• pages-from-jahannam-aur-jahannamiyon-key-ahwaal
    ابو سالم النذیر

    جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالیٰ نے کافروں، منافقوں، مشرکوں اور فاسقوں و فاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’جہنم اور جہنمیوں کے احوال‘‘ فضیلۃ الشیخ ابو سالم النذیر کی ایک عربی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے جہنم کی ماہیت اور اس کے مختلف نام ،جہنم کے طبقات، عذاب کی شدت اور خفت کےاعتبار سے جہنمیوں کی قسمیں، جہنم کے عذاب کی مختلف قسمیں، جہنمیوں کے ماکولات اور مشروبات کو قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کے روشنی میں پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر حافظ شہباز حسن صاحب نے اردو دان طبقہ کےلیے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔(م۔ا)

  • untitled-1
    محمد اسلم صدیق
    جہنم واقعتاً ایک دل دہلا دینے والا مقام ہے، لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ کی اکثریت جہنم کی اندھیر نگریوں اور ان عذابات سے واقفیت کے باوجود اس سے بچاؤ میں تساہل کا شکار نظر آتی ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس دنیا کی عارضی ہونے پر کامل ایمان رکھ کر حقیقی دنیا کی تیاری میں لگے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو بھی یقیناً ایسے انسان ہی مطلوب ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب کا بھی بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو جہنم کی وادیوں سے آگاہی دی جائے اور اس سے بچاؤ کے لیے خدا تعالیٰ کی فراہم کردہ تدابیر پر عمل کیا جائے۔ کتاب کے مصنف مجلس التحقیق الاسلامی کے سابقہ رکن محترم محمد اسلم صدیق صاحب ہیں، جو علمی  دنیا کی جانی پہچانی شخصیت ہیں اور صاحب علم انسان ہیں۔ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب جہنم کے وحشت مناظرپر مشتمل ہے۔ دیگر ابواب میں جہنمیوں کی حالت زار، جہنم میں لے جانے والے گناہ اور سلف صالحین کے جہنم سے خوف کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ آخری باب میں اختصار کے ساتھ وادی جہنم سے بچنے کا راستے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-jahanum-k-musafir-copy
    پروفیسر نور محمد چوہدری

    جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالی نے کافروں،منافقوں،مشرکوں اور فاسقوں وفاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے ۔ زیر نظر کتاب ’’جہنم کے مسافر ‘‘ محترم جناب پروفیسر نور محمد چودہری کی مختصر سی تالیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے سفرجہنم کے ہولناک نتائج سے بچانے کے لیے بلکہ مسافرروں کو صراط مستقیم پر لاکر ان کی عاقبت سنوارنے کے لیے کتاب اللہ اوراحادیث مبارکہ میں جو انتباہ کیے گیے ہیں ان کا اس کتاب میں اختصار سے احاطہ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-hubbe-rasool-ki-arr-me-musharkana-aqaid-copy
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

    اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے  سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر  نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہے۔شرک کی اسی قباحت اور اس کے ناقابل معافی جرم ہونے کے سبب تمام علماء امت نے اس کی مذمت کی اور لوگوں کو اس سے منع کرتے رہے۔ زیر تبصرہ کتاب"حب رسول  ﷺ کی آڑ میں  مشرکانہ عقائد" محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے محبت رسول ﷺ کی آڑ میں پھیلانے جانے والے مشرکانہ عقائد کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-hiraasat-e-tauheed
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    صحیح عقیدہ ہی ملت اسلامیہ کی بنیاد اوردین اسلام کی اساس ہے کیونکہ اعمال صالحہ کی قبولیت کامدار عقائد صحیحہ پر ہے۔ اور یہ بات کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے واضح اور مسلم ہے کہ بارگاہ الٰہی میں انسان کے وہی اعمال مقبول ہوگے جن کی اساس صحیح عقیدے پر ہوگئی۔ صحیح عقیدے کے بغیر ہر عمل بیکار ہے اوراللہ کے ہاں اس کا کوئی درجہ نہیں۔   اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل﷩ کو عام انسانوں کی فوز وفلاح اور رشد وہدایت کے لیے مبعوث فرمایا تو انہوں نے بھی  سب سےپہلے عقیدۂ توحید کی دعوت پیش کی کیونکہ اسلام کی اولین اساس و بنیاد توحید ہی ہے   عقیدہ کاحسن ہی جو انسان کو کامیاب و کامران بناکر اللہ   کی رضا مندی او رخوشی کاسرٹیفکیٹ فراہم کرتا ہے۔ اگر عقیدہ قرآن وحدیث کے مطابق ہوگا تو قیامت کے دن کامیاب ہوکر حضرت انسان جنت کا حقدار کہلائے گا، اور اگر عقیدہ خراب ہوگا تو جہنم میں جانے سے اسے کوئی چیز نہ روک سکے گی۔ (االا من رحم ربی) زیر تبصرہ کتاب ’’حراست توحید‘‘ عالم اسلام کے نامور عالم دین مفتی اعظم سعودی عرب فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز﷫ کے اصلاح عقیدہ کے متعلق تحریر کیے گیے تین رسائل العقیدۃ الصحیحۃ و مایضادہا(صحیح اسلامی عقیدہ اور اس کے منافی امو ر) ،اقامۃ البراہین علی من استغاث بغیر اللہ(غیر اللہ سے فریاد.... شرعی دلائل کی روشنی میں)، حکم السحر والکہانۃ (جادو اور کہانت کی حیثیت) کامجموعہ ہے۔ اس میں شیخ موصو ف نے مسائل عقیدہ کو بڑے آسان فہم انداز میں کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ اسے عامۃالناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین)

  • title-pages-hurmat-wale-mahine-copy
    ام عبد منیب

    جب سے اللہ نے زمین وآسمان پیدا فرمائے ہیں مہینوں کی کل تعداد بارہ ہے اور ان میں سے چار حرمت والے ہیں ۔ اللہ  تعالیٰ نے   قرآن مجید میں حرمت والے مہینوں کا ذکرکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو‘‘سورہ توبہ :36) حدیث میں ان   حرمت والے مہینوں کی  وضاحت نبی کریم ﷺ نے  یوں بیان  فرمائی کہ :’’ زمانہ گھوم گھما کر اپنی ہئیت پر آگیا ہےجس پر اس دن تھا جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی تھی۔سال کےبارہ مہینے ہیں جن میں چارمہینے والے  حرمت والے ہیں ۔تین اکٹھے ہیں یعنی ذو القعدہ ذو الحجہ اور محرم اور چوتھا مہینہ رجب کا ہے جو جمادى ثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے‘‘(بخاری مسلم)زیر نظر کتابچہ’’ حرمت والے مہینے‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کی  کاوش  ہے  جس  میں انہوں  حرمت والے چاروں مہینوں  کے احکام وفضائل کو مختصرا آسان اندازمیں  بیا ن کیا  ہے ۔(م۔ا)

     

  • title-pages-husan-e-aqeeda
    محمد طاہر نقاش
    اعمالِ  صالحہ کی قبولیت کامدار  عقائد  صحیحہ پر ہے   اگر عقیدہ کتاب وسنت کے عین  مطابق ہے  تو دیگر اعمال درجہ قبولیت تک  پہنچ جاتے ہیں   اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل﷩ کو عام  انسانوں کی فوز وفلاح اور رشد وہدایت کے لیے  مبعوث فرمایا تو  انہوں نے  سب سےپہلے  عقیدۂتوحید کی دعوت  پیش کی  کیونکہ اسلام کی اولین اساس و بنیاد توحید ہی  ہے   عقیدہ  کاحسن ہی  جو انسان کو کامیاب و کامران بناکر اللہ   کی  رضامندی او رخوشی کاسرٹیفکیٹ فراہم کرتا ہے  ۔اگر عقیدہ  قرآن وحدیث کے مطابق ہوگا تو قیامت کے دن کامیاب ہوکر حضرت انسان  جنت کا حقدار کہلائےگا،اوراگر عقیدہ خراب ہوگا تو جہنم میں جانے سے اسے کوئی چیز نہ روک سکے  گی۔زیر نظر کتاب بھی عقیدہ کی اصلاح کے لیے  ایک اہم کتاب ہے جوکہ   عرب کے نامور عالمِ  دین فضلیۃ الشیخ  محمد بن جمیل زینو﷾کی سوال وجواب کے انداز میں عربی تصنیف  کا ترجمہ ہے  اردو ترجمہ کی سعادت دار الابلاغ  کے  مدیر  جناب طاہر  نقاش ﷾ نے  حاصل کی  ہے  اور اسے  طبا عت  کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ترجمہ انتہائی عام فہم اور سلیس ہے  اللہ اسے عوام الناس کے لیے  نفع بخش  بنائے۔(م۔ا)
  • title-pages-haqeeqat-e-toheed-o-sunnat
    گوہر رحمان
    انسانیت کے لیے سب سے قیمتی چیز توحید  ہے۔توحید وہ گوہر نایاب ہے جس کے ساتھ اللہ تعالی نے تمام انبیا کو مبعوث کیا ہے، اور یہ اللہ کا بندوں پر پہلا حق ہے۔ جس کے بغیر انسان کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ہے۔ زیر نظر کتاب میں مولانا گوہر رحمان نے توحید کے موضوع پر بہترین انداز میں قلم کاری کی ہے ، اور عقلی طرز استدلال کے ذریعے توحید کے موضوع  کو واضح کیا ہے ۔ غیر مسلم فلاسفہ اور مفکرین کے اقوال کو استعمال میں لاتے    ہو ئے یہ ثابت  کیا گیا ہے کہ توحید انسانی فطرت ہے اور انسانوں کی اکثریت کا عقیدہ ہے۔ غیر اسلامی دنیا میں دعوت توحید کی ذمہ داری ادا کرنے والے لوگوں کے لیے یہ ایک بے نظیر کتاب ہے۔(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-haqeeqat-e-toheed-copy
    صالح بن فوزان الفوزان
    اس کتاب میں توحید کی حقیقت کے بیان کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان ہے کہ جوشبہات مشرکین مکہ پیش کرتے تھے وہی شبہات آج کے مشرکین بھی پیش کرتے ہیں-مصنف نے مشرکین مکہ کے توحید کے متعلق شبہات کو پیش کر کے ان کا رد کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عقیدہ توحید کی بھی وضاحت کی ہے اور اس چیز کو واضح کیا ہے کہ دین کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے-اس لیے عقیدہ توحید کی پہچان کے لیے علوم شرعیہ سے وافقیت ضروری ہے۔

  • title-pages-haqiqat-rasm-e-ghayarwien-copy
    پروفیسر نور محمد چوہدری

    ہر قمری مہینہ کی گیارہویں رات کو شیخ عبد القادر جیلانی ﷫ کے نام پر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے وہ " گیارہویں شریف " کے نام سے مشہور ہے ۔ خاص کر ربیع الآخر کی گیارہویں شب کو اسے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔گیارہویں ہندوستانی بدعت ہے، جو شیعہ کی تقلید میں اپنائی گئی ہے، کیونکہ وہ بھی اپنے ائمہ کے لیے نیاز برائے ایصال ثواب دیتے ہیں۔ خوب یاد رہے کہ سلف صالحین اور ائمہ اہل سنت سے یہ طریقہ ایصال ثواب ہرگز ہرگز ثابت نہیں۔ اگر اس کی کوئی شرعی حیثیت ہوتی اور یہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا باعث ہوتا تو وہ اس کا اہتمام کرتے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان : ’’من عمل عملا لیس علیہ امرنا فہو رد ‘‘ کے مطابق یہ گیارھویں منانے کا عمل رسول اللہ ﷺکے بعد شروع ہوا ہےلہذایہ بدعت ہے اور گمراہی والا کام ہے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حقیقت رسم گیارہویں‘‘پروفیسر نور محمد چودہری کی کاوش ہے جس میں انہوں نے قرآن احادیث کےدلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہے رسم گیارہویں کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ محض ایک بدعت ہے جسے نام نہاد ملاؤں نے اپنے پیٹ بھرنے کےلیے نے مسلمانوں میں رواج دیا ہے ۔سادہ لوح مسلمان اس کابدعت کثرت سےشکار ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اس بدعت کے خاتمے ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • امین احسن اصلاحی

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’حقیقت شرک وتوحید‘‘صاحب تدبرقرآن مولانا امین احسن اصلاحی ﷫ کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب دو حصوں حقیت شرک اور حقیقت توحید پر مشتمل ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے دین کے بنیادی عقائد کی وضاحت قرآن حکیم کے فطری وعقلی دلائل کی روشنی میں کی ہے ۔پہلے حصے حقیقت شرک میں دس ابواب قائم کیے ہیں ۔ اور ا ن میں شرک کی حقیقت اور اس کے اقسام ، مشرکین کا شرک،اہل کتاب کا شرک، منافقین کا شرک،موجودہ دنیا او رموجودہ مسلمانوں کی حالت کا جائزہ اور شرک کا اصلی سبب بیان کیا ہے۔اور کتاب کے دوسرے حصہ حقیقت توحید میں توحید کے عمومی دلائل ،توحید کےدلائل انفس،توحید خصوصی دلائل، توحید کےاثرات اور دین میں توحید کی اہمیت کو واضح کیا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-haqeqat-e-shahadatain
    رابعہ الطویل

    مسلمان کو سب سےزیادہ جس چیز کا اہتمام کرنا چاہیے او رجس چیز پر اسے سب سے زیادہ حریص ہونا چاہیے وہ وہ چیز ہے جس کا تعلق امو رِعقیدہ اوراصولِ عبادت سے ہے کیونکہ عقیدے کی سلامتی اور نبی کریمﷺ کی اتباع یہی دو ایسی چیزیں ہیں کہ جن پر اعمال کی قبولیت کا دارمدار ہے اور یہی بندۂ مومن کے لیے نفع بخش ہیں ۔ زیر نظر کتاب ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے جوکہ امورِ عقیدہ سے متعلق اس عظیم کلمہ کی وضاحت پر مشتمل ہے جس کے لیے مخلوق کو پید اکیا گیا ،رسولوں کو مبعوث کیا گیا، کتابیں نازل کی گئیں اور جس کی بنا پر لوگ مومنوں اور کافروں میں تقسیم ہوگئے اورخوش نصیب اہل جنت اور بد نصیب اہل جہنم میں بٹ گئے اس کتاب میں اسی کلمۂ توحید کے فضائل ،معانی ،ارکان ، شروط اور نواقض اور اسی طرح اس کلمۂ طیبہ کے دوسرے جزء محمد رسول اللہﷺ کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ۔کتاب کے ترجمےکا کام '' زاد الخطیب'' کے مؤلف ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ﷾ نے سر انجام دیا ہے حافظ صاحب اس کتاب کے علاوہ متعدد کتب کے مترجم ومؤلف بھی ہیں اللہ تعالیٰ اشاعت دین کے سلسلے میں مصنف ومترجم کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور اس کتاب کواپنے بندوں کے لیے نفع مند بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-haqiqat-e-waseela-copy
    مقصود الحسن فیضی

    ہر باشعور کا یقین ہے کہ آگ سے ہاتھ جل جاتا ہے‘ لہٰذا کوئی سمجھ دار جان بوجھ کر آگ کو ہاتھ نہیں لگاتا۔اسی طرح ہر انسان کا یقین ہے کہ مال ومتاع ضرورت پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر صاحب استطاعت انسان مال کمانے میں اپنی جان عزیز کا بڑا حصہ خرچ کر ڈالتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یقین اور عقیدے کا انسان کے کردار پر گہرا اور لازمی اثر ہے۔جس کا عقیدہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالح کے بغیر نجات ممکن نہیں تو وہ اپنا وقت اور سرمایہ اسی مقصد میں خرچ کرے گا اور جس کا عقیدہ بگڑ گیا کہ فلاں کے وسیلے سے کام چل جائے گا تو وہ بھلا کیوں مشقت کرے گا۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  اسی موضوع کو بیان کیا گیا ہے کہ وسیلہ کی کیا حقیقت ہے ؟ کتاب کو جامع ومدلل انداز میں تحریر کیا گیا ہے اور مضمون کی جملہ تفصلات کو دلائل میں سمو دیا ہے۔ وسیلہ کے مفہوم اور اس کی جائز وناجائز صورتوں کا بیان ہے اور وسیلے کی ناجائز صورتوں میں پیش کیے جانے والے دلائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حوالہ جات بھی فٹ نوٹ میں دیے گئے ہیں۔ یہ کتاب’’ حقیقت وسیلہ ‘‘ مقصود الحسن فیضی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • pages-from-haqeeqat-e-wasilah
    مقصود الحسن فیضی

    ہر انسان خواہش مند ہے کہ وہ صراطِ مستقیم ‘ ہدایت یافتہ اور صحیح عقیدے کا حامل  ہو۔یقین اور عقیدے کا انسان کے کردار پر گہرا اور لازمی اثر ہے۔جس شخص کا عقیدہ یہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کے بغیر آخرت میں نجات نہیں مل سکتی وہ پوری محنت کے ساتھ ایمان کو حاصل کرے گا اور اعمال صالحہ کے لیے وقت اور سرمائے کو خرچ کرے گا۔اور یہی نجات کا محفوظ راستہ ہے۔البتہ اگر کسی کا عقیدہ بگڑ گیا اور اُس نے سمجھ لیا کہ فلاں صاحب کا وسیلہ کام دے دے گا یا فلاں ہستی کی شفاعت کام آجائے گی تو بھلا وہ کیوں کر مشقت اٹھا کر اعمال کی محنت کرے گا اور اپنی ذات وخواہشات کو پابندیوں میں جکڑے گا۔اس وقت ہمارا معاشرہ اسی غلط عقیدے کی وجہ سے بے عملی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بس رہے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب مصنف﷾ نے وسیلے کے عنوان پر ایک جامع ومدلل کتاب تالیف فرمائی ہے۔ اس عنوان کو جملہ تفصیلات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور روشن دلائل کو آسان زبان میں سمو دیا ہے۔ہر عنوان میں دیگر اہم شخصیات کی اہم تالیفات سے اقتباس بھی لیے گئے ہیں۔ حوالہ جات کا خاص اہتمام کیا گیا ہے‘ حوالے میں اصل مصدر کو ذکر کر کے جلد اور صفحہ نمبر بھی درج کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں وسیلہ کی لغوی اور شرعی  تعریف کر کے وسیلہ کی اقسام کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ شرعی(جو جائز ہے) اور غیر شرعی(جو ناجائز ہے) وسیلہ کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور آخر میں وسیلہ لینے والوں کے شبہات کو بیان کر کے ان کا ازالہ کیا گیا ہے۔یہ کتاب’’حقیقت وسیلہ‘‘ مولانا مقصود الحسن﷾ کی علمی اور تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے۔دعا ہے کہ  اللہ تعالیٰ مصنف ﷾کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • title-pages-haqiqat-al-waseelata-copy
    عبد الرحمن عزیز آبادی

    وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔ 1۔اللہ تعالیٰ کے اسماء کا وسیلہ قرآن میں ہے: وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا(الاعراف:108)’’اور اللہ کے اچھے نام ہیں پس تم اس کے ناموں سے پکارو‘‘۔اللہ تعالیٰ سے اس کے اسماء حسنیٰ کے وسیلہ سے دعا کرنا درست ہے جیسا کہ اوپر آیت میں ذکر ہے جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے نبیﷺ سے دعا کا پوچھا تو آپﷺ نے یہ دعا پڑھنے کا کہا: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ "(صحيح بخاری:834’)’اے اللہ ! یقیناً میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ۔پس تو اپنی خصوصی بخشش کے ساتھ میرے سب گناہ معاف کردے او رمجھ پر رحم فرما، بے شک تو ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے دو اسماء کو وسیلہ بنایا گیا۔ 2۔اللہ کی صفات کے ساتھ وسیلہ حدیث میں ہے: ’’اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي‘‘(سنن النسائی :1306)’’اے اللہ میں تیرے علم غیب او رمخلوق پر قدرت کے وسیلے سے یہ دعا کرتا ہوں کہ جب تک تیرے علم کے مطابق میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہے مجھے حیات رکھا او رجب تیرے علم کے مطابق میرا مرنا بہتر ہو تو مجھے وفات دے دے۔‘‘اس دعا میں اللہ تعالیٰ کی صفات، علم او رقدرت کو وسیلہ بنایا گیا ہے۔3۔ نیک آدمی کا وسیلہ ایسے آدمی کی دعا کو وسیلہ بنانا کہ جس کی دعا کی قبولیت کی امید ہو۔احادیث میں ہےکہ صحابہ کرام بارش وغیرہ کی دعا آپؐ سے کرواتے۔(صحيح بخاری :847)۔حضرت عمرؓ کے دور میں جب قحط سالی پیدا ہوئی تو لوگ حضرت عباسؓ کے پاس آئے اور کہا کہ وہ اللہ سے دعا کریں۔ حضرت عمر اس موقع پر فرماتے ہیں: ’’اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا‘‘ (صحيح بخاری:1010)۔ ’’اے اللہ! پہلے ہم نبیﷺ کووسیلہ بناتے (بارش کی دعا کرواتے) تو تو ہمیں بارش عطا کردیتا تھا اب (نبیﷺ ہم میں موجود نہیں) تیرے نبیﷺ کے چچا کو ہم (دعا کے لیے) وسیلہ بنایا ہے پس تو ہمیں بارش عطا کردے۔اس کے بعد حضرت عباسؓ کھڑے ہوئے اور دعا فرمائی۔مذکورہ صورتوں کے علاوہ ہر قسم کاوسیلہ مثلاً کسی مخلوق کی ذات یافوت شدگان کا وسیلہ ناجائز وحرام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حقیقۃالوسیلہ‘‘مولانا عبدالرحمٰن عزیز﷫ کی کاوش ہے ۔اس کتابچہ میں مصنف نے اصلاح عقائد کے سلسلے میں سلجھے ہوئے انداز میں عالمانہ بجث کی ہے۔ انہوں نے وسیلہ کے جوازکی صورتیں پیش کرنے کے بعد ناجائز صورتوں کےجواز میں پیش کیے جانے والے دلائل ، احادیث وآثار او ران کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے۔یہ رسالہ اپنے موضوع پر مختصر اور انہائی جامع ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کے جزائے خیر عطافرمائے اوراس رسالہ کےذریعہ صراط مستقیم سےبھٹکے لوگوں کوہدایت نصیب فرمائے (آمین) ( م۔ا)

  • title-page-halal-aur-haram-waseela-copy
    ناصر الدین البانی
    مختلف مذاہب میں اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اسی طرح دین اسلام میں اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے نیک اعمال اور صدقہ جاریہ جیسے امور کو مقرر کیا گیا ہے-عقیدے کی خرابی کی وجہ سے کچھ لوگوں میں غلط ذرائع کو اختیار کر کے دین میں داخل کر کے ان کے ذریعے تقرب حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ سیدھا سا اصول ہے کہ ایک اچھے کام کے لیے غیر شرعی کام کا سہارا لینا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا-مصنف نے اپنی کتاب میں اسی چیز کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں کہ جن کے ساتھ اللہ تعالی کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے اور وہ کون سے ناجائز امور ہیں جن کو اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا-اسی طرح وسیلہ کی لغوی تعریف،شرعی اور غیر شرعی وسیلہ کی پہچان کا طریقہ،کون سا وسیلہ اللہ کے ہاں قابل قبول ہے،شرعی وسیلہ کی اقسام کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور اسی طرح مخلوق کو وسیلہ بنانے کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا گیا ہے-اور اس چیز کو ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے لیے کسی مخلوق کو وسیلہ کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا

  • title-pages-khalis-touheed-copy
    محمد شفیع مکی

    تمام انبیاء کرام ﷩ ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح ﷤ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ خالص توحید ‘‘ شیخ محمد شفیع مکی کی کاوش ہے اس میں انہوں نے مسئلہ توحید کو نہایت وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے اور مختلف عنوانات کےتحت دلائل قرآن وحدیث جمع کردئیے ہیں۔ اور مسئلہ توحید کو مدلل اور آسان لفظوں میں بیان کیا ہے ۔ اصلاح عقائد اور تردید شرک کے مسئلہ میں بے حد مفید ہے ہرمسلمان کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو پختہ عقیدۂتوحید عطافرمائے کیونکہ توحید ایمان کی بنیاد ہے توحید کےبغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔(م۔ا)

  • title-pages-khatm-marawaja-br-taam-ki-tardeed-e-sadeed-copy
    عبد القادر حصاروی

    اسلام اللہ تعالی کا دیا ہوا دین ہے۔یہ نہ تو عوام کی من مانیوں کا مرکب ہے اور نہ ہی کسی کی خواہشات کے تابع ہے۔نہ اسے بزرگوں کی اندھی تقلید سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی معاشرے کی خود ساختہ رسوم وبدعات سے کوئی سروکار ہے۔بلکہ یہ تو سیدھی کھری اور دو ٹوک بات کرتا ہےکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔یہی وہ خالص اور بنیادی تعلیم ہے جو ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہے۔اس میں نہ مرغوبات نفس کا دخل ہے نہ کج رو عقل کا۔مگر انتہائی دکھ کی بات ہے کہ آج اس کا خالص رنگ نظر نہیں آتا، بلکہ سنت کو پامال کیا جا رہا ہے اور رسوم وبدعات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔انہی بے شمار بدعات میں سے ایک معروف ترین بدعت کھانے پر ختم پڑھنے کی بدعت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ختم مروجہ بر طعام کی تردید سدید "محقق شہیر  محترم مولانا عبد القادر عارف حصاروی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس پر محترم مولانا محمد شریف حصاروی صاحب نے تحقیق فرمائی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے  ختم مروجہ کو بدعت ثابت کیا ہے اوردلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ اس کا قرآن وسنت میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-khatme-nabuwat--ayoub-dehlwi--copy
    محمد ایوب دہلوی

    اللہ تعالی نے نبی کریم کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کی حقیقت کو جھوٹ وفریب کا بے نقاب کرد یا ۔چنانچہ اس کے خلاف ایک زبر دست تحریک چلی جو اس کے دھوکے اور فریب کو تنکوں کی طرح بہا لے گئی۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے اسے اور اس کے پیروکاروں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک عظیم الشان فیصلہ کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " ختم نبوت " محترم مولانا حافظ محمد ایوب صاحب دہلوی ﷫کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے قادیانیت اور عقیدہ ختم نبوت کی شرعی حیثیت کو ایک منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے سوالا و جوابا بیان فرمایا ہے۔یہ کتاب در حقیقت ان کے مفید اور شاندار دروس سے تیار کی گئی ہے ، جو وہ مختلف مقامات پر ارشاد فرماتے رہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-khatam-e-nabuwwat-mm-shafi
    مفتی محمد شفیع

    مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺاللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ  ﷺکو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ﷺکے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیت میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا  ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: َّماا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا(الاحزاب، 33 : 40)ترجمہ: محمد ﷺتمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالٰیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا کہ آپ ﷺ ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو اس منصب پرفائزنہیں کیا جائے گا۔  قرآن حکیم میں متعددآیات ایسی ہیں جو اشارۃً یا کنایۃً عقيدہ ختم نبوت کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ خود نبی اکرم ﷺنے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ فاضل مصنف مولانامفتی محمدشفیعؒ صاحب نےمدلل انداز میں اپنی  کتاب’ختم نبوت‘میں اس  موضوع کوبیان کیا ہے۔ اللہ رب العزت ان کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین(شعیب خان)

  • title-pages-khawab-aur-tabeer
    شیخ عبد الغنی ابن اسماعیل نابلسی
    عام زندگی میں ہر انسان کو خوابوں سے واسطہ رہتا ہے جہاں انسان اچھا خواب دیکھ کر خوش ہوتا ہے وہیں برا خواب دیکھ کر پریشان بھی ہو جاتا ہے۔ خوابوں سے متعلق مناسب شرعی رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے لوگ فقط نیند میں نظر آنے والے واقعات پر کچھ غیر شرعی افعال سرانجام دینے لگتے ہیں۔ بہر حال شریعت مطہرہ نے اس سلسلہ میں بھی انسان کی کامل رہنمائی فرمائی ہے۔ علمائے امت نے دیگر فنون کی طرح اس فن کی بھی حفاظت کی اور اس فن میں بھی بہت سی کتب تصنیف فرمائیں جن میں شیخ عبدالغنی بن اسماعیل نابلسیؒ کی مشہور زمانہ کتاب ’تعطیر الأنام فی تعبیر المنام‘ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اسی کتاب کا اردو قالب اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے اس بات کو خاص طور پر مد نظر رکھا گیا ہے کہ ترجمہ سلیس اور بامحاورہ تو ہو لیکن مفہوم سے یک سرمو انحراف نہ ہو۔ کتاب کی فہرست میں عنوانات کا اردو ترجمہ تحریر کیا گیا ہے اورحروف تہجی کے اعتبار سے انھیں رقم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی خواب کی تعبیر آسانی سے تلاش کی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ترجمہ اصل کتاب کا کیا گیا ہے نہ کہ معروف مصطفیٰ زریق صاحب کی تلخیص کا، جو کہ لوگوں میں اصل کتاب کے طور پر متعارف ہے۔ خوابوں کے حوالے سے یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر قسم کے خواب کی تعبیر نہیں ہوتی۔ کتاب کےمقدمہ میں بھی مصنف نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور ایسے خواب جن کی تعبیر نہ ہو ان کی سات قسمیں بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام خوابوں میں صحیح ترین خواب بشریٰ ہیں جو طبیعت میں سکون، لباس، پوشاک اور خوراک کے معیاری ہونے اور صحت مند ہونے کی صورت میں دیکھے جاتے ہیں یہ خواب اکثر سچے ہوتے ہیں اضغاث کم ہوتے ہیں۔ایسے خوابوں کی انھوں نے پانچ قسمیں بیان کی ہیں۔اس کے علاوہ خواب سمجھے بغیر تعبیر بیان کر دینا بھی بہت خطرناک ہے۔خوابوں کے تعبیر کرنے کے کچھ اصول ہیں ان اصولوں سے آگاہی کے بغیر تعبیر شروع کر دینا بھی دست نہیں ہے۔ کتاب میں تعبیر سے متعلقہ تمام تر چیزوں کی وضاحت کر دی گئی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-khawabon-ka-safar
    محمد عظیم حاصلپوری

    خواب خصالِ انسانی کاحصہ ہیں ہر انسان زندگی میں اس سے دوچار ہوتا ہے کبھی اسے اچھے اور کبھی بڑے خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آدمی اچھے خواب دیکھتاہے تو اس بات کی تڑپ ہوتی ہے کہ خواب میں اسے کیا اشارہ ہوا ہے اور جب برے خواب ہوں تو خوف زادہ ہوجاتاہے ایسے میں انسان کی قرآن وسنت سے راہنمائی بہت ضروری ہے ۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کی گئی وہ نیند میں خواب تھے آپ جوبھی خواب دیکھتے اس کی تعبیر صج کے پھوٹنےکی مانند بالکل آشکارہوجاتی ''اور نبی ﷺنے فرمایا ''نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ہے ''خوابوں کی تعبیر ،احکام او راقسام کے حوالوں سے احادیث میں تفصیل موجود ہے ۔ اس سلسلے میں متقدمین میں سے امام ابن سرین  کی کتاب قابل ذکر ہے جو کتاب وسنت ویٹ سائٹ پر موجود ہے ۔زیر نظر کتاب ''خوابوں کاسفر''از محمدحسن ظاہر ﷾ بھی اسی موضوع پر اہم کتاب ہے فاضل مصنف نے اس میں خواب کے متعلق احکام اور انبیاء و رسل،صحابہ کرام ،تابعین،تبع تابعین او رنیک لوگوں کےخواب جمع کرکے ان کی ضروری وضاحب بھی کردی ہے اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور قلم میں برکت عطاء فرمائے (آمین)( م۔ ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-khushbue-jannat-se-mehroom-log-copy
    حافظ عبد الرزاق اظہر

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔اہل ایمان اور صالحین کو تو جنت کی خوشبو تو چالیس کی مسافت سے آنا شروع ہوجائے گی لیکن گناہ گار لوگوں کو جنت کی خوشبو تک نہیں آئی گی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خوشبوئے جنت سے محروم لوگ ‘‘ محترم جناب حافظ حافظ عبد الرزاق اظہر ﷾ کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآ ن وحدیث کے واضح اور مضبوط دلائل سے ان معاشرتی برائیوں اور کبیرہ گناہوں اوراخلاقی پستیوں کو بڑے عمدہ پیرائے میں یکجا کردیا ہے جو حقیقت میں بندوں کو جنت کی اس خوشبو جو چالیس برس کی مسافت سے آنا شروع جائے گی سے محرومی کا باعث ہیں۔(م۔ا)

  • title-pages-khoufe-khuda-copy
    ہارون یحییٰ

    اللہ تعالیٰ کاخوف ہی دراصل  اللہ پرکامل ایمان   ہونے کاٹھوس  ثبوت اورآخرت کی  زندگی  میں  ملنے  والے  اجر کی  اہم نشانی  ہے ۔  آخرت کی زندگی میں  خود کو نارِ جہنم سے  محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ خوف ِ الٰہی   او رپرہیز گار ی  کو اختیار کرنے میں ہے ۔روز ِحساب ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے  جس  سےبچنا ناممکن  اور جس کے بارے  میں خصوصی طور  پر غور  وفکر  کرنالازم ہے۔ تاہم  یہ خوف صرف ایمان والوں کونصیب ہوتاہے اور یہ ایک خاص قسم  کاخوف ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات  اور نبی کریم  ﷺ  نےاحادیث میں  روزِ  قیامت  پیش  آنے والے  مختلف واقعات  بیان کردیئے ہیں ۔دنیا کی مختصر سی  زندگی میں انسان  جوکام بھی کرتا ہے  اس کے اعمال نامے میں  لکھا جارہا ہے ۔ اورہر انسان  اس دن کی طرف تیزی  سے بڑھ رہا ہے  جب   انسان کواللہ کےحضور پیش ہوکر اپنے اعمال کے لیے  جوابدہ ہونا پڑے گا۔ چنانچہ اہل ایمان کو    یہ  امید کرنی چاہیےکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں میں  شامل کردے  جو اللہ تعالیٰ سے  ڈرتے ہوئےاس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا خوف بڑی چیز ہے  ۔ جسے  یہ دولت  حاصل ہوگی  وہ بہت  بڑا خوش نصیب ہے  ۔ جس  کےدل  میں خوف الٰہی  ہوگا وہ گناہوں  سے دور رہے گا اوراس کےلیے  بڑے  برے درجات ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ(سورۃ الرحمن:46) یعنی  جو  شخص  قیامت کےدن  اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کاڈر  اپنے دل میں رکھتا ہے اوراپنے  تئیں نفس کی خواہشوں سےپچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا ہے۔ زندگانی  کے پیچھے پڑ کر آخرت سے  غفلت نہیں کرتا ،بلکہ آخرت کی فکر زیادہ  کرتا ہےاور اسے  بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے ۔ فرائض بجا لاتا ہے۔محرمات سےرکتا ہے  قیامت کےدن  اسے  ایک  نہیں  بلکہ  دو  جنتیں ملیں گی۔اللہ تعالیٰ تمام  ایمان اہل  کواپنے دلوں میں  اللہ تعالیٰ خوف اور تقویٰ ،پرہیزگاری پیدا کرنے کی توفیق  عطافرمائے ۔زیر نظر کتاب  ’’خوف خدا‘‘  ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے  اپنے  منفرد انداز میں    خوف الٰہی  کی حقیقت اور فوائد وثمرات کو آیات قرآنی  کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو لوگوں کےدلوں  میں اپنا  کاخوف پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے  (آمین )  (م۔ا)

  • title-pages-dajjal-aur-qiyamat-ki-nishaniyan
    مدثر حسین سیان
    تاریخ عالم کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن  کی طرح  واضح ہوتی  ہے کہ ہر دور میں  اہل حق  باطل قوتوں  کے ساتھ برسرپیکار رہے ہیں ۔ جلد یا بدیر فتح اہل حق  کا مقدر ٹھہری ہے ۔تاریخ کے صفحات میں بدر وحنین  ، موتہ وتبوک، قادسیہ و یرموک ،ایران و روم ، افغانستان  و ہندستان ،شام وعراق ،فلسطین وبیت  المقدس کی فتوحات کے زریں نمونے آج بھی موجود ہیں ۔حق وباطل کا یہ معرکہ قیامت تک یونہی چلتا رہےگا۔اور خروج دجال انہی معرکوں کے تناظر میں ہوگا۔گزشتہ کچھ دہائیوں سے   خروج دجال کے بارےمیں مختلف قسم کی آرا سامنے آئی  ہیں ۔حتی کہ بعض مفکرین اور ریسرچ سکالرز نے موجودہ دور کی سپر پاور امریکہ کو ہی دجال سے تعبیر کردیا ہے۔ان کا کہنا کہ امریکہ کی تہذیب اور طاقت سب کچھ دجالیت ہی ہے۔درج ذیل کتاب راقم الحروف کا ایم فل کا ایک تحقیقی مقالہ ہے جس میں اس رائے کوپیش نظر رکھتے ہوئے دجال کے بارے میں   سلف کی رائے سامنے لانے کی  کوشش کی گئی  ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے  دجال کے بارے میں مسیحی اور یہودی تعلیمات کا بھی جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔تاکہ دجال کے بارے میں تمام قسم  کی اراوتعلیمات سامنے رکھ کر ایک درست مؤقف اپنانا ممکن ہو۔مصنف کا  خیال ہے کہ موجودہ امریکن جنگ  کو معرکہ ءخیر وشر کی  ایک کشمکش  تو  کہا  جاسکتا ہے لیکن اسے  فتنہءدجال سے  تعبیر نہیں کیا جاسکتا ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس طرح کے حالات پیدا ہو رہے  جن  میں دجال  کا ظہور ہوگا۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-dajjal-aur-alamat-e-qiyamat-ki-kitab
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    کتاب وسنت میں یہ امر پوری  طرح واضح کر دیاگیا ہے کہ دنیا کی یہ موجودہ زندگی عارضی اور فانی ہے اصل اور حقیقی زندگی آخرت کی ہے،لہذا اس کی فکر کرنی چاہیے۔لیکن اس کے باوجود آج ہم دنیوی آسائشوں کی طلب میں مگن ہیں اور اپنی اخروی زندگی کو فراموش کر چکے ہیں۔زیر نظر کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایک دن اب آنے والا ہے جب ہمیں اسے ہر عمل کا جواب دہ ہونا پڑے گااس دن کے آنے سے پہلے تو بہ کر لینی چاہیے ۔کتاب کے مباحث تین حصوں میں منقسم ہیں:پہلے حصے میں قیامت کی چھوٹی علامات  بیان کی گئی ہیں،دوسرےحصے میں قیامت خروج دجال پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور تیسرے حصے میں قیامت کی بڑی بڑی اور فیصلہ کن علامات کا ذکر کیا گیا ہے ۔اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ بحث و نظر کی بنیاد  قرآن مجید اور احادیث صحیحہ پر رکھی گئی ہے۔دلائل کو مکمل حوالہ جات کے ساتھ مزین کیا گیا ہے اور احادیث کی مکمل تخریج و تحقیق کی گئی ہے۔(ط۔ا)
  • pages-from-dawat-ilallah-aur-daaee-key-ausaf
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کے اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش وودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا او ران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے   پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوت دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوہ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج دعوت اور اصول دعوت کے حوالے سے   اہل علم نے عربی اوراردو زبان میں کئی کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی کتب قابل ذکر ہیں جوکہ آسان فہم او ردعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ دعوت الی اللہ اور داعی کے اوصاف،سنت واجب العمل ہےاور اس کا منکرکافر ہے‘‘ شیخ ابن باز﷫ کے دواہم مقالوں(وجوب العمل بالسنۃ وکفر من انکرھا اور الدعوۃ الی اللہ ) کا اردو ترجمہ ہے۔ ایک کا تعلق دعوت الی اللہ کی اہمیت وفضلیت سے ہےاس کے ضمن میں مبلغ او رداعی کے اوصاف وخصائل پر مختصر بحث کی گئی ہے اور دوسرے مقالہ میں بدلائل واضح اور براہین قاطعہ سے ثابت کیا ہے کہ سنت رسولﷺ مستقل ماخذ شریعت ہے اور اس پر عمل واجب ہےاورجو انسان اس کا منکر ہے وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ الغرض یہ دونوں رسالے ایجاز اوراختصار کےباوجود جامع ہیں گویا کہ کوزہ میں بند دریا ہے۔ان رسالوں کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر شیخ الحدیث استاذی المکرم حافظ ثناء اللہ مدنی ﷾ کے تلمیذ رشید حافظ محمد اسلم (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے انہیں اردو قالب میں ڈھالا اور الادارۃ الاسلامیہ ،فیصل آباد نےشائع کیا۔(م۔ا)

  • pages-from-dawat-e-tauheed-waseeley-ki-haqeeqat
    ابو بلال عبد اللہ طارق

    اسلامی تعلیمات میں تمام امور پر عقیدہ توحید کو اولیت حاصل ہے اور توحید ہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اسی پر دنیا وآخرت کی کامیابی کا انحصار ہے الغرض دین اسلام کی اساس وبنیاد عقیدہ توحی ہے۔عقیدہ توحید کی ضد شرک ہے اور شرک ایسا جرم عظیم ہےکہ اگر بندہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کو بھی مبعوث فرمایا اور ہر نبی نے جس دعوت سے آغاز کیا وہ دعوت توحید ہی تھی۔زیرِ تبصرہ کتاب’’ دعوت توحید وسیلے کی حقیقت ‘‘ بھی اسی موضوع کو اُجاگر کرنے کے لیے تالیف کی گئی ہے۔ اس کتاب میں سب سے پہلے عقیدہ توحید ہی کی دعوت دی گئی ہے‘ توحید کے بعد وسیلہ کی حقیقت کو بیان کیاگیا ہے جو شرک کی ہر قسم کی بنیادی جڑ ہے۔اور وسیلہ کی ایک شکل جو تعویز ہے اس کو بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ امت شرک کی ہر قسم سے نکل کر خالص اللہ کی توحید کی طرف آجائے۔ اور اس کتاب میں قرآن وحدیث سے غلط عقائدونظریات کی تردید کی گئی ہے اور حوالہ جات کا خاص اہتمام ہے۔زبان کی سلاست اور سہل انداز اپنایا گیا ہے اور اس کتاب کی جمع وترتیب بھی نہایت عمدہ ہے تاکہ قارئین کے لیے نہایت آسانی ہو۔یہ کتاب مولانا ابو بلال عبد اللہ طارق صاحب کی علمی اور تحقیقی کاوش ہے‘ آپ خط وکتابت کاعمدہ ذوق وشوق رکھتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • pages-from-difaa-e-aqueedah-toheed-radd-e-aqeedah-taslees
    محمد حسین میمن

    اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی ایک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔نہ اس کی بیوی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے ۔لیکن اس کے برعکس عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ،جس کے مطابق اللہ تعالی، سیدنا عیسیٰ اورسیدہ مریم علیھا السلام تینوں خدا ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم علیھا السلام اورسیدنا عیسیٰ پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا اور آخری نبیﷺ کی بات کو تسلیم بھی نا کیا اور قرآن مجید کے حقائق اور مسیحؑ کی عزت وناموس کو جیسے چاہا استعمال کیا۔لیکن اللہ رب العزت نے اپنے دین اور قرآن کی حفاظت کے لیے ہر دور میں اپنے ایسے بندے پیدا کیے جو حفاظت دین کے پرچم کو تھام لیتے ہیں اور دین کا پرچار کرتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں مسیحی پادریوں کی غلط تعلیمات اور ان کے باطل افکار کا جائزہ لیا گیا ہے اور تمام اشکلات واعتراضات کا تسلی بخش جواب دینے کی سعی کی گئی ہے۔اور ان کے بیان کردہ تمام نظریات کو عیاں کر کے ان کا رد پیش کیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ دفاع عقیدہ توحید‘ رد عقیدہ تثلیث ‘‘ محمد حسین میمن کی تصنیف کردہ اور خلیق الرحمن قدر﷾ کی مترجم کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 549 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :