• title-pages-touheed-e-khalis-aur-iske-taqaze-copy
    عبد القادر سلفی

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم ﷺنے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" توحید خالص اور اس کے تقاضے "محترم جناب عبد القادر سلفی صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں توحید خالص اور  اس کے تقاضوں کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-toheed-e-rabbani
    ابو محمد بدیع الدین راشدی
    انبیائے کرام کی دعوت کا بنیادی نقطہ توحید تھا۔ اسی کے لیے انہوں نے اور ان کے متبعین نے طرح طرح کی تکالیف کا سامنا کیا جن کے واقعات قرآن و حدیث میں مذکور ہیں۔ مگر افسوس کہ علمی دور کے انحطاط اور جہالت کے غلبے کی وجہ سے بہت سارے لوگ توحید سے بے خبر اور شرک کی بے شمار اقسام میں گرفتار ہیں۔ علاوہ ازیں بہت سے لوگ توحید عبادت کی اصل بنیاد توحید ربوبیت کے حوالےسے سخت انحراف کا شکار ہیں۔ جو شخص اس امتحان میں فیل ہو گیا وہ بری طرح ناکام ہو گیا۔ نتیجتاً اپنی دنیا، اپنی قبر اور اپنی آخرت سب کی بربادی کا خود ہی انتظام کر ڈالا۔ زیر نظر کتاب میں محترم بدیع الدین شاہ راشدی نے توحید کی تمام تر جہات سے متعلق بہت تفصیلی اور مدلل گفتگو کی ہے۔ یہ کتاب سندھی زبان میں لکھی گئی اور شائع ہوئی تھی اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے مولانا حزب اللہ نے اس کو اردو میں منتقل کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ توحید کی بنیاد اور اس سے متعلقہ تمام تر معلومات کے حصول کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ شرک کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگوں تک بھی یہ کتاب ضرور پہنچانی چاہیے۔(ع۔م)

  • title-page-tawheed-sabse-pahle-aey-daiyane-islam-2
    ناصر الدین البانی
    یہ ایک عظیم انتہاہی اورنفع بخش رسالہ ہےجو ایک سوال کا جواب ہے جسے محدث عصرشیخ ناصرالدین  البانی  رحمہ اللہ نے دیا ہے او روہ سوال مجمل طور پر مندرجہ ذیل ہے ۔وہ کیا طریقہ کار ہے جومسلمانوں کو عروج کی طرف لے جائے اور وہ کیا راستہ ہے کہ جسے اختیار کرنے پراللہ تعالی انہیں زمین پر غلبہ عطاکرے گا اور دیگر امتوں کے درمیان جوان کا شایان شان مقام ہے  اس پر فائز کرے گاپس علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس سوال کا نہایت ہی مفصل اور واضح جواب ارشاد فرمایاجس کی افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے قارئین کی خدمت میں یہ رسالہ پیش کیا جارہاہے نہایت ہی مفید مضمون ہے ۔

  • title-page-taoheed-i-shirk-k-ahkam-o-masail
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    امت مسلمہ کو شرک سے بچانےکےلیے نہ صر ف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک  کی مذمت بیان کی بلکہ ان اسباب وذرائع کابھی انسداد فرمایا جو کسی بھی طرح سے شرک کا ذریعہ بن سکتے تھے توحید کی اس قدر اہمیت اور شرک کی مذمت وروک تھام کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ امت کی اکثریت شرک میں مبتلا  ہے ایک اللہ کو چھوڑ کر مصائب ومشکلات میں یارسول اللہ ،یاعلی مدد،یاغوث اعظم،امداد کن یا شیخ عبدالقادر کے نعرے ورد زبان ہیں اصحاب القبور اور فوت شدگان کو مدد کےلیے پکارا جارہا ہے مزاروں پر عرسوں او رمیلوں کا انعقاد او روہاں چراغاں کرنا ،کھانا تقسیم کرنا ،عبادت کرنا،دعائیں کرنا او رسرکاری سطح پر ان کاموں کی پذیرائی ،سب اسباب وذرائع شرک ہیں۔شرک کی درج بالا اور دیگر مروجہ صورتوں کی بنیادی سبب دین سے جہالت ہے اس کتاب میں قرآن وسنت کو مد نظر رکھتے ہوئے  توحید وشرک کی معرفت ،اقسام ،احکام او ردیگر تفصیلات کو بیان کیا گیا ہے تاکہ جس سے انسان آگاہی حاصل کرکے اللہ کا سچا موحد بندہ بن کر روز قیامت فلاح پاسکے

  • title-pages-touheed-pr-iman-aur-shirak-se-bezari-copy
    حافظ محمد سلیمان ايم ایڈ

    توحید پرایمان اور شرک سے  بیزاری ہی اصل دین  ہے ۔اس کے بغیر  اللہ تعالی کسی دین کو قبول نہی نہیں فرماتا ۔تمام انبیاء کرام ﷩ ایک  ہی پیغام  اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام  سالہاسال تک مسلسل  اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے  انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت  نوح ﷤ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور  اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ  توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے  آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے  جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں توحید کی  اہمیت کے پیش نظر  ہر دور  میں اہل علم  نے بہت سی کتب تصنیف فرمائیں ہیں۔زیر نظر کتاب ’’توحید پر ایمان اور  شرک سے  بیزاری ‘‘ اسی مذکورہ مبارک سلسلہ کی کڑی ہے ۔ جسے  محترم حافظ  محمد سلیمان (ایم ۔ایڈ) نے  بہت سلیس ، اورعام  فہم انداز میں مرتب فرمایا ہے۔ مختلف  عنوانات  کے تحت آیات کریمہ اور احادیث نبویہ ﷺ کا انتخاب کر کے  ان کا اردو  ترجمہ اور  ہلکے پھلکے  انداز میں ان کی تشریح بھی کردی ہے ۔تاکہ  عامۃ المسلمین کے لیے  استفادہ آسان ہواور  انہیں توحید کی حقیقت سمجھنے میں کوئی دشواری محسوس نہ ہو۔ اللہ تعالی اس کتاب کو مرتب ناشر اورمعاونین کے لیے  باعث نجات اور صدقہ جاریہ بنائے  (آمین) ( م۔ا)

     

  • pages-from-toheed-ka-noor-aur-shirak-ki-tabah-kaariyaan
    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنی یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر نظر رسالہ ’’ توحید کا نور اور شرک کی تباہ کاریاں‘‘سعودی عرب کے ممتاز عالم سعید بن علی بن وھف القحطانی کے ایک عربی کتابچہ کا اردو ترجمہ ہے۔ جس میں انہو ں نے توحید کا مفہوم، اس کے دلائل، اس کی انواع واقسام، اس کے ثمرات ، شرک کا مفہوم، اس کے ابطال کے دلائل، جائز وناجائز شفاعت، شرک کےاسباب ووسائل ، اس کی انواع واقسام اوراس کے آثار ونقصانات کو قرآن حدیث کے دلائل میں بڑے احسن انداز سے بیا ن کیا ہے ۔ کتاب ہذا کو اردو قالب میں ڈھالنے کا کام انڈیا کے   ممتاز عالم دین ابو عبداللہ عنایت اللہ سنابلی نے کیا ہے او راس میں تخریج وتصحیح کےفرائض محترم جناب مولانا عبد اللہ یو سف ذہبی(ایم فل سکالر لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنس،لاہور) نے انجام دیئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مصنف، مترجم ،ناشر کی خدمات کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے تما م اہل اسلام کو توحید کےنورسے منور فرمائے اور شرک کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • title-page-toheed-ka-paigham-copy
    عبد العزیز بن محمد آل سعود
    انسان کی زندگی کا مقصد اللہ تعالی نے اپنی عبادت رکھا اور ہر وہ کام جس کو دین یا ثواب سمجھ کر کیا جائے وہ عبادت کے زمرے میں آتا ہے اس لیے ہر وہ معاملہ جس کو ثواب سمجھ کر کیا جائے وہ خالصتا اللہ تعالی کی رضا کے لیے اور اسی کے نام پر ہونا چاہیے اگر کوئی شخص کسی بھی ثواب والے کام کو اللہ کے علاوہ کسی اور کی رضا حاصل کرنے کے لیے سر انجام دے گا تو یہ اللہ کے ہاں ناقابل قبول ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ شر ک جیسے قبیح گناہ کا ارتکاب ہو جائے گا-اس لیے مصنف نے اس کتاب میں عبادت كا لغوي اور اصطلاحي مفهوم بيان كرنے کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کا مقصد بھی واضح کیا ہے- اوراس کےساتھ ساتھ بہت ہی اہم مسائل پر روشنی ڈالی ہے جن میں سے مسئلہ شفاعت،شرک کی اقسام ،وسیلہ کی پہچان اور قبروں پر عمارت تعمیر کر نے کے بارے میں بیان ہے-سب سے اہم خوبی یہ ہےکہ ہرموضوع کو الگ الگ فصل کے تحت بیان کیا ہے۔

  • title-page-toheed-kinzul-eemaan-k-ainay-main
    ابو عبد الرحمن الاثری

    اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں ، لامحدود رحمت کے باوجود قرآن میں واضح اعلان کیا ہے کہ شرک کی معافی نہیں جب تک توبہ نہ کر لی جائے۔ قرآن کریم میں صدہا آیات شرک سے ڈراتی ہیں اور توحید کے فوائد بتاتی ہیں۔ اس کے باوجود آج ہمارے معاشرے میں شرک اتنا عام ہو گیا ہے کہ لوگ شرک ہی کو دین سمجھ بیٹھے ہیں۔ جب اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے ، اثبات توحید اور رد شرک کے بارے میں آیات پیش کی جاتی ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ اس اشکال کو دور کرنے کے لئے اس رسالے میں جو آیات پیش کی گئی ہیں وہ احمد رضاخان بریلوی کے  ترجمہ کنزالایمان  سے لی گئی ہیں۔ اس مختصر کتابچہ میں صرف آیات قرآنی ہی کو مضامین کے حساب سے ترتیب دیا گیا ہے اور تمام آیات کا ترجمہ کنزالایمان سے لیا ہے تاکہ اس اشکال کو دور کر دیا جائے کہ یہ ترجمہ غلط ہے۔شرک کی قباحت کو سمجھ کر اس سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی فکر ضرور کرنی چاہئے۔ اسی فکر کو عملی جامہ پہنانے کی اس کتابچہ میں عمدہ کوشش کی گئی ہے۔

  • title-pages-touheed-ki-sunehri-kirnain-copy
    صالح بن عبد العزیز بن محمد آل شیخ

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کامعنی یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔تردید شرک اور اثبات کےسلسلے میں اہل علم نے تحریر اور تقریری صورت میں بےشمار خدمات انجام دیں۔ ماضی میں شیخ الاسلام محمد بن الوہاب﷫ کی اشاعت توحید کےسلسلے میں خدمات بڑی اہمیت کی حامل ہیں ۔شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام میں توحید کے موضوع پرکتاب التوحید جیسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔یہ کتاب توحید کی طرف دعوت دینے والی ہے ۔ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کے افادیت کے پیشِ نظر متعد د اہل علم نےاس کی شروحات بھی لکھی ہیں اور کئی علماء نے اس کتاب کےمتعد د زبانوں میں ترجمہ بھی کیا ہے۔اردو زبان میں بھی اس کےمتعدد علماء نےترجمے کیے جسے سعودی حکومت اور اشاعتی اداروں نے لاکھوں کی تعداد میں شائع کر کے فری تقسیم کیا ہے۔  زیر تبصرہ کتاب’’ توحید کی سنہری کرنیں‘‘شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی عقیدہ توحید پر مشہور ومعروف کتاب التوحید کی شرح ’’غایۃ المرید ‘ کے ایک اختصار کا ترجمہ ہےیہ اختصار شیخ محمد بن حسین القحطانی نے کیا ہے ۔جسے دار الابلاغ ،لاہور کے مدیر محترم جناب طاہر نقاش﷾ نے اردو ترجمہ کروا کر’ توحید کی سنہری کرنیں‘ کے نام سے بڑے خوبصورت انداز میں طباعت کے بہترین معیار پر شائع کیا ہے ۔یہ کتاب شرک کی پُر خار وادیوں سے نکل کر توحید کے مہکتے گلستانوں میں پہنچنے کےخواشمندوں کے لیے تحفہ خاص ہے ۔جو لوگ اپنے عقیدے کی حفاظت وصیانت کرنا چاہتے ہیں وہ افراد اس کتاب کا خود مطالعہ کریں اور اسے تقسیم کر کے عام کریں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کتاب وشارح اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-touheed-k-bunyadi-usool
    ڈاکٹر ابوامینہ بلال فلپس
    اللہ کی توحید وہ روشنی ہے کہ جس کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے اسے زندگی کے تمام فنون و راہیں سجھا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست پر لانے کے لیے انبیاء کا سلسلہ نازل کیا۔جن کی دعوت کا مرکزی موضوع ہی توحید تھا وہ لوگوں کو ان کے رب کی حقیقی شناخت کروانے اور معبودوان باطلہ  کی نشاندہی کرتے ہوئے ان سےبراء ت کادرس دیتے۔ اسی توحید کےلیے  انبیاء و رسل نے اپنی جان قربان کیں اور اپنے جسم مخالفین کے پتھروں سےلہولہان کروائے۔زیر نظر کتاب نو مسلم ڈاکٹر ابوامینہ بلا ل فلپس کی تصنیف ہے جو جمیکا میں پیدا ہوئے  کینیڈا میں پلے بڑھے اور 1972ء میں  اسلام قبول کیا اور عرب کے مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیم حاصل کی۔مذکورہ کتاب میں مصنف نے توحید اور اس سے متعلقہ ابحاث کو مفصل ذکر  کردیا ہے اس کتاب کے کل گیارہ باب ہیں۔ پہلا باب توحید کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ دوسرا شرک کی اقسام ۔ تیسرا اللہ کا آدم سے عہدلینا۔ چوتھاطلسم اور شگون۔ پانچواں قسمت سےمتعلقہ بحث ۔ چھٹے میں علم نجوم کی وجہ سے شرک کی قباحتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح ساتویں باب میں جادو  اور  اس کی حقیقت کا بیان ہے۔ آٹھویں باب میں اللہ کےہرجگہ ہونے کے عقیدہ پر وضاحت ہے۔نویں باب میں اللہ تعالیٰ کے دنیا میں دیدار سے متعلق بحث ہے جبکہ دسویں باب میں وحدت الوجود کےمسئلہ کو موضوع  بحث بنایا گیا ہے ۔اس طرح گیارہویں اور آخری باب  فوت شدہ سے دعائیں مانگنے کاردّ پر مشتمل ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-touhedi-chamkan-copy
    عبد الشکور خان عزیز

    آج کل کے پر فتن دور میں جو جہالت وضلالت میں،قبل ازبعثت کی جہالت سےدوہاتھ آگے بڑھ چکاہے،اسلام کے نام لیواؤں کواسلام سے اتنی نفرت ہے کہ ان کہ سامنے اگر اسلام  کواصلی صورت میں پیش کیا جائے تواسے اسی طرح مکروہ جانتے ہیں جیساکہ اسلام کی پہلی منزل پر سمجھا گیا تھا۔حالانکہ’’توحید‘‘وہ چیز ہے جس کے بغیر کوئی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ’’توحید‘‘ ہی وہ چیز ہےکہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں انبیاء ورسلﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو غیراللہ کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ کی عبادت میں لگائیں۔ اور شرک  جیسے  گناہ کبیرہ سے ان کو بچائے۔ اور شرک کی شنا عت  وخطورات کی سب سے بڑی دلیل  یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نےشرک کرنے  والے  کے گنا ہوں کو بخشنے سے انکار کردیاہے،اور یہ ایک بہت ہی تلخ حقیقت ہے،جو اللہ رب العزت کی مشرکین سے نارضگی کا مظہر ہے، زیرہ تبصرہ کتاب  ’’توحیدی چمکاں‘‘ جو کہ عبدالشکور خان﷾کی پنجابی زبان میں ایک  بے مثال تصنیف ہے۔جس میں فاضل مصنف نے  تو حید باری تعالیٰ کے اثبات اور شر ک کی  مذمت میں نہایت ہی قابل تعریف اور مفید تصنیف ہے ۔ جس کے مطالعہ سے یقینا قارئین مستفید ہونگے۔اللہ رب العزت سے دعا کراے ہیں کہ اللہ ان کی مساعی جمیلہ کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت  بخشےـ آمین(شعیب خان)

  • title-pages-touzeh-aqaid-e-nasfi-urdu-copy
    عبد الحلیم شرر

    عقائد نسفی  ابو حفص  عمر بن  محمد نسفی  حنفی ماتریدی  کی  تصنیف ہے ۔ اس کی متعدد شروحات لکھی جاچکی ہیں ۔ 'خیالی' اس کی معروف شرح ہے جس پر علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی نے حاشیہ لکھا ہے۔علامہ تفتازانی نے بھی اس کی مفصل شرح لکھی  ہے۔ تفتازانی کی شرح پر کئی شرحیں لکھی گئیں ہیں۔ یہ کتاب مدارسِ عربیہ میں مقبول و متداول ہے۔ادیب عربی کےامتحان میں بطور نصاب شامل ہوجانے کے بعد اس کی درسی حیثیت میں قابل ِقدر اضافہ  ہوا تو جناب عبدالحلیم شرر  نے  عقائد نسفی کے متن کواردو میں پیش کیا  اور طلبہ کی سہولت کےلیے  اسے سوال وجواب کی  شکل دی گئی ۔نیز اس کے ساتھ ایک منظوم عقائد نامہ  بھی شامل کردیا گیا ہے  تاکہ طلباء کوپڑھنے اور یاد کرنے میں آسانی  رہے ۔( م۔ا)

  • title-toheen-amaiz-khakon-pr-bait-ul-haram-se-baland-hone-wali-sada
    حافظ حسن مدنی
    جیسا کہ اہل اسلام واقف ہیں کہ گذشتہ سالوں میں بعض مغربی ممالک کے اخبارات میں نبی کریمﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کیے گئے اور اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا اور فیس بک پر خاکوں کے مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس صورت میں سرزمین توحید کیسے خاموش رہ سکتی تھی۔ بیت اللہ الحرام سے اس پر صدائے احتجاج بلند ہوئی جس نے رفتہ رفتہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو چراغ پا کر دیا اور اسی سے تحفظ ناموس رسالت کی مؤثر تحریک کا آغاز ہوا۔ ماہنامہ ’محدث‘ میں اس خطبہ کو اردو ترجمہ کر کے شائع کیا گیا۔ علاوہ بریں جامعہ لاہور الاسلامیہ اور ’محدث‘ کے مدیر حافظ حسن مدنی نے ’محدث‘ ہی میں اداریہ لکھا جس میں عالمی قوانین کے تناظر میں توہین آمیز خاکوں کا جائزہ لیا اور امت مسلمہ کے لیے لائحہ عمل پیش کیا۔ اس اداریے اور خطبہ حرم کو افادہ عام کے لیے پملفٹ کی صورت میں شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔ یہی پمفلٹ اس وقت قارئین کتاب و سنت ڈاٹ کام کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-toheen-e-risalat-ki-sharai-sza
    محمد علی جانباز
    شاتم رسول کی سزا کے بارے سب سے پہلے مفصل اور مدلل کلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘ میں کیا ہے۔ امام صاحب کے اس کتاب کے لکھنے کا سبب ایک نصرانی تھا جس نے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ یوں تو عربی زبان میں اس موضوع پر اور بھی کئی کتب موجود ہیں لیکن اردو میں اس پر مواد کافی کم تھا۔ مولانا محمد علی جانباز صاحب نے اس موضوع پراپنی  کتاب میں عوام الناس کی معلومات کے لیے بہت سا مواد آسان فہم انداز میں جمع دیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عصر حاضر میں مغرب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی اہانت کے واقعات بہت بڑھ گئے ہیں۔ مغرب کی نقالی میں اب مسلمان ممالکمیں موجود سیکولر عناصر اور غیر مسلموں نے بھی اس بارے اپنی زبان دراز کرنا شروع کر دی ہے جیسا کہ سلمان رشدی ، عاصمہ ملعونہ اور راجپال جیسوں کی مثالیں واضح ہیں۔حال ہی میں گورنر پنجاب کے قتل اور حکومت پاکستان کی طرف سے توہین رسالت کی سزا کے ملکی قانون میں تبدیلی کے اقدامات نے اس بات کی ضرورت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی تھی کہ اس مسئلہ کو اجاگر کیا جائے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی یا آپ کو گالی دینے یا آپ پر کیچڑ اچھالنے کی سزا اور حد شریعت اسلامیہ میں قتل مقرر کی گئی ہے اور اس سے کوئی بھی گستاخ بری الذمہ نہیں ہے۔شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز کا شمار معاصر کبار علمائے اہل الحدیث میں ہوتا ہے۔ ۱۹۵۸ء میں آپ نے جامعہ سلفیہ ، فیصل آباد سے اپنی تدریس کا آغا ز کیا۔اس کتاب کے علاوہ آپ کی معروف کتابوں میں ’سنن ابن ماجہ‘ کی عربی شرح ’انجاز الحاجۃ‘ کے نام سے ہے۔


  • title-pages-toheen-e-risalat-ki-saza-profaisor-habibullah--copy
    پروفیسر حبیب اللہ چشتی

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور اسی دوران گستاخ رسول کی سزا وانجام کےحوالے سے متعددنئی کتب چھپ منظر عام پر آئی ہیں کتاب ہذا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’توہین رسالت کی سزا‘‘ جنا ب پروفیسر حبیب اللہ چشتی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے توہین رسولﷺ کرنےوالوں کےلیے سزائےموت کےقانون کوقرآن وسنت،اجماع امت، اقوال ائمہ فقہ اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے۔یہ کتاب جمال رسول ﷺ کادلکش تذکرہ اور قانون توہین رسالت کا تاریخی مجموعہ ہے۔ (م۔ ا) 

  • pages-from-takfeer-asbaab-alamaat-aur-hukam
    ابو سعد احسان الحق شہباز

    متوازن فکر اور معتدل سوچ اور پھر ان کے مطابق رویہ بنانا انسانی زندگی کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ معتدل سوچ اور معتدل رویہ انسان کے لیے کامیابی کی دلیل ہوتی ہے اور ضمانت بھی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انساان بلاوجہ لوگوں کی دل آزاری اور فکری و ذہنی انتشار کا سبب نہیں بنتا ہے اور نئی الجھنیں اور پریشانیاں نہیں لاتا ہے۔ عدم توازان کی ایک نہایت سطحی شکل یہ ہے اور وہ بھی فساد عام کا نتیجہ ہے کہ انسان دین کے نام پر کسی معمولی سی بات کو اساسی اور اصولی مسئلہ بنا دے، یا ایک مباح شے کو عین اسلام یا عین کفر بتانا شروع کردے۔باہمی نزاعات کو عین دین بتانا شروع کردے، کفر سازی اور فتنہ سازی کو مہم جوئی بنا ڈالے۔ علم کی بو بھی سونگھنے کی صلاحیت نہ ہو لیکن علّامہ بننے کی کوشش کرے۔ دعوت و افتاء کا کاروبار کرنے لگے اور اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر لوگ اچھلنا شروع کردیں۔بے اعتدالی کی یہ ساری شکلیں اس وقت علمی و دعوتی دائرے میں نظر آتی ہیں اور ان پر اتنا اصرار ہے کہ خارجیت شاداب ہورہی ہے اور اس کے علائم صاف نظر آرہے ہیں۔عالم اسلام ان دنوں بڑی ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہے ۔ قدم قدم پہ مسائل کا انبار اور  خارجی سازشوں سے لے کر داخلی پریشانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دراز ہوتا جاتا  ہے ۔ یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی  ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔زیر تبصرہ کتاب "تکفیر اسباب، علامات اور حکم " محترم ابو سعد احسان الحق شہباز صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی فکری عدم توازن اور خارجیت جدیدہ پر شاندار بحث کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-jaiz-aur-najaiz-tabarruk
    ڈاکٹر علی بن نفیع العلیانی
    صالح اور بزرگ حضرات کی شخصیات اور ان سے متعلق مقامات اور دیگر آثار سے تبرک حاصل کرنا عقیدہ و دین کے اہم مسائل میں سے ہے۔ اور اس بارے میں غلو اور حق سے تجاوز کی وجہ سے قدیم زمانہ سے آج تک لوگوں کی ایک معقول تعداد بدعات اور شرک میں مبتلا رہی ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ مسئلہ نہایت پرانا ہے حتیٰ کہ سابقہ جاہلیت جس میں رسول اللہﷺ مبعوث ہوئے، ان کا شرک بتوں کو پوجنا اور ان مورتیوں سے تبرک حاصل کرنا تھا۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر علی بن نفیع العلیانی نے ایک کتاب لکھی جس میں جائز اور ناجائز تبرک کو شد و مد کے ساتھ بیان کیا گیا تھا۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو قالب ہے جسے اردو میں منتقل کرنے کا کام ابوعمار عمر فاروق سعیدی نے انجام دیا ہے، جو کہ فاضل مدینہ یونیورسٹی اور بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس کتاب میں ثابت کیا گیا ہے کہ بعض شخصیات ، مقامات اور اوقات ایسے ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے تو اس برکت سے استفادہ رسول اللہﷺ کے فرمودہ طریقے سے ہی ممکن ہے۔ کسی جگہ یا وقت کی فضیلت اس بات کا تقاضا نہیں کرتی کہ اس سے تبرک بھی لیا جائے مگر یہ کہ اللہ کی شریعت سے ثابت ہو۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-jadoo-ka-ilaaj
    وحید بن عبد السلام بالی
    دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
  • title-page-jadoo-ki-haqeeqat
    غازی عزیر مبارکپوری
    دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
  • title-pages-jadah-eeman-copy
    عبد المجید عزیز الزندانی

    نام نہاد فکری  سور ماؤں نے انسانی زندگی کو مسائل اور پیچیدگیوں سے پاک اور امن وسکون کا گہوارہ بنانے کی جتنی کوششیں کی ہیں۔ان میں انہیں شکست فاش کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے مسائل کو سلجھانے کی جتنی تدبیریں کیں، ان تدبیروں نے مسائل کو نہ صرف مزید الجھا دیا بلکہ ان میں کئی گنا اضافہ بھی کر دیاہے۔اس ناکامی کا بدیہی سبب یہ ہے کہ یہ حضرات بالعموم اپنی کوششوں کی بنیاد اسی الحاد اور مادہ پرستی پر رکھتے ہیں جو سارے بگار کی اصل جڑ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کو موجودہ فکری بحران، سماجی انتشار اور اخلاقی پستی سے نجات دلانا مقصود ہے تو پھر سب سے پہلے اس کفر والحاد پر کاری ضرب لگانی ہو گی جس کی بنیاد پر موجودہ تہذیب کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔اسلام ہی وہ حقیقی بنیاد ہے جس پر عمل کرنے انسانیت اپنے مسائل حل کر سکتی  ہے، اور دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" جادہ ایماں " محترم جناب عبد المجید عزیز الزندانی صاحب کی عربی تصنیف"طریق الایمان" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ کرنے کی سعادت  محترم محمد عبد الحی فلاحی صاحب نے حاصل کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-jb-iman-ki-baad-bahari-chali
    سید ابو الحسن علی ندوی
    تاریخِ اسلام میں  جب بھی ایمان کی ہوائیں چلیں تو عقائد ،اعمال، اور اخلاق تینوں شعبوں میں  حیرت انگیز واقعات کا ظہور ہوا ایمان کے یہ دلنواز جھونکے  تاریخ کے مختلف وفقوں میں چلے کبھی کم مدت کے لیے کبھی زیادہ عرصہ کےلیے تاہم کوئی دور  خزاں ان سے خالی نہ رہا تاریخ اسلام میں   ان سب کاریکارڈ اچھی طرح محفوظ ہے ۔ہندوستان میں ایمان کی  یہ باد بہار تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں اس وقت چلی جب  سید احمد  شہید اوران کےعالی ہمت رفقاء نے  ہندوستان میں توحید  او رجہاد فی سبیل اللہ کا علم  بلندکر کے اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ کردی سید احمد شہید اور ان کے رفقاء  نے  دینِ خالص  کی دعوت   اپنی بنیاد رکھی  اور  مسلمانوں میں جہاد فی سبیل اللہ کی روح پھونکی  او ر ہندوستا ن کی شمال مغربی سرحد کو اپنی دعوت وجہاد کا مرکز بنایا ان مجاہدین نےسکھوں کوکئی معرکوں میں شکست فاش دے کر پشاور کے اطراف میں اسلامی حکومت قائم کرکے  حدود شرعیہ کااجراء کیا لیکن وہاں کے قبائل نے  اپنی ذاتی اغراض اور قبائلی عادات وروایات کی خاطر اس نظام کابالآخر  خاتمہ کردیا بالاکوٹ کےمیدان میں ان سربکف مجاہدین کی سکھوں سےآخری جنگ ہوئی اوراس معرکہ میں سید احمد شہید اور  اسماعیل شہید کے بہت سے جلیل القدر  رفقاء اور مجاہدین نےجام شہادت نوش  کیا۔زیر نظرکتاب  میں  سید ابو الحسن ندوی نے  مجاہد کبیر سید احمد شہید اور ان کےعالی ہمت رفقا کے  ایمان افروز واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیاہے کہ جن کو پڑھ کر اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-jab-dunia-reza-reza-ho-jae-ghi
    ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی
    یہ امر واقع ہے کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو جائے گی، دنیا پر موجود ہر چیز فنا ہو جائےگی اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہو جائے گا جس کا اختتام کبھی نہ ہوگا۔ لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس تمام تر وقوعہ کا نام قیامت ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں وقوع قیامت کی چند علامات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ایک مسلمان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ ان علامات سے آگہی حاصل کرے تاکہ اس کا عقیدہ ایمان بالغیب مضبوط ہواور روز قیامت کے لیے اپنے آپ کو تیار کر سکے۔ علامات قیامت سے متعلقہ ہر بڑی زبان میں چھوٹی بڑی کتب لکھی گئی ہیں جن میں سے بہت سی کتب نہایت مفید ہیں اور ان کا مدار کتاب و سنت پر ہے لیکن بہت سی کتب ایسی بھی ہیں جن میں ضعیف اور موضوع احادیث بیان کی گئی ہیں اور ان کا انطباق بھی درست طریقے سے نہیں کیا گیا۔ زیر مطالعہ کتاب علامات قیامت کے موضوع پر عالم عرب کی مشہور شخصیت ڈاکٹر محمد بن عبدالرحمٰن العریفی کی ’نہایۃ العالم‘ کے نام سے لکھی گئی شاہکار تصنیف کااردو قالب ہے۔ نبی کریمﷺ نے قیامت کی جو نشانیاں بیان فرمائی ہیں ان میں سےکئی نشانیاں اپنے ظہور کے بعد اوراق تاریخ پر اپنے نشان ثبت کر گئیں۔ کئی نشانیاں سامنے نظر آ رہی ہیں اور کئی مستقبل کے پردے سے جھانک رہی ہیں۔ مصنف نے ان تمام نشانیوں کا تذکرہ اس قدر ہوشربا انداز سے کیا ہے کہ کتاب کا مطالعہ شروع کرنے کے بعد اس کو ختم کرنے سے پہلے بند کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ مصنف نے جس قدر محنت اور باریک بینی سے یہ آگہی بخش کتاب لکھی ہے اسی محنت اور سلیقے سے قاری محمد اقبال عبدالعزیز نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب کا ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ علامات قیامت اجاگر کرنے کے لیے نہایت خوبصورت روشن او رنگین تصاویر اور 40 نادر نقشے بھی شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-jb-me-mr-jaon-copy
    ام دانش

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔موت انسان کےاپنے اصل گھر کی طرف روانگی کی پہلی منزل ہے ۔ دنیا میں رہتے ایک اچھا مسلمان چاہتا کہ اس کاہر قول،عمل اور طرز زندگی اللہ کےحکم کےمطابق ہو اوررسول اللہ ﷺ کی سنت کےموافق ہو ۔ اسے کےچلے جانے کے بعد اس کےلواحقین کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ اس کی آخری رسومات بھی اسی طرح شرعی طریقے سے پوری کرنے کاحق ادا کریں۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’جب میں مرجاؤں ‘‘ محترمہ ام دانش صاحبہ کا تحریری کردہ ہے جس میں انہوں نے وصیت کے انداز میں وفات سے لے کر دفن کرنے تک کے تمام کاموں کےبارے میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کے احکامات کو اختصار کےساتھ آسان انداز میں پیش کیا ہے ۔کہ مرنے والے کےلیے اس کے عزیز واقارب ،لواحقین کیا تحفہ بھیج سکتے ہیں اورکن غیر شرعی اوربدعی امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے لوگوں کےلیے نفع بخش بنائے اور تما م اہل اسلام کوخاتمہ بالایمان نصیب فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • jashan-e-eid-milaad-2
    محمد رفیق طاہر

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرمﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کو عملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبیﷺ نے بھی اختلافات کی صورت میں سنت نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھامنے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت نبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کو چھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات میں ڈوب جائیں گے اور سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے۔ متازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبیﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبیﷺ اور جشن مناتے ہیں۔ عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کے لیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولی کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریمﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرامﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریمﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید وجشن کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتے تھے بلکہ نبی کریمﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبیﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔اس بدعت میلاد کے بارے میں کافی کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن پھربھی برصغیر پاک وہندکے نام نہاد مسلمان اور یورپین ممالک بالخصوص انگلینڈ کے اہل بدعت مولوی اس رسم کے احیا ء و ترویج کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ وہ سادہ لوح عوام کواصل دین تو کیا بتاتے، یہود ونصاریٰ کی نقل میں انہیں چند بےاصل رسومات کا خوگر بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگائے ہوئے ہیں۔ان کے نزدیک نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور حلال وحرام کی تمیز اتنی اہم نہیں جتنی ان بدعات کی آبیاری اور پاسداری۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’جشن عیدمیلاد ‘‘محترم جنا ب ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر صاحب کی کاوش ہے جس میں انہو ں نے تاریخی اعتبار اور دلائل ریاضی اور شمسی و قمری تقویم سے ثابت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ کی تاریخ ولات 12 ربیع الاول نہیں بلکہ 9 ربیع الاول ہی ہے۔ اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اس میلاد النبی یا جشن میلاد کا قرون اولیٰ میں کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ نیراخبار جرائد کے حوالہ جات سے واضح کیا ہے کہ برصغیر پاک وہند میں اس بدعت کا آغاز بھی چو دہوی صدی ہجری 1352ھ بمطابق بیسویں صدی عیسوی 1933ء میں ہوا۔ اور فاضل مرتب نے اس کتابچہ میں میلاد کے موقع پر شریعت کی کی جانے والی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور آخر میں چند میلادی شبہات کاازالہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کتابچہ میں صفحات نمبرنگ کا مسئلہ ہے کہ ایک ہی نمبر باربار لگا ہوا ہے۔ یہ کتابچہ انڈیاکی ایک اسلامی ویب سائٹ منہاج السنۃ سے ڈاؤن لوڈ کیا ہے اپنے موضوع میں مختصر اور مفید ہونے کی وجہ سے اسے کتاب و سنت ویب سائٹ پر پبلش کردیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو بدعات وخرافات میں گھرے مسلمانوں اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ ( آمین) (م۔ا)

  • jashneeidmeladkitarikhisharihaisiat-copy
    عطاء الرحمن ضیاء اللہ
    اللہ تعالی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے دین کو مکمل کر دیا- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو شخص دین میں نیا کام کرے گا وہ بدعت کے زمرے میں آئے گا-دنیا کے مختلف ممالک میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر ''جشن عید میلاد النبی'' کے نام سے بدعات وخرافات کا بازار گرم کیا جاتا ہے –اس جشن عید میلاد کی شرعی حیثیت کیاہے؟ یہ خطرناک بدعت اس امت کے اندر کہاں سے در آئی؟ اور اس کے در پردہ مقاصد کیا ہیں؟زیر نظر کتاب  میں مصنف نے اس طرح کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئےاس  بدعت کے ایجاد کرنے والوں کے مکروہ چہروں سے نقاب کشائی کی ہے-

  • jashnemeeladyomewafatpar-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  جس قدر بدعات کی مذمت کی ہے ، بدقسمتی سے امت مسلمہ اسی شدومد کے ساتھ بدعات کے طوفان میں گھرتی چلی جارہی ہے-انہی میں سے ایک خطرناک بدعت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر عیدمیلاد النبی کا خصوصی اہتمام ہے، بہت سے نام نہاد روحانی پیشوا اپنے اپنے مفادات کی خاطر اسے ترویج دینے میں ہمہ تن مصروف ہیں-حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی؟ اور آپ کی ولادت پر جشن کا اہتمام کرنا جائز  ہے یا ناجائز؟ زیر نظر کتاب میں مصنف نے اس طرح کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دیتے ہوئے صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور آئمہ کرام کا اس جشن کے حوالے سے مؤقف واضح کیا ہے- کتاب کے آخر میں جشن میلاد النبی منانے والوں کے تمام دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی رد کیا گیا ہے -
  • 1
    عمر سلیمان الاشقر
    فی زمانہ ہمارا معاشرہ جنات و جادو اور آسیب کے حوالے سے جعلی عاملوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ ہرجگہ جادوگروں اور عاملوں کے آویزاں اشتہارات اور ان پر موجود بہت سے جانفزا نعرے عوام الناس کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اسلام ایک فطری دین ہے جس نے ہر پیش آمدہ مسئلے کا فطری حل بھی بتایا ہے۔ جادو و جنات کے توڑ کے لیے بھی اسلامی تعلیمات نہایت جامع ہیں۔ پیش نظر کتاب میں انھی تعلیمات کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ ’مکتبہ قدوسیہ‘ ہدیہ تبریک کا مستحق ہے کہ اس نے اس اہم موضوع پر کتاب و سنت کی روشنی میں عوام الناس کی رہنمائی کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ کتاب میں جہاں جنات و شیاطین، جادوگروں، نام نہاد عاملوں کی حقیقت واشگاف کی گئی ہے وہیں شیاطین سے بچاؤ کے طریقوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ جن، جادو، آسیب اور نظر بد کا علاج ایسے آسان اسلوب میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن و حدیث سے شناسائی رکھنے والا عام سا آدمی بھی ان پر عمل پیرا ہو کر جنات و شیاطین کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-jinn-hamzad-aur-islam-copy
    سید اقتدار احمد سہسوانی

    موجودہ دور پر نظر ڈالی جائے تو فتنوں کی بھر مار لگی ہوئی ہے۔آئے دن ایک نیا فتنہ سامنے آتا ہے ۔اگر تو اللہ تعالی کی مدد شامل حال ہو تو  امان مل جاتی ہے ورنہ لوگ ان فتنوں کا شکار ہوکر اپنے ایمان کو بھی کمزور کرتے ہیں دوسروں کو بھی غلط راستہ بتاتے ہیں۔اللہ تعالی نے اپنی کامل قدرت سے بے شمار مخلوقات پیدا کی ہیں۔لیکن صرف دوکو عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے: ایک انسان اور دوسرے جنات۔چونکہ جنات ہمیں نظر نہیں آتے اس بناء پر بہت سے غلط عقائد سامنے آتے ہیں۔ کچھ سائنسی ذہن کے حامل حضرات تو ان کے وجود کا ہی انکار کر دیتے ہیں، اور کچھ اس حد تک جاتے ہیں کہ ان ہی کو سب کچھ مانتے ہیں ۔کچھ عرصے سے اردو زبان میں جنات اور جادو کے موضوع پر کثرت سے کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ان میں اکثر کتب رطب ویابس کا مجموعہ ہیں۔اب ضرورت تھی کہ کوئی مستند  کتاب سامنے آئے جو فرضی داستانوں سے پاک ہو۔ زیر تبصرہ کتاب " جن، ھمزاد اور اسلام "محترم جناب  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے جنات اور جادو کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے خود ساختہ اور فرضی قصے کہانیوں کی تردید کی ہے۔مولف چونکہ خود بھی جنات اور جادو کے توڑ کے ماہر ہیں اس لئے جا بجا اپنے تجربات ومشاہدات بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-jinnat-ka-posmantem
    حافظ مبشر حسین لاہوری
    ہمارے معاشرے میں دینی مسائل سے ناواقفیت کی بناء پرلوگ کثرت سےنام نہاد عاملوں ،جادوگروں اور بنگالی بابوں کے  دام تزویر میں پھنس کر متاع دنیا کےساتھ دولت ایمان بھی لٹا بیٹھتے ہیں قرآن وسنت کی روشنی میں جادوٹونہ،علم نجوم اور جفرورمل وغیرہ قطعی ممنوع امور ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان میں مشغول ہے زیر نظرکتاب میں فاضل مؤلف نے ان تمام معاملات کا قرآن وسنت  کی روشنی میں بے لاگ جائزہ لیا ہے اور ان کی ممانعت وقباحت ثابت کرنے کےساتھ ساتھ نجومیوں ،رملوں جفریوں ،کاہنوں اور نام نہاد عاملوں وغیر ہ کی کتابوں ،مقالوں ،اشتہاروں اور ان کےمنہ پھٹ دعوؤں کی روشنی میں ان کی کذب وتضادبیانیاں پيش کرکے انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین نہ صرف جھوٹے عاملوں کے مکروفریب سے بچ سکیں گے بلکہ جادو او رجنات کے توڑ کے شرعی طریقوں سے بھی آگاہی حاصل کرسکیں گے –(انشاء اللہ )


  • title-pages-janazaqabar
    احمد بن عبد اللہ السلیمی

    چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ان مشہور بدعات کی نشاندہی کرتا ہے جن میں اکثر و بیشتر مسلمان شعوری یا لاشعوری طور پر گرفتار ہیں۔ جنازہ، قبر اور تعزیت سے متعلقہ اکثر بدعات کو بہت سے کتاب و سنت کے شیدائی بھی بدعات نہیں سمجھتے اور ان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شریک ہو جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ان تمام احباب کیلئے انشاء اللہ سنت و بدعت کے درمیان تفریق کا شعور پیدا کرے گا۔

     

     

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1430 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں