• title-pages-dawame-hadeesjadeed-audition
    حافظ محمد گوندلوی

    اللہ تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے  انبیاء ورسل کو اس  کائنات میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  اللہ تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ  ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔تو اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷫ وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین)زیر  نظرکتاب ’’دوامِ حدیث‘‘ بھی علمائے اہل حدیث کی  دفاع ِ حدیث کے باب میں سرانجام دی جانے والی  خدمات جلیلہ ہی کا ایک سنہری باب ہے جو  محدث العصر  حافظ  محمد  گوندلوی ﷫  کے تحقیق آفریں  قلم سے رقم کیا گیا ہے۔یہ کتاب  در اصل منکرینِ حدیث وسنت کی ان تحریرات کاجواب  ہے جن کوغلام احمد پرویز نے ’’مقام حدیث‘‘ کے نام سے 1953ء میں شائع کیا تھا۔اس کتاب  کے پہلے حصے میں  ’’مقام حدیث‘‘ کے  تمام مغالطات کا تفصیلی جواب دیا ہے  او ردو سرے  حصے میں ڈاکٹر غلام برق جیلانی   کی انکار حدیث پر مبنی کتاب’’دواسلام‘‘ کا مکمل  جواب تحریر کیا ہے۔ حضرت حافظ محدث گوندلوی نے 1953ءمیں جواب کومکمل کرلیا تھا ۔جو کہ  ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘،ماہنامہ رحیق‘‘اور ترجمان الحدیث ،لاہور میں   قسط وار شائع ہوتا رہا۔ پہلی بار   حافظ شاہد محمود﷾  (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے  اس کتاب  پر  تحقیق وتخریج  کا کام  کر کے کتابی  صورت میں  حسن طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔یہ کتاب  حجیت   حدیث  پر منفرد انداز میں  لکھی  گئی  ایک تحقیقی  کتاب   ہے ۔پانچ  سال  قبل  اس کا طبع اول   دو الگ   جلدوں  میں  شائع ہواتھا  ۔موجودہ  تصحیح شدہ  جدید ایڈیشن میں  دونوں جلدوں کویکجا کردیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محدث گوندلوی  کی   تمام  مساعی  جمیلہ کو  قبول فرمائے اور ان کی مرقد پر  اپنی رحمتوں کانزول فرمائے ،اور  فاضل نوجوان   جید عالمِ دین  حافظ شاہد محمود ﷾ کی علمی وتحقیقی خدمات بھی  انتہائی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان  کےعلم وعمل  اورزورِ قلم میں  برکت فرمائے (آمین)(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-dawaam-e-hadees-jild-2
    حافظ محمد گوندلوی

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔تو اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷫ وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ اہل علم او ررسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر نظرکتاب ''دوامِ حدیث'' بھی علمائے اہل حدیث کی دفاع ِ حدیث کے باب میں سرانجام دی جانے والی خدمات جلیلہ ہی کا ایک سنہری باب ہے جو محدث العصر حافظ محمد گوندلوی ﷫ کے تحقیق آفریں قلم سے رقم کیا گیا ہے۔یہ کتاب در اصل منکرینِ حدیث وسنت کی ان تحریرات کاجواب ہے جن کوغلام احمد پرویز نے ''مقام حدیث'' کے نام سے 1953ء میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے ۔جلد اول میں ''مقام حدیث'' کے تمام مغالطات کا تفصیلی جواب دیا ہے او رجلد دوم میں ڈاکٹر غلام برق جیلانی کی انکار حدیث پر مبنی کتاب''دواسلام'' کا مکمل جواب تحریر کیا ہے۔ حضرت حافظ محدث گوندلوی نے 1953ءمیں جواب کومکمل کرلیا تھا ۔جو کہ ہفت روزہ ''الاعتصام''،ماہنامہ رحیق''اور ترجمان الحدیث ،لاہور میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ پہلی بار حافظ شاہد محمود﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے اس کتاب پر تحقیق وتخریج کا کام کر کے کتابی صورت میں حسن طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ محدث گوندلوی کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کانزول فرمائے ،اور فاضل نوجوان جید عالمِ دین حافظ شاہد محمود ﷾ کی علمی وتحقیقی خدمات بھی انتہائی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل اورزورِ قلم میں برکت فرمائے (آمین)( م۔ا)

     

  • title-pages-dawaam-e-hadees-jild-1
    حافظ محمد گوندلوی

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔تو اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷫ وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ اہل علم او ررسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر نظرکتاب ''دوامِ حدیث'' بھی علمائے اہل حدیث کی دفاع ِ حدیث کے باب میں سرانجام دی جانے والی خدمات جلیلہ ہی کا ایک سنہری باب ہے جو محدث العصر حافظ محمد گوندلوی ﷫ کے تحقیق آفریں قلم سے رقم کیا گیا ہے۔یہ کتاب در اصل منکرینِ حدیث وسنت کی ان تحریرات کاجواب ہے جن کوغلام احمد پرویز نے ''مقام حدیث'' کے نام سے 1953ء میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے ۔جلد اول میں ''مقام حدیث'' کے تمام مغالطات کا تفصیلی جواب دیا ہے او رجلد دوم میں ڈاکٹر غلام برق جیلانی کی انکار حدیث پر مبنی کتاب''دواسلام'' کا مکمل جواب تحریر کیا ہے۔ حضرت حافظ محدث گوندلوی نے 1953ءمیں جواب کومکمل کرلیا تھا ۔جو کہ ہفت روزہ ''الاعتصام''،ماہنامہ رحیق''اور ترجمان الحدیث ،لاہور میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ پہلی بار حافظ شاہد محمود﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے اس کتاب پر تحقیق وتخریج کا کام کر کے کتابی صورت میں حسن طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ محدث گوندلوی کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کانزول فرمائے ،اور فاضل نوجوان جید عالمِ دین حافظ شاہد محمود ﷾ کی علمی وتحقیقی خدمات بھی انتہائی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل اورزورِ قلم میں برکت فرمائے (آمین)( م۔ا)

     

  • pages-from-rubaaiyaat-e-quran-o-hadees
    انجینئر عبد المجید انصاری

    یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس پر ہر دور میں الگ الگ انداز میں کام ہوا ۔تقریبا ڈیڑھ ہزارسال قرآن مجید نازل ہونے کوہیں لیکن قرآن مجیدکے نکتے اور رموزامڈے ہی چلے آرہے ہیں۔نئے سے نئے انداز میں اس پر کام سامنے آرہےہیں اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ زیرنظر کتاب ’’رباعیات قرآن وحدیث‘‘محترم انجینئر عبدالمجید انصاری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے قرآن وحدیث کے ذخیرے میں ان آیات واحادیث کوجمع کردیا ہے جن میں ان چیزوں کابیان ہے کہ جو قرآن وحدیث میں چار چار مرتبہ یا چار کی تعداد کے حوالے مذکور ہیں۔اس قبل مصنف موصوف کی ’’ثلاثیات قرآن وحدیث ‘‘کے نام سے   بھی   کتاب منظر عام پر چکی ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی وہ آیات اور نبی کریم ﷺًکی وہ احادیث جمع کی تھیں جن میں 3؍3 چیزوں کا ذکر ہے۔اللہ تعالی ٰ ان کی تما م مساعی حسنہ کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

  • title-pages-risala-amal-bil-hadith-copy
    ولایت علی صادق پوری

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر تبصرہ کتاب"رسالہ عمل بالحدیث" محترم مولانا ولایت علی صادق پوری صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے حدیث پر عمل کرنے کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-page-rooz-e-ghazab-zawaal-e-israeelambiya-ki-busharataqin
    ڈاکٹر سفرالحالی

    اسرائیل ،امت مسلمہ کے لیے انتہائی خطرناک دشمن کی حیثیت رکھتاہے ۔دنیابھرکے صیہونی اسے اپنامرکزسمجھتےہیں۔انتہاپسندصیہونیوں میں یہودی بھی ہیں اورعیسائی بھی جوبائبل کی نصوص کی بنیادپراسرائیل کوپوری دنیاپرغالب دیکھناچاہتے ہیں ۔لیکن خوداہل کتاب کے مخالف اورحقائق وواقعات واضح طورپراس امرکی نشاندہی کررہے ہیں کہ اسرائیل اب روبہ زوال ہے ۔یہ صورت حال امت مسلمہ کے لیے بہت ہی امیدافزاہے ۔زیرنظرکتاب میں اسی پہلوکواجاگرکیاہے۔اس کے ساتھ ساتھ دشمن کامورال نیچالانے کی بےحدمعقول اورحقیقی وجوہات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے ۔یہاں تک کہ دشمن کے اپنے ہی دینی مصادرسے اس پرشواہدلے کرآتی ہے ۔علاوہ ازیں امت اسلام کےکچھ تاریخی خصائص اوراس کاانبیاء کاوراث ہوناہے ۔بےحدعلمی وتاریخی شواہدسے سامنے لایاگیاہے ۔اس باب میں اہل کتاب کے تناقضات اوران کےبلندبانگ دعووں کابے حقیقت ہوناجووہ اپنی اقوام کوامت خاتم الرسل کےخلاف اس معرکے میں جوش دلانے کے لیے کررہے  ہیں،ان کے سب مزاعم کابے بنیادہونامدلل طورپرواضح کیاگیاہے ،یہاں تک کہ مغرب کے ایک منصف مزاج اہل کتاب کے لیے ان حقائق سے آنکھیں بندرکھنابے حدمشکل ہوجاتاہے۔زیرنظرکتاب میں صیہونیت کے عیسائی عنصرپربھی خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے ۔کتاب کااصل موضوع نصرانی صیہونیوں کی کھڑی کی  ہوئی وہ فکری عمارت گراناہے جواس وقت کے اسلام دشمن ،یہودوہنوددوست مغرب کے ذہنی پس منظرمیں بآہنگ بول رہی ہے

  • title-pages-roza-al-muslim-shrah-muqaddima-al-muslim-copy
    محمد حسین صدیقی

    صحیح مسلم کتب صحاح ستہ میں صحیح بخاری کے بعد شمار کی جاتی ہے ، امام مسلم بن حجاج ﷫نے اس کی احادیث کو انتہائی محنت اور کاوش سے ترتیب دیا ہے حسن ترتیب اور تدوین کی عمدگی کے لحاظ سے یہ صحیح بخاری پر بھی فوقیت رکھتی ہے اور زمانہ تصنیف سے لیکر آج تک اس کو قبولیت عامہ کا شرف حاصل رہا ہے۔ متقدمین میں سے بعض مغاربہ اور محققین نے صحیح مسلم کو بے حد پسند کیا ہے اور ا س کو صحیح بخاری پر بھی ترجیح دی ہے چنانچہ ابو علی حاکم نیشاپوری اور حافظ ابوبکر اسماعیلی صاحب مدخل کا یہی قول ہے اور امام عبد الرحمان نسائی نے کہا کہ امام مسلم کی صحیح امام بخاری کی صحیح سے عمدہ ہے(الشیخ محی الدین ابوذکریا یحیٰی بن شرف النووی المتوفی 676 ھ مقدمہ شرح مسلم ص 13مطبوعہ نور محمد اصح المابع کراچی1375ھ) اور مسلم بن قاسم قرطبی معاصر دارقطنی نے کہا کہ امام مسلم کی صحیح کی مثل کوئی شخص نہیں پیش کرسکتا ، ابن حزم بھی صحیح مسلم کو صحیح بخاری پر ترجیح دیتے تھے۔(حافظ الشہاب الدین ابن حجر عسقلانی المتوفی 852ھ ہدی الساری جلد 1صفحہ 24مطبوعہ مصر)اور خود امام مسلم نے اپنی کتاب کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر محدثین دو سو سال بھی احادیث لکھتے رہیں پھر بھی ان کا مدار اسی کتاب پر ہوگا (شیخ محی الدین ابو ذکریا یحیٰی بن شرف نووی متوفی 676ھ مقدمہ شرح مسلم ص 13 مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی 1375ھ) ۔ اور اب تو دو سو برس چھوڑکر گیارہ سو برس ہونے کو آئے لیکن ان مرد خدا کے قول کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آیا اور شاہ عبد العزیز بیان کرتے ہیں کہ ابو علی زعفرانی کو کسی شخص نے وفات کے بعد خواب میں دیکھا اور ان سے پوچھا کہ تمہاری بخشش کس سبب ہوئی تو انہوں نے صحیح مسلم کے چند اجزا کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ان اجزا ءکے سبب اللہ تعالی نے مجھے بخش دیا ۔(شاہ عبد العزیز محدث دہلوی متوفی 1229 ھ بستان المحدثین ص281مطبوعہ سعید اینڈ کمپنی کراچی) امام مسلم ﷫ نے صحیح مسلم کے شروع میں ایک عظیم الشان مقدمہ قائم کیا ہے جس میں انہوں نے اس کتاب میں احادیث بیان کرنے کے اپنے منہج اور اسلوب کو بیان کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" روضۃ المسلم شرح مقدمۃ المسلم " جامعہ بنوریہ میں حدیث کے استاذ مولانا محمد حسین صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے امام مسلم ﷫ کے مقدمے کی شرح بیان فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • title-pages-rehbar-e-takhrej-e-hadith-copy
    ڈاکٹر اقبال احمد محمد اسحاق بسکوہری

    تخریج سے مراد مصادر اصلیہ کی طرف حدیث کی نسبت اوررہنمائی او ران پر حکم لگانا ہے۔ یعنی کسی محدث کا حدیث کی بنیادی کتابوں کی جانب کسی حدیث کا منسوب کرنا اورعوام کی اس کی طرف رہنمائی کرنا کہ مذکورہ حدیث فلاں کتاب میں ہےفن تخریج کا جاننا ہر طالبِ حدیث کےلیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ سنت رسول کی معرفت کےلیے یہ فن بنیادی کردار ادا کرتا ہے خاص طور سے موجودہ زمانہ میں علوم شریعت سے تعلق رکھنے والے باحثین اور محققین کےلیے اس کی معرفت بے حد ضروری ہے کیونکہ اس فن کی معرفت سے حدیثِ رسول کی معرفت حاصل ہوتی ہے فن حدیث کی بنیادی کتابوں کی معرفت ان کی ترتیب ، طریقۂ تصنیف اور ان سے استفادہ کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے اسی طرح فنون حدیث کے دیگر علوم کی معرفت حاصل ہوتی ہے جن کی ضرورت تخریج حدیث میں پڑتی ہے۔ مثلاً اسماء الرجال، جرح وتعدیل ،علل حدیث وغیرہ۔نیز اس علم کی معرفت سے بڑی آسانی سے حدیث رسول کی معرفت ہوجاتی ہے اور یہ پتہ چل جاتا ہے کہ مطلوبہ روایت کتب حدیث میں سے کن کتابوں میں کہاں پائی جاتی ہے ۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ رہبر تخریج حدیث‘‘ انڈیا کے اسلامی اسکالر ڈاکٹر اقبال احمد محمد اسحاق بسکوہری ﷾(صدر شعبہ حدیث ،جامعہ محمد منصورہ مالیگاؤں) کی کاوش ہے جو کہ علم حدیث کےایک اہم گوشہ فنِ تخریج سے متعلق ہے ۔اردو زبان میں اس فن کی یہ پہلی کی کتاب ہے ۔مؤلف نے اس کتاب میں بڑے اچھے انداز میں اورآسان اسلوب میں حدیث تخریج کرنے کاطریقہ بتایا ہے۔فن حدیث کی کتابوں کی کتنی قسمیں ہیں ہر قسم کی تعریف او ران میں سے مشہور کتابوں کا تذکرہ وتعارف اور طریقہ تخریج واضح کردیا ہے۔ کس قسم کےلیے کون سا قائدہ استعمال کیاجاسکتاہے بڑی دقت اورمہارت سے سمجھا دیا ہے۔فن حدیث اور دیگرفنون کی کتابوں سے حدیث کیسے تلاش کی جاسکتی ہے اوراس پر حکم کیسے لگایا جاسکتاہے۔ اس کتاب سے بہت آسانی سے معلوم کی جاسکتا ہے ۔اس کتاب کو ترتیب دینے میں کتاب ’’ تحفۃ التخریج الی ادلۃ التخریج‘‘ کوبنیاد بنایا گیا ہے۔اورانہی اصولوں ، ابواب اورمعلومات کو ذکر کیا گیا ہے جو اس میں موجود ہیں ۔ مصنف موصوف نے کتا ب کوعام فہم مختصر او رمفید بنانے کی حتیٰ الامکان کو شش کی ہے۔یہ کتاب مقدمہ کےعلاوہ تین ابواب پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ خدمتِ حدیث کےسلسلے میں ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-riaz-al-saliheen--sadiq-khalil--1-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کی ایسی عظیم الشان تالیف ہے کئی صدیوں سے یہ مجموعہ حدیث سے امت مسلمہ میں مقبول ہے ۔اس میں عام آدمی کودرپیش تمام مسائل کا حل قرآن کریم کی آیات اور منتخب صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی مہیا فرمائی گئی ہے اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام حاصل کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے۔ ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سےعربی زبان میں اس کی متعدد شروح لکھی گئی ہیں اور اردو زبان میں بھی اس کے متعدد تراجم کئے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ر یاض الصالحین ‘‘وطن عزیز کے معروف عالم دین استاذ الاساتذہ مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫(سابق استاد جامعہ لاہور اسلامیہ ،لاہور ) کے ترجمہ وحواشی پر مشتمل ہے ۔ مولانا صادق خلیل ﷫نے یہ ترجمہ تقریبا چالیس سال قبل اس وقت کیا کہ جب آپ جامعہ تدریس القرآن والحدیث ،راولپنڈی میں بطور شیخ الحدیث خدمات انجام دے رہے تھے ۔موصوف نے ریاض الصالحین کا مفید ترجمہ وحواشی تحریر کرنے کے علاوہ ایک علمی مقدمہ بھی لکھا جو کتاب ہذامیں شامل اشاعت ہے ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی خدمت حدیث کی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-riaz-al-saliheen--sadiq-khalil--2-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کی ایسی عظیم الشان تالیف ہے کئی صدیوں سے یہ مجموعہ حدیث سے امت مسلمہ میں مقبول ہے ۔اس میں عام آدمی کودرپیش تمام مسائل کا حل قرآن کریم کی آیات اور منتخب صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی مہیا فرمائی گئی ہے اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام حاصل کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے۔ ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سےعربی زبان میں اس کی متعدد شروح لکھی گئی ہیں اور اردو زبان میں بھی اس کے متعدد تراجم کئے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ر یاض الصالحین ‘‘وطن عزیز کے معروف عالم دین استاذ الاساتذہ مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫(سابق استاد جامعہ لاہور اسلامیہ ،لاہور ) کے ترجمہ وحواشی پر مشتمل ہے ۔ مولانا صادق خلیل ﷫نے یہ ترجمہ تقریبا چالیس سال قبل اس وقت کیا کہ جب آپ جامعہ تدریس القرآن والحدیث ،راولپنڈی میں بطور شیخ الحدیث خدمات انجام دے رہے تھے ۔موصوف نے ریاض الصالحین کا مفید ترجمہ وحواشی تحریر کرنے کے علاوہ ایک علمی مقدمہ بھی لکھا جو کتاب ہذامیں شامل اشاعت ہے ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی خدمت حدیث کی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-riaz-al-saliheen--urdu--1-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کی ایسی عظیم الشان تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔اس میں عام آدمی کودرپیش تمام مسائل کا حل قرآن کریم کی آیات اور منتخب صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سےعربی زبان میں اس کی متعدد شروع لکھی گئی ہیں اور اردو زبان میں بھی اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ان میں سے زیر تبصرہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین ﷾ کا ترجمہ بمع مختصر فوائد انتہائی اہم ہے۔ یہ اردو ترجمہ نہایت آسان ، دلکش اور عام فہم ہے ۔ہر حدیث کا ٹھیک ٹھیک مفہوم اجاگر کرنے کےلیے اس کی جامع شرح بھی لکھی گئی ہے۔اس عظیم کتاب کےزیر نظر جدید ایڈیشن میں احادیث کے فوائد میں مزید اضافے ،تخریج وتحقیق اورراویوں کےمختصر حالات زندگی بھی درج ہیں جس سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔یہ کتاب احادیث نبویہ پرمشتمل بیش قیمت خوبصور ت تحفہ ہے۔ علمائے کرام خطباء اور واعظوں کے ساتھ ساتھ طالبانِ حدیث نبوی اور عام قارئین اس سے مستفیدہوکر ہر قدم پر رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کو اس قدر عمدگی سے تیار کرنے والوں او رناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-riaz-al-saliheen--urdu--2-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کی ایسی عظیم الشان تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔اس میں عام آدمی کودرپیش تمام مسائل کا حل قرآن کریم کی آیات اور منتخب صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سےعربی زبان میں اس کی متعدد شروع لکھی گئی ہیں اور اردو زبان میں بھی اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ان میں سے زیر تبصرہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین ﷾ کا ترجمہ بمع مختصر فوائد انتہائی اہم ہے۔ یہ اردو ترجمہ نہایت آسان ، دلکش اور عام فہم ہے ۔ہر حدیث کا ٹھیک ٹھیک مفہوم اجاگر کرنے کےلیے اس کی جامع شرح بھی لکھی گئی ہے۔اس عظیم کتاب کےزیر نظر جدید ایڈیشن میں احادیث کے فوائد میں مزید اضافے ،تخریج وتحقیق اورراویوں کےمختصر حالات زندگی بھی درج ہیں جس سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔یہ کتاب احادیث نبویہ پرمشتمل بیش قیمت خوبصور ت تحفہ ہے۔ علمائے کرام خطباء اور واعظوں کے ساتھ ساتھ طالبانِ حدیث نبوی اور عام قارئین اس سے مستفیدہوکر ہر قدم پر رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کو اس قدر عمدگی سے تیار کرنے والوں او رناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • untitled-1
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام نووی ؒ کی ایسی تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔ عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی  مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

    اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سے اردو میں اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ لیکن عوام ان سے پوری طرح فیض یاب نہیں ہو سکتے کیوں کہ محدود علم اور غور و فہم کی کم استعداد  کی بناء پر بہت سے مقامات ان کے لئے الجھن کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا اس عظیم الشان کتاب میں ترجمے کے ساتھ مختصر تشریح اور فوائد کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ ایک تو حدیث کا صحیح مفہوم واضح ہو جائے۔ دوسرے، پیدا ہو سکنے والے اشکالات کا ازالہ ہو جائے اور تیسرے حدیث سے جو اسباق اور فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ نمایاں اور اجاگر ہو کر سامنے آجائیں۔ چنانچہ ہر حدیث کے بعد فوائد کا اس میں اضافہ ہے اور اسی طرح بہت سے مقامات پر فوائد آیات بھی۔ دوسری امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں تخریج کے عنوان سے ہر حدیث کا مکمل حوالہ نقل کر دیا گیا ہے۔

    اس کتاب کی اکثر احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ہیں، اس لیے صحت کے اعتبار سے وہ مستند ترین ہیں۔ تاہم کچھ روایات سنن اربعہ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) اور کچھ مؤطا امام مالک ، مستدرک حاکم اور بیہقی وغیرہ کی بھی ہیں۔ ان میں بعض روایات سنداً ضیف ہیں ۔ اس کتاب میں ایسی روایات کے ضعف کو واضح کر دیا گیا ہے۔ ضعف کے علل و اسباب تو بیان نہیں کئے گئے ہیں تاہم اس کا حکم بیان کر دیا گیا ہے اور اس میں زیادہ تر اعتماد شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر کیا گیا ہے۔

  • Title Page---Riaz us Saliheen Jild 1
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام نووی ؒ کی ایسی تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔ عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی  مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

    اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سے اردو میں اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ لیکن عوام ان سے پوری طرح فیض یاب نہیں ہو سکتے کیوں کہ محدود علم اور غور و فہم کی کم استعداد  کی بناء پر بہت سے مقامات ان کے لئے الجھن کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا اس عظیم الشان کتاب میں ترجمے کے ساتھ مختصر تشریح اور فوائد کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ ایک تو حدیث کا صحیح مفہوم واضح ہو جائے۔ دوسرے، پیدا ہو سکنے والے اشکالات کا ازالہ ہو جائے اور تیسرے حدیث سے جو اسباق اور فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ نمایاں اور اجاگر ہو کر سامنے آجائیں۔ چنانچہ ہر حدیث کے بعد فوائد کا اس میں اضافہ ہے اور اسی طرح بہت سے مقامات پر فوائد آیات بھی۔ دوسری امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں تخریج کے عنوان سے ہر حدیث کا مکمل حوالہ نقل کر دیا گیا ہے۔

    اس کتاب کی اکثر احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ہیں، اس لیے صحت کے اعتبار سے وہ مستند ترین ہیں۔ تاہم کچھ روایات سنن اربعہ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) اور کچھ مؤطا امام مالک ، مستدرک حاکم اور بیہقی وغیرہ کی بھی ہیں۔ ان میں بعض روایات سنداً ضیف ہیں ۔ اس کتاب میں ایسی روایات کے ضعف کو واضح کر دیا گیا ہے۔ ضعف کے علل و اسباب تو بیان نہیں کئے گئے ہیں تاہم اس کا حکم بیان کر دیا گیا ہے اور اس میں زیادہ تر اعتماد شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر کیا گیا ہے۔

  • title-pages-subul-ussalam-1-copy
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-subul-ussalam-2-copy
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-subul-ussalam-3-copy
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-subul-ussalam-4-copy
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-safar-e-madina-ki-saheh-niyat
    فضل الرحمان بن محمدالازہری
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ  صفات کومرکز محبت قراردینامسلمانوں کابنیادی فرض ہے اوردنیوی واخروی کامرانیوں کادارومداراسی پرہے۔لیکن اس باب میں یہ نازک نکتہ پیش نظررکھناازحدضروری ہے کہ رسول معظم صلی  اللہ علیہ وسلم سے اظہارمحبت کاوہی طریق قابل قبول ہے جس پرخودحضورختمی المرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی سہرشت ہو۔بعض لوگ محبت وعشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے کی آڑمیں ضعیف وموضوع روایات سے استدلال کرتے ہوئے اس بات کے داعی ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرانورکی زیارت کے لیے باقاعدہ نیت کرکے سفرکرناشرعی تقاضااورباعث اجروثواب ہے ۔لیکن یہ نقطہ نظرحدیث صحیح کے برخلاف ہے ۔چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کی تردیدکی ہے ۔اس سلسلہ میں قاضی السبکی نے ’شفاء السقام ‘نامی کتاب لکھ کرعلامہ ابن تیمیہ کی تردیدکرنے کی سعی کی ہے۔قاضی صاحب کی اس کتاب کاجواب علامہ کے شاگردابن عبدالہادی نے ’’الصارم المنکی‘‘کے نام سے دیاتھاجس کاجواب قاضی صاحب نہ دے سکے ۔اب بعض لوگوں نے قاضی صاحب کی کتاب کااردوترجمہ کرکے لوگوں کومغالطہ دینے کی کوشش کی ہے ۔زیرنظرکتاب ’سفرمدینہ کی صحیح نیت ‘قاضی صاحب کی کتاب کامفصل ،علمی وتحقیقی اورمحدثانہ جواب ہے جس سے تمام شبہات کاازالہ ہوتاہے۔


  • title-page-saqoot-kabul-0-baghdad
    سیف اللہ خالد
    حدیث نبوی ہے کہ عنقریب تم پرہرطرف سے قومیں ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھاناکھانے والے دسترخواں پرٹوٹ پڑتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کی تعدادکم نہیں ہوگی لیکن ان کاعالم یہ ہوگاکہ سمندرکی جھاگ کی طرح ہوں گے ۔مسلمانوں کارعب دشمنوں کے دل سے نکل جائے گا۔اوران کےدلوںمیں وہن یعنی زندگی سے محبت اورموت سے نفرت پیداہوجائے گی ۔سقوط کابل وبغدادرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی پیش گوئی کی منہ بولتی تصویرہے ۔ڈیڑھ ارب مسلم آبادی کی موجودگی میں دومسلم ریاستوں کوکفرکی اتحادی افواج نے جس طرح تہس نہس کیاہے ،یہ محض مسلمانوں کی ایمانی کمزوری کانتیجہ ہے ۔زیرنظرکتاب افغان اورعراق جنگ کے دوران شائع ہونے والے ان مضامین کامجموعہ ہے جن میں کفرکی یلغارکے نتیجہ میں امت مسلمہ کے عروج وزوال کی داستان کتاب وسنت کاتاریخ اورحالات حاضرہ سے دلائل کے ساتھ بیان کی گئی ہے اورساتھ یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی مددکب کرتاہے اورکب مسلمان اللہ کی مددسے محروم ہوتے ہیں۔



  • untitled-1
    ناصر الدین البانی

    اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم میں سے بہت سے ایسے صاحب عقل و دانش پیدا کیے ہیں جن کا ذکر خیر مشک و عنبر سے زیادہ قیمتی ہے ۔ انہی باہمت ہستیوں میں سے ایک نام علامہ ناصر الدین البانی کا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی شجر حدیث کی آبیاری کے لیے وقف کیے رکھی۔ شیخ موصوف کے علمی کارناموں کی طویل فہرست میں سب سے نمایاں کارنامہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذخیرہ میں غوطہ زن ہو کر ان کو صحت و ضعف کے اعتبار سے تقسیم کرنا ہے۔ شیخ موصوف نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نہایت وقیع کام کرتے ہوئے کھوٹے اور کھرے کو الگ الگ کیا۔ اس وقت آپ کے سامنے ’سلسلہ احادیث صحیحہ‘ کے نام سے احادیث کا ایسا مجموعہ ہے جس کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے اور فوائد کا تذکرہ کرنے کا فریضہ استاذ الحدیث عبدالمنان راسخ اور ابو میمون محفوظ احمد اعوان نے انجام دیا ہے۔ اس اردو ترجمہ کی خاصیت یہ بھی ہے کہ تمام احادیث کو متعدد ابواب کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتاب کے حوالے سے یہ بات ذہن نشین رہے کہ شیخ البانی معصوم عن الخطاء نہیں تھے آپ کے بعض تفردات پر اہل علم نے نقد کیا ہے۔

     

  • untitled-1
    ناصر الدین البانی

    اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم میں سے بہت سے ایسے صاحب عقل و دانش پیدا کیے ہیں جن کا ذکر خیر مشک و عنبر سے زیادہ قیمتی ہے ۔ انہی باہمت ہستیوں میں سے ایک نام علامہ ناصر الدین البانی کا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی شجر حدیث کی آبیاری کے لیے وقف کیے رکھی۔ شیخ موصوف کے علمی کارناموں کی طویل فہرست میں سب سے نمایاں کارنامہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذخیرہ میں غوطہ زن ہو کر ان کو صحت و ضعف کے اعتبار سے تقسیم کرنا ہے۔ شیخ موصوف نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نہایت وقیع کام کرتے ہوئے کھوٹے اور کھرے کو الگ الگ کیا۔ اس وقت آپ کے سامنے ’سلسلہ احادیث صحیحہ‘ کے نام سے احادیث کا ایسا مجموعہ ہے جس کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے اور فوائد کا تذکرہ کرنے کا فریضہ استاذ الحدیث عبدالمنان راسخ اور ابو میمون محفوظ احمد اعوان نے انجام دیا ہے۔ اس اردو ترجمہ کی خاصیت یہ بھی ہے کہ تمام احادیث کو متعدد ابواب کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتاب کے حوالے سے یہ بات ذہن نشین رہے کہ شیخ البانی معصوم عن الخطاء نہیں تھے آپ کے بعض تفردات پر اہل علم نے نقد کیا ہے۔

     

  • title-pages-silsila-ahadees-e-sahiha-1
    ناصر الدین البانی

    خدمت حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی  کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی  نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔زیر نظر کتاب سلسلة احاديث الصحيحة شیخ کی عظیم الشان تصانیف میں سے ہے جس میں شیخ نے عوام الناس کے فائدے کےلیے مختلف ابواب ،فصول،مسائل اور فوائد سےمتعلقہ صحیح احادیث کو جمع کردیا ہے ۔شیخ نے اس کتاب میں تبویب بندی اور کسی خاص ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا بلکہ تخریج وتحقیق کے اصول وقواعد کے مطابق جیسے جیسے احادیثِ صحیحہ میسر آتی گئیں انہیں کتاب میں قلم بند کرتے رہے۔اور مختصراً متونِ احادیث ،اسانید طرق اور رواۃ پر بھی بحث کرتے ہوئے فقہی فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے اور بعض مقامات پر کسی خاص موضوع پر طویل ابحاث بھی پیش کی ہیں ۔ فضیلۃ الشیخ ابو میمون محمد محفوظ اعوان ﷾ نے سلسلہ احادیث الصحیحہ کا ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کتاب کی فقہی ترتیب،کتاب بندی،باب بندی اور تخریج وغیرہ کا کام بھی سر انجام دیا ۔ انصار السنہ پبلی کیشنز،لاہور نے اسے 6جلدوں میں شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی شیخ البانی اس کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے والے تمام احبا ب کی جہود کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں می کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-silsila-ahadees-e-sahiha-1
    ناصر الدین البانی

    خدمت حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی  کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی  نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔زیر نظر کتاب سلسلة احاديث الصحيحة شیخ کی عظیم الشان تصانیف میں سے ہے جس میں شیخ نے عوام الناس کے فائدے کےلیے مختلف ابواب ،فصول،مسائل اور فوائد سےمتعلقہ صحیح احادیث کو جمع کردیا ہے ۔شیخ نے اس کتاب میں تبویب بندی اور کسی خاص ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا بلکہ تخریج وتحقیق کے اصول وقواعد کے مطابق جیسے جیسے احادیثِ صحیحہ میسر آتی گئیں انہیں کتاب میں قلم بند کرتے رہے۔اور مختصراً متونِ احادیث ،اسانید طرق اور رواۃ پر بھی بحث کرتے ہوئے فقہی فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے اور بعض مقامات پر کسی خاص موضوع پر طویل ابحاث بھی پیش کی ہیں ۔ فضیلۃ الشیخ ابو میمون محمد محفوظ اعوان ﷾ نے سلسلہ احادیث الصحیحہ کا ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کتاب کی فقہی ترتیب،کتاب بندی،باب بندی اور تخریج وغیرہ کا کام بھی سر انجام دیا ۔ انصار السنہ پبلی کیشنز،لاہور نے اسے 6جلدوں میں شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی شیخ البانی اس کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے والے تمام احبا ب کی جہود کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں می کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-silsila-ahadees-e-sahiha-1
    ناصر الدین البانی

    خدمت حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی  کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی  نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔زیر نظر کتاب سلسلة احاديث الصحيحة شیخ کی عظیم الشان تصانیف میں سے ہے جس میں شیخ نے عوام الناس کے فائدے کےلیے مختلف ابواب ،فصول،مسائل اور فوائد سےمتعلقہ صحیح احادیث کو جمع کردیا ہے ۔شیخ نے اس کتاب میں تبویب بندی اور کسی خاص ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا بلکہ تخریج وتحقیق کے اصول وقواعد کے مطابق جیسے جیسے احادیثِ صحیحہ میسر آتی گئیں انہیں کتاب میں قلم بند کرتے رہے۔اور مختصراً متونِ احادیث ،اسانید طرق اور رواۃ پر بھی بحث کرتے ہوئے فقہی فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے اور بعض مقامات پر کسی خاص موضوع پر طویل ابحاث بھی پیش کی ہیں ۔ فضیلۃ الشیخ ابو میمون محمد محفوظ اعوان ﷾ نے سلسلہ احادیث الصحیحہ کا ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کتاب کی فقہی ترتیب،کتاب بندی،باب بندی اور تخریج وغیرہ کا کام بھی سر انجام دیا ۔ انصار السنہ پبلی کیشنز،لاہور نے اسے 6جلدوں میں شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی شیخ البانی اس کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے والے تمام احبا ب کی جہود کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں می کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-silsila-ahadees-e-sahiha-1
    ناصر الدین البانی

    خدمت حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی  کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی  نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔زیر نظر کتاب سلسلة احاديث الصحيحة شیخ کی عظیم الشان تصانیف میں سے ہے جس میں شیخ نے عوام الناس کے فائدے کےلیے مختلف ابواب ،فصول،مسائل اور فوائد سےمتعلقہ صحیح احادیث کو جمع کردیا ہے ۔شیخ نے اس کتاب میں تبویب بندی اور کسی خاص ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا بلکہ تخریج وتحقیق کے اصول وقواعد کے مطابق جیسے جیسے احادیثِ صحیحہ میسر آتی گئیں انہیں کتاب میں قلم بند کرتے رہے۔اور مختصراً متونِ احادیث ،اسانید طرق اور رواۃ پر بھی بحث کرتے ہوئے فقہی فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے اور بعض مقامات پر کسی خاص موضوع پر طویل ابحاث بھی پیش کی ہیں ۔ فضیلۃ الشیخ ابو میمون محمد محفوظ اعوان ﷾ نے سلسلہ احادیث الصحیحہ کا ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کتاب کی فقہی ترتیب،کتاب بندی،باب بندی اور تخریج وغیرہ کا کام بھی سر انجام دیا ۔ انصار السنہ پبلی کیشنز،لاہور نے اسے 6جلدوں میں شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی شیخ البانی اس کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے والے تمام احبا ب کی جہود کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں می کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-silsila-ahadees-e-sahiha-1
    ناصر الدین البانی

    خدمت حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی  کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی  نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔زیر نظر کتاب سلسلة احاديث الصحيحة شیخ کی عظیم الشان تصانیف میں سے ہے جس میں شیخ نے عوام الناس کے فائدے کےلیے مختلف ابواب ،فصول،مسائل اور فوائد سےمتعلقہ صحیح احادیث کو جمع کردیا ہے ۔شیخ نے اس کتاب میں تبویب بندی اور کسی خاص ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا بلکہ تخریج وتحقیق کے اصول وقواعد کے مطابق جیسے جیسے احادیثِ صحیحہ میسر آتی گئیں انہیں کتاب میں قلم بند کرتے رہے۔اور مختصراً متونِ احادیث ،اسانید طرق اور رواۃ پر بھی بحث کرتے ہوئے فقہی فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے اور بعض مقامات پر کسی خاص موضوع پر طویل ابحاث بھی پیش کی ہیں ۔ فضیلۃ الشیخ ابو میمون محمد محفوظ اعوان ﷾ نے سلسلہ احادیث الصحیحہ کا ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کتاب کی فقہی ترتیب،کتاب بندی،باب بندی اور تخریج وغیرہ کا کام بھی سر انجام دیا ۔ انصار السنہ پبلی کیشنز،لاہور نے اسے 6جلدوں میں شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی شیخ البانی اس کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے والے تمام احبا ب کی جہود کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں می کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-silsila-ahadees-e-sahiha-1
    ناصر الدین البانی

    خدمت حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی  کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی  نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔زیر نظر کتاب سلسلة احاديث الصحيحة شیخ کی عظیم الشان تصانیف میں سے ہے جس میں شیخ نے عوام الناس کے فائدے کےلیے مختلف ابواب ،فصول،مسائل اور فوائد سےمتعلقہ صحیح احادیث کو جمع کردیا ہے ۔شیخ نے اس کتاب میں تبویب بندی اور کسی خاص ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا بلکہ تخریج وتحقیق کے اصول وقواعد کے مطابق جیسے جیسے احادیثِ صحیحہ میسر آتی گئیں انہیں کتاب میں قلم بند کرتے رہے۔اور مختصراً متونِ احادیث ،اسانید طرق اور رواۃ پر بھی بحث کرتے ہوئے فقہی فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے اور بعض مقامات پر کسی خاص موضوع پر طویل ابحاث بھی پیش کی ہیں ۔ فضیلۃ الشیخ ابو میمون محمد محفوظ اعوان ﷾ نے سلسلہ احادیث الصحیحہ کا ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کتاب کی فقہی ترتیب،کتاب بندی،باب بندی اور تخریج وغیرہ کا کام بھی سر انجام دیا ۔ انصار السنہ پبلی کیشنز،لاہور نے اسے 6جلدوں میں شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی شیخ البانی اس کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے والے تمام احبا ب کی جہود کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں می کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • untitled-1
    ناصر الدین البانی

    اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم میں سے بہت سے ایسے صاحب عقل و دانش پیدا کیے ہیں جن کا ذکر خیر مشک و عنبر سے زیادہ قیمتی ہے ۔ انہی باہمت ہستیوں میں سے ایک نام علامہ ناصر الدین البانی کا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی شجر حدیث کی آبیاری کے لیے وقف کیے رکھی۔ شیخ موصوف کے علمی کارناموں کی طویل فہرست میں سب سے نمایاں کارنامہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذخیرہ میں غوطہ زن ہو کر ان کو صحت و ضعف کے اعتبار سے تقسیم کرنا ہے۔ شیخ موصوف نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نہایت وقیع کام کرتے ہوئے کھوٹے اور کھرے کو الگ الگ کیا۔ اس وقت آپ کے سامنے ’سلسلہ احادیث صحیحہ‘ کے نام سے احادیث کا ایسا مجموعہ ہے جس کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے اور فوائد کا تذکرہ کرنے کا فریضہ استاذ الحدیث عبدالمنان راسخ اور ابو میمون محفوظ احمد اعوان نے انجام دیا ہے۔ اس اردو ترجمہ کی خاصیت یہ بھی ہے کہ تمام احادیث کو متعدد ابواب کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ کتاب کے حوالے سے یہ بات ذہن نشین رہے کہ شیخ البانی معصوم عن الخطاء نہیں تھے آپ کے بعض تفردات پر اہل علم نے نقد کیا ہے۔

     

  • title-pages-sunnat-e-rasool--saww--aur-quran-copy
    عبد اللہ بن زید المحمود

    سنت مراد الٰہی تک پہنچنے کا اولین ماخذ ہے اور سنت کی موافقت کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے بنیادی شرط ہے ۔اگر سنت کو ترک کردیاجائے تو نہ قرآن کی تفہیم ممکن ہے اور نہ ہی کسی عمل کی قبولیت ۔اسی وجہ سے کتاب اللہ میں جابجا اتباع سنت کی ترغیب دکھائی دیتی ہے ۔ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی اور فہم قرآن سے دوری ہے ۔سنت رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم کا دعو یٰ نادانی ہے ۔قرآن کریم اور سنت رسول میں کوئی غیریت نہیں بلکہ اصل میں یہ دونوں ایک ہیں قرآن حکیم کتاب ہے تو سنت اس کی تفسیر قرآن حکیم اجمال ہے تو سنت اس کی تفصیل ہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’سنت رسول ﷺ اور قرآن دونو ں ایک ہی چیز ہیں ‘‘ شیخ عبد اللہ بن زید المحمود کا تحریر شدہ عربی رسالہ ’’سنۃ الرسول شقیقۃ القرآن‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔جس میں شیخ موصوف نے سنت اور حدیث کی دین میں حیثیت پر مدلل اور مفصل بحث کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ’’قرآن اور سنت اصل میں دونوں ایک ہیں۔ یعنی سنت کا انکار قرآن کریم کا انکار ہے ۔یہ مختصر رسالہ اپنے موضوع میں علمی اور مفید ہے ۔اس رسالے کی افادیت کے پیش نظر مولانا مختار احمد ندوی ﷫ نے اسے اردو قالب میں ڈھالا اور دار الکتب السلفیہ ،لاہور نے اسے افادۂ عام کے لیے شائع کیا ۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 300 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں