• copy-of-title-pages-fiq-hu-al-sunnah
    محمد عاصم الحداد
    محمد عاصم الحداد فقہ و اصول فقہ کے میں نہایت اعلیٰ ذوق کے حامل ہیں۔ اصول فقہ پر ان کی مختصر کتاب ’اصول فقہ پر ایک نظر‘ علمی دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہے اور متعدد مدارس میں بطور نصاب پڑھائی جا رہی ہے۔ محترم عاصم الحداد نے جہاں اصول فقہ کو اپنا موضوع سخن بنایا وہیں شریعت اسلامیہ کے عملی مسائل یعنی فقہی احکام پر بھی ایک شاندار اور منفرد کتاب لکھی جو اس وقت ’فقہ السنۃ‘ کے نام سے آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلا حصہ طہارت، نماز اور جنائز کے مسائل کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جبکہ دوسرے حصے میں زکوٰۃ، رمضان اور حج و عمرہ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ فقہی احکام پر اردو زبان میں متعدد کتب موجود ہیں لیکن اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں مولانا نے مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام فقہی مسالک کی بنیادوں کا تعارف کرایا ہےاور انہیں دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ فقہی اختلافات کو ایک دوسرے سے نفرت کی بنیاد بنا لیتے ہیں حالانکہ مسالک کے مابین اختلاف اصولی نہیں سراسر اجتہادی ہے جس کی وجہ سے اپنے علاوہ دیگر تمام مسالک کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کرنا کسی طور درست نہیں ہے۔ مصنف نے کتاب کا اسلوب یہ اختیار کیا ہے کہ متن میں احناف، موالک، شوافع، حنابلہ اور جمہور اہل حدیث کا جن مسائل میں اتفاق ہے ان کو قلمبند کیا ہے اور جن مسائل میں اختلاف موجود ہے اس کو متن کے بجائے حاشیہ میں جگہ دی ہے۔ انہوں نے اپنی سی پوری کوشش کی ہے کہ ہر مسئلہ میں ہر مسلک کے متعلق قرآن و حدیث سے اس کی بنیاد کا ذکر  کیا جائے  اور یہ وضاحت بھی کی جائے کہ اگر دوسرے مسلک والوں کی بنیاد کسی اور آیت اور حدیث پر ہے تو اختلاف کا بنیادی سبب کیا ہے۔ تاکہ مسالک کے مابین موجود نفرت کی حدت کو کم کیا جا سکےاور ان مسالک سے وابستہ لوگ ایک دوسرے کی نیتوں پر حملے کرنے کی بجائے دیانت کے ساتھ  دوسروں کوکوئی موقف طے کرنے کا حق دے سکیں۔(ع۔م)
  • title-pages-fiqha-kitab-o-sunnat
    محمد صبحی بن حسن حلاق
    زیر نظر کتاب یمن کے معروف عالم دین محمد صبحی بن حسن حلاق کی صحیح احادیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل پر مشتمل ایک نہایت مستند تصنیف ہے۔ مولانا عمر فاروق سعیدی نے اس کتاب کانہایت رواں اور سلیس اردو ترجمہ کیا ہے۔ کتاب کا مدعا یہ ہے کہ مسلمان اپنے ہر عمل میں کتاب و سنت کے احکام کو ملحوظ رکھے۔ عام فقہی کتب کی طرح اس کتاب کا آغاز بھی ’کتاب الطہارۃ‘ سے کیا گیا ہے اس کے بعد نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور نکاح و طلاق کے مسائل زیر بحث آئے ہیں۔ اسی طرح طب و لباس اور متعدد موضوعات کے احکام ومسائل بیان کرتے ہوئے جہاد پر ختتام کیا گیا ہے۔ تمام مسائل نہایت آسان اسلوب اور دلائل کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں تاکہ کم تعلیم یافتہ قاری بھی اس کو سمجھنے میں دقت محسوس نہ کرے۔ مسائل کی توضیح و بیان کے لیے صحیح دلیل پر اعتماد کیا گیا ہے اور مصنف نے فرقہ وارانہ تقلید سے دورے رہتے ہوئے کسی جماعت کے خلاف تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا۔ دلائل کی تحقیق و تنقید، نصوص و اقوال کی ترجیح اور قول راجح کی مزید تائید کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ایک اہم بات یہ کہ تخریج احادیث اور صحت و ضعف کے لحاظ سے ہر ایک کے مرتبے کی نشاندہی کی گئی ہے اور بطور دلیل احادیث میں سے صرف حسن یا صحیح احادیث کا انتخاب کیا گیا ہے۔(ع۔م)
  • title-pages-qawaid-asolia-me-fuqaha-ka-ikhtilaf-aur-fiqhi-masail-pr-is-ka-asar
    ڈاکٹر مصطفیٰ سعید الخن
    فقہا کی اختلافی آرا اور ان کے دلائل کاتنقیدی مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ تیسری اور چوتھی صدی کے فقہا نے اس موضوع کی طرف توجہ کی اور اختلاف فقہا پر مستقل کتابیں لکھیں۔ محمدبن نصر المروزی، محمد بن جریر طبری اور ابو جعفراحمد بن محمد الطحاوی نے اس موضوع پر بسیط کتب تحریر فرمائیں۔ برصغیر کے معروف فقیہ شاہ ولی اللہ نے اس موضوع پر دو رسالے تحریر فرمائے۔ ایک رسالہ تو اجتہاد و تقلید پر اصولی بحث ہے لیکن اس کتاب کا ایک باب اختلاف فقہا اور اس کے اسباب و علل پر ہے۔ شاہ صاحب کا دوسرا رسالہ ’رسالہ الانصاف فی بیان سبب الاختلاف‘ ہے۔ اس رسالہ میں ائمہ فقہا کے اسباب و علل پر بھی گفتگو کی ہے اور بعض اہم فقہی فقہی مسالک میں تطبیق کی سعی بھی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی پروفیسر مصطفیٰ سعید الخن نے اس موضوع پر اسلاف کے ذخیرہ علم کو پیش نظر رکھ کر قواعد اصولیہ کا علمی جائزہ لیا ہے اور قواعد اصولیہ میں اختلاف کی وجہ سے جو اثرات اختلاف الفقہا پر مرتب ہوئے ہیں ان کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی علمی حیثیت اور موجودہ دور میں اس کی افادیت کے پیش نظر شریعہ اکیڈمی نے اس کا اردو ترجمہ کرایا ہے۔ شریعہ اکیڈمی کے فاضل نوجوان مولانا حبیب الرحمٰن نے اس کتا ب کو اردو میں ترجمہ کرنے کا کام سرانجام دیا ہے۔ اصول فقہ اور قواعد اصولیہ کے فنی مباحث کو بڑی محنت سے انھوں نے رواں اردو میں منتقل کیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-larkon-aur-larkiyon-k-khatne-ka-sharie-hukam-copy
    ڈاکٹر محمد بن لطفی الصباغ

    اللہ تعالی نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے، اور اسے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی اس فطرت پر قائم رہے جس پر اسے بنایا گیا ہے۔اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ساخت اور فطرت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا ممنوع اور حرام ہے۔نبی کریم ﷺنے ایسی عورتوں لعنت فرمائی ہے جو اللہ تعالی کی ساخت میں تبدیلی کرتی ہیں۔تاہم اس حکیم وخبیر شارع نے جسم کو صاف ستھرا رکھنے اور صحت کے تحفظ کے لئے چند ایسی چیزوں کو ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے ،جنہیں ہم طبی زبان میں "جلد کے لاحقے " کہتے ہیں۔ان کے خاتمے کو عین فطرت اور سنتیں قراردیا گیا ہے۔مثلا ناخن کاٹنا،زیر ناف اور زیر بغل بالوں کو نوچنا،مونچھیں تراشنا اور مرد کے عضو تناسل کی سپاری کے سرے کو ڈھانکنے والے کھال کے ٹکڑے کو ،جسے قلفہ کہا جاتا ہے کاٹنا۔اگر ان چیزوں کی صفائی کو نظر انداز کر دیا جائے تو بہت ساری بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔صفائی ستھرائی کے انہی امور میں سے ایک لڑکیوں کا ختنہ کرنابھی ہے،جس کا احادیث نبویہ میں کچھ  تذکرہ آتا ہے،لیکن  مولف ﷫کے نزدیک ان احادیث کی سند کمزور ہے۔زیر تبصرہ کتاب(لڑکوں اور لڑکیوں کے ختنے کا شرعی حکم) ﷫کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے  لڑکوں اور لڑکیوں کے ختنے کے حوالے سے وارد احادیث نبویہ کی استنادی حیثیت پر ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا ہے کہ شریعت میں ان کا کیا حکم ہے۔اللہ تعالی مولف ﷫کی اس کاوش کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • Title Page---Mukhtasar Taharat K Masyal Baray Khawateen
    عبد الوکیل ناصر

    زیر نظر مختصر کتابچہ فاضل مصنف نے دین اسلام کی عورتوں کے حوالے سے قدردانی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔ جس میں انتہائی اختصار سے کام لیتے ہوئے طہارت سے متعلقہ خواتین کے چند مخصوص مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جو کہ عوامی محفل میں اشارۃ و کنایۃ اور شاذ و نادر ہی بیان کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان مسائل کا جاننا انتہائی اشد ضروری ہے تاکہ طہارت و پاکیزگی کی تکمیل ہو سکے، کیونکہ طہارت ہی عبادت کی کنجی ہے۔

     

     

     

  • title-pages-masla-ijtihad-copy
    محمد حنیف ندوی

    شریعت اسلامی انسانیت کے لئے اللہ تعالی کا ہدایت نامہ ہے ،جس میں زندگی کے تمام مسائل کے بارے میں تفصیلی یا اجمالی راہنمائی موجود ہے۔شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں ،جو یقینی ذرائع سے ثابت ہیں،اور الفاظ وتعبیرات کے اعتبار سے اس قدر واضح ہیں کہ ان میں کسی دوسرے معنی ومفہوم کا کوئی احتمال نہیں ہے۔ان کو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ کہا جاتا ہے،اور شریعت کے بیشتر احکام اسی نوعیت کے ہیں۔جبکہ بعض احکام ہمیں ایسی دلیلوں سے ملتے ہیں،جن کے سندا صحیح ہونے کا یقین نہیں کیا جا سکتا ہے،یا ان میں متعدد معانی کا احتمال ہوتا ہے۔اسی طرح بعض مسائل قیاس پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں قیاس کی بعض جہتیں پائی جاتی ہیں۔تو ایسے مسائل میں اہل علم اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق فتوی دیتے ہیں،جو ایک دوسرے سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مسئلہ اجتہاد "ہندوستان کے معروف عالم دین محترم  مولانا محمد حنیف ندوی صاحب﷫ کی تصنیف  ہے،جس میں انہوں نے قرآن ،سنت ،اجماع،تعامل اور قیاس کی فقہی قدروقیمت اور ان کی حدود پر ایک نظر ڈالی ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ چند دیگر اہم فقہی مباحث مثلا : کیا اسلامی نظام فکر قابل فہم ہے؟،اسلام کن معنوں میں مکمل دین ہے،صحابہ کا طریق افتاء واجتہاد ،فقہائے اسلام،دلالت ورائے کے فقہی پہلوپر بھی روشی ڈالی ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-peghame-haram-copy
    محمد سلطان المعصومی

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ امت ِاسلامیہ کے جسم کوجن امراض او رمشکلات نے کمزور کیا ہے ان میں بدعات وخرافات اور رسومات  قبیحہ کے علاوہ اوہام پرستی ، کنبہ پروری ، ، پیر پرستی قبر پرستی جیسے امراض کی طرح شخصیت پرستی اور تقلید جامدبھی مرض لا علاج بن گیا ہے  قرآن وحدیث   نے اتفاق واتحاد کی جس شدت سے تاکید کی ہے اس گروہی عصبیت نے ائمہ کرام اور بزرگوں کے اقوال کوبلا دلیل  واجب العمل قرار دے کر امت میں  انتشار اور افتراق پیدا کردیا ہے۔اس  اذیت ناک بیماری نے  پوری دنیا میں تباہ کاریاں مچائیں اور اس کے اثرات دور دور تک پہنچے ۔یہاں تک کہ رشد وہدایت کا مرکز کعبۃ اللہ  بھی ان جراثیم سے پاک نہ رہ سکا ۔تاریخ کے  صفحات  پر یہ بات موجود ہے کہ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ  وحدت ِانسانیت کے اس بین الاقوامی اور دائمی اسٹیج پر بھی  اس  شخصیت پرستی اور گروہ بندی نےبیک وقت چار مصلے نبوادیئے۔ ( إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) ۔ارباب ِتقلید جوتاویل بھی چاہیں کریں مگر ان کے پاس ایک بھی ایسی دلیل نہیں جس سے وہ اس تقلید مطلق کاجواز ثابت کر سکیں اور انسانیت کو اس سے مطمئن کر سکیں۔اسلام کی اصلی اور حقیقی روح اتباع کتاب وسنت ہے اور شرک ، بدعات وخرافات اور تقلید اسلامی روح کے منافی عناصر ہیں ۔ اور اسلام کی اس   حقیقی روشنی کوبرقرار رکھنے کےلیے  ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے  بندے  پیدا کیے  جنہوں نے  اسلام اور شریعت ِاسلامیہ کےخلاف پیدا ہونے والے فتنوں کو واشگاف کیا او ران تمام  الزامات وشبہات کا مسکت جواب دیا جو بیمار دل ودماع کے حامل افراد نے پیدا کردیئے تھے ۔ زیر نظر کتاب ’’ پیغامِ حرم‘‘ علامہ ابو عبد الرحمن محمد سلطان المعصومی  المکی  مدرس مسجد حرام  مکہ مکرمہ کےرسالہ ’’ہدیۃ السلطان الی مسلمی الیابان‘‘ کا اردو ترجمہ  ہے   جو دراصل  چابان کے چند نومسلم نوجوانوں کے اسلام کی حقیقت اور تقلید  کے  متعلق  سوالات کے  جواب میں شیخ سلطان  المعصومی نے تحریر کیا ۔ اس رسالہ میں  شیخ  موصوف نے  قرآن وحدیث  سلف صالحین ، ائمہ اربعہ اور دیگر علمائے امت ﷭ کے اقوال وفرمودات اور تاریخی شواہد کی روشنی میں  تقلید جامدکی  حقیقت کو خوب واضح کیا ہے ۔کتاب کے ترجمہ کے فرائض   مولانا عزیز عبید اللہ  ناصر بنارسی صاحب  نے انجام دئیے ۔ اللہ تعالیٰ  مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوراسے امتِ مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ( آمین) (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 445 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :