• title-pages-preshaniyon-aur-mushklat-ka-hall-copy
    حافظ محمد حمزہ کاشف

    دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تماممصائب وآلام بیماری اور تکالیف  سب کچھ  منجانب اللہ ہے  اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا  حصہ ہے  کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ  کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں  سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں  مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ  اطاعت پرمضبوط  ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ  انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی  تقاضا ہےکہ  وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے  اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک  ان کے   اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا  نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے  ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے  شمار گناہوں کو  معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی  ضرورت  ہے  یعنی نفس پر اتنا  قابو  ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس  میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں  وہ  اداس اور بدل نہ  ہو۔ زیر نظر کتاب ’’پریشانیوں اور مشکلات کاحل ‘‘ محترم حافظ  محمد  حمزہ کاشف اور جناب ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن  حفظہمااللہ کی مشترکہ کاوش ہے ۔مصنفین نےاس کتاب کی ترتیب کےوقت اس موضوع کی اکثر کتب بالخصوص عامر محمد ہلالی کی کتاب ’’مشکلات کا مقابلہ کیسے کریں؟‘‘ کومدنظر رکھا ہے۔قارئین کی سہولت کی خاطر کتاب کو حسب ذیل  چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔آزمائش اور تقدیر الٰہی ،آزمائشوں میں خیر وبرکات کےپہلو،سوچنےکا عمدہ انداز اور خوش رہنے کے قاعدے ،آزمائش میں نیک لوگوں کا طرز عمل ،آزمائش سے پہلے اور بعد۔ یہ کتاب پریشانیوں کا احساس کم کرنے اور غموں کےزخموں پر مرحم رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ (ان شاء اللہ) فاضل محقق مولانا محمدارشد کمال﷾ کی تحقیق کے ساتھ اس کتاب  کی افادیت اور ثقاہت میں مزید اضافہ ہوگیاہے ۔اللہ تعالیٰ اس کاوش کومؤلفین  اور جملہ معاونین کےلیے  صدقہ جاریہ  بنائے اور اہل ایمان کو  مصائب اور پریشانیوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-preshaniyon-aur-mushklat-ka-hall-jadeed-audition--copy
    ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

    دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہیں اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔دنیاوی زندگی کے اندر انسان کوپہنچنے والی تکالیف میں کافر اور مومن دونوں برابر ہیں مگر مومن اس لحاظ سے کافر سےممتاز ہےکہ وہ اس تکلیف پر صبرکرکے اللہ تعالیٰ کےاجر وثواب اور اس کےقرب کاحق دار بن جاتا ہے۔اور حالات واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ مومنوں کوپہنچنے والی سختیاں تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کافروں کوپہنچنے والی سختیاں ،تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں۔مصائب، مشکلات ، پریشانیوں اور غموں کے علاج اور ان سےنجات سےمتعلق کئی کتب چھپ چکی ہیں ہرایک کتاب کی اپنی افادیت ہے۔  زیر نظر کتاب ’’پریشانیوں اور مشکلات کاحل ‘‘ محترم حافظ محمد حمزہ کاشف اور جناب ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن حفظہمااللہ کی مشترکہ کاوش ہے ۔مصنفین نےاس کتاب کی ترتیب کےوقت اس موضوع کی اکثر کتب بالخصوص عامر محمد ہلالی کی کتاب ’’مشکلات کا مقابلہ کیسے کریں؟‘‘ کومدنظر رکھا ہے۔قارئین کی سہولت کی خاطر کتاب کو حسب ذیل ساتھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اوروہی مشکل دورکر سکتا ہے۔ آزمائش اور تقدیر الٰہی۔  آزمائشوں میں خیر وبرکات کےپہلو۔ سوچنےکا عمدہ انداز اور خوش رہنے کے قاعدے ۔ آزمائش میں نیک لوگوں کا طرز عمل ۔ آزمائش سے پہلے اور بعد۔ جادواورنظر بد سےبچاؤ کےطریقے ۔  آخری باب میں عرب علماء کا موقف بالعموم اور شیخ وحید عبدالسلام بالی کا موقف اوران کے تجربا ت بالخصوص پیش کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب پریشانیوں کا احساس کم کرنے اور غموں کےزخموں پر مرحم رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ (ان شاء اللہ) فاضل محقق مولانا محمدارشد کمال﷾ کی تحقیق کے ساتھ اس کتاب کی افادیت اور ثقاہت میں مزید اضافہ ہوگیاہے ۔اللہ تعالیٰ اس کاوش کومؤلفین اور جملہ معاونین کےلیے صدقہ جاریہ بنائے اور اہل ایمان کو مصائب اور پریشانیوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن موجود ایڈیشن میں ساتویں باب کااضافہ کیا گیا ہے جو تقریبا100 صفحات پر مشتمل ہے۔ لہذا اسے بھی سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-pehla-zena
    ابو انشاء قاری خلیل الرحمن جاوید
    عذاب  قبر دین اسلام کے    بنیادی  عقائد میں   سے  ایک  اہم  عقیدہ   ہے۔ عقلی وعلمی گمراہیوں میں غرق   بے دین افراد عذاب قبر کا  انکار کرتے ہیں ۔لیکن حقیقت یہی  ہے  کہ عذاب  قبر  برحق ہے اور اس کے اثبات پر کتاب  وسنت میں بے شمار دلائل موجود  ہیں۔تمام  اہل علم کا اس کے اثبات  پر اجماع ہے، اور وہ اسے برحق مانتے  ہوئے  اس  پرایمان رکھتے ہیں۔  عقیدہ  عذاب  قبر اس قدر اہم ہے کہ اس پر  امام  بیہقی ،امام ابن قیم ، اما م جلال الدین سیوطی ، اورامام ابن رجب ﷭  جیسے کبار محدثین اور آئمہ   کرام نے  باقاعدہ کتب  تالیف فرمائی  ہیں۔ نبی کریمﷺ کی صحابہ کو عذاب قبر سے  پناہ مانگنے کی تلقین،  اور  دور نبویﷺ  میں  پیش آنے  والے  کئی واقعات  عذاب   قبر کےبرحق ہونے پر  دال ہیں۔مگر عقلی گمراہیوں  میں مستغرق بعض  بے دین حضرات نے محض اس وجہ سے عذاب قبر کا انکارکردیا کہ یہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے،  اور ہماری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی ہے۔ ان کی یہ بات انتہائی جاہلانہ اور احمقانہ  ہے،  کیونکہ اس کائنات میں کتنی ہی ایسی اشیاء ہیں، جن کا وجود مسلم ہے، لیکن ہمیں وہ نظر نہیں آتی ہیں۔  زیر نظر کتاب    ابو انشاء قاری خلیل الرحمن جاوید کی کاوش ہے ،جس میں  عذاب قبرکے متعلق جو مختلف شکوک شبہات  ونظریات محض عقلی بنیادوں پر پائے جاتے  ہیں، کتاب وسنت کی روشنی میں ان کا  کافی وشافی جواب دیا گیا ہے  اور دلائل وبراہین سے ثابت کیا گیا ہے کہ  عذاب قبر برحق ہے ۔(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • 1
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    نبی کریمﷺ اور خلفائے راشدین سے آٹھ رکعت تراویح کا ثبوت ملتا ہے لیکن کیا کیجئے ائمہ کی اندھی تقلید کا کہ صریح ثابت شدہ سنتوں کو بھی بے عمل کرنے میں بھی باک محسوس نہیں کیا جاتا۔ ہمارے مقلدین حضرات واضح احادیث رسولﷺ ہونے کے باوجود بیس رکعات تراویح ہی کو سنت رسولﷺ قرار دینے پر بضد ہیں۔ بہرحال اس موضوع پر افہام و تفہیم کے انداز میں گفتگو ہونی چاہئے اور فریقین کو اس مسئلہ کو نزاعی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ زیر نظر کتاب ’پیارے رسولﷺ کی پیاری تراویح‘ ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی حفظہ اللہ کی ایک نئی کاوش ہے جس میں وہ تروایح کے تقریباً تمام مسائل و احکام کو لے آئے ہیں۔ نماز تراویح کے فضائل، اہمیت، طریقہ کار اور مسنون تعداد بیان کرتے ہوئے ان فرق کا رد کیا ہے جو بیس رکعت تراویح کے قائل ہیں۔ اگرچہ یہ بحث صرف تقریباً 15 صفحات پر مشتمل ہے۔ حالانکہ اس کو مزید پھیلایا جا سکتا تھا اور باقی کچھ اضافی چیزوں کو کم کیا جا سکتا تھا۔ وتر سے متعلقہ مسائل بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-pegham-e-touheed-w-risalatpbuh
    احمد صدیق قصوری

    تمام انبیاء کرام ﷩ ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔زیر نظر کتابچہ ''پیغام ِتوحید ورسالت'' محترم احمد صدیق قصوری کا تالیف کردہ ہے۔جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ آیات و احادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز اختیار کرتے ہوئے عقیدۂ توحید ورسالت کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔اس میں تہذیب وترتیب کا کا م حافظ اختر علی ارشد﷾( فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ، سابق رکن مجلس التحقیق الاسلامی،لاہور) نے انجام دیا ہے اللہ تعالی فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) ( م ۔ ا )

     

  • title-pages-pegham-e-jelani-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    شیخ عبد القادر جیلانی ﷫ایک موحد اور متبع سنت انسان تھے۔انہوں نے اپنی ساری زندگی قرآن اور سنت کے مطابق گزاری اور لوگوں کو  قرآن وسنت پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔آپ کی تزکیہ نفس کے حوالہ سے بے مثال خدمات چہار دانگ عالم میں عقیدت واحترام کے ساتھ تسلیم کی جاتی ہیں۔لیکن افسوس کہ آپ کے بعض عقیدت مندوں نے فرطِ عقیدت میں آپ کی خدمات وتعلیمات کوپس پشت ڈال کر ایک ایسا متوازی دین وضع کر رکھا ہے جو نہ صرف قرآن وسنت کے صریح منافی ہے بلکہ خود شیخ کی مبنی بر حق تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اگر ان عقیدت مندوں کو ان کی غلو کاریاں سے آگاہ کیاجائے تو یہ نہ صرف یہ کہ اصلاح کرنے والوں پر برہم ہوتے ہیں بلکہ انہیں اولیاء ومشائخ کا گستاخ قرار دے کر مطعون کرنے لگتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" پیغام جیلانی﷫" محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی ﷫کی صحیح اور حقیقی تعلیمات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے معتقدین اور سچے عقیدت مندوں ومریدین سے درخواست کی ہے کہ وہ بھی  اپنی اصلاح کریں اور اپنے پیر مرشد کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسنت کو تھام لیں۔ اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو عقیدہ توحید اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-chand-bidaat-aur-unka-taaruf
    سعید بن عزیز یوسف زئی
    دین اسلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں پایہ تکمیل کو پہنچا  اور کتاب وسنت میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دین کی اتباع کا حکم ہے۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی شخص کو شریعت سازی ،شرعی احکام میں ترمیم اور کمی بیشی کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔بلکہ انسانی فلاح اس چیز میں ہے کہ وہ کتاب وسنت کی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا ہو اور کتاب وسنت سے ماوراء تمام مروجہ اور خودساختہ بدعات سے کلی اجتناب کرے۔کیونکہ شرک اور بدعت دو مہلک چیزیں ہیں جو انسا ن کی ہلاکت وتباہی اور جہنم میں داخلے کا سبب ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےبدعت کو گمراہی اور جہنم میں ورود کا باعث قرار دیاہے۔لہذا ہرمسلمان پر لازم ہے کہ وہ بدعات سے اجتناب کرے اور کتاب وسنت سے کشید صحیح تعلیمات پرعمل پیرا ہو۔علمائے سلف نے بدعات میں گری عوام کو صحیح دین سے آگاہ کرنے اور بدعات سے بچاؤ کی خاطر تالیف وتصنیف کے ذریعے کافی کام کیا ہے۔اس سلسلے کی کڑی زیرتبصرہ کتاب ہے جس میں روزمرہ کی بدعات کی پہچان کرائی گئی۔چونکہ موصوف کسی دور میں خودبدعتیوں کے گروہ میں رہے ہیں۔اس لیے بدعات سے کافی واقف ہیں۔پھر جذبہ ہمدردی کے تحت انہوں نے پاک وہند میں مروجہ بدعات کا خوب پوسٹمارٹم کیا ہے۔کتاب نہایت معلومات افزاء اور حقائق کشا ہے۔جس کا مطالعہ بدعات میں ڈوبے لوگوں کے لیے ہدایت کا سبب ہوگا۔ان شاء اللہ (ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • untitled-1
    ڈاکٹر ذاکر نائیک
    ڈاکٹر ذاکر نائک کا نام عوامی و علمی حلقوں  میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان کی موجودہ زمانہ سے ہم آہنگ کتابیں اور ہر فکر سے منسلک لوگوں سے مناظرے خود ان کا تعارف ہیں۔ ان کی اسلام پر چالیس اعتراضات اوران کے مدلل جوابات، قرآن اور جدید سائنس، تصور خدا بڑے مذاہب کی روشنی میں، اسلام اور دہشت گردی، اسلام میں عورتوں کے حقوق وغیرہ جیسی کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہو کر عوام و خواص سے داد وصول کر چکی ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ڈاکٹر موصوف کے چند مشہور مناظروں پر مشتمل ہے۔ پہلا مناظرہ ’قرآن اور بائبل سائنس کی روشنی میں‘ کے عنوان سے ہے جس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے قرآن جبکہ کرسچن سکالر ڈاکٹر ولیم کیمبل نے بائبل کو سائنس سے ثابت کرنے کے لیے اپنے اپنے دلائل دئیے ہیں۔ دوسرا مناظرہ ’اسلام اور ہندو مت میں خدا کا تصور‘ کے موضوع پر ہے جو ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ہندو سکالر سری سری روی شنکر کے مابین ہے۔ تیسرا اور آخری مناظرہ گوشت خوری کے موضوع پر ہے جس میں ہندوؤں کے مناظر رشمی بھائی زاویری نے حصہ لیا ہے۔ ان مناظروں میں اسلام کی حقانیت پر بہت سے علمی و عقلی دلائل قارئین کے لیے افادے کے باعث ہیں۔ کتاب کے شروع میں عرفان احمد خان صاحب نے ہاٹ لائن کےعنوان سے ابتدائیہ لکھاہے جس میں ملاؤں کے کافی لتے لیےگئےہیں۔ علما کے بارے میں اس قدر تشدد آمیز رویہ سے حقائق سے نابلد ہونے کا ثبوت ہے۔(عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-dr-tahir-ul-qadri-ki-ilmi-khiyanteen
    حکیم محمدعمران ثاقب
    افراد امت تک دین کا پیغام پہنچانا نبوی مشن ہے جسے ارباب علم نےسنبھال رکھا ہے اور بخیر وخوبی سرانجام دے رہے ہیں لیکن بعض لوگ دین ومذہب کے نام پر لوگوں کا جذباتی ،مذہبی اورمعاشی استحصال کررہے ہیں افسوس کہ جناب طاہر القادری صاحب کا نام بھی انہی میں شامل ہے موصوف دین اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پرمعاشرے میں بدعات کو فروغ دے رہے ہیں ان کےنام سے بہت سی کتابیں منصۂ شہود پر آچکی ہیں لیکن  ان میں محکم استدلال کے بجائے من گھڑت اور ضعیف وواہی روایات سے دلیل اخذ کی جانے کی کوشش کی جاتی ہے اسی طرح تفسیر میں بھی موصوف کامنہج درست نہیں جناب ڈاکٹر رفض وتشیع کی طرف بھی میلان رکھتے ہیں جیسا کہ وہ باقاعدہ مجالس عزا میں جاکر خطاب کرتے ہیں زیرنظر کتاب میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی علمی خیانتوں کو طشت ازبام کیا گیا ہے جس سے ان کااصل چہرہ بے نقاب ہوکر سامنے آگیا ہے امیدہے کہ اس کےمطالعہ سے قارئین کو جناب ''شیخ الاسلام '' کو پہنچاننے میں آسانی رہے گی-



  • title-pages-kainat-k-panch-raaz-copy
    ڈاکٹر عبد الغنی فاروق

    موجودہ دنیا خدا کی صفات کا ایک اظہار ہے۔یہاں مخلوقات کے آئینے میں آدمی اس کے خالق کو پاتا ہے۔وہ اس پر غور وفکر کر کے خدا کی قدرت اور عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔مگر قدیم مشرکانہ افکار نے دنیا کی چیزوں (مثلا سورج ،چاند ،ستاروں) کو پر اسرار طور پر مقدس بنا رکھا ہے۔ہر چیز کے بارے میں کچھ توہماتی عقائد بن گئے ہیں۔اور یہ توہمات ان چیزوں کی تحقیق وجستجو میں مانع تھے۔توحید کے انقلاب کے بعد جب ساری دنیا خدا کی مخلوق قرار پائی تو اس کے بارے میں تقدس کا ذہن ختم ہوگیا۔اب دنیا کی ہر چیز کا بے لاگ مطالعہ کیا جانے لگا اور اس کی تحقیق شروع ہو گئی۔ان دریافت شدہ حقائق سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ایک تو یہ کہ دینی حقائق اب محض مدعیانہ عقائد نہیں رہے بلکہ خود علم انسانی کے ریعے ان کا برحق ہونا ایک ثابت شدہ چیز بن گیا ہے۔دوسرا فائدہ یہ ہوا ہے کہ یہ معلومات ایک مومن کے لئے اضافہ ایمان کا بے پناہ خزانہ ہیں۔یہ حقائق اگرچہ ایک جزئی ہیں ،تاہم وہ اتنے حیرت ناک ہیں کہ ان کو پڑھ کر اور جان کر  انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔اور انسان کا ذہن معرفت رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔لیکن سائنس کی اس بے مثال  اور محیر العقول ترقی کے باوجود  کرہ ارضی اور کائنات کے حوالے سے  چند سوالات ایسے ہیں کہ سائنس دان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ان کے جواب تلاش نہیں کر سکے اور سال ہا سال کی تلاش وجستجو کے باوجود ان کی کوئی وضاحت اور توجیہہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔مثلا برمودا مثلث کا راز کیا ہے؟اڑن طشتریوں کی حقیقت کیا ہے؟امریکی خلائی ادارے ناسا نے کائنات کے دور دراز گوشوں کی جو تصاویر فراہم کی ہیں ان کی حقیقت کیا ہے؟بلیک ہولز کیا ہیں؟اور دنیا میں گرمی کا تناسب کیوں بڑھ رہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔زیر تبصرہ کتاب" کائنات کے پانچ راز "محترم ڈاکتر عبد الغنی فاروق صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے کائنات کے انہی رازوں کے حوالے سے کچھ معلوماتی قسم کی بات کی ہے۔جو سائنس کے طلباء کے لئے ایک گرانقدر تحفہ ہے۔(راسخ)

     

  • title-page-kabira-gunah-kiya-hen
    محمد قاسم
    خدائے پاک کی نافرمانی کوگناہ کہتے ہیں گناہ دوطرح کے ہوتے ہیں ایک صغیرہ او ردوسرے کبیرہ ۔صغیرہ گناہ بھی اگرچہ نقصان دہ ہیں او رخداوندقدوس کی ناراضگی کا سبب ہیں لیکن ان کےبارے میں شرع کاقاعدہ یہ ہے کہ نیکیوں سے یہ خود بخود ختم ہوجاتے ہیں جبکہ کبیرہ گنا ہ غضب الہی کو زیادہ بھڑکانےوالے ہیں اور بغیر توبہ ختم بھی نہیں ہوتے الاکہ اللہ تعالی چاہٰے متعدد علمآء کرام نے کبیرہ گناہ کی سنگینی وشدت کو اجاگر کرنے کےلیے مستقل کتابیں لکھی ہیں تاکہ عوام باخبر ہوجائیں اور ان کےارتکاب سے باز رہیں اس ضمن میں علامہ ذہبی اور شیخ محمد بن سلیمان رحمہمااللہ کی مرتب کردہ فہرست سے استفادہ کرتے ہوئے کبیرہ گناہوں سے متعلق رہنمائی دی گئی ہے فی زمانہ جبکہ لوگ بڑے دعوے سے ان گناہوں کا ارتکاب کررہے ہیں یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے  کہ کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں اور شرع میں ان کی سزا کیا ہے خدا ہمیں ہرطرح کے گناہوں سے بچنے کی توفیق عنایت فرمائے۔




  • title-pages-kitab-al-toheed
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷺ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔ جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں'' اصح الکتب بعد کتاب اللہ'' کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوت استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔زیر مطالعہ '' کتاب التوحید ''بھی اس الجامع الصحیح کا آخری جزء ہے جس میں وہ تمام خصائص پائے جاتے ہیں جو صحیح بخاری کا امتیازی وصف ہیں جسے امام صا حب نے اسماء وصفات باری تعالیٰ کے مدلل بیان کے ساتھ خصوصا جہمیہ کے رد کے لیے مرتب فرمایاتھا۔امام بخاری کی کتاب التوحید کی شرح وترجمہ کی سعادت پاکستا ن کے معروف سلفی عالم دین شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد ﷾ نے حاصل کی ۔ کتاب التوحید کی شرح میں موصوف نے شیخ عبد اللہ غنیمان﷾ کی شرح سے نہایت عمدہ فوائد منتخب فرمائے ہیں ۔موصوف کی شخصیت علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔برس ہابرس سے ان کے فتاوی ٰ دینی وجماعتی مجلات وجرائد میں میں اشاعت پذیر ہورہے ہیں لوگ ان سے بھر پور استفادہ کررہے ہیں ۔ان کاشمار ان معدودے چند اہل علم او رمفتیانِ کرام میں ہوتا ہے جنہیں کتاب وسنت کی روشنی میں توجیہ وارشاد کے لیے مرجع کی حیثیت حاصل ہے ان کے قلم سے اس شرح کےعلاوہ متعدد کتب وتراجم شائع ہوکر دادِ تحسین حاصل کر چکی ہیں ۔مختصر صحیح بخاری کا ترجمہ او رصحیح بخاری کی تفصیلی شرح کا بھی شرف انہیں حاصل ہے اور مکتبہ اسلامیہ نے ان کے فتاوی جات کو خوبصورت تین ضخیم مجلدات میں شائع کیا ہے اور اس پر مزید کام جاری ہے ۔اللهم زدفزد ۔ اس کتا ب کے شروع میں ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر ﷫ کا تحریر کردہ مقدمہ انتہائی قیمتی اور لائق مطالعہ ہے ۔ اللہ تعالی کتاب التوحید کے مصنف ،شارح ، مترجم اور ناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کوشرف قبولیت بخشے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-kitab-ul-tauheed-saleh-bin-fozaan
    صالح بن فوزان الفوزان

    توحید اور رسالت اس لائحہ عمل کے دوبنیادی اجزا ہیں۔ جن کو صحت کے ساتھ قبول کرنے او رنتیجہ کے طور پر ان کو عملی زندگی میں نافذ کرنے سے اس مقصدِ عظیم کو حاصل کیا جاسکتا ہے جسے اخروی کامیابی کہا جاتا ہے۔ توحید، حیات وکائنات کی تخلیق کا مقصد اولین و آخرین ہے اور اس کاصرف ایک تقاضا ہے کہ جن وانس اپنے جملہ مراسم عبودیت صرف اور صرف ایک اللہ کے لیے خالص کرلیں اور ایک مسلمان شعوری یا غیر شعوری طور پر دن میں بیسیوں مرتبہ اس کا اعلان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا والوں کے لیے ہدایت ور ہنمائی کے لیے تمام انبیاء ورسول میزان عدل کے ساتھ مبعوث فرمائے۔ ان سب کی دعوت کا نقطہ آغاز توحید تھا۔ سب نے توحید کی دعوت کو پھیلانے عام کرنے اور توحید کی ضد شرک تردید میں پورا حق ادا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ کتاب التوحید ‘‘ سعودی عرب کے ممتاز عالم دین شیخ صالح بن فوزان الفوزان ﷾ کی توحید کے موضوع پر تصنیف کردہ کتاب کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں شیخ موصوف نے توحید اور شرک سے متعلق تمام امور پر مدلل گفتگو کی ہے۔ خاص طور پر ایسے اسباب کا تذکرہ کیا ہے۔جن کے ذریعے سے عقائد میں شرک در آتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت سادہ اور عام فہم ہے۔ کتاب ہذا کی کی تصنیف کے سلسلے میں مصنف نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ، امام ابن قیم، شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب﷭ کی کتب سے خاص طور پر استفادہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف، مترجم، اور اس پر کام کرنے والے تمام احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اسے امت کی ہدایت و راہنمائی کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • kitab-ul-tauheed-2
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک زیر تبصرہ یہ کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔اس کتاب کی تدوین وتالیف کا عظیم مقصد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ﷫ کے پیش نظر یہ تھا کہ دنیائے اسلام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کروایا جائے ،اور وہ عقائد ورسم ورواج،جن کی تنسیخ کے متعلق قرآن وسنت اور آثار صحابہ سے ثبوت فراہم ہوتا ہے ،دلائل وبراہین سے قطعیت کے ساتھ ان کو رد کر دیا جائے۔اور صرف ان واضح احکامات پر ایمان وعمل کی اساس قائم کی جائے جو مسلمانوں کے لئے فلاح و خیر اور نجات اخروی کا باعث ہوں۔چنانچہ انہوں نے اس کتاب میں ان تمام مسائل پر مدلل گفتگو کی ہے اور کسی قسم کے تعصب وعناد کے بغیر بہت ہی سادہ ودلنشیں پیرائے میں قرآن وحدیث کا نچوڑ نکال دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل حق ،جو گروہی مفاد اور مذہبی تعصب نہیں رکھتے ہیں ،اس کتاب کے پیش کردہ حقائق سے استفادہ کر کے اصل اسلامی تعلیمات یعنی کتاب وسنت کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں ،اور ان شاء اللہ آئندہ بھی یہ افادی حیثیت مسلم رہے گی۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-kitab-al-touheed--sayyad-shabir-ahmad--copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    اللہ  تبارک و تعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں  واحد اور بے  مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ  کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے  قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے  اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں  کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے  عظیم  گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی  عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی  ہدایت نظر آتی ہے  ۔نیز  شرک اعمال  کو ضائع وبرباد کرنے  والا اور ثواب سے محروم  کرنے والا ہے ۔ پہلی  قوموں کی  تباہی  وبربادی کاسبب  شرک  ہی  تھا۔ چنانچہ جس  کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں  اللہ کے علاوہ کسی  کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی  وہ مشرک ہے۔تردید شرک اور اثبات کےسلسلے میں  اہل علم نے تحریر اور تقریری صورت میں  بےشمار خدمات  انجام دیں۔ ماضی میں  شیخ الاسلام  محمد بن الوہاب﷫  کی  اشاعت  توحید  کےسلسلے میں خدمات  بڑی  اہمیت کی حامل ہیں ۔شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔علماء کا  اس بات پر اتفاق ہے کہ  اسلام میں توحید کے موضوع پرکتاب التوحید جیسی کوئی کتاب  نہیں لکھی  گئی۔یہ کتاب توحید کی طرف دعوت دینے والی ہے ۔شیخ موصوف نے اس کتاب میں ان تمام امور کی  نشان دہی کردی ہے  جن سے عقائد میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور نتیجۃً انسان ایسے عملوں کا ارتکاب کرلیتا ہے  حو شرک کے دائرے میں آتے ہیں ۔اس کتاب میں مصنف علیہ ﷫ نےہر مسئلہ کے لیے علیحدہ علیحدہ باب باندھا ہے اور ہر بات کے ثبوت کےلیے  قرآن مجید کی آیات اور احادیثِ صحیحہ بطور دلیل پیش کی  ہیں۔ بعد ازاں ہر باب کے خاتمہ پر آیاتِ قرآنی اوراحادیث  سے استنباطِ احکام کیا ہے  اور یہ اندازِ تحقیق اتنا سادہ اور علمی ہے کہ کسی  شخص کے لیے اس سے اختلاف کی گنجائش اور انکار کی جرأت باقی نہیں رہتی ۔الاّ یہ کہ وہ سرے سے احکامِ دین کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کردے ۔انہی انفرادی خصوصیات کی وجہ سے ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کتاب  کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت  و افادیت کے پیشِ نظر متعد د اہل علم  نےاس کی شروحات بھی لکھی  ہیں اور  کئی علماء نے اس کتاب  کےمتعد د زبانوں  میں ترجمہ  بھی کیا  ہے۔اردو  زبان میں بھی اس کےمتعدد علماء نےترجمے کیے  جسے   سعودی  حکومت  اور اشاعتی اداروں نے لاکھوں کی تعداد میں  شائع کر کے  فری تقسیم کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب التوحید‘‘  کا ترجمہ  محترم  جناب  سید شبیر احمد  صاحب نے کیا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ کتاب میں ایک  تفصیلی مقدمہ کا اضافہ کیا ہے ۔جس میں  توحید کےبارے میں کچھ بنیادی اور اصولی گفتگو پیش کی  ہے  تاکہ ایک مسلمان یہ بات سمجھ سکے کہ دراصل توحید سے مراد کیا ہے ؟ اس کے تقاضے کیا ہیں ؟ اور ایک مسلمان اور موحد ہونے کی حیثیت سے اس پر کیا فرائض اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اس کے نتائج کیا ہیں؟اللہ تعالیٰ مترجم کی اس کوشش ومحنت  کوقبول فرمائیں اور قارئین کے لیے اس کومفید اور نفع بخش ثابت کرے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-kitab-al-touheed-mutarjam--tamimi--copy
    محمد بن سلیمان التمیمی

    تمام انبیاء کرام ﷩ ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب التوحید مترجم ‘‘ امام محمد بن سلیمان التمیمی ﷫ کی عقیدہ توحید پر تصنیف شدہ کتاب التوحید کااردو ترجمہ ہےاردو ترجمہ کی سعاد ابو عبداللہ محمد سورتی نے حاصل کی ۔کتاب وسنت سائٹ پرشیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ﷫کی عقیدہ توحید پر مشہور کتاب کتاب التوحیداور اس موضوع پر دیگر کئی کتب موجود ہیں لیکن کتاب ہذا موجود نہ تھی لہذا فادۂ عام او راسے محفوظ کرنے کی خاطر اسے بھی سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-kitab-al-touheed-ma-takhreej-copy
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    اللہ  تبارک و تعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں  واحد اور بے  مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنی یہ کہ ہم اللہ  کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے  قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے  اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں  کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے  عظیم  گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی  عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی  ہدایت نظر آتی ہے  ۔نیز  شرک اعمال  کو ضائع وبرباد کرنے  والا اور ثواب سے محروم  کرنے والا ہے ۔ پہلی  قوموں کی  تباہی  وبربادی کاسبب  شرک  ہی  تھا۔ چنانچہ جس  کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں  اللہ کے علاوہ کسی  کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی  وہ مشرک ہے۔تردید شرک اور اثبات کےسلسلے میں  اہل علم نے تحریر اور تقریری صورت میں  بےشمار خدمات  انجام دیں۔ ماضی میں  شیخ الاسلام  محمد بن الوہاب﷫  کی  اشاعت  توحید  کےسلسلے میں خدمات  بڑی  اہمیت کی حامل ہیں ۔شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔علماء کا  اس بات پر اتفاق ہ کہ  اسلام میں توحید کے موضوع پرکتاب التوحید جیسی کوئی کتاب  نہیں لکھی  گئی۔یہ کتاب توحید کی طرف دعوت دینے والی ہے ۔ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت  کے افادیت کے پیشِ نظر متعد د اہل علم  نےاس کی شروحات بھی لکھی  ہیں اور  کئی علماء نے اس کتاب  کےمتعد د زبانوں  میں ترجمہ  بھی کیا  ہے۔اردو  زبان میں بھی اس کےمتعدد علماء نےترجمے کیے  جسے   سعودی  حکومت  اور اشاعتی اداروں نے لاکھوں کی تعداد میں  شائع کر کے  فری تقسیم کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’کتاب التوحید‘‘کا ترجمہ  علامہ محمدعثمانی  صاحب نے کیا ہے اور  شیخ الحدیث  مولانا حافظ محمداسلم شاہدروی﷾ نے کتاب التوحید کی تخریج اورمشکل مقامات کی توضیح اور کتاب کی پروف خوانی کے علاوہ اس پر   تفصیلی مقدمہ  بھی  تحریر کیا ہے  ۔ اللہ تعالیٰ مترجم  وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-kitab-al-waseela
    امام ابن تیمیہ
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا اسم گرامی محتاج تعارف نہیں ۔ساتویں صدی ہجری میں جب کہ ہر طرف شرک و بدعت ،تصوف و فلسفہ اور الحاد ولادینیت کے گھٹا گھوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے،حضرت الامام نے توحید رسالت اور آخرت پر ایمان و یقین کی قندیلیں روشن کیں او ر شرک و بدعت کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔امام صاحب کے زمانہ میں ایک گمراہ کن عقیدہ یہ بھی فروغ پارہا تھا کہ اللہ تعالی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کسی بزرگ کے وسیلہ کی ضرورت ہے ۔جس طرح ایک عام شہری کسی درمیانی واسطہ کے بغیر براہ راست بادشاہ  وقت تک نہیں پہنچ سکتا،اسی طرح اللہ عزوجل کا تقرب بھی کسی توسط کے بغیر ممکن نہیں ۔ظاہر ہے کہ یہ نظریہ قرآن وحدیث سے کسی طرح میل نہیں کھاتا لہذا امام صاحب نے اس کی پرزور تائید کی اور شرعی دلائل کی روشنی میں وسیلہ کے جائز و ناجائز پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی۔موجودہ زمانے میں بھی یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اہل بدعت وسیلہ کے غلط تصور کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں ۔لہذا ہر متبع سنت کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ حقیقت حال سے آگاہ ہو سکے اور شکوک و شبہات سے خود  بھی بچ سکے اور دوسروں کو بھی بچا سکے۔

  • title-pages-karamate-aouliya
    عبد الہادی عبد الخالق مدنی
    اولیائے کرام اللہ تعالیٰ کے ایسے نیک بندے ہوتے ہیں جو ایمان و تقویٰ، پرہیزگاری اور اطاعت الٰہی سے مزین اور آراستہ ہوتے ہیں۔ اولیائے کرام کی کرامات برحق ہیں۔ سلف صالحین اور ائمہ دین و محدثین نے کبھی ان کا نکار نہیں کیا۔ البتہ کرامات اولیا کے نام پر ہر خشک و تر اور غث و سمین کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ زیر مطالعہ کتاب ’کرامات اولیاء‘ کے نام سے اسی لیے وجود میں لائی گئی ہے تاکہ اس حوالے سے پائے جانے والے افراط و تفریط  اور غلط فہمیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ جس میں کرامات اولیا کو برحق ثابت کیا گیا ہے اور اس حوالہ سے منکرین کرامات اور عقل پرستوں کی تردید کی گئی ہے۔ اہل حدیث اور سلفی حضرات پر منکر کرامات ہونے کی تہمت کے ازالہ کے ساتھ ساتھ رحمانی و شیطانی کرامات کے درمیان خط امتیاز کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شعبدہ بازی اور کرامت میں فرق واضح کرنے کے لیے کرامات اولیا کے شرائط و ضوابط متعین کیے گئے ہیں۔ تسکین قلب کے لیے صحیح اور ثابت شدہ کرامات کے چند نمونے پیش کر دئیے گئے ہیں۔ کرامات اولیا کے حوالے سے اردو زبان میں بہت کم کام ہوا ہے مولانا عبدالہادی عبدالخالق شکریہ کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس سلسلہ میں کسی جانبداری کا مظاہرہ کیے بغیر مضمون کو مکمل کردیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنےکے لیے یہاں کلک کریں
  • titel-pages-kuffar-se-mushabihat-aik-sharie-w-tehqiqi-jaiza
    ناصر بن عبد الکریم العقل
    یہود و ہنود اپنی بھرپور منصوبہ بندی اور اور بےانتہا وسائل کے ساتھ اپنی گندی اور زہریلی ثقافت کے ذریعے مسلمانوں پر عمومی یلغار کر چکے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان اسی ظاہری چمک دمک سے مرعوب نظر آتے ہیں بلکہ اسے اپنانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں کو اغیار کی اندھی تقلید کرنے کرنے کے انجام سے خبر دار کیا جائے  اور انھیں مسلم تہذیب اختیار کرنے کے فوائد سے آگاہ کیاجائے۔  اسی سلسلہ میں ناصر بن عبدالکریم العقل نے ایک رسالہ ترتیب دیا جس کا اردو ترجمہ آپ کے سامنے ہے۔ ابو اسامہ محمد طاہر آصف نے اس کو اردو منتقل کرنے کے فرائض سرانجام دئیے۔ مصنف نے سب سے پہلے مشابہت کا صحیح مفہوم اور اس کے اصولوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد جن امور میں مشابہت سے روکا گیا ہےاور مشابہت کے احکام کو بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں مشابہت کفار سے متعلقہ دیگر اہم مضامین کو کتابچہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-kalma-e-toheed-ka-fikri-pehlu-copy
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم ﷺنے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی ﷫توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" کلمہ توحید کا فکری پہلو" امام التوحید شیخ محمد بن عبد الوھاب ﷫کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم عبد الجبار سلفی  صاحب نے حاصل کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-kalma-tayyba-la-ilaha-illallah-se-mohabbat-aur-iss-k-takaze
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    ’لا الٰہ إلا اللہ‘ وہ کلمہ توحید ہے جو صرف آخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کی ضمانت ہی نہیں بلکہ دنیا کی فلاح و سعادت کا بھی باعث ہے۔ فلاح کا یہ پروگرام رسول اللہﷺ نے کوہِ صفا پر دی گئی اپنی پہلی دعوت جو صرف توحید کے اپنانے پر مشتمل تھی میں پیش فرما دیا تھا۔ اس کلمے کا تقاضاہے کہ کوئی بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اور اس کی وحدانیت ہی کو تسلیم کرے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کلمے کا اقرار کرنے والے بہت سے افراد شرک کی اندھیر نگری میں بھٹک رہے ہیں۔ ابوحمزہ عبدالخالق نے یہ کتاب اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے تالیف کی ہے کہ لوگوں کو اس کلمے کے ذیل میں شرک کی شناعت سے خبردار کیا جائے اور انھیں دین اسلام کی روشن راہ سے روشناس کرایا جائے۔ مصنف نے کلمہ کی دعوت فکر کی فرضیت جیسے اہم موضوع پر انتہائی مؤثر طریقے سے گفتگو فرمائی ہے۔ شرک کے نقصانات واضح کیے اور بہت سے وہ امور ذکر کیے ہیں جن کا لوگ عبادت سمجھ کر ارتکاب کر رہے ہیں۔ مثلاً شرکیہ دم جھاڑ، غیراللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا، نذریں اور منتیں ماننا: غیر اللہ سے استغاثہ و استعانت طلب کرنا۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ کتاب بہت جامع اور خاص و عام کے لیے مفید ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-kalima-go-mushrik
    ابو الحسن مبشر احمد ربانی

    ہمارے ہاں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا اپنی مشکلات و مصائب اور دکھ درد میں غیر اللہ کو پکارنا معمول بن چکا ہے ۔ ان کے عقائد اس قدر ناتواں ہیں کہ اللہ کو بالکل فراموش کر چکے ہیں۔ مسلمانوں کی اس زبوں حالی کو سامنے رکھتے ہوئے اصلاح عقیدہ کے لیے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے، جس میں شرگ کی مذمت اور دعوت و توحید کو قرآن وسنت کے محکم دلائل سے واضح کیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں قبر پرستی اور پختہ قبور کے متعلق احادیث صحیحہ اور ائمہ محدثین کی معتبر کتب سے با دلائل ثابت کیا ہے کہ پختہ قبریں بنانے کا اسلام میں کوئی تصور موجود نہیں یہ تمام مذاہب کا متفقہ مؤقف ہے کہ پختہ قبریں بنانا حرام ہے علاوہ ازیں کتاب کے آغاز میں مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کا ایک مضمون ’’مسلمان مشرک‘‘ بھی افادہ عام کے لیے ملحق کر دیا گیا ہے۔

  • title-pages-kanzul-iman-aik-ahle-hadith-ki-nazar-me-copy
    سعید بن عزیز یوسف زئی

    زیر تبصرہ کتابچہ" کنز الایمان، ایک اہل حدیث کی نظر میں "علامہ سعید بن عزیز کی تصنیف ہے۔موصوف پہلے بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور دیگر بریلوی حضرات کی طرح مولوی احمد رضا خاں بریلوی کے اندھے مقلد ومعتقد تھے، اسی زمانے میں انہوں نے مولوی احمد رضا خان بریلوی کے ترجمہ قرآن" کنز الایمان" کی تعریف وتوصیف اور فضائل پر ایک مضمون لکھا تھا۔مگر دین حق اور قرآن وحدیث کے مطالعے اور تحقیق کے بعد موصوف نے مسلک حقہ، مسلک عمل بالقرآن والحدیث یعنی مسلک اہل حدیث اختیار کر لیا اور بریلویت سے توبہ کر لی۔بریلوی بھائیوں نے ان کے اس مضمون کو جو انہوں نے اس زمانے میں لکھاتھا جب وہ بریلوی تھے۔"کنز الایمان، ایک اہل حدیث کی نظر میں" کے نام سے اپنی کتب ورسائل میں شائع کیا اور پھر پورے برصغیر میں اسے چھاپ کر تقسیم کیا گیا  اور یہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی کہ اہل حدیث عالم دین  شرک وبدعات سے بھرے اس ترجمے کو  بہت ہی عمدہ سمجھتا ہے۔علامہ سعید بن عزیز نے اپنے مختلف بیانات اور مضامین میں اس مضمون کی تردید شائع کی اور پھر اسی تردیدی مضمون وبیان کو کتابی شکل میں چھاپ کر تقسیم کیا گیا جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-koundon-ki-haqeeqat-copy
    محمود الحسن بدایونی

    رجب کے مہینےمیں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا جن بعض اعمال کوفضیلت کےساتھ کے بڑھا چڑہا کر بیان کیاجاتا ہے وہ محض فرضی قصے اور ضعیف و موضوع روایات پر مبنی داستانیں ہیں لہذا جواعمال کتاب وسنت سےثابت ہیں ان پر عمل کرنا چائیے مسلمان اس ماہِ رجب میں کئی قسم کے کام کرتے ہیں مثلا صلاۃ الرغائب، نفلی روزں کا اہتمام ، ثواب کی نیت سے اس ماہ زکاۃ دینا وغیرہ اور 22 رجب کو کونڈوں کی رسم اداکرنا 27 رجب کو شب معراج کی وجہ سے خصوصی عبادت کرنا، مساجد پر چراغاں کرنا جلسے وجلوس کااہتمام کرنا،آتش بازی اور اس جیسی دیگر خرافات پر عمل کرنایہ سب کام بدعات کے دائرے میں آتے ہیں ۔ماہِ رجب کی 22 تاریخ کو خصوصا خواتین امام جعفر صادق ﷫ کے نام پر مٹی کے چھوٹے چھوٹے پیالے (کونڈے) حلوہ وغیرہ سےبھر کر گھروں میں تقسیم کرتیں ہیں اوراس کےفیوض وبرکات پر عجیب وغریب داستانیں سناتیں ہیں جبکہ حقیقت میں شریعت میں ماہِ رجب میں اس قسم کی بدعات کا کوئی تصور نہیں او رنہ ہی اس طرح کی ماہ رجب میں دیگر رسومات جوموجودہ دور میں ہیں ان کا اسلام سے تعلق ہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’کونڈوں کی حقیقت‘‘ اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی محمود الحسن بدایوانی سے 1970ء میں ماہ رجب میں کی جانے مختلف اور کونڈوی کی شرعی حیثیت کے متعلق استفتاء کا جواب پر مشتمل ہے ۔مفتی موصوف نے قرآن وسنت کی روشنی میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے لکھا کہ کونڈوں کی مروجہ رسم مذہب اہل سنت والجماعت میں محض بے اصل ،خلاف شرع اور بدعت محدثہ ممنوعہ ہے ۔ کیونکہ نہ نبی کریم ﷺسے اس کا ثبوت ہے نہ صحابہ کرام وتابعین عزام﷭ سے اورائمہ اسلام سے منقول ہے۔لہذا برادران اہل سنت والجماعت کو اس لغو رسم سے دور رہنا چاہیے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو اس رسم کے پاس پھٹکنے نہ دیں نہ خود اس رسم کو بجا لائیں اور نہ اس میں شرکت کر کے دشمنان حضرت امیر معاویہ کی خوشی میں شریک ہوکر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں۔اس فتوے پر اس وقت کے اکابر مفتیان نے دستخط فرمائے ۔جن میں مفتی محمد شفیع، مولانااحتشام الحق تھانوی ، مفتی ولی حسن ٹونکی،سید عبد الجبار، مولانا ابو الفضل عبد الحنان ، مولانا مفتی عبد القہار وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔اس قدیم متفقہ فتویٰ کو قارئین کے استفادہ کے لیے اب کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا ہے ۔اللہ اسے لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-kundon-ki-kahani-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    ماہِ رجب کی 22 تاریخ کو خصوصا خواتین امام جعفر صادق ﷫ کے نام پر مٹی کے  چھوٹے چھوٹے پیالے  (کونڈے) حلوہ وغیرہ سےبھر کر گھروں میں تقسیم کرتیں ہیں اوراس کےفیوض وبرکات پر عجیب وغریب داستانیں سناتیں ہیں جبکہ حقیقت میں شریعت میں  ماہِ رجب میں اس قسم کی بدعات کا کوئی تصور نہیں او رنہ ہی اس طرح کی ماہ رجب میں دیگر رسومات جوموجودہ دور میں ہیں۔ اسلام نے انکا  کوئی تصور پیش کیا ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’کونڈوں کی کہانی ‘‘محترم مولانا محمد عظیم حاصلپوری﷾ کی ایک اہم تحریری  کاوش  ہے جس میں  انہوں نے مختصر طور پر کونڈوں کی کہانی  او رماہِ رجب میں کئے جانے والے افعال کا جائزہ  لیتے ہوئے  ان کی شرعی حیثیت کوواضح کیا ہے۔موصوف  اس کتابچہ کے علاوہ  بھی کئی کتب کےمترجم   ومصنف ہیں اور  ماہنامہ  ’’ندائے امت کےچیف ایڈیٹربھی ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تدریسی ،دعوتی،تحقیقی  وتصنیفی اور صحافتی  خدمات  کوقبول فرمائے اور اس کتابچہ ہذا کو  عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

  • title-page-khulla-khat
    ریاض احمد
    یہ  خط جناب ریاض احمد صاحب نےلکھا ہے ریاص صاحب پہلے ایک پیر جناب محمدشریف خلیق کے مرید تھے عرصہ پندرہ سال ان کے حلقہ بیعت میں رہے بعدازاں وہ سعودی عرب گئے جہاں ای موحدعالم جناب مولانا اقبال کیلانی سے گفت وشنید کے مواقع میسر آئے مولانا اقبال کیلانی نے انہیں قرآن وسنت کے مطالعہ کی لف راغب کیا جس کے نتیجے میں میں وہ اپنے عقائد ونظریات سے دستبردار ہوگئے جو انہوں نے کتاب وسنت سے لاعلمی کے نتیجہ میں اپنارکھے تھے فکرونظر کی تبدیلی کے بعد جناب ریاض احمد صاحب نے نصیحت او رخیر خواہی کے پیش نظر اپنےساتھ پیر کو خط لکھا حس میں بڑے احسن پیرایے میں ان کے افکار ونظریات کےبارے میں چندسوالات کیے لیکن ہنوز ان کی طرف جواب نہیں آیا اور انشاء اللہ آ بھی نہیں سکتااس لیے باطل عقائد وافکار کے حق میں کتاب وسنت  کے دلائل کیونکر پیش کیے جاسکتے ہیں ہر مسلمان کو اس کھلے خط کامطالعہ کرنا چاہیے اس سے جہاں نام نہادپیروں  کے ذاتی کردار سے واقفیت ہوتی ہے وہیں ان کے گمراہ کن خیالات سے بھی آگاہی ہوگی جس سے صحیح عقیدہ کو پہنچاننے  میں آسانی ہوگی -



  • title-pages-kia-nabi-e-rahmatpbuh-maghmoom-b-ho-jate-thae
    ڈاکٹر رانا محمد اسحاق
    بعض لوگوں کا  عقیدہ کہ نبیﷺ عام  انسانوں کی  طرح  پریشان ومغموم نہیں ہوتے تھے جبکہ یہ  عقیدہ  صریحا اسلامی عقاید اور  سلف صالحین کے عقیدہ کے خلاف ہے  کیونکہ جتنے بھی انبیاء اور رسل اللہ تعالی نے معبوث فرمائے وہ سب کے سب نسل آدم علیہ  السلام میں سے  انسان اور بشر ہواکرتے تھے اور اللہ نے  بشر کوہی  اشرف المخلوقات قرار دیاہے  بشر کایہ خاصہ ہےکہ  وہ دنیا  میں غم،خوشی ،دکھ ،سکھ غرضیکہ دنیا میں ہر قسم کے اثرات سےمتاثر ہوتا ہے   چونکہ نبی رحمت حضرت محمد بن عبد اللہ  بشرتھے اللہ   تعالی  نے ان  کوافضل البشر اور خاتم الانبیاء بناکر دنیا میں مبعوث فرمایا  لہذا بتقاضائے بشریت ان کا غم اور خوشی کے اثرات سے متاثر ہونا ضروری ہے ۔ نیز یہ عقیدہ یا خیال رکھنا کہ وہ مغموم نہیں ہوسکتے تھے  دین میں غلو اور عقیدہ اسلام کے منافی ہے ۔محترم ڈاکٹر رانامخمد اسحاق   ( فاضل مدینہ  یونیورسٹی  جوکہ  متعدد  کتب  کے  مؤلف  ہیں )نے زیر نظر کتابچہ  میں قرآن  واحادیث کی  روشنی میں  متعدد قرآنی آیات و احادیث اور اقعات  پیش کر کے  ثابت کیا ہےکہ نبی ﷺ بھی عام انسانوں کی طرح مغموم ہوجایا کرتےتھے ۔(م۔ا)

  • tilte-pages-kia-nabi-kareemsawwhazir-nazir-hain
    شیخ عبد الرحمن امین
    یہ کتاب شیخ عبدالرحمٰن امین کی تالیف ’الرد الباہر فی مسئلۃ الحاضر والناظر‘ کا اردو ترجمہ ہے، اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ ’نبی کریمﷺ ہر جگہ حاضر  ناظر نہیں ہیں۔‘ نہ آپ اپنی زندگی میں ہر جگہ حاضر و ناظر تھے اور نہ وفات کے بعد۔ یہ عقیدہ بعض بدعتی لوگوں کی ایجاد کردہ ہے جو سراسر ضلالت و گمراہی پر مبنی ہے۔اس کتابچہ میں بدعقیدہ اور بدعتی لوگوں کے دلائل کی حقیقت بے نقاب کی گئی ہے اور کتاب و سنت سے حق واضح کیا گیا ہے۔ ترجمہ میں حسب ضرورت کچھ اضافے کیے گئے ہیں اور بعض غیر اہم عبارات کا ترجمہ عمداً ترک کر دیا گیا ہے۔ نیز بعض عبارتوں میں مناسب تقدیم و تاخیر بھی کی گئی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-kia-nabi-kareemsawwhazir-nazir-hainjadeed-auditoin-copy
    شیخ عبد الرحمن امین

    اللہ  کے رسول  ﷺ کے بارے میں  یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ  ہر جگہ حاضر او رہر چیز کودیکھتے ہیں ،عقل ونقل ہر دو کےخلاف ہے ۔ نہ آپ اپنی زندگی میں ہرجگہ حاضرو ناظرتھےاور نہ وفات کے بعد۔ یہ عقیدہ بعض بدعتی لوگوں کا ایجاد کردہ ہے جو سراسر ضلالت و گمراہی پر مبنی ہے۔اہل بد عت  نے  یا تو انتہائی ضعیف اور موضوع روایات واحادیث کا سہارا لیا ہے ۔اور یا پھر صحیح احادیث کی غلط تاویلات کی ہیں ۔اوریہ سب کچھ وہ نبی کریم ﷺ کی  شان میں غلوکی بنا پر کرتے ہیں۔قرآنی آیات ،احادیثِ رسولﷺ اوراقوال ِ سلف ﷫ سے اس باطل عقیدہ کی تردید ہوتی ہے ۔زیر نظرکتابچہ ’’کیا نبی اکرم ﷺ حاضر وناضر ہیں؟‘‘شیخ عبد الرحمن امین ﷾کی کتاب ’’الرد الباهر في مسئلة الحاضر والناظر‘‘کا اردو ترجمہ ہے ۔جس میں  انہوں نے  نبی کریم  ﷺکے ہر جگہ او رہر وقت  حاضر وناضر کے  باطل عقیدہ کی قرآنی آیات ،احادیثِ رسولﷺ اوراقوال ِ سلف ﷫ سے تردید کرتے ہوئے ۔اہل بدعت  کے اس باطل عقیدہ کے دلائل کی حقیقت کو  بھی  خوب بے نقاب کیا ہے ۔تقریبا15 سال قبل  مجلس  التحقیق الاسلامی نے  اس کتابچہ  کو طباعت سے آراستہ کیا۔ اس  کتابچہ کی افادیت کے پیش نظر اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پر  اپ لوڈ کیا گیا ہے ۔اللہ تعالی اس کتاب کو  لوگوں کے عقائدکی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) ( م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1989 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں