اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث نبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے کہ قرآنی اصول و احکام کی تفاصیل و جزئیات کا تعین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ِرسالت میں شامل تھا اور قرآن و حدیث کا مجموعہ ہی اسلام کہلاتا ہے جو آپ نے امت کے سامنے پیش فرمایا ہے، لہٰذا قرآن کریم کی طرح حدیث ِنبوی بھی شرعاً حجت ہے جس سے آج تک کسی مسلمان نے انکار نہیں کیا۔ انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔دور ِجدید میں برصغیر پاک و ہند میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشارپیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز وغیرہ نمایاں ہیں۔ ان میں آخر الذکر شخص نے فتنہٴ انکار ِحدیث کی نشرواشاعت میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ انہیں اس فتنہ کے اکابر حضرات کی طرف سے تیارشدہ میدان دستیاب تھا جس میں صرف کسی غیر محتاط قلم کی باگیں ڈھیلی چھوڑنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اس کام کا بیڑہ مسٹر غلام احمدپرویز نے اٹھا لیا جو کہ فتنوں کی آبیاری میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’آئینہ پرویزیت‘ میں مدلل طریقے سے فتنہٴ انکارِ حدیث کی سرکوبی کی گئی ہے، اور مبرہن انداز میں پرویزی اعتراضات کے جوابات پیش کئے گئے ہیں-
فہرست مضامین
عناوین
صفحہ نمبر
فہرست
5
دیباچہ ( طبع دوم )
29
دیباچہ ( طبع سوم )
31
تبصرے
32
پیش لفط
34
حصہ اول
معتزلہ سے طلوع اسلام تک
باب اول : عقل پرست فرقوں کا آغاز
41
عقل پرست اور ان کے مختلف فرقے
42
مادہ پرست اور دہریے
42
فلاسفر اور سائینس داں
43
الٰہیات ارسطو
44
لا ادریت
45
وحی الٰہی اور بنیادی سوالات کا حل
45
ہندو مت اور عقل پرستی
46
مذہب میں بگاڑ کی صورتیں
47
عقل پرستی کا بگاڑ
48
باب دوم : عجمی تصورات کا پہلا دَور
49
فرقہ جہمیہ
49
معتزلین (RATIONALISTS)
50
معتزلہ کے عقائد و نظریات
51
مسئلہ تقدیر یا جبر و قدر
51
تقدیر کی بحث
52
افعال کی نسبت
53
تاویلات
55
عدل یا قانونِ جزا و سزا
55
صفاتِ باری تعالٰی ، معتزلہ کی توحید
56
مسئلہ خلقِ قرآن
57
امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ)
57
امام موصوف پر دورِ ابتلاء
58
خلق قرآن کی حقیقت اور معتزلہ کا انجام
59
عقل کی برتری اور تفوق
60
عقل کا جائز مقام
60
عقل اور ہدایت
61
عقل اور ضلالت
62
عقل کا دائرہ کار
64
عقل کی ناجائز مداخلت
65
اپنے دور کی علمی سطح
66
معتزلہ کے زوال کے اسباب
67
نتائج
68
باب سوم: عجمی تصورات کا دوسرا دور
69
سرسید احمد خاں
70
جدید علم کلام کی ضرورت اور خصوصیات
71
حدیث اور فقہ سب ناقابل حجت ہیں
71
قرآن اور نیچر
72
سرسید احمد خاں کے نظریات
73
سرسید کا نظریہ معجزات
74
قوانین قدرت میں تبدیلی
75
قوانین قدرت اور استثنائی صورتیں
76
معجزات سے انکار کی اصل وجہ
77
قرآن کریم میں مذکور معجزات
77
آگ کا ٹھنڈا ہونا
77
اصحاب فیل
78
عصائے موسٰی اور ید بیضا
78
دریا کا پھٹنا
80
بارہ چشموں کا پھوٹنا
81
حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش اور وفات
81
حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دوسرے معجزات
82
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات
84
انشقاق قمر
84
واقعہ اسراء
84
وما رمیت اذ رمیت ولٰکن اللہ رمٰی
86
دوسرے خرق عادت امور سے انکار
86
کیا دعا کا کچھ فائدہ ہوتا ہے؟
86
بنی اسرائیل کا بندر بننا
88
اللہ کے مارنے اور زندہ کرنے کی قدرت
88
حضرت عزیر علیہ السلام کی موت اور زندگی
88
پرندوں کی موت اور زندگی
89
جنت اور دوزخ کی حقیقت
91
جنت اور دوزخ کے خارجی وجود کا انکار
92
خدا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تصور؟
93
باب چہارم: نظریہ ارتقاء کا سرسید کے عقائد پر اثر
94
فرشتوں پر ایمان
94
سرسید کے خیالات کے ماخذ
95
سرسید اور صوفیہ کا ذہنی اتحاد
96
فرشتوں کے ذاتی تشخص کے دلائل
97
جبرئیل علیہ السلام کی حقیقت اور نبوت کا مقام
98
فطری ملکہ اور نبوت میں فرق
99
فطری ملکہ اور علامہ اقبال رحمہ اللہ
99
نبوت اور قرآن کریم
101
جبرئیل اور میکائیل
102
ابلیس یا شیطان
102
جن
103
ابلیس کے خارجی وجود کا ثبوت
104
جنوں کے خارجی وجود کا ثبوت
104
قصہ آدم علیہ السلام و ابلیس
105
قصہ آدم میں گفتگو کے فریق
106
جنت، شجر ممنوعہ اور ہبوط آدم کی تاویلات
107
تاویلات کا جائزہ
108
سرسید پر کفر کا فتوٰی
109
سرسید کے افکار و نظریات پر ایک نظر
111
پہلا نظریہ، عقل کا تفوق
111
دوسرا نظریہ، ذات و صفات باری تعالٰی کی تنزیہہ
111
تیسرا نظریہ، جبر و قدر
112
چوتھا نظریہ، خوارق عادت اور معجزات سے انکار
112
اپنے دور کی علمی سطح کی قباحت
114
پانچواں نظریہ ، نظریہ ارتقاء
115
نگہ باز گشت
116
باب پنجم: عجمی تصورات کا تیسرا دور
118
عبوری دور کے منکرین حدیث
118
چند مشہور منکرین حدیث کا مختصر تعارف
119
عبد اللہ چکڑالوی
119
نیاز فتح پوری
121
علامہ عنایت اللہ مشرقی
123
ڈاکٹر غلام جیلانی برق
124
حافظ اسلم جے راج پوری
126
حافظ اسلم صاحب کا نظریہ حدیث
126
غلام احمد پرویز اور طلوع اسلام
127
طلوع اسلام کا اپنے پیشروؤں کو خراج عقیدت
128
معتزلین اور طلوع اسلام
128
سرسید احمد خاں اور طلوع اسلام
129
علامہ مشرقی اور ادارہ طلوع اسلام
129
حافظ اسلم صاحب اور ادارہ طلوع اسلام
129
طلوع اسلام اور حافظ عنایت اللہ اثری
131
طلوع اسلام کے عجمی افکار
131
عقل کا تفوق اور برتری
131
تاویلات کا دھندا
133
طلوع اسلام کا لٹریچر
133
مسلمانوں سے شکوہ؟
134
اہل مغرب میں پرویز صاحب کی مقبولیت
134
باب اول: حسبنا کتاب اللہ
137
لفظ کتاب کے مختلف معانی
137
کتاب کا اصطلاحی مفہوم
140
کتاب و سنت یا قرآن و حدیث
140
کتاب و سنت لازم و ملزوم ہیں
140
قرآن میں سنت رسول کا ذکر
141
احادیث میں کتاب اللہ کا ذکر
141
کتاب اللہ اور "واقعہ عسیف"
141
کتاب اللہ اور حق تولیت
142
"حسبنا کتاب اللہ" سے عمر رضی اللہ عنہ کی مراد
143
کتاب اللہ اور کلام اللہ کا فرق
144
کتاب اللہ کے پرویزی معانی کا تجزیہ
144
مدون شکل میں
145
سلی ہوئی شکل میں
146
قرآن کی ماسٹر کاپی
147
مدون اور سلی ہوئی کتاب کا ایک نقلی ثبوت
148
حفاظت قرآن کے پرچار میں غلو
149
اللہ کی ذمہ داری پوری شریعت کی حفاظت ہے
150
قرآن کے بیان کو لغت سے متعین کرنے کے مفاسد
151
کثیر المعانی الفاظ
151
اصطلاحات
152
مقامی محاورات
152
عرفی معانی
153
پرویزی اصطلاحات
153
نتائج
154
باب دوم: عجمی سازش اور زوال امت
155
اسلام میں عجمی تصورات کی آمیزش
155
عجمی سازش کیا ہے؟
155
عجمی سازش کے راوی
156
سازش کی ابتداء
156
سازش کی انتہا
156
حدیث کے جامعین کے اوصاف
157
طلوع اسلام کے مکر و فریب
157
حدیث کے عرب جامعین
158
نظریہ عجمی سازش کے غلط ہونے کے دلائل
159
صحاح ستہ کا مواد اور ایرانی عقائد
159
اسلامی فقہ اور عجمی سازش
159
محدثین کا معیار صحت
160
یزدگرد کا قاتل؟
160
شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ
161
اسلامی حکومت میں سازشیں
161
سازش کیلئے مناسب مقام
162
ایران میں ہی سازش کیوں؟
162
عجمی سازش اور تمنا عادی
163
امام زہری کا شجرہ نسب
164
تمنا عادی اور تدوین حدیث
165
تمنا عادی اور حافظ اسلام کے بیانات
165
حدیث مثلہ معہ اور عجمی سازش
166
عمادی صاحب کے جھوٹ کا جواب
166
حافظ اسلم صاحب کے اعتراضات کا جواب
167
پرویز صاحب اور قرآن کی مثلیت
167
حضرت عیسٰی اور آدم میں مثلیت
167
ملوکیت اور پیشوائیت کا شاخسانہ
168
ملوکیت اور پیشوائیت (مذہب) کی ایک کیمیائی مثال
170
کیا ملوکیت واقعی مورد عتاب ہے؟
171
ملوکیت سے بیر کی اصل وجہ
173
خلفائے بنو امیہ و بنو عباس کے مناقب و مثالب
173
مذاہب پر پرویز صاحب کی برہمی
174
ملوکیت اور پیشوائیت کا سمجھوتہ
176
علمائے دین کی حق گوئی و بے باکی
177
سعید بن مسیب اور اموی خلفاء
177
سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ہشام بن عبد الملک
177
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور عراق کا گورنر
178
خلیفہ منصور کی خلافت کی توثیق امام ابو حنیفہ اور ابن ابی ذئب
178
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بے نیازی
180
خالد بن عبد الرحمان کی خلیفہ منصور پر تنقید
181
امام مالک رحمہ اللہاور خلیفہ منصور
181
جبری بیعت سے متعلق امام مالک رحمہ اللہ کا فتوٰی
181
ابن طاؤس رحمتہ اللہ علیہ (محدث) اور خلیفہ منصور
182
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ (۹۷۔۱۶۱ ھ) اور عہدہ قضاء
182
ہارون الرشید اور فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ
183
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور مامون الرشید
184
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور حاکم بخارا
185
نتائج
185
مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور علاج
186
مقام آدمیت اور مقام انسانیت؟
186
علاج
187
کیا فلاح آخرت اور دنیوی خوشحالی لازم و ملزوم ہیں؟
187
مومن بننے کا طریقہ
188
انبیاء اور تسخیر کائنات
189
سائنسدان ہی حقیقی عالم ہیں
189
عالم یا لائبریرین
190
عقل کی بو
190
باب سوم: مساوات مرد وزن
192
موضوع کا تعین
192
اسلام کے عطا کردہ حقوق
193
مرد کی فوقیت کے گوشے
194
مرد کی فوقیت اور طلوع اسلام
194
عورت کی پیدائش
194
مرد کی حاکمیت؟
195
عورت کی فرمانبرداری
197
مردوں کا عورتوں کو سزا دینے کا اختیار
199
اپنے بیانات کی خود تردید
200
عورت کی شہادت
200
مذکر کے صیغے
202
جنتی معاشرہ
203
تعدد ازدواج
203
حق طلاق مرد کو ہے
204
عدت صرف عورت کیلئے
204
عورت کی فضیلت بواسطہ حق مہر
205
بچپن کی شادی
206
عورت اور ولایت
207
مرد کی فوقیت کے چند دوسرے پہلو
207
کوئی عورت نبیہ نہیں ہوئی
207
کوئی عورت حاکم بھی نہیں بن سکتی
207
عورتیں مردوں کی کھیتیاں ہیں
207
نکاح کے بعد عورت ہی مرد کے گھر آتی ہے
208
اولاد کا وارث مرد ہوتا ہے
208
تکمیل شہادت
208
اہل کتاب سے نکاح
208
عورت کی برتری
209
باب چہارم: نظریہ ارتقاء
210
کیا انسان اولاد ارتقاء ہے؟
210
سرچارلس ڈارون
211
نظریہ ارتقاء کیا ہے؟
212
نظریہ ارتقاء کے اصول
213
تنازع للبقاء (Struggal For Existence)
213
طبعی انتخاب (Natural Selection)
213
ماحول سے ہم آہنگی (Adaptation)
213
قانون وراثت (Law of Heritence)
214
نظریہ ارتقاء پر اعتراضات
214
نظریہ ارتقاء اور مغربی مفکرین
216
نظریہ ارتقاء کی مقبولیت کے اسباب
217
نظریہ ارتقاء اور منکرین قرآن
217
طلوع اسلام کے قرآنی دلائل
218
نفس واحدہ سے مراد پہلا جرثومہ حیات؟
218
حلق کا مفہوم
219
اطوار مختلفہ
219
زمین سے روئیدگی
220
نظریہ ارتقاء کے ابطال پر قرآنی دلائل
221
مراحل تخلیق انسانی
221
تخلیق انسانی سے پہلے کا زمانہ
222
آدم کی خصوصی تخلیق
222
آدم کی بن باپ تخلیق
222
قصہ آدم و ابلیس
224
جنت، شجر ممنوعہ اور ہبوط آدم
224
ابلیس اور ملائکہ
224
نظریہ ارتقاء اور اسلامی تعلیمات
225
نظریہ ارتقاء کا مستقبل
226
صراط مستقیم کیا ہے؟
227
ارتقاء کی اگلی منزل
229
آخرت کا تصور
229
اخروی زندگی
230
طلوع اسلام کا تضاد
231
باب پنجم: مرکز ملت
232
منصب رسالت
232
سب سے پہلا مومن
232
ختم نبوت و رسالت
233
نبی و رسول میں فرق
233
مبلغ رسالت
233
شارح کتاب اللہ
234
شارع یا قانون دہندہ
234
مزکی یا تربیت کنندہ۔ معلم کتاب وحکمت
235
مطاع
236
اللہ اور رسول کے مقام کا فرق
236
اطاعت رسول کی مستقل حیثیت
236
اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسوہ حسنہ
237
آپ صلی اللہ علیہ ولسم کی اتباع تا قیامت ضروری ہے
237
اتباع صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اللہ کی نہیں
238
آپ کی اتباع سے انکار کفر ہے
238
قاضی اور حاکم
238
قابل ادب و احترام ہستی
239
مرکز ملت کے تصور کا پیش منظر
239
حافظ اسلم صاحب کا نظریہ مرکز ملت
240
مرکز ملت کی وضاحت
240
کیا مرکز ملت کی اطاعت رسول کی اطاعت ہے؟
241
رسول کی قائم مقامی
242
اقتضآت زمانہ
242
مرکزی وحدت
242
نظریہ مرکز ملت اور طلوع اسلام کے دوسرے نظریات کا تصادم
242
ظنی چیز دین نہیں بن سکتی
243
فرقہ سازی اور فرقہ پرستی شرک ہے
243
دین و دنیا کی تفریق
244
شریعت اور شریعت سازی
244
اطاعت رسول کا پرویزی مفہوم
244
مقام رسالت پرویز صاحب کی نظر میں
245
مگر رسالت بدستور جاری ہے
246
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے مراد
247
زندہ رسول
248
زندہ رسول پرویز صاحب ہی ہیں
249
غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز
249
مرکز ملت کا یہ منشور غلط ہے
250
اللہ اور رسول کی الگ الگ اطاعت کا تصور
251
اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم کی نئی تشریح
251
علمائے دین اور "پیشوائیت" میں فرق
252
تاریخ سے ایک مرکز ملت کی مثال
253
شہنشاہ اکبر کی خدادا بصیرت
254
چند ضمنی گوشے
254
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پرویز صاحب کی محبت و عقیدت؟
254
اطاعت رسول کا نیا مفہوم
255
مرکز ملت کی اطاعت حرام ہے
256
تشریعی امور میں مشورہ کبھی نہ کیا گیا
256
انکار رسالت
256
خسرو پرویز اور غلام احمد پرویز
257
حجیت حدیث کے دلائل
257
فرار کی راہیں
257
طلوع اسلام کے اعتراضات کے جوابات
258
اللہ اور رسول کی الگ الگ اور مستقل یعنی دو اطاعتوں کا ثبوت
259
اصل اطاعت رسول کی ہے اور وہ رسول ہونے کی حیثیت سے ہے
260
اطاعت رسول ہی اصل ہدایت ہے
261
اقوال و افعال رسول حجت شرعیہ ہیں
261
رسول کی اطاعت دائمی ہے
261
اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے لئے وعید
263
اتباع رسول کا منکر کافر ہے
263
اتباع رسول سے روگردانی منافقت ہے
264
رسول کا مخالف جہنمی ہے
264
نتائج
265
حجیت حدیث کے عقلی دلائل
265
صحابہ کی قرآن فہمی
265
تعامل امت
266
موضوعات کا وجود
266
باب ششم: قرآنی نظام ربوبیت
267
ملکیت زمین
267
فطری قانون حق ملکیت
267
حق ملکیت کے عوامل
268
حق ملکیت کا اسلامی تصور
269
متشابہات سے استفادہ
270
عدم جواز ملکیت زمین پر طلوع اسلام کے دلائل کا جائزہ
271
قرآنی آیات سے
271
لفظ سُئِلَ کے معانی
271
لفظ سواء کے معانی
272
برابری کس کس کی اور کس بات میں
272
سیاق و سباق کا طریق
273
قرآن سے حق ملکیت زمین کے دلائل
274
تاریخ اور طلوع اسلام
275
بائبل اور طلوع اسلام
276
انتظام یوسفی
276
طلوع اسلام کی علمی دیانت؟
278
نتائج
278
عام اشیائے صرف پر ملکیت کا حق
279
طلوع اسلام کے دلائل کا جائزہ
279
طلوع اسلام کا حدیث سے احتجاج
281
باغ فدک کا قصہ اور نتائج
281
لین دین کے احکام کی پرویزی تاویلیں
283
احکام میراث
283
طلوع اسلام کے تضادات
283
احکام صدقہ و خیرات
284
ملا کون؟
284
ملا کا قصور
284
لین دین کے احکام کا عبوری دور
285
عبوری دور کے احکام کی مزید تشریح
286
پرویزی حیلے
287
زنا اور عبوری دور
287
عبوری دور اور حالات
288
عبوری دور اور ناسخ و منسوخ
288
احتمالات کی دنیا
289
نفاذ اور نافذ العمل کا فرق
289
ترکہ اور عبوری دور
289
مساکین کا وجود
290
قسم کا کفارہ اور روزے
291
زکوٰۃ و صدقات کے احکام کا تعطل
291
لین دین کے احکام
291
انفرادی ملکیت اور ارکان اسلام
292
ذاتی ملکیت اور زکوٰۃ
292
ذاتی ملکیت اور حج
292
باب ہفتم: نظام ربوبیت کا فلسفہ اور تشریف آوری
294
نظام ربوبیت کی ایجاد کی ضرورت
294
قرآن میں غور کرنے کا طریقہ
294
اشتراکیت اور ربوبیت
294
ربوبیت اور تصوف
294
فلسفہ ربوبیت
295
انسان کی مضمر صلاحیتیں
296
مضمر صلاحیتیں اور مستقل اقدار
296
انسانی ذات کی نشو ونما کا فائدہ
297
نظریہ ربوبیت کا تجزیہ
297
اشتراکیت اور ربوبیت کے جذبہ محرکہ کا فرق
298
پرویزی جذبہ محرکہ کی قوت
299
نظام ربوبیت کی تاریخ
299
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید یہ نظام متشکل فرمایا ہو؟
300
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظام ربوبیت قائم کر لیا تھا
300
دور نبوی میں یہ نظام قائم نہیں ہو سکتا تھا
300
یہ نظام سب سے پہلے انبیاء پر نازل ہوا تھا
301
اسلام کی تاریخ میں پہلی کوشش
302
نظام ربوبیت کو قرآن سے کشید کرنے کے طریقے
302
اپنی طرف سے بے جا اضافوں کے ذریعہ سے
302
ربوبیت، قانون ربوبیت، نظام ربوبیت کیلئے قرآنی الفاظ
303
نئی نئی اصطلاحات کا طریقہ
304
دنیا اور آخرت کے کئی مفہوم
304
اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ
305
اللہ سے مراد قرآنی معاشرہ
306
چند قرآنی اصطلاحات
306
تفسیری انداز
314
سرمایہ داری اور طبقاتی تقسیم
314
نظام ربوبیت کے قائلین اور منکرین
316
جہنم صرف سرمایہ دار کیلئے اور صرف دنیا میں ہے
317
قانون ربوبیت پر ایمان لانے کے فائدے
318
قانون کی قوت؟
319
نظام ربوبیت کے اپنے فائدے
319
نظام ربوبیت کا فلسفہ اور مزید فوائد
320
نظام ربوبیت کب اور کیسے آئے گا؟
321
نظام ربوبیت کے انقلاب کا دوسرا منظر
322
قرآنی نماز
325
نماز اور تواتر کا سہارا
325
نمازوں کی تعداد
326
قیام صلوٰۃ کا مقصد
327
صلوٰۃ کے دوسرے مفہوم
327
قیام صلوٰۃ اور طہارت؟
329
امام کا تقرر کیوں؟
329
رکوع و سجود کا مقصد اظہار جذبات ہے
329
تاج محل
330
صلوٰۃ اور نماز کا فرق
330
پرویز صاحب کی نماز
331
پرویزی نماز نہیں پڑھتے
332
قرآنی زکوٰۃ و صدقات
334
شرط زکوٰۃ
335
اس شرط کے مفاسد
336
شرح زکوٰۃ میں تبدیلی کا حق
337
نماز اور زکوٰۃ کی جزئیات
337
زکوٰۃ سے متعلق طلوع اسلام سے ایک سوال
337
زکوٰۃ اور زمانے کے تقاضے
338
ٹیکس اور زکوٰۃ میں فرق
338
بنیادی فرق
340
مقصد کے لحاظ سے فرق
340
محاصل کے لحاظ سے فرق
341
مصارف میں فرق
342
مزاج اور نتائج کے لحاظ سے فرق
342
حکومت کا عوام سے زائد از ضرورت سب کچھ وصول کرنا
343
زکوٰۃ کی ادائیگی کا بالکل جداگانہ مفہوم
343
صدقہ و خیرات
344
اسلامی نظام میں فقراء کا وجود
346
پرویز صاحب کی تضاد بیانی
346
زکوٰۃ کی ادائیگی سے فرار کی راہیں
346
صدقہ فطر اور ڈاک کے ٹکٹ
347
قربانی
349
ایک چور کا اپنے سے بڑے چور سے سوال
349
پرویز صاحب کا جواب
349
مقامی قربانی اور حج کی قربانی کے لیے الگ الگ لغت
350
مقامی قربانی کے دلائل
350
ایک سے زیادہ جانوروں کی قربانی
352
مالی ضیاع کی فکر
352
قربانی کا فلسفہ
353
قربانی کا لفظ قرآن میں
354
لفظ نحر کی لغوی تحقیق
355
سورہ کوثر اور اونٹ
356
اپنےدعوٰی کی خود تردید
357
اطاعت والدین
358
اطاعت والدین قرآن کی رو سے غیر ضروری ہے
358
اطاعت والدین کے نقصانات
359
اطاعت کس عمر میں؟
360
اطاعت والدین قرآن کی رو سے فرض ہے
361
کیا اطاعت کے بغیر والدین سے حسن سلوک ممکن ہے؟
361
بڑھاپے میں بھی اطاعت والدین ضروری ہے
362
نتائج
363
اصل مسئلہ طلاق
363
ناسخ و منسوخ
365
ما ننسخ من اٰیۃ کا پرویزی مفہوم
365
ترجمہ میں خود ساختہ اضافے
365
بھلا دینے کی تشریح
367
بے چارے ملا پر پرویز صاحب کا غصہ
368
اللہ تعالٰی کا بعض قرآنی آیات کو بھلا دینا
369
طلوع اسلام سے چند سوالات
369
حق وصیت کس کو؟
369
زانی کی سزا
370
جرم فحش ۔۔ ایک دلچسپ انکشاف
370
اللہ تعالٰی کا علم
371
ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم
371
غلام اورلونڈیاں
372
عذاب قبر
373
زندگی اور موت صرف دو دو بار ہے
373
مستثنیات
373
مُردوں کا احساس و شعور
373
مستثنیات
374
عرصہ برزخ کا اقرار
374
عذاب قبر کا ثبوت
374
شہداء کی زندگی
375
قبلہ حافظ صاحب کا برزخ کی مدت یا فصل
375
زمانی سے انکار
375
نیند اور برزخ
376
برزخ میں قیام کی مدت؟
377
عذاب قبر اور انصاف کا تقاضا
377
قرآن سے عذاب قبر کا ثبوت
378
فرشتوں کا خطاب
378
حافظ صاحب کی علمی خیانت
379
آل فرعون کی آگ پر پیشی
379
آل نوح کا انجام
380
اللہ کے حضور پیشی
381
حافظ صاحب کے افکار کا خلاصہ
382
حدیث اور عذاب قبر
382
ترکہ اور وصیت
384
پرویز صاحب کی فراہم کردہ بنیاد
384
پرویز صاحب کی تضاد بیانی
385
پرویز صاحب کا ذہنی انتشار
386
واضح بات؟
386
کیا چار بار تاکید کی وجہ سے قرض اٹھانا بھی فرض ہے؟
387
آیات وصیت کی تشریح
389
قانون وراثت پر پرویزی اعتراضات
390
سائل کے سوالات
393
یتیم پوتے کی وراثت
394
طلوع اسلام سے چند سوالات
394
فقہ اسلامی کی غلطیاں
395
اللہ تعالٰی کی حساب دانی
395
فقہاء کی خدمات کا اعتراف
396
یتیم پوتے سے ہمدردی
396
یتیم سے ہمدردی کی شکلیں
397
قائم مقامی کا اصول
398
اصول قانون وراثت
398
قانون وراثت پر پرویز صاحب کا اعتراض
399
قائم مقامی کانظریہ
399
غلطی فقہاء کی یا طلوع اسلام کی؟
400
فقہاء کی مزید غلطیاں
400
باپ کی جگہ دادا کے حصہ پانے کی وجہ
401
نظریہ قائم مقامی کے مزید مفاسد
402
قصور وار کون؟
402
تلاوت قرآن پاک
404
تلاوت قرآن پر طلوع اسلام کے اعتراضات
404
اعتراضات کے جوابات
404
قرآن کے الفاظ کی اعجازی حیثیت اور تاثیر
406
بلا سوچے سمجھے تلاوت
407
نکاح نابالغاں
4009
نکاح کی عمر
409
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا نکاح
409
فریقین کی رضامندی
411
سارادابل
411
اصل مسئلہ
412
استفتاء
413
جواب۔ نکاح کی عمر؟
416
معنوی تحریف
417
عقد نکاح اور بلوغت
419
بچپن کے نکاح کی حیثیت
421
کمسنی کے نکاح کے جواز پر قرآن مجید سے دوسری دلیل
422
مجامعت قبل از بلوغت
422
کمسنی کے نکاح کی مخالفت کی اصل وجہ
423
تعداد ازدواج
423
عام حالات میں ایک بیوی کی اجازت
425
ہنگامی حالات کی قید کہاں سے آئی
427
عام قانون
427
کیا یتیموں کی کثرت شرط لازم ہے؟
428
سوالنامہ
429
جواب میں روایات پر برہمی
430
غلام اور لونڈیاں
433
منّا اور فداءً کی مختلف صورتیں
433
من کی تین صورتیں
434
فدیہ کی تین صورتیں
435
مجاہدین میں قیدیوں کی تقسیم
436
پرویز صاحب کا اصل اعتراض
436
اعتراض کا جائزہ
437
رخصت کی حکمت
438
رجم اور حد رجم
440
سورہ نور میں مذکورہ سزا صرف کنواروں کیلئے ہے
441
لونڈی کی سزائے زنا
441
نصف رجم
441
حد رجم
442
یہودی زانی جوڑے کا رجم
444
کیا حد رجم قرآن کے خلاف ہے؟
446
حد رجم سے انکار کی اصل وجہ
447
حد سارق
447
آیۃ رجم؟ آیت منسوخ حکم باقی
448
ایک شبہ کا ازالہ
449
عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں روایت
453
امتناع کثرت روایت کے اسباب
453
روایت حدیث کے تاکیدی احکام
453
حفظ حدیث
454
تعلیم روایت
455
معارضہ حدیث
456
روایات سے جی بہلانا
457
خلفائے راشدین اور روایت حدیث
459
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور امتناع روایت
459
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور امتناع روایت
460
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ
460
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ
461
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
462
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا صحابہ کو نظر بند کرنا
462
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا روایت کو رد کرنا
462
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہدایت
463
حدیث کا مرتبہ صحابہ کرام کی نظر میں
464
دور صحابہ میں روایات کی تعداد
465
محدثین کرام پر اتہام
465
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کی مرویات
466
کیا یہ کثرت روایت ناممکن ہے؟
467
مشاہداتی دلیل
467
عدم اطمینان کی اصل وجہ
468
کثرت روایت کی وجہ حافظ اسلم صاحب کی نظر میں
468
وضاعین کون تھے؟
469
حدیث کے متعلق ائمہ کے اقوال
470
قرآن پر مکڑیوں کا جالا
470
قرآن اور فقہ
471
امام داؤد طائی اور روایت حدیث
471
فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ اور روایت حدیث
472
دیگر آئمہ کے اقوال
473
امام شعبہ کا قول
474
سفیان بن عینیہ کے اقوال
474
بکر بن حماد شاعر اور خیر و شر کا معیار
475
اہل بصیرت کے اقوال
475
کیا مثلہ معہ والی حدیث وضعی ہے
476
حافظ صاحب کے دلائل کا جائزہ
476
کیا قرآن مکمل کتاب ہے؟
477
معتزلین اور امام ابن قتیبہ رحمتہ اللہ علیہ
478
بدترین علمی خیانت
479
محدثین کی مشکلات
480
رتبہ قرآن اور حدیث
482
باب دوم: کتابت و تدوین حدیث
484
حدیث منع کتابت
484
امتناع کتابت حدیث کے اسباب
485
منع کتابت کی علت؟
486
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو احادیث لکھنے کی اجازت اور حکم
486
کتابت حدیث کی اجازت یا حکم
487
طلوع اسلام کا اعتراف کتابت
488
اقتباس بالا کا تضاد
488
دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کتابت حدیث
489
احادیث لکھنے کی ترغیب اور حکم
490
کتابت شدہ احادیث کی تصحیح و تصویب
490
منع کتابت کی روایات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
491
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور منع کتابت
491
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا مجموعہ حدیث
492
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور استخارہ
492
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا احادیث کو جلانا
493
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا احادیث کو مٹانا
493
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور احادیث کی اشاعت
494
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حفظ حدیث
494
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور کتابت حدیث
495
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور کتابت حدیث
495
امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ اور حفظ حدیث
496
تدوین حدیث کا پہلا دور
496
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تحریری مجموعے
496
حضرت عمر بن عبد العزیز کا فرمان شاہی
499
تدوین حدیث کا دوسرا دور
499
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کا کارنامہ
500
طلوع اسلام کے اعتراضات
501
امام زہری کی کتابت حدیث سے ناگواری
501
تدوین حدیث کے نتائج
502
موطا امام مالک کی احادیث؟
502
دوسری صدی ہجری کے مسانید
503
تدوین حدیث کے متعلق طلوع اسلام کا دعوٰی
504
اس دعوٰی کے غلط ہونے کے دلائل
504
کتابت حدیث کا تسلسل
505
کتابت حدیث اور حفظ و سماع
506
حفاظت قرٓن کریم اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
506
حفظ اور کتابت کی خوبیاں اور خامیاں
507
حدیث کی حفاظت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدامات
507
حفظ و سماع پر طلوع اسلام کا اعتراض
508
چند مشہور راویوں کے حافظہ کا امتحان
509
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حافظہ کا امتحان
509
امام زہری رحمتہ اللہ علیہ کے حافظہ کا امتحان
509
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی قوتِ حافظہ کا امتحان
510
کتابت حدیث پر ایک انوکھا اعتراض
511
باب سوم: تنقید حدیث
512
مجموعہ ہائے احادیث میں مندرج احادیث
512
فن تنقید حدیث کب شروع ہوا؟
513
متضاد بیانات
514
درایت کے اصول بے کار ہیں
514
محدثانہ تاویلات
516
روایت کے اصول بھی بیکار ہیں
516
کیا عدالت کی جانچ ناممکن ہے؟
517
ظن جمع ظن کا نتیجہ
518
ثقاہت کی جانچ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ
519
ہزاروں کا مسئلہ
520
آئمہ رجال کا ایک دوسرے پر طعن
520
جرح و تعدیل کے نقائص حافظ اسلم صاحب کی نظر میں
521
جرح و تعدیل میں تسامح
521
جرح و تعدیل اور تدلیس
523
جرح و تعدیل اور عقل
523
دین کیا ہے؟
524
جرح و تعدیل کا حکم
524
جرح و تعدیل پر بعض دوسرے اعتراضات
525
شیعہ سنی اختلافات
525
غیر ثقہ راویوں کی مرویات
526
جرح و تعدیل اور بکر بن حماد شاعر
526
حافظ اسلم صاحب کی آئمہ رجال سے بیزاری
527
آئمہ رجال کا اصل کارنامہ
529
باب چہارم: اصولِ حدیث
529
روایت بالمعنٰی عام اصول نہیں ہے
530
روایت بالمعنٰی کی شرائط
530
روایت بالمعنٰی کے قائلین کے دلائل
531
روایت بالمعنٰی اور طلوع اسلام
532
روایت بالمعنٰی اور مولانا مودودی رحمہ اللہ
533
دلائل کا تجزیہ
533
روایت باللفظ کے شواہد
533
روایت بالمعنٰی اور آئمہ نحو
535
خبر منفرد کی مقبولیت
536
محققین کون لوگ ہیں؟
536
روایت بمنزلہ شہادت
537
روایت اور شہادت میں فرق
537
روایت یا عینی شہادت
538
احادیث متواتر کا ثبوت
539
خبر واحد حجت بھی ہے اور بمنزلہ شہادت بھی نہیں
540
راوی بمنزلہ مدعی؟
540
احادیث مشہور اور عزیز سے انکار
540
خبر متواتر
541
حافظ صاحب کی مغالطہ آفرینی
542
خبر متواتر کی نئی تعریف
542
خبر متواتر ایک بھی نہیں
543
صحیحین میں متواتر کی کثیر تعداد موجود ہے
544
متواتر کی تعریف اور قرآن
545
باب پنجم: دلائلِ حدیث
546
سنت کی آئینی حیثیت پر اعتراض
546
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا جواب
546
حافظ اسلم صاحب کا تبصرہ
546
تبصرہ کا جائزہ
547
سنت کی ضرورت
547
کیا ظن دین کی بنیاد بن سکتا ہے؟
548
شہادت اور روایت
548
منکر حدیث کا اعتراف حقیقت
548
حکمت کا مفہوم؟
549
کتاب و حکمت
549
حکمت کا معنی
550
حکمت اور قرآن کریم
550
حکمت اور وحی
551
انبیاء علیہم السلام پر نازل شدہ حکمت
551
حکمت کے عام مفہوم پر حافظ اسلم صاحب کے اعتراضات
552
منزّل من اللہ حکمت اور سنت میں فرق
552
سنت اور حدیث میں فرق
554
بلحاظ معانی اور اصطلاحی مفہوم
554
بلحاظ وسعت معنی
554
بلحاظ صحت و سقم
554
بلحاظ تعداد
555
حافظ اسلم صاحب کے اعتراضات کا جائزہ
555
تلاوتِ حکمت
556
کیا احادیث منزل من اللہ ہیں؟
556
حضرت لقمان اور حکمت
556
مآ اٰ تٰکم الرّسول کے صحیح معانی
556
آتٰی کی لغوی تحقیق
557
غلط فہمی کا شکار کون ہے؟
558
کیا وحی صرف قرآن میں محصور ہے؟
560
نطق نبی
560
حافظ صاحب کے اعتراضات
560
وحی اور قرآنی آیات
561
کفار کا تکرار، انکار اور جھگڑا
561
سنت کی ضرورت
563
تشریعی امور
563
تدبیری امور
563
اجتہادی امور
564
طبعی امور
564
وحی جلی اور خفی
565
وحی خفی کا عقیدہ اور اولین لٹریچر
566
وحی خفی اور یہودی
566
وحی خفی اور کتابت
567
وحی کے مختلف طریقے
567
جبریل کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نزول
568
جبریل کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا
568
القائے ربانی
568
وراء حجاب
568
وحی خفی کی اقسام
569
وحی متلو اور غیر متلو
569
وحی خفی کے دلائل
569
آیات قرآنی کی ترتیب
569
تبیین کتاب اللہ
570
نطق نبی
570
احکام قرآنی کی تعمیل
570
نمازوں کی تعداد اور رکعات
571
زکوۃ کی شرح
571
ہجرت کا حکم
571
پیش گوئیاں
572
تمسک بالجماعت
573
قرآن سے وحی خفی کی چند مثالیں
573
راز کی بات
574
صلح حدیبیہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب
575
پہلا اعتراض
576
دوسرا اعتراض
576
قبلہ کا تقرر
577
متبنٰی کا مطلقہ سے نکاح
578
دوران جنگ درختوں کا کاٹنا
579
جنگ بدر اور وعدہ نصرت
580
وحی خفی اور جلی کا تقابل
581
وحی جلی اور خفی میں اقدار مشترک
582
وحی جلی اور خفی کو یک جا کیوں نہیں کیا گیا؟
583
باب ششم: وضع حدیث اور وضّاعین
584
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء کا پہلا واقعہ
584
نتائج
585
وضع حدیث، حجیت حدیث کی سب سے بڑی عقلی دلیل ہے
585
وضع حدیث اور تنقید حدیث لازم و ملزوم ہیں
586
خبر واحد بھی حجت ہے
586
روایت مذکورہ سے وحی خفی کا ثبوت
586
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی سزا
586
طلوع اسلام کی دیانت
587
موضوع احادیث کی ابتداء
587
وضع حدیث کے سدباب کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقدامات
589
تحریق فی النار
589
سبائیوں کی تکذیب
591
اشاعت احادیث صحیحہ
591
تنقید حدیث کا معیار
592
خلاف راشدہ کے بعد
593
حکومت کی طرف سے وضاعین حدیث کو سزائے پھانسی یا قتل
594
ناقدین اور محدثین کی طرف سے وضع حدیث کا دفاع
595
نقد حدیث کے معیار
596
نظری طریق
596
درایت کے اصول
597
خلاف عقل ہو
597
خلاف مشاہدہ ہو
597
قرآن کی قطعی دلالت یا سنت متواترہ یااجماع قطعی کے خلاف ہو
597
عذاب و ثواب میں مبالغہ آرائی
597
نسلی اور قومی تعصبات سے متعلق احادیث
597
فرقہ وارانہ روایات
597
تاریخ کے خلاف ہو
598
راوی کا غیر طبعی طویل عمر کا دعوٰی
598
کشف و رؤیا پر مبنی روایات
598
رکاکت لفظی یا معنوی
598
نظری طریق کی دوسری قسم
599
روایت یا اسناد کی چھان پھٹک کے اصول
599
علم الجرح و التعدیل
599
علم التاریخ و الرواۃ
599
معرفۃ الصحابہ رضی اللہ عنہم
600
علم الاسماء والکنی
600
عملی طریق
600
موضوع احادیث کی جانچ
601
محدثین کا کارنامہ
602
احتمالات و شبہات
603
ذخیرہ احادیث میں موضوعات اور ضعیف احادیث کا وجود
604
موجودہ دور میں وضع حدیث
607
باب ہفتم: حدیث کو دین سمجھنے کے نقصانات
607
حدیث اور گمراہی
607
حافظ صاحب کی فریب دہی
607
اجتماعی مصالح کا فقدان
609
حدیث اور فرقہ بندی
612
قرآن کے معانی میں اختلافات
615
حدیث اور فروعی اختلافات
615
نماز کیسے پڑھیں؟
616
محاذ آرائی کے اسباب
616
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز
616
ایک نومسلم کی مشکل
619
باب اول: حدیث پر چند بنیادی اعتراضات
621
حدیث ظنی ہے اور ظن دین نہیں ہو سکتا
621
طلوع اسلام کا دعوٰی
621
مغالطے اور جھوٹ
621
وحی اور کتابت
622
لفظ "ظن" کی لغوی بحث
623
طلوع اسلام کی دیانت
624
محدثین کے نزدیک لفظ ظن کا مفہوم
624
عقلوں کا فرق
626
ظن غالب پر دین کی بنیادیں
626
نگہ بازگشت
626
کیا ظن دین ہو سکتا ہے؟
627
قرآن سے استدلال
627
شہادت
627
ثالثی فیصلہ
627
اعمال کے نتائج
628
آئمہ رجال اور مولانا مودودی مرحوم
628
سنت رسول سے استدلال
630
دینی معمولات سے استدلال
630
طلوع اسلام کے نظریہ سے استدلال
631
عام معمولات
631
تاریخ اور حدیث میں فرق
631
صحیح بخاری کے پورے نام کی وضاحت
632
الجامع
632
صحیح
632
المسند
633
المختصر
634
من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
634
وسننہ وایّامہ
634
تاریخ اور حدیث کا تقابل
635
احادیث اور اناجیل
636
اعجاز حدیث
637
کثرت احادیث
637
احادیث کی عددی کثرت کے اسباب
637
حدیثوں کی تعداد
638
احادیث کی اصل تعداد
639
ذخیرہ احادیث میں رطب و یابس کا اندراج؟
640
صحیح احادیث کی صحت کی عقلی دلیل
640
طلوع اسلام کا سفید جھوٹ
641
حدیثوں کے ضیاع کی فکر
641
طلوع اسلام کی اصل شکایت
641
کفر کی اصل وجہ؟
642
کثرت احادیث اور صحیفہ ہمام بن منبہ
643
چند غور طلب حقائق
643
طلوع اسلام کا معیار حدیث
645
معیار اول: قرآن کے مطابق ہو
645
معیار دوم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین
646
معیار سوم: توہین صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین
647
معیار چہارم: خلاف علم نہ ہو
649
معیار پنجم: خلاف عقل نہ ہو
649
عقل کے استعمال کی دلیل
650
باب دوم: حدیث اور چند نامور اہل علم و فکر
651
اقبال
651
شاہ ولی اللہ
653
امام ابو حنیفہ
653
عبید اللہ سندھی
654
حمید الدین فراہی اور امین احسن اصلاحی
656
مناظر احسن گیلانی
657
کوئی نئی بات نہیں
657
باب سوم: جمع قرآن روایات کے آئینے میں
659
طلوع اسلام کے اعتراضات کا جائزہ
659
طلوع اسلام کا دعوٰی
659
اپنے دعوٰی کی تردید
659
جامع قرآن کون؟
660
قرآن کی موجودہ شکل تک کے مختلف مراحل
661
دور نبوی سن۱ نبوت تا سن ۱۱ھ
661
قرآن کی حفاظت کے طریقے
663
دور صدیقی میں ۱۱ھ تا ۱۳ ھ میں قرآن کی جمع و ترتیب
664
دور عثمانی: سن ۲۴ ھ تا ۳۵ھ میں قرآن کی نشر و اشاعت
665
دور حجاج بن یوسف ۶۵ھ تا ۱۱۵ھ، اعراب اور نقاط
667
ادوار مابعد میں رموز اوقاف وغیرہ
668
جمع اور ترتیب قرآن پر طلوع اسلام کے اعتراضات
668
لب و لہجہ یا تلفظ کے اختلافات
669
اعتراض کا جواب بھی طلوع اسلام کی طرف سے
670
سبعہ احرف سے متعلق چند ضروری وضاحتیں
672
حضرت عثمان اور حرف واحد
673
موجودہ قراءات مختلفہ
674
دوسرا اعتراض: سہو ونیسان سے متعلق الفاظ و حروف کی کمی بیشی یا اغلاط کتابت مصحف امام کی اغلاط
676
حجاج بن یوسف کی درست شدہ اغلاط
676
تیسرا اعتراض: اختلافات قرات جن میں الفاظ کی زیادتی ہے
677
آرتھر جیفری کی تالیف
679
حفاظت قرآن سے متعلق ایک اعتراض اور اس کا جواب
680
حفاظت قرآن کے خارجی ثبوت
680
حفظ قرآن
680
مستند احادیث
681
باب چہارم: تفسیر بالحدیث
682
حضرت موسٰی اور بنی اسرائیل
683
فرعون کا ایمان لانا
684
ھو الاول والآخر کی تفسیر
685
علّم اٰدم الاسماء
686
عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں
687
آتٰی کی لغوی تحقیق
688
حلال کو حرام نہ ٹھہراؤ
690
صحابہ معاذ اللہ مرتد ہو گئے
690
سیرت یوسفی
691
مقام کی بلندی اور پستی کا معیار
692
کسر نفسی
692
نگاہیں اوپر نہیں اٹھ سکتیں
693
باب پنجم: متعہ کی اباحت اور حرمت
695
نکاح متعہ ایک اضطراری رخصت تھی
695
طلوع اسلام کا چکمہ
696
اضطراری رخصت کی دوسری دلیل
697
ابدی حرمت
697
اختلاف صحابہ
698
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا تعزیری حکم
699
واقعہ کے نتائج
699
متعہ اور طلوع اسلام
700
باب ششم: حصول جنت
702
پرویز صاحب کی یک چشمی
702
قرآن اور حصول جنت
703
حدیث اور جہاد
705
جنت اور مغفرت
705
کن گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے؟
705
مغفرت کیسے ہوتی ہے؟
706
مصیبت بعض گناہوں کا کفارہ بھی ہے اور بعض گناہوں کی معافی بھی
707
شہادت
708
شہید کون کون ہیں؟
708
لڑکیوں کی تربیت پر جنت
709
فریب دہی کی کوشش
710
ماؤں کے صبر پر جنت
710
تلاوت قرآن اور جنت
722
جنت ضعیفوں اور کمزوروں کیلئے ہے۔
712
جنت میں فقراء کی کثرت کیوں؟
713
اختیاری فقر و مسکنت
714
اضطراری مسکنت اور اختیاری مسکنت
715
کمزوری اور ذلت
715
خلوت گزینی
716
جنت کی راہ میں رکاوٹیں
717
فضائل اعمال کی حقیقت
717
باب ہفتم: بخاری کی قابل اعتراض احادیث
718
پتھر کپڑے لے کر بھاگ گیا
719
ملک الموت کے طمانچہ مارا
719
حضرت سلیمان علیہ السلام اور سو عورتوں کا دورہ
720
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ختنہ
721
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تین جھوٹ
7222
گرگٹ کو مارنا
723
حضرت آدم علیہ السلام کا قد
724
نمازیں کیسے فرض ہوئیں؟
724
اعتراضات کا جائزہ
724
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو
726
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم
728
حالت حیض میں مباشرت
729
اعتکاف اور استحاضہ
730
روزہ اور مباشرت
731
روزہ اور جنابت
731
صحابہ رضی اللہ عنہم (معاذ اللہ) مرتد ہوگئے
732
نفاست
732
عزل
733
شرمگاہ کے علاوہ
733
متعہ
733
زانیہ عورت
734
جو عورت انکار کرے
735
دوزخ میں عورتیں
735
بھینگا بچہ
736
سورج کہاں جاتا ہے؟
736
موسم کیسے بدلتے ہیں؟
738
نحوست کس چیز میں؟
739
بیل باتیں کرتا ہے
740
شیطان گوز مارتا ہے
740
عذاب قبر میں تخفیف
741
زنا کے باوجود جنت
743
اگر گناہ نہ کرو گے تو
744
بنی اسرائیل چوہے ہیں
744
اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو۔۔
745
اگر مکھی گر جائے تو
746
مرغ فرشتے کو دیکھتا ہے
747
آفتاب کہاں سے نکلتا ہے؟
748
بخار کیسے ہوتا ہے؟
749
پیشاب پینے کا حکم
749
بندر کو سنگسار کیا گیا
751
جن
752
حرف آخر
753
باب ہشتم: خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی شرعی تبدیلیاں
754
اولیات عمر رضی اللہ عنہ
755
جعفر شاہ صاحب کی پیش کردہ "شرعی تبدیلیاں"
757
دور فاروقی
757
دور عثمانی
758
دور علوی
758
پرویز صاحب کے پیش کردہ اختلافی فیصلے
759
شرعی ترمیمات کی کل تعداد کا نقشہ
761
مندرجہ بالا شرعی ترمیمات کا جائزہ
763
گھوڑوں پر زکوٰۃ
763
دریائی پیداوار پر زکوٰۃ
764
عشور
764
نومسلم کی جائیداد غیر منقولہ
764
خراج کی شرح
765
زکوٰۃ کے برابر جزیہ
765
خطبہ جمعہ اور دوسری اذان
765
امدادی امور
765
اعرابی غلام
766
نماز جنازہ کی چار تکبیریں
766
نماز تراویح کی جماعت
766
ہجو کی سزا
767
غزل میں عورت کا نام
767
مغالطے
767
صبح کی اذان میں الفاظ
767
قحط کے زمانہ میں چوری کی سزا
768
غیر شادی شدہ کی سزائے زنا
769
ام ولد کی فروخت پرپابندی
769
زنا بالجبر اور عورت کی سزا
770
قاتل محروم الارث ہے
770
اسیروں کا فدیہ
771
طواف اور رمل
772
متوازی فیصلے
773
عراق کی مفتوحہ زمینوں کو قومی ملکیت میں لینا
773
شراب کی تعزیر میں اضافہ
774
درست اجتہادات
774
کتابیہ عورت سے نکاح
774
زکوٰۃ کے مصارف اور تالیف قلوب
775
اجتہادی غلطیاں
776
وظائف میں اسلامی خدمات کا لحاظ
776
تطلیق ثلاثہ اور حلالہ
777
نگہ بازگشت
778
نتائج
779
باب اول: طلوع اسلام کا ایمان بالغیب
783
عبادت کا مفہوم
783
ایمان بالغیب اور مومن کی پرویزی تعریف
784
اللہ پر ایمان بالغیب
785
طلوع اسلام اور مسئلہ استوی علی العرش
786
اپنے دعوٰی کی تردید
787
صفات خداوندی
787
اللہ پر ایمان لانے کا مطلب
788
خدا اور انسان کا تعلق
789
خدا کی عبادت
789
اللہ کی عبادت کے پرویزی مفہوم
789
توحید اور شرک
790
توحید کا مفہوم نمبر۱
790
توحید کا مفہوم نمبر ۲
791
اللہ کے مختلف معانی
791
فرشتوں پر ایمان
793
ملائکہ سے مراد خارجی قوائے فطرت
794
حاملین عرش ملائکہ کی وضاحت
794
ملائکہ سے مراد داخلی قوتیں
795
ملائکہ سے مراد طبعی تغیرات
795
ملائکہ سے مراد نفسیاتی محرکات
796
رحمت اور عذاب کے فرشتے
796
دو، دو، تین، تین، چار، چار پروں والے فرشتے
797
کتابوں پر ایمان بالغیب
797
انکار سنت اور انکار قرآن لازم و ملزوم
798
قرآنی نظام ربوبیت اور سارا قرآن
798
کیا قرآن مکمل کتاب ہے؟
798
نامکمل دین؟
800
قرآن فہمی کا پرویزی طریقہ
800
انبیاء پر ایمان بالغیب
802
وحی کی حقیقت اور نزول وحی
802
عقل اور وحی
803
انبیاء کی بعثت کا مقصد
804
سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام
804
آدم علیہ السلام کے فرد واحد اور نبی ہونے کا اعتراف اور اس کی تاویل
804
خاتم النبیین پر ایمان
806
زندہ رسول
806
پرویز صاحب کی رسالت
806
نگہ بازگشت
807
یوم آخرت پر ایمان
807
الساعۃ بمعنی یوم انقلاب ربوبیت
808
قیامت کا مفہوم
809
میزان اعمال کب اور کیسے؟
809
یوم الحشر یا یاوم النشور کب ہوگا؟
810
آخرت کے مختلف مفاہیم
810
آخرت اور جنت و دوزخ
810
آخرت کی کامیابی کا معیار صرف دنیا کی خوشحالی ہے
810
جنت اور دوزخ کی حقیقت
811
جنت کی زندگی
811
آدم کا جنت سے خروج
811
جہنم کی حقیقت
812
جنت اسی دنیا میں
812
تقدیر پر ایمان بالغیب
812
تقدیر کا عقیدہ مجوسیوں کا ہے
812
اللہ تعالٰی کی بے بسی (نعوذباللہ)
813
آخرت میں بھی اللہ تعالٰی کی بے بسی (نعوذ باللہ)
814
غفور رحیم
815
دیگر صفات خداوندی
815
انسان کا اختیار اور مکافات عمل
816
مسئلہ تقدیر کا اصل حل
817
باب دوم: طلوع اسلام اور ارکان اسلام
818
اسلام اور کفر
818
کافر کون ہیں؟
818
توحید
819
صلوٰۃ یا نماز
819
ایتائے زکوٰۃ
820
صوم یا روزہ
820
حج
821
کعبہ کی اہمیت
821
ارکان اسلام سے چھٹی
822
طلوع اسلام کا دین اسلام
823
باب سوم: وحی الٰہی سے روشنی حاصل کرنے کا طریق (مفہوم القرآن پر ایک نظر)
824
معجزات اور خرق عادت امور
826
حضرت صالح علیہ السلام اور ناقتہ اللہ
826
قوم لوط کی الٹائی ہوئی بستیاں
828
قوم ثمود کی الٹائی ہوئی بستیاں
828
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کا ٹھنڈا ہونا
829
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور چار پرندے
830
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی
831
عصائے کلیمی اور دریا کا پھٹنا
833
عصائے کلیمی اور بارہ چشموں کا پھوٹنا
834
عصائے کلیمی کیا چیز ہے؟
835
حضرت موسٰی علیہ السلام کا ید بیضا
837
حضرت موسٰی علیہ السلام کا جادوگروں سے مقابلہ
838
حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش
840
حضرت عیسٰی علیہ السلام کا گود میں کلام کرنا
841
حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دوسرے معجزات
842
حضرت عزیر علیہ السلام کا سو سال کے بعد زندہ ہونا
843
حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں
845
حضرت ایوب علیہ السلام پر انعامات
846
اصحاب الفیل
848
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور واقعہ اسراء
849
اللہ تعالٰی کا مردوں کا زندہ کرنا
850
باب چہارم: فکر پرویز پر عجمی شیوخ کی اثر اندازی
853
پرویز صاحب کی خالص قرآنی دعوت
853
خالص قرآنی دعوت پر اصرار
854
اپنی غلطیوں کا اعتراف
854
پرویز صاحب کی کذب بیانی
854
خالی الذہن ہو کر قرآن کا مطالعہ کرنا
855
پرویز صاحب کا شرک
855
خالی الذہن ہونے کا پرویزی مطلب
856
پرویز صاحب کے عجمی شیوخ
856
پرانے شیوخ
857
چند نئے شیوخ اور ان کے افکار
857
برگسان کا نظریہ ارتقاء
857
الیگزینڈر کا نظریہ ارتقاء
859
برگسان اور الیگزینڈر کے نظریات کا تضاد
860
اختلافات کے متعلق پرویز صاحب کا فیصلہ
861
پروفیسر مارگن کا نظریہ ارتقاء
863
سورہ فاتحہ کا مفہوم
864
مزید دو آیات کا ارتقائی مفہوم
865
مذہب سے دین تک کا ارتقائی عمل
867
دوسرا دور۔ لفظ مذہب سے بیزاری کا اظہار
868
ارض و سماء کے معانی میں تدریجی ارتقاء
870
باب پنجم: داعی ءِ انقلاب کا ذاتی کردار
871
ایک گھریلو شہادت
871
السابقون الاولون پر کیا بیتی؟
872
طلوع اسلام کی بڑی بڑی شخصیتیں
872
مفکر قرآن کا ایثار اور دیانت
873
فرقہ پرستی اور پارٹی بازی
876
اخراج کہاں سے؟
877
دعوت "علٰی وجہ البصیرت" کی اور آرزو "اندھی عقیدت" کی
غالباً اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں یہ بہترین کتاب ہے۔ اپنی ضخامت کی وجہ سے ایک عام قاری کے لیے پڑھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ جناب مصنف اکثر اتنی تفصیل میں چلے جاتے ہیں کہ اس چیز کے بارے میں سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ یہ ان کے اپنے تاثرات ہیں یا پرویز کے۔ کتاب ہر طرح کے حوالاجات سے پر ہے، جن پر شائد ہی کہیں جرح کی گنجائش نکل سکے۔ املا کی غلطیاں بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی پرویزی ذہن رکھنے والا شحص اس کو پڑھنے کے بعد اپنے خیالات بدلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ اس میں وہ شعلہ بیانی نہیں پائی جاتی جو قاری کو اسے پڑھنے پر مجبور کرسکے۔ ایک بہترین کتاب ہونے کے باوجود ، میرے نزدیک ، یہ حوالے کی کتاب کے طور پر تو ایک بہترین کتاب ثابت ہوئی ہے مگر عام قاری کے دل پر وہ اثر نہیں چھوڑ سکی جو اس پائے کی کتاب کو چھوڑنا چاہئے تھا۔ علمی اعتبار سے میں اس پر اعتراض کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، ہاں بس ایک سوال ہے، مصنف نے جہاں رسول اور نبی میں جو فرق بتائے ہیں ان میں ایک یہ بھی لکھا ہے کہ رسول قتل نہیں کیے گئے اور نبی ناحق قتل بھی کیے گئے۔ سورۃ المائدہ کی آیت ۷۰ میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے بارے میں بتاتا ہے کہ انہوں نے رسولوں کو بھی قتل کیا۔
اس کتاب کو پڑھنے کے بعد بہت سی دوسری، خاص طور پر کچھ شخصیات کے بارے میں، غلط فہمیاں بھی دور ہوتی ہیں۔ ہاں ایک اور تاثر جو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ غلام احمد پرویز کو مار تو بہت پڑ رہی ہے مگر ڈنڈا شائد ریشم کے تھانوں میں لپیٹ کر مارا جارہا ہے۔ یہی سلوک کتاب میں عام طور پر تمام کفار کے ساتھ اور خاص طور پر سر سید کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے۔
اس کو پڑحنے کو دوران میڑے دل سے مصنف کے لیے صرف اور صرف دعائیں ہی نکلتی رہیں۔ اللہ تعالٰی ان کو اجر عظیم سے نوازیں۔ آمین۔