل تخریج کابھی اہتمام کیا ہے ۔اس مبسو ط عربی شرح کا ترجمہ جید علماء کی کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔جس سے مشکاۃ المصابیح کے مدرسین اور طلباء کے لیے آسانی ہوگئ ہے ۔یہ ترجمہ گیارہ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ مترجمین وناشرین کی اس اہم کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

     

  • علامہ قاری علی بن سلطان محمد القاری

    اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن کریم کے ساتھ انسان کا تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کریم کی تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی آپ کے طریقہ سے نہ ہو اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں سے ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے امام بغوی ﷫ نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔ اس کتاب کو تالیف کے دور سے ہی شرق وغرب کے عوام وخواص دونوں میں یکساں طور مقبولیت حاصل ہے۔مصنفین ، علماء وطلبا ، واعظین وخطباء سب ہی اس کتاب سےاستفادہ کرتےچلے آرہےہیں۔یہ کتاب اپنی غایت درجہ علمی افادیت کے پیش نظر برصغیر پاک وہند کےدینی مدارس کےقدیم نصاب درس میں شامل چلی آرہی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں۔اوراس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے حتیٰ کہ خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے ۔یہ مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے بھی روشنی کامینارہ ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ ایسا ذخیرہ ہے کہ جوہر ایک مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔مدارس دینیہ میں مشکوٰۃ عربی شروح میں سے مرعاۃ المفاتیح اور مرقاۃ المفاتیح زیادہ مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب علی بن سلطان محمد القاری معروف ملا علی کی مشکوٰۃ المصابیح کی عربی شرح مرقاۃ المفاتیح کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔یہ شرح ملا علی قاری﷫ کے علم وفکر کا عظیم مجموعہ اور مشکوٰۃ المصابیح کی دیگر شروح میں ممتاز ہے۔مرقاۃ کا یہ اولین اردو ترجمہ ہے۔مترجمین نے ترجمہ کی سلاست اور روانی کو برقرار رکھتے ہوئے ترجمہ میں ہم آہنگی اور یکسانیت کاخاص اہتمام کیا ہے ۔اور احادیث کی مکمل تخریج کابھی اہتمام کیا ہے ۔اس مبسو ط عربی شرح کا ترجمہ جید علماء کی کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔جس سے مشکاۃ المصابیح کے مدرسین اور طلباء کے لیے آسانی ہوگئ ہے ۔یہ ترجمہ گیارہ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ مترجمین وناشرین کی اس اہم کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

  • علامہ قاری علی بن سلطان محمد القاری

    اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن کریم کے ساتھ انسان کا تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کریم کی تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی آپ کے طریقہ سے نہ ہو اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں سے ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے امام بغوی ﷫ نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔ اس کتاب کو تالیف کے دور سے ہی شرق وغرب کے عوام وخواص دونوں میں یکساں طور مقبولیت حاصل ہے۔مصنفین ، علماء وطلبا ، واعظین وخطباء سب ہی اس کتاب سےاستفادہ کرتےچلے آرہےہیں۔یہ کتاب اپنی غایت درجہ علمی افادیت کے پیش نظر برصغیر پاک وہند کےدینی مدارس کےقدیم نصاب درس میں شامل چلی آرہی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں۔اوراس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے حتیٰ کہ خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے ۔یہ مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے بھی روشنی کامینارہ ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ ایسا ذخیرہ ہے کہ جوہر ایک مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔مدارس دینیہ میں مشکوٰۃ عربی شروح میں سے مرعاۃ المفاتیح اور مرقاۃ المفاتیح زیادہ مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب علی بن سلطان محمد القاری معروف ملا علی کی مشکوٰۃ المصابیح کی عربی شرح مرقاۃ المفاتیح کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔یہ شرح ملا علی قاری﷫ کے علم وفکر کا عظیم مجموعہ اور مشکوٰۃ المصابیح کی دیگر شروح میں ممتاز ہے۔مرقاۃ کا یہ اولین اردو ترجمہ ہے۔مترجمین نے ترجمہ کی سلاست اور روانی کو برقرار رکھتے ہوئے ترجمہ میں ہم آہنگی اور یکسانیت کاخاص اہتمام کیا ہے ۔اور احادیث کی مکمل تخریج کابھی اہتمام کیا ہے ۔اس مبسو ط عربی شرح کا ترجمہ جید علماء کی کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔جس سے مشکاۃ المصابیح کے مدرسین اور طلباء کے لیے آسانی ہوگئ ہے ۔یہ ترجمہ گیارہ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ مترجمین وناشرین کی اس اہم کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

     

  • علامہ قاری علی بن سلطان محمد القاری

    اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن کریم کے ساتھ انسان کا تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کریم کی تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی آپ کے طریقہ سے نہ ہو اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں سے ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے امام بغوی ﷫ نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔ اس کتاب کو تالیف کے دور سے ہی شرق وغرب کے عوام وخواص دونوں میں یکساں طور مقبولیت حاصل ہے۔مصنفین ، علماء وطلبا ، واعظین وخطباء سب ہی اس کتاب سےاستفادہ کرتےچلے آرہےہیں۔یہ کتاب اپنی غایت درجہ علمی افادیت کے پیش نظر برصغیر پاک وہند کےدینی مدارس کےقدیم نصاب درس میں شامل چلی آرہی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں۔اوراس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے حتیٰ کہ خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے ۔یہ مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے بھی روشنی کامینارہ ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ ایسا ذخیرہ ہے کہ جوہر ایک مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔مدارس دینیہ میں مشکوٰۃ عربی شروح میں سے مرعاۃ المفاتیح اور مرقاۃ المفاتیح زیادہ مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب علی بن سلطان محمد القاری معروف ملا علی کی مشکوٰۃ المصابیح کی عربی شرح مرقاۃ المفاتیح کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔یہ شرح ملا علی قاری﷫ کے علم وفکر کا عظیم مجموعہ اور مشکوٰۃ المصابیح کی دیگر شروح میں ممتاز ہے۔مرقاۃ کا یہ اولین اردو ترجمہ ہے۔مترجمین نے ترجمہ کی سلاست اور روانی کو برقرار رکھتے ہوئے ترجمہ میں ہم آہنگی اور یکسانیت کاخاص اہتمام کیا ہے ۔اور احادیث کی مکمل تخریج کابھی اہتمام کیا ہے ۔اس مبسو ط عربی شرح کا ترجمہ جید علماء کی کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔جس سے مشکاۃ المصابیح کے مدرسین اور طلباء کے لیے آسانی ہوگئ ہے ۔یہ ترجمہ گیارہ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ مترجمین وناشرین کی اس اہم کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

     

  • عطا اللہ طارق

    اسلامی  تعلیمات سے اگاہی  حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ اسلام کی معرفت کے لیے  ہمارے  سامنے سب سے بڑی کتاب  قرآن  مجید  ہے ۔ جس کے ذریعے  مکمل رہنمائی ملتی ہے  اس کے ساتھ ساتھ دینِ اسلام کو سمجھنے کا دوسرا بڑا ذریعہ احادیث نبویہ  ہیں ۔جن کو  صحابہ  کرام﷢ نے روایت کیا اورائمہ محدثین کے ذریعے   یہ ذخیرہ احادیث ہم تک پہنچا۔ان کو تسلیم کرنا اوران پر عمل کرنا ہر مسلمان  پر لازم ہے ۔صحابہ  کرام  میں سے  سب سے  زیاد ہ  روایات  سیدنا  حضرت ابو ھریرہ ﷜ نے  بیان فرمائی   ہیں ۔ حضرت ابو ھریرہ ﷜ وہ جلیل القدر صحابی  ہیں  جنہوں نے اپنی زندگی  حضور اکرم ﷺ کی احادیث کی خدمت  کے لیے  وقف کردی تھی۔ آپ  دنیا  کی آسائشوں سے الگ تھلگ ہو کر  صرف آپ ﷺ کی مجلس میں موجود  رہتے اور آپ کے ہرفر مان کوبڑی توجہ اور انہماک سے سنتے اور حفظ کرتے ۔دنیا سے اس قدر بے نیاز کہ فاقہ کشی کی نوبت آجاتی ۔لیکن مسجد سے   قدم  اس لیے  باہر نہ نکالتے کہ  کہیں  ان کی عدم موجودگی  میں آپ ﷺ کوئی بیان  جاری فرمادیں او رابو ہریرہ  اس کو سن  نہ سکے ۔اس  حقیقت  کو صحابہ  کرام  نے بھی تسلیم کیا  آپ  سے براہ  راست استفادہ کرتے   ۔تابعین نےبھی آپ کو محدث کا درجہ عطا کیا ۔اس کے بعد تمام محدثین نے  آپ کی روایات کو کتب ِاحادیث  میں  بیان کیا ۔ لیکن بدقسمتی   سے   بعض جہلاء جنہیں صحابہ سے عناد اور بغض ہے حضرت ابو ھریرہ ﷜ پر اعتراض کرتے ہیں اور ا ن کے محدثانہ مقام ومرتبہ کو کم کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں ۔ اہل علم نے  حضرت  ابو ھریرہ ﷜ کے  دفاع کے سلسلے میں   کتب اور علمی مقالات  تحریر کیے ہیں  جن میں  ان پر  کیے جانے  والے  اعتراضات کا مدلل ومسکت  جواب دیا ہے ۔زیر نظر کتاب’’مسند  ابی ھریرہ  الذی جاء فی  الصحیح البخاری بغیر تکرار‘‘ معروف  واعظ ومبلغ  جید عالم دین مولانا  عطاء اللہ طارق   کی   تالیف  ہے ۔ جس میں انہوں نے  صحیح بخاری میں  موجود  سیدنا حضرت ابو ھریرہ  ﷜ کی تمام مرویات کو جمع کر کے تکرار کو حذف کردیاہے۔اور پھر اس کا بہترین سلیس ترجمہ بھی کیا  ہے تاکہ  عوام الناس بھی اس  سے مستفید ہوسکیں ۔ اس  مجموعۂ حدیث  میں احادیث  کی تعداد  314 ہے ۔ اللہ تعالی   مولانا  کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے  اور ان کے درجات بلند فرمائے  (آمین ) (م-ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • ابو یعقوب اسحٰق بن ابراہیم راہویہ

    تابعین کے فیضِ تربیت سے جولوگ بہرہ ور ہوئے اور ان کے بعد علومِ دینیہ کی اشاعت وترویج کی انہی میں امام ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ ﷫ (161ھ۔ 238ھ)بھی ہیں، ان کا شمار ان اساطینِ اُمت میں ہوتا ہے جنہوں نے دینی علوم خصوصاً تفسیر وحدیث کی بے بہا خدمات انجام دی ہیں اور اپنی تحریری یادگاریں بھی چھوڑی ہیں۔ابتدائی تعلیم کے بعد حدیث کی طرف توجہ کی سب سے پہلے امام وقت عبداللہ بن مبارک﷫ کی خدمت میں گئے اور پھردوسرے شیوخ حدیث کی مجالسِ درس میں شریک ہوئے اور ان سے استفادہ کیا، اس وقت ممالکِ اسلامیہ میں دینی علوم کے جتنے مراکز تھے وہ سب ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور تھے؛ مگرابنِ راہویہ نے اِن تمام مقامات کا سفر کیا اور وہاں کے تمام ممتاز محدثین وعلماء سے استفادہ کیا۔ان کوابتدا ہی سے علم حدیث سے شغف تھا اور اسی کے حصول میں انہوں نے سب سے زیادہ محنت وکوشش کی؛ مگرتفسیر وفقہ وغیرہ میں بھی ان کو دسترس تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوتِ حافظہ بھی غیرمعمولی دیا تھا، بے شمار احادیث زبانی یاد تھیں، کئی کئی ہزار احادیث تلامذہ کووہ اپنی یادداشت سے لکھا دیا کرتے تھے اور کبھی کتاب دیکھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی خود کہتے تھے کہ میں جوکچھ سنتا ہوں اسے یاد کرلیتا ہوں اور جوکچھ یاد کرلیتا ہوں؛ پھرنہیں بھولتا، فرماتے تھے سترہزار حدیثیں ہروقت میری نظروں کے سامنے رہتی ہیں، ابوذرعہ مشہور محدث کہتے تھے کہ ان کے جیسا قوتِ حفظ رکھنے والا نہیں دیکھا گیا۔ ان سے جن لوگوں نے اکتساب فیض کیا ان میں امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین رحمہم اللہ وغیرہ کے نام بھی شامل ہیں ان تمام ائمہ نے اپنی اپنی کتابوں میں اسحاق ابن راہویہ کی مرویات نقل کی ہیں۔ امام اسحاق نے حدیث وفقہ کی تدریس کےساتھ ساتھ بہت کتابیں بھی تصنیف کیں۔ زیر نظر کتاب ’’مسند اسحاق بن راھویہ‘‘ بھی انہی کی یادگار تصنیف ہے۔ یہ کتاب مسند کی ترتیب پر تھی جس سے عامی کےلیے استفادہ مشکل تھا اس چیز کومد نظر رکھتے ہوئے اورعوام الناس کے استفادہ کی آسانی کے لیے کتاب کوفقہی ترتیب دی گئی ہے۔ حدیث کی اس اہم کتاب کے ترجمہ کا کام جناب ابو انس محمد سرور گوہر﷾ بطریق احسن انجام دیا ہے۔ ترجمہ میں حتی القدور کوشش کی گئی ہے کہ یہ ن نہایت سلیس اور عام فہم ہو۔محترم جناب حافظ عبد الشکور ترمذی اور حافظ محمد فہد حفظہما اللہ نےشرح اور تخریج کا کام بڑی عرق ریزی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ادارہ انصارالسنۃ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور کتاب کو طباعت کےلیے تیارکرنے والے تمام احباب کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(م۔ا)

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی

    اللہ تعالیٰ نے حدیث او رحاملین حدیث کو بڑی عزت فضیلت اور شرف سے نوازا ہے او رحدیث رسول ﷺ کی خدمت او رحفاظت کےلیے اپنے انہی بندوں کا انتخاب فرمایا جو اس کے چنیدہ وبرگزیدہ تھے ان تمام عظیم المرتبت شخصیات میں بلند تر نام امام شافعی ﷫ کا ہے حضرت امام کی حدیث وفقہ پر خدمات اہل علم سے مخفی نہیں۔زیر نظر کتاب ''مسند امام شافعی '' اپنی افضلیت وفوقیت کی بناء پر جداگانہ مقام رکھتی ہے کیونکہ اس میں امام شافعی ﷫ کی روایت کردہ احادیث کو جمع کیاگیا ہے ان احادیث کا انتخاب ہی اس کی سب سےاہم خاصیت ہے ایسی احادیث کو منتخب کیا گیا ہے جن میں مختصر مگر جامعیت کے ساتھ جملہ احکام شریعت کو سمودیاگیا ہے ۔اس کتاب کے ترجمے کی سعادت محتر م حافظ فیض اللہ ناصر﷾ (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور) نے حاصل کی ہےموصوف اس کتاب کےعلاوہ بھی کئی کتب کے مترجم ومؤلف ہیں اللہ فاضل مترجم کی جہود کوقبول فرمائے اور ان کے زور قلم اور علم وعمل میں اضافہ فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی

    اللہ تعالیٰ نے حدیث او رحاملین حدیث کو بڑی عزت فضیلت اور شرف سے نوازا ہے او رحدیث رسول ﷺ کی خدمت او رحفاظت کےلیے اپنے انہی بندوں کا انتخاب فرمایا جو اس کے چنیدہ وبرگزیدہ تھے ان عظیم المرتبت شخصیات میں بلند تر نام امام شافعی ﷫ کا ہے حضرت امام کی حدیث وفقہ پر خدمات اہل علم سے مخفی نہیں۔ امام شافعی اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ عربی زبان پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ اور اعلیٰ درجہ کے انشاپرداز تھے۔ آپ کی دو کتب کتاب الام اور الرسالہ کو شہرت دوام حاصل ہوئی۔آپ کی تالیفات میں سے ایک کتاب مسند الشافعی بھی ہے ۔مسند امام شافعی اپنی افضلیت وفوقیت کی بناء پر جداگانہ مقام رکھتی ہے کیونکہ اس میں امام شافعی ﷫ کی روایت کردہ احادیث کو جمع کیاگیا ہے ان احادیث کا انتخاب ہی اس کی سب سےاہم خاصیت ہے ایسی احادیث کو منتخب کیا گیا ہے جن میں مختصر مگر جامعیت کے ساتھ جملہ احکام شریعت کو سمودیاگیا ہے۔مسند شافعی کے پہلے نسخے میں احادیث کی ترتیب ایسی نہ تھی کہ جس سے موضوعاتی انداز میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ۔کیونکہ اس میں ایک موضوع کی احادیث کتاب کے مختلف مقامات پر بکھری پڑی تھیں۔ چنانچہ امیر سنجر بن عبد اللہ ناصری ﷫ نےمختلف موضوعات وعناوین کے اعتبار سے متعدد ابواب وکتب قائم کیے اور ہر کتاب اور باب کے تحت ان احادیث کو جمع کیا جو اس موضوع کے تحت آتی تھیں اورترتیب نہایت احسن اور شگفتہ انداز میں لگائی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مسند امام شافعی‘‘ امیر سنجر بن عبد اللہ ناصری﷫ کی ترتیب شدہ نسخہ کا اردو ترجمہ ہے یہ ترجمہ شدہ نسخہ دو جلدوں پر مشتمل ہے جسے ادارہ انصار السنہ پبلی کیشنز، لاہور کے ذمہ داران نے انتہائی محنت سے تیار رکروا کر طبع کیا ہے ۔اس کو اردو قالب میں ڈھالنے اور اس کے فوائد تحریر کرنے اور احادیث کی تخریج کرنے کی سعادت محترم جناب حافظ محمد فہد صاحب نےحاصل کی ہے ۔ مترجم نے آسان اور عام فہم ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ دوران ترجمہ مشکل الفاظ یا مقامات کی وضاحت کے لیے عموماً غریب الحدیث کی کتب پر اعتماد کیا گیا ہے ۔احادیث میں مذکور مختلف مسائل کی وضاحت قرآن ، صحیح احادیث اور ثابت شدہ آثارِ صحابہ واقوال ِ سلف صالحین سے بحوالہ کی گئی ہے ۔ اور فوائد میں مختلف اصطلاحات کی تعریف وتوضیح کرتے ہوئے دوسری عبارت سے ان اصطلاحات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔خراج تحسین کےلائق جناب ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی ﷾ جو دیار غیر میں رہتے ہوئے بھی حدیث رسول کی خدمت میں مصروف کار ہیں ۔دیار غیر میں منہج سلف کی ترجمانی میں ان کا کردار انتہائی نمایاں ہے ۔ ایسے ہی ان کےدست راست او رمخلص دوست حافظ حامد محمود خضری ﷾(ایم فل سکالر لاہور انسٹی ٹیوٹ فارسوشل سائنسز،لاہور ) کو اللہ تعالیٰ اجر جزیل عطا فرمائے کہ جن کے علمی تعاون واشراف سے محدثین کی علمی تراث کو بزبان اردو ترجمہ کے ساتھ منصۃ شہود پر لایاجارہا ہے۔اب تک مختلف موضوعات پر تقریبا35کتب مرتب ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔ہم انتہائی مشکور ہیں جناب خضری صاحب کےجن کی کوششوں سے انصار السنۃ ،لاہور کی تقریباً تمام مطبوعات ادارہ محدث کی لائبریری کو حاصل ہوئیں۔ یہ کتاب بھی انہی کے تعاون سے میسر ہوئی ہے جسے افادۂ عام کےلیے ہم نے ویب سائٹ پر پبلش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو منظر عام پرلانے میں شامل تمام افرادکی محنت کو قبول فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی

    اللہ تعالیٰ نے حدیث او رحاملین حدیث کو بڑی عزت فضیلت اور شرف سے نوازا ہے او رحدیث رسول ﷺ کی خدمت او رحفاظت کےلیے اپنے انہی بندوں کا انتخاب فرمایا جو اس کے چنیدہ وبرگزیدہ تھے ان عظیم المرتبت شخصیات میں بلند تر نام امام شافعی ﷫ کا ہے حضرت امام کی حدیث وفقہ پر خدمات اہل علم سے مخفی نہیں۔ امام شافعی اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ عربی زبان پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ اور اعلیٰ درجہ کے انشاپرداز تھے۔ آپ کی دو کتب کتاب الام اور الرسالہ کو شہرت دوام حاصل ہوئی۔آپ کی تالیفات میں سے ایک کتاب مسند الشافعی بھی ہے ۔مسند امام شافعی اپنی افضلیت وفوقیت کی بناء پر جداگانہ مقام رکھتی ہے کیونکہ اس میں امام شافعی ﷫ کی روایت کردہ احادیث کو جمع کیاگیا ہے ان احادیث کا انتخاب ہی اس کی سب سےاہم خاصیت ہے ایسی احادیث کو منتخب کیا گیا ہے جن میں مختصر مگر جامعیت کے ساتھ جملہ احکام شریعت کو سمودیاگیا ہے۔مسند شافعی کے پہلے نسخے میں احادیث کی ترتیب ایسی نہ تھی کہ جس سے موضوعاتی انداز میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ۔کیونکہ اس میں ایک موضوع کی احادیث کتاب کے مختلف مقامات پر بکھری پڑی تھیں۔ چنانچہ امیر سنجر بن عبد اللہ ناصری ﷫ نےمختلف موضوعات وعناوین کے اعتبار سے متعدد ابواب وکتب قائم کیے اور ہر کتاب اور باب کے تحت ان احادیث کو جمع کیا جو اس موضوع کے تحت آتی تھیں اورترتیب نہایت احسن اور شگفتہ انداز میں لگائی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مسند امام شافعی‘‘ امیر سنجر بن عبد اللہ ناصری﷫ کی ترتیب شدہ نسخہ کا اردو ترجمہ ہے یہ ترجمہ شدہ نسخہ دو جلدوں پر مشتمل ہے جسے ادارہ انصار السنہ پبلی کیشنز، لاہور کے ذمہ داران نے انتہائی محنت سے تیار رکروا کر طبع کیا ہے ۔اس کو اردو قالب میں ڈھالنے اور اس کے فوائد تحریر کرنے اور احادیث کی تخریج کرنے کی سعادت محترم جناب حافظ محمد فہد صاحب نےحاصل کی ہے ۔ مترجم نے آسان اور عام فہم ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ دوران ترجمہ مشکل الفاظ یا مقامات کی وضاحت کے لیے عموماً غریب الحدیث کی کتب پر اعتماد کیا گیا ہے ۔احادیث میں مذکور مختلف مسائل کی وضاحت قرآن ، صحیح احادیث اور ثابت شدہ آثارِ صحابہ واقوال ِ سلف صالحین سے بحوالہ کی گئی ہے ۔ اور فوائد میں مختلف اصطلاحات کی تعریف وتوضیح کرتے ہوئے دوسری عبارت سے ان اصطلاحات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔خراج تحسین کےلائق جناب ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی ﷾ جو دیار غیر میں رہتے ہوئے بھی حدیث رسول کی خدمت میں مصروف کار ہیں ۔دیار غیر میں منہج سلف کی ترجمانی میں ان کا کردار انتہائی نمایاں ہے ۔ ایسے ہی ان کےدست راست او رمخلص دوست حافظ حامد محمود خضری ﷾(ایم فل سکالر لاہور انسٹی ٹیوٹ فارسوشل سائنسز،لاہور ) کو اللہ تعالیٰ اجر جزیل عطا فرمائے کہ جن کے علمی تعاون واشراف سے محدثین کی علمی تراث کو بزبان اردو ترجمہ کے ساتھ منصۃ شہود پر لایاجارہا ہے۔اب تک مختلف موضوعات پر تقریبا35کتب مرتب ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔ہم انتہائی مشکور ہیں جناب خضری صاحب کےجن کی کوششوں سے انصار السنۃ ،لاہور کی تقریباً تمام مطبوعات ادارہ محدث کی لائبریری کو حاصل ہوئیں۔ یہ کتاب بھی انہی کے تعاون سے میسر ہوئی ہے جسے افادۂ عام کےلیے ہم نے ویب سائٹ پر پبلش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو منظر عام پرلانے میں شامل تمام افرادکی محنت کو قبول فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • ابوبکر عبد اللہ بن زبیر حمیدی

    اللہ تعالیٰ کے کلام کے بعد نبیﷺ کا مبارک کلام ہے۔ حدیث یعنی حضور اقدسﷺ کا قول یا فعل یا حال یا تقریر یعنی حضورِ اقدسﷺ نے کچھ ارشاد فرمایا ہو یا حضور اقدسﷺ نے کوئی فعل کیا ہو یا حضورﷺ سے کسی حال میں پائے گئے ہوں یا نبیﷺ کے سامنے کسی بھی صحابیؓ نے کچھ کہا یا کوئی فعل کیا ہو اور نبیﷺ نے سکوت فرمایا ہو۔ یہ وہ کلام ہے جس میں مشغول رہنے والا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقرب اور بارگاہ رسالت میں مقبول ہوتا ہے‘ اگر خلوص کے جذبہ کے ساتھ ہو۔وہ شخص انتہائی قسمت والا ہوتا ہے جس کو قرآن وحدیث جیسی سعادت مل جائے‘ جن لوگوں نے حدیث شریف کی خدمت خلوصِ نیت اور صدق دل کے ساتھ کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کرم سے ایسا نوازا ہے کہ ابد تک اُن کو حیات جاوداں عطا کر دی ہے جیسا کہ امام بخاری ومسلم وغیرہم۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص  حدیث کے موضوع پر مشتمل ہے اس کتاب کا نام مسند حمید ی ہے اور مسند حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں احادیث کو موضوعات اور ابواب کی بجائے ہر صحابی کی الگ الگ احادیث مع اسناد جمع کر دی گئی ہوں اور دوسرا لفظ حمیدی ہے جو کہ مصنف کا تخلص ہے اس لیے اس کتا ب کا نام مسند حمیدی رکھا گیا ہے۔اس کتاب میں 1360 احادیث ہیں‘ جن میں سرے اکثر مرفوع روایات ہیں اور صحابہ وتابعین کے کچھ آثار بھی منقول ہیں۔یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے جس کا اس کتاب میں سلیس اور با محاورہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے اور ہر حدیث کی مکمل تحقیق وتخریج کی گئی ہے اور حوالہ مکمل ذکر کیا جاتا ہے جلد‘صفحہ اور حدیث کا نمبر وغیرہ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مسند حمیدی ‘‘ امام الائمہ ابی بکر عبد اللہ بن زبیر بن عیسی حمیدی کی تالیف کردہ ہے اور اس کا اردو ترجمہ ابو حمزہ مفتی ظفر جبار چشتی نے کیا ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • احمد بن محمد بن عیسٰی البرتی

    احادیث نبویہﷺ کی جمع وتدوین مسلمانوں کا ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جس کی مثال کوئی امت یا قوم پیش نہیں کر سکتی۔احادیث اور فن حدیث پر اتنی بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں کہ ان کی فہرست ہی مرتب کرنے کے لیے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا بحر ذخار ہے کہ جس کے ساحل پر پہنچنے کے لیے ایک مدت دراز درکار ہے۔ یہ ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جس پر امت مسلمہ جتنا فخر کرے کم ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی خاص اسی موضوع پر ہے کیونکہ موجودہ زمانے میں جب کہ دین سے بے رغبتی عام ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمتِ خاصہ کا نزول ہوا کہ وقت  کی اس اہم ضرورت کے پیش نظر اس کتاب کو تالیف کیا گیا۔ اس میں مجموعہ احادیث کو بزبان اُردو ترجمہ‘ تخریج اور تشریحات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔اس میں باون عظیم الفوائد روایات ہیں اور یہ نشر دین اور غلبہ دین کے تعلق سے بہت سے زریں قواعد وفوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس کتاب میں احادیث کو با حوالہ بیان کیا گیا ہے۔ پہلے مصدر کا نام پھر کتاب کا نام اور باب کا نام اور رقم الحدیث کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب’’ مسند عبد الرحمن بن عوف ‘‘ احمد بن محمد بن عیسی البرتی  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • ولی الدین الخطیب التبریزی

    اس وقت آپ کے سامنے ’مشکوٰۃ المصابیح‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ’مشکوٰۃ المصابیح‘ احادیث کا وہ مجموعہ ہےجسے امام بغوی نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر خطیب تبریزی نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی۔مزید برآں ہر فصل میں ایک باب کا اضافہ کیا۔’مشکوۃ المصابیح‘ کو تین فصول میں تقسیم کیا گیا ہےپہلی فصل میں  صحیح بخاری و مسلم کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ دوسری فصل میں وہ احادیث ہیں جن کو دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ تیسری فصل میں شروط کے تحت ایسی چیزیں شامل ہیں جن میں باب کا مضمون پایا جاتا ہے۔ ’مشکوۃ المصابیح‘ کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ اس کا پیش نظر اردو قالب مولانا صادق خلیل  مرحوم کی انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ کتاب کے اردو ترجمے میں ان کی محنت کی جھلک واضح نظر آتی ہے لیکن ترجمے میں بعض جگہ سرسری نقائص کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا ترجمہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور ٹائٹل پر مولانا کے نام کے ساتھ مترجم و شارح بھی لکھا گیا ہے حالانکہ انہوں نے صرف ترجمہ کیا ہے احادیث کی تشریح نہیں کی۔ بہت نادر مقامات پر بعض حدیثوں کی صرف مختصر وضاحت کی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق و نظر ثانی کے ذیل میں ناصر محمود داؤد کا نام ذکر کرتے ہوئے پیش لفظ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ضعیف رواۃ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اسماء و رجال کی کتب کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ امر واقع اس سے بالکل مختلف ہے۔ اور بہت کم مقامات پر یہ اہتمام نظر آتا ہے۔ اور تحقیق تو کجا مشکوۃ میں بیان کردہ احادیث کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔

     

  • ولی الدین الخطیب التبریزی

    اس وقت آپ کے سامنے ’مشکوٰۃ المصابیح‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ’مشکوٰۃ المصابیح‘ احادیث کا وہ مجموعہ ہےجسے امام بغوی نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر خطیب تبریزی نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی۔مزید برآں ہر فصل میں ایک باب کا اضافہ کیا۔’مشکوۃ المصابیح‘ کو تین فصول میں تقسیم کیا گیا ہےپہلی فصل میں  صحیح بخاری و مسلم کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ دوسری فصل میں وہ احادیث ہیں جن کو دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ تیسری فصل میں شروط کے تحت ایسی چیزیں شامل ہیں جن میں باب کا مضمون پایا جاتا ہے۔ ’مشکوۃ المصابیح‘ کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ اس کا پیش نظر اردو قالب مولانا صادق خلیل  مرحوم کی انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ کتاب کے اردو ترجمے میں ان کی محنت کی جھلک واضح نظر آتی ہے لیکن ترجمے میں بعض جگہ سرسری نقائص کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا ترجمہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور ٹائٹل پر مولانا کے نام کے ساتھ مترجم و شارح بھی لکھا گیا ہے حالانکہ انہوں نے صرف ترجمہ کیا ہے احادیث کی تشریح نہیں کی۔ بہت نادر مقامات پر بعض حدیثوں کی صرف مختصر وضاحت کی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق و نظر ثانی کے ذیل میں ناصر محمود داؤد کا نام ذکر کرتے ہوئے پیش لفظ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ضعیف رواۃ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اسماء و رجال کی کتب کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ امر واقع اس سے بالکل مختلف ہے۔ اور بہت کم مقامات پر یہ اہتمام نظر آتا ہے۔ اور تحقیق تو کجا مشکوۃ میں بیان کردہ احادیث کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔

     

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2295 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :