• title-pages-ahle-sunnat-k-nazdeek-ahle-bait-ka-maqam-w-martuba-copy
    عبد المحسن العباد

    نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کے بارے میں سے صحیح بات یہ ہے کہ اس سےمراد رسول اللہ ﷺکے وہ رشتے دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ان میں آپ کی  ازواج مطہرات اور اولاد اور عبد المطلب کی نسل میں سے ہر مسلمان مرد وعورت جنہیں بنو ہاشم کہا جاتا ہے،شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا﴾ (الاحزاب: 33)(اے(پیغمبر کے) اہلِ بیت اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی(کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے)۔ زیر تبصرہ کتاب " اہل سنت کے نزدیک اہل بیت کا مقام ومرتبہ " سعودی عرب کے معروف عالم دین محترم عبد المحسن بن حمد العباد البدر صاحب  کے اس لیکچر پر مشتمل ہے جو انہوں نے چند سال قبل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں دیا تھا۔اس لیکچر کا اردو ترجمہ شیخ الحدیث حافظ محمد امین صاحب نے کیا ہے۔یہ لیکچر دس ضمنی عنوانات پر مشتمل تھا۔اس لیکچر میں مولف موصوف نے اہل سنت کے ہاں اہل بیت کے مقام ومرتبہ کو بیان فرمایا تھا جس کی اہمیت کے پیش نظر اسے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔اہل بیت کون ہیں؟ اہل سنت والجماعت کا اہل بیت کے متعلق کیا عقیدہ ہے؟ قرآن وسنت میں اہل بیت کے بارے میں کیا فضائل وارد ہوئے ہیں؟ صحابہ کے نزدیک آل بیت کا کیا مقام ومرتبہ تھا ؟وغیرہ جیسے موضوعات کے بارے میں تفصیلى معلومات اس کتاب میں جمع کر دی گئی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-isale-sawab-aur-uski-haqiqat-copy
    عادل سہیل ظفر

    مسلمانوں کی بڑی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ ہم دعا کے ذریعے سے اپنی نیکیوں کا اجر اپنے مرحوم اعزہ کو دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اس تصور کے مطابق ایک شخص یا کچھ لوگ کوئی نیک عمل کرتے ہیں۔ پھر یہ دعا کی جاتی ہے کہ اس نیک عمل کا اجر فلاں مرحوم یا فلاں فلاں مرحوم کو عطا کیا جائے۔ ہمارے ہاں، اس کام کے لیے کچھ رسوم بھی رائج ہیں اور ان میں یہ عمل بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ دور اول ہی سے موضوع بحث ہے۔ چنانچہ اس بات پر توسب متفق ہیں کہ میت کواخروی زندگی میں ہمارے دو طرح کے اعمال سے فائدہ پہنچتاہے۔ایک دعاے مغفرت، دوسرے وہ اعمال خیر جو میت کی نیابت میں کیے جائیں۔نیابت سے مراد یہ ہے کہ مرنے والااس عمل میں کسی نہ کسی نسبت سے شریک ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً یہ کہ مرنے والے نے کوئی کام شروع کیا ہوا تھا اور تکمیل نہیں کر سکا، کوئی نذر مانی ہوئی تھی پوری نہیں کر سکا یا کوئی قرض تھا جسے وہ ادا نہیں کر سکا وغیرہ۔البتہ، اس میں اختلاف ہے کہ مرنے والے کی نسبت کے بغیر عمل کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے یا نہیں۔مراد یہ ہے کہ میت کے اعزہ واقارب اپنے طور پر کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اس عمل کا ثواب فلاں کو دے دیا جائے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ دعا کرنا درست ہے اور کیا یہ دعا قبول بھی ہوتی ہے، یعنی میت کو یہ ثواب واقعی دے دیا جاتا ہے۔ایک گروہ کی راے میں ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے۔ دوسرے گروہ کی راے میں ان کا جواب نفی میں ہے۔اور ہمارے ہاں اسی نفی والے قول پر ہی عمل ہے۔زیر تبصرہ کتاب " ایصال ثواب اور اس کی حقیقت"محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے  ایصال ثواب کے مروجہ طریقوں کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا ہےکہ کونسا طریقہ درست ہے اور کونسا طریقہ درست نہیں ہے۔موصوف نے اگرچہ بعض جگہ ایسا موقف بھی اختیار کیا ہے جو اہل حدیث کے معروف موقف کے خلاف ہے لیکن اسلاف سے اس موقف کی کچھ نہ کچھ تائید مل جاتی ہے ،اور چونکہ وہ موقف اجتہادی ہوتا ہے لہذا  اسے سائٹ پر پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • title-pages-isal-e-sawab-jaiz-aur-najaiz-sortain-copy
    حافظ شبیر صدیق

    عصرحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی اور اایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔
    1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔ زیرتبصرہ رسالہ ’’ایصال ثواب کی جائز وناجائز صورتیں ‘‘ ادارہ دار السلام کے ریسرچ فیلو حافظ شبیر صدیق کی کاوش ہے۔یہ رسالہ پہلے ماہنامہ ’’ضیاء حدیث ‘‘ میں شائع ہوا ۔ بعد ازاں اسے افادۂ عام کی غرض سے مسلم پبلی کیشنز، لاہور کےمدیر جناب مولانانعمان فاروقی ﷾ نے اسے کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔فاضل مصنف نےاس میں رسومات غیرشرعیہ کا جائزہ لے کر ان کا بےثبوت ہونا اور غیروں کی نقالی پر مبنی ہونے کا اثبات کیا ہے اور اس کے ساتھ تصویر کا دوسراپہلو یعنی ایصال ثواب کی جائز صورتوں کی تفصیل بھی بیان کردی ہے تاکہ ناجائز صورتوں کو چھوڑ کر ایصال ثواب کی صرف جائز صورتیں ہی اختیار کی جائیں کیونکہ فوت شدگان کوایصال ثواب جائزہ صورتوں ہی کےذریعے سے ممکن ہے ناجائز صورتیں تو صرف زندوں کی لذت اندوزی کا سامان ہے اور بس مردوں کے نفع اور انکی مغفرت کاان میں کوئی پہلو نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو عوا م الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(م ۔ا)

  • title-pages-iman-aur-akhlaq-copy
    عبد الحمید صدیقی

    تاریخ کے نامعلوم دور سے لیکر آج تک یہ سوالات ہر انسان کے سامنے رہے ہیں کہ یہ کائنات کیا ہے اور کس طرح وجود میں آئی ہے۔بلکہ خود انسان کس طرح پیدا ہوا ہے اور اس کا نجام کیا ہونا چاہئے۔کائنات میں موجود اشیاء کا باہمی رشتہ کیا ہے اور ان اشیاء سے انسان کا تعلق کیا ہے۔نیز اس تعلق کے تقاضے کیا ہیں۔ان گتھیوں کو سلجھانے کے لئے ہر دور کا انسان غور وفکر میں مصروف رہا ہے اور ہر دور نے ان سوالات کے جوابات کے لئے ایک مکمل فلسفہ حیات وضع کیا ہے جس کے نتیجے میں مختلف نظام ہائے زندگی ظہور میں آئے ہیں۔ہمارے موجودہ دور میں بھی زندگی کے مختلف فلسفے اور نظام موجود ہیں اور ان میں اعتقاد رکھنے والے اپنے اپنے مخصوص طرز زندگی کو صحیح اور بہتر ثابت کرنے میں کوشاں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" ایمان اور اخلاق"محترم پروفیسر عبد الحمید صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے کائنات کے نظام کے حوالے سے گفتگو کی ہے اور اس میں ڈارون کی خام خیالیاں، وجودخالق کائنات، اسلام میں خدا کا تصور،خدا اور رسولﷺ کی محبت کے تقاضے، انسان کا مقصد حیات، انسان اور رائج الوقت تہذیبیں،مادی ترقی اور انسان،انسان کا متاع دنیا سے تعلق، صبر وتوکل اور عورت کا مقام جیسے ابواب قائم کئے ہیں۔(راسخ)

  • title-pages-iman-aur-zindagi-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    ایمان بعض غیر مرئی اور نامشہود حقائق کا اقرار وتصدیق ۔ایسا اقرار جو انسان کے رگ وپے میں رچ بس جائے کہ اٹھتے بیٹھتے زبان سے اسی کااظہارہو اور ایسی تصدیق کےاس کے متعلق دل میں ریب وتشکک کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے ۔قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمدﷺ پر نازل فرمایا اس کتاب کے بہت سے مقامات پر اللہ نے کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ایمان اورزندگی ‘‘عالمِ اسلام کے نامور مصنف علامہ یوسف قرضاوی کی عربی تصنیف ’’الایمان والحیٰوۃ‘‘کی تلخیص وترجمہ ہے۔یہ کتاب پہلے ماہنامہ ترجمان القرآن ،لاہور میں قسط وار شائع ہوتی رہی۔ بعدازاں اسے افادۂ عام کےلیے کتابی صورت میں شائع کیاگیا۔علامہ موصوف نے اس کتاب میں ایمان اور حیات ِ انسانی کےمابین گہرے ربط کو واضح کرتے ہوئے اس کےانفرادی واجتماعی دوائر پر ایمان کےاثرات بیان کیے ہیں نیز تفصیل سےبتایا ہے کہ دنیا میں حقیقی سعادت سے ہمکنار ہونے کےلیے دولتِ ایمان کا حصول از بس ضروری ہے۔نیز اس کتاب میں زیادہ تر ان اوصاف کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایمان کے زیر اثرِ انسان میں پیدا ہوتے ہیں۔فاضل مصنف کو چونکہ جدید وقدیم علوم پر خاصی دسترس حاصل ہے۔ اس لیے آپ دوسرے افکارونظریات اورادیان ومذاہب کابھی ساتھ ساتھ جائزہ لیتے گئےہیں۔ او رجگہ جگہ عقیدۂ اسلام کی حقانیت وفوقیت کےاثبات کی بھی کامیاب کوشش کی ہے ۔(م۔ا)

  • iman-aur-amle-salih
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    ایمان نام ہے اس چیز کا کہ زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے، دل کے ساتھ اس کی تصدیق کی جائے اور عمل صالح کا اہتمام کیا جائے۔ یعنی اعمال ایمان کا لازمی حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں ایمان کا تذکرہ کیا ہے وہیں عمل صالح کو بھی لازماً ذکر کیا ہے۔ ایمان اور عمل صالح کے تعلق کی نسبت سے محترم ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی نے قرآن اور حدیث کو بنیاد بناتےہوئے اس کتاب میں اپنی نگارشات پیش کی ہیں۔ انھوں نے توحید کی تینوں کی اقسام توحید الوہیت، توحید ربوبیت اور توحید اسماء و صفات پر روشنی ڈالتے ہوئے کتاب کے چودہ ابواب میں ایمان کے کمزور ہونے کے اسباب، ایمان کے ثمرات، اہل ایمان کی صفات اور اس جیسے  متعدد موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ حسب معمول کتاب کی تحقیق وتخریج اوراضافہ جات کا کام حافظ حامد محمود الخضری نے کیا ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-iman-bil-rasool-aur-uske-taqaze-copy
    غلام سرور چٹھ

    دین اسلام کے بنیادی  عقائد تین ہیں۔اللہ پر ایمان، رسول اللہ ﷺ پر ایمان اور آخرت پر ایمان۔اللہ اور آخرت پر ایمان بھی نبی کریم ﷺ کی وساطت سے ہی ممکن ہوا ہے۔اللہ تعالی کی ذات کیسی ہے؟ اس کی صفات کیا کیا ہیں؟ وہ کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور کن سے ناراض؟اس کو خالق ومالک اور حاکم ورازق مان لینے کے تقاضے کیا ہیں؟آخرت کیوں ہو گی؟ کیسے ہو گی؟ جزا وسزا کے پیمانے کیا ہوں گے؟جزا کے حقداروں کو کیا انعام ملیں گے؟ اور سزا کے مستحقین کو کس انجام سے دوچار ہونا پڑے گا؟ان سب سوالوں کے جواب نبی کریمﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کی تعلیمات ہی سے مل سکتا ہے۔ اسلام اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانے کا نام ہے اور اس ایمان کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ انسان کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبت ہو اللہ کی محبت ایسی محبت کہ اس کے ساتھ کوئی بڑ ے سے بڑ ا انسان بھی اس محبت میں شریک نہیں ہو سکتا۔اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" ایمان بالرسول اور اس کے تقاضے "محترم غلام سرور چٹھہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  نبی کریم ﷺ سے محبت کے تقاضے بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف   کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں  آپﷺ سے محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-iman-bil-ghaib-haqeeqat-aur-aqsam
    حافظ ابتسام الہٰی ظہیر

    قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمدﷺ پر نازل فرمایا اس کتاب کے بہت سے مقامات پر اللہ نے کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔زیر نظرکتاب ''ایمان بالغیب حقیقت اور اقسام'' مشہور معروف شخصیت امام العصر علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید﷫ کے صاحبزادہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر﷾(ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث پاکستان) کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے قرآ ن واحادیث کی روشنی میں ایمان کی اقسام ،ارکان ایمان ،جنات او رجادو کی حقیت ،انبیاء کرام کی دعوت اور مقام ،جہنم میں لے جانے والے اعمال وغیرہ جیسے موضوعا ت کو آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ مؤلف ِکتاب کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور تمام مسلمانوں کو ایمان بالغیب کی حقیقت کوسمجھنے کی توفیق دے اور ہمارے دلوں میں ایمان کو راسخ فرمائے (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-iman-billah-ki-haqiqat
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن
    ’لا الہ الا اللہ‘ کے دو جزء ہیں:ایک میں باطل معبودوں کی نفی ہے اور دوسرے میں صرف اللہ کے معبود ہونے کا اقرار ایمان کے لیے ان دونوں کا فہم اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونا ضروری ہے ورنہ ایمان باللہ کی حقیقت تک نہیں پہنچا جا سکتا۔بہت سے لوگ خدائے معبود ہونے کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن غیر اللہ کا انکار نہیں کرتے جس سے وہ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔زیر نظر کتابچہ میں جناب ڈاکٹر شفیق الرحمان نے واضح کیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے اور غیر اللہ کی نفی سے کیامراد ہے؟آخر میں انہوں نے ان امور پر بھی روشنی ڈالی ہے جو صحیح عقیدہ سے انحراف کا سبب بنتے ہیں ۔ہر مسلمان کو اس کتابچہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ صحیح  معنوں میں اللہ پر ایمان کے مفہوم کو سمجھ سکے اور اس کو عملاً اپنا سکے۔(ط۔ا)

  • pages-from-imaan-ki-dolat
    اشتیاق احمد

    ایمان بعض غیر مرئی اور نامشہود حقائق کا اقرار وتصدیق ۔ایسا اقرار جو انسان کے رگ وپے میں رچ بس جائے کہ اٹھتے بیٹھتے زبان سے اسی کااظہارہو اور ایسی تصدیق کےاس کے متعلق دل میں ریب وتشکک کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے ۔قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمدﷺ پر نازل فرمایا اس کتاب کے بہت سے مقامات پر اللہ نے کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔اور آخر ت میں کامیابی بھی ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’ایمان کی دولت‘‘ جناب اشتیاق احمد صاحب کی کاوش ہے اوردار السلام کی بچوں کےلیے سچی کہانیاں سیریز میں ہے۔ اس میں مرتب موصوف نے نبی کریم ﷺ کے سفر غروۂ تبوک میں سیدنا علی بن طالب اور سید نا زبیر بن عوام ﷢ نے ایک بڑھیا عورت کو روک کر آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے اس بڑھیا عورت کے پاس موجو د پانی کے مشکیزے میں سے اپنے صحابہ کرام ﷢ کو پانی لینے کاحکم دیا تو صحابہ کرام نے جی بھر کر پانی پیا اور اپنےتمام برتن بھی بھر لیے اور اپنے جانوروں کوبھی پانی پلایا لیکن ان مشکیزوں سے پانی کم نہ ہوا۔آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اب اس کےلیے کھانے کی چیزیں جمع کرو تمام صحابہ کرام نے ایک چادر میں کھانے کی اشیاء جمع کردی تو آپ ﷺ نے اس بڑھیا عورت سے کہا دیکھ لیں آپ کے مشکیزوں سے پانی بھی کم نہیں ہوا اور یہ چیزیں ہم آپ کو یہاں روکنے کے عوض دے رہے ہیں تو وہ عورت بہت متاثر ہوئی اور اپنی بستی کی طرف روانہ ہوگئی۔ جاکر بستی والوں کو سارا ماجرا سنایا پھر اپنی بستی کے کچھ لوگوں کو ساتھ لےکر مدینہ منورہ آئی اور اپنے ساتھیوں سمعیت مسلمان ہوگئی۔کتابچہ ہذا میں مرتب نے اس سارے واقعہ کو ایک دلچسپ اور خوبصورت کہانی کے انداز میں بچوں کے لیے پیش کیا ہے۔مکتبہ دار السلام نے اسے بڑے عمدہ طریقے سے طبع کیا ہے۔ دار السلام کی بچوں کے لیے یہ منفرد کاوش ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بازاری فضول کہانیاں، اخلاق سے گرے ہوئے ڈائجسٹ او رناولوں کی بجائے ان سچی کہانیوں کو پڑھنے کی ترغیب دیں۔ (م۔ا)

  • title-page-emaan-k-bunyadi-usool-copy
    محمد بن صالح العثیمین
    علم توحید تمام علوم سے افضلیت اور شرف والا علم ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالی کی عظیم صفات اور بندوں پر اللہ کے حقوق کا علم ہوتا ہے-اسی لیے جب ہم انبیائے کرام کی زندگیوں پر نظر دوڑائیں تو ہر نبی کی پہلی دعوت عقیدہ توحید کی درستگی کی ہی  طرف دعوت ہے-یہ کتاب محمد بن صالح العثیمین کی عربی تصنیف تھی جس کو مشتاق احمد کریمی نے اردو قالب میں انتہائی سلیس اور عام فہم انداز میں ڈھالا ہے-مصنف نے اس کتاب میں عقیدے سے متعلقہ بنیادی بحثوں کو بہت ہی اعلی اور شاندار انداز سے بیان فرمایا ہے-جس میں اللہ تعالی پر ایمان،رسل اور ملائکہ پر ایمان ،یوم آخرت اور تقدیر کے خیر وشر پر ایمان کو انتہائی دلنشین انداز سے واضح کیا ہے اس لیے یہ کتاب علماء کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے لیے بھی انتہائی شاندار تحفہ ہے۔

  • title-pages-iman-k-samrat-aur-nafaq-k-nuqsanat-copy
    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    دینِ اسلام عقیدہ،عبادات،معاملات ،سیاسیات وغیرہ کا مجموعہ ہے ، لیکن عقیدہ اور پھر عبادات کامقام ومرتبہ اسلام میں سب سے بلند ہے کیونکہ عقیدہ پورے  دین کی اساس اور جڑ  ہے  ۔اور عبادات کائنات کی تخلیق کا مقصد اصلی ہیں ۔ ایمان کے  بالمقابل کفر ونفاق ہیں  یہ دونوں چیزیں اسلام کے منافی ہیں  ۔لیکن کفر کی بہ نسبت نفاق اسلام اور مسلمانوں کے لیے زیادہ خطر ناک ہے ۔مدینہ میں مسلمانوں کوکافروں سے زیادہ منافقوں سے  نقصان اٹھانا پڑا۔ منافقین مسلمانوں کونقصان پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتےتھے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم  بالخصوص سورۂ توبہ میں ان کی نقاب کشائی کی ہے  اور ا کےگھناؤنے کردار اور برے اوصاف سے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو مطلع فرمایا ہے او رانہیں ان کے دینوی واخروی انجام کار سے بھی آگاہ فرمایا ہے ۔ زیر نظر کتاب’’ایمان کے ثمرات نفاق کے  نقصانات‘‘ مملکت سعودی عرب کے معروف عالم  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی قحطانی﷫ کی عربی کتاب کا ترجمہ ہے ۔جس میں شیخ  نے  کتاب وسنت  کے نصوص اور سلف صالحین کےفرمودات پر مشتمل مستند حوالوں کی روشنی میں ایمان کےمفہوم،اس کے ثمرات وفوائد،اس کی شاخوں،مومنوں کے اوصاف،نیز نفاق کا مفہوم، اس کےانواع واقسام اور منافقین کے اوصاف کی وضاحت فرمائی ہے ۔کتاب کے اردوترجمہ کی سعادت انڈیا کے  ممتاز عالم دین  جناب ابو عبد اللہ  عنایت اللہ  سنابلی﷾ نے حاصل کی  ہے۔موصوف اس کتاب کےعلاوہ بھی کئی کتب کے مترجم  ومصنف  ہیں ۔جن میں  بعض کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پربھی موجود ہیں ۔ اور اس کتاب پر تخریج وتحقیق کا کام  مکتبہ اسلامیہ ،لاہورکےممتاز ریسرچ سکالر محترم  مولانا عبد اللہ  یوسف ذہبی ﷾ نے  سر انجام دیاہے اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم   اورناشرین کتاب   کی مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-iman-k-darjat-aur-shakhain-copy
    عبد اللطیف حلیم

    اس دنیا میں سب سے قیمتی دولت ایمان ہے ۔ اس کی حفاظت کے لیے ہجرت تک کو مشروع قرار دیا گیا ہے ۔ یعنی اگر گھر بار ، جائیداد ، رشتہ داری ، دوست واحباب، کاروبار، بیوی ، بچے سب کچھ چھوڑنا پڑے تو چھوڑدیا جائے مگر ایمان کو نہ چھوڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔اور جس طرح قرآن مجید پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح حدیث رسول ﷺ پر بھی ایمان لانا فرض ہے کیونکہ حدیث رسول ﷺ کے بغیر ہم قرآن کو بھی کما حقہ نہیں سمجھ سکتے۔ اور اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مومن کا ایمان کم اور زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ خود صحابہ کا بیان ہے کہ جب ہم رسول اکرم ﷺ کی مبارک محفل میں ہوتے تو ایمان میں اضافہ ہوتا جبکہ بیوی بچوں کے درمیان وہ کیفیت نہ ہوتی ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ایمان کے درجات او رشاخیں‘‘ نوجوان عالم دین مولانا ابو عکاشہ عبداللطیف حلیم کی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے لفظ ایمان کی تفصیل اور تشریح حدیث رسول ﷺ کی روشنی میں کی ہے اور ایمان کے تمام شعبہ جات کو بڑے اختصار اورانتہائی جامع انداز میں نہایت احسن انداز میں بیان کرتے ہوئے ایک قاری پر رموز اور عقد کو کھول کر سامنے رکھ دیا ہے۔اورایمان پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے بھی بڑے مدلل اور مسکت جوابات دیے ہیں ۔فاضل مؤلف کی یہ کاوش انتہائی قابل تحسین ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-imani-kamzoriyan-aur-unka-ilaj-copy
    ابو سعد احسان الحق شہباز

    اس دنیا میں سب سے قیمتی دولت ایمان ہے ۔ اس کی حفاظت کے لیے ہجرت تک کو مشروع قرار دیا گیا ہے ۔ یعنی اگر گھر بار ، جائیداد ، رشتہ داری ، دوست واحباب، کاروبار، بیوی ، بچے سب کچھ چھوڑنا پڑے تو چھوڑدیا جائے مگر ایمان کو نہ چھوڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مومن کا ایمان کم اور زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ خود صحابہ کا بیان ہے کہ جب ہم رسول اکرم ﷺ کی مبارک محفل میں ہوتے تو ایمان میں اضافہ ہوتا جبکہ بیوی بچوں کے درمیان وہ کیفیت نہ ہوتی ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ایمانی کی کمزوریاں اور ان کاعلاج‘‘ محترم جناب ابوسعد احسان الحق شہباز ﷾ کی کاوش ہے انہوں نے عالم عرب کے ممتاز عالم دین الشیخ محمد صالح المنجد کی کتاب ’’ ظاہرۃ ضعف الایمان وعلاجہ ‘‘ سے استفادہ کر کےاس کتاب کو مرتب کیا ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں ایمانی کمزریوں کے اسباب، وجوہات اور علاج کو کتاب وسنت کی روشنی میں دلائل کےساتھ پیش کیا ہے ۔ہر وہ شخص جواپنی ایمانی کیفیت کا جائزہ لینا چاہے او رکتاب وسنت کے ترازو پر اسے تولنا چاہے تو اسے کتاب میں موجود دلائل کابغور مطالعہ کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوہماری ایمانی کمزوریوں کودور کرنے کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-imaniyaat-e-islam
    عبد المجید عزیز الزندانی

    اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس پر ایک کڑی ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اس کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور اللہ رب العزت کی عبادت کے ساتھ ساتھ اُس پر ایک فرض اور عائد ہوتا ہے کہ وہ ایسا علم بھی حاصل کرے جس سے وہ اپنے خالق حقیقی کے بارے میں معرفت حاصل کرے اور ایسا علم حاصل کرے جس سے اس کے دل میں یقین اور اللہ اور اس کے رسول کی پہچان اور نبیﷺ کی رسالت کی حقانیت کے بارے میں معرفت حاصل ہو۔ اور جس مقصد کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے اس کا علم اور ان احکامات کی پیروی بھی وہ اسی صورت کر سکے گا جب اسے ان کا علم ہوگا۔ جب یہ بات طے ہے کہ علم کی عظمت اس متعلقہ چیز سے منسلک ہے جس کا علم حاصل کیا جا رہا ہے تو واضح رہے کہ علم ایمان کا تعلق اللہ تعالیٰ کی معرفت سے ہے‘ اس کی رسول کی معرفت اور دین الٰہی کی معرفت سے ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی ایمانیات اسلام پر مبنی ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ اپنایا گیا ہے ۔ اس کتاب میں حقیقت ایمان اور اللہ پر‘ اس کی صفات پر ایمان کے دلائل ‘ نبیﷺ پر ایمان اور قیامت کی نشانیاں بھی بیان کی گئی ہیں‘عبادات کی اقسام اور متعلقہ تفصیل بھی مذکور ہے‘ رسولوں‘ فرشتوں ‘تقدیر پر ایمان اور ایمان کے تقاضے کیا ہیں؟اور کن کاموں کی وجہ سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے کا بیان ہے‘ اور آخر میں شرک کی قسمیں بھی بیان کی گئی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب مولانا ابو عبد الرحمان شبیر بن نور نے مولانا عبد المجید الزندانی کی عربی کتاب کا ترجمہ کیا ہے جو کہ نہایت عمدہ اور سلیس ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • tiltle-pages-imaniyat-1
    حبیب الرحمن
    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم اور مسلم مستشرقین کے ذہن جن بنیادی مسائل کے حل میں مصروف رہے ان میں حدیث کی تاریخی اور تشریعی حیثیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مستشرقین کی جانب سے غلط فہمیوں اور بعض اوقات شعوری طور پر گمراہ کرنے کی کوششوں سے یہ نتیجہ نکالنا مقصود تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دیں کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اسی گمراہ کن طرز عمل کے نتیجہ میں بعض حضرات اپنے آپ کو اہل قرآن کہنے لگے۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے جن سے حدیث کے ضمن میں پائے جانے شکوک و شبہات رفع کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔ مطالعہ حدیث کورس کا یہ دوسرا یونٹ دین اسلام کے دو بنیادی عقائد ’توحید  و رسالت‘ کے بیا ن پر مشتمل ہے۔ توحید اور رسالت دین اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔ کلمہ دین اسلام کی بنیاد ہے۔ اس کلمہ میں دین اسلام کے دونوں بنیادی عقائد (توحید و رسالت) کا ذکر ہے یہی کلمہ ایک مسلم کو کافر، مشرک اور دہریے سے الگ کرتا ہے۔ اس یونٹ کے دو حصے ہیں پیش نظر حصہ پہلا ہے جس میں توحید و شرک کی حقیقت، توحید  کے عملی زندگی پر اثرت، شرک کی اقسام اور اس کی قباحتوں  اور اس کی مختلف صورتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اختتام پر ایک خلاصہ ہے جس میں توحید اور شرک کے بارے میں ضروری اور اہم مباحث کو مختصراً بیان کیا گیا ہے۔(ع۔م)

  • title-pages-imaniyat-2
    حبیب الرحمن
    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم اور مسلم مستشرقین کے ذہن جن بنیادی مسائل کے حل میں مصروف رہے ان میں حدیث کی تاریخی اور تشریعی حیثیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مستشرقین کی جانب سے غلط فہمیوں اور بعض اوقات شعوری طور پر گمراہ کرنے کی کوششوں سے یہ نتیجہ نکالنا مقصود تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دیں کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اسی گمراہ کن طرز عمل کے نتیجہ میں بعض حضرات اپنے آپ کو اہل قرآن کہنے لگے۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے جن سے حدیث کے ضمن میں پائے جانے شکوک و شبہات رفع کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔ مطالعہ حدیث کورس کا یہ دوسرا یونٹ دین اسلام کے دو بنیادی عقائد ’توحید  و رسالت‘ کے بیا ن پر مشتمل ہے۔ توحید اور رسالت دین اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔ کلمہ دین اسلام کی بنیاد ہے۔ اس کلمہ میں دین اسلام کے دونوں بنیادی عقائد (توحید و رسالت) کا ذکر ہے یہی کلمہ ایک مسلم کو کافر، مشرک اور دہریے سے الگ کرتا ہے۔ اس یونٹ کے دو حصے ہیں پیش نظر حصہ دوسرا ہے جس میں رسالت کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور حضرت محمدﷺ کی رسالت و نبوت پر ایمان کے تقاضوں کا ذکر کیا گیا ہے۔(ع۔م)

  • title-pages-kitabosunnatcom-end-of-time-qayamat-ki-nashanian-aur-zahore-imam-mahdi-copy
    ہارون یحییٰ

    وقوع  قیامت کا  عقیدہ اسلام کےبنیادی  عقائد میں سےہے اور ایک    مسلمان کے  ایمان کا   حصہ ہے ۔  قیامت آثار  قیامت کو  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث میں  وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے  جیساکہ احادیث میں  میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم ﷤نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی ﷤کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے  سے   ائمہ محدثین نے  کتب احادیث میں     ابواب بندی بھی کی  ہے اور  بعض  اہل علم نے    اس موضوع پر  کتب  لکھی ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’اینڈ آف ٹائم‘‘ بھی اس موضوع پر جدید اور سائنسی علوم کےماہر  ترکی کے  معروف   قلمکار   محترم   ہارون یحییٰ  کی  منفرد  کتاب ہے ۔  اینڈ آف ٹائم  سےمراد  آخری دور ہے اور اسلامی نقطۂ نظر  سے  یہ قرب  قیامت کا دور ہے ۔قرآن  وحدیث کی رو سےآخری زمانہ دو ادوار  پر مشتمل ہے ۔پہلے دور میں  لوگ مادی وروحانی  مشکلات میں مبتلا ہوجائیں گے  جبکہ دوسرا دور سنہری دور  ہوگا اس میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کی  فروانی  ہوگی ۔ اس دور میں  دین  حق  کی ترویج اور اشاعت  ہوگی ۔اسی دور کے اختتام  پر معاشرہ  تباہی  کے  دہانے پر پہنچ جائے گا اور لوگ  قیامت کی گھڑیاں گننا شروع کردیں گے ۔اس کتا ب میں  اسی وقت ِ آخر کاجائزہ قرآن وحدیث کی روشنی میں  پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس  کتاب عوام الناس کے لیے  فائدہ مند بنائے   اور لوگوں کےعقیدۂ  آخرت کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

  • pages-from-aey-iman-walo
    پروفیسر محمد رفیق چودھری

    اللہ تعالیٰ نے انبیاء﷩ کودنیابھر کے انسانوں کی رشد و ہدایت اور فلاح و نجات کے لیے مبعوث فرمایا اوران کے ذریعے دنیا میں علم وعمل اور جدو جہد کا ایک ایسا سلسلہ شروع فرمایا جو تا قیامت اسی طرح جاری وساری رہے گا۔ سب سے آخری نبی حضرت محمدﷺ کو اللہ تعالیٰ کاجو ازلی اور ابدی کلام عطاہوا۔ یہ کلام لائق اور قابل اتباع ہے اور اس میں جن باتوں کاحکم دیاگیا ہے ان تمام باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے تاہم اس کی وہ آیات خصوصاً قابل توجہ ہیں جن میں اہل ایمان کوخصوصی طور پر مخاطب کیا گیا ہے۔ یہ آیات اپنے اندر بڑی گہرائی اور بصیرت رکھتی ہیں۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كے خطاب سے شروع ہونے والی آیات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی تعلیم دی ہےجو ان کے لیے دنیا اورآخرت میں فلاح وکامرانی کی ضامن اور ان کو ہر قسم کے نقصان وخسران سے بچانے والی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’اے ایمان والو‘‘ ماہنامہ محدث کے معروف مضمون نگار اور کئی کتب کے مصنف ومترجم محترم مولانا محمد رفیق چودھری﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ان تمام آیات کو جو ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا‘‘کے خطاب سے شروع ہوتی ہیں جمع کر کے ان کا آسان اردو ترجمہ اور ساتھ ہی ان کی مختصر تشریح وتفسیر کردی ہے جس کی وجہ سے یہ ایک درس قرآن کی کتاب بن گئی ہے۔ قرآن مجید میں ’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا‘‘ کے خطاب سے شروع ہونے والی آیات کی تعداد 89 ہے۔ فاضل مصنف کی زندگی کا طویل حصہ قرآن مجید سمجھنے سمجھانے اور اس کی نحوی وتفسیری مشکلات حل کرنے میں گزرا ہے۔کتاب ہذا کے علاوہ آپ کئی دینی کتب کے مصنف ومترجم ہیں جن میں قرآن کریم کا اردو وانگلش ترجمہ اور تفسیر البلاغ بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر مائے۔ آمین (م۔ ا)

  • pages-from-baraan-e-toheed
    امیر حمزہ

    تمام انبیاء کرام ؑ ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح ؑ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ؓ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ باران توحید‘‘ جماعۃ الدعوۃ باکستان کے مرکزی راہنما مولانا امیر حمزہؒ کی مایۂ ناز کتاب ہےجس میں توحید کے متعلق اکثر موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مولانا امیر حمزہ ؒ نے معاشرے میں موجود شرک کی مختلف شکلوں کو بنیاد کر توحید کی وضاحت اس انداز میں کی ہے کہ ایک عام قاری بھر پور استفادہ کرسکتاہے ۔ جو شخص دعوت توحید کا پیغمبرانہ کام کرنا چاہتا ہے اوریہ دعوت دینا چاہتا ہے تووہ ’’بارانِ توحید ‘‘ جیسی غیر فرقہ وارانہ کتاب کےمضامین سامنے رکھے ۔ اس کتاب کےہر عنوان میں قرآنی آیات ہیں اور صاحبِ قرآن محمد رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہیں ۔ الغرض یہ کتاب علماء ،طلباء ،خطباء کےلیے ایک خزینہ ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے ۔آمین) م۔ا)

  • title-pages-bidaat-aur-un-ka-sharee-postmartam
    احمد بن حجر قاضی دوحہ قطر
    بعض غفلت شعار لوگوں کی نیک نیتی کی بناء پر یا اپنے تئیں دین میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے بعض مفسدہ پرداز لوگوں کے سبب ایام قدیم سےمسلمانوں میں بدعات کی ایجاد اور ان پر عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا میں ایسے علماء سوء کی کمی نہیں ہے جو ان بدعات کی نشر و اشاعت کے ذریعےدادِ عیش حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب بدعات کے موضوع پر شیخ احمد بن حجر کی ایک شاندار تصنیف ہے جس میں حقیقی طور پر موضوع سے متعلقہ تمام مواد کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں عقائد و عبادات سے متعلق بہت سی بدعات کو جمع کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے قواعد کا تذکرہ موجود ہے جو اس موضوع پر بنیادی اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔جہاں اہل بدعات کے شبہات کا ذکر اوران کا مدلل رد موجود ہے وہیں بدعت کی تمام اقسام کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی تشریعی حیثیت کو بھی کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ کتاب کا خاتمہ مختلف ابواب میں وارد شدہ موضوع احادیث کے مجموعہ پر کیا گیا ہے جس نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگر اس کتاب کو بدعات کا قلع قمع کرنے والی تلوار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

  • pages-from-bidaat-se-garaiz-keejiye-tarjama-al-tahzeer-minal-bada
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ او ر عبادت کے لیے اللہ تعالیٰ نے زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی خاص دن یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی تخلیق  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔ سنِ بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے۔ لیکن اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے سال  کے مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو ہی عبادت کے لیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی عبادات کو دین میں شامل کر رکھا ہے جن کا کتاب وسنت سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اور جس کا ثبوت کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ سے نہ ملتا ہو وہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے بدعت اور شرک ایسے جرم ہیں جو توبہ کے  بغیر معاف نہیں ہوتے۔ شرک تواس لیے کہ مشرک اللہ کے علاوہ کسی اور کو مالک الملک کی وحدانیت کے برابر لانے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور بدعت اس لیے کہ بدعتی اپنے عمل سے یہ تاثر دیتا ہے کہ دین نامکمل تھا اور اس نے دین میں یہ اضافہ کر کے اسے مکمل کیا ہے۔ یعنی شریعت سازی کی مساعی ناتمام کادوسرا نام بدعت ہے۔ اس  وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ وقت کے راہبوں ،صوفیوں، نفس پرستوں اور نام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے قال اللہ و قال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار و خیالات اور طرح طرح کی بدعات وخرافات نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے اسلام کی اصل  شکل گم ہوتی جارہی ہے۔ اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی ہے۔ دن کی بدعات الگ ہیں، ہفتے کی بدعات الگ، مہینے کی بدعات الگ، عبادات کی بدعات الگ، ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔ انہی بدعات میں سے معراج  کی رات کی بدعات، ربیع الاول میں ودلات رسولﷺ کے سلسلے میں کی جانے بدعات اور ماہ شعبان میں شب برات کے سلسلے میں من گھڑت موضوع احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے کی  جانے والی بدعات ہیں۔ بدعات وخرافات کی تردید اور اتباع سنت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر دور میں اہل علم نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’بدعات سے گریز کیجئے‘‘  مفتی دیارسعودی عرب ورئیس ادارہ بحوث علمیہ شیخ ابن باز﷫ کےرد بدعات کے موضوع پر ایک عربی رسالے التحذیر من البدع کا اردو ترجمہ ہے شیخ﷫ نے اس کتابچہ میں جشن عید میلاد النبی، جشن شب معراج، جشن شب برات(ماہ شعبان کی پندرہویں رات، خادم مسجدنبوی شیخ احمد کےخواب کی حقیقت کا آیات قرآنی اوراحادیث نبویہ کی روشنی میں  جائزہ  لیا ہے اور ثابت کیا کہ ان کا  قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں  یہ ساری بدعات ہیں جو گمراہی و ضلالت پر مبنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ شیخ مرحوم  اور مترجم کی کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح  کا ذریعہ بنائے۔ آمین( م۔ا)  

  • pages-from-bidaat-e-murawwajah
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا و آخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں کتاب و سنت کی ہی پابندی ضروری ہے۔ صحابہ کرام﷢ نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا۔ ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے اور اس وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جید اہل علم نے بدعات اور اس کے نقصانات سے روشناس کروانے کے لیے   اردو وعربی زبان میں متعدد چھوٹی بڑی کتب   لکھیں ہیں جن کے مطالعہ سے اہل اسلام اپنے دامن کو بدعات سے خرافات سے بچا سکتے ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’مروجہ بدعات‘‘ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ ابن باز﷫ کےرد بدعات کے موضوع پر ایک عربی کتابچہ التحذیر من البدع کا اردو ترجمہ ہے۔ شیخ﷫ نے اس کتابچہ میں نبی کریمﷺ کی ولادت کے سلسلے میں کی جانے بدعات، معراج کی رات خاص اہتمام کا حکم، شعبان کی پندرھویں رات کو لوگوں کا عبادت کے لیے اکٹھا ہونا، ایک جھوٹے وصیت نامے کی حقیقت جیسے موضوعات کا آیات قرآنی اوراحادیث نبویہ کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ثابت کیا کہ ان کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں یہ ساری بدعات ہیں جو گمراہی وضلالت پر مبنی ہیں۔شیخ ابن باز﷫ کے اس رسالے کا مختلف اہل علم نے ترجمہ کیا ہے۔ زیر تبصرہ ترجمہ شیخ الحدیث کرم الدین سلفی ﷫ کا ہے اللہ   تعالیٰ شیخ مرحوم اورمترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-bidat-w-rasoom-ki-tabah-kariyan-copy
    عبد السلام رحمانی

    دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں ۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں کتاب وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا ۔ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے ۔ اور اس وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے راہبوں ،صوفیوں، نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور طرح طرح کی بدعات وخرافات نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے اسلام کی اصل شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی ہے۔دن کی بدعات الگ ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔ الغرض ہمارے معاشرے میں فی الوقت جو مروج ہے وہ اسلام نہیں کچھ اور ہی چیز ہے ۔ اسلام کو اصل روپ میں دیکھنا ہو تو اس کو رسوم وبدعات سے پاک کرنا ہوگا ہے ۔ تب ہی وہ دین حاصل ہوگا جو عند اللہ مقبول ہے ۔ وہ اعمال سرزد ہوں گے ۔ جو میزان کو بھاری کردیں ان نیکیوں کا ارتکاب ہوگا جورائیگاں نہیں جائیں گی۔ رسوم وبدعات سے اجتناب کے لیے ان سے واقفیت بھی از حد ضروری ہے ۔جید اہل علم نے بدعات اور اس کے نقصانات سے روشناس کروانے کے لیے اردو وعربی زبان میں متعدد چھوٹی بڑی کتب لکھیں ہیں جن کے مطالعہ سے اہل اسلام اپنے دامن کو بدعات سے خرافات سے بچا سکتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ بدعات ورسوم کی تباہ کاریاں ‘‘ مولانا عبد السلام رحمانی کی کاوش ہے ۔ جس انہوں نے مصر کےمعروف شیخ علی محفوظ طنطاوی کی کتاب ’’ الابداع فی مضار الابتداع‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا ہے ۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے عقائد وعبادات ومعاملات کے اعتبار سےبدعی امور اور روسوم معاشرہ ومنکرات کا قرآن وحدیث کےدلائل کی روشنی میں جائزہ لیا ہے ۔ (م۔ا)

  • pages-from-bidaat-ka-incyclopedia
    ناصر الدین البانی

    دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں ۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں کتاب   وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام ﷢ نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا ۔ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے ۔ اور اس وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے راہبوں ،صوفیوں، نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے اسلام کی اصل شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی ہے۔دن کی بدعات الگ ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔جید اہل علم نے   بدعات اور اس کے نقصانات سے روشناس کروانے کے لیے   اردو وعربی زبان میں متعدد چھوٹی بڑی کتب   لکھیں ہیں جن کے مطالعہ سے اہل اسلام اپنے دامن کو   بدعات سے خرافات سے بچا سکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’بدعات کا انسکائیکلوپیڈیا‘‘ ابو عبیدہ مشہور بن حسن آل سلمان اور ابو عبداللہ احمد بن اسماعیل شکوکانی کی مرتب شدہ عربی کتاب ’’قاموس البدع‘‘ کا ترجمہ ہے ۔یہ کتاب محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی﷫ کی تصنیفات سے ماخوذ شدہ ہے۔ کتا ب کے ترجمہ اور اس پر استدراکات کا فریضہ جناب ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن﷾ نے بڑی محنت ولگن سے انجام دیاہے۔ مرتبین نےاس کتاب میں ان تمام بدعات کو یکجا کر دیا ہے جنہیں علمائے سوء بڑی کوشش سے روز بروز، ہفتہ بہ ہفتہ وار سبق کی طرح سکھاتے اور رٹاتے ہیں، مسلمانوں کی اکثریت اسے اسلام سمجھ کر بڑے انہماک سےیاد کرتی اور خوبصورتی کے ساتھ ادا کرتی ہے اور ان بدعات کی ادائیگی پر بے شمار دولت بھی خرچ کرتی ہے ۔مؤلفین نے بہت سےمقامات پر علامہ البانی﷫ کا موقف حاشیے میں انہی کے الفاظ سے پیش کیا ہے ۔ ایسے مقامات پر انہوں نے (منہ) کی رمز استعمال کی ہے ۔ دیگر حواشی مؤلفین کی طرف سے ہیں ۔ان دیگر حواشی میں بھی علامہ البانی کے موقف کی وضاحت کی گئی ہے ۔ یا انہی کے موقف کو اپنے الفاظ میں پیش کردیا گیا ہے ۔کتاب چونکہ علمی نوعیت کی ہے ۔اس لیے بعض دقیق علمی مسائل میں اختلاف رائے کابھی امکان ہوتا ہے اور انسانی کوشش میں غلطی کے احتمال کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔لہذا مترجم کتاب ڈاکٹر حافظ شہباز حسن صاحب نے بعض مواقع پر علامہ البانی ﷫ کے نکتہ نظر کے برعکس دوسرے علماء کا موقف حاشیہ میں پیش کردیا ہے تاکہ قارئین میں کسی قسم کی غلط فہمی یا بے چینی پیدا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ مرتبین، مترجم وناشرین کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مسلمانوں کو بدعات وخرافات سے محفوظ فرمائے۔آمین( م۔ا)

  • -copy
    علی بن محمد ناصر الفقہی
    اس وقت مسلم معاشرہ شرک و بدعات اور اوہام و خرافات کے دلدل میں جس بری طرح پھنسا ہوا ہےوہ کسی صاحب بصیرت سے مخفی نہیں ہے۔ جب سے پوری دنیا نے ایک گاؤں کی شکل اختیار کی ہے ان بدعات کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسے میں اس امر کی ضرورت تھی کہ امت مسلمہ اور نوجوان طبقہ کو صحیح اسلامی عقیدہ اور دین کے اصل مرجع کتاب و سنت سے متعارف کرایا جائے اور بدعات و خرافات کی خطرناکی سے آگاہ کیا جائے اور باطل عقائد اور منحرف خیالات کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی جائے۔ زیر نظر رسالہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جسے مدینہ یونیورسٹی کے ایک سابق استاذ علی بن ناصر الفقیہی نے ترتیب دیا ہے۔ محمد ابوالکلام بن شمس الدین المدنی نے اس کا سلیس اردو ترجمہ کیا ہے۔ 79 صفحات پر مشتمل اس رسالے میں مؤلف نے بدعت اور امت پر اس کے اثرات کو بڑے مدلل طریقے سے بیان کیا ہے۔ بدعت کو مختلف اقسام میں تقسیم کرنے کے بعد مؤلف نے چند بدعتی فرقوں کا تعارف اور ان کے اصولوں پر روشنی ڈالی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • Title Page---Bida'at say Daman Bachain-2
    شاہ اسماعیل شہید
    امت مسلمہ کے ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ بغیر کسی مسلکی تفریق کے اپنے دامن کو بدعتی خرافات سے پاک رکھے- لیکن بدقسمتی سے مسلکی جکڑبندیوں کی وجہ سے بہت سے مسلمان بدعات کو سنت کا نام دے کر ان پر عمل پیرا ہیں-زیر نظر کتاب میں  بدعت کیاہے ؟  اور یہ سنت سے کس طرح مختلف ہے؟ جیسے سوالات کا تفصیلی جواب دیا گیاہے- مصنف نے ہمارے ہاں  پائی جانے والی معاشرتی بدعات کا تفصیلی تذکرہ کرتے  ہوئے بدعات سے دامن بچا کر سنت کو اختیار کرنے کی انتہائی آسان راہ دکھائی ہے-کتاب کے آخر میں صوفیاء کی نظر میں بدعات کیا مقام رکھتی ہیں کا حقائق کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے-

  • title-pages-bidat-e-meelaad-copy
    ابو الحسن مبشر احمد ربانی
    نبی کریمﷺ نے ہر بدعت کو گمراہی قرار دیا ہے۔ لیکن کیا کیجئے انسانی فکر و شعور کا کہ یا تو نیکی کرنی ہی نہیں اور اگر کرنی ہے تو مبالغہ آرائی سے خالی نہیں کرنی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف بدعات و خرافات کا نہ ختم ہونے والا سیلاب ہے۔ اوپر سے ہمارے ’شیخ الاسلام‘ کے بدعت کو حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کر کے ڈھیروں جاں فزا فتوے ہیں۔ عیدمیلاد النبی بھی انھی بدعات کا جزو لاینفک ہے۔ جس کی رنگ آمیزی میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہو تا چلا جا رہا ہے۔ مولانا مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ نے اس پر ایک تحقیقی مضمون تیار کیا ہے جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ جس سے میلاد کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-biddat-ki-haqeeqat-copy
    شمیم احمد خلیل سلفی

    دینِ اسلام  ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں  دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں  ۔ یہ ایک  ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق  نہیں  اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ  تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی  ہی میں  اس کی  تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی  دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں  کتاب  وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام ﷢  نے کتاب وسنت کو جان سے  لگائے رکھا ۔ا  ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی  اور وہ  اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ لیکن جو  ں جوں زمانہ گزرتا  گیا لوگ  کتاب وسنت  سے دور ہوتے گئے  اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے  پیر جمانے شروع کردیئے اور  اس  وقت بدعات وخرافات  اور علماء سوء نے پورے  دین کو  اپنی  لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔جید اہل  علم نے  بدعات  اور اس  کے  نقصانات  سے  روشناس کروانے کے لیے  اردو  وعربی زبان میں متعدد چھوٹی  بڑی کتب  لکھیں  ہیں جن کے  مطالعہ سے اہل اسلام  اپنے  دامن کو  بدعات سے  خرافات سے بچا سکتے ہیں ۔زیر  نظر کتاب ’’ بدعت کی حقیقت‘‘مولانا شمیم احمد خلیل السلفی﷾ کی  کاوش  ہے  جس میں  انہوں نے  بدعت کے بھیانک نتائج کو پیش کرتے  ہوئے اس سلسلہ میں پیش کئے جانے والے شبہات  کاپردہ چاک کر کے  اہل بدعت کو بے  نقاب کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان  کی اس کاوش کو  شرف قبولیت سے نواز ے ۔اور اسے عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

     

  • title-page-bitat-ki-pehchan-aur-us-ki-tabah-kariyaan
    عبد الہادی عبد الخالق مدنی
    اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں یہ اعلان فرمایا ہے کہ میں نےتمہارا دین (اسلام)مکمل کردیا ہے اسے یہ لازمی نتیجہ نکلتاہے کہ اب اس میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوسکتی ہے او رنہ ہی اضافہ ورنہ تکمیل دۤین کے کوئی معنی نہیں رہتے لکن شیطان انسلان کو گمراہ کرنے کےلیے مختلف حربے استعمال کرتا رہتا ہے انہی میں سے ایک حربہ ’’بدعت‘‘ کا ہے کہ کسی کام کے بارے میں یہ سمجھ لینا کہ یہ تو بڑا اچھا کام ہے جبکہ قرآن وسنت سے اس کا ثبوت نہ ملتا ہو،اسی کو بدعت کہا جاتا ہے یعنی اسے دین کا کام قرار دے دیا جائے علمائ نے بدعت کو عام گناہوں سے زیادہ خطرناک قرار دیا ہے کہ گناہ سے توبہ کی امید ہوتی ہے لیکن تدعتی تو بدعت کو اچھا اور نیک عمل سمجھ کر سرانجام دیتا ہے وہ اس سے توبہ کیسے کرسکتاہے لہذا ضروری ہے کہ اپنے اعمال کا جائزہ لے کر بدعت سے بچاجائے اس سلسلہ میں جناب عبدالہادی عبدالخالق مدنی کی کتاب انتہائی مفید ہے جس کے مطالعہ سے بدعت کی پہچان اور اس کی تباہ کاریوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے


ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 284 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :