• Title Page---Allah Aur Insan
    حافظ مبشر حسین لاہوری
    مصنف نے اس کتاب میں معاشرتی برائیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہر کی قباحت اور شرعی حکم کو بیا ن کیا ہے- ان معاشرتی بداخلاقیوں اور کبیرہ گناہوں کو مختلف ابواب کے تحت بیا ن کیا ہے-مصنف نے کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے سات مختلف ابواب میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہر باب کو مختلف فصول میں تقسیم کیا ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں جن موضوعات کا احاطہ کیا ہے وہ اجمالا درج ذیل ہیں:حیا کی فضیلت و اہمیت،شرک و تکبیر سے اجتناب،زبان کی حفاظت،جھوٹ وغیبت سے اجتناب اور نقصانات،گالی گلوچ سے اجتناب،پردے کا احکام،حرام مال سے اجتناب،حرام مال کے مختلف ذرائع،مدارس کے مال اور مختلف خیراتی اداروں کے مال کو خرچ کرنے میں احتیاط کو مدنظر رکھنا،دنیا کی محبت ،مال کی محبت اور بخل سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت واہمیت،سخاوت اور مہمان نوازی کی اہمیت وفضیلت،بغض وعداوت سے بچتے ہوئے تزکیہ نفس کی ضرورت واہمیت کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس چیز پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کو ہروقت اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے-اس کے علاوہ بے شمار شاندار موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے-

  • title-pages-allahu-akbar-copy
    وحید الدین خاں

    خدا کو پا لینا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے۔کوئی انسان جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لئے ایک ایسی زلزلہ خیز دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے۔وہ ایک نیا انسان بن  جاتا ہے۔اس کی سوچ نئے رخ پر چلنے لگتی ہے۔اس کا عمل کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔اس کی تمام کاروائیاں ایک ایسے انسان کی کاروائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا کو دیکھ لے، جو قیامت کی ترازو کھڑی ہونے سے پہلے اپنے آپ کو قیامت کی ترازو پر کھڑا محسوس کرنے لگے۔مومن اور غیر مومن کا فرق یہ ہے کہ غیر مومن پر جو کچھ قیامت میں گزرنے والا ہے، وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔غیر مومن جو کچھ آخرت میں دیکھے گا، وہ مومن اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔غیر مومن  کل کے دن جو کچھ مجبور ہو کر مانے گا اس کو مومن بندہ آج کے دن کسی مجبوری کے بغیر مان لیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اللہ اکبر، خدا کی خدائی کا نغمہ، خدا کی عظمت کا بیان"محترم مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں اللہ تعالی کی ذات کا تعارف قلم بند فرمایا ہے تاکہ انسان اللہ کی معرفت حاصل کر کے اس کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کر سکے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں

    اللہ کہاں ہے؟ یہ ایک محض ایک سوال ہی نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالیٰ  کی ذات مبارک سے متعلق ہے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہیں،لیکن اﷲ تعالیٰ کے عرش پر مستو ی ہو نے کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے جس طرح اﷲتعالیٰ کی شان کے لا ئق ہے اسی طرح وہ عرش پر مستوی ہے ہماری عقلیں اْس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ہرجگہ موجود ہے کیونکہ وہ مکان سے پاک اور مبرا ہے البتہ اْس کا علمِ اور اس کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے، اْس کی معیت ہر کسی کو حا صل ہے جس کی وضاحت کتب عقائد میں موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟‘‘ جمعیت اہل حدیث سندھ کے ایک اسکالر ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں ﷾ کی کاوش ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کہاں ہے کے عقیدے کو واضح کیا ہے اور سلف صالحین ائمہ محدثین﷭ کا موقف بھی بڑے واشگاف الفاظ میں باحوالہ بیان کردیا ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں معلومات کاگنجینہ اور براہین کاخزینہ ہے ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور ہمیں عقیدہ صحیحہ پر قائم دائم رکھے ۔(آمین) (م۔ا)

  • allah-kahaan-hai
    پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری

    دنیا جہان میں مختلف ذہنیتوں کے اعتبار سے اختلاف کا ہونا ایک فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سارے مسالک و مذاہب پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر ہے اور اس کے مخالفین راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق ایسا گروہ حق پر ہے جس کا عمل نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کے عین مطابق ہے۔ دنیا جہان میں کچھ ایسے بھی فرقے پائے جاتے ہیں جو اللہ رب العزت کی صفات میں افراط و تفریط کا شکار ہونے کی وجہ سے راہ اعتدال سے دور ہو گئے۔ ان میں سے معتزلہ، جہمیہ، اشاعرہ، ماتریدیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں، یہ فرقے اللہ تعالیٰ کا استوا علی العرش، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ،پنڈلی، نزول آسمانِ اول اور وہ تمام صفات الٰہی جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں ان میں تلاویلات و تحریفات اور تعطیلات کے قائل ہیں۔ جبکہ فرقہ ناجیہ طائفہ منصورہ اہل سنت و الجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ تمام صفات برحق ہیں اور ان پر ہمارا مکمل ایمان و ایقان ہے۔ ہم بغیر کسی تاویل، تعطیل، تکییف، تشبیہ کے ان پر ایمان لاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب "اللہ تعالیٰ کہاں ہیں" حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوریؒ کا خطبہ جمعہ ہے جسے معروف محقق اعجاز احمد تنویر حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔ مولانا بہاولپوریؒ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا ان کا انداز بیاں سادہ اور قرآن و سنت کے دلائل کے بعد ایسی عقلی توجیہات، سادہ مثالوں سے بات سمجھاتے کہ مخالف کے دل میں اتر جاتی۔ مولانا بہاولپوریؒ نے اپنے اس خطبہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کا استوا علی العرش ہونا، معجزہ کیا ہے، تقلید اور اتباع میں فرق اور دیگر اہم موضوعات پر قرآن و سنت سے دلائل دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کہ میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • title-page-allah-say-jang
    سلیم رؤف

    یہ چھوٹا سا کتابچہ محترم سلیم رؤف صاحب کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل زیر تبصرہ کتابچہ کا موضوع سود کی لعنت اور اس کی وجہ سے ہونے والا دنیوی و اخروی عذاب ہے۔ دردمندانہ انداز میں لکھی گئی ایک خوبصورت اصلاحی تحریر ہے۔

     

  • allah-azzawjal-ki-pehchan
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    دین اسلام دین توحید ہے اور توحید کی اصل معرفت باری تعالیٰ ہے۔ ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے محسن ومنعم اور خالق ومالک کے بارے زیادہ سے زیادہ معلومات اور تعارف حاصل کرے۔ زیر تبصرہ کتاب کا اصل مقصود بھی یہی ہے۔ اس کتاب میں معرفت حق سبحانہ وتعالیٰ کے بارے کتاب وسنت کی نصوص کو حسن ترتیب سے جمع کر دیا گیا ہے۔ یہ کتاب ہمیں اپنے خالق ومالک حقیقی کے بارے ایسی مستند معلومات فراہم کرتی ہے کہ جس سے قلوب انسانی میں اپنے رب کی محبت اور اس کے لیے شکرگزاری کے جذبات نہ صرف پیدا ہوتے ہیں بلکہ بڑھ بھی جاتے ہیں۔
    یہ کتاب توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء وصفات کی ابحاث کو سمیٹے ہوئے ایک عام مسلمان کے لیے اس کے رب کی حقیقی معرفت کو نہایت آسان فہم انداز میں ممکن بناتی ہے۔ کتاب کا بنیادی موضوع معرفت خداوندباری تعالیٰ ہے اور اس موضوع پر یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اپنے عاجز بندوں کی اس حقیر کوشش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین!(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں



  • title-pages-allah-kahan-he
    عادل سہیل ظفر
    اللہ کہاں ہے؟ کتاب کا مذکورہ بالا عنوان محض ایک سوال نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالی  کی ذات مبارک سے متعلق ہے،دیگر بہت سے عقائد  کی  طرح اس عقیدے میں بھی ایسی بات کو اپنایا جاچکا ہے اور اس کی تشہیر و ترویج کی جاتی ہے جو بات قرآن کریم ، رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین، تبع تابعین اور امت کے آئمہ رحمہم اللہ اجمعین  کی تعلیمات کے خلاف ہے۔اس کتاب میں اسی غلطی کو واضح کیا گیا ہے۔وللہ الحمد۔(ک۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-allah-ki-qasam-jashne-eid-melad-al-nabi-quran-w-hadith-se-sabit-nahi-copy
    محمد طیب محمدی

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺکی اطاعت عقائد ،عبادات ،معاملات ، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت ِنبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کوچھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات میں ڈوب جائیں گے اور سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے ۔متازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔ زیر نظر کتاب’’اللہ کی قسم جشن عیلاد نبی قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ‘‘ محدث العصر مجتہد وفقیہ مولانا عبد المنان نورپوری ﷫ کےتلمیذ رشید مولاناطیب محمدی ﷾ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے عید میلاد کی تاریخ ،اس کی شرعی حیثیت ،عیدِ میلاد منانے والوں کے دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ عہد نبوی ،عہد صحابہ اوربعدکے ادوار میں اس مروجہ جشن میلا النبی ﷺ کو ئی ثبوت نہیں ملتا او راس کو منانا بدعت ہے ۔مصنف موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی متعدد کتب کے مصنف ہیں ۔مولانا عبدالمنان نوری پوری ﷫ کی حیات وخدمات پر مشتمل کتاب کےمرتب بھی آپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی حسنہ کو شرف قبولیت بخشے اور اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-allah-ki-nashaaniyaan
    ہارون یحییٰ

    الحاد، لادینیت اور انکار خدا اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس کی بنیاد اہل سائنس نے مغرب میں رکھ دی ہے۔ ہارون یحی جمہوریہ ترکی کے ایک نامور قلم کار ہیں اور وہ اپنی تحریروں میں جدید مادہ پرستانہ افکار اور نظریات کا شدت سے رد کرتے ہیں۔ ہارون یحی کے خیال میں سائنس اور یہودیوں کی فری میسنز تحریکوں نے انکار خدا کے نکتہ نظر کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہارون یحی کے بقول مادہ پرستوں کے پاس اس کائنات کی تخلیق کی واحد بھونڈی دلیل ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے جس کے حق میں وہ بغیر سوچے سمجھے دلائل دیتے چلے جاتے ہیں اور اس نظریہ کے دفاع کے لیے کٹ مرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں دو نظریات کو بہت پذیرائی ملی ایک ڈارون کا نظریہ اور دوسرا بگ بینگ تھیوی۔ یہ دونوں نظریات اس دوسرے کے مخالف ہیں۔ ڈارون کی تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے بلکہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور اپنی شکلیں تبدیل کرتا رہا ہے یعنی مادہ نے ارتقاء کے مختلف مراحل طے کر کے اس کائنات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ا س تھیوری کے مطابق مادہ دائمی ہے، ازل سے ہے اور مستقل حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس سائنس دنیا میں ایک جدید تھیوری بگ بینگ کے نام سے پیش کی گئی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کائنات اور مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور ایک وقت میں یہ کائنات اور مخلوقات یک دم بغیر کسی ارتقاء سے گزرے ہوئے وجود میں آ ئے ہیں۔ بگ بینگ کی تھیوری کو ماننے کا لازمی نتیجہ ایک خالق کو ماننا نکلتا ہے۔ اپنی اس کتاب میں ہارون یحی نے بگ بینگ کی تھیوی کی وکالت کی ہے اوراسے سائنس اور قرآن سے صحیح ثابت کیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ہارون یحی، اہل سائنس کی طرح محض بگ بینگ ہی کو نہیں مانتے بلکہ وہ اسے ایک منظم اور بامقصد دھماکہ قرار دیتے ہیں جس سے ایک منظم اوربامقصد کائنات پیدا کی گئی ہے جس کا نظم اور مقصدیت اس کے خالق کے وجود اور وحدہ لاشریک ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

  • title-pages-allah-k-dushman
    مائل خیرآبادی
    زیر نظر کتاب ’اللہ کے دشمن‘ بچوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ بچوں کے لیے عام طور پر معاشرے میں غیر اخلاقی کہانیاں اور لطیفے وغیرہ مروج ہیں جو بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے نثر اور نظم میں کہانیاں مرتب کیں۔ ادارہ دار الابلاغ نے ان سچی کہانیوں کو ’اللہ کے دشمن‘ کے عنوان سے یکجا کر کے شائع کیا ہے۔ ان کہانیوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سچے واقعات پر مشتمل ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسی کتب پڑھنے کے لیے دیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-allah-k-siwa-koi-ghaib-ni-janta
    عبد الہادی عبد الخالق مدنی
    غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ نہ فرشتے غیب جانتے ہیں، نہ جنات اور نہ ہی انسان غیب جانتے ہیں۔ انسانوں میں اللہ کے محبوب بندے انبیا اور اولیا بھی غیب نہیں جانتے۔ نبیوں کے سردار محمد رسول اللہﷺ بھی غیب نہیں جانتے تھے۔ یہ وہ مبرہن حقائق ہیں جو کتاب و سنت کے صفحات میں بے شمار دلائل کے ساتھ دوپہر کے سورج کی طرح عیاں اور روشن ہیں۔ لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اس قدر واضح دلائل کے باوجود علم غیب کو اللہ کے علاوہ بہت سے لوگوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ 31 صفحات پر مشتمل زیر نظر کتابچہ میں مولانا عبدالہادی عبدالخالق مدنی نے قرآن و سنت کے محکم دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ علم غیب فقط اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف اس کی نسبت کرنا گمراہی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-jannat-copy
    امام شمس الدین محمد بن ابی بکر بن القیم الجوزیہ

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمہارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر تبصرہ کتاب’’اللہ کے محبوب بندوں کی آخری جنت ترجمہ حادی الارواح ‘‘ملت اسلامیہ کے عظیم مصلح ومحدث ،مجتہد امام ابن قیم الجوزیہ﷫ کی کتاب ’’ مختصرحادی الارواح الی بلاد الافراح ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں امام موصوف نے تفصیل کےساتھ جنت کی چابی ، جنت کی وسعت ، اس کی تعداد ، اہل جنت کے اوصاف ، وہاں کےعیش وآرام، جنت کی خوش نصیب خواتین، جنت کے بیش بہا محلات ، حوریں ، خدام ، جنت کے بازار،اللہ تعالیٰ کادیدار، اللہ تعالیٰ کےعرش وکرسی کا ذکر وغیرہ کا ایسا تفصیلی ذکر کیا ہے کہ جس کوپڑھ کر جنت کی ایک ایسی تصویر ذہن میں آتی ہے جسے اللہ اور اس کے رسولﷺ نےذکر فرمایا ہے ۔ ورنہ جنت تو حقیقت میں ہمارے وہم وخیال سے بالاتر ہے ۔نیز اس کتاب میں ان خوش نصیب مومنوں کا بھی ذکر ہے جن کےلیے بطور انعام جنت بنائی اور سنواری گئی ہے اور ان اعمال کابھی تفصیل کےساتھ ذکر کیاگیا ہے جن کی وجہ سے یہ جنت ان عاملین اور محبین کےلیے مخصوص کی گئی ہے کہ جنہیں قرآن مجید نے انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کہہ کر پکارا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کتاب ، مترجم وناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م ۔ا)

  • عبد الہادی عبد الخالق مدنی
    واقعہ معراج نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ کا ایک منفرد، ممتاز اور عظیم الشان واقعہ ہے۔ وہ ایک طرف رب ذوالجلال کی قدرت کاملہ کا ظہور، الہٰی معجزہ، صداقت نبوت کی آیت اور نشانی ہے تو دوسری طرف اپنے اندر بے شمار عبرت و موعظت اور درس و نصائح کے خزانے سے معمور اور عقیدہ و عمل کے بیش بہا موتیوں سے مالا مال ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں اردو زبان میں یکجا کتابی شکل میں مواد بہت کم موجود ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے واقعات کی صحت و ضعف کی تحقیق میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ اسی کے پیش نظر مولانا عبدالہادی عبدالخالق مدنی نے کمر ہمت باندھی اور اس موضوع پر زیر تبصرہ کتابچہ مرتب کیا۔ مولانا نے صرف صحیح و مستند روایات نیز مقبول و معتبر احادیث و آثار کو جگہ دی ہے ۔ اس سلسلہ میں محدث عصر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی کتاب ’الاسراء والمعراج‘ سے استفادہ کیا گیا ہے نیز مسائل و فوائد کے استنباط میں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی تالیف فتح الباری شرح صحیح بخاری سے زیادہ تر فائدہ اٹھایا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-alma-turedia-copy
    للشمس السلفی الافغانی

    الحمد لله والصلاة والسلام علىٰ رسول الله ﷺأما بعد: فإن كتاب"الماتريدية وموقفهم من الأسماء والصفات اللّهية " للشيخ شمس الدين السلفي الأفغاني رحمه الله من أهمّ الكتب المصنفة في فهم عقيدة السلف الصّالح وردّ شبهات الزائغين عنها ولكن مع الأسف أن الطبعة الأولىٰ من هذا الكتاب التي نشرته مكتبة الصديق بالطائف عام1431هـ-1993ء كانت مليئة بالأخطاء المطبعية حتىٰ بلغت أخطائها قريبا من 450 خطأ فربما يصعب على القارئ فهم مراد المؤلف في بعض المواضع وبعد مدة طويلة قد طبع الكتاب بعد إصلاح أخطائه و تصحيحها فعلىٰ قارئيه و المستفيدين منه و المحبين لعقيدة السلف أن يختاروا هذه الطبعة الجديدة لأنها طبعة جيدة خالية صافية عن الأخطاء فليسهل عليهم فهم المراد من الكتاب - (إن شاء الله تعالىٰ) علما أنه يوجد هذا الكتاب على انترنت من قبل الذي طبع من المكتبة المذكورة مليئة بالأخطاء المطبعية- فلفت أنظارنا الشيخ أبو سيف جميل (أستاد الحديث والفقه في جامعة الدعوة الإسلامية، باكستان خريج من الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة) إلى الطبعة المصححة وأرسلها إلينا فصورناها ونقدمها على انترنت لیستفد الناس من طبعة جديدة خالية عن الأخطاء

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-alma-turedia-copy
    للشمس السلفی الافغانی

    الحمد لله والصلاة والسلام علىٰ رسول الله ﷺأما بعد: فإن كتاب"الماتريدية وموقفهم من الأسماء والصفات اللّهية " للشيخ شمس الدين السلفي الأفغاني رحمه الله من أهمّ الكتب المصنفة في فهم عقيدة السلف الصّالح وردّ شبهات الزائغين عنها ولكن مع الأسف أن الطبعة الأولىٰ من هذا الكتاب التي نشرته مكتبة الصديق بالطائف عام1431هـ-1993ء كانت مليئة بالأخطاء المطبعية حتىٰ بلغت أخطائها قريبا من 450 خطأ فربما يصعب على القارئ فهم مراد المؤلف في بعض المواضع وبعد مدة طويلة قد طبع الكتاب بعد إصلاح أخطائه و تصحيحها فعلىٰ قارئيه و المستفيدين منه و المحبين لعقيدة السلف أن يختاروا هذه الطبعة الجديدة لأنها طبعة جيدة خالية صافية عن الأخطاء فليسهل عليهم فهم المراد من الكتاب - (إن شاء الله تعالىٰ) علما أنه يوجد هذا الكتاب على انترنت من قبل الذي طبع من المكتبة المذكورة مليئة بالأخطاء المطبعية- فلفت أنظارنا الشيخ أبو سيف جميل (أستاد الحديث والفقه في جامعة الدعوة الإسلامية، باكستان خريج من الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة) إلى الطبعة المصححة وأرسلها إلينا فصورناها ونقدمها على انترنت لیستفد الناس من طبعة جديدة خالية عن الأخطاء

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-alma-turedia-copy
    للشمس السلفی الافغانی

    الحمد لله والصلاة والسلام علىٰ رسول الله ﷺأما بعد: فإن كتاب"الماتريدية وموقفهم من الأسماء والصفات اللّهية " للشيخ شمس الدين السلفي الأفغاني رحمه الله من أهمّ الكتب المصنفة في فهم عقيدة السلف الصّالح وردّ شبهات الزائغين عنها ولكن مع الأسف أن الطبعة الأولىٰ من هذا الكتاب التي نشرته مكتبة الصديق بالطائف عام1431هـ-1993ء كانت مليئة بالأخطاء المطبعية حتىٰ بلغت أخطائها قريبا من 450 خطأ فربما يصعب على القارئ فهم مراد المؤلف في بعض المواضع وبعد مدة طويلة قد طبع الكتاب بعد إصلاح أخطائه و تصحيحها فعلىٰ قارئيه و المستفيدين منه و المحبين لعقيدة السلف أن يختاروا هذه الطبعة الجديدة لأنها طبعة جيدة خالية صافية عن الأخطاء فليسهل عليهم فهم المراد من الكتاب - (إن شاء الله تعالىٰ) علما أنه يوجد هذا الكتاب على انترنت من قبل الذي طبع من المكتبة المذكورة مليئة بالأخطاء المطبعية- فلفت أنظارنا الشيخ أبو سيف جميل (أستاد الحديث والفقه في جامعة الدعوة الإسلامية، باكستان خريج من الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة) إلى الطبعة المصححة وأرسلها إلينا فصورناها ونقدمها على انترنت لیستفد الناس من طبعة جديدة خالية عن الأخطاء

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-al-musnad-fi-azaab-e-al-qabar
    محمد ارشد کمال
    روح اور بدن کی جدائی کا نام  موت ہے۔ موت  عالم دنیا سے عالم آخرت میں داخلے کا ذریعہ ہے،جہاں سے انسان کی ابدی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ عالم آخرت کے دو مرحلے ہیں ایک عالم برزخ ،یعنی موت سے لے کر حساب وکتاب کےلیے دوبارہ اٹھائےجانے تک، اور دوسرا مرحلہ دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد یعنی عالم حشر سے شروع  ہوگا۔ عالم برزخ میں ملنے والی سزا کو عذاب قبر کہا جاتا ہے۔ عقیدہ عذاب قبر اس قدر اہم ہے کہ اس  پر بڑے بڑے محدثین اور آئمہ کرام رحمہم اللہ اجمعین نے باقاعدہ کتب تالیف فرمائی ہیں۔ جیسا کہ امام بیہقی  نے ’’ اثبات عذاب قبر‘‘ امام ابن ابی الدنیا نے ’’کتاب القبول اور کتاب الاہوال‘‘ امام قرطبی نے ’’التذکرہ‘‘ امام ابن رجب نے ’’اھوال القبور ‘‘ امام ابن قیم نے ’’ کتاب الروح‘‘ اورامام  جلال الدین سیوطی نے ’’ شرح الصدور‘‘ جیسی گراں قدر کتب تالیف فرمائیں۔ مگر عقلی گمراہیوں  میں مستغرق بعض  بے دین حضرات نے محض اس وجہ سے عذاب قبر کا انکارکردیا کہ یہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے،  اور ہماری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی ہے۔ ان کی یہ بات انتہائی جاہلانہ اور احمقانہ  ہے،  کیونکہ اس کائنات میں کتنی ہی ایسی اشیاء ہیں، جن کا وجود مسلم ہے، لیکن ہمیں وہ نظر نہیں آتی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’ المسند فی عذاب القبر ‘‘ فاضل مؤلف محمد ارشد کمال  کاوش ہے۔اس میں انہوں نے  عذاب قبر کے اثبات پر ڈیڑھ سو کے قریب صحیح وصریح  مرفوع وموقوف احادیث جمع کر دی ہیں،اورعذاب قبر کےحوالے سے  پیدا ہونے والے بعض اہم مسائل پر  تسلی بخش اور مدلل بحث کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(ک،ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-al-wasiyyat-ul-sughra
    امام احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ علیہ الرحمۃ کی تجدیدی اوراصلاحی خدمات قیامت تک امت اسلامیہ پراحسان رہیں گی،اوران کی علمی ،اصلاحی اورتجدیدی یادگاریں رہتی دنیاتک عوام وخواص کے لیے مشعل راہ بنی رہیں گی۔زیرنظررسالہ الوصیۃ الصغریٰ جودراصل حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی  مکمل تشریح ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تقوی ،حسن خلق ،اخلاص ،توکل ،توبہ ،استغفار،تفقہ فی الدین اورمداومت ذکرکی تاکیدفرمائی تھی ۔یہ وصیت اتنی جامع اورمکمل ہے کہ ہرمسلمان کواسے اپنی زندگی کادستورالعمل بنایاچاہیے کہ اسی میں امت کی فلاح اوردین ودنیا کی سعادت کارازمضمرہے ۔رب کریم ہمیں ان قیمتی نصائخ کواپنانے کی توفیق عنائیت فرمائے تاکہ ہم اپناکھویاہوا وقارپھرسے حاصل کرسکیں۔آمین

     

     

  • title-pages-al-wasiatu-al-kubra-copy
    امام احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’الوصیۃ الکبریٰ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کا تحریر شدہ ہے ۔اس میں انہوں نے فرقۂ ناجیہ اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد کی تحقیق پیش کی ہے ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ نے ابو البرکات عدبن مسافر اموی  کےپیروکاروں کی اصلاح کےلیے لکھی تھی ۔اصل کتاب میں عناوین کی تقسیم نہیں تھے لیکن مترجم نے قارئین کی سہولت اورتفہیم کےلیے سو عناوین قائم کرکے کتاب کو عام فہم بنادیا ہے ۔اس کتاب کو حافظ محمدشریف عبد الغنی ﷫ نے تقریبا 90سال قبل ترجمہ کروا کر شائع کیا۔(م۔ا)

  • title-pages-al-wazahat-bil-quran-fi-aqeda-al-touheed-w-al-risala-copy
    محمد یوسف

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" الوضاحت بالقرآن فی عقیدۃ التوحید والرسالۃ "محترم محمد یوسف صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے  توحید پر مبنی آیات کو خوبصورت عنوانات دیتے ہوئے اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو عقیدہ توحید اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ilahul-alameen-aur-insan-copy
    ڈاکٹر نجم الدین

    اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ’’ انی جائل في الأرض خليفة‘‘ کےاعلان کے مطابق انسان کو زمین پر شرف ومقام دے کر ؍ اپنا خلیفہ بناکر بھیجا ہے۔ اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ وہ اپنا قانون ،نظام ، آئین بناکر اپنی من مانی کی زندگی گزارے ۔ بلکہ اللہ احکم الحاکمین کے قانون ، دین، قرآن کےمطابق حاکمیت الٰہی ؍ خلافت قائم کرے یہی انسان کا مقصد زندگی یا مقصد تخلیق ہے ۔محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ نے بتلایا کہ انسانیت کی تباہی کا باعث اللہ احکم الحاکمین کےدین؍ قانون؍ قرآن؍ احکامات کی خلاف ورزی اور انکار ہے اور مقصد تخلیق اور زندگی کوبھول جانے کی وجہ ہے اور باطل نظام زندگی کو اختیارکر نےکی وجہ سے انسانیت ذلت ورسوائی کے گڑھوں میں گرچکی ہے ۔نبی کریم ﷺ کا انسانیت کو لا الہ الا اللہ کا نعرہ دینے کا مقد ومدعا ہی یہ تھاکہ اللہ تعالیٰ کےعلاوہ کوئی الہ نہیں یعنی کسی غیر اللہ کی عبادت نہیں کی جاسکتی دو سرے الفاظ میں اللہ رب العزت کے بغیر کسی دوسرے انسان ساختہ قانون ؍ نظام ؍ آئین میں زندگی نہیں گزاری جاسکتی دنیا کی زندگی میں دین؍ نظام ؍قانون صر ف اور صرف اللہ رب العزت ہی کا چلے گا۔یہی انسان کی عبادت ،ڈیوٹی اور فرض ہے جواللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانیت کے وقت ہی انسان کو ’’ الست بربکم ‘‘ کی صورت میں بتلادیا تھا ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ الہ العالمین اور انسان ‘‘ ڈاکٹر نجم الدین کی تصنیف ہے اس کتاب کو انہوں نے 13 ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے باب اول میں قرآن کا موضوع ،دوسرے باب میں کائنات،تیسرے باب میں انسان کا مقصد تخلیق، باب چہارم میں خلافت ہی عبادت ، باب پنجم میں مقصد تخلیق کو ادا کرنے کےلیے انسان کی فضیلت اور انعامات الٰہی ، چھٹےباب میں صراط مستقیم، ساتویں باب میں انسانیت کا دین،آٹھویں باب میں اسلام ہی انسانیت کا دین کیوں؟،باب نہم میں محسن انسانیت کا مقصد بعثت ، باب دہم میں اقامت دین؍ قیام خلافت کاطریقہ کار کو بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-umm-ul-kitab-mein-allah-ka-taaruf
    محمد ابو الخیر اسدی

    ہم مختلف لوگوں سے سنتے ہيں جو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان کی اپنی عقل وسمجھ کے مطابق کرتے ہيں، اور بعض مسلمان انہی نظريات اور افکار سے متاثر ہو جاتے ہيں۔ اللہ تعالی کے تعارف کو سمجھنے اور اس کے متعلق علم حاصل کرنے کا سب سے بہترين ذريعہ خود اللہ رب العالمين، قران مجيد اور رسول اللہﷺ کا اللہ تعالیٰ کے متعلق تعارف کروانا ہے، جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے فہم کے مطابق سمجھنا چاہيے۔ اللہ تعالیٰ جو اس کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے قرآن کو نازل فرمايا تاکہ ہم اپنی زندگی کو بامعنیٰ بنائيں اور آخرت ميں کامياب ہوں، اگر ہم قران مجيد پر کھلے دل اور دماغ سے غور کريں گے تو ہميں اللہ تعالیٰ کا حقيقی تعارف حاصل ہو سکے گا جس کے ذريعہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق کو سمجھ سکیں گے اور اس کی خالص بندگی کرنے ميں ہميں مدد ملےگی جيسے کے اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ لفظ ’’ اللہ ‘‘يہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، جو صرف اللہ ہی کے ليے خاص ہے کوئی اور ذات اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ لفظ "اللہ" کا معنی يہ ہے کہ "وہ اوصاف کاملہ اور صفات جامعہ کى مالک ذات جو ساری مخلوق کی عبادت کى اکىلى حقدار اور مستحق ہے"۔ اللہ تعالی کا يہ نام قرآن کريم میں سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے تمام افعال میں یکتا اور اکیلا ہے اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق، مالک اور مدبر ہےاور ساری کائنات کا نظام وہی چلا رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب(پالنے والا) ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ناموں اور صفات میں اکیلا ،منفرد اور جداہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے ’’اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔ (الأعراف: 180) اللہ تعالیٰ کاصحیح تعارف حاصل کرنے کابہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید، احادیث صحیحہ اور آسمان وزمین موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ام الکتاب میں اللہ کا تعارف‘‘علامہ ابو الخیر اسدی﷫ کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کاتعارف پیش کیا ہے۔ کیونکہ اس سورت میں معرفت الٰہیہ، رسالت، آخرت کواجمال کے طورپر بیان کیاگیا ہے۔ باقی سارے قرآن میں ان تینوں اصولوں کی تفصیل کے ساتھ تشریح کی گئی ہے۔ (م۔ا)

  • title-ummat-aur-shirak-ka-khatra
    ابوالاسجد محمد صدیق رضا
    انبیاء و رسل کی بعثت کے مقاصد میں سے عظیم ترین مقصد عقیدہ توحید کی شمع کو روشن کرنا تھا اور اللہ کے بندوں کو شرک کی اندھیر نگری سے نکالنا تھا۔ چنانچہ انبیاء و رسل کے ذھبی سلسلہ کی ابتداء حضرت آدم اور انتہا سرور دو عالم حضرت محمدؐ ہیں۔ آپؐ نے جہاں عقیدہ توحید کو واضح کیا وہاں شرک کی تردید کے لئے بھی سعی مسلسل برقرار رکھی۔ رسول کریم ﷺ نے جو پیشین گوئیاں فرمائی ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی وحی میں شامل ہیں۔ ان پیشین گوئیوں میں سے ایک بڑی پیشین گوئی یہ بھی ہے کہ امت مسلمہ میں سے بعض لوگ مشرکین کے ساتھ مل جائیں گے اور اوثان (بتوں، قبروں وغیرہ) کی عبادت کریں گے۔ اس کے برعکس عصر حاضر میں بعض اہل بدعت نے عجیب و غریب بلکہ کتاب و سنت کے منافی دعویٰ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امت مسلمہ میں شرک کبھی نہیں ہو گا۔ زیر نظر کتاب میں کتاب و سنت کی روشنی میں مذکورہ مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ (م۔آ۔ہ)

  • title-pages-ummat-e-muslima-ki-umar-copy
    امین محمد جمال الدین

    کتاب وسنت میں یہ امر پوری  طرح واضح کر دیاگیا ہے کہ دنیا کی یہ موجودہ زندگی عارضی اور فانی ہے۔ اصل اور حقیقی زندگی آخرت کی ہے،لہذا ہمیں  اس کی فکر کرنی چاہیے۔نبی کریم ﷺ نے  اس دنیا کے خاتمے یعنی قیامت برپا ہونے  کی متعدد چھوٹی اور بڑی نشانیاں  اور علامات بتلائی ہیں۔ علامات قیامت سے مراد قیامت کی  وہ نشانیاں ہیں جن کا ظہور قیامت سے قبل ہوگا، مثلاً امام مہدی کاظہور، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا اور اﷲ کے غضب سے ہلاک ہو جانا، سورج کا مغرب سے نکلنا، آگ کا ظاہر ہونا وغیرہ یہ سب علامات قیامت ہیں۔ اس طرح جب قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہوں گی پھر حکم الٰہی سے سیدنا اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے جس سے سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ پھر جب اﷲ تعالیٰ کو منظور ہوگا دوبارہ صور پھونکا جائے گا، جس سے تمام مردے زندہ ہو جائیں گے۔قیامت کی ان نشانیوں  میں سے ایک بڑی نشانی امام مہدی کا ظہور بھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " امت مسلمہ کی عمر اور مستقبل قریب میں مہدی کے ظہور کا امکان " جامعہ ازہر مصر کے پروفیسر امین محمد جمال الدین کی عربی تصنیف"عمر امۃ الاسلام وقرب ظھور المھدی" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم پروفیسر خورشید عالم صاحب نے کیا ہے۔مولف کے خیال میں  عصر حاضر میں قیامت کی متعدد چھوٹی نشانیاں پوری ہو چکی ہیں اور اب قیامت بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگا میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-anbiya-ka-aslobe-dawat
    ربیع ہادی المدخلی
    اللہ عزوجل نے امت مسلمہ کامقصدوجوددعوت کوقراردیاہے ۔اسی بناءپرانہیں ’خیرامت‘کامعززلقب دیاہے۔قرآن وحدیث میں دعوت الی اللہ کے اصول وضوابط متعین کردیے ہیں اوررسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عملا انہیں برت کردکھابھی دیاہے ۔نبوی اسلوب دعوت کوسامنے رکھتے ہوئے ہمارے اسلاف نے جس خوش  اسلوبی سے فریضہ دعوت کوسرانجام دیااس کانتیجہ یہ نکلاکہ اسلام اطراف واکناف عالم میں پھیل گیالیکن بعدازاں یہ طریقہ دعوت نظروں سے اوجھل ہوگیاتوفرقہ واریت اوراحتراق نشست امت کامقدربن گیاموجودہ ذلت  ورسوائی کی وجہ بھی یہی ہے کہ تنظیموں اورجماعتوں کی دعوت انبیاء کرام کے طریقے پرنہیں ہے ۔زیرنظرکتاب میں انتہائی مؤثراوردلنشیں انداز میں انبیاء کے اسلوب دعوت پرروشنی ڈالی گئی ہے جویقیناً قابل مطالعہ ہے ۔

  • pages-from-insan-aur-akhrat
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    اس بات سےآج تک کوئی انکار نہیں کرسکا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے زندگی ملی اسے موت بھی دوچار ہوناپڑا، جو آج زندہ ہےکل کو اسے مرنا ہے،موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔ہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر کو موت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچ سکتے ہیں اور موت کےبعد پیش آنے والے مراحل میں کامیاب ہوسکتے ہیں جنہوں نےاپنی آخرت کی بہتری کےلیےدینوی زندگی میں مناسب تیاری کی ہو۔ زیر تبصرہ کتا ب’’انسان اور آخرت‘‘ڈاکٹر حافظ مبشر حسین ﷾ریسر سکالر ادارہ تحقیقات اسلامی ولیکچرراسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے کتاب سلسلہ’’ اصلاح عقائد کا آٹھواں حصہ ہے۔انہوں نےاس کتاب میں موت او رموت کے ساتھ شروع ہوجانے والے جملہ اُخروی مراحل کو قرآن وسنت کی روشنی میں نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں اختصار اور جامعیت کےساتھ پیش کیا ہے۔ تاکہ اردو زبان پڑھنے اور سمجھنے والے ایک عام آدمی کوبھی ایمانیات کےاس رکن عظیم سے ممکنہ حد تک واقفیت ہوسکے اور اس کی روشنی میں وہ اپنی آخرت کی بہتری کےلیے دنیوی زندگی میں مناسب تیاری کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام تحریری وتقریری کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کولوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-insan-aur-rehbr-e-insaniyat-copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    نبی کریم ﷺ کےساتھ ہرایک مسلمان کا بنیادی طور پر تین طرح کا تعلق ہوناچاہیے ایک تویہ کہ اہم آپ ﷺ پر صدق دل سے ایمان لائیں، دوسرا یہ کہ اہم آپﷺ سے دنیا جہاں کی ہر چیز سے بڑھ کر محبت کریں اور تیسرا یہ کہ ہم ہر ممکنہ حدتک آپ کی اطاعت واتباع کریں کیونکہ دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه (سورہ نساء:80) جس نے رسول اللہﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ اور سورۂ محمد میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(سورہ محمد:33) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو (اور اطاعت سے انحراف کر کے ) اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث بڑی اہم ہے ۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’میر ی امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا انکار کس نے کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس نے انکار کیا ۔(صحیح بخاری :7280) گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں قرآنی آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔گویا اپنی پوری زندگی میں خواہ انفرادی ہویا اجتماعی ،مسجد کے اندر ہویا مسجدکے باہر، بیوی بچوں کےساتھ ہو یا دوست احباب کے ساتھ ،ہر وقت ،ہرجگہ سنت کی پیروی مطلوب ہے ۔محض عبادات کے چند مسائل پرتوجہ دینا اور زندگی کے باقی معاملات میں سنت کی پیروی کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں کہلا سکتا۔ زیر تبصرہ کتا ب’’انسان اور رہبرانسانیت ‘‘ میں ڈاکٹر حافظ مبشر حسین ﷾ نے ایک مسلمان کا جو رسول اللہ ﷺ کےساتھ تین طرح کا بنیادی تعلق ہونا چاہیے اسے قرآن مجیداور مستند صحیح احادیث کی روشنی میں تین ابواب میں واضح کرتے ہوئے سنت ورسالت سےمتعلقہ تمام اہم مسائل پر قرآن وحدیث کی روشنی میں بحث کی ہے اور اس سلسلہ میں پائی جانے والی مختلف غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئےنہایت عام فہم اسلوب میں نبی کریم ﷺ سے محبت اور آپ کی سنت پر عمل کاجذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی ہے ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام مساعی جمیلہ کوقبول فرمائے ۔(م۔ا)

  • title-insan-aur-shaitan-copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری
    شيطان کے بارے میں مختلف ادیان ومذاہب میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں- کہیں اسے دیوتا کا مقام حاصل ہے تو کہیں نفس امارہ اور خواہش شر کی حیثیت سے دیکھا جاتاہے خود مسلمانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس کے وجود کے انکاری ہیں- شیطان کیا ہے؟ اسے کیوں پیدا کیا گیا؟ اس کا انسان کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟کیا شیطان ہر انسان کےساتھ ہوتا ہے؟شیطان انسان کو کیسے گمراہ کرتا ہے؟ اوراس سے بچاؤ کی کیا احتیاطی تدابیر ہوسکتی ہیں؟  کتاب ہذا میں ان تمام سوالوں کے جواب قرآن وسنت کی روشنی میں انتہائی سادہ انداز میں دئیے گئے ہیں- علاوہ ازیں فلسفہ خیر وشر، دنیا میں ہونے والی برائیوں میں شیطان کا کردار، اور خود انسان کے ارادہ و اختیار کی نوعیت وغیرہ پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے اس سلسلہ میں بہت سے گمراہانہ عقائد کا رد بھی کتاب ہذا کی زینت ہے-
  • title-pages-insan-aur-shaitan--jadeed-audition--copy
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    قرآن مجید جو انسان کے لیے ایک مکمل دستور حیات ہے ۔اس میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ شیطان مردود سےبچ کر رہنا ۔ یہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ارشاد باری تعالی ’’ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ‘‘( یقیناًشیطان تمہارا دشمن ہے تم اسے دشمن ہی سمجھو)لیکن شیطان انسان کو کہیں خواہشِ نفس کو ثواب کہہ کر ادھر لگا دیتا ہے ۔کبھی زیادہ اجر کالالچ دے کر او ر اللہ او راس کے رسول ﷺ کے احکامات کے منافی خود ساختہ نیکیوں میں لگا دیتاہے اور اکثر کو آخرت کی جوابدہی سے بے نیاز کر کے دنیا کی رونق میں مدہوش کردیتا ہے۔شیطان سے انسان کی دشمنی آدم کی تخلیق کےوقت سے چلی آرہی ہے اللہ کریم نے شیطان کوقیامت تک کے لیے زندگی دے کر انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی قوت دی ہے اس عطا شدہ قوت کے بل بوتے پر شیطان نے اللہ تعالی کوچیلنج کردیا کہ وہ آدم کے بیٹوں کو اللہ کا باغی ونافرمان بناکر جہنم کا ایدھن بنادے گا ۔لیکن اللہ کریم نے شیطان کو جواب دیا کہ تو لاکھ کوشش کر کے دیکھ لینا حو میرے مخلص بندے ہوں گے وہ تیری پیروی نہیں کریں گے او رتیرے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ابلیس کے وار سے محفوظ رہنے کےلیے علمائے اسلام اور صلحائے ملت نے کئی کتب تالیف کیں او ردعوت وتبلیغ او روعظ وارشاد کےذریعے بھی راہنمائی فرمائی۔جیسے مکاید الشیطان از امام ابن ابی الدنیا، تلبیس ابلیس از امام ابن جوزی،اغاثۃ اللہفان من مصاید الشیطان از امام ابن قیم الجوزیہ ﷭ اور اسی طرح اردو زبان میں مولانا مبشر حسین لاہوری اور حافظ عمران ایوب لاہوری کی کتب بھی قابل ذکر اور لائق مطالعہ ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’انسان اور شیطان‘‘ مصنف کتب ڈاکٹر حافظ مبشر حسین ﷾ کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں شیطان کیا ہے ؟ اسے کیوں پیدا کیا گیا ہے؟...اس کاانسان کےساتھ کیا تعلق ہے ؟.... شیطان انسان کو کیسے گمراہ کرتا ہے ؟... شیطان کےمکروفریب کی نوعیت کیا ہے ؟... اس سےبچاو کی تدابیر کیاہیں جیسے سوالات کا جواب قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیا ہے ۔علاوہ ازیں فلسفۂ خیر وشر ، دنیا میں ہونے والی برائیوں میں شیطان کا کردار اور خود انسان کےارادہ واختیار کی نوعیت وغیرہ پر بھی فاضل مصنف نے سیر حاصل بحث کی ہے۔نیزبہت سےگمراہانہ افکار کارد بھی اس کتاب کی زینت ہے ۔(م۔ا)

  • Title Page--- Insan Aur Firshte
    حافظ مبشر حسین لاہوری
    عقائد کے باب میں جس طرح ایمان باللہ اور ایمان بالرسل کو اہم حیثیت حاصل ہے اسی طرح ایمان بالملائکہ کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا- لیکن ہمارے ہاں اس موضوع پر  بہت کم لٹریچر  ایسا موجود ہے جو فرشتوں سے متعلق صحیح رخ کی نشاندہی کرتا ہویہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان لوگوں کی گمراہ  کن فکر پروان چڑھ رہی ہے جو فرشتوں کے وجود کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں- زیر مطالعہ کتاب میں مبشر حسین لاہوری نے اپنے مخصوص انداز میں فرشتوں  کی دنیا سے متعلق تمام حقائق سپرد قلم کر دئیے ہیں- فاضل مؤلف نے کتاب کے نو ابواب میں فرشتوں کا تعارف، فرشتوں کو عطاء کردہ قدرت، ان کی صفات واخلاق، اور مشہور فرشتوں کی ذمہ داریوں سے آگأہ کرتے ہوئے  اہل ایمان کے ساتھ فرشتوں کے تعلق کی نوعیت واضح کی ہے- اس کے علاوہ کتاب وسنت کے صریح دلائل کی روشنی میں منکرین ملائکہ کے شبہات واعتراضات کا بھی کافی و شافی جواب دیا گیا ہے-

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2061 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں