• title-page-riazut-toheed
    حافظ ابو عثمان محمد اکرام

    توحید کے موضوع پر قرآنی دلائل سے مزین ایک عمدہ کتاب ہے۔ جس میں فاضل مصنف نے موضاعتی ترتیب سے آیات کو یکجا کر دیا ہے۔ قرآن جو لاریب کتاب ہے جو رشد وہدایت کا عالمگیر مرکز اور فوز و فلاح کا داعی ہے، توحید جیسے بنیادی عقیدے کی واضح ترین الفاظ میں تشریح بیان کرتا ہے، پھر بھی نام نہاد مذہبی پیشواؤں کی ہٹ دھرمی اور عوام کی جہالت مسلم معاشرے میں شرک کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں۔ مصنف خود پہلے شرک و بدعت کی دلدل میں ڈوبے رہے ، بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب فرمائی۔ اب دوسروں کی فوز و فلاح کا درد ان کے قلم سے جھلکتا ہے۔

  • pages-from-riyaz-ul-hasanaat
    محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

    دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالیٰ ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ریاض الحسنات ‘‘نامور اہل حدیث عالم دین مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ﷫ کی مرتب شدہ ہے اس میں انہوں نے پنجسورہ، واسماء حسنی ، اسم ااعظم اور بعض اذکار مسنونہ کو جمع کردیا ہے۔اگرچہ اب جدید اور نئی تحقیق شدہ اور خوب صورت بے شمار کتب اس موضوع پر موجود ہیں اور کافی ساری کتب ویب سائٹ پر بھی موجود بھی ہیں لیکن   ان کبار علماء کی قدیم کتب کو محفوظ کرنے کی خاطر انہیں بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا   گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمار ے علماء اسلاف کی   تمام دینی کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-zinda-ka-murda-k-liye-hadya-aur-quran-khawani-copy

    دور ِحاضر میں مسلمانوں  کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے  کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ  بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے  بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے  کارواج عام ہے  ۔ قرآن خوانی  اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت  سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی خوانی توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت  یہ ہے کہ  قرآن  پڑھنے کا  میت  کوثواب نہیں  پہنچتا۔ البتہ  قرآن  پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے  میت کو فائدہ  ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور  قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں  کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔1۔کسی مسلمان کا مردہ  کےلیے دعا کرنا  بشرطیکہ  دعا  آداب  وشروط قبولیت  دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا  تو اس  کی طرف سے روزے  رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے  چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔زیر نظر کتابچہ’’زندہ کامردہ کے لیے  ہدیہ اور قرآنی خوانی ‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں  انہوں نے مختلف اہل علم اور  فتاویٰ جات  سے استفادہ کرکے  مذکورہ مسئلہ کی شرعی حیثیت کوواضح کیا  ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت  پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے  ہیں  جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں  باقی بھی  عنقریب  اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محتر م عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم  وحکمت،لاہور) نے چند دن قبل  اپنے  ادارے کی تقریبا  تمام مطبوعات ویب سائٹ کے  لیے  ہدیۃً عنایت کی  ہیں  اللہ تعالی  اصلاح م معاشرہ کے لیے  ان کی تمام مساعی  کو  قبول فرمائے  (آمین)  (م ۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ziarat-qabar-e-nabwi-copy
    محمد بشیر سہسوانی

    امت ِ مسلمہ کا  اس بات پر اجماع ہے کہ دینِ  اسلام کامل ہے او راس میں کسی قسم کی زیادتی او رکمی کرنا موجب کفر ہے  ۔اس لیے  ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا  چاہیے  کہ اللہ  تعالی نےہم مسلمانوں پر صرف اللہ اور اس کے رسول کے امر کوواجب قرار دیا  ہے کسی اور کی بات ماننا واجب اور فرضم نہیں خاص طور پر جب اس کی بات اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مخالف ہو۔زیارت ِ قبر نبوی  سے متعلق سلف  صالحین (- صحابہ ،تابعین،تبع تابعین) اور ائمہ کرام  کا جو طرز عمل  تھا وہ حدیث ،فقہ اور تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے  فرمان نبویﷺ  لاتشد الرحال إلا ثلاثة (  تین مسجدوں کے علاوہ  عبادت اور ثواب کے لیے  کسی  اور جگہ  سفر نہ کیا  جائے ) کے پیشِ نظر  قرونِ  ثلاثہ میں کوئی رسول  اللہ ﷺ یا کسی  دوسرے کی  قبر کی زیارت کے لیے  سفر نہیں کرتا تھا ،بلکہ  مدینہ میں  بھی لوگ قبرنبوی کی زیارت کے باوجود وہاں بھیڑ نہیں  لگاتے  او رنہ ہی  وہاں کثرت سے جانے  کو پسند کرتے تھے ۔قبر پرستی کی تردید اور زیارتِ قبر کے  مسنون اور بدعی طریقوں کی وضاحت کےلیے  علمائے اہل حدیث  نےبے شمار کتابیں  لکھیں اور  رسائل شائع کیے ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’زیارت قبر نبویﷺ‘‘ مقام انبیاء ،مزارات اولیاء اورمقامات مقدسہ  کی  طرف سفر اور زیارت کا حکم کو موضو ع   برضغیر کے  متبحر عالم دین  سید نذیر محدث دہلوی کے  شاگرد  محدث العصر علامہ محمد بشیر سہسوانی ﷫ کی  وہ  کتاب جسے انہوں نے  مولانا ابوالحسنات عبدالحی حنفی کی’’ الکلام المبرور فی رد القول المنصور‘‘ کے  جواب  میں إتمام الحجة علي من أوجب الزيارة مثل الحجة المعروف بالسعي المشكور‘‘کے نام  سے دیا۔ علامہ سہسوانی  اور مولاناعبد الحی لکھنوی کے  مابین مسئلہ شد رحال کے موضوع   ایک  عرصہ تک   تحریر وتقریری مباحثہ جاری ہے ۔کتاب ہذا  مذکورہ مسئلہ پر علامہ سہسوانی  کی طرف سے  آخری جواب  ہے جس میں مصنف موصوف نے مسئلہ شد  رحال کا  صحیح موقف قرآن وحدیث اورآثار  سلف صالحین کی روشنی  میں  مدلل  انداز میں واضح کیا ہے۔حافظ مولانا  حافظ شاہد محمود﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی) نے اس  بڑی محنت شاقہ سے  تحقیق وتخریج کا   کام کیا ۔اور   فضیلۃ الشیخ عزیر شمس  ﷾کا  طویل مقدمہ   بھی کتاب کے  شروع میں شامل اشاعت  ہے ۔ جس سے کتاب کی علمی اور استنادی حیثیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ   تعالی  اس کتاب کو   عوام الناس کے عقیدہ کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ مصنف اور کتاب کو تسہیل ، تحقیق وتخریج کے ساتھ  شائع   کرنے شامل  تمام احباب کی محنتوں کو  قبول فرمائے اوران کےعلم وعمل میں   اضافہ فرمائے  (آمین) (م۔)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-safar-e-madina-ki-saheh-niyat
    فضل الرحمان بن محمدالازہری
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ  صفات کومرکز محبت قراردینامسلمانوں کابنیادی فرض ہے اوردنیوی واخروی کامرانیوں کادارومداراسی پرہے۔لیکن اس باب میں یہ نازک نکتہ پیش نظررکھناازحدضروری ہے کہ رسول معظم صلی  اللہ علیہ وسلم سے اظہارمحبت کاوہی طریق قابل قبول ہے جس پرخودحضورختمی المرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی سہرشت ہو۔بعض لوگ محبت وعشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے کی آڑمیں ضعیف وموضوع روایات سے استدلال کرتے ہوئے اس بات کے داعی ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرانورکی زیارت کے لیے باقاعدہ نیت کرکے سفرکرناشرعی تقاضااورباعث اجروثواب ہے ۔لیکن یہ نقطہ نظرحدیث صحیح کے برخلاف ہے ۔چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کی تردیدکی ہے ۔اس سلسلہ میں قاضی السبکی نے ’شفاء السقام ‘نامی کتاب لکھ کرعلامہ ابن تیمیہ کی تردیدکرنے کی سعی کی ہے۔قاضی صاحب کی اس کتاب کاجواب علامہ کے شاگردابن عبدالہادی نے ’’الصارم المنکی‘‘کے نام سے دیاتھاجس کاجواب قاضی صاحب نہ دے سکے ۔اب بعض لوگوں نے قاضی صاحب کی کتاب کااردوترجمہ کرکے لوگوں کومغالطہ دینے کی کوشش کی ہے ۔زیرنظرکتاب ’سفرمدینہ کی صحیح نیت ‘قاضی صاحب کی کتاب کامفصل ،علمی وتحقیقی اورمحدثانہ جواب ہے جس سے تمام شبہات کاازالہ ہوتاہے۔


  • title-pages-silsila-moujzat-copy
    ہارون یحییٰ

    کسی نبی یا رسول  سے ایسے  واقعہ کاظہور پذیر ہونا جو انسانی  عقل  وفکر سے بالاتر ہو ۔یہ  خصوصی واقعہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ اس کے نبی یا رسول کی صداقت عام لوگوں پر واضح ہوجائے  عمومی طور  پر  معجزے اس  مخصوص زمانے اور حالات کے مطابق ہوتے ہیں  جس میں  وہ نبی یا رسول  اپنی دعوت پیش کر رہا ہو ۔ قرآن مجید میں انہیں آیات (نشانیاں) قرار دیاگیاہے مختلف پیغمبروں کومختلف معجزے عطا ہوئے  تھےتا کہ  وہ ان کے ذریعے  سےاللہ  کی قدرت  کالوگوں   پراظہار  کرسکیں۔ نبی کریم  ﷺکوبھی  کئی معجزوں سے نوازا گیا  ان میں سے   واقعہ معراج او رواقعہ شق القمر زیادہ مشہور ہیں۔زیر نظر کتاب ’’سلسلہ معجزات ‘‘ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے  کائنات کی ابتداء سے آج تک  وقوع پذیر ہونے والی کئی مثالوں کا  تذکرہ کرنے کے ساتھ  ساتھ  اس وقت  دنیا  کے گوشے  گوشے میں پیش آنے والے  گزشتہ  اور آئندہ معجزوں کاتذکرہ کیا  ہے ۔او رمعجزات کی ان مثالوں  کو درج ذیل  ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔1 کائنات میں موجود معجزے۔2 زمین سمیت نظام شمسی میں موجود معجزے۔3جانداروں میں پائے  جانے والے   معجزات ۔اس کتاب  کاہدف قاری کےسامنے مختلف معجزات کی ایسی مثالیں پیش کرنا ہے جو  اللہ تعالیٰ  کی عظمت اوراس کی  لامتناہی  قدرت  پردال  ہیں اور اس کا سب سے بڑا مقصد انسان  کواپنے ماحول میں موجود  ان تمام چیزوں  پر غور  کرنے کی دعوت دینا ہے  جو زمین وآسمان  کے  خالق کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو  لوگوں کے  ایمان   میں پختگی اوراضافے    کا باعث بنائے  (آمین) ( م۔ا)

     

  • حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر مبنی ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد یہ میں سے بہت سے لوگ  مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے  کا مسئلہ شرک  کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ( فَاِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[30:الروم:52] ’’اے نبی! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا۔ آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ بہرے کے کان تو ہوتے ہیں‘ لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ۔ ہاں اﷲ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ چنانچہ فرمایا: ( اِنَّ ﷲَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُج وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)[35:الفاطر:22]’’ اﷲ تو جسے چاہے سنا دے‘ کان ہوں‘ یا نہ ہوں ‘ لیکن اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟زیر تبصرہ کتاب"سماع موتی"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الاسلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ سماع موتی کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کی تبویب وتخریج حافظ عبد الوھاب روپڑی صاحب نے فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-sunnat-o-biddat-ki-kashmakash-mahir-ul-qadri
    ماہر القادری

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کے لیے بے شمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔ پس انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی ادا کرے۔ اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہےتو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہے کہ صراط مستقیم ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہےجس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور آخرت میں بھی جنت اس کا مقدر بنے۔ دنیا وآخرت میں کامیابی کا حصول صرف تعلیمات اسلام میں ہے یہ واحد دین ہے جو انسان کی ہر ضرورت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی کامیابی کا راز اتباع رسول اللہ ﷺ میں مضمر کیا ہے۔ موجودہ دور میں سنت کے مقابلے میں بدعت اس قدر اشاعت ہو رہی ہے کہ عام آدمی دین حنیف کے متعلق متزلزل اور شکوک و شبہات کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے سنت کو پہچاننا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے جبکہ خوشی ہو یا غمی اسلام نے ہر موڑ پر بنی آدم کی راہنمائی فرمائی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"سنت و بدعت کی کشمش" ماہر القادری مرحوم کی بے مثال تصنیف ہے۔ موصوف برصغیر کے مشہور ادیب و صف اول کے تبصرہ نگاروں میں سے تھے۔ موصوف نے کتاب ہذا میں مشرکانہ عقائد، خانقاہی، متصوفانہ نظریات اور مروّجہ بدعات کا قرآن و سنت کی روشنی میں تقابلی جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف مرحوم کو غریق رحمت فرمائے اور ان کے درجات میں بلندی کا سبب بنائے۔ آمین(عمیر)

  • sayyad-ul-almeen-k-saya-aur-bashriyat-k-bare-aik-tehqiqi-maqala--copy-
    عزیز زبیدی

    سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع  ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو  آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔سیرت نبوی ﷺ کے متعدد پہلو ہیں جن میں ایک پہلو آپ ﷺ کے سائے اور بشر ہونے کا بھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "سید العلمین ﷺکے سایہ اور بشریت کے بارہ میں ایک تحقیقی مقالہ"جماعت اہل حدیث کے نامور عالم دین محترم مولانا عزیز زبیدی صاحب اور مولانا محمد ادریس کیلانی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے آپﷺ کے سائے اور بشریت کے پہلوؤں کوکو تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-shatme-rasool-saww-ki-sharie-saza
    محمود الرشید حدوٹی

    رسول کریم ﷺ کی عزت،عفت، عظمت اور حرمت اہل ایمان کا جز وِلاینفک ہے اور حبِ رسول ﷺ ایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے ۔نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا قتل کے حوالے سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت میں بے شمار واقعات موجود ہیں ۔او راسلامی تاریخ میں کئی ایسے واقعا ت موجو د ہیں کہ جب بھی کسی نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا تو اہل ایمان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے گستاخِ رسول کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔اور شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫نے اس موضوع پر الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ کے نام سے مستقل کتاب تصنیف فرمائی ۔اور اسی طرح اس موضوع پر قاضی عیاض کی کتاب '' الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ بھی قابل ذکر ہے۔زیر نظر کتاب '' شاتم رسول ﷺ کی سزا'' اسی سلسلے کی کڑی ہے جوکہ مولانا محمود الرشید حدوٹی کی تصنیف ہے جس میں مولانا نے نبی کریم کی شان ِاقدس میں گستاخی کرنے والوں کے بارے میں قرآن کریم ، کتب احادیث میں وار ارشادات نبوی ، قرآنی آیات کے ذیل میں مفسرین کرام کی توضیحات اور فقہاء کرام کی فقہی آراء کو پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور اس کتاب کومقام رسالت کی معرفت کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-shatm-e-rasool-saww-ki-sharie-saza-copy
    شفیق الرحمٰن الدراوی

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور حرمت رسول ﷺ کے متعلق رسائل وجرائد میں بیسوں نئےمضامین طبع ہوئے اور کئی مجلات کے اسی موضوعی پر خاص نمبر اور متعد د کتب بھی شائع ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ‘ پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی﷾( فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے رسول اللہ ﷺ کی رحمت کے بیان کےساتھ ساتھ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے متعلق حکم بیان کیا گیا ہے ۔جس کےلیے قرآن وحدیث کےبیسیوں حوالہ جات جمع کیے گئے ہیں۔ اس کےساتھ ساتھ آپ ﷺ کا طرز عمل ، صحابہ کرام کے فیصلے ،علماء کرام﷭ کے مذاہب ،آئمہ اربعہ کے اقوال قدیم وجدید دور کےاہل علم کے آراء پیش کی گئی ہیں ۔ ساتھ ہی عصر حاضر میں یہودی ، عیسائی ، ماسونی ، اور ملحدانہ بیہودگیوں کے خلاف راست اقدام کےلیے مسلمانوں کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کےلیے شرعی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور سابقہ تاریخ میں اس طرح کے کردار کے اثرات ونتائج بیان کر کے لوگوں کو پیغمبر برحقﷺ کی نصرت اور آپ کےخلاف زہریلے اقدامات کرنے والوں کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں پہلے رحمت نبوت کی وضاحت کے لیے ’’نبی رحمتﷺ‘‘ کے عنوان سے باب قائم کر کے آپ کے رحمت للعالمین ہونے کے مختلف عملی پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اور پھر انصاف پسندوں کے اعترافات ذکر کرنے کے بعد گستاخ ِ رسول کےموضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے اورمؤلف کوتالیف وتصنیف اور ترجمہ کے میدان میں کام کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-shan-e-rabb-ul-alameen-copy
    محمد صادق سیالکوٹی

    اللہ تعالی کے نیک بندوں، ولیوں، بزرگوں، صدیقوں، اور نبیوں کی اپنی اپنی شان اور بزرگی ہے، لیکن ان بزرگ ہستیوں کو مرتبے اور شانیں عطا کرنےوالے اللہ رب العزت کی بھی ضروری شان ہے۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے، اسی طرح اس کی صفات کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں۔ اس کی صفات اور کمالات نہ تو ہمارے شمار میں آ سکتے ہیں اور نہ ہی وہ صفات ہو سکتی ہیں جن کو ہم بیان کر سکیں۔اللہ کا وجود اس کائنات کی ایک کھلی حقیقت ہے۔ اس دنیا کے نباتات، جمادات ، حیوان، چرند، پرند اور انسان  اپنے ظاہر و باطن سے اعلان کررہے ہیں کہ وہ  آپ سے آپ وجود میں نہیں آئے بلکہ انہیں کسی نے پیداکیا ہے۔ چنانچہ ہر شے کا اپنے رب سے پہلا رشتہ مخلوق اور خالق کا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " شان رب العالمین "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین اور مصنف محترم مولانا صادق سیالکوٹی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اللہ تعالی کی شان اور مقام کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • pages-from-shab-e-baraat-haqiqat-key-aainey-azim-hasilpuri
    محمد عظیم حاصلپوری

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا جو شرک و بدعت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بندوں تک پہنچاتے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ختم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ ایک داعئ انقلاب، معلم، محسن و مربی بن کر آئے۔ جس طرح آپﷺ کے فضائل و مناقب سب سے اعلیٰ اور اولیٰ ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی امت کو بھی اللہ رب العزت نے اپنی کلام پاک میں"امت وسط" کے لقب سے نوازہ ہے۔ اسلام نے اپنی دعوت و تبلیغ اور امت کے قیام و بقاء کے لیے اساس اولین ایک اصول کو قرار دیا ہے جو"امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دعوت الی الخیر، برائی سے روکنا اس امت کا خاصہ اور دینی فریضہ ہے۔ اسلام تو نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں مکمل ہو گیا تھااورانسان کی راہنمائی کے لیے اس میں تشنگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جس میں انسان کے لیے راہنمائی نہ ہو۔ شب و روز کی زندگی کے معمولات و عبادات سب موجود ہیں مگر مسلمانوں نے نعوذ با للہ عبادت کے نام پر ایسے کام شروع کر دیئے جیسے وہ اسلام کو ادھورہ اور شریعت محمدیہ ﷺ کو ناقص قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ زیر نظر کتاب"شب برات حقیقت کے آئینے میں"جو کہ فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری کا ایک تحقیقی رسالہ ہے۔ محترم موصوف جو کہ علمی و ادبی حوالے میں ایک معتبر حیثیت کے حامل ہیں۔ فاضل مصنف نے کتاب ہذا میں شب برات کی حقیقت کا قرآن سنت کی روشنی میں تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے اور محترم موصوف کو ہمت واستقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • tite-pages-shabe-barat-aur-uski-sharie-haisiyat-copy
    حافظ سید امان اللہ شاہ بخاری

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ لیکن عبادت کےلیے    اللہ تعالیٰ   نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی   خلقت  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سن بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک   اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت   مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی   عبادات کو  دین   میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے   کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے ۔انہی بدعات   میں  سے  ماہ شعبان میں شب برأت  کے  سلسلے میں   من گھڑت  موضوع احادیث کو   سامنے رکھتے ہوئے  کی  جانے والی بدعات ہیں۔ مسلمانوں نے شب برأت کو  ایک مذہبی اور  روائتی  حیثیت دے رکھی  ہے اس  خیالی اور تصوراتی رات کو اس  طرح اہمیت دی جاتی ہے  جس  طرح لیلۃ القدر کو دی جاتی  ہے ۔ عجیب بات ہے کہ واعظین  لیلۃ القدر میں  جو  کچھ بیان کرتے ہیں  شب برأت میں وہی   کچھ بیان کرتے ہیں ۔اور  عوام الناس کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کا   نزول ماہ شعبان کی  پندریں رات کو شروع ہوا ۔زیر نظر کتابچہ ’’ شبِ برأت اور اس کی حقیقت‘‘ مولانا حافظ سید امان اللہ  شاہ بخاری کی کاوش  ہے   جس میں انہوں نے  شب برأت کی شرعی  حیثیت کو   قرآن وحدیث کے دلائل اورائمہ محدثین ومفسرین کے   اقوال کی روشنی میں  واضح کیا ہے ۔اللہ تعالی   مصنف کی اس کاوش  کو  قبول  فرمائے  اور اسے  شب برأت کی حقیقت کو سمجھنے اور اس ماہ شعبان  میں پائی جانے والی بدعات سے   بچنے کا ذریعہ بنائے  (آمین) (م-ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-sharha-arkan-e-iman-copy
    ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی

    دینِ اسلام عقیدہ،عبادات،معاملات ،سیاسیات وغیرہ کا مجموعہ ہے ، لیکن عقیدہ اور پھر عبادات کامقام ومرتبہ اسلام میں سب سے بلند ہے کیونکہ عقیدہ پورے دین کی اساس اور جڑ ہے ۔اور عبادات کائنات کی تخلیق کا مقصد اصلی ہیں ۔ ایمان کے بالمقابل کفر ونفاق ہیں یہ دونوں چیزیں اسلام کے منافی ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسول کی تصدیقات ارکان ایمان ہیں۔قرآن مجیدکی متعدد آیات بالخصوص سورۂ بقرہ کی ایت 285 اور حدیث جبریل اور دیگر احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے ۔لہذا اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اوراس کی طرف سے بھیجے ہوئے رسولوں کو تسلیم کرنا اور یوم حساب پر یقین کرنا کہ وہ آکر رہے گا اور نیک وبدعمل کا صلہ مل کر رہے گا۔ یہ امور ایمان کے بنیادی ارکان ہیں ۔ان کو ماننا ہر مومن پر واجب ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرح ارکان ‘‘ ابی عبدالصبور عبد الغفور دامنی کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے اللہ تعالیٰ ،اس کی کتابوں، رسولوں اور فرشتوں ، آخرت اورتقدیر پر ایمان لانےکی حقیقت کو آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں تفصیلاً بیان کیا ہے ۔کتاب کے آغاز میں شیخ عبد اللہ ناصررحمانی ﷾ کا جامع مقدمہ انتہائی اہم اور لائق مطالعہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اورہمیں ایمان کی پختگی نصیب فرمائے(آمین) (م۔ا)

  • pages-from-sharha-asool-e-iman
    محمد بن صالح العثیمین

    عقیدہ کو دین میں وہی اہمیت حاصل ہے جو بنیاد کو عمارت میں اور بیج کو درخت میں ہے ۔ اگر کسی عمارت کی بنیاد ہی ٹیڑھی ہو یا کسی درخت یا پودے کابیج ہی صحت مند نہ ہو تو عمارت عالی شان ہوسکتی ہے اور نہ درخت توانا وتندرست ہوسکتا ہے ۔ دینِ اسلام میں توحید، رسالت ،آخرت ،تقدیر ارکانِ اسلام ، کتب اور فرشتوں پر ایمان کو بھی یہی حیثیت حاصل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شر ح اصولِ ایمان‘‘ سعودی عرب کے   نامور عالم دین ومفتی شیخ محمدبن صالح العثیمین﷫ کی عربی تصنیف کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہی موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔قاری کے دل ودماغ تک پہنچنے کےلیے عقلی اور نقلی ہر دو قسموں کےدلائل بڑے ہی دل نشیں انداز میں دیے گئے ہیں۔ اور یہ کتاب حیرت انگیز طور پر اجمال وتفصیل کی خوبیاں لیے ہوئے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عالم وعامی ،مبتدی اور مجتہد دونوں کے لیے مفید ہے۔عام آدمی کےلیے یہ ایمان کی پختگی اور دین کو صحیح نہج پر سمجھنے کا باعث ہے اور عالم کواس میں وہ اشارات ملیں گے جس کی بنیاد پر وہ اپنے مخاطبین کو دلوں تک رسائی کی راہ پاسکتاہے ۔کتاب ہذا کارواں ترجمہ محترم غازی عزیر ﷾ (مصنف ومترجم کتب کثیرہ اورمعروف   مضمون نگار ومحقق)نے کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس مختصر رسالہ کوعام مسلمانوں کے لیے نفع بخش اور مؤلف ومترجم کےلیے خیروبرکت   اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-sharha-aqida-wastia-copy
    امام ابن تیمیہ

    عقیدے  کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے  اللہ تعالیٰ نے ہر دور  میں انبیاء کو مبعوث کیا  حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م  نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں  عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ  الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی  سلسلے کی  ایک کڑی ہے ۔شیخ  الاسلام کی تالیفات وتصنیفات کی ورق گردانی  کرنے والے  اور ان کا گہرا مطالعہ کرنے والے  اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں  کہ انہوں نے   حق کے  دفاع اور اہل باطل کی تردید میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔امام ابن تیمیہ کی  کتاب عقیدہ واسطیہ کے مفہوم  ومطلب کو واضح کرنے  کے لیے  الشیخ  محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ زیرنظر کتاب’’شرح عقیدہ واسطیہ‘‘معروف سعودی عالمِ دین ومفتی فضلیۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین﷫ کی تصنیف ہے ۔جس کے ترجمہ کی سعادت محترم  پروفیسر جار اللہ ضیا ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے حاصل کی  اور الفرقان ٹرسٹ نے  اسے اعلی طباعتی معیار پر شائع کیا ہے ۔یہ کتاب دینی طلباء،اساتذہ کرام اور عوام الناس کے لیے  انتہائی مفید ہے  ۔کتاب ہذا  کےمترجم محترم  پروفیسر جار اللہ ضیا ﷾ ماشا ء اللہ   ایک  قابل  مدرس اور اچھے  واعظ ہیں اس کتاب کے علاوہ بھی  کئی  کتب کے  مترجم ہیں۔ اللہ  تعالیٰ اس کے  مصنف وشارح کے  درجات کو  بلند فرمائے  اور ان کی قبروں پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔ مترجم اور ناشرین کے علم وعمل میں  اضافہ فرمائے اور ان کی تمام  مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-sharha-aqeeda-wastiya-sawalan-jawaban
    امام ابن تیمیہ

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ''عقیدہ واسطیہ''بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ میں الشیخ خلیل ہراس کی شرح شامل نصاب ہے۔زیرنظر کتاب''شرح عقیدہ واسطیہ سوالاً جواباً''شیخ عبد العریز السلمان کی عربی کتاب''الاسئلة والاجوبة الاصولية على العقيدة الواسطية''کا اردو ترجمہ ہے ترجمہ کی سعادت محترم مولانا محمد اختر صدیق ﷾ (فاضل جامعہ لاہوالاسلامیہ ،لاہو ر وفاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے حاصل کی اور مکتبہ اسلامیہ نے اسے اعلی طباعتی معیار پر شائع کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے عقیدے کے مسائل کو عمدہ اور آسان فہم انداز میں پیش کیاہےیہ کتاب دینی طلباء،اساتذہ کرام اور عوام الناس کے لیے انتہائی مفید ہے کیوں کہ مصنف نے اسے عام فہم اورسلیس انداز میں سوالاً جواباً مرتب کیا ہے ۔کتاب ہذا کے مترجم محترم محمداختر صدیق ﷾ ماشا ء اللہ ایک قابل مدرس اور اچھے واعظ ہیں اس کتاب کے علاوہ تقریبا ایک درجن کتب کے مصنف ومترجم ہیں سعودی عرب میں دعوتی ،تبلیغی او رتالیف وترجمہ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-shirak-ki-tareef-aqsaam-o-anjam
    طاہر نثار عزیز بن عبد العزیز

    یہ حقیقت ہےکہ شرک ظلمِ عظیم ہےشرک اکبر الکبائر ہے ،شرک رب کی بغاوت ہے شرک ناقابلِ معانی جرم ہے ، شرک ایمان کےلیے زہر قاتل ہے ، شرک اعمالِ صالحہ کے لیے چنگاری ہے ۔اور شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا بہت سارے لوگ ایسے ہیں کہ جو شرک کے مفہوم کونہیں سمجھتےشرک کرنے کےباوجود وہ کہتے ہیں کہ وہ شرک نہیں کر رہے ان کے نزدیک شرک صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیساکوئی اور رب بنالیا جائے او راس کی عبادت کی جائے اصل میں وہ شرک کی حقیقت سےناواقف ہیں اسی لیے تو وہ کہتے ہیں انہوں نے کونسا کو ئی اور رب بنایا ہے۔شرک جیسی مہلک بیماری سے بچنے اور تو حید کواختیار کرنے کا انسانیت تک پہنچانےکے لیے اللہ تعالیٰ نےانبیاء کرام کو مبعوث کیا اور قرآن مجید نےسب سے زیادہ زور توحید کےاثبات اورشرک کی تردید پر صرف کیا ہے ۔سید البشر حضرت محمد ﷺ نے بھی زندگی بھر لوگوں کو اسی بات کی دعوت دی   اورزندگی کے آخری ایام میں بھی اپنی امت کو شرک سے بچنے کی تلقین کرتے رہے ۔بعد میں صحابہ کرام ، تابعین ، ائمہ محدثین اور علمائے عظام نے دعوت وتبلیغ ، تحریر وتقریر کے ذریعے لوگوں کو شرک تباہ کاریوں سے اگاہ کیا ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شرک کی تعریف ، اقسام ، انجام ‘‘طاہر نصار عزیز بن عبد العزیز کی تصنیف ہے ۔انہوں نے مسلمانوں کوشرک جیسی خطر ناک بیماری سے بچانے کےلیےاس کتاب میں اختصار سے شرکی تعریف ،اقسام شرک، شرک کی برائیاں، شرک کے مضاہر وغیرہ کو کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق دلائل کی روشنی میں آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائےاور امت مسلمہ کو شرک سے محفوظ فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • shirkeakbarkufreakbaraurbidatkbaraymainjahilaurmuqallidp-copy
    ابن قیم الجوزیہ
    یہ کتابچہ دراصل علامہ ابن قیم کی دو کتابوں "کتاب الطبقات" اور"قصیدہ نونیہ" کی تلخیص ہے۔ اس میں جاہل مقلدین اور کفر اکبر، شرک اکبر اور دیگر بدعی عقائد میں مبتلا گروہوں پر حجت کے قواعد اور اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ایک حساس موضوع پر عمدہ تحریر ہے۔


  • shirak-ka-murtakab-kafar-2
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔ آپ نے متعدد کتب تصنیف فرمائیں اور شرک وبدعات کے خلاف میدان کارزار میں کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔آپ نے خالصتا کتاب وسنت کی دعوت کو عام کیا اور لوگوں کو شرک وبدعات سے دور کرنے کے لئے کتب لکھیں۔آپ کی من جملہ کتب میں سے ایک زیر تبصرہ یہ کتاب (شرک کا مرتکب کافر ہے) ہے۔جو آپ کی عربی کتاب (کشف الشبہات فی التوحید) کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم ابو بکر صدیق سلفی نے حاصل کی ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ان کتابوں کی تدوین وتالیف کا عظیم مقصد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ﷫ کے پیش نظر یہ تھا کہ دنیائے اسلام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کروایا جائے ،اور وہ عقائد ورسم ورواج،جن کی تنسیخ کے متعلق قرآن وسنت اور آثار صحابہ سے ثبوت فراہم ہوتا ہے ،دلائل وبراہین سے قطعیت کے ساتھ ان کو رد کر دیا جائے۔اور صرف ان واضح احکامات پر ایمان وعمل کی اساس قائم کی جائے جو مسلمانوں کے لئے فلاح و خیر اور نجات اخروی کا باعث ہوں۔چنانچہ انہوں نے اپنی کتب میں ان تمام مسائل پر مدلل گفتگو کی ہے اور کسی قسم کے تعصب وعناد کے بغیر بہت ہی سادہ ودلنشیں پیرائے میں قرآن وحدیث کا نچوڑ نکال دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل حق ،جو گروہی مفاد اور مذہبی تعصب نہیں رکھتے ہیں ،ان کتب کے پیش کردہ حقائق سے استفادہ کر کے اصل اسلامی تعلیمات یعنی کتاب وسنت کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں ،اور ان شاء اللہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-shirak-ki-holnakiyan-aur-tabahkariyan
    محمد ولی راضی
    شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے ۔قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے۔   شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں  کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے  عظیم  گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک انسانی  عقل پر پردہ ڈال دیتا ہےاور انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی  ہدایت نظر آنا شروع ہو جاتی ہے  ۔پہلی  قوموں کی  تباہی  وبربادی کاسبب  شرک  ہی  تھا۔ بہت سارے لوگ  ایسے ہیں  جو شرک  کے مفہوم کونہیں سمجھتے،اورشرک کرنے کےباوجود کہتے ہیں کہ وہ شرک نہیں کر رہے ۔ ان کے نزدیک شرک صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیساکوئی  اور رب بنالیا جائے او راس کی عبادت کی جائے ۔اصل میں وہ شرک کی حقیقت سےناواقف ہیں اسی لیے  تو  وہ کہتے ہیں انہوں نے کونسا کو ئی اور رب بنایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  اسی موضوع پر ایک اہم کتاب ہے  جس میں  فاضل  مصنف نے  قرآن وسنت کی  روشنی میں شرک کی حقیقت  اور اس کے نقصانات پر   آسان فہم  تفصیلی  بحث کی ہے  او رشرک  کے  تمام پہلوؤں پر  تفصیل  روشنی  ڈالی ہے۔ کتاب  دوحصوں میں مشتمل  ہے۔  پہلے حصے میں شرک  کی  حقیقت اور دوسرے  میں  شرک  کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا ہے،  اور بتایا  گیاہےکہ جن کو اللہ کے سو ا ما فوق الاسباب پکار ا جاتاہے،  وہ نہ تو سفارش کرسکیں  گے  اورنہ ہی  کسی کی  فریاد سن  سکیں گے ۔ یہ کتاب شرک کےموضوع پر ایک  لاجواب تحفہ ہے۔  اللہ  سے  دعا ہے کہوہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے والوں کے   مشرکانہ عقائد کی اصلاح کر کے انہیں موحد بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-shirak-kia-he-copy
    محمد عطاء اللہ بندیالوی

    یہ حقیقت ہےکہ شرک ظلمِ عظیم ہےشرک اکبر الکبائر ہے ،شرک رب کی بغاوت ہے شرک ناقابلِ معانی جرم ہے ، شرک ایمان کےلیے زہر قاتل ہے ، شرک اعمالِ صالحہ کے لیے چنگاری ہے ۔اور شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا بہت سارے لوگ ایسے ہیں کہ جو شرک کے مفہوم کونہیں سمجھتےشرک کرنے کےباوجود وہ کہتے ہیں کہ وہ شرک نہیں کر رہے ان کے نزدیک شرک صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیساکوئی اور رب بنالیا جائے او راس کی عبادت کی جائے اصل میں وہ شرک کی حقیقت سےناواقف ہیں اسی لیے تو وہ کہتے ہیں انہوں نے کونسا کو ئی اور رب بنایا ہے۔شرک جیسی مہلک بیماری سے بچنے اور تو حید کواختیار کرنے کا انسانیت تک پہنچانےکے لیے اللہ تعالیٰ نےانبیاء کرام کو مبعوث کیا اور قرآن مجید نےسب سے زیادہ زور توحید کےاثبات اورشرک کی تردید پر صرف کیا ہے ۔سید البشر حضرت محمد ﷺ نے بھی زندگی بھر لوگوں کو اسی بات کی دعوت دی اورزندگی کے آخری ایام میں بھی اپنی امت کو شرک سے بچنے کی تلقین کرتے رہے ۔بعد میں صحابہ کرام ، تابعین ، ائمہ محدثین اور علمائے عظام نے دعوت وتبلیغ ، تحریر وتقریر کے ذریعے لوگوں کو شرک تباہ کاریوں سے اگاہ کیا ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’شرک کیا ہے؟‘‘ مولانا محمد عطاء اللہ بندیالوی صاحب کے1421ء کےرمضان المبارک میں سرگودھا شہر کی جامع مسجد حنفیہ میں ’’شرک کیا‘‘ کےعنوان پر دروس کا مجموعہ ہے موصوف کے ان دروس کاسلسلہ تقریباً دس روز جاری رہا ۔جسے سامعین نے بہت زیادہ پسند کیا تو موصوف نے افادہ عام کےلیے اسے مرتب کرکے شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • tutke-shirak-k-chor-darwaze-update
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی اور حافظ محمود الخضری کے اشتراک سے تسلسل کے ساتھ علمی موضوعات پر بہت سی کتب اشاعت کے زیور سے آراستہ ہو رہی ہیں۔ اس کتاب میں دونوں حضرات نے شرک کی شناعت کو سامنے رکھتے ہوئے اس موضوع پر بھی قرآن و حدیث کا مؤقف پیش کردیا ہے۔ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے پہلے باب میں توحید اور اس کی اقسام کی تعریف ہے، نیز ان شروط کا ذکر ہے جن پر توحید کی سلامتی اور بقا کا انحصار ہے۔ دوسرا باب شرک کی حقیقت اور اس کےاضرار کو واضح کرتا ہے، نیز مختلف قوموں میں پائے جانے والے شرک کو قرآن و حدیث کی نصوص سے بیان کرتا ہے۔ تیسرے اور آخری باب میں عصر حاضر میں پائے جانے والے شر کے کے مختلف طرق کا قدرے تفصیلی ذکر ہے۔ رسالہ کا اسلوب سہل ہے اور تمام مندرجات مدلل اور باحوالہ ہیں ۔(عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • untitled-1
    وحید بن عبد السلام بالی
    موجودہ دور میں بہت سے عامل، نجومی اور جادوگر اپنا جال پورے معاشرے میں پھیلائے بیٹھے ہیں اور بہت سے معصوم لوگوں کے عقائد و ایمان کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ جادو اور جادوگروں کے حوالہ سے دینی تعلیمات بہت واضح اور دوٹوک ہیں۔ فلہٰذا اہل ایمان کو چاہیے کہ اگر انھیں اس قسم کی کسی مصیبت کا سامنا ہو تو وہ ایسے شخص کی طرف رجوع کریں جو قرآن و سنت کی روشنی میں علاج کرتا ہو اور قرآنی آیات اور دیگر اوراد و وظائف پڑھنے کا معمول بنائیں۔ زیر مطالعہ کتاب اسی تناظر میں ترتیب دی گئی ہے جس میں قرآن وسنت سے استنباط کرتے ہوئے جادو کا کامل علاج رقم کر دیا گبا ہے۔ کتاب کا اسلوب عوامی ہے کوئی بھی عام فہم شخص اس کا مطالعہ کر کے اوراد و وظائف کو عمل میں لا سکتا ہے۔ کتاب اصل میں عربی میں تھی جس کے مصنف شیخ وحید عبدالسلام بالی ہیں اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے مجلس التحقیق الاسلامی نے اس کا حافظ محمد اسحاق زاہد سے اردو ترجمہ کرایا۔ مصنف نے جنات کی نشانیوں اور انھیں حاضر کرنے سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے جادو کی تمام اقسام کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ نظر بد کا علاج بھی کتاب کا حصہ ہے۔ (ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-shrir-jado-gharon-ka-qila-qama-krne-wali-talwarjadeed-edition
    وحید بن عبد السلام بالی
    جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے  ہے  جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے  ذریعے  تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے  کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے  معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے  دن رات فساد پھیلانے  پر تلے  ہوئے ہیں  جنہیں وہ کمزور ایمان والے  اور ان کینہ پرور لوگوں سے  وصو ل کرتے ہیں  جو اپنے  مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں  او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں  لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے  نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں  اور جادو کا شرعی  طریقے  سے علاج کریں تاکہ  لوگ اس کے  توڑ اور علاج  کے لیے  نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیرنظر کتاب  مشہور عالمِ دین  اور جادو وغیرہ کے شرعی  علاج کے  ماہر   شیخ  وحید عبدالسلام بالی﷾ کے  کی عربی تصنیف الصارم البتار فى التصدى للسحرة الأشرار كاترجمہ ہے جس میں انہوں نے  جادو کی حقیقت،کتاب وسنت میں جادوگری کا حکم ، جادوکی مختلف  صورتیں او رجادوگروں کے مختلف طریقے ہائےواردات ،جادو کاشرعی  علاج او راس سے بچاؤ کے طریقے،  نظربد کی حقیقت اوراس کا علاج وغیرہ جیسے اہم موضوعا ت  سیر حاصل بحث کی ہے ۔ کتاب کے  ترجمےکا کام ’’ زاد الخطیب‘‘ کے  مؤلف ڈاکٹر  حافظ محمد اسحاق  زاہد ﷾ نے سر انجام دیا ہے۔  حافظ   صاحب اس کتاب کے علاوہ  متعدد کتب کے مترجم ومؤلف  بھی ہیں۔ سب سے  پہلے اس کتاب کا اردوترجمہ   شائع کرنے کااعزاز ادارہ  محدث ،لاہور  کو  حاصل ہوا ۔کتاب کی افادیت کےپیش نظر  اب تک  اس کتاب کے  پاک وہند  او رسعودی عرب  میں کئی  ایڈیشن چھپ  چکے ہیں ۔ جس کو  بہت  زیادہ قبول عام  حاصل ہوا۔   الحمد للہ  بے  شمارلوگ اس  سے مستفید ہوچکے ہیں  اور اس کتاب کوپڑھ انہوں نے خود اپنا علاج کیا او ر وہ شفا  یاب ہوئے ۔  زیر تبصرہ ایڈیشن  مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  کا  شائع شدہ ہے  جس کا  شمار پاکستان  میں منہج سلف پر  معیاری کتب  شائع کرنے والے    صف اول کے ناشرین میں ہوتا ہے۔  اللہ    تعالیٰ  اشاعت دین  کے سلسلے  میں مصنف ومترجم  او ر ناشرین کی تمام مساعی  جمیلہ کو قبول فرمائے  اور عوام الناس  کواس کتاب سے  مزید راہنمائی  حاصل  کرنے کی توفیق   عطا فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاںکلک کریں
  • pages-shariyat-hazrat-muhammad-mustafa--saww-copy
    ملک حسن علی

    توحید اور شرک کا معاملہ کوئی فرقہ وارانہ معاملہ نہیں ہے۔توحیدکا لفظ اپنی حقیقت، ثمرات اور مقتضیات کے اعتبار سے تمام دنیائے انسانیت  کے لئے اتنا عظیم، ایسا اہم اور اس قدر گرانمایہ ہے کہ اسی پر انسان کی دنیا وعقبی، آغاز وانجام اور تمدن ومعاشرت بالکہ زندگی کے تمام شعبوں کی بہتری اور صلاح وفساد کا دارومدار ہے۔سچی انسانیت ، خدا کی ہستی اور اس کی توحید کے عقیدے پر موقوف ہے۔توحید سب سے بڑی صداقت ہےبلکہ تمام صداقتوں کی صداقت اور تمام حقیقتوں کی حقیقت ہے۔تمام صداقتیں اسی مدار کے گرد طواف کرتی ہیں۔توحید اور شرک دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی ہیں۔لیکن افسوس کہ اہل سنت والجماعت کا دعوی کرنے والے آج اسی شرک کا پرچار کر رہے ہیں اور شرکیہ امور کے علمبردار ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"شریعت حضرت محمد مصطفے ﷺاور دین مولانا احمد رضا خاں صاحب" محترم ملک حسن علی بی اے علیگ جامعی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مولانا احمد رضا خاں بریلوی اور ان پیروکاروں کے وہ عقائد اور نظریات بیان کئے ہیں جو سرا سر اسلام مخالف اور توحید کے منافی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-shama-e-toheed
    ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    تمام انبیاء کرام﷩ ایک ہی پیغام اور ایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ تمام انبیاء کرام سالہا سال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانے کے لیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے حضرت نوح﷤ نے ساڑے نو سو سال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے بھی عقیدۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریمﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’شمع توحید‘‘ مناظر اسلام شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ کی عقیدہ توحید پر ایک منفرد تحریر ہے۔ مرکزی انجمن حزب الاحناف ہند نے ایک رسالہ ’’العقائد‘‘ شائع کیا۔ جس میں اس کے مصنف علامہ حکیم ابو الحسنات سید محمد احمدقادری (خطیب مسجدوزیر خاں، لاہور) نے رسول اللہﷺ کے متعلق لکھا کہ رسول اللہﷺ کوبشر کہنا کفر ہے اور رسول اللہ ﷺ عالم الغیب ہیں اور آپ ہرجگہ حاضر وناظر ہیں ‘‘تو 1928ء میں مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے سید محمد احمد قادری کے اس رسالہ ’’العقائد‘‘ کا دلائل سے مزین جواب سپرد قلم کیااور اس رسالہ میں رسول اللہﷺ کے متعلق بیان کیے گئے غلط عقائد کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے۔ مولانا امرتسری کے رسالہ شمع توحید کو مکتبہ قدوسیہ، لاہور نے 15 سال قبل دوبارہ شائع کیا۔قارئین کے استفادہ کے لیے ہم اسے سائٹ پر پبلش کرر ہے ہیں۔ (م۔ا)

  • title-pages-shehr-e-khamoshan--qabrastan--copy
    عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی

    اللہ تعالیٰ نے کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے اس کے انتہائی اہم کردار انسان کو وجود بخشا  حضرت انسان کو مٹی سے پیدا کیاگیا ہے ۔ انسان اپنی تخلیق کے مختلف مراحل سے گزر کر اپنے آخری منزل تک پہنچتا ہے۔انسان جب فقط روح کی شکل میں تھا تو عدم میں تھا روح کے اس مقام کو عالم ارواح کہتے ہیں او رجب اس روح کو وجود بخشا گیا اس کو دنیا میں بھیج دیا گیا  اس کے اس ٹھکانےکو عالم دنیا اور اسی طرح اس کے مرنے کے بعد قیامت تک کے لیے جس مقام پر اس کی روح کو ٹھہرایا جاتا ہے اسے عالم برزخ کہتے ہیں اس کے بعد قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو ان کی دائمی زندگی سے ہمکنار کیا جائے گا۔مرنے کے بعد کے حالات جو مابعد الطبیعات میں آتے ہیں کو اسلام نے بڑے واضح انداز میں پیش کردیا ہے۔ کہ مرنے کے بعد اس کا قیامت تک کے لیے مسکن قبر ہے اور برزخی زندگی میں قبر میں اس کے ساتھ کیا احوال پیش آتے ہیں۔ انسان کے اعمال کی جزا و سزا کا پہلا مقام قبر ہی ہے کہ جس میں وہ منکر نکیر کے سوالوں کے جواب دے کر اگلے مراحل سے گزرتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’شہر خموشاں‘‘ مولانا  عبدالرحمن عاجزمالیر کوٹلوی﷫ کی تالیف ہے۔اس کتا ب کا زیادہ  حصہ ان کی دیگر کتب   کےمضامین کے انتخابات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں انہوں  نے  دور حاضر کے انسانوں کو قرآن کریم کی آیات کریمہ اور احادیثِ رسول اللہﷺ کے حوالے  سے یاددلایا ہے  کہ وہ جس طرح دنیا کی زندگی  میں کثرتِ مال ودولت ور آل واولاد کےلیے شب وروز سرگرم عمل ہیں ،اور وہ اس میں اس حد تک تجاوز  کر گئے ہیں کہ ان کی  زندگی کا مطمح نگاہ اورمقصودہی مال ودولت کی کثرت رہ گیا ہے۔ جس  کے باعث وہ قرآن کی آیت کریمہ  کے مطابق ’’تکاثر‘‘ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے ہیں  اور مزید ہورہے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ شہرخموشاں (قبرستان) کی جانب رواں دواں ہیں اسی طرح انہیں اس پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ وہ اس شہر میں رہائش پذیر ہونے کےلیے اپنے  سانھ کیا زاد سفر لے جارہے ہیں ۔ کیونکہ یہ دنیا کی زندگی  تو عارضی ہے اور حیات ابدی تو آخرت میں نصیب ہوگی۔الغرض اپنے موضوع کے اعتبار سےیہ منفرد کتاب  ہے ۔اللہ تعالیٰ  مصنف کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-shehzada-e-toheed-la-ilaha-illallah
    مائل خیرآبادی
    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے کہانیوں کے انداز میں سچے واقعات قلمبند کیے ہیں۔ اس کتاب میں توحیدکے شہزادے کی کہانی بیان کی گئی ہے اس کے علاوہ اس میں اس بے عمل ریا کار راہب کی بھی کہانی ہے جس نے اللہ کی رضا و خوشنودی کی جگہ جب لوگوں کی خوشی و چاہت کو اہمیت دی تو اس کا کیا عبرتناک انجام ہوا۔ اسی طرح کئی اور دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں بھی اس میں شامل ہیں۔ اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1275 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں