• title-pages-koundon-ki-haqeeqat-copy
    محمود الحسن بدایونی

    رجب کے مہینےمیں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا جن بعض اعمال کوفضیلت کےساتھ کے بڑھا چڑہا کر بیان کیاجاتا ہے وہ محض فرضی قصے اور ضعیف و موضوع روایات پر مبنی داستانیں ہیں لہذا جواعمال کتاب وسنت سےثابت ہیں ان پر عمل کرنا چائیے مسلمان اس ماہِ رجب میں کئی قسم کے کام کرتے ہیں مثلا صلاۃ الرغائب، نفلی روزں کا اہتمام ، ثواب کی نیت سے اس ماہ زکاۃ دینا وغیرہ اور 22 رجب کو کونڈوں کی رسم اداکرنا 27 رجب کو شب معراج کی وجہ سے خصوصی عبادت کرنا، مساجد پر چراغاں کرنا جلسے وجلوس کااہتمام کرنا،آتش بازی اور اس جیسی دیگر خرافات پر عمل کرنایہ سب کام بدعات کے دائرے میں آتے ہیں ۔ماہِ رجب کی 22 تاریخ کو خصوصا خواتین امام جعفر صادق ﷫ کے نام پر مٹی کے چھوٹے چھوٹے پیالے (کونڈے) حلوہ وغیرہ سےبھر کر گھروں میں تقسیم کرتیں ہیں اوراس کےفیوض وبرکات پر عجیب وغریب داستانیں سناتیں ہیں جبکہ حقیقت میں شریعت میں ماہِ رجب میں اس قسم کی بدعات کا کوئی تصور نہیں او رنہ ہی اس طرح کی ماہ رجب میں دیگر رسومات جوموجودہ دور میں ہیں ان کا اسلام سے تعلق ہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’کونڈوں کی حقیقت‘‘ اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی محمود الحسن بدایوانی سے 1970ء میں ماہ رجب میں کی جانے مختلف اور کونڈوی کی شرعی حیثیت کے متعلق استفتاء کا جواب پر مشتمل ہے ۔مفتی موصوف نے قرآن وسنت کی روشنی میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے لکھا کہ کونڈوں کی مروجہ رسم مذہب اہل سنت والجماعت میں محض بے اصل ،خلاف شرع اور بدعت محدثہ ممنوعہ ہے ۔ کیونکہ نہ نبی کریم ﷺسے اس کا ثبوت ہے نہ صحابہ کرام وتابعین عزام﷭ سے اورائمہ اسلام سے منقول ہے۔لہذا برادران اہل سنت والجماعت کو اس لغو رسم سے دور رہنا چاہیے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو اس رسم کے پاس پھٹکنے نہ دیں نہ خود اس رسم کو بجا لائیں اور نہ اس میں شرکت کر کے دشمنان حضرت امیر معاویہ کی خوشی میں شریک ہوکر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں۔اس فتوے پر اس وقت کے اکابر مفتیان نے دستخط فرمائے ۔جن میں مفتی محمد شفیع، مولانااحتشام الحق تھانوی ، مفتی ولی حسن ٹونکی،سید عبد الجبار، مولانا ابو الفضل عبد الحنان ، مولانا مفتی عبد القہار وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔اس قدیم متفقہ فتویٰ کو قارئین کے استفادہ کے لیے اب کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا ہے ۔اللہ اسے لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-kundon-ki-kahani-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    ماہِ رجب کی 22 تاریخ کو خصوصا خواتین امام جعفر صادق ﷫ کے نام پر مٹی کے  چھوٹے چھوٹے پیالے  (کونڈے) حلوہ وغیرہ سےبھر کر گھروں میں تقسیم کرتیں ہیں اوراس کےفیوض وبرکات پر عجیب وغریب داستانیں سناتیں ہیں جبکہ حقیقت میں شریعت میں  ماہِ رجب میں اس قسم کی بدعات کا کوئی تصور نہیں او رنہ ہی اس طرح کی ماہ رجب میں دیگر رسومات جوموجودہ دور میں ہیں۔ اسلام نے انکا  کوئی تصور پیش کیا ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’کونڈوں کی کہانی ‘‘محترم مولانا محمد عظیم حاصلپوری﷾ کی ایک اہم تحریری  کاوش  ہے جس میں  انہوں نے مختصر طور پر کونڈوں کی کہانی  او رماہِ رجب میں کئے جانے والے افعال کا جائزہ  لیتے ہوئے  ان کی شرعی حیثیت کوواضح کیا ہے۔موصوف  اس کتابچہ کے علاوہ  بھی کئی کتب کےمترجم   ومصنف ہیں اور  ماہنامہ  ’’ندائے امت کےچیف ایڈیٹربھی ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تدریسی ،دعوتی،تحقیقی  وتصنیفی اور صحافتی  خدمات  کوقبول فرمائے اور اس کتابچہ ہذا کو  عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

  • title-page-khulla-khat
    ریاض احمد
    یہ  خط جناب ریاض احمد صاحب نےلکھا ہے ریاص صاحب پہلے ایک پیر جناب محمدشریف خلیق کے مرید تھے عرصہ پندرہ سال ان کے حلقہ بیعت میں رہے بعدازاں وہ سعودی عرب گئے جہاں ای موحدعالم جناب مولانا اقبال کیلانی سے گفت وشنید کے مواقع میسر آئے مولانا اقبال کیلانی نے انہیں قرآن وسنت کے مطالعہ کی لف راغب کیا جس کے نتیجے میں میں وہ اپنے عقائد ونظریات سے دستبردار ہوگئے جو انہوں نے کتاب وسنت سے لاعلمی کے نتیجہ میں اپنارکھے تھے فکرونظر کی تبدیلی کے بعد جناب ریاض احمد صاحب نے نصیحت او رخیر خواہی کے پیش نظر اپنےساتھ پیر کو خط لکھا حس میں بڑے احسن پیرایے میں ان کے افکار ونظریات کےبارے میں چندسوالات کیے لیکن ہنوز ان کی طرف جواب نہیں آیا اور انشاء اللہ آ بھی نہیں سکتااس لیے باطل عقائد وافکار کے حق میں کتاب وسنت  کے دلائل کیونکر پیش کیے جاسکتے ہیں ہر مسلمان کو اس کھلے خط کامطالعہ کرنا چاہیے اس سے جہاں نام نہادپیروں  کے ذاتی کردار سے واقفیت ہوتی ہے وہیں ان کے گمراہ کن خیالات سے بھی آگاہی ہوگی جس سے صحیح عقیدہ کو پہنچاننے  میں آسانی ہوگی -



  • title-pages-kia-nabi-e-rahmatpbuh-maghmoom-b-ho-jate-thae
    ڈاکٹر رانا محمد اسحاق
    بعض لوگوں کا  عقیدہ کہ نبیﷺ عام  انسانوں کی  طرح  پریشان ومغموم نہیں ہوتے تھے جبکہ یہ  عقیدہ  صریحا اسلامی عقاید اور  سلف صالحین کے عقیدہ کے خلاف ہے  کیونکہ جتنے بھی انبیاء اور رسل اللہ تعالی نے معبوث فرمائے وہ سب کے سب نسل آدم علیہ  السلام میں سے  انسان اور بشر ہواکرتے تھے اور اللہ نے  بشر کوہی  اشرف المخلوقات قرار دیاہے  بشر کایہ خاصہ ہےکہ  وہ دنیا  میں غم،خوشی ،دکھ ،سکھ غرضیکہ دنیا میں ہر قسم کے اثرات سےمتاثر ہوتا ہے   چونکہ نبی رحمت حضرت محمد بن عبد اللہ  بشرتھے اللہ   تعالی  نے ان  کوافضل البشر اور خاتم الانبیاء بناکر دنیا میں مبعوث فرمایا  لہذا بتقاضائے بشریت ان کا غم اور خوشی کے اثرات سے متاثر ہونا ضروری ہے ۔ نیز یہ عقیدہ یا خیال رکھنا کہ وہ مغموم نہیں ہوسکتے تھے  دین میں غلو اور عقیدہ اسلام کے منافی ہے ۔محترم ڈاکٹر رانامخمد اسحاق   ( فاضل مدینہ  یونیورسٹی  جوکہ  متعدد  کتب  کے  مؤلف  ہیں )نے زیر نظر کتابچہ  میں قرآن  واحادیث کی  روشنی میں  متعدد قرآنی آیات و احادیث اور اقعات  پیش کر کے  ثابت کیا ہےکہ نبی ﷺ بھی عام انسانوں کی طرح مغموم ہوجایا کرتےتھے ۔(م۔ا)

  • tilte-pages-kia-nabi-kareemsawwhazir-nazir-hain
    شیخ عبد الرحمن امین
    یہ کتاب شیخ عبدالرحمٰن امین کی تالیف ’الرد الباہر فی مسئلۃ الحاضر والناظر‘ کا اردو ترجمہ ہے، اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ ’نبی کریمﷺ ہر جگہ حاضر  ناظر نہیں ہیں۔‘ نہ آپ اپنی زندگی میں ہر جگہ حاضر و ناظر تھے اور نہ وفات کے بعد۔ یہ عقیدہ بعض بدعتی لوگوں کی ایجاد کردہ ہے جو سراسر ضلالت و گمراہی پر مبنی ہے۔اس کتابچہ میں بدعقیدہ اور بدعتی لوگوں کے دلائل کی حقیقت بے نقاب کی گئی ہے اور کتاب و سنت سے حق واضح کیا گیا ہے۔ ترجمہ میں حسب ضرورت کچھ اضافے کیے گئے ہیں اور بعض غیر اہم عبارات کا ترجمہ عمداً ترک کر دیا گیا ہے۔ نیز بعض عبارتوں میں مناسب تقدیم و تاخیر بھی کی گئی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-kia-nabi-kareemsawwhazir-nazir-hainjadeed-auditoin-copy
    شیخ عبد الرحمن امین

    اللہ  کے رسول  ﷺ کے بارے میں  یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ  ہر جگہ حاضر او رہر چیز کودیکھتے ہیں ،عقل ونقل ہر دو کےخلاف ہے ۔ نہ آپ اپنی زندگی میں ہرجگہ حاضرو ناظرتھےاور نہ وفات کے بعد۔ یہ عقیدہ بعض بدعتی لوگوں کا ایجاد کردہ ہے جو سراسر ضلالت و گمراہی پر مبنی ہے۔اہل بد عت  نے  یا تو انتہائی ضعیف اور موضوع روایات واحادیث کا سہارا لیا ہے ۔اور یا پھر صحیح احادیث کی غلط تاویلات کی ہیں ۔اوریہ سب کچھ وہ نبی کریم ﷺ کی  شان میں غلوکی بنا پر کرتے ہیں۔قرآنی آیات ،احادیثِ رسولﷺ اوراقوال ِ سلف ﷫ سے اس باطل عقیدہ کی تردید ہوتی ہے ۔زیر نظرکتابچہ ’’کیا نبی اکرم ﷺ حاضر وناضر ہیں؟‘‘شیخ عبد الرحمن امین ﷾کی کتاب ’’الرد الباهر في مسئلة الحاضر والناظر‘‘کا اردو ترجمہ ہے ۔جس میں  انہوں نے  نبی کریم  ﷺکے ہر جگہ او رہر وقت  حاضر وناضر کے  باطل عقیدہ کی قرآنی آیات ،احادیثِ رسولﷺ اوراقوال ِ سلف ﷫ سے تردید کرتے ہوئے ۔اہل بدعت  کے اس باطل عقیدہ کے دلائل کی حقیقت کو  بھی  خوب بے نقاب کیا ہے ۔تقریبا15 سال قبل  مجلس  التحقیق الاسلامی نے  اس کتابچہ  کو طباعت سے آراستہ کیا۔ اس  کتابچہ کی افادیت کے پیش نظر اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پر  اپ لوڈ کیا گیا ہے ۔اللہ تعالی اس کتاب کو  لوگوں کے عقائدکی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) ( م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-keya-hum-allah-ka-adab-kartey-hain
    عبد المنان راسخ

    ادب ہر کام کے حسن کا نام ہے اور سایۂ ادب میں جو الفاظ نکلیں وہ جادو سے زیادہ اثر رکھتے ہیں کیونکہ ادب ایک روشنی ہے جس سے زندگی کی تاریکیاں ختم ہوتی ہیں ۔ ادب ایک الۂ اصلاح ہے جس سے زندگی کی نوک پلک سنور تی ہے ۔ ادب ایک دوا ہے جس سے مزاج کے ٹیڑھے پن کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، ادب ایک جوہر ہے جس شخصیت میں پختگی آتی ہے اور ادب ایک ایسا آب حیات ہے کہ جو جی بھر کر پی لے وہ زندگی کاسفر کامیابی سے کرتے ہوئےپیاس محسوس نہیں کرتا ، بلکہ تروتازہ چہرہ لےکر اپنے خالق ومالک کے حضور پیش ہوجاتا ہے۔لیکن آج لوگ دنیا کے ااقتدار کی توبہت فکر کرتے ہیں مگر ذاتِ الٰہ کی فکر سے غافل ہیں ۔اپنے آداب کےلیے ہزاروں جتن ہوتے ہیں مگر شہنشاہ کائنات کے آداب کوبروئے کار لانے کےلیے حددرجہ غفلت کی جاتی ہے اورتاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب خودی کوخالق کےآداب پرمقدم کردیا جائے تو تباہی وبربادی کےسیلاب سے بچنا مشکل ہی نہیں بسا اوقات ناممکن ہوجاتاہے بعینہ یہی کیفیت آج امت مسلمہ کی ہے ۔کسی کے دربار میں بغیر آداب کے رونا فضول ہے تو پھر شہنشاہ کائنات کے سامنے آداب کاخیال رکھنا کس قدر ضروری ہے۔ انسانیت کا دوسرا نام ادب ہے۔ اور ادب کا دوسرا نام انسانیت ہے۔ یعنی جو بادب ہے وہ انسان ہے اور جو بے ادب ہ ےوہ انسانی شکل میں بدترین حیوان ہے ۔اور ہمارا سارا دین ادب ہے۔ ادب الٰہ کا معنی یہ ہےکہ اپنے خالق ومالک کی خوشنودی ورضا جوئی کے لیے دین کے مطابق ایسا اعلیٰ سلیقہ، عمدہ طریقہ اور اچھا انداز اپنانا جو قابل تحسین اور باعث تعریف ہو ۔ جس سے واضح معلوم ہو کہ بندہ اپنے الٰہ کو صرف مانتا ہی نہیں بلکہ اس کےدربار کےآداب سےبھی بخوبی آگاہے ۔سادہ لفظوں میں ادب الٰہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی وبڑائی کومان کر اس کے سامنے بے بسی ، بے حیثیتی ، عاجزی وانکساری کاہر ایک تقاضا اس انداز سےپورا کرنا کہ جس میں عمدگی، نفاست اوراعلیٰ تہذیب نظر آئے اور کوئی ایسی عادت وحرکت سرزد نہ ہو جو شہنشاہ کائنات کی عزت ،عظمت، بزرگی اور شان کے خلاف ہو ۔ غرض کہ اپنے الٰہ کی شایان شان معاملہ کرنا ادب ہے۔نبی کریم ﷺ نے ساری زندگی ادبِ الٰہی کےتقاضوں کوپورا کرتےہوئےبسر کی۔ آپ نےقدم قدم پہ ادبِ الٰہ کی ایسی عظیم مثالیں پیش فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نےآپﷺ کی اس صفت کوقرآن مجید میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ اے میرے محبوب ﷺ آپ   آداب کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔آپ ﷺ کوادب الٰہ میں درجہ کمال اس لیے بھی حاصل تھا کہ آپ ﷺ کوتمام آداب اللہ تعالیٰ نے خود سکھلائے جس طرح کہ آپ ﷺ کافرمان ہے: أدبني ربي فأحسن تأديبي میرے رب نےمجھے ادب سکھلایا اور بہترین ادب سکھلایا۔آپ ﷺ نےاللہ تعالیٰ کی تعظیم ،احترام اور ادب میں کس قدر عالی مقام پایا اس کی مکمل جھلک مولانا ابو الحسن عبد المنان راسخ ﷾ نے زیرتبصرہ کتاب ’’کیا ہم اللہ کاادب کرتے ہیں؟ ‘‘میں قرآن وحدیث کی روشنی میں بڑے آسان فہم اندازمیں پیش کی ہے۔فاضل مصنف نےاس کتاب میں ادب ِالٰہی کے10 تقاضے بہت اختصار اور جامعیت سے بیان کیے ہیں جن کو پورا کرنے سے بندہ اپنےخالق ومالک کا بادب بن جاتا ہےاوران سے انحراف کرنے والاادب کی دولت سے محروم اور ناکام رہتا ہے۔ ادب الٰہ کے 10 تقاضوں کوجامعیت کےساتھ بیان کرنے کےبعد موصوف نے جعلی ادب کو بھی بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتاب غیر ثابت شدہ روایات وواقعات سے مکمل پاک ہے ۔اگرچہ اس میں خطیبانہ انداز غالب ہے ۔کیونکہ یہ مصنف کے مرکزی مسجد مومن آباد، فیصل آباد میں پڑہائے گئے خطبات کا مجموعہ ہے۔کتاب ہذا کے مصنف مولانا ابو الحسن عبد المنان راسخ ﷾ جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے مدرس ، خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں۔ تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے   چھ کتابیں(خشبو ئے خطابت، ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب، حصن الخطیب، بستان الخطیب ، مصباح الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ( آمین) (م۔ا)

  • title-pages-ghustakh-e-rasool-ki-saza
    علامہ محمد بن علی محمد البعلی الحنبلی

    رسول کریم ﷺ کی عزت،عفت، عظمت اور حرمت اہل ایمان کا جز وِلاینفک ہے اور حبِ رسول ﷺ ایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے عصر حاضر میں کفار ومشرکین کی جانب سے نبوت ورسالت پر جو رکیک اور ناروا حملے کیے گئے دراصل یہ ان کی شکت خودردگی اور تباہی وبربادی کے ایام ہیں نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا قتل کے حوالے سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت میں بے شمار واقعات موجود ہیں ۔ شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫ کی متنوع خدمات کادائرہ بہت وسیع ہے آپ نے ہر میدان میں دفاع او رغلبۂ اسلام کی خاطر خدمات سرانجام دیں ۔ شیخ الاسلام کی مساعی جمیلہ میں سے ایک خوبصورت کارنامہ '' الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ ''ہے جو کہ آپ نے ایک عساف نصرانی کے جواب میں تصنیف فرمائی جس کا ترجمہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے ۔زیر نظرکتاب '' گستاخ رسول کی سزا'' دراصل مختصرالصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ کا اردو ترجمہ ہے یہ اختصار آٹھویں صدی ہجری کے علامہ محمدبن علی الحنبلی(متوفی778ھ) نے کیا اور اس کے ترجمہ کی سعادت محمدخبیب﷾ نے حاصل کی اور ادارہ تحقیقات سلفیہ ،گوجرانوالہ نے اسے حسن طباعت سے آراستہ کیا ہے صاحب اختصار نے '' الصارم المسلول'' میں موجود تمام آیات واحادیث ،اجماع،آثارصحابہ اور ان سے استدلال واجتہاد کو حسن ترتیب سے چن لیا ہے کہ جس سے استفادہ کرنا ہر خاص وعام کے لیے آسان ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالی کتاب ہذا کےمصنف ،مترجم ،اور ناشرین کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-ghustakhanerasoolshariyatkiadaalatme
    ابوثوبان غلام قادر جیلانی
    انبیا کی جماعت میں سے سب سے زیادہ افضل شخصیت حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کا تقدس و تفوق ہمیشہ مسلم اور غیر مسلم سب انسانوں کے ہاں مسلمہ رہا ہے۔ بد قسمتی سے دور حاضر میں سیکولر ازم کا بہت زور ہے اس لیے کسی بھی شریعت اور نبوت کااحترام باقی نہیں بچا۔ اس سلسلہ میں اب نعوذ باللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے میں باک محسوس نہیں کیا جا رہا۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں ابوثوبان عبدالقادر نے اسی ضمن میں گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیوی اور اخروی انجام پر روشنی ڈالی ہے۔ (ع۔م)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-gunahon-ki-daldal-mein
    خالد ابو صالح

    انسان   کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک   کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’گناہوں کی دلدل میں ‘‘خالد ابو صالح کی عربی تصنیف کا ترجمہ ہےاردو قالب   میں ڈھالنے فرائض حافظ محمد عباس انجم گوندلوی ﷾ نےانجام دئیے ہیں۔تاریک زندگیوں کو تابناک اور پر نور لمحات میں بدلنے والے یہ مبارک لمحات ہی اس کتاب میں بیان کئے گئے ہیں۔اس کتاب میں ان لوگوں کی زندگیوں کانقشہ کھینچا گیا ہے کہ جنہوں نے اللہ اور اس کےرسول ﷺسے نافرمانی کی بنا پرجنگ چھیڑرکھی تھی۔ وہ مسلسل نافرمانی اور سیاہ کاری کی بنا پر جہنم کےکناروں تک پہنچ چکے تھے ، اور ان سے کوئی ایسا عمل سر زد ہوگیا کہ رحمت ایزدی جو ش میں آگئی ، ان کی ادا رب کریم کو پسند آگئی اوراس نے اپنی رحمت سے ان کی زندگی میں ایک خاموش عظیم انقلاب کے ذرائع پیدا کردیے ۔گناہوں کےسمندر میں ڈوبنے کےبعد ہدایت پانیوالوں کی روشن ایمان افروز اور دلوں کوتڑپا دینے والی داستانیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ ہم کس طرح زندگی گزار رہے اور ہمیں کس طرح زندگی گزارنی چاہئے؟ کہ جس سے معاشرہ بھی ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھے، دنیا بھی ہر اعتبار سے کامیاب ہو ، آخرت میں جہنم سےنجات اور اللہ کی رضا وخوشنودی کاپروانہ بھی مل جائے ۔ گناہوں کےسمندر میں ڈوبنے کےبعد ہدایت پاکر ایمان کےساحلوں پر زندہ پہنچ جانےوالوں کی ایمان افروز داستانوں پر مشتمل یہ کتاب جنت چاہنے اور گناہوں سے بچنے خواہش مندوں کےلیے ایک تحفہ ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشر کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔ اور اس کتاب کو اہل ایمان کی زندگیوں میں تبدیلی کا ذریعہ بنائے اور اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائےمحترم   محمد طاہر نقاش ﷾ کو اور ان کے علم وعمل ،کاروبار میں برکت او ران کو صحت وتندرستی والی زندگی عطائے فرمائے کہ انہوں نے   اپنے ادارے’’ دار الابلاغ‘‘ کی مطبوعات مجلس التحقیق الاسلامی   کی لائبریری اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے   ہدیۃً عنائت کی ہیں۔آمین(م۔ا)

  • title-pages-hadaayat-ul-mustafeed-1
    عبد الرحمن بن حسن آل شیخ
    اخروی فلاح کا معیار توحید وعقیدہ توحید سے شدید وابستگی اور شرک سے براءت پر منتج ہے۔روز قیامت وہی شخص سرخرو ہوگا جس کا دامن توحید سے منور اور شرک کی ظلمتوں سے پاک ہوگا۔اس اعتبار سے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ عقیدہ توحید پر مضبوطی سے کاربند ہو اور شرک کی ظاہری وباطنی آلائشوں سے پاک ہو۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے توحید کی تعلیمات سے آگاہ کرنے کے لیے انبیاء ورسل مبعوث فرمائے ۔پھر علمائے حق نے اس ذمہ داری کو بطریق احسن انجام دیا اور تعلیم وتدریس ،تالیف وتصنیف اور دروس وخطبات کے ذریعے شمع توحید کو فروزاں رکھا اور اس کی ضیاپاشیوں سے جہالت میں گری امت کو عقیدہ کی روشنی فراہم کی ۔توحید کے موضوع پر بہترین کتاب کتاب التوحید ہے جو اس اسلام کے عظیم سپوت اور قاطع شرک وبدعت شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی شاہکار تصنیف ہے ۔کتاب ہذا شرک میں ملوث فرقوں کے خلاف شمشیر بےنیاز ہےاس کتاب کی تشریح کئی علماء نے کی جن میں سے مقبول عام کتاب فتح المجید ہے ۔جو فضیلت الشیخ عبدالرحمن بن حسن آل شیخ کی مرتب کردہ ہے۔اس کتاب کا اردو ترجمہ عطاء اللہ ثاقب نے ہدایۃ المستفید کے نام سے ترتیب دیا ہے۔توحید کی تعلیمات سے بہرہ ور ہونے اور شرک کی تباہ کاریوں سے آگاہی کے متعلق یہ کتاب ایک بہترین انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-hadaayat-ul-mustafeed-2
    عبد الرحمن بن حسن آل شیخ
    اخروی فلاح کا معیار توحید وعقیدہ توحید سے شدید وابستگی اور شرک سے براءت پر منتج ہے۔روز قیامت وہی شخص سرخرو ہوگا جس کا دامن توحید سے منور اور شرک کی ظلمتوں سے پاک ہوگا۔اس اعتبار سے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ عقیدہ توحید پر مضبوطی سے کاربند ہو اور شرک کی ظاہری وباطنی آلائشوں سے پاک ہو۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے توحید کی تعلیمات سے آگاہ کرنے کے لیے انبیاء ورسل مبعوث فرمائے ۔پھر علمائے حق نے اس ذمہ داری کو بطریق احسن انجام دیا اور تعلیم وتدریس ،تالیف وتصنیف اور دروس وخطبات کے ذریعے شمع توحید کو فروزاں رکھا اور اس کی ضیاپاشیوں سے جہالت میں گری امت کو عقیدہ کی روشنی فراہم کی ۔توحید کے موضوع پر بہترین کتاب کتاب التوحید ہے جو اس اسلام کے عظیم سپوت اور قاطع شرک وبدعت شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی شاہکار تصنیف ہے ۔کتاب ہذا شرک میں ملوث فرقوں کے خلاف شمشیر بےنیاز ہےاس کتاب کی تشریح کئی علماء نے کی جن میں سے مقبول عام کتاب فتح المجید ہے ۔جو فضیلت الشیخ عبدالرحمن بن حسن آل شیخ کی مرتب کردہ ہے۔اس کتاب کا اردو ترجمہ عطاء اللہ ثاقب نے ہدایۃ المستفید کے نام سے ترتیب دیا ہے۔توحید کی تعلیمات سے بہرہ ور ہونے اور شرک کی تباہ کاریوں سے آگاہی کے متعلق یہ کتاب ایک بہترین انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-hum-touba-kiyon-nahi-krte-copy
    محمد حسین یعقوب

    انسان   کی خصلت  ہے کہ  وہ  نسیان  سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت  وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے  گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے  کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے  توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے  معبود ومالک   کی ناراضگی  کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ  کریم  کے دربار میں  حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے  کا پکا عزم کرتےہوئے  توبہ کرتا ہے کہ اے  مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے  آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے  احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل  ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں  کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ  ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی  اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم  اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے  دنیاوالو! ہےکوئی  جو مجھ سے اپنے گناہوں کی  مغفرت طلب کرے... ہے  کوئی توبہ کرنے  والا میں اسے  ا پنی  رحمت سے بخش دوں...؟زیر تبصرہ کتاب ’’ہم توبہ کیوں نہیں کرتے ؟‘‘ میں  اسی حقیقت کوزیر  بحث لایاگیا ہے ۔یہ کتاب توبہ سے  محروم رہ جانے والے  بدنصیبوں کا نصیحت آموزاو ر فکر انگیز تذکرہ  ہے ۔امید  ہے کہ یہ کتا ب دلوں میں خشیت الٰہی  پیدا کر کے  آنکھوں سے گرم آنسوبہاکر اللہ  کے دربار میں گڑگراکر توبہ کرنےکی  توفیق کاباعث بنے گے ۔یہ  کتاب جناب  محمد حسین یعقوب  صاحب کی تصنیف ہے ۔ اس عربی کتاب کو اردو قالب  میں  ڈھالنے  کا فریضہ جناب  محترم ابو حمزہ ظفر اقبال  صاحب نے  انجام دیا ہے  ۔اور محترم  محمد طاہر نقاش صاحب  نے اس موضوع کے متعلقہ   مضامین کو اس میں شامل کرکے   طباعت کے عمدہ معیار پر شائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائےمحترم   محمد طاہر نقاش ﷾ کو اور ان کے علم وعمل ،کاروبار میں برکت او ران کو صحت وتندرستی والی زندگی عطائے  فرمائے  کہ انہوں نے   اپنے ادارے’’ دار الابلاغ‘‘ کی تمام مطبوعات  مجلس التحقیق الاسلامی   کی لائبریری اور کتاب وسنت  ویب سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے   ہدیۃً عنائت کی ہیں (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-hm-melad-q-nahi-mante-bajawab-hm-melad-q-manate-hain326327
    عبد الغفارمحمدی

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اس سلسلے میں صحابہ کرام ﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہے متنازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔زیر نظر کتاب '' ہم میلاد کیوں نہیں مناتے ؟'' محترم ابو داؤد عبد الغفار محمد ی﷾کی اس موضوع عظیم کاوش ہے جوکہ در اصل بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مولوی سراج احمد سعیدی کی کتاب'' ہم میلاد کیوں نہیں مناتے ہیں؟ '' کا مدلل جوا ب ہے فاضل مصنف نے کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں مبتدعین،اور مجوزین جشن عید میلاد کا تعاقب کرتے ہوئے اہل بدعت کا منہ توڑ جواب دیاہے اللہ تعالیٰ اس کو شرف قبولیت سے نوازےاور اسے لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-hamare-aqaid-copy
    محمد حنیف یزدانی

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم نے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔عقیدے کے  بعض مسائل ایسے ہیں جو نبی کریم اور مشرکین مکہ کے درمیان متنازعہ فیہ تھے۔اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں جن کا ہر مسلمان کے علم میں آنا انتہائی ضروری ہے ،کیونکہ ان میں اور اسلامی تعلیمات  میں مشرق ومغرب کی دوری ہے۔ان کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"ھمارے عقائد"محترم مولانا محمد حنیف یزدانی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ان تمام مسائل کو جمع فرما دیا ہے جن کو جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے،تاکہ ہر مسلمان ان سے آگاہ ہوجائے اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-youme-hisab-copy
    ہارون یحییٰ

    یوم حساب سے مراد روز ِقیامت ہے۔اس دن لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب اور جزا کے لیے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔قیامت کے روز تمام انسانی اعمال کے حساب وکتاب اور ان کی جزا و سزا کے اثبات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کیں،رسول بھیجے جو احکام شریعت وہ لائے تھے انہیں قبول کرنا اور ان احکام الٰہیہ  پر عمل کرنا واجب ہے۔اللہ تعالیٰ  نےقرآن مجید میں  کئی  مقامات  پر  قیامت اور  یوم حساب کا ذکر کیا ہے ۔زیر نظرکتاب ’’یوم حساب ‘‘ترکی کے  نامور مصنف  ہارون یحییٰ  کی تصنیف ہے ۔جوکہ روزِحساب اور اس روز پیش آنےوالے  واقعات سے اگاہ کرتی  اور اس روز کی سختیوں سےخبر دار کرتی ہے ۔اہم بات یہ  کہ  یوم ِ حساب سب لوگوں کےلیے  حقیقت ہے  او ر اسے  نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کتاب  ہذا آپ کو روزِ حساب کی سچائی او ر اس کی  حقیقیت پر  قرآنی آیات کی روشنی میں  سوچنے  میں مدد دے گی۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو  عوام الناس کے لیے   روزمحشر اور یوم حساب  کی حقیقت کوسجھنے اور اس کی   صحیح تیاری کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

  • title-page-ye-ikhtalaf-kab-tak
    محمد بن صالح العثیمین
    انسانوں میں مسائل ومعاملات کو سمجھنے میں فکرونظر کا اختلاف کچھ اچنبھے کی بات نہیں اس لیے کہ ہر شخص کی سوچ او رفہم وفکر کی صلاحیتیں متفاوت ہیں مزیدبرآں بسااوقات شرعی نصوص میں ایک سے زیادہ معانی کی گنجائش  ہوتی ہے لہذا اختلاف واقع ہوجاتاہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہاختلاف رائے میں رویہ او رانداز کیا ہونا چاہیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی اختلاف ہوئے لیکن انہوں نے ایک دوسرے کی نیت پر حملہ کیا اور نہ ایک دوسرے کو کافر وفاسق کہا آج بھی اسی بات کی ضرورت ہے کہ اختلاف کو علمی دلائل تک محدود رکھاجائے اور کتاب وسنت کی روشنی میں ان کو حل کرنے کی سعی کی جائے لیکن اسے باہمی بغض ونفرت اور حسدو کینہ کا سبب  نہ بنانا چاہیے زیرنظر رسالے میں اسی نکتے پر زور دیا گیا ہے



  • title-page-ye-dar-ye-aastany
    عبد المنعم الجداوی
    زیر نظر کتاب’’یہ در یہ آستانے‘‘دراصل آب بیتی ہے ایسے شخص کی جو تیس سال سے زائدعرصہ تک شرک وبدعت اور اوہام وپرخرافت کے کے بحربیکراں میں غرق حیران وسرگرداں رہا۔بالآخر ایک دن سفینہ توحیدپر سوار ہوکر ساحل حق ونجات سے ہمکنار ہواپھر اپنے اس سفر نامہ توحید کو صفحہ قرطاس کیا تاکہ دنیا کے بیشتر حصوں میں اس کے ہی جیسے حالات اور نفسیاتی کیفیات سے دوچار بے شمار مسلمانوں کےلیے یہ مشعل راہ ثابت ہونہایت ہی مفید کتاب ہے۔


  • pages-from-yeh-nahi-hai-shirak-to-phir-shirak-kis-ka-naam-hai
    محمد اشفاق حسین

    شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے)ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "یہ نہیں ہے شرک تو پھر شرک کس کا نام ہے؟"محترم محمد اشفاق حسین حیدر آبادی کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے لوگوں میں پائے جانے والے مختلف قسم کے شرکیہ نظریات وافکار مثلا بشریت انبیاء،حیات النبی ﷺ،علم غیب سماع موتی،ندائے غیر اللہ،مشرکین کے معبودوغیرہ جیسی شرک کی اقسام کی قباحت اور حرمت کو بیان کیا ہے،اور مشرکین کے دلائل کا دو ٹوک اور مدلل رد فرمایا ہے۔ اللہ تعالی مولف کی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ye-pur-shikwa-kainat-copy
    ہارون یحییٰ

    اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیاں پوری کائنات میں بکھری پڑی ہیں ،جو اس ذات باری کےو جود پر دلالت کرتی ہیں۔دن اور رات کا آنا جانا،سورج چاند اور ستاروں کی گردش ،سر سبز باغات اور لہلہاتی کھیتیاں ،بلند وبالا پہاڑ اور گہرے سمندر،وسیع وعریض زمین اور گہرے نیلگوں بادل اور یہ پر شکوہ کائنات اللہ تعالی کی قدرت کا مظہر ہیں۔ان تمام چیزوں کو دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر کوئی تو ایسی ہستی ہے جس نے کائنات کو یہ خوبصورت رنگ عطا کئے ہیں اور اس وسیع وعریض نظام کو چلا رہی ہے۔خلاء اتنی وسیع ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔اس کے باوجود یہ نظام اتنی خوبصورتی اور ترتیب سے چل رہا ہے کہ اٹھتے بیٹھتے ،چلتے پھرتے اور سوتے وقت ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب "یہ پر شکوہ کائنات"ترکی کے معروف  فلسفی  اور دانشور محترم ہارون یحیی ﷾کی کاوش ہے،جس کا اردو ترجمہ  گلناز کوثر نے کیا ہے۔مولف بیسیوں کتب کے مولف ہیں ۔آپ کی کتب کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگوں میں قرآن کے پیغام کو پھیلایا جائے اور ان کے ایمان واعتقاد کو مستحکم کیا جائے۔زیر تبصرہ کتاب میں بھی مولف نے  کائنات کے رنگوں اور پرشکوہ مناظر سے حق باری تعالی کی قدرت اور توحید پر استدلال کیا ہے،اور کتاب میں  رنگین مناظر کی تصاویر لگا کر اس کی اہمیت کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

     

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2858 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں