• title-page-anbiya-ka-aslobe-dawat
    ربیع ہادی المدخلی
    اللہ عزوجل نے امت مسلمہ کامقصدوجوددعوت کوقراردیاہے ۔اسی بناءپرانہیں ’خیرامت‘کامعززلقب دیاہے۔قرآن وحدیث میں دعوت الی اللہ کے اصول وضوابط متعین کردیے ہیں اوررسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عملا انہیں برت کردکھابھی دیاہے ۔نبوی اسلوب دعوت کوسامنے رکھتے ہوئے ہمارے اسلاف نے جس خوش  اسلوبی سے فریضہ دعوت کوسرانجام دیااس کانتیجہ یہ نکلاکہ اسلام اطراف واکناف عالم میں پھیل گیالیکن بعدازاں یہ طریقہ دعوت نظروں سے اوجھل ہوگیاتوفرقہ واریت اوراحتراق نشست امت کامقدربن گیاموجودہ ذلت  ورسوائی کی وجہ بھی یہی ہے کہ تنظیموں اورجماعتوں کی دعوت انبیاء کرام کے طریقے پرنہیں ہے ۔زیرنظرکتاب میں انتہائی مؤثراوردلنشیں انداز میں انبیاء کے اسلوب دعوت پرروشنی ڈالی گئی ہے جویقیناً قابل مطالعہ ہے ۔

  • pages-from-insan-aur-akhrat
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    اس بات سےآج تک کوئی انکار نہیں کرسکا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے زندگی ملی اسے موت بھی دوچار ہوناپڑا، جو آج زندہ ہےکل کو اسے مرنا ہے،موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔ہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر کو موت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچ سکتے ہیں اور موت کےبعد پیش آنے والے مراحل میں کامیاب ہوسکتے ہیں جنہوں نےاپنی آخرت کی بہتری کےلیےدینوی زندگی میں مناسب تیاری کی ہو۔ زیر تبصرہ کتا ب’’انسان اور آخرت‘‘ڈاکٹر حافظ مبشر حسین ﷾ریسر سکالر ادارہ تحقیقات اسلامی ولیکچرراسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے کتاب سلسلہ’’ اصلاح عقائد کا آٹھواں حصہ ہے۔انہوں نےاس کتاب میں موت او رموت کے ساتھ شروع ہوجانے والے جملہ اُخروی مراحل کو قرآن وسنت کی روشنی میں نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں اختصار اور جامعیت کےساتھ پیش کیا ہے۔ تاکہ اردو زبان پڑھنے اور سمجھنے والے ایک عام آدمی کوبھی ایمانیات کےاس رکن عظیم سے ممکنہ حد تک واقفیت ہوسکے اور اس کی روشنی میں وہ اپنی آخرت کی بہتری کےلیے دنیوی زندگی میں مناسب تیاری کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام تحریری وتقریری کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کولوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-insan-aur-rehbr-e-insaniyat-copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    نبی کریم ﷺ کےساتھ ہرایک مسلمان کا بنیادی طور پر تین طرح کا تعلق ہوناچاہیے ایک تویہ کہ اہم آپ ﷺ پر صدق دل سے ایمان لائیں، دوسرا یہ کہ اہم آپﷺ سے دنیا جہاں کی ہر چیز سے بڑھ کر محبت کریں اور تیسرا یہ کہ ہم ہر ممکنہ حدتک آپ کی اطاعت واتباع کریں کیونکہ دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه (سورہ نساء:80) جس نے رسول اللہﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ اور سورۂ محمد میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(سورہ محمد:33) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو (اور اطاعت سے انحراف کر کے ) اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث بڑی اہم ہے ۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’میر ی امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا انکار کس نے کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس نے انکار کیا ۔(صحیح بخاری :7280) گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں قرآنی آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔گویا اپنی پوری زندگی میں خواہ انفرادی ہویا اجتماعی ،مسجد کے اندر ہویا مسجدکے باہر، بیوی بچوں کےساتھ ہو یا دوست احباب کے ساتھ ،ہر وقت ،ہرجگہ سنت کی پیروی مطلوب ہے ۔محض عبادات کے چند مسائل پرتوجہ دینا اور زندگی کے باقی معاملات میں سنت کی پیروی کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں کہلا سکتا۔ زیر تبصرہ کتا ب’’انسان اور رہبرانسانیت ‘‘ میں ڈاکٹر حافظ مبشر حسین ﷾ نے ایک مسلمان کا جو رسول اللہ ﷺ کےساتھ تین طرح کا بنیادی تعلق ہونا چاہیے اسے قرآن مجیداور مستند صحیح احادیث کی روشنی میں تین ابواب میں واضح کرتے ہوئے سنت ورسالت سےمتعلقہ تمام اہم مسائل پر قرآن وحدیث کی روشنی میں بحث کی ہے اور اس سلسلہ میں پائی جانے والی مختلف غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئےنہایت عام فہم اسلوب میں نبی کریم ﷺ سے محبت اور آپ کی سنت پر عمل کاجذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی ہے ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام مساعی جمیلہ کوقبول فرمائے ۔(م۔ا)

  • title-insan-aur-shaitan-copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری
    شيطان کے بارے میں مختلف ادیان ومذاہب میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں- کہیں اسے دیوتا کا مقام حاصل ہے تو کہیں نفس امارہ اور خواہش شر کی حیثیت سے دیکھا جاتاہے خود مسلمانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس کے وجود کے انکاری ہیں- شیطان کیا ہے؟ اسے کیوں پیدا کیا گیا؟ اس کا انسان کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟کیا شیطان ہر انسان کےساتھ ہوتا ہے؟شیطان انسان کو کیسے گمراہ کرتا ہے؟ اوراس سے بچاؤ کی کیا احتیاطی تدابیر ہوسکتی ہیں؟  کتاب ہذا میں ان تمام سوالوں کے جواب قرآن وسنت کی روشنی میں انتہائی سادہ انداز میں دئیے گئے ہیں- علاوہ ازیں فلسفہ خیر وشر، دنیا میں ہونے والی برائیوں میں شیطان کا کردار، اور خود انسان کے ارادہ و اختیار کی نوعیت وغیرہ پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے اس سلسلہ میں بہت سے گمراہانہ عقائد کا رد بھی کتاب ہذا کی زینت ہے-
  • title-pages-insan-aur-shaitan--jadeed-audition--copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    قرآن مجید جو انسان کے لیے ایک مکمل دستور حیات ہے ۔اس میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ شیطان مردود سےبچ کر رہنا ۔ یہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ارشاد باری تعالی ’’ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ‘‘( یقیناًشیطان تمہارا دشمن ہے تم اسے دشمن ہی سمجھو)لیکن شیطان انسان کو کہیں خواہشِ نفس کو ثواب کہہ کر ادھر لگا دیتا ہے ۔کبھی زیادہ اجر کالالچ دے کر او ر اللہ او راس کے رسول ﷺ کے احکامات کے منافی خود ساختہ نیکیوں میں لگا دیتاہے اور اکثر کو آخرت کی جوابدہی سے بے نیاز کر کے دنیا کی رونق میں مدہوش کردیتا ہے۔شیطان سے انسان کی دشمنی آدم کی تخلیق کےوقت سے چلی آرہی ہے اللہ کریم نے شیطان کوقیامت تک کے لیے زندگی دے کر انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی قوت دی ہے اس عطا شدہ قوت کے بل بوتے پر شیطان نے اللہ تعالی کوچیلنج کردیا کہ وہ آدم کے بیٹوں کو اللہ کا باغی ونافرمان بناکر جہنم کا ایدھن بنادے گا ۔لیکن اللہ کریم نے شیطان کو جواب دیا کہ تو لاکھ کوشش کر کے دیکھ لینا حو میرے مخلص بندے ہوں گے وہ تیری پیروی نہیں کریں گے او رتیرے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ابلیس کے وار سے محفوظ رہنے کےلیے علمائے اسلام اور صلحائے ملت نے کئی کتب تالیف کیں او ردعوت وتبلیغ او روعظ وارشاد کےذریعے بھی راہنمائی فرمائی۔جیسے مکاید الشیطان از امام ابن ابی الدنیا، تلبیس ابلیس از امام ابن جوزی،اغاثۃ اللہفان من مصاید الشیطان از امام ابن قیم الجوزیہ ﷭ اور اسی طرح اردو زبان میں مولانا مبشر حسین لاہوری اور حافظ عمران ایوب لاہوری کی کتب بھی قابل ذکر اور لائق مطالعہ ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’انسان اور شیطان‘‘ مصنف کتب ڈاکٹر حافظ مبشر حسین ﷾ کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں شیطان کیا ہے ؟ اسے کیوں پیدا کیا گیا ہے؟...اس کاانسان کےساتھ کیا تعلق ہے ؟.... شیطان انسان کو کیسے گمراہ کرتا ہے ؟... شیطان کےمکروفریب کی نوعیت کیا ہے ؟... اس سےبچاو کی تدابیر کیاہیں جیسے سوالات کا جواب قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیا ہے ۔علاوہ ازیں فلسفۂ خیر وشر ، دنیا میں ہونے والی برائیوں میں شیطان کا کردار اور خود انسان کےارادہ واختیار کی نوعیت وغیرہ پر بھی فاضل مصنف نے سیر حاصل بحث کی ہے۔نیزبہت سےگمراہانہ افکار کارد بھی اس کتاب کی زینت ہے ۔(م۔ا)

  • Title Page--- Insan Aur Firshte
    حافظ مبشر حسین لاہوری
    عقائد کے باب میں جس طرح ایمان باللہ اور ایمان بالرسل کو اہم حیثیت حاصل ہے اسی طرح ایمان بالملائکہ کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا- لیکن ہمارے ہاں اس موضوع پر  بہت کم لٹریچر  ایسا موجود ہے جو فرشتوں سے متعلق صحیح رخ کی نشاندہی کرتا ہویہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان لوگوں کی گمراہ  کن فکر پروان چڑھ رہی ہے جو فرشتوں کے وجود کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں- زیر مطالعہ کتاب میں مبشر حسین لاہوری نے اپنے مخصوص انداز میں فرشتوں  کی دنیا سے متعلق تمام حقائق سپرد قلم کر دئیے ہیں- فاضل مؤلف نے کتاب کے نو ابواب میں فرشتوں کا تعارف، فرشتوں کو عطاء کردہ قدرت، ان کی صفات واخلاق، اور مشہور فرشتوں کی ذمہ داریوں سے آگأہ کرتے ہوئے  اہل ایمان کے ساتھ فرشتوں کے تعلق کی نوعیت واضح کی ہے- اس کے علاوہ کتاب وسنت کے صریح دلائل کی روشنی میں منکرین ملائکہ کے شبہات واعتراضات کا بھی کافی و شافی جواب دیا گیا ہے-
  • title-pages-insan-aur-farishtey--jadeed-audition--copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    ایمانیات میں سے ایک اہم عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کےفرشتوں کو تسلیم کیا جائے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک وہ لطیف اور نورانی مخلوق ہیں اور عام انسان انہیں نہیں دیکھ سکتے۔۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کا پیغام اس کے مقبول بندوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ بعض کم فہم لوگ فرشتوں کے خارجی وجود کا انکار کرتے ہیں اور ان قرآنی آیات کی تلاوت جن میں فرشتوں کا ذکر ہے مجرد قوتوں کے طور پر کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسے تصورات گمراہی پر مبنی ہیں۔ ملائکہ احکامِ الٰہی کی تعمیل کرنے والی معزز مخلوق ہے۔ ان کے وجود اور ان سے متعلقہ تفصیلات کو ماننا ایمان بالملائکہ کہلاتا ہے۔ فرشتوں کی کوئی خاص صورت نہیں، صورت اور بدن ان کے حق میں ایسا ہے کہ جیسے انسانوں کیلئے ان کا لباس، اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں اختیار کر لیں۔ ہاں قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے بازو ہیں، اس پر ہمیں ایمان رکھنا چاہیےکیونکہ فرشتوں پر ایمان رکھنا ایمان کا حصہ ہے یعنی ارکان ایمان میں سے ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ انسان اور فرشتے‘‘ ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کی سلسلہ اصلاح عقائد میں سے چوتھی کتاب ہے ۔اس میں انہوں نے یہ بتایا ہےکہ انسانوں اور فرشتوں کےتعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے ؟ مشہور فرشتے کون سے ہیں ؟ فرشتوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ فرشتے انسانوں کےحق میں دعائیں کب کرتے ہیں ؟ کن بدبختوں پر فرشتے بددعائیں کرتے ہیں ؟فرشتےکن انسانوں کی مدد کے لیے اترتے ہیں ؟او ر وہ کب اور کیسے مدد کرتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ اس کے علاوہ اس کتاب میں منکرین ملائکہ کےشبہات واعتراضات کا بھی کافی شافی جواب دیا گیا ہے ۔اللہ اس کتاب کو عامۃ الناس کےعقائد کی اصلاح ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-insan-aur-quran-copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    ایمان کے چھ بنیادی اجزاء میں ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ الہامی کتابوں پر ایمان لایا جائے کہ وہ سب منزل من اللہ سچی کتابیں تھیں اور قرآن مجید ان میں آخری الہامی کتاب ہے ۔آج آسمان دنیا کے نیچے اگر کسی کتاب کو کتاب ِالٰہی ہونے کا شرف حاصل ہے تووہ صرف قرآن مجید ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن سےپہلے بھی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی کتابیں نازل فرمائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کی سب انسانوں کی غفلت، گمراہی اور شرارت کاشکار ہوکر بہت جلد کلام ِالٰہی کے اعزاز سے محروم ہوگئیں۔ اب دنیا میں صرف قرآن ہی ایسی کتاب ہے جو اپنی اصلی حیثیت میں آج بھی محفوظ ہے ۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ قرآن اس دنیا میں سب سے بڑی انقلابی کتاب ہے اس کتاب نے ایک جہان بدل ڈالا۔ اس نےاپنے زمانے کی ایک انتہائی پسماندہ قوم کو وقت کی سب سے بڑی ترقی یافتہ اور مہذب ترین قوم میں تبدیل کردیا اور انسانی زندگی کےلیے ایک ایک گوشے میں نہایت گہرے اثرات مرتب کیے۔قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انسان اور قرآن ‘‘ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کی سلسلہ اصلاح عقائد میں سےتیسری کتاب ہے۔اس کتاب میں انہوں نے یہ بتایا ہے کہ قرآن مجید کےساتھ ہمارا بنیادی طور پر تین طرح کا تعلق ہے ۔ ایک تویہ کہ ہم قرآن مجید پرصدق دل سے ایمان لائیں ۔ دوسرا یہ کہ ہم پورے آداب کےساتھ اس کی تلاوت کو روزانہ کامعمول بنائیں اور تیسرا یہ کہ ہم ممکنہ استطاعت کی حدتک اس کے احکام پر عمل کریں۔نیز اس کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ جذباتی وابستگی ہی کافی نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ ایمان وعمل کی وابستگی نہ پیدا کی جائے ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے بے عمل قرآن سے دور مسلمانوں کو قرآن کےقریب لانے کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-insan-aur-qismat-copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    "تقدیر" کائنات میں ہونے والے تغیرات کے متعلق اللہ کی طرف سے لگائے گئے اندزاے کا نام ہے، یہ تغیرات پہلے سے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتے ہیں، اور حکمتِ الہی کے عین مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تقدیر پر ایمان لانے کیلئے چار امور ہیں:اول: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کے بارے میں اجمالی اور تفصیلی ہر لحاظ سے ازل سے ابد تک علم رکھتا ہے، اور رکھے گا، چاہے اس علم کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اپنے افعال کے ساتھ ہو یا اپنے بندوں کے اعمال کے ساتھ۔دوم: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالیٰ نے تقدیر کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ سوم: اس بات پر ایمان ہو کہ ساری کائنات کے امور مشیئتِ الٰہی کے بغیر نہیں چل سکتے، چاہے یہ افعال اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں یا مخلوقات سے، چہارم: اس بات پر ایمان لانا کہ تمام کائنات اپنی ذات، صفات، اور نقل وحرکت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انسان اور قسمت ‘‘ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کی سلسلہ اصلاح عقائد میں سےنویں کتاب ہے۔مسئلہ تقدیر کیا ہے ؟ ہے تقدیر پر ایمان لانے کامطلب کیا ہے ؟ کیا انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے؟ کیاانسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے؟ کیاانسان اپنی تقدیر کے بارے پیشگی معلومات حاصل کرسکتا ہے؟ تقدیر پر ایمان کے بعدعملی جدوجہد کی ضروت کیوں باقی رہتی ہے ؟ اس کتاب میں ان تمام سوالات کا قرآن وسنت اور عقلی دلائل کی روشنی میں ایک عمدہ تجزیاتی مطالعہ پیش کیاگیا ہے اورایمان بالتقدیر کی ضرورت واہمیت پر صحیح اسلامی نقطۂ نظر واضح کیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کا و ش کو قبول فرمائے اور اسے لوگوں کی اصلاح کاذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-insan-aur-kufar-copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    کفر کے معنیٰ ہیں انکار کرنا۔ دین کی ضروری باتوں کا انکار کرنا یا ان ضروری باتوں میں سے کسی ایک یا چند باتوں کا انکار کرنا کفر کہلاتا ہے اور جو شخص کفر کا مرتکب ہوتا ہے اس کو شریعتِ اسلامی میں کافر کہتے ہیں۔کفر زیادہ تر شریعت حقہ سے انکار یا دین سے انکار کے لئے استعمال ہوتا ہے اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا اس کے فرستادہ انبیاء سے یا ان کی لائی ہوئی شریعت سے انکار ہے۔جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا اس سے انکار کرنا کفر ہے اور کفر ایمان کی ضد ہے۔ کسی شخص کے عقائد و نظریات کی بنیاد پر اس کو کافر قرار دینا اسلامی اصطلاح میں تکفیر کہلاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انسان اورکفر ‘‘ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کے کتابی سلسلہ اصلاح عقائد کی دسویں اور آخری کتاب ہے ۔اس کتاب کو انہوں نے چارابواب میں تقسیم کیا ہے اور ان میں یہ بتایا ہے کہ وہ کون سی صورتیں ہیں جن سے ایک بندۂ مومن کا ایمان ضائع ہوجاتاہے نیز کسی پر کفر کا فتویٰ لگانے سےپہلے وہ کون سے آداب وضوابط ہیں جن کا لحاظ رکھانا از بس ضروری ہے ۔نیز کتاب کے آخر میں ضمیمہ کےطور پر عقیدہ کی معروف کتاب ’’ شرح العقیدہ الطحاویۃ‘‘ کے ان مباحث کا اردو ترجمہ بھی شامل کردیاگیا ہے جو اس موضوع سےبراہ راست تعلق رکھتے ہیں۔(م۔ا)

  • title-pages-insaniyat-mout-k-darwaze-pr-copy
    ابو الکلام آزاد

    انسانی  زندگی کے آخری لمحات کوزندگی کے درد انگیز خلاصے سے تعبیر کیا جاتا ہے اس  وقت بچپن سےلے کر اس آخری لمحے کےتمام بھلے اور برے اعمال پردۂ سکرین کی طرح آنکھوں کے سامنے نمودار ہونے لگتے ہیں ان اعمال کے مناظر کو دیکھ کر کبھی تو بے ساختہ انسان کی زبان سےدررد وعبرت کےچند جملے نکل جاتے ہیں اور کبھی یاس وحسرت کےچند آنسوں  آنکھ سےٹپک پڑتے ہیں ۔کتاب ہذا کے مصنف ابواکلام آزاد کا نام برصغیر کی تاریخ میں سیاست،مذہب اور ادب کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔وہ ایک بلند پایہ ادیب،زیرک سیاستدان اور باعمل مذہبی سکالر اور رہنما تھے۔ ان کے شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ زیر نظر کتاب’’انسانیت موت کےدروازے پر‘‘ میں انہوں نے انسانی زندگی کی فنا پذیری اور موت کو موضوع بنایا ہے۔انسانیت موت کی دہلیزپر میں انہوں نے انسانی تاریخ کی مشہور شخصیات کی کیفیات اور آخری کلمات بیان کیے ہیں جو انہوں نے مرتے وقت ادا کیے تھے۔موت سے کسی کو مفر نہیں اور قرآن کے مطابق ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔چنانچہ بحیثیت مسلمان ہم سب کو آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔یہ کتاب عالم فانی سےعالم بقاء کےسفر کی دلسوز کہانی اس قدر مؤثر ہے کہ شاید ہی کوئی سنگ دل ہو  جو اس کا مطالعہ کر ے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں نہ لگ جائیں۔(م۔ا)

  • title-pages-anwar-al-toheed
    محمد صادق سیالکوٹی

    دنیا میں جتنے بھی انبیاء ورسل تشریف لائے ان کی ہدایت کا نقطۂ آغاز توحید سے ہوا انسان کے لیے راس المال توحید ہی ہے جسے ہر زمانے میں اللہ کے بندوں نے مضبوط ہتھیاروں سے محفوظ رکھا۔ شرک اپنے رنگ وروپ بدل بدل کر نئے نئے ہتھاروں میں ملبوس ہمیشہ آتا رہا ہے او رآج بھی آرہا ہے اور وارثانِ نبو ت عقیدہ توحید کی حفاظت کےلیے ہر طرح کی خدمات پیش کرتے رہے ۔زیر تبصرہ کتاب ''انوار التوحید '' مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مشرکانہ عقائد او ربدعتوں کی خوب قلعی کھولی ہے اور فاضل مصنف نے آیات قرآنی اور احادیث کے حوالے سے بتایا ہے کہ توحید کے اصل تقاضے کیا ہیں اور مسلمان جن خرافات میں الجھے ہوئے ہیں وہ خرافات کس قدر بے اصل او ردین کی روح کے مخالف اور توحید کی ضد ہیں ۔اور اس کتاب میں ایمان کی حقیت ،اللہ کی صفات،اور اسمائے حسنی کی بڑی تفصیل سے تشریح کی گئی ہے اور دین میں نکالی ہوئی بعض نئی باتوں(بدعات)کو حنفی فقہ کی کتب سے غلط ثابت کیا ہے ۔یہ کتاب اسلامی عقائد وتعلیمات سے واقفیت حاصل کرنے میں کافی معاون ثابت ہوسکتی ہے اس کتاب میں تقریبا ساڑھے تین صد مختلف نکات پرروشنی ڈالی گئ ہے اللہ تعالیٰ مولانا سیالکوٹی  کے درجات بلند فرمائے اور ان کی مرقد پراپنی رحمتوں کا نزول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-aur-saleeb-toot-gai
    نومسلم عبد اللہ

    ’اور صلیب ٹوٹ گئی‘ریاس پٹیر سے عبداللہ بن کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے مرد مجاہد کی داستان حیات ہے۔ جس میں انہوں نے بڑے خوبصورت انداز میں اپنے اسلام قبول کرنے کا پس منظر بیان کیا ہے اور اپنے تین سالہ تحقیقی دور کے حالات بھی بیان کیے ہیں۔ خاص طور پر اسلام کو  سمجھنے کے لیے انہوں نے مختلف اسکالرز سے ملاقاتوں اورمختلف اسلامی ریسرچ سینٹرز کے دوروں پر مبنی جو  رپورٹ تحریر کی ہے وہ بڑی سبق آموز بھی ہے اور دل آزار بھی جسے پڑھ کر ایک مسلمان کی گردن شرم سے جھک جاتی ہے کہ مسلمان کس طرح طرح مختلف گروہوں میں بٹ چکے ہیں ہر ایک کا اپنا اسلام ہے جو دوسرے کے اسلام سے برعکس ہے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں بڑے اچھے اور مدلل انداز میں عیسائیت اور عیسائی مشینری کا پردہ بھی چاک کیا ہے کہ دنیا کو انسانیت کا درس دینے والے خود کس طرح مذہب کے نام پر عورت کا استحصال کر رہے ہیں۔

     

  • title-pages-aur-tahli-katt-gai
    محمد طیب محمدی
    دنیا میں انبیاے کرام کو مبعوث ہی اس لیے کیا گیا تاکہ وہ دنیا کو شرک اور توہم پرستی کے گڑھے سے نکال کر توحید کے راستے پر گامزن کریں۔شیطان نے چونکہ قیامت تک کے لیے یہ عزم کیا تھا کہ وہ اللہ کی مخلوق کو رحمان کے راستے سے ہٹائے گا اور اس کی انتہائی شکل اللہ رب العالمین کے ساتھ بندوں سے شرک کروانا ہے۔ نبیﷺ جب مبعوث ہوئے تو عرب معاشرہ شرک کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ جگہ جگہ بت نصب تھے اور لوگ مختلف  توہمات کا شکار تھے۔ نبیﷺ نے ان تمام شرکیہ اعمال کو رد کرتے ہوئے خالص اللہ کی توحید کا پرچار کیا ۔ توہمات کی مخالفت کی اور عرب کی سرزمین سے تمام شرکیہ علامتوں کو ختم کردیا اور اپنے ہاتھ سے کعبہ میں موجود بتوں کو توڑا اور حضرت علیؓ کو تمام تصویروں کو مٹا دینے کا حکم دیا۔شرک و توہمات کا رجحان اسلام کے اندر بھی  در آیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ خصوصا برصغیر میں قبرپرستی اور مختلف چیزوں او رمقامات کے تبرک کی آڑ میں پرستش کی جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی  واقعہ پہاڑی  پور تحصیل چک جھمرہ ضلع فیصل آباد میں ایک دربار کے احاطہ میں لگی ٹاہلی کے متعلق ہے کہ جو گرچکی تھی اوراسے کوئی وہاں سے ہٹاتا نہیں تھا معروف یہ تھا کہ صاحب قبر بزرگ اس ٹاہلی کو نہیں اٹھانے دیتے۔ محکمہ انہار نے بھی کرینوں کے ذریعے بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ دربار سے ملحقہ گاؤں والوں کا اعتقاد پختہ ہوچکا تھا کہ یہ دربار والے بابا جی کی کرامت ہے اور لوگ درخت کو چھیڑتے تک نہ تھے کہ کہیں بزرگ کی طرف سے کوئی وبال نہ آئے۔ ارد گرد کے توحید پرست لوگوں سے اس بارے میں گفتگو ہوتی رہتی تھی او ریہ بات آخر کار چیلنج بنا کر پیش کردی گئی کہ کوئی بھی شخص اس ٹاہلی کے درخت کو کاٹنے کیلئے ہاتھ لگائے گا تو بابا جی اسے تکلیف میں مبتلا کردیں گے او ریہ چیلنج وہاں کی توحید پرست جماعت نے قبول کیا اور طے شدہ وقت کے مطابق اس ٹاہلی کو سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کاٹ ڈالا گیا ۔زیر نظر کتابچہ محمد طیب محمدی کا مرتب کردہ ہے جس میں انہوں نے اسلامی تاریخ میں توہماتی مقامات اور اشیاء کے خاتمے کے واقعات کے ساتھ مذکورہ بالا ٹاہلی والا واقعہ بھی ذکر  کردیاہے۔ واقعہ کے بعد توحید و شرک سے متعلقہ آیات و احادیث کو بڑے اچھے پیرائے اور برمحل ذکر کردیا گیا ہے۔ شرک کے ظلمات میں یہ کتابچہ ایک کرن کی نور ہے اورلائق مطالعہ ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • auliyaa-allah-ki-pehchan
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    ’اولیاء‘ سے مراد وہ مخلص اہل ایمان ہیں جواللہ کی بندگی اور گناہوں سے اجتناب کی وجہ سے اللہ کے قریب ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے لوگ ایسے ایسے لوگوں کو اولیاء اللہ کا مرتبہ عطا کر دیتے ہیں جنھیں اپنا ہوش تک نہیں ہوتا، زندگی میں وہ کبھی نماز کے قریب بھی نہیں گئے ہوتے اور طہارت تک کی بھی فکر نہیں ہوتی۔ پیش نظر کتاب کے مصنفین نے انھی حقائق پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ اولاً تو اولیاء اللہ اور اولیاء الشیطان میں فرق کیا جائے اور ثانیاً اولیاء کو ان کے مقام و مرتبہ پر فائز کیا جائے ان کے مقام و مرتبہ میں نہ کمی کی جائے اور نہ زیادتی۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے ولیوں کا تعارف موجود ہے حقیقی اولیا کی پہچان کراتے ہوئے بہت سے برگزیدہ انبیا کا تذکرہ کرایا گیا ہے۔ دوسرا حصہ شیطان اور اس کے دوستوں کےتعارف پر مشتمل ہے جس میں شیطان کے دوستوں کی سزا کے ساتھ ساتھ ان سے محفوظ رہنے کے طریقے بھی قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیے ہیں۔ کتاب میں موجود علمی مواد ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی نے جمع کیا ہے جبکہ ترتیب، اضافہ جات اور تخریج حافظ حامد محمود الخضری نے کی ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-auoliya-haqq-w-batil-copy
    انصار زبیر محمدی

    اولیاء الرحمن، اولیاء الشیطان، اللہ تعالی نے اپنی کتاب  قرآن مجید میں اور نبی کریمﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں اس  امرکی  وضاحت کر دی ہے کہ لوگوں میں سے کچھ اللہ کے ولى اور کچھ شیطان کے دوست ہیں اور اللہ اور شیطان کے دوستوں کے درمیان فرق بھی بیان کر دیا گیا ہے۔الله تعالى اپنے دوستوں کے بارے میں فرماتا ہے:یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہونگے۔یہ وہ لوگ ہیں اور برائیوں سے پرہیز رکھتے ہیں۔ان کے لئے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے۔اللہ کے افضل ترین اولیاء اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی اپنے رسولوں کے ہاتھوں معجزات وکرامات ظاہر فرماتا ہے اور اسی طرح اپنے اولیاء کے ہاتھوں سے بھی کرامات ظاہر کرتا ہے، اور جو کچھ شیطان کے دوستوں کے ہاتھوں سے ظاہر ہوتا ہے تو یہ شیطانی احوال ہیں۔ شيخ الإِسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: اگرچہ معجزہ لغت میں ہر غیر معمولی کام کو شامل ہے، اور متقدمین ائمہ جیسا کہ امام احمد بن حنبل اور دوسروں نے، ان کا نام نشانیاں رکھا ہے، لیکن متاخرین میں سے اکثر نے لفظی طور پر معجزہ اور کرامت میں فرق کیا ہے، معجزہ نبی اور کرامت ولی کے لئے مخصوص کی ہے، اور دونوں کو (عادت سے ہٹ کر) غیر معمولی امر قرار دیا ہے۔ جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ شخص مذکور اولیاء شیطان میں سے ہے اور اس کے مذکورہ کام شیطانی احوال میں سے ہیں جو لوگوں کی نظروں میں شیطانوں کے ذریعے دھوکہ اور اشتباہ پیدا کرتا ہے اس کا حقیقت کے ساتھـ کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اولیاء حق وباطل" شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی عربی تصنیف "الفرقان بین اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان" کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ محترم شیخ انصار زبیر محمدی صاحب نے کیا ہے۔اور اس کے شروع میں ضمیمہ محترم صفی الرحمن مبارکپوری صاحب﷫کا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں اللہ کے دوستوں اور شیطان کے دوستوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ان کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے آمین(راسخ)

  • title-pages-ehda-e-sawab-copy
    حافظ محمد گوندلوی

    دور ِحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی خوانی اور ایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔ 1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’اھداء ثواب‘‘ محدث دوراں حافظ محمد گوندلوی﷫ کی رد بدعات کےسلسلے میں ایک علمی تحریر ہے۔ جس میں انہو ں میت کی نفع رسانی کےجائز اور ناجائز طریقے بیان کرنے کےساتھ ساتھ تیجے ،ساتویں وچالیسویں کے بدعت اور ناجائز ہونےکامدلل بیان ہے۔اور قرآن مجید کی آیت کریمہ’’ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى‘‘پر بھی بحث کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کوعامۃ الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین) ( م۔ا)

  • pages-from-ahl-e-bait-do-nazriyon-ke-darmiyaan
    محمد سالم الخضر

    اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اہل بیت کا اولین اطلاق ازواج مطہرات پر ہوتا ہے سورۂ احزاب میں ازواج النبی ﷺ ہی کو ہدایات دے کر آخر میں یہ فرمایا گیا ہے: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (الاحزاب) یعنی ان سب ہدایات کا مقصد ازواج کو مشقت میں ڈالنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کا مقصد آخر میں بیان کردیا ہے کہ اس سب کا مقصد یہ کہ ازواج ہر قسم کی ظاہری اور باطنی برائی و گندگی سے پاک و صاف ہوجائیں کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبی کی بیویاں ہیں کوئی عام عورتیں نہیں ہیں۔جو شخص عربی کی تھوڑی سی واقفیت رکھتا ہو وہ سورۂ احزاب کے اس رکوع کو پڑھے تو اس کے دل میں کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا کہ یہ یہاں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات ہی ہیں لیکن بڑی عجیب بات ہے کہ آج کل کے مسلمان کا زہن جب بھی اہل بیت کا لفظ سنتا ہے تو اس کا ذہن ازواج مطہرات کے ذکر سے خالی رہتا ہے اور آپﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ اور ان کے شوہرسیدنا علی ﷜ہ اور ان کی اولاد کی طرف ہوجاتا ہے جس کا بڑا سبب مسلمانوں کا قرآن کو چھوڑدینا اور جہالت ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’اہل بیت دو نظریوں کے درمیان‘‘ محمد سالم کی اہل بیت کے متعلق کتاب ’’اہل البیت بین مدرستین‘‘ کا اردو کاترجمہ ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں غلو اور اعتدال کے درمیان اہل بیت کے متعلق صاف و شفاف اور شرعی نقطہ نظر پیش کیا ہے ساتھ ہی ان کے جن حقوق کی ادائیگی ہم پر ضروری ہے اس کو بھی واضح کیا ہے۔ اور غلو کرنے والوں نے اہل بیت کے جس روشن چہرے کو داغدار کیا یا ان کی تعلیمات میں اپنی جانب سے آمیزش کی یا انہیں ان کے اس مقام مرتبہ سے اونچا اٹھایا جو مقام ومرتبہ اللہ رب العالمین نے ان کے لیے پسند کیا اور انہیں عطا کیا۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ان کی صحیح اور پاکیزہ تصویر پیش کی اور ان کے حقیقی مقام ومرتبہ کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فضیلت کا معیار تقویٰ اور نیک اعمال ہیں کسی کا حسب ونسب اللہ تعالیٰ کے نذدیک فضیلت کا معیار نہیں۔ (م۔ا)

  • title-pages-ahle-sunnat-ka-manhaj-e-tamil-copy
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

    اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے بعد ضروری ہے کے اللہ تعالیٰ کے دوستوں کے ساتھ محبت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ عداوت ونفرت قائم کی جائے چنانچہ عقیدہ اسلامیہ جن قواعد پر قائم ہے، اُن میں سے ایک عظیم الشان قاعدہ یہ ہے کے اس پاکیزہ عقیدے کو قبول کرنے والا ہر مسلمان اس عقیدے کے ماننے والوں سے دوستی اور نہ ماننے والوں سے عدوات رکھے۔اسلام میں دوستی اور دشمنی کی بڑی واضح علامات بیان کی گئی ہیں، ان علامات کو پیش نظر رکھ کر ہر شخص اپنے آپ کو تول سکتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام کی دوستی اور دشمنی کے معیار پر پورا اُتر رہا ہے۔ الولاء عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی دوست ،مدگار، حلیف کے ہیں۔ عقیدہ الولاء کی رو سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سےاس کےبعد رسول اکرمﷺ سے اور اس کے بعد تمام اہل ایمان سے محبت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔البراء بھی عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا یا دشمنی کا اظہار کرنایا کسی سے قطع تعلق کرنا ہے ۔عقیدہ البراء کی روہ سے اسلام دشمن کفار سے شدید نفرت اور بیزاری کااظہار کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور موقع ملنے پر ان کے خلاف جہاد کرنا ان کی قوت توڑنا او ران سے ظلم کا بدلہ لینا فرض ہے ۔شریعت ِاسلامیہ میں عقیدہ ’’الولاء والبراء‘‘ بہت اہمیت رکھتاہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کی کوئی ایک سورت بلکہ کوئی ایک صفحہ ایسا نہیں جس میں ’’ الولاء والبراء‘‘ کےبارے میں احکام نہ دئیے گئے ہوں یا کسی نہ کسی طرح ’’ الولاء والبراء‘‘کا تذکرہ نہ کیا گیا ہو۔قرآن مجید کی ابتداء سورۃ الفاتحہ سے ہوتی ہے جس میں صرف سات آیات ہیں لیکن اس میں سورۃ میں بھی ’’ولاء‘‘ اور ’’براء‘‘ کا مضمون بھر پور انداز میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اہل سنت کا منہج تعامل ‘‘ ڈاکٹر سیدشفیق الرحمٰن کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں نہایت ہی احتیاط اوراعتدال کے ساتھ امت کو جوکہ فرقہ پرستی کی آگ کے شعلہ جوالہ میں جل رہی ہے وحدت واتحاد کا جام شریں پیش کیا ہے ۔ اور خلاف شریعت کاموں پر اور نظریات پر جونفرت ہونی چاہیے اسے بھی روشناس کیا ہے۔اور بہت سےعلمی اور فکری فتنوں کا تذکرہ کر کے فکر صحابہ کو ہی صائب اوردرست قرار دیا ہے ۔یہ کتاب عقائد کا مختصر اورنہایت عمدہ مجموعہ ہے ۔یہ کتاب اپنے عام فہم اسلوب کی وجہ سے جہاں علماء وطلباء کے لیے مفید ہے وہاں عوام الناس کے لیے بھی اس پُرفتن دور میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-ahle-sunnat-k-nazdeek-ahle-bait-ka-maqam-w-martuba-copy
    عبد المحسن العباد

    نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کے بارے میں سے صحیح بات یہ ہے کہ اس سےمراد رسول اللہ ﷺکے وہ رشتے دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ان میں آپ کی  ازواج مطہرات اور اولاد اور عبد المطلب کی نسل میں سے ہر مسلمان مرد وعورت جنہیں بنو ہاشم کہا جاتا ہے،شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا﴾ (الاحزاب: 33)(اے(پیغمبر کے) اہلِ بیت اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی(کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے)۔ زیر تبصرہ کتاب " اہل سنت کے نزدیک اہل بیت کا مقام ومرتبہ " سعودی عرب کے معروف عالم دین محترم عبد المحسن بن حمد العباد البدر صاحب  کے اس لیکچر پر مشتمل ہے جو انہوں نے چند سال قبل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں دیا تھا۔اس لیکچر کا اردو ترجمہ شیخ الحدیث حافظ محمد امین صاحب نے کیا ہے۔یہ لیکچر دس ضمنی عنوانات پر مشتمل تھا۔اس لیکچر میں مولف موصوف نے اہل سنت کے ہاں اہل بیت کے مقام ومرتبہ کو بیان فرمایا تھا جس کی اہمیت کے پیش نظر اسے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔اہل بیت کون ہیں؟ اہل سنت والجماعت کا اہل بیت کے متعلق کیا عقیدہ ہے؟ قرآن وسنت میں اہل بیت کے بارے میں کیا فضائل وارد ہوئے ہیں؟ صحابہ کے نزدیک آل بیت کا کیا مقام ومرتبہ تھا ؟وغیرہ جیسے موضوعات کے بارے میں تفصیلى معلومات اس کتاب میں جمع کر دی گئی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-isale-sawab-aur-uski-haqiqat-copy
    عادل سہیل ظفر

    مسلمانوں کی بڑی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ ہم دعا کے ذریعے سے اپنی نیکیوں کا اجر اپنے مرحوم اعزہ کو دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اس تصور کے مطابق ایک شخص یا کچھ لوگ کوئی نیک عمل کرتے ہیں۔ پھر یہ دعا کی جاتی ہے کہ اس نیک عمل کا اجر فلاں مرحوم یا فلاں فلاں مرحوم کو عطا کیا جائے۔ ہمارے ہاں، اس کام کے لیے کچھ رسوم بھی رائج ہیں اور ان میں یہ عمل بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ دور اول ہی سے موضوع بحث ہے۔ چنانچہ اس بات پر توسب متفق ہیں کہ میت کواخروی زندگی میں ہمارے دو طرح کے اعمال سے فائدہ پہنچتاہے۔ایک دعاے مغفرت، دوسرے وہ اعمال خیر جو میت کی نیابت میں کیے جائیں۔نیابت سے مراد یہ ہے کہ مرنے والااس عمل میں کسی نہ کسی نسبت سے شریک ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً یہ کہ مرنے والے نے کوئی کام شروع کیا ہوا تھا اور تکمیل نہیں کر سکا، کوئی نذر مانی ہوئی تھی پوری نہیں کر سکا یا کوئی قرض تھا جسے وہ ادا نہیں کر سکا وغیرہ۔البتہ، اس میں اختلاف ہے کہ مرنے والے کی نسبت کے بغیر عمل کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے یا نہیں۔مراد یہ ہے کہ میت کے اعزہ واقارب اپنے طور پر کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اس عمل کا ثواب فلاں کو دے دیا جائے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ دعا کرنا درست ہے اور کیا یہ دعا قبول بھی ہوتی ہے، یعنی میت کو یہ ثواب واقعی دے دیا جاتا ہے۔ایک گروہ کی راے میں ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے۔ دوسرے گروہ کی راے میں ان کا جواب نفی میں ہے۔اور ہمارے ہاں اسی نفی والے قول پر ہی عمل ہے۔زیر تبصرہ کتاب " ایصال ثواب اور اس کی حقیقت"محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے  ایصال ثواب کے مروجہ طریقوں کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا ہےکہ کونسا طریقہ درست ہے اور کونسا طریقہ درست نہیں ہے۔موصوف نے اگرچہ بعض جگہ ایسا موقف بھی اختیار کیا ہے جو اہل حدیث کے معروف موقف کے خلاف ہے لیکن اسلاف سے اس موقف کی کچھ نہ کچھ تائید مل جاتی ہے ،اور چونکہ وہ موقف اجتہادی ہوتا ہے لہذا  اسے سائٹ پر پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • title-pages-isal-e-sawab-jaiz-aur-najaiz-sortain-copy
    حافظ شبیر صدیق

    عصرحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی اور اایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔
    1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔ زیرتبصرہ رسالہ ’’ایصال ثواب کی جائز وناجائز صورتیں ‘‘ ادارہ دار السلام کے ریسرچ فیلو حافظ شبیر صدیق کی کاوش ہے۔یہ رسالہ پہلے ماہنامہ ’’ضیاء حدیث ‘‘ میں شائع ہوا ۔ بعد ازاں اسے افادۂ عام کی غرض سے مسلم پبلی کیشنز، لاہور کےمدیر جناب مولانانعمان فاروقی ﷾ نے اسے کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔فاضل مصنف نےاس میں رسومات غیرشرعیہ کا جائزہ لے کر ان کا بےثبوت ہونا اور غیروں کی نقالی پر مبنی ہونے کا اثبات کیا ہے اور اس کے ساتھ تصویر کا دوسراپہلو یعنی ایصال ثواب کی جائز صورتوں کی تفصیل بھی بیان کردی ہے تاکہ ناجائز صورتوں کو چھوڑ کر ایصال ثواب کی صرف جائز صورتیں ہی اختیار کی جائیں کیونکہ فوت شدگان کوایصال ثواب جائزہ صورتوں ہی کےذریعے سے ممکن ہے ناجائز صورتیں تو صرف زندوں کی لذت اندوزی کا سامان ہے اور بس مردوں کے نفع اور انکی مغفرت کاان میں کوئی پہلو نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو عوا م الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(م ۔ا)

  • title-pages-iman-aur-akhlaq-copy
    عبد الحمید صدیقی

    تاریخ کے نامعلوم دور سے لیکر آج تک یہ سوالات ہر انسان کے سامنے رہے ہیں کہ یہ کائنات کیا ہے اور کس طرح وجود میں آئی ہے۔بلکہ خود انسان کس طرح پیدا ہوا ہے اور اس کا نجام کیا ہونا چاہئے۔کائنات میں موجود اشیاء کا باہمی رشتہ کیا ہے اور ان اشیاء سے انسان کا تعلق کیا ہے۔نیز اس تعلق کے تقاضے کیا ہیں۔ان گتھیوں کو سلجھانے کے لئے ہر دور کا انسان غور وفکر میں مصروف رہا ہے اور ہر دور نے ان سوالات کے جوابات کے لئے ایک مکمل فلسفہ حیات وضع کیا ہے جس کے نتیجے میں مختلف نظام ہائے زندگی ظہور میں آئے ہیں۔ہمارے موجودہ دور میں بھی زندگی کے مختلف فلسفے اور نظام موجود ہیں اور ان میں اعتقاد رکھنے والے اپنے اپنے مخصوص طرز زندگی کو صحیح اور بہتر ثابت کرنے میں کوشاں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" ایمان اور اخلاق"محترم پروفیسر عبد الحمید صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے کائنات کے نظام کے حوالے سے گفتگو کی ہے اور اس میں ڈارون کی خام خیالیاں، وجودخالق کائنات، اسلام میں خدا کا تصور،خدا اور رسولﷺ کی محبت کے تقاضے، انسان کا مقصد حیات، انسان اور رائج الوقت تہذیبیں،مادی ترقی اور انسان،انسان کا متاع دنیا سے تعلق، صبر وتوکل اور عورت کا مقام جیسے ابواب قائم کئے ہیں۔(راسخ)

  • title-pages-iman-aur-zindagi-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    ایمان بعض غیر مرئی اور نامشہود حقائق کا اقرار وتصدیق ۔ایسا اقرار جو انسان کے رگ وپے میں رچ بس جائے کہ اٹھتے بیٹھتے زبان سے اسی کااظہارہو اور ایسی تصدیق کےاس کے متعلق دل میں ریب وتشکک کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے ۔قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمدﷺ پر نازل فرمایا اس کتاب کے بہت سے مقامات پر اللہ نے کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ایمان اورزندگی ‘‘عالمِ اسلام کے نامور مصنف علامہ یوسف قرضاوی کی عربی تصنیف ’’الایمان والحیٰوۃ‘‘کی تلخیص وترجمہ ہے۔یہ کتاب پہلے ماہنامہ ترجمان القرآن ،لاہور میں قسط وار شائع ہوتی رہی۔ بعدازاں اسے افادۂ عام کےلیے کتابی صورت میں شائع کیاگیا۔علامہ موصوف نے اس کتاب میں ایمان اور حیات ِ انسانی کےمابین گہرے ربط کو واضح کرتے ہوئے اس کےانفرادی واجتماعی دوائر پر ایمان کےاثرات بیان کیے ہیں نیز تفصیل سےبتایا ہے کہ دنیا میں حقیقی سعادت سے ہمکنار ہونے کےلیے دولتِ ایمان کا حصول از بس ضروری ہے۔نیز اس کتاب میں زیادہ تر ان اوصاف کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایمان کے زیر اثرِ انسان میں پیدا ہوتے ہیں۔فاضل مصنف کو چونکہ جدید وقدیم علوم پر خاصی دسترس حاصل ہے۔ اس لیے آپ دوسرے افکارونظریات اورادیان ومذاہب کابھی ساتھ ساتھ جائزہ لیتے گئےہیں۔ او رجگہ جگہ عقیدۂ اسلام کی حقانیت وفوقیت کےاثبات کی بھی کامیاب کوشش کی ہے ۔(م۔ا)

  • iman-aur-amle-salih
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    ایمان نام ہے اس چیز کا کہ زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے، دل کے ساتھ اس کی تصدیق کی جائے اور عمل صالح کا اہتمام کیا جائے۔ یعنی اعمال ایمان کا لازمی حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں ایمان کا تذکرہ کیا ہے وہیں عمل صالح کو بھی لازماً ذکر کیا ہے۔ ایمان اور عمل صالح کے تعلق کی نسبت سے محترم ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی نے قرآن اور حدیث کو بنیاد بناتےہوئے اس کتاب میں اپنی نگارشات پیش کی ہیں۔ انھوں نے توحید کی تینوں کی اقسام توحید الوہیت، توحید ربوبیت اور توحید اسماء و صفات پر روشنی ڈالتے ہوئے کتاب کے چودہ ابواب میں ایمان کے کمزور ہونے کے اسباب، ایمان کے ثمرات، اہل ایمان کی صفات اور اس جیسے  متعدد موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ حسب معمول کتاب کی تحقیق وتخریج اوراضافہ جات کا کام حافظ حامد محمود الخضری نے کیا ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-iman-bil-rasool-aur-uske-taqaze-copy
    غلام سرور چٹھ

    دین اسلام کے بنیادی  عقائد تین ہیں۔اللہ پر ایمان، رسول اللہ ﷺ پر ایمان اور آخرت پر ایمان۔اللہ اور آخرت پر ایمان بھی نبی کریم ﷺ کی وساطت سے ہی ممکن ہوا ہے۔اللہ تعالی کی ذات کیسی ہے؟ اس کی صفات کیا کیا ہیں؟ وہ کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور کن سے ناراض؟اس کو خالق ومالک اور حاکم ورازق مان لینے کے تقاضے کیا ہیں؟آخرت کیوں ہو گی؟ کیسے ہو گی؟ جزا وسزا کے پیمانے کیا ہوں گے؟جزا کے حقداروں کو کیا انعام ملیں گے؟ اور سزا کے مستحقین کو کس انجام سے دوچار ہونا پڑے گا؟ان سب سوالوں کے جواب نبی کریمﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کی تعلیمات ہی سے مل سکتا ہے۔ اسلام اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانے کا نام ہے اور اس ایمان کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ انسان کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبت ہو اللہ کی محبت ایسی محبت کہ اس کے ساتھ کوئی بڑ ے سے بڑ ا انسان بھی اس محبت میں شریک نہیں ہو سکتا۔اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" ایمان بالرسول اور اس کے تقاضے "محترم غلام سرور چٹھہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  نبی کریم ﷺ سے محبت کے تقاضے بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف   کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں  آپﷺ سے محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-iman-bil-ghaib-haqeeqat-aur-aqsam
    حافظ ابتسام الہٰی ظہیر

    قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمدﷺ پر نازل فرمایا اس کتاب کے بہت سے مقامات پر اللہ نے کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔زیر نظرکتاب ''ایمان بالغیب حقیقت اور اقسام'' مشہور معروف شخصیت امام العصر علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید﷫ کے صاحبزادہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر﷾(ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث پاکستان) کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے قرآ ن واحادیث کی روشنی میں ایمان کی اقسام ،ارکان ایمان ،جنات او رجادو کی حقیت ،انبیاء کرام کی دعوت اور مقام ،جہنم میں لے جانے والے اعمال وغیرہ جیسے موضوعا ت کو آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ مؤلف ِکتاب کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور تمام مسلمانوں کو ایمان بالغیب کی حقیقت کوسمجھنے کی توفیق دے اور ہمارے دلوں میں ایمان کو راسخ فرمائے (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-iman-billah-ki-haqiqat
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن
    ’لا الہ الا اللہ‘ کے دو جزء ہیں:ایک میں باطل معبودوں کی نفی ہے اور دوسرے میں صرف اللہ کے معبود ہونے کا اقرار ایمان کے لیے ان دونوں کا فہم اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونا ضروری ہے ورنہ ایمان باللہ کی حقیقت تک نہیں پہنچا جا سکتا۔بہت سے لوگ خدائے معبود ہونے کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن غیر اللہ کا انکار نہیں کرتے جس سے وہ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔زیر نظر کتابچہ میں جناب ڈاکٹر شفیق الرحمان نے واضح کیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے اور غیر اللہ کی نفی سے کیامراد ہے؟آخر میں انہوں نے ان امور پر بھی روشنی ڈالی ہے جو صحیح عقیدہ سے انحراف کا سبب بنتے ہیں ۔ہر مسلمان کو اس کتابچہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ صحیح  معنوں میں اللہ پر ایمان کے مفہوم کو سمجھ سکے اور اس کو عملاً اپنا سکے۔(ط۔ا)

  • pages-from-imaan-ki-dolat
    اشتیاق احمد

    ایمان بعض غیر مرئی اور نامشہود حقائق کا اقرار وتصدیق ۔ایسا اقرار جو انسان کے رگ وپے میں رچ بس جائے کہ اٹھتے بیٹھتے زبان سے اسی کااظہارہو اور ایسی تصدیق کےاس کے متعلق دل میں ریب وتشکک کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے ۔قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمدﷺ پر نازل فرمایا اس کتاب کے بہت سے مقامات پر اللہ نے کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔اور آخر ت میں کامیابی بھی ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’ایمان کی دولت‘‘ جناب اشتیاق احمد صاحب کی کاوش ہے اوردار السلام کی بچوں کےلیے سچی کہانیاں سیریز میں ہے۔ اس میں مرتب موصوف نے نبی کریم ﷺ کے سفر غروۂ تبوک میں سیدنا علی بن طالب اور سید نا زبیر بن عوام ﷢ نے ایک بڑھیا عورت کو روک کر آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے اس بڑھیا عورت کے پاس موجو د پانی کے مشکیزے میں سے اپنے صحابہ کرام ﷢ کو پانی لینے کاحکم دیا تو صحابہ کرام نے جی بھر کر پانی پیا اور اپنےتمام برتن بھی بھر لیے اور اپنے جانوروں کوبھی پانی پلایا لیکن ان مشکیزوں سے پانی کم نہ ہوا۔آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اب اس کےلیے کھانے کی چیزیں جمع کرو تمام صحابہ کرام نے ایک چادر میں کھانے کی اشیاء جمع کردی تو آپ ﷺ نے اس بڑھیا عورت سے کہا دیکھ لیں آپ کے مشکیزوں سے پانی بھی کم نہیں ہوا اور یہ چیزیں ہم آپ کو یہاں روکنے کے عوض دے رہے ہیں تو وہ عورت بہت متاثر ہوئی اور اپنی بستی کی طرف روانہ ہوگئی۔ جاکر بستی والوں کو سارا ماجرا سنایا پھر اپنی بستی کے کچھ لوگوں کو ساتھ لےکر مدینہ منورہ آئی اور اپنے ساتھیوں سمعیت مسلمان ہوگئی۔کتابچہ ہذا میں مرتب نے اس سارے واقعہ کو ایک دلچسپ اور خوبصورت کہانی کے انداز میں بچوں کے لیے پیش کیا ہے۔مکتبہ دار السلام نے اسے بڑے عمدہ طریقے سے طبع کیا ہے۔ دار السلام کی بچوں کے لیے یہ منفرد کاوش ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بازاری فضول کہانیاں، اخلاق سے گرے ہوئے ڈائجسٹ او رناولوں کی بجائے ان سچی کہانیوں کو پڑھنے کی ترغیب دیں۔ (م۔ا)

  • title-page-emaan-k-bunyadi-usool-copy
    محمد بن صالح العثیمین
    علم توحید تمام علوم سے افضلیت اور شرف والا علم ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالی کی عظیم صفات اور بندوں پر اللہ کے حقوق کا علم ہوتا ہے-اسی لیے جب ہم انبیائے کرام کی زندگیوں پر نظر دوڑائیں تو ہر نبی کی پہلی دعوت عقیدہ توحید کی درستگی کی ہی  طرف دعوت ہے-یہ کتاب محمد بن صالح العثیمین کی عربی تصنیف تھی جس کو مشتاق احمد کریمی نے اردو قالب میں انتہائی سلیس اور عام فہم انداز میں ڈھالا ہے-مصنف نے اس کتاب میں عقیدے سے متعلقہ بنیادی بحثوں کو بہت ہی اعلی اور شاندار انداز سے بیان فرمایا ہے-جس میں اللہ تعالی پر ایمان،رسل اور ملائکہ پر ایمان ،یوم آخرت اور تقدیر کے خیر وشر پر ایمان کو انتہائی دلنشین انداز سے واضح کیا ہے اس لیے یہ کتاب علماء کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے لیے بھی انتہائی شاندار تحفہ ہے۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1730 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں