• pages-from-khatam-e-nabuwwat-mm-shafi
    مفتی محمد شفیع

    مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺاللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ  ﷺکو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ﷺکے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیت میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا  ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: َّماا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا(الاحزاب، 33 : 40)ترجمہ: محمد ﷺتمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالٰیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا کہ آپ ﷺ ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو اس منصب پرفائزنہیں کیا جائے گا۔  قرآن حکیم میں متعددآیات ایسی ہیں جو اشارۃً یا کنایۃً عقيدہ ختم نبوت کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ خود نبی اکرم ﷺنے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ فاضل مصنف مولانامفتی محمدشفیعؒ صاحب نےمدلل انداز میں اپنی  کتاب’ختم نبوت‘میں اس  موضوع کوبیان کیا ہے۔ اللہ رب العزت ان کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین(شعیب خان)

  • title-pages-khawab-aur-tabeer
    شیخ عبد الغنی ابن اسماعیل نابلسی
    عام زندگی میں ہر انسان کو خوابوں سے واسطہ رہتا ہے جہاں انسان اچھا خواب دیکھ کر خوش ہوتا ہے وہیں برا خواب دیکھ کر پریشان بھی ہو جاتا ہے۔ خوابوں سے متعلق مناسب شرعی رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے لوگ فقط نیند میں نظر آنے والے واقعات پر کچھ غیر شرعی افعال سرانجام دینے لگتے ہیں۔ بہر حال شریعت مطہرہ نے اس سلسلہ میں بھی انسان کی کامل رہنمائی فرمائی ہے۔ علمائے امت نے دیگر فنون کی طرح اس فن کی بھی حفاظت کی اور اس فن میں بھی بہت سی کتب تصنیف فرمائیں جن میں شیخ عبدالغنی بن اسماعیل نابلسیؒ کی مشہور زمانہ کتاب ’تعطیر الأنام فی تعبیر المنام‘ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اسی کتاب کا اردو قالب اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے اس بات کو خاص طور پر مد نظر رکھا گیا ہے کہ ترجمہ سلیس اور بامحاورہ تو ہو لیکن مفہوم سے یک سرمو انحراف نہ ہو۔ کتاب کی فہرست میں عنوانات کا اردو ترجمہ تحریر کیا گیا ہے اورحروف تہجی کے اعتبار سے انھیں رقم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی خواب کی تعبیر آسانی سے تلاش کی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ترجمہ اصل کتاب کا کیا گیا ہے نہ کہ معروف مصطفیٰ زریق صاحب کی تلخیص کا، جو کہ لوگوں میں اصل کتاب کے طور پر متعارف ہے۔ خوابوں کے حوالے سے یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر قسم کے خواب کی تعبیر نہیں ہوتی۔ کتاب کےمقدمہ میں بھی مصنف نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور ایسے خواب جن کی تعبیر نہ ہو ان کی سات قسمیں بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام خوابوں میں صحیح ترین خواب بشریٰ ہیں جو طبیعت میں سکون، لباس، پوشاک اور خوراک کے معیاری ہونے اور صحت مند ہونے کی صورت میں دیکھے جاتے ہیں یہ خواب اکثر سچے ہوتے ہیں اضغاث کم ہوتے ہیں۔ایسے خوابوں کی انھوں نے پانچ قسمیں بیان کی ہیں۔اس کے علاوہ خواب سمجھے بغیر تعبیر بیان کر دینا بھی بہت خطرناک ہے۔خوابوں کے تعبیر کرنے کے کچھ اصول ہیں ان اصولوں سے آگاہی کے بغیر تعبیر شروع کر دینا بھی دست نہیں ہے۔ کتاب میں تعبیر سے متعلقہ تمام تر چیزوں کی وضاحت کر دی گئی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-khawabon-ka-safar
    محمد عظیم حاصلپوری

    خواب خصالِ انسانی کاحصہ ہیں ہر انسان زندگی میں اس سے دوچار ہوتا ہے کبھی اسے اچھے اور کبھی بڑے خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آدمی اچھے خواب دیکھتاہے تو اس بات کی تڑپ ہوتی ہے کہ خواب میں اسے کیا اشارہ ہوا ہے اور جب برے خواب ہوں تو خوف زادہ ہوجاتاہے ایسے میں انسان کی قرآن وسنت سے راہنمائی بہت ضروری ہے ۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کی گئی وہ نیند میں خواب تھے آپ جوبھی خواب دیکھتے اس کی تعبیر صج کے پھوٹنےکی مانند بالکل آشکارہوجاتی ''اور نبی ﷺنے فرمایا ''نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ہے ''خوابوں کی تعبیر ،احکام او راقسام کے حوالوں سے احادیث میں تفصیل موجود ہے ۔ اس سلسلے میں متقدمین میں سے امام ابن سرین  کی کتاب قابل ذکر ہے جو کتاب وسنت ویٹ سائٹ پر موجود ہے ۔زیر نظر کتاب ''خوابوں کاسفر''از محمدحسن ظاہر ﷾ بھی اسی موضوع پر اہم کتاب ہے فاضل مصنف نے اس میں خواب کے متعلق احکام اور انبیاء و رسل،صحابہ کرام ،تابعین،تبع تابعین او رنیک لوگوں کےخواب جمع کرکے ان کی ضروری وضاحب بھی کردی ہے اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور قلم میں برکت عطاء فرمائے (آمین)( م۔ ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-khushbue-jannat-se-mehroom-log-copy
    حافظ عبد الرزاق اظہر

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔اہل ایمان اور صالحین کو تو جنت کی خوشبو تو چالیس کی مسافت سے آنا شروع ہوجائے گی لیکن گناہ گار لوگوں کو جنت کی خوشبو تک نہیں آئی گی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خوشبوئے جنت سے محروم لوگ ‘‘ محترم جناب حافظ حافظ عبد الرزاق اظہر ﷾ کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآ ن وحدیث کے واضح اور مضبوط دلائل سے ان معاشرتی برائیوں اور کبیرہ گناہوں اوراخلاقی پستیوں کو بڑے عمدہ پیرائے میں یکجا کردیا ہے جو حقیقت میں بندوں کو جنت کی اس خوشبو جو چالیس برس کی مسافت سے آنا شروع جائے گی سے محرومی کا باعث ہیں۔(م۔ا)

  • title-pages-khoufe-khuda-copy
    ہارون یحییٰ

    اللہ تعالیٰ کاخوف ہی دراصل  اللہ پرکامل ایمان   ہونے کاٹھوس  ثبوت اورآخرت کی  زندگی  میں  ملنے  والے  اجر کی  اہم نشانی  ہے ۔  آخرت کی زندگی میں  خود کو نارِ جہنم سے  محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ خوف ِ الٰہی   او رپرہیز گار ی  کو اختیار کرنے میں ہے ۔روز ِحساب ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے  جس  سےبچنا ناممکن  اور جس کے بارے  میں خصوصی طور  پر غور  وفکر  کرنالازم ہے۔ تاہم  یہ خوف صرف ایمان والوں کونصیب ہوتاہے اور یہ ایک خاص قسم  کاخوف ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات  اور نبی کریم  ﷺ  نےاحادیث میں  روزِ  قیامت  پیش  آنے والے  مختلف واقعات  بیان کردیئے ہیں ۔دنیا کی مختصر سی  زندگی میں انسان  جوکام بھی کرتا ہے  اس کے اعمال نامے میں  لکھا جارہا ہے ۔ اورہر انسان  اس دن کی طرف تیزی  سے بڑھ رہا ہے  جب   انسان کواللہ کےحضور پیش ہوکر اپنے اعمال کے لیے  جوابدہ ہونا پڑے گا۔ چنانچہ اہل ایمان کو    یہ  امید کرنی چاہیےکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں میں  شامل کردے  جو اللہ تعالیٰ سے  ڈرتے ہوئےاس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا خوف بڑی چیز ہے  ۔ جسے  یہ دولت  حاصل ہوگی  وہ بہت  بڑا خوش نصیب ہے  ۔ جس  کےدل  میں خوف الٰہی  ہوگا وہ گناہوں  سے دور رہے گا اوراس کےلیے  بڑے  برے درجات ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ(سورۃ الرحمن:46) یعنی  جو  شخص  قیامت کےدن  اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کاڈر  اپنے دل میں رکھتا ہے اوراپنے  تئیں نفس کی خواہشوں سےپچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا ہے۔ زندگانی  کے پیچھے پڑ کر آخرت سے  غفلت نہیں کرتا ،بلکہ آخرت کی فکر زیادہ  کرتا ہےاور اسے  بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے ۔ فرائض بجا لاتا ہے۔محرمات سےرکتا ہے  قیامت کےدن  اسے  ایک  نہیں  بلکہ  دو  جنتیں ملیں گی۔اللہ تعالیٰ تمام  ایمان اہل  کواپنے دلوں میں  اللہ تعالیٰ خوف اور تقویٰ ،پرہیزگاری پیدا کرنے کی توفیق  عطافرمائے ۔زیر نظر کتاب  ’’خوف خدا‘‘  ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے  اپنے  منفرد انداز میں    خوف الٰہی  کی حقیقت اور فوائد وثمرات کو آیات قرآنی  کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو لوگوں کےدلوں  میں اپنا  کاخوف پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے  (آمین )  (م۔ا)

  • title-pages-dajjal-aur-qiyamat-ki-nishaniyan
    مدثر حسین سیان
    تاریخ عالم کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن  کی طرح  واضح ہوتی  ہے کہ ہر دور میں  اہل حق  باطل قوتوں  کے ساتھ برسرپیکار رہے ہیں ۔ جلد یا بدیر فتح اہل حق  کا مقدر ٹھہری ہے ۔تاریخ کے صفحات میں بدر وحنین  ، موتہ وتبوک، قادسیہ و یرموک ،ایران و روم ، افغانستان  و ہندستان ،شام وعراق ،فلسطین وبیت  المقدس کی فتوحات کے زریں نمونے آج بھی موجود ہیں ۔حق وباطل کا یہ معرکہ قیامت تک یونہی چلتا رہےگا۔اور خروج دجال انہی معرکوں کے تناظر میں ہوگا۔گزشتہ کچھ دہائیوں سے   خروج دجال کے بارےمیں مختلف قسم کی آرا سامنے آئی  ہیں ۔حتی کہ بعض مفکرین اور ریسرچ سکالرز نے موجودہ دور کی سپر پاور امریکہ کو ہی دجال سے تعبیر کردیا ہے۔ان کا کہنا کہ امریکہ کی تہذیب اور طاقت سب کچھ دجالیت ہی ہے۔درج ذیل کتاب راقم الحروف کا ایم فل کا ایک تحقیقی مقالہ ہے جس میں اس رائے کوپیش نظر رکھتے ہوئے دجال کے بارے میں   سلف کی رائے سامنے لانے کی  کوشش کی گئی  ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے  دجال کے بارے میں مسیحی اور یہودی تعلیمات کا بھی جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔تاکہ دجال کے بارے میں تمام قسم  کی اراوتعلیمات سامنے رکھ کر ایک درست مؤقف اپنانا ممکن ہو۔مصنف کا  خیال ہے کہ موجودہ امریکن جنگ  کو معرکہ ءخیر وشر کی  ایک کشمکش  تو  کہا  جاسکتا ہے لیکن اسے  فتنہءدجال سے  تعبیر نہیں کیا جاسکتا ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس طرح کے حالات پیدا ہو رہے  جن  میں دجال  کا ظہور ہوگا۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-dajjal-aur-alamat-e-qiyamat-ki-kitab
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    کتاب وسنت میں یہ امر پوری  طرح واضح کر دیاگیا ہے کہ دنیا کی یہ موجودہ زندگی عارضی اور فانی ہے اصل اور حقیقی زندگی آخرت کی ہے،لہذا اس کی فکر کرنی چاہیے۔لیکن اس کے باوجود آج ہم دنیوی آسائشوں کی طلب میں مگن ہیں اور اپنی اخروی زندگی کو فراموش کر چکے ہیں۔زیر نظر کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایک دن اب آنے والا ہے جب ہمیں اسے ہر عمل کا جواب دہ ہونا پڑے گااس دن کے آنے سے پہلے تو بہ کر لینی چاہیے ۔کتاب کے مباحث تین حصوں میں منقسم ہیں:پہلے حصے میں قیامت کی چھوٹی علامات  بیان کی گئی ہیں،دوسرےحصے میں قیامت خروج دجال پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور تیسرے حصے میں قیامت کی بڑی بڑی اور فیصلہ کن علامات کا ذکر کیا گیا ہے ۔اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ بحث و نظر کی بنیاد  قرآن مجید اور احادیث صحیحہ پر رکھی گئی ہے۔دلائل کو مکمل حوالہ جات کے ساتھ مزین کیا گیا ہے اور احادیث کی مکمل تخریج و تحقیق کی گئی ہے۔(ط۔ا)
  • pages-from-dawat-ilallah-aur-daaee-key-ausaf
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کے اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش وودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا او ران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے   پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوت دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوہ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج دعوت اور اصول دعوت کے حوالے سے   اہل علم نے عربی اوراردو زبان میں کئی کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی کتب قابل ذکر ہیں جوکہ آسان فہم او ردعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ دعوت الی اللہ اور داعی کے اوصاف،سنت واجب العمل ہےاور اس کا منکرکافر ہے‘‘ شیخ ابن باز﷫ کے دواہم مقالوں(وجوب العمل بالسنۃ وکفر من انکرھا اور الدعوۃ الی اللہ ) کا اردو ترجمہ ہے۔ ایک کا تعلق دعوت الی اللہ کی اہمیت وفضلیت سے ہےاس کے ضمن میں مبلغ او رداعی کے اوصاف وخصائل پر مختصر بحث کی گئی ہے اور دوسرے مقالہ میں بدلائل واضح اور براہین قاطعہ سے ثابت کیا ہے کہ سنت رسولﷺ مستقل ماخذ شریعت ہے اور اس پر عمل واجب ہےاورجو انسان اس کا منکر ہے وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ الغرض یہ دونوں رسالے ایجاز اوراختصار کےباوجود جامع ہیں گویا کہ کوزہ میں بند دریا ہے۔ان رسالوں کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر شیخ الحدیث استاذی المکرم حافظ ثناء اللہ مدنی ﷾ کے تلمیذ رشید حافظ محمد اسلم (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے انہیں اردو قالب میں ڈھالا اور الادارۃ الاسلامیہ ،فیصل آباد نےشائع کیا۔(م۔ا)

  • ttle-pages-dil-qalb
    جلال الدین قاسمی
    وجود انسانی  کا مرکز دل ہے   انسانی  زندگی کی بقا کے لیے ضروری  ہے  کہ  اپنے  مرکز دل سے  اس کا  رابطہ برابر قائم رہے ، قلب ہی  وہ اولین  سرچشمہ ہے جہاں سے خیالات،احساسات ،جذبات اورارادوں کےجھرنے پھوٹتے  ہیں فساد اگر اس میں  آجائے تو پھر سارے کردار میں پھیل جاتا ہے  او راصلاح بھی اگر اس سرچشمہ کی ہوجائے تو ساری  سیرت سنور جاتی  ہے ۔ قلب درست ہو تو  یہی  اصل مربی  ومزکی ہے یہی مفتی  وجج ہے  یہی اگر بگڑ جائے  تو  باہر  کی کوئی امداد انسان کو نہیں سنوار سکتی  اور دل  انسانی  جسم  کا اہم  او رکلیدی  عضو ہے جو جسم  انسانی  کی طرح فکروعمل میں بھی  بنیادی  کردار کرتا ہے  اس لیے  قرآن  وحدیث  کی نظر میں  قلب کی درستی  پر انسانی  عمل  کی درستی کا  انحصار  ہے  نبی  کریم  ﷺ نے  فرمایا یاد رکھو!کہ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے  اگر وہ  سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور  جووہ بگڑا تو سارا بدن بگڑگیا ،سنو وہ  دل ہے۔ اور اسی طرح  ارشاد نبوی  کی  ترجمانی کسی  شاعرنے ان الفاظ میں کی ہے :
    دل کے بگاڑ ہی  بگڑتا ہے آدمی         جس نے اسے  سنبھال لیا وہ سنبھل گیا
    زیر نظر  کتابچہ بھی  اس موضوع پر مولاناجلال الدین قاسمی کی ایک دلچسپ کتاب ہے  جس میں  انہوں نے  قلب کے معنی  ومفہوم اور انسانی جسم  میں  اس کے کردار کو  قرآن  مجید اور احادیث نبویہ کی روشنی میں پیش کیا  ہے   اللہ سے  دعا ہے اس  کے  مطالعہ سے  اللہ تعالی  دلوں کی اصلاح فرمائے (آمین)( م۔ا)
  • title-pages-dalail-e-hasti-bari-tala-copy
    عبد الرؤف خان رحمانی جھنڈانگری

    زندگی اور کائنات کی سب سے اہم حقیقت اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے ہر چیز کے معنیٰ بدل جاتے ہیں ۔ اگر اللہ ہے تو زندگی اور کائنات کی ہر چیز بامعنی اور بامقصد ہے اور اگر اللہ موجود ہی نہیں تو پھر کائنات کی ہر چیزبے معنی اور بے مقصد ہے۔ لیکن اسلام میں اہمیت اللہ کے ہونے یا نہ ہونے کو حاصل نہیں بلکہ اللہ کی الوہیت کو حاصل ہے ۔ قرآن مجید انسان کو کائنات میں غور کرنے اور اس میں  اللہ تعالی کی نشانیاں تلاش کرنے پر ابھارتا ہے۔ قرآن مجید میں زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج، چاند اور ستارے، جانوروں میں دودھ بننے کے پیچیدہ عمل کی طرف اشارات، انسان کی پیدائش میں اللّٰہ تعالی کی قدرت کی نشانیاں، سمندروں میں کشتیوں کا چلنا، بارش بننے کا عمل، پہاڑوں کے فوائد، رات اور دن کا باری باری آنا جانا وغیرہ کو اللہ تعالی کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور بناوٹ میں غور کرنے کی خاص طور پر ترغیب دلائی گئی ہے۔ تمام عقلاء اس بات پر متفق ہیں کے صنعت سے صانع(بنانے والا) کی خبر ملتی ہے مصنوع (جس کو بنایا گیا)اور صنعت (factory)کو دیکھ کر عقل مجبور ہوتی ہے کہ اس کے صانع کا اقرار کرے۔ دہریئے(atheist) اور لا مذہب لوگ بھی اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ فعل کے لئے فاعل کا ہونا ضروری ہے ۔ پس جب ایک بلندعمارت اور ایک بڑا قلعہ اور اونچے مینار کو اور ایک دریا کے پل کو دیکھ کر عقل یہ یقین کر لیتی ہے کہ اس عمارت کا بنانے والا کوئی ضرور ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کائنات کا وسیع وعریض نظام بغیر کسی چلانے والےکے چل رہا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب "دلائل ہستی باری تعالی" محترم عبد الرؤف بن رحمت اللہ جھنڈا نگری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسی طریقے اے  اللہ تعالی کے وجود پر عقلی ونقلی دلائل کو جمع کر دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-duniya-aur-akhrat-ki-haqiqat-kitab-w-sunnat-ki-roshni-me-copy
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

    دنیا کی زندگی ایک کھیل کود سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔مسند احمد میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :”دنیا سے میرا بھلا کیا ناطہ! میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی چھاؤں میں گرمیوں کی کوئی دوپہر گزارنے بیٹھ جائے ۔ وہ کوئی پل آرام کر ے گا تو پھر اٹھ کر چل دے گا“ترمذی میں سہل بن عبداللہ کی روایت میں رسول اللہ فرماتے ہیں : ”یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافرکوا س دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا“صحیح مسلم میں مستورد بن شداد کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”دنیا آخرت کے مقابلے میں بس اتنی ہے جتنا کوئی شخص بھرے سمندر میں انگلی ڈال کر دیکھے کہ اس کی انگلی نے سمندر میں کیا کمی کی “ تب آپ نے اپنی انگشت شہادت کی جانب اشارہ کیا ۔ “زیر تبصرہ کتاب" دنیا اور آخرت کی حقیقت، قرآن وسنت کی روشنی میں "محترم مولانا ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں دنیا وآخرت کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے، اور تمام مسلمانوں کو دنیا کی حقیقت کو سمجھ کر آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (راسخ)

  • pages-from-dunya-ka-khatma
    ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی

    وقوع  قیامت کا  عقیدہ اسلام کےبنیادی عقائد میں سےہے اور ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔  قیامت آثار  قیامت کو  نبی کریم  ﷺ نے احادیث میں  وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے  جیساکہ احادیث میں  میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک عیسیٰ بن مریم﷤ نازل نہ ہوں گے۔ وہ دجال اورخنزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی﷤ کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے  سے ائمہ محدثین نے  کتب احادیث میں ابواب بندی بھی کی  ہے اوربعض  اہل علم نے اس موضوع پر  کتب  لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دنیا کاخاتمہ‘‘ سعودی عرب کے مایہ ناز عالم دین ڈاکٹر محمدبن عبد الرحمٰن العریفی﷾ کی عربی کتاب ’’نہایۃ العالم اشراط الساعۃ الصغریٰ واالکبریٰ مع صور و خرائط و توضیحات‘‘  کا آسان اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب علامات قیامت کے متعلق پہلی تصویری کتاب ہے جس میں قرآن و احادیث کی روشنی میں ان تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں جن کے متعلق آج کل خبریں یا کتابیں چھپ چکی ہیں۔ان کتابوں میں ہر مصنف نے اپنے ہی نظریے کو سچ ثابت کرنے کے لیے دلائل دیے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں مصنف نے اپنی کوئی بات بھی پیش نہیں کی ہر خبر کے آثار قرآن و حدیث سے اخذ کیے ہیں۔ مصنف نے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں قیامت کی 131 چھوٹی علامات اور دوسرے حصے میں 10 بڑی علامات قیامت بیان کی ہیں۔ ہر موضوع سے پہلے خصوصی تحریر’’کچھ اس باب سے متعلق‘‘ کے عنوان سےلکھی ہے۔ جس سے قاری کے ذہن میں موجود سوالات اور موضوع سےمتعلق پیچیدگی کو آسان بنایا گیا ہے۔ اور ہر موضوع کی مناسبت سے پر ذوق تصاویر کا انتخاب کیاگیا ہے۔ مختلف رنگوں کی مدد سے حدیث رسول ﷺ، صحابہ ائمہ کےاقوال، قرآنی آیات کے تراجم اور حوالہ جات کی الگ الگ نشان دہی کردی گئی ہے۔ یہ کتا ب اپنی علمی پختگی کی وجہ سے بہت جلد مقبول ہوئی اور عربی زبان میں اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے لاکھوں نسخے چند مہینوں میں فروخت ہوگئے۔اسی وجہ سے اردو داں طبقہ کے لیے جناب شیخ شفیق الرحمٰن الدراوی ﷾ نے اس انداز میں اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہےکہ ترجمے کی روانی اور سلاست نے اصل کتاب کی اساس کو برقرار رکھا ہے۔ کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی﷾ سعودی عرب کے دار الحکومت الریاض کے باشندے ہیں اور وہیں ایک معروف یونیورسٹی کے شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔دعوت دین کے حلقوں میں ان کا نام جانا پہچانا ہے۔ دعوتِ دین کے میدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے‘‘ سرفہرست ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-dunia-ka-musafir-ya-akhrat-ka-rahi-jadeed-audition--copy
    سعد حسن خان یوسفی ٹونکی

    دنیا میں انسان کا اس کی رفتارکاپہلا قدم ہے جب سے یہ دنیا میں آیا ہے اس کو ایک منٹ کےلیے قرارنہیں۔دنیا ایک عارضی اور فانی جگہ ہے،ہر انسان نے یہاں سے چلے جانا ہے۔جبکہ آخرت دائمی اور ہمیشہ رہنے والی جگہ ہے،اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے ،آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے ،کاش وہ اس حقیقت کو جانتے ۔(عنکبوت:64)نبی کریم ﷺ نے دنیا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: آدمی کہتا ہے میرا مال میرا مال،حالانکہ اس کا مال صرف تین چیزیں ہیں: ایک وہ جو اس نے کھا لیا۔ دوسرا وہ جو اس نے پہن لیا اور بوسیدہ کرلیا ،اور تیسرا وہ جواپنے ہاتھ سے اللہ کے راہ میں دے دے کل قیامت کو اس کو اس کا بدلہ ملے گا کیونکہ وہ تو اللہ کے پاس چلا گیا اور اللہ کے پاس چلا گیا تو آخرت میں اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ فرمایا :اس کے علاوہ جو بھی مال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ گئے یہ اس کا مال نہیں ہے۔ یہ تو ورثاء کا مال ہے پھر ورثاء بعد میں لڑتے بھی ہیں۔دوسری جگہ فرمایا: میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی چھاؤں میں گرمیوں کی کوئی دوپہر گزارنے بیٹھ جائے ۔ وہ کوئی پل آرام کر ے گا تو پھر اٹھ کر چل دے گا۔تیسری جگہ فرمایا: ”یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافرکوا س دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا۔ زیر تبصرہ کتاب" دنیا کا مسافر یا آخرت کا راہی "مولانا سعد حسن خان یوسفی ٹونکی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے۔۔آمین۔یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی سائٹ پر موجود تھی لیکن وہ اس کتاب کا پرانا ایڈیشن ہے ۔اب ہمیں اس کتاب کا جدید ایڈیشن دستیاب ہو لہٰذا ا سے بھی سائب پر پبلش کیا جارہا ہے ۔(م۔ا)

  • title-page-duna-k-ay-musafir
    یہماری دنیوی زندگی ایک سفرہے اور یہ دنیاایک سرائے ۔ہم مسافرہیں اورہماری منزل آخرت ہے ۔اب یہ ہمارے اوپرمنحصرہےکہ آخرت میں بارگاہ ایزدی میں پیشی کےلیے کس حدتک تیار کرتے ہیں ۔یہ تیاری عمل ہی کے ذریعے ہوسکتی ہے ۔جس کاعمل اللہ تعالیٰ کے احکام اورسنت رسول کے مطابق  ہوگاوہ اللہ سےملاقات کےلیے بے تاب ہوگااوراللہ تعالی ٰ بھی اپنے بندے کےلیے راستے آسان کردے گا۔اگریہ عمل اللہ تعالی ٰ کی نافرمانی ،بغاوت ،سرکشی اورخواہش نفس پرمبنی ہوگاتواللہ تعالیٰ سے ملاقات کی بجائے سزااس کی منتظرہوگی ۔زیرنظرکتاب میں اسی سفرکی تیاری کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔زندگی کااصل مقصد،موت کامنظراورقبروحشرکےمراحل کےساتھ ساتھ یہ بھی بتایاگیاہے کہ میت کوغسل دینے،اس کاجنازہ پڑھنے اوراظہارغم کاشرعی طریق کارکیاہے ۔بعض ایسے اعمال کی حقیقت کابھی قرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لیاگیاہے ،جومعاشرے میں عمومی طورپررائج ہیں ،مثلاً ایصال ثواب اورقرآن خوانی وغیرہ ،ہرمسلمان کولازماً اس کتاب کامطالعہ کرناچاہیے تاکہ وہ سفرآخرت کی بہترتیاری کرسکے۔


  • title-page-dunaivi-masaib-o-mushkalat
    شوانہ عبد العزیز

    یہ دنیاآزمائش گاہ ہے ۔خداوندقدوس نےموت وحیات کی تخلیق کامقصدہی یہ قراردیاہے کہ وہ اس کے ذریعے ہماری آمائش کرناچاہتاہے کہ ہم میں سے کون اچھے عمل کرتاہے اورکون برے عمل اپناتاہے ۔دنیامیں انسان کوکئی طرح کی مشکلات اورمصیبتوں سے دوچارہوناپڑتاہے ۔یہ آزمائش اس لیے ہوتی ہے کہ انسان کاتعلق خداکےساتھ مضبوط ہوتاہے یاوہ اس سے دورہوجاتاہے۔زیرنظرکتابچہ میں دنیوی مصائب ومشکلات کےحوالے سے قرآن وسنت کی روشنی میں راہنمائی کی گئی ہے کہ ان میں ایک انسان سے کون سارویہ اورکردارمطلوب ہے ۔دعاء توکل علی اللہ اوراللہ سے اجروثواب کی امیدہی وہ طرز عمل ہے جومصائب کی صورت میں انسان کے لیے مناسب ہے ۔اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرتوں سے بھی یہی تصویرسامنے آتی ہے ۔

     

     

  • title-pages-dosti-aur-dushmani-ka-islami-mayar
    صالح بن فوزان الفوزان

    اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے بعد ضروری ہے کے اللہ تعالٰی کے دوستوں کے ساتھ محبت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ عداوت ونفرت قائم کی جائے چنانچہ عقیدہ اسلامیہ جن قواعد پر قائم ہے، اُن میں سے ایک عظیم الشان قاعدہ یہ ہے کے اس پاکیزہ عقیدے کو قبول کرنے والا ہر مسلمان اس عقیدے کے ماننے والوں سے دوستی اور نہ ماننے والوں سے عدوات رکھے۔اسلام میں دوستی اور دشمنی کی بڑی واضح علامات بیان کی گئی ہیں، ان علامات کو پیش نظر رکھ کر ہر شخص اپنے آپ کو تول سکتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام کی دوستی اور دشمنی کے معیار پر پورا اُتر رہا ہے۔زیر نظر کتابچہ اس موضوع پر اہم رسالہ ہے جو کہ شیخ صالح بن فوزان کے ایک عربی رسالہ الولاء والبراء کا عربی ترجمہ ہے ۔ معروف عالمِ دین فضیلۃ الشیخ مولانا عبداللہ ناصر رحمانی ﷾ نے خود اس کا ترجمہ کر کے مکتبہ عبد اللہ بن سلام کراچی سے شائع کیا ہے اس رسالے کو مولف نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے پہلے حصہ میں قرآن واحادیث کی روشنی میں ان دس امور کو بیان کیا ہے جو کفار سے دوستی اور محبت کی دلیل ہیں اور دوسرے حصہ میں ان دس امور کوبیان کیا جو مسلمانوں سے محبت کی علامت ہیں اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title
    عبد العزیز بن سلیمان

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا گیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔زیر نظر کتاب اسلام کے انہی عظیم محاسن پر مشتمل ہے ،جو سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبد العزیز محمد السلمان کی کاوش ہے۔جس کا اردو ترجمہ ابو اسعد قطب الدین محمد الاثری نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب مسلمانوں کے نافع ومفید بنائے،اور ہمیں بھی اسلام کے ان عظیم محاسن کو اپنے کی توفیق دے ۔آمین (راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-deen-e-islam-ke-muhasinjadeed-audition
    عبد العزیز بن سلیمان

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا گیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔زیر نظر کتاب اسلام کے انہی عظیم محاسن پر مشتمل ہے ،جو سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبد العزیز محمد السلمان کی کاوش ہے۔جس کا اردو ترجمہ ابو اسعد قطب الدین محمد الاثری نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب مسلمانوں کے نافع ومفید بنائے،اور ہمیں بھی اسلام کے ان عظیم محاسن کو اپنے کی توفیق دے ۔آمین (راسخ)

  • title-pages-deen-me-bighar-ka-sabab-ghaluw-copy
    عبد الغفار حسن

    اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی  ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" دین میں بگاڑ کا سبب غلو،  دین میں اعتدال کی راہ" فضیلۃ الشیخ عبد الغفار حسن صاحب، سابق پروفیسر مدینہ یونیورسٹی اورمولانا محمد خالد سیف صاحب  کےدو مقالات پر مبنی ہے، جس میں سے پہلا مقالہ دین میں بگاڑ کا سبب غلو کے موضوع پر ہے جبکہ دوسرا مقالہ دین میں اعتدال کی راہ کے موضوع پر ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  دونوں مقالہ نگار حضرات کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-deen-kay-teen-aham-usool-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    انسان كي تخليق كا مقصد الله تعالي نے اپنی عبادت رکھا ہے اس لیے انسان کو نہ تو رزق کے معاملے میں زیادہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی دنیا کے حصول کے لیے اپنے آپ کو کھپا دینا چاہیے بلکہ اللہ تعالی نے اس کے رزق کا ذمہ خود لیا ہے جبکہ انسان کو دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا پابند کیا ہے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو شعور بخشا ہے اور اس کو فطرت اسلام پر پیدا فرمایا تاکہ یہ اپنی گمراہی کو بے علمی کے عذر سے پیش نہ کر سکے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف طریقوں سے یہ باور کروا دیا ہے کہ کوئی خالق ومالک اور کوئی ایسی ہستی ہے جو سارا نظام چلا رہی ہے اور اس دنیا کی ہر چیز کو کنٹرول کیے ہوئے ہے-اس لیے ہر مسلمان کو جن چیزوں سے معرفت ضروری ہے مصنف نے اپنی کتاب میں ان چیزوں کو موضوع بنایا ہے اور وہ اہم چیزیں درج ذیل ہیں:

    1-اللہ تعالی کی معرفت

    اللہ تعالی نے زمین وآسمان ،سورج،چاند اور ستاروں،شجر حجر اور پہاڑوں سے اور دنیا کے نظام سے اپنی معرفت کروائی ہے اور حتی کہ فرمان باری تعالی کے مطابق خود انسان کی اپنی جا ن میں بہت ساری نشانیاں موجود ہیں-

    2-دین کی معرفت

    دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو زندگی گزارنے کے لیے جو راہنمائی فراہم کی جاتی ہے اس کو وحی کا نام دیا گیا ہے اور اس کے ذریعے انسان کو اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود وقیود کا پابند کیاجاتا ہے تاکہ اس کی زندگی میں افراط وتفرط نہ آئے اور معتدل رویے سے زندگی بسر کرے-لہذا انسان کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ اس وحی کو پہچانے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرے اسی پہچان کا نام دین کی معرفت ہے-

    3-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت سے مراد یہ ہے کہ ان کو پیغمبر مان کر ان پر ایمان لایا جائے اور ان کی تعلیمات کو حرف آخر سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس کا پابند کیا جائے اور اس چیز کا عقیدہ رکھا جائے کہ آپ آخری پیغمبر ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے-

    مصنف نے ان تین باتوں کو بڑے اچھے انداز سے بیان کیا ہے جن کا سیکھنا اور علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے
  • title-page-din-k-teen-bunyadi-osool-our-un-ki-sharha
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    یہ کتاب  ’’تین کے بنیادی اصول اور ان کی شرح‘‘کااردوترجمہ ہے کتاب ہذاکی افادیت اور اہمیت اس کےنام سے ہی واضح ہے ۔یہ کتاب طلباء اور عامۃ الناس کے لئے یکساں مفید ہی نہیں بلکہ ضروری ہے کیونکہ عقیدہ کی اصلاح اور درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل  اللہ تعالی کی بارگاہ  میں نہ ہی قابل قبول ہے اور نہ ہی باعث اجروثواب ہے خواہ وہ عمل طاہری طور پر کتنا خوشنما کیوں نہ ہواور پھر درست اعمال کے بغیر کسی بھی انسان کی اخروی نجات ممکن نہیں ۔اس کے علاوہ مصنف اور شارح کا انداز تحریر علمی ومنطقی ہے اور دقیق عبارات والفاظ کاترجمہ کرتے ہوئے قوسین میں مزید وضاحت بھی کردی گئی ہے ۔




  • title-pages-rah-e-haqq-k-taqaze-copy
    امام ابن تیمیہ

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔آپ کی کتابوں میں سے  ’’اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ اصحاب لجحیم‘‘ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اور غیر مسلموں سےمشابہت او ران کےخاص دن، رسوم اور رواج اپنانے یا ان میں شرکت کرنے پر بحث فرمائی ہے۔اصل کتاب عربی زبان میں  بڑی ضخیم کتاب ہے عام لوگوں کے لیے اس سے  استفادہ کرنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’راہ حق کےتقاضے ‘‘اسی کتاب کی تلخیص  کا اردو ترجمہ ہے ۔تلخیص کا کام  جامعۃ الامام محمد بن سعود کے پروفیسر جناب ڈاکٹر عبدالرحمٰن عبد الجبار فریوائی نے کیا اور اس تلخیص کو اردو قالب میں ڈھالنےکی  ذمہ داری انڈیا کے ممتاز سلفی عالم دین ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری نے  انجام دی۔ المکتبۃ السلفیۃ ،لاہورکےمدیرجناب احمد شاکر ﷾ نے تقریباً بیس سال قبل اسے  حسن طباعت سےآراستہ کیا ۔اللہ تعالیٰ بدعات و خرافات میں گھرے  لوگوں کےلیے اس کتاب کو نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-rahe-hidayat-kaise-mili
    محمد بن جمیل زینو
    شیخ محمد بن جمیل زینو سعودی عرب کے جلیل القدر عالم اور معروف مصنف ہیں۔ان کی تحریر کا اصل موضوع ’اصلاح عقائد‘ ہے اور اس سلسلہ میں متعدد کتابیں ان کے قلم سے نکل عوام و خواص میں سند قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔شیخ صاحب موصوف تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ میدان تدریس کے بھی شہسوار ہیں۔آپ شام کے شہر حلب میں 29سال تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔بعدازاں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے کہنے پر اردن میں دعوت و تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔کچھ عرصہ بعد مکہ مکرمہ کے ’دارالحدیث الخیریہ‘میں بطور مدرس مقرر ہوئے اور تفسیر ،حدیث اور عقیدہ کے اسباق پڑھانے لگے۔زیر نظر کتابچے میں شیخ نے اپنے ذاتی حالات و کوائف بیان کیے ہیں کہ کس طرح انہوں نے خالص عقیدہ توحید اختیار کیا۔یہ بات قارئین کے لیے یقیناً دلچسپ ہوگی کہ شیخ صاحب پہلے نقشبندی صوفی تھی،بعد ازاں سلفی عقیدہ کی نعمت سے مالا مال ہوئے ۔یہ کیسے ہوا،اس کتابچے میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
  • title-page-rabbe-kiynat-aur-us-ki-ibadat
    عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی
    اس کائنات ہست وبود کی ہرشے کاایک مقصد وجود ہے انسان جو اشرف المخلوقات ہے یقیناً  اس کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہیے قرآن کریم میں بتایاگیا ہے کہ انسان اور جن کی تخلیق کامقصد اللہ عزوجل کی عبادت ہے اللہ رب العزت جو اس کائنات کاخالق ومالک  اوررازق ہے وہی بندگی او رپرستش کا اصل مستحق ہے عقل بھی اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ جس ذات نےہمیں پیدا کیا ہماری پرورش اور تربیت کاانتظام کی اسی کے سامنے اپنی جبیں نیاز کو جھکانا چا ہئے تمام انبیاء علیم السلام کی دعوت بھی یہی تھی کہ لوگو !اللہ کی بندگی کرو اور اس میں کسی کوشریک نہ ٹھہراؤ زیرنظر کتاب میں اسی حقیقت کو انتہائی خوبصورت اور مؤثر پیرایے میں بیان کیا گیا ہے جس کے مطالعہ سے انسان اپنےمقصد وجود کی جانب متوجہ ہوسکتا ہے او راپنا حقیقی فرض جان سکتا ہے ۔


  • title-pages-rajab-aur-shabe-meraj
    الہدی شعبہ تحقیق

    رجب اسلامی سال کا ساتواں قمری مہینہ ہے اور حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے نبیﷺ نے فرمایا 'سال بارہ مہینوں کاہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں لفظ رجب ترجیب سےماخوذ ہے کہ جس کے معنی تعظیم کے ہیں ،اس مہینے کی تعظیم اور حرمت کی وجہ سے اس کا نام ''رجب '' رکھا گیا کیوں عرب اس مہینے میں لڑائی سے مکمل اجتناب کرتے تھے ۔اس مہینےمیں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا جن بعض اعمال کوفضیلت کےساتھ کے بڑھا چڑہا کر بیان کیاجاتا ہے وہ محض فرضی قصے اور ضعیف و موضوع روایات پر مبنی داستانیں ہیں لہذا جواعمال کتاب وسنت سےثابت ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے  مسلمان اس ماہِ رجب میں کئی قسم کے کام کرتے ہیں مثلا صلاۃ الرغائب، نفلی روزں کا اہتمام ، ثواب کی نیت سے اس ماہ زکاۃ دینا ،22 رجب کو کونڈوں کی رسم اداکرنا 27 رجب کو شب معراج کی وجہ سے خصوصی عبادت کرنا، مساجد پر چراغاں کرنا جلسے وجلوس کااہتمام کرنا،آتش بازی اور اس جیسی دیگر خرافات پر عمل کرنایہ سب کام بدعات کے دائرے میں آنے ہیں ۔زیر نظر کتابچہ اسی موضوع پرہے جس میں اختصار کے ساتھ قرآن واحادیث کی روشنی میں اس ماہ میں رواج پاجانے والی بدعات وخرافات کا رد کیا گیا ہے اور دلائل سےثابت کیا ہے کہ ان بدعات اور رسوم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کے مطالعہ سے اہل اسلام کو ان خرافات سے محفوظ فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • Title Page---Rajab K Kundo Par Aik Nazar
    محمد صادق خلیل
    اسلامی مہینہ کی بائیس رجب کو منائی جانے والی کونڈے بھرنے کی رسم اب پاک و ہند میں خوب شہرت پا چکی ہے۔ اسے جناب جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حالانکہ نہ تو یہ ان کا یوم پیدائش ہے نہ یوم وفات۔ یہ رسم دراصل شیعہ حضرات نے کاتب وحی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے یوم وفات کی خوشی منانے کیلئے ایجاد کی جسے نام نہاد اہلسنت کہلانے والے مسلمانوں نے بھی لاشعوری طور پراپنا لیا۔اس رسم کے ساتھ لکڑہارے کی داستان بھی وابستہ ہے۔ اس کتابچہ میں اس رسم کی تردید اور اس سے متعلقہ دیومالائی داستان کے خاص خاص حصوں کا علمی ، تحقیقی اور عقلی لحاظ سے جائزہ لیا گیا ہے۔

  • pages-from-rahmat-key-farishton-se-mehroom-ghar
    عکاشہ عبد المنان

    فرشتوں کی کئی اقسام ہیں اور تمام فرشتوں کا سردار حضرت جبریل امین ﷤ ہیں کہ جو تمام انبیاء﷩ پر اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آتے رہے ۔فرشتے بھی انسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مصروف رہتے ہیں اور انسانوں کی حفاظت اور ان کی سلامتی کے لیے دعابھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ خوش نصیب بندے ایسے ہیں جو ایسے اعمال سرانجام دیتے ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں اور درود کا مطلب علمائے کرام نے انسان کے لیے فرشتوں کو دعا و استغفار کرنا بتلایا ہے۔ اور کچھ بدقسمت ایسے ہیں جو ایسے کاموں میں بدمست رہتے ہیں جو اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت کا موجب بنتے ہیں۔ قرآن وسنت میں ایسے اعمال کی بالتفصیل بیان کردیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’رحمت کےفرشتے سے محروم گھر‘‘ ایک عربی تصنیف ’’بیوت لاتدخلہا الملائکۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے فرشتوں کے عجیب وغریب حالات اوراقسام نیز ان گھروں کا مفصل تذکرہ کیا ہے جن میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (م۔ا)

  • pages-from-rahmaan-key-saaye
    حافظ محمد ادریس کیلانی

    شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے۔ دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ خاطر رکھے۔دعاؤں کے حوالے سے بہت سے کتابیں موجود ہیں جن میں علماء کرام نے مختلف انداز میں دعاؤں کو جمع کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’رحمٰن کےسائے میں‘‘ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما حافظ محمد ادریس صاحب کی کاوش ہے۔ انہوں نےاس کتاب میں قرآنی دعاؤں کوجمع کیا ہے۔ یہ قرآنی دعاؤں کا مجموعہ ایک نرالی انفرادیت کا حامل ہے۔ اس میں ہر قرآنی دعا کے ساتھ ساتھ اس کامکمل تاریخی پس منظر بھی دیاگیا ہے۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر کسی دعا کو پڑھنےوالامحسوس کرتا ہے کہ گویا وہ خود اس ماحول میں موجود ہے اور ان حالات سے گزرر ہا ہے جن میں ابتداً وہ دعا مانگی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-radde-bidat-abdullah-ropri-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ او ر عبادت کےلیے    اللہ تعالیٰ   نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی تخلیق  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سنِ بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک   اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت   مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی   عبادات کو  دین   میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے   کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے   بدعت اور شرک ایسے جرم ہیں جو توبہ کے  بغیر معاف نہیں ہوتے ۔ شرک تو لیے  کہ مشرک اللہ کے علاوہ کسی اور کو مالک الملک کی وحدانیت کےبرابر لانے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور بدعت اس لیے کہ بدعتی اپنے عمل سےیہ تاثر دیتا ہے کہ دین نامکمل تھا اور اس نے دین میں یہ اضافہ کر کے اسے مکمل کیا ہے ۔یعنی  شریعت سازی کی مساعی ناتمام کادوسرا نام بدعت ہے ۔  اس  وقت بدعات وخرافات  اور علماء سوء نے پورے  دین کو  اپنی  لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے  راہبوں ،صوفیوں،  نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے  قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات  نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے  اسلام کی اصل  شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی  ہے۔دن کی بدعات  الگ  ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔بدعات وخرافات کی تردید  اور اتباع سنت کواجاگر کرنے کے لیے  ہر دور میں   اہل علم نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ ردِّ بدعات ‘‘ مجتہد العصر  حافظ عبد اللہ  محدث روپڑی ﷫ کا تصنیف شدہ ہے ۔ جس میں انہوں نے   مندرجہ ذیل مسائل کی  پوری تحقیق پیش کی ہے ۔اسقاط میت ،  میت کودفن کر کے چالیس قدم پر دعا کرنا ، اہل میت  کے گھر فاتحہ کےلیے  جمع ہونا ، اہل  میت کا دریا پر نہانا ، اہل میت کے گھر کچھ روز  تک گوشت نہ آنے دینا ، بچہ کے ختنہ کے وقت تلوار لے کر کھڑے  ہونا او ربچہ کوٹوکری میں  رکھ  بکری کے سر پر بٹھانا ، خطبہ  میں سنتیں پڑہنا ، مسئلہ توسل ، ذکر لا الہٰ الا اللہ جمع ہو کر تمام رات  پڑھنا،  اذان میں محمد ﷺ کے نام  پر انگوٹھے  چوم کر آنکھوں پر ملنا، ظہر احطتیاطی پڑہنا ،  انگریزی بال رکھنا ، ڈاڑہی منڈانا ، گیارہویں  کا ختم ،  سماع موتی،  قبوں کاگرانا، حدیث  قرن شیطان، اہل نجد کاذکر  معنیٰ بدعت ، مسئلہ تقلید (م۔ا)

  • title-pages-radd-e-aqaid-bidia-copy
    نذیر احمد رحمانی

    نبی کریم  دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ نے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے  بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج  بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی  ہے۔اور اس امر کی  بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ  مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات کا اسلام ،شریعت ،نبی کریم ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ نبی کریم کی وفات کے بعد گھڑی گئی ہیں۔ زیر نظر کتاب "رد عقائد بدعیہ"محترم مولانا نذیر احمد رحمانی اعظمی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں معاشرے میں پھیلی بدعات کا مستند اور مدلل رد کیا ہےاور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ بدعات کو چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کی  سنت کی اتباع کریں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1994 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں