• title-pages-sunnat-se-aik-interview
    پروفیسر محمد رفیق چودھری
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی اطاعت کولازم ٹھیرایا وہیں رسول اللہﷺ کی اطاعت کو بھی واجب العمل قرار دیا ۔ قرآن کریم کو سجھنے اور اس کی تشریح و توضیح کے لیے احادیث نبویہﷺسے بڑھ کر کوئی اور ماخذ مدد نہیں دے سکتا۔ لیکن موجودہ دور کے متجددین سنت اور حدیث کے مابین تفریق کر کے ان کو خانہ زاد معانی پہنانے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ رفیق چودھری صاحب عرصہ سے اس فکر کو مسکت جوابات سے نواز رہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی متعدد کتب بھی زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ پیش نظرکتاب بھی چودھری صاحب کی سنت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ایک گرانقدر تصنیف ہے۔ جس میں انھوں نے ایک الگ اسلوب میں یہ بتلانے کی کوشش کی ہے کہ قرآن و سنت کے مجموعے کا نام ہے اسلام کو اگر کتاب اللہ سے الگ کر کے دیکھا جائے یا اسے سنت سے جدا کرنے کی کوشش کی جائے دونوں صورتوں میں سوائے ظلمت و ضلالت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اس کتاب کے مطالعے سے یہ امر بالکل واضح ہو جائے گا کہ حدیث و سنت دراصل قرآن ہی کی شرح ہے اور قرآن ہی کی طرح حجت اور واجب العمل ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی یہ پہلو بھی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گا کہ حدیث و سنت ہر دور میں پوری انسانی زندگی کے لیے کامل ہدایت اور رہنمائی ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-sunnat-e-nabwisaww-aur-hum-copy
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

    قرآن کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے۔قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثیت ہے  ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے  ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعتِ رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اور ایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں۔اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث نبویہ  کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ)  میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری  فرماکر  دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی  بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان  کی فرضیت کے بارے میں ابہام پیدا کرکے کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے  سنت کی شرعی  حیثیت کو مجروح کر کے  دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے۔لیکن الحمد للہ  ہر دور میں محدثین  اور  علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی  اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔ زیر نظر کتاب ’’ سنت نبوی ﷺ اور ہم  ‘‘ انصار السنۃ پبلی کیشنز  کے روح رواں  مولانا ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی ﷾(مصنف کتب کثیرہ ) کی تصنیف ہے ۔اس  کتاب میں انہوں نے  قرآن  کریم  کی آیات مبارکہ ،احادیث نبویہ،اقوال  صحابہ وتابعین ،ائمہ اربعہ وسلف صالحین کے اقوال کی  روشنی میں سنت کی اہمیت ،مقام  ومرتبہ  بیان کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے  کہ   جس طرح قرآن کریم دینِ اسلام کے بنیادی عقائد اور شرائع اسلامیہ کو جاننے کا  پہلا ذریعہ ہے اسی طرح نبی کریم ﷺکی احادیث کریمہ دوسرا ذریعہ ہیں ۔ان کے بغیر اسلام کی تکمیل کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔اس کے بعد  حفاظت حدیث کے سلسلے میں معروف ائمہ محدثین  کی حیات وخدمات کومختصرا بیان کیا ہے  اور پھر منکرین  حدیث کے اعتراض اور  ان کے جوابات کو   پیش کرنے کے بعد  تقلید اور بدعت  کی حقیقت  کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف  موصوف  کی تصنیفی  ودعوتی کوششوں کو قبول  فرمائے۔ اور اس کو  کتاب عوام الناس  میں حدیث وسنت   کی اہمیت  اوراتباع سنت کا شعور اجاگر کرنے کا  ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا) 

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sunnat-ki-aeni-hesiyyat
    سید ابو الاعلی مودودی
    انکار سنت کا فتنہ تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔
    انکار سنت کا یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔
    زیر نظر کتاب ایک پرویزی ڈاکٹر عبد الودود اور سید ابو الاعلی مودوی رحمہ اللہ کے سنت کی آئینی حیثیت کے بارے ایک طویل مراسلت پر مشتمل ہے جو پہلے ترجمان القرآن میں شائع ہوئی اور بعد ازاں اس کی افادیت کے پیش نظر اسے ایک مستقل کتاب کے طور بھی شائع کیا گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں عقل و نقل کی روشنی میں پرویزی فکر کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کو سنت کے اس دفاع پر جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین(ت۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-sunnat-quran-hakeem-ki-roshni-mein
    عبد الغفار حسن

    آنحضور ﷺ کے بعد اجرائےنبوت کاتخیل جس طرح ملت اسلامیہ میں انتشارو خلفشار کا باعث بناہے،اسی طرح انکار حدیث کاشو شہ بھی اپنے نتائج کے لحاظ سےکچھ کم خطرناک نہیں ہے۔قرآن مجید کے بعدحدیث نبوی ﷺ اسلامی احکام و تعلیمات کا دوسرابڑا ماخذ ہے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن مجید کو کما حقہ سمجھنے کے لیے،اس پررضائے الٰہی کےمطابق عمل کرنے کے لیےحدیث کا ہونا ازحد ضروری اور اہم ہے۔دین کے بے شمار احکام سنت رسولﷺ کی راہنمائی کے بغیر ناقص ہیں مثلا'نماز کا طریقہ،زکوٰۃ کا نصاب،جنازے کے احکام،حج کے مناسک وغیرہ ۔منکرین حدیث نے یہ نعرہ بلند کیا کہ انسان کی راہنمائی کےلیے صرف قرآن کافی ہے۔حدیث رسول ﷺ کےمتعلق امت مسلمہ کو شکوک و شبہات میں مبتلا کیا۔حدیث رسول ﷺ کے انکارسے درحقیقت قرآن مجید کا انکار لازم آتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"سنت قرآن حکیم کی روشنی میں"عبدالغفار احسن کی تصنیف ہے۔اس مقالے میں قرآنی آیات سے ثابت کیاگیاہےکہ اسلامی شریعت کا دوسراماخذحدیث رسولﷺ ہےیہ حدیث وحی کی ایک مستقل قسم ہےاس کے بغیر نہ تو قرآن مجید کاصحیح فہم حاصل ہو سکتا ہے اور نہ اسلام کی شاہراہ پرانسان ایک قدم چل سکتاہے۔ موصوف نے بڑے احسن انداز سےمنکرین حدیث کے مغالطوں کے اعتراضات کا قرآن کی روشنی میں مدلل جوابات دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے ۔آمین(عمیر)

  • title-pages-sunnat-ki-kitab-copy
    حافظ عمران ایوب لاہوری

    سنت مراد الٰہی تک پہنچنے کا اولین ماخذ ہے اور سنت کی موافقت کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے بنیادی شرط ہے ۔اگر سنت کو ترک کردیاجائے تو نہ قرآن کی تفہیم ممکن ہے اور نہ ہی کسی عمل کی قبولیت ۔اسی وجہ سے کتاب اللہ میں جابجا اتباع سنت کی ترغیب دکھائی دیتی ہے ۔ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی اور فہم قرآن سے دوری ہے ۔سنت رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم کا دعو یٰ نادانی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں قرآنی آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری فرماکر دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان کی فرضیت کے بارے میں ابہام پیدا کرکے کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے سنت کی شرعی حیثیت کو مجروح کر کے دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن الحمد للہ ہر دو ر میں محدثین اور علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سنت کی کتاب ‘‘محترم جناب ڈاکٹر حافظ عمران ایو ب لاہوری ﷾ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے سنت اور بدعت سے متعلقہ ابحاث سنت کا مفہوم، اہمیت ، تدوین ، ، رد اکارِ حدیث بدعت کی حقیقت، مروجہ بدعات کی تردید او ر دیگر متفرق مسائل تحقیقی انداز میں میں پیش کیا ہے ۔مکمل کتاب دلائل وحوالہ جات اور تخریج وتحقیق سےمزین ہے۔امید یہ کتاب سنت اور بدعت کےموضوع پر تشنگان علم کی تشفی کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی تمام تصنیفی وتحقیقی خدمات کو قبول فرمائے اور اسے سب کےلیے ذریعہ ہدایت بنائے (آمین)(م۔ا)

  • sunnatain-joo-chood-digain
    عبد الملک القاسم

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کےلیےبےشمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔پس انسان کے لیےلازم ہےکہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی اداکرے۔اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہےتو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہےکہ صراط مستقیم ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہےجس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہےکہ دنیا میں اس کو عزت کی نگاہ سےدیکھا جائے اور آخرت میں بھی جنت اس کا مقدر بنے۔دنیا وآخرت میں کامیابی کا حصول صرف تعلیمات اسلام میں ہےیہ واحد دین ہےجو انسان کی ہر ضرورت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی کامیابی کا راز اتباع رسول اللہ ﷺ میں مضمر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"سنتیں جو چھوڑ دی گئیں" مولانا عبد المالک القاسم کی عربی تالیف ہے۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا یوسف بن اسحاق نے نہایت سلیس انداز سے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کو ہمت و استقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • title-pages-sunan-abu-dawood-1-copy
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے  اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیثِ رسول ہے  اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے  رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام  نے  احادیث  نبویہ  کو  آگے  پہنچا کر  اور پھر  ان  کے  بعد ائمہ محدثین  نے  احادیث کومدون  او ر  علماء امت  نے کتب  احادیث  کے تراجم وشروح  کے ذریعے  حدیثِ رسول کی  عظیم خدمت  کی  ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے  ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء  اللہ یہ سعادت او رشرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث رسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔کتب احادیث بالخصوص  صحاح ستہ کے نئے تراجم کے سلسلے میں مکتبہ سلفیہ ،پاکستان ، مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی)اور ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کاوشیں بھی  لائق تحسین  ہیں ۔زیر نظر ’’کتاب سنن ابو داؤد‘‘ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کے  ترجمہ کے ساتھ  چار مجلدات پر مشتمل ہے ۔ جس میں  مراجعت  وتخریج کا کام  مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی) نے سرانجام  دیا ہے ۔ یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری ،محمد آصف مغل حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے  سنن ابوداؤد  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  سنن ابوداؤد کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متن حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔ اس  نسخے کی ایک  امتیازی خوبی یہ  ہے  کہ اس میں تمام  ابواب واحادیث کا انگریزی ترجمہ بھی  کردیا ہے گیا ہے  جس  سے قارئین کے لیے  ایک ہی  جگہ پر حدیث کا عربی متن، اردو  اور انگریزی ترجمہ میسر ہوگیا ہے ۔۔قارئین کی آسانی کی  کےپیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  سنن ابوداؤد کی احادیث کو چار جلدوں میں تقسیم  کر کے  فہارسِ  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ  کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

     

  • title-pages-sunan-abu-dawood-2-copy
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے  اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیثِ رسول ہے  اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے  رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام  نے  احادیث  نبویہ  کو  آگے  پہنچا کر  اور پھر  ان  کے  بعد ائمہ محدثین  نے  احادیث کومدون  او ر  علماء امت  نے کتب  احادیث  کے تراجم وشروح  کے ذریعے  حدیثِ رسول کی  عظیم خدمت  کی  ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے  ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء  اللہ یہ سعادت او رشرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث رسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔کتب احادیث بالخصوص  صحاح ستہ کے نئے تراجم کے سلسلے میں مکتبہ سلفیہ ،پاکستان ، مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی)اور ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کاوشیں بھی  لائق تحسین  ہیں ۔زیر نظر ’’کتاب سنن ابو داؤد‘‘ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کے  ترجمہ کے ساتھ  چار مجلدات پر مشتمل ہے ۔ جس میں  مراجعت  وتخریج کا کام  مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی) نے سرانجام  دیا ہے ۔ یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری ،محمد آصف مغل حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے  سنن ابوداؤد  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  سنن ابوداؤد کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متن حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔ اس  نسخے کی ایک  امتیازی خوبی یہ  ہے  کہ اس میں تمام  ابواب واحادیث کا انگریزی ترجمہ بھی  کردیا ہے گیا ہے  جس  سے قارئین کے لیے  ایک ہی  جگہ پر حدیث کا عربی متن، اردو  اور انگریزی ترجمہ میسر ہوگیا ہے ۔۔قارئین کی آسانی کی  کےپیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  سنن ابوداؤد کی احادیث کو چار جلدوں میں تقسیم  کر کے  فہارسِ  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ  کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

     

  • title-pages-sunan-abu-dawood-3-copy
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے  اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیثِ رسول ہے  اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے  رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام  نے  احادیث  نبویہ  کو  آگے  پہنچا کر  اور پھر  ان  کے  بعد ائمہ محدثین  نے  احادیث کومدون  او ر  علماء امت  نے کتب  احادیث  کے تراجم وشروح  کے ذریعے  حدیثِ رسول کی  عظیم خدمت  کی  ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے  ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء  اللہ یہ سعادت او رشرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث رسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔کتب احادیث بالخصوص  صحاح ستہ کے نئے تراجم کے سلسلے میں مکتبہ سلفیہ ،پاکستان ، مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی)اور ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کاوشیں بھی  لائق تحسین  ہیں ۔زیر نظر ’’کتاب سنن ابو داؤد‘‘ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کے  ترجمہ کے ساتھ  چار مجلدات پر مشتمل ہے ۔ جس میں  مراجعت  وتخریج کا کام  مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی) نے سرانجام  دیا ہے ۔ یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری ،محمد آصف مغل حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے  سنن ابوداؤد  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  سنن ابوداؤد کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متن حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔ اس  نسخے کی ایک  امتیازی خوبی یہ  ہے  کہ اس میں تمام  ابواب واحادیث کا انگریزی ترجمہ بھی  کردیا ہے گیا ہے  جس  سے قارئین کے لیے  ایک ہی  جگہ پر حدیث کا عربی متن، اردو  اور انگریزی ترجمہ میسر ہوگیا ہے ۔۔قارئین کی آسانی کی  کےپیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  سنن ابوداؤد کی احادیث کو چار جلدوں میں تقسیم  کر کے  فہارسِ  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ  کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

     

  • title-page-sunan-ibne-maja-1
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-pages-sunan-ibne-maja-2
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-pages-sunan-ebn-e-maja-3
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-pages-sunan-ebn-e-maja-4
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-pages-sunan-ebn-e-maja-5
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-page-abo-dawood-1
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

  • title-page-abo-dawood2
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

  • title-page-abo-dawood-jild-3
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

  • title-pages-sunan-abu-dawood-4-copy
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے  اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیثِ رسول ہے  اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے  رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام  نے  احادیث  نبویہ  کو  آگے  پہنچا کر  اور پھر  ان  کے  بعد ائمہ محدثین  نے  احادیث کومدون  او ر  علماء امت  نے کتب  احادیث  کے تراجم وشروح  کے ذریعے  حدیثِ رسول کی  عظیم خدمت  کی  ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے  ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء  اللہ یہ سعادت او رشرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث رسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔کتب احادیث بالخصوص  صحاح ستہ کے نئے تراجم کے سلسلے میں مکتبہ سلفیہ ،پاکستان ، مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی)اور ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کاوشیں بھی  لائق تحسین  ہیں ۔زیر نظر ’’کتاب سنن ابو داؤد‘‘ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کے  ترجمہ کے ساتھ  چار مجلدات پر مشتمل ہے ۔ جس میں  مراجعت  وتخریج کا کام  مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی) نے سرانجام  دیا ہے ۔ یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری ،محمد آصف مغل حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے  سنن ابوداؤد  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  سنن ابوداؤد کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متن حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔ اس  نسخے کی ایک  امتیازی خوبی یہ  ہے  کہ اس میں تمام  ابواب واحادیث کا انگریزی ترجمہ بھی  کردیا ہے گیا ہے  جس  سے قارئین کے لیے  ایک ہی  جگہ پر حدیث کا عربی متن، اردو  اور انگریزی ترجمہ میسر ہوگیا ہے ۔۔قارئین کی آسانی کی  کےپیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  سنن ابوداؤد کی احادیث کو چار جلدوں میں تقسیم  کر کے  فہارسِ  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ  کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

     

  • title-pages-abo-dawood-jilad-4
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

  • pages-from-sunan-tirmazi-1
    امام ترمذی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سنن ترمذی‘‘ صحیح ترمذی (عربی: جامع الترمذی یا سُنَن الترمذي) یا عام طور سے صحیح ترمذی شریف یا جامع ترمذی شریف بھی کہا جاتا ہے ابوعیسی محمد بن سورہ بن شداد کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو صحاح ستہ کی مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کتاب میں آسان اور خوبصورت پیرائے میں احادیث نبویہ کی جمع و تدوین کا اہتمام کیا گیا ہے۔ چناں چہ امام ترمذی  نے اس تالیف میں عقائد، عبادات، اور معاملات سے متعلق احادیث کا عظیم ذخیرہ جمع کیا اور اسے فقہی ترتیب سے مدون کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب کا مراجعہ او ر تقدیم ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی نے کیا ہے۔ اس کتاب کا (عربی متن، اردو ترجمہ، تخریج و حاشیہ) مجلس علمی دار الدعوۃ نے تیار کیا ہے اور اس کو مکتبہ بیت السلام ریاض اور لاہور والوں نے چھاپہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اوراس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔

  • pages-from-sunan-tirmazi-2
    امام ترمذی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سنن ترمذی‘‘ صحیح ترمذی (عربی: جامع الترمذی یا سُنَن الترمذي) یا عام طور سے صحیح ترمذی شریف یا جامع ترمذی شریف بھی کہا جاتا ہے ابوعیسی محمد بن سورہ بن شداد کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو صحاح ستہ کی مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کتاب میں آسان اور خوبصورت پیرائے میں احادیث نبویہ کی جمع و تدوین کا اہتمام کیا گیا ہے۔ چناں چہ امام ترمذی  نے اس تالیف میں عقائد، عبادات، اور معاملات سے متعلق احادیث کا عظیم ذخیرہ جمع کیا اور اسے فقہی ترتیب سے مدون کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب کا مراجعہ او ر تقدیم ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی نے کیا ہے۔ اس کتاب کا (عربی متن، اردو ترجمہ، تخریج و حاشیہ) مجلس علمی دار الدعوۃ نے تیار کیا ہے اور اس کو مکتبہ بیت السلام ریاض اور لاہور والوں نے چھاپہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اوراس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔

  • pages-from-sunan-tirmazi-3
    امام ترمذی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سنن ترمذی‘‘ صحیح ترمذی (عربی: جامع الترمذی یا سُنَن الترمذي) یا عام طور سے صحیح ترمذی شریف یا جامع ترمذی شریف بھی کہا جاتا ہے ابوعیسی محمد بن سورہ بن شداد کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو صحاح ستہ کی مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کتاب میں آسان اور خوبصورت پیرائے میں احادیث نبویہ کی جمع و تدوین کا اہتمام کیا گیا ہے۔ چناں چہ امام ترمذی  نے اس تالیف میں عقائد، عبادات، اور معاملات سے متعلق احادیث کا عظیم ذخیرہ جمع کیا اور اسے فقہی ترتیب سے مدون کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب کا مراجعہ او ر تقدیم ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی نے کیا ہے۔ اس کتاب کا (عربی متن، اردو ترجمہ، تخریج و حاشیہ) مجلس علمی دار الدعوۃ نے تیار کیا ہے اور اس کو مکتبہ بیت السلام ریاض اور لاہور والوں نے چھاپہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اوراس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔

  • pages-from-sunan-tirmazi-4
    امام ترمذی

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سنن ترمذی‘‘ صحیح ترمذی (عربی: جامع الترمذی یا سُنَن الترمذي) یا عام طور سے صحیح ترمذی شریف یا جامع ترمذی شریف بھی کہا جاتا ہے ابوعیسی محمد بن سورہ بن شداد کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو صحاح ستہ کی مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کتاب میں آسان اور خوبصورت پیرائے میں احادیث نبویہ کی جمع و تدوین کا اہتمام کیا گیا ہے۔ چناں چہ امام ترمذی  نے اس تالیف میں عقائد، عبادات، اور معاملات سے متعلق احادیث کا عظیم ذخیرہ جمع کیا اور اسے فقہی ترتیب سے مدون کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب کا مراجعہ او ر تقدیم ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی نے کیا ہے۔ اس کتاب کا (عربی متن، اردو ترجمہ، تخریج و حاشیہ) مجلس علمی دار الدعوۃ نے تیار کیا ہے اور اس کو مکتبہ بیت السلام ریاض اور لاہور والوں نے چھاپہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اوراس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔

  • title-pages-sunan-dar-qutni--hafiz-faiz-ullah-nasir--1-copy
    امام ابو الحسن علی بن عمر الدار قطنی

    چوتھی  صدی ہجری کے نامور تاجدارِ حدیث  امام دارقطنی﷫ ( (306 – 385جن کے تذکرے کے بغیر چوتھی  صدی کی تاریخ  نا  مکمل رہتی ہے ۔ ان  کا  مکمل  نام یہ  ہے ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن النعمان بن دینار بن عبدللہ   الدار قطنی البغدادی ہے، انہیں امام حافظ مجوِّد، شیخ الاسلام، محدث کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے، ان کا تعلق بغداد کے محلہ دار قطن سے تھا جس کی وجہ سے انہیں الدارقطنی کہا جاتا ہے۔امام دارقطنی  نے  اپنے  وطن   کے علمی  سرچشموں سے سیرابی  حاصل کرنے کے بعد مختلف ممالک کا سفر کیا اور  بڑے بڑے ائمہ کرام سے تعلیم حاصل کی جن میں ابی القاسم البغوی، یحیی بن محمد بن صاعد، ابی بکر بن ابی داود، ابی بکر النیسابوری، الحسین بن اسماعیل المحاملی، ابی العباس ابن عقدہ، اسماعیل الصفار، اور دیگر شامل ہیں۔امام دارقطنی ، علل حدیث اور رجالِ حدیث ، فقہ، اختلاف اور مغازی اور ایام الناس پر دسترس رکھتے تھے۔آپ کی امامت  وثقاہت  پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔حافظ عبد الغنی الازدی فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺکی حدیث پر اپنے  وقت  میں  سب سے بہتر دسترس رکھنے والے تین افراد  ہیں۔  ابن المدینی،  موسی بن ہارون اور امام  دارقطنی ۔امام  دارقطنی کی تصانیف 80 سے زائد ہیں۔ 385 ھ میں ان کا انتقال ہوا اور بغداد کے قبرستان باب الدیر میں معروف الکرخی کی قبر کے نزدیک دفن ہوئے۔امام دارقطنی کی تصانیف میں سے ان  کی مشہور زمانہ  کتاب’’ سنن دارقطنی ‘‘ اپنی شان ومقام کےلحاظ سے جداگانہ مقام رکھتی ہے ۔اس میں احادیث کی تعداد 4835 ہے ۔  اس کتاب پر عربی زبان میں تشریح  وتعلیق، تحقیق وتخریج  کے کام تو ہوئے ہیں  لیکن اس کا اردو زبان میں ترجمہ تشریح کا کام  ابھی باقی تھا  ۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے   عزیز دوست محترم  جناب   حافظ فیض اللہ ناصر ﷾(فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) نے  سنن دار قطنی کا سلیس اور رواں ترجمہ کرنے کی سعادت  حاصل کی ہے ۔موصوف نے  اس کتاب کا ترجمہ کرتے وقت مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت کا مطبوعہ نسخہ سامنے رکھا ہے  جس کی تحقیق وتخریج کا کام  محقق دوراں الشیخ شعیب الأرنؤوط نے کیا ہے ۔مترجم نے اس تحقیق وتخریج کو بھی اختصار کے ساتھ  اس مترجم نسخے کی زینت بنادیا ہے ۔ جس سے اس کتاب کے علمی مقام اور افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ فاضل مترجم اس کتاب کے  علاوہ  بھی تقریبا نصف درجن کتب کےمترجم ومرتب ہیں۔جس میں امام شافعی﷫ کتاب  مسندشافعی کاترجمہ بھی شامل ہے۔ ۔تصنیف وتالیف وترجمہ کے میدان میں موصوف کی  حسن  کارکردگی  کے اعتراف   میں  ان کی مادر علمی  جامعہ لاہورالاسلامیہ،لاہور  نے2014ء کے آغاز میں  انہیں اعزازی شیلڈ  وسند سے  نوازاہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے  علم وعمل  اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے  (آمین)  (م۔ا)

  • title-pages-sunan-dar-qutni--hafiz-faiz-ullah-nasir--2-copy
    امام ابو الحسن علی بن عمر الدار قطنی

    چوتھی  صدی ہجری کے نامور تاجدارِ حدیث  امام دارقطنی﷫ ( (306 – 385جن کے تذکرے کے بغیر چوتھی  صدی کی تاریخ  نا  مکمل رہتی ہے ۔ ان  کا  مکمل  نام یہ  ہے ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن النعمان بن دینار بن عبدللہ   الدار قطنی البغدادی ہے، انہیں امام حافظ مجوِّد، شیخ الاسلام، محدث کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے، ان کا تعلق بغداد کے محلہ دار قطن سے تھا جس کی وجہ سے انہیں الدارقطنی کہا جاتا ہے۔امام دارقطنی  نے  اپنے  وطن   کے علمی  سرچشموں سے سیرابی  حاصل کرنے کے بعد مختلف ممالک کا سفر کیا اور  بڑے بڑے ائمہ کرام سے تعلیم حاصل کی جن میں ابی القاسم البغوی، یحیی بن محمد بن صاعد، ابی بکر بن ابی داود، ابی بکر النیسابوری، الحسین بن اسماعیل المحاملی، ابی العباس ابن عقدہ، اسماعیل الصفار، اور دیگر شامل ہیں۔امام دارقطنی ، علل حدیث اور رجالِ حدیث ، فقہ، اختلاف اور مغازی اور ایام الناس پر دسترس رکھتے تھے۔آپ کی امامت  وثقاہت  پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔حافظ عبد الغنی الازدی فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺکی حدیث پر اپنے  وقت  میں  سب سے بہتر دسترس رکھنے والے تین افراد  ہیں۔  ابن المدینی،  موسی بن ہارون اور امام  دارقطنی ۔امام  دارقطنی کی تصانیف 80 سے زائد ہیں۔ 385 ھ میں ان کا انتقال ہوا اور بغداد کے قبرستان باب الدیر میں معروف الکرخی کی قبر کے نزدیک دفن ہوئے۔امام دارقطنی کی تصانیف میں سے ان  کی مشہور زمانہ  کتاب’’ سنن دارقطنی ‘‘ اپنی شان ومقام کےلحاظ سے جداگانہ مقام رکھتی ہے ۔اس میں احادیث کی تعداد 4835 ہے ۔  اس کتاب پر عربی زبان میں تشریح  وتعلیق، تحقیق وتخریج  کے کام تو ہوئے ہیں  لیکن اس کا اردو زبان میں ترجمہ تشریح کا کام  ابھی باقی تھا  ۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے   عزیز دوست محترم  جناب   حافظ فیض اللہ ناصر ﷾(فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) نے  سنن دار قطنی کا سلیس اور رواں ترجمہ کرنے کی سعادت  حاصل کی ہے ۔موصوف نے  اس کتاب کا ترجمہ کرتے وقت مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت کا مطبوعہ نسخہ سامنے رکھا ہے  جس کی تحقیق وتخریج کا کام  محقق دوراں الشیخ شعیب الأرنؤوط نے کیا ہے ۔مترجم نے اس تحقیق وتخریج کو بھی اختصار کے ساتھ  اس مترجم نسخے کی زینت بنادیا ہے ۔ جس سے اس کتاب کے علمی مقام اور افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ فاضل مترجم اس کتاب کے  علاوہ  بھی تقریبا نصف درجن کتب کےمترجم ومرتب ہیں۔جس میں امام شافعی﷫ کتاب  مسندشافعی کاترجمہ بھی شامل ہے۔ ۔تصنیف وتالیف وترجمہ کے میدان میں موصوف کی  حسن  کارکردگی  کے اعتراف   میں  ان کی مادر علمی  جامعہ لاہورالاسلامیہ،لاہور  نے2014ء کے آغاز میں  انہیں اعزازی شیلڈ  وسند سے  نوازاہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے  علم وعمل  اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے  (آمین)  (م۔ا)

  • title-pages-sunan-dar-qutni--hafiz-faiz-ullah-nasir--3-copy
    امام ابو الحسن علی بن عمر الدار قطنی

    چوتھی  صدی ہجری کے نامور تاجدارِ حدیث  امام دارقطنی﷫ ( (306 – 385جن کے تذکرے کے بغیر چوتھی  صدی کی تاریخ  نا  مکمل رہتی ہے ۔ ان  کا  مکمل  نام یہ  ہے ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن النعمان بن دینار بن عبدللہ   الدار قطنی البغدادی ہے، انہیں امام حافظ مجوِّد، شیخ الاسلام، محدث کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے، ان کا تعلق بغداد کے محلہ دار قطن سے تھا جس کی وجہ سے انہیں الدارقطنی کہا جاتا ہے۔امام دارقطنی  نے  اپنے  وطن   کے علمی  سرچشموں سے سیرابی  حاصل کرنے کے بعد مختلف ممالک کا سفر کیا اور  بڑے بڑے ائمہ کرام سے تعلیم حاصل کی جن میں ابی القاسم البغوی، یحیی بن محمد بن صاعد، ابی بکر بن ابی داود، ابی بکر النیسابوری، الحسین بن اسماعیل المحاملی، ابی العباس ابن عقدہ، اسماعیل الصفار، اور دیگر شامل ہیں۔امام دارقطنی ، علل حدیث اور رجالِ حدیث ، فقہ، اختلاف اور مغازی اور ایام الناس پر دسترس رکھتے تھے۔آپ کی امامت  وثقاہت  پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔حافظ عبد الغنی الازدی فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺکی حدیث پر اپنے  وقت  میں  سب سے بہتر دسترس رکھنے والے تین افراد  ہیں۔  ابن المدینی،  موسی بن ہارون اور امام  دارقطنی ۔امام  دارقطنی کی تصانیف 80 سے زائد ہیں۔ 385 ھ میں ان کا انتقال ہوا اور بغداد کے قبرستان باب الدیر میں معروف الکرخی کی قبر کے نزدیک دفن ہوئے۔امام دارقطنی کی تصانیف میں سے ان  کی مشہور زمانہ  کتاب’’ سنن دارقطنی ‘‘ اپنی شان ومقام کےلحاظ سے جداگانہ مقام رکھتی ہے ۔اس میں احادیث کی تعداد 4835 ہے ۔  اس کتاب پر عربی زبان میں تشریح  وتعلیق، تحقیق وتخریج  کے کام تو ہوئے ہیں  لیکن اس کا اردو زبان میں ترجمہ تشریح کا کام  ابھی باقی تھا  ۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے   عزیز دوست محترم  جناب   حافظ فیض اللہ ناصر ﷾(فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) نے  سنن دار قطنی کا سلیس اور رواں ترجمہ کرنے کی سعادت  حاصل کی ہے ۔موصوف نے  اس کتاب کا ترجمہ کرتے وقت مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت کا مطبوعہ نسخہ سامنے رکھا ہے  جس کی تحقیق وتخریج کا کام  محقق دوراں الشیخ شعیب الأرنؤوط نے کیا ہے ۔مترجم نے اس تحقیق وتخریج کو بھی اختصار کے ساتھ  اس مترجم نسخے کی زینت بنادیا ہے ۔ جس سے اس کتاب کے علمی مقام اور افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ فاضل مترجم اس کتاب کے  علاوہ  بھی تقریبا نصف درجن کتب کےمترجم ومرتب ہیں۔جس میں امام شافعی﷫ کتاب  مسندشافعی کاترجمہ بھی شامل ہے۔ ۔تصنیف وتالیف وترجمہ کے میدان میں موصوف کی  حسن  کارکردگی  کے اعتراف   میں  ان کی مادر علمی  جامعہ لاہورالاسلامیہ،لاہور  نے2014ء کے آغاز میں  انہیں اعزازی شیلڈ  وسند سے  نوازاہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے  علم وعمل  اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے  (آمین)  (م۔ا)

  • title-pages-sunan-darmi-urdu-1
    ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن التمیمی الدارمی
    اللہ رب العزت نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا جو طریق و عمل مقرر  فرمایا ہے ،اسے ’دین اسلام‘کا عنوان دیا گیا ہے۔دین اسلام کی بنیاد وحی الہیٰ پر ہے ۔وحی کی دو صورتیں ہیں :اول ،وجی جلی یا وحی متلو یہ قرآن کریم کی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ۔دوم ،حدیث و سنت جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقریرات سے عبارت ہے ۔وحی کے یہ دونوں حصے لازم و ملزوم ہیں اور ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کو سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔چنانچہ حدیث و سنت کی اہمیت کے پیش نظر محدثین کرام نے اس کی تدوین و ترتیب اور جمع و حفاظت کا کام بے حد لگن اور محنت سے سر انجام دیا۔اخذ و روایت حدیث میں ایسی احتیاط و اہتمام کا ثبوت دیا کہ امت مسلمہ سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس کے نتیجے میں بے شمار کتب حدیث منظر عام پر آئیں ،جن میں سے ایک سنن دارمی بھی ہے جو کہ امام ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن ابن الفضل  بن بہرام الدارمی کی تالیف ہے ۔امام صاحب کی جلالت قدر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام مسلم،امام ترمذی،امام ابو داؤد،بقی بن مخلد اور حافظ ابو زرعہ رازی ایسے اساطین فن آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں ۔آپ کی سنن ،علم حدیث کا شان دار مجموعہ ہے ،جسے تحقیق و تخریج کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے ۔


  • title-pages-sunan-darmi-urdu-2
    ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن التمیمی الدارمی
    اللہ رب العزت نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا جو طریق و عمل مقرر  فرمایا ہے ،اسے ’دین اسلام‘کا عنوان دیا گیا ہے۔دین اسلام کی بنیاد وحی الہیٰ پر ہے ۔وحی کی دو صورتیں ہیں :اول ،وجی جلی یا وحی متلو یہ قرآن کریم کی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ۔دوم ،حدیث و سنت جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقریرات سے عبارت ہے ۔وحی کے یہ دونوں حصے لازم و ملزوم ہیں اور ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کو سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔چنانچہ حدیث و سنت کی اہمیت کے پیش نظر محدثین کرام نے اس کی تدوین و ترتیب اور جمع و حفاظت کا کام بے حد لگن اور محنت سے سر انجام دیا۔اخذ و روایت حدیث میں ایسی احتیاط و اہتمام کا ثبوت دیا کہ امت مسلمہ سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس کے نتیجے میں بے شمار کتب حدیث منظر عام پر آئیں ،جن میں سے ایک سنن دارمی بھی ہے جو کہ امام ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن ابن الفضل  بن بہرام الدارمی کی تالیف ہے ۔امام صاحب کی جلالت قدر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام مسلم،امام ترمذی،امام ابو داؤد،بقی بن مخلد اور حافظ ابو زرعہ رازی ایسے اساطین فن آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں ۔آپ کی سنن ،علم حدیث کا شان دار مجموعہ ہے ،جسے تحقیق و تخریج کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے یہ اس کی دوسری جلد ہے۔

  • title-1
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-2
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 300 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں