• title-pages-marfat-e-deen-k-3-bunyadi-usool-copy
    محمد بن سلیمان التمیمی

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" معرفت دین کے 3 بنیادی  اصول"شیخ الاسلام امام محمد بن سلیمان التمیمی  ﷫کی عربی تصنیف "الاصول الثلاثۃ وادلتھا " کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت  پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر صاحب نے حاصل کی ہے۔یہ کتاب اپنی اہمیت وفادیت کے پیش نظر متعدد دینی مدارس میں داخل نصاب ہے۔یہ کتاب اس لائق ہے کہ اسے ہر گھر کی زینت بنایا جائے اور گھر میں تما م بچوں کو یہ زبانی یاد کروائی جائے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-muftah-ul-jannah
    ابو خزیمہ محمد حسین ظاہری
    تمام انبیاء کرام علیہم السلام ایک  ہی پیغام  اور  دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔ انبیاء کرام  سالہاسال تک مسلسل  اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے  ۔انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے۔  حضرت  نوح   نے ساڑھے نوسوسال   کلمہ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد  مصطفیٰ ﷺ نےبھی  لا اله  الا الله کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔زیرنظر  كتاب ’’مفتاح الجنۃ‘‘ بھی    اس موضوع پر شیخ محمد حسین ظاہر ی کے خطبات کا  مجموعہ ہے۔  اس میں  موصوف نے انتہائی عمدہ انداز میں کتاب وسنت کے دلائل  کی روشنی  میں    لا اله  الا الله   کا معنی ومفہوم،حقیقت ،شرائط کو  تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ اللہ تمام مسلمانوں کو صحیح معنوں میں  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا معنی ومفہوم جاننے او راس کے  مطابق عقیدہ وعمل صالح اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • mamnoo-aur-mashroo-wasila-ki-haqiqat
    ناصر الدین البانی

    توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ممنوع اور مشروع وسیلہ کی حقیقت" اردن کے معروف عالم دین محدث العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫کی کی وش ہے۔اس میں انہوں نے وسیلے کی لغوی واصطلاحی تعریف،وسیلے کی اقسام ،مشروع وسیلہ اور ممنوع وسیلہ وغیرہ جیسی مباحث کو قرآن وسنت کی روشنی میں جمع فرما دیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پربڑی مفید اور شاندار ہے ،جس کا ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کے اس عمل پر انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-mamnuat-shariya
    محمد بن صالح المنجد
    احکام شرعیہ کے دوحصے ہیں ایک حصہ مامورات شرعیہ کہلاتاہے  جس میں کچھ کاموں کوکرنے کا حکم دیا گیا ہے دوسرا حصہ منہیات کہلاتا ہے جس میں بعض امور سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے شریعت میں جس طرح مامورات کی اہمیت ہے اس سے کہیں بڑھ کر منہیات کی اہمیت ہے اس لیے کہ اگر کوئی صرف منہیات سے بچتا ہے تو اسے اس کاثواب ملتا ہے جبکہ مامورات میں اس صورت میں مستحق اجر ہوتا ہے جب وہ عملاً اسے کرے پھر مامورات میں استطاعت کی قید ہے لیکن منہیات میں یہ قید نہیں ہے مزیدبرآں منہیات کاجاننا اس لیے بھی  ضروری ہے  کہ انسان ان کے ارتکاب سے بچ سکے تاکہ خدا کی ناراضگی وعتاب کا نشانہ نہ بن سکے فی زمانہ شرعی منہیات کا بڑی دیدہ دلیری سے ارتکاب کیا جاتا ہے اس کی ایک وجہ لاعلمی اور جہالت بھی ہے زیرنظر کتاب کےمطالعہ سے یہ لاعلمی دور ہوجاتی ہے اور انسان ان تمام امور سے بچ سکتاہے جن سے شریعت میں روکا گیا ہے


  • title-pages-munafiqeen-ka-kirdar-aur-alamaat
    ابو یاسر عبد اللہ بن بشیر
    انسانی رویہ میں منفی و مثبت رجحانات ایک معمول کی بات ہوتی ہے اور دونوں پہلو اپنے اپنے مقام پر ایک مستقل حیثیت رکھتے ہیں او ردونوں پہلوؤں میں ہر ایک ایک مستقل رویہ ظاہر کررہا ہوتا ہے۔ چاہے وہ  درست ہو یا صحیح۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے آدمی کی شخصیت کا تعین مشکل ہوجائے یہ کسی بھی مذہب اور سوسائٹی میں اچھا خیال نہیں کیا گیا۔ شریعت میں کفر اور اسلام  وہ اصطلاحات ہیں جو حق و باطل کے رویہ کو ظاہر کرتی ہیں اسی طرح جو ان دونوں میں سے کسی راہ کو متعین نہ کرپائے بلکہ اس کے قول یا شخصیت سے دونوں پہلوؤں کی آمیزش نظر آئے اس دو رُخے انسان کو اسلامی اصطلاح میں منافق کہتے ہیں او راس  کی  سزا کفر سے بھی زیادہ ہے۔ مسلمانوں کو نفاق سےبچنے کی تلقین کی گئی ہے اور شارع نے اس کی علامات بھی واضح کردی ہیں۔زیر نظر کتاب انہی علامات نفاق پر مشتمل ہے جو قرآن و سنت کےدلائل سے مرتب ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-mukhtasir-minhaj-al-sunnah-1-copy
    امام ابن تیمیہ

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیرنظر کتاب '' مختصر منہاج السنۃ'' شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب’’ منہاج السنۃ‘‘ کا اختصار و اردو ترجمہ ہے۔ منہاج السنۃ ایک مشہور رافضی شیعہ عالم حسن بن یوسف بن علی بن المطہر الحلی کے جواب میں لکھی گئی۔ رافضی مصنف نے المنہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ‘‘ کےنام سے ایک کتاب تصنیف کی ‘‘ ۔یہ کتاب اہل سنت وشیعہ کےمابین متنازع مسائل ومباحث سےلبریز اور من گھڑت و موضوع روایات کا پلندہ تھی ۔ اور اس میں سابقین اولین صحابہ کوجی بھر کرگالیاں دی گئی تھیں ۔امت مسلمہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ کے عظیم احسان سے کبھی سبکدوس نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے کتاب مذکور کے جواب میں ’’منہاج الاعتدال فی نقض کلام اہل الرفض والاعتدال‘‘ کے نام سےایک کبیر الحجم کتاب لکھی جوکہ لوگوں میں ’’منہاج السنۃ‘‘ کے نام سےمعروف ہوئی ۔امام ابن تیمیہ ﷫ نے رافضی مؤلف کے اٹھائے ہوئے تمام اعتراضات واشکالات اورمطاعن ومصائب کامدلل ومسکت جوابات دیے ۔شیخ الاسلام کی ہر بات عقل ونقل کی دلیل سے مزین اور محکم استدلال پرمبنی ہے آپ نے روافض کے تمام افکارونظریات کےتاروبود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔امام موصوف شیعہ مصنف ابن المطہر کی کتاب سےعبارت نقل کر کے اس کا رد کرتے ہیں۔ فریقین کےدلائل کی موجودگی میں ایک باانصاف اور سلیم العقل انسان کےلیے فیصلہ صادر کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔اس کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کے سامنےآتی ہےکہ شیعہ مصنف کی پیش کردہ احادیث جھوٹ کاپلندہ ہیں او روہ اکثرجھوٹی روایات سے احتجاج کرنے کاخوگر تھا۔ردّ رافضیت پر یہ ایک مستند کتاب ہے۔کبار علماء کے بقول ’’ نیلے آسمان کےنیچے اور فرشِ زمین کے اوپر ردّ رافضیت پر اس سےبہترین کتاب آج تک نہیں لکھی گئی ‘‘منہاج السنہ کےاختصار وترجمہ اور احادیث کی مکمل تخریج کا اہم کام محترم جناب پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی )نےکیا ہے۔اور اس میں العواصم من القواصم اور المنتقیٰ سے استفادہ کر کے اہم ترین حواشی بھی شامل کردیے ہیں ۔ المنتقی ٰ کےنام سے امام ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی نے منہاج السنۃ کا اختصار کیا تھا۔اس کا ترجمہ معروف مترجم محترم غلام احمد حریری ﷫ نے کیا یہ ترجمہ بھی ویب سائب پر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ عقیدہ اور صحابہ کے دفاع میں مترجم کی یہ محنت قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

  • title-pages-mukhtasir-minhaj-al-sunnah-1-copy
    امام ابن تیمیہ

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیرنظر کتاب '' مختصر منہاج السنۃ'' شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب’’ منہاج السنۃ‘‘ کا اختصار و اردو ترجمہ ہے۔ منہاج السنۃ ایک مشہور رافضی شیعہ عالم حسن بن یوسف بن علی بن المطہر الحلی کے جواب میں لکھی گئی۔ رافضی مصنف نے المنہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ‘‘ کےنام سے ایک کتاب تصنیف کی ‘‘ ۔یہ کتاب اہل سنت وشیعہ کےمابین متنازع مسائل ومباحث سےلبریز اور من گھڑت و موضوع روایات کا پلندہ تھی ۔ اور اس میں سابقین اولین صحابہ کوجی بھر کرگالیاں دی گئی تھیں ۔امت مسلمہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ کے عظیم احسان سے کبھی سبکدوس نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے کتاب مذکور کے جواب میں ’’منہاج الاعتدال فی نقض کلام اہل الرفض والاعتدال‘‘ کے نام سےایک کبیر الحجم کتاب لکھی جوکہ لوگوں میں ’’منہاج السنۃ‘‘ کے نام سےمعروف ہوئی ۔امام ابن تیمیہ ﷫ نے رافضی مؤلف کے اٹھائے ہوئے تمام اعتراضات واشکالات اورمطاعن ومصائب کامدلل ومسکت جوابات دیے ۔شیخ الاسلام کی ہر بات عقل ونقل کی دلیل سے مزین اور محکم استدلال پرمبنی ہے آپ نے روافض کے تمام افکارونظریات کےتاروبود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔امام موصوف شیعہ مصنف ابن المطہر کی کتاب سےعبارت نقل کر کے اس کا رد کرتے ہیں۔ فریقین کےدلائل کی موجودگی میں ایک باانصاف اور سلیم العقل انسان کےلیے فیصلہ صادر کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔اس کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کے سامنےآتی ہےکہ شیعہ مصنف کی پیش کردہ احادیث جھوٹ کاپلندہ ہیں او روہ اکثرجھوٹی روایات سے احتجاج کرنے کاخوگر تھا۔ردّ رافضیت پر یہ ایک مستند کتاب ہے۔کبار علماء کے بقول ’’ نیلے آسمان کےنیچے اور فرشِ زمین کے اوپر ردّ رافضیت پر اس سےبہترین کتاب آج تک نہیں لکھی گئی ‘‘منہاج السنہ کےاختصار وترجمہ اور احادیث کی مکمل تخریج کا اہم کام محترم جناب پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی )نےکیا ہے۔اور اس میں العواصم من القواصم اور المنتقیٰ سے استفادہ کر کے اہم ترین حواشی بھی شامل کردیے ہیں ۔ المنتقی ٰ کےنام سے امام ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی نے منہاج السنۃ کا اختصار کیا تھا۔اس کا ترجمہ معروف مترجم محترم غلام احمد حریری ﷫ نے کیا یہ ترجمہ بھی ویب سائب پر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ عقیدہ اور صحابہ کے دفاع میں مترجم کی یہ محنت قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

  • title-pages-manhaj-e-ahle-hadith-copy
    محمد طیب محمدی

    اہل حدیث نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی " والے" اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کردیں تو معنی ہونگے، " حدیث والے" اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام سے مراد"قرآن و حدیث" ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے۔اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلاناہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ منہج اہل حدیث‘‘ محمد طیب محمدی صاحب کی ہے۔ جس میں وحی کا معنیٰ و مفہوم، صحابۂ کرام کے اعمال، دین اسلام کا کامل ہونا، اتباع رسول کا معنی و اہمیت، ترک سنت کی سزا ، ترک تقلید، اعمال کی قبولیت کی شرائط، بدعت کی تاریکیاں، اہمیت حدیث اور آخر میں اختلافات کے جل کو اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے عناوین کے اعتبار سے انتہائی معتبر کتاب ہے۔اہل حدیث کا منہج یہی ہے کہ لوگوں کو راہِ راست پر لانا اور گمراہی سے بچنے کی تلقین کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ محمد طیب صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے لئے اس کتاب کو صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔( رفیق الرحمن) 

  • title-pages-manhaj-salaf-saliheen-copy
    ابو محمد حسن بن علی البربھاری

    اس پر فتن دور میں اگر اللہ تعالی کسی  کو منہج سلف صالحین جو اللہ کی وحی سے مستفاد وماخوذ ہے، کے فہم کی توفیق فرما دے تو یہ یقینا ایک عظیم سعادت و بصیرت ہے، جو اخروی کامیابی کے لئے مطلوب ومقصود ہے۔عقیدہ توقیفی ہوتا ہے یعنی یہ شارع (شریعت نازل کرنے والے) کی دلیل سے ہی ثابت ہوسکتا ہے ، جس میں اپنی رائے اور اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ لہذا عقیدہ کے ماخذ ومصادر صرف کتاب وسنت سے ثابت شدہ دلائل پر موقوف ہوتے ہیں ، کیونکہ اللہ تعالی سے زیادہ کوئی علم نہیں رکھتا کہ کیا بات اللہ تعالی کے شایان شان ہے اور کیا نہیں ، اور اللہ تعالی کے بعد اللہ تعالی کے بارے میں اللہ کے رسول (ﷺ)سے زیادہ کوئی علم نہیں رکھتا ۔ چناچہ سلف صالحین اور ان کی پیروی کرنے والوں کا عقیدہ اپنانے کے بارے میں یہی منہج رہا ہے کہ وہ اس بارے میں محض قرآن اور سنت پر ہی اقتصار کرتے تھے۔ اللہ تعالی کے بارے میں جو بات قرآن اور سنت سے ثابت ہوتی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ، اس کا اعتقاد رکھتے اور اس کے مطابق عمل کرتے تھے ، اور جو بات اللہ تعالی کی کتاب اور اللہ کے رسول (ﷺ)کی سنت سے ثابت نہیں ہوتی اس کی اللہ تعالی سے نفی کرتے اور قبول کرنے سے انکار کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے درمیان عقیدے کے معاملہ میں کوئی اختلاف نہیں تھا ، بلکہ ان سب کا عقیدہ ایک تھا اوران سب کی جماعت بھی ایک ہی تھی ، کیونکہ اللہ تعالی نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ جو اللہ تعالی کی کتاب اور نبی (ﷺ)کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے ان کا کلمہ مجتمع رہے گا ، اعتقاد درست ہوگا اور منہج میں یگانگت ہوگی ۔زیر تبصرہ کتاب "منہج سلف صالحین"چوتھی صدی ہجری کے معروف امام اور محدث  ابو محمد حسن بن علی البربھاری ی﷫ کی عربی تصنیف "شرح السنہ " کے خلاصے اور عصر حاضر کے جید سلفی عالم فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن صالح العبیلان کی انتہائی نفیس شرح کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم حافظ حامد محمود الخضری صاحب نے کیا ہے۔یہ کتاب سلف صالحین کے منہج پر مبنی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف، شارح اور مترجم سب کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-mawazna-copy
    برکت اللہ پانی پتی

    معرکہ حق وباطل ہمیشہ سے جاری اور قیامت تک جاری رہے گا۔کچھ لوگ شیطان کی پوجا کرتے ہیں تو کچھ رحمن کے پرستار ہیں۔علماء کی بھی دو اقسام ہیں ۔بعض اہل علم خالصتا شریعت کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں تو بعض نام نہاد علماء سوء نے اپنی خواہشات نفس کو دین بنا رکھا ہے اور لوگوں میں شرک وبدعات  اور تفرقہ بازی کو عام کر ہے ہیں۔ان فرقہ پرست علماء کا اصل دشمن وہ ہے جو لوگوں کو قرآن وحدیث کی صحیح باتیں بتائے اور طاغوت کی نشان دہی کرائے۔ زیر تبصرہ کتابچہ "موازنہ" محترم برکت اللہ پانی پتی آف گوجرانوالہ کی کاوش ہے جس میں انہی علماء سوء کے افکار ونظریات کا قرآن وحدیث کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے کہ کہاں کہاں ان کے نظریات اسلامی شریعت اور قرآن وحدیث سے متصادم ہیں۔مولف نے اس کتابچے میں ایک منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے ٹیبل بنا دئیے ہیں جس میں ایک طرف قرآن وحدیث کا موقف پیش کرتے ہیں اور  پھر اس کے سامنے ہی دوسرے ٹیبل میں ان علماء سوء کا قرآن وحدیث سے متصادم موقف پیش کر دیتے ہیں تاکہ ہر صاحب دانش شخص ان کے غیر شرعی افکار ونظریات سے بخوبی آگا ہ ہوجائے اور دونوں کا باہمی موازنہ بھی کر سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • titel-page-mawane-hidayat
    عبد الرحمن بن یحی
    مسلمان روزانہ پانچ نمازوں میں بہ تکرار بارگاہ ایزدی میں  یہ دعا کرتے ہیں کہ یااللہ ہمیں سیدھا راستہ دیکھا لیکن اس کے باوجود بے شمار مسلمان سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور بعض خود یہ کہتے ہیں کہ ہمیں دین ومذہب سے لگاؤ کوئی نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان رکاوٹوں کو دور نہیں کرتے جو ہدایت کی راہ میں حائل ہیں ظاہر ہے انہیں دور کیے بغیر سیدھے راستے تک رسائی ممکن نہیں ہے زیر نظر کتاب میں انہی موانع ہدایت کاذکر کیا گیا ہے تاکہ انہیں پہچان کر ان کےخاتمے کی فکر کی جائے اور صراط مستقیم پر گامزن ہواجاسکے۔



  • title-pages-moot-k-farishtay-say-mulaqat
    امیر حمزہ
    عقیدہ توحید ایک مسلمان کی سب سے بڑی میراث ہےاگر اسی میں خلل واقع ہو جائے تو نجات کا راستہ مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب برگزیدہ پیغمبر اپنی پوری زندگی اسی کے پرچارک رہے ۔ سلسلہ نبوت کے اختتام کے بعد ان کے وارثین علماء کرام بڑی جانفشانی کے ساتھ عقیدہ توحیدکا علم بلند کرتے ہوئے استحقاق حق اور ابطال باطل کر رہے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب حافظ زبیر علی زئی اور دیوبندی مکتبہ فکر کے حامل عالم حافظ نثار احمد الحسینی کے مابین ہونے والی خط و کتابت پر مشتمل ہے۔ حافظ زبیر علی زئی نے اپنے خطوط میں بیسیوں جید علمائے دیوبند کی ایسی عبارتیں نقل کی ہیں جن سے ثابت ہو تا ہے کہ دیوبند مکتبہ فکر عقیدہ وحدت الوجود کا قائل ہے۔ حافظ نثار احمد الحسینی نے ان خطوط کا جواب دینے کی اپنی سی کوشش کی ہےلیکن حافظ زبیر علی زئی کے ٹھوس اعتراضات اور دلائل کے سامنے حافظ نثار کے جوابات دلائل سے عاری نظر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں کتاب میں بدعتی کے پیچھے نمازپڑھنے کے حکم کے ساتھ ساتھ دیگر علمی فوائد کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا گیا ہے۔


  • title-pages-mout-se-qabar-tak
    شفیق الرحمن فرخ
    اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقیت یہ ہے کہ ہر انسان نے موت کا سامنا کرنا ہے۔ جو دراصل ایک نہ ختم ہونے والی زندگی کا نقطہ آغاز ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے انسان اپنی زندگی میں موت کے مراحل کو ذہن میں رکھے اور اپنے آپ کو اس کے لیے تیار رکھے۔ اپنے اعزا و اقربا کی وفات پر مسنون انداز میں تجہیز و تکفین کا اہتمام کرے اور اس نہج پر اپنے بچوں کی تربیت کرے۔ ہمارے ہاں عام طور پر کسی کی وفات پر ایسی ایسی بدعات و جاہلانہ رسومات دیکھنے میں آتی ہیں کہ الامان والحفیظ۔ یوٹیوب پر ایسی ویڈیوزموجود ہیں کہ ڈھول کی تھاپ اور بھنگڑوں کے جلو میں میت کو قبرستان پہنچایا جا رہا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں ’موت سے قبر تک‘ کے تمام معاملات کو کتاب و سنت کی خالص تعلیمات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ جنازہ و دفن کے مراحل کو تصاویر کے ساتھ واضح کیا گیا ہےاور جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیں بھی شامل اشاعت ہیں۔ علاوہ بریں میت کے لیے ایصال ثواب کا مسنون طریقہ بھی ذکر کر دیا گیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-mout-ki-dehleez-pr-copy
    نوری عبد اللہ الضاحی

    زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی  ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ  مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِين (الذاریات58)” اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ، نہ تو میں ان سے روزی مانگتا ہوں اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں ۔ یقینا اللہ تعالیٰ تو خود سب کو روزی دینے والا ، صاحب قوت اور زبردست ہے‘‘۔جب ہم اپنی تخلیق کا مقصد جان چکے ۔توہمیں پنے دل کو ٹٹو لنا اور من سے پوچھنا چاہیے  کہ ہم نے اس مقصد کو کہاں تک پورا کیا ؟ کیا محنت کی ؟ کیا کوشش کی ؟ اور لوگ کیا کر رہے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں ؟ یقینا ہمارا دل گواہی دے گا کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ۔ ہماری کوشش تو بالکل معمولی اور نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر آج ہی موت آجائے تو اللہ کے دربار میں پیش کرنے کیلئےہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں درپیش سفر دراز ہے اور سامان کچھ بھی نہیں۔کیا ہم شب و روز مشاہدہ نہیں کرتے کہ موت کس طرح دوست و احباب آل و اولاد اور عزیز و اقارب کو چھین کر لے جاتی ہے ۔ جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو پھر موت نہ بچوں کی کم عمری ، نہ والدین کا بڑھاپا ، نہ بیوی کی جوانی اور نہ ہی کسی کی خانہ ویرانی دیکھتی ہے۔کیا ہم نہیں جانتے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں ۔حتیٰ کہ نہ موت بچے گی نہ ملک الموت۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُور ( آل عمران : 185) ” ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور تم لوگ قیامت کے دن اپنے کئے کا پورا پورا اجر پاؤ گے ۔ پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہی کامیاب ہوا اور دنیا کی چند روزہ زندگی تو دھوکے کا سامان ہے‘‘۔نبی رحمت ﷺایک دفعہ اپنے احباب کے ہمراہ بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے اور آپ اس کا کان پکڑ کر فرمانے لگے : تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے خریدنا پسند کرےگا ؟ تو اصحاب رسول ﷺ  عرض کرنے لگے ۔ ہم تو اسے مفت میں بھی نہیں لینا چاہتے ، یہ ہمارے کس کام کا ہے ؟ آپ ﷺ نے پھر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی عیب دار تھا ، اس کے کان چھوٹے ہیں ، تو پھر رحمت عالم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔اس لیے  اانسان کو دنیا کی نسبت  موت کی زیادہ فکر کرنی چاہیے کیونکہ موت کے بعد کے مراحل تو اس سے زیادہ سخت اور آنے والے مناظر تو اس سے زیادہ ہولناک ہیں ۔ہماری زندگیوں میں   موت ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے  جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا خواہ وہ مسلمان ہے یا کافر ۔ اس دنیا میں ابدی حیات محال ہے اس حقیقت کی شاہد ہر گوشۂ ارض پر موجود وہ مٹی ہے جو ہر مرنے والے کو اپنی گود میں چھپا لیتی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ موت کی دہلیز پر ‘‘محتر م نوری عبد اللہ الضاحی کی عربی کتاب کفیٰ بالموت واعظا کا اردو ترجمہ ہے ۔مصنف موصوف نے  اس کتاب کو  دو حصوں میں تقسیم کیا ہے  ۔ حصہ اول میں  انسانی غفلت کی وجوہات اور موت سے بے توجہی کانجام واضح کیا گیا ہے  او ر یہ بتایا گیا ہے  کہ زندگی کے ہر لمحہ میں موت اور محاسبہ کا   تصور کس طرح انسان کےلیے  دنیاوی اور اخروی فلاح کا ضامن ہے ۔ جبکہ حصہ  دوم میں چند اہم شخصیات کی موت کے حالات  بطور نمونہ اور مثال مختصراً بیان کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو  عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے  اور تمام اہل توحید  کاخاتمہ بالخیر فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-mout-k-sai-copy
    عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی

    زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِين (الذاریات58)” اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ، نہ تو میں ان سے روزی مانگتا ہوں اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں ۔ یقینا اللہ تعالیٰ تو خود سب کو روزی دینے والا ، صاحب قوت اور زبردست ہے‘‘۔جب ہم اپنی تخلیق کا مقصد جان چکے ۔توہمیں پنے دل کو ٹٹو لنا اور من سے پوچھنا چاہیے کہ ہم نے اس مقصد کو کہاں تک پورا کیا ؟ کیا محنت کی ؟ کیا کوشش کی ؟ اور لوگ کیا کر رہے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں ؟ یقینا ہمارا دل گواہی دے گا کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ۔ ہماری کوشش تو بالکل معمولی اور نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر آج ہی موت آجائے تو اللہ کے دربار میں پیش کرنے کیلئےہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں درپیش سفر دراز ہے اور سامان کچھ بھی نہیں۔کیا ہم شب و روز مشاہدہ نہیں کرتے کہ موت کس طرح دوست و احباب آل و اولاد اور عزیز و اقارب کو چھین کر لے جاتی ہے ۔ جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو پھر موت نہ بچوں کی کم عمری ، نہ والدین کا بڑھاپا ، نہ بیوی کی جوانی اور نہ ہی کسی کی خانہ ویرانی دیکھتی ہے۔کیا ہم نہیں جانتے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں ۔حتیٰ کہ نہ موت بچے گی نہ ملک الموت۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُور ( آل عمران : 185) ” ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور تم لوگ قیامت کے دن اپنے کئے کا پورا پورا اجر پاؤ گے ۔ پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہی کامیاب ہوا اور دنیا کی چند روزہ زندگی تو دھوکے کا سامان ہے‘‘۔نبی رحمت ﷺایک دفعہ اپنے احباب کے ہمراہ بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے اور آپ اس کا کان پکڑ کر فرمانے لگے : تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے خریدنا پسند کرےگا ؟ تو اصحاب رسول ﷺ عرض کرنے لگے ۔ ہم تو اسے مفت میں بھی نہیں لینا چاہتے ، یہ ہمارے کس کام کا ہے ؟ آپ ﷺ نے پھر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی عیب دار تھا ، اس کے کان چھوٹے ہیں ، تو پھر رحمت عالم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔اس لیے اانسان کو دنیا کی نسبت موت کی زیادہ فکر کرنی چاہیے کیونکہ موت کے بعد کے مراحل تو اس سے زیادہ سخت اور آنے والے مناظر تو اس سے زیادہ ہولناک ہیں ۔ہماری زندگیوں میں موت ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا خواہ وہ مسلمان ہے یا کافر ۔ اس دنیا میں ابدی حیات محال ہے اس حقیقت کی شاہد ہر گوشۂ ارض پر موجود وہ مٹی ہے جو ہر مرنے والے کو اپنی گود میں چھپا لیتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’موت کےسائے‘‘ مولانا عبد الرحمٰن عاجزمالیرکوٹلوی﷫ کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہو ں نے کتاب وسنت کی روشنی میں بتایا ہے کہ موت ایک ناگزیر حقیقت ہے جس کاذائقہ ہر شخص نے بہر صورت ضرور چکھنا ہے ۔ اس کتاب میں اس پر مختلف پہلوؤں سے بحث کی گئی ہے اوراس کی تیاری کی فکر پیدا کی گئی ہے ۔ نیز اس کتاب میں موت ومزار ومحشر کے فکر مندوں کے اعمال ، ان کے احوال اور موت کے وقت انکے نصیحت آمیز اقوال کاتذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور تمام اہل توحید کاخاتمہ بالخیر فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • pages-from-maut-key-waqt-ibn-e-jozi
    امام ابن جوزی بغدادی

    زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ موت کے وقت ‘‘ امام ابن جوزی﷫ کی تصنیف ہے جوکہ جان نکلتے وقت شیطان لعین کے حملے سے بچ کر ثابت قدم رہتے ہوئے ایمان بچانے والے خوش قسمت انسانوں کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ ا س کتاب میں ان احوال کوذکر کرنے اور ایسے مومن افراد کےواقعات کوجمع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے آگاہی حاصل کر کے اپنی موت کے لمحات کوکامیاب وکامران بنائیں۔ کیونکہ یہ لمحات دوسری زندگی میں داخلہ کے لیے سنگ میل اور پہلی سیڑھی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس میں انہوں نے مرتے وقت شیطان کے حملے سےبچ کر ثابت قدم رہنے کے لیے قرآن وحدیث کی روشنی میں راہنمائی فراہم کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مومن نے موت کے وقت شیطان کے حملے سے اپنے آپ کوکیسے بچانا ہےاور تکلیف کے باوجود عقیدہ توحید اوردین اسلام پر ثابت قدم وکاربند کیسے رہنا ہے۔اس کتاب کا رواں، عام فہم اور دلچسپ ترجمہ پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی،سابق استاد حدیث وفقہ جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) نے نہایت کاوش سے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مسلمانوں کے لیے شیطان کے حملوں اور شرور سے بچنے کا باعث ورہنما بنائے۔ آمین( م۔ا )

  • title-pages-momin-k-aqaid-copy
    ابوبکر جابر الجزائری

    اسلامی  عقائد پر کامل یقین بندۂ مومن کی انفرادی زندگی کی اہم ترین ضرورت۔ ہر مسلمان کا فرض ہے  کہ  بلاشک وشبہ اور بلاشرکت غیرے اپنے پیدا  کرنے والے کو  ایک مانے کفر وشرک کی چھوٹی بڑی ہر  قسم  کی گندگیوں  سے اپنے دل ودماغ کو آئینہ  کی طر ح صاف  وشفاف رکھے  ۔اسلام  کی  فلک  بوس  عمارت  عقیدہ  کی  اسا س پر قائم ہے  ۔ اگر  اس بنیاد میں  ضعف یا  کجی  پیدا ہو جائے تو دین کی عظیم عمارت  کا وجود  خطرے میں پڑ جاتا  ہے  اسی لیے  نبی کریم ﷺ نے  مکہ معظمہ میں  تیرا سال کا طویل عرصہ  صرف اصلاح ِعقائدکی جد وجہد میں صرف کیا عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے  جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔ عقائد کے باب میں اب تک بہت سی کتب ہر زبان میں شائع ہو چکی ہیں اردو زبان میں بھی اس موضوع پر قابل قدر تصانیف اور تراجم شائع ہوچکے ہیں۔زیر نظر کتاب  ’’ مومن کے عقائد‘‘شیخ ابو بکر جابر الجزائری﷾  کی عقیدہ کے  موضوع پر اہم  کتاب  ’’عقیدۃ المؤمن‘‘ کاترجمہ ہے  ۔ جس میں  مرد مومن کے مذہبی عقائد،ان کی حاجات وضروریات ،ان کے اصول وضوابط اور پھر ہر اصول کے ایک  ایک جزئیے پر سیر حاصل  گفتگو کی  گئی ہے ۔ ارکانِ ایمان کو  تفصیل سے  احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ قرآن وسنت کی  روشنی میں مسائل عقیدہ پر ایک منفرد اور بے نظیر  کتاب ہے اردو  زبان میں  اس کتاب کا  اضافہ بڑا ہی  قابل قدر اور لائق صد شکر  ہے  ۔ کتاب  ہذا کے  مصنف  عالمِ  اسلام کے مشہور  مفکر ، داعی  اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے  سینئر استاذ اور مسجد نبوی  کے ممتاز مدرس او رمبلغ کی  حیثیت خدمات انجام دیتے رہے  اور کئی کتب  کے مصنف  ہیں ۔ مشہور ومعروف  کتاب ’’منہاج  ا لمسلم‘‘  بھی موصوف  کی  ہی  تصنیف ہے۔دار السلام ،لاہور نے  ’’اسلامی طرز ِزندگی‘‘  کے نام سے  ’’منہاج المسلم‘‘  کا ترجمہ بڑے عمدہ  انداز سے  شائع کیا ہے  اس  کی  مقبولیت  اور افادیت کے پیش  نظر  اس کے  کئی ایڈیشن  شائع  ہوچکے  ہیں ۔اللہ تعالیٰ  مصنف ،مترجم  اور ناشرین کی اس  کاوش کو  امت مسلمہ کے لیے  نافع بنائے (آمین)( م۔ا)

     

  • title-pages-mahdia
    عبد الہادی عبد الخالق مدنی
    مسلمانان اہل سنت کا مہدیؑ سے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ قیامت کے قریب پیدا ہوں گے، وہ سات سال تک حکومت کریں گے، روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، ان کے زمانہ ہی میں حضرت عیسیؑ کا نزول ہوگا۔ حضرت عیسیٰ آپ کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔ امام مہدی علیہ السلام حضرت عیسیٰ کے ساتھ مل کر دجال کا مقابلہ کریں گے اور اس کو قتل کریں گے۔ زیر نظر کتابچہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق سب سے پہلے ان احادیث کو بیان کیا گیا ہے جن میں امام مہدی علیہ السلام کا صراحت کے ساتھ تذکرہ ہے، اس کے بعد اس ضمن  میں آثار کو جمع کیا گیا ہے اور پھر ان احادیث کو ذکر کیا گیا ہے جن میں امام مہدی علیہ السلام کا تذکرہ تو موجود ہے لیکن صراحت کے ساتھ نہیں ہے۔ ان تمام احادیث و آثار پر صحت و ضعف کا حکم بھی لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد امام مہدی کے اوصاف، مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کو کیسے پہچانیں؟ کے عنوانات سے مواد موجود ہے اور آخر میں اختصار کے ساتھ چند دعویداران مہدویت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کتابچہ کے مصنف عبدالہادی عبدالخالق مدنی نے کتابچہ کی تیاری میں شیخ عبدالعظیم بستوی کی کتاب ’الأحادیث الواردۃ فی المھدی فی میزان الجرح والتعدیل‘ سے مدد لی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-mehkti-jannat-copy
    امان اللہ عاصم

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمہارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمہیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔اہل ایمان اور صالحین کو تو جنت کی خوشبو تو چالیس کی مسافت سے آنا شروع ہوجائے گی لیکن گناہ گار لوگوں کو جنت کی خوشبو تک نہیں آئی گی۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ مہکتی جنت میں لے جانےوالے 60 خوش نما اعمال ‘‘ محترم جناب امان اللہ عاصم صاحب کے مرتب کردہ سلسلہ اصلاح امت میں سے پہلاسلسلہ ہے ۔اس مختصر کتابچہ میں فاضل مرتب نے قرآن وسنت کی روشنی میں 60 ایسے اعمال جمع کردیے ہیں کہ جو ایک مسلمان کے لیے جنت میں جانے کا باعث بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مرتب موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا) 

  • title-pages-mesaq-e-khalaq-copy
    امیر حمزہ بن نذیر احمد

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب " میثاق خلاق " جماعت الدعوہ پاکستان کے مرکزی رہنما محترم مولانا امیر حمزہ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اللہ سے کئے گئے پختہ وعدے توحید کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-medan-mehshar-mein-izzat-aur-zillat-pane-wale-log
    محمد عظیم حاصلپوری

    دنیا اپنی روانگی میں چل رہی ہوگی کہ اچانک ایک زوردار آواز سے سب کچھ فنا ہوجائے گا سوائے رب العالمین کے ۔ پھر دوسری بار آواز آئےگی اور ساری کائنات اپنی اپنی قبروں سے اٹھےکر ننگے بدن ،ننگے پاؤں میدان محشر کی طرف دوڑیں گے جو شام کے علاقے کی طرف سجایا جائے گا۔ سب میدان محشر میں پہنچے گے ۔ تو سب کےہاتوں میں نامۂ اعمال دے دیے جائیں گے ۔ اہل ایمان کےدائیں ہاتھ میں اور کفار ومشرکین کےبائیں ہاتھ میں،اہل ایمان تو خوش ہوکر دوسروں کواپنا نامۂ اعمال دکھائیں اور پڑھائیں گے جبکہ کفار ومشرکین پریشان ہوگے اور کہیں گے:کاش! ہمیں یہ نہ دیا جاتا اور ہمیں ہمارا حساب معلوم ہی نہ ہوتا ۔نامۂ اعمال کی تقسیم کے بعد سوال وجواب ہوں گے۔ مشرکوں اور کافروں سے سوال ہوں گے وہ ہر چیز کاانکار کردیں گے۔اور اسی طرح عمر ،جوانی ، رزق، علم، کے متعلق سوال ہوں گے۔ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز اور حقوق العباد میں سے قتل خون اور جھگڑوں کے متعلق سوال ہوگا۔ اور ہر ایک کے متعلق عدالت الٰہی میں عدل سے فیصلہ ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ سب کے اعمال کاوزن کرے گا۔اعمال کےوزن کےبعد سب کوپل صراط سے گزرنا پڑے گا۔پھر سب سے پہلے جناب محمد ﷺ اپنی امت کولے کر جنت میں داخل ہوں گے۔مذکورہ سطور میں اس میدان محشر کامختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ جس سے ہر آدمی گو گزرنا ہے یہ دن اس قدر سخت ہے کہ بچے بوڑھے ہوجائیں گے او رمائیں اپنے حمل گرادیں گی اور اپنے بچوں کوبھول جائیں گی۔ اس دن کچھ اعمال ایسے بھی ہوں گے۔ جو بندوں کواس دن کی ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھیں گے اور کچھ اعمال ایسے بھی ہوں گے جو اس دن ذلت و رسوائی میں مبتلا کردیں گے۔زیر نظر کتابچہ ’’ میدان محشر میں عزت اور ذلت پانے ولے لوگ‘‘میں مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ (مدیرماہنامہ المحمدیہ،حاصل پور )نے انہی مفید اعمال کوشمار کرکےیہ تلقین کی ہے کہ ہم سب ایسے اعمال کریں جو میدان محشر میں عزت بخشیں اور ان اعمال سےبچیں جو ہمیں ذلت دسے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین (م۔ا)

  • title-page-mera-jeena-mera-marna
    ام عثمان

    زندگی اس دنیامیں  آنےاورموت دنیاسےواپسی کانام ہے ۔آنےاورجانے کےدرمیان ایک مختصرساوقت جوہم سب کوملاہے ،ہرشےسے قیمتی ہے ۔اس وقت کاصحیح حق وہی اداکرسکتاہے جواپنےآغازاورانجام سےباخبرہے ۔اس چندروزہ دنیامیں کامیاب وہ نہیں ہے جوڈھیروں مال کمائے،بڑےبڑےمحلات تعمیرکرلے،یاچنددن کے لیےشہرت پالےاصل کامیاب وہ ہے جواپنے وقت کومفیدکاموں میں استعمال کرلے اوراپنےخالق کی مرضی کےمطابق خودکواس کےلیے خالص کرلے۔لیکن اس کے برعکس ہمارے معاشرے کی اکثریت جہاں اپنےمقصدزندگی سےغافل ہےوہاں دنیاسےواپسی کےسفر،اس کی کیفیت اورموت کےبعدپیش آنےوالے حالات اورحقیقت سےبھی بےخبرہے ۔اس پردرددل رکھنے والاہرصاحب ایمان مضطرب اورپریشان ہے۔زیرنظرکتاب کی مؤلفہ نے بھی اسی دردمندی کےجذبےسے زیرنظرکتاب مرتب کی ہےتاکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں سفرواپسی کےمختلف مراحل کےبارے میں عوام الناس کوباخبرکیاجائے۔خداکرےہم سب کاسفرواپسی رب کےبتائے ہوئے طریقے کےمطابق ہو،تاکہ ملاقات کےوقت وہ ہم پرنظرکرم کرے ۔آمین ۔

     

  • title-page-meerasul-anbiya
    ابوعمرو الکویتی
    اللہ عزوجل نے انسان کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبراس دنیامیں مبعوث فرمائے۔ان سب کاپیغام دعوت ایک ہی تھااوروہ تھاکلمہ توحید۔یعنی لوگ صرف اللہ تبارک وتعالی ٰ ہی کوعبادت کامستحق جانیں اوراس کے سامنے دست سوال درازکریں ۔یہی مشترک دعوت انبیاء کی میراث ہے ۔فاضل مؤلف نے زیرنظرکتاب میں بڑی خوبصورتی سےتوحیدکی اہمیت اوراس کےمعنی ومفہوم کواجاگرکیاہے ۔انہوں نےبتایاہے کہ کلمہ لاالہ الااللہ کب انسان کےلیے مفیدہوگااوراس کی شرائط کیاہیں؟علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی واضح کیاہے کہ طاغوت سے بچناضروری ہے اورجوطاغوت سے فیصلے کرواتاہے وہ درحقیقت طاغوت پرایمان لاتاہے ۔فی زمانہ جبکہ شرعی قوانین کےبجائے خودساختہ دساتیرکی پابندی کی جارہی ہے ،یہ بحث بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔اس کےساتھ ساتھ سیاست حاضرہ کوموضوع بحث بناتے ہوئے یہ بتایاگیاہے کہ موجودہ اسمبلیوں اورایوان ہائے سیاست واقتدارمیں شمولیت کاشرعی حکم کیاہے ۔بہت ہی اہم کتاب ہے ،ہرمسلمان کواس کالازماً مطالعہ کرناچاہیے تاکہ توحیدکاتصورصحیح معنوں میں سمجھاجاسکے اورطاغوت سے بچناممکن ہوسکے۔


  • title-pages-man-toba-to-krna-chahta-hoo-lkn
    محمد بن صالح المنجد

    خدا تعالیٰ اپنے بندے پر اس قدر مہربان ہے کہ اس کی بے پایاں  رحمت اپنے بندے کی لغزشوں کو معاف کرنے کے مواقع ڈھونڈتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندے سے بے حد خوش ہوتے ہیں جو گناہ کرنے کے فوراً بعد اپنی جبیں کوبارگاہِ ایزد میں جھکا دیتا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب ’میں توبہ تو کرنا چاہتا ہوں لیکن؟‘ میں اسی مضمون کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ یہ تصنیف شیخ صالح المنجد کی ہے جسے عربی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے۔ کتاب کا طبع کافی پرانا ہے اس وجہ سے کتابت معیاری نہیں ہے۔ البتہ کتاب میں بیان کردہ مضامین خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ توبہ سے متعلق جہاں نہایت اہم معلومات مہیا کی گئی ہیں وہیں توبہ کی شرائط اور توبہ کرنے والوں کے لیے چند اہم فتاوے بھی کتاب کی زینت ہیں۔

     

  • title-pages-me-ne-bible-se-pocha-quraan-qiyo-jale
    امیر حمزہ

    ازل سے شروع ہونے والا معرکہ حق و باطل تاحال جاری ہے۔ باطل دو بدو لڑائی میں تو مات کھا چکا اور دم دبا کر بھاگنے کی تیاریوں میں ہے۔ لیکن اس کی بوکھلاہٹ ملاحظہ کیجئے کہ اپنا غم غلط کرنے کے لیے نہایت بھونڈے طریقوں سے کبھی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے تو کبھی قرآن پاک کو جلانے کے عزائم ظاہر کیے جاتے ہیں۔کچھ ایام قبل امریکہ کے ایک پادری ٹیری جونز نے قرآن کے بارے میں نہ صرف نازیبا الفاظ استعمال کیے بلکہ کمینگی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے قرآن کو پھاڑنے، فائرنگ سکواڈ سے اڑانے اور ٹھوکرمار کر اہانت کا اعلان کیا۔ اور تو اور اس نے قرآن کریم پر دہشت گردی کا مقدمہ چلانے کا بھی اعلان کر ڈالا۔ اس کے جواب میں مسلم امہ کی جانب سے شدید رد عمل سامنےآیا۔ ایسے میں تحریک حرمت رسول کے کنونیئر محترم امیر حمزہ کا قلم کیسے خاموش رہ سکتا تھا۔ انہوں نے کفار کی تمام تر دریدہ دہنی کا جواب علمی انداز میں ’میں نے بائبل سے پوچھاقرآن کیوں جلے؟‘ کےعنوان سے دیا۔ محترم امیر حمزہ صاحب نے یہود و نصاریٰ کی معتبر کتب کا حوالہ دیتے ہوئے ثابت کیا کہ قرآن حکیم تو تمام انبیاء و رسل کی عزت و توقیر کی تعلیم دیتا ہے، پھر قرآن کے بارے میں اس قدر مکروہ عزائم کا اظہار کیا معنی رکھتا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ یہود و نصاریٰ نے سماوی کتب میں تغیر و تبدل کر کے انبیاء کی توہین کی ہے جبکہ قرآن نے تو ان کی پاکیزہ سیرت کو اپنے اوراق میں پرویا۔ کتاب میں توارات، زبور اور انجیل کے حوالہ جات کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہود و نصاری از خود دہشت گردی کے علمبردار ہیں جبکہ قرآن تو امن وآشتی سے بھرپور معاشرہ کی تشکیل کرتا ہے۔

     

  • title-pages-najat-yafta-ghroh-ka-aqida-copy
    عبد الحق بن عبد الواحد الہاشمی المکی

    ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔گویا کہ اسلام کی فلک بوس عمارت عقیدہ کی اسا س پر قائم ہے ۔ اگر اس بنیاد میں ضعف یا کجی پیدا ہو جائے تو دین کی عظیم عمارت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ عقائد کی تصحیح اخروی فوز و فلاح کے لیے اولین شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجی جانے والی برگزیدہ شخصیات سب سے پہلے توحید کا علم بلند کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ نجات یافتہ لوگوں کا عقیدہ‘‘ العلامہ محدث الحرمین الشیخ عبد الحق بن الواحد الہاشمی المکی (1302ھ۔ 1392ھ) کی عربی زبان میں بنام ’’عقیدۃ الفرقۃ الناجیۃ‘‘سے ہے۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا محمد رفیق اثری (شیخ الحدیث دار الحدیث محمدیہ، جلال پور پیراں والاملتان) نے کیا ہے۔اس کتاب میں صفات الٰہیہ کے متعلق مباحث وغیرہ کو اردو ترجمے میں یکجا کیا گیا ہے۔مزید اس کتاب میں تقلید جامدکے بارے میں نقطۂ نظر، فرقے، ایمان، بدعت، زیارت قبور ، معراج اور دیگر موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • title-pages-nida-e-ya-muhammadpbuh-ki-tahqeeq
    عبد الغفور اثری
    برصغیر پاک و ہندمیں اکثریہ رواج پایا جاتا ہے کہ کئی مسلمان اپنی  مسجدوں ، عمارتوں ، دفتروں، بسوں ،ٹرکوں ، ویگنوں، اور رکشوں ،کلینڈروں، اشتہارات وغیرہ پر بڑی عقیدت سے  ایک طرف یا اللہ جل جلالہ اور دوسری طرف یا محمد ﷺ  لکھتے ہیں اور اسے  شعائر اسلام اور محبت رسول  ﷺ کا نام دیتے ہیں  اور جو شخص یامحمد ﷺ کہنے اور لکھنے کا انکار  کرے تو اسے  بے  ادب  اور گستاخِ رسول بلکہ بے ایمان تک قرار دے  دیا  جاتاہے  حالانکہ صورت حال  اس کے بالکل برعکس ہے کہ رسول  ﷺ کو ان کا نام لےکر (یا محمد کہہ کر) آواز دینی ،بلانا ، اورپکارنا وغیرہ  نہ  آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں  جائز تھا اور نہ آپ  ﷺ کے  وفات کے بعد جائز ہے ۔زیر نظر کتاب’’ندائے یا محمد ﷺ کی تحقیق‘‘ از مولانا عبد الغفور  اثری  میں  قرآن مجید کتب احادیث  و تفاسیر وغیرہ سے  دلائل کی  روشنی  میں یہ مسئلہ  واضح کیا گیا ہے کہ  نبی  آخر الزماں  امام الانبیاء  حضرت محمد ﷺ کا نام لے کر آواز دینی بلانا اور پکارنا وغیرہ   بالکل ممنوع وحرام  ہے ۔ اللہ تعالی فاضل مؤلف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے  اور  اس کتا ب  کو عوام الناس کے  عقید ہ کی  اصلا ح کاذریعہ بنا ئے  (آمین) ( م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-nasehatu-al-muslimeen-copy
    خرم علی بلہوری

    اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا عقیدۂ توحید کو اختیار کرنا اور شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نصیحۃ المسلمین‘‘ سیدشاہ اسماعیل شہید کے قافلہ جہاد کے اہل علم وعمل اور صاحب ِ حال وقال سپاہی مولانا خرم علی بلہوری (متوفی1373ھ) کا تصنیف شدہ رسالہ ہے۔توحید کےمسئلہ پر یہ نہایت ہی مفید رسالہ ہے جسے موصوف نے 1228ء میں تحریر فرمایا اور صدہا مرتبہ شائع ہو کر اللہ کےبندوں کوہدایت کی راہ دکھانے میں کامیاب ثابت ہوا۔اس رسالہ کی زبان نہایت سادہ ،عام فہم اورطرزِ استدلال دلکش ہے۔ کٹ حجت لوگوں کےحیلوں بہانوں کےنہایت لطیف مگر مسکت جواب بھی تحریر فرمائے جس سےاس کی افادیت اور بھی بڑھ گئی ۔زیرتبصرہ ایڈیشن میں مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ نے اپنی طرف سےسے مناسب عنوان بھی قائم کیے ہیں جس سے اس رسالہ سے استفاد ہ کرنا آسان ہوگیا ہے۔ اور اسی طرح اس ایڈیشن میں افادۂ عام کے لیے ایک مسدس بھی درج کردی گئی ہے جو مؤلف مرحوم کی نظم متعلقہ توحید پر بطور تضمین کہی گئی ۔قرآن حکیم اور اردو سکھانے کےبعد بعد یہ رسالہ ہر شخص کوپڑھنا چاہیے اور ہر معمولی پڑھے لکھے تک بھی اس رسالہ کو پہنچانا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو عقیدۂ توحید پر قائم دائم اور شرک سے محفوظ رکھے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-nazria-toheed-wajoodi-aur-dr-israr-ahmad-copy
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اسلام کی ابتداء غربت اور اجنبیت  کی حالت میں ہوئی ،اور  عنقریب اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جائے گا۔پس خوشخبری ہے غریب اور اجنبی لوگوں کے لئے۔توحید اسلام کا بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے یعنی اللہ تعالی اپنی ذات وصفات اور احکامات میں ہر طرح کی شراکت سے مبرا ہے۔آج اسلام کے دعویداروں کی اکثریت توحید باری تعالی کو چھوڑ کر شرک وکفر میں مبتلاء ہو چکی ہے۔شرک وکفر کے پھیلنے کی متعدد وجوہات میں سے ایک اہم وجہ محی الدین ابن عربی کا فلسفہ وحدۃ الوجود بھی ہے۔اس کی وجہ سے اسلام میں الحاد کے دروازے کھلے ،کشف وکرامات کے بے سند واقعات نے اسلام کی بنیادوں پر حملہ کیا ۔قرآن وسنت کے علم کو "علم ظاہری" کہہ کر علم اور علماء کا مذاق اڑایا گیا۔طریقت کے نام پر شریعت کے مقابلے میں ایک نیا دین گھڑ لیا گیا۔شریعت کی  تحقیر اور طریقت سے کمتر سمجھنے کا رجحان عام ہوا اور من گھڑت وموضوع روایات نے نظریہ توحید میں شک پیدا کر دیا۔امام ابن تیمیہ﷫ اوران کے ہونہار شاگرد امام ابن قیم﷫ نےنہ صرف عقیدہ وحدۃ الوجود کا رد کیا بالکہ ابن عربی کو بھی گمراہ ثابت کیا۔عصر حاضر کے معروف عالم دین اور تنظیم اسلامی کے بانی محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب﷫  ابن عربی کے علمی اور روحانی مقام کے زبر دست قائل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نظریات کے بھی حامی نظر آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" نظریہ توحید وجودی اور ڈاکٹر اسرار احمد"محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی مرتب کر دہ ہے۔مولف موصوف نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تحریریں مختلف اہل علم کو روانہ کیں اور ان سے ان پر فتاوی طلب کئے۔چنانچہ اہل علم نے وحدۃ الوجود سے متعلق ان کے نظریات کا دلائل کے ساتھ رد کیا۔جسے مولف نے یہاں اس کتاب میں جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-nifaq-ki-nishaniyan-copy
    ڈاکٹر عائض القرنی

    اللہ تعالی کی ذات اقدس، اس کے اسماء حسنی وصفات مبارکہ،اس کی طرف سے مبعوث کردہ رسولوں، فرشتوں، کتابوں، یوم آخرت،حساب ومیزان اور جنت وجہنم کو صدق دل سے تسلیم کرنے کانام ایمان ہے اور ایسے مخلص اہل ایمان کو اللہ تعالی نے "حزب اللہ" قرار دیا ہے اور انہیں دنیا میں امن وسکون اور آخرت میں کامیابی وکامرانی کی خوشخبری سنائی ہے۔اس کے برعکس ان تمام کی تمام ایمانیات یا ان میں سے کسی ایک کے صریح انکار کا نام کفر ہے۔اہل کفر کو اللہ تعالی نے "حزب الشیطان"قرار دیا ہے۔دنیا میں یہ گروہ بدامنی وبے سکونی کا شکار رہے گا اور آخرت میں عذاب الہی اور دائمی وابدی جہنم ان کا ٹھکانہ ہوگا۔حقیقت میں کرہ ارضی پر یہی دو گروہ پائے جاتے ہیں۔البتہ دنیا میں منافق لوگوں کا  ایک تیسرا گروہ بھی نظر آتا ہے جو درحقیقت "حزب الشیطان" کا ہی حصہ ہے۔یہ گروہ بظاہر اہل اسلام والا جامہ پہن لیتا ہے لیکن وہ پکا کافر ہونے کے ساتھ ساتھ بزدل، کینہ پرور، مفادپرست اور خود غرض ہوتا ہے اور یہ ہے منافقون کا گروہ۔یہ لوگ کافر تو ہیں ہی،اس پر مستزاد اللہ تعالی اور اہل ایمان کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی لئے ان کی سزا کافروں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نفاق کی نشانیاں " سعودی عرب کے معروف خطیب اور عالم دین شیخ عائض عبد اللہ القرنی صاحب کے عربی خطاب"ثلاثون علامۃ للمنافقین" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ    محترم ابو عبد الرحمن شبیر بن نور صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اپنے اس خطاب میں منافقین کی تیس علامات ذکر کی ہیں جنہیں کتابی شکل میں طبع کر کے ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ خطیب صاحب اور مترجم  کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں  قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 533 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :