• title-pages-mehkti-jannat-copy
    امان اللہ عاصم

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمہارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمہیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔اہل ایمان اور صالحین کو تو جنت کی خوشبو تو چالیس کی مسافت سے آنا شروع ہوجائے گی لیکن گناہ گار لوگوں کو جنت کی خوشبو تک نہیں آئی گی۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ مہکتی جنت میں لے جانےوالے 60 خوش نما اعمال ‘‘ محترم جناب امان اللہ عاصم صاحب کے مرتب کردہ سلسلہ اصلاح امت میں سے پہلاسلسلہ ہے ۔اس مختصر کتابچہ میں فاضل مرتب نے قرآن وسنت کی روشنی میں 60 ایسے اعمال جمع کردیے ہیں کہ جو ایک مسلمان کے لیے جنت میں جانے کا باعث بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مرتب موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا) 

  • title-pages-mesaq-e-khalaq-copy
    امیر حمزہ بن نذیر احمد

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب " میثاق خلاق " جماعت الدعوہ پاکستان کے مرکزی رہنما محترم مولانا امیر حمزہ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اللہ سے کئے گئے پختہ وعدے توحید کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-medan-mehshar-mein-izzat-aur-zillat-pane-wale-log
    محمد عظیم حاصلپوری

    دنیا اپنی روانگی میں چل رہی ہوگی کہ اچانک ایک زوردار آواز سے سب کچھ فنا ہوجائے گا سوائے رب العالمین کے ۔ پھر دوسری بار آواز آئےگی اور ساری کائنات اپنی اپنی قبروں سے اٹھےکر ننگے بدن ،ننگے پاؤں میدان محشر کی طرف دوڑیں گے جو شام کے علاقے کی طرف سجایا جائے گا۔ سب میدان محشر میں پہنچے گے ۔ تو سب کےہاتوں میں نامۂ اعمال دے دیے جائیں گے ۔ اہل ایمان کےدائیں ہاتھ میں اور کفار ومشرکین کےبائیں ہاتھ میں،اہل ایمان تو خوش ہوکر دوسروں کواپنا نامۂ اعمال دکھائیں اور پڑھائیں گے جبکہ کفار ومشرکین پریشان ہوگے اور کہیں گے:کاش! ہمیں یہ نہ دیا جاتا اور ہمیں ہمارا حساب معلوم ہی نہ ہوتا ۔نامۂ اعمال کی تقسیم کے بعد سوال وجواب ہوں گے۔ مشرکوں اور کافروں سے سوال ہوں گے وہ ہر چیز کاانکار کردیں گے۔اور اسی طرح عمر ،جوانی ، رزق، علم، کے متعلق سوال ہوں گے۔ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز اور حقوق العباد میں سے قتل خون اور جھگڑوں کے متعلق سوال ہوگا۔ اور ہر ایک کے متعلق عدالت الٰہی میں عدل سے فیصلہ ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ سب کے اعمال کاوزن کرے گا۔اعمال کےوزن کےبعد سب کوپل صراط سے گزرنا پڑے گا۔پھر سب سے پہلے جناب محمد ﷺ اپنی امت کولے کر جنت میں داخل ہوں گے۔مذکورہ سطور میں اس میدان محشر کامختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ جس سے ہر آدمی گو گزرنا ہے یہ دن اس قدر سخت ہے کہ بچے بوڑھے ہوجائیں گے او رمائیں اپنے حمل گرادیں گی اور اپنے بچوں کوبھول جائیں گی۔ اس دن کچھ اعمال ایسے بھی ہوں گے۔ جو بندوں کواس دن کی ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھیں گے اور کچھ اعمال ایسے بھی ہوں گے جو اس دن ذلت و رسوائی میں مبتلا کردیں گے۔زیر نظر کتابچہ ’’ میدان محشر میں عزت اور ذلت پانے ولے لوگ‘‘میں مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ (مدیرماہنامہ المحمدیہ،حاصل پور )نے انہی مفید اعمال کوشمار کرکےیہ تلقین کی ہے کہ ہم سب ایسے اعمال کریں جو میدان محشر میں عزت بخشیں اور ان اعمال سےبچیں جو ہمیں ذلت دسے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین (م۔ا)

  • title-page-mera-jeena-mera-marna
    ام عثمان

    زندگی اس دنیامیں  آنےاورموت دنیاسےواپسی کانام ہے ۔آنےاورجانے کےدرمیان ایک مختصرساوقت جوہم سب کوملاہے ،ہرشےسے قیمتی ہے ۔اس وقت کاصحیح حق وہی اداکرسکتاہے جواپنےآغازاورانجام سےباخبرہے ۔اس چندروزہ دنیامیں کامیاب وہ نہیں ہے جوڈھیروں مال کمائے،بڑےبڑےمحلات تعمیرکرلے،یاچنددن کے لیےشہرت پالےاصل کامیاب وہ ہے جواپنے وقت کومفیدکاموں میں استعمال کرلے اوراپنےخالق کی مرضی کےمطابق خودکواس کےلیے خالص کرلے۔لیکن اس کے برعکس ہمارے معاشرے کی اکثریت جہاں اپنےمقصدزندگی سےغافل ہےوہاں دنیاسےواپسی کےسفر،اس کی کیفیت اورموت کےبعدپیش آنےوالے حالات اورحقیقت سےبھی بےخبرہے ۔اس پردرددل رکھنے والاہرصاحب ایمان مضطرب اورپریشان ہے۔زیرنظرکتاب کی مؤلفہ نے بھی اسی دردمندی کےجذبےسے زیرنظرکتاب مرتب کی ہےتاکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں سفرواپسی کےمختلف مراحل کےبارے میں عوام الناس کوباخبرکیاجائے۔خداکرےہم سب کاسفرواپسی رب کےبتائے ہوئے طریقے کےمطابق ہو،تاکہ ملاقات کےوقت وہ ہم پرنظرکرم کرے ۔آمین ۔

     

  • title-page-meerasul-anbiya
    ابوعمرو الکویتی
    اللہ عزوجل نے انسان کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبراس دنیامیں مبعوث فرمائے۔ان سب کاپیغام دعوت ایک ہی تھااوروہ تھاکلمہ توحید۔یعنی لوگ صرف اللہ تبارک وتعالی ٰ ہی کوعبادت کامستحق جانیں اوراس کے سامنے دست سوال درازکریں ۔یہی مشترک دعوت انبیاء کی میراث ہے ۔فاضل مؤلف نے زیرنظرکتاب میں بڑی خوبصورتی سےتوحیدکی اہمیت اوراس کےمعنی ومفہوم کواجاگرکیاہے ۔انہوں نےبتایاہے کہ کلمہ لاالہ الااللہ کب انسان کےلیے مفیدہوگااوراس کی شرائط کیاہیں؟علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی واضح کیاہے کہ طاغوت سے بچناضروری ہے اورجوطاغوت سے فیصلے کرواتاہے وہ درحقیقت طاغوت پرایمان لاتاہے ۔فی زمانہ جبکہ شرعی قوانین کےبجائے خودساختہ دساتیرکی پابندی کی جارہی ہے ،یہ بحث بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔اس کےساتھ ساتھ سیاست حاضرہ کوموضوع بحث بناتے ہوئے یہ بتایاگیاہے کہ موجودہ اسمبلیوں اورایوان ہائے سیاست واقتدارمیں شمولیت کاشرعی حکم کیاہے ۔بہت ہی اہم کتاب ہے ،ہرمسلمان کواس کالازماً مطالعہ کرناچاہیے تاکہ توحیدکاتصورصحیح معنوں میں سمجھاجاسکے اورطاغوت سے بچناممکن ہوسکے۔


  • title-pages-man-toba-to-krna-chahta-hoo-lkn
    محمد بن صالح المنجد

    خدا تعالیٰ اپنے بندے پر اس قدر مہربان ہے کہ اس کی بے پایاں  رحمت اپنے بندے کی لغزشوں کو معاف کرنے کے مواقع ڈھونڈتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندے سے بے حد خوش ہوتے ہیں جو گناہ کرنے کے فوراً بعد اپنی جبیں کوبارگاہِ ایزد میں جھکا دیتا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب ’میں توبہ تو کرنا چاہتا ہوں لیکن؟‘ میں اسی مضمون کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ یہ تصنیف شیخ صالح المنجد کی ہے جسے عربی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے۔ کتاب کا طبع کافی پرانا ہے اس وجہ سے کتابت معیاری نہیں ہے۔ البتہ کتاب میں بیان کردہ مضامین خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ توبہ سے متعلق جہاں نہایت اہم معلومات مہیا کی گئی ہیں وہیں توبہ کی شرائط اور توبہ کرنے والوں کے لیے چند اہم فتاوے بھی کتاب کی زینت ہیں۔

     

  • title-pages-me-ne-bible-se-pocha-quraan-qiyo-jale
    امیر حمزہ

    ازل سے شروع ہونے والا معرکہ حق و باطل تاحال جاری ہے۔ باطل دو بدو لڑائی میں تو مات کھا چکا اور دم دبا کر بھاگنے کی تیاریوں میں ہے۔ لیکن اس کی بوکھلاہٹ ملاحظہ کیجئے کہ اپنا غم غلط کرنے کے لیے نہایت بھونڈے طریقوں سے کبھی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے تو کبھی قرآن پاک کو جلانے کے عزائم ظاہر کیے جاتے ہیں۔کچھ ایام قبل امریکہ کے ایک پادری ٹیری جونز نے قرآن کے بارے میں نہ صرف نازیبا الفاظ استعمال کیے بلکہ کمینگی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے قرآن کو پھاڑنے، فائرنگ سکواڈ سے اڑانے اور ٹھوکرمار کر اہانت کا اعلان کیا۔ اور تو اور اس نے قرآن کریم پر دہشت گردی کا مقدمہ چلانے کا بھی اعلان کر ڈالا۔ اس کے جواب میں مسلم امہ کی جانب سے شدید رد عمل سامنےآیا۔ ایسے میں تحریک حرمت رسول کے کنونیئر محترم امیر حمزہ کا قلم کیسے خاموش رہ سکتا تھا۔ انہوں نے کفار کی تمام تر دریدہ دہنی کا جواب علمی انداز میں ’میں نے بائبل سے پوچھاقرآن کیوں جلے؟‘ کےعنوان سے دیا۔ محترم امیر حمزہ صاحب نے یہود و نصاریٰ کی معتبر کتب کا حوالہ دیتے ہوئے ثابت کیا کہ قرآن حکیم تو تمام انبیاء و رسل کی عزت و توقیر کی تعلیم دیتا ہے، پھر قرآن کے بارے میں اس قدر مکروہ عزائم کا اظہار کیا معنی رکھتا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ یہود و نصاریٰ نے سماوی کتب میں تغیر و تبدل کر کے انبیاء کی توہین کی ہے جبکہ قرآن نے تو ان کی پاکیزہ سیرت کو اپنے اوراق میں پرویا۔ کتاب میں توارات، زبور اور انجیل کے حوالہ جات کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہود و نصاری از خود دہشت گردی کے علمبردار ہیں جبکہ قرآن تو امن وآشتی سے بھرپور معاشرہ کی تشکیل کرتا ہے۔

     

  • title-pages-nida-e-ya-muhammadpbuh-ki-tahqeeq
    عبد الغفور اثری
    برصغیر پاک و ہندمیں اکثریہ رواج پایا جاتا ہے کہ کئی مسلمان اپنی  مسجدوں ، عمارتوں ، دفتروں، بسوں ،ٹرکوں ، ویگنوں، اور رکشوں ،کلینڈروں، اشتہارات وغیرہ پر بڑی عقیدت سے  ایک طرف یا اللہ جل جلالہ اور دوسری طرف یا محمد ﷺ  لکھتے ہیں اور اسے  شعائر اسلام اور محبت رسول  ﷺ کا نام دیتے ہیں  اور جو شخص یامحمد ﷺ کہنے اور لکھنے کا انکار  کرے تو اسے  بے  ادب  اور گستاخِ رسول بلکہ بے ایمان تک قرار دے  دیا  جاتاہے  حالانکہ صورت حال  اس کے بالکل برعکس ہے کہ رسول  ﷺ کو ان کا نام لےکر (یا محمد کہہ کر) آواز دینی ،بلانا ، اورپکارنا وغیرہ  نہ  آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں  جائز تھا اور نہ آپ  ﷺ کے  وفات کے بعد جائز ہے ۔زیر نظر کتاب’’ندائے یا محمد ﷺ کی تحقیق‘‘ از مولانا عبد الغفور  اثری  میں  قرآن مجید کتب احادیث  و تفاسیر وغیرہ سے  دلائل کی  روشنی  میں یہ مسئلہ  واضح کیا گیا ہے کہ  نبی  آخر الزماں  امام الانبیاء  حضرت محمد ﷺ کا نام لے کر آواز دینی بلانا اور پکارنا وغیرہ   بالکل ممنوع وحرام  ہے ۔ اللہ تعالی فاضل مؤلف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے  اور  اس کتا ب  کو عوام الناس کے  عقید ہ کی  اصلا ح کاذریعہ بنا ئے  (آمین) ( م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-nasehatu-al-muslimeen-copy
    خرم علی بلہوری

    اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا عقیدۂ توحید کو اختیار کرنا اور شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نصیحۃ المسلمین‘‘ سیدشاہ اسماعیل شہید کے قافلہ جہاد کے اہل علم وعمل اور صاحب ِ حال وقال سپاہی مولانا خرم علی بلہوری (متوفی1373ھ) کا تصنیف شدہ رسالہ ہے۔توحید کےمسئلہ پر یہ نہایت ہی مفید رسالہ ہے جسے موصوف نے 1228ء میں تحریر فرمایا اور صدہا مرتبہ شائع ہو کر اللہ کےبندوں کوہدایت کی راہ دکھانے میں کامیاب ثابت ہوا۔اس رسالہ کی زبان نہایت سادہ ،عام فہم اورطرزِ استدلال دلکش ہے۔ کٹ حجت لوگوں کےحیلوں بہانوں کےنہایت لطیف مگر مسکت جواب بھی تحریر فرمائے جس سےاس کی افادیت اور بھی بڑھ گئی ۔زیرتبصرہ ایڈیشن میں مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ نے اپنی طرف سےسے مناسب عنوان بھی قائم کیے ہیں جس سے اس رسالہ سے استفاد ہ کرنا آسان ہوگیا ہے۔ اور اسی طرح اس ایڈیشن میں افادۂ عام کے لیے ایک مسدس بھی درج کردی گئی ہے جو مؤلف مرحوم کی نظم متعلقہ توحید پر بطور تضمین کہی گئی ۔قرآن حکیم اور اردو سکھانے کےبعد بعد یہ رسالہ ہر شخص کوپڑھنا چاہیے اور ہر معمولی پڑھے لکھے تک بھی اس رسالہ کو پہنچانا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو عقیدۂ توحید پر قائم دائم اور شرک سے محفوظ رکھے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-nazria-toheed-wajoodi-aur-dr-israr-ahmad-copy
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اسلام کی ابتداء غربت اور اجنبیت  کی حالت میں ہوئی ،اور  عنقریب اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جائے گا۔پس خوشخبری ہے غریب اور اجنبی لوگوں کے لئے۔توحید اسلام کا بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے یعنی اللہ تعالی اپنی ذات وصفات اور احکامات میں ہر طرح کی شراکت سے مبرا ہے۔آج اسلام کے دعویداروں کی اکثریت توحید باری تعالی کو چھوڑ کر شرک وکفر میں مبتلاء ہو چکی ہے۔شرک وکفر کے پھیلنے کی متعدد وجوہات میں سے ایک اہم وجہ محی الدین ابن عربی کا فلسفہ وحدۃ الوجود بھی ہے۔اس کی وجہ سے اسلام میں الحاد کے دروازے کھلے ،کشف وکرامات کے بے سند واقعات نے اسلام کی بنیادوں پر حملہ کیا ۔قرآن وسنت کے علم کو "علم ظاہری" کہہ کر علم اور علماء کا مذاق اڑایا گیا۔طریقت کے نام پر شریعت کے مقابلے میں ایک نیا دین گھڑ لیا گیا۔شریعت کی  تحقیر اور طریقت سے کمتر سمجھنے کا رجحان عام ہوا اور من گھڑت وموضوع روایات نے نظریہ توحید میں شک پیدا کر دیا۔امام ابن تیمیہ﷫ اوران کے ہونہار شاگرد امام ابن قیم﷫ نےنہ صرف عقیدہ وحدۃ الوجود کا رد کیا بالکہ ابن عربی کو بھی گمراہ ثابت کیا۔عصر حاضر کے معروف عالم دین اور تنظیم اسلامی کے بانی محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب﷫  ابن عربی کے علمی اور روحانی مقام کے زبر دست قائل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نظریات کے بھی حامی نظر آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" نظریہ توحید وجودی اور ڈاکٹر اسرار احمد"محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی مرتب کر دہ ہے۔مولف موصوف نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تحریریں مختلف اہل علم کو روانہ کیں اور ان سے ان پر فتاوی طلب کئے۔چنانچہ اہل علم نے وحدۃ الوجود سے متعلق ان کے نظریات کا دلائل کے ساتھ رد کیا۔جسے مولف نے یہاں اس کتاب میں جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-nifaq-ki-nishaniyan-copy
    ڈاکٹر عائض القرنی

    اللہ تعالی کی ذات اقدس، اس کے اسماء حسنی وصفات مبارکہ،اس کی طرف سے مبعوث کردہ رسولوں، فرشتوں، کتابوں، یوم آخرت،حساب ومیزان اور جنت وجہنم کو صدق دل سے تسلیم کرنے کانام ایمان ہے اور ایسے مخلص اہل ایمان کو اللہ تعالی نے "حزب اللہ" قرار دیا ہے اور انہیں دنیا میں امن وسکون اور آخرت میں کامیابی وکامرانی کی خوشخبری سنائی ہے۔اس کے برعکس ان تمام کی تمام ایمانیات یا ان میں سے کسی ایک کے صریح انکار کا نام کفر ہے۔اہل کفر کو اللہ تعالی نے "حزب الشیطان"قرار دیا ہے۔دنیا میں یہ گروہ بدامنی وبے سکونی کا شکار رہے گا اور آخرت میں عذاب الہی اور دائمی وابدی جہنم ان کا ٹھکانہ ہوگا۔حقیقت میں کرہ ارضی پر یہی دو گروہ پائے جاتے ہیں۔البتہ دنیا میں منافق لوگوں کا  ایک تیسرا گروہ بھی نظر آتا ہے جو درحقیقت "حزب الشیطان" کا ہی حصہ ہے۔یہ گروہ بظاہر اہل اسلام والا جامہ پہن لیتا ہے لیکن وہ پکا کافر ہونے کے ساتھ ساتھ بزدل، کینہ پرور، مفادپرست اور خود غرض ہوتا ہے اور یہ ہے منافقون کا گروہ۔یہ لوگ کافر تو ہیں ہی،اس پر مستزاد اللہ تعالی اور اہل ایمان کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی لئے ان کی سزا کافروں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نفاق کی نشانیاں " سعودی عرب کے معروف خطیب اور عالم دین شیخ عائض عبد اللہ القرنی صاحب کے عربی خطاب"ثلاثون علامۃ للمنافقین" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ    محترم ابو عبد الرحمن شبیر بن نور صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اپنے اس خطاب میں منافقین کی تیس علامات ذکر کی ہیں جنہیں کتابی شکل میں طبع کر کے ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ خطیب صاحب اور مترجم  کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں  قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • copy-of-title-pages-namaz-e-mustafapbuh
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    نماز ،اسلام کا دوسرا رکن اور دین کا ستون ہے ۔یہ دین کا ایسا فریضہ ہے جس کا ترک کفر بھی ہے،شرک بھی اور نفاق بھی ۔یہ عظیم فریضہ اللہ تعالیٰ نے بموقع معراج عطا فرمایا اور اسی وقت ان پانچ نمازوں کی ادائیگی کو باعتبار اجروثواب پچاس کے برابر قرار دیا۔حدیث شریف میں نماز کو آنکھوں کی ٹھنڈک اور حصول راحت وطمانیت کا سبب قرار دیا گیا ہے ۔نماز سعادت دارین کے حصول کی ایک بڑی قوی اور عظیم اساس ہے،لیکن ان تمام برکتوں اور منفعتوں کا حصول چند شرائط کا متقاضی ہے ،جن میں پابندی وقت ،حفاظت خشوع اور متابعت طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہ طور خاص قابل ذکر ہیں۔زیر نظر کتاب میں نماز سے متعلق مختلف مسائل پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور نماز کی اہمیت ،طریق کار اور مختلف اقسام کو کتاب وسنت کی روشنی میں اجاگر  کیا گیا ہے۔عصر حاضر میں جبکہ فریضہ نماز سے مجرمانہ تغاعل برتا جارہا ہے ،اس طرح کی کتابوں کا مطالعہ اشد ضروری ہے تاکہ اس عظیم فریضہ کی اہمیت اور اس کی ادائیگی کا صحیح طریقہ معلوم ہو سکے۔(ط۔ا)

  • pages-from-noor-e-tauheed-az-sanaullah-amartasri
    ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌکہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔ معبود برحق جو بےنیاز ہے۔ نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ (سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات 73)توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ رسالہ" نور توحید " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، امام المناطرین مولانا حافظ ثناء اللہ امرتسری﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے توحید کو بیان فرماتے ہوئے شرک وبدعات کی جڑیں کاٹ دی ہیں۔ یہ رسالہ انہوں نے شمع توحید کے جواب میں فرقہ غالیہ کی طرف سے لکھے گئے ایک چھوٹے سے پمفلٹ موسومہ پروانہ تنقید کے جواب میں لکھا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو عقیدہ توحید اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-noor-um-min-noor-illah-haqiqat-k-aine-me
    خاور رشید بٹ
    اس وقت امت کا ایک بہت بڑا طبقہ نبی کریمﷺ کی ذات کے حوالے سے افراط و تفریط کا شکار ہے۔ بہت سے لوگ آپﷺ کو اللہ کے نور کا جزو قرار دیتے ہیں  اور نام نہاد ملاں اس سلسلہ میں عوام کو خانہ زاد دلائل اورمن مانی تاویلات و تشریحات کے ذریعے اپنے دامن فریب میں پھنسائے ہوئے ہیں۔ نبی کریمﷺ کے نور من اللہ ہونے میں کس حد تک صداقت ہے زیر نظر کتابچہ میں مولانا خاور رشید بٹ نے اسی کا جائزہ لیا ہے۔ اور دلائل و براہین کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ یہ دعوی شرک و ضلالت پر مبنی ہے جس کا انجام بہرحال اچھا نہیں ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • noor-uz-zulumat-kitab-o-sunnat-k-aine-me
    سعید بن علی بن وہف القحطانی
    کتاب وسنت میں حق اور خیر کے اعمال کو’نور‘اور اس کے بالمقابل باطل اور شر کے کاموں کو ’ظلمات‘یعنی تاریکیوں سے تعبیر کیا ہے اور ان معنوی چیزوں کو حسی اشیاء سے تشبیہ دی ہے۔اسی طرح حق کو بینائی ،دھوپ اور زندگی سے موسوم کیا ہے اور باطل کو اندھے پن،سایہ اور موت قرار  دیا ہے۔پھر اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضدہیں،لہذا دونوں میں اتحاد نہیں ہو سکتا۔زیر نظر مختصر کتابچہ میں سعودی عرب کے نام ور عالم دین اور مذہبی اسکالر شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی نے نور وظلمات سے متعلق آیات و احادیث کو جمع کیا ہے اور مفسیرین قرآن اور شارحین سنت کے اقوال کی روشنی میں ان کی تفسیر و تشیریح فرمائی ہے۔جناب عنایت اللہ سنابلی نے اسے اردو میں ڈھال کر عوامی حلقوں  کے لیے اس دلچسپ اور معلوماتی کتاب استفادہ کی راہ ہموار کر دی ہے۔خداوند کریم مصنف ومترجم اور ناشرین کو جزائے خیر دے اور ہم سب کو اس سے فیض یاب ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔(ط۔ا)

  • title-pages-naikiyan-mita-dene-wale-aamal-copy
    امان اللہ عاصم

    ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل وفطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی کے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہوسکتی ہے؟ قرآن وسنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہےکہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’نیکیاں مٹا دنیے والے اعمال ‘‘ محترم جنا ب امان اللہ عاصم صاحب کے مرتب کردہ سلسلہ اصلاح امت کا سلسلہ نمبر چار ہے ۔مرتب موصوف نے اس اصلاحی کتابچہ میں ایسے قبیح اعمال کی نشاندہی کی ہے جو انسان کی زندگی بھر کی کمائی یعنی نیکیوں کو مٹا کر رکھ دیتے ہیں اور نیکی کی دنیا میں انسان کو تنہا اور غریب چھوڑ دیتے ہیں ۔ یعنی فاضل مصنف نے نیکیوں کو برباد کرنے والے ان اعمال کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ انسان جنہیں بہتر سمجھ کر اپنا لیتا ہے اور نتیجتاً اس کےثواب برباد اوراعمال ضائع ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ، مصنف و ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-naikiyon-ko-barbad-krne-wale-aamal-copy
    محمد ارشد کمال

    جس طرح صالح اعمال کرنے ضروری ہیں اسی طرح اس سے بڑھ کر ان کی حفاظت کرنا بھی لازم ہے کیونکہ انسان بڑی تگ ودو کے بعد اعمال کی لڑی پروتا ہے اور ذراسی بے احتیاطی سےیہ لڑی بکھر بھی سکتی ہے لہذا ایک مسلمان کی اولین کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس سے کوئی ایسا عمل سرزدنہ ہو جس کی وجہ سے اس کی ساری محنت ومشقت اکارت ہوجائے ۔کیونکہ انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نیکیوں کو برباد کرنیوالے اعمال ‘‘ معروف قلمکار اور علم دوست ، مصنف ومترجم مولانا محمد ارشد کمال ﷾کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے نیکیوں کو برباد کرنے والے ان اعمال کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ انسان جنہیں بہتر سمجھ کر اپنا لیتا ہے اور نتیجتاً اس کےثواب برباد اوراعمال ضائع ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ، مصنف و ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-waqia-e-karbla-aur-iss-ka-pas-manzar
    عتیق الرحمن سنبھلی
    نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کی مذمت بہرآئینہ ضروری ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ماتم، سینہ کوبی اور سب و شتم کا بازار گرم کرنے کی بھی کسی طور تائید نہیں کی جا سکتی۔ زیر نظر کتاب میں مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی نے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے اور اس کا مکمل  پس منظر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مکمل کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب شہادت عثمان رضی اللہ عنہ ، خانہ جنگی، صلح حسین  رضی اللہ عنہ پر ہے۔ ایک باب یزید کی ولی عہدی کی تجویز اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے عنوان سے ہے جس میں یزید کی ولی عہدی سے متعلق کھل کر بحث کی گئی ہے۔ باب دہم میں واقعہ کربلا کی مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ جبکہ اس سے اگلے باب میں شہادت کے بعد کی کہانی کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔مولانا نے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ میں یزید کسی بھی حوالے سے  ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی قلعی کھولی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-wajood-e-bari-tala-aur-touheed-copy
    ڈاکٹر ملک غلام مرتضی

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" وجود باری تعالی اور توحید "پروفیسر ڈاکٹر ملک غلام مرتضی  پی ایچ ڈی صاحب کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے وجود باری تعالی پر عقلی دلائل پیش کرتے ہوئے توحید کو ثابت کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-wajood-e-bari-taala
    ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    وجود باری تعالی فلسفہ، سائنس اور مذہب تینوں کا موضوع رہا ہے۔ عام طور اصطلاح میں اُس علم کو الہیات (Theology) کا نام دیا جاتا ہےکہ جس میں خدا کے بارے بحث کی گئی ہو۔ اس کتاب میں ہم نے فلسفہ ومنطق، سائنس وکلام اور مذہب وروایت کی روشنی میں وجود باری تعالی کے بارے میں بحث کی ہے۔ وجود باری تعالی کے بارے بڑے نظریات (mega theories) چار ہیں۔ نظریہ فیض، نظریہ عرفان،نظریہ ارتقاء اور نظریہ تخلیق۔ یہ واضح رہے کہ چوتھے نقطہ نظر کو ہم محض اس کی تھیورائزیشن کے عمل کی وجہ سے تھیوری کہہ رہے ہیں کہ اب اس عنوان سے نیچرل اور سوشل سائنسز میں بہت سا علمی اور تحقیقی کام منظم اور مربوط نظریے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جبکہ حقیقت کے اعتبار سے یہ محض تھیوری نہیں بلکہ امر واقعی ہے۔ پہلا اور دوسرا نقطہ نظر فلاسفہ کا ہے کہ جو افلاطونی، نوافلاطونی، مشائین، اشراقین، عرفانیہ اور حکمت متعالیہ میں منقسم ہیں۔ افلاطونی اور مشائین کے علاوہ بقیہ کے ساتھ صوفی ہونے کا ٹیگ بھی لگا ہوا ہے دراں حالانکہ یہ صوفی کی بجائے دراصل افلاطونی، مشائی اور نوافلاطونی ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی گروہ وجود باری تعالی کے مسئلے میں متقدمین اور محققین صوفیاء پر اعتماد نہیں کر رہا بلکہ صحیح معنوں میں افلاطون (348-424 ق م)، ارسطو (348-424 ق م)اور فلاطینوس (205-270ء) کے رستے پر ہیں۔ تیسرا نقطہ نظر دہریوں اور منکرین خدا (Atheists) کا ہے کہ نیچرل سائنسز کے رستے ماہرین حیاتیات (Biologists) اور ماہرین طبیعیات (Physicists) کی ایک جماعت نے اس نظریے کو اختیار کیا ہے۔ وجود کے بارے یہ موقف نظریاتی فزکس اور نظریاتی بائیالوجی کے ماہرین کے ہاں معروف ہے۔ چوتھا نقطہ نظر صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ اربعہ، محدثین عظام، متقدمین صوفیاء اور متکلمین رحمہم اللہ کا ہے۔ دوسرے نقطہ نظر نے صرف خالق کے وجود کو حقیقت جبکہ تیسرے نے صرف مخلوق کو حقیقت جانا۔ اور پہلے اور چوتھے نقطہ نظر میں خالق اور مخلوق دونوں کا وجود الگ الگ حقیقت ہیں۔ اس کتاب میں تین ابواب میں تینوں مکاتب فکر کےچاروں نقطہ ہائے نظر کا عقلی ونقلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

  • title-pages-wasila-anbya-wa-ouliya-quran-w-hadith-ki-roshni-main
    الشیخ محمد بن احمد بن عبد السلام
    شرک وبدعت  امت مسلمہ کے لیے ایسے موذی امراض ہیں  جو امت کے لیے باعث ہلاکت ہیں۔ان کی وجہ سے جہاں امت کے عقائد  و اعمال میں دراڑیں پڑتی ہیں وہاں   اس کا دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ امت کا شیرازہ منتشر ہو جاتا ہے۔دینی اقدار ختم ہی نہیں بلکہ تبدیل ہو کر رہ جاتی ہیں۔جو ختم ہونے سے بھی   زیادہ نقصان دہ صورت حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی شرک و بدعت کے خاتمے کے لیے اپنے لاکھوں کروڑوں انبیاء و رسل مبعوث  فرمائے۔ ان سب کا یہی مقصد تھا کہ اس دنیا سے یا اپنی اپنی امتوں سے شرک و بدعت کا خاتمہ کیا جائے۔ چنانچہ اس کےلیے  انہوں نے دن رات کوششیں کیں۔پھر انبیاء کے بعد  ان نیک لوگوں نے بھی اسی تعلیم کا درس دیا۔ یعنی انہوں نے انبیاء والا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن شرک کی بنیا گہری عقیدت کا جذبہ ہے چنانچہ بعد میں انسانوں نے ان نیک شخصیات کوہی وسیلہ شرک بنا لیا۔ زیرنظرکتاب میں انسانوں کی  اسی گمراہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ  ان  دونوں طرح کی ہستیوں کو   اپنے اعمال  میں کہاں کہاں اور کیسے کیسے وسیلہ شرک بناتے ہیں۔ اور اس کے بالمقابل صحیح اسلامی تعلیم کی طرف  بھی رہنمائی فرمائی ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-wasilatun-nijaat-bi-adaaee-al-saum-wassalat-walhajj-wazzakaat
    نواب صدیق الحسن خاں

    ابن عمر﷜ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ شہادتین کا اقرار کرنا۔ پانچ وقت کی نماز آدا کرنا۔زکوٰۃ دینا۔ بیت اللہ کا حج کرنا ۔رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔ (متفق علیہ) اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ان میں سے ہر ایک پر عمل کرنا ضروری جس طرح حضور نبی کریم ﷺ نے بتلایا ہے ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنا یا سستی کی وجہ سے ادا نہ کرنا اسلام کی بنیاد کو کمزور کرنے کے متراف ہے کیونکہ ان ارکان اسلام میں سے ہر ایک اپنی جگہ لازم العمل ہے۔ کچھ لوگ ملحدانہ و سیکولر ذہن رکھنے کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے آلہ کار ہیں ہر دور میں اسلام کا لبادہ اوڑ ھ کر شیخ الاسلام اور دیگر اسلامی اصطلاحات کو استعمال کر کے جہالت کی کسوٹی میں خود کو دین کے مبلغ اور اسلام کے داعی ظاہر کر کے اسلام میں نقص ہی پیدا کرنے کی جسارت نہیں کرتے بلکہ اسلام کی اصلی ہائیت اور صورت کو بیگاڑنے کے ساتھ اپنے گمراہ کن عقائد و نظریات کو پھیلانے میں شب و روز لوگوں کے ضمیر خریدنے میں مال و زر کی اس قدر وسیع پیمانے پر فنڈنگ کرتے ہیں جو کسی سے مخفی نہیں ہے۔ مگر وہ دور حاضر میں خاص کر جب کہ بے ضمیر اور بے لگام میڈیا اپنے شیطانی ہتھکنڈوں سے ہر خاص و عام کو جکڑے ہوئے ہے اور دن رات بدعت و خرافات کی تشہیر کے لیے ماڈرن قسم کے دین کی ابجد سے نا واقف علماء کے پروگرام نشر کر کے لوگوں کے ایما ن و عقائد کو   مسخ کرنے کے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ مگر دین حق کی پہچان اور نام نہاد مسلمانوں کے عزائم و عقائد اور طریقہ واردات کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے علماء حق کی جماعت جس کا نبی کریمﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے ایک جماعت لازمی حق پر قائم رہے گی (جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے دن رات جہا د بالقلم ‘ باللسان بالمال) کرتی رہے گی۔ اس مذکورہ موضوع پر علماء حق نے خصوصا اور ہر ابھرتے ہوئے فتنے کے بطلان کے لیےعموماً تحریر تقریر کا سیلاب بہا دیا۔ اگرچہ اس موضوع پر پہلے بہت سی کتب لکھی گئیں مگر ہر کتاب اور رائٹر کا اپنا طریقہ تحریر ہے ہر کسی کی کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب (وسیلۃ النجاۃ باداء الصلوۃ والحج والزکوٰۃ) نواب صدیق الحسن خاں صاحب﷫ کی تالیف مولانا کی کثیر العدد تصنیفات میں سے قابل ذکر ہے جس میں مولانا موصوف کا اولین مقصد دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اصلاح و رہنمائی کا پہلوں تھا۔ جس میں انہوں نے اسلام کی اساسیات کے متعلق بحث کرتے ہوئے بے عمل و سست گام لوگوں کی اصلاح کے لیے ایک جامعہ اور تحقیقی نصاب زندگی کو جمع کرنے کی کوشش میں شب وروز کی محنت سے کفر و نفاق ‘شرک وبدعت ‘عقیدہ وعمل کی گمراہیوں سے نقاب کشائی کی ہے اور اہل باطل کے دجل و فریب کاری کو ہر لمحہ نوک قلم لا کر متلاشیان حق کے لیے ارکان اسلام کی فضیلت و اہمیت اور ان کی ترغیب کے لیے قرآن و سنت ‘اسلاف کی زندگی کے واقعات سے وضاحت کرتے ہوئے عامۃ الناس کی رہنمائی کا سامان کیا ہے۔ اس کتاب کی تصحیح‘ آیات قرآنیہ کے حوالا جات ‘فقرو کی تعیین کا کام ادارۃ البحوث الا سلامیہ کے رکن مولوی عبد الوہاب حجازی صاحب نے سر انجام دیا۔ اس سے قبل اڈیشن میں فہرست موجود نہیں تھی تو اس اڈیشن میں موصوف نے اس خلا کو بھی پر کر دیا ہے۔ اس کی اشاعت ادارۃ البحوث الاسلامیہ والدعوۃ والافتاء الجامعہ السلفیہ بنارس ‘الھند ‘‘نے 1981ء میں حاصل کی۔ اس ادارہ کا مقصد تحقیق و ریسرچ کی غرض سے اسلام کے اہم موضوعات اور اسلام کے خلاف اعتراضات کے تسلی بخش جوابات اور فتویٰ نویسی ہے۔ اللہ تعالیٰ نواب صدیق الحسن خاں صاحب﷫ اور ان کی اس دینی خدمت کو شرف قبولیت سے نوازے ‘ادارۃ البحوث الاسلامیہ کی خدامات کو متلاشیان حق کے لیے فائدہ مند بنائے۔ آمین(ظفر)

  • title-page-ya-ayyohalazeen-aamanoo
    خالدہ تنویر
    یوں تو قرآن پاک مکمل ہی ہدایت ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو خاص طور سے مخاطب کر کے کوئی بات کہتا ہے تو اس سے ایک طرح کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور دل خود بخود متوجہ ہوتا ہے کہ دیکھیں کیا بات کہی جا رہی ہے۔ عام زندگی میں بھی کسی کو نام لے کر پکارا جائے تو سننے والا پوری توجہ اور دھیان سے بات سننے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اور خاص طور پر متوجہ کرنے کے لیے یہی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں بار بار اللہ تعالیٰ  یا ایہا الذین اٰمنو (اے ایمان والو!) کہہ کر ہمیں بڑی محبت سے بلاتا ہے۔ اس کتاب میں قرآن کے وہ تمام مقامات یکجا کر دئے گئے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارا نام لے کر مخاطب کیا ہے اتنی کامیاب ہدایات خاص ہمارے ہی لیے رب دو جہاں نے نازل فرمائی ہیں۔  یوں تو ہم ان ہدایات کو قرآن میں پڑھتے ہی ہیں لیکن ایک ہی جگہ ان سب ہدایات کے مجموعے کو پڑھنا ان شاء اللہ ضرور مفید ہوگا۔ساتھ ہی کچھ تشریحی نوٹس بھی دئے گئے ہیں تاکہ ان آیات سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔


  • untitled-1
    شعبہ تصنیف و تالیف دار السلام
    فی زمانہ ہمارا معاشرہ جنات و جادو اور آسیب کے حوالے سے جعلی عاملوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ ہرجگہ جادوگروں اور عاملوں کے آویزاں اشتہارات اور ان پر موجود بہت سے جانفزا نعرے عوام الناس کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اسلام ایک فطری دین ہے جس نے ہر پیش آمدہ مسئلے کا فطری حل بھی بتایا ہے۔ جادو و جنات کے توڑ کے لیے بھی اسلامی تعلیمات نہایت جامع ہیں۔ پیش نظر کتاب میں انھی تعلیمات کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ ’مکتبہ دارالسلام‘ ہدیہ تبریک کا مستحق ہے کہ اس نے اس اہم موضوع پر کتاب و سنت کی روشنی میں عوام الناس کی رہنمائی کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ کتاب میں جہاں جنات و شیاطین، جادوگروں، نام نہاد عاملوں کی حقیقت واشگاف کی گئی ہے وہیں شیاطین سے بچاؤ کے طریقوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ جن، جادو، آسیب اور نظر بد کا علاج ایسے آسان اسلوب میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن و حدیث سے شناسائی رکھنے والا عام سا آدمی بھی ان پر عمل پیرا ہو کر جنات و شیاطین کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-preshaniyon-aur-mushklat-ka-hall-copy
    حافظ محمد حمزہ کاشف

    دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تماممصائب وآلام بیماری اور تکالیف  سب کچھ  منجانب اللہ ہے  اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا  حصہ ہے  کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ  کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں  سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں  مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ  اطاعت پرمضبوط  ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ  انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی  تقاضا ہےکہ  وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے  اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک  ان کے   اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا  نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے  ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے  شمار گناہوں کو  معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی  ضرورت  ہے  یعنی نفس پر اتنا  قابو  ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس  میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں  وہ  اداس اور بدل نہ  ہو۔ زیر نظر کتاب ’’پریشانیوں اور مشکلات کاحل ‘‘ محترم حافظ  محمد  حمزہ کاشف اور جناب ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن  حفظہمااللہ کی مشترکہ کاوش ہے ۔مصنفین نےاس کتاب کی ترتیب کےوقت اس موضوع کی اکثر کتب بالخصوص عامر محمد ہلالی کی کتاب ’’مشکلات کا مقابلہ کیسے کریں؟‘‘ کومدنظر رکھا ہے۔قارئین کی سہولت کی خاطر کتاب کو حسب ذیل  چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔آزمائش اور تقدیر الٰہی ،آزمائشوں میں خیر وبرکات کےپہلو،سوچنےکا عمدہ انداز اور خوش رہنے کے قاعدے ،آزمائش میں نیک لوگوں کا طرز عمل ،آزمائش سے پہلے اور بعد۔ یہ کتاب پریشانیوں کا احساس کم کرنے اور غموں کےزخموں پر مرحم رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ (ان شاء اللہ) فاضل محقق مولانا محمدارشد کمال﷾ کی تحقیق کے ساتھ اس کتاب  کی افادیت اور ثقاہت میں مزید اضافہ ہوگیاہے ۔اللہ تعالیٰ اس کاوش کومؤلفین  اور جملہ معاونین کےلیے  صدقہ جاریہ  بنائے اور اہل ایمان کو  مصائب اور پریشانیوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-preshaniyon-aur-mushklat-ka-hall-jadeed-audition--copy
    ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

    دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہیں اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔دنیاوی زندگی کے اندر انسان کوپہنچنے والی تکالیف میں کافر اور مومن دونوں برابر ہیں مگر مومن اس لحاظ سے کافر سےممتاز ہےکہ وہ اس تکلیف پر صبرکرکے اللہ تعالیٰ کےاجر وثواب اور اس کےقرب کاحق دار بن جاتا ہے۔اور حالات واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ مومنوں کوپہنچنے والی سختیاں تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کافروں کوپہنچنے والی سختیاں ،تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں۔مصائب، مشکلات ، پریشانیوں اور غموں کے علاج اور ان سےنجات سےمتعلق کئی کتب چھپ چکی ہیں ہرایک کتاب کی اپنی افادیت ہے۔  زیر نظر کتاب ’’پریشانیوں اور مشکلات کاحل ‘‘ محترم حافظ محمد حمزہ کاشف اور جناب ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن حفظہمااللہ کی مشترکہ کاوش ہے ۔مصنفین نےاس کتاب کی ترتیب کےوقت اس موضوع کی اکثر کتب بالخصوص عامر محمد ہلالی کی کتاب ’’مشکلات کا مقابلہ کیسے کریں؟‘‘ کومدنظر رکھا ہے۔قارئین کی سہولت کی خاطر کتاب کو حسب ذیل ساتھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اوروہی مشکل دورکر سکتا ہے۔ آزمائش اور تقدیر الٰہی۔  آزمائشوں میں خیر وبرکات کےپہلو۔ سوچنےکا عمدہ انداز اور خوش رہنے کے قاعدے ۔ آزمائش میں نیک لوگوں کا طرز عمل ۔ آزمائش سے پہلے اور بعد۔ جادواورنظر بد سےبچاؤ کےطریقے ۔  آخری باب میں عرب علماء کا موقف بالعموم اور شیخ وحید عبدالسلام بالی کا موقف اوران کے تجربا ت بالخصوص پیش کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب پریشانیوں کا احساس کم کرنے اور غموں کےزخموں پر مرحم رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ (ان شاء اللہ) فاضل محقق مولانا محمدارشد کمال﷾ کی تحقیق کے ساتھ اس کتاب کی افادیت اور ثقاہت میں مزید اضافہ ہوگیاہے ۔اللہ تعالیٰ اس کاوش کومؤلفین اور جملہ معاونین کےلیے صدقہ جاریہ بنائے اور اہل ایمان کو مصائب اور پریشانیوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن موجود ایڈیشن میں ساتویں باب کااضافہ کیا گیا ہے جو تقریبا100 صفحات پر مشتمل ہے۔ لہذا اسے بھی سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-pehla-zena
    ابو انشاء قاری خلیل الرحمن جاوید
    عذاب  قبر دین اسلام کے    بنیادی  عقائد میں   سے  ایک  اہم  عقیدہ   ہے۔ عقلی وعلمی گمراہیوں میں غرق   بے دین افراد عذاب قبر کا  انکار کرتے ہیں ۔لیکن حقیقت یہی  ہے  کہ عذاب  قبر  برحق ہے اور اس کے اثبات پر کتاب  وسنت میں بے شمار دلائل موجود  ہیں۔تمام  اہل علم کا اس کے اثبات  پر اجماع ہے، اور وہ اسے برحق مانتے  ہوئے  اس  پرایمان رکھتے ہیں۔  عقیدہ  عذاب  قبر اس قدر اہم ہے کہ اس پر  امام  بیہقی ،امام ابن قیم ، اما م جلال الدین سیوطی ، اورامام ابن رجب ﷭  جیسے کبار محدثین اور آئمہ   کرام نے  باقاعدہ کتب  تالیف فرمائی  ہیں۔ نبی کریمﷺ کی صحابہ کو عذاب قبر سے  پناہ مانگنے کی تلقین،  اور  دور نبویﷺ  میں  پیش آنے  والے  کئی واقعات  عذاب   قبر کےبرحق ہونے پر  دال ہیں۔مگر عقلی گمراہیوں  میں مستغرق بعض  بے دین حضرات نے محض اس وجہ سے عذاب قبر کا انکارکردیا کہ یہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے،  اور ہماری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی ہے۔ ان کی یہ بات انتہائی جاہلانہ اور احمقانہ  ہے،  کیونکہ اس کائنات میں کتنی ہی ایسی اشیاء ہیں، جن کا وجود مسلم ہے، لیکن ہمیں وہ نظر نہیں آتی ہیں۔  زیر نظر کتاب    ابو انشاء قاری خلیل الرحمن جاوید کی کاوش ہے ،جس میں  عذاب قبرکے متعلق جو مختلف شکوک شبہات  ونظریات محض عقلی بنیادوں پر پائے جاتے  ہیں، کتاب وسنت کی روشنی میں ان کا  کافی وشافی جواب دیا گیا ہے  اور دلائل وبراہین سے ثابت کیا گیا ہے کہ  عذاب قبر برحق ہے ۔(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-pehli-wahi-ka-pegham-copy
    عبد اللطیف حلیم

    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتا پھر آپ نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہی عبادت میں گذاراکرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل آمین کے ذریعے آپ پر وحی کا نزول ہوا۔پہلی وحی میں سورۂ علق کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئی تھیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پہلی وحی کا پیغام ‘‘محترم جناب مولانا عبداللطیف حلیم ﷾کی پہلی تحریر ی کاوش ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک منفرد انداز میں پہلی وحی میں ناز ل ہونےوالی آیات کی تشریح وتوضیح کو آسان فہم انداز میں بیان کرتےہوئے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی توحید کا اثبات کیا اور شرک کی تردید کی ہے ۔(م۔ا)

  • 1
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    نبی کریمﷺ اور خلفائے راشدین سے آٹھ رکعت تراویح کا ثبوت ملتا ہے لیکن کیا کیجئے ائمہ کی اندھی تقلید کا کہ صریح ثابت شدہ سنتوں کو بھی بے عمل کرنے میں بھی باک محسوس نہیں کیا جاتا۔ ہمارے مقلدین حضرات واضح احادیث رسولﷺ ہونے کے باوجود بیس رکعات تراویح ہی کو سنت رسولﷺ قرار دینے پر بضد ہیں۔ بہرحال اس موضوع پر افہام و تفہیم کے انداز میں گفتگو ہونی چاہئے اور فریقین کو اس مسئلہ کو نزاعی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ زیر نظر کتاب ’پیارے رسولﷺ کی پیاری تراویح‘ ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی حفظہ اللہ کی ایک نئی کاوش ہے جس میں وہ تروایح کے تقریباً تمام مسائل و احکام کو لے آئے ہیں۔ نماز تراویح کے فضائل، اہمیت، طریقہ کار اور مسنون تعداد بیان کرتے ہوئے ان فرق کا رد کیا ہے جو بیس رکعت تراویح کے قائل ہیں۔ اگرچہ یہ بحث صرف تقریباً 15 صفحات پر مشتمل ہے۔ حالانکہ اس کو مزید پھیلایا جا سکتا تھا اور باقی کچھ اضافی چیزوں کو کم کیا جا سکتا تھا۔ وتر سے متعلقہ مسائل بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-pegham-e-touheed-w-risalatpbuh
    احمد صدیق قصوری

    تمام انبیاء کرام ﷩ ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔زیر نظر کتابچہ ''پیغام ِتوحید ورسالت'' محترم احمد صدیق قصوری کا تالیف کردہ ہے۔جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ آیات و احادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز اختیار کرتے ہوئے عقیدۂ توحید ورسالت کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔اس میں تہذیب وترتیب کا کا م حافظ اختر علی ارشد﷾( فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ، سابق رکن مجلس التحقیق الاسلامی،لاہور) نے انجام دیا ہے اللہ تعالی فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) ( م ۔ ا )

     

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1812 مہمان آن لائن ہیں اور اراکین میں سے ایک رکن موجود ہے۔

  • jalal

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں