• حافظ عبد الستار حماد
    ایمان کے لیے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے: دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور دیگر اعضا سے التزام عمل ۔ ان تین چیزوں کے اجتماع کا نام ایمان ہے۔ تصدیق میں کوتاہی کا مرتکب منافق، اقرار سے پہلو تہی باعث کفر اور عملاً کوتاہی کا مرتکب فاسق ہے اگر انکار کی وجہ سے بدعملی کا شکار ہے تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔ علمائے سلف مسئلہ ایمان و کفر کو بالبداہت بیان کرتے آئے ہیں۔ امام بخاری نے اپنی تالیف الجامع الصحیح کے کتاب الایمان میں ایمان کے عملی اور اخلاقی پہلوؤں پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں مولانا عبدالستار حماد نے بھی ایمان کے فکری اورعملی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تالیف دراصل ماہنمامہ شہادت میں ایمان و عقیدہ کے نام سے شائع ہونے والے سلسلہ وار مضامین کا مجموعہ ہے جسے معمولی حک و اضافہ کے بعد کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مولانا موصوف نے مسئلہ تکفیر، جو موجودہ جہادی تناظر میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، پر بھی شرح و وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور اس حوالے پائے جانے والے اشکالات کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ بحث صرف 35 کے قریب صفحات پر محیط ہے جو دوسری کتاب کے مقابلہ میں کافی کم ہیں، لیکن پھر بھی افادیت کے اعتبار سےبہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ کتاب کے آخر میں ’امام بخاری اور فتنہ تکفیر‘ کے عنوان سے تکفیر سے متعلق امام بخاری کے موقف کو ان کی تالیف الجامع الصحیح کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • محمد ادریس فاروقی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا  ہے ۔امت کا  درد رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ تقلید جامد کے رسیا اور قرآن وحدیث کے علمبردار علماء ومصلحین اس موضوع پر سیر حاصل بحث کر کے خو ب خوب داد تحقیق  دے چکے ہیں۔خیر القرون کے سیدھے سادھے دور کے مدتوں بعد ایجاد ہونے والے مذاہب اربعہ کے جامد مقلد فقہاء نے اپنے اپنے مذہب کی ترجیح میں کیا کیا گل نہیں کھلائے ۔حتی کہ اپنے مذہب کے جنون میں اپنے مخالف امام تک کو نیچا دکھانے  سے بھی دریغ نہیں کیا گیا جیسا کہ اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ مسئلہ تقلید ‘‘محترم مولانا محمد ادریس فاروقی صاحب﷫ کی تصنیف ہےجس میں مولف موصوف ﷫نے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • سید داؤد غزنوی

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنی یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مسئلہ توحید‘‘ حجۃ الاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کی تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کےباب التوحید ،باب حقیقۃ الشرک، اور باب اقسام الشرک کا اردو ترجمہ اور ذیلی تعلیقات ہیں۔ حجۃ اللہ البالغہ کے اس حصہ کو اردو قالب میں ڈھالنے کا شرف خاندان ِ غزنویہ کے عظیم سپوت مولانا سید داؤو غزنوی ﷫ کو حاصل ہو ا۔ 1950ء میں پہلی بار اس کی اشاعت منظر عام آئی تو ہرطبقہ کےاہل علم وتحقیق اور عوامی حلقوں میں نہایت پسند کیاگیا۔اور جلد ہی یہ ایڈیشن ختم ہوگیا۔موجودہ ایڈیشن مئی 1973 ء کاطبع شدہ ہے ۔اللہ تعالیٰ شاہ ولی اللہ اور سید داؤد غزنوی ﷭ کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • محمد اسماعیل سلفی

    انبیاء ﷩کی حیات پر صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں ، جیسا کہ شہداء کی حیات پر قرآن کریم نے صراحت کی ہے لیکن یہ برزخی حیات ہے جس کی کیفیت و ماہیت کو ماسوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ۔ اور برزخی زندگی کا دنیاوی زندگی پر قیاس کرنا جائز نہیں ہے ۔ انبیاء کرام  اور  آپ ﷺ کی یہ حیات وفات سے پہلے والی حیات سے مختلف ہے اور یہ برزخی حیات ہے اور یہ ایک پوشیدہ راز ہے جس کی حقیقت کو ما سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا لیکن یہ واضح اور ثابت شدہ امر ہے کہ برزخی حیات دنیاوی حیات کے بالکل مختلف ہے اور برزخی حیات کو دنیاوی حیات کے قوانین کے تابع نہیں کیا جائے گا اس لئے کہ دنیا میں انسان کھاتا ہے ، پیتا ہے ، سانس لیتا ہے ، نکاح و شادی کرتا ہے ، حرکت کرتا ہے اور اپنی دوسری ضروریات پوری کرتا ہے ، بیمار ہوتا ہے اور گفتگو وغیرہ کرتا ہے ۔ کسی کے بس کی بات نہیں ہے کہ مرنے کے بعداس کو یہ تمام امور پیش آتے ہوں حتی کہ انبیاء ﷩کے لئے بھی ان میں سے کوئی ایک چیز ثابت نہیں ہو سکتی ۔زیر نظر  کتابچہ’’مسئلہ حیات النبی ﷺ‘‘ جید عالم دین  شیخ الحدیث  مولانا محمد اسماعیل﷫کے ان  مضامین کا مجموعہ  ہے جو  دیوبندی حلقوں میں باہمی دوفریقوں کے مسئلہ حیات النبیﷺ  کے بارے میں  اختلاف کی وجہ سے  مولانا  سلفی نے  1958ء اور 1959ء میں  تحریر  کیے۔جن میں مولانا سلفی مرحوم نے  مسئلہ حیات النبیﷺ  کو ادلہ شرعیۃ کی روشنی میں  واضح  کیا  ۔یہ  اُس وقت  ماہنامہ ’’ر حیق اور  ہفت روزہ الاعتصام میں قسط وار  شائع ہوئے  ۔ پھر 1960 ء میں انہیں کتابی صورت میں شائع کیا گیا  ۔ موجودہ  ایڈیشن کو دوبارہ  مکتبہ سلفیہ نے  2004ء میں شائع اور  حافظ شاہد  محمود ﷾ نے  اس کی  تحقیق وتخریج کرکے  مجموعہ رسائل سلفی میں  بھی بڑے عمدہ طریقہ سے شائع کیا ہے جسے عنقریب  ویب  سائٹ  پر اپلوڈ کردیا جائے گا ۔(ا ن شاء اللہ  ) اللہ  تعالی اس  کتاب کو لوگوں کے  عقائد کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • امام ابن ابی شیبہ

    دنیا وی اور دینی دونوں اعتبار سے خیر و شر کا تعین کرنا بہت اہم ہے۔ دنیا میں انسانی معاشروں میں قانون نام ہی خیر کے نفاذ اور شر سے روکنے کا ہے۔ اسی طرح مذہب بھی آخرت کی نجات خیر کو ماننے اور شر سے بچنے پر موقوف ہے۔ چنانچہ خیر اور شر کا تعین بہت ضروری ہے۔انسان بچپن ہی سے جس معیار سے آشنائی حاصل کرتا ہے وہ فطرت میں ودیعت کردہ الہام ہے جو ہر انسان کے اندررکھ دیا گیا ہے۔ اچھائی اور برائی کا ایک اور معیارانسانی فطرت و وجدان ہے۔انسانی فطرت پر مبنی علم اس الہام کا نام ہے جو انسا ن کو خیر و شر کا شعور دیتا ہے، جو اس کے رویے اور اعمال کے بارے میں بتاتا ہے کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہے۔ ’’ مسئلہ خیر و شر‘‘شیخ الاسلام امام این تیمیہ کی ہے، جس کا اردو ترجمہ عطاء اللہ ساجد نے کیا ہے۔جس میں امام صاحب عقائد کی اصلاح کے حوالہ سے مسئلہ خیر وشر کو قرآن و سنت کے دلائل سے واضح کیا ہے۔مزید نیکی اور گناہ،راحت اور مصیبت کے مفہوم میں جو لوگوں نے پچیدگیاں پیدا کی ہوئی تھی ان کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ابن تیمیہ کا اصل نام احمد، کنیت ابوالعباس اورمشہور ابن تیمیہ ہے621ھ میں پیدا ہوئے اور قلعہ دمشق ملک شام (سوریا) میں بحالت قید و بند 20 ذوالقعدہ 728ھ میں وصال ہوا۔عہد مملوكى كے نابغہ روزگار علماء ميں سے تھے ۔ اللہ تعالى نے انہيں ايك مجدد كى صلاحيتوں سے نوازا تھا ۔آپ نے عقائد ، فقہ، رد فرق باطلہ، تصوف اور سياست سميت تقريبا ہر موضوع پر قلم اٹھايا اور اہل علم ميں منفرد مقام پايا ۔ امید ہے اس کتاب کے مطالعہ عقائد باطلہ کا خاتمہ ممکن ہو گا اور لوگوں کے عقائد درست ہوں گے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ اما صاحب اور عطاء اللہ ساجد کی خدمت کو قبول فرمائے اور یہ کتاب ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین طالب دعا: پ،ر،ر

  • حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دم کرنے کو عربی زبان میں "رقیہ "کہتے ہیں،جس سے مراد ہے کچھ مخصوص الفاظ پڑھ کر کسی چیز پر اس عقیدے کے تحت پھونک مارنا کہ اس چیز کو استعمال کرنے سے شفا حاصل ہو گی یا مختلف عوراض وحوادثات اور مصائب سے نجات مل جائے گی۔اہل جاہلیت یہ سمجھتے ہیں کہ دم میں تاثیر یا تو ان الفاظ کی وجہ سے ہے جو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا ان الفاظ کی تاثیر ان مخفی یا ظاہری قوتوں کی وجہ سے ہے جن کا نام دم کئے جانے والے الفاظ میں شامل ہے۔اسلام نے جتنے بھی دم سکھائے ہیں اور قرآن وسنت سے جن دم کرنے والی سورتوں،آیتوں اور دعاؤں کا ذکر آیا ہے ان سب میں یہ عقیدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رب اکبر ہی ہر طرح کی شفا عطا کرنے والا ہے۔وہی ہر طرح کی مصیبت سے نجات دینے والا ہے،وہی مطلوبہ چیز کو دینے پر قادر ہے،وہی جادو ،آسیب ،نظر وغیرہ کے اثرات متانے والا ہے۔نیز دم کرنے میں شریعت نے یہ عقیدہ بھی دیا ہے کہ جو الفاظ پڑھ کر دم کیا جا رہا ہے یہ خود موثر نہیں بلکہ انہیں موثر بنانے والی اللہ تعالی کی ذات ہے،جس طرح دوا اثر نہیں کرتی جب تک اللہ نہ چاہے،کھانا فائدہ نہیں دیتا جب تک اللہ نہ چاہے،اسی طرح دم میں تاثیر اللہ کے حکم سے پیدا ہوتی ہے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " شرکیہ دم جھاڑا پر فیصلہ کن بحث"جماعت اہل حدیث کےمعروف عالم دین  مولانا حافظ عبد اللہ مھدث روپڑی صاحب کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے  اکراہ کے وقت شرکیہ دم جھاڑے کے جواز وعدم جواز پر تفصیلی بحث کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    نبی کریمﷺ دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ ﷺنے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی ہے۔اور اس امر کی بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک عرس اور گیارہویں کی بدعت بھی ہے۔جس کا اسلام ،شریعت ،نبی کریمﷺ ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بعد میں گھڑی جانے والی بدعات میں سے ایک بدعت ہے۔ زیر نظر کتاب "مسئلہ عرس اور گیارہویں" ہندوستان کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ اور مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب﷾ کے تایا جان محترم حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جو مولوی محمد شریف نوری لاہور کے رسالے "مسئلہ گیارہویں" کا جواب ہے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں عرسوں اور گیارہویں کے بدعت ہونے پر دلائل پیش کئے ہیں،اور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ سنت کی اتباع کریں اور بدعات سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

  • عبد اللہ بن عبد الرحمن الجبرین

    علم توحید تمام علوم وفنون سے زیادہ اشرف وافضل‘ قدر ومنزلت کے اعتبار سے سب سے زیادہ اعلیٰ وارفع اور ضرورت وتقاضے کے لحاظ سے سب سے زیادہ اہم علم ہے‘ اس لیے کہ اس علم کا تعلق براہِ راست اللہ رب العزت وحدہ‘ لا شریک لہ‘ کی ذات‘ اسماء وصفات اور بندوں پر اس کے حقوق سے متعلق ہے اور یہی علم اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ اور تمام آسمانی شریعتوں کی بنیاد ہے۔ سارے انبیاء ورسل علیہم السلام نے توحید کی طرف دعوت دی ہے۔ انبیاء ورُسل کی زندگیاں اور جملہ کوششیں اس کام کے لیے وقف تھیں اور اسی کام کو محمد رسول اللہﷺ نے حرزِ جاں بنایا۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص توحید کے  موضوع پر ہے ۔اس میں عبد اللہ بن عبد الرحمن الجبرین﷾ سے چند سوالات کیے گئےتو آپ نے ان سوالات کا جامع اور خالص علمی بنیادوں پر جواب دیا تو حمد بن ابراہیم الحریقی نے اسے ترتیب دیا۔ اس میں توحید وعقیدے سے متعلق سارے سوالات وجوابات‘ شرک‘ بدعات‘ خرافات‘ غیر شرعی رسومات‘ اسلامی شریعت سے متصادم عقائد از قسم قبر پرستی‘ پیر پرستی‘کہانت اور جادو گری جیسے موضوعات کا احاطہ  کیا گیا ہے۔اصلاً عربی میں کتاب تھی جس کا عام فہم‘ سلیس‘ سہل اور آسان اردو زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مسائل توحید ‘‘ حمد بن ابراہیم الحریقی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • محمد صادق سیالکوٹی

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔انسان کی ولات اور وفات کے درمیان کا وقفہ وجود ابن آدم کااہم ترین وقفہ ہے اللہ تعالیٰ نے اسے یہ زندگی دکے آزمانا چاہا ہےکہ وہ خیر وشر کے دونوں راستوں میں کس پر چلتا ہے وہ اپنے پیدا کرنےوالے کی عبادت کرتا ہےاوراس کی خوشنودی کے کام کرتا ہےیا سرکش ونافرمان بن کر اپنی زندگی گزارتا ہےاور کفر وشرکی راہ اختیارکرتا ہے۔اس لیےہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر اسےموت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مسلمان کا سفر آخرت ‘‘ مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی تصنیف ہے ۔انہوں نےاس کتاب میں موت کی یاد دلائی ہےصحیح اسلامی عقیدہ اور اتباع قرآن وسنت کی دعوت دی ہے، شرک وبدعات سے ڈرایا ہے اور بتایا ہےکہ مشرک کےتمام اعمال صالحہ رائیگاں ہوجاتے ہیں ۔نیز انہوں اس کتاب میں وہ تمام عقائد واعمال بیان کیے ہیں جن کاجاننا ایک مسلمان کےلیے نہایت ضروری ہے۔اور جس کی شخص کی موت کا وقت قریب ہوتو اسے اور اس کے عزیز واقارب کو کیا کرناچاہیے ، ایک مسلمان کے اچھے اور برے خاتمہ کی علامات کوقرآن وسنت سے ماخوذ دلائل کی روشنی میں بیان کیاہے ۔(م۔ا)

  • محمد صادق سیالکوٹی
    دین اسلام میں زندگی اور موت سے متعلقہ تمام معاملات کی رہنمائی فرما دی گئی ہے تاکہ ہر شخص جہاں دنیوی زندگی امن و راحت کے ساتھ گزارے اسی طرح اخروی زندگی میں بھی فوز و فلاح اس کا مقدر ٹھہرے۔ اسی کے پیش نظر مولانا محمد صادق سیالکوٹی نے یہ کتاب ترتیب دی ہے جس میں انسان کے اخروی سفر کے حوالے سے نگارشات پیش کی ہیں تاکہ لوگوں کو بدعات و ضلالتوں سے نکال کر اسوہ رسول کے تابع کیا جا سکے۔ کیونکہ اس وقت معاشرے میں تجہیز و تکفین اور جنازہ و قبور کے حوالہ سے بہت سی بدعات اور من گھڑت قصے مشہور ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے قارئین ان حقوق سے آگاہ ہوں گے جو زندوں کے ذمہ مردوں کے ہوتے ہیں اور ان کو ادا کر کے خدا کے ہاں سرخرو ہوں گے وہیں سنت رسول کے مطابق تجہیز و تکفین مردوں کی مغفرت اور بخشش کا باعث ہو گی۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • ملک حسن علی

    اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے زیر تبصرہ کتاب’’ مشاہد التوحید‘‘ملک حسن علی جامعی شرقپوری کی تصنیف ہے ۔ مؤلف نے اس کتاب میں قرآنی تصور توحید اور اس کے تمام گوشوں کو قرآن پاک کی روشنی میں ایک بدیع اسلوب اور عام فہم انداز بیان کے ساتھ پیش کیا ہے اور دلائل کی پختگی خیالات کی ترتیب اور اپنے موضوع میں یہ کتاب ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے ۔شاہ اسماعیل شہید کی تحریک مجاہد ین کے مجاہد نامور مؤرخ مولانا غلام رسول مہر﷫ کےاس کتاب کا مقدمہ لکھنے اور شارح نسائی شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ کے اس کتاب پر ابتدائیہ سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔(م۔ا)

  • قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

    اللہ تعالی ٰ کے  بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے  ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ  توحید کی  معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ  کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی  اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔ قرآن  واحادیث میں اسماء الحسنٰی کوپڑھنے یاد کرنے  کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے۔’’ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے  اچھے نام ہیں تو اس کوانہی ناموں سےپکارو۔اور اسی طرح ارشاد نبویﷺ ہے«إِنَّ لله  تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ»یقیناً اللہ تعالیٰ کے نناوےنام  ہیں یعنی ایک کم 100 جس نےان  کااحصاء( یعنی پڑھنا سمجھنا،یادکرنا) کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری )اسماء الحسنٰی کے  سلسلے میں اہل علم نے مستقل کتب تصنیف کی ہیں اور بعض نے ان اسماء کی شرح بھی کی  ہے زیر تبصرہ کتاب ’’معارف الاسماء شرح اسماء الحسنیٰ ‘‘  سیرت النبیﷺ پر مقبول عام کتاب رحمۃ للعالمین  کے  مصنف  جناب  قاضی محمد سلیمان منصورپوری﷫ کی تصنیف  ہےجو کہ اللہ  تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی  بنظیر شرح ہے ۔مصنف موصوف نے روایات کی روشنی میں  اسماء  الحسنی ٰ کو نقشہ جات  کی صورت میں پیش  کی ہے۔اللہ تعالیٰ   مصنف کتاب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطافرمائے (آمین)(م۔ا)

  • قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

    اللہ رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور اللہ کا ذاتی نام ’’اللہ‘‘ اور اس کے علاوہ اللہ کے ننانوے صفاتی نام مشہور ہیں۔ ان میں سے بیشتر قرآن میں موجود ہیں اگرچہ قرآن میں ننانوے کی تعداد مذکور نہیں مگر یہ ارشاد ہے کہ اللہ کو اچھے اچھے ناموں سے پکارا جائے۔ قرآن پاک کی آیت’’قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى‘‘ اور’’وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ‘‘ ان دونوں آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے نام توقیفیہ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے روسول نے بتائے ہیں۔ ان اسماء کے علاوہ اسماء سے اللہ تعالیٰ کو پکارنا جائز نہیں ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی اللہ رب العزت کے اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے اور ان اسماء کی مصنف نے مختصر تشریح بھی کی ہے اور کتاب کو بہت احسن انداز کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے‘ جملوں کی ترتیب اور عبارت کے حسن کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ اسمائے حسنیٰ میں سے انتخاب سب سے پہلے قرآن مجید سے کیا گیا ہے۔اور آیت اور سورۃ کا نمبر بھی دیا گیا ہے اس کے بعد صحاح ستہ کی کتب میں سے جس کتاب میں بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی نام ملا وہ درج کیا گیا ہے او راس کی تشریح کی گئی ہے اور کتاب اور باب کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور جو اسماء غیر ثابت ہیں ان کی بھی وضاحت کی گئی ہے اور ان احادیث پر مدلل جر ح بھی کی گئی ہے۔ مصنف نے چار باب قائم کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسماء اللہ الحسنیٰ‘‘ مولانا قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری کی شاہکار تصنیف ہے‘ آپ1867ءمیں منصور پورہ میں پیدا ہوئے اور 30 مئی 1930ء کو حج بیت اللہ سے واپس آتے ہوئے بحری جہاز میں وفات پائی۔ آپ عاجزی وانکساری کی ایک مثال تھے اور آپ  نے بہت سی کتب بھی تصنیف فرمائیں مثلاً الجمال والکمال‘ مہر نبوت‘ رحمۃ للعالمین‘ غایت المرام‘ تائید الاسلام‘ خطبات سلمان‘ تاریخ المشاہیر‘ مسح جراب‘ استقامت‘ مکاتیب سلمان‘ برہان‘ سفر نامہ حجاز‘ الصلاۃ والسلام اور آئینہ تصوف وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • محمد بن سلیمان التمیمی

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" معرفت دین کے 3 بنیادی  اصول"شیخ الاسلام امام محمد بن سلیمان التمیمی  ﷫کی عربی تصنیف "الاصول الثلاثۃ وادلتھا " کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت  پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر صاحب نے حاصل کی ہے۔یہ کتاب اپنی اہمیت وفادیت کے پیش نظر متعدد دینی مدارس میں داخل نصاب ہے۔یہ کتاب اس لائق ہے کہ اسے ہر گھر کی زینت بنایا جائے اور گھر میں تما م بچوں کو یہ زبانی یاد کروائی جائے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ابو خزیمہ محمد حسین ظاہری
    تمام انبیاء کرام علیہم السلام ایک  ہی پیغام  اور  دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔ انبیاء کرام  سالہاسال تک مسلسل  اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے  ۔انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے۔  حضرت  نوح   نے ساڑھے نوسوسال   کلمہ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد  مصطفیٰ ﷺ نےبھی  لا اله  الا الله کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔زیرنظر  كتاب ’’مفتاح الجنۃ‘‘ بھی    اس موضوع پر شیخ محمد حسین ظاہر ی کے خطبات کا  مجموعہ ہے۔  اس میں  موصوف نے انتہائی عمدہ انداز میں کتاب وسنت کے دلائل  کی روشنی  میں    لا اله  الا الله   کا معنی ومفہوم،حقیقت ،شرائط کو  تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ اللہ تمام مسلمانوں کو صحیح معنوں میں  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا معنی ومفہوم جاننے او راس کے  مطابق عقیدہ وعمل صالح اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • ناصر الدین البانی

    توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ممنوع اور مشروع وسیلہ کی حقیقت" اردن کے معروف عالم دین محدث العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫کی کی وش ہے۔اس میں انہوں نے وسیلے کی لغوی واصطلاحی تعریف،وسیلے کی اقسام ،مشروع وسیلہ اور ممنوع وسیلہ وغیرہ جیسی مباحث کو قرآن وسنت کی روشنی میں جمع فرما دیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پربڑی مفید اور شاندار ہے ،جس کا ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کے اس عمل پر انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • محمد بن صالح المنجد
    احکام شرعیہ کے دوحصے ہیں ایک حصہ مامورات شرعیہ کہلاتاہے  جس میں کچھ کاموں کوکرنے کا حکم دیا گیا ہے دوسرا حصہ منہیات کہلاتا ہے جس میں بعض امور سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے شریعت میں جس طرح مامورات کی اہمیت ہے اس سے کہیں بڑھ کر منہیات کی اہمیت ہے اس لیے کہ اگر کوئی صرف منہیات سے بچتا ہے تو اسے اس کاثواب ملتا ہے جبکہ مامورات میں اس صورت میں مستحق اجر ہوتا ہے جب وہ عملاً اسے کرے پھر مامورات میں استطاعت کی قید ہے لیکن منہیات میں یہ قید نہیں ہے مزیدبرآں منہیات کاجاننا اس لیے بھی  ضروری ہے  کہ انسان ان کے ارتکاب سے بچ سکے تاکہ خدا کی ناراضگی وعتاب کا نشانہ نہ بن سکے فی زمانہ شرعی منہیات کا بڑی دیدہ دلیری سے ارتکاب کیا جاتا ہے اس کی ایک وجہ لاعلمی اور جہالت بھی ہے زیرنظر کتاب کےمطالعہ سے یہ لاعلمی دور ہوجاتی ہے اور انسان ان تمام امور سے بچ سکتاہے جن سے شریعت میں روکا گیا ہے


  • ابو یاسر عبد اللہ بن بشیر
    انسانی رویہ میں منفی و مثبت رجحانات ایک معمول کی بات ہوتی ہے اور دونوں پہلو اپنے اپنے مقام پر ایک مستقل حیثیت رکھتے ہیں او ردونوں پہلوؤں میں ہر ایک ایک مستقل رویہ ظاہر کررہا ہوتا ہے۔ چاہے وہ  درست ہو یا صحیح۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے آدمی کی شخصیت کا تعین مشکل ہوجائے یہ کسی بھی مذہب اور سوسائٹی میں اچھا خیال نہیں کیا گیا۔ شریعت میں کفر اور اسلام  وہ اصطلاحات ہیں جو حق و باطل کے رویہ کو ظاہر کرتی ہیں اسی طرح جو ان دونوں میں سے کسی راہ کو متعین نہ کرپائے بلکہ اس کے قول یا شخصیت سے دونوں پہلوؤں کی آمیزش نظر آئے اس دو رُخے انسان کو اسلامی اصطلاح میں منافق کہتے ہیں او راس  کی  سزا کفر سے بھی زیادہ ہے۔ مسلمانوں کو نفاق سےبچنے کی تلقین کی گئی ہے اور شارع نے اس کی علامات بھی واضح کردی ہیں۔زیر نظر کتاب انہی علامات نفاق پر مشتمل ہے جو قرآن و سنت کےدلائل سے مرتب ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • ابن حجر العسقلانی

    عقیدۂ توحید کے بعد اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ‘ عقیدۂ آخرت ہے۔ توحید کے طرح تمام انبیاء نے اس کی تعلیم بھی اپنی قوم کو دی ہے اور بتایا ہے کہ اس کا انکار در اصل اللہ کا انکار ہے کیونکہ اس کے بعد اللہ کا ماننا بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس عقیدہ کو ماننے کے دنیا وآخرت میں جو فوائد اور اس کے جو عمدہ اثرات ونتائج ہیں اور نہ ماننے کے کی صورت میں جو برے اور خطرناک نتائج سامنے آئیں گے ان تمام پر قرآن مجید نے مفصل روشنی ڈالی ہے۔انسان اگر معمولی غوروفکر سے کام لے تو یہ حقیقت اس کے سامنے واضح ہو جائے گی کہ اس عقیدہ کے سوا کوئی بھی چیز انسان کو راہِ راست پر نہیں قائم رکھ سکتی۔زیرِ تبصرہ کتاب   بھی عقیدۂ آخرت کے حوالے سے ہی لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب اصلاً عربی میں ہے اور اس کا ترجمہ سلیس کیا گیا ہے اور اصل عربی کتاب مرقم نہیں ہے لیکن آسانی کے پیش نظر مترجم نے مرقم کر دیا ہے اور کتاب کی ایک طرف عربی عبارت اور اسی کے سامنے اس کا ترجمہ دیا گیا ہے۔ لیکن اس کتاب میں حوالہ جات کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس میں یہ نقص ضرور موجود ہے۔ یہ کتاب’’ منبهات ‘‘ علامہ ابن حجر عسقلانی  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی بیسیوں  کتب اور  بھی ہیں جیسا  کہ مقدمہ فتح الباری ‘فتح الباری شرح صحیح البخاری‘الاصابہ فی تمييز الصحابہ‘الدُر الکامنہ وغیرہ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • امام ابن تیمیہ

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیرنظر کتاب '' مختصر منہاج السنۃ'' شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب’’ منہاج السنۃ‘‘ کا اختصار و اردو ترجمہ ہے۔ منہاج السنۃ ایک مشہور رافضی شیعہ عالم حسن بن یوسف بن علی بن المطہر الحلی کے جواب میں لکھی گئی۔ رافضی مصنف نے المنہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ‘‘ کےنام سے ایک کتاب تصنیف کی ‘‘ ۔یہ کتاب اہل سنت وشیعہ کےمابین متنازع مسائل ومباحث سےلبریز اور من گھڑت و موضوع روایات کا پلندہ تھی ۔ اور اس میں سابقین اولین صحابہ کوجی بھر کرگالیاں دی گئی تھیں ۔امت مسلمہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ کے عظیم احسان سے کبھی سبکدوس نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے کتاب مذکور کے جواب میں ’’منہاج الاعتدال فی نقض کلام اہل الرفض والاعتدال‘‘ کے نام سےایک کبیر الحجم کتاب لکھی جوکہ لوگوں میں ’’منہاج السنۃ‘‘ کے نام سےمعروف ہوئی ۔امام ابن تیمیہ ﷫ نے رافضی مؤلف کے اٹھائے ہوئے تمام اعتراضات واشکالات اورمطاعن ومصائب کامدلل ومسکت جوابات دیے ۔شیخ الاسلام کی ہر بات عقل ونقل کی دلیل سے مزین اور محکم استدلال پرمبنی ہے آپ نے روافض کے تمام افکارونظریات کےتاروبود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔امام موصوف شیعہ مصنف ابن المطہر کی کتاب سےعبارت نقل کر کے اس کا رد کرتے ہیں۔ فریقین کےدلائل کی موجودگی میں ایک باانصاف اور سلیم العقل انسان کےلیے فیصلہ صادر کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔اس کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کے سامنےآتی ہےکہ شیعہ مصنف کی پیش کردہ احادیث جھوٹ کاپلندہ ہیں او روہ اکثرجھوٹی روایات سے احتجاج کرنے کاخوگر تھا۔ردّ رافضیت پر یہ ایک مستند کتاب ہے۔کبار علماء کے بقول ’’ نیلے آسمان کےنیچے اور فرشِ زمین کے اوپر ردّ رافضیت پر اس سےبہترین کتاب آج تک نہیں لکھی گئی ‘‘منہاج السنہ کےاختصار وترجمہ اور احادیث کی مکمل تخریج کا اہم کام محترم جناب پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی )نےکیا ہے۔اور اس میں العواصم من القواصم اور المنتقیٰ سے استفادہ کر کے اہم ترین حواشی بھی شامل کردیے ہیں ۔ المنتقی ٰ کےنام سے امام ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی نے منہاج السنۃ کا اختصار کیا تھا۔اس کا ترجمہ معروف مترجم محترم غلام احمد حریری ﷫ نے کیا یہ ترجمہ بھی ویب سائب پر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ عقیدہ اور صحابہ کے دفاع میں مترجم کی یہ محنت قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

  • امام ابن تیمیہ

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیرنظر کتاب '' مختصر منہاج السنۃ'' شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب’’ منہاج السنۃ‘‘ کا اختصار و اردو ترجمہ ہے۔ منہاج السنۃ ایک مشہور رافضی شیعہ عالم حسن بن یوسف بن علی بن المطہر الحلی کے جواب میں لکھی گئی۔ رافضی مصنف نے المنہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ‘‘ کےنام سے ایک کتاب تصنیف کی ‘‘ ۔یہ کتاب اہل سنت وشیعہ کےمابین متنازع مسائل ومباحث سےلبریز اور من گھڑت و موضوع روایات کا پلندہ تھی ۔ اور اس میں سابقین اولین صحابہ کوجی بھر کرگالیاں دی گئی تھیں ۔امت مسلمہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ کے عظیم احسان سے کبھی سبکدوس نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے کتاب مذکور کے جواب میں ’’منہاج الاعتدال فی نقض کلام اہل الرفض والاعتدال‘‘ کے نام سےایک کبیر الحجم کتاب لکھی جوکہ لوگوں میں ’’منہاج السنۃ‘‘ کے نام سےمعروف ہوئی ۔امام ابن تیمیہ ﷫ نے رافضی مؤلف کے اٹھائے ہوئے تمام اعتراضات واشکالات اورمطاعن ومصائب کامدلل ومسکت جوابات دیے ۔شیخ الاسلام کی ہر بات عقل ونقل کی دلیل سے مزین اور محکم استدلال پرمبنی ہے آپ نے روافض کے تمام افکارونظریات کےتاروبود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔امام موصوف شیعہ مصنف ابن المطہر کی کتاب سےعبارت نقل کر کے اس کا رد کرتے ہیں۔ فریقین کےدلائل کی موجودگی میں ایک باانصاف اور سلیم العقل انسان کےلیے فیصلہ صادر کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔اس کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کے سامنےآتی ہےکہ شیعہ مصنف کی پیش کردہ احادیث جھوٹ کاپلندہ ہیں او روہ اکثرجھوٹی روایات سے احتجاج کرنے کاخوگر تھا۔ردّ رافضیت پر یہ ایک مستند کتاب ہے۔کبار علماء کے بقول ’’ نیلے آسمان کےنیچے اور فرشِ زمین کے اوپر ردّ رافضیت پر اس سےبہترین کتاب آج تک نہیں لکھی گئی ‘‘منہاج السنہ کےاختصار وترجمہ اور احادیث کی مکمل تخریج کا اہم کام محترم جناب پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی )نےکیا ہے۔اور اس میں العواصم من القواصم اور المنتقیٰ سے استفادہ کر کے اہم ترین حواشی بھی شامل کردیے ہیں ۔ المنتقی ٰ کےنام سے امام ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی نے منہاج السنۃ کا اختصار کیا تھا۔اس کا ترجمہ معروف مترجم محترم غلام احمد حریری ﷫ نے کیا یہ ترجمہ بھی ویب سائب پر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ عقیدہ اور صحابہ کے دفاع میں مترجم کی یہ محنت قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

  • محمد طیب محمدی

    اہل حدیث نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی " والے" اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کردیں تو معنی ہونگے، " حدیث والے" اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام سے مراد"قرآن و حدیث" ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے۔اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلاناہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ منہج اہل حدیث‘‘ محمد طیب محمدی صاحب کی ہے۔ جس میں وحی کا معنیٰ و مفہوم، صحابۂ کرام کے اعمال، دین اسلام کا کامل ہونا، اتباع رسول کا معنی و اہمیت، ترک سنت کی سزا ، ترک تقلید، اعمال کی قبولیت کی شرائط، بدعت کی تاریکیاں، اہمیت حدیث اور آخر میں اختلافات کے جل کو اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے عناوین کے اعتبار سے انتہائی معتبر کتاب ہے۔اہل حدیث کا منہج یہی ہے کہ لوگوں کو راہِ راست پر لانا اور گمراہی سے بچنے کی تلقین کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ محمد طیب صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے لئے اس کتاب کو صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔( رفیق الرحمن) 

  • ابو محمد حسن بن علی البربھاری

    اس پر فتن دور میں اگر اللہ تعالی کسی  کو منہج سلف صالحین جو اللہ کی وحی سے مستفاد وماخوذ ہے، کے فہم کی توفیق فرما دے تو یہ یقینا ایک عظیم سعادت و بصیرت ہے، جو اخروی کامیابی کے لئے مطلوب ومقصود ہے۔عقیدہ توقیفی ہوتا ہے یعنی یہ شارع (شریعت نازل کرنے والے) کی دلیل سے ہی ثابت ہوسکتا ہے ، جس میں اپنی رائے اور اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ لہذا عقیدہ کے ماخذ ومصادر صرف کتاب وسنت سے ثابت شدہ دلائل پر موقوف ہوتے ہیں ، کیونکہ اللہ تعالی سے زیادہ کوئی علم نہیں رکھتا کہ کیا بات اللہ تعالی کے شایان شان ہے اور کیا نہیں ، اور اللہ تعالی کے بعد اللہ تعالی کے بارے میں اللہ کے رسول (ﷺ)سے زیادہ کوئی علم نہیں رکھتا ۔ چناچہ سلف صالحین اور ان کی پیروی کرنے والوں کا عقیدہ اپنانے کے بارے میں یہی منہج رہا ہے کہ وہ اس بارے میں محض قرآن اور سنت پر ہی اقتصار کرتے تھے۔ اللہ تعالی کے بارے میں جو بات قرآن اور سنت سے ثابت ہوتی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ، اس کا اعتقاد رکھتے اور اس کے مطابق عمل کرتے تھے ، اور جو بات اللہ تعالی کی کتاب اور اللہ کے رسول (ﷺ)کی سنت سے ثابت نہیں ہوتی اس کی اللہ تعالی سے نفی کرتے اور قبول کرنے سے انکار کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے درمیان عقیدے کے معاملہ میں کوئی اختلاف نہیں تھا ، بلکہ ان سب کا عقیدہ ایک تھا اوران سب کی جماعت بھی ایک ہی تھی ، کیونکہ اللہ تعالی نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ جو اللہ تعالی کی کتاب اور نبی (ﷺ)کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے ان کا کلمہ مجتمع رہے گا ، اعتقاد درست ہوگا اور منہج میں یگانگت ہوگی ۔زیر تبصرہ کتاب "منہج سلف صالحین"چوتھی صدی ہجری کے معروف امام اور محدث  ابو محمد حسن بن علی البربھاری ی﷫ کی عربی تصنیف "شرح السنہ " کے خلاصے اور عصر حاضر کے جید سلفی عالم فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن صالح العبیلان کی انتہائی نفیس شرح کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم حافظ حامد محمود الخضری صاحب نے کیا ہے۔یہ کتاب سلف صالحین کے منہج پر مبنی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف، شارح اور مترجم سب کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • برکت اللہ پانی پتی

    معرکہ حق وباطل ہمیشہ سے جاری اور قیامت تک جاری رہے گا۔کچھ لوگ شیطان کی پوجا کرتے ہیں تو کچھ رحمن کے پرستار ہیں۔علماء کی بھی دو اقسام ہیں ۔بعض اہل علم خالصتا شریعت کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں تو بعض نام نہاد علماء سوء نے اپنی خواہشات نفس کو دین بنا رکھا ہے اور لوگوں میں شرک وبدعات  اور تفرقہ بازی کو عام کر ہے ہیں۔ان فرقہ پرست علماء کا اصل دشمن وہ ہے جو لوگوں کو قرآن وحدیث کی صحیح باتیں بتائے اور طاغوت کی نشان دہی کرائے۔ زیر تبصرہ کتابچہ "موازنہ" محترم برکت اللہ پانی پتی آف گوجرانوالہ کی کاوش ہے جس میں انہی علماء سوء کے افکار ونظریات کا قرآن وحدیث کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے کہ کہاں کہاں ان کے نظریات اسلامی شریعت اور قرآن وحدیث سے متصادم ہیں۔مولف نے اس کتابچے میں ایک منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے ٹیبل بنا دئیے ہیں جس میں ایک طرف قرآن وحدیث کا موقف پیش کرتے ہیں اور  پھر اس کے سامنے ہی دوسرے ٹیبل میں ان علماء سوء کا قرآن وحدیث سے متصادم موقف پیش کر دیتے ہیں تاکہ ہر صاحب دانش شخص ان کے غیر شرعی افکار ونظریات سے بخوبی آگا ہ ہوجائے اور دونوں کا باہمی موازنہ بھی کر سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • عبد الرحمن بن یحی
    مسلمان روزانہ پانچ نمازوں میں بہ تکرار بارگاہ ایزدی میں  یہ دعا کرتے ہیں کہ یااللہ ہمیں سیدھا راستہ دیکھا لیکن اس کے باوجود بے شمار مسلمان سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور بعض خود یہ کہتے ہیں کہ ہمیں دین ومذہب سے لگاؤ کوئی نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان رکاوٹوں کو دور نہیں کرتے جو ہدایت کی راہ میں حائل ہیں ظاہر ہے انہیں دور کیے بغیر سیدھے راستے تک رسائی ممکن نہیں ہے زیر نظر کتاب میں انہی موانع ہدایت کاذکر کیا گیا ہے تاکہ انہیں پہچان کر ان کےخاتمے کی فکر کی جائے اور صراط مستقیم پر گامزن ہواجاسکے۔



  • امیر حمزہ
    عقیدہ توحید ایک مسلمان کی سب سے بڑی میراث ہےاگر اسی میں خلل واقع ہو جائے تو نجات کا راستہ مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب برگزیدہ پیغمبر اپنی پوری زندگی اسی کے پرچارک رہے ۔ سلسلہ نبوت کے اختتام کے بعد ان کے وارثین علماء کرام بڑی جانفشانی کے ساتھ عقیدہ توحیدکا علم بلند کرتے ہوئے استحقاق حق اور ابطال باطل کر رہے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب حافظ زبیر علی زئی اور دیوبندی مکتبہ فکر کے حامل عالم حافظ نثار احمد الحسینی کے مابین ہونے والی خط و کتابت پر مشتمل ہے۔ حافظ زبیر علی زئی نے اپنے خطوط میں بیسیوں جید علمائے دیوبند کی ایسی عبارتیں نقل کی ہیں جن سے ثابت ہو تا ہے کہ دیوبند مکتبہ فکر عقیدہ وحدت الوجود کا قائل ہے۔ حافظ نثار احمد الحسینی نے ان خطوط کا جواب دینے کی اپنی سی کوشش کی ہےلیکن حافظ زبیر علی زئی کے ٹھوس اعتراضات اور دلائل کے سامنے حافظ نثار کے جوابات دلائل سے عاری نظر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں کتاب میں بدعتی کے پیچھے نمازپڑھنے کے حکم کے ساتھ ساتھ دیگر علمی فوائد کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا گیا ہے۔


  • شفیق الرحمن فرخ
    اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقیت یہ ہے کہ ہر انسان نے موت کا سامنا کرنا ہے۔ جو دراصل ایک نہ ختم ہونے والی زندگی کا نقطہ آغاز ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے انسان اپنی زندگی میں موت کے مراحل کو ذہن میں رکھے اور اپنے آپ کو اس کے لیے تیار رکھے۔ اپنے اعزا و اقربا کی وفات پر مسنون انداز میں تجہیز و تکفین کا اہتمام کرے اور اس نہج پر اپنے بچوں کی تربیت کرے۔ ہمارے ہاں عام طور پر کسی کی وفات پر ایسی ایسی بدعات و جاہلانہ رسومات دیکھنے میں آتی ہیں کہ الامان والحفیظ۔ یوٹیوب پر ایسی ویڈیوزموجود ہیں کہ ڈھول کی تھاپ اور بھنگڑوں کے جلو میں میت کو قبرستان پہنچایا جا رہا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں ’موت سے قبر تک‘ کے تمام معاملات کو کتاب و سنت کی خالص تعلیمات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ جنازہ و دفن کے مراحل کو تصاویر کے ساتھ واضح کیا گیا ہےاور جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیں بھی شامل اشاعت ہیں۔ علاوہ بریں میت کے لیے ایصال ثواب کا مسنون طریقہ بھی ذکر کر دیا گیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • نوری عبد اللہ الضاحی

    زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی  ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ  مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِين (الذاریات58)” اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ، نہ تو میں ان سے روزی مانگتا ہوں اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں ۔ یقینا اللہ تعالیٰ تو خود سب کو روزی دینے والا ، صاحب قوت اور زبردست ہے‘‘۔جب ہم اپنی تخلیق کا مقصد جان چکے ۔توہمیں پنے دل کو ٹٹو لنا اور من سے پوچھنا چاہیے  کہ ہم نے اس مقصد کو کہاں تک پورا کیا ؟ کیا محنت کی ؟ کیا کوشش کی ؟ اور لوگ کیا کر رہے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں ؟ یقینا ہمارا دل گواہی دے گا کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ۔ ہماری کوشش تو بالکل معمولی اور نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر آج ہی موت آجائے تو اللہ کے دربار میں پیش کرنے کیلئےہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں درپیش سفر دراز ہے اور سامان کچھ بھی نہیں۔کیا ہم شب و روز مشاہدہ نہیں کرتے کہ موت کس طرح دوست و احباب آل و اولاد اور عزیز و اقارب کو چھین کر لے جاتی ہے ۔ جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو پھر موت نہ بچوں کی کم عمری ، نہ والدین کا بڑھاپا ، نہ بیوی کی جوانی اور نہ ہی کسی کی خانہ ویرانی دیکھتی ہے۔کیا ہم نہیں جانتے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں ۔حتیٰ کہ نہ موت بچے گی نہ ملک الموت۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُور ( آل عمران : 185) ” ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور تم لوگ قیامت کے دن اپنے کئے کا پورا پورا اجر پاؤ گے ۔ پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہی کامیاب ہوا اور دنیا کی چند روزہ زندگی تو دھوکے کا سامان ہے‘‘۔نبی رحمت ﷺایک دفعہ اپنے احباب کے ہمراہ بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے اور آپ اس کا کان پکڑ کر فرمانے لگے : تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے خریدنا پسند کرےگا ؟ تو اصحاب رسول ﷺ  عرض کرنے لگے ۔ ہم تو اسے مفت میں بھی نہیں لینا چاہتے ، یہ ہمارے کس کام کا ہے ؟ آپ ﷺ نے پھر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی عیب دار تھا ، اس کے کان چھوٹے ہیں ، تو پھر رحمت عالم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔اس لیے  اانسان کو دنیا کی نسبت  موت کی زیادہ فکر کرنی چاہیے کیونکہ موت کے بعد کے مراحل تو اس سے زیادہ سخت اور آنے والے مناظر تو اس سے زیادہ ہولناک ہیں ۔ہماری زندگیوں میں   موت ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے  جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا خواہ وہ مسلمان ہے یا کافر ۔ اس دنیا میں ابدی حیات محال ہے اس حقیقت کی شاہد ہر گوشۂ ارض پر موجود وہ مٹی ہے جو ہر مرنے والے کو اپنی گود میں چھپا لیتی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ موت کی دہلیز پر ‘‘محتر م نوری عبد اللہ الضاحی کی عربی کتاب کفیٰ بالموت واعظا کا اردو ترجمہ ہے ۔مصنف موصوف نے  اس کتاب کو  دو حصوں میں تقسیم کیا ہے  ۔ حصہ اول میں  انسانی غفلت کی وجوہات اور موت سے بے توجہی کانجام واضح کیا گیا ہے  او ر یہ بتایا گیا ہے  کہ زندگی کے ہر لمحہ میں موت اور محاسبہ کا   تصور کس طرح انسان کےلیے  دنیاوی اور اخروی فلاح کا ضامن ہے ۔ جبکہ حصہ  دوم میں چند اہم شخصیات کی موت کے حالات  بطور نمونہ اور مثال مختصراً بیان کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو  عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے  اور تمام اہل توحید  کاخاتمہ بالخیر فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی

    زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِين (الذاریات58)” اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ، نہ تو میں ان سے روزی مانگتا ہوں اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں ۔ یقینا اللہ تعالیٰ تو خود سب کو روزی دینے والا ، صاحب قوت اور زبردست ہے‘‘۔جب ہم اپنی تخلیق کا مقصد جان چکے ۔توہمیں پنے دل کو ٹٹو لنا اور من سے پوچھنا چاہیے کہ ہم نے اس مقصد کو کہاں تک پورا کیا ؟ کیا محنت کی ؟ کیا کوشش کی ؟ اور لوگ کیا کر رہے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں ؟ یقینا ہمارا دل گواہی دے گا کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ۔ ہماری کوشش تو بالکل معمولی اور نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر آج ہی موت آجائے تو اللہ کے دربار میں پیش کرنے کیلئےہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں درپیش سفر دراز ہے اور سامان کچھ بھی نہیں۔کیا ہم شب و روز مشاہدہ نہیں کرتے کہ موت کس طرح دوست و احباب آل و اولاد اور عزیز و اقارب کو چھین کر لے جاتی ہے ۔ جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو پھر موت نہ بچوں کی کم عمری ، نہ والدین کا بڑھاپا ، نہ بیوی کی جوانی اور نہ ہی کسی کی خانہ ویرانی دیکھتی ہے۔کیا ہم نہیں جانتے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں ۔حتیٰ کہ نہ موت بچے گی نہ ملک الموت۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُور ( آل عمران : 185) ” ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور تم لوگ قیامت کے دن اپنے کئے کا پورا پورا اجر پاؤ گے ۔ پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہی کامیاب ہوا اور دنیا کی چند روزہ زندگی تو دھوکے کا سامان ہے‘‘۔نبی رحمت ﷺایک دفعہ اپنے احباب کے ہمراہ بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے اور آپ اس کا کان پکڑ کر فرمانے لگے : تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے خریدنا پسند کرےگا ؟ تو اصحاب رسول ﷺ عرض کرنے لگے ۔ ہم تو اسے مفت میں بھی نہیں لینا چاہتے ، یہ ہمارے کس کام کا ہے ؟ آپ ﷺ نے پھر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی عیب دار تھا ، اس کے کان چھوٹے ہیں ، تو پھر رحمت عالم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔اس لیے اانسان کو دنیا کی نسبت موت کی زیادہ فکر کرنی چاہیے کیونکہ موت کے بعد کے مراحل تو اس سے زیادہ سخت اور آنے والے مناظر تو اس سے زیادہ ہولناک ہیں ۔ہماری زندگیوں میں موت ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا خواہ وہ مسلمان ہے یا کافر ۔ اس دنیا میں ابدی حیات محال ہے اس حقیقت کی شاہد ہر گوشۂ ارض پر موجود وہ مٹی ہے جو ہر مرنے والے کو اپنی گود میں چھپا لیتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’موت کےسائے‘‘ مولانا عبد الرحمٰن عاجزمالیرکوٹلوی﷫ کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہو ں نے کتاب وسنت کی روشنی میں بتایا ہے کہ موت ایک ناگزیر حقیقت ہے جس کاذائقہ ہر شخص نے بہر صورت ضرور چکھنا ہے ۔ اس کتاب میں اس پر مختلف پہلوؤں سے بحث کی گئی ہے اوراس کی تیاری کی فکر پیدا کی گئی ہے ۔ نیز اس کتاب میں موت ومزار ومحشر کے فکر مندوں کے اعمال ، ان کے احوال اور موت کے وقت انکے نصیحت آمیز اقوال کاتذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور تمام اہل توحید کاخاتمہ بالخیر فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • امام ابن جوزی بغدادی

    زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ موت کے وقت ‘‘ امام ابن جوزی﷫ کی تصنیف ہے جوکہ جان نکلتے وقت شیطان لعین کے حملے سے بچ کر ثابت قدم رہتے ہوئے ایمان بچانے والے خوش قسمت انسانوں کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ ا س کتاب میں ان احوال کوذکر کرنے اور ایسے مومن افراد کےواقعات کوجمع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے آگاہی حاصل کر کے اپنی موت کے لمحات کوکامیاب وکامران بنائیں۔ کیونکہ یہ لمحات دوسری زندگی میں داخلہ کے لیے سنگ میل اور پہلی سیڑھی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس میں انہوں نے مرتے وقت شیطان کے حملے سےبچ کر ثابت قدم رہنے کے لیے قرآن وحدیث کی روشنی میں راہنمائی فراہم کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مومن نے موت کے وقت شیطان کے حملے سے اپنے آپ کوکیسے بچانا ہےاور تکلیف کے باوجود عقیدہ توحید اوردین اسلام پر ثابت قدم وکاربند کیسے رہنا ہے۔اس کتاب کا رواں، عام فہم اور دلچسپ ترجمہ پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی،سابق استاد حدیث وفقہ جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) نے نہایت کاوش سے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مسلمانوں کے لیے شیطان کے حملوں اور شرور سے بچنے کا باعث ورہنما بنائے۔ آمین( م۔ا )

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2211 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :