• حافظ عبد الرزاق اظہر

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔اہل ایمان اور صالحین کو تو جنت کی خوشبو تو چالیس کی مسافت سے آنا شروع ہوجائے گی لیکن گناہ گار لوگوں کو جنت کی خوشبو تک نہیں آئی گی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خوشبوئے جنت سے محروم لوگ ‘‘ محترم جناب حافظ حافظ عبد الرزاق اظہر ﷾ کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآ ن وحدیث کے واضح اور مضبوط دلائل سے ان معاشرتی برائیوں اور کبیرہ گناہوں اوراخلاقی پستیوں کو بڑے عمدہ پیرائے میں یکجا کردیا ہے جو حقیقت میں بندوں کو جنت کی اس خوشبو جو چالیس برس کی مسافت سے آنا شروع جائے گی سے محرومی کا باعث ہیں۔(م۔ا)

  • ہارون یحییٰ

    اللہ تعالیٰ کاخوف ہی دراصل  اللہ پرکامل ایمان   ہونے کاٹھوس  ثبوت اورآخرت کی  زندگی  میں  ملنے  والے  اجر کی  اہم نشانی  ہے ۔  آخرت کی زندگی میں  خود کو نارِ جہنم سے  محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ خوف ِ الٰہی   او رپرہیز گار ی  کو اختیار کرنے میں ہے ۔روز ِحساب ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے  جس  سےبچنا ناممکن  اور جس کے بارے  میں خصوصی طور  پر غور  وفکر  کرنالازم ہے۔ تاہم  یہ خوف صرف ایمان والوں کونصیب ہوتاہے اور یہ ایک خاص قسم  کاخوف ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات  اور نبی کریم  ﷺ  نےاحادیث میں  روزِ  قیامت  پیش  آنے والے  مختلف واقعات  بیان کردیئے ہیں ۔دنیا کی مختصر سی  زندگی میں انسان  جوکام بھی کرتا ہے  اس کے اعمال نامے میں  لکھا جارہا ہے ۔ اورہر انسان  اس دن کی طرف تیزی  سے بڑھ رہا ہے  جب   انسان کواللہ کےحضور پیش ہوکر اپنے اعمال کے لیے  جوابدہ ہونا پڑے گا۔ چنانچہ اہل ایمان کو    یہ  امید کرنی چاہیےکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں میں  شامل کردے  جو اللہ تعالیٰ سے  ڈرتے ہوئےاس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا خوف بڑی چیز ہے  ۔ جسے  یہ دولت  حاصل ہوگی  وہ بہت  بڑا خوش نصیب ہے  ۔ جس  کےدل  میں خوف الٰہی  ہوگا وہ گناہوں  سے دور رہے گا اوراس کےلیے  بڑے  برے درجات ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ(سورۃ الرحمن:46) یعنی  جو  شخص  قیامت کےدن  اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کاڈر  اپنے دل میں رکھتا ہے اوراپنے  تئیں نفس کی خواہشوں سےپچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا ہے۔ زندگانی  کے پیچھے پڑ کر آخرت سے  غفلت نہیں کرتا ،بلکہ آخرت کی فکر زیادہ  کرتا ہےاور اسے  بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے ۔ فرائض بجا لاتا ہے۔محرمات سےرکتا ہے  قیامت کےدن  اسے  ایک  نہیں  بلکہ  دو  جنتیں ملیں گی۔اللہ تعالیٰ تمام  ایمان اہل  کواپنے دلوں میں  اللہ تعالیٰ خوف اور تقویٰ ،پرہیزگاری پیدا کرنے کی توفیق  عطافرمائے ۔زیر نظر کتاب  ’’خوف خدا‘‘  ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے  اپنے  منفرد انداز میں    خوف الٰہی  کی حقیقت اور فوائد وثمرات کو آیات قرآنی  کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو لوگوں کےدلوں  میں اپنا  کاخوف پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے  (آمین )  (م۔ا)

  • مدثر حسین سیان
    تاریخ عالم کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن  کی طرح  واضح ہوتی  ہے کہ ہر دور میں  اہل حق  باطل قوتوں  کے ساتھ برسرپیکار رہے ہیں ۔ جلد یا بدیر فتح اہل حق  کا مقدر ٹھہری ہے ۔تاریخ کے صفحات میں بدر وحنین  ، موتہ وتبوک، قادسیہ و یرموک ،ایران و روم ، افغانستان  و ہندستان ،شام وعراق ،فلسطین وبیت  المقدس کی فتوحات کے زریں نمونے آج بھی موجود ہیں ۔حق وباطل کا یہ معرکہ قیامت تک یونہی چلتا رہےگا۔اور خروج دجال انہی معرکوں کے تناظر میں ہوگا۔گزشتہ کچھ دہائیوں سے   خروج دجال کے بارےمیں مختلف قسم کی آرا سامنے آئی  ہیں ۔حتی کہ بعض مفکرین اور ریسرچ سکالرز نے موجودہ دور کی سپر پاور امریکہ کو ہی دجال سے تعبیر کردیا ہے۔ان کا کہنا کہ امریکہ کی تہذیب اور طاقت سب کچھ دجالیت ہی ہے۔درج ذیل کتاب راقم الحروف کا ایم فل کا ایک تحقیقی مقالہ ہے جس میں اس رائے کوپیش نظر رکھتے ہوئے دجال کے بارے میں   سلف کی رائے سامنے لانے کی  کوشش کی گئی  ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے  دجال کے بارے میں مسیحی اور یہودی تعلیمات کا بھی جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔تاکہ دجال کے بارے میں تمام قسم  کی اراوتعلیمات سامنے رکھ کر ایک درست مؤقف اپنانا ممکن ہو۔مصنف کا  خیال ہے کہ موجودہ امریکن جنگ  کو معرکہ ءخیر وشر کی  ایک کشمکش  تو  کہا  جاسکتا ہے لیکن اسے  فتنہءدجال سے  تعبیر نہیں کیا جاسکتا ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس طرح کے حالات پیدا ہو رہے  جن  میں دجال  کا ظہور ہوگا۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • حافظ عمران ایوب لاہوری
    کتاب وسنت میں یہ امر پوری  طرح واضح کر دیاگیا ہے کہ دنیا کی یہ موجودہ زندگی عارضی اور فانی ہے اصل اور حقیقی زندگی آخرت کی ہے،لہذا اس کی فکر کرنی چاہیے۔لیکن اس کے باوجود آج ہم دنیوی آسائشوں کی طلب میں مگن ہیں اور اپنی اخروی زندگی کو فراموش کر چکے ہیں۔زیر نظر کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایک دن اب آنے والا ہے جب ہمیں اسے ہر عمل کا جواب دہ ہونا پڑے گااس دن کے آنے سے پہلے تو بہ کر لینی چاہیے ۔کتاب کے مباحث تین حصوں میں منقسم ہیں:پہلے حصے میں قیامت کی چھوٹی علامات  بیان کی گئی ہیں،دوسرےحصے میں قیامت خروج دجال پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور تیسرے حصے میں قیامت کی بڑی بڑی اور فیصلہ کن علامات کا ذکر کیا گیا ہے ۔اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ بحث و نظر کی بنیاد  قرآن مجید اور احادیث صحیحہ پر رکھی گئی ہے۔دلائل کو مکمل حوالہ جات کے ساتھ مزین کیا گیا ہے اور احادیث کی مکمل تخریج و تحقیق کی گئی ہے۔(ط۔ا)
  • عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کے اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش وودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا او ران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے   پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوت دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوہ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج دعوت اور اصول دعوت کے حوالے سے   اہل علم نے عربی اوراردو زبان میں کئی کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی کتب قابل ذکر ہیں جوکہ آسان فہم او ردعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ دعوت الی اللہ اور داعی کے اوصاف،سنت واجب العمل ہےاور اس کا منکرکافر ہے‘‘ شیخ ابن باز﷫ کے دواہم مقالوں(وجوب العمل بالسنۃ وکفر من انکرھا اور الدعوۃ الی اللہ ) کا اردو ترجمہ ہے۔ ایک کا تعلق دعوت الی اللہ کی اہمیت وفضلیت سے ہےاس کے ضمن میں مبلغ او رداعی کے اوصاف وخصائل پر مختصر بحث کی گئی ہے اور دوسرے مقالہ میں بدلائل واضح اور براہین قاطعہ سے ثابت کیا ہے کہ سنت رسولﷺ مستقل ماخذ شریعت ہے اور اس پر عمل واجب ہےاورجو انسان اس کا منکر ہے وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ الغرض یہ دونوں رسالے ایجاز اوراختصار کےباوجود جامع ہیں گویا کہ کوزہ میں بند دریا ہے۔ان رسالوں کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر شیخ الحدیث استاذی المکرم حافظ ثناء اللہ مدنی ﷾ کے تلمیذ رشید حافظ محمد اسلم (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے انہیں اردو قالب میں ڈھالا اور الادارۃ الاسلامیہ ،فیصل آباد نےشائع کیا۔(م۔ا)

  • ابو بلال عبد اللہ طارق

    اسلامی تعلیمات میں تمام امور پر عقیدہ توحید کو اولیت حاصل ہے اور توحید ہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اسی پر دنیا وآخرت کی کامیابی کا انحصار ہے الغرض دین اسلام کی اساس وبنیاد عقیدہ توحی ہے۔عقیدہ توحید کی ضد شرک ہے اور شرک ایسا جرم عظیم ہےکہ اگر بندہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کو بھی مبعوث فرمایا اور ہر نبی نے جس دعوت سے آغاز کیا وہ دعوت توحید ہی تھی۔زیرِ تبصرہ کتاب’’ دعوت توحید وسیلے کی حقیقت ‘‘ بھی اسی موضوع کو اُجاگر کرنے کے لیے تالیف کی گئی ہے۔ اس کتاب میں سب سے پہلے عقیدہ توحید ہی کی دعوت دی گئی ہے‘ توحید کے بعد وسیلہ کی حقیقت کو بیان کیاگیا ہے جو شرک کی ہر قسم کی بنیادی جڑ ہے۔اور وسیلہ کی ایک شکل جو تعویز ہے اس کو بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ امت شرک کی ہر قسم سے نکل کر خالص اللہ کی توحید کی طرف آجائے۔ اور اس کتاب میں قرآن وحدیث سے غلط عقائدونظریات کی تردید کی گئی ہے اور حوالہ جات کا خاص اہتمام ہے۔زبان کی سلاست اور سہل انداز اپنایا گیا ہے اور اس کتاب کی جمع وترتیب بھی نہایت عمدہ ہے تاکہ قارئین کے لیے نہایت آسانی ہو۔یہ کتاب مولانا ابو بلال عبد اللہ طارق صاحب کی علمی اور تحقیقی کاوش ہے‘ آپ خط وکتابت کاعمدہ ذوق وشوق رکھتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • قاری صہیب احمد میر محمدی

    دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج دعوت اور اصول دعوت کے حوالے سے اہل علم عربی اور زبان میں کئی کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی کتب قابل ذکر ہیں جوکہ آسان فہم اور دعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ دعوت دین کے بنیادی اصول‘‘ قاری صھیب احمد میر محمدی ﷾ (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ و مدینہ یونیورسٹی ،مدیر کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیۃ،پھولنگر) کی تصنیف ہے ۔ جس میں دعوت و تبلیغ کی اہمیت و فضیلت کو بیان کرتے ہوئے دعوت کے لغوی، اصطلاحی مفاہیم، دعوت کے منہج کو چھوڑنے کے نقصانات، داعی کے اوصاف، محاسن اخلاق اور دعوت دین کے اوصولوں و ضوابط کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیے گے ہیں۔مصنف اس کتاب کے علاوہ بھی کئی دینی ،تبلیغی اور اصلاحی وعلمی کتب کے مصنف ہیں او رایک معیاری درسگاہ کے انتظام وانصرام کو سنبھالنے کےعلاوہ اچھے مدرس ،واعظ ومبلغ اور ولی کامل حافظ یحیٰ عزیز میر محمدی ﷫ کے صحیح جانشین اور ان کی تبلیغی واصلاحی جماعت کے روح رواں ہیں ۔اللہ تعالیٰ محترم قاری صا حب کے عمل وعمل اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے اور دین اسلام کےلیے ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • محمد حسین میمن

    اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی ایک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔نہ اس کی بیوی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے ۔لیکن اس کے برعکس عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ،جس کے مطابق اللہ تعالی، سیدنا عیسیٰ اورسیدہ مریم علیھا السلام تینوں خدا ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم علیھا السلام اورسیدنا عیسیٰ پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا اور آخری نبیﷺ کی بات کو تسلیم بھی نا کیا اور قرآن مجید کے حقائق اور مسیحؑ کی عزت وناموس کو جیسے چاہا استعمال کیا۔لیکن اللہ رب العزت نے اپنے دین اور قرآن کی حفاظت کے لیے ہر دور میں اپنے ایسے بندے پیدا کیے جو حفاظت دین کے پرچم کو تھام لیتے ہیں اور دین کا پرچار کرتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں مسیحی پادریوں کی غلط تعلیمات اور ان کے باطل افکار کا جائزہ لیا گیا ہے اور تمام اشکلات واعتراضات کا تسلی بخش جواب دینے کی سعی کی گئی ہے۔اور ان کے بیان کردہ تمام نظریات کو عیاں کر کے ان کا رد پیش کیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ دفاع عقیدہ توحید‘ رد عقیدہ تثلیث ‘‘ محمد حسین میمن کی تصنیف کردہ اور خلیق الرحمن قدر﷾ کی مترجم کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • جلال الدین قاسمی
    وجود انسانی  کا مرکز دل ہے   انسانی  زندگی کی بقا کے لیے ضروری  ہے  کہ  اپنے  مرکز دل سے  اس کا  رابطہ برابر قائم رہے ، قلب ہی  وہ اولین  سرچشمہ ہے جہاں سے خیالات،احساسات ،جذبات اورارادوں کےجھرنے پھوٹتے  ہیں فساد اگر اس میں  آجائے تو پھر سارے کردار میں پھیل جاتا ہے  او راصلاح بھی اگر اس سرچشمہ کی ہوجائے تو ساری  سیرت سنور جاتی  ہے ۔ قلب درست ہو تو  یہی  اصل مربی  ومزکی ہے یہی مفتی  وجج ہے  یہی اگر بگڑ جائے  تو  باہر  کی کوئی امداد انسان کو نہیں سنوار سکتی  اور دل  انسانی  جسم  کا اہم  او رکلیدی  عضو ہے جو جسم  انسانی  کی طرح فکروعمل میں بھی  بنیادی  کردار کرتا ہے  اس لیے  قرآن  وحدیث  کی نظر میں  قلب کی درستی  پر انسانی  عمل  کی درستی کا  انحصار  ہے  نبی  کریم  ﷺ نے  فرمایا یاد رکھو!کہ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے  اگر وہ  سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور  جووہ بگڑا تو سارا بدن بگڑگیا ،سنو وہ  دل ہے۔ اور اسی طرح  ارشاد نبوی  کی  ترجمانی کسی  شاعرنے ان الفاظ میں کی ہے :
    دل کے بگاڑ ہی  بگڑتا ہے آدمی         جس نے اسے  سنبھال لیا وہ سنبھل گیا
    زیر نظر  کتابچہ بھی  اس موضوع پر مولاناجلال الدین قاسمی کی ایک دلچسپ کتاب ہے  جس میں  انہوں نے  قلب کے معنی  ومفہوم اور انسانی جسم  میں  اس کے کردار کو  قرآن  مجید اور احادیث نبویہ کی روشنی میں پیش کیا  ہے   اللہ سے  دعا ہے اس  کے  مطالعہ سے  اللہ تعالی  دلوں کی اصلاح فرمائے (آمین)( م۔ا)
  • عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری

    زندگی اور کائنات کی سب سے اہم حقیقت اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے ہر چیز کے معنیٰ بدل جاتے ہیں ۔ اگر اللہ ہے تو زندگی اور کائنات کی ہر چیز بامعنی اور بامقصد ہے اور اگر اللہ موجود ہی نہیں تو پھر کائنات کی ہر چیزبے معنی اور بے مقصد ہے۔ لیکن اسلام میں اہمیت اللہ کے ہونے یا نہ ہونے کو حاصل نہیں بلکہ اللہ کی الوہیت کو حاصل ہے ۔ قرآن مجید انسان کو کائنات میں غور کرنے اور اس میں  اللہ تعالی کی نشانیاں تلاش کرنے پر ابھارتا ہے۔ قرآن مجید میں زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج، چاند اور ستارے، جانوروں میں دودھ بننے کے پیچیدہ عمل کی طرف اشارات، انسان کی پیدائش میں اللّٰہ تعالی کی قدرت کی نشانیاں، سمندروں میں کشتیوں کا چلنا، بارش بننے کا عمل، پہاڑوں کے فوائد، رات اور دن کا باری باری آنا جانا وغیرہ کو اللہ تعالی کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور بناوٹ میں غور کرنے کی خاص طور پر ترغیب دلائی گئی ہے۔ تمام عقلاء اس بات پر متفق ہیں کے صنعت سے صانع(بنانے والا) کی خبر ملتی ہے مصنوع (جس کو بنایا گیا)اور صنعت (factory)کو دیکھ کر عقل مجبور ہوتی ہے کہ اس کے صانع کا اقرار کرے۔ دہریئے(atheist) اور لا مذہب لوگ بھی اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ فعل کے لئے فاعل کا ہونا ضروری ہے ۔ پس جب ایک بلندعمارت اور ایک بڑا قلعہ اور اونچے مینار کو اور ایک دریا کے پل کو دیکھ کر عقل یہ یقین کر لیتی ہے کہ اس عمارت کا بنانے والا کوئی ضرور ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کائنات کا وسیع وعریض نظام بغیر کسی چلانے والےکے چل رہا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب "دلائل ہستی باری تعالی" محترم عبد الرؤف بن رحمت اللہ جھنڈا نگری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسی طریقے اے  اللہ تعالی کے وجود پر عقلی ونقلی دلائل کو جمع کر دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

    دنیا کی زندگی ایک کھیل کود سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔مسند احمد میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :”دنیا سے میرا بھلا کیا ناطہ! میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی چھاؤں میں گرمیوں کی کوئی دوپہر گزارنے بیٹھ جائے ۔ وہ کوئی پل آرام کر ے گا تو پھر اٹھ کر چل دے گا“ترمذی میں سہل بن عبداللہ کی روایت میں رسول اللہ فرماتے ہیں : ”یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافرکوا س دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا“صحیح مسلم میں مستورد بن شداد کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”دنیا آخرت کے مقابلے میں بس اتنی ہے جتنا کوئی شخص بھرے سمندر میں انگلی ڈال کر دیکھے کہ اس کی انگلی نے سمندر میں کیا کمی کی “ تب آپ نے اپنی انگشت شہادت کی جانب اشارہ کیا ۔ “زیر تبصرہ کتاب" دنیا اور آخرت کی حقیقت، قرآن وسنت کی روشنی میں "محترم مولانا ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں دنیا وآخرت کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے، اور تمام مسلمانوں کو دنیا کی حقیقت کو سمجھ کر آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (راسخ)

  • ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی

    وقوع  قیامت کا  عقیدہ اسلام کےبنیادی عقائد میں سےہے اور ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔  قیامت آثار  قیامت کو  نبی کریم  ﷺ نے احادیث میں  وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے  جیساکہ احادیث میں  میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک عیسیٰ بن مریم﷤ نازل نہ ہوں گے۔ وہ دجال اورخنزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی﷤ کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے  سے ائمہ محدثین نے  کتب احادیث میں ابواب بندی بھی کی  ہے اوربعض  اہل علم نے اس موضوع پر  کتب  لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دنیا کاخاتمہ‘‘ سعودی عرب کے مایہ ناز عالم دین ڈاکٹر محمدبن عبد الرحمٰن العریفی﷾ کی عربی کتاب ’’نہایۃ العالم اشراط الساعۃ الصغریٰ واالکبریٰ مع صور و خرائط و توضیحات‘‘  کا آسان اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب علامات قیامت کے متعلق پہلی تصویری کتاب ہے جس میں قرآن و احادیث کی روشنی میں ان تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں جن کے متعلق آج کل خبریں یا کتابیں چھپ چکی ہیں۔ان کتابوں میں ہر مصنف نے اپنے ہی نظریے کو سچ ثابت کرنے کے لیے دلائل دیے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں مصنف نے اپنی کوئی بات بھی پیش نہیں کی ہر خبر کے آثار قرآن و حدیث سے اخذ کیے ہیں۔ مصنف نے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں قیامت کی 131 چھوٹی علامات اور دوسرے حصے میں 10 بڑی علامات قیامت بیان کی ہیں۔ ہر موضوع سے پہلے خصوصی تحریر’’کچھ اس باب سے متعلق‘‘ کے عنوان سےلکھی ہے۔ جس سے قاری کے ذہن میں موجود سوالات اور موضوع سےمتعلق پیچیدگی کو آسان بنایا گیا ہے۔ اور ہر موضوع کی مناسبت سے پر ذوق تصاویر کا انتخاب کیاگیا ہے۔ مختلف رنگوں کی مدد سے حدیث رسول ﷺ، صحابہ ائمہ کےاقوال، قرآنی آیات کے تراجم اور حوالہ جات کی الگ الگ نشان دہی کردی گئی ہے۔ یہ کتا ب اپنی علمی پختگی کی وجہ سے بہت جلد مقبول ہوئی اور عربی زبان میں اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے لاکھوں نسخے چند مہینوں میں فروخت ہوگئے۔اسی وجہ سے اردو داں طبقہ کے لیے جناب شیخ شفیق الرحمٰن الدراوی ﷾ نے اس انداز میں اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہےکہ ترجمے کی روانی اور سلاست نے اصل کتاب کی اساس کو برقرار رکھا ہے۔ کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی﷾ سعودی عرب کے دار الحکومت الریاض کے باشندے ہیں اور وہیں ایک معروف یونیورسٹی کے شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔دعوت دین کے حلقوں میں ان کا نام جانا پہچانا ہے۔ دعوتِ دین کے میدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے‘‘ سرفہرست ہے۔ (م۔ا)

  • سعد حسن خان یوسفی ٹونکی

    دنیا میں انسان کا اس کی رفتارکاپہلا قدم ہے جب سے یہ دنیا میں آیا ہے اس کو ایک منٹ کےلیے قرارنہیں۔دنیا ایک عارضی اور فانی جگہ ہے،ہر انسان نے یہاں سے چلے جانا ہے۔جبکہ آخرت دائمی اور ہمیشہ رہنے والی جگہ ہے،اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے ،آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے ،کاش وہ اس حقیقت کو جانتے ۔(عنکبوت:64)نبی کریم ﷺ نے دنیا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: آدمی کہتا ہے میرا مال میرا مال،حالانکہ اس کا مال صرف تین چیزیں ہیں: ایک وہ جو اس نے کھا لیا۔ دوسرا وہ جو اس نے پہن لیا اور بوسیدہ کرلیا ،اور تیسرا وہ جواپنے ہاتھ سے اللہ کے راہ میں دے دے کل قیامت کو اس کو اس کا بدلہ ملے گا کیونکہ وہ تو اللہ کے پاس چلا گیا اور اللہ کے پاس چلا گیا تو آخرت میں اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ فرمایا :اس کے علاوہ جو بھی مال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ گئے یہ اس کا مال نہیں ہے۔ یہ تو ورثاء کا مال ہے پھر ورثاء بعد میں لڑتے بھی ہیں۔دوسری جگہ فرمایا: میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی چھاؤں میں گرمیوں کی کوئی دوپہر گزارنے بیٹھ جائے ۔ وہ کوئی پل آرام کر ے گا تو پھر اٹھ کر چل دے گا۔تیسری جگہ فرمایا: ”یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافرکوا س دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا۔ زیر تبصرہ کتاب" دنیا کا مسافر یا آخرت کا راہی "مولانا سعد حسن خان یوسفی ٹونکی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے۔۔آمین۔یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی سائٹ پر موجود تھی لیکن وہ اس کتاب کا پرانا ایڈیشن ہے ۔اب ہمیں اس کتاب کا جدید ایڈیشن دستیاب ہو لہٰذا ا سے بھی سائب پر پبلش کیا جارہا ہے ۔(م۔ا)

  • یہماری دنیوی زندگی ایک سفرہے اور یہ دنیاایک سرائے ۔ہم مسافرہیں اورہماری منزل آخرت ہے ۔اب یہ ہمارے اوپرمنحصرہےکہ آخرت میں بارگاہ ایزدی میں پیشی کےلیے کس حدتک تیار کرتے ہیں ۔یہ تیاری عمل ہی کے ذریعے ہوسکتی ہے ۔جس کاعمل اللہ تعالیٰ کے احکام اورسنت رسول کے مطابق  ہوگاوہ اللہ سےملاقات کےلیے بے تاب ہوگااوراللہ تعالی ٰ بھی اپنے بندے کےلیے راستے آسان کردے گا۔اگریہ عمل اللہ تعالی ٰ کی نافرمانی ،بغاوت ،سرکشی اورخواہش نفس پرمبنی ہوگاتواللہ تعالیٰ سے ملاقات کی بجائے سزااس کی منتظرہوگی ۔زیرنظرکتاب میں اسی سفرکی تیاری کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔زندگی کااصل مقصد،موت کامنظراورقبروحشرکےمراحل کےساتھ ساتھ یہ بھی بتایاگیاہے کہ میت کوغسل دینے،اس کاجنازہ پڑھنے اوراظہارغم کاشرعی طریق کارکیاہے ۔بعض ایسے اعمال کی حقیقت کابھی قرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لیاگیاہے ،جومعاشرے میں عمومی طورپررائج ہیں ،مثلاً ایصال ثواب اورقرآن خوانی وغیرہ ،ہرمسلمان کولازماً اس کتاب کامطالعہ کرناچاہیے تاکہ وہ سفرآخرت کی بہترتیاری کرسکے۔


  • شوانہ عبد العزیز

    یہ دنیاآزمائش گاہ ہے ۔خداوندقدوس نےموت وحیات کی تخلیق کامقصدہی یہ قراردیاہے کہ وہ اس کے ذریعے ہماری آمائش کرناچاہتاہے کہ ہم میں سے کون اچھے عمل کرتاہے اورکون برے عمل اپناتاہے ۔دنیامیں انسان کوکئی طرح کی مشکلات اورمصیبتوں سے دوچارہوناپڑتاہے ۔یہ آزمائش اس لیے ہوتی ہے کہ انسان کاتعلق خداکےساتھ مضبوط ہوتاہے یاوہ اس سے دورہوجاتاہے۔زیرنظرکتابچہ میں دنیوی مصائب ومشکلات کےحوالے سے قرآن وسنت کی روشنی میں راہنمائی کی گئی ہے کہ ان میں ایک انسان سے کون سارویہ اورکردارمطلوب ہے ۔دعاء توکل علی اللہ اوراللہ سے اجروثواب کی امیدہی وہ طرز عمل ہے جومصائب کی صورت میں انسان کے لیے مناسب ہے ۔اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرتوں سے بھی یہی تصویرسامنے آتی ہے ۔

     

     

  • محمد اقبال کیلانی
    اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک لڑی میں پرونا چاہتا ہے اس لیے اسلام کے ماننے والوں کا آپس میں بھائی بھائی کا رشتہ ہے اور اس یہ رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ اس کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے تشبیہ دی گئی ہے اور اسی طرح اس رشتے کو ایک مضبوط دیوارسے تشبیہ دی ہے کہ جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دے کر اس دیوار کی مضبوطی کا باعث بنتی ہے-اس کتاب میں اللہ اور اس کا رسول اور دین سے محبت کرنے والے کا بیان ہے اور کفار سے دوستی کرنے والے کے لیے دنیا اور آخرت میں سزا کا بیان ہے اسی طرح کفار کے ساتھ تعلقات کن اصولوں کی بنیاد پر قائم رکھے جا سکتے ہیں اور کن بنیادوں پر ان سے تعلقات کو ختم کیا جائے گا-اور اس کے آخر میں حوالہ جات کا بیان ہے

  • صالح بن فوزان الفوزان

    اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے بعد ضروری ہے کے اللہ تعالٰی کے دوستوں کے ساتھ محبت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ عداوت ونفرت قائم کی جائے چنانچہ عقیدہ اسلامیہ جن قواعد پر قائم ہے، اُن میں سے ایک عظیم الشان قاعدہ یہ ہے کے اس پاکیزہ عقیدے کو قبول کرنے والا ہر مسلمان اس عقیدے کے ماننے والوں سے دوستی اور نہ ماننے والوں سے عدوات رکھے۔اسلام میں دوستی اور دشمنی کی بڑی واضح علامات بیان کی گئی ہیں، ان علامات کو پیش نظر رکھ کر ہر شخص اپنے آپ کو تول سکتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام کی دوستی اور دشمنی کے معیار پر پورا اُتر رہا ہے۔زیر نظر کتابچہ اس موضوع پر اہم رسالہ ہے جو کہ شیخ صالح بن فوزان کے ایک عربی رسالہ الولاء والبراء کا عربی ترجمہ ہے ۔ معروف عالمِ دین فضیلۃ الشیخ مولانا عبداللہ ناصر رحمانی ﷾ نے خود اس کا ترجمہ کر کے مکتبہ عبد اللہ بن سلام کراچی سے شائع کیا ہے اس رسالے کو مولف نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے پہلے حصہ میں قرآن واحادیث کی روشنی میں ان دس امور کو بیان کیا ہے جو کفار سے دوستی اور محبت کی دلیل ہیں اور دوسرے حصہ میں ان دس امور کوبیان کیا جو مسلمانوں سے محبت کی علامت ہیں اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • امان اللہ عاصم

    جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالیٰ نے کافروں،منافقوں،مشرکوں اور فاسقوں وفاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’دہکتی جہنم میں لے جانے والے 60 قبیح اعمال ‘‘ فاضل نوجوان عالم دین محترم جناب امان اللہ عاصم ﷾ کی کاوش ہے ۔اس کتابچہ میں ا نہوں نے جہنم کے خوفناک اور المناک ،رسوا کن ٹھکانے سے بچنے کے لیے ایسے 60 اعمال پیش کیے ہیں جونیکیوں سےمحروم کر کے جہنم میں لے جانے کا باعث اور سبب بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوراسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ آمین(م۔ا)

  • عبد العزیز بن سلیمان

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا گیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔زیر نظر کتاب اسلام کے انہی عظیم محاسن پر مشتمل ہے ،جو سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبد العزیز محمد السلمان کی کاوش ہے۔جس کا اردو ترجمہ ابو اسعد قطب الدین محمد الاثری نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب مسلمانوں کے نافع ومفید بنائے،اور ہمیں بھی اسلام کے ان عظیم محاسن کو اپنے کی توفیق دے ۔آمین (راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • عبد العزیز بن سلیمان

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا گیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔زیر نظر کتاب اسلام کے انہی عظیم محاسن پر مشتمل ہے ،جو سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبد العزیز محمد السلمان کی کاوش ہے۔جس کا اردو ترجمہ ابو اسعد قطب الدین محمد الاثری نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب مسلمانوں کے نافع ومفید بنائے،اور ہمیں بھی اسلام کے ان عظیم محاسن کو اپنے کی توفیق دے ۔آمین (راسخ)

  • عبد الغفار حسن

    اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی  ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" دین میں بگاڑ کا سبب غلو،  دین میں اعتدال کی راہ" فضیلۃ الشیخ عبد الغفار حسن صاحب، سابق پروفیسر مدینہ یونیورسٹی اورمولانا محمد خالد سیف صاحب  کےدو مقالات پر مبنی ہے، جس میں سے پہلا مقالہ دین میں بگاڑ کا سبب غلو کے موضوع پر ہے جبکہ دوسرا مقالہ دین میں اعتدال کی راہ کے موضوع پر ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  دونوں مقالہ نگار حضرات کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    انسان كي تخليق كا مقصد الله تعالي نے اپنی عبادت رکھا ہے اس لیے انسان کو نہ تو رزق کے معاملے میں زیادہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی دنیا کے حصول کے لیے اپنے آپ کو کھپا دینا چاہیے بلکہ اللہ تعالی نے اس کے رزق کا ذمہ خود لیا ہے جبکہ انسان کو دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا پابند کیا ہے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو شعور بخشا ہے اور اس کو فطرت اسلام پر پیدا فرمایا تاکہ یہ اپنی گمراہی کو بے علمی کے عذر سے پیش نہ کر سکے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف طریقوں سے یہ باور کروا دیا ہے کہ کوئی خالق ومالک اور کوئی ایسی ہستی ہے جو سارا نظام چلا رہی ہے اور اس دنیا کی ہر چیز کو کنٹرول کیے ہوئے ہے-اس لیے ہر مسلمان کو جن چیزوں سے معرفت ضروری ہے مصنف نے اپنی کتاب میں ان چیزوں کو موضوع بنایا ہے اور وہ اہم چیزیں درج ذیل ہیں:

    1-اللہ تعالی کی معرفت

    اللہ تعالی نے زمین وآسمان ،سورج،چاند اور ستاروں،شجر حجر اور پہاڑوں سے اور دنیا کے نظام سے اپنی معرفت کروائی ہے اور حتی کہ فرمان باری تعالی کے مطابق خود انسان کی اپنی جا ن میں بہت ساری نشانیاں موجود ہیں-

    2-دین کی معرفت

    دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو زندگی گزارنے کے لیے جو راہنمائی فراہم کی جاتی ہے اس کو وحی کا نام دیا گیا ہے اور اس کے ذریعے انسان کو اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود وقیود کا پابند کیاجاتا ہے تاکہ اس کی زندگی میں افراط وتفرط نہ آئے اور معتدل رویے سے زندگی بسر کرے-لہذا انسان کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ اس وحی کو پہچانے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرے اسی پہچان کا نام دین کی معرفت ہے-

    3-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت سے مراد یہ ہے کہ ان کو پیغمبر مان کر ان پر ایمان لایا جائے اور ان کی تعلیمات کو حرف آخر سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس کا پابند کیا جائے اور اس چیز کا عقیدہ رکھا جائے کہ آپ آخری پیغمبر ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے-

    مصنف نے ان تین باتوں کو بڑے اچھے انداز سے بیان کیا ہے جن کا سیکھنا اور علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے
  • محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    یہ کتاب  ’’تین کے بنیادی اصول اور ان کی شرح‘‘کااردوترجمہ ہے کتاب ہذاکی افادیت اور اہمیت اس کےنام سے ہی واضح ہے ۔یہ کتاب طلباء اور عامۃ الناس کے لئے یکساں مفید ہی نہیں بلکہ ضروری ہے کیونکہ عقیدہ کی اصلاح اور درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل  اللہ تعالی کی بارگاہ  میں نہ ہی قابل قبول ہے اور نہ ہی باعث اجروثواب ہے خواہ وہ عمل طاہری طور پر کتنا خوشنما کیوں نہ ہواور پھر درست اعمال کے بغیر کسی بھی انسان کی اخروی نجات ممکن نہیں ۔اس کے علاوہ مصنف اور شارح کا انداز تحریر علمی ومنطقی ہے اور دقیق عبارات والفاظ کاترجمہ کرتے ہوئے قوسین میں مزید وضاحت بھی کردی گئی ہے ۔




  • عبد الہادی بن حسن وہبی

    بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ انسان پر بہت بڑا احسان کیا کہ انسان سے سرزد ہونے والے گناہوں کی معافی کے لیے ایسے نیک اعمال کی کی ترغیب دلائی ہے کہ جس کے کرنے سےانسان کے زندگی بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔احادیث مبارکہ میں ان اعمال کی تفصیل موجود ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے کہ جنت کا حصول کیسے ممکن ہے؟ اور جنت کی راہیں کیسے ہموار کی جا سکتی ہیں؟ اور اس میں کتا ب وسنت سے ایسے نصوص کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو توبہ کی اہمیت وفضیلت کو اُجاگر کرنے پر دال ہوں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ راہ جنت ‘‘ عبد الہادی بن حسن الوہبی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • امام ابن تیمیہ

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔آپ کی کتابوں میں سے  ’’اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ اصحاب لجحیم‘‘ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اور غیر مسلموں سےمشابہت او ران کےخاص دن، رسوم اور رواج اپنانے یا ان میں شرکت کرنے پر بحث فرمائی ہے۔اصل کتاب عربی زبان میں  بڑی ضخیم کتاب ہے عام لوگوں کے لیے اس سے  استفادہ کرنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’راہ حق کےتقاضے ‘‘اسی کتاب کی تلخیص  کا اردو ترجمہ ہے ۔تلخیص کا کام  جامعۃ الامام محمد بن سعود کے پروفیسر جناب ڈاکٹر عبدالرحمٰن عبد الجبار فریوائی نے کیا اور اس تلخیص کو اردو قالب میں ڈھالنےکی  ذمہ داری انڈیا کے ممتاز سلفی عالم دین ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری نے  انجام دی۔ المکتبۃ السلفیۃ ،لاہورکےمدیرجناب احمد شاکر ﷾ نے تقریباً بیس سال قبل اسے  حسن طباعت سےآراستہ کیا ۔اللہ تعالیٰ بدعات و خرافات میں گھرے  لوگوں کےلیے اس کتاب کو نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • محمد بن جمیل زینو
    شیخ محمد بن جمیل زینو سعودی عرب کے جلیل القدر عالم اور معروف مصنف ہیں۔ان کی تحریر کا اصل موضوع ’اصلاح عقائد‘ ہے اور اس سلسلہ میں متعدد کتابیں ان کے قلم سے نکل عوام و خواص میں سند قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔شیخ صاحب موصوف تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ میدان تدریس کے بھی شہسوار ہیں۔آپ شام کے شہر حلب میں 29سال تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔بعدازاں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے کہنے پر اردن میں دعوت و تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔کچھ عرصہ بعد مکہ مکرمہ کے ’دارالحدیث الخیریہ‘میں بطور مدرس مقرر ہوئے اور تفسیر ،حدیث اور عقیدہ کے اسباق پڑھانے لگے۔زیر نظر کتابچے میں شیخ نے اپنے ذاتی حالات و کوائف بیان کیے ہیں کہ کس طرح انہوں نے خالص عقیدہ توحید اختیار کیا۔یہ بات قارئین کے لیے یقیناً دلچسپ ہوگی کہ شیخ صاحب پہلے نقشبندی صوفی تھی،بعد ازاں سلفی عقیدہ کی نعمت سے مالا مال ہوئے ۔یہ کیسے ہوا،اس کتابچے میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
  • عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی
    اس کائنات ہست وبود کی ہرشے کاایک مقصد وجود ہے انسان جو اشرف المخلوقات ہے یقیناً  اس کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہیے قرآن کریم میں بتایاگیا ہے کہ انسان اور جن کی تخلیق کامقصد اللہ عزوجل کی عبادت ہے اللہ رب العزت جو اس کائنات کاخالق ومالک  اوررازق ہے وہی بندگی او رپرستش کا اصل مستحق ہے عقل بھی اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ جس ذات نےہمیں پیدا کیا ہماری پرورش اور تربیت کاانتظام کی اسی کے سامنے اپنی جبیں نیاز کو جھکانا چا ہئے تمام انبیاء علیم السلام کی دعوت بھی یہی تھی کہ لوگو !اللہ کی بندگی کرو اور اس میں کسی کوشریک نہ ٹھہراؤ زیرنظر کتاب میں اسی حقیقت کو انتہائی خوبصورت اور مؤثر پیرایے میں بیان کیا گیا ہے جس کے مطالعہ سے انسان اپنےمقصد وجود کی جانب متوجہ ہوسکتا ہے او راپنا حقیقی فرض جان سکتا ہے ۔


  • الہدی شعبہ تحقیق

    رجب اسلامی سال کا ساتواں قمری مہینہ ہے اور حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے نبیﷺ نے فرمایا 'سال بارہ مہینوں کاہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں لفظ رجب ترجیب سےماخوذ ہے کہ جس کے معنی تعظیم کے ہیں ،اس مہینے کی تعظیم اور حرمت کی وجہ سے اس کا نام ''رجب '' رکھا گیا کیوں عرب اس مہینے میں لڑائی سے مکمل اجتناب کرتے تھے ۔اس مہینےمیں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا جن بعض اعمال کوفضیلت کےساتھ کے بڑھا چڑہا کر بیان کیاجاتا ہے وہ محض فرضی قصے اور ضعیف و موضوع روایات پر مبنی داستانیں ہیں لہذا جواعمال کتاب وسنت سےثابت ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے  مسلمان اس ماہِ رجب میں کئی قسم کے کام کرتے ہیں مثلا صلاۃ الرغائب، نفلی روزں کا اہتمام ، ثواب کی نیت سے اس ماہ زکاۃ دینا ،22 رجب کو کونڈوں کی رسم اداکرنا 27 رجب کو شب معراج کی وجہ سے خصوصی عبادت کرنا، مساجد پر چراغاں کرنا جلسے وجلوس کااہتمام کرنا،آتش بازی اور اس جیسی دیگر خرافات پر عمل کرنایہ سب کام بدعات کے دائرے میں آنے ہیں ۔زیر نظر کتابچہ اسی موضوع پرہے جس میں اختصار کے ساتھ قرآن واحادیث کی روشنی میں اس ماہ میں رواج پاجانے والی بدعات وخرافات کا رد کیا گیا ہے اور دلائل سےثابت کیا ہے کہ ان بدعات اور رسوم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کے مطالعہ سے اہل اسلام کو ان خرافات سے محفوظ فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • محمد صادق خلیل
    اسلامی مہینہ کی بائیس رجب کو منائی جانے والی کونڈے بھرنے کی رسم اب پاک و ہند میں خوب شہرت پا چکی ہے۔ اسے جناب جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حالانکہ نہ تو یہ ان کا یوم پیدائش ہے نہ یوم وفات۔ یہ رسم دراصل شیعہ حضرات نے کاتب وحی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے یوم وفات کی خوشی منانے کیلئے ایجاد کی جسے نام نہاد اہلسنت کہلانے والے مسلمانوں نے بھی لاشعوری طور پراپنا لیا۔اس رسم کے ساتھ لکڑہارے کی داستان بھی وابستہ ہے۔ اس کتابچہ میں اس رسم کی تردید اور اس سے متعلقہ دیومالائی داستان کے خاص خاص حصوں کا علمی ، تحقیقی اور عقلی لحاظ سے جائزہ لیا گیا ہے۔

  • عکاشہ عبد المنان

    فرشتوں کی کئی اقسام ہیں اور تمام فرشتوں کا سردار حضرت جبریل امین ﷤ ہیں کہ جو تمام انبیاء﷩ پر اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آتے رہے ۔فرشتے بھی انسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مصروف رہتے ہیں اور انسانوں کی حفاظت اور ان کی سلامتی کے لیے دعابھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ خوش نصیب بندے ایسے ہیں جو ایسے اعمال سرانجام دیتے ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں اور درود کا مطلب علمائے کرام نے انسان کے لیے فرشتوں کو دعا و استغفار کرنا بتلایا ہے۔ اور کچھ بدقسمت ایسے ہیں جو ایسے کاموں میں بدمست رہتے ہیں جو اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت کا موجب بنتے ہیں۔ قرآن وسنت میں ایسے اعمال کی بالتفصیل بیان کردیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’رحمت کےفرشتے سے محروم گھر‘‘ ایک عربی تصنیف ’’بیوت لاتدخلہا الملائکۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے فرشتوں کے عجیب وغریب حالات اوراقسام نیز ان گھروں کا مفصل تذکرہ کیا ہے جن میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2159 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :