• title-page-ahkam-o-masayl-kitabosunnat-ki-roshni-men-copy
    ابو الحسن مبشر احمد ربانی

    یہ کتاب روز مرّہ کے مسائل سے متعلق فتاوٰی کا شاندار مجموعہ ہے جو محقق عالم ، فضیلۃ الشیخ ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجلۃ الدعوۃ اور ہفت روزہ غزوہ میں سالہا سال سے شائع ہوتے رہے۔ ان دونوں مجلوں میں بکھرے ہوئے ان انمول موتیوں کا جامع مجموعہ اس کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ جو کہ ہزارہا فتاوٰی جات سے انتخاب ہے۔ نیز ہر فتوٰی مدلل اور کتاب و سنت کے دلائل سے بھرپور ہے۔ اختلافی مسائل پر فریق مخالف کے شبہات پیش کر کے ان کا رد بھی کیا گیا ہے۔ روز مرہ زندگی کے مسائل سے متعلق یہ فتاوٰی بلاشبہ ہر فرد اور ہر گھر کی ضرورت ہے۔ اسے خود بھی پڑھیں ، دوسروں تک بھی جیسے ممکن ہو پہنچائیں۔ نیز ہم اپنے قارئین سے پرزور التماس کرتے ہیں  کہ یہ کتاب خود بھی خریدیں اور دیگر احباب کو بھی حسب استطاعت تحفہ کیجئے۔

     

     

    "اہم نوٹ"

     

    ہم اس ویب سائٹ کے ذیلی فتاوٰی سیکشن پر تکنیکی نوعیت کے کام کا الحمدللہ آغاز کر چکے ہیں۔ اور یہ کتاب اس ضمن میں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے کہ اسے یونی کوڈ میں ٹائپ کیا جائے۔ اگر ہمارے قارئین اس کتاب کی ٹائپنگ کے ضمن میں ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیں تو ہم سے ذیل کے ای میل ایڈریس پر رابطہ فرمائیں:

    webmaster (at) kitabosunnat.com

     

     

  • pages-from-ikhtilafaat-e-aama-ki-shari-haisiyyat
    اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا

    شریعت اسلامی انسانیت کے لئے اللہ تعالی کا ہدایت نامہ ہے ،جس میں زندگی کے تمام مسائل کے بارے میں تفصیلی یا اجمالی راہنمائی موجود ہے۔شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں ،جو یقینی ذرائع سے ثابت ہیں،اور الفاظ وتعبیرات کے اعتبار سے اس قدر واضح ہیں کہ ان میں کسی دوسرے معنی ومفہوم کا کوئی احتمال نہیں ہے۔ان کو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ کہا جاتا ہے،اور شریعت کے بیشتر احکام اسی نوعیت کے ہیں۔جبکہ بعض احکام ہمیں ایسی دلیلوں سے ملتے ہیں،جن کے سندا صحیح ہونے کا یقین نہیں کیا جا سکتا ہے،یا ان میں متعدد معانی کا احتمال ہوتا ہے۔اسی طرح بعض مسائل قیاس پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں قیاس کی بعض جہتیں پائی جاتی ہیں۔تو ایسے مسائل میں اہل علم اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق فتوی دیتے ہیں،جو ایک دوسرے سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ اہل علم اور ائمہ کرام کے ان اختلافات اور اجتہادی آراء کا شرعی حکم کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " اختلافات ائمہ کی شرعی حیثیت "ایفا پبلیکیشنز دہلی انڈیا کی مطبوعہ ہے،جس میں اسی اہم ترین موضوع پر منعقد سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کو جمع کر دیا گیا ہے ،اور تمام مقالہ نگار اہل نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ان قیمتی مقالات کو جمع کرنے کی سعادت مولانا صفدر زبیر ندوی صاحب نے حاصل کی ہے۔ادارہ کتاب وسنت ڈاٹ کام کا مقالہ نگار حضرات سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن چونکہ یہ ایک خالص علمی اور تحقیقی مجموعہ ہے ،چنانچہ افادہ کی غرض سے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ تعالی تمام مقالہ نگار اور مرتب وتمام معاونین کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ ایزدی میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islam-aur-ijtihad
    پروفیسر قاضی مقبول احمد
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں زندگی گزار نے کے تمام تر اصول و ضوابط موجود ہیں۔بالفاظ دیگر انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی  ملتی ہے۔دوسری طرف یہ ایک حقیقت ہے کہ شرعی احکام و نصوص محدود ہیں جبکہ انسانی زندگی کے معاملات لامحدود ہیں ۔لہذا ان لامحدود مسائل کو حل کرنے کے لئے اجتہاد  کرنا ضروری ہے۔اجتہاد اسلامی شریعت کو متحرک کرتا ہے۔ عصری مسائل کو اسلامی فکر کے مطابق ڈھالنا اجتہاد سے ہی ممکن ہے۔بصورت دیگر  جمود آجائے گا۔لیکن اجتہاد کرنے کے لئے عقل انسانی آزاد نہیں اور نہ ہی خود ساختہ اصولوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ اس کے لئے بھی شریعت نے الگ سے اصول  و ضوابط دیے ہیں۔ان کی پابندی اور پاسداری کرنا ہر مجتہد کے  لئے ضروری ہے۔ اجتہاد کے بنیادی قواعد کیا  ہیں؟ اس کے اصول و ضوابط کیا  ہیں؟اس کے علاوہ اجتہاد کرتے وقت ایک مجتہد کے لئے  کون سے عمومی  مسلمات فکر کی پاسداری کرنی چاہیے؟اس سلسلے میں اہل سنت اور دیگر افکار و نظریات میں کیا فرق ہے؟یہ اور اس نوعیت کے دیگر بنیادی سوالات جن کی بہت زیادہ اہمیت ہے یہ سب  اس کتاب کا  موضوع  ہیں۔اللہ موصوف کو اجر جزیل سے نوازے۔ انہوں نے حتی الوسع کوشش فرمائی ہے کہ اس باب میں اہل سنت کی احسن طریقے سے ترجمانی ہو جائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • aa
    محمد عاصم الحداد
    اصول فقہ سے مراد ایسے قواعد و ضوابط ہیں جن سے کتاب سنت سے احکام کشید کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ پیش نظر کتاب ’اصول فقہ پر ایک نظر‘ میں فاضل مؤلف محمد عاصم الحداد نے مختلف مکاتب فکر کے اختیار کردہ انہی اصولوں پر ناقدانہ نگاہ ڈالی ہے۔ اور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح فہم حاصل کرنے کے طریقوں کی وضاحت کی ہے۔ کتاب لکھتے ہوئے ان کے پیش نظر یہ مقصد یہ تھا کہ اصول فقہ کی صورت میں ہمارے پاس موجود موادکا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور اس کی افادیت اور عدم افادیت سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔ تاکہ امت مسلمہ چند مشہور ائمہ دین کے بیان کردہ اصولوں ہی پر تکیہ نہ کرے بلکہ ہر فرد کو فرمودات باری تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے ارشادات عالیہ سے پوری طرح مستفید ہونے کا موقع میسر آ سکے۔

  • title-pages-al-ieqaf-fi-sabab-al-ikhtalf-copy
    محمد حیات سندھی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے  فروغ حاصل ہوا  ہے ۔  امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ الایقاف فی سبب الاختلاف ‘‘محترم مولانا محمد حیات سندھی﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ﷫ نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف ﷫نے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-al-jabat-w-taghot-jadu-aur-shaitan-copy
    ابن آدم

    کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ دین کے بارے میں اکثر مسلمانوں کا رویہ مثبت نہیں ہے۔اس سلسلے میں ایک تو ہماری معلومات بہت کم  ہیں۔اس قدر کم کہ انہیں واجبی بھی نہیں کہا جا سکتا ۔دوسرے دین کے نام پر ہم جس طرح کے قول وفعل کا مظاہرہ کرتے ہیں اسے خالص دین ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔کیونکہ جو کچھ ہم پیش کرتے ہیں وہ عموما افراط وتفریط پر مبنی ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم نہ توعقائد میں متوازن ہیں اور نہ ہی اعمال میں مقتصد ہیں۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر  نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" الجبت وطاغوت، جادو اور شیطان "ایک گراں قدر تحقیقی مقالہ ہے  جومحترم ابن آدم صاحب کی کاوش ہے۔یہ کتاب جہاں عقائد کی سطح پر اصلاح کرتی ہے وہاں اعمال کی سطح پر ایسے ایسے افق سامنے لاتی ہے جو عام طور پر نظروں سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-alkamoos-ul-jadeedurdu-arbiizafa-shuda
    وحیدالزماں کیرانوی
    عربی زبان اپنی وسعت اور آفاقیت کے لحاظ سے دنیا کی زندہ اور وسیع تر زبانوں میں ممتاز تر حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس میں مختلف النوع جدید اصطلاحات و تعبیرات بے تکلفی کے ساتھ سماتی جا رہی ہیں جن کا اندازہ جدید لٹریچر اور جدید عربی معاجم کے مطالعہ سے کیا جا سکتا ہے۔ برصغیر میں عربی اخبارات و مجلات اور جدید تالیفات کو سمجھنے کے لیے  عربی دان طبقہ کو ایک ایسی ڈکشنری کی ضرورت تھی جس میں خاص طور پر نئی عربی اصطلاحات یا قدیم الفاظ کے نئے معانی کی وضاحت اردو میں ہو۔ اس مشکل کو مولانا وحید الزماں کیروانوی نے ’القاموس الجدید‘ کے نام سے حل کیا ہے۔ ’القاموس الجدید‘ جدید عربی لٹریچر کو سمجھنے کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ اس کتاب کی ترتیب میں ’القاموس العصری‘ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ایسے الفاظ جو بظاہر عام مروجہ کتب عربیہ میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں لیکن ذہنوں میں ان کے ایک خاص معنی اور اشتقاقی ترجمے رچ بس گئے ہیں وہ بھی معنی اور ترجمہ کے جدید لباس میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، الفاظ کے معنی اگرچہ قدیم و جدید کی صراحت کے بغیر بیان کیے گئے ہیں لیکن ہر معنی کا علیحدہ نمبر دے کر اختلاف معانی کو واضح کر دیا گیا ہے۔(ع۔م)
  • copy-of-title-pages-alkamoos-ul-jadeedurdu-arbiizafa-shuda
    وحیدالزماں کیرانوی
    عربی زبان اپنی وسعت اور آفاقیت کے لحاظ سے دنیا کی زندہ اور وسیع تر زبانوں میں ممتاز تر حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس میں مختلف النوع جدید اصطلاحات و تعبیرات بے تکلفی کے ساتھ سماتی جا رہی ہیں جن کا اندازہ جدید لٹریچر اور جدید عربی معاجم کے مطالعہ سے کیا جا سکتا ہے۔ برصغیر میں عربی اخبارات و مجلات اور جدید تالیفات کو سمجھنے کے لیے  عربی دان طبقہ کو ایک ایسی ڈکشنری کی ضرورت تھی جس میں خاص طور پر نئی عربی اصطلاحات یا قدیم الفاظ کے نئے معانی کی وضاحت اردو میں ہو۔ اس مشکل کو مولانا وحید الزماں کیروانوی نے ’القاموس الجدید‘ کے نام سے حل کیا ہے۔ ’القاموس الجدید‘ جدید عربی لٹریچر کو سمجھنے کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ اس کتاب کی ترتیب میں ’القاموس العصری‘ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ایسے الفاظ جو بظاہر عام مروجہ کتب عربیہ میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں لیکن ذہنوں میں ان کے ایک خاص معنی اور اشتقاقی ترجمے رچ بس گئے ہیں وہ بھی معنی اور ترجمہ کے جدید لباس میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، الفاظ کے معنی اگرچہ قدیم و جدید کی صراحت کے بغیر بیان کیے گئے ہیں لیکن ہر معنی کا علیحدہ نمبر دے کر اختلاف معانی کو واضح کر دیا گیا ہے۔(ع۔م)
  • title-page-alqamoos-ul-waheed
    وحید الزماں قاسمی
    مادری زبان کےعلاوہ کسی دوسری زبان کو سمجھنے کےلیےڈکشنری یالغات کا ہونا ناگزیر ہے عربی زبان کے اردومعانی  کے حوالے سے کئی لغات یا معاجم تیار کی گئی ہیں لیکن ان سب میں منفرد اور انتہائی مفید 'القاموس الوحید' ہے اس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جدید عربی زبان کے اسالیب کا بھی خیال رکھاگیا ہے یہ کتاب علماء ،طلباءاور عوام سب کے لیے ایک قیمتی متاع ہے جس کے مطالعہ سے کسی بھی عربی لفظ کااردومفہوم ومدعا معلوم کیا جاسکتا ہے  بعض احباب کےتقاضے پراسے اپ لوڈ کیا جارہا ہے تاکہ عربی تفہیم وتعلم میں اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔


  • 311432ttiel
    لوئیس معلوف
    عربی زبان ،اہل اسلام کےلیے بہت اہمیت کی حامل ہے ،اس لیے کہ ہمارادین اسی زبان میں نازل ہوا۔قرآن کریم اوراحادیث نبویہ  کوسمجھنےکے لیےعربی کاجانناناگزیرہے ،کہ اس کےبغیرکماحقہ ان کی معرفت حاصل نہیں کی جاسکتی ۔اس کے لیے عجمیوں کوڈکشنری کی ضرورت پڑتی ہے۔’’ المنجد‘‘ عربی اردوایک بہت ہی مفیدڈکشنری ہے ۔جس کی مدد سے عربی الفاظ کے مفاہم ومعانی باآسانی معلوم کیے جاسکتے ہیں ۔کتاب وسنت ڈاٹ کام کی ٹیم اسے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہی ہے ۔اس سے یقیناً علماءاورطلباء سمیت عوام الناس بھی مستفیدہوں گے،اورعربی زبان کے افہام وتفہیم میں اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔






  • title-pages-aik-majlis-ki-3-talaq-ulmai-ahnaf-ki-nazar-me
    نا معلوم
    زیر نظر رسالہ میں طلاق ثلاثہ سے متعلق چند مفتیان احناف کی آرا پیش کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا محمد عبدالحلیم قاسمی کے  تین خطوط شامل کیے گئے ہیں جو کہ نہایت سبق آموز ہیں۔ پہلا خط ہفت روزہ ’اہل حدیث‘ سے لیا گیا ہے۔ دوسرا ملتان کے حالات او ر اسی خط کا ذکر کر کے مولانا محترم کو لکھا گیا پہلا جواب پہنچتے کچھ تاخیر ہو گئی تو اگلا خط لکھ کر ارسال کر دیا گیا۔ مولانا نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا تامل دونوں خطوط کا جواب ارسال فرما دیا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-balon-ka-mamla-copy
    ابن بشیر الحسینوی

    اسلام ایک کامل واکمل دین ہے جس نے انسانوں کی ہرموڑپر رہنمائی کی ہے او رزندگی گزارنے کے تمام سلیقے سکھائے ہیں۔ چھوٹے  سے چھوٹے  مسئلے پر بھی تفصیلی بحث  کی ہے ان میں سے ایک اہم  مسئلہ  بالوں کا ہے۔اس موضوع پر مشاہیرِ اسلام نےاپنے  اپنے  انداز میں لکھا مگر وہ موتی کتب فقہ واحادیث  میں بکھرے ہوئے ہیں ۔ اس  مصروف اور ہیجان انگیز دور میں عام  آدمی کےلیے  ان سب کا چننا اور پھر انہیں ایک لڑی میں پرونا بہت مشکل ہے۔  زیر تبصرہ کتاب ’’بالوں کا معاملہ ‘‘ کے مصنف  جنا ب ابن بشیر حسینوی  ﷾ نے نہایت خوبصورتی اوراختصار کے ساتھ قرآنی آیات ، صحیح احادیث اور آثار صحابہ کے  حوالوں سے عام فہم اور دلنشیں انداز میں  بالوں کا معاملہ مختلف ابواب میں تقسیم کر کے  ان پر روشنی ڈالی ہے ۔ انہوں نے مسلمان مرد کےبالوں کےاحکام ، کنگھی کرنے کےآداب، کن صورتوں میں بال منڈوانا جائز ہے ؟کن حالتوں میں بال کٹوانا ممنوع ہے ؟ سفید بالوں کا  کیا حکم ہے ؟ وضومیں سر کا مسح، نومسلم کےبالوں کا  حکم ، بچے اور عورت کےبالوں کے احکام  ،ابرؤوں کے بالوں کےاحکام ،رخساروں کے بال،الغرض بالوں کے متعلقہ تقریبا 137 احکام پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا ہے ۔ جو کہ انتہائی  قابل قدر  وقابل تحسین ہے ۔ محترم ابن بشیر حسنیوی صاحب  نے ثانوی کی تعلیم جامعہ لاہور الاسلامیہ سے حاصل کی پھر جامعہ التربیۃ الاسلامیہ ، فیصل آباد میں داخلہ  لیااور سندفراغت  حاصل کی پھر تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے  میدان  میں مصروف ہوگے   اور ماشاء اللہ ان کے  کئی مضامین   جماعت کے علمی  رسائل کی زینت بن چکے ہیں۔اور اب مرکز امام احمد بن حنبل کےنام سےایک دینی ادارے  کے  مدیر ومنتظم او رساتھ ساتھ دعوت وتبلیغ کاکام بھی کررہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل میں اضافہ فرمائے  (آمین)  (م۔ا)

  • untitled-1
    ابن رشد
    فقہ کی کتب میں ’بدایۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد‘ کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اسے علمی دنیا کی نہایت وقیع کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ دنیا کے اکثر مدارس میں یہ کتاب نصاب کا حصہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ علامہ ابن رشد کا انداز بیان ہے۔ موصوف سب سے پہلے کسی بھی مسئلے پر تمام فقہا کی آراء اور دلائل پیش کرتے ہیں اس کے بعد سبب اختلاف کا تذکرہ کرتے ہیں اور راجح مؤقف کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ اگرچہ بہت سی جگہوں پر انھوں نے صرف دلائل کے ذکر پر اکتفا کیا ہے اور راجح مؤقف کا فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا ہے۔ مصنف اگرچہ خود مالکی المسلک ہیں لیکن کسی بھی موقع پر جانبدار نظر نہیں آتے۔ اس مایہ ناز کتاب کا اردو قالب آپ کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی نے نہایت جانفشانی کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ لیکن پھر بھی بعض جگہوں پر جملے بے ربط سے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ کتاب ہر خاص و عام کے لیے لائق مطالعہ ہے۔ یقیناً اس سےدوسرے مسالک کے بارے میں منافرت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-barre-sagheer-me-ilme-fiqah
    محمد اسحاق بھٹی
    زیر نظر کتاب معروف مؤرخ وسوانح نگار جناب محمد اسحق بھٹی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں برصغیر پاک وہند میں علم فقہ کی نشرواشاعت اور اس سے متعلقہ اہم کتب کا تعارف کرایا گیاہے۔ابتدا میں علم فقہ کے معنی ومفہوم پر روشنی ڈالی گئی ہے،پھر ماخذ فقہ،اجتہاد اور استنباط مسائل میں اختلاف پر بحث کی ہے۔اصحاب فتوی صحابہ وتابعین اور مختلف علاقوں میں مراکز فقہ کی بھی نشاندہی کی ہے اس کے بعد ائمہ اربعہ کے مناہج فقہ کا تذکرہ ہے بعدازاں بر صغیر میں فقہ کی آمد کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے اور پھر گیارہ فقہی کتابوں کا تعارف کرایا ہے ۔ان میں الفتاوی الغیاثیہ،فتاوی امینیہ ،فتاوی بابری اور فتاوی عالمگیری اہم ہیں۔یہاں اس امر کی نشاندہی ضروری ہے کہ اس سے ان کتابوں کا تعارف ہی مقصود ہے۔ان کے مندرجات کی توثیق یا مباحث کی تائید پیش نظر نہیں،اس لیے کہ اصل حجت کتاب وسنت ہیں ۔تمام مسائل انہی کی روشنی میں قبول کرنے چاہییں،جبکہ ان کتابوں کے مندرجات زیادہ تر مخصوص مکاتب فقہ کی تقلید پر مبنی ہیں۔اس نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔(ط۔ا)

  • title-pages-tareekh-al-taqleed-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    اہل اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام ایک کامل دین ہے ۔ ہر مسلمان شہادتین کے اقرار کے ساتھ حصراً دو چیزوں کا مکلف بن جاتا ہے یعنی کتاب و سنت۔ قیامت تک کے لئے دنیا کی کوئی طاقت ان دو چیزوں میں تفریق پیدا نہیں کرسکتی ۔ یہ کامیابی کی سب سے قوی اساس اور نجات کا مرکزی سبب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے قلوب و اذہان میں اس کی اہمیت اور محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی ، چنانچہ انہوں نے اسی پر عمل کرکے رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا لقب حاصل کیا۔ اسی لئے کتاب و سنت کا وہی مفہوم معتبر ہے جو اجماع و سلف صالحین سے ثابت ہے ، خیر القرون کے مسلمانوں نے بھی اسی کو اپنا کر  عالمِ کفر پر غلبہ پایا اور باطل ان کے سامنے سر نگوں تھا۔اس کے برعکس ایک حساس اور گھمبیر مسئلہ تقلید شخصی کا ہے ، جس کا آغاز قرونِ ثلاثہ کے بعد ہوا۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس سے ہر دور میں مسلمان تشتت و افتراق کا شکار ہوئے ہیں۔ اس نے اسلام کے مصفیٰ آئینہ کو دھندلا دیا۔ تقلید راہِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور مقلد کو تارکِ سنت بناتی ہے ۔ تقلید وحی کی ضد ، توحید کے منافی اور چوتھی صدی کی بدعت ہے۔اللہ تمام مسلمانوں کو اس سے محفوظ فرمائے۔ زیر تبصرہ کتاب "تاریخ التقلید" محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ پر بناء رکھتے ہوئے  تقلید کی تاریخ کو مرتب فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-tabdeli-halat-se-shari-ahkam-ki-tabdili-k-taswurat-maqala-m-phil
    حافظ طاہر اسلام عسکری
    فی زمانہ نفاذ شریعت کی کوششوں کے ذیل میں یہ سوال سنجیدگی سے سامنے آ رہا ہے کہ جن مسائل سے متعلق قرآن و حدیث میں واضح نصوص موجود ہیں لیکن موجودہ حالات میں ان پر عمل میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں تو کیا ان کو بعینہ تسلیم کر لیا جائے یا حالات کے مطابق ان میں ترمیم و اضافہ ممکن ہے؟ اس وقت آپ کے سامنے حافظ طاہر اسلام عسکری صاحب کامل محنت اور جانفشانی کے ساتھ لکھا جانے والا ایم۔فل کا مقالہ ہے۔ جو کہ بنیادی طور پر اسی سوال کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیاہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے تین طبقات کا تذکرہ کیاہے۔ پہلا طبقہ وہ ہے جو قرآن و حدیث کے منصوص احکام کو غیر متبدل مانتے ہیں۔ دوسری طبقہ جدت پسندوں کا ہے جن کے مطابق سیاست، معیشت اور معاشرت سے متعلقہ اسلامی حدود وضوابط کو عصری تقاضوں کے پیش نظر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں تیسرا طبقہ ان علما کا ہے جو عقائد و عبادات میں تو کسی تبدیلی کے قائل نہیں ہیں لیکن حالات کے تحت معاملات سے متعلقہ احکام میں تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔ محترم حافظ صاحب نے اس قسم کے تمام خیالات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اجتہاد کا درست تصور اور اس کا دائرہ کار واضح کیا ہے۔ علاوہ ازیں نصوص شریعت کی تبدیلی کے حق میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں اسلامی اصول تحقیق کی روشنی میں ان کاتحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ حافظ صاحب نے تبدیلی حالات سے متعلق عرب علما کے نقطہ نظر کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس مقالہ پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tahqiqi-islahi-aur-ilmi-makalaat-jilad3
    حافظ زبیر علی زئی
    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

  • title-pages-tahqiqi-islahi-aur-ilmi-makalaat-jilad2-copy-copy
    حافظ زبیر علی زئی
    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

  • title-pages-tahqiqi-islahi-aur-ilmi-makalaat-jilad3
    حافظ زبیر علی زئی
    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

  • pages-from-tasveer-sazi-aur-photography-ki-shari-haisiyyat
    گوہر رحمان

    اسلام شخصیت پرستی اور بت پرستی سے منع کرتا ہے،جو شرک کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔شرک کی ابتداء اسی امر سے ہوئی کہ لوگوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر پہلے تو اپنے نیک اور بزرگ لوگوں کی تصویریں بنائیں،پھر انہیں مجسمے کی شکل دی اور پھر ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔مغرب کی بے دین   حیوانی تہذیب میں بت سازی ،تصویر سازی اور فوٹو گرافی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،اور بد قسمتی سے مسلمان سیاست دانوں کی سیاست بھی مصورین اور فوٹو گرافروں کے گھیرے اور نرغے میں آ چکی ہے۔نبی کریم ﷺ کی اسلامی تحریک اورسیاست نہ صرف تصویر سے خالی تھی بلکہ تصویروں اور مجسموں کو مٹانا آپ ﷺ کے لائحہ عمل میں شامل تھا۔اگر دعوت وجہاد اور سیاست وحکومت میں تصویروں کی کوئی اہمیت ہوتی تو حرمین میں نبی کریم ﷺ کی تصویروں کے بینر لٹکا دئے جاتے،اور سیرت کی کتب میں   اس کا تذکرہ موجود ہوتا۔فوٹو گرافی تو عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ ﷢میں موجود نہیں تھی،البتہ تصویر سازی کے ماہرین ہر جگہ دستیاب تھے۔اگر تصویر بنانا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ﷢ضرور نبی کریم ﷺکی تصاویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لیتے۔زیر تبصرہ کتاب" تصویر سازی اور فوٹو گرافی کی شرعی حیثیت اور شبہات کا ازالہ "تصویر سازی کی اسی قباحت اور حرمت کےبیان پر مشتمل ہے،جو ایک سوال کے جواب میں مولانا گوھر رحمن کے تفصیلی جواب پر مشتمل ہے۔مولانا موصوف نے اس میں کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-taqleed-aur-ulmae-deoband-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرےفروغ حاصل ہوا  ہے۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے  اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب " تقلید اور علماء دیو بند "رئیس جامعہ لاہور الاسلامیہ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی ﷫، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ﷫، مولانا محمود الحسن﷫، مولانا مرتضی حسن ﷫وغیرہ علماء  دیو بند کی تحریرات(جو انہوں نے اثبات تقلید میں مختلف پیرایہ میں لکھی ہیں)کے محققانہ ومنصفانہ جوابات دئیے ہیں۔ مولف موصوف ﷫ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-taqleed-kia-he-copy
    بشیر الرحمٰن صدیقی

    کسی آدمی کی  وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ   ہو،نہ ہی  اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور ہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ  دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند  دہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے  فروغ حاصل ہوا  ہے ۔  امت کا  درد رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں ۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔زیر کتاب’’تقلید کیاہے ؟  تقلید کے موضو ع پر  مولانا چراغ دین  (اہل حدیث) اور  مولانا  قاضی شمس الدین  (دیوبندی ) مابین   تحریری مناظرہ کی  روداد ہے   جس  مولانا بشیر الرحمٰن صدیقی نے مرتب  کرکیا  اور  ادارہ ندوۃ المحدثین  گوجرانوالہ  نے   افادہ عام کے لیے شائع کیاہے ۔(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-taqleed-k-khoufnak-nataij-copy
    شبان اہل حدیث بہاولنگر

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور ہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے ۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں ۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعصب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’تقلید کے خوفناک نتائج‘‘فقیر والی کے حنفی مدرسے قاسم العلوم کے مولوی بشیر احمد قادری حنفی کے’’ترک تقلید کے بھیانک نتائج ‘‘ کاجواب ہے ۔اس کتابچہ میں مصنف نے دلائل وبراہین سے مولوی بشیر احمدقادری کے رسالے کے جواب دیا ۔ جس کے مطالعہ سے بخو بی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تقلید کتنی بری چیز ہے اورمقلد کا علم کتنا سطحی ہوتا ہے اوراس کے بلند بانگ دعوے کتنے کھوکھلے ہوتے ہیں ۔(م۔ا)

  • title-pages-touheed-say-jahil-shakhs-k-bary-me-shree-hukam
    ابو عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن عبد الحمید المصری
    اللہ تعالی ٰ نے جن و انس کو محض اس لیے تخلیق فرمایا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں،یعنی توحید کو عقیدہ وعمل کے اعتبار سے مان کر دکھائیں۔اسلام کا اساسی ترین مسئلہ،توحید ہی ہے ۔کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ توحید سے با خبر نہ ہو۔لیکن افسوس کہ آج کلمہ گو مسلمانوں کی عظیم اکثریت توحید اور اس کے تقاضوں سے قطعاً بے خبر اور ناواقف ہے ۔زیر نظر کتابچے میں اس نکتے پر بحث کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھنے کے بعد کفریہ و شرکیہ امور کا مرتکب ہوتا ہے تو کیا جہالت اس کے لیے عذر بن سکتی ہے یا نہیں؟اس سلسلہ میں کافی تفیل ہے کہ وہ کفریہ و شرکیہ امر دین کی واضح اور جلی تعلیمات سے متعلق ہے یا تفصیلی اور خفی تعلیمات سے ؟مزید برآں کیا ان امور کا مرتکب مسلمان معاشرے میں رہتا ہے یا کافر معاشرے میں ،اس طرح کیا وہ نیا نیا مسلمان تو نہیں ہوا؟ان تمام مسائل پر اس رسالے میں بحث کی گئی ہے جو لائق مطالعہ ہے۔

  • title-pages-taiseer-ul-quran-dictionoery
    عطاءالرحمن ثاقب
    جب تک قرآن مجید کو اپنی زبان میں سمجھنےکی کوشش نہ کی جائے اس کی قوت تاثیر، اس کی ہیبت و سطوت ، اس کے جلال اور اس کی فصاحت و بلاغت سے آگاہی ممکن نہیں۔ تیسیر القرآن قرآنی گرامر کا ایک کورس ہے جس سےعربی زبان کےابتدائی اور اہم قواعد سکھا کر قرآن مجید کو براہِ راست سمجھنے کی استعداد پیدا کی جاتی ہے۔ عربی گرامر کے قواعد کی قرآنی آیات پر تطبیق سے طالب علم کو قرآن مجید سمجھنے کی صلاحیت تدریجاً پروان چڑھتی رہتی ہے۔ تیسیر القرآن (گرامر) سے طالب علم کو قرآن مجید کو لغوی تشریح کےساتھ مکمل کرنے کی جو تشنگی پیدا ہو جاتی ہے اس کااحساس کرتے ہوئے تیسیر القرآن ڈکشنری کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ اس کا پہلا جز جو پانچ پاروں پر مشتمل ہے آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے استفادہ کرنے کے لیے تیسرالقرآن (گرائمر) کا ابتدائی کورس مکمل کرنا لازمی ہے تاکہ ان اصطلاحات کا تعارف ہو جائے جو اس ڈکشنری میں استعمال ہوئی ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-jadeed-arbi-lugat
    حافظ نذر احمد
    زیر نظر کتاب جو حجم کے اعتبار سے مختصر ہے لیکن افادیت کے پہلو سے بڑی بڑی کتابوں پہ بھاری ہے اس میں عربی بول چال کے حوالے سے بہت ہی احسن انداز سے رہنمائی کی گئی ہے مختلف فنون اور پیشوں کے لیے عربی الفاظ مختلف عناوین کےتحت بیان کیے گئے ہیں جوعربی بول چال کی عملی مشق کےلیےمختلف افراد کےمکالمے بھی اس میں دیئے گئے ہیں مثلاً اگر کوئی عرب ملک میں جانے اور راستہ پوچھنے کی ضرورت ہو ،یا ہوٹل میں گفتگو کرنی پڑے ،یا پاسپورٹ آفس میں بات چیت کی ضرورت  پڑے تو کس طریقے سے گفتگو ہوگی اس کےنمونے کتاب میں موجود ہیں آخر میں ایک جامع اور مختصر جدید عربی اردو لغت بھی شامل کتاب ہے عربی بول چال کے شوقین طبقے کےلیے یہ کتاب بہت ہی مفید ہے


  • title-pages-jannat-main-la-jana-wala-40-aamaal-copy
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
    انسانی جسم کی ساخت اورجبلت ایسی ہے کہ یہ مختلف اسباب ووجودکی بناء پرمرض کاشکارہوجاتاہے۔اسلام میں جسطرح نارمل حالات اورصحت وتندرستی کے حوالے سے احکام موجودہیں۔وہیں اللہ عزوجل نے بیماروں کے لیے بھی بعض رخصتیں اورخاص احکام نازل فرمائی ہیں ۔زیرنظرکتابچہ میں عالم اسلام کی مشہورعلمی شخصیت  علامہ ابن بازمفتی اعظم سعودی عرب نے انہی احکام کوبیان کیاہے ۔اس کی اہمیت کااندازہ اس سے کیاجاسکتاہے یہ اپنی نوعیت کاپہلاکتابچہ ہے ۔شیخ صاحب مرحوم نے اس میں ان تمام مسائل کاتذکرہ کیاہے جومریض کودرپیش آتے ہیں ،خواہ ان کاتعلق وضو،تیمم اورنماز کی مختلف حالتوں اورصورتوں وغیرہ سے ہویانرسز کے ساتھ معاملات ونگرانی اورخلوت وغیرہ سے ۔اسی طرح ڈاکٹرزاورنرسز کاآپس میں میل جول ،خلوت ،موسیقی کےعلاوہ موانع حمل جیسے قضیے بھی زیربحث آئے ہیں۔بنابریں یہ فتاوی ہسپتال کے عملہ ،مریضوں اورعام مسلمانوں کے لیے انتہائی مفیدہے ۔

  • title-pages-hujja-tulllah-al-baaligha
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    شاہ ولی اللہ دہلوی برصغیر کی جانی مانی علمی شخصیت ہیں۔ شاہ صاحب بنیادی طور پر حنفی المسلک تھے۔ وہ دور برصغیر میں تقلیدی جمود کا دور تھا اور فقہ حنفی کو حکومتی سرپرستی حاصل تھی۔شاہ ولی اللہ جیسے ماہر فقہ نے اسی مکتبہ فکر میں پرورش پائی تھی۔ لیکن جب آپ  حج کے لیے مکہ گئے تو وہاں سے عرب شیوخ سے درس حدیث لیا یہیں سے آپ کی طبیعت میں تفہیم دین بارے تقلیدی جمود کے خلاف تحریک اٹھی۔ وہاں سے تشریف لاکر سب سے پہلے آپ نے برصغیر کے عوام کو اپنی تحریروں سے یہ بات سمجھادی کہ دین کسی ایک فقہ میں بند نہیں بلکہ چاروں اماموں کے پاس ہے۔ یہ جامد تقلید کے خلاف برصغیر میں باضابطہ پہلی کوشش تھی۔ اس کے بعد شاہ صاحب نے  ساری زندگی قرآن و سنت کو عام کرنے کے لیے وقف کردی۔ پیش نظر کتاب ’حجۃ اللہ البالغۃ‘ بھی موصوف ہی کی مشہور و معروف تالیف ہے جس میں آپ نے نہایت شرح و بسط کے ساتھ احکام شرع کی حکمتوں اور مصلحتوں پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب انسانوں کے شخصی اور اجتماعی مسائل، اخلاقیات،  سماجیات او راقتصادیات کی روشنی میں فلاح انسانیت کی عظیم دستاویز کا خلاصہ ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کے فرائض مولانا خلیل احمد بن مولانا سراج احمد نے ادا کیے ہیں۔ یہ اردو ترجمہ خاصا پرانا ہے اس لیے بہت سارے ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو موجودہ اردو کتب میں متروک ہو چکے ہیں۔ اور کتابت بھی ہاتھ سے کی گئی ہے جس کی وجہ سے کتاب کا مطالعہ کرنا قدرے مشکل ہو گیا ہے۔ کتاب کی افادیت کی پیش نظر اس کو جدید اسلوب میں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-haqeeqat-ikhtlafe-mutalia-w-masala-roiat-hilal
    عبد الوکیل ناصر

    زیر مطالعہ چند صفحات پر محیط رسالہ میں مسئلہ رؤیت ہلال پر قیمتی آراء کا اظہار کرتے ہوئے احادیث و آثار کی روشنی میں ثابت کیا گیا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں اختلاف مطالع کا اعتبار کیا گیا ہے اور لوگوں کو اپنے مطلع کے مطابق احکامات الٰہیہ کا پابند کیا گیا ہےمولانا عبدالوکیل ناصر نے ثابت کیا ہے کہ موجودہ دور کے بہت سے ’دانشور‘ حضرات جو یہ نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ساری دنیا کو ایک جگہ کی رؤیت کا پابند کر دیا جائے، کا مؤقف کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔

     

     

  • copy-of-title-pages-haqeeqat-e-taqleed-o-ijtihad
    محمد بن علی شوکانی
    یہ مسئلہ ایک طویل عرصہ سے استخوان نزاع بنا ہوا ہے کہ آیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے یا کھلا ہے ،اور یہ کہ کیا ہر شخص پر ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے یا نہیں؟مقلدین حضرات کا کہنا ہے کہ اجتہاد کا مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب ہر شخص کے لیے ضروری ہے  کہ وہ ان ائمہ میں سے کسی ایک کی تقلید کرے ۔اس کے برعکس اہل حدیث کا کہنا ہے ہ باب اجتہاد تاقیامت واہے اور تقلید شخصی کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں،لہذا یہ درست نہیں۔زیر نظر کتابچہ امام شوکانی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے جو یمن کے ایک جلیل القدر عالم ،فقیہ،مفسر ،مجتہد اور محدث تھے۔امام صاحب رحمہ اللہ نے اس میں ارباب تقلید کے دلائل کا جائزہ لیا ہے اور ان کے مغالطوں کا تجزیہ کر کے ان کا تارو پود بکھیر دیا ہے ،نیز یہ بھی ثابت کیا ہے کہ خود ائمہ متبوعین نے لوگوں کو اپنی تقلید سے روکا ہے ۔امید ہے کہ مسئلہ تقلید کو سمجھنے کے لیے اس کا مطالعہ مفید ثابت ہو گا۔(ط۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 986 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں