• title-pages-200-ahadees-e-mubaraka-copy
    محمد نعمان فاروقی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ  عامۃ الناس  کےلیے  انتہائی دشوار  ہے ۔عامۃ الناس  کی ضرورت کے پیش  نظر کئی اہل علم  نے  مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں۔ زیر  تبصرہ کتاب ’’200 احادیث مبارکہ ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے  جوکہ  مسلم پبلی کیشنز  کے مدیر جناب  مولانا محمد نعمان فاروقی ﷾ کی  کاوش ہےجس میں انہوں نے غیر معروف  مگر صحیح یا حسن  200 احادیث مبارکہ جمع کی  ہیں۔موصوف نے احادیث کی تصحیح وتحسین میں زیاد ہ تر انحصار علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی تحقیق  اور مسند احمد کی تحقیقی کمیٹی پر بھی کیا ہے جس کا اشراف   الشیخ عبد القادر ارناوؤط نے کیاہے ۔مرتب نے کتاب کو دلچسپ بنانے کے لیے   اپیل کرنے  والی ہیڈنگز سےمزین کیا  ہے اور اسلوب کوآسان  سےآسان تر بنانے کی کوشش کی    ہے ۔ اللہ  تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوران احادیث کو عوام الناس کےلیے  فائدہ مند بنائے (آمین) ( م۔ا)

  • title-pages-200-mashhoor-zaeef-ahaadees
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    ایک واعظ اور خطیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ احادیث صحیحہ کا التزام کرے اور ضعیف احادیث سےاستدلال نہ کرے۔ لیکن ہمارے ہاں تو بہت سے فرقوں کا مدار ہی ضعیف اور موضوع روایات پر ہے۔ حافظ عمران ایوب لاہوری نے مشہور ضعیف احادیث کو عوام و خواس کے سامنے کتابی شکل میں پیش کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، یہ کتابچہ اس سلسلہ کا دوسرا حصہ ہے جس میں 200 مشہور ضعیف احادیث کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کتاب کو مرتب کرتے ہوئے محض متن حدیث اور حوالہ نقل کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے تاکہ ضعیف احادیث کو ذہن نشین کرنا آسان رہے۔ البتہ حوالہ جات رقم کرتے ہوئے متقدم ائمہ محدثین کی مختلف کتب سے استفادہ کر کے ان کے تحقیقی اقوال بھی نقل کر دئیے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ روایات کو ضعیف قرار دینا کوئی نیا کام ہے بلکہ درحقیقت یہ کام پہلے ائمہ سلف کر چکے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-300-mashhoor-zaeef-ahaadees
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    ایک واعظ اور خطیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ احادیث صحیحہ کا التزام کرے اور ضعیف احادیث سےاستدلال نہ کرے۔ لیکن ہمارے ہاں تو بہت سے فرقوں کا مدار ہی ضعیف اور موضوع روایات پر ہے۔ حافظ عمران ایوب لاہوری نے مشہور ضعیف احادیث کو عوام و خواس کے سامنے کتابی شکل میں پیش کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، یہ کتابچہ اس سلسلہ کا تیسرا حصہ ہے جس میں 300 مشہور ضعیف احادیث کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کتاب کو مرتب کرتے ہوئے محض متن حدیث اور حوالہ نقل کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے تاکہ ضعیف احادیث کو ذہن نشین کرنا آسان رہے۔ البتہ حوالہ جات رقم کرتے ہوئے متقدم ائمہ محدثین کی مختلف کتب سے استفادہ کر کے ان کے تحقیقی اقوال بھی نقل کر دئیے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ روایات کو ضعیف قرار دینا کوئی نیا کام ہے بلکہ درحقیقت یہ کام پہلے ائمہ سلف کر چکے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-400-mashhoor-zaeef-ahaadees
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    ایک واعظ اور خطیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ احادیث صحیحہ کا التزام کرے اور ضعیف احادیث سےاستدلال نہ کرے۔ لیکن ہمارے ہاں تو بہت سے فرقوں کا مدار ہی ضعیف اور موضوع روایات پر ہے۔ حافظ عمران ایوب لاہوری نے مشہور ضعیف احادیث کو عوام و خواس کے سامنے کتابی شکل میں پیش کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، یہ کتابچہ اس سلسلہ کا چوتھا حصہ ہے جس میں 400 مشہور ضعیف احادیث کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کتاب کو مرتب کرتے ہوئے محض متن حدیث اور حوالہ نقل کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے تاکہ ضعیف احادیث کو ذہن نشین کرنا آسان رہے۔ البتہ حوالہ جات رقم کرتے ہوئے متقدم ائمہ محدثین کی مختلف کتب سے استفادہ کر کے ان کے تحقیقی اقوال بھی نقل کر دئیے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ روایات کو ضعیف قرار دینا کوئی نیا کام ہے بلکہ درحقیقت یہ کام پہلے ائمہ سلف کر چکے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-500-mashhoor-zaeef-ahaadees
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    حافظ ابن الصلاح رحمۃ اللہ علیہ  کے نزدیک مجموعہ احادیث میں سے صرف ایک حدیث ایسی ہے جس کو قولی تواتر حاصل ہے جس حدیث کا مفہوم ہے کہ جس نے نبی کریمﷺ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ فلہٰذا خطبا اور واعظین حضرات کو چاہیئےکہ وہ اللہ کے رسولﷺ کی طرف کسی بات کی نسبت کرتے وقت حد درجہ حزم و احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ لیکن بہت سے واعظین حضرات ضعیف اور موضوع احادیث سے استنباط و استدلال کرتے ہیں اور مزے لے لے کر ان کو بیان کرتے ہیں۔ اسی کے پیش نظر حافظ عمران ایوب لاہوری نے عام فہم انداز میں ضعیف احادیث کی نشاندہی کا سلسلہ شروع کیا ہے یہ اس سلسلے کی پانچویں کتاب ہے۔ جس میں 500 ضعیف احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔ تاکہ عوام و خواص کو ان سے آگاہی حاصل ہو۔ احادیث پر حکم کے لیے امام ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن حجر اور شیخ البانی رحمہم اللہ وغیرہ کے کام سے مدد لی گئی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں


  • title-page-70-true-islamic-stories
    حافظ عبد الشکور

    فی زمانہ جبکےبچے بڑے جھوٹے اورلغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچےواقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔زیرنظرکتاب میں سیرت نبوی اورتاریخ اسلام سے ایسے ہی 70واقعات کاانتخاب پیش کیاگیاہے ،جن کےمطالعہ سے ایمان کوتازگی اورروح کوشادابی نصیب ہوتی ہے۔نیزدل میں صحابہ کرام اورسلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس طرح کالٹریچرعام کیاجائے اورگھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔

  • title-page-ainaeparwaiziathqcomplete
    عبد الرحمن کیلانی

    اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث نبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے کہ قرآنی اصول و احکام کی تفاصیل و جزئیات کا تعین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ِرسالت میں شامل تھا اور قرآن و حدیث کا مجموعہ ہی اسلام کہلاتا ہے جو آپ نے امت کے سامنے پیش فرمایا ہے، لہٰذا قرآن کریم کی طرح حدیث ِنبوی بھی شرعاً حجت ہے جس سے آج تک کسی مسلمان نے انکار نہیں کیا۔ انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔دور ِجدید میں برصغیر پاک و ہند میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشارپیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز وغیرہ نمایاں ہیں۔ ان میں آخر الذکر شخص نے فتنہٴ انکار ِحدیث کی نشرواشاعت میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ انہیں اس فتنہ کے اکابر حضرات کی طرف سے تیارشدہ میدان دستیاب تھا جس میں صرف کسی غیر محتاط قلم کی باگیں ڈھیلی چھوڑنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اس کام کا بیڑہ مسٹر غلام احمدپرویز نے اٹھا لیا جو کہ فتنوں کی آبیاری میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’آئینہ پرویزیت‘ میں مدلل طریقے سے فتنہٴ انکارِ حدیث کی سرکوبی کی گئی ہے، اور مبرہن انداز میں پرویزی اعتراضات کے جوابات پیش کئے گئے ہیں-

  • pages-from-aap-hadees-kese-talash-karain
    محمد محسن گلزار

    شریعتِ مطہرہ کا قرآن پاک کے بعد سب سے بڑا ماخذ احادیث رسولﷺ ہیں۔ حق تعالیٰ نے جس طرح اس امت کے لیے حفظ قرآن کی نعمت کو آسان فرمادیا اسی طرح اس امت کےلیے علم حدیث کو بھی رائج فرمادیا ۔ خیرالقرون اور اس کےبعد کچھ عرصہ تک تو ایسے رجال کار موجود تھے ۔جن کے سینے حدیثِ رسول کےسفینے تھے اور سینہ بسینہ یہ علم منتقل ہوا پھر یہ علم سینوں سے منتقل ہو کر اوراق کتب میں جگمگانے لگا۔ اب اگرچہ علم حدیث اکثر کتب کے اندر تھا مگر اہل علم ایسے جید الاستعداد تھے جو مراجع تک باسانی پہنچ جاتےتھے ۔تخریج الحدیث کے موضو ع پر عربی زبان میں تو ڈاکٹر محمود الطحان وغیرہم کتب موجود ہیں لیکن اردو زبان میں اس کا دامن خالی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’آپ حدیث کیسے تلاش کریں‘‘ جو کہ مولانا ابو محمد محسن گلزار نعمانی صاحب کی کاوش ہے۔ اس کتاب کو سامنے رکھ کر تخصصات حدیث وتقابل ادیان کےطلباء کرام کتب احادیث سے احادیث نکالنے کی عملی تربیت حاصل سکتے ہیں۔ اس کتاب کو ترتیب دیتے ہوئے   کتاب ’’تخریج الحدیث الشریف للبقاعی سے کافی استفادہ کیا گیا ہے۔ احادیث کو تلاش کرنےکی معرفت کےلیے یہ ایک جامع کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کی کاوش کو قبول فرمائے اور اسے طالبان علوم نبوت کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین( م۔ا)

  • pages-from-ittibaa-e-sunnat
    عمر فاروق سلفی

    دین اسلام   میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه (سورہ نساء:80) جس نے رسول اللہﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ اور سورۂ محمد میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(سورہ محمد:33)اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرو (اور اطاعت سے انحراف کر کے) اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔ اطاعت رسولﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرمﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے۔ اطاعت رسولﷺ کے بارے میں صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث بڑی اہم ہے۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’میر ی امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا تو صحابہ کرام﷢ نے عرض کیا انکار کس نے کیا؟ تو آپﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ (صحیح بخاری:7280) گویا اطاعتِ رسولﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی نہیں۔ اطاعت ِ رسولﷺ کے بارے میں قرآنی آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی چاہیے۔ جس طر ح عبادات(نماز، روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار، کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔ گویا اپنی پوری زندگی میں خواہ انفرادی ہویا اجتماعی، مسجد کے اندر ہویا مسجدکے باہر، بیوی بچوں کے ساتھ ہو یا دوست احباب کے ساتھ ،ہر وقت، ہرجگہ سنت کی پیروی مطلوب ہے ۔محض عبادات کے چند مسائل پرتوجہ دینا اور زندگی کے باقی معاملات میں سنت کی پیروی کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں کہلا سکتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اتباع سنت‘‘ محترم جناب عمرفاروق سلفی کی مرتب شدہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سنت، معنی ومفہوم اور تعریف، اتباع سنت کے لیے بنیادی شرط، اتباع سنت کی ضرورت واہمیت، اتباع سنت کے تقاضے، فتنہ انکار حدیث، بدعت.... اتباع سنت کی راہ میں حائل رکاوٹ، عصر حاضر میں اتباع سنت جیسے عنوانات قائم کر کے اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کی دنیا اور اُخروی نجات کا معیار صرف اور صرف قرآن وسنت ہے۔ اور ان دونوں کے علاوہ کو ئی تیسری چیز ہے ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور تمام مسلمانوں کو قرآن وحدیث کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (م۔ا)

  • title-pages-isbat-al-daleed-ala-touseek-muamal-bin-ismaiel-copy
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل" یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح" یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب" اثبات الدلیل علی توثیق مؤمل بن اسماعیل "انڈیا کے معروف عالم دین، محقق محترم ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے راوی حدیث مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں پچیس(25) محدثین سے توثیق ثابت کرتے ہوئے ان پر جرح کے اقوال کا جائزہ لیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ahades-e-sahi-bukhari-o-muslim-
    ارشاد الحق اثری
    صحیح بخاری و صحیح مسلم سے متعلق امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کے بعد یہ صحیح ترین کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کے بارے علمائے امت کا یہ حکم بلاوجہ نہیں ہے احادیث کا اکثر و بیشتر ذخیرہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کے دور میں مشہور تھا اسی ذخیرہ سے انہوں نے صحیح احادیث پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا۔ ایک ایک حدیث اور ہر ایک کی سند کی خوب چھان پھٹک کی، خوب تحقیق و تدقیق کے بعد صحت کا یقین ہوا تو اپنی کتب میں درج کیا۔ اس کے بعد سیکڑوں محدثین کی نظریں ان پر مرتکز رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کتابوں کو امت مسلمہ سے تلقی بالقبول حاصل ہوا۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے درایت و عقل کے حوالے سے صحیح احادیث کے رد کرنے کا شاخسانہ کھڑا کیا تو کسی نے صحیح بخاری و مسلم پر بلا جواز عمل جراحی کا شوق پورا فرمایا۔ اس بہتی گنگا میں مولانا حبیب الرحمٰن کاندھلوی نے بھی ہاتھ دھونا اپنا فرض سمجھا انہوں نے ’مذہبی داستانیں‘ نام سے کتاب لکھی جس میں انہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث پر شدید نکتہ چینی کی بلکہ انہوں نے صحیح بخاری کو نامکمل کتاب قرار دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ امت مسلمہ کا اسے حدیث کا صحیح ترین مجموعہ قرار دینا بھی محض ایک مذہبی داستان ہے۔ اس کےعلاوہ بہت صحابہ کرام کے حوالہ سے بھی اوٹ پٹانگ باتیں لکھیں۔ زیر مطالعہ کتاب موصوف کی اسی کتاب کے جواب میں وجود میں آئی ہے۔ مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ ایک صاحب علم شخصیت اور حدیث و اصول حدیث کا خاص ذوق رکھتے ہیں انہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ان احادیث کا بھرپور طریقے سے دفاع کیا ہے جن پر ’مذہبی داستانیں‘ میں تنقید کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مقدمہ الکتاب میں کاندھلوی صاحب کی کتاب کا ایک طائرانہ جائزہ بھی پیش کر دیا گیا ہے جس سے مصنف کاندھلوی صاحب کی ’قیمتی‘ نگارشات کے خدوخال نمایاں ہو جاتے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-ahadeese-zaifa-ka-majmoua--albani--copy
    ناصر الدین البانی

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة واثرها السي في الامة کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے ۔شیخ البانی نے سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ سنن اربعہ اور باقی کتب حدیث میں ان احادیث کو تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے او ر ان کی تحقیق کو تفضیل کے ساتھ پیش کیا اور انہیں جرح وتعدیل کے قواعد کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام اور ائمہ حضرات کے علاوہ عوام الناس کے لیے بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے ترجمہ کے فرائض معروف عالم دین مولانا محمد صادق خلیل ﷫ نے انجام دئیے ہیں ۔ کتاب ہذا سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة واثرها السي في الامة کی پہلی جلد میں سے صرف سو ضعیف اور موضوع احادیث کی تحقیق کو سلیس اردو میں پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالی مصنف ومترجم کے درجات بلند فرمائے ، ان کی خدمتِ دین کےلیے جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

  • title-pages-ahadeese-zaifa-ka-majmoua-1-copy
    ناصر الدین البانی

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم  شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ  کے لیے  اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر  علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے  جنہوں نے  ساری زندگی شجرِ حدیث کی  آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے  تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ  پر عبور واستحضار رکھتے  تھے ۔آپ کی  شخصیت مشتاقان علم وعمل  کے لیے  نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی  علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی  محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ  دین کے لیے  ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات  میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ  البانی  نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ  پرکھ  کاشعور زندہ کیا۔شیخ  کی ساری زندگی  درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد  تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں  شیخ  البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے  ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث  ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث  ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب  سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة  واثرها السي في الامة  کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے  ۔شیخ البانی  نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ  سنن اربعہ اور باقی کتب  حدیث میں  ان احادیث کو  تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے  او ر ان کی تحقیق  کو  تفضیل کے ساتھ پیش کیا  اور  انہیں جرح وتعدیل  کے  قواعد  کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے  کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام  اور ائمہ  حضرات  کے  علاوہ عوام الناس کے لیے  بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے  ترجمہ کے فرائض معروف  عالم دین   مولانا  محمد صادق خلیل ﷫ نے  انجام دئیے ہیں  یہ کتاب  3 جلدوں  پر مشتمل ہے  جلداول میں 100 اور جلددوم میں 200 اور ثالث میں بھی  200 احادیث ہیں ۔مولانا صادق خلیل نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة کی  دو جلدوں کےترجمے کا کام مکمل  کرلیا تھا او رتیسری جلد کا ترجمہ جاری  تھا کہ مولانا  6؍فروری2004ء بروز جمعۃ المبارک  اس دارفانی  سے  کوچ کرگئے۔اللہ  تعالی مصنف ومترجم  کے درجات بلند فرمائے  ، ان کی خدمتِ دین کےلیے  جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ahadeese-zaifa-ka-majmoua-1-copy
    ناصر الدین البانی

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم  شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ  کے لیے  اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر  علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے  جنہوں نے  ساری زندگی شجرِ حدیث کی  آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے  تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ  پر عبور واستحضار رکھتے  تھے ۔آپ کی  شخصیت مشتاقان علم وعمل  کے لیے  نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی  علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی  محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ  دین کے لیے  ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات  میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ  البانی  نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ  پرکھ  کاشعور زندہ کیا۔شیخ  کی ساری زندگی  درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد  تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں  شیخ  البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے  ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث  ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث  ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب  سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة  واثرها السي في الامة  کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے  ۔شیخ البانی  نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ  سنن اربعہ اور باقی کتب  حدیث میں  ان احادیث کو  تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے  او ر ان کی تحقیق  کو  تفضیل کے ساتھ پیش کیا  اور  انہیں جرح وتعدیل  کے  قواعد  کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے  کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام  اور ائمہ  حضرات  کے  علاوہ عوام الناس کے لیے  بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے  ترجمہ کے فرائض معروف  عالم دین   مولانا  محمد صادق خلیل ﷫ نے  انجام دئیے ہیں  یہ کتاب  3 جلدوں  پر مشتمل ہے  جلداول میں 100 اور جلددوم میں 200 اور ثالث میں بھی  200 احادیث ہیں ۔مولانا صادق خلیل نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة کی  دو جلدوں کےترجمے کا کام مکمل  کرلیا تھا او رتیسری جلد کا ترجمہ جاری  تھا کہ مولانا  6؍فروری2004ء بروز جمعۃ المبارک  اس دارفانی  سے  کوچ کرگئے۔اللہ  تعالی مصنف ومترجم  کے درجات بلند فرمائے  ، ان کی خدمتِ دین کےلیے  جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ahadeese-zaifa-ka-majmoua-1-copy
    ناصر الدین البانی

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم  شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ  کے لیے  اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر  علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے  جنہوں نے  ساری زندگی شجرِ حدیث کی  آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے  تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ  پر عبور واستحضار رکھتے  تھے ۔آپ کی  شخصیت مشتاقان علم وعمل  کے لیے  نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی  علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی  محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ  دین کے لیے  ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات  میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ  البانی  نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ  پرکھ  کاشعور زندہ کیا۔شیخ  کی ساری زندگی  درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد  تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں  شیخ  البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے  ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث  ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث  ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب  سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة  واثرها السي في الامة  کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے  ۔شیخ البانی  نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ  سنن اربعہ اور باقی کتب  حدیث میں  ان احادیث کو  تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے  او ر ان کی تحقیق  کو  تفضیل کے ساتھ پیش کیا  اور  انہیں جرح وتعدیل  کے  قواعد  کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے  کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام  اور ائمہ  حضرات  کے  علاوہ عوام الناس کے لیے  بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے  ترجمہ کے فرائض معروف  عالم دین   مولانا  محمد صادق خلیل ﷫ نے  انجام دئیے ہیں  یہ کتاب  3 جلدوں  پر مشتمل ہے  جلداول میں 100 اور جلددوم میں 200 اور ثالث میں بھی  200 احادیث ہیں ۔مولانا صادق خلیل نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة کی  دو جلدوں کےترجمے کا کام مکمل  کرلیا تھا او رتیسری جلد کا ترجمہ جاری  تھا کہ مولانا  6؍فروری2004ء بروز جمعۃ المبارک  اس دارفانی  سے  کوچ کرگئے۔اللہ  تعالی مصنف ومترجم  کے درجات بلند فرمائے  ، ان کی خدمتِ دین کےلیے  جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-ahadees-e-quddasia-1
    ابو مسعود ندوی

    علم حدیث کی اصطلاح میں ’حدیث قدسی رسول اللہﷺ سے منسوب اس روایت کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ روایت کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہیں، یعنی اس کی سند اللہ تعالیٰ تک بیان کی جاتی ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کے لیے ”متکلّم“ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ملا علی قاری حدیث قدسی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حدیث قدسی اسے کہتے ہیں جس کی روایت رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے فرمائی ہے کبھی حضرت جبریل کےواسطہ سے اور کبھی وحی الہام یا خواب کے ذریعہ سے اور آپﷺ نے اپنے الفاظ میں وہ مفہوم ادا فرمایا ہے۔ احادیث قدسیہ کو جمع کر کے الگ مؤلفات تیار کرنے کے لیے مختلف زمانوں میں مختلف عُلماء کرام نے حسب معمول بہت جان ریزی سے کام لیا ہے، اور مختلف کتابیں مرتب کی ہیں، اُن میں سے کچھ تو ایسی ہیں جن میں صرف روایات مذکور ہیں، اور کچھ ایسی ہیں جن میں روایات اپنے اصل مصادر کے حوالہ جات کے ساتھ مذکور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احادیث قدسی‘‘ علماء کی ایک کمیٹی کا احادیث کی مشہور ترین مجموعوں موطا امام اور صحاح ستہ سے قدسی روایات اخذ کے جمع کردہ ہے جسے دارالکتب العلمیہ، بیروت نے شائع کیا ہے اسلامک بک فاؤنڈیشن دہلی نے اس مجموعہ کو مولانا ابو مسعود ندوی کے ترجمہ کے ساتھ بمع عر بی متن شائع کیا۔ بعد ازاں منشورات، لاہور نے اس مجموعہ کا صرف اردو ترجمہ شائع کیا ہے لیکن اس میں احادیث کے حوالہ جات درج کردئیے ہیں تاکہ اہل علم کو عربی متن کی تلاش میں دقت نہ ہو۔ (م۔ا)

  • title-pages-ahadees-e-mazariat-ka-aik-mutalia-copy
    سید حامد عبد الرحمن الکاف

    زیر تبصرہ کتابچہ"احادیث مزارعت کا ایک مطالعہ، حقوق کے سلسلے میں اسلام کا قاعدہ کلیہ" محترم  جناب السید حامد عبد الرحمن الکاف صنعاء، یمن کے ان دو مقالات پر مشتمل ہے، جو اس سے پہلے ہفت روزہ "الاعتصام" میں بالاقساط چھپ چکے تھے۔چنانچہ مولف کی خواہش پر انہیں کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا جو اس وقت آپ کے سامنے ہیں۔ان میں سے پہلا مقالہ ان احادیث مزارعت کے مطالعہ وتحقیق پر مشتمل ہے جو کتب احادیث میں پائی جاتی ہیں اور جن میں بظاہر کچھ تعارض سا نظر آتا ہے۔علمائے کرام نے ان کے درمیان جمع وتطبیق کی کئی صورتیں بیان فرمائی ہیں، جن سے بادی النظر میں محسوس ہونے والا یہ تعارض دور ہوجاتا ہے اور مسئلہ ایک واضح شکل میں سامنے آ جاتا ہے۔تاہم سطح بین قسم کے لوگ پھر بھی  ان روایات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور دوسروں کو مغالطے میں ڈالنے کی مذموم کوشش کرتے ہوئے مزارعت کے مطلقا عدم جواز کا فتوی جاری کر دیتے ہیں۔کتابچے میں دوسرا مقالہ "حقوق کے سلسلے میں اسلام کا قاعدہ کلیہ" کے عنوان سے ہے ، جس میں شورائی نظام اور عصر حاضر میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔امید ہے کہ علمی ودینی حلقوں میں ان دونوں مقالات کو قدر اور تحسین کی نظر سے دیکھا جائے گا اور یہ عوام کی فکری جلا اور ازدیاد بصیرت کا باعث ہوں گے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • ahadees-me-taruz-rafa-krne-k-usool-maqala-m-phil
    مرزا عمران حیدر
    قرآن مقدس کے بعد احادیث نبویہ دین اسلام کا دوسرامعتبر ذریعہ ہے ۔دین اسلام  کے یہ دو اصل بڑے ماخذ ہیں ، اس اہمیت کے پیش نظر صحابہ کرام  ،تابعین و تبع تابعین اور علماء و محدثین جیسے قرآن حکیم کو سینوں میں محفوظ کیا ،اسی طرح ذخیرہ حدیث کوحفظ وتحریر اوردرس و تدریس کے ذریعہ محفوظ و مامون بنایا اور قبول حدیث کے ایسے حتمی اور معتبر اصول وضع  کیے کہ احادیث نبویہ میں اختراع اوروضع احادیث کا خاتمہ ہوگیا ۔پھر علما و محدثین نے فقہ و اجتہاد سے شرعی مسائل مستنبط کیے اور کتاب وسنت کے دلائل سے مسائل اخذ کرنے کے قواعد و ضوابط وضع کیے ،جن کی راہنمائی سے اصل مسئلہ تک رسائی ممکن ہوئی اور علمائے سلف کی ان کاوشوں سے تاویلات وتحریفات اور احادیث نبویہ میں تشکیکات پیدا کرنے والوں کےاہداف متاثر ہوئے اور ایسے فتنہ گروں کو ہر دور میں سخت پسپائی اورندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ان متجددین کا اصل ہدف احادیث میں شکوک و شبہات پیداکر کے دین کے اس  دوسرے بڑے ماخذ کو بے اثر کر کے اپنی من مانی تاویلات اور فکری کجی کو ایک باقاعدہ دین کی شکل دینا تھا ۔لیکن نہ یہ بازیگر اپنی اس مہم جوئی میں ماضی میں کامیاب ہوسکے اورنہ یہ حال  واستقبال میں کبھی سرخرو ہوں گے ،کیونکہ دین کی حفاظت کاذمہ خود اللہ مالک الملک نے اپنے ذمہ لیا ہے ۔لہذا ان فتنہ گروں کو سوائے ذلت و رسوائی اور ہزیمت وشکست  کے کچھ نہ ملے گا ۔منکرین احادیث نے احادیث رسول میں کئی طرح سے تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی،ان میں ایک اعتراض یہ تھا کہ احادیث اس حوالہ سے غیر معتبر ہیں کہ ان میں اختلاف پایا جات ہے اورایک ہی معنی کئی متضاد مفہوم کی احادیث پائی جاتی ہیں ۔اس اعتراض کا سبب ان کی علمی کم مائیگی ،جہالت اور حدیث دشمنی کا شاخسانہ ہے ۔ورنہ مفاہیم و مطالب میں اختلاف تو قرآنی آیات میں بھی موجو د ہے کہ فقط اختلاف مفاہیم کی وجہ سے کلام الہٰی کو غیر معتبر قرار دیا جاسکتاہے،اس عقلی موشگفی کو ماننے کے لیے اپنے یہ کرم فرما بھی تیار نہیں ۔پھر مختلف احادیث کو حل اور جمع کرنے کے باقاعدہ قواعد و ضوابط اور کتب موجود ہیں ،جن سے اس تعارض کا حل ممکن ہے ۔تعارض احادیث کو رفع کرنے کے بارے میں زیرنظر مقالہ ایک اچھی کاوش اور منکرین حدیث کے تعارض حدیث کے اعتراض کابہترین تریاق بھی۔(ف۔ر)

  • title-page-ahadees-e-hidaya-fanni-wa-tahqiqi-jaiza-copy
    ارشاد الحق اثری

    اس وقت پوری دنیا خصوصاً برصغیر پاک وہند میں فقہ حنفی کو خاصی پذیرائی حاصل ہے اور بلاتردد فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'الہدایۃ' کو کتاب وسنت کا نچوڑ قرار دیا جاتا ہے-  یہ دعوی کس حد تک درست ہے ؟ اور کیا 'ہدایۃ' فی الواقع قرآن کی طرح ہے؟  اس کا شافی اور تسلی بخش جواب ہمیں اس کتاب میں ملے گا-  جس میں ''الہدایۃ''  میں بیان کردہ من گھڑت روایات، اوہام الہدایۃ اور صاحب ہدایۃ کی تضاد بیانیاں جیسے متعدد موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے اس کی مکمل فنی وتحقیقی حیثیت آشکارا کی گئی ہے-  اصل میں اب سے  کچھ عرصہ قبل مولانا محمد یوسف جے پوری نے 'حقیقۃ الفقہ' کے نام سے کتاب لکھی جس میں احادیث ہدایۃ پر نقد وتبصرہ کیا گیا تھا جس پر ایک حنفی عالم نے ماہنامہ 'البینات' میں ایک لمبا چوڑا مضمون لکھ مارا جس کےجواب میں ارشاد الحق اثری صاحب نے استحقاق حق اور ابطال باطل کا فرض ادا کرتے ہوئے تفصیلی مضامین قلمبند کیے – زیر مطالعہ کتاب کچھ حک واضافہ کے ساتھ انہی مضامین کی یکجا صورت ہے- کتاب کے مطالعے  سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ فقہی مسلک کتاب وسنت کی مکمل تفسیر نہیں بلکہ اس بحر بے کنار کا ایک قطرہ ہے-

     

  • title-pages-ikhtisar-aloomulhadees
    حافظ زبیر علی زئی

    محدثین کرام نے نہایت جانفشانی کے ساتھ احادیث کی کتابوں کے مجموعے لکھے، اسماء  الرجال کا علم مدون کیا اور اصول حدیث کی کتابوں کو زیب قرطاس کر کے ہمارے لیے آسانیاں فراہم کیں۔ زیر نظر کتاب ’اختصار علوم الحدیث‘ بھی دراصل اصول حدیث پر لکھی جانے والی اسماعیل بن عمر بن کثیر کی شاندار کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ شیخ محترم حافظ زبیر علی زئی کے ترجمے اور تحقیق و حواشی نے کتاب کو چار چاند لگادئیے ہیں جس سے ان کی خداداد صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب میں نہایت عرق ریزی کے ساتھ حدیث کی تمام اقسام مثلاً صحیح، حسن، ضعیف، معضل، منقطع اور شاذ وغیرہم کی تمام تر ضروری تفصیلات کو احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔

     

     

  • title-pages-arbaeen-sanai
    ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری
    جمع حفاظت قرآن مجید کے بعد احادیث نبویہ اور سنن رسول اللہﷺ کے جمع و ضبط، حفاظت و صیانت پر جن احوال و ظروف اور ارشادات خاتم الانبیا نے صحابہ کرام اور تابعین عظام کو آمادہ کیا ہے ان میں ان بشارتوں کا بھی ایک خاص مقام ہے جن کی وجہ سے علمائے امت کےلیے صحرائے احادیث کے سنگ پاروں اور بحر آثار کے قطروں کو محفوظ کرنا ایک اہم علمی وظیفہ اور دینی خدمت بن گیا۔ نبی کریمﷺ نے چالیس حدیثوں کے حفظ و نقل پر جو عظیم بشارت دی ہے ا سکے پیش نظر خیر القرون سے اب تک بے شمار لوگوں نے حدیث کی حفاظت کی اور زبانی یا تحریری طریقہ سے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ صاحب کشف الظنون علامہ مصطفٰی بن عبداللہ معروف بکاتب چلپی نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے اپنے زمانے کے مشاہیرعلما میں سے تقریباً 75 علما کی 90 سے زائد اربعینات کا تذکرہ کیا ہے۔ شیخ الاسلام ثناء اللہ امر تسری کسی تعارف کےمحتاج نہیں ہیں انھوں نے بھی ’اربعین ثنائی‘ کے نام سے چالیس احادیث جمع کیں۔ مولانا محمد علی جانباز نے ان چالیس احادیث کی مختصر شرح کر دی جس کے بعد یہ کتاب افادہ قارئین کے لیے حاضر ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-arbaein-hadees-al-nowihadith-1
    جمال الدین زر ابوزو
    ’اربعین نووی‘ سے مراد محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف الحزامی النووی رحمۃ اللہ علیہ کی منتخب کردہ وہ چالیس احادیث ہیں جو دین اسلام کےتقریباً تمام بنیادی امور کا احاطہ کرتی ہیں۔ اگرچہ چالیس احادیث پر مشتمل مجموعے کئی اشخاص نے مرتب کیے ہیں لیکن جو مقام موصوف محترم کے مجموعے کو حاصل ہوا کسی اور کو نہیں ہو سکا۔ اس وقت آپ کے سامنے امام نووی کی اربعین پر محترم جمال الدین زرابوزو کی انگریزی میں لکھی گئی شرح کے اردو ترجمے کا ابتدائی حصہ ہے۔ جسے انھوں نے نعیم الدین زبیری کے زیر نگرانی مکمل کیا۔ یہ کتابچہ اس سلسلہ کی پہلی حدیث کی تشریح پر مشتمل ہے۔ کتابچہ میں اس بات کی دانستہ کوشش کی گئی ہے کہ قارئین میں عربی زبان، تخریج حدیث اور اسماء الرجال جیسے اہم مضامین کا ذوق پیدا کیا جائے۔ وہ ان مضامین کا عمومی طور احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ بعض مقامات پر ان پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ لہٰذا! اس شرح کو پڑھنے والوں میں کسی قدر ان مضامین سے رغبت اور ان سے ذوق پیدا ہوگا۔ دینی موضوعات پر اب تک انگریزی میں لکھی جانے والی کتب میں سے زیر نظر کتاب خاصی اہمیت کی حامل ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-arbaen-li-nisa-copy
    پروفیسر ثریا بتول علوی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی ﷺ سے  ہوا صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی  اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع  ہوچکے  ہیں۔نیزبرصغیر میں بھی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ سے  لےکر عصر حاضر کے متعدد علماء کرام نے بھی ’’اربعین‘‘ کے نام سے  کئی مجموعے مرتب کیے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اربعین للنساء‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اس کتاب کو پروفیسر محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ  نے   خواتین کے لیے  مرتب کیا ہے ۔مصنفہ نےاس میں مجموعہ کو   پانچ ابواب اور چالیس ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا ہے ۔ جن میں ایمانیات واخلاق ، ارکان واعمال ،معاملات اور ستروحجاب جیسے اہم موضوعات کا انتہائی پر مغز اور معنی خیر احاطہ کیا ہے ۔خواتین کی انفرادی زندگی سے لے کر عائلی ومعاشرتی سطح تک  اہم مسائل سے متعلقہ احادیث مبارکہ  کا انتہائی دقت تظری سے  انتخاب کیا گیا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ مجموعہ مختصر ہونے کے باوجود جامع او رمحیط ہے  اور اپنی  جامعیت  وافادیت کے لحاظ سے اس قابل ہے کہ اسے  باقاعدہ سبقاً پڑھا یاجائے ۔اللہ تعالیٰ اس مجموعہ  حدیث کو  خواتین اسلام کے لیے نفع بخش بنائے  اور مصنفہ کی  اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-izalatu-al-karab-un-tousek-samak-bin-harab-copy
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل" یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح" یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب"ازالۃ الکرب عن توثیق سماک بن حرب"انڈیا کے معروف عالم دین، محقق محترم ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے راوی حدیث سماک بن حرب کے بارے میں پینتیس محدثین سے توثیق ثابت کرتے ہوئے ان پر جرح کے اقوال کا جائزہ لیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islam-main-sunnat-ka-maqam-copy
    محمد لقمان سلفی

    قرآن  کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے  مصدر شریعت  اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ  سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے  ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے  ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور  فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی  تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ)  میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری  فرماکر  دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی  بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان  کی فرضیت کے بارے  میں ابہام پیدا کرکے  کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے  سنت کی شرعی  حیثیت کو مجروح کر کے  دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن الحمد للہ  ہر دو ر میں محدثین  اور  علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی  اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔زیر نظر کتاب ’’ اسلام میں سنت کا مقام ‘‘ ہندوستان کے جید عالم دین مفسر  قرآن  ڈاکٹر  محمد لقمان  سلفی ﷾ کی حجیت سنت کے اثبات  اور منکرین سنت ومستشرقین کی تردید کے سلسلہ میں  ان کی  مایہ ناز  عربی تصنیف مكانة السنة فى التشريع الإسلامى کا  سلیس  ورواں  اردو ترجمہ ہے ۔ڈاکٹر صاحب  نے  اس  کتاب میں  شریعت ِاسلامیہ میں سنت کا  جو عظیم مقام  ہے اسے  قرآن  کریم  کی آیات مبارکہ اور صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے  واضح کیا ہے کہ  جس طرح قرآن کریم دینِ اسلام کے بنیادی عقائد اور شرائع اسلامیہ کو جاننے کا  پہلا ذریعہ ہے اسی طرح نبی کریم ﷺکی احادیث کریمہ دوسرا ذریعہ ہیں ۔ان کے بغیر اسلام کی تکمیل کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ا س کےبعد تاریخی حوالہ جات کی مدد لیتے ہوئے سنت کی جمع وتدوین پر روشنی ڈالنے  کے علاوہ محدثین عظام کی ان  کوشش کو اجاگر کیا  ہے  جن کے  نتیجہ میں  یہ علم شریعت بحفاظت تمام  اکٹھا  کردیا گیا ۔ فاضل مصنف  ڈاکٹر لقمان سلفی ﷾ اس کتاب کے علاوہ کئی کتب کے  مصنف  جامعہ  ابن تیمیہ ،ہنداور  دار الداعی للنشر والتوزیع ،الریاض کے مؤسس ومدیر  ہیں۔ سعودی عرب میں  ڈاکٹریٹ کی تکمیل کے بعد  وہیں  تصنیف وتدریس  میں  مصروف ہیں  ۔ان کی خدمات اور  کارناموں کی  وجہ سے انہیں سعودی شہریت بھی حاصل  ہے  ۔اور موصوف مدینہ  یونیورسٹی میں  تعلیم کے دوران  علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیداور استاذ الاساتذہ حافظ  ثناء اللہ مدنی ﷾ (شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور)  وغیرہ کے ہم کلاس ر ہے ہیں اور ان کا  شمارشیخ ابن  باز   کےخاص تلامذہ میں سے ہوتا ہے  ۔اللہ تعالی  دین اسلام کے لیے ان کی مساعی جمیلہ کو قبول  فرمائے۔ اور اس کتاب کو مستشرقین  و منکرین سنت کے تمام  مکائد  اور شبہات واوہام  اور ان کے مکر وفریب کے  خاتمہ کا  ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)  

  • title-pages-istalahaat-ul-muhaddiseen
    سلطان محمود محدث جلالپوری
    علم حدیث کے تحقیقی مطالعہ کے لیے اصطلاحات محدثین کا جاننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ عربیت کے لیے صرف اور نحو۔ اس موضوع پر اب تک بہت سے کتب و رسائل لکھے جا چکے ہیں۔ لیکن اس موضوع پر کتب اس انداز سے لکھی جاتی ہیں کہ فقط اہل علم حضرات ہی اس سے استفادہ کر پاتے ہیں مبتدی طالب علم ان سے ایک حد تک ہی مستفید ہو پاتے ہیں۔ شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری نے اس مشکل کا زیر نظر مختصر سے کتابچہ کی صورت میں بہت آسان حل نکالا ہے۔ جس میں نہایت سادہ اسلوب میں بنیادی اصلاحات حدیث رقم کر دی گئی ہیں جس سے مدارس کی ابتدائی کلاسوں کے طلبہ اور عوام الناس از خود استفادہ کر سکتے ہیں۔ (ع۔م)

  • 1
    ڈاکٹر محمود الطحان
    احادیث رسولﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے جہاں علم جرح و تعدیل، علم تاریخ الرواۃ اور معرفۃعلل الحدیث جیسے علوم وجود میں آئے وہیں اس سلسلہ میں کسی بھی غلطی سے محفوظ رہنے کے لیے علم مصطلح الحدیث وجود میں لایا گیا۔ احادیث کا مطالعہ اور ان سے استنباط و استخراج اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اصطلاحات حدیث کا پورا درک نہ ہو جائے۔ زیر مطالعہ کتاب اسی سلسلے کی ایک اہم کڑیہ ہے۔ اصطلاحات حدیث پر بہت سی عربی اور اردو کتب میں موجود ہیں لیکن اس کتاب کی افادیت اس وجہ سے زیادہ ہے کہ اس میں اختلافی اقوال کے ذکر اور مسائل کو پھیلا کر بیان کرنے سے گریز کیا گیا ہے اور حدیث کے قواعد و اصطلاحات کو عام فہم انداز میں نقل کیا گیا ہے۔کتاب کا اردو ترجمہ مظفر حسین ندوی نے کیا ہے۔ ترجمہ اس اعتبار سے زیادہ قابل اعتماد ہو گیا ہے کہ اس کی ایک نظر ثانی مولانا تاج الدین ازہری اور دوسری نظر ثانی مولانا عبدالقیوم نے کی ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-asol-al-takhreej-copy
    عزیر یونس سلفی المدنی

    حدیثِ رسول کی خدمت کےلیے جن علوم پر دسترس حاصل کرنا ضرووری ہے ان میں سے ایک علم ’’تخریج واصول تخریج‘‘ کاعلم ہے۔علم اصول تخریج سے مراد وہ علم جس میں ان اصول وضوابط کی پہنچان حاصل ہو جن کے ذریعے راوی اور روایت کی حالت اور مخرج معلوم کرنے کا طریقہ اور متعلقہ روایت کے تمام طرق اور الفاظ اکٹھے کر کے اس روایت پر صحت یا ضعف کاحکم لگانے کا ملکہ حاصل ہو ۔فن تخریج کا جاننا ہر طالبِ حدیث کےلیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ سنت رسول ﷺکی معرفت کےلیے یہ فن بنیادی کردار ادا کرتا ہے خاص طور سے موجودہ زمانہ میں علوم ِشریعت سے تعلق رکھنے والے باحثین اور محققین کےلیے اس کی معرفت بے حد ضروری ہے کیونکہ اس فن کی معرفت سے حدیثِ رسول کی معرفت حاصل ہوتی ہے فن حدیث کی بنیادی کتابوں کی معرفت ان کی ترتیب ، طریقۂ تصنیف اور ان سے استفادہ کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے اسی طرح فنونِ حدیث کے دیگر علوم کی معرفت حاصل ہوتی ہے جن کی ضرورت تخریج حدیث میں پڑتی ہے۔ مثلاً اسماء الرجال، جرح وتعدیل ،علل حدیث وغیرہ۔نیز اس علم کی معرفت سے بڑی آسانی سے حدیث رسول کی معرفت ہوجاتی ہے اور یہ پتہ چل جاتا ہے کہ مطلوبہ روایت کتبِ حدیث میں سے کن کتابوں میں کہاں پائی جاتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اصول التخریج ‘‘عزیر یونس السلفی المدنی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ،سابق استاذ جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ) کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلے حصے میں تخریج کی مبادیات ، تخریج کےچھ اصول ،ان کی تفصیل اور ان میں استعمال ہونے والی کتب کاتعارف، ان کا طریقۂ استعمال، اور جدید طبقات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کے دوسرے حصہ میں سند اور متن کےاحوال ، جرح وتعدیل کےمراتب اور رجال پر لکھی جانے والی کتب اور ان کاطریقۂ استخدام بیان کیا گیا ہے۔فاضل مصنف نے انتہائی محنت وکوشش کے ساتھ یہ کتاب مرتب کی ہے اور الگ الگ تبویب کے ساتھ بہت احسن انداز میں اصطلاحات اور جرج وتعدیل ک اصول اور اس فن پر لکھی گئی کتب کا تعارف اور ان سے استفادہ کا طریقہ بھی لکھ دیا ہے ۔ امید واثق ہے کہ طلباء واساتذہ کرام کے لیے یہ کتاب رہنما ثابت ہوگی اور اس کےمطالعہ سے کمپیوٹر اور اانٹرنیٹ میں موجود احادیث اور ان کی تخریج وحکم لگانا بھی کافی آسان ہوجائےگا۔( ان شاء اللہ ) اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور طالبانِ حدیث نبوی ﷺ کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-usool-e-hadith
    حبیب الرحمن
    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ مطالعہ حدیث کورس کا یہ پہلا یونٹ ہے، اس یونٹ میں علم حدیث کا تاریخی پس منظر، علوم حدیث کا تعارف، مقام حدیث، حجیت حدیث، تدوین حدیث، حدیث کی مشہور اصطلاحات، طبقات کتب حدیث اور حدیث کی مشہور کتابوں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ کوئی بھی بات بغیر حوالہ کے نقل نہیں کی گئی، البتہ احادیث کے حوالہ جات دیتے ہوئے کتاب کا نام اور کتاب یا باب کا حوالہ دینے پر اکتفا کیا گیا ہے اگر رقم الحدیث بھی ساتھ درج کر دیا جاتا تو اصل مصادر تک پہنچنے میں مزید آسانی ہوتی۔ مکمل کورس میں اسلوب نہایت سادہ اور عام فہم رکھا گیا ہے جو عوام الناس اور اہل علم دونوں کے لیے مفید ہے۔(ع۔م)

  • title-pages-usool-e-hadeeth
    محمد اویس نگرامی ندوی
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک سیکڑوں اور ہزاروں علما کی شبانہ روز محنت کےباوصف ایسے نقلی اور عقلی اعتبار سے اصول تیار ہوئے جن کے باوصف حضور پاکﷺ کی زندگی کا ایک ایک خدو خال اپنی صحیح صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ حدیث کے طالب علم کو ہمیشہ وہ اصول یاد رکھنے چاہئیں جو حدیث کی حفاظت نیز اس کی صحت کی جانچ پڑتال کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ مقصود ہاتھ سے نہ جانے پائے  اور صحیح طریقہ سے جناب رسولﷺ کا اتباع نصیب میں آئے۔ اسی خیال کے پیش نظر حدیث کے وہ اہم اور ضروری اصول جن کے بغیر علوم نبویﷺ کے طالب علموں کو چارہ نہیں  زیر نظر 17 صفحات پر مشتمل کتابچہ میں مولانا اویس ندوی نے بڑے احسن انداز میں قلمبند کر دئیے ہیں۔ (ع۔م)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1547 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں