• محمد علی جانباز

    اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جواپنے ماننے والوں کوصرف مخصوص عقائد ونظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر یہ دین مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید او رنبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دوچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہے ہیں گے ۔حیات انسانی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں اسلام نے اس کی راہنمائی نہ فرمائی ہو ۔عبادات ومعاملات سے متعلق مسائل واحکام وآگاہی اسلامی معاشرہ کے ہر فرد کی ضرورت ہوتی ہے انہی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ عدت وسوگ کا ہے۔موت کےرنج والم کی کیفیت کا شریعت اسلامیہ کے ضوابط کے تحت سامنا کرنے کا نام سوگ ہے ۔لیکن ہمارے پاک وہند کے معاشرےمیں اس حوالے سے ہندوؤانہ رسوم ورواج کا اس قدر چلن عام ہوچکا ہے کہ سوگ کے متعلق ہم کتاب وسنت کی ہدایات کوفراموش کر چکے ہیں۔عورت کی عدت سے مراد وہ ایام کہ جن کے گزر جانے پر اس سے نکاح کرنا حلال ہو جاتا ہے۔عورت کے عدت گزارناواجب ہے اس پر تمام علماء امت کا اجما ع ہے ۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’احکام عدت ‘‘ شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی کاوش ہے ۔ اس میں انہوں نے مسئلہ عدت وسوگ کی جملہ جزئیات کا احکاطہ کرتے ہوئے عدت او ر سوگ کےجملہ اہم وضروری مسائل کو اردو زبان میں تحریر کیا ہے تاکہ بوقت ضرورت اردو طبقہ بھی اس اسے استفاد ہ کرسکے ۔(م۔ا)

  • محمد علی جانباز

    کسی بھی چيز کی اصل کو روک کر رکھنے اور اس میں ہبہ یا وراثت کے تصرف نہ کرنے بلکہ کسی بھی قسم کا تصرف نہ کرنے کو وقف کہا جاتا ہے تاکہ اس چيز کے نفع کو وقف کرنے والے کےارادہ کے مطابق خیر و بھلائی کے کاموں میں صرف کیا جا سکے ۔سب سے بہتر وقف یہ ہے کہ اسے خیر و بھلائی کے کاموں میں وقف کیا جائے۔ اور ہبہ ، ہدیہ اور صدقہ وقف کی ذیلی اقسام ہیں غریبوں اورضرورت مندوں کی مدد کے طریقے ہیں جن کی ترغیب کتاب وسنت میں دلائی گئی ہے ۔ لغوی اعتبار سے اگر کوئی ریئس ، بادشاہ وغیرہ کسی چھوٹے کوکوئی عطیہ دے تواسے ہبہ کہاجاتا ہے جبکہ اگر چھوٹا کسی بڑے کوکچھ نذرکرے تو اسے ہدیہ کہاجاتاہے ۔ اصطلاح میں ہبہ ایک شخص کا دوسرے کوجائیداد منقولہ یا غیرمنقولہ کا فوری اور بلامعاوضہ مالک بنا دینے اورشی موہوبہ کےحق ملکیت سےدستبردار ہونے کا نام ہبہ ہے۔ ہبہ کا لفظ ایک مخصوص اصطلاح فقہ کے طور پر عہدنبوی ہی میں بکثرت استعمال ہونے لگا تھا۔ متاخر عہد فقہاء نےشرح وبسط سےاس کےتفصیلی احکام بیان کیے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احکام وقف وہبہ ‘‘شیخ الحدیث مولانامحمد علی جانباز ﷫ کی تصنیف ہے ۔یہ رسالہ انھوں نے 1987ء میں لاہور ہائیکورٹ کووقف کےمتعلق درپیش معاملہ پر تحریر کی ۔کیونکہ وکلا حصرات نے مولانا سے وقف ،ہبہ کے متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں معلومات طلب کی تھیں اور مولاناجانباز﷫ نے اس رسالہ میں تین مسائل (وقفہ ، ہبہ ، شفعہ ) متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی مواد جمع کر کے وکلا کے سامنےپیش کیا ۔ بعد ازاں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کردیا گیا تاکہ عوام الناس اور وکلاء حضرات اس سے مستفید ہوسکیں۔(م۔ا)

  • ڈاکٹر سلمان فہد عودہ

    امت محمدیہ آج جن چیزوں سے دوچار ہے ،اور آج سے پہلے بھی دو چار تھی ،ان میں اہم ترین چیز بظاہر اختلاف کا معا ملہ ہے جو امت کے افراد وجماعتوں، مذاہب وحکومتوں سب کے درمیان پایا جاتا رہا اور پایا جاتا ہے یہ اختلاف کبھی بڑھ کر ایسا ہوجاتا ہے کہ گروہ بندی تک پہنچ جاتا ہے اور یہ گروہ بندی باہمی دشمنی تک اور پھر جنگ وجدال تک ذریعہ بنتی ہے ۔اور یہ چیزیں اکثر دینی رنگ وعنوان بھی اختیار کر لیتی ہیں جس کے لیے نصوصِ وحی میں توجیہ وتاویل سے کام لیا جاتا ہے ، یا امت کے سلف صالح صحابہ وعلماء واصحاب مذاہب کے معاملات وحالات سے استناد حاصل کیا جاتا ہے ۔اور اختلاف اساسی طورپر دین کی رو سے کوئی منکر چیز نہیں ہے ،بلکہ وہ ایک مشروع چیز ہے جس پر کتاب وسنت کے بے شمار دلائل موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ اختلاف رائے احکام وآدا ب‘‘ فضلیۃ الشیخ دکتور سلمان فہد عودہ کی عربی تصنیف ’’ فقہ الاختلاف ولا یزالون مختلفین‘‘ کا   اردو ترجمہ ہے ۔مؤلف موصوف نے اس کتاب میں اساسی حیثیت سے اختلاف کی شرعی نوعیت کا تذکرہ کیا ہے ، اور اس کو کتاب وسنت ،نیز صحابہ وعلماء مجتہدین کی سیرت وکردار کی روشنی مین واضح کیا ہے ۔اور اس مشروعیت کےپیچھے نظری وعملی طور پر جو صالح نتائج وثمرات ہیں ان کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اور ان آداب کوبھی بیان کیا ہے جن کی رعایت اس غرض سے کی جانی چاہئے تاکہ اختلاف سے وہ صالح فائدہ وثمرہ حاصل کیا جا سکے جواس کی مشروعیت سے مقصود ہے خواہ یہ اس سلسلے کے اخلاقی آداب ہوں یا عملی وانتطامی۔اس کتاب کو اپنی پوری تفصیل میں اس انداز پر مرتب کیا گیا ہے کہ اس میں علمی وبنیادی انداز میں اختلاف کے قضیہ کوپیش کیا گیا ہے اور بنیادی دلائل کو تاریخ کےعلمی واقعات کے ساتھ مرتبط کیا گیا ہے اور موقع بموقع بہت سی مناسب مثالیں بھی ہر قبیل کی ذکر کی گئی ہیں۔اور اپنی اس علمی وبنیادی خوبی کے ساتھ اس کاایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کا اسلوب نرم ،انداز سہل کہ جس کو امت کے عام پڑھے لکھے لوگ قبول کریں اور پسند بھی کریں۔اللہ تعالی ٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل علم کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین(م۔ ا )

  • محمد سلطان المعصومی

    انسان کی طبیعت اور اس کا مزاج ہے کہ وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے،اور اس کا یہ طرز عمل زندگی کے تمام معاملات میں ہوتا ہے۔اسی طرح اس کے دین کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں بھی خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہےاور پھر دین اسلام سے بھلا اور کونسا دین خوب تر ہوگا۔تو بہر کیف کسی مسلمان کا مقلد بب جانا ایک ایسی سائیکل پر سوار ہونے کے مترادف ہے کہ جس کے پہیے تو گھومتے ہیں مگر وہ ایک جگہ پر ہی کھڑی رہتی ہے،جس سے ورزش کاکام تو لیا جا سکتا ہے مگر سفر طے نہیں کیا جاسکتا ہے۔لہذا تقلید کو اختیار کرنا انسان کے فطری مزاج اور طبیعت کے خلاف ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں غیر مسلم ملت اسلامیہ سے ہر میدان میں پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔کاش کی ہم بھی دل کی آنکھیں کھول لیتے اور کتاب وسنت سے حقیقی راہنمائی حاصل کر کے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتے۔زیر تبصرہ کتاب(اسلام اور فقہی مکاتب فکر)جناب محمد سلطان المعصومی الخجندی المکی ﷫کی عربی تالیف "ھل المسلم ملزم باتباع مذھب من المذاھب الاربعۃ"یعنی کیا مسلمان مذاہب اربعہ میں سے کسی خاص مذہب کا پابند ہے،کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محمد یوسف نعیم نے حاصل کی ہے۔کتاب اگرچہ کچھ نو مسلم جاپانیوں نے چند سوالات کے جوابات اور رد تقلید کے موضوع پر لکھی گئی ہے،مگر مجموعی طور پر اس کی افادیت عمومی اہمیت کی حامل ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائےاور امت مسلمہ کو تقلید کے جمود سے نکال کر اجتہاد کے مقام پر فائز کر دے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صدیقی

    دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اہل علم اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی فقہ کے اصول ومبادی "محترم ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں فقہ اسلامی کے  اصول ومبادی کو بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • محمد ریحان

    ارکانِ اسلام پرعمل پیراہونا او راس کی جزئیات وتفیلات کی تعلیم و معرفت حاصل کرنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے بحیثیت مسلمان ہمارا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ ہم اپنے دین کوسیکھیں اس پر عمل کریں اور جامع ونافع دین کو ساری دنیا تک پہنچا دیں۔ایک داعی اور مبلغ کے لیےاسلام کی تبلیغ نشرواشاعت سے قبل قرآن واحادیث کی روشنی میں اسلام کی تفہیم وتعلیم او ر اس کی معرفت بہت ضروری ہے تاکہ ایک داعی صحیح منہج پر اسلام کی دعوت وتبلیغ کرسکے ۔اور اس میں صحیح رسوخ تو قرآن مجید کا ترجمہ وتفسیر سمجھنے اوراسی طرح فقہ وحدیث اور عقائد کی کتب کو درسا پڑھنے سے ہوتا ہے ۔لیکن اسلام کی بنیادی تعلیمات سے شناسائی کے حوالے سے کئی اہل علم نے مختلف انداز میں آسان فہم کتب مرتب کی ہیں ۔جنہیں پڑھ ایک عام مسلمان اسلام کی تعلیمات سے اگاہی حاصل سکتا ہے ۔زیرتبصرہ کتاب ''اسلامیات'' بھی اس سلسلے میں مولانا محمد ریحان ومولانا محمد فرحان حفظہما اللہ کی ایک اہم کاوش ہے ۔ جس میں انہوں نے تمام مسائل ومعاملات کو آیات قرآنی او راحادیث صحیحہ کی روشنی میں سوال وجواب کے اسلوب میں پیش کیا ہے کہ جس سے بات زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ میں آتی اور واضح ہوجاتی ہے۔ یہ کتا ب اپنے اس منفرد اسلوب کے لحاظ سے قرآن اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں اسلام کی بنیادی معلومات و تعلیمات کے حوالے سے تقریبا 900 سوال وجواب پرمشتمل ایک آسان اور مکمل انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے جوکہ اسلامی احکامات کو سمجھنے کے لیے انتہائی مفید اور ہر گھر اور لائبریری میں رکھنے کے لائق ہے اللہ تعالی اس کے مرتبین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر احمد فتحی بہنسی

    اسلام شریعت میں قصاص سے مراد برابر بدلہ ہے۔ یعنی جان کے بدلے جان، مال کے بدلے مال، آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت۔ یعنی جیسا کوئی کسی پر جرم کرے اسے ویسی ہی سزا دی جائے۔اور اسلام نے انسانی جان کو جو احترام دیا ہے وہ سورۃ مائدۃ کی اس آیت کریمہ سے ہی واضح ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا(المائدۃ:32) اسلام کا عطا کردہ نظام ِقصاص ودیت دیگر قوانینِ عالم کے مقابلے میں نہایت سیدھا سادہ ہے۔مثلاً قصاص لینا امام یا حاکم کا فرض ہے بشرطیکہ اولیائے مقتول قصاص کے طالب ہوں۔قاتل کو بھی بلاعذر تسلیم نفس کردینا چاہیے کیونکہ یہ حق العبد ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ مقدمے کافیصلہ کرتے وقت ازروئے قرآن حاکم پر یہ واجب ہے کہ وہ فریقین کےمابین کامل تسویہ برتے ۔اسلام سے قبل قصاص کے معاملے میں بہت زیادتی کی جاتی تھی یعنی بعض معاملات میں قصاص میں قتل کر کے او ربعض میں دیت لےکر چھوڑ دیا جاتا تھا اوراس کا کوئی ضابطہ نہ تھا۔ کبھی ایک آدمی کےعوض قبیلے کے سینکڑوں معصوم افراد کوموت کےگھاٹ اتاردیتے ایسا بھی ہوتا کہ اگر کسی بڑے نے کسی قبیلے کے ایک فرد کو قتل کردیا تو اس قاتل سےکہا جاتا کہ ہم تجھے اس وقت چھوڑسکتے ہیں جب تو اجازت دے کہ ہم تیرے سوغلاموں کو قتل کردیں۔ اگر وہ اجازت دے دیتا تو اس کے سو غلاموں کے بے دریغ تہہ تیغ کردیا جاتا ۔تو نبیﷺ نے انسانی جان کی قدروقیمت کے تحفظ کی خاطر قصاص ودیت کے رہنما اصول بیان کیے۔ علامہ ڈاکٹر احمد فتحی بہنسی برصغیر کے نامور عالم دین ہیں ۔علامہ کو اسلام کے قانون جنائی کے سلسلے میں مہارت تامہ حاصل تھی ۔انہوں نےاس موضوع پر متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’ القصاص فی الفقہ الاسلامی‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کتاب کی سب بڑی خوبی یہ ہےکہ یہ جامع او ر مختصر ہے اور اپنے موضوع کو متعارف کرانے کے سلسلے میں یہ نہایت ہی مفید کوشش ہے۔ اردو دان طبقہ کے استفادہ کےلیے مولانا سید عبد الرحمنٰ بخاری ریسرچ آفیسر قائداعظم لائبریری نےاسے اردو میں منتقل کیا اور ابتداء میں مولانا نے ایک نہایت ہی فاضلانہ مقدمہ تحریر فرمایا ہے ا ورانگریزی داں طبقہ کی آسانی کےلیے کتاب کے آخر میں فرہنگ اصطلاحات فقہیہ کو شامل کیا ہے تاکہ غیر عربی داں حضرات بھی   کتاب سے استفادہ کرسکیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

  • عبد الکریم زیدان

    وہ علم جس میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے، استدلال کے مراتب اور استدلال کی شرائط سے بحث کی جائے او راستنباط کے طریقوں کووضع کر کے معین قواعد کا استخراج کیا جائے کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے مجتہد تفصیلی دلائل سے احکام معلوم کرے، اس علم کا نام اصول فقہ ہے۔ علامہ ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص: 452) جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے اس زبان کے قواعد و اصول کو سمجھنا ضروری ہے اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول فقہ میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ فقہاء و محدثین نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً امام شافعی نے الرسالہ کے نام سے کتاب تحریرکی پھر اس کی روشنی میں دیگر اہل علم نے کتب مرتب کیں۔ اصول فقہ کی تاریخ میں بیسویں صدی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس دور میں علم اصول فقہ نےایک نئی اٹھان لی اوراس پر کئی جہتوں سے کام کاآغاز ہوا: مثلاً اصول کاتقابلی مطالعہ، راجح مرجوح کاتعین اور مختلف کتب میں بکھری مباحث کو یک جا پیش کرنےکے ساتھ ساتھ موجودہ قانونی اسلوب اور سہل زبان میں پیش کرناوغیرہ ۔اس میدان میں کام کرنے والے اہل علم میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر عبد الکریم زیدان کا بھی ہے۔ اصول فقہ پران کی مایۂ کتاب ’’الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ اسی اسلوب کی نمائندہ کتاب ہے اور اکثر مدارس دینیہ میں شامل نصاب ہے۔ زیر نظر کتاب ’’الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ سید عبدالکریم زیدا ن کی اصول فقہ کے موضوع پر جامع عربی کتاب کا ترجمہ ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو چارابو اب میں تقسیم کرکے مثالوں کے ساتھ تفصیلی مباحث پیش کی ہیں۔ باب اول :حکم کی مباحث۔ باب دوم: احکام کے دلائل کی بحث میں۔ باب ثالث: احکام کے استنباط کے طریقہ اور قواعد اور ان کے ساتھ ملحق قواعد ترجیح اور ناسخ ومنسوخ۔ باب چہارم: اجتہاد او راس کی شرائط ،مجتہد،تقلید اور اس کے تعریف کے متعلق ہے۔ مصنف نے اس میں ہر مسئلے کے بارے میں بنیادی اوراہم اصول اختصار و جامعیت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مؤلف نے کسی ایک مکتب فکر کے اصول پیش نہیں کیے اور نہ کسی خاص مکتب فقہ کی تقلید وحمایت کی ہے۔ اختلافی مسائل میں مصنف نے مختلف آراء کا محاکمہ کیا ہے اور آخر میں اپنی رائے پیش کی ہے۔ عربی کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے کا کام محترم جناب حافظ شعیب مدنی﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) اور مولانا حافظ اسلم شاہدروی﷾ کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس ترجمہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مصنف کتاب کی طرف سے اضافہ کی گئی فصل کا ترجمہ بھی شامل کردیاگیا ہے۔ جبکہ دیگر تراجم میں یہ اضافہ شامل نہیں ہے نیز مترجمین نے چند مقامات پر توضیحی نوٹ بھی تحریر کیے ہیں۔ امید ہے یہ کاوش اصول فقہ کے طلبہ اور علمائے کرام کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں افادیت اور جامعیت کے پیش نظر وفاق المدارس سلفیہ اور اکثر مدارس دینیہ کے نصاب میں شامل ہے۔ مترجم کتاب مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی﷾ اس کتاب کے علاوہ بھی کئی کتب کے مصنف و مترجم ہیں۔ اور طویل عرصہ سے مرکزی جمعیت اہل حدیث، پاکستان سے وابستہ ہیں اور دار المعارف مبارک مسجد، لاہور میں ریسرچ کے شعبہ میں بطور مدیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی تدریسی ، تصنیفی وتحقیقی، تبلیغی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ (آمین)

  • حامد کمال الدین

    ہرمسلمان کی خواہش ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کانفاذ ہو لیکن اس کے لیے کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے اس میں اختلاف ہے ایک بڑاطبقہ موجودہ جمہوری نظام کے ذریعے نفاذ اسلام کی کوششوں میں مصروف ہے اگرچہ 60 سال سے اس سے خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تاہم اسلامی انقلاب اور حکومت الہیہ کے نعروں کی حامل جماعتیں آج بھی اسی میدان میں زو رلگا رہی ہیں اس کےبرعکس ایک حلقے کی رائےہے کہ جمہوریت کے ذریعے اسلام نہیں آسکتا زیرنظر کتابچے میں اسی کی ترجمانی کی گئی ہے مروجہ جمہوریت کےحق میں جودلائل دیئے جاتے ہیں ان کابھي اس میں جائزہ لیا گیا ہے نیز بعض جلیل القدر اہل علم مثلاًمحمد قطب اور علامہ البانی وغیرہ کی رائے بھی شامل ہے

     

  • حافظ صلاح الدین یوسف

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور ہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے ۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں ۔  زیرتبصرہ کتا ب’’اہل حدیث اوراہل تقلید‘‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کے رد تقلید کے موضوع اگست 1937ء تافروری 1974ء سولہ اقساط میں ہفت روزہ الاعتصام میں شائع ہونے والے مضامین کی کتابی صورت ہے ۔ان مضامین کی افادیت اورکئی اہل علم کےاصرار پر 1976ء میں شارح سنن نسائی شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ نے ان مضامین کو مرتب کروا کر کتابی صورت میں شائع کیا ۔اس مختصر سی کتاب میں مصنف کتاب نے اہل حدیث اور اہل تقلید کے نقطۂ نظر کے مابین فرق کی خوب توضیح کی ہے اور جماعت اہل حدیث اور مسلک اہل حدیث پر بے سروپا الزامات کی حقیقت کو بھی خو ب آشکار ا کیا ہے اور اہل حدیث اور مسلک اہل حدیث پر بعض اعتراضات کا دلائل کے ساتھ تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

  • ڈاکٹر محمد عبد الغفار

    دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔ اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعدد ادارے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے آغاز سے ہی اس طرف توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ چنانچہ فقہ اسلامی کے اہم موضوعات پر تحقیقی کام کے علاوہ اساسی کتب کے تراجم اور جدید اسلوب میں شریعہ مونو گرافکس کی ترتیب واشاعت کاکام بھی جاری وسار ی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "بدلتے حالات کے تقاضے اور فقہ اسلامی" محترم ڈاکٹرمحمدعبد الغفار الشریف صاحب، جنرل سیکرٹری اوقاف پبلک فاؤنڈیشن کویت کی عربی تصنیف ہے جس میں انہوں نے بدلتے حالات میں اسلامی فقہ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ محترم ہشام الحق ندوی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی

    اسلامی علوم میں فقہ اسلامی کوخصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ فقہ کاتعلق ایک طرف کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ﷺ سے جو جو تمام احکام شرعیہ کاماخذ ہیں۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت کواپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کو ہی ہر حال میں ترجیح دی۔ یہ تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایسا عطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر کے طور پر عطا کردیتا ہے۔ اور فقہ اسلامی اس علم کا نام ہے جو کتاب وسنت سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول وغبار کواڑا کر ماحول کوصاف وشفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم کے بعض نابغۂ روزگار متخصصین ایسےبھی ہیں جن کے علم وفضل اوراجتہادات سےایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ہندوستان میں جب اسلامی علوم کی کرنیں طلوع ہونے لگیں تو شروع میں علم حدیث پرزیادہ توجہ دی گئی خاص کر سندھ اور گجرات کے علاقہ میں لیکن اس کے بعد اہل فقہ اہل علم کی توجہ کا مرکز بن گیا اور فتاوی تاتارخانیہ، فتاوی ہندیہ ، قضا کے موضوع پر صنوان القضاءاوراصول فقہ میں مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت، نورالانوار جیسی اہم تالیفات منظر عام آئیں جس میں بعض کو فقہ اسلامی کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے ۔بر صغیر کے علماء میں فقہ سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کی کثرت کاجناب محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی کتاب ’فقہاء ہند‘ کی کئی جلدوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’برصغیر ہند میں علوم فقہ اسلامی کاارتقاء‘‘ ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی کی تصنیف ہے جوکہ دار اصل انگریزی زبان میں ایم فل کا مقالہ ہے جسے خود مصنف نے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ یہ کتاب ایک مقدمہ اور چھ ابواب پر مشتمل ہے فاضل مصنف نے فقہ اسلامی کی حقیقت اوراس کے ارتقاء پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے اپنی اس کاوش کا تعارف کرایا ہے باب اول میں برصغیر میں فقہ اسلامی کے ارتقاء پر گفتگو کرتے ہوئے 1857ء سے قبل کی فقہی خدمات کا سرسری جائزہ لیاکیا ہے۔ نیز 1857ء کےبعد اس میدان میں ہونے والی غیر معمولی علمی ترقی کی طرف اجمالی طور اشارہ کیا ہے۔دوسرے باب میں عربی ، فارسی اورانگریزی زبان کے فقہی لٹریچر کے اردوترجمہ کا ذکرکیاہے۔تیسرے باب میں اردو میں تالیف شدہ کتب فقہ کی فہرست پیش کی ہے۔چوتھے باب میں ہندوستان کے فقہی مدارس و مکاتب پر روشنی ڈالی گئی ہےاس میں ان درسگاہوں کا بھی ذکر ہے جن کی فقہ اسلامی پر خصوصی توجہ رہی ہے اس باب میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی خدمات کوخاص طور پر خرج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ نیز ان اداروں کابھی ذکر کیا ہے جو مسائل کواجتماعی غور وفکر کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔پانچویں باب میں چند اہم فقہی کتابوں کا تعارف اور چھٹےباب میں پاکستان کی سرکاری جامعات اور بعض حکومتی اور پرائیوٹ اداروں کی خدمات کا تعارف ہےبحیثیت مجموعی یہ کتاب برصغیر ہندو پاک کی فقہی خدمات پر ایک عمدہ کاوش ہے ۔(م۔ا)

  • فواد محمد سزگین

    بیسویں صدی مسلمانوں کے سیاسی و علمی عروج و زوال کی صدی رہی ہے۔ اس صدی کے پہلے نصف میں مسلمانانِ عالم جہاں علمی و تحقیقی اور سیاسی و معاشی زوال کی انتہا کو پہنچ رہے تھے، وہیں اس صدی کے نصف ثانی میں انہوں نے علمی و تحقیقی میدان میں عروج وارتقاء کی ایک دوسری داستان لکھی۔ چنانچہ جہاں بہت سارے مسلم ممالک نے استعمار کے چنگل سے نجات پائی، وہیں فکر و تحقیق کے میدان میں بہت سے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے علم و تحقیق، تصنیف وتالیف اور بحث و ریسرچ کی ان تابندہ روایات کو پھر سے زندہ کیاجو کبھی اسلاف کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھیں۔ ان بڑی اورعظیم محقق شخصیات میں محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ، ڈاکٹر محمد حمیداللہ(پیرس) ، پروفیسرفوادسیزگین وغیرہ جیسی شخصیات بھی ہیں جن کو علوم اسلامیہ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فواد سیزگین (Fuat Sezgin) چوبیس اکتوبر1924ء کو ترکی کے مقام بطلس میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے علاقہ میں پانے کے بعد استنبول آگئے، جہاں انہوں نے جامعہ استنبول میں داخلہ لیا اور 1947ء میں اس کی فیکلٹی آف آرٹس سے گریجویشن کیا، یہیں سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور عربی زبان و ادبیات میں 1954ء میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا، جس کے نگراں جامعہ استنبول میں اسلامی علوم اور عربی ادبیات کے ماہر ایک جرمن مستشرق پروفیسرہیلمٹ رٹر  تھے۔ پی ایچ ڈی کے بعد فواد سیزگین اسی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوگئے۔ ان سے قریبی زمانہ میں ایک مشہور جرمن مستشرق کارل بروکلمن نے عربی اور اسلامی ادبیات پر تاریخ آداب اللغۃ العربیہ کے نام سے ایک مبسوط کام کیا تھا۔لیکن اس کتاب میں کافی نقائص تھے ۔ فواد سیزگین  نے کارل بروکلمن کی  کتاب ’’ تاریخ ادبیات عربی‘‘ پر نظرثانی کی اور بروکلمان کی غلطیوں کی اصلاح کی اور بہت سے مفید اضافے کیے اور اس کے نقائص اُن پر اچھی طرح واضح کیا ۔ ان کی مشہور عالم کتاب ’’تاریخ التراث العربی‘‘ اسی طرح منصۂ شہود پر آئی۔ یہ کتاب انہوں نے جرمن میں لکھی اور اسی کی بنیاد پر ان کو فیصل ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔اس کتاب کی اہمیت وافادیت کےپیش نظر   جامعہ امام  محمد  بن سعود  نے ڈاکٹر محمود فہمی سے عربی زبان  میں اس کا ترجمہ کروایا اوراسے دس جلدوں میں شائع۔کتاب   ہذا ’’تاریخ  علوم اسلامیہ‘‘ اسی  کتاب کی جلد سوم کا  اردو ترجمہ   ہے یہ ترجمہ شیخ نذیر حسین  نے کیا ہےیہ حصہ علوم فقہ کے متعلق ہے۔(م۔ا)

  • اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا

    تفریح فارغ وقت میں دل چسپ سرگرمی اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ اردو عربی اور فارسی تینوں زبانوں میں مستعمل ہے۔ دور جدید میں تفریح انسانی زندگی کے   معمولات کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ تیز مشینی دو راور مقابلے کی فضا میں کام کرنے سے انسان تھک کر چور ہو جاتا ہے اس کا حل اس نے تفریح میں ڈھونڈا ہے۔ مگر بہت سی تفریحی سرگرمیاں انسان کو دوبارہ کام کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ اس سے دین بھی چھین لیتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تفریح وسیاحت کا اس کے جائز وسائل و شرعی ضوابط ‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کے زیر اہتمام مارچ 2011ء میں منعقد کیے گئے بیسویں فقہی سیمنار میں مختلف اصحاب علم و دانش و مفتیان کرام کی کرطرف سے پیش گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کامجموعہ ہے جس میں مزاح، لطیف گوئی، مزاحیہ کہانیاں اور ڈرامے، سیر و سیاحت پر زرِ کثیر خرچ کرنا، مختلف کھیل اس کے اصول، کھلاڑیوں کے لباس و پوشاک کھیلوں پر سٹہ لگانا، تاریخی اور تعلیمی مقاصد کے لیے فلمیں اور کارٹون بنانا وغیرہ جیسی ابحاث شامل ہیں۔ (م۔ا )

  • ڈاکٹر وصی اللہ محمد عباس

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور ہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے ۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’تقلید کاحکم کتاب وسنت کی روشنی میں ‘‘ مفتی ومدرس حرم مکی ڈاکٹر وصی اللہ بن محمدعباس (پروفیسر ام القریٰ یونیورسٹی،مکۃ المکرمۃ) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب مقدمہ تمہید اور تیرا (13) فصول پر مشتمل ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں کتاب وسنت ،آثار صحابہ اور اقوال سلف سےاستدلال کا التزام کیا ہے ۔ تقلید کی مذمت اور اتباع سنت کی فضیلت پر یہ بڑی عمدہ کتاب ۔ محترم جناب حافظ حامد محمود الخضری ﷾ کی اس کتاب کی تخریج اورپروف ریڈنگ سے کتاب کی افادیت مزید دوچند ہوگئی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • محمد طیب محمد خطاب بھواروی

    سفر انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے،جس کے بغیر کوئی بھی اہم مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔انسان متعدد مقاصد کے تحت سفر کرتا ہے اور دنیا میں گھوم پھر کر اپنے مطلوبہ فوائد حاصل کرتا ہے۔اسلام دین فطرت ہے جس نے ان انسانی ضرورتوں اور سفر کی مشقتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض رخصتیں اور گنجائشیں دی ہیں۔مثلا مسافر کو حالت سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،جس کی بعد میں وہ قضاء کر لے گا۔اسی طرح مسافر کو نماز قصر اور جمع کرکے پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے کہ وہ چار رکعت والی نماز کو دو رکعت کر کے اور دو دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح سفر کے اور بھی متعدد احکام ہیں جو مختلف کتب فقہ میں بکھرے پڑے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ زاد راہ ‘‘ محمد طیب محمد خطاب بھواروی کی کاوش ہے ۔انہوں نے اس کتابچہ میں رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کےدرخشان پہلو جو سفر اور آداب سفر سے متعلق ہیں انہیں اس میں آسان فہم انداز میں یکجا کردیا ہے ۔جس کےاستفادہ سے جہاں ایک مؤمن کی زندگی میں رسول اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کا رجحان پیدا ہوگا وہاں خالص کتاب وسنت کی روشنی میں سفر اوراس کے آداب کے تمام متعلقات نکھر کر سامنے آجائیں گے۔اللہ تعالیٰ شیخ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل اسلام کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (رفیق الرحمن)

  • خلیل الرحمن لکھوی

    سفر انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے،جس کے بغیر کوئی بھی اہم مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔انسان متعدد مقاصد کے تحت سفر کرتا ہے اور دنیا میں گھوم پھر کر اپنے مطلوبہ فوائد حاصل کرتا ہے۔اسلام دین فطرت ہے جس نے ان انسانی ضرورتوں اور سفر کی مشقتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض رخصتیں اور گنجائشیں دی ہیں۔مثلا مسافر کو حالت سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،جس کی بعد میں وہ قضاء کر لے گا۔اسی طرح مسافر کو نماز قصر اور جمع کرکے پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے کہ وہ چار رکعت والی نماز کو دو رکعت کر کے اور دو دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح سفر کے اور بھی متعدد احکام ہیں جو مختلف کتب فقہ میں بکھرے پڑے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ زاد سفراحکام ومسائل ‘‘ فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمٰن لکھوی ﷾ آف کراچی کی کاوش ہے ۔انہوں نے اس کتابچہ میں رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کےدرخشان پہلو جو سفر اور آداب سفر سے متعلق ہیں انہیں اس میں آسان فہم انداز میں یکجا کردیا ہے ۔جس کےاستفادہ سے جہاں ایک مؤمن کی زندگی میں رسول اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کا رجحان پیدا ہوگا وہاں خالص کتاب وسنت کی روشنی میں سفر اوراس کے آداب کے تمام متعلقات نکھر کر سامنے آجائیں گے۔اللہ تعالیٰ شیخ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل اسلام کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • ام عبد منیب

    انسان کی زندگی اس دنیا کی ہویا آخرت کی دونوں کےآغاز میں عجیب وغریب مماثلت پائی جاتی ہے ۔اگردنیا   کے سفر کا نقظۂ آغاز 9 ماہ تہ بہ تہ اندھیرے  ہیں تو آخرت کےسفر کا نقطۂ آغازبھی قبر کے تہ بہ تہ اندھیرے ہیں ۔اگر دینا میں  قدم رکھتے ہی انسان کو غسل دیا جاتا ہے تو آخرت کے سفر میں  قبر میں قدم رکھنے سے پہلے غسل  کا اہتمام کیاجاتا ہے۔دنیا کے سفر کےمرحلہ میں اگر انسان کے کانوں میں اذان واقامت  کے ذریعہ اس کی روح کو تسکین پہنچائی جاتی ہے  تو آخرت کے اس مرحلہ میں صلاۃ جنازہ اور مغفرت کی دعاؤں سے انسان کی روح کومسرت پہنچائی جاتی ہے ۔بحر حال  انسان کی فلاح  اسی میں  ہے کہ  دنیا کاسفر ہویا آخرت کا تمام مراحل کو قرآن وسنت کی ہدایات کےمطابق سرانجام  دیا جائے ۔زیرنظر کتابچہ’’عورت وفات سے غسل وتکفین تک‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے ۔جس میں انہوں نے  عورت میت  کانزع سے  لے کر غسل ،تکفین وتدفین  اور تعزیت  وغیرہ کے احکام ومسائل کو  احادیث  رسول ﷺ کی  روشنی میں  پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش  کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

  • حافظ ثناء اللہ مدنی

    استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث حافظ ثناءاللہ مدنی﷾ فروری 1940 ءکو ضلع لاہور کے ایک گاوں کلن میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرہالی کلاں ضلع قصورمیں حاصل کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے جامع مسجد قدس چوک دالگراں کا رخ کیا۔ جہاں اپنے وقت کے ممتاز محدث اورمفتی مولانا حافظ عبداللہ روپڑی مسند تدریس پر جلوہ افروز تھے۔ آپ نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ تعلیم حاصل کی اور اپنےاستاذ حافظ عبداللہ محدث روپڑری﷫ کی خصوصی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے آپ حافظ عبد اللہ محدث روپڑی  کےشاگردوں میں نمایاں مقام کے حامل ہیں ۔ آپ کے رفقاءمیں مولانا عبدالسلام کیلانی ، ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی ﷾(مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) بھی شامل ہیں۔ آ پ اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے الشریعہ میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ کرام میں مولانا حافظ عبداللہ محدث روپڑی ، حضرت مولاناحافظ محمد گوندلوی ، مولانا محمدعبدہ الفلاح ، مولانا عبدالغفار حسن ، الشیخ ابن باز ، علامہ ناصر الدین البانی، الشیخ محمد امین شقیطی ، الشیخ شبیہ الحمد ، الشیخ عبدالمحسن العباد، الشیخ حماد انصاری ﷭ خصوصی طور پر شامل ہیں۔مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد آپ نے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض سر انجام دیئے۔ لیکن بہترین تدریسی وقت جامعہ سلفیہ فیصل آباد اور جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہورمیں گزارہ۔1978 میں حافظ صاحب جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد کے مدیر تعلیم مقرر ہوئے۔ آپ نے جامعہ سلفیہ کےنظم ونسق میں توازن پیدا کیا آپ کے عہد میں سب سے زیادہ طلبہ مدینہ یونیورسٹی قبول ہوئے۔ آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پرخاص توجہ دیتے اور قانون شکنی پر شدید مواخذہ کرتے تھے۔ آپ کی شخصیت بہت باوقار اور بارعب ہے ۔ جس کے باعث طلبہ آپ کابہت احترام کرتے اور قواعد وضوابط کی پابندی کرتے۔ 1981میں حافظ صاحب جامعہ رحمانیہ ،لاہور تشریف لے آئے ۔ آپ ان جامعات میں ابوداود ، بدایۃ المجتہد،علم الفرائض جسے اہم اسباق پڑھاتے رہے۔ اور شیخ الحدیث کے منصب بھی فائز رہے ۔ آپ کا اسلوب تدریس بہت منفرداور متاثر کن تھاآپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جن میں بعض ممتاز مناصب پر تعلیمی انتظامی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر  ، حافظ مسعود عالم ،مولانا حافظ محمد شریف، حافظ عبد الستار حماد ، مولانا محمد یونس بٹ ، پروفیسر یٰسین ظفر ، مولانا عبدالعلیم یزدانی ، مولانا محمد شفیق مدنی ، مولاناقاری عبد الحلیم بلال، ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ، قاری محمد ابراہیم میر محمدی ، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ، قاری صہیب احمدمیرمحمدی ، مولانا محمد اجمل بھٹی حفظہم اللہ وغیرہ پر قابل ذکر ہیں۔آپ تقریباً 45مرتبہ بخاری شریف پڑھا چکے ہیں۔ آپ تدریس کےساتھ فتاوی نویسی کا کام بھی کرتے رہے آپ کےعلمی وتحقیقی فتاوی جات ماہنامہ محدث اور ہفت روزہ الاعتصام میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔یہ فتاوی جات تین جلدوں میں کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں ۔ حضرت الاساذ شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی ﷾ کی اس کےعلاوہ جامع ترمذی کی عربی زبان میں شرح ’’ جائزۃ الاحوذی ‘‘ ؛ الوصائل فی شرح الشمائل‘‘ الحمد للہ شائع ہوکر اصحاب علم کےہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں ۔چند سالوں سے حافظ صاحب صحیح بخاری کی شرح کا کام ’’ عون الباری شرح صحیح البخاری ‘‘ کے نام سے کررہے ہیں اللہ تعالیٰ حضرت حافظ صاحب کو یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق دے۔(آمین)۔آپ سعودی عرب ، کویت اور عرب امارات میں مسند احمد کےعلاوہ متعد د کتبِ حدیث درساً پڑھا چکے ہیں ۔اس لیے آپ کے شاگردوں میں سیکڑوں عرب حضرات بھی شامل ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’ فتاوی ثنائیہ مدنیہ جلد سوم ‘‘ ہفت روزہ الاعتصام ،اور ماہنامہ محدث ، لاہور میں مطبوعہ فتاوی جات کی کتابی صورت ہے ۔حافظ صاحب کےفتاوی جات کی یہ تیسری جلد کتاب الجنائز ، کتاب الصیام ، کتاب الحج ،آداب اور دیگر متفرق مسائل پر مشتمل ہے ۔ اس جلد میں مجمع فقہائے شریعت ،امریکہ کی فتاویٰ کمیٹی کےچند سوالات کےجواب بھی ’’مغربی مسلمانوں کے روزہ مرہ مسائل‘‘ کے نام سے شامل کیے گئے ہیں۔ فقہائے شریعت اسمبلی ،امریکہ کے جوابات کو ڈاکٹر حافظ حسن مدنی﷾ (مدیر تعلیم جامعہ لاہور الاسلامیہ ومدیر ماہنامہ محدث ،لاہور ) نے 13 سال قبل 2005ء مجلس التحقیق الاسلامی کی طرف سے 64 صفحات پر مشتمل’’ مغربی مسلمانوں کے روز مرہ مسائل اور ان کا شرعی حل‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں بھی شائع کیا تھا۔ فتاوی ثنائیہ مدنیہ کی اس تیسری جلد کو حافظ صاحب کے شاگرد حافظ عبد لرؤف خان اور عبدالقدوس سلفی نے بڑے عمدہ انداز میں مرتب کیا ہے ۔یہ جلد تقریباً 650صفحات پر مشتمل ہے۔مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ (مصنف کتب کثیرہ) نے حضرت الاستاذ حا فظ ثناء اللہ مدنی﷾ کے فتاوی کی اس تیسری جلد کا ’’ منصب افتاء کی اہمیت ، تضاضے اور اس میں اہل حدیث کا امیتاز ‘‘ کے عنوا ن سے علمی مقدمہ لکھ کر اسے چار چاند لگادئیے ہیں۔ حافظ صاحب کے فتاوی کی پہلی جلد حافظ صاحب کے تلمیذ حافظ عبدالشکور (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے مرتب کر کے پندرہ سال قبل’’ فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ‘‘ کے نام سے شائع کی تھی۔اور دوسری جلد حافظ عبد لرؤف خان اور عبدالقدوس سلفی نے ’’فتاوی حافظ ثناء اللہ مدنی‘‘کے نام سے مرتب کی جسے حافظ صاحب نے خو دمکتبہ انصا ر السنۃ النبویہ کی طرف سے اکتوبر 2016ء شائع کیا ہے۔یہ تینوں جلدیں ماشاء اللہ حافظ صاحب کے علمی فتاویٰ جات پر مشمل ہیں ۔ان میں راقم کو ایک کمی کا احساس ہورہا کہ ان تینوں جلدوں کے ٹائیٹل الگ الگ ہیں او ردوسری جلد کا نام بھی الگ ہے اگر ان تینوں جلدوں کا ٹائیٹل پیج اور نام بھی ایک ہوتا توبہتر تھا جیسے حافظ صاحب کے عظیم استاد مجتہد العصر حافظ عبداللہ روپڑی  کے فتاوی ٰتین جلدوں میں ایک ہی نام سے ہیں اور اسی طرح حافظ صاحب کےعظیم شاگردشارح صحیح بخاری مفتی جماعت حافظ عبد الستار حماد  کے فتاوی جات چار جلدوں میں ایک ہی نام سے مطبوع ہیں ۔ اور اسی طرح مولانا عبدالمنان نوری ، حافظ زبیر علی  اور مولانا مبشرربانی ﷾ کے فتاوی جات ہیں۔ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی تدریسی وتصنیفی اور دعوتی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں صحت وعافیت سےنوازے ۔ فتاویٰ مدنیہ کی اس تیسر ی کو فضیلۃ الشیخ قاری صہیب احمد میر محمدی ﷾ کے ادراہ ’’کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیہ‘‘بنگہ بلوچاں ، قصور نے نومبر 2017ء میں حسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مرتب کرنے اور اشاعت میں شامل تمام احباب کی مساعی کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2563 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :