دکھائیں کتب
  • 1 احکام ستر و حجاب (منگل 12 مئی 2009ء)

    مشاہدات:16370

    علامہ ناصر الدین البانی جو کہ ایک بلند پایہ علمی شخصیت اور محدث ہیں،نے کچھ عرصہ قبل خواتین کے چہرے کے پردے کے حوالے سے ''الحجاب المرأۃ المسلۃ'' کے عنوان سے ایک رسالہ تحریر کیا جس میں بہت سارے دلائل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ چہرہ اور ہاتھوں کا پردہ مستحب ضرور ہے مگر واجب نہیں-زیر نظر کتاب میں مولانا عبدالرحمن کیلانی نے موصوف کے تمام دلائل کا کتاب وسنت کی براہین کی مدد سے تفصیلی رد پیش کیا ہے-كتاب کے شروع میں تہذیب  حاضر کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس کے اسباب اور خطرناك نتائج پرروشنی ڈالی گئی ہے-اس کے بعد احکام سترو حجاب سے متعلق چند ضروری وضاحتیں پیش کی گئی ہیں جس میں مرد و عورت کے سترکی حدود کی وضاحت کرتے ہوئے پردے میں عورتوں کے لیے رعایت کے پہلو کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے-پردے اورحجاب کے آغاز پربحث کرتے ہوئے احکام حجاب کی رخصت کس کس سے ہے ؟ پر آراء کا اظہار کیا گیا ہے-اس کے بعد چہرے اور ہاتھوں کے قائلین اور غیر قائلین کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے راجح مؤقف کی وضاحت کی گئی ہے-

  • 2 امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ (جمعرات 23 فروری 2012ء)

    مشاہدات:2021

    عداوتوں میں سے بد ترین عداوت وہ ہوتی ہے جو دوستی کے پیرائے میں اختیار کی جائے اور انسان کو پتہ ہی نہ چل پائے کہ اس لباس خلعت میں ملبوس شخصیت اس کی دوست نہیں بلکہ اس کی دشمن ہے۔انسان اپنے کھلے دشمن سے نقصان اٹھا سکتا ہے ،مگر دھوکہ نہیں کھا سکتا ہے۔لیکن دوستی کے لباس میں ملبوس دشمن سے انسان نقصان بھی اٹھاتا ہے اور دھوکہ بھی کھاتا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کا مصداق بننے والے  حافظ ابو خالد ابراہیم المدنی ہیں،جو اپنے خود ساختہ شہوت پرستانہ نظریات کے لئے بہت سی احادیث نبویہ کو تختہ ستم بنا بیٹھے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ قرآن مجید کو معیار اول قرار دیتے دیتے اسے اپنا ہتھیار بے بدل بھی بنا بیٹھے ہیں کہ جب چاہا جیسے چاہا اسے توڑ مروڑ کر مغربی تہذیب کا لبادہ اڑھا دیا۔زیر تبصرہ کتاب " امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ " فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے نام نہاد سکالر  ابو خالد المدنی کی انکار حدیث پر مبنی  کتاب " امراۃ القرآن "کا علمی وتحقیقی رد کیا ہے ۔ابو خالد مدنی نے اپنی کتاب میں پردے کو جاہلانہ رسم قرار دیتے ہوئے اسے ملاؤں کی رسم قرار دیا ہے اور پردے سے متعلق احادیث نبویہ کا انکار کر دیا ہے۔چنانچہ فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾نے اس کی اس بدنام زمانہ کتاب کا ایک علمی وتحقیقی جواب دیا ہے،اور مستند دلائل کے ذریعے اس کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر﷾ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اصلاح امت کا ذریعہ بنائے۔آمین...

  • 3 حج میں چہرے کا پردہ (منگل 30 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2201

    قرآن حکیم میں عورت پر باہر نکلتے وقت جلباب (ایسا کپڑا جو اس کے جسم ،سر پاؤں اور زینت کوڈھانپ لے ) کو اوڑھنا فرض قرار دیا گیا ہے ۔ لہذا عورت جب احرام کی حالت میں باہرنکلتی ہے تو بھی اس جلباب سے جسم اور چہرہ ڈھانپنا فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں دورانِ حج جلباب نہ اوڑہنے کا کوئی حکم نہیں ملتا۔دوران ِ احرام عورت پر نقاب(سلا ہوا وہ مخصوص کپڑا جوصرف چہرے کوچھپانے کے کام آتاہے ) باندھنا اسی طرح ممنوع ہے جس طرح دستانے یا زغفران سےرنگے ہوئے کپڑے پہننا ممنوع ہے یاجس طرح مرد پر دوران ِ احرام سر ڈھانپنایا سلے ہوئے کپڑے پہننا یا ٹخنے ڈھانپ لینے والے جوتے پہننا ممنوع ہے۔ نقاب ایک مخصوص کپڑے کا نام ہے حجاب کا نام   نہیں۔ دورانِ احرام عورت پر نقاب باندھنا ممنوع ہے لیکن حجاب دورانِ حج ہو یا اس کے علاوہ ہر حالت میں اس پر فرض ہے۔ لہذا وہ دورانِ احرام بھی حجاب (چہرے کاپردہ) کرنے کی پابند ہے۔ جیسا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دوران ِحج اپنی جلباب(بڑی چادر) کو مردوں کےسامنے پر چہرے پر ڈال لیتی تھیں۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اسی مذکورہ مسئلہ کو قرآن واحادیث اور علمائے اسلام کے فتاویٰ کی روشنی میں اختصار کےساتھ عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔آمین( م۔ا)

  • 4 ستر و حجاب اور خواتین ( ام عبد منیب ) (ہفتہ 13 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1646

    عورت کے لیے  پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرہ امتیاز اور قابل فخر  دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مردکی تمام تر جنسی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے  سلسلے میں  معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم  کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس  کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم  کی رو سے عورت پر پردہ  فرض ِعین ہے  جس کا تذکرہ  قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے  اور  کتبِ احادیث میں اس کی  صراحت موجو د ہے  ۔کئی  اہل علم نے  عربی  واردو زبان  میں  پردہ کے  موضوع متعدد کتب  تصنیف کی ہیں۔زیر کتابچہ’’ ستر وحجاب  اور خواتین‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے  جسے انہوں  جید علماء کرام کے  فتاوی  جات سے   ستروحجاب  کے متعلق  فتا ویٰ  کا  انتخاب کرکے ان کا آسان فہم ترجمہ پیش کیا ہے  ۔اللہ محترمہ کی اس کاوش  کو  قبول فرمائے اور  خواتینِ اسلام کو اس سے  استفادہ   کرنے کی توفیق عطا فرمائے  (آمین)(م۔ا)

  • 5 ستروحجاب اور خواتین (جمعرات 13 مئی 2010ء)

    مشاہدات:13419

    زیر نظر کتابچہ سعودی دارالافتاء کے جاری کردہ فتاویٰ کے اس حصے پر مشتمل ہے جس کا تعلق خواتین کے ستر و حجاب سے ہے۔ جس میں بے حجابی، چست لباسی، پتلون، سکرٹ پوشی، خودنمائی اور نگاہوں کی عشوہ طرازی کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی روشنی میں دئے گئے سوالات کے جوابات عربی سے اردو زبان میں منتقل کئے گئے ہیں۔ فتنوں کے اس تلاطم خیز دور میں ملت مسلمہ کی وہ خواتین جو جہالت کے اندھے پن میں مبتلا ، مغرب کی تقلید اور خودنمائی کا فیشن اپنانے میں دیوانی ہو رہی ہیں ان کے لیے ان جید علماء کے فتاوٰی کی روشنی بے حد ضروری ہے۔ چنانچہ علم شریعت میں وقت کے اعلیٰ مسند نشین علماء نے ایسے تمام مسائل سے متعلقہ احکام شرعیہ کو فتاویٰ کی صورت میں شائع فرما دیا ہے جن سے علمی راہنمائی حاصل کر کے ملت مسلمہ کی خواتین اپنے دین، ملّی وقار ، آبرو، حیا اور عفّت کا تحفظ حاصل کر سکتی ہیں۔ شرعی حدود اور علم اوامر و نواہی کی آگاہی کیلئے یہ کتابچہ خواتین کیلئے ایک عمدہ تحفہ ہے۔
     

  • 6 شرعی پردہ (اتوار 03 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1947

    اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے ۔اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے۔ کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرعی پردہ ‘‘دیوبند مکتبہ فکر جید عالم دین مولانا قاری محمد طیب صاحب کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلام کے نظام عفت وعصمت کاحسین مرقع،پردہ کی ضرورت اور پردہ کی اہمیت کاقرآن وحدیث سے ثبوت اور پردہ پر کیے جانے والے اعتراضات و اشکالات کا بہترین حل پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ...

  • 7 عورت کا زیور پردہ (بدھ 19 جون 2013ء)

    مشاہدات:4773

    کسی بھی عبادت کے لیے پاکیزگی کا ہونا جزوِ لا ینفک ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود بھی پاک ہیں چنانچہ مرد و زن کی روحانی پاکیزگی نظر کے جھکانے اور پردے میں مضمر ہے، جس کے بارے میں یہ کتابچہ مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کی عزت و عفت کا ضامن اور فضیلت کا تاج و زیور ’پردہ‘ اور اس کی ذلت و خواری اور جہنم کے ایندھین کا موجب ’بے پردگی‘ کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ اس کتابچے کے مصنف قاری صہیب احمد میر محمدی ہیں جن کی متعدد کتب شائع ہو کر عوام و خواص سے داد وصول کر چکی ہیں۔ کتابچے کی فہرست پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اگرچہ یہ 136 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ہے لیکن اس میں تمام وہ بنیادی ابحاث شامل ہیں جن کے لیے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے پردے کے عمومی فضائل رقم کیے گئے ہیں اس کے بعد پردے کی فرضیت پر قرآنی اور احادیث نبوی سے دلائل، پردے کی قسمیں اور پردے کی شروط بیان کی گئی ہیں۔ بعض لوگ چہرے کو پردے میں شامل نہیں کرتے کچھ اہل حدیث علما بھی چہرے کے پردے کواستحباب کا درجہ دیتے ہیں قاری صہیب صاحب نے ایسے تمام دلائل کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا ہے اور بڑے اچھے انداز میں ان کا رد کیا ہے۔ اس موضوع پر پہلے بھی اردو میں کتب موجود ہیں یہ کتابچہ ان میں ایک اور اضافہ ہے۔(ع۔م)
     

  • 8 عورت کا لباس (ہفتہ 13 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:5336

    عصر حاضر کے بڑے بڑے فتنوں میں سے ایک فتنہ فحاشی و عریانی بھی ہے ۔ مغرب نے عورت کو گھر سے نکال کر اپنے افکار کی ترویج کے لیے  بڑی خوش اسلوبی سے استعمال کیا ہے ۔ آج معاشرے میں ہر کہیں فحاشی وعریانی کا بازار گرم ہے ۔ اور یہ تمام تر اثرات مغربی فکر اور فلسفے کے ہیں ۔ اہل مغرب نے پہلے عورت سے کہا کہ وہ معیشت میں یکساں اجرت کا مطالبہ کرنے کے لیے گھر سے نکلے پھر اس کے بعد اس قضیے کو زندگی کے ہر شعبے میں پھیلا دیا۔ زیر نظر کتاب میں ام عبدمنیب نے اسلامی لباس کی وضع وقطع کے حوالے سے روشنی ڈالی ہے جو کہ ایک فطر ی اور سادہ لباس ہے ۔ جس میں اسراف اور تبذیر سے گریز اختیار کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح رہے کہ لباس کی وضع و قطع تہذیب کے اہم ترین مسائل میں سے ہے ۔ جس میں اسلام اپنا ایک ایسا لباس متعارف کرواتا ہے جو ستر و حجاب کی تعلیمات کے عین مطابق ہو ۔ جبکہ اس کے برعکس مغرب ایک ایسا لباس سامنے لے کر آتا ہے جو اس کے فلسفہء حیات کے عین مطابق ہے ۔ لحاظہ اس حساب سے لباس کا تعلق تہذیب سے بھی ہے ۔ ام عبدمنیب نے اس سلسلے میں بھی بطریق احسن روشنی ڈالی ہے کہ صحیح اسلامی لباس کے بارے میں تعلیمات سامنے آجائیں ۔ اللہ انہیں اجر سے نوازے ۔ اور ہمیں اس پرعمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے ۔ (ع۔ح)
     

  • 9 عورت کی زیب و زینت قرآن و سنت کے آئینے میں (پیر 04 فروری 2019ء)

    مشاہدات:967

    زیب وزینت کے حوالے سے عورتوں کے لئے مخصوص خصائل فطرت پر عمل کرنا از حدضروری ہے۔ اسلام نے عورتوں کو حد شرعی وحد اعتدال میں رہتے ہوئے جائز وپاک چیزوں کے ذریعہ ہر قسم کی  زیب زینت اور آرائش و زیبائش کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس کے لئے کچھ اصول وضوابط وضع کردیئے گئے ہیں۔ مثلا یہ کہ زینت اپنے اندرون خانہ ہو۔ اپنے شوہر کے لئے ہو نہ کہ اجانب وغیر محرم کے لئے۔ زیب وزینت اختیار کرتے ہوئے اللہ کی فطری خلقت کا تغیر وتبدل لازم نہ آتا ہو مثلا بھوؤں کو بالکل صاف کرکے نکال دیا جائے۔ یا اپنے بالوں کو لمبا دکھانے کے لئے کسی دوسری عورت کے بال جوڑدیئے جائیں۔ اور اسی  طرحپابندی کے ساتھ ناخن کاٹنا اور ان کی صفائی رکھنا، کیونکہ ناخن کاٹنا سنت نبویﷺ ہے جس پر اہل علم کا اجماع ہے اور یہ خصائل فطرت میں  سے بھی ہے۔ ناخن کاٹنے میں حسن ونظافت ہے  جب کہ لمبے چھوڑدینے میں بد شکلی اور خونخوار درندوں کے ساتھ مشابہت ہے۔ لمبے ناخنوں کے نیچے میل جمع ہوجاتی ہے اور ناخنوں کے  نیچے تک پانی پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ بعض مسلمان عورتیں، غیر مسلم خواتین کی تقلید کرتے ہوئے اور سنت سے جہالت کی وجہ سے لمبے ناخن رکھنے کی وبامیں مبتلا ہیں۔عورت کی زیب وزینت ، لباس  اور دیگر  معاملات کے متعلق  فتاویٰ جات اور مستقل کتب بھی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ عورت کی زیب وزینت  قرآن وسنت کےآئینے میں ‘‘ محترمہ گلریز محمود صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ مصنفہ  نے اس کتاب میں عورت کی زیبائش کےمتعلق   ہمارےمعاشر...

  • 10 غض بصر (غیر محرم عورتوں سے نظر بچانا) (پیر 15 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2092

    اللہ تعالی انسان کاخالق ہے اور اس کی کمزرویوں سےمکمل طور پر واقف ہے ۔اس لیے اس نے جہاں انسان کی بشری کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے وہاں اپنے نازل کردہ صحیفہ ہدایت میں ان کمزوریوں کے شافی وکافی علاج بھی بتادیئے ہیں ۔تاکہ انسان بے مہار   محرکات کے سامنے بند باندھ سکے ۔انہی انسانی کمزوریوں میں سے ایک اہم مسئلہ نظر کا فتہ ہے ۔اس لیے شریعت نے غض بصر کے واضح احکامات اور فوائد بیان کیے ہیں ۔غصِ بصر اسلام کےصحیفہ قانون ..منبع ہدایت ..ام الکتاب قرآن حکیم کا وہ محکم اور پاکیزہ اصول ہے جس کو اپنا نے سے انسانی معاشرہ فش ومنکر خباثتوں سےنجات پاکر پاک وصاف ہوجاتاہے۔ زیر نظر کتاب ’’غض بصر‘‘معروف مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے غض بصر کے احکام ومسائل اور اس کے فوائد وحکمتیں سادہ انداز میں قرآن وحدیث   کے دلائل کی روشنی میں بیان کردی ہیں ۔جس سے مستفید ہوکر نظر کے فتنہ اور اس کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکتاہے ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1542
  • اس ہفتے کے قارئین: 11145
  • اس ماہ کے قارئین: 43664
  • کل مشاہدات: 44148526

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

777