• title-pages-tableghi-jamat-ka-islam-copy
    پروفیسر سید طالب الرحمن

    جس خلوص اور محنت کے ساتھ تبلیغی جماعت اپنی تبلیغی محنت کو جاری وساری رکھے ہوئے ہے۔ان کی اس محنت اور خلوص میں شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔لیکن کیا صرف محنت اور خلوص ہی جنت  کے حصول کے لئے شرط ہے۔اگر جواب اثبات میں ہے تو عیسائیوں کے گرجوں میں دنیا سے تعلق توڑ کر راہبانہ زندگی بسر کرنے والے افراد کا کیا قصور ہے جو اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کے لئے  اپنا  تن من دھن سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔تبلیغی جماعت والوں کی اہم ترین کتاب کا نام ’’تبلیغی نصاب‘‘ ہے۔ اس کتاب کو ان کی جماعت کے بڑے رئیس محمد ذکریا کاندھلوی صاحب نے لکھا ہے۔ تبلیغی  اس کتاب کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں جیسا کہ اہل سنت صحیحین اور دیگر کتب حدیث کی تعظیم کرتے ہیں۔ تبلیغی جماعت والوں نے اس کتاب کو ہندی اور دیگر عجمی لوگوں کے لئے بہترین نمونہ بنا رکھا ہے۔ حالانکہ اس میں شرکیات‘ بدعات‘ اور خرافات بھری پڑی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں موضوع اور ضعیف حدیثوں کا ذخیرہ موجود ہے اور درحقیقت یہ کتاب گمراہی کا ذریعہ ہے۔ تبلیغی جماعت والے اسی کے ذریعے اپنی بدعت اور گمراہیاں پھیلاتے ہیں اور لوگوں کے عقائد خراب کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" تبلیغی جماعت کا اسلام "محترم پروفیسر سید طالب الرحمن صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے تبلیغی جماعت کی انہی خرابیوں  کی نشاندہی کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-tajdeed-e-emaan-copy
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن
    حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان اور اسلام میں فرق بتایا ہے لیکن تمام قسم کی فروعی بحثوں کو ایک طرف رکھنے ہوئے عقائد کی اصلاح ایک لازمی جز ہے کیونکہ اللہ کے ہاں عقیدے کی لغزش ناقابل معافی جرم ہے اسی لیے عقیدے کی خرابی سے شرک پیدا ہوتا اور اللہ کے ہاں بندہ بغیر توبہ کے شرک کا گناہ لیے آ گیا تو اس پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دے دیا ہے-اس لیے عقیدہ توحید ایک لازمی امر ہے جس کو فاضل مصنف نے انتہائی بلیغ اور واضح انداز سے بیان کیا ہے تاکہ کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ رہ جائے-عقیدے کی اصلاح کے لیے انبیاء کی موت وحیات کا مسئلہ، اولیاء کی تکریم میں مبالغہ کرتے ہوئے ان سے استعانت کا پہلو اختیار کرنا ، عقیدے کو خراب کرنے والی موضوع اور من گھڑت قسم کی روایات کی وضاحت کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے شرک کی کیفیت اور بعد کے مشرکین کی وضاحت،وسیلہ کی حقیقت اور غیر اللہ سے مسائل کا حل تلاش کرنا،انبیاء وغیرہم کے بارے میں نور وبشر کے مسئلے کی وضاحت،مسئلہ علم غیب کی وضاحت اور اختیارات کس کے پاس ہیں ان تمام چیزوں کرتے ہوئے آخر میں سنت کی اہمیت کو بیان کر کے لوگوں کو قرآن وسنت پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمان اپنے زندگی کا ہر معاملہ قرآن وسنت کی روشنی میں حل کرے-اور قرآن وسنت کے متعلق پائے جانے والے مختلف شبہات کا مدلل رد بھی کیا ہے-مثال کے طور پر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ احادیث عجمی سازش ہیں یا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نہیں لکھی گئیں بلکہ بعدکی پیداوار ہیں تو ایسے تمام گھٹیا اعتراضات کا مدلل محاکمہ کیا گیا  ہے۔

  • title-pages-tuhfa-e-islahi-copy
    ڈاکٹر مفتی عبد الواحد

    مولانا امین احسن اصلاحی﷫ نے  اپنی تفسیر "تدبر قرآن " کے علاوہ اصول تفسیر میں" مبادی تدبر قرآن "اور اصول حدیث میں "مبادی تدبر حدیث" بھی لکھی ہیں۔جن میں انہوں نے اسلاف سے ہٹ کر چند منفرد اصول بیان کئے ہیں۔چنانچہ مولف کتاب ہذا  ڈاکٹر مفتی  عبد الواحد﷫نے   مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کی ان دونوں کتب کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ لیا اور اپنے اس جائزے کو اپنی کتاب "ڈاکٹر اسرار احمد﷫ کے افکار ونظریات تنقید  کی میزان میں"کے ساتھ ہی شائع کر دیا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر اسرار احمد﷫ نے  اپنے چار منبع فہم قرآن میں سے ایک مولانا حمید الدین فراہی﷫ اور مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کو شمار کیا تھا۔بعد میں وہ جائزہ کچھ اضافوں کے ساتھ مضمون کی شکل میں جامعہ مدنیہ کے رسالہ انوار مدینہ میں قسط وار شائع ہوا۔اب  کے بار مولف﷫ نے اس کی نظر ثانی کرتے ہوئے اسے دوبارہ کتابی شکل میں شائع کردیا ہے ،تاکہ مولانا امین احسن اصلاحی﷫ کے شاگردان رشید اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور اپنے افکار ونظریات پر نظر ثانی کریں۔مولانا امین احسن اصلاحی﷫ تو دنیا میں نہیں رہے ،لیکن ان کے شاگردوں کو تو اصلاح احوال کی گنجائش حاصل ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کتاب کو اصلاح احوال کا ذریعہ بنا دے ۔آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-touhfa-al-muahideen-copy
    ابو احسان مختار احمد جیلانی

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔  سورۃ اخلاص میں اللہ تعالی فرماتے ہیں " کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" تحفۃ الموحدین "قاطع شرک وبدعت علامہ ابو احسان سید مختار احمد جیلانی صاحب  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  عقیدہ توحید بیان کرتے ہوئے مسئلہ علم غیب، مسئلہ حاضر وناظر، مسئلہ مختار کل ، مسئلہ بشریت انبیاء علیھم السلام اور مسئلہ نور پر قرآن وسنت کی روشنی میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو عقیدہ توحید اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • --copy
    عبید اللہ نو مسلم مالیر کوٹلوی

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم نے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔عقیدے کے  بعض مسائل ایسے ہیں جو نبی کریم اور مشرکین مکہ کے درمیان متنازعہ فیہ تھے۔اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں جن کا ہر مسلمان کے علم میں آنا انتہائی ضروری ہے ،کیونکہ ان میں اور اسلامی تعلیمات  میں مشرق ومغرب کی دوری ہے۔ان کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تحفۃ الہند مع تکملہ ورسالہ کتھاسلوئی"محترم مولانا عبید اللہ نو مسلم مالیر کوٹلوی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ان تمام مسائل کو جمع فرما دیا ہے جن کو جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے،تاکہ ہر مسلمان ان سے آگاہ ہوجائے اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکے۔مولف پہلے ہندو تھے۔اللہ تعالی نے انہیں اسلام کی طرف راہنمائی کی اور وہ مشرف باسلام ہو گئے۔اس کتاب میں انہوں نے جہاں اسلامی عقائد کو بیان کیا ہے وہیں آخر میں رسالہ کتھاسلوئی کے نام سے ہندو مذہب کی خامیاں بھی بیان کی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-tehqiq-al-dua-baad-salat-al-janaza-copy
    حکیم سید عزیز علی شاہ ثابت حنفی البخاری

    نبی کریمﷺ  دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ ﷺنے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے  بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج  بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی  ہے۔اور اس امر کی  بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ  مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک  نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا بھی ہے۔اکثر دیہاتوں اور بعض شہروں میں نماز جنازہ کے بعد سلام پھیرتے ہی بیٹھ کر اور بعض علاقوں میں کھڑے ہو کر لوگ دعا مانگتے ہیں۔جس کا اسلام ،شریعت ،نبی کریمﷺ ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ بعد میں گھڑی جانے والی بدعات میں سے ایک بدعت ہے۔ زیر نظر کتاب" تحقیق الدعاء بعد صلوۃ الجنازۃ "محترم حکیم سید عزیز علی شاہ ثابت حنفی البخاری ﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنے کو بدعت ثابت کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ سنت کی اتباع کریں اور بدعات سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-tazkeer-al-saqalain-bi-rad-taqbeel-al-abhamain-copy
    محمد رفیق خاں پسرور

    نبی کریم  دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ نے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے  بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج  بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی  ہے۔اور اس امر کی  بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ  مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک بدعت نبی کریم ﷺ کا نام مبارک آنے پر انگوٹھوں کو چومنا ہے جس  کا اسلام ،شریعت ،نبی کریم ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ نبی کریم کی وفات کے بعد گھڑی گئی ہے۔ زیر نظر کتاب " تذکیر الثقلین برد تقبیل الابہامین"محترم مولانا محمد رفیق خاں صاحب خطیب جامع مسجد اہلحدیث پسرور صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وحدیث اور ایک سو علماء کرام کی تحریرات اور تصدیقات کی روشنی میں ہر جگہ نبی کریم ﷺ کو پکارنے، انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانے،کفن پر لکھنے اور قبر پر بوسہ دینے سمیت معاشرے میں پھیلی متعددبدعات کا مستند اور مدلل رد کیا ہےاور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ بدعات کو چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کی  سنت کی اتباع کریں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-tashreeh-al-asma-ul-husna
    ابو محمد بدیع الدین راشدی
    اخروی کامیابی اور دخول جنت کے لیے انسان کا توحید سے متصف ہونا شرط اور مشرک پر جنت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہے ،اس لیے ہرمسلمان پر لاز م ہے کہ وہ توحید کی بنیادی تعلیمات سے روشناس ہو اور ہرشرکیہ فعل سے پاک ہو۔توحید کی تین اقسام ہیں (1)توحید ربوبیت (2)توحید الوہیت (3)توحید اسماءوصفات۔توحید کی پہلی دو اقسام پر تقریر  وتالیف اوردرس وتدریس کے ذریعہ کافی کام ہوا ہے ،لیکن تو حید کی تیسری قسم توحید اسماءوصفات میں کافی علمی تشنگی موجود اور عوام کی اکثریت توحید کی اس قسم میں اتنی پختہ اور مضبوط نہیں جتنی مضبوطی توحید کی پہلی دو اقسام میں پائی جاتی ہے۔اس تشنگی کاحل شیخ العرب والعجم شاہ بدیع الدین راشدی  اس تصنیف میں موجود ہے ۔کتاب ہذا میں توحید اسماءو صفات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کی بہترین تشریح کی گئی ہے، اپنے موضوع پر یہ شاہکار تصنیف اور بہترین علمی دستاویز ہے۔(ف۔ر)
  • title-pages-tas-heeh-ul-aqaaed
    رئیس احمد ندوی
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور آپ کی اطاعت کے بغیر ہمارے ایمان ناقص ہے۔ پس آپ کی ذات سے محبت اورآپ کی اطاعت دین میں مطلوب ومقصود ہے۔محبت میںغلو آ ہی جاتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سابقہ اقوام نے بھی اپنے انبیاءکی محبت میںغلو کرتے ہوئے انہیں معاذ اللہ ، اللہ کا بیٹا بنا لیا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے عقیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی امت کو اپنی تعریف میں غلوکرنے سے منع فرمایا ہے۔ایک روایت کا مفہوم ہے کہ آپ نے تلقین کی کہ میری تعریف میں ایسا مبالغہ نہ کرنا جیسا کہ نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تعریف میں مبالغہ کیا ہے۔آپ کے مقام ومرتبہ کے بیان یامدح وثنا میںاہل حدیث کا کوئی اختلاف نہیںہے بلکہ وہ اسے جزو ایمان قرار دیتے ہیں، اختلاف اس صورت میں ہے جب آپ کے مقام ومرتبہ کے بیان یا نعت گوئی میں آپ کو اللہ کی ذات یااسماء و صفات کا شریک قرار دیا جائے کہ جس کی تردید کے لیے آپ نے اپنی ساری زندگی کھپا دی۔  
    بریلوی مسلک کے فضلا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح وثنا میں غلو کرتے ہوئے آپ کو ہر جگہ حاضر ناظر ثابت کرتے ہیں یا آپ کو ابتدائے کائنات سے قیام قیامت تک کی جزئیات و کلیات کا عالم الغیب ثابت کرتے ہیں۔ بریلوی حضرات کے اس غلو کے جواب میں مولانا عبد الرؤوف رحمانی صاحب نے ایک رسالہ ’تردید حاضر وناظر‘ کے نا م سے لکھا ہے۔جس کا جواب ایک بریلوی فاضل نے ’الشاہد‘ کے نام سے دیا۔ اس ’الشاہد‘ کے جواب میں مولانا محمد رئیس ندوی صاحب نے ’تصحیح العقائد بابطال شواھد الشاھد‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ بریلوی فاضل کی طرف سے اس کتاب کا جواب ’الشاہد‘ کے جدید ایڈیشن کی صورت میں دیا گیا۔ مولانا رئیس ندوی رحمہ اللہ نے بھی اس جدید ایڈیشن کا جواب ’تصحیح العقائد‘ کے جدید ایڈیشن کے ذریعے دیا اور اب یہ کتاب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے، حاضر ناظر ہونے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ کے ہونے اور آپ کے معراج کے موقع پر اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے بارے ایک بنیادی مصدر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔کتاب کا اسلوب مجادلانہ اور مناظرانہ ہے کیونکہ درحقیقت یہ ایک تحریری مناظرہ ہی ہے اور یہ اسلوب کی سختی دونوں طرف سے ہی پائی جا رہی ہے بلکہ یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ اس سختی کی ابتدا مولانا احمد رضاخان کے مزاج سے ہوئی ہے اور وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے ان مسائل میں اپنے مخالفین کو گمراہ، ضال، بدعتی، کافر،مشرک اور جو گالی ممکن ہو سکتی تھی، دی ہے اور یہ نازیبا کلمات آج بھی ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ایک طرف مزاج اور اسلوب میں تشدد اور سختی ہو تو دوسری طرف بھی آ ہی جاتی ہے۔ بہرحال پھر بھی اس مجادلانہ و مناظرانہ اسلوب سے صرف نظر کرتے ہوئے کتاب اپنے موضوع پر ایک علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • title-pages-talluq-billah
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    تعلق باللہ انسان کےدل کو ماسوائے اللہ سے خالی کر دیتا ہے۔ یہ انتہائی اہم فریضہ ہے، جس کا شریعت نے حکم بھی دیا اور بے تحاشا اجرو ثواب کے وعدے بھی فرمائے۔ انبیائے کرام﷩ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہایت مضبوط تعلق قائم تھا اور نبی کریمﷺ نے تو کائنات میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کیا۔ زیر نظر کتاب میں انھی مبارک ہستیوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بیان کرتے ہوئے تعلق باللہ کے اسباب، ذرائع اور ثمرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اپنے موضوع پر یہ ایک مدلل کتاب ہے جس می موضوع سے متعلق تقریباً تمام مواد آگیا ہے۔ زہد کے باب میں یہ کتاب ایک اہم اضافہ ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-taweez-aur-toheed
    ڈاکٹر علی بن نفیع العلیانی

    بدعات وخرافات اور خلاف شرع رسم ورواج سےپاک وصاف معاشرہ اتباع سنت کا آئینہ دار ہوتاہے جب بھی معاشرہ میں قرآن وسنت کی مخالف پائی جائے گی تو اس میں اعتقادی خرابیاں عام ہوں گی جہاں مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں وہاں اہل علم کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کی اصلاح کےلیے ان کی خرابیوں کی نشاندہی اور انکی راہنمائی کریں۔معاشرے میں اعتقادی خرابیوں کا ایک مظہر تعویذ گنڈے کا رواج بھی ہے ۔زیر نظر کتاب التمائم فی میزان العقیدہ از ڈاکٹر علی بن نفیع کا اردو ترجمہ ہے جس میں فاضل مصنف نے تعویذ کی شرعی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے سمجھ میں نہ نے آنے والے یا غیر شرعی الفاظ وغیرہ سے بنے ہوئے تعویذوں کو لٹکانے یا پہننے کا قرٖآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں شرک ہونا ثابت کیا ہے یہ کتاب اپنے موضوع پر بہت مفید ہے اللہ تعالی مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کو اس سے فائدہ پہنچائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-page-taweez-aur-dam-quran-o-sunnat-ki-rooshni-men-new
    محمد قاسم
    امت محمدیہ کے افراد کی تلاشی لی جائے تو کسی کی گردن میں کاغذی تعویز لٹک رہا ہوگا، کسی میں چھوٹا سا قرآنی نسخہ۔ کسی میں کوڑیاں اور مونگے تو کوئی کالا دھاگہ باندھے ہوگا۔ کوئی امام ضامن پر تکیہ کئے ہوئے ہے تو کسی کو کالی بلی سامنے سے گزر جانے کا خوف ہے۔ کوئی مصیبت سے بچنے کیلئے تعویذ پہنتا ہے تو کوئی محبت کروانے کیلئے تعویذ کروا رہا ہے۔ قرآن سے دوری نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ شرک امت کی رگ رگ میں رچتا بستا چلا جا رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب شرک کے اسی اہم پہلو یعنی تعویذ گنڈوں  اور جائز دم کے درمیان فرق اور احادیث کی روشنی میں ان کے تفصیلی جائزے پر مشتمل ہے۔ کتاب کے آخر میں تعویذ پہننے کو جائز قرار دینے والوں کے شبہات پر مشتمل ایک کتابچہ کا بھی بھرپور جواب دیا گیا ہے۔

  • title-pages-taweez-aur-damm-ki-sharie-haisiyat-copy
    ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    اردو میں مستعمل لفظ ”تعویذ“ کا عربی نام ”التمیمة“ ہے۔ عربی زبان میں ”التمیمة‘ کے معنی اس دھاگے، تار ، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔اور شریعت اسلامیہ نے  ہر طرح کے تعویذات  کے استعمال سے مطلقا منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس کہ آج کے بہت سارے مسلمان ان شرکیہ اور حرام کاموں میں مبتلاء ہیں،اور ان میں مختلف ناموں سے کثرت سے تعویذوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلا بچوں کو  جنوں وشیاطین اورنظر بد وغیرہ سے حفاظت کے لیے، میاں بیوی میں محبت کے لیے ، اسی طرح اونٹوں، گھوڑوں، اور دیگر جانوروں پر نظر بدوغیرہ سے حفاظت کے لیے، اپنی گاڑیوں کے آگے یا پیچھے جوتے یا چپل، آئینوں پر بعض دھاگے اور گنڈے لٹکاتے ہیں، اسی طرح بعض مسلمان اپنے گھروں اور دوکانوں کے دروازوں پر گھوڑے کے نعل وغیرہ لٹکاتے ہیں، یا مکانوں پر کالے کپڑے لہراتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ بالخصوص عورتیں نظر بد وغیرہ سے بچاوٴ کے لیے بچوں کے تکیے کے نیچے چھری ،لوہا، ہرن کی کھال ، خرگوش کی کھال، اور تعویذیں وغیرہ رکھتی ہیں یا دیواروں پر لٹکاتی ہیں، یہ ساری چیزیں زمانہ جاہلیت کی ہیں، جن سے اجتناب کرنا بے حد ضروری ہے۔سلف صالحین، حضرات صحابہ وتابعین ، ائمہ و محدثین کرام اور دیگر اہل علم کی رائے کے مطابق یہی بات راجح اور صحیح بھی ہے کہ تعویذ خواہ قرآنی ہو یا غیر قرآنی اس کا لٹکانا حرام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت"محترم رانا ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  تعویذ گنڈے کی حقیقت،تعویذ گنڈے کے مفاسد ،مشروع طریقہ علاج اور مسنون اذکار وادعیہ جیسی مباحث کو بیان کیا ہے اور اس کے ساتھ شرعی دم کے مسائل کو بھی تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔آپ نے اس کے علاوہ بھی متعدد موضوعات پر کتب لکھی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-taqwa-ahmiyatbarakatasbab
    ڈاکٹر فضل الٰہی
    اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کو تقویٰ کا حکم دیا۔ تمام رسولوں، خاتم الرسل حضرت محمدﷺ اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ اہل ایمان اور تمام بنی نوع انسان کو بھی یہی حکم دیا۔ نبی کریمﷺ کثرت سے اللہ تعالیٰ سے تقویٰ کےعطا کیے جانے کا سوال کرتے رہتے۔ زیر نظر کتاب میں بھی ڈاکٹر فضل الہٰی صاحب نے بھی اپنے مخصوص اندازمیں تقویٰ کی اہمیت، برکات اور اس کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کو چار مباحث میں بیا ن کیا گیا ہے۔ مبحث اول تقوی کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ دوسری مبحث میں تقویٰ کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ تیسری مبحث میں تقویٰ کی برکات اور چوتھی مبحث میں تقویٰ کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کی گیا ہے۔ کتاب کی اساس کتاب و سنت ہے۔ احادیث کو ان کے مراجع اصلیہ سے نقل کیا گی ہے۔ صحیحین کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے نقل کردہ احادیث کے متعلق علمائے حدیث کےاقول پیش کیے گئے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • taqwiatuleemaan-copy
    شاہ اسماعیل شہید
    جس طرح ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کی تجدید دین کی خدمات کا انکار ناممکن ہے اسی طرح ہندوستان میں اسلا می روح اور سلفی عقیدے کی ترویج و اشاعت میں جو خدمات شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی کے خاندان نے سر انجام دی ہیں ان کوبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا-تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی ایک جاندار اور لا جواب تصنیف ہے اور چونکہ شاہ اسماعیل شہید شاہ ولی اللہ کے پوتے ہیں ا س لیے ان کی تربیت میں وہی سلفی عقیدہ اور اہل سنت کا طور طریقہ رچابسا نظر آتا ہے-مصنف نے اس کتاب کو سات بابوں میں تقسیم کیا ہے-(1) پہلاباب توحید کے متعلق عوام کی بے خبری اور شرک کے کاموں میں آگے سے آگے نکل جانے کے متعلق ہے کہ کس طرح سے لوگ عقیدے کی خرابی کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں-(2)دوسرا باب شرک کی اقسام کے متعلق ہے کہ انسان روزمرہ کے کاموں میں کیسے کیسے شرک کا ارتکاب کرتا ہے جس میں میں خاص طور پر علم میں شرک،تصرفات میں شرک اور عبادات میں شرک کی مختلف صورتوں کو بیان کیا ہے-(3) تیسرا باب توحید کی خوبیاں اور شرک کی برائیاں پر مبنی ہے کہ عقیدہ توحید سے دنیاوی اور اخروی کون کون سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور شرک کے ارتکاب کیا کیا عذاب اور سزائیں آتی ہیں- (4)چوتھا باب شرک فی العلم کی تردید اور اس کے مدعی کے بارے میں ہے جس میں خاص طور پر مسئلہ علم غیب کو قرآن وسنت اور صحابہ کرام کے اقوال سے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس چیز کو واضح کیا گیا ہے کہ ہر مشکل کے وقت صرف ایک اللہ کو ہی پکارنا چاہیے اوریہ عقیدہ ہونا چأہیے کہ ہر قسم کے نفع ونقصان کا مالک صرف ایک اللہ تعالی کی ذات ہے-(5)پانچواں باب شرک فی التصرف کی تردیدمیں ہے اوراس کے علاوہ مسئلہ شفاعت کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے شفاعت کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں اور اس کے بعد اللہ کے ہاں کون سی شفاعت ہو گی اور کون سی نہیں ہو سکتی اس کو خوب وضاحت سے بیان کیا ہے -(6) چھٹا باب عبادات میں شرک کی حرمت کےبارےمیں ہے جس میں پہلے عبادت کا معنی مفہوم بیان کیا اور اس کے بعد اس چیز کو واضح کیا ہے کہ ہر قسم کی عبادات صرف اللہ تعالی کے لیے خاص ہیں، عبادت کی کوئی بھی قسم چاہے وہ کتنی چھوٹی سے چھوٹی عبادت کیوں نہ ہومثلا نذرونیاز،صدقہ خیرات، غیراللہ کے نام پر ذبح کرنا اور مختلف قسم کے غیر شرعی نام رکھنا ان تمام چیزوں کو بیان کیا گیا ہے-(7)ساتویں باب میں میں رسم و رواج اور اولاد کے بارےمیں ،کھیتی باڑی کے سلسلے میں اور جانوروں کے سلسلےمیں ،نذر و نیاز اور حلال و حرام کے مسائل میں جو شرکیہ امور پائے جاتے ہیں ان کی وضاحت کے ساتھ ساتھ سید کی تشریح کرتے ہوئے تصویر کے بارے میں ارشاداتن نبوی کو بیان کیا ہے
  • title-pages-taqwiatu-al-iman--maktaba-al-salfia--copy
    شاہ اسماعیل شہید

    جس طرح  امام ابن تیمیہ ﷫ کی تجدید دین کی خدمات کا انکار ناممکن ہے اسی طرح ہندوستان میں اسلا می روح اور سلفی عقیدے کی ترویج و اشاعت میں جو خدمات شاہ ولی اللہ ﷫ کے خاندان نے سر انجام دی ہیں ان کوبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا- تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل شہید ﷫ کی ایک جاندار اور لا جواب تصنیف ہے۔ ’’تقویۃ الایمان‘‘ کا موضوع توحید ہے جو دین کی بنیاد ہے اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جاچکے ہیں ۔تقویۃ الایمان  بھی انہی کتب  میں سے ایک اہم کتاب ہے ۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1826ء میں شائع ہوئی جب  شاہ اسماعیل شہید سید احمدبریلوی ﷫ اور ان کی جماعت مجاہدین کےہمراہ وطن مالوف سے ہجرت کر کے جاچکے تھے ۔اور ہند وستان کی آزادی  وتطہیر کے لیے جہاد بالسیف کا آغاز  ہورہا تھا۔کتاب تقویۃ الایمان      اب تک لاکھوں کی تعداد میں  چھپ کر کروڑوں  آدمیوں  کے  لیے  ہدایت کا ذریعہ بن چکے ہے ۔شاہ اسماعیل شہید﷫ کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا ہے  اور سراسر مصلحانہ  ہے  علمائے حق کی طرح انہوں نے  صرف کتاب وسنت کومدار بنایا ہے ۔ آیات وآحادیث پیش کر کے  وہ نہایت سادہ اور سلیس میں ان کی تشریح  فرمادیتے ہیں  اور توحید کے مخالف جتنی  بھی غیر شرعی  رسمیں  معاشرے میں مروج تھیں ان کی اصل حقیقیت دل نشیں انداز میں  آشکارا کردیتے ہیں ۔انہوں نے  عقیدہ  وعمل کی ان تمام خوفناک غلطیوں کوجو اسلام کی تعلیم توحید کے  خلاف تھیں مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا۔مثلاً شرک فی  العلم ، شرک فی التصرف، شرک فی العبادات، شرک فی العادت۔ یوں  تقویۃالایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی ۔اردو زبان میں  یہ کتاب  معمولی  پڑھے لکھے آدمی سے لےکر متبحر عالم دین تک سب کے لیےیکساں مفید ہے ۔زیر  تبصرہ   تقویۃ الایمان کا نسخہ  المکتبہ  السلفیۃ،لاہور سے طبع شد ہے  جس  میں  مولانا غلام رسول مہر ﷫ کا مبسوط مقدمہ  شامل اشاعت ہے  نیزاس  اس نخسے کی امتیازی  خوبی  یہ ہےکہ اس پر شارح نسائی مولانا عطا اللہ حنیف ﷫ کی  تحقیق موجود ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-taqviatul-imam-ma-hawaashi-az-abul-hassan-nadvi
    شاہ اسماعیل شہید

    جس طرح  امام ابن تیمیہ ﷫ کی تجدید دین کی خدمات کا انکار ناممکن ہے اسی طرح ہندوستان میں اسلا می روح اور سلفی عقیدے کی ترویج و اشاعت میں جو خدمات شاہ ولی اللہ ﷫ کے خاندان نے سر انجام دی ہیں ان کوبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا-تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل شہید ﷫ کی ایک جاندار اور لا جواب تصنیف ہے۔ ’’تقویۃ الایمان‘‘ کا موضوع توحید ہے جو دین کی بنیاد ہے اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جاچکے ہیں۔ تقویۃ الایمان  بھی انہی کتب  میں سے ایک اہم کتاب ہے ۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1826ء میں شائع ہوئی جب  شاہ اسماعیل شہید سید احمد بریلوی﷫ اور ان کی جماعت مجاہدین کےہمراہ وطن مالوف سے ہجرت کر کے جا چکے تھے ۔اور ہند وستان کی آزادی  و تطہیر کے لیے جہاد بالسیف کا آغاز  ہورہا تھا۔کتاب تقویۃ الایمان اب تک لاکھوں کی تعداد میں  چھپ کر کروڑوں  آدمیوں کے  لیے  ہدایت کا ذریعہ بن چکے ہے۔ شاہ اسماعیل شہید﷫ کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا ہے  اور مصلحانہ ہے علمائے حق کی طرح انہوں نے صرف کتاب و سنت کومدار بنایا ہے۔ آیات وآحادیث پیش کر کے وہ نہایت سادہ اور سلیس میں ان کی تشریح  فرمادیتے ہیں اور توحید کے مخالف جتنی  بھی غیر شرعی رسمیں  معاشرے میں مروج تھیں ان کی اصل حقیقیت دل نشیں انداز میں  آشکارا کردیتے ہیں۔ انہوں نے  عقیدہ  وعمل کی ان تمام خوفناک غلطیوں کوجو اسلام کی تعلیم توحید کے  خلاف تھیں مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا۔مثلاً شرک فی  العلم، شرک فی التصرف، شرک فی العبادات، شرک فی العادت۔ یوں  تقویۃ الایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی۔ اردو زبان میں یہ کتاب معمولی  پڑھے لکھے آدمی سے لے کر متبحر عالم دین تک سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ زیر تبصرہ ’’تقویۃ الایمان‘‘ در اصل عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی ﷫ کے  ان حواشی  کاترجمہ  ہے جوانہوں نے تقویۃ الایمان کو عربی زبان میں منتقل کرتے ہوئے اس پر ایک گرانقدر مقدمہ اور شاہ  صاحب کے مختصر جامع حالات زندگی کی دلکش تصویر کشی بھی کی او رجگہ جگہ بہت سےقیمتی تشریحی حواشی اور جلیل القدر علماء  ومشائخ کےتائیدی بیانات وارشادات بھی نقل  فرمائے۔ اور اس کا نام ’’رسالہ التوحید ‘‘ رکھا بلاد عربیہ میں اسے شرف قبول حاصل ہوا اور اسے دار العلوم ندوۃ العلماء   کے نصاب میں شامل کر لیاگیا۔محترم مولانا شمس الحق ندوی صاحب (ایڈیٹر تعمیر حیات ‘‘ نے مولانا ابو الحسن ندوی ﷫ کے  تقویۃ الایمان پر تحریر کردہ حواشی کو اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اصل کتاب کی طرح یہ  حواشی بھی مشرکانہ ومبتدعانہ رسم ورواج کا خاتمہ کریں گے۔ (ان شاء اللہ)(م۔ا)

  • touba-magar-kaisey
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    اللہ تعالیٰ کو وہ بندے بے حد پسند ہیں جو گناہ کرنے کے بعد خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکا دیتے ہیں۔ گناہ ہو جانا ایک فطری عمل ہے لیکن ایک مسلمان کا یہ وطیرہ ہونا چاہئے کہ وہ گناہ کے فوراً بعد اللہ سے رجوع کرے۔ اور گناہوں پر اکڑفوں کا مظاہرہ نہ کرے۔ ’توبہ مگر کیسے؟‘ میں بڑے عمدہ سلیقے سے کتاب وسنت کی نصوص کی روشنی میں توبہ کی تعریف، فضیلت و اہمیت، شرائط، فوائد، گناہوں سے بچاؤ کی تدابیر اور گناہوں کے نقصانات، تائبین کے درجات اور ان کے سچے واقعات اور چند ایک اذکار مسنونہ جمع کر دئیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-touba-w-taqwa-asbab-wasail-aur-samrat
    شفیق الرحمٰن الدراوی
    جب سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو وجود بخشا ہے تب ہی سے اس سے غلطیاں سرزد ہونے کا بھی آغاز ہو گیا۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر خاص رحمت ہے کہ اس نے غلطی اور گناہ کرنے والےکو فوراً اس کی سزا نہیں دی بلکہ گناہ کے بعد توبہ کرلینے اور معافی مانگ لینے والے کے لیے اس کی غلطیوں کو نیکیوں میں بدلنے کا وعدہ کیا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب ایسے لوگوں، جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہمارے گناہ اس قدر زیادہ ہیں کہ اب واپسی کی گنجائش باقی نہیں رہی اور وہ اسی بدگمانی میں گناہ پر گناہ کیے جا رہے ہیں کہ اب ذلت ہمارا مقدر بن چکی ہے، توبہ کرنے اور متقیوں کو تقویٰ پر استقامت کے لیے سیدھی راہ دکھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ کتاب میں فاضل مؤلف ابو شرحبیل شفیق الرحمٰن نے پہلے گناہ، اس کی اقسام اور اس کے انسانی نفس اور کائنات میں واقع ہونے والے برے اثرات کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد توبہ و استغفار کے فوائد، اس کے شروط و احکام اور توبہ و استغفار کے درمیان فرق بیان کیا ہے۔ پھر اس کے بعد تقویٰ، اس کی اہمیت اور احکام و مسائل ذکر کیے ہیں۔ اس کے بعد نیک اعمال کی حفاظت کے بارے میں کچھ نگارشات بیان کی گئی ہیں۔  (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-toheed-asmaa-o-sifaat
    محمد بن صالح العثیمین

    ایمان بااللہ کے ارکان میں سے ایک اہم رکن اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات پر ایمان لانا ہے ۔توحید اسماء وصفات توحید کی تین اقسام میں سے ایک مستقل قسم ہے ۔توحید اسماء وصفات کا دین میں مقام ومرتبہ بہت اونچا ہے اور اس کی اہمیت نہایت عظیم ہے۔ انسان کے لیے اس وقت تک مکمل واکمل طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت ممکن نہیں ہے جب تک اسے اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا علم نہ ہو ۔عقائد کی کتب میں   توحید کی اس قسم پر تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔ او ربعض علماء نے   توحید اسماء وصفات پر الگ سے کتب تحریر کیں ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’توحید اسماء وصفات ‘‘ سعودیہ کے ممتاز عالم دین   فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ﷫کی اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے متعلق انتہائی اہم بنیادی اور زریں قواعد پر مشتمل کتاب ’’ القواعد المثلیٰ فی الاسماء الصفات ‘‘کا اردو ترجمہ ہے ۔ ترجمہ کی سعادت   پاکستان کے ممتاز عالم دین   مولانا عبد اللہ رحمانی﷾ نے حاصل کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مترجم ومصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل اسلام کے لیے مفید بنائے (آمین) م۔ا

  • title-pages-touheed-al-rehman-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کا معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ توحید الرحمان بجواب استمداد از عبادالرحمٰن‘‘ حضرت العلام محدث العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی ﷫ کی تصنیف ہے جو انہوں نے 1959ء میں انجمن حزب الاحناف ،لاہور کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’’ استمداد ازعبادالرحمٰن‘‘ کےجواب میں تحریرکی ۔حافظ صاحب مرحوم کی یہ کتاب ان کی زندگی میں تبویب وتصویب جدید سے شائع نہ ہوسکی۔بعد ازاں ان کے اخلاف حافظ عبد الوہاب روپڑی ﷾ نےاس کتاب کو تبویب وترتیب کےساتھ شائع کیا ہے تاکہ عوام الناس ان علمی جواہرپاروں سے استفادہ کرسکیں اور شرکیہ ظلمات سےباہر آکر نجات اخروی حاصل کرسکیں۔محدث روپڑی اکیڈمی نے اس کتاب کےعلاوہ بھی محدث روپڑی بعض کتب(انسانی زندگی کامقصد، زیارت قبر نبویﷺ، ارسال الیدین بعدالرکوع، تحقیق التراویح، تقلید اور علماء دیوبند، وسیلہ بزرگان ، رد بدعات ) کو دوبارہ شائع کیا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-toheed-aur-shirak--sayad-hamid-ali--copy
    سید حامد علی

    اللہ  تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں  واحد اور بے  مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ  کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے  قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے  اور شرک ایسا گناہ ہے  کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں  کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے  عظیم  گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی  عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی  ہدایت نظر آتی ہے  ۔نیز  شرک اعمال  کو ضائع وبرباد کرنے  والا اور ثواب سے محروم  کرنے والا عمل  ہے ۔ پہلی  قوموں کی  تباہی  وبربادی کاسبب  شرک  ہی  تھا۔ چنانچہ جس  کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں  اللہ کے علاوہ کسی  کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی  وہ مشرک ہے۔اثبات توحید اور ابطال شرک کے لیے انبیاء کرام کو  اللہ تعالیٰ نےمبعوث کیا  ۔ نبی کریم ﷺ او رآپ کے جانثار صحابہ کرام  نے  بھی  اسی مشن کو جاری وساری رکھا اور بعد میں تابعین ، ائمہ  کرام اور کئی اہل علم نے رد شر ک او راثبات توحید پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ توحیداور شرک ‘‘ از سید حامد علی  بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔فاضل مصنف نےاس کتاب کو بارہ ابواب میں تقسیم کیا ہے  اور مختلف مذاہب کی تعلیمات کی روشنی میں  توحیدکو ثابت کیا   اور شرک  کا رد کیا ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-toheed-aur-shirak
    محمد خان منہاس

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’توحید اور شرک‘‘ کتاب کے ہذا کے مرتب محمدخان منہاس صدر الفوز اکیڈمی ،اسلام آباد کے گھر میں تقریبا بیس سال قبل 1418ھ کے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بعد نماز تراویح مختلف علماء واستاتذہ کی طرف سے دئیے گئے لیکچرز کامجموعہ ہے ۔ان لیکچروں کو محتر م جناب محمد خان منہاس اور خلیل الرحمٰن چشتی صاحب نے مرتب کر کے کتابی صورت میں شائع کیا ۔اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1999ء میں شائع اور ہوا۔زیر تبصرہ اس کتاب کا پانچواں ایڈیشن ہے ۔اس میں مرتبین نے توحید اور شرک کی مختلف قسموں کومختلف عنوانات کے تحت الگ الگ کر کے بیان کردیا ہے ۔ ہرباب کے آخر میں موضوع کا خلاصہ اور سوالات پیش کردیے گئے ہیں۔تاکہ طلبہ میں قرآنی آیات سے استنباط اور پھر اس کے استحضار کی صلاحیتیں پیدا ہوسکیں او ر وہ اسے سمجھ کر ایک دوسرے کوسمجھانے کے قابل ہوسکیں۔یہ کتاب توحید اور شرک کی مختلف قسموں کی وضاحت کرنے والی ایک جامع اورمستند کتاب ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-toheed-aur-shirk-ki-haqeeqat
    حافظ صلاح الدین یوسف
    خدا وند عالم نے اپنی آخری کتاب میں شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے ۔آج کلمہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس ظلم کی مرتکب ہو رہی ہے ۔اس کی ایک وجہ تو  یہ ہے کہ عوام الناس دینی تعلیمات کے حوالے سے جہالت او رلاعلمی کا شکار ہیں وہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ دین کیا اور اس کی اصل حقیقت کیا ہے ؟توحید کیا اور اس کے تقاضے کیا ہیں؟شرک کیا اور کن کن باتوں میں  شرک کی آمیزش ہے ؟اور ان کے ارتکاب سے آدمی مشرک ہو جاتا ہے؟دوسری وجہ ،ان کے نام نہاد علما کے وہ مغالطے ہیں،جن کے ذریعے سے انہوں نے عوام کو مختلف عنوانات سے شرکیہ عقائد و اعمال میں مبتلا کیا ہوا ہے ۔کبھی اسے ’عشق رسول‘اور ’محبت اولیاء‘ کا عنوان دیا جاتا ہے اور کبھی شرک کو صرف پتھر کی مورتیوں کے ساتھ مخصوص کر دیا جاتا ہے اور کبھی یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ مسلمان سے شرک کا ارتکاب ہی نہیں ہو سکتا۔زیر نظر کتاب  میں توحید اور شرک کے حوالے سے مختلف مغالطوں کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے،جس سے انسان شرک سے بچ کر جادہ توحید پر گامزن ہو سکتا ہے ۔لہذا ہر مسلمان کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔

  • title-pages-toheed-aur-payambre-touheed-copy
    ڈاکٹر محمد ایوب طاہر

    توحید اور رسالت اس لائحہ عمل کے دوبنیادی اجزا ہیں۔جن کو صحت کے ساتھ قبول کرنے او رنتیجہ کے طور پر ان کو عملی زندگی میں نافذ کرنے سےاس مقصدِ عظیم کو حاصل کیا جاسکتا ہےجسے اخروی کامیابی کہا جاتا ہے۔ توحید،حیات وکائنات کی تخلیق کا مقصد اولین وآخرین ہے اور اس کاصرف ایک تقاضا ہے کہ جن وانس اپنے جملہ مراسم عبودیت صرف اور صرف ایک اللہ کے لیےخالص کرلیں اور ایک مسلمان شعوری یا غیرشعوری طور پر دن میں بیسیوں مرتبہ اس کا اعلان کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے دنیا والوں کے لیے ہدایت ورہنمائی کے لیے تمام انبیاء ورسول میزان عدل کے ساتھ مبعوث فرمائے۔ ان سب کی دعوت کا نقطہ آغاز توحید تھا۔ سب نےتوحید کی دعوت کو پھیلانے عام کرنے اور توحیدکی ضد شرک تردید میں پورا حق ادا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب’’توحید اور پیامبر توحید‘‘ڈاکٹر محمد ایوب شاہد کی تصنیف ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں توحید ومخالف فکر کی تردید کی گئی ہے ۔ فلسفہ یونان سےمغلوب،فکر تصوف وحدت الوجود، وحدت الشہود اورجدید فکری یلغاروں کا قرآن وحدیث کے دلائل کی روشنی میں رد کیاگیاہے۔اور اس کتاب میں نبی اکرمﷺ کو بحیثیت ’’علمبردار توحید‘‘ پیش کیا گیاہے۔اورتوحید کوشرک سےبچاؤ کے لیے جو کوشش کی گئی ہے اسے سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوکر توحید کےپیغام کو سمجھنے کی توفیق عطافرمائے ۔(آمین) کتاب ہذا پر حافظ تنویر الاسلام (مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ (البیت العتیق) کی تحقیق ونظر ثانی سے کتاب کی افادیت میں مزیداضافہ ہوگیاہے۔(م۔ا)

  • title-pages-touheed-aur-humm-copy
    بشیر احمد لودھی

    اخروی  نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی  ہے  جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے  مشرکوں کے لیے  وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے  چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا  ایک مسلمان کے لیے ضروری  ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت  نوح   نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ  توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م   نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں  علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے  دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ  سلسلہ جاری  وساری ہے۔زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب  میں مصنف نے  توحید وشرک  کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اس کھلے دل ودماغ سے پڑھنے  والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا  تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔اس میں قرآنی حقائق اور نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ سیرت کی روشنی میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد کرنے کے علاوہ سفارش ، وسیلہ، معجزہ اور کرامت کے متعلق مسلمانوں میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کا مدلل طریقے سے ازالہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-touheed-aur-humm--jadeed-audition--copy
    بشیر احمد لودھی

    اخروی  نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی  ہے  جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے  مشرکوں کے لیے  وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے  چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا  ایک مسلمان کے لیے ضروری  ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت  نوح   نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ  توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م   نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں  علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے  دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ  سلسلہ جاری  وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب  میں مصنف نے  توحید وشرک  کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔   اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح  ، اصحاب کہف اور عزیر   کے قصوں اور ﷩قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے  اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام ﷩ کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم  کی روشنی میں  معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے  والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا  تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر  نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘  کا نیو ایڈیشن ہے  اسے  دورنگوں میں قرآنی  آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ  چند ایک ضعیف احادیث  خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-toheed-or-ham2-r-copy
    بشیر احمد لودھی
    عقیدہ توحید ایمان کی بنیادی اساس ہے اس لیے اس کی کوتاہی ناقابل معافی جرم ہے-مصنف نے اس کتاب میں عقیدہ توحید کی اہمیت کے پیش نظر توحید کے معاملے میں پائی جانے والی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے عقیدہ توحید کی وضاحت کی ہے-عقیدے کی خرابیوں میں مذاہب باطلہ کا الہ کے بارے میں تصور اور پھر عقیدے کی خرابی کی چند ایک مثالیں بیان کی ہیں،توحید الوہیت،توحید ربوبیت اور توحید اسماء وصفات،مسئلہ شفاعت كا بيان،وسیلے کا معنی ومفہوم اور اس کا طریقہ کار اور لوگوں کے پائے جانے والے غلط عقائد کی نشاندہی،اور پھر آخر میں دعا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ہر مسلمان کے لیے ثابت کیا کہ وہ ہر مشکل میں خود اللہ تعالی سے دعا کرے اور کسی غیر کے سامنے جھکنے کی بجائے اللہ کے سامنے ہی سجدہ ریز ہونا چاہیے-

  • pages-from-shakook-o-shubhaat-ka-azaala-ms-al-tameemi
    محمد بن سلیمان التمیمی

    آج کل کے پر فتن دور میں جو جہالت وضلالت میں، قبل ازبعثت کی جہالت سےدو ہاتھ آگے بڑھ چکاہے، اسلام کے نام لیواؤں کواسلام سے اتنی نفرت ہے کہ ان کہ سامنے اگر اسلام کواصلی صورت میں پیش کیا جائے تواسے اسی طرح مکروہ جانتے ہیں جیساکہ اسلام کی پہلی منزل پر سمجھا گیا تھا۔حالانکہ’’توحید‘‘وہ چیز ہے جس کے بغیر کوئی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ’’توحید‘‘ ہی وہ چیز ہےکہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں انبیاء و رسلﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو غیراللہ کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ کی عبادت میں لگائیں۔ اور شرک جیسے گناہ کبیرہ سے ان کو بچائے۔ اور شرک کی شنا عت وخطورات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نےشرک کرنے والے کے گنا ہوں کو بخشنے سے انکار کردیاہے،اور یہ ایک بہت ہی تلخ حقیقت ہے،جو اللہ رب العزت کی مشرکین سے نارضگی کا مظہر ہے۔ زیرہ تبصرہ کتاب ’’شکوک وشبہات کا ازالہ‘‘ جو کہ محمد بن سلیمان التمیمی صاحب کی بے مثال تصنیف ہے۔ جس میں فاضل موصوف نے تو حید باری تعالٰی کے اثبات اور شر ک کی مذمت میں نہایت ہی قابل تعریف اور مفید تصنیف ہے۔ اللہ ان کی مساعی جمیلہ کو اپنے دربارمیں شرف قبولیت بخشےـ آمین(شعیب خان)

  • title-pages-toheed-e-khalis
    ابو محمد بدیع الدین راشدی
    انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد صرف یہ تھا کہ یہ دونوں مخلوقات اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کریں ،دنیا میں اس کی تو کا پرچار کریں اور نظام تو حید کو دنیا میں رائج کریں ۔توحید کی تعلیمات کو جاری و ساری رکھنے کی غرض سے اللہ مالک الملک نے انبیاء و رسل کی بعثت اور آسمانی  کتب کے نزول کا سلسلہ شروع کیا اور انسانیت کی راہنمائی اور ہدایت کے لیے دعوت واصلاح کے مؤثر نظام کی بحالی جاری رہی ۔اس کے باوجو د شیطا ن لعین نے اپنی دسیسہ کاریوں اور فریب کاریوں کاسلسلہ جاری رکھااوراپنی چالاکیوں سے شرک و کفرکی بے شمار راہیں واہ کیں ۔کفار ومشرکین اور یہود ونصاریٰ تو اس کے ہم نوا تھے ،ابلیس اور اس کی آل نےمسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گرویدہ بنالیا اور تو حید کے قوانین و ضوابط کی جگہ ابلیسیت سے پاس شدہ ایک نیا دین دیا جو شرک وبدعات سے آراستہ اور خواہشات نفسی کی خوب آبیاری کرتاہے۔اس خوفناک سازش سے امت اسلامیہ کے گمراہ فرقوں  کے رگ و پے میں شرک سرایت کرگیا اور یہ لوگ اسلام اور توحید کے نام پر دھڑلے سے شرک کرنے لگے ۔شرک و کفر کے سیلاب کے سامنے یہ کتاب ایک مضبوط بند ہے،جو عرب وعجم کے مسلمہ استاد فضیلۃ الشیخ شاہ بدیع الدین راشدی صاحب کا امت  پر احسان  عظیم ہے۔جس میں تو حید کی اقسام ،توحید کی اہمیت وضرورت  پر سیر حاصل بحث ہے اور امت میں پائے جانے والے شرک کا خوب تدارک ہے۔(ف۔ر)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1559 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں