• untitled-1
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی
    امام ترمذی کی جامع ترمذی کو جو مقام ملا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ جامع ترمذی کو بہت سے محاسن کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ جرح و تعدیل کا بیان، معمول بہا اورمتروکہ روایات کی وضاحت اور قبول و تاویل میں اختلاف اور علما کی تشریحات ایسی خصوصیات ہیں جو صرف جامع ترمذی سے مخصوص ہیں۔ جامع ترمذی کی اسی اہمیت کے پیش نظر متقدمین اور متاخرین نے اس کی بہت سی شروحات لکھی ہیں۔ اس وقت آپ کےسامنے اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہےجو کہ علامہ بدیع الزمان نے کیا ہے۔ انہوں نے بعض احادیث کے تحت تشریحی نوٹ لکھ کر اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ احادیث کے اردو تراجم والی کتب میں یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ احادیث کی نمبرنگ کا خاص اہتمام نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کوئی حدیث تلاش کرنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ اس کتاب کی بھی یہی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ احادیث کی تحقیق پیش کر دی جاتی تو کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • untitled-1
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی
    امام ترمذی کی جامع ترمذی کو جو مقام ملا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ جامع ترمذی کو بہت سے محاسن کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ جرح و تعدیل کا بیان، معمول بہا اورمتروکہ روایات کی وضاحت اور قبول و تاویل میں اختلاف اور علما کی تشریحات ایسی خصوصیات ہیں جو صرف جامع ترمذی سے مخصوص ہیں۔ جامع ترمذی کی اسی اہمیت کے پیش نظر متقدمین اور متاخرین نے اس کی بہت سی شروحات لکھی ہیں۔ اس وقت آپ کےسامنے اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہےجو کہ علامہ بدیع الزمان نے کیا ہے۔ انہوں نے بعض احادیث کے تحت تشریحی نوٹ لکھ کر اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ احادیث کے اردو تراجم والی کتب میں یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ احادیث کی نمبرنگ کا خاص اہتمام نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کوئی حدیث تلاش کرنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ اس کتاب کی بھی یہی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ احادیث کی تحقیق پیش کر دی جاتی تو کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-jamia-tirmazi-1-copy
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

    جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں ترجمہ کی تسہیل اور فوائد میں مذکورہ آیات کی تخریج کا کا م مولانا حافظ خالد سلفی (فاضل جامعہ رحمانیہ گارڈن ٹاؤن ،لاہور ) نےانجام دیاہے۔ جوکہ دیگر نسخوں میں نہیں ہے اسی امتیاز کی وجہ سے اس مترجم نسخہ کو بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ خالد اورناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-jamia-tirmazi-2-copy
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

    جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں ترجمہ کی تسہیل اور فوائد میں مذکورہ آیات کی تخریج کا کا م مولانا حافظ خالد سلفی (فاضل جامعہ رحمانیہ گارڈن ٹاؤن ،لاہور ) نےانجام دیاہے۔ جوکہ دیگر نسخوں میں نہیں ہے اسی امتیاز کی وجہ سے اس مترجم نسخہ کو بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ خالد اورناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-jamia-tirmazi-mutarjam--tehqiq-w-takhreej-shuda-audition--1-copy
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

    جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں حدیث کی ترقیم علامہ فواد عبد الباقی اورعلامہ ناصر الدین البانی﷫ کا حکم صحت وضعف حدیث بھی اس میں شامل ہے ۔نیز جامع ترمذی کے تحقیق وتخریج شدہ اس جدید ایڈیشن کی تسہیل وتہذیب محترم جناب حافظ محمد انور زاہد نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اگر چہ ویب سائٹ پر جامع ترمذہ کا ترجمہ موجود ہے لیکن یہ ایڈیشن چونکہ تحقیق وتخریج شدہ ہے اس لیے اسے بھی اسے ویب سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)( م۔ا)

  • title-pages-jamia-tirmazi-mutarjam--tehqiq-w-takhreej-shuda-audition--2-copy
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

    جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں حدیث کی ترقیم علامہ فواد عبد الباقی اورعلامہ ناصر الدین البانی﷫ کا حکم صحت وضعف حدیث بھی اس میں شامل ہے ۔نیز جامع ترمذی کے تحقیق وتخریج شدہ اس جدید ایڈیشن کی تسہیل وتہذیب محترم جناب حافظ محمد انور زاہد نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اگر چہ ویب سائٹ پر جامع ترمذہ کا ترجمہ موجود ہے لیکن یہ ایڈیشن چونکہ تحقیق وتخریج شدہ ہے اس لیے اسے بھی اسے ویب سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)( م۔ا)

     

  • title-pages-jarah-w-tadeel-copy
    ڈاکٹر اقبال احمد محمد اسحاق بسکوہری

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں  زیر نظر کتاب ’’ جرح وتعدیل ‘‘انڈیا کے  اسلامی اسکالر  ڈاکٹر اقبال  احمد محمد اسحاق بسکوہری ﷾(صدر شعبہ حدیث ،جامعہ محمد منصورہ مالیگاؤں) کی تصنیف ہے۔جرح وتعدیل کے کےموضو ع اردو زبان میں ایک اہم کتاب ہے اور  طالبانِ علوم نبوت کے لیےگراں قد ر  تحفہ ہے  فاضل مصنف  نے اس  کتا ب میں  اسناد ،طبقات رجال ، قواعد جرح وتعدیل ،ائمہ جرح وتعدیل،کتب جرح وتعدیل کے بارے   فن  اصول حدیث ،جرح وتعدیل، اسماء الرجال، کے بنیادی  جدید وقدیم  مصادر ومراجع  سےمواد  تفصیلاً جمع کردیا ہے  جوکہ فن حدیث پر محققانہ اور نادر علمی دستاویز ہے۔اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کےسلسلے میں ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-jamat-e-islami-ka-nazria-hadith-aik-tanqedi-jaiza-copy
    محمد اسماعیل سلفی

    اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی  علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان  دونوں ماخذوں میں سے کسی  ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض قاصد  کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث، تنقیدی جائزہ"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب ﷫کی مایہ ناز تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مولانا ابو الاعلی مودودی صاحب﷫ اور ان کی قائم کردہ جماعت اسلام کا نظریہ حدیث بیان کیا ہے۔اللہ تعالی دفاع سنت نبوی کے سلسلے میں کی جانے والی ان کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • jannat-bula-rahi-hai
    حافظ فیض اللہ ناصر

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا   آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے   اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیےحور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر نظر کتاب ’’ جنت بلار ہی ہے ‘‘فاضل نوجوان حافظ فیض اللہ ناصر﷾ (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے صحیح اور مستند احادیث سےماخوذ ایسے ہی اعمال کوجمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو بہت مختصربھی ہیں اور بیش بہااجر وثواب کےموجب بھی۔ان چھوٹے چھوٹےاعمال پر عمل پیر ہوکر مسلمان   جنت کےوارث بن سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی تقریبا نصف درجن کتب کےمترجم ومرتب ہیں۔تصنیف وتالیف وترجمہ کے میدان میں موصوف کی حسنِ کارکردگی کے اعتراف   میں ان کی مادر علمی جامعہ لاہورالاسلامیہ،لاہور نے2014ء کے آغاز میں انہیں اعزازی شیلڈ وسند سے نوازاہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے۔آمین  (م۔ا)

  • copy-of-title-pages-jang-e-azeem-awwul-2
    سید فضل اللہ بخاری
    بیسویں صدی کے آغاز میں ایک ایسی عظیم جنگ رو بہ عمل آئی کہ روئے زمین پر ظلم اور خون آشامی کی الم ناک داستانیں رقم ہوئیں۔ اس سے قبل انسانی ادراک و تخیل اس قدر قتل و غارت گری، خونریزی اور درندگی سے آشنا نہ تھا۔ چشم متحیر نے 1914ء سے 1918ء تک انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کے تباہی کے ایسے مناظر دیکھے جن کے وقوع کے بعد انسان درندگی اور شیطنت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ زیر نظر کتاب اسی خون آشام داستان کو سپرد قلم کیا گیا ہے۔ جس میں کوشش کی گئی ہے کہ جنگ عظیم سے قبل شریکِ جنگ ممالک، یورپ اور باقی دنیا کے حالات و معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے جنگ کے اسباب و علل، احوال، نتائج اور اثرات پر سیر حاصل معلومات یکجا کرتے ہوئے موجودہ دور اور حالات کے تناظر میں بے لاگ اور جامع تبصرہ بھی قارئین کے لئے پیش کیا جائے۔ تاکہ کتاب نہ صرف تاریخ کی ایک اہم کڑی کے بیان پر محیط نہ ہو بلکہ مستقبل کے لیے آئینے اور مشعل کا کام بھی دے سکے۔(ع۔م)

    نوٹ
    جنگ عظیم حصہ دوم کی ڈاؤنلوڈنگ اور آن لائن مطالعہ کےلیے یہاں کلک کریں
  • copy-of-title-pages-jang-e-azeem-doam
    لوئیس ایل۔سنائڈر
    بیسویں صدی اپنی آغوش میں دو عظیم جنگیں لیے روپوش ہو گئی۔ اکیسویں صدی کا آغاز بھی بیسویں صدی کی خون آشامی سے مختلف نہیں ہے۔ عالمی طاقتیں امن عالم کے جاں فزا نعرے لگا کر لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے اور اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے میں مصروف ہیں۔ یہی عالمی طاقتیں جنگ عظیم اول میں آمنے سامنے ہوئیں تو ایک کروڑ سے زائد لوگ کام آئے۔ اور جب جنگ عظیم دوم میں ان کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو پانچ کروڑ لوگوں کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی اور کروڑوں لوگوں کو معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر امن کا سب سے بڑا علمبردار ہونے کا ثبوت دیا۔ زیر نظر کتاب جنگ عظیم دوم کے تمام پہلو آپ کے سامنے اس طرح عیاں کر دے گی کہ آپ جنگ کے تمام واقعات اپنے سامنے ہوتے دیکھ رہے ہوں گے۔ کتاب کے مصنف لوئیس ایل۔ سنائیڈر ہیں جس کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ مولانا غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ کتاب ایک تاریخی دستاویز کے ساتھ ساتھ مصنف کا غیر جانبدارانہ اور عرق ریزی سے کیا ہوا تجزیہ بھی ہے جس نے موضوع کے تمام پہلوؤں کو بخوبی سمیٹ لیا ہے۔ علاوہ ازیں مصنف نے انسانی تاریخ کا رخ موڑنے والے دو کرداروں ہٹلر اور مسولینی کی زندگیوں اور کارستانیوں سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ
    جنگ عظیم حصہ اول کی ڈاؤنلوڈنگ اور آن لائن مطالعہ کےلیے یہاں کلک کریں
  • jawahir-al-iman-sharha-lu-loo-wal-marjaan
    محمد فواد عبد الباقی
    ائمہ محدثین کے ہاں مسلم ہے کہ قرآن کریم کے بعد صحیح ترین احادیث وہ ہیں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے علامہ محمد فواد عبدالباقی پر جنہوں نے نہایت عرق ریزی سے بخاری ومسلم کی متفقہ احادیث کو اللؤلؤ والمرجان کی صورت میں یکجا کردیا۔بعد ازاں کتاب کی اسی اہمیت کے پیش نظر سینکڑوں مدارس کے نصاب میں اسے شامل کرلیا گیا۔ لیکن چونکہ اس کتاب کی کوئی مستقل شرح نہ تھی اس لیے مدرسین وطلبائے علوم دینیہ کو بعض مقامات پر اس کے حل وتفہیم میں مشکل پیش آتی۔ اسی مشکل کے پیش نظر عصر حاضر کے معروف ریسرچ سکالر اور مؤلف و مرتب کتب کثیرہ حافظ عمران ایوب لاہوری نے اس کی شرح کا بیڑہ اٹھایا جو آج بفضل اللہ زیور طباعت سے آراستہ ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔موصوف نے متن اور شرح کی تمام احادیث کی تخریج کی ہے ۔شرح میں جہاں صحیحین کے علاوہ دیگر کتب کی احادیث نقل کی ہیں وہاں ان پر صحت وضعف کا حکم بھی لگایا ہے ۔تشریح کے لیے زیادہ تر فتح الباری اور شرح النووی کو ہی پیش نظر رکھا ہے ۔شرح میں طوالت سے بچتے ہوئے اختصار اور جامعیت کو ملحوظ رکھا ہے ۔ ہرحدیث کے بعد مشکل الفاظ کے معنی وفوائد بھی قلم بند کیے ہیں۔ بطور خاص ہر مقام پر تعصب سے بالاتر ہوکر کسی خاص فقہی مکتبہ فکر کے بجائے محض دین اسلام کی ہر ترجمانی کی ہے ۔یوں سرور دو عالم کے سنہری فرامین پر مشتمل قیمتی ہیرے اور جواہرات کی چمک دو چند ہوگئی ہے ، جو طلبائے علوم دینیہ اور اساتذہ کرام کے علاوہ عام لوگوں کے دلوں کو بھی نور ایمان سے منور کرنے کے لیے نہایت اہمیت وافادیت کی حامل ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مفید شرح کو سب کے لیے ذریعہ ہدایت بنائے ۔آمین(ع۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-page-hujiyt-hadees
    حافظ عبد الستار حماد
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے جو اصلاً اس کتاب کی توضیح وتشریح ہی ہے جو اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی صورت میں نازل فرمائی ہے- کتاب ہذا میں شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے- فاضل مصنف نے کتاب کی دو ابواب میں تقسیم کی ہے  پہلے باب میں حجیت حدیث اور دوسرے باب میں انکار حدیث کے عوامل ومحرکات بیان کرتے ہوئے ایسے تمام عناصر کا قلع قمع کیا ہے جو حدیث وسنت کے متعلق شبہات واعتراضات وارد کر کے اس کی تشریعی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ قرآن کی من مانی اور خانہ زاد تشریحات کے ذریعے اسلام کی اپنی خواہشات کے عین مطابق تشریح پیش کی جا سکے-

  • title-pages-hujjiyat-e-hadith-ismaiel-salfi-copy
    محمد اسماعیل سلفی

    اللہ تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے  انبیاء ورسل کو اس  کائنات میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  اللہ تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ اسلام سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین)زیر نظر  کتاب ’’ حجیت  حدیث ‘‘شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی ﷫ کی حجیت حدیث   کے سلسلے میں بڑی  اہم  کتاب ہے  جوکہ مولاناکے  چار مقالات (حدیث  کی تشریعی  حیثیت،جماعت اسلامی کانظریہ حدیث،سنت قرآن کے آئینے  میں ،حجیت حدیث آنحضرت کی سیرت کی روشنی میں ) پر مشمتل ہے ۔ان مقالات کو حافظ شاہد محمود ﷾  نے   مولانا اسماعیل سلفی﷫ کے مجموعہ مقالات حدیث میں   بھی بڑے عمدہ   طریقے کے ساتھ شائع کیا ۔اللہ   تعالیٰ مولانا مرحوم کی دفاع    حدیث کےسلسلے میں کی گئی کوششوں کوقبول فرمائے اوراسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا) 

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-hujjiyat-e-hadith--albani-salfi--copy
    ناصر الدین البانی

    اللہ تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے  انبیاء ورسل کو اس  کائنات میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  اللہ تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ اسلام سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین) زیر کتاب’’ حجیت حدیث‘‘ علامہ  محمد ناصر الدین البانی﷫ ،  شیخ الحدیث  محمد اسماعیل سلفی  ﷫ کی دفاع  وحجیت حدیث کے موضوع پر اہم مقالات کا  مجموعہ ہے ۔اس کتاب کے  حصہ اول میں  علامہ ناصر الدین البانی ﷫کے  تین رسالوں کا اردو ترجمہ شامل ہے ۔ اور دوسرا حصہ  مولانا  محمد اسماعیل سلفی﷫ کے حجیت حدیث کے موضوع پر پانچ مقالات پر مشتمل ہے ۔اس میں  مولانا سلفی کا  ’’حسن البیان فیما سیرۃ  نعمان ‘‘کے  لیے  لکھا گیا  وقیع مقدمہ  بعنوان ’’ درایت اور فقہ راوی‘‘ بھی شامل ہے ۔یہ کتاب اپنے  موضوع پر ایک  اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔اللہ تعالیٰ شیخ  البانی  اور مولانا سلفی  کی دفاع حدیث  کےسلسلے میں  کاوشوں کو قبول فرمائے  اور اس مجموعہ کو  مفید ومقبول بنائے (آمین) (م۔ا)   

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-hujjiyat-e-hadith-copy
    ناصر الدین البانی

    اللہ تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے  انبیاء ورسل کو اس  کائنات میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  اللہ تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ اسلام سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین) زیر نظر کتاب ’’حجیت حدیث‘‘  ماضی قریب کے  عظیم  محدث علامہ شیخ  ناصرالدین البانی ﷫ کی  حجیت حدیث کے  موضوع پر عربی  کتاب الحديث حجة بنفسه في العقائد والاحكام کا   اردو ترجمہ ہے  ۔اس مختصر کتاب میں   شیخ البانی نے   کتاب وسنت کے واضح دلائل سے یہ  ثابت کیا ہے کہ حدیث عقائد اور احکام میں ایک مستقل حجت ہے ۔حجیت حدیث پر مشتمل اس اہم کتاب  کا سلیس ورواں ترجمہ  پاکستان کے معروف اسلامی  سکالر ڈاکٹر حافظ  عبد الرشید اظہر ﷫(سابق استاد جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور)   نےکیا  اور  تقریبا 23 سال قبل حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ (مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ ، و مجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور نے اسے شائع کیا۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم ،ناشرکی  اشاعت اسلام کےلیے  کی کئی کوششوں وکاوشوں کوقبول فرمائے  (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-hadees
    ناصر الدین البانی
    فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔عالم اسلام کے عظیم محدث اور جلیل القدر عالم علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی زیر نظر کتاب میں اسی دوسرے گروہ کے افکار کی تردید کی گئی ہے۔یہ کتاب تین رسالوں کا مجموعہ ہے پہلا رسالہ  سنت کے مقام و مرتبہ کے بیان پر مشتل ہے۔اس میں واضح کیا گیا ہے کہ سنت کے بغیر قرآن کریم کا فہم حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔دوسرے رسالے میں اس امر پر بحث کی ہے کہ خبر واحد عقیدہ میں بھی حجت ہے ۔اس سلسلہ میں متکلمین اور احناف وغیرہ کے شبہات کا مکمل ازالہ کیا گیا ہے ۔تیسرے رسالہ میں بھی اسی نکتے کو ایک اور انداز میں نکھارا ہے اور اس فن میں بے شمار قیمتی نکات معرض تحریر میں آگئے ہیں ۔حجیت حدیث کے دلائل و براہین پر مشتمل بہترین کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو کرنا چاہیے ۔

  • pages-from-hujjiyet-e-hadees-aur-inkar-e-hadees
    ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    انکار حدیث اور حجیت حدیث دراصل دو موضوعات ہیں۔ انکار حدیث سے مراد حدیث کے انکار کا فتنہ ہے کہ جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں اشارہ فرما گئے ہیں کہ میرے بعد ایک شخص پیدا ہو گا جو گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھا ہو گا اور یہ کہے گا کہ قرآن مجید کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور جو اس میں حلال ہے، اسے حلال سمجھو۔ اور جو اس میں حرام ہے، اسے حرام قرار دو۔ پس اس کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ لوگوں کو باور کروائے کہ قرآن مجید کے علاوہ تمہیں کسی چیز کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس چیز کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ٹھہرایا ہے تو وہ بھی ویسے ہی حرام ہے جیسا کہ وہ شیء حرام ہے کہ جسے اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں حرام کہا ہے۔ یہ روایت سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابو داؤد اورمسند احمد وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ التوبہ کی آیت 29 میں اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس کو حرام نہیں سمجھتے کہ جسے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو۔ قرآن مجید کی اس آیت سے واضح طور معلوم ہواکہ کچھ چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا اور کچھ کو اللہ کے رسول نے حرام قرار دیا ہے۔پس اس آیت اور روایت سے معلوم ہوا کہ اسلام کے بنیادی مصادر دو ہیں۔ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ اب جن لوگوں نے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کا بنیادی ماخذ ماننے سے انکار کر دیا تو وہ منکرین حدیث کہلائے اور ان کا یہ رویہ انکار حدیث کہلاتا ہے۔ پس اس امت میں کچھ لوگ تو ایسے ہو گزرے کہ جنہوں نے حدیث کا کلیتاً انکار کیا جبکہ کچھ گروہ ایسے بھی پیدا ہوئے کہ جنہوں نے بعض احادیث کو مان لیا اور بعض کا انکار کر دیا۔ اس کتابچے میں ہم نے دونوں گروہوں کے افکار کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے اگرچہ دونوں کا حکم فرق ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ “انکارِحدیث” اور “ردِ حدیث” میں فرق ہے۔ اگر آپ تحقیق کے رستے کسی حدیث کو ضعیف یا موضوع (fabricated) ثابت ہونے کی وجہ سے مردود (rejected) قرار دے رہے ہیں تو یہ رویہ درست ہے لیکن اگر آپ اصول حدیث کی روشنی میں اور ائمہ محدثین کی تحقیق کے نتیجے میں صحیح ثابت ہو جانے والی احادیث کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں تو یہ رویہ انکارِ حدیث کہلاتا ہے۔ انکار حدیث ایک جارحانہ رویہ (aggressive approach) ہے کہ جس میں پہلے سے طے ہوتا ہے کہ ہم نے حدیث کو رد کرنا ہے جبکہ حدیث کا قبول ورد ایک علمی رویہ (academic approach) ہے کہ جس میں اصولِ تحقیق ِحدیث کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کو قبول کیا جائے گا یا رد کیا جائے گا۔ انکارِ حدیث کے جواب میں جو علم مسلمانوں میں مدون ہوا، وہ حجیت حدیث کا فن تھا۔ انکارِ حدیث میں حدیث کا انکار کرنے والوں کے دلائل کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو حجیت حدیث میں حدیث کے حجت (authority) ہونے کے دعوی کے دلائل کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پس اس کتاب میں حدیث کے بارے ان دونوں پہلوؤں کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ جہاں انکارِ حدیث کے دلائل کا تجزیہ کیا گیاہے، وہاں حدیث کی حجیت کے دلائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ انکارِ حدیث سلبی پہلو ہے تو حجیت حدیث ایجابی پہلو ہے۔حجیت حدیث کے پہلو سے زیادہ تر تحقیقی اورفکری جبکہ انکارِ حدیث کے حوالے سے زیادہ تر تنقیدی اور تجزیاتی ابحاث شامل کتاب کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں اس بحث کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ حدیث کی حجیت کس اعتبار سے ہے کہ حدیث تو مقطوع روایات کو بھی کہہ دیتے ہیں اور حدیث تو تاریخ کے بیان کو بھی شامل ہے اور حدیث تو غیر معمول بہ بھی ہوتی ہے وغیرہ

  • title-hujjiyat-e-hadees
    جلال الدین قاسمی

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر کوئی حدیث انکار کردے تو قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر دائرہ اسلام سے نکلی رہی ہے۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی   فتنہ انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی   خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر نظر کتاب ’’ حجیت حدیث در ردّ موقف انکار حدیث‘‘ انڈیاکے معروف جید سلفی عالم   دین   مولانا حافظ جلال الدین قاسمی ﷾ کی   فتنہ انکار حدیث کے رد کےسلسلے میں اہم کاوش ہے ۔اس موضوع پر اگرچہ بہت کتب اور لٹریچر اس سے قبل موجود ہے۔مگر یہ کتاب انتہائی اختصار وجامعیت کے ساتھ عوام وخوام دونوں کےلیے یکساں مفید ہے ۔نیز اس کتاب کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں انہیں اشکلات وشبہات کا ازالہ کیاگیا ہے جنہیں عام طور منکر ین حدیث بڑے طمطراق کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرکے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان شاء اللہ یہ کتاب ان کے پیش کردہ اشکلات وشبہات کو قلع قمع کرنے کے لیے کافی وشافی ثابت ہوگی ۔ مصنف کتاب کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ شریعت اور اسرار شریعت پرگہری نظر رکھتے ہیں۔دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اردو ،عربی ،فارسی، انگریزی کےعلاوہ اور بھی زبانوں میں آپ کو مکمل دسترس حاصل ہے،دنیا کی مشکل ترین زبان سنسکرت کے ادب اور خصوصاً اس کی گرائمر پرمہارت رکھتے ہیں   ۔انہی امیتازی خصوصیات کی بناءپر علمی وادبی حلقوں میں آپ کی شخصیت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔موصوف میدان خطابت کےشہسوار ہیں ان کا ہر خطاب کتاب وسنت کےدلائل سے معمور ہوتا ہے۔ فنِ خطابت پر جو قدرتی ملکہ آپ کو حاصل ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصہ میں آتا ہے ۔2 جولائی 2014 سے پیس ٹی وی پر ان کےعلمی خطابات’’ فیضان کتاب وسنت ‘‘ نامی پروگرام کےتحت نشر کئے جارہے ہیں جنہیں دنیا کے156 ممالک میں دیکھا اور سنا جار ہا ہے ۔نیز صحافت کے میدان میں بھی آپ کی قابل تحسین خدمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ رہنے اور اللہ ورسول کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)م۔ا)  

  • title-pages-hujjiyat-e-sunnat
    شیخ عبد الغنی محمد عبد الخالق
    اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ ان کے لیے علم ومعرفت کے حصول اور رہنمائی کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا ذریعہ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ہے۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ان میں سے کسی ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا گیا ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض ہرکارے کا تھا۔معاذ اللہ۔زیر نظر کتاب میں جو کہ ایک عظیم المرتبت مصری عالم کی تصنیف ہے،ان تمام شبہات  کا ازالہ کرتے ہوئے سنت رسول کے صحیح مقام ومرتبے کا تعین کیا گیاہے۔اس موضوع پر ویسے تو بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن اس کی انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں سنت کی حجیت کو عصمت انبیاء کے تصور سے مربوط کیا گیاہے۔بلامبالغہ یہ بحث جس قدر تفصیل کے ساتھ اس کتاب میں آئی ہے وہ موجودہ دور کی شایدہی کسی اور تصنیف میں نظر آئے۔(ط۔ا)

  • title-pages-hadith-e-saqalaian-copy
    محمد نافع

    اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی  علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان  دونوں ماخذوں میں سے کسی  ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض قاصد  کا تھا۔(معاذ اللہ)فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" حدیث ثقلین "محترم مولانا محمد نافع صاحب کی تصنیف ہے۔آپ نے اس کتاب میں حدیث وسنت نبوی کی اہمیت وضرورت اور حجیت پر تفصیلی بحث کی ہے اور منکرین حدیث کے اعتراضات کا کافی وشافی جواب دیا ہے۔اللہ تعالی دفاع سنت نبوی کی ان کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-hadees-e-khair-o-shar
    حافظ عبد المتین میمن جونا گڈھی

    جب سے یہ کائنا ت معرض وجود میں آئی اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لیے اپنے برگزیدہ اور محبوب انبیاء اور رسل کو مبعوث فرمایا۔ جو اپنے اپنے مخصوص علاقوں، بستیوں میں لوگوں کی اصلاح فرماتے رہے۔ اسی سلسلہ کا آغاز سیدنا آدم ﷤ سے ہوا اور آخر ی کڑی سیدالانبیاء سیدنا محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ کی زندگی کا ایک ایک گوشہ اور بول آپ کی ولادت سے وفات تک، کماحقہ محفوظ ہے۔ ملت اسلامیہ کے ہر فرد کے لیے رسول ﷺکااسوہ حسنہ حرزجاں کی حیثیت رکھتا ہے اور قرون اولیٰ میں اسلاف کا اس پر تمسک ایک تاریخی ریکاڈ ہے مگر رفتہ رفتہ لوگوں نے اپنے اکابر، بزرگوں،ائمہ اور آباء کی پیروی شروع کر دی اور اتباع کو چھوڑ کر تقلید کو اپنا لیاتو معاشرے میں بدعات و خرافات نے جنم لیا۔مسلمانوں نے اپنے اپنے ائمہ کی تقلید کو لازم کر لیااورحنفی،شافعی، مالکی، حنبلی وغیرہم کہلوانے میں فخر محسوس کرنے لگے اور اپنے مسلک کے دفاع پر اتر آئے حتی کہ ضعیف وموضوع، روایات کا سہارالیتے ہوئے اپنے اپنے مذہب کو ثابت کرنے پر کمر باندھ لی ۔مگر درحقیقت امت مسلمہ کی بھلائی اور نجات اطاعت نبوی ﷺ میں ہی مضمر ہے۔ ائمہ واکابرقابل احترام ہیں مگر ذریعہ نجات آپﷺ کا اسوہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "حدیث خیروشر" حافظ عبدالمتین میمن جوناگڑھی کی تصنیف ہے۔موصوف بھارت کے ممتاز عالم دین ہیں۔یہ کتاب انہوں نے "محمد پالن حقانی" کی کتاب "شریعت یا جہالت"کے جواب میں تحریر کی۔ حقانی صاحب نے اپنی کتاب میں اہل الحدیث پر طعنہ زنی کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کو یہودونصاریٰ سے مشابہت قرار دیا۔تو جناب حافظ عبدالمتین میمن جوناگڑھی نے محمد پالن حقانی کےاس اعتراض اور احناف کے کئی ایک مغالطوں کا دلائل وبراہین سےکتاب ہذا میں تعاقب کیا اور حقانی صاحب کے اعتراضات کا کتاب وسنت کی روشنی میں مدلل اور مسکت جواب تحریر کیا۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور ہم سب کو فرقہ واریت سے محفوظ رکھتے ہوئے خالص دین کے نور سے مالامال فرمائے۔یہ اس   کتاب کا جدید محقق شدہ ایڈیشن ہے۔ اور مولانا عبداللطیف اثری صاحب نے اس پر تعلیق اور مفید حواشی کا کام بھی کیا ہے ۔جس اس کتاب کی افادیت   وعلمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-hadith-e-rasool-ka-tashreie-maqam-copy
    ڈاکٹر مصطفٰی سباعی

    قرآن کریم شریعت کے  قواعد عامہ اوراکثر احکام کلیہ کا جامع ہے اسی جامعیت  نے اس کو ایک ابدی اور دائمی حیثیت عطا کی  ہے  او رجب تک کائنات پرحق  قائم ہے  وہ بھی قائم  ودائم  رہے گا۔ سنت ِنبوی ان قواعد کی شرح وتوضیح کرتی ۔ ان کے نظم وربط کوبرقرار رکھتی  اور کلیات سےجزئیات کا  استخراج کرتی ہے  یہ ایک  درخشندہ حقیقت ہے جس سے  ہر وہ شخص بخوبی آگاہ  ہے جو سنت  کے تفصیلی مطالعہ سے بہرہ مند ہ ہوچکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر عصر وعہد کے علما وفقہا سنت پر  اعتماد کرتے چلے آئے ہیں ۔ وہ ہمیشہ سنت کے  دامن سے وابستہ رہے اور نئے  حوادث وواقعات کے  احکام اس  سےاخذ کرتے رہے ۔قرآن  کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے  مصدر شریعت  اور متمم دین کی حیثیت سے  قرآن مجید کے ساتھ  سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے  ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے   ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور  فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی  تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش   نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباعِ سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ)  میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری  فرماکر  دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی  بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان  کی فرضیت کے بارے  میں ابہام پیدا کرکے  کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے  حدیث کی شرعی   حیثیت کو مجروح کر کے  دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن الحمد للہ  ہر دو ر میں محدثین  اور  علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی  اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’حدیث رسولﷺ کا تشریعی  مقام‘‘سوریا کے  معروف  مفکر  جید عالم  دین  ڈاکٹر مصطفیٰ السباعی کی  دفاع حدیث میں مشہور ومعرو ف کتاب ’’ السنة ومكانتها في التشريع‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے جسے مصنف موصوف نے 1949 میں   جامعہ ازہر سے   حصول ڈگری کے لیے  بطور مقالہ پیش کیا ۔موصوف نے اس کتاب میں  حدیث کا فقہ اسلامی میں مرتبہ ومقام کو پیش کیا  ہے  نیز یہ  حدیث  کن تاریحی مراحل  وادوار سے گزر کر  موجودہ مقام تک  پہنچی او رعلماء نے اس کی  صیانت وتحفظ میں کیا  حصہ لیا؟ علاوہ ازیں ماضی وحال میں  جن لوگوں نے فن حدیث کو ہدف ِ تنقید ونتقیص بنایا تھا  مصنف نے بڑی پر وقار علمی انداز میں  ان کی  تردید کی ہے  اور انہوں نے  جرح وقدح کےلیے  وہ طرز وانداز اختیار کیا جس سے  حق نمایاں ہوجائے اور سنت مطہرہ کا چہرہ درخشاں وتاباں نظر آئے ۔اور کتاب کے آخر میں ان شہرۂ آفاق مجتہدین ومحدثیں کے سیر وسوانح پر روشنی ڈالی ہے  جنہوں نے سنت کےحفظ وتدوین میں  نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس اہم کتاب کےترجمہ کی  سعادت  معروف  مترجم  پروفیسر غلام احمد حریری﷫ (مترجم کتب کثیرہ )نے  تقریبا 45سال قبل حاصل کی ۔اس کتاب کے  پہلا اردو ایڈیشن 1971ء میں  شائع ہوا۔ کتاب ہذا   دوسرا ایڈیشن ہے جسے  ملک سنز  فیصل آباد  نے   198ء میں شائع کیا  ۔ ایک صاحب کی فرمائش پر یہ  کتاب    ویٹ سائٹ پر   پیش کی گئی ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی  دفاع حدیث کےسلسلے  میں اس کاوش کو قبول فرمائے  اور اہل  علم اور  طالبان ِعلوم نبوت کے لیے  نفع بخش  بنائے (آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-hadith-rasool-saww-copy
    ڈاکٹر محمد ادریس زبیر

    حدیث شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا اور آخری الہامی ذخیرہ وماخذ ہے جسے قرآن کریم کی طرح بذریعہ وحی زبان رسالت نے پیش کیا ہے ۔ یہ اس اہستی کا  عطا کردہ خزانہ  ہے جس کا ہر قول وعمل ،لغرش وخطاء سے پاک اور محفوظ  ہے اسی لیے  اس  منصب عالی کے نتائج بھی ہر خطا سےمحفوظ ہیں ۔جب کہ  دوسرے مناصب کی  شخصیت کو یہ مقام حاصل نہیں۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن وفہمی ناممکن اور فقہی استدلال فضول نظرآتے ہیں۔اس میں کسی کی پیونکاری  کی ضرورت نہیں۔ یہ اس شخصیت کے کلمات ہیں جنہیں مان کر ابو بکروعمر ،عثمان وعلی یا ایک عام شخص صحابی رسول بنا  اور اللہ تعالیٰ کے  ہاں   کا  رتبہ پایا ۔ جس نے اسے نہ مانا وہ  ابو لہب اور ابو جہل ٹھہرا۔ یہ  وہ منزل من الل وحی ہے  حسے نظر انداز کر کے  کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ  ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ اسلام سے  نکلی رہی  ہے۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی  فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین) زیر تبصرہ کتاب’’ حدیث رسولﷺ( حقیقت ، اعتراضات او ر تجزیات ) ‘‘ محترم جنا ب ڈاکٹر محمد ادریس  صاحب کی تصنیف ہےجس میں انہو ں  نے حدیث وسنت کا تعارف،بدعت کا مفہوم،صحابہ کرام اور ان کا حدیثی منہج،صحابہ کرام کے بارے میں بعض غلط رجحانات ،تدوین  حدیث اوراس کی تاریخ ،نقد وتحقیق کا  آغاز  جیسے اہم موضوعات کو بڑے  عمدہ  انداز  میں تحریر کیا  ہے۔مصنف موصوف  فہم  قرآن  اور خواتین  کی دینی  تعلیم تربیت کے  لیے کوشاں معروف ادارے   ’’دار الہدی‘‘ کی سربراہ  ڈاکٹر فرہت ہاشمی  صاحبہ کے  شوہر ہیں۔موصوف کا ملتان کے ایک علمی خانوادے  سے تعلق ہے  درس ِنظامی کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم عربی کی   ڈگری حاصل کی۔ 1983ءانٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد  کے کلیۃ الدین سے منسلک ہوگئے  ۔1989ء میں  گلاسگو یونیورسٹی سے علم حدیث میں   ڈاکٹریٹ  کیا  عربی،  اردو، انگریزی زبان میں بہت سے آرٹیکلز لکھنے کے علاوہ چند کتب کے مصنف بھی  ہیں اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل میں برکت فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-hadees-quran-ki-tashreeh-karti-hai
    پروفیسر محمد رفیق چودھری

    قرآن اور رسول ﷺ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور رسول اللہﷺ اس کتاب کے سکھانے والے معلّم ہیں قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور رسول ﷺ اس کی تشریح کرتا ہے۔ قرآن ایک آئین اور دستور ہے اورر سول اللہﷺ اس کی مستند اور معتبر تشریح اور تعبیر کرنے والا ہے ­۔قرآن کریم شریعت کے قواعد عامہ اوراکثر احکام کلیہ کا جامع ہے اسی جامعیت نے اس کو ایک ابدی اور دائمی حیثیت عطا کی ہے او رجب تک کائنات پرحق قائم ہے وہ بھی قائم ودائم رہے گا۔ سنت ِنبوی ان قواعد کی شرح وتوضیح کرتی۔ ان کے نظم وربط کوبرقرار رکھتی اور کلیات سےجزئیات کا استخراج کرتی ہے یہ ایک درخشندہ حقیقت ہے جس سے ہر وہ شخص بخوبی آگاہ ہے جو سنت کے تفصیلی مطالعہ سے بہرہ مند ہ ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عصر وعہد کے علما وفقہا سنت پر اعتماد کرتے چلے آئے ہیں۔ وہ ہمیشہ سنت کے دامن سے وابستہ رہے اور نئے حوادث وواقعات کے احکام اس سےاخذ کرتے رہے۔ قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔ اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِ اسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر شریعت اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔ اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے۔ اتباعِ سنت جزو ایمان ہے   ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض و لاپرواہی اور فہم قرآن سے دوری ہے۔ سنت رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام و تعلیمات کی تفہیم کا دعو یٰ نادانی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’حدیث قرآن کی تشریح کرتی ہے ‘‘ماہنامہ محدث کے معروف مضمون نگار اور کئی کتب کے مصنف و مترجم محترم مولانا محمد رفیق چودھری﷾ کی علمی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے سب سے پہلے قرآن اور رسول کریمﷺ کے باہمی تعلق کواجاگر کیا ہے۔ اس کے بعد ایسی سو (100) سے زیادہ قرآنی آیات اوران کی وضاحت کرنے والی احادیث نبوی کے حوالے دیے ہیں جن سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث قرآن کی تشریح کرتی ہے۔ فاضل مصنف کی زندگی کا طویل حصہ قرآن مجید سمجھنے سمجھانے اور اس کی نحوی وتفسیری مشکلات حل کرنے میں گزرا ہے۔کتاب ہذا کے علاوہ آپ کئی دینی کتب کے مصنف ومترجم ہیں جن میں قرآن کریم کا اردو وانگلش ترجمہ اور تفسیر البلاغ بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے۔ آمین (م۔ا)

  • title-pages-hadeese-mouzu-aur-uske-maraje-copy
    محمد اکرم رحمانی

    بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث در حقیقت کتاب اللہ  کی شارح اور مفسر ہے  اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ  کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں  کتاب اللہ  کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی  سائل کو اس کے سوال کا فی البدیہہ جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے  شعراء اور بلغاء بھی  باوجود قدرت  کے اس  سے متاثر ہوئے  بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی  زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی  نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے  نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے  ۔یہی  وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور  سرور وحزن کے  تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی  محفوظ  ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی  میں اس کی نظیر  نہیں ملتی اور نہ  ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے ۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ  ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان  ؓ کی شہادت  کے ساتھ  ہی دور ِ فتنہ  شروع ہوگیا  جس کی  طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے  ہیں۔ پھر یہ  فتن کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے  بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول  ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں  ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے  گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی  بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع  کردی تھی۔اور پھر اس  کے  بعد  وضع  حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے  کو ہی کافی  نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے  علل حدیث، جرح وتعدیل،  اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر  کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب  کیں­۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث  کو الگ جمع کیا  او ررواۃ حدیث کےلیے  معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی  تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں  ماضی قریب میں  شیخ البانی کی  کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔زیر نظر کتاب’’حدیث موضوع اور اس کے مراجع‘‘ محترم مولانا محمد اکرم رحمانی  صاحب کی  تصنیف ہے۔ جس میں بھی  محدثین کی انہی مساعی کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا ہے  جوکہ  فنِ حدیث  پر تحقیق وبحث کے  سلسلہ میں  اہمیت کا حامل  ہے۔مرتب موصوف نے  اس مقالہ میں  ان لوگوں کا تذکرہ کیا ہے  جنہوں نے  قصرِ  اسلام کی بنیادوں کو اس کے اندر  ہی بیٹھ کر اس طرح کھودنا  شروع کردیا کہ دیکھنے والا یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائے کہ  وہ تخریب کاری کی بجائے تعمیر میں  لگے ہوئے ہیں۔اور اس میں  ان علمائے سلف کی جہود ومساعی  اوران کے حسین کارناموں کا بھی ذکر کیا ہے  جن کے ذریعہ ان مدعیانِ  اصلاح  وتجدید کاراز بری طرح  فاش کیا گیا ہے اور ان کے دجل وفریب سے سنت مطہرہ  محفوظ ومصون ہوکر رہ گئی  ہے ۔اللہ تعالی رحمانی  صاحب کی  اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں حدیث وسنت  کامحافظ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-hadees-me-sayyad-mododi-ki-khidmaat
    ڈاکٹر محسنہ عظیم
    مغرب کے فکری تسلط کی وجہ سے جب سیکولر ازم  مسلمانو ں کے لیے  دین  کی حیثیت اختیار کر چکا تھا،جب بے دینی ، اباحیت ، الحاد او ردہریت کا  ہر طرف دور دورہ تھا،بلکہ ذہنی مرعوبیت  میں  مسلمان اس قدر  آگے جا چکے تھے کہ اپنا دین ہی بیگانگی کی تصویر پیش کر رہا تھا جس کے متعلق مولانا مودودی لکھتے ہیں ( رفتہ رفتہ حالت یہ ہو گئی کہ لوگوں کو یہ عجیب معلوم ہونے لگا کہ کوئی شخص پڑھا لکھا بھی ہو اور وہ خدا کو بھی مانتا ہواور نماز   روزہ جیسے احکام کی پیروی بھی کرتا ہو)۔اس دین بیزار ماحول میں مولانا مودودی ﷫ نے مغربی فکری تسلط کے بت کو پاش پاش کیا اور مسلمانوں کی ذہنی مرعوبیت دور کرنے کی کامیاب سعی کی ۔اسی دور کے بڑے بڑے فتنوں میں سے ایک  فتنہ انکارحدیث  کا بھی ہے ، جس کے علمی مقابلے کے لیے مولانا مرحوم نے متعدد کتب  تالیف کیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں :الجہاد فی الاسلام ،مسئلہ قادیانیت،پردہ ،اسلام اور ضبط ولادت،انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل ،سود۔بہرصورت مولانا نے ہر علمی میدان میں  کی عالمانہ تحریریں موجود ہیں  ۔ ڈاکٹر محسنہ عظیم کی اس تالیف میں بھی مولانا کی ان مساعی جملیہ پر نظر ڈالی گئی ہے ۔ یہ اصل میں پی  ایچ ڈی کا مقالہ ہے جسے بعد میں کتابی شکل دی گئی ہے ۔ محترمہ نے اسے مختلف  پانچ ابواب اورمقدمہ میں تقسیم کیا ہے ۔ایک مفید کتاب ہے جو لائق مطالعہ ہے۔(ناصف)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-hadees-nabvi-key-chand-muhafiz
    ام عبد منیب

    اپنے اسلاف کے حالات او ران کے کارناموں سے واقفیت حاصل کرنا اس لیے ضروری کہ بعد میں آنے والے ان کے نقوشِ قدم پر چل سکیں اور زندگی میں ان سے راہنمائی حاصل کی جاسکے اوراسلاف کے کارناموں کو زندہ رکھا جا سکے ۔ اس سلسلے میں برصغیر کے کئی سیرت نگاروں نے   ائمہ محدثین اور دیگر ائمہ اسلاف کی حیات وخدمات کے حوالے کتب لکھی ہیں۔اور اردو زبان میں عام فہم انداز میں صوفیا کرام اور نام نہادبزرگوں پر تو بہت کچھ لکھا جاتاہے لیکن اسلام کے اصل محسن اور سنت رسولﷺ کے امین اور محافظ ہستیوں کے حالات لکھنے کی روایت نہ ہونے کے برابر ہے۔جس کی وجہ   سے ہماری نئی نسل اور بڑے بھی محدثین کے نام اور ان کے حالات وخدمات سے واقف نہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’حدیث نبوی کے محافظ‘‘ محترمہ ام منیب صاحبہ کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے بچوں کے رسالہ نور کے لیے عام فہم انداز میں محدثین کی حیات وخدمات پر لکھے تھے۔ جسے قارئین کے اصرار پر اس سلسلےکو کتابی صورت میں شائع کیا گیاہے۔جس میں گیارہ محدثین کے حالات ِزندگی اور آخر میں فنِ حدیث کی اصطلاحات کااشاریہ بھی شامل ہے ۔اللہ تعالیٰ اس مجموعے کو عوام الناس کےلیےمفید بنائے (آمین)

  • title-pages-hadis-e-namaz
    حافظ عبد المتین میمن جونا گڈھی
    ہمارے حنفی بھائیوں کی طرف سے اکثر اہل حدیث حضرات کی نماز پر اعتراضات وارد کیے جاتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ضلع دھرم پوری کرناٹک کے احناف نے اہل حدیث کےخلاف ایک رسالہ شائع کیا جس میں اہل حدیث کے سنت کے مطابق نماز ادا کرنے پر خاص طور سے اعتراضات تھے۔ اسی رسالہ کے جواب میں زیر تبصرہ کتاب وجود میں آئی۔ جس میں اہل حدیث نماز کے تمام مسائل کو خود حنفی مذہب کی کتابوں اور فقہائے حنفیہ کے فتاویٰ سے ثابت کیا گیا ہے اور احادیث کی مدد سے نماز کی صحیح اور مسنون صورت کی تصویر کشی کی گئی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-hadees-e-namaz-takhreej-shuda-edition
    حافظ عبد المتین میمن جونا گڈھی

    نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کلمہ توحید کے اقرار کے بعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش و منکرات سے انسان کو روکتی ہے۔ بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت و فضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے از حد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی۔ او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کے مطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ مذاہب فقہیہ میں نمازکے مسائل کے سلسلے میں رفع الیدین، فاتحہ خلف، آمین بالجہر میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’حدیث نماز‘‘ مولانا عبدالمتین میمن کی تصنیف ہے۔ موصوف نے یہ کتاب اہل تقلید کی جانب لکھی جانے والی کتاب کے جواب میں لکھی۔ احناف نے اس کتاب میں اہل حدیث کے سنت کےمطابق نماز اداکرنے پر خاص طور پر اعتراضات کیے تھے۔ تو مولانا عبدالمتین میمن جوناگڈھی نے ’’حدیث نماز‘‘  کے نام سے یہ کتاب تالیف کی اوراس میں سنت کے مطابق اہل حدیث کے طریقہ نماز تمام مسائل کو خود حنفی مذہب کی کتابوں اورحنفی فقہاء و علماء کے اقوال و فتاویٰ سے ثابت کرنے کوشش کی ہے۔ مصنف موصوف نے خیر خواہی پر مبنی ناصحانہ اور مشفقانہ اسلوب اختیار کیا ہے اور دردمندانہ اپیل کی ہے کہ ہمارے حنفی بھائی سنت کے مطابق نماز کی ادائیگی پر اہل حدیث پر اعتراض نہ کریں اور دوسرے مسلمانوں کی بے جا مخالفت نہ کریں، بلکہ خود بھی سنت کےمطابق نماز ادا کر کے اجروثواب حاصل کریں۔ یہ اس کتاب کو جدید تحقیق شدہ ایڈیشن ہے محترم جناب عقیل احمد صاحب نے اس کتاب میں وارد شدہ احادیث وآثار کی مفصل تخریج کی ہے ۔مصنف نے جو حوالہ جات دئیے تھے وہ کتابوں کی پرانی طباعت کے تھے لیکن اس ایڈیشن میں عقیل صاحب نے قارئین کی آسانی کے لیے ان حوالوں کو جدید طباعت کے مطابق کر دیا ہے۔ اور تخریج کے مصادر و مراجع کی فہرست بھی بنادی ہے۔ پہلے یہ کتاب 177 صفحات پر مشتمل تھی اب یہ تخریج وتعلیق کے بعد یہ کتاب 330 صفحات پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1426 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں