• title-pages-dehkti-jahanam-me-le-jane-wale-60-qabih-aamal-copy
    امان اللہ عاصم

    جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالیٰ نے کافروں،منافقوں،مشرکوں اور فاسقوں وفاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’دہکتی جہنم میں لے جانے والے 60 قبیح اعمال ‘‘ فاضل نوجوان عالم دین محترم جناب امان اللہ عاصم ﷾ کی کاوش ہے ۔اس کتابچہ میں ا نہوں نے جہنم کے خوفناک اور المناک ،رسوا کن ٹھکانے سے بچنے کے لیے ایسے 60 اعمال پیش کیے ہیں جونیکیوں سےمحروم کر کے جہنم میں لے جانے کا باعث اور سبب بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوراسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ آمین(م۔ا)

  • title
    عبد العزیز بن سلیمان

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا گیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔زیر نظر کتاب اسلام کے انہی عظیم محاسن پر مشتمل ہے ،جو سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبد العزیز محمد السلمان کی کاوش ہے۔جس کا اردو ترجمہ ابو اسعد قطب الدین محمد الاثری نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب مسلمانوں کے نافع ومفید بنائے،اور ہمیں بھی اسلام کے ان عظیم محاسن کو اپنے کی توفیق دے ۔آمین (راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-deen-e-islam-ke-muhasinjadeed-audition
    عبد العزیز بن سلیمان

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا گیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔زیر نظر کتاب اسلام کے انہی عظیم محاسن پر مشتمل ہے ،جو سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبد العزیز محمد السلمان کی کاوش ہے۔جس کا اردو ترجمہ ابو اسعد قطب الدین محمد الاثری نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب مسلمانوں کے نافع ومفید بنائے،اور ہمیں بھی اسلام کے ان عظیم محاسن کو اپنے کی توفیق دے ۔آمین (راسخ)

  • title-pages-deen-me-bighar-ka-sabab-ghaluw-copy
    عبد الغفار حسن

    اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی  ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" دین میں بگاڑ کا سبب غلو،  دین میں اعتدال کی راہ" فضیلۃ الشیخ عبد الغفار حسن صاحب، سابق پروفیسر مدینہ یونیورسٹی اورمولانا محمد خالد سیف صاحب  کےدو مقالات پر مبنی ہے، جس میں سے پہلا مقالہ دین میں بگاڑ کا سبب غلو کے موضوع پر ہے جبکہ دوسرا مقالہ دین میں اعتدال کی راہ کے موضوع پر ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  دونوں مقالہ نگار حضرات کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-deen-kay-teen-aham-usool-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    انسان كي تخليق كا مقصد الله تعالي نے اپنی عبادت رکھا ہے اس لیے انسان کو نہ تو رزق کے معاملے میں زیادہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی دنیا کے حصول کے لیے اپنے آپ کو کھپا دینا چاہیے بلکہ اللہ تعالی نے اس کے رزق کا ذمہ خود لیا ہے جبکہ انسان کو دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا پابند کیا ہے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو شعور بخشا ہے اور اس کو فطرت اسلام پر پیدا فرمایا تاکہ یہ اپنی گمراہی کو بے علمی کے عذر سے پیش نہ کر سکے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف طریقوں سے یہ باور کروا دیا ہے کہ کوئی خالق ومالک اور کوئی ایسی ہستی ہے جو سارا نظام چلا رہی ہے اور اس دنیا کی ہر چیز کو کنٹرول کیے ہوئے ہے-اس لیے ہر مسلمان کو جن چیزوں سے معرفت ضروری ہے مصنف نے اپنی کتاب میں ان چیزوں کو موضوع بنایا ہے اور وہ اہم چیزیں درج ذیل ہیں:

    1-اللہ تعالی کی معرفت

    اللہ تعالی نے زمین وآسمان ،سورج،چاند اور ستاروں،شجر حجر اور پہاڑوں سے اور دنیا کے نظام سے اپنی معرفت کروائی ہے اور حتی کہ فرمان باری تعالی کے مطابق خود انسان کی اپنی جا ن میں بہت ساری نشانیاں موجود ہیں-

    2-دین کی معرفت

    دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو زندگی گزارنے کے لیے جو راہنمائی فراہم کی جاتی ہے اس کو وحی کا نام دیا گیا ہے اور اس کے ذریعے انسان کو اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود وقیود کا پابند کیاجاتا ہے تاکہ اس کی زندگی میں افراط وتفرط نہ آئے اور معتدل رویے سے زندگی بسر کرے-لہذا انسان کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ اس وحی کو پہچانے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرے اسی پہچان کا نام دین کی معرفت ہے-

    3-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت سے مراد یہ ہے کہ ان کو پیغمبر مان کر ان پر ایمان لایا جائے اور ان کی تعلیمات کو حرف آخر سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس کا پابند کیا جائے اور اس چیز کا عقیدہ رکھا جائے کہ آپ آخری پیغمبر ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے-

    مصنف نے ان تین باتوں کو بڑے اچھے انداز سے بیان کیا ہے جن کا سیکھنا اور علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے
  • title-page-din-k-teen-bunyadi-osool-our-un-ki-sharha
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    یہ کتاب  ’’تین کے بنیادی اصول اور ان کی شرح‘‘کااردوترجمہ ہے کتاب ہذاکی افادیت اور اہمیت اس کےنام سے ہی واضح ہے ۔یہ کتاب طلباء اور عامۃ الناس کے لئے یکساں مفید ہی نہیں بلکہ ضروری ہے کیونکہ عقیدہ کی اصلاح اور درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل  اللہ تعالی کی بارگاہ  میں نہ ہی قابل قبول ہے اور نہ ہی باعث اجروثواب ہے خواہ وہ عمل طاہری طور پر کتنا خوشنما کیوں نہ ہواور پھر درست اعمال کے بغیر کسی بھی انسان کی اخروی نجات ممکن نہیں ۔اس کے علاوہ مصنف اور شارح کا انداز تحریر علمی ومنطقی ہے اور دقیق عبارات والفاظ کاترجمہ کرتے ہوئے قوسین میں مزید وضاحت بھی کردی گئی ہے ۔




  • title-pages-rah-e-haqq-k-taqaze-copy
    امام ابن تیمیہ

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔آپ کی کتابوں میں سے  ’’اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ اصحاب لجحیم‘‘ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اور غیر مسلموں سےمشابہت او ران کےخاص دن، رسوم اور رواج اپنانے یا ان میں شرکت کرنے پر بحث فرمائی ہے۔اصل کتاب عربی زبان میں  بڑی ضخیم کتاب ہے عام لوگوں کے لیے اس سے  استفادہ کرنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’راہ حق کےتقاضے ‘‘اسی کتاب کی تلخیص  کا اردو ترجمہ ہے ۔تلخیص کا کام  جامعۃ الامام محمد بن سعود کے پروفیسر جناب ڈاکٹر عبدالرحمٰن عبد الجبار فریوائی نے کیا اور اس تلخیص کو اردو قالب میں ڈھالنےکی  ذمہ داری انڈیا کے ممتاز سلفی عالم دین ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری نے  انجام دی۔ المکتبۃ السلفیۃ ،لاہورکےمدیرجناب احمد شاکر ﷾ نے تقریباً بیس سال قبل اسے  حسن طباعت سےآراستہ کیا ۔اللہ تعالیٰ بدعات و خرافات میں گھرے  لوگوں کےلیے اس کتاب کو نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-rahe-hidayat-kaise-mili
    محمد بن جمیل زینو
    شیخ محمد بن جمیل زینو سعودی عرب کے جلیل القدر عالم اور معروف مصنف ہیں۔ان کی تحریر کا اصل موضوع ’اصلاح عقائد‘ ہے اور اس سلسلہ میں متعدد کتابیں ان کے قلم سے نکل عوام و خواص میں سند قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔شیخ صاحب موصوف تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ میدان تدریس کے بھی شہسوار ہیں۔آپ شام کے شہر حلب میں 29سال تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔بعدازاں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے کہنے پر اردن میں دعوت و تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔کچھ عرصہ بعد مکہ مکرمہ کے ’دارالحدیث الخیریہ‘میں بطور مدرس مقرر ہوئے اور تفسیر ،حدیث اور عقیدہ کے اسباق پڑھانے لگے۔زیر نظر کتابچے میں شیخ نے اپنے ذاتی حالات و کوائف بیان کیے ہیں کہ کس طرح انہوں نے خالص عقیدہ توحید اختیار کیا۔یہ بات قارئین کے لیے یقیناً دلچسپ ہوگی کہ شیخ صاحب پہلے نقشبندی صوفی تھی،بعد ازاں سلفی عقیدہ کی نعمت سے مالا مال ہوئے ۔یہ کیسے ہوا،اس کتابچے میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
  • title-page-rabbe-kiynat-aur-us-ki-ibadat
    عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی
    اس کائنات ہست وبود کی ہرشے کاایک مقصد وجود ہے انسان جو اشرف المخلوقات ہے یقیناً  اس کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہیے قرآن کریم میں بتایاگیا ہے کہ انسان اور جن کی تخلیق کامقصد اللہ عزوجل کی عبادت ہے اللہ رب العزت جو اس کائنات کاخالق ومالک  اوررازق ہے وہی بندگی او رپرستش کا اصل مستحق ہے عقل بھی اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ جس ذات نےہمیں پیدا کیا ہماری پرورش اور تربیت کاانتظام کی اسی کے سامنے اپنی جبیں نیاز کو جھکانا چا ہئے تمام انبیاء علیم السلام کی دعوت بھی یہی تھی کہ لوگو !اللہ کی بندگی کرو اور اس میں کسی کوشریک نہ ٹھہراؤ زیرنظر کتاب میں اسی حقیقت کو انتہائی خوبصورت اور مؤثر پیرایے میں بیان کیا گیا ہے جس کے مطالعہ سے انسان اپنےمقصد وجود کی جانب متوجہ ہوسکتا ہے او راپنا حقیقی فرض جان سکتا ہے ۔


  • title-pages-rajab-aur-shabe-meraj
    الہدی شعبہ تحقیق

    رجب اسلامی سال کا ساتواں قمری مہینہ ہے اور حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے نبیﷺ نے فرمایا 'سال بارہ مہینوں کاہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں لفظ رجب ترجیب سےماخوذ ہے کہ جس کے معنی تعظیم کے ہیں ،اس مہینے کی تعظیم اور حرمت کی وجہ سے اس کا نام ''رجب '' رکھا گیا کیوں عرب اس مہینے میں لڑائی سے مکمل اجتناب کرتے تھے ۔اس مہینےمیں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا جن بعض اعمال کوفضیلت کےساتھ کے بڑھا چڑہا کر بیان کیاجاتا ہے وہ محض فرضی قصے اور ضعیف و موضوع روایات پر مبنی داستانیں ہیں لہذا جواعمال کتاب وسنت سےثابت ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے  مسلمان اس ماہِ رجب میں کئی قسم کے کام کرتے ہیں مثلا صلاۃ الرغائب، نفلی روزں کا اہتمام ، ثواب کی نیت سے اس ماہ زکاۃ دینا ،22 رجب کو کونڈوں کی رسم اداکرنا 27 رجب کو شب معراج کی وجہ سے خصوصی عبادت کرنا، مساجد پر چراغاں کرنا جلسے وجلوس کااہتمام کرنا،آتش بازی اور اس جیسی دیگر خرافات پر عمل کرنایہ سب کام بدعات کے دائرے میں آنے ہیں ۔زیر نظر کتابچہ اسی موضوع پرہے جس میں اختصار کے ساتھ قرآن واحادیث کی روشنی میں اس ماہ میں رواج پاجانے والی بدعات وخرافات کا رد کیا گیا ہے اور دلائل سےثابت کیا ہے کہ ان بدعات اور رسوم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کے مطالعہ سے اہل اسلام کو ان خرافات سے محفوظ فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • Title Page---Rajab K Kundo Par Aik Nazar
    محمد صادق خلیل
    اسلامی مہینہ کی بائیس رجب کو منائی جانے والی کونڈے بھرنے کی رسم اب پاک و ہند میں خوب شہرت پا چکی ہے۔ اسے جناب جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حالانکہ نہ تو یہ ان کا یوم پیدائش ہے نہ یوم وفات۔ یہ رسم دراصل شیعہ حضرات نے کاتب وحی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے یوم وفات کی خوشی منانے کیلئے ایجاد کی جسے نام نہاد اہلسنت کہلانے والے مسلمانوں نے بھی لاشعوری طور پراپنا لیا۔اس رسم کے ساتھ لکڑہارے کی داستان بھی وابستہ ہے۔ اس کتابچہ میں اس رسم کی تردید اور اس سے متعلقہ دیومالائی داستان کے خاص خاص حصوں کا علمی ، تحقیقی اور عقلی لحاظ سے جائزہ لیا گیا ہے۔

  • pages-from-rahmat-key-farishton-se-mehroom-ghar
    عکاشہ عبد المنان

    فرشتوں کی کئی اقسام ہیں اور تمام فرشتوں کا سردار حضرت جبریل امین ﷤ ہیں کہ جو تمام انبیاء﷩ پر اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آتے رہے ۔فرشتے بھی انسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مصروف رہتے ہیں اور انسانوں کی حفاظت اور ان کی سلامتی کے لیے دعابھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ خوش نصیب بندے ایسے ہیں جو ایسے اعمال سرانجام دیتے ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں اور درود کا مطلب علمائے کرام نے انسان کے لیے فرشتوں کو دعا و استغفار کرنا بتلایا ہے۔ اور کچھ بدقسمت ایسے ہیں جو ایسے کاموں میں بدمست رہتے ہیں جو اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت کا موجب بنتے ہیں۔ قرآن وسنت میں ایسے اعمال کی بالتفصیل بیان کردیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’رحمت کےفرشتے سے محروم گھر‘‘ ایک عربی تصنیف ’’بیوت لاتدخلہا الملائکۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے فرشتوں کے عجیب وغریب حالات اوراقسام نیز ان گھروں کا مفصل تذکرہ کیا ہے جن میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (م۔ا)

  • pages-from-rahmaan-key-saaye
    حافظ محمد ادریس کیلانی

    شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے۔ دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ خاطر رکھے۔دعاؤں کے حوالے سے بہت سے کتابیں موجود ہیں جن میں علماء کرام نے مختلف انداز میں دعاؤں کو جمع کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’رحمٰن کےسائے میں‘‘ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما حافظ محمد ادریس صاحب کی کاوش ہے۔ انہوں نےاس کتاب میں قرآنی دعاؤں کوجمع کیا ہے۔ یہ قرآنی دعاؤں کا مجموعہ ایک نرالی انفرادیت کا حامل ہے۔ اس میں ہر قرآنی دعا کے ساتھ ساتھ اس کامکمل تاریخی پس منظر بھی دیاگیا ہے۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر کسی دعا کو پڑھنےوالامحسوس کرتا ہے کہ گویا وہ خود اس ماحول میں موجود ہے اور ان حالات سے گزرر ہا ہے جن میں ابتداً وہ دعا مانگی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-radde-bidat-abdullah-ropri-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ او ر عبادت کےلیے    اللہ تعالیٰ   نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی تخلیق  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سنِ بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک   اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت   مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی   عبادات کو  دین   میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے   کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے   بدعت اور شرک ایسے جرم ہیں جو توبہ کے  بغیر معاف نہیں ہوتے ۔ شرک تو لیے  کہ مشرک اللہ کے علاوہ کسی اور کو مالک الملک کی وحدانیت کےبرابر لانے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور بدعت اس لیے کہ بدعتی اپنے عمل سےیہ تاثر دیتا ہے کہ دین نامکمل تھا اور اس نے دین میں یہ اضافہ کر کے اسے مکمل کیا ہے ۔یعنی  شریعت سازی کی مساعی ناتمام کادوسرا نام بدعت ہے ۔  اس  وقت بدعات وخرافات  اور علماء سوء نے پورے  دین کو  اپنی  لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے  راہبوں ،صوفیوں،  نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے  قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات  نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے  اسلام کی اصل  شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی  ہے۔دن کی بدعات  الگ  ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔بدعات وخرافات کی تردید  اور اتباع سنت کواجاگر کرنے کے لیے  ہر دور میں   اہل علم نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ ردِّ بدعات ‘‘ مجتہد العصر  حافظ عبد اللہ  محدث روپڑی ﷫ کا تصنیف شدہ ہے ۔ جس میں انہوں نے   مندرجہ ذیل مسائل کی  پوری تحقیق پیش کی ہے ۔اسقاط میت ،  میت کودفن کر کے چالیس قدم پر دعا کرنا ، اہل میت  کے گھر فاتحہ کےلیے  جمع ہونا ، اہل  میت کا دریا پر نہانا ، اہل میت کے گھر کچھ روز  تک گوشت نہ آنے دینا ، بچہ کے ختنہ کے وقت تلوار لے کر کھڑے  ہونا او ربچہ کوٹوکری میں  رکھ  بکری کے سر پر بٹھانا ، خطبہ  میں سنتیں پڑہنا ، مسئلہ توسل ، ذکر لا الہٰ الا اللہ جمع ہو کر تمام رات  پڑھنا،  اذان میں محمد ﷺ کے نام  پر انگوٹھے  چوم کر آنکھوں پر ملنا، ظہر احطتیاطی پڑہنا ،  انگریزی بال رکھنا ، ڈاڑہی منڈانا ، گیارہویں  کا ختم ،  سماع موتی،  قبوں کاگرانا، حدیث  قرن شیطان، اہل نجد کاذکر  معنیٰ بدعت ، مسئلہ تقلید (م۔ا)

  • title-pages-radd-e-aqaid-bidia-copy
    نذیر احمد رحمانی

    نبی کریم  دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ نے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے  بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج  بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی  ہے۔اور اس امر کی  بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ  مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات کا اسلام ،شریعت ،نبی کریم ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ نبی کریم کی وفات کے بعد گھڑی گئی ہیں۔ زیر نظر کتاب "رد عقائد بدعیہ"محترم مولانا نذیر احمد رحمانی اعظمی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں معاشرے میں پھیلی بدعات کا مستند اور مدلل رد کیا ہےاور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ بدعات کو چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کی  سنت کی اتباع کریں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-risalah-toheed-part-1
    محمد بن عبد الوہاب

    اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں۔ حضرت نوح ﷤ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی۔ اور   اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے توحید و شرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کے بعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے۔ حضرت نوح﷤، اصحاب کہف اور عزیر﷤ کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام﷩ کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے۔ اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رسائل توحید‘‘ شیخ محمد بن عبد الوہاب﷫ کی کتب و رسائل میں سے توحید کے موضوع پرماخوذ رسائل کا مجموعہ ہے۔ محترم جناب حامد محمود صاحب نے شیخ موصوف کی کتب سے اخذ کر کے ان کا ترجمہ کیا ہے۔ مترجم نے بعض مقامات پر حاشیہ کی صورت میں کچھ توضیحی نکات بھی پیش کیے ہیں۔ اور محترم جناب عمران صدیقی صاحب نے بعض رسائل کے شروع میں اس رسالہ کے متعلقہ ایک چھوٹی سی تمہیدتحریر کی ہے۔ جو اس رسالہ کے فہم کے لیے مفید ومعاون ہے۔ اللہ تعالیٰ عقیدہ توحید پر قائم دائم رکھے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-risalah-toheed-o-radd-e-shirak
    عبد العزیز بن محمد آل سعود

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’شیخ الاسلام مجدد دین امام محمد بن عبد الوہاب﷫ کے تلمید خاص اور ان کی قائم کرد ہ تحریک احیاء کتاب وسنت کےممد ومعاون شیخ عبد العزیز بن محمد بن سعود ﷫ کے توحید اور شرک کے موضوع پر ایک رسالہ کاترجمہ ہے۔ یہ رسالہ اگرچہ مختصر ہے مگراپنے مشمولات ومحتویات کے اعتبار سے ایک جامع کتاب کی حیثیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس میں ایک دقیق النظر صاحب بصیرت عالم کتاب وسنت کی فکری کاوش اور امت مسلمہ کے ایک مخلص مجاہد ، مصلح حاکم اور مرد میدان کی عقیدہ فہمی جمع ہے۔ اس اہم رسالہ کا ترجمہ کی سعادت جناب ڈاکٹر ظہور احمد اظہر (سابق پرنسل اورئنٹیل کالج،لاہور ) نے حاصل کی۔اور محترم جناب حافظ عبدالرشید اظہر﷫ نے 1995ء میں اسے   اپنے قائم کردہ ادارے ’’دار الفکر الاسلامی ‘‘ کی طرف سے شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدہ توحیدپر قائم ودائم رکھیں اور اس کی نشرواشاعت وتبلیغ کی توفیق دے۔ (آمین)

  • pages-from-waaqfiyyat-e-islam
    ابو عمار عبد القہار

    اسلام خود بھی امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کےساتھ رہنے کی تلقین کرتاہے۔اسلام کے دین امن ہونے کی سب سےبڑی یہ دلیل ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنےبھیجے ہوئے دین کا نام ہی "اسلام "پسند کیاہے۔لفظ اسلام سَلِمَ یا سَلَمَ سے ماخوذ ہے ،جس کےمعنی امن وسلامتی اور خیرو عافیت کےہیں۔اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن سلامتی ہے،لہذا اسلام اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسامذہب ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہےاور دوسروں کو بھی امن،محبت،رواداری،اعتدال اور صبرو تحمل کا درس دیتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب"واقفیت اسلام" مولانا ابو عمار عبدالقہار کی تصنیف ہے۔جس میں بچوں کے لیےمختصر اسلام کے بنیادی احکام، ارکان ایمان، روز مرہ کی مسنون دعائیں وغیرہ کو قلمبند کیاہے۔ اللہ ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین ( عمیر)

  • title-pages-rasomat-e-muslim-mayyat
    پروفیسر نور محمد چوہدری
    دین نبی کریمﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اب اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔ لین افسوس کی بات یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان ہندؤوں کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے کی وجہ سے ان کی بہت سی غیر شرعی رسومات کو اختیار کر چکے ہیں۔ اس پر نام نہاد ملاں اپنے پیٹ پلیٹ کی خاطر ان بدعات کو سند جواز عطا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ کسی شخص کے دنیا سے رخصت ہو جانے پر بھی رسومات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ انھی رسومات میں سے تیجہ، ساتواں، دسواں اور چہلم وغیرہ بھی ہیں۔ اس کتابچہ میں انھی رسومات کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-rishte-aur-hadood-copy
    ام عبد منیب

    اسلام ایک پاکیزہ  دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔اور پردہ کرنے میں اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ سے پردہ کیا جائے اور کس سے نہ کیا جائے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " رشتے اور حدود"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے  انسان کے رشتوں اور ان کے ساتھ  پردہ جیسے تعلقات  وغیرہ کو مکمل تفصیل سے بیان کر دیا ہےکہ کون کونسے رشتے محرم ہیں اور کون کونسے غیر محرم ہیں۔محترم  محمد مسعود عبدہ ﷫  تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-roshni-aur-andhera-qahtani
    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    کتاب وسنت میں حق اور خیر کے اعمال کو’نور‘اور اس کے بالمقابل باطل اور شر کے کاموں کو ’ظلمات‘یعنی تاریکیوں سے تعبیر کیا ہے اور ان معنوی چیزوں کو حسی اشیاء سے تشبیہ دی ہے۔اسی طرح حق کو بینائی ،دھوپ اور زندگی سے موسوم کیا ہے اور باطل کو اندھے پن،سایہ اور موت قرار  دیا ہے۔پھر اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضدہیں،لہذا دونوں میں اتحاد نہیں ہو سکتا۔ زیر نظرکتاب’’روشنی اوراندھیرا‘‘سعودی عرب کے نامور عالم دین اور مذہبی اسکالر شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی کی عربی تصنیف کا ترجمہ ہے ۔شیخ موصوف نے اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ توحید اور دوسرا حصہ ایمان اور تیسراحصہ اخلاص پر مشتمل ہے کیونکہ ایمان کی تکمیل کےلیے اخلاص ضروری ہےاور کوئی بھی عمل تب تک شرف قبولیت سے بہرہ یاب نہیں ہوسکتا جب تک اس میں اخلاص نہ ہو۔ چوتھے حصے میں سنت کا مفہوم، اہمیت اور مقام ومرتبے کو واضح کرنے کے بعد بدعت کے اسباب، اقسام، عصر حاضر کی مروجہ بدعات، بدعتی کی توبہ، بدعات کے اثرات اور نقصانات جیسے پر مغز موضوعات کو قرطاس کی زینت بنایا ہے۔ یہ کتاب لوگوں کو بدعات و خرافات ، قبرپرستی ، کفر وشرک کی تاریکی سے نکال کر کتاب وسنت والی ہدایت ، توحید، ایمان، اخلاص والی روشنی کی طرف لانے کے لیے بڑی مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتاب کوظلم وشرک کے اندھیرے ختم کرنے اورتوحید وسنت کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • title-page-rahnumay-hajj-aur-umra
    صالح بن عبد العزیز بن محمد آل شیخ
    حج اورعمرہ  دوعظیم عبادتیں ہیں ان کی ادائیگی کےلیے مکہ مکرمہ کاقصد کرنا پڑتا ہے او روہاں جاکر مناسک حج و عمرہ اداکرنے ہوتے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے حج او رعمرہ کےمسائل معلوم ہوں تاکہ سنت کےمطابق ان سے عہدبرآ ہواجاسکے زیرنظر کتاب میں انتہائی مختصر اور جامع انداز میں حج وعمرہ کے تمام مسائل بیان کردیئے گئے ہیں ہربات کا قرآن وسنت سے حوالہ بھی دیا گیا ہے بعض اہم مسائل سے متعلق علماء کے فتاوی بھی اس میں شامل ہیں اس کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تصاویر اور نقشوں کا بھی اہتمام کیا گیاہے جس سے عام قاری کو مسائل کے سمجھنے میں سہولت رہتی ہے


  • title-page-riazut-toheed
    حافظ ابو عثمان محمد اکرام

    توحید کے موضوع پر قرآنی دلائل سے مزین ایک عمدہ کتاب ہے۔ جس میں فاضل مصنف نے موضاعتی ترتیب سے آیات کو یکجا کر دیا ہے۔ قرآن جو لاریب کتاب ہے جو رشد وہدایت کا عالمگیر مرکز اور فوز و فلاح کا داعی ہے، توحید جیسے بنیادی عقیدے کی واضح ترین الفاظ میں تشریح بیان کرتا ہے، پھر بھی نام نہاد مذہبی پیشواؤں کی ہٹ دھرمی اور عوام کی جہالت مسلم معاشرے میں شرک کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں۔ مصنف خود پہلے شرک و بدعت کی دلدل میں ڈوبے رہے ، بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب فرمائی۔ اب دوسروں کی فوز و فلاح کا درد ان کے قلم سے جھلکتا ہے۔

  • pages-from-riyaz-ul-hasanaat
    محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

    دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالیٰ ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ریاض الحسنات ‘‘نامور اہل حدیث عالم دین مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ﷫ کی مرتب شدہ ہے اس میں انہوں نے پنجسورہ، واسماء حسنی ، اسم ااعظم اور بعض اذکار مسنونہ کو جمع کردیا ہے۔اگرچہ اب جدید اور نئی تحقیق شدہ اور خوب صورت بے شمار کتب اس موضوع پر موجود ہیں اور کافی ساری کتب ویب سائٹ پر بھی موجود بھی ہیں لیکن   ان کبار علماء کی قدیم کتب کو محفوظ کرنے کی خاطر انہیں بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا   گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمار ے علماء اسلاف کی   تمام دینی کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-zinda-ka-murda-k-liye-hadya-aur-quran-khawani-copy

    دور ِحاضر میں مسلمانوں  کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے  کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ  بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے  بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے  کارواج عام ہے  ۔ قرآن خوانی  اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت  سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی خوانی توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت  یہ ہے کہ  قرآن  پڑھنے کا  میت  کوثواب نہیں  پہنچتا۔ البتہ  قرآن  پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے  میت کو فائدہ  ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور  قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں  کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔1۔کسی مسلمان کا مردہ  کےلیے دعا کرنا  بشرطیکہ  دعا  آداب  وشروط قبولیت  دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا  تو اس  کی طرف سے روزے  رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے  چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔زیر نظر کتابچہ’’زندہ کامردہ کے لیے  ہدیہ اور قرآنی خوانی ‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں  انہوں نے مختلف اہل علم اور  فتاویٰ جات  سے استفادہ کرکے  مذکورہ مسئلہ کی شرعی حیثیت کوواضح کیا  ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت  پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے  ہیں  جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں  باقی بھی  عنقریب  اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محتر م عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم  وحکمت،لاہور) نے چند دن قبل  اپنے  ادارے کی تقریبا  تمام مطبوعات ویب سائٹ کے  لیے  ہدیۃً عنایت کی  ہیں  اللہ تعالی  اصلاح م معاشرہ کے لیے  ان کی تمام مساعی  کو  قبول فرمائے  (آمین)  (م ۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ziarat-qabar-e-nabwi-copy
    محمد بشیر سہسوانی

    امت ِ مسلمہ کا  اس بات پر اجماع ہے کہ دینِ  اسلام کامل ہے او راس میں کسی قسم کی زیادتی او رکمی کرنا موجب کفر ہے  ۔اس لیے  ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا  چاہیے  کہ اللہ  تعالی نےہم مسلمانوں پر صرف اللہ اور اس کے رسول کے امر کوواجب قرار دیا  ہے کسی اور کی بات ماننا واجب اور فرضم نہیں خاص طور پر جب اس کی بات اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مخالف ہو۔زیارت ِ قبر نبوی  سے متعلق سلف  صالحین (- صحابہ ،تابعین،تبع تابعین) اور ائمہ کرام  کا جو طرز عمل  تھا وہ حدیث ،فقہ اور تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے  فرمان نبویﷺ  لاتشد الرحال إلا ثلاثة (  تین مسجدوں کے علاوہ  عبادت اور ثواب کے لیے  کسی  اور جگہ  سفر نہ کیا  جائے ) کے پیشِ نظر  قرونِ  ثلاثہ میں کوئی رسول  اللہ ﷺ یا کسی  دوسرے کی  قبر کی زیارت کے لیے  سفر نہیں کرتا تھا ،بلکہ  مدینہ میں  بھی لوگ قبرنبوی کی زیارت کے باوجود وہاں بھیڑ نہیں  لگاتے  او رنہ ہی  وہاں کثرت سے جانے  کو پسند کرتے تھے ۔قبر پرستی کی تردید اور زیارتِ قبر کے  مسنون اور بدعی طریقوں کی وضاحت کےلیے  علمائے اہل حدیث  نےبے شمار کتابیں  لکھیں اور  رسائل شائع کیے ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’زیارت قبر نبویﷺ‘‘ مقام انبیاء ،مزارات اولیاء اورمقامات مقدسہ  کی  طرف سفر اور زیارت کا حکم کو موضو ع   برضغیر کے  متبحر عالم دین  سید نذیر محدث دہلوی کے  شاگرد  محدث العصر علامہ محمد بشیر سہسوانی ﷫ کی  وہ  کتاب جسے انہوں نے  مولانا ابوالحسنات عبدالحی حنفی کی’’ الکلام المبرور فی رد القول المنصور‘‘ کے  جواب  میں إتمام الحجة علي من أوجب الزيارة مثل الحجة المعروف بالسعي المشكور‘‘کے نام  سے دیا۔ علامہ سہسوانی  اور مولاناعبد الحی لکھنوی کے  مابین مسئلہ شد رحال کے موضوع   ایک  عرصہ تک   تحریر وتقریری مباحثہ جاری ہے ۔کتاب ہذا  مذکورہ مسئلہ پر علامہ سہسوانی  کی طرف سے  آخری جواب  ہے جس میں مصنف موصوف نے مسئلہ شد  رحال کا  صحیح موقف قرآن وحدیث اورآثار  سلف صالحین کی روشنی  میں  مدلل  انداز میں واضح کیا ہے۔حافظ مولانا  حافظ شاہد محمود﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی) نے اس  بڑی محنت شاقہ سے  تحقیق وتخریج کا   کام کیا ۔اور   فضیلۃ الشیخ عزیر شمس  ﷾کا  طویل مقدمہ   بھی کتاب کے  شروع میں شامل اشاعت  ہے ۔ جس سے کتاب کی علمی اور استنادی حیثیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ   تعالی  اس کتاب کو   عوام الناس کے عقیدہ کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ مصنف اور کتاب کو تسہیل ، تحقیق وتخریج کے ساتھ  شائع   کرنے شامل  تمام احباب کی محنتوں کو  قبول فرمائے اوران کےعلم وعمل میں   اضافہ فرمائے  (آمین) (م۔)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-safar-e-madina-ki-saheh-niyat
    فضل الرحمان بن محمدالازہری
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ  صفات کومرکز محبت قراردینامسلمانوں کابنیادی فرض ہے اوردنیوی واخروی کامرانیوں کادارومداراسی پرہے۔لیکن اس باب میں یہ نازک نکتہ پیش نظررکھناازحدضروری ہے کہ رسول معظم صلی  اللہ علیہ وسلم سے اظہارمحبت کاوہی طریق قابل قبول ہے جس پرخودحضورختمی المرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی سہرشت ہو۔بعض لوگ محبت وعشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے کی آڑمیں ضعیف وموضوع روایات سے استدلال کرتے ہوئے اس بات کے داعی ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرانورکی زیارت کے لیے باقاعدہ نیت کرکے سفرکرناشرعی تقاضااورباعث اجروثواب ہے ۔لیکن یہ نقطہ نظرحدیث صحیح کے برخلاف ہے ۔چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کی تردیدکی ہے ۔اس سلسلہ میں قاضی السبکی نے ’شفاء السقام ‘نامی کتاب لکھ کرعلامہ ابن تیمیہ کی تردیدکرنے کی سعی کی ہے۔قاضی صاحب کی اس کتاب کاجواب علامہ کے شاگردابن عبدالہادی نے ’’الصارم المنکی‘‘کے نام سے دیاتھاجس کاجواب قاضی صاحب نہ دے سکے ۔اب بعض لوگوں نے قاضی صاحب کی کتاب کااردوترجمہ کرکے لوگوں کومغالطہ دینے کی کوشش کی ہے ۔زیرنظرکتاب ’سفرمدینہ کی صحیح نیت ‘قاضی صاحب کی کتاب کامفصل ،علمی وتحقیقی اورمحدثانہ جواب ہے جس سے تمام شبہات کاازالہ ہوتاہے۔


  • title-pages-silsila-moujzat-copy
    ہارون یحییٰ

    کسی نبی یا رسول  سے ایسے  واقعہ کاظہور پذیر ہونا جو انسانی  عقل  وفکر سے بالاتر ہو ۔یہ  خصوصی واقعہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ اس کے نبی یا رسول کی صداقت عام لوگوں پر واضح ہوجائے  عمومی طور  پر  معجزے اس  مخصوص زمانے اور حالات کے مطابق ہوتے ہیں  جس میں  وہ نبی یا رسول  اپنی دعوت پیش کر رہا ہو ۔ قرآن مجید میں انہیں آیات (نشانیاں) قرار دیاگیاہے مختلف پیغمبروں کومختلف معجزے عطا ہوئے  تھےتا کہ  وہ ان کے ذریعے  سےاللہ  کی قدرت  کالوگوں   پراظہار  کرسکیں۔ نبی کریم  ﷺکوبھی  کئی معجزوں سے نوازا گیا  ان میں سے   واقعہ معراج او رواقعہ شق القمر زیادہ مشہور ہیں۔زیر نظر کتاب ’’سلسلہ معجزات ‘‘ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے  کائنات کی ابتداء سے آج تک  وقوع پذیر ہونے والی کئی مثالوں کا  تذکرہ کرنے کے ساتھ  ساتھ  اس وقت  دنیا  کے گوشے  گوشے میں پیش آنے والے  گزشتہ  اور آئندہ معجزوں کاتذکرہ کیا  ہے ۔او رمعجزات کی ان مثالوں  کو درج ذیل  ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔1 کائنات میں موجود معجزے۔2 زمین سمیت نظام شمسی میں موجود معجزے۔3جانداروں میں پائے  جانے والے   معجزات ۔اس کتاب  کاہدف قاری کےسامنے مختلف معجزات کی ایسی مثالیں پیش کرنا ہے جو  اللہ تعالیٰ  کی عظمت اوراس کی  لامتناہی  قدرت  پردال  ہیں اور اس کا سب سے بڑا مقصد انسان  کواپنے ماحول میں موجود  ان تمام چیزوں  پر غور  کرنے کی دعوت دینا ہے  جو زمین وآسمان  کے  خالق کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو  لوگوں کے  ایمان   میں پختگی اوراضافے    کا باعث بنائے  (آمین) ( م۔ا)

     

  • حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر مبنی ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد یہ میں سے بہت سے لوگ  مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے  کا مسئلہ شرک  کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ( فَاِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[30:الروم:52] ’’اے نبی! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا۔ آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ بہرے کے کان تو ہوتے ہیں‘ لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ۔ ہاں اﷲ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ چنانچہ فرمایا: ( اِنَّ ﷲَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُج وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)[35:الفاطر:22]’’ اﷲ تو جسے چاہے سنا دے‘ کان ہوں‘ یا نہ ہوں ‘ لیکن اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟زیر تبصرہ کتاب"سماع موتی"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الاسلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ سماع موتی کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کی تبویب وتخریج حافظ عبد الوھاب روپڑی صاحب نے فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1786 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں