• pages-from-ahmiyyat-e-hadees
    سید محمد اسماعیل مشہدی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی توضیح وتشریح ہی ہے۔کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں۔ پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیین و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (النحل:44) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے۔ آپﷺنے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“(مسند احمد:24601)یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ (احزاب:21)خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ ﷺکو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلندی کا وہ مقام بلند نصیب ہے کہ ساری رفعتیں اس کے آگے سرنگوں ہیں حتی کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارے پر بغیر کسی تردد وتوقف کے اپنی مرضی سے دستبردار ہوجانا معیار ایمان و اسلام ٹھہرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہمیت حدیث‘‘سید محمداسماعیل مشہدی کے 1376ھ کو عام خاص باغ ،ملتان میں حدیث کی اہمیت کے موضوع پر سالانہ جلسہ میں کیےگیے خطاب کی کتابی صورت ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے منکرین حدیث کے چند اعتراضات کے مدلل جواب دیے اور حدیث کی اہمیت وحجیت کو خو ب اجاگر کیا۔ تو بعد ازاں اسے افادۂ عام کےلیے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ۔

  • pages-from-hadees-e-khair-o-shar
    حافظ عبد المتین میمن جونا گڈھی

    جب سے یہ کائنا ت معرض وجود میں آئی اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لیے اپنے برگزیدہ اور محبوب انبیاء اور رسل کو مبعوث فرمایا۔ جو اپنے اپنے مخصوص علاقوں، بستیوں میں لوگوں کی اصلاح فرماتے رہے۔ اسی سلسلہ کا آغاز سیدنا آدم ﷤ سے ہوا اور آخر ی کڑی سیدالانبیاء سیدنا محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ کی زندگی کا ایک ایک گوشہ اور بول آپ کی ولادت سے وفات تک، کماحقہ محفوظ ہے۔ ملت اسلامیہ کے ہر فرد کے لیے رسول ﷺکااسوہ حسنہ حرزجاں کی حیثیت رکھتا ہے اور قرون اولیٰ میں اسلاف کا اس پر تمسک ایک تاریخی ریکاڈ ہے مگر رفتہ رفتہ لوگوں نے اپنے اکابر، بزرگوں،ائمہ اور آباء کی پیروی شروع کر دی اور اتباع کو چھوڑ کر تقلید کو اپنا لیاتو معاشرے میں بدعات و خرافات نے جنم لیا۔مسلمانوں نے اپنے اپنے ائمہ کی تقلید کو لازم کر لیااورحنفی،شافعی، مالکی، حنبلی وغیرہم کہلوانے میں فخر محسوس کرنے لگے اور اپنے مسلک کے دفاع پر اتر آئے حتی کہ ضعیف وموضوع، روایات کا سہارالیتے ہوئے اپنے اپنے مذہب کو ثابت کرنے پر کمر باندھ لی ۔مگر درحقیقت امت مسلمہ کی بھلائی اور نجات اطاعت نبوی ﷺ میں ہی مضمر ہے۔ ائمہ واکابرقابل احترام ہیں مگر ذریعہ نجات آپﷺ کا اسوہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "حدیث خیروشر" حافظ عبدالمتین میمن جوناگڑھی کی تصنیف ہے۔موصوف بھارت کے ممتاز عالم دین ہیں۔یہ کتاب انہوں نے "محمد پالن حقانی" کی کتاب "شریعت یا جہالت"کے جواب میں تحریر کی۔ حقانی صاحب نے اپنی کتاب میں اہل الحدیث پر طعنہ زنی کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کو یہودونصاریٰ سے مشابہت قرار دیا۔تو جناب حافظ عبدالمتین میمن جوناگڑھی نے محمد پالن حقانی کےاس اعتراض اور احناف کے کئی ایک مغالطوں کا دلائل وبراہین سےکتاب ہذا میں تعاقب کیا اور حقانی صاحب کے اعتراضات کا کتاب وسنت کی روشنی میں مدلل اور مسکت جواب تحریر کیا۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور ہم سب کو فرقہ واریت سے محفوظ رکھتے ہوئے خالص دین کے نور سے مالامال فرمائے۔یہ اس   کتاب کا جدید محقق شدہ ایڈیشن ہے۔ اور مولانا عبداللطیف اثری صاحب نے اس پر تعلیق اور مفید حواشی کا کام بھی کیا ہے ۔جس اس کتاب کی افادیت   وعلمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

  • untitled-1
    حافظ شیر محمد

    الفوز اکیڈمی کے زیر اہتمام معرفت حدیث کے موضوع پر مصنف کے دئے گئے نو لیکچرز کے ابتدائی تین لیکچرز پر مشتمل اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دین و شریعت کے ایک اہم ماخذ یعنی علم حدیث کو انتہائی سائینٹیفک لیکن سہل انداز میں متعارف کروایا جائے۔ طلبہ کی آسانی کیلئے اس کتاب میں بہت سے چارٹس بنا دئے گئے ہیں، تاکہ وہ اصطلاحات کے مشکل اسباق کو ذہن نشین کرنے میں آسانی محسوس کریں۔ یہ کتاب ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کو حدیث، تاریخ حدیث، تدوین حدیث، اظلاحات حدیث ، کتب حدیث اور دیگر متعلقہ علوم کی ابتدائی واقفیت پہنچانے کیلئے نہایت اہم ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہمارا یہ ذی شعور طبقہ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے امت مسلمہ کی سربلندی کے لیے فکری اور عملی اسلحہ سے لیس ہو کر سرگرم عمل ہو جائے۔

     

  • pages-from-hifazat-e-hadees-kiyoon
    ڈاکٹر محمد ادریس زبیر

    نبی کریم ﷺکے قول ،عمل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔یہ وہ الہامی ذخیرہ ہے جو بذریعہ وحی نطق رسالت نے پیش فرمایا۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ،فقہی استدلال فضول اورر راست دینی نظریات عنقا ہو جاتے ہیں۔یہ اس شخصیت کے کلمات خیر ہیں،جنہیں مان کر ایک عام آدمی صحابی رسول بنا اور اللہ تعالی نے اسے اپنی رضا مندی کے سرٹیفکیٹ سے نوازا۔یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے ،جسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے۔لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ حدیث رسول آج ایک مظلوم علم بن گیا ہے۔اس پر غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی کرم فرمائی کی ہے۔کہا جاتا ہے کہ حدیث کی حفاظت کا اہتمام نہ تو خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے اور نہ اس کا حکم دیا ہے،حفاظت حدیث کیا ضروری تھی؟حفاظت نہ کی جاتی تو کونسا پہاڑ ٹوٹ پڑتا؟کسی نے کہا کہ بہت ساری احادیث ہماری عقل کے مخالف ہیں۔یہ اور اس جیسے استخفاف حدیث پر مبنی کلمات ہمارے بعض مدبرین اور واعظین کی تحریروں میں نظر آتے ہیں۔ ایسے اعتراضات کو مستعار لینے اور دین پر جڑنے کی بجائے اگر یہ لوگ اس علم کو ذرا انہماک سے پڑھ لیتے تو شاید توقع سے زیادہ انہیں تشفی ہوتی اور ان کا بہت سا ذہنی نقصان نہ ہوتا۔زیر تبصرہ کتاب (حفاظت حدیث کیوں؟) اسی سلگتے موضوع پر لکھی گئی ہے جو پاکستان کے خواتین کے معروف ادارے الہدی انٹر نیشنل کی مدیرہ محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظھا اللہ کے خاوند ڈاکٹر محمد ادریس زبیر ﷾کی کاوش ہے۔مولف نے حفاظت حدیث کے موضوع پر انتہائی مفید اور مدلل بحث کی ہے۔اللہ ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-hifaz-e-hadees-course-part-1
    ڈاکٹر نور الحسین قاضی

    اللہ تعالیٰ نے یوں تو انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں لیکن قوتِ حافظہ ان میں اہم ترین نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس خاص نعمت سے انسان مشاہدات و تجربات اور حالات و واقعات کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت انہیں مستحضر کرکے کام میں لاتا ہے-اہل عرب قبل از بعثت ِنبویﷺ ہزاروں برس سے اپنا کام تحریر و کتابت کے بجائے حافظہ سے چلانے کے خوگر تھے-عرب بے پناہ قوت حافظہ کے مالک تھے۔ ان کے شعرا، خطبا اور اُدبا ہزاروں اشعار، ضرب الامثال اور واقعات کے حافظ تھے۔ شجر ہائے نسب کومحفوظ رکھنا ان کا معمول تھا بلکہ وہ تو گھوڑوں کے نسب نامے بھی یاد رکھتے تھے۔ موجودہ دور میں بھی مختلف اقوام میں ایسے بے شمار افراد پائے جاتے ہیں جن کے حافظوں کو بطورِ نظیر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ خود ہندوستان میں سیدانور شاہ کشمیری، سید نذیر حسین محدث دہلوی، حافظ عبدالمنان وزیرآبادی اور حافظ محمد محدث گوندلوی ﷭ بے نظیر حافظے کے مالک تھے-عربوں کا تعلق جب کلامِ الٰہی سے ہوا تو ان کو رسولِ کریمﷺاور قرآنِ مجید سے بے پناہ عقیدت ومحبت ہوئی۔ انہوں نے قرآن و حدیث کو حفظ کرنا شروع کیا۔ حضرت انس بن مالک﷜ جو آپ کے خادمِ خاص تھے، کہتے ہیں کہ’ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس ہوتے اور حدیث سنتے جب ہم اٹھتے تو ایک دوسرے سے دہراتے حتیٰ کہ ہم اس کو ازبر کرلیتے۔ نبی پاکﷺنے ان اشخاص کے لئے خصوصی دعا فرمائی جو آپ کی باتوں کو سن کر یاد رکھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ کئی ائمہ محدثین ہزاروں احادیث کے حافظ تھے۔ عصر حاضر میں متون احادیث کو یاد کرنے کا ذوق موجود ہے۔ احادیث کو یاد کرنے کے لیے مختلف مجموعہ جات موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ کتابچہ ڈاکٹر نور الحسین قاضی کا مرتب شدہ ہے۔ انہو ں نے صحیح بخاری کی 100 چھوٹی چھوٹی مگر جامع حدیثیں جمع کی ہیں۔ تاکہ گھر کے او ر چھوٹے بڑے مدرسہ اور سکولوں کے بچے اسے آسانی سے یاد کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور طلبہ وطالبات کو اسے یادکرنی کی توفیق دے۔ آمین (م۔ا)

  • sunnatain-joo-chood-digain
    عبد الملک القاسم

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کےلیےبےشمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔پس انسان کے لیےلازم ہےکہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی اداکرے۔اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہےتو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہےکہ صراط مستقیم ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہےجس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہےکہ دنیا میں اس کو عزت کی نگاہ سےدیکھا جائے اور آخرت میں بھی جنت اس کا مقدر بنے۔دنیا وآخرت میں کامیابی کا حصول صرف تعلیمات اسلام میں ہےیہ واحد دین ہےجو انسان کی ہر ضرورت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی کامیابی کا راز اتباع رسول اللہ ﷺ میں مضمر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"سنتیں جو چھوڑ دی گئیں" مولانا عبد المالک القاسم کی عربی تالیف ہے۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا یوسف بن اسحاق نے نہایت سلیس انداز سے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کو ہمت و استقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • title-pages-zia-ul-kalaam--fi-sharhi-umda-tul-ahkam
    تقی الدین ابی الفتح
    کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دین اسلامی کے بنیادی مصادر ہیں۔ اہل علم نے ہر زمانہ میں تفسیر اور حدیث کے علم کے نام سے ان مصادر دینیہ کی خدمت کی ہے۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اس پر علمی وتحقیقی کام ہوا ہے۔ بعض محدثین نے صحیح احادیث کو جمع کرنے کا التزام کیا تو بعض دوسروں نے فقہی موضوعات کے تحت روایات کو اکٹھا کیا۔ بعض اہل علم نے صحابہ کی روایات کو جمع کرتے ہوئے مسانید کو مرتب کیا تو بعض احکام سے متعلقہ ضعیف اور موضوع روایات پر متنبہ کرنے کے لیے مستقل تصانیف لکھیں۔ حدیث پر مختلف گوشوں میں سے ایک اہم گوشہ احکام الحدیث کا بھی ہے۔ مختلف ادوار میں فقہائے محدثین نے احکام سے متعلقہ روایات کو چھوٹے بڑے حدیث کے مجموعوں کی شکل میں مرتب کیا ہے۔ ان مجموعوں میں سے ایک اہم مجموعہ ’عمدۃ الأحکام فی کلام خیر الأنام‘ ہے جسے امام عبد الغنی المقدسی متوفی ۴۰۰ھ نے مرتب کیا ہے۔ اس مجموعہ حدیث کی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ یہ صحیحین میں منقول احکام سے متعلقہ روایات پر مشتمل ہے۔ پس اس پہلو یہ ایک انتہائی مستند کتاب ہے۔ مختلف زمانوں میں اہل علم نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کی عربی شروحات لکھی ہے۔ افادہ عام کے لیے مولانا محمود احمد غضنفر صاحب نے اس کا اردوترجمہ اور شرح لکھی ہے ۔ کتاب کا اسلوب نہایت ہی آسان فہم ہے۔ سب سے پہلے حدیث بیان کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ’معنی الحدیث‘ کے عنوان سے اس کا ترجمہ بیان کیا گیاہے۔ اس کے بعد ’مفردات الحدیث‘ کے نام سے حدیث کے مشکل الفاظ کی ضاحت کی گئی ہے۔ اس کے بعد ’مفہوم الحدیث‘حدیث کا ایک عمومی مفہوم بیان گیا ہے اور سب سے آخر میں ’احکام الحدیث‘ کے عنوان سے حدیث سے مستنبط شدہ مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

  • pages-from-mahanaamah-zia-ul-hadees
    محمد ادریس فاروقی

    تمام مسلمانوں کا یہ متفق  علیہ عقیدہ ہے کہ   نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے سب سے آخری نبی رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔( مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ) محمدﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے)  ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا  ہےکہ آپﷺہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔ خود نبی کریم ﷺنے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنی ختمِ نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔(اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَ) اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔اس حدیث پاک سے ثابت ہوگیا کہ آپ ﷺکے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہو گا۔ آپ ﷺ نے نبوت کے ان جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشاندہی کر دی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔سیدنا ثوبان  سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:(أنّه سَيَکُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنّه نَبِیٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ. )میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اب اگر کوئی شخص نبی کریمﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے (خواہ کسی معنی میں ہو) وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ" ماہنامہ ضیائے  حدیث لاہور (ختم نبوت نم ماہنامہ ضیائے  حدیث لاہور (ختم نبوت نمبر)"بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں اس اہم موضوع (ختم نبوت) پر مختلف اہل علم کے مضامین جمع کر دئیے گئے ہیں۔یہ رسالہ اپنے اس موضوع پر ایک انتہائی مفید اور شاندار کاوش ہے۔اللہ تعالی تما م مضمون نگاران اور مدیران کی ان محنتوں کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-fiqhul-hadees
    حافظ عمران ایوب لاہوری

    ’الدرر البھیۃ‘امام شوکانی رحمہ اللہ کی فقہی مسائل پر ایک بہت ہی جامع اور درسی کتاب ہے۔ امام شوکانی متاخرین سلفیہ کے ائمہ میں شمار ہوتے ہیں اور ۲۷۸ کے قریب علمی تحقیقات اور تالیفات کے مصنف ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ کی ا س کتاب کی عربی زبان میں تو کئی ایک شروحات موجو دہیں لیکن اردو میں کوئی جامع شرح موجود نہ تھی ۔ محترم جناب حافظ عمران ایوب لاہوری صاحب نے امام شوکانی رحمہ اللہ کی اس کتاب کا ترجمہ اور ایک تفصیلی شرح ’فقہ الحدیث‘ کے نام سے دو جلدوں میں مرتب کی ہے جس میں ایک ہی مسئلہ کے بارے متفر ق فقہائ، فقہی مذاہب اور مسالک کی آراء اور ان کے دلائل کے احصاء کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب اس قدر جامع اور معلومات افزا ہے کہ تقابلی فقہ کے ابتدائی طالب علم اور استاذ دونوں کے لیے مفید ہے۔مصنف نے مختلف فقہی آراء کے بیان میں فقہ کی امہات الکتب سے استفادہ کرتے ہوئے موقف کو براہ راست ان کتابوں سے نقل کیا ہے جس سے اس شرحکی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔فقہی آراء کے دلائل میں احادیث کے بیان میں ان کی صحت وضعف کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور اس بارے زیادہ تر علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیقات پر اعتماد کیا گیا ہے۔ کتاب میں معاصر علماء اور جدید مسائل کا ٹچ بھی موجود ہے جس سے کتاب کی کشش میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ شیخ عاصم الحداد کی ’فقہ السنہ‘ کے بعد تقابلی فقہ(Comparitive Fiqh) پر لکھی جانے والی یہ واحد کتاب ہے جس نے بعض پہلوؤں سے ’فقہ السنہ‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولف نے اس کتاب کی تالیف میں بہت محنت اور جدوجہد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔تقابلی فقہ کا ذوق رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک لاجواب تحفہ ہے۔حافظ عمران ایوب لاہوری صاحب کئی ایک کتابوں کے مصنف ہیں لیکن ان کی اس کتاب کے بارے واقعتا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر انہوں نے اس کے علاوہ کوئی کتاب تصنیف نہ بھی کی ہوتی ہے توپھر بھی ان کے تعارف کے لیے صرف یہی کتاب کافی تھی۔

     

  • title-pages-fiqhul-hadees-2
    حافظ عمران ایوب لاہوری

    ’الدرر البھیۃ‘امام شوکانی رحمہ اللہ کی فقہی مسائل پر ایک بہت ہی جامع اور درسی کتاب ہے۔ امام شوکانی متاخرین سلفیہ کے ائمہ میں شمار ہوتے ہیں اور ۲۷۸ کے قریب علمی تحقیقات اور تالیفات کے مصنف ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ کی ا س کتاب کی عربی زبان میں تو کئی ایک شروحات موجو دہیں لیکن اردو میں کوئی جامع شرح موجود نہ تھی ۔ محترم جناب حافظ عمران ایوب لاہوری صاحب نے امام شوکانی رحمہ اللہ کی اس کتاب کا ترجمہ اور ایک تفصیلی شرح ’فقہ الحدیث‘ کے نام سے دو جلدوں میں مرتب کی ہے جس میں ایک ہی مسئلہ کے بارے متفر ق فقہائ، فقہی مذاہب اور مسالک کی آراء اور ان کے دلائل کے احصاء کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب اس قدر جامع اور معلومات افزا ہے کہ تقابلی فقہ کے ابتدائی طالب علم اور استاذ دونوں کے لیے مفید ہے۔مصنف نے مختلف فقہی آراء کے بیان میں فقہ کی امہات الکتب سے استفادہ کرتے ہوئے موقف کو براہ راست ان کتابوں سے نقل کیا ہے جس سے اس شرحکی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔فقہی آراء کے دلائل میں احادیث کے بیان میں ان کی صحت وضعف کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور اس بارے زیادہ تر علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیقات پر اعتماد کیا گیا ہے۔ کتاب میں معاصر علماء اور جدید مسائل کا ٹچ بھی موجود ہے جس سے کتاب کی کشش میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ شیخ عاصم الحداد کی ’فقہ السنہ‘ کے بعد تقابلی فقہ(Comparitive Fiqh) پر لکھی جانے والی یہ واحد کتاب ہے جس نے بعض پہلوؤں سے ’فقہ السنہ‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولف نے اس کتاب کی تالیف میں بہت محنت اور جدوجہد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔تقابلی فقہ کا ذوق رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک لاجواب تحفہ ہے۔حافظ عمران ایوب لاہوری صاحب کئی ایک کتابوں کے مصنف ہیں لیکن ان کی اس کتاب کے بارے واقعتا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر انہوں نے اس کے علاوہ کوئی کتاب تصنیف نہ بھی کی ہوتی ہے توپھر بھی ان کے تعارف کے لیے صرف یہی کتاب کافی تھی۔

     

  • title-pages-fiqah-wa-hadees
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    زیر نظر کتاب محدث العصر شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین راشدی رحمتہ اللہ علیہ کا عظیم علمی شاہکار اور معرکہ آراء کتاب ہے ۔جسے کتاب وسنت کے دلائل کو دین حنیف کا ماخذ ثابت کیا گیا ہے اور کتاب وسنت کو چھوڑ کر خودساختہ حنفی فقہ اور ائمہ احناف کے بے سروپا اقوال کی آنکھیں بند کر کے تقلید  واتباع کی شناعت کو طشت ازبام کیا ہے۔اس کتاب کی تالیف کا پس منظر یہ ہے کہ راشدی صاحب نے ایک فتوی دیا۔جس کا ماحصل یہ تھا کہ ہم قرآن وحدیث  کے علاوہ کسی اور چیز کو سند نہیں سمجھتے۔اس فتوی سے مشتعل ہو کر اور تعصب وعناد کی تربیت میں پروان چڑھنے و الے ایک حنفی عالم نے مسلکی غیرت کے تاؤ میں آکر اس فتوی پر بے جاتبرّا بازی کی اور فقہ کو دین حنیف کا اساس ثابت کرنے کے لیے بے سروپا دلائل سے یہ ثابت کرنے کی سعی لاحصل کی او راس مسئلہ کو ترتیب دے کر کہ اگر کنویں میں کوئی چیز گر کر مر جائے یا مردہ چیز کنویں میں گر پڑے تو ای کی صفائی کیسے ہوگی۔چنانچہ اس مسئلہ کی عقدہ کشائی کے لیے کتاب وسنت خاموش ہیں ۔لہذا کتب فقہ ہی اس مسئلہ کی نشاندہی کرتی ہیں۔سو ثابت ہوا کہ فقہ ہی دین کی بنیادی اساس ہے اور فقہ کے مقابلے میں احادیث نبویہ کی چنداں ضرورت و اہمیت نہیں ۔کتاب وسنت پر اس جارحانہ حملے کے جواب میں شاہ صاحب نے قلم اٹھایا اور حدیث وفقہ کا اس انداز میں تقابلی  جائزہ پیش کیا کہ فقہ کی اصلیت اور اہل فقہ کا گھناؤنا کردار کھول کر پیش کیا کہ اس کی تردید کی کسی حنفی میں جرأت باقی نہ رہی ۔یہ کتاب سندھی زبان میں لکھی گئی ہے اور علامہ مرحوم نے کتاب کو چار اجزاء میں مرتب کیا ہے۔
    (ا) ہدایہ کے سو مسائل کا ذکر جو احادیث نبویہ کے صریح خلاف ہیں
    (ب) قہ حنفیہ کے چالیس اخلاق سوز مسائل کا بیان جو حیاء ،اخلاق اور تہذیب وشائستگی سے حددرجہ گرے ہوئے ہیں ۔
    (ج) دس ایسے مسائل جو ابو حنیفہ ،صاحبین (امام یوسف،امام محمد) اور امام کرخی کے درمیان مختلف ہیں۔
    (د) تیس ایسے مسائل جو کتاب  وسنت کی تعلیمات کے بالکل متصادم ہیں۔
    ان میں سے صرف پہلے جزء کا اردو ترجمہ ہوا ہے اور اس کتاب کی ترتیب یوں ہے کہ ایک صفحہ پر حدیث نبوی بیان ہوئی ہے اور اس سے اگلے صفحہ پر ہدایہ کی وہ عبارت مذکور جو حدیث کے صریح خلاف ہے بیان کی گئی ہے ۔نیز  احادیث کی تخریج اور ہدایہ کی عبارتوں کی تخریج بھی موجود ہے ۔یہ ایک انتہائی اہم اور نادر کتاب ہے جس کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے بالخصوص سادہ لوح حنفی لوگ جنہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ فقہ کتاب وسنت کا خلاصہ اور ائمہ احناف کا کوئی قول کتاب وسنت کے خلاف نہیں ۔اس کتاب کے مطالعہ سے حقیقت واضح ہو جائے گی کہ حنفی فقہ کتاب وسنت سے بالکل الگ  دین ہے ۔حنفی فقہ کی ترویج دراصل ایک نئی دین سازی ہے ۔لہذا یہ کتاب تقلیدی بندھنوں میں بندھے لوگوں کے لیے روشنی کا مینارہ ہے  کہ فقہی معہ شگافیوں کی حقیقت سے با خبر ہو کر کتاب وسنت کے دلائل کو حرز جان بنائیں اور وہ دین جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔اس کی اتباع کرکے خود کو کتاب و سنت کا صحیح متبع بنائیں۔

  • title-page-faham-ul-hadeeth-volume-001
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے
    حدیث پاک ،دین اسلام کا بنیادی اور اولین مصدر ہے احکام دین کی تفصیلات حدیث وسنت ہی سے معلوم ہوتی ہیں لہذا دین کو جاننے کےلیے احادیث کامطالعہ ناگزیر ہے خداجزائے خیر دے محدثین کو جنہوں نے امت کی آسانی اور بھلائی کےلیے احادیث کو مرتب او رمدون کیازیر نظر کتاب فہم الحدیث مین حدیث کی معتبر کتابوں سےاحادیث صحیحہ کاانتخاب کیا گیا ہے اور ہرگوشئہ زندگی سے متعلق حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس میں حدیث کی روانی ،کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تسلسل اور نبوت کے معجزۂ خطابت کو حتی المقدور قائم رکھتے ہوئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ احادیث کا ترجمہ اورتشریح اس انداز میں عام فہم ہو کہ عام آدمی سمجھ سکے اسی لیے ابتداء میں باب کامفہوم او رآخر میں باب کاخلاصہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ فرقہ واریت کی بجائے حدیث کی تشریح او رمفہوم وہی بیان کیا جائے جورسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کامقصد ہے ۔واضح رہے کہ کتاب میں درج شدہ روایات پر محدثین،دیوبندی ،بریلوی اور اہل حدیث علمآء کا اتفاق ہے ۔


  • title-page-faham-ul-hadeeth-volume-002
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے
    حدیث پاک ،دین اسلام کا بنیادی اور اولین مصدر ہے احکام دین کی تفصیلات حدیث وسنت ہی سے معلوم ہوتی ہیں لہذا دین کو جاننے کےلیے احادیث کامطالعہ ناگزیر ہے خداجزائے خیر دے محدثین کو جنہوں نے امت کی آسانی اور بھلائی کےلیے احادیث کو مرتب او رمدون کیازیر نظر کتاب فہم الحدیث مین حدیث کی معتبر کتابوں سےاحادیث صحیحہ کاانتخاب کیا گیا ہے اور ہرگوشئہ زندگی سے متعلق حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس میں حدیث کی روانی ،کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تسلسل اور نبوت کے معجزۂ خطابت کو حتی المقدور قائم رکھتے ہوئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ احادیث کا ترجمہ اورتشریح اس انداز میں عام فہم ہو کہ عام آدمی سمجھ سکے اسی لیے ابتداء میں باب کامفہوم او رآخر میں باب کاخلاصہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ فرقہ واریت کی بجائے حدیث کی تشریح او رمفہوم وہی بیان کیا جائے جورسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کامقصد ہے ۔واضح رہے کہ کتاب میں درج شدہ روایات پر محدثین،دیوبندی ،بریلوی اور اہل حدیث علمآء کا اتفاق ہے ۔



  • pages-from-muhaziraat-e-hadees
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات حدیث" محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےراولپنڈی اور اسلام آباد میں درس قرآن کے حلقات سے وابستہ مدرسات قرآن کے سامنے پیش کئے۔یہ محاضرات مختصر نوٹس اور اشاروں کو سامنے رکھ کر زبانی ہی دیئے گئے تھے۔لیکن احباب کے اصرار پر بعد میں انہیں کتابی شکل دے دی گئی۔جو مختلف طباعتی مراحل طے کرنے کے بعد کتابی شکل میں سامنے آ گئے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں حدیث وعلوم حدیث سے متعلقہ بارہ محاضرات کو جمع کیا ہے،جو حدیث کا تعارف،علم حدیث کی ضرورت اور اہمیت،حدیث اور سنت بطور ماخذ شریعت،روایت حدیث اور اقسام حدیث،علم اسنا دورجال،جرح وتعدیل،تدوین حدیث،رحلۃ اور محدثین کی خدمات،علوم حدیث،کتب حدیث وشروح حدیث،برصغیر میں علم حدیث،اور علوم حدیث دور جدید میں جیسے عنوانات پر مبنی ہیں۔ یہ ان کے سلسلہ محاضرات کی دوسری کڑی ہے۔اگرچہ ادارہ محدث کا ڈاکٹر صاحب کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان محاضرات کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔تاکہ یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء اس سے استفادہ کر سکیں۔(راسخ)

  • merratulbukhari-copy
    عبد المنان نورپوری
    یہ مجموعہ اوراق حافظ عبد المنان نور پوری صاحب کے ان دروس پر مشتمل ہے جو انہوں نے کتاب بخاری پڑھانے سے قبل طلبہ کو لکھوائے تھے۔ ہمارے ہاں زمانہ ماضی میں جہاں فتنہ انکار حدیث پروان چڑھا وہاں اہل الرائے احناف بھی آئمہ کی تقلید کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے میں پیچھے نہ رہے۔ ان دونوں قسم کے گروہوں کے باطل افکار و نظریات کااصولی رد کر کے محدثین کرام رحمہم اللہ کے اعتدال پسندانہ مسلک کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نیز اس کتاب میں علوم الحدیث، کتاب البخاری اور امام بخاری کی سیرت پر سیر حاصل گفتگو کے ساتھ علم الحدیث کی تعریف و اقسام، عہد نبوی میں کتابت حدیث اور تدوین حدیث کے دلائل اور ان پر منکرین کے شبہات کا ازالہ، حجیت حدیث کے قرآنی دلائل، بخاری کا صحیح موضوع، امام بخاری پر آئمہ کی تقریظ و تائید جیسی اہم ابحاث شامل ہیں۔
  • pages-from-maraz-aur-ilaaj-ahadees-ki-roshani-mein
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ۔عبادت صحت مند روح اور تندرست جسم کے ساتھ ہی کی جاسکتی ہے ۔لہٰذا ضروری ہےکہ انسان صحت مند رہے اور صحت مندی کی طرف لے جانے والے ذرائع اور طب سے واقف ہے ہو۔ طب سے مراد جسمانی اور ذہنی بیماریوں کاعلاج کرنا ہے ۔طب ایک شریف ولطیف فن ہے جوپہلے انسان کے ساتھ ہی معرض وجود میں آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انسان آدم ﷤ کوحلال وحرام کی تمیز بتاکر طبِ روحانی کے ساتھ ساتھ   طب ِجسمانی کا علم بھی بتادیا،کیونکہ حلال غذا اور حلال کمائی سےجسم تندرست رہتا ہے۔اس کےبرعکس حرام غذا ار حرام کمائی سے جسم اور روح کو مہلک اور خبیث بیماریاں گھن کی طرح چمٹ جاتی ہیں۔نبی کریم ﷺ نے روحانی بیماریوں کا علاج کثرت ِتلاوت ،ذکر واذکار اوروظائف کی صورت میں بتایا ہے تو جسمانی بیماریوں کاعلاج بھی   بتایا ہے جسے طب نبوی کا نام دیا گیا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’مر ج اور علاج احادیث کی روشنی میں ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی طب نبوی ﷺ سلسلے میں مختصرا   ایک اہم کاوش ہے ۔ جس میں انہوں نے بیماری کی صورت میں علاج کرنے کی شرعی حیثیت کوبیان کرنےکےبعد   طب ِنبویؐ کی روشنی میں بعض اشیا کے خواص اور بیماریوں کا علاج انتہائی عام فہم انداز میں بیان کیا ہے جس سے عام قاری بھی استفادہ کرکے اپنی روحانی وجسمانی بیماریوں کا علاج کرسکتاہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ محترمہ کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اوراس کتاب کوعوام الناس لیے فائدہ مند بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

  • pages-from-wallazee-nafsi-biyadihi
    تفضیل احمد ضیغم ایم اے

    قرآن مجید میں اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ لہذارسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ لہذا ایک مسلمان کے ایمان کایہ تقاضہ ہے کہ وہ نبیﷺ کی زبان سے نکلی ہوئی ہربات کو سچ سمجھے اوران کی شخصیت کو اپنے لیے آئیڈیل اور نمونہ بنائے۔ کیونکہ کامیابی کی طرف جانے والے سب راستے شریعت محمدیہ ﷺ سے ہوکر گزرتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کوچھوڑ کر کسی بھی بڑے کا دامن تھامنا نہ نجات دلاسکتا ہے اور نہ ہی صحیح راستے کی جانب راہنمائی کرسکتاہے اور ہماری کامیابی نبی کریم ﷺ کے ااقوال وافعال وااعمال پرعمل پیرا ہونے میں ہے۔ احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بہت سے کاموں کو قسم اٹھا کر ذکر فرمایا ہے ، یا اپنی خبروں کی حقانیت پر قسم اٹھائی اور قسم اٹھانے کے لیے بھی آپ مختلف الفاظ استعمال کیا کرتے تھے۔ مثلا واللہ، والذی بعثنی بالحق، والذی نفس محمد بیدہ، والذی نفسی بیدہ وغیرہ ۔نبی ﷺ کی زبان صادر ہونے والے یہ قسمیہ کلمات احادیث کی مختلف کتب میں موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ والذی نفسی‘‘ کے مصنف جناب تفضیل احمد ضیغم نے اس کتاب میں ان فرامین کو یکجا کرنے کا اہتمام کیا ہے جو ’’والذی نفسی بیدہ‘‘ کے جملہ سے صادر ہوئے ہیں۔ ا ن میں کچھ احکام ہیں اور کچھ آپ ﷺ کی جانب سے بیان کی جانے والی خبریں۔ صاحب کتاب نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک حصہ میں نبیﷺکی زبان مبارک سے ادا ہونے والی قسمیہ احادیث، دوسرے حصہ میں صحابہ کرام ﷢ کے قسمیہ کلمات ہیں۔ اور تیسرے حصہ میں اس مضمون سے متعلقہ چند ضعیف روایات درج کردی ہیں اور تمام احادیث کے حوالہ نقل کرنے کے ساتھ محدثین کا حکم بھی نقل کردیا ہے۔ (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1264 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں