• title-pages-toheen-e-risalat-ki-saza-profaisor-habibullah--copy
    پروفیسر حبیب اللہ چشتی

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور اسی دوران گستاخ رسول کی سزا وانجام کےحوالے سے متعددنئی کتب چھپ منظر عام پر آئی ہیں کتاب ہذا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’توہین رسالت کی سزا‘‘ جنا ب پروفیسر حبیب اللہ چشتی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے توہین رسولﷺ کرنےوالوں کےلیے سزائےموت کےقانون کوقرآن وسنت،اجماع امت، اقوال ائمہ فقہ اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے۔یہ کتاب جمال رسول ﷺ کادلکش تذکرہ اور قانون توہین رسالت کا تاریخی مجموعہ ہے۔ (م۔ ا) 

  • pages-from-takfeer-asbaab-alamaat-aur-hukam
    ابو سعد احسان الحق شہباز

    متوازن فکر اور معتدل سوچ اور پھر ان کے مطابق رویہ بنانا انسانی زندگی کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ معتدل سوچ اور معتدل رویہ انسان کے لیے کامیابی کی دلیل ہوتی ہے اور ضمانت بھی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انساان بلاوجہ لوگوں کی دل آزاری اور فکری و ذہنی انتشار کا سبب نہیں بنتا ہے اور نئی الجھنیں اور پریشانیاں نہیں لاتا ہے۔ عدم توازان کی ایک نہایت سطحی شکل یہ ہے اور وہ بھی فساد عام کا نتیجہ ہے کہ انسان دین کے نام پر کسی معمولی سی بات کو اساسی اور اصولی مسئلہ بنا دے، یا ایک مباح شے کو عین اسلام یا عین کفر بتانا شروع کردے۔باہمی نزاعات کو عین دین بتانا شروع کردے، کفر سازی اور فتنہ سازی کو مہم جوئی بنا ڈالے۔ علم کی بو بھی سونگھنے کی صلاحیت نہ ہو لیکن علّامہ بننے کی کوشش کرے۔ دعوت و افتاء کا کاروبار کرنے لگے اور اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر لوگ اچھلنا شروع کردیں۔بے اعتدالی کی یہ ساری شکلیں اس وقت علمی و دعوتی دائرے میں نظر آتی ہیں اور ان پر اتنا اصرار ہے کہ خارجیت شاداب ہورہی ہے اور اس کے علائم صاف نظر آرہے ہیں۔عالم اسلام ان دنوں بڑی ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہے ۔ قدم قدم پہ مسائل کا انبار اور  خارجی سازشوں سے لے کر داخلی پریشانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دراز ہوتا جاتا  ہے ۔ یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی  ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔زیر تبصرہ کتاب "تکفیر اسباب، علامات اور حکم " محترم ابو سعد احسان الحق شہباز صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی فکری عدم توازن اور خارجیت جدیدہ پر شاندار بحث کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-jaiz-aur-najaiz-tabarruk
    ڈاکٹر علی بن نفیع العلیانی
    صالح اور بزرگ حضرات کی شخصیات اور ان سے متعلق مقامات اور دیگر آثار سے تبرک حاصل کرنا عقیدہ و دین کے اہم مسائل میں سے ہے۔ اور اس بارے میں غلو اور حق سے تجاوز کی وجہ سے قدیم زمانہ سے آج تک لوگوں کی ایک معقول تعداد بدعات اور شرک میں مبتلا رہی ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ مسئلہ نہایت پرانا ہے حتیٰ کہ سابقہ جاہلیت جس میں رسول اللہﷺ مبعوث ہوئے، ان کا شرک بتوں کو پوجنا اور ان مورتیوں سے تبرک حاصل کرنا تھا۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر علی بن نفیع العلیانی نے ایک کتاب لکھی جس میں جائز اور ناجائز تبرک کو شد و مد کے ساتھ بیان کیا گیا تھا۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو قالب ہے جسے اردو میں منتقل کرنے کا کام ابوعمار عمر فاروق سعیدی نے انجام دیا ہے، جو کہ فاضل مدینہ یونیورسٹی اور بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس کتاب میں ثابت کیا گیا ہے کہ بعض شخصیات ، مقامات اور اوقات ایسے ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے تو اس برکت سے استفادہ رسول اللہﷺ کے فرمودہ طریقے سے ہی ممکن ہے۔ کسی جگہ یا وقت کی فضیلت اس بات کا تقاضا نہیں کرتی کہ اس سے تبرک بھی لیا جائے مگر یہ کہ اللہ کی شریعت سے ثابت ہو۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-jadoo-ka-ilaaj
    وحید بن عبد السلام بالی
    دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
  • title-page-jadoo-ki-haqeeqat
    غازی عزیر مبارکپوری
    دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
  • title-pages-jadah-eeman-copy
    عبد المجید عزیز الزندانی

    نام نہاد فکری  سور ماؤں نے انسانی زندگی کو مسائل اور پیچیدگیوں سے پاک اور امن وسکون کا گہوارہ بنانے کی جتنی کوششیں کی ہیں۔ان میں انہیں شکست فاش کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے مسائل کو سلجھانے کی جتنی تدبیریں کیں، ان تدبیروں نے مسائل کو نہ صرف مزید الجھا دیا بلکہ ان میں کئی گنا اضافہ بھی کر دیاہے۔اس ناکامی کا بدیہی سبب یہ ہے کہ یہ حضرات بالعموم اپنی کوششوں کی بنیاد اسی الحاد اور مادہ پرستی پر رکھتے ہیں جو سارے بگار کی اصل جڑ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کو موجودہ فکری بحران، سماجی انتشار اور اخلاقی پستی سے نجات دلانا مقصود ہے تو پھر سب سے پہلے اس کفر والحاد پر کاری ضرب لگانی ہو گی جس کی بنیاد پر موجودہ تہذیب کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔اسلام ہی وہ حقیقی بنیاد ہے جس پر عمل کرنے انسانیت اپنے مسائل حل کر سکتی  ہے، اور دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" جادہ ایماں " محترم جناب عبد المجید عزیز الزندانی صاحب کی عربی تصنیف"طریق الایمان" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ کرنے کی سعادت  محترم محمد عبد الحی فلاحی صاحب نے حاصل کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-jb-iman-ki-baad-bahari-chali
    سید ابو الحسن علی ندوی
    تاریخِ اسلام میں  جب بھی ایمان کی ہوائیں چلیں تو عقائد ،اعمال، اور اخلاق تینوں شعبوں میں  حیرت انگیز واقعات کا ظہور ہوا ایمان کے یہ دلنواز جھونکے  تاریخ کے مختلف وفقوں میں چلے کبھی کم مدت کے لیے کبھی زیادہ عرصہ کےلیے تاہم کوئی دور  خزاں ان سے خالی نہ رہا تاریخ اسلام میں   ان سب کاریکارڈ اچھی طرح محفوظ ہے ۔ہندوستان میں ایمان کی  یہ باد بہار تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں اس وقت چلی جب  سید احمد  شہید اوران کےعالی ہمت رفقاء نے  ہندوستان میں توحید  او رجہاد فی سبیل اللہ کا علم  بلندکر کے اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ کردی سید احمد شہید اور ان کے رفقاء  نے  دینِ خالص  کی دعوت   اپنی بنیاد رکھی  اور  مسلمانوں میں جہاد فی سبیل اللہ کی روح پھونکی  او ر ہندوستا ن کی شمال مغربی سرحد کو اپنی دعوت وجہاد کا مرکز بنایا ان مجاہدین نےسکھوں کوکئی معرکوں میں شکست فاش دے کر پشاور کے اطراف میں اسلامی حکومت قائم کرکے  حدود شرعیہ کااجراء کیا لیکن وہاں کے قبائل نے  اپنی ذاتی اغراض اور قبائلی عادات وروایات کی خاطر اس نظام کابالآخر  خاتمہ کردیا بالاکوٹ کےمیدان میں ان سربکف مجاہدین کی سکھوں سےآخری جنگ ہوئی اوراس معرکہ میں سید احمد شہید اور  اسماعیل شہید کے بہت سے جلیل القدر  رفقاء اور مجاہدین نےجام شہادت نوش  کیا۔زیر نظرکتاب  میں  سید ابو الحسن ندوی نے  مجاہد کبیر سید احمد شہید اور ان کےعالی ہمت رفقا کے  ایمان افروز واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیاہے کہ جن کو پڑھ کر اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-jab-dunia-reza-reza-ho-jae-ghi
    ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی
    یہ امر واقع ہے کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو جائے گی، دنیا پر موجود ہر چیز فنا ہو جائےگی اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہو جائے گا جس کا اختتام کبھی نہ ہوگا۔ لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس تمام تر وقوعہ کا نام قیامت ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں وقوع قیامت کی چند علامات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ایک مسلمان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ ان علامات سے آگہی حاصل کرے تاکہ اس کا عقیدہ ایمان بالغیب مضبوط ہواور روز قیامت کے لیے اپنے آپ کو تیار کر سکے۔ علامات قیامت سے متعلقہ ہر بڑی زبان میں چھوٹی بڑی کتب لکھی گئی ہیں جن میں سے بہت سی کتب نہایت مفید ہیں اور ان کا مدار کتاب و سنت پر ہے لیکن بہت سی کتب ایسی بھی ہیں جن میں ضعیف اور موضوع احادیث بیان کی گئی ہیں اور ان کا انطباق بھی درست طریقے سے نہیں کیا گیا۔ زیر مطالعہ کتاب علامات قیامت کے موضوع پر عالم عرب کی مشہور شخصیت ڈاکٹر محمد بن عبدالرحمٰن العریفی کی ’نہایۃ العالم‘ کے نام سے لکھی گئی شاہکار تصنیف کااردو قالب ہے۔ نبی کریمﷺ نے قیامت کی جو نشانیاں بیان فرمائی ہیں ان میں سےکئی نشانیاں اپنے ظہور کے بعد اوراق تاریخ پر اپنے نشان ثبت کر گئیں۔ کئی نشانیاں سامنے نظر آ رہی ہیں اور کئی مستقبل کے پردے سے جھانک رہی ہیں۔ مصنف نے ان تمام نشانیوں کا تذکرہ اس قدر ہوشربا انداز سے کیا ہے کہ کتاب کا مطالعہ شروع کرنے کے بعد اس کو ختم کرنے سے پہلے بند کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ مصنف نے جس قدر محنت اور باریک بینی سے یہ آگہی بخش کتاب لکھی ہے اسی محنت اور سلیقے سے قاری محمد اقبال عبدالعزیز نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب کا ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ علامات قیامت اجاگر کرنے کے لیے نہایت خوبصورت روشن او رنگین تصاویر اور 40 نادر نقشے بھی شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-jb-me-mr-jaon-copy
    ام دانش

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔موت انسان کےاپنے اصل گھر کی طرف روانگی کی پہلی منزل ہے ۔ دنیا میں رہتے ایک اچھا مسلمان چاہتا کہ اس کاہر قول،عمل اور طرز زندگی اللہ کےحکم کےمطابق ہو اوررسول اللہ ﷺ کی سنت کےموافق ہو ۔ اسے کےچلے جانے کے بعد اس کےلواحقین کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ اس کی آخری رسومات بھی اسی طرح شرعی طریقے سے پوری کرنے کاحق ادا کریں۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’جب میں مرجاؤں ‘‘ محترمہ ام دانش صاحبہ کا تحریری کردہ ہے جس میں انہوں نے وصیت کے انداز میں وفات سے لے کر دفن کرنے تک کے تمام کاموں کےبارے میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کے احکامات کو اختصار کےساتھ آسان انداز میں پیش کیا ہے ۔کہ مرنے والے کےلیے اس کے عزیز واقارب ،لواحقین کیا تحفہ بھیج سکتے ہیں اورکن غیر شرعی اوربدعی امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے لوگوں کےلیے نفع بخش بنائے اور تما م اہل اسلام کوخاتمہ بالایمان نصیب فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • jashan-e-eid-milaad-2
    محمد رفیق طاہر

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرمﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کو عملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبیﷺ نے بھی اختلافات کی صورت میں سنت نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھامنے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت نبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کو چھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات میں ڈوب جائیں گے اور سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے۔ متازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبیﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبیﷺ اور جشن مناتے ہیں۔ عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کے لیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولی کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریمﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرامﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریمﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید وجشن کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتے تھے بلکہ نبی کریمﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبیﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔اس بدعت میلاد کے بارے میں کافی کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن پھربھی برصغیر پاک وہندکے نام نہاد مسلمان اور یورپین ممالک بالخصوص انگلینڈ کے اہل بدعت مولوی اس رسم کے احیا ء و ترویج کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ وہ سادہ لوح عوام کواصل دین تو کیا بتاتے، یہود ونصاریٰ کی نقل میں انہیں چند بےاصل رسومات کا خوگر بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگائے ہوئے ہیں۔ان کے نزدیک نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور حلال وحرام کی تمیز اتنی اہم نہیں جتنی ان بدعات کی آبیاری اور پاسداری۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’جشن عیدمیلاد ‘‘محترم جنا ب ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر صاحب کی کاوش ہے جس میں انہو ں نے تاریخی اعتبار اور دلائل ریاضی اور شمسی و قمری تقویم سے ثابت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ کی تاریخ ولات 12 ربیع الاول نہیں بلکہ 9 ربیع الاول ہی ہے۔ اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اس میلاد النبی یا جشن میلاد کا قرون اولیٰ میں کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ نیراخبار جرائد کے حوالہ جات سے واضح کیا ہے کہ برصغیر پاک وہند میں اس بدعت کا آغاز بھی چو دہوی صدی ہجری 1352ھ بمطابق بیسویں صدی عیسوی 1933ء میں ہوا۔ اور فاضل مرتب نے اس کتابچہ میں میلاد کے موقع پر شریعت کی کی جانے والی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور آخر میں چند میلادی شبہات کاازالہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کتابچہ میں صفحات نمبرنگ کا مسئلہ ہے کہ ایک ہی نمبر باربار لگا ہوا ہے۔ یہ کتابچہ انڈیاکی ایک اسلامی ویب سائٹ منہاج السنۃ سے ڈاؤن لوڈ کیا ہے اپنے موضوع میں مختصر اور مفید ہونے کی وجہ سے اسے کتاب و سنت ویب سائٹ پر پبلش کردیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو بدعات وخرافات میں گھرے مسلمانوں اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ ( آمین) (م۔ا)

  • jashneeidmeladkitarikhisharihaisiat-copy
    عطاء الرحمن ضیاء اللہ
    اللہ تعالی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے دین کو مکمل کر دیا- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو شخص دین میں نیا کام کرے گا وہ بدعت کے زمرے میں آئے گا-دنیا کے مختلف ممالک میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر ''جشن عید میلاد النبی'' کے نام سے بدعات وخرافات کا بازار گرم کیا جاتا ہے –اس جشن عید میلاد کی شرعی حیثیت کیاہے؟ یہ خطرناک بدعت اس امت کے اندر کہاں سے در آئی؟ اور اس کے در پردہ مقاصد کیا ہیں؟زیر نظر کتاب  میں مصنف نے اس طرح کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئےاس  بدعت کے ایجاد کرنے والوں کے مکروہ چہروں سے نقاب کشائی کی ہے-

  • jashnemeeladyomewafatpar-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  جس قدر بدعات کی مذمت کی ہے ، بدقسمتی سے امت مسلمہ اسی شدومد کے ساتھ بدعات کے طوفان میں گھرتی چلی جارہی ہے-انہی میں سے ایک خطرناک بدعت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر عیدمیلاد النبی کا خصوصی اہتمام ہے، بہت سے نام نہاد روحانی پیشوا اپنے اپنے مفادات کی خاطر اسے ترویج دینے میں ہمہ تن مصروف ہیں-حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی؟ اور آپ کی ولادت پر جشن کا اہتمام کرنا جائز  ہے یا ناجائز؟ زیر نظر کتاب میں مصنف نے اس طرح کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دیتے ہوئے صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور آئمہ کرام کا اس جشن کے حوالے سے مؤقف واضح کیا ہے- کتاب کے آخر میں جشن میلاد النبی منانے والوں کے تمام دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی رد کیا گیا ہے -
  • 1
    عمر سلیمان الاشقر
    فی زمانہ ہمارا معاشرہ جنات و جادو اور آسیب کے حوالے سے جعلی عاملوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ ہرجگہ جادوگروں اور عاملوں کے آویزاں اشتہارات اور ان پر موجود بہت سے جانفزا نعرے عوام الناس کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اسلام ایک فطری دین ہے جس نے ہر پیش آمدہ مسئلے کا فطری حل بھی بتایا ہے۔ جادو و جنات کے توڑ کے لیے بھی اسلامی تعلیمات نہایت جامع ہیں۔ پیش نظر کتاب میں انھی تعلیمات کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ ’مکتبہ قدوسیہ‘ ہدیہ تبریک کا مستحق ہے کہ اس نے اس اہم موضوع پر کتاب و سنت کی روشنی میں عوام الناس کی رہنمائی کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ کتاب میں جہاں جنات و شیاطین، جادوگروں، نام نہاد عاملوں کی حقیقت واشگاف کی گئی ہے وہیں شیاطین سے بچاؤ کے طریقوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ جن، جادو، آسیب اور نظر بد کا علاج ایسے آسان اسلوب میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن و حدیث سے شناسائی رکھنے والا عام سا آدمی بھی ان پر عمل پیرا ہو کر جنات و شیاطین کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-jinn-hamzad-aur-islam-copy
    سید اقتدار احمد سہسوانی

    موجودہ دور پر نظر ڈالی جائے تو فتنوں کی بھر مار لگی ہوئی ہے۔آئے دن ایک نیا فتنہ سامنے آتا ہے ۔اگر تو اللہ تعالی کی مدد شامل حال ہو تو  امان مل جاتی ہے ورنہ لوگ ان فتنوں کا شکار ہوکر اپنے ایمان کو بھی کمزور کرتے ہیں دوسروں کو بھی غلط راستہ بتاتے ہیں۔اللہ تعالی نے اپنی کامل قدرت سے بے شمار مخلوقات پیدا کی ہیں۔لیکن صرف دوکو عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے: ایک انسان اور دوسرے جنات۔چونکہ جنات ہمیں نظر نہیں آتے اس بناء پر بہت سے غلط عقائد سامنے آتے ہیں۔ کچھ سائنسی ذہن کے حامل حضرات تو ان کے وجود کا ہی انکار کر دیتے ہیں، اور کچھ اس حد تک جاتے ہیں کہ ان ہی کو سب کچھ مانتے ہیں ۔کچھ عرصے سے اردو زبان میں جنات اور جادو کے موضوع پر کثرت سے کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ان میں اکثر کتب رطب ویابس کا مجموعہ ہیں۔اب ضرورت تھی کہ کوئی مستند  کتاب سامنے آئے جو فرضی داستانوں سے پاک ہو۔ زیر تبصرہ کتاب " جن، ھمزاد اور اسلام "محترم جناب  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے جنات اور جادو کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے خود ساختہ اور فرضی قصے کہانیوں کی تردید کی ہے۔مولف چونکہ خود بھی جنات اور جادو کے توڑ کے ماہر ہیں اس لئے جا بجا اپنے تجربات ومشاہدات بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-jinnat-ka-posmantem
    حافظ مبشر حسین لاہوری
    ہمارے معاشرے میں دینی مسائل سے ناواقفیت کی بناء پرلوگ کثرت سےنام نہاد عاملوں ،جادوگروں اور بنگالی بابوں کے  دام تزویر میں پھنس کر متاع دنیا کےساتھ دولت ایمان بھی لٹا بیٹھتے ہیں قرآن وسنت کی روشنی میں جادوٹونہ،علم نجوم اور جفرورمل وغیرہ قطعی ممنوع امور ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان میں مشغول ہے زیر نظرکتاب میں فاضل مؤلف نے ان تمام معاملات کا قرآن وسنت  کی روشنی میں بے لاگ جائزہ لیا ہے اور ان کی ممانعت وقباحت ثابت کرنے کےساتھ ساتھ نجومیوں ،رملوں جفریوں ،کاہنوں اور نام نہاد عاملوں وغیر ہ کی کتابوں ،مقالوں ،اشتہاروں اور ان کےمنہ پھٹ دعوؤں کی روشنی میں ان کی کذب وتضادبیانیاں پيش کرکے انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین نہ صرف جھوٹے عاملوں کے مکروفریب سے بچ سکیں گے بلکہ جادو او رجنات کے توڑ کے شرعی طریقوں سے بھی آگاہی حاصل کرسکیں گے –(انشاء اللہ )


  • title-pages-janazaqabar
    احمد بن عبد اللہ السلیمی

    چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ان مشہور بدعات کی نشاندہی کرتا ہے جن میں اکثر و بیشتر مسلمان شعوری یا لاشعوری طور پر گرفتار ہیں۔ جنازہ، قبر اور تعزیت سے متعلقہ اکثر بدعات کو بہت سے کتاب و سنت کے شیدائی بھی بدعات نہیں سمجھتے اور ان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شریک ہو جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ان تمام احباب کیلئے انشاء اللہ سنت و بدعت کے درمیان تفریق کا شعور پیدا کرے گا۔

     

     

  • title-pages-jannat-aur-jahanam-ki-rahain-copy
    حافظ ثناء اللہ ثاقب

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ اور جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالی نے کافروں،منافقوں،مشرکوں اور فاسقوں وفاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’جنت اور جہنم کی راہیں‘‘ ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے اس کتاب میں فاضل مصنف نے جنت میں لے جانے والے تیس اسباب کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جو بھی شخص ان عمال پر کاربند ہوگا اللہ کےفضل سے یہ کام اسے جنت میں لے جانے کےسبب بن جائیں گے ۔ لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ جوکوئی یہ اعمال کرے وہ ضرور ہی جنت میں جائے گا، خواہ اس کاعقیدہ کیسا ہی کیوں نہ ۔ بلکہ جنت میں صرف اور صرف حقیقی مؤمن ہی جائے گا۔ اگر کوئی کافر یا مشرک ان میں سے بعض اعمال پر کاربند ہویا یہ سارے ہی اعمال کرلے تو بھی اس کو قعطاً کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اور وہ جنت میں ہر گز نہیں جاسکےگا۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-jannat-brae-frokhat-copy
    محمد سرور خان

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جنت برائے فروخت ‘‘ محترم جناب محمد سرور خان کی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں بڑے سہل اور دلچسپ انداز میں اس بات کوواضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جنت خریدنے کے لیے مسلمانوں کے اعمال صالحہ ہی کرنسی نوٹ کا کا م کریں گے ۔دنیابھر کی دولت چاہے وہ قارون کی دولت سے ہزاروں گنا زیادہ کیوں نہ ہو اس سے جنت نہیں خریدی جاسکتی۔جنت کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور فقط بھاری اعمال صالحہ کا سکہ چلے گا۔(م۔ا)

  • title-pages-jannat-me-le-jane-wale-wazaif-copy
    امان اللہ عاصم

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔اور جنت میں لے جانے والے اعمال کرنا پڑیں گے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’جنت میں لے والے وظائف ‘‘ محترم جناب امان اللہ عاصم صاحب کا مرتب شدہ ہے جسے انہوں نے بڑے عام فہم انداز سے مرتب کیا ہے اور جنت میں لے جانےوالے وظائف میں ایسے اذکار مسنونہ کی نشاندہی کی ہے کہ جن کو اپنا حرز جان بنا کر حسین و جمیل دودھ وشہد کی بہتی نہروں والی جنت کے مالک بن سکتے ہیں ۔۔(م۔ا)

  • 123
    سعید بن علی بن وہف القحطانی
    یہ دنیا دار العمل ہے جزاء و سزا کا فیصلہ آخرت میں ہوگا۔جن و انس کی تخلیق کا مقصد عبادت الہیٰ ہے۔عبادت کی تفصیلات بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام بھیجے جنہوں نے خدا کا پیغام انسانوں تک پہنچا دیا۔اب یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر عمل پیرا ہو۔جو کامیاب ہو وہ جنت میں جائے گا اور ناکام شخص جہنم  کا رزق بنے گا،ہر مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ جہنم  سے بچ کر جنت میں داخل ہو جائے اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔زیر نظر کتاب میں قرآن و حدیث کے حوالے سے نہایت سلیس اور موثر انداز میں جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب کا ایک موازنہ پیش کیا ہے،یہ کتاب عربی سے اردو میں منتقل کرنے کا فریضہ جناب عنایت اللہ بن حفیظ اللہ سنابلی نے سر انجام  دیا ہے جس پر وہ اردو دان طبقہ کے شکریہ کے سزاوار ہیں۔خداتعالیٰ مؤلف و مترجم کو جزا دے او رہمیں جنت کے راستے پر گامزن فرمائے۔آمین

  • title-pages-jannat-ki-talash-me--dr-nighat--2-copy
    نگہت ہاشمی

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’جنت کی تلاش ‘‘ خواتین کی تعلیم وتعلم کے لیے کام کرنے والے معروف ادارے النور انٹرنیشنل کی سرابراہ محترمہ استاذہ نگہت ہاشمی صاحبہ کے جنت کے موضوع پر دئیے گیے لیکچر کی کتابی صورت ہے ۔محترمہ نےاس میں دنیا کی عیش وعشرت اور سہولیات اور قیامت کے دن اہل ایمان ، صالحین کو ملنے والی جنت کی نعمتوں کا تقابل کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ دنیا وی حسن اور دنیا کی چمک دھمک اوردنیاوی سہولتوں کی حقیقی جنت کےمقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔نیز قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں جنت کے درجات ، نعمتیں ، اور باغات اورجنتیوں کو ملنے والے انعامات کا اس مختصر کتاب میں آسان فہم انداز میں تذکرہ کیا ہے ۔ (م۔ا)

  • title-pages-jannat-ki-rah-copy
    ابو عبد الرحمٰن شبیر بن نور

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جنت کی راہ ‘‘ مولانا ابو عبد الرحمن شبیربن نور کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کوانہوں نے تین ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ باب اول میں جنت کیسی ہوگی اوراہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا کیا عنائتیں اور نوازشیں ہوں گی کا بیان ہے ۔ اور باب دوم میں جنت میں داخلے کی لازمی شرطوں کابیان ہے ۔ تیسرے باب میں ان ’’سو (100) اعمال کا تذکرہ ہے جو کسی مومن کو جنت میں لے جانے کاسبب بن سکتے ہیں ۔اور شروع میں ایک مفصل تمہید ہے جس میں مبادی واصول بیان کیے گئے ہیں ۔ نیز ڈاکٹر محمد نذیر مسلم کا جامع اورعلمی طویل مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔ فاضل مصنف نے تمام مسائل کو کتاب اللہ اور ثابت شدہ احادیث کے حوالے سے بیان کیاہے اور اقوال، قصے ،کہانیاں، ذاتی آراء، خواب اوراس طرح کے غیر مستند ذرائع معلومات سےمکمل اجتناب کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو جنت میں داخلہ نصیب فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • untitled-1
    نایف بن ممدوح بن عبد العزیز آل سعود
    یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے جس کے خاتمے کے بعد دائمی زندگی کا آغاز ہو جائے گا۔ جب تک انسان کی سانسیں چل رہی ہیں اس کو اختیار ہے اپنے لیے عیش و آرام والی زندگی کا انتخاب کر کے اس کے لیے محنت کرے یا پھر زمانے کی مصلحتوں کا شکار ہو کر آتش جہنم کو اپنا مقدر بنا لے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ  نے بہت سے ایسے اعمال بتلا دئیے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان نہایت آسانی سے اللہ کی رحمت کے ساتھ جنت کا مستحق ہو سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب میں ان تمام اعمال کے فضائل پر روشنی ڈالی گئی ہے جو دراصل جنت میں جانے کا سبب اور نہایت آسان راستے ہیں۔ اصل کتاب عربی میں تھی جس کو نایف بن ممدوح آل سعود نے تالیف کیا جس کو اردو میں مجلس تحقیق الاسلامی کے سابقہ رکن محمد اسلم صدیق نے منتقل کیا۔ ہمارے ہاں ذکر و اذکار اور فضائل اعمال پر بہت سی کتب مروج ہیں لیکن ان میں صحت و ضعف کا خاص اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے ان پر انحصار درست نہیں ہے۔ جبکہ کتاب ہذا کے مؤلف نے صرف مستند اور صحیح احادیث سے ثابت اعمال کو جمع کیا ہے۔ ترجمہ بامحاورہ اور سلیس ہے۔ احادیث کی تحقیق کے لیے علامہ البانی کی تحقیق پر اعتما د کیا گیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-jannat-ki-kunjiyaan
    عبد الہادی بن حسن وہبی

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا   آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے   اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حورو غلمانملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے۔ لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ جنت واجب کرنے والے اعمال‘‘ شیخ عبد الہادی بن حسن وھبی کی عربی کتاب کا ترجمہ ہےانہوں نے اس کتاب میں صحیح احادیث کی روشنی میں ان اعمال کا حسین انتخاب پیش کیا ہے۔جن کا التزام ہر مسلمان کےلیے جنت میں داخلہ یقینی بنا سکتاہے۔ محترم حافظ عمران ایو ب لاہوری ﷾ نے اس کتاب کو اردوقالب میں ڈھالنے کے ساتھ ساتھ اس کی تخریج اور مختصر فوائد کا   کا م بھی کیا ہے۔نیز ہرحوالہ کو علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی تحقیق سے مزین کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ المسلمین کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین)

  • title-pages-jannat-k-mehman-banye-copy
    امان اللہ عاصم

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’جنت کے مہمان بنیے ‘‘ محترم جناب امان اللہ عاصم صاحب کی کاوش ہے جسے انہوں نے بڑے عام فہم انداز سے مرتب کیا ہے اور اس میں اختصار سے جنت کے محلات کے حصول اور پھر ان دودوھ وشہد کی نہروں والی جنت کے سرکاری ، شاہی والٰہی مہمان بننے کے گُر یعنی وہ اعمال بتائے کہ جن کے کرنے سے انسان جنت کا مہمان بن سکتا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-jannati-kon-dozakhi-kon-quran-ki-roshni-me-copy
    پروفیسر محمد رفیق چودھری

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ اور جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالی نے کافروں،منافقوں،مشرکوں اور فاسقوں وفاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’جنتی کون؟دوزخی کون؟ قرآن کی روشنی میں ‘‘ماہنامہ محدث کے معروف کالم نگار اور کئی کتب کے مصنف ومترجم محترم مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میں ایسےتمام امور بیان کرنے کی کوشش کی ہےجن کی بنا پر قرآن نے انسانوں کےجنتی یا دوخی ہونےکاذکرکیا ہے۔اختصار کےپیش نظر ہر حوالے کےلیے ایک ہی متعلقہ آیت اور اس کااردوترجمہ دے دیا ہے ۔مزید حوالہ جات کوتکرار سےبچنے کےلیے صرف سورتوں کےناموں اورآیتوں کےنمبروں تک محدود رکھا ہے اوران کامتن اورترجمہ نہیں دیا۔فاضل مصنف نے کتاب کے دوحصے کیے ہیں پہلے حصے میں ایسے 35اوامرذکر کیے ہیں جن کی پابندی کر کے کوئی شخص جنت کامستحق ہوسکتاہے۔ پھر ساتھ ہی 10 ایسے نواہی بیان کیے ہیں جن سے اجتناب کر کے کوئی آدمی جنت کاحق دار ہوسکتاہے ۔دوسرے حصے میں ایسے 72امور بیان کیے ہیں جن کےارتکاب پر کوئی آدمی آخرت میں دوزخ کے عذاب کا مستوجب ہوگا۔اگرچہ قرآن مجید کےعلاوہ صحیح احادیث میں بھی جنتیوں اور دوزخیوں کی کچھ مزید نشانیاں بیان ہوئی ہیں تاہم مصنف نے صرف قرآن کی روشنی میں جنتیوں اور جہنمیوں کی نشانیاں بیان کی ہیں ۔ کتاب کے مصنف محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب اور علوم قرآن سے گہرا شغف ہے او ر طالبانِ علم کو مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔ قرآن مجید کا لفظی وبامحاورہ ترجمہ کرنے کے علاوہ قرآن مجید کی تفسیر لکھنے میں مصروف ہیں جس کی کچھ جلدیں طبع ہوکر منظر عام آچکی ہیں مزید کام جاری ہے اللہ تعالیٰ انہیں تکمیل کی توفیق دے ۔اور ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے ، اس کتاب کواہل اسلام کے لیے نفع بخش بنائے اور ہمیں ایسے کام کرنے کی توفیق دے جس کےنتیجے میں ہم اُخروی زندگی میں دوزخ کے عذاب سےبچ سکیں اور اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوجائیں(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-jawab-e-mubeen-copy
    ابو انور جدون

    عذابِ  قبر دینِ اسلام کے    بنیادی  عقائد میں   سے  ایک  اہم  عقیدہ   ہے عقلی وعلمی گمراہیوں میں غرق ہونے  والے  اور بے دین افراد اگرچہ  عذابِ قبر کا  انکار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہی  ہے  کہ اس کے  برحق ہونے پر کتاب  وسنت میں  دلائل کے انبار موجود  ہیں اسی لیے  جملہ اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے اور وہ اسے برحق مانتے  ہوئے  اس  پرایمان رکھتے ہیں  عقیدہ  عذاب  قبر اس قدر اہم ہے کہ اس پر  امام  بیہقی ،امام ابن قیم ، اما م جلال الدین سیوطی ، اورامام ابن رجب ﷭  جیسے کبار محدثین اور آئمہ   کرام نے  باقاعدہ کتب  تالیف فرمائی  ہیں اور اسی طرح اردو زبان میں بھی کئی  جید علماء کرام  اور  اہل علم نے  اثبات عذاب ِقبر اور منکرین عذاب ِقبر کےرد میں کتب ومضامین لکھے  ہیں  ۔ زیر تبصرہ کتاب’’جواب مبین‘‘ ابو انور جدون صاحب کی کاوش ہے ۔ جس میں  انہو ں نے کتاب وسنت سے دلائل وبراہین کی روشنی  میں ثابت کیا گیا ہے کہ  عذابِ قبر برحق ہے۔ اللہ تعالی ہمیں حق کے  اتباع کی  توفیق عطا فرمائے او رباطل سےمکمل طور پر اجتناب کی  توفیق دے ( آمین ) ( م۔ا)

  • pages-from-jahannam-aur-jahannamiyon-key-ahwaal
    ابو سالم النذیر

    جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالیٰ نے کافروں، منافقوں، مشرکوں اور فاسقوں و فاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’جہنم اور جہنمیوں کے احوال‘‘ فضیلۃ الشیخ ابو سالم النذیر کی ایک عربی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے جہنم کی ماہیت اور اس کے مختلف نام ،جہنم کے طبقات، عذاب کی شدت اور خفت کےاعتبار سے جہنمیوں کی قسمیں، جہنم کے عذاب کی مختلف قسمیں، جہنمیوں کے ماکولات اور مشروبات کو قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کے روشنی میں پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر حافظ شہباز حسن صاحب نے اردو دان طبقہ کےلیے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔(م۔ا)

  • untitled-1
    محمد اسلم صدیق
    جہنم واقعتاً ایک دل دہلا دینے والا مقام ہے، لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ کی اکثریت جہنم کی اندھیر نگریوں اور ان عذابات سے واقفیت کے باوجود اس سے بچاؤ میں تساہل کا شکار نظر آتی ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس دنیا کی عارضی ہونے پر کامل ایمان رکھ کر حقیقی دنیا کی تیاری میں لگے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو بھی یقیناً ایسے انسان ہی مطلوب ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب کا بھی بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو جہنم کی وادیوں سے آگاہی دی جائے اور اس سے بچاؤ کے لیے خدا تعالیٰ کی فراہم کردہ تدابیر پر عمل کیا جائے۔ کتاب کے مصنف مجلس التحقیق الاسلامی کے سابقہ رکن محترم محمد اسلم صدیق صاحب ہیں، جو علمی  دنیا کی جانی پہچانی شخصیت ہیں اور صاحب علم انسان ہیں۔ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب جہنم کے وحشت مناظرپر مشتمل ہے۔ دیگر ابواب میں جہنمیوں کی حالت زار، جہنم میں لے جانے والے گناہ اور سلف صالحین کے جہنم سے خوف کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ آخری باب میں اختصار کے ساتھ وادی جہنم سے بچنے کا راستے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 312 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں