• title-pages-bidat-kia-he-copy
    محمد بن صالح العثیمین

    بدعت کا مطلب بغیر کسی مثال کے کسی چیز کووجود میں لانا ہے ۔ لیکن شریعت کی اصطلاع میں ہر وہ کام جسے ثواب یا برکت کاباعث یا نیکی سمجھ کر کیا جائے لیکن شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔ یعنی نہ تویہ کام خود رسول اللہﷺ نے کیا ہواور نہ ہی کسی کو کرنےکا حکم دیا ،نہ ہی اسے کرنے کی کسی کواجازت دی ۔اس کے برعکس جوکام رسول اللہ ﷺ نے ایک بشرکی حیثیت سے بشری ضروریات پوری کرنے کے لیے کیے ،آپ ﷺ نے جو وسائل یا ضروریاتِ زندگی استعمال کیں ،دنیاوی امور میں آپ ﷺ نے جو تدبیریں اختیار کیں ان میں قیامت تک نئے وسائل ،نئی چیزیں اورنئے تجربوں سےفائدہ اٹھانا بدعت نہیں۔بدعت کورواج دینا صریحا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور بدعات وخرافات کرنے والے کل قیامت کو حوض کوثر سے محروم کردیئےجائیں گے ۔ جس کی وضاحت فرمان ِنبوی میں موجو د ہے ۔ زیرتبصرہ رسالہ ’’ بدعت کیا ہے؟ ‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین ومفتی شیخ محمد بن صالح العثیمین ﷫ کے بدعت کے متعلق تحریر شدہ عربی کتابچہ کا اردو ترجمہ ہے ۔شیخ نے اس مختصر کتابچہ میں بدعت کی پہچان ، نقصان اور اس سے اپنےایمان کو کیسے بچانا ہے ؟ کےمتعلق راہنمائی فرمائی ہے ۔استاذ الاساتذہ مولانا عمرفاروق سعیدی ﷾ نے اسے اپنی تعلیقات وحواشی کے ساتھ اردو داں طبقے کے لیے اردوقالب میں ڈھالا ہے تاکہ لوگوں کو حق وباطل میں پہچان کرنےمیں آسانی ہوسکے ۔اللہ تعالیٰ اس مختصر کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • bidatikpeechaynamazkahukm2-copy
    حافظ زبیر علی زئی
    دين اسلام میں اس بات کاتصور بھی نہیں کہ ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود نماز ادا نہ کرے- نماز کی اس اہمیت کے پیش نظر اس کے لوازمات کویقنینی بنانا انتہائی ضروری ہے- انہی لوازمات سے ایک امام كا بدعتی خرافات سے محفوظ ہوناہے- زيرنظر کتاب میں ملک کی نامور شخصیت حافظ زبیر علی زئی نے بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ پر سیر حاصل گفتگو کی ہے- مصنف نے قرآن وسنت،اقوال صحابہ اورتبع تابعین کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ ایک مسلمان کے لیے کسی طرح بھی روانہیں کہ وہ ایک بدعتی امام کے پیچھے نماز ادا کرے- مصنف نے مختلف موضوعات پر بڑی اچھی گفتگو کی ہے مثال کے طور پر بدعت کی تعریف،اس کی اقسام اور بدعت کے بارے میں آئمہ اربعہ کےساتھ ساتھ دیگر آئمہ کے اقوال اور بدعت کا حکم بیان کیا ہے-اور اسی طرح مختلف گروہوں میں مختلف ناموں سے جو بدعتیں رائج ہیں ان کی نشاندہی کی ہے-

  • title-pages-barbadi-e-amal-k-asbab-copy
    ڈاکٹر محمد سلیم بن عبید الہلالی

    انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’بربادئ اعمال کے اسباب قرآن وسنت کی روشنی میں ‘‘ شیخ سلیم بن عید الہلالی کی عربی کتاب’’مبطلات الأعمال في ضوء القرآن والكريم والسنة الصحيحة المطهرة ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں شیخ موصوف نےان اعمال کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ انسان جنہیں بہتر سمجھ کر اپنا لیتا ہے اور نتیجتاً لاشعوری میں اس کےثواب برباد اوراعمال ضائع ہوجاتے ہیں ۔اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر محترم جنا ب عبدالعلیم نور العین السلفی نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ، مصنف ومترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-buraj-aur-sitare-haqiqat-kia-he
    ڈاکٹر محمد سلیم بن عبید الہلالی
    ڈیلی اخبارات اور ہفتہ وار رسائل میں یہ جملے جلی حروف میں لکھے دکھائی دیتے ہیں کہ ’آپ کا دن کیسا رہے گا‘ ’آپ کا ہفتہ کیسا رہے گا‘ اور بہت سے لوگ یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں ’آپ کا سٹار کون سا ہے؟‘ تاریخ پیدائش یا نام کے پہلے حرف سے بارہ برجوں: حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی اور حوت کا تعین کا جاتا ہے۔ ان ستاروں میں کس حد تک حقیقت ہے اور کیا یہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں یا یہ سب جھوٹ اور فریب ہے؟ زیر نظر کتاب میں اسی چیز کا حقائق کی روشنی میں جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے نجوم پرستی کی تخیلاتی تاریخ کو آسان انداز میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ یقیناً یہ کتاب ستاروں کے حوالے سے انسانی تخیلات کی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ (ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • tatil-pages-barzakhi-zindgi-aur-qabar-k-azab-w-aram-k-masail
    خالد بن عبد الرحمٰن الشایع
    اللہ تعالیٰ نے کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے اس کے انتہائی اہم کردار انسان کو وجود بخشا  حضرت انسان کو مٹی سے پیدا کیاگیا ہے ۔ انسان اپنی تخلیق کے مختلف مراحل سے گزر کر اپنے آخری منزل تک پہنچتا ہے۔انسان جب فقط روح کی شکل میں تھا تو عدم میں تھا روح کے اس مقام کو عالم ارواح کہتے ہیں او رجب اس روح کو وجود بخشا گیا اس کو دنیا میں بھیج دیا گیا  اس کے اس ٹھکانےکو عالم دنیا اور اسی طرح اس کے مرنے کے بعد قیامت تک کے لیے جس مقام پر اس کی روح کو ٹھہرایا جاتا ہے اسے عالم برزخ کہتے ہیں اس کے بعد قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو ان کی دائمی زندگی سے ہمکنار کیا جائے گا۔مرنے کے بعد کے حالات جو مابعد الطبیعات میں آتے ہیں کو اسلام نے بڑے واضح انداز میں پیش کردیا ہے۔ کہ مرنے کے بعد اس کا قیامت تک کے لیے مسکن قبر ہے اور برزخی زندگی میں قبر میں اس کے ساتھ کیا احوال پیش آتے ہیں۔ انسان کے اعمال کی جزا و سزا کا پہلا مقام قبر ہی ہے کہ جس میں وہ منکر نکیر کے سوالوں کے جواب دے کر اگلے مراحل سے گزرتا ہے۔زیر نظر کتاب میں کافر و مومن کی روح نکلنے سے لے کر قبر کے عذاب و عتاب کے تمام مراحل کو قرآن و حدیث سے واضح کردیا گیا ہے اور واعظانہ انداز میں انذرانہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کتاب میں برزخی احوال حدیثوں میں مذکور عبرتناک  واقعات و امثال سے مزین کر دیا گیا ہے۔ جنت کی امید اور جہنم سے بچنے کی تڑپ رکھنے والے ہرانسان کو  اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-bushra-copy
    مولانا عنایت رسول عباسی

    چونکہ نبی کریم ﷺ کو اللہ  تعالی نے ایک عالمگیر دین دیکر دنیا میں بھیجنا تھا ،چنانچہ ان کی آمد کے تذکرے  تورات وانجیل اور زبور  جیسی آسمانی کتب میں بھی موجود تھے۔انجیل برنا باس اناجیل اربعہ میں  سے سب سے  زیادہ معتبر اور مستند انجیل ہے ،جو سیدنا عیسی  علیہ السلام کی تعلیمات و سیرت اور اقوال کے بہت زیادہ قریب  ہے۔یہ عیسائیوں کی اپنی بد قسمتی ہے کہ وہ اس انجیل کے ذریعہ سے اپنے عقائد کی تصحیح اور سیدنا  عیسی﷤ کی اصل تعلیمات کو جاننے کا جو موقع ان کو ملا تھا اسے محض ضد کی بنا پر انہوں نے کھو دیا ہے۔ اس انجیل میں متعدد ایسی بشارتیں پائی جاتی  ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں برنا باس نے سیدنا عیسیٰ﷤سے روایت کی ہیں ۔ ان بشارتوں میں کہیں سیدنا عیسیٰ﷤نبی کریم ﷺ کا نام لیتے ہیں ، کہیں ’’ رسول اللہ ‘‘ کہتے ہیں ، کہیں آپ کے لیے ’’ مسیح‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں ، کہیں ’’قابل تعریف‘‘(Admirable) کہتے ہیں ، اور کہیں صاف صاف ایسے فقرے ارشاد فرماتے ہیں جو بالکل لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ہم معنی ہیں ۔اسی طرح انجیل  یوحنا میں  تین مقامات  میں لفظ""فارقلیط "" آ یاہے۔ ''فارقلیط''کلمہ ٔ یونانی ہے جس کا معنی کسی شخص کی تعریف اور حمد و ثنا بیان کرنے کے ہیں اور فرانسیسی زبان میں بھی اس لفظ کا معنی ''پاراکلت'' یعنی یونانی ''فارقلیط'' کاہی مفہوم ہے جو عربی میں لفظ محمد ﷺ کا ہے ۔۔ زیر تبصرہ کتاب"بشری"  مولانا عنایت رسول عباسی  چریاکوٹی کی تصنیف ہے ،جس میں نبی کریم ﷺ کے متعلق انہی تمام بشارتوں کو ایک جگہ جمع کردیا گیا ہے۔اور اہل کتاب کو قبول اسلام کی دعوت حق دی گئی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

     

  • title-pages-bunyadi-aqaid
    عبد المحسن العباد
    امام عبداللہ ابو محمد بن ابی زید القیروانی کا شمار چوتھی صدی ہجری کے محدثین و فقہا میں ہوتا ہے، آپ نے ’الرسالہ‘ کے نام سےایک مبسوط کتاب تالیف فرمائی۔ اور اس کتاب پر ایک جامع مقدمہ تحریر فرمایا۔ جو اگرچہ بہت مختصر ہے لیکن اس میں علوم و معارف اورمعانی و مطالب کا ایک بحر زخار موجزن ہے۔ بہ بات مبنی برحقیقت ہے کہ امام صاحب نے اصول و فروع کے حوالے سے ان چند سطور کے کوزے میں دریا بند کردیا ہے۔ اس مختصر مقدمہ کو وقت کے عظیم محدث، سابق وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی فضیلۃالشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد نےایک نہایت نفیس اور لطیف شرح کے ساتھ مزین فرمایا ہے۔ آپ عصر حاضر میں منہج سلف صالحین کےامین و محافظ تصور کیے جاتے ہیں۔ تحریر و تقریر میں بہت نمایاں اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ اس کتاب میں  شیخ موصوف نے ہر مسئلہ پر قرآن و حدیث کا انبار لگا دیاہے، نیز جا بجا ائمہ سلف کے ذکر سے کتاب کی اہمیت و افادیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ کتاب اصول وفروع کا ایک حسین امتزاج ہونے کے ساتھ ساتھ، تمام مسائل عقیدہ کو کتاب وسنت، اقوال سلف صالحین کی روشنی میں پیش کرنے کا گرانقدر مجموعہ ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-bachao-apne-ap-ko-aur-ghar-walon-ko-jahannam-ki-aag-se
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے اچھائی اور برائی ،خیر وشر،نفع   ونقصان میں امتیاز کرنے اور اس میں صحیح فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے ۔اچھے کام کرنے اور راہِ ہدایت کو اختیار کرنے کی صورت میں اس کے بدلے میں جنت کی نوید سنائی ہے ۔ شیطان اور گمراہی کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں اس کے لیے   جہنم کی وعید سنائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے راہ ہدایت اختیار کرنے کےلیے اپنے انبیاء کرام کو   مبعوث فرمایا تاکہ انسانوں کو شیطان کے راستے سے ہٹا کر رحمٰن کے راستے پر چلائیں۔تاکہ لوگ اپنے آپ کو جہنم سے بچا کر جنت کا حق دار بنالیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ(سورۃ التحریم :6)’’اے ایمان والوں اپنے آپ کوجہنم کی آگ سے بچاؤ جس کاایدھن لوگ اورپھتر ہیں ‘‘اس لیے   گھر کے ذمہ دار کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ اپنے گھر والوں کو ایسے اعمال کرنے کا کہےکہ جن کے کرنے سے جہنم کی آگ سے بچا جاسکے۔ زیرنظر کتاب ’’ بچاؤ اپنے آپ کو اور گھر والوں کوجہنم کی آگ سے ‘‘ میں محترمہ ام عب منیب صاحبہ نے یہ واضح کیاہے کہ اہل میں کون لوگ شامل ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل کو بچانے کا حکم کیوں دیا؟انبیاء کرام نے اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچانے کا فریضہ کس طر ح ادا کیا اور ہمیں یہ فریضہ کس طرح ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو   اہل ایمان کےلیے جہنم سے آزادی کے ذریعہ بنائے ( آمین) م۔ا)

  • title-pages-behtreen-zaade-rah-taqwa
    نجیب الرحمان کیلانی
    تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ  کے مرہون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر تقویٰ  اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت انسان کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔ زیر نظر کتاب پروفیسر نجیب الرحمٰن کیلانی کی ایک علمی کاوش ہے، جس میں انہوں نے قرآن و حدیث کی متعدد نصوص سے تقویٰ کے موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ کتاب کو پانچ ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے۔ باب اوّل میں تقویٰ کا مفہوم، معیار اور مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ باب دوم میں حصولِ تقویٰ کے ذرائع نقل کئے گئے ہیں۔ باب سوم میں مختلف انبیائے کرام کے حوالے سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی امت کو تقویٰ کی تائید کرتے رہے تھے۔ باب چہارم میں تقویٰ کی   برکات و ثمرات کا بیان ہے اور باب پنجم میں تقویٰ کے مظاہر کا بیان ہے۔ مجموعی لحاظ سے کتاب ھذا قابلِ مطالعہ اور قابلِ ستائش ہے۔ (آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-bemisal-fazilat-wale-10-din
    عبد الہادی عبد الخالق مدنی
    اللہ تعالیٰ نے مہینوں میں ماہ رمضان کو فضیلت دی، سالوں کے دنوں میں عرفہ کے دن کو اور ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کےدن کو فضیلت عطا کی، راتوں میں شب قدر کو فضیلت سے نوازا، عشروں میں عشرہ ذوالحجہ کا پہلا عشرہ اور رمضان کا آخری عشرہ فضیلت والا بنایا اور دونوں میں فرق یہ رکھا کہ اور دونوں میں فرق یہ رکھا کہ ذوالحجہ کے پہلے دنوں کا جواب نہیں اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں کی کوئی مثال نہیں۔ زیر نظر کتابچہ میں فاضل مصنف عبدالہادی عبد الخالق نے عشرہ ذوالحجہ کے فضائل و احکام کو اختصار کےساتھ بیان فرمایا ہے۔ 45 صفحات پر مشتمل اس کتابچہ میں مصنف نے پہلے عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت سےمتعلق صحیح احادیث بیان کرتےہوئے بعد میں ان احادیث کو بھی رقم کر دیا ہے جو ضعیف اور موضوع ہیں۔ اس کےعلاوہ عشرہ ذوالحجہ میں کرنے والے اعمال صالحہ کو بھی قلمبند کی گیا ہے۔(ع۔م)
  • title-pages-tarikh-dawat-o-azeemat-1
    سید ابو الحسن علی ندوی
    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس امت میں ایک ایسا گروہ ہمیشہ موجود  رہتا ہے جو حق کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور دین کی اصل شکل کو برقرار رکھتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اہل حق بالکلیہ ضم ہو جائیں اور بدعت وضلالت کی حکمرانی قائم ہو جائے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی نے تاریخ کے صفحات سے دعوت وعزیمت کے تسلسل کو اجاگر کیا ہے اور اسلام کی تیرہ سو برس کی تاریخ میں اصلاح وانقلاب حال کی کوششوں کو بیان کیا ہے ۔انہوں نے ان ممتاز شخصیتوں اور تحریکوں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دین کے احیاء اور تجدید اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے کام میں حصہ لیا اور جن کی مجموعی کوششوں سے اسلام زندہ اور محفوظ شکل میں اس وقت موجود ہے اوراس وقت ایک ممتاز امت کی حیثیت سے نظر آتے ہیں ۔اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ مصلحین امت کے اصلاحی ودعوتی اور مجاہدانہ کارناموں سے واقفیت حاصل ہو سکے۔(ط۔ا)
  • title-pages-tarikh-dawat-o-azeemat-2
    سید ابو الحسن علی ندوی
    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس امت میں ایک ایسا گروہ ہمیشہ موجود  رہتا ہے جو حق کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور دین کی اصل شکل کو برقرار رکھتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اہل حق بالکلیہ ضم ہو جائیں اور بدعت وضلالت کی حکمرانی قائم ہو جائے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی نے تاریخ کے صفحات سے دعوت وعزیمت کے تسلسل کو اجاگر کیا ہے اور اسلام کی تیرہ سو برس کی تاریخ میں اصلاح وانقلاب حال کی کوششوں کو بیان کیا ہے ۔انہوں نے ان ممتاز شخصیتوں اور تحریکوں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دین کے احیاء اور تجدید اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے کام میں حصہ لیا اور جن کی مجموعی کوششوں سے اسلام زندہ اور محفوظ شکل میں اس وقت موجود ہے اوراس وقت ایک ممتاز امت کی حیثیت سے نظر آتے ہیں ۔اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ مصلحین امت کے اصلاحی ودعوتی اور مجاہدانہ کارناموں سے واقفیت حاصل ہو سکے۔(یہ اس کتاب کا دوسرا حصہ ہے)۔(ط۔ا)
  • title-pages-tarikh-dawat-o-azeemat-2
    سید ابو الحسن علی ندوی
    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس امت میں ایک ایسا گروہ ہمیشہ موجود  رہتا ہے جو حق کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور دین کی اصل شکل کو برقرار رکھتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اہل حق بالکلیہ ضم ہو جائیں اور بدعت وضلالت کی حکمرانی قائم ہو جائے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی نے تاریخ کے صفحات سے دعوت وعزیمت کے تسلسل کو اجاگر کیا ہے اور اسلام کی تیرہ سو برس کی تاریخ میں اصلاح وانقلاب حال کی کوششوں کو بیان کیا ہے ۔انہوں نے ان ممتاز شخصیتوں اور تحریکوں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دین کے احیاء اور تجدید اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے کام میں حصہ لیا اور جن کی مجموعی کوششوں سے اسلام زندہ اور محفوظ شکل میں اس وقت موجود ہے اوراس وقت ایک ممتاز امت کی حیثیت سے نظر آتے ہیں ۔اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ مصلحین امت کے اصلاحی ودعوتی اور مجاہدانہ کارناموں سے واقفیت حاصل ہو سکے۔(یہ اس کتاب کا تیسرا حصہ ہے)۔(ط۔ا)
  • title-pages-tarikh-dawat-o-azeemat-2
    سید ابو الحسن علی ندوی
    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس امت میں ایک ایسا گروہ ہمیشہ موجود  رہتا ہے جو حق کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور دین کی اصل شکل کو برقرار رکھتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اہل حق بالکلیہ ضم ہو جائیں اور بدعت وضلالت کی حکمرانی قائم ہو جائے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی نے تاریخ کے صفحات سے دعوت وعزیمت کے تسلسل کو اجاگر کیا ہے اور اسلام کی تیرہ سو برس کی تاریخ میں اصلاح وانقلاب حال کی کوششوں کو بیان کیا ہے ۔انہوں نے ان ممتاز شخصیتوں اور تحریکوں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دین کے احیاء اور تجدید اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے کام میں حصہ لیا اور جن کی مجموعی کوششوں سے اسلام زندہ اور محفوظ شکل میں اس وقت موجود ہے اوراس وقت ایک ممتاز امت کی حیثیت سے نظر آتے ہیں ۔اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ مصلحین امت کے اصلاحی ودعوتی اور مجاہدانہ کارناموں سے واقفیت حاصل ہو سکے۔(یہ اس کتاب کا  پانچواں حصہ ہے)۔(ط۔ا)

  • title-pages-tarikh-dawat-o-azeemat-2
    سید ابو الحسن علی ندوی
    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس امت میں ایک ایسا گروہ ہمیشہ موجود  رہتا ہے جو حق کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور دین کی اصل شکل کو برقرار رکھتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اہل حق بالکلیہ ضم ہو جائیں اور بدعت وضلالت کی حکمرانی قائم ہو جائے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی نے تاریخ کے صفحات سے دعوت وعزیمت کے تسلسل کو اجاگر کیا ہے اور اسلام کی تیرہ سو برس کی تاریخ میں اصلاح وانقلاب حال کی کوششوں کو بیان کیا ہے ۔انہوں نے ان ممتاز شخصیتوں اور تحریکوں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دین کے احیاء اور تجدید اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے کام میں حصہ لیا اور جن کی مجموعی کوششوں سے اسلام زندہ اور محفوظ شکل میں اس وقت موجود ہے اوراس وقت ایک ممتاز امت کی حیثیت سے نظر آتے ہیں ۔اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ مصلحین امت کے اصلاحی ودعوتی اور مجاہدانہ کارناموں سے واقفیت حاصل ہو سکے۔(یہ اس کتاب کا  چوتھاحصہ ہے)۔(ط۔ا)
  • title-pages-tableghi-jamat-ka-islam-copy
    پروفیسر سید طالب الرحمن

    جس خلوص اور محنت کے ساتھ تبلیغی جماعت اپنی تبلیغی محنت کو جاری وساری رکھے ہوئے ہے۔ان کی اس محنت اور خلوص میں شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔لیکن کیا صرف محنت اور خلوص ہی جنت  کے حصول کے لئے شرط ہے۔اگر جواب اثبات میں ہے تو عیسائیوں کے گرجوں میں دنیا سے تعلق توڑ کر راہبانہ زندگی بسر کرنے والے افراد کا کیا قصور ہے جو اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کے لئے  اپنا  تن من دھن سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔تبلیغی جماعت والوں کی اہم ترین کتاب کا نام ’’تبلیغی نصاب‘‘ ہے۔ اس کتاب کو ان کی جماعت کے بڑے رئیس محمد ذکریا کاندھلوی صاحب نے لکھا ہے۔ تبلیغی  اس کتاب کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں جیسا کہ اہل سنت صحیحین اور دیگر کتب حدیث کی تعظیم کرتے ہیں۔ تبلیغی جماعت والوں نے اس کتاب کو ہندی اور دیگر عجمی لوگوں کے لئے بہترین نمونہ بنا رکھا ہے۔ حالانکہ اس میں شرکیات‘ بدعات‘ اور خرافات بھری پڑی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں موضوع اور ضعیف حدیثوں کا ذخیرہ موجود ہے اور درحقیقت یہ کتاب گمراہی کا ذریعہ ہے۔ تبلیغی جماعت والے اسی کے ذریعے اپنی بدعت اور گمراہیاں پھیلاتے ہیں اور لوگوں کے عقائد خراب کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" تبلیغی جماعت کا اسلام "محترم پروفیسر سید طالب الرحمن صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے تبلیغی جماعت کی انہی خرابیوں  کی نشاندہی کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-tajdeed-e-emaan-copy
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن
    حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان اور اسلام میں فرق بتایا ہے لیکن تمام قسم کی فروعی بحثوں کو ایک طرف رکھنے ہوئے عقائد کی اصلاح ایک لازمی جز ہے کیونکہ اللہ کے ہاں عقیدے کی لغزش ناقابل معافی جرم ہے اسی لیے عقیدے کی خرابی سے شرک پیدا ہوتا اور اللہ کے ہاں بندہ بغیر توبہ کے شرک کا گناہ لیے آ گیا تو اس پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دے دیا ہے-اس لیے عقیدہ توحید ایک لازمی امر ہے جس کو فاضل مصنف نے انتہائی بلیغ اور واضح انداز سے بیان کیا ہے تاکہ کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ رہ جائے-عقیدے کی اصلاح کے لیے انبیاء کی موت وحیات کا مسئلہ، اولیاء کی تکریم میں مبالغہ کرتے ہوئے ان سے استعانت کا پہلو اختیار کرنا ، عقیدے کو خراب کرنے والی موضوع اور من گھڑت قسم کی روایات کی وضاحت کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے شرک کی کیفیت اور بعد کے مشرکین کی وضاحت،وسیلہ کی حقیقت اور غیر اللہ سے مسائل کا حل تلاش کرنا،انبیاء وغیرہم کے بارے میں نور وبشر کے مسئلے کی وضاحت،مسئلہ علم غیب کی وضاحت اور اختیارات کس کے پاس ہیں ان تمام چیزوں کرتے ہوئے آخر میں سنت کی اہمیت کو بیان کر کے لوگوں کو قرآن وسنت پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمان اپنے زندگی کا ہر معاملہ قرآن وسنت کی روشنی میں حل کرے-اور قرآن وسنت کے متعلق پائے جانے والے مختلف شبہات کا مدلل رد بھی کیا ہے-مثال کے طور پر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ احادیث عجمی سازش ہیں یا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نہیں لکھی گئیں بلکہ بعدکی پیداوار ہیں تو ایسے تمام گھٹیا اعتراضات کا مدلل محاکمہ کیا گیا  ہے۔

  • title-pages-tuhfa-e-islahi-copy
    ڈاکٹر مفتی عبد الواحد

    مولانا امین احسن اصلاحی﷫ نے  اپنی تفسیر "تدبر قرآن " کے علاوہ اصول تفسیر میں" مبادی تدبر قرآن "اور اصول حدیث میں "مبادی تدبر حدیث" بھی لکھی ہیں۔جن میں انہوں نے اسلاف سے ہٹ کر چند منفرد اصول بیان کئے ہیں۔چنانچہ مولف کتاب ہذا  ڈاکٹر مفتی  عبد الواحد﷫نے   مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کی ان دونوں کتب کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ لیا اور اپنے اس جائزے کو اپنی کتاب "ڈاکٹر اسرار احمد﷫ کے افکار ونظریات تنقید  کی میزان میں"کے ساتھ ہی شائع کر دیا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر اسرار احمد﷫ نے  اپنے چار منبع فہم قرآن میں سے ایک مولانا حمید الدین فراہی﷫ اور مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کو شمار کیا تھا۔بعد میں وہ جائزہ کچھ اضافوں کے ساتھ مضمون کی شکل میں جامعہ مدنیہ کے رسالہ انوار مدینہ میں قسط وار شائع ہوا۔اب  کے بار مولف﷫ نے اس کی نظر ثانی کرتے ہوئے اسے دوبارہ کتابی شکل میں شائع کردیا ہے ،تاکہ مولانا امین احسن اصلاحی﷫ کے شاگردان رشید اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور اپنے افکار ونظریات پر نظر ثانی کریں۔مولانا امین احسن اصلاحی﷫ تو دنیا میں نہیں رہے ،لیکن ان کے شاگردوں کو تو اصلاح احوال کی گنجائش حاصل ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کتاب کو اصلاح احوال کا ذریعہ بنا دے ۔آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-touhfa-al-muahideen-copy
    ابو احسان مختار احمد جیلانی

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔  سورۃ اخلاص میں اللہ تعالی فرماتے ہیں " کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" تحفۃ الموحدین "قاطع شرک وبدعت علامہ ابو احسان سید مختار احمد جیلانی صاحب  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  عقیدہ توحید بیان کرتے ہوئے مسئلہ علم غیب، مسئلہ حاضر وناظر، مسئلہ مختار کل ، مسئلہ بشریت انبیاء علیھم السلام اور مسئلہ نور پر قرآن وسنت کی روشنی میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو عقیدہ توحید اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • --copy
    عبید اللہ نو مسلم مالیر کوٹلوی

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم نے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔عقیدے کے  بعض مسائل ایسے ہیں جو نبی کریم اور مشرکین مکہ کے درمیان متنازعہ فیہ تھے۔اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں جن کا ہر مسلمان کے علم میں آنا انتہائی ضروری ہے ،کیونکہ ان میں اور اسلامی تعلیمات  میں مشرق ومغرب کی دوری ہے۔ان کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تحفۃ الہند مع تکملہ ورسالہ کتھاسلوئی"محترم مولانا عبید اللہ نو مسلم مالیر کوٹلوی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ان تمام مسائل کو جمع فرما دیا ہے جن کو جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے،تاکہ ہر مسلمان ان سے آگاہ ہوجائے اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکے۔مولف پہلے ہندو تھے۔اللہ تعالی نے انہیں اسلام کی طرف راہنمائی کی اور وہ مشرف باسلام ہو گئے۔اس کتاب میں انہوں نے جہاں اسلامی عقائد کو بیان کیا ہے وہیں آخر میں رسالہ کتھاسلوئی کے نام سے ہندو مذہب کی خامیاں بھی بیان کی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-tehqiq-al-dua-baad-salat-al-janaza-copy
    حکیم سید عزیز علی شاہ ثابت حنفی البخاری

    نبی کریمﷺ  دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ ﷺنے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے  بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج  بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی  ہے۔اور اس امر کی  بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ  مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک  نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا بھی ہے۔اکثر دیہاتوں اور بعض شہروں میں نماز جنازہ کے بعد سلام پھیرتے ہی بیٹھ کر اور بعض علاقوں میں کھڑے ہو کر لوگ دعا مانگتے ہیں۔جس کا اسلام ،شریعت ،نبی کریمﷺ ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ بعد میں گھڑی جانے والی بدعات میں سے ایک بدعت ہے۔ زیر نظر کتاب" تحقیق الدعاء بعد صلوۃ الجنازۃ "محترم حکیم سید عزیز علی شاہ ثابت حنفی البخاری ﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنے کو بدعت ثابت کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ سنت کی اتباع کریں اور بدعات سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-tazkeer-al-saqalain-bi-rad-taqbeel-al-abhamain-copy
    محمد رفیق خاں پسرور

    نبی کریم  دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ نے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے  بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج  بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی  ہے۔اور اس امر کی  بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ  مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک بدعت نبی کریم ﷺ کا نام مبارک آنے پر انگوٹھوں کو چومنا ہے جس  کا اسلام ،شریعت ،نبی کریم ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ نبی کریم کی وفات کے بعد گھڑی گئی ہے۔ زیر نظر کتاب " تذکیر الثقلین برد تقبیل الابہامین"محترم مولانا محمد رفیق خاں صاحب خطیب جامع مسجد اہلحدیث پسرور صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وحدیث اور ایک سو علماء کرام کی تحریرات اور تصدیقات کی روشنی میں ہر جگہ نبی کریم ﷺ کو پکارنے، انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانے،کفن پر لکھنے اور قبر پر بوسہ دینے سمیت معاشرے میں پھیلی متعددبدعات کا مستند اور مدلل رد کیا ہےاور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ بدعات کو چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کی  سنت کی اتباع کریں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-tashreeh-al-asma-ul-husna
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    اخروی کامیابی اور دخول جنت کے لیے انسان کا توحید سے متصف ہونا شرط اور مشرک پر جنت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہے ،اس لیے ہرمسلمان پر لاز م ہے کہ وہ توحید کی بنیادی تعلیمات سے روشناس ہو اور ہرشرکیہ فعل سے پاک ہو۔توحید کی تین اقسام ہیں (1)توحید ربوبیت (2)توحید الوہیت (3)توحید اسماءوصفات۔توحید کی پہلی دو اقسام پر تقریر  وتالیف اوردرس وتدریس کے ذریعہ کافی کام ہوا ہے ،لیکن تو حید کی تیسری قسم توحید اسماءوصفات میں کافی علمی تشنگی موجود اور عوام کی اکثریت توحید کی اس قسم میں اتنی پختہ اور مضبوط نہیں جتنی مضبوطی توحید کی پہلی دو اقسام میں پائی جاتی ہے۔اس تشنگی کاحل شیخ العرب والعجم شاہ بدیع الدین راشدی  اس تصنیف میں موجود ہے ۔کتاب ہذا میں توحید اسماءو صفات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کی بہترین تشریح کی گئی ہے، اپنے موضوع پر یہ شاہکار تصنیف اور بہترین علمی دستاویز ہے۔(ف۔ر)
  • title-pages-tas-heeh-ul-aqaaed
    رئیس احمد ندوی
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور آپ کی اطاعت کے بغیر ہمارے ایمان ناقص ہے۔ پس آپ کی ذات سے محبت اورآپ کی اطاعت دین میں مطلوب ومقصود ہے۔محبت میںغلو آ ہی جاتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سابقہ اقوام نے بھی اپنے انبیاءکی محبت میںغلو کرتے ہوئے انہیں معاذ اللہ ، اللہ کا بیٹا بنا لیا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے عقیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی امت کو اپنی تعریف میں غلوکرنے سے منع فرمایا ہے۔ایک روایت کا مفہوم ہے کہ آپ نے تلقین کی کہ میری تعریف میں ایسا مبالغہ نہ کرنا جیسا کہ نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تعریف میں مبالغہ کیا ہے۔آپ کے مقام ومرتبہ کے بیان یامدح وثنا میںاہل حدیث کا کوئی اختلاف نہیںہے بلکہ وہ اسے جزو ایمان قرار دیتے ہیں، اختلاف اس صورت میں ہے جب آپ کے مقام ومرتبہ کے بیان یا نعت گوئی میں آپ کو اللہ کی ذات یااسماء و صفات کا شریک قرار دیا جائے کہ جس کی تردید کے لیے آپ نے اپنی ساری زندگی کھپا دی۔  
    بریلوی مسلک کے فضلا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح وثنا میں غلو کرتے ہوئے آپ کو ہر جگہ حاضر ناظر ثابت کرتے ہیں یا آپ کو ابتدائے کائنات سے قیام قیامت تک کی جزئیات و کلیات کا عالم الغیب ثابت کرتے ہیں۔ بریلوی حضرات کے اس غلو کے جواب میں مولانا عبد الرؤوف رحمانی صاحب نے ایک رسالہ ’تردید حاضر وناظر‘ کے نا م سے لکھا ہے۔جس کا جواب ایک بریلوی فاضل نے ’الشاہد‘ کے نام سے دیا۔ اس ’الشاہد‘ کے جواب میں مولانا محمد رئیس ندوی صاحب نے ’تصحیح العقائد بابطال شواھد الشاھد‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ بریلوی فاضل کی طرف سے اس کتاب کا جواب ’الشاہد‘ کے جدید ایڈیشن کی صورت میں دیا گیا۔ مولانا رئیس ندوی رحمہ اللہ نے بھی اس جدید ایڈیشن کا جواب ’تصحیح العقائد‘ کے جدید ایڈیشن کے ذریعے دیا اور اب یہ کتاب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے، حاضر ناظر ہونے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ کے ہونے اور آپ کے معراج کے موقع پر اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے بارے ایک بنیادی مصدر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔کتاب کا اسلوب مجادلانہ اور مناظرانہ ہے کیونکہ درحقیقت یہ ایک تحریری مناظرہ ہی ہے اور یہ اسلوب کی سختی دونوں طرف سے ہی پائی جا رہی ہے بلکہ یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ اس سختی کی ابتدا مولانا احمد رضاخان کے مزاج سے ہوئی ہے اور وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے ان مسائل میں اپنے مخالفین کو گمراہ، ضال، بدعتی، کافر،مشرک اور جو گالی ممکن ہو سکتی تھی، دی ہے اور یہ نازیبا کلمات آج بھی ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ایک طرف مزاج اور اسلوب میں تشدد اور سختی ہو تو دوسری طرف بھی آ ہی جاتی ہے۔ بہرحال پھر بھی اس مجادلانہ و مناظرانہ اسلوب سے صرف نظر کرتے ہوئے کتاب اپنے موضوع پر ایک علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • title-pages-talluq-billah
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    تعلق باللہ انسان کےدل کو ماسوائے اللہ سے خالی کر دیتا ہے۔ یہ انتہائی اہم فریضہ ہے، جس کا شریعت نے حکم بھی دیا اور بے تحاشا اجرو ثواب کے وعدے بھی فرمائے۔ انبیائے کرام﷩ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہایت مضبوط تعلق قائم تھا اور نبی کریمﷺ نے تو کائنات میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کیا۔ زیر نظر کتاب میں انھی مبارک ہستیوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بیان کرتے ہوئے تعلق باللہ کے اسباب، ذرائع اور ثمرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اپنے موضوع پر یہ ایک مدلل کتاب ہے جس می موضوع سے متعلق تقریباً تمام مواد آگیا ہے۔ زہد کے باب میں یہ کتاب ایک اہم اضافہ ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-taweez-aur-toheed
    ڈاکٹر علی بن نفیع العلیانی

    بدعات وخرافات اور خلاف شرع رسم ورواج سےپاک وصاف معاشرہ اتباع سنت کا آئینہ دار ہوتاہے جب بھی معاشرہ میں قرآن وسنت کی مخالف پائی جائے گی تو اس میں اعتقادی خرابیاں عام ہوں گی جہاں مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں وہاں اہل علم کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کی اصلاح کےلیے ان کی خرابیوں کی نشاندہی اور انکی راہنمائی کریں۔معاشرے میں اعتقادی خرابیوں کا ایک مظہر تعویذ گنڈے کا رواج بھی ہے ۔زیر نظر کتاب التمائم فی میزان العقیدہ از ڈاکٹر علی بن نفیع کا اردو ترجمہ ہے جس میں فاضل مصنف نے تعویذ کی شرعی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے سمجھ میں نہ نے آنے والے یا غیر شرعی الفاظ وغیرہ سے بنے ہوئے تعویذوں کو لٹکانے یا پہننے کا قرٖآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں شرک ہونا ثابت کیا ہے یہ کتاب اپنے موضوع پر بہت مفید ہے اللہ تعالی مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کو اس سے فائدہ پہنچائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-page-taweez-aur-dam-quran-o-sunnat-ki-rooshni-men-new
    محمد قاسم
    امت محمدیہ کے افراد کی تلاشی لی جائے تو کسی کی گردن میں کاغذی تعویز لٹک رہا ہوگا، کسی میں چھوٹا سا قرآنی نسخہ۔ کسی میں کوڑیاں اور مونگے تو کوئی کالا دھاگہ باندھے ہوگا۔ کوئی امام ضامن پر تکیہ کئے ہوئے ہے تو کسی کو کالی بلی سامنے سے گزر جانے کا خوف ہے۔ کوئی مصیبت سے بچنے کیلئے تعویذ پہنتا ہے تو کوئی محبت کروانے کیلئے تعویذ کروا رہا ہے۔ قرآن سے دوری نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ شرک امت کی رگ رگ میں رچتا بستا چلا جا رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب شرک کے اسی اہم پہلو یعنی تعویذ گنڈوں  اور جائز دم کے درمیان فرق اور احادیث کی روشنی میں ان کے تفصیلی جائزے پر مشتمل ہے۔ کتاب کے آخر میں تعویذ پہننے کو جائز قرار دینے والوں کے شبہات پر مشتمل ایک کتابچہ کا بھی بھرپور جواب دیا گیا ہے۔

  • title-pages-taweez-aur-damm-ki-sharie-haisiyat-copy
    ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    اردو میں مستعمل لفظ ”تعویذ“ کا عربی نام ”التمیمة“ ہے۔ عربی زبان میں ”التمیمة‘ کے معنی اس دھاگے، تار ، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔اور شریعت اسلامیہ نے  ہر طرح کے تعویذات  کے استعمال سے مطلقا منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس کہ آج کے بہت سارے مسلمان ان شرکیہ اور حرام کاموں میں مبتلاء ہیں،اور ان میں مختلف ناموں سے کثرت سے تعویذوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلا بچوں کو  جنوں وشیاطین اورنظر بد وغیرہ سے حفاظت کے لیے، میاں بیوی میں محبت کے لیے ، اسی طرح اونٹوں، گھوڑوں، اور دیگر جانوروں پر نظر بدوغیرہ سے حفاظت کے لیے، اپنی گاڑیوں کے آگے یا پیچھے جوتے یا چپل، آئینوں پر بعض دھاگے اور گنڈے لٹکاتے ہیں، اسی طرح بعض مسلمان اپنے گھروں اور دوکانوں کے دروازوں پر گھوڑے کے نعل وغیرہ لٹکاتے ہیں، یا مکانوں پر کالے کپڑے لہراتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ بالخصوص عورتیں نظر بد وغیرہ سے بچاوٴ کے لیے بچوں کے تکیے کے نیچے چھری ،لوہا، ہرن کی کھال ، خرگوش کی کھال، اور تعویذیں وغیرہ رکھتی ہیں یا دیواروں پر لٹکاتی ہیں، یہ ساری چیزیں زمانہ جاہلیت کی ہیں، جن سے اجتناب کرنا بے حد ضروری ہے۔سلف صالحین، حضرات صحابہ وتابعین ، ائمہ و محدثین کرام اور دیگر اہل علم کی رائے کے مطابق یہی بات راجح اور صحیح بھی ہے کہ تعویذ خواہ قرآنی ہو یا غیر قرآنی اس کا لٹکانا حرام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت"محترم رانا ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  تعویذ گنڈے کی حقیقت،تعویذ گنڈے کے مفاسد ،مشروع طریقہ علاج اور مسنون اذکار وادعیہ جیسی مباحث کو بیان کیا ہے اور اس کے ساتھ شرعی دم کے مسائل کو بھی تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔آپ نے اس کے علاوہ بھی متعدد موضوعات پر کتب لکھی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-taqwa-ahmiyatbarakatasbab
    ڈاکٹر فضل الٰہی
    اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کو تقویٰ کا حکم دیا۔ تمام رسولوں، خاتم الرسل حضرت محمدﷺ اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ اہل ایمان اور تمام بنی نوع انسان کو بھی یہی حکم دیا۔ نبی کریمﷺ کثرت سے اللہ تعالیٰ سے تقویٰ کےعطا کیے جانے کا سوال کرتے رہتے۔ زیر نظر کتاب میں بھی ڈاکٹر فضل الہٰی صاحب نے بھی اپنے مخصوص اندازمیں تقویٰ کی اہمیت، برکات اور اس کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کو چار مباحث میں بیا ن کیا گیا ہے۔ مبحث اول تقوی کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ دوسری مبحث میں تقویٰ کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ تیسری مبحث میں تقویٰ کی برکات اور چوتھی مبحث میں تقویٰ کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کی گیا ہے۔ کتاب کی اساس کتاب و سنت ہے۔ احادیث کو ان کے مراجع اصلیہ سے نقل کیا گی ہے۔ صحیحین کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے نقل کردہ احادیث کے متعلق علمائے حدیث کےاقول پیش کیے گئے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • taqwiatuleemaan-copy
    شاہ اسماعیل شہید
    جس طرح ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کی تجدید دین کی خدمات کا انکار ناممکن ہے اسی طرح ہندوستان میں اسلا می روح اور سلفی عقیدے کی ترویج و اشاعت میں جو خدمات شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی کے خاندان نے سر انجام دی ہیں ان کوبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا-تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی ایک جاندار اور لا جواب تصنیف ہے اور چونکہ شاہ اسماعیل شہید شاہ ولی اللہ کے پوتے ہیں ا س لیے ان کی تربیت میں وہی سلفی عقیدہ اور اہل سنت کا طور طریقہ رچابسا نظر آتا ہے-مصنف نے اس کتاب کو سات بابوں میں تقسیم کیا ہے-(1) پہلاباب توحید کے متعلق عوام کی بے خبری اور شرک کے کاموں میں آگے سے آگے نکل جانے کے متعلق ہے کہ کس طرح سے لوگ عقیدے کی خرابی کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں-(2)دوسرا باب شرک کی اقسام کے متعلق ہے کہ انسان روزمرہ کے کاموں میں کیسے کیسے شرک کا ارتکاب کرتا ہے جس میں میں خاص طور پر علم میں شرک،تصرفات میں شرک اور عبادات میں شرک کی مختلف صورتوں کو بیان کیا ہے-(3) تیسرا باب توحید کی خوبیاں اور شرک کی برائیاں پر مبنی ہے کہ عقیدہ توحید سے دنیاوی اور اخروی کون کون سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور شرک کے ارتکاب کیا کیا عذاب اور سزائیں آتی ہیں- (4)چوتھا باب شرک فی العلم کی تردید اور اس کے مدعی کے بارے میں ہے جس میں خاص طور پر مسئلہ علم غیب کو قرآن وسنت اور صحابہ کرام کے اقوال سے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس چیز کو واضح کیا گیا ہے کہ ہر مشکل کے وقت صرف ایک اللہ کو ہی پکارنا چاہیے اوریہ عقیدہ ہونا چأہیے کہ ہر قسم کے نفع ونقصان کا مالک صرف ایک اللہ تعالی کی ذات ہے-(5)پانچواں باب شرک فی التصرف کی تردیدمیں ہے اوراس کے علاوہ مسئلہ شفاعت کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے شفاعت کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں اور اس کے بعد اللہ کے ہاں کون سی شفاعت ہو گی اور کون سی نہیں ہو سکتی اس کو خوب وضاحت سے بیان کیا ہے -(6) چھٹا باب عبادات میں شرک کی حرمت کےبارےمیں ہے جس میں پہلے عبادت کا معنی مفہوم بیان کیا اور اس کے بعد اس چیز کو واضح کیا ہے کہ ہر قسم کی عبادات صرف اللہ تعالی کے لیے خاص ہیں، عبادت کی کوئی بھی قسم چاہے وہ کتنی چھوٹی سے چھوٹی عبادت کیوں نہ ہومثلا نذرونیاز،صدقہ خیرات، غیراللہ کے نام پر ذبح کرنا اور مختلف قسم کے غیر شرعی نام رکھنا ان تمام چیزوں کو بیان کیا گیا ہے-(7)ساتویں باب میں میں رسم و رواج اور اولاد کے بارےمیں ،کھیتی باڑی کے سلسلے میں اور جانوروں کے سلسلےمیں ،نذر و نیاز اور حلال و حرام کے مسائل میں جو شرکیہ امور پائے جاتے ہیں ان کی وضاحت کے ساتھ ساتھ سید کی تشریح کرتے ہوئے تصویر کے بارے میں ارشاداتن نبوی کو بیان کیا ہے

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 416 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں