• pages-from-risalah-toheed-part-1
    محمد بن عبد الوہاب

    اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں۔ حضرت نوح ﷤ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی۔ اور   اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے توحید و شرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کے بعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے۔ حضرت نوح﷤، اصحاب کہف اور عزیر﷤ کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام﷩ کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے۔ اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رسائل توحید‘‘ شیخ محمد بن عبد الوہاب﷫ کی کتب و رسائل میں سے توحید کے موضوع پرماخوذ رسائل کا مجموعہ ہے۔ محترم جناب حامد محمود صاحب نے شیخ موصوف کی کتب سے اخذ کر کے ان کا ترجمہ کیا ہے۔ مترجم نے بعض مقامات پر حاشیہ کی صورت میں کچھ توضیحی نکات بھی پیش کیے ہیں۔ اور محترم جناب عمران صدیقی صاحب نے بعض رسائل کے شروع میں اس رسالہ کے متعلقہ ایک چھوٹی سی تمہیدتحریر کی ہے۔ جو اس رسالہ کے فہم کے لیے مفید ومعاون ہے۔ اللہ تعالیٰ عقیدہ توحید پر قائم دائم رکھے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-risalah-toheed-o-radd-e-shirak
    عبد العزیز بن محمد آل سعود

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’شیخ الاسلام مجدد دین امام محمد بن عبد الوہاب﷫ کے تلمید خاص اور ان کی قائم کرد ہ تحریک احیاء کتاب وسنت کےممد ومعاون شیخ عبد العزیز بن محمد بن سعود ﷫ کے توحید اور شرک کے موضوع پر ایک رسالہ کاترجمہ ہے۔ یہ رسالہ اگرچہ مختصر ہے مگراپنے مشمولات ومحتویات کے اعتبار سے ایک جامع کتاب کی حیثیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس میں ایک دقیق النظر صاحب بصیرت عالم کتاب وسنت کی فکری کاوش اور امت مسلمہ کے ایک مخلص مجاہد ، مصلح حاکم اور مرد میدان کی عقیدہ فہمی جمع ہے۔ اس اہم رسالہ کا ترجمہ کی سعادت جناب ڈاکٹر ظہور احمد اظہر (سابق پرنسل اورئنٹیل کالج،لاہور ) نے حاصل کی۔اور محترم جناب حافظ عبدالرشید اظہر﷫ نے 1995ء میں اسے   اپنے قائم کردہ ادارے ’’دار الفکر الاسلامی ‘‘ کی طرف سے شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدہ توحیدپر قائم ودائم رکھیں اور اس کی نشرواشاعت وتبلیغ کی توفیق دے۔ (آمین)

  • pages-from-waaqfiyyat-e-islam
    ابو عمار عبد القہار

    اسلام خود بھی امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کےساتھ رہنے کی تلقین کرتاہے۔اسلام کے دین امن ہونے کی سب سےبڑی یہ دلیل ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنےبھیجے ہوئے دین کا نام ہی "اسلام "پسند کیاہے۔لفظ اسلام سَلِمَ یا سَلَمَ سے ماخوذ ہے ،جس کےمعنی امن وسلامتی اور خیرو عافیت کےہیں۔اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن سلامتی ہے،لہذا اسلام اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسامذہب ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہےاور دوسروں کو بھی امن،محبت،رواداری،اعتدال اور صبرو تحمل کا درس دیتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب"واقفیت اسلام" مولانا ابو عمار عبدالقہار کی تصنیف ہے۔جس میں بچوں کے لیےمختصر اسلام کے بنیادی احکام، ارکان ایمان، روز مرہ کی مسنون دعائیں وغیرہ کو قلمبند کیاہے۔ اللہ ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین ( عمیر)

  • title-pages-rasomat-e-muslim-mayyat
    پروفیسر نور محمد چوہدری
    دین نبی کریمﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اب اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔ لین افسوس کی بات یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان ہندؤوں کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے کی وجہ سے ان کی بہت سی غیر شرعی رسومات کو اختیار کر چکے ہیں۔ اس پر نام نہاد ملاں اپنے پیٹ پلیٹ کی خاطر ان بدعات کو سند جواز عطا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ کسی شخص کے دنیا سے رخصت ہو جانے پر بھی رسومات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ انھی رسومات میں سے تیجہ، ساتواں، دسواں اور چہلم وغیرہ بھی ہیں۔ اس کتابچہ میں انھی رسومات کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-rishte-aur-hadood-copy
    ام عبد منیب

    اسلام ایک پاکیزہ  دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔اور پردہ کرنے میں اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ سے پردہ کیا جائے اور کس سے نہ کیا جائے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " رشتے اور حدود"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے  انسان کے رشتوں اور ان کے ساتھ  پردہ جیسے تعلقات  وغیرہ کو مکمل تفصیل سے بیان کر دیا ہےکہ کون کونسے رشتے محرم ہیں اور کون کونسے غیر محرم ہیں۔محترم  محمد مسعود عبدہ ﷫  تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-roshni-aur-andhera-qahtani
    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    کتاب وسنت میں حق اور خیر کے اعمال کو’نور‘اور اس کے بالمقابل باطل اور شر کے کاموں کو ’ظلمات‘یعنی تاریکیوں سے تعبیر کیا ہے اور ان معنوی چیزوں کو حسی اشیاء سے تشبیہ دی ہے۔اسی طرح حق کو بینائی ،دھوپ اور زندگی سے موسوم کیا ہے اور باطل کو اندھے پن،سایہ اور موت قرار  دیا ہے۔پھر اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضدہیں،لہذا دونوں میں اتحاد نہیں ہو سکتا۔ زیر نظرکتاب’’روشنی اوراندھیرا‘‘سعودی عرب کے نامور عالم دین اور مذہبی اسکالر شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی کی عربی تصنیف کا ترجمہ ہے ۔شیخ موصوف نے اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ توحید اور دوسرا حصہ ایمان اور تیسراحصہ اخلاص پر مشتمل ہے کیونکہ ایمان کی تکمیل کےلیے اخلاص ضروری ہےاور کوئی بھی عمل تب تک شرف قبولیت سے بہرہ یاب نہیں ہوسکتا جب تک اس میں اخلاص نہ ہو۔ چوتھے حصے میں سنت کا مفہوم، اہمیت اور مقام ومرتبے کو واضح کرنے کے بعد بدعت کے اسباب، اقسام، عصر حاضر کی مروجہ بدعات، بدعتی کی توبہ، بدعات کے اثرات اور نقصانات جیسے پر مغز موضوعات کو قرطاس کی زینت بنایا ہے۔ یہ کتاب لوگوں کو بدعات و خرافات ، قبرپرستی ، کفر وشرک کی تاریکی سے نکال کر کتاب وسنت والی ہدایت ، توحید، ایمان، اخلاص والی روشنی کی طرف لانے کے لیے بڑی مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتاب کوظلم وشرک کے اندھیرے ختم کرنے اورتوحید وسنت کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • title-page-rahnumay-hajj-aur-umra
    صالح بن عبد العزیز بن محمد آل شیخ
    حج اورعمرہ  دوعظیم عبادتیں ہیں ان کی ادائیگی کےلیے مکہ مکرمہ کاقصد کرنا پڑتا ہے او روہاں جاکر مناسک حج و عمرہ اداکرنے ہوتے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے حج او رعمرہ کےمسائل معلوم ہوں تاکہ سنت کےمطابق ان سے عہدبرآ ہواجاسکے زیرنظر کتاب میں انتہائی مختصر اور جامع انداز میں حج وعمرہ کے تمام مسائل بیان کردیئے گئے ہیں ہربات کا قرآن وسنت سے حوالہ بھی دیا گیا ہے بعض اہم مسائل سے متعلق علماء کے فتاوی بھی اس میں شامل ہیں اس کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تصاویر اور نقشوں کا بھی اہتمام کیا گیاہے جس سے عام قاری کو مسائل کے سمجھنے میں سہولت رہتی ہے


  • title-page-riazut-toheed
    حافظ ابو عثمان محمد اکرام

    توحید کے موضوع پر قرآنی دلائل سے مزین ایک عمدہ کتاب ہے۔ جس میں فاضل مصنف نے موضاعتی ترتیب سے آیات کو یکجا کر دیا ہے۔ قرآن جو لاریب کتاب ہے جو رشد وہدایت کا عالمگیر مرکز اور فوز و فلاح کا داعی ہے، توحید جیسے بنیادی عقیدے کی واضح ترین الفاظ میں تشریح بیان کرتا ہے، پھر بھی نام نہاد مذہبی پیشواؤں کی ہٹ دھرمی اور عوام کی جہالت مسلم معاشرے میں شرک کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں۔ مصنف خود پہلے شرک و بدعت کی دلدل میں ڈوبے رہے ، بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب فرمائی۔ اب دوسروں کی فوز و فلاح کا درد ان کے قلم سے جھلکتا ہے۔

  • pages-from-riyaz-ul-hasanaat
    محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

    دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالیٰ ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ریاض الحسنات ‘‘نامور اہل حدیث عالم دین مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ﷫ کی مرتب شدہ ہے اس میں انہوں نے پنجسورہ، واسماء حسنی ، اسم ااعظم اور بعض اذکار مسنونہ کو جمع کردیا ہے۔اگرچہ اب جدید اور نئی تحقیق شدہ اور خوب صورت بے شمار کتب اس موضوع پر موجود ہیں اور کافی ساری کتب ویب سائٹ پر بھی موجود بھی ہیں لیکن   ان کبار علماء کی قدیم کتب کو محفوظ کرنے کی خاطر انہیں بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا   گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمار ے علماء اسلاف کی   تمام دینی کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-zinda-ka-murda-k-liye-hadya-aur-quran-khawani-copy

    دور ِحاضر میں مسلمانوں  کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے  کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ  بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے  بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے  کارواج عام ہے  ۔ قرآن خوانی  اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت  سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی خوانی توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت  یہ ہے کہ  قرآن  پڑھنے کا  میت  کوثواب نہیں  پہنچتا۔ البتہ  قرآن  پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے  میت کو فائدہ  ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور  قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں  کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔1۔کسی مسلمان کا مردہ  کےلیے دعا کرنا  بشرطیکہ  دعا  آداب  وشروط قبولیت  دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا  تو اس  کی طرف سے روزے  رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے  چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔زیر نظر کتابچہ’’زندہ کامردہ کے لیے  ہدیہ اور قرآنی خوانی ‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں  انہوں نے مختلف اہل علم اور  فتاویٰ جات  سے استفادہ کرکے  مذکورہ مسئلہ کی شرعی حیثیت کوواضح کیا  ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت  پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے  ہیں  جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں  باقی بھی  عنقریب  اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محتر م عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم  وحکمت،لاہور) نے چند دن قبل  اپنے  ادارے کی تقریبا  تمام مطبوعات ویب سائٹ کے  لیے  ہدیۃً عنایت کی  ہیں  اللہ تعالی  اصلاح م معاشرہ کے لیے  ان کی تمام مساعی  کو  قبول فرمائے  (آمین)  (م ۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ziarat-qabar-e-nabwi-copy
    محمد بشیر سہسوانی

    امت ِ مسلمہ کا  اس بات پر اجماع ہے کہ دینِ  اسلام کامل ہے او راس میں کسی قسم کی زیادتی او رکمی کرنا موجب کفر ہے  ۔اس لیے  ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا  چاہیے  کہ اللہ  تعالی نےہم مسلمانوں پر صرف اللہ اور اس کے رسول کے امر کوواجب قرار دیا  ہے کسی اور کی بات ماننا واجب اور فرضم نہیں خاص طور پر جب اس کی بات اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مخالف ہو۔زیارت ِ قبر نبوی  سے متعلق سلف  صالحین (- صحابہ ،تابعین،تبع تابعین) اور ائمہ کرام  کا جو طرز عمل  تھا وہ حدیث ،فقہ اور تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے  فرمان نبویﷺ  لاتشد الرحال إلا ثلاثة (  تین مسجدوں کے علاوہ  عبادت اور ثواب کے لیے  کسی  اور جگہ  سفر نہ کیا  جائے ) کے پیشِ نظر  قرونِ  ثلاثہ میں کوئی رسول  اللہ ﷺ یا کسی  دوسرے کی  قبر کی زیارت کے لیے  سفر نہیں کرتا تھا ،بلکہ  مدینہ میں  بھی لوگ قبرنبوی کی زیارت کے باوجود وہاں بھیڑ نہیں  لگاتے  او رنہ ہی  وہاں کثرت سے جانے  کو پسند کرتے تھے ۔قبر پرستی کی تردید اور زیارتِ قبر کے  مسنون اور بدعی طریقوں کی وضاحت کےلیے  علمائے اہل حدیث  نےبے شمار کتابیں  لکھیں اور  رسائل شائع کیے ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’زیارت قبر نبویﷺ‘‘ مقام انبیاء ،مزارات اولیاء اورمقامات مقدسہ  کی  طرف سفر اور زیارت کا حکم کو موضو ع   برضغیر کے  متبحر عالم دین  سید نذیر محدث دہلوی کے  شاگرد  محدث العصر علامہ محمد بشیر سہسوانی ﷫ کی  وہ  کتاب جسے انہوں نے  مولانا ابوالحسنات عبدالحی حنفی کی’’ الکلام المبرور فی رد القول المنصور‘‘ کے  جواب  میں إتمام الحجة علي من أوجب الزيارة مثل الحجة المعروف بالسعي المشكور‘‘کے نام  سے دیا۔ علامہ سہسوانی  اور مولاناعبد الحی لکھنوی کے  مابین مسئلہ شد رحال کے موضوع   ایک  عرصہ تک   تحریر وتقریری مباحثہ جاری ہے ۔کتاب ہذا  مذکورہ مسئلہ پر علامہ سہسوانی  کی طرف سے  آخری جواب  ہے جس میں مصنف موصوف نے مسئلہ شد  رحال کا  صحیح موقف قرآن وحدیث اورآثار  سلف صالحین کی روشنی  میں  مدلل  انداز میں واضح کیا ہے۔حافظ مولانا  حافظ شاہد محمود﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی) نے اس  بڑی محنت شاقہ سے  تحقیق وتخریج کا   کام کیا ۔اور   فضیلۃ الشیخ عزیر شمس  ﷾کا  طویل مقدمہ   بھی کتاب کے  شروع میں شامل اشاعت  ہے ۔ جس سے کتاب کی علمی اور استنادی حیثیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ   تعالی  اس کتاب کو   عوام الناس کے عقیدہ کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ مصنف اور کتاب کو تسہیل ، تحقیق وتخریج کے ساتھ  شائع   کرنے شامل  تمام احباب کی محنتوں کو  قبول فرمائے اوران کےعلم وعمل میں   اضافہ فرمائے  (آمین) (م۔)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-safar-e-madina-ki-saheh-niyat
    فضل الرحمان بن محمدالازہری
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ  صفات کومرکز محبت قراردینامسلمانوں کابنیادی فرض ہے اوردنیوی واخروی کامرانیوں کادارومداراسی پرہے۔لیکن اس باب میں یہ نازک نکتہ پیش نظررکھناازحدضروری ہے کہ رسول معظم صلی  اللہ علیہ وسلم سے اظہارمحبت کاوہی طریق قابل قبول ہے جس پرخودحضورختمی المرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی سہرشت ہو۔بعض لوگ محبت وعشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے کی آڑمیں ضعیف وموضوع روایات سے استدلال کرتے ہوئے اس بات کے داعی ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرانورکی زیارت کے لیے باقاعدہ نیت کرکے سفرکرناشرعی تقاضااورباعث اجروثواب ہے ۔لیکن یہ نقطہ نظرحدیث صحیح کے برخلاف ہے ۔چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کی تردیدکی ہے ۔اس سلسلہ میں قاضی السبکی نے ’شفاء السقام ‘نامی کتاب لکھ کرعلامہ ابن تیمیہ کی تردیدکرنے کی سعی کی ہے۔قاضی صاحب کی اس کتاب کاجواب علامہ کے شاگردابن عبدالہادی نے ’’الصارم المنکی‘‘کے نام سے دیاتھاجس کاجواب قاضی صاحب نہ دے سکے ۔اب بعض لوگوں نے قاضی صاحب کی کتاب کااردوترجمہ کرکے لوگوں کومغالطہ دینے کی کوشش کی ہے ۔زیرنظرکتاب ’سفرمدینہ کی صحیح نیت ‘قاضی صاحب کی کتاب کامفصل ،علمی وتحقیقی اورمحدثانہ جواب ہے جس سے تمام شبہات کاازالہ ہوتاہے۔


  • title-pages-silsila-moujzat-copy
    ہارون یحییٰ

    کسی نبی یا رسول  سے ایسے  واقعہ کاظہور پذیر ہونا جو انسانی  عقل  وفکر سے بالاتر ہو ۔یہ  خصوصی واقعہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ اس کے نبی یا رسول کی صداقت عام لوگوں پر واضح ہوجائے  عمومی طور  پر  معجزے اس  مخصوص زمانے اور حالات کے مطابق ہوتے ہیں  جس میں  وہ نبی یا رسول  اپنی دعوت پیش کر رہا ہو ۔ قرآن مجید میں انہیں آیات (نشانیاں) قرار دیاگیاہے مختلف پیغمبروں کومختلف معجزے عطا ہوئے  تھےتا کہ  وہ ان کے ذریعے  سےاللہ  کی قدرت  کالوگوں   پراظہار  کرسکیں۔ نبی کریم  ﷺکوبھی  کئی معجزوں سے نوازا گیا  ان میں سے   واقعہ معراج او رواقعہ شق القمر زیادہ مشہور ہیں۔زیر نظر کتاب ’’سلسلہ معجزات ‘‘ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے  کائنات کی ابتداء سے آج تک  وقوع پذیر ہونے والی کئی مثالوں کا  تذکرہ کرنے کے ساتھ  ساتھ  اس وقت  دنیا  کے گوشے  گوشے میں پیش آنے والے  گزشتہ  اور آئندہ معجزوں کاتذکرہ کیا  ہے ۔او رمعجزات کی ان مثالوں  کو درج ذیل  ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔1 کائنات میں موجود معجزے۔2 زمین سمیت نظام شمسی میں موجود معجزے۔3جانداروں میں پائے  جانے والے   معجزات ۔اس کتاب  کاہدف قاری کےسامنے مختلف معجزات کی ایسی مثالیں پیش کرنا ہے جو  اللہ تعالیٰ  کی عظمت اوراس کی  لامتناہی  قدرت  پردال  ہیں اور اس کا سب سے بڑا مقصد انسان  کواپنے ماحول میں موجود  ان تمام چیزوں  پر غور  کرنے کی دعوت دینا ہے  جو زمین وآسمان  کے  خالق کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو  لوگوں کے  ایمان   میں پختگی اوراضافے    کا باعث بنائے  (آمین) ( م۔ا)

     

  • حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر مبنی ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد یہ میں سے بہت سے لوگ  مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے  کا مسئلہ شرک  کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ( فَاِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[30:الروم:52] ’’اے نبی! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا۔ آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ بہرے کے کان تو ہوتے ہیں‘ لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ۔ ہاں اﷲ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ چنانچہ فرمایا: ( اِنَّ ﷲَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُج وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)[35:الفاطر:22]’’ اﷲ تو جسے چاہے سنا دے‘ کان ہوں‘ یا نہ ہوں ‘ لیکن اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟زیر تبصرہ کتاب"سماع موتی"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الاسلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ سماع موتی کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کی تبویب وتخریج حافظ عبد الوھاب روپڑی صاحب نے فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-sunnat-o-biddat-ki-kashmakash-mahir-ul-qadri
    ماہر القادری

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کے لیے بے شمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔ پس انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی ادا کرے۔ اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہےتو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہے کہ صراط مستقیم ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہےجس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور آخرت میں بھی جنت اس کا مقدر بنے۔ دنیا وآخرت میں کامیابی کا حصول صرف تعلیمات اسلام میں ہے یہ واحد دین ہے جو انسان کی ہر ضرورت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی کامیابی کا راز اتباع رسول اللہ ﷺ میں مضمر کیا ہے۔ موجودہ دور میں سنت کے مقابلے میں بدعت اس قدر اشاعت ہو رہی ہے کہ عام آدمی دین حنیف کے متعلق متزلزل اور شکوک و شبہات کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے سنت کو پہچاننا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے جبکہ خوشی ہو یا غمی اسلام نے ہر موڑ پر بنی آدم کی راہنمائی فرمائی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"سنت و بدعت کی کشمش" ماہر القادری مرحوم کی بے مثال تصنیف ہے۔ موصوف برصغیر کے مشہور ادیب و صف اول کے تبصرہ نگاروں میں سے تھے۔ موصوف نے کتاب ہذا میں مشرکانہ عقائد، خانقاہی، متصوفانہ نظریات اور مروّجہ بدعات کا قرآن و سنت کی روشنی میں تقابلی جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف مرحوم کو غریق رحمت فرمائے اور ان کے درجات میں بلندی کا سبب بنائے۔ آمین(عمیر)

  • sayyad-ul-almeen-k-saya-aur-bashriyat-k-bare-aik-tehqiqi-maqala--copy-
    عزیز زبیدی

    سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع  ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو  آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔سیرت نبوی ﷺ کے متعدد پہلو ہیں جن میں ایک پہلو آپ ﷺ کے سائے اور بشر ہونے کا بھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "سید العلمین ﷺکے سایہ اور بشریت کے بارہ میں ایک تحقیقی مقالہ"جماعت اہل حدیث کے نامور عالم دین محترم مولانا عزیز زبیدی صاحب اور مولانا محمد ادریس کیلانی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے آپﷺ کے سائے اور بشریت کے پہلوؤں کوکو تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-shatme-rasool-saww-ki-sharie-saza
    محمود الرشید حدوٹی

    رسول کریم ﷺ کی عزت،عفت، عظمت اور حرمت اہل ایمان کا جز وِلاینفک ہے اور حبِ رسول ﷺ ایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے ۔نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا قتل کے حوالے سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت میں بے شمار واقعات موجود ہیں ۔او راسلامی تاریخ میں کئی ایسے واقعا ت موجو د ہیں کہ جب بھی کسی نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا تو اہل ایمان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے گستاخِ رسول کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔اور شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫نے اس موضوع پر الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ کے نام سے مستقل کتاب تصنیف فرمائی ۔اور اسی طرح اس موضوع پر قاضی عیاض کی کتاب '' الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ بھی قابل ذکر ہے۔زیر نظر کتاب '' شاتم رسول ﷺ کی سزا'' اسی سلسلے کی کڑی ہے جوکہ مولانا محمود الرشید حدوٹی کی تصنیف ہے جس میں مولانا نے نبی کریم کی شان ِاقدس میں گستاخی کرنے والوں کے بارے میں قرآن کریم ، کتب احادیث میں وار ارشادات نبوی ، قرآنی آیات کے ذیل میں مفسرین کرام کی توضیحات اور فقہاء کرام کی فقہی آراء کو پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور اس کتاب کومقام رسالت کی معرفت کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-shatm-e-rasool-saww-ki-sharie-saza-copy
    شفیق الرحمٰن الدراوی

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور حرمت رسول ﷺ کے متعلق رسائل وجرائد میں بیسوں نئےمضامین طبع ہوئے اور کئی مجلات کے اسی موضوعی پر خاص نمبر اور متعد د کتب بھی شائع ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ‘ پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی﷾( فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے رسول اللہ ﷺ کی رحمت کے بیان کےساتھ ساتھ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے متعلق حکم بیان کیا گیا ہے ۔جس کےلیے قرآن وحدیث کےبیسیوں حوالہ جات جمع کیے گئے ہیں۔ اس کےساتھ ساتھ آپ ﷺ کا طرز عمل ، صحابہ کرام کے فیصلے ،علماء کرام﷭ کے مذاہب ،آئمہ اربعہ کے اقوال قدیم وجدید دور کےاہل علم کے آراء پیش کی گئی ہیں ۔ ساتھ ہی عصر حاضر میں یہودی ، عیسائی ، ماسونی ، اور ملحدانہ بیہودگیوں کے خلاف راست اقدام کےلیے مسلمانوں کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کےلیے شرعی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور سابقہ تاریخ میں اس طرح کے کردار کے اثرات ونتائج بیان کر کے لوگوں کو پیغمبر برحقﷺ کی نصرت اور آپ کےخلاف زہریلے اقدامات کرنے والوں کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں پہلے رحمت نبوت کی وضاحت کے لیے ’’نبی رحمتﷺ‘‘ کے عنوان سے باب قائم کر کے آپ کے رحمت للعالمین ہونے کے مختلف عملی پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اور پھر انصاف پسندوں کے اعترافات ذکر کرنے کے بعد گستاخ ِ رسول کےموضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے اورمؤلف کوتالیف وتصنیف اور ترجمہ کے میدان میں کام کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-shan-e-rabb-ul-alameen-copy
    محمد صادق سیالکوٹی

    اللہ تعالی کے نیک بندوں، ولیوں، بزرگوں، صدیقوں، اور نبیوں کی اپنی اپنی شان اور بزرگی ہے، لیکن ان بزرگ ہستیوں کو مرتبے اور شانیں عطا کرنےوالے اللہ رب العزت کی بھی ضروری شان ہے۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے، اسی طرح اس کی صفات کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں۔ اس کی صفات اور کمالات نہ تو ہمارے شمار میں آ سکتے ہیں اور نہ ہی وہ صفات ہو سکتی ہیں جن کو ہم بیان کر سکیں۔اللہ کا وجود اس کائنات کی ایک کھلی حقیقت ہے۔ اس دنیا کے نباتات، جمادات ، حیوان، چرند، پرند اور انسان  اپنے ظاہر و باطن سے اعلان کررہے ہیں کہ وہ  آپ سے آپ وجود میں نہیں آئے بلکہ انہیں کسی نے پیداکیا ہے۔ چنانچہ ہر شے کا اپنے رب سے پہلا رشتہ مخلوق اور خالق کا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " شان رب العالمین "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین اور مصنف محترم مولانا صادق سیالکوٹی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اللہ تعالی کی شان اور مقام کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • pages-from-shab-e-baraat-haqiqat-key-aainey-azim-hasilpuri
    محمد عظیم حاصلپوری

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا جو شرک و بدعت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بندوں تک پہنچاتے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ختم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ ایک داعئ انقلاب، معلم، محسن و مربی بن کر آئے۔ جس طرح آپﷺ کے فضائل و مناقب سب سے اعلیٰ اور اولیٰ ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی امت کو بھی اللہ رب العزت نے اپنی کلام پاک میں"امت وسط" کے لقب سے نوازہ ہے۔ اسلام نے اپنی دعوت و تبلیغ اور امت کے قیام و بقاء کے لیے اساس اولین ایک اصول کو قرار دیا ہے جو"امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دعوت الی الخیر، برائی سے روکنا اس امت کا خاصہ اور دینی فریضہ ہے۔ اسلام تو نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں مکمل ہو گیا تھااورانسان کی راہنمائی کے لیے اس میں تشنگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جس میں انسان کے لیے راہنمائی نہ ہو۔ شب و روز کی زندگی کے معمولات و عبادات سب موجود ہیں مگر مسلمانوں نے نعوذ با للہ عبادت کے نام پر ایسے کام شروع کر دیئے جیسے وہ اسلام کو ادھورہ اور شریعت محمدیہ ﷺ کو ناقص قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ زیر نظر کتاب"شب برات حقیقت کے آئینے میں"جو کہ فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری کا ایک تحقیقی رسالہ ہے۔ محترم موصوف جو کہ علمی و ادبی حوالے میں ایک معتبر حیثیت کے حامل ہیں۔ فاضل مصنف نے کتاب ہذا میں شب برات کی حقیقت کا قرآن سنت کی روشنی میں تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے اور محترم موصوف کو ہمت واستقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • tite-pages-shabe-barat-aur-uski-sharie-haisiyat-copy
    حافظ سید امان اللہ شاہ بخاری

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ لیکن عبادت کےلیے    اللہ تعالیٰ   نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی   خلقت  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سن بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک   اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت   مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی   عبادات کو  دین   میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے   کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے ۔انہی بدعات   میں  سے  ماہ شعبان میں شب برأت  کے  سلسلے میں   من گھڑت  موضوع احادیث کو   سامنے رکھتے ہوئے  کی  جانے والی بدعات ہیں۔ مسلمانوں نے شب برأت کو  ایک مذہبی اور  روائتی  حیثیت دے رکھی  ہے اس  خیالی اور تصوراتی رات کو اس  طرح اہمیت دی جاتی ہے  جس  طرح لیلۃ القدر کو دی جاتی  ہے ۔ عجیب بات ہے کہ واعظین  لیلۃ القدر میں  جو  کچھ بیان کرتے ہیں  شب برأت میں وہی   کچھ بیان کرتے ہیں ۔اور  عوام الناس کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کا   نزول ماہ شعبان کی  پندریں رات کو شروع ہوا ۔زیر نظر کتابچہ ’’ شبِ برأت اور اس کی حقیقت‘‘ مولانا حافظ سید امان اللہ  شاہ بخاری کی کاوش  ہے   جس میں انہوں نے  شب برأت کی شرعی  حیثیت کو   قرآن وحدیث کے دلائل اورائمہ محدثین ومفسرین کے   اقوال کی روشنی میں  واضح کیا ہے ۔اللہ تعالی   مصنف کی اس کاوش  کو  قبول  فرمائے  اور اسے  شب برأت کی حقیقت کو سمجھنے اور اس ماہ شعبان  میں پائی جانے والی بدعات سے   بچنے کا ذریعہ بنائے  (آمین) (م-ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sharha-arkan-e-iman-copy
    ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی

    دینِ اسلام عقیدہ،عبادات،معاملات ،سیاسیات وغیرہ کا مجموعہ ہے ، لیکن عقیدہ اور پھر عبادات کامقام ومرتبہ اسلام میں سب سے بلند ہے کیونکہ عقیدہ پورے دین کی اساس اور جڑ ہے ۔اور عبادات کائنات کی تخلیق کا مقصد اصلی ہیں ۔ ایمان کے بالمقابل کفر ونفاق ہیں یہ دونوں چیزیں اسلام کے منافی ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسول کی تصدیقات ارکان ایمان ہیں۔قرآن مجیدکی متعدد آیات بالخصوص سورۂ بقرہ کی ایت 285 اور حدیث جبریل اور دیگر احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے ۔لہذا اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اوراس کی طرف سے بھیجے ہوئے رسولوں کو تسلیم کرنا اور یوم حساب پر یقین کرنا کہ وہ آکر رہے گا اور نیک وبدعمل کا صلہ مل کر رہے گا۔ یہ امور ایمان کے بنیادی ارکان ہیں ۔ان کو ماننا ہر مومن پر واجب ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرح ارکان ‘‘ ابی عبدالصبور عبد الغفور دامنی کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے اللہ تعالیٰ ،اس کی کتابوں، رسولوں اور فرشتوں ، آخرت اورتقدیر پر ایمان لانےکی حقیقت کو آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں تفصیلاً بیان کیا ہے ۔کتاب کے آغاز میں شیخ عبد اللہ ناصررحمانی ﷾ کا جامع مقدمہ انتہائی اہم اور لائق مطالعہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اورہمیں ایمان کی پختگی نصیب فرمائے(آمین) (م۔ا)

  • pages-from-sharha-asool-e-iman
    محمد بن صالح العثیمین

    عقیدہ کو دین میں وہی اہمیت حاصل ہے جو بنیاد کو عمارت میں اور بیج کو درخت میں ہے ۔ اگر کسی عمارت کی بنیاد ہی ٹیڑھی ہو یا کسی درخت یا پودے کابیج ہی صحت مند نہ ہو تو عمارت عالی شان ہوسکتی ہے اور نہ درخت توانا وتندرست ہوسکتا ہے ۔ دینِ اسلام میں توحید، رسالت ،آخرت ،تقدیر ارکانِ اسلام ، کتب اور فرشتوں پر ایمان کو بھی یہی حیثیت حاصل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شر ح اصولِ ایمان‘‘ سعودی عرب کے   نامور عالم دین ومفتی شیخ محمدبن صالح العثیمین﷫ کی عربی تصنیف کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہی موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔قاری کے دل ودماغ تک پہنچنے کےلیے عقلی اور نقلی ہر دو قسموں کےدلائل بڑے ہی دل نشیں انداز میں دیے گئے ہیں۔ اور یہ کتاب حیرت انگیز طور پر اجمال وتفصیل کی خوبیاں لیے ہوئے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عالم وعامی ،مبتدی اور مجتہد دونوں کے لیے مفید ہے۔عام آدمی کےلیے یہ ایمان کی پختگی اور دین کو صحیح نہج پر سمجھنے کا باعث ہے اور عالم کواس میں وہ اشارات ملیں گے جس کی بنیاد پر وہ اپنے مخاطبین کو دلوں تک رسائی کی راہ پاسکتاہے ۔کتاب ہذا کارواں ترجمہ محترم غازی عزیر ﷾ (مصنف ومترجم کتب کثیرہ اورمعروف   مضمون نگار ومحقق)نے کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس مختصر رسالہ کوعام مسلمانوں کے لیے نفع بخش اور مؤلف ومترجم کےلیے خیروبرکت   اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-sharha-aqida-wastia-copy
    امام ابن تیمیہ

    عقیدے  کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے  اللہ تعالیٰ نے ہر دور  میں انبیاء کو مبعوث کیا  حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م  نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں  عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ  الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی  سلسلے کی  ایک کڑی ہے ۔شیخ  الاسلام کی تالیفات وتصنیفات کی ورق گردانی  کرنے والے  اور ان کا گہرا مطالعہ کرنے والے  اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں  کہ انہوں نے   حق کے  دفاع اور اہل باطل کی تردید میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔امام ابن تیمیہ کی  کتاب عقیدہ واسطیہ کے مفہوم  ومطلب کو واضح کرنے  کے لیے  الشیخ  محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ زیرنظر کتاب’’شرح عقیدہ واسطیہ‘‘معروف سعودی عالمِ دین ومفتی فضلیۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین﷫ کی تصنیف ہے ۔جس کے ترجمہ کی سعادت محترم  پروفیسر جار اللہ ضیا ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے حاصل کی  اور الفرقان ٹرسٹ نے  اسے اعلی طباعتی معیار پر شائع کیا ہے ۔یہ کتاب دینی طلباء،اساتذہ کرام اور عوام الناس کے لیے  انتہائی مفید ہے  ۔کتاب ہذا  کےمترجم محترم  پروفیسر جار اللہ ضیا ﷾ ماشا ء اللہ   ایک  قابل  مدرس اور اچھے  واعظ ہیں اس کتاب کے علاوہ بھی  کئی  کتب کے  مترجم ہیں۔ اللہ  تعالیٰ اس کے  مصنف وشارح کے  درجات کو  بلند فرمائے  اور ان کی قبروں پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔ مترجم اور ناشرین کے علم وعمل میں  اضافہ فرمائے اور ان کی تمام  مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-sharha-aqeeda-wastiya-sawalan-jawaban
    امام ابن تیمیہ

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ''عقیدہ واسطیہ''بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ میں الشیخ خلیل ہراس کی شرح شامل نصاب ہے۔زیرنظر کتاب''شرح عقیدہ واسطیہ سوالاً جواباً''شیخ عبد العریز السلمان کی عربی کتاب''الاسئلة والاجوبة الاصولية على العقيدة الواسطية''کا اردو ترجمہ ہے ترجمہ کی سعادت محترم مولانا محمد اختر صدیق ﷾ (فاضل جامعہ لاہوالاسلامیہ ،لاہو ر وفاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے حاصل کی اور مکتبہ اسلامیہ نے اسے اعلی طباعتی معیار پر شائع کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے عقیدے کے مسائل کو عمدہ اور آسان فہم انداز میں پیش کیاہےیہ کتاب دینی طلباء،اساتذہ کرام اور عوام الناس کے لیے انتہائی مفید ہے کیوں کہ مصنف نے اسے عام فہم اورسلیس انداز میں سوالاً جواباً مرتب کیا ہے ۔کتاب ہذا کے مترجم محترم محمداختر صدیق ﷾ ماشا ء اللہ ایک قابل مدرس اور اچھے واعظ ہیں اس کتاب کے علاوہ تقریبا ایک درجن کتب کے مصنف ومترجم ہیں سعودی عرب میں دعوتی ،تبلیغی او رتالیف وترجمہ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-shirak-ki-tareef-aqsaam-o-anjam
    طاہر نثار عزیز بن عبد العزیز

    یہ حقیقت ہےکہ شرک ظلمِ عظیم ہےشرک اکبر الکبائر ہے ،شرک رب کی بغاوت ہے شرک ناقابلِ معانی جرم ہے ، شرک ایمان کےلیے زہر قاتل ہے ، شرک اعمالِ صالحہ کے لیے چنگاری ہے ۔اور شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا بہت سارے لوگ ایسے ہیں کہ جو شرک کے مفہوم کونہیں سمجھتےشرک کرنے کےباوجود وہ کہتے ہیں کہ وہ شرک نہیں کر رہے ان کے نزدیک شرک صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیساکوئی اور رب بنالیا جائے او راس کی عبادت کی جائے اصل میں وہ شرک کی حقیقت سےناواقف ہیں اسی لیے تو وہ کہتے ہیں انہوں نے کونسا کو ئی اور رب بنایا ہے۔شرک جیسی مہلک بیماری سے بچنے اور تو حید کواختیار کرنے کا انسانیت تک پہنچانےکے لیے اللہ تعالیٰ نےانبیاء کرام کو مبعوث کیا اور قرآن مجید نےسب سے زیادہ زور توحید کےاثبات اورشرک کی تردید پر صرف کیا ہے ۔سید البشر حضرت محمد ﷺ نے بھی زندگی بھر لوگوں کو اسی بات کی دعوت دی   اورزندگی کے آخری ایام میں بھی اپنی امت کو شرک سے بچنے کی تلقین کرتے رہے ۔بعد میں صحابہ کرام ، تابعین ، ائمہ محدثین اور علمائے عظام نے دعوت وتبلیغ ، تحریر وتقریر کے ذریعے لوگوں کو شرک تباہ کاریوں سے اگاہ کیا ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شرک کی تعریف ، اقسام ، انجام ‘‘طاہر نصار عزیز بن عبد العزیز کی تصنیف ہے ۔انہوں نے مسلمانوں کوشرک جیسی خطر ناک بیماری سے بچانے کےلیےاس کتاب میں اختصار سے شرکی تعریف ،اقسام شرک، شرک کی برائیاں، شرک کے مضاہر وغیرہ کو کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق دلائل کی روشنی میں آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائےاور امت مسلمہ کو شرک سے محفوظ فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • shirkeakbarkufreakbaraurbidatkbaraymainjahilaurmuqallidp-copy
    ابن قیم الجوزیہ
    یہ کتابچہ دراصل علامہ ابن قیم کی دو کتابوں "کتاب الطبقات" اور"قصیدہ نونیہ" کی تلخیص ہے۔ اس میں جاہل مقلدین اور کفر اکبر، شرک اکبر اور دیگر بدعی عقائد میں مبتلا گروہوں پر حجت کے قواعد اور اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ایک حساس موضوع پر عمدہ تحریر ہے۔


  • shirak-ka-murtakab-kafar-2
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔ آپ نے متعدد کتب تصنیف فرمائیں اور شرک وبدعات کے خلاف میدان کارزار میں کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔آپ نے خالصتا کتاب وسنت کی دعوت کو عام کیا اور لوگوں کو شرک وبدعات سے دور کرنے کے لئے کتب لکھیں۔آپ کی من جملہ کتب میں سے ایک زیر تبصرہ یہ کتاب (شرک کا مرتکب کافر ہے) ہے۔جو آپ کی عربی کتاب (کشف الشبہات فی التوحید) کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم ابو بکر صدیق سلفی نے حاصل کی ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ان کتابوں کی تدوین وتالیف کا عظیم مقصد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ﷫ کے پیش نظر یہ تھا کہ دنیائے اسلام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کروایا جائے ،اور وہ عقائد ورسم ورواج،جن کی تنسیخ کے متعلق قرآن وسنت اور آثار صحابہ سے ثبوت فراہم ہوتا ہے ،دلائل وبراہین سے قطعیت کے ساتھ ان کو رد کر دیا جائے۔اور صرف ان واضح احکامات پر ایمان وعمل کی اساس قائم کی جائے جو مسلمانوں کے لئے فلاح و خیر اور نجات اخروی کا باعث ہوں۔چنانچہ انہوں نے اپنی کتب میں ان تمام مسائل پر مدلل گفتگو کی ہے اور کسی قسم کے تعصب وعناد کے بغیر بہت ہی سادہ ودلنشیں پیرائے میں قرآن وحدیث کا نچوڑ نکال دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل حق ،جو گروہی مفاد اور مذہبی تعصب نہیں رکھتے ہیں ،ان کتب کے پیش کردہ حقائق سے استفادہ کر کے اصل اسلامی تعلیمات یعنی کتاب وسنت کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں ،اور ان شاء اللہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-shirak-ki-holnakiyan-aur-tabahkariyan
    محمد ولی راضی
    شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے ۔قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے۔   شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں  کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے  عظیم  گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک انسانی  عقل پر پردہ ڈال دیتا ہےاور انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی  ہدایت نظر آنا شروع ہو جاتی ہے  ۔پہلی  قوموں کی  تباہی  وبربادی کاسبب  شرک  ہی  تھا۔ بہت سارے لوگ  ایسے ہیں  جو شرک  کے مفہوم کونہیں سمجھتے،اورشرک کرنے کےباوجود کہتے ہیں کہ وہ شرک نہیں کر رہے ۔ ان کے نزدیک شرک صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیساکوئی  اور رب بنالیا جائے او راس کی عبادت کی جائے ۔اصل میں وہ شرک کی حقیقت سےناواقف ہیں اسی لیے  تو  وہ کہتے ہیں انہوں نے کونسا کو ئی اور رب بنایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  اسی موضوع پر ایک اہم کتاب ہے  جس میں  فاضل  مصنف نے  قرآن وسنت کی  روشنی میں شرک کی حقیقت  اور اس کے نقصانات پر   آسان فہم  تفصیلی  بحث کی ہے  او رشرک  کے  تمام پہلوؤں پر  تفصیل  روشنی  ڈالی ہے۔ کتاب  دوحصوں میں مشتمل  ہے۔  پہلے حصے میں شرک  کی  حقیقت اور دوسرے  میں  شرک  کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا ہے،  اور بتایا  گیاہےکہ جن کو اللہ کے سو ا ما فوق الاسباب پکار ا جاتاہے،  وہ نہ تو سفارش کرسکیں  گے  اورنہ ہی  کسی کی  فریاد سن  سکیں گے ۔ یہ کتاب شرک کےموضوع پر ایک  لاجواب تحفہ ہے۔  اللہ  سے  دعا ہے کہوہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے والوں کے   مشرکانہ عقائد کی اصلاح کر کے انہیں موحد بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-shirak-kia-he-copy
    محمد عطاء اللہ بندیالوی

    یہ حقیقت ہےکہ شرک ظلمِ عظیم ہےشرک اکبر الکبائر ہے ،شرک رب کی بغاوت ہے شرک ناقابلِ معانی جرم ہے ، شرک ایمان کےلیے زہر قاتل ہے ، شرک اعمالِ صالحہ کے لیے چنگاری ہے ۔اور شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا بہت سارے لوگ ایسے ہیں کہ جو شرک کے مفہوم کونہیں سمجھتےشرک کرنے کےباوجود وہ کہتے ہیں کہ وہ شرک نہیں کر رہے ان کے نزدیک شرک صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیساکوئی اور رب بنالیا جائے او راس کی عبادت کی جائے اصل میں وہ شرک کی حقیقت سےناواقف ہیں اسی لیے تو وہ کہتے ہیں انہوں نے کونسا کو ئی اور رب بنایا ہے۔شرک جیسی مہلک بیماری سے بچنے اور تو حید کواختیار کرنے کا انسانیت تک پہنچانےکے لیے اللہ تعالیٰ نےانبیاء کرام کو مبعوث کیا اور قرآن مجید نےسب سے زیادہ زور توحید کےاثبات اورشرک کی تردید پر صرف کیا ہے ۔سید البشر حضرت محمد ﷺ نے بھی زندگی بھر لوگوں کو اسی بات کی دعوت دی اورزندگی کے آخری ایام میں بھی اپنی امت کو شرک سے بچنے کی تلقین کرتے رہے ۔بعد میں صحابہ کرام ، تابعین ، ائمہ محدثین اور علمائے عظام نے دعوت وتبلیغ ، تحریر وتقریر کے ذریعے لوگوں کو شرک تباہ کاریوں سے اگاہ کیا ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’شرک کیا ہے؟‘‘ مولانا محمد عطاء اللہ بندیالوی صاحب کے1421ء کےرمضان المبارک میں سرگودھا شہر کی جامع مسجد حنفیہ میں ’’شرک کیا‘‘ کےعنوان پر دروس کا مجموعہ ہے موصوف کے ان دروس کاسلسلہ تقریباً دس روز جاری رہا ۔جسے سامعین نے بہت زیادہ پسند کیا تو موصوف نے افادہ عام کےلیے اسے مرتب کرکے شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1401 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں