• title-pages-akhrit-ki-kitab-copy
    حافظ عمران ایوب لاہوری

    اُخروی زندگی ہی ابدی زندگی ہے جو وہاں کامیاب ہوگیا وہ ہمیشہ جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا رہےگا او ر جو وہاں ناکام ہوا  وہ دوخ میں جلےگا۔ اگرچہ دنیا میں اللہ کاقانون مختلف ہے اور وہ کافرومومن سب کو زندگی کے آخری لمحہ  تک روزی پہنچاتا ہے  لیکن موت کے بعد  دونوں کے  احوال مختلف ہوجائیں گے  جس کا مقصدِ حیات صرف دنیا طلبی ہوگا اسے جہنم کا ایندھن بنادیا   جائے گا اورجو  آخرت کا طلب گار ہوگا اسے جنت کا وارث بنادیا جائے گا۔ اس لیے دنیا میں رہتے ہوئے ہمیشہ اپنی  آخرت ،موت اور حساب کتاب کویادرکھنا چاہیے  اور اسی فکر میں رہنا چاہیے کہ میں نے جہنم  سے بچاؤ اور جنت میں داخلے کے لیے  کیا عمل کیے  ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’آخرت کی کتاب‘‘ فاضل نوجوان ڈاکٹر حافظ  عمران ایوب لاہوری  ﷾کی تصنیف ہے۔موصوف اسکے علاوہ  بھی کئی کتب  کےمصنف ہے ہیں ۔ اس کتاب میں  موصوف نے نفخِ صور ، روز جزا حساب کتاب، قصاصِ مظالم ،نامہ اعمال ،میزان،شفاعت، حوضِ کوثر،پل صراط جنت کی صفات ، جنت کی نعمتیں،جنت میں لے جانےوالے اعمال، عذابِ جہنم ،جہنم کے اوصاف اور آتشِ جہنم سےبچانے والے اعمال جیسے مضامین کو موضوع بحث بنایا ہے۔ اس کتاب کی ایک  اہم  خوبی یہ ہے کہ  اس میں تخریج وتحقیق کا  خصوصی اہتمام کیا گیا ہے اور تمام دلائل کو حوالہ جات کےساتھ مزین کیاگیا ہے اور شیخ البانی کی تحقیق سے بھی خوب استفادہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش  کو  قبول فرمائے اور یہ کتاب  امت مسلمہ کےلیےاپنی آخرت کو بہتر بنانےکا مفید ذریعہ ثابت ہو۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-akhirat
    حبیب الرحمن
    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا چوتھا یونٹ ہے جس میں عقیدہ آخرت پر ایمان، عقیدہ آخرت کی اہمیت، ضرورت اور عملی زندگی پر اس کے اثرات سے متعلق احادیث نبوی اور ان کا ترجمہ اور مفہوم پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مطالعہ کے بعد قارئین پر یہ بات واضح ہوگی کہ عقیدہ آخرت کا مطلب و مفہوم کیا ہے اور عملی زندگی پر اس عقیدہ کے کیا اثرات پڑتے ہیں۔(ع۔م)

  • title-pages-islam-me-imam-mahdi-ka-tasawar-copy
    حافظ محمد ظفر اقبال

    امام مہدی کا تصور اسلام میں احادیث کی بنیادوں پر امت مسلمہ اور تمام دنیا کے نجات دہندہ کی حیثیت سے پایا جاتا ہے؛ اور سنیوں میں ان کے آخرت یا قرب قیامت کے نزدیک نازل ہونے کے بارے میں ایک سے زیادہ روایات پائی جاتی ہیں جبکہ شعیوں کے نزدیک حضرت امام مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری کے فرزند اور اہلِ تشیع کے آخری امام ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشادات تمام مستند کتب مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ میں ملتے ہیں۔ حدیث کے مطابق ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کے وجود کے بارے میں مسلمان متفق ہیں اگرچہ اس بات میں اختلاف ہےکہ وہ پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک اسلامی حکومت قائم کر کے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں عقائد تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں ملتے ہیں جو آخرِ دنیا میں خدا کی سچی حکومت قائم کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشین گوئیاں ملتی ہیں اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مہدی علیہ السلام ہوں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا اور یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان کی آمد اور ان کی نشانیوں کی حدیث میں تفصیل موجود ہے پھر بھی اب تک مہدویت کے کئی جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے اور فنا ہو گئے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام میں امام مہدی  کاتصور"مولانا حافظ محمد ظفر اقبال  فاضل جامعہ اشرفیہ کی مرتب کردہ ہے جو انہوں نے اپنے استاد محترم مولانا محمد یوسف خان صاحب استاد الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور  کے دروس سے حاصل کئے۔اس کتاب میں انہوں نے امام مہدی کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ، نام ونسب، سیرت وحلیہ،علامات ظہور مہدی،صحیحین میں ظہور مہدی سے متعلق احادیث  بیان کی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ و ہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ummat-e-muslima-ki-umar-copy
    امین محمد جمال الدین

    کتاب وسنت میں یہ امر پوری  طرح واضح کر دیاگیا ہے کہ دنیا کی یہ موجودہ زندگی عارضی اور فانی ہے۔ اصل اور حقیقی زندگی آخرت کی ہے،لہذا ہمیں  اس کی فکر کرنی چاہیے۔نبی کریم ﷺ نے  اس دنیا کے خاتمے یعنی قیامت برپا ہونے  کی متعدد چھوٹی اور بڑی نشانیاں  اور علامات بتلائی ہیں۔ علامات قیامت سے مراد قیامت کی  وہ نشانیاں ہیں جن کا ظہور قیامت سے قبل ہوگا، مثلاً امام مہدی کاظہور، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا اور اﷲ کے غضب سے ہلاک ہو جانا، سورج کا مغرب سے نکلنا، آگ کا ظاہر ہونا وغیرہ یہ سب علامات قیامت ہیں۔ اس طرح جب قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہوں گی پھر حکم الٰہی سے سیدنا اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے جس سے سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ پھر جب اﷲ تعالیٰ کو منظور ہوگا دوبارہ صور پھونکا جائے گا، جس سے تمام مردے زندہ ہو جائیں گے۔قیامت کی ان نشانیوں  میں سے ایک بڑی نشانی امام مہدی کا ظہور بھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " امت مسلمہ کی عمر اور مستقبل قریب میں مہدی کے ظہور کا امکان " جامعہ ازہر مصر کے پروفیسر امین محمد جمال الدین کی عربی تصنیف"عمر امۃ الاسلام وقرب ظھور المھدی" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم پروفیسر خورشید عالم صاحب نے کیا ہے۔مولف کے خیال میں  عصر حاضر میں قیامت کی متعدد چھوٹی نشانیاں پوری ہو چکی ہیں اور اب قیامت بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگا میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-insan-aur-akhrat
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    اس بات سےآج تک کوئی انکار نہیں کرسکا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے زندگی ملی اسے موت بھی دوچار ہوناپڑا، جو آج زندہ ہےکل کو اسے مرنا ہے،موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔ہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر کو موت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچ سکتے ہیں اور موت کےبعد پیش آنے والے مراحل میں کامیاب ہوسکتے ہیں جنہوں نےاپنی آخرت کی بہتری کےلیےدینوی زندگی میں مناسب تیاری کی ہو۔ زیر تبصرہ کتا ب’’انسان اور آخرت‘‘ڈاکٹر حافظ مبشر حسین ﷾ریسر سکالر ادارہ تحقیقات اسلامی ولیکچرراسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے کتاب سلسلہ’’ اصلاح عقائد کا آٹھواں حصہ ہے۔انہوں نےاس کتاب میں موت او رموت کے ساتھ شروع ہوجانے والے جملہ اُخروی مراحل کو قرآن وسنت کی روشنی میں نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں اختصار اور جامعیت کےساتھ پیش کیا ہے۔ تاکہ اردو زبان پڑھنے اور سمجھنے والے ایک عام آدمی کوبھی ایمانیات کےاس رکن عظیم سے ممکنہ حد تک واقفیت ہوسکے اور اس کی روشنی میں وہ اپنی آخرت کی بہتری کےلیے دنیوی زندگی میں مناسب تیاری کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام تحریری وتقریری کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کولوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-kitabosunnatcom-end-of-time-qayamat-ki-nashanian-aur-zahore-imam-mahdi-copy
    ہارون یحییٰ

    وقوع  قیامت کا  عقیدہ اسلام کےبنیادی  عقائد میں سےہے اور ایک    مسلمان کے  ایمان کا   حصہ ہے ۔  قیامت آثار  قیامت کو  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث میں  وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے  جیساکہ احادیث میں  میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم ﷤نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی ﷤کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے  سے   ائمہ محدثین نے  کتب احادیث میں     ابواب بندی بھی کی  ہے اور  بعض  اہل علم نے    اس موضوع پر  کتب  لکھی ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’اینڈ آف ٹائم‘‘ بھی اس موضوع پر جدید اور سائنسی علوم کےماہر  ترکی کے  معروف   قلمکار   محترم   ہارون یحییٰ  کی  منفرد  کتاب ہے ۔  اینڈ آف ٹائم  سےمراد  آخری دور ہے اور اسلامی نقطۂ نظر  سے  یہ قرب  قیامت کا دور ہے ۔قرآن  وحدیث کی رو سےآخری زمانہ دو ادوار  پر مشتمل ہے ۔پہلے دور میں  لوگ مادی وروحانی  مشکلات میں مبتلا ہوجائیں گے  جبکہ دوسرا دور سنہری دور  ہوگا اس میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کی  فروانی  ہوگی ۔ اس دور میں  دین  حق  کی ترویج اور اشاعت  ہوگی ۔اسی دور کے اختتام  پر معاشرہ  تباہی  کے  دہانے پر پہنچ جائے گا اور لوگ  قیامت کی گھڑیاں گننا شروع کردیں گے ۔اس کتا ب میں  اسی وقت ِ آخر کاجائزہ قرآن وحدیث کی روشنی میں  پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس  کتاب عوام الناس کے لیے  فائدہ مند بنائے   اور لوگوں کےعقیدۂ  آخرت کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

  • tatil-pages-barzakhi-zindgi-aur-qabar-k-azab-w-aram-k-masail
    خالد بن عبد الرحمٰن الشایع
    اللہ تعالیٰ نے کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے اس کے انتہائی اہم کردار انسان کو وجود بخشا  حضرت انسان کو مٹی سے پیدا کیاگیا ہے ۔ انسان اپنی تخلیق کے مختلف مراحل سے گزر کر اپنے آخری منزل تک پہنچتا ہے۔انسان جب فقط روح کی شکل میں تھا تو عدم میں تھا روح کے اس مقام کو عالم ارواح کہتے ہیں او رجب اس روح کو وجود بخشا گیا اس کو دنیا میں بھیج دیا گیا  اس کے اس ٹھکانےکو عالم دنیا اور اسی طرح اس کے مرنے کے بعد قیامت تک کے لیے جس مقام پر اس کی روح کو ٹھہرایا جاتا ہے اسے عالم برزخ کہتے ہیں اس کے بعد قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو ان کی دائمی زندگی سے ہمکنار کیا جائے گا۔مرنے کے بعد کے حالات جو مابعد الطبیعات میں آتے ہیں کو اسلام نے بڑے واضح انداز میں پیش کردیا ہے۔ کہ مرنے کے بعد اس کا قیامت تک کے لیے مسکن قبر ہے اور برزخی زندگی میں قبر میں اس کے ساتھ کیا احوال پیش آتے ہیں۔ انسان کے اعمال کی جزا و سزا کا پہلا مقام قبر ہی ہے کہ جس میں وہ منکر نکیر کے سوالوں کے جواب دے کر اگلے مراحل سے گزرتا ہے۔زیر نظر کتاب میں کافر و مومن کی روح نکلنے سے لے کر قبر کے عذاب و عتاب کے تمام مراحل کو قرآن و حدیث سے واضح کردیا گیا ہے اور واعظانہ انداز میں انذرانہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کتاب میں برزخی احوال حدیثوں میں مذکور عبرتناک  واقعات و امثال سے مزین کر دیا گیا ہے۔ جنت کی امید اور جہنم سے بچنے کی تڑپ رکھنے والے ہرانسان کو  اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-jab-dunia-reza-reza-ho-jae-ghi
    ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی
    یہ امر واقع ہے کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو جائے گی، دنیا پر موجود ہر چیز فنا ہو جائےگی اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہو جائے گا جس کا اختتام کبھی نہ ہوگا۔ لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس تمام تر وقوعہ کا نام قیامت ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں وقوع قیامت کی چند علامات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ایک مسلمان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ ان علامات سے آگہی حاصل کرے تاکہ اس کا عقیدہ ایمان بالغیب مضبوط ہواور روز قیامت کے لیے اپنے آپ کو تیار کر سکے۔ علامات قیامت سے متعلقہ ہر بڑی زبان میں چھوٹی بڑی کتب لکھی گئی ہیں جن میں سے بہت سی کتب نہایت مفید ہیں اور ان کا مدار کتاب و سنت پر ہے لیکن بہت سی کتب ایسی بھی ہیں جن میں ضعیف اور موضوع احادیث بیان کی گئی ہیں اور ان کا انطباق بھی درست طریقے سے نہیں کیا گیا۔ زیر مطالعہ کتاب علامات قیامت کے موضوع پر عالم عرب کی مشہور شخصیت ڈاکٹر محمد بن عبدالرحمٰن العریفی کی ’نہایۃ العالم‘ کے نام سے لکھی گئی شاہکار تصنیف کااردو قالب ہے۔ نبی کریمﷺ نے قیامت کی جو نشانیاں بیان فرمائی ہیں ان میں سےکئی نشانیاں اپنے ظہور کے بعد اوراق تاریخ پر اپنے نشان ثبت کر گئیں۔ کئی نشانیاں سامنے نظر آ رہی ہیں اور کئی مستقبل کے پردے سے جھانک رہی ہیں۔ مصنف نے ان تمام نشانیوں کا تذکرہ اس قدر ہوشربا انداز سے کیا ہے کہ کتاب کا مطالعہ شروع کرنے کے بعد اس کو ختم کرنے سے پہلے بند کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ مصنف نے جس قدر محنت اور باریک بینی سے یہ آگہی بخش کتاب لکھی ہے اسی محنت اور سلیقے سے قاری محمد اقبال عبدالعزیز نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب کا ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ علامات قیامت اجاگر کرنے کے لیے نہایت خوبصورت روشن او رنگین تصاویر اور 40 نادر نقشے بھی شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-dajjal-aur-alamat-e-qiyamat-ki-kitab
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    کتاب وسنت میں یہ امر پوری  طرح واضح کر دیاگیا ہے کہ دنیا کی یہ موجودہ زندگی عارضی اور فانی ہے اصل اور حقیقی زندگی آخرت کی ہے،لہذا اس کی فکر کرنی چاہیے۔لیکن اس کے باوجود آج ہم دنیوی آسائشوں کی طلب میں مگن ہیں اور اپنی اخروی زندگی کو فراموش کر چکے ہیں۔زیر نظر کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایک دن اب آنے والا ہے جب ہمیں اسے ہر عمل کا جواب دہ ہونا پڑے گااس دن کے آنے سے پہلے تو بہ کر لینی چاہیے ۔کتاب کے مباحث تین حصوں میں منقسم ہیں:پہلے حصے میں قیامت کی چھوٹی علامات  بیان کی گئی ہیں،دوسرےحصے میں قیامت خروج دجال پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور تیسرے حصے میں قیامت کی بڑی بڑی اور فیصلہ کن علامات کا ذکر کیا گیا ہے ۔اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ بحث و نظر کی بنیاد  قرآن مجید اور احادیث صحیحہ پر رکھی گئی ہے۔دلائل کو مکمل حوالہ جات کے ساتھ مزین کیا گیا ہے اور احادیث کی مکمل تخریج و تحقیق کی گئی ہے۔(ط۔ا)
  • pages-from-dunya-ka-khatma
    ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی

    وقوع  قیامت کا  عقیدہ اسلام کےبنیادی عقائد میں سےہے اور ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔  قیامت آثار  قیامت کو  نبی کریم  ﷺ نے احادیث میں  وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے  جیساکہ احادیث میں  میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک عیسیٰ بن مریم﷤ نازل نہ ہوں گے۔ وہ دجال اورخنزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی﷤ کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے  سے ائمہ محدثین نے  کتب احادیث میں ابواب بندی بھی کی  ہے اوربعض  اہل علم نے اس موضوع پر  کتب  لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دنیا کاخاتمہ‘‘ سعودی عرب کے مایہ ناز عالم دین ڈاکٹر محمدبن عبد الرحمٰن العریفی﷾ کی عربی کتاب ’’نہایۃ العالم اشراط الساعۃ الصغریٰ واالکبریٰ مع صور و خرائط و توضیحات‘‘  کا آسان اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب علامات قیامت کے متعلق پہلی تصویری کتاب ہے جس میں قرآن و احادیث کی روشنی میں ان تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں جن کے متعلق آج کل خبریں یا کتابیں چھپ چکی ہیں۔ان کتابوں میں ہر مصنف نے اپنے ہی نظریے کو سچ ثابت کرنے کے لیے دلائل دیے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں مصنف نے اپنی کوئی بات بھی پیش نہیں کی ہر خبر کے آثار قرآن و حدیث سے اخذ کیے ہیں۔ مصنف نے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں قیامت کی 131 چھوٹی علامات اور دوسرے حصے میں 10 بڑی علامات قیامت بیان کی ہیں۔ ہر موضوع سے پہلے خصوصی تحریر’’کچھ اس باب سے متعلق‘‘ کے عنوان سےلکھی ہے۔ جس سے قاری کے ذہن میں موجود سوالات اور موضوع سےمتعلق پیچیدگی کو آسان بنایا گیا ہے۔ اور ہر موضوع کی مناسبت سے پر ذوق تصاویر کا انتخاب کیاگیا ہے۔ مختلف رنگوں کی مدد سے حدیث رسول ﷺ، صحابہ ائمہ کےاقوال، قرآنی آیات کے تراجم اور حوالہ جات کی الگ الگ نشان دہی کردی گئی ہے۔ یہ کتا ب اپنی علمی پختگی کی وجہ سے بہت جلد مقبول ہوئی اور عربی زبان میں اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے لاکھوں نسخے چند مہینوں میں فروخت ہوگئے۔اسی وجہ سے اردو داں طبقہ کے لیے جناب شیخ شفیق الرحمٰن الدراوی ﷾ نے اس انداز میں اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہےکہ ترجمے کی روانی اور سلاست نے اصل کتاب کی اساس کو برقرار رکھا ہے۔ کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی﷾ سعودی عرب کے دار الحکومت الریاض کے باشندے ہیں اور وہیں ایک معروف یونیورسٹی کے شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔دعوت دین کے حلقوں میں ان کا نام جانا پہچانا ہے۔ دعوتِ دین کے میدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے‘‘ سرفہرست ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-dunia-ka-musafir-ya-akhrat-ka-rahi-jadeed-audition--copy
    سعد حسن خان یوسفی ٹونکی

    دنیا میں انسان کا اس کی رفتارکاپہلا قدم ہے جب سے یہ دنیا میں آیا ہے اس کو ایک منٹ کےلیے قرارنہیں۔دنیا ایک عارضی اور فانی جگہ ہے،ہر انسان نے یہاں سے چلے جانا ہے۔جبکہ آخرت دائمی اور ہمیشہ رہنے والی جگہ ہے،اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے ،آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے ،کاش وہ اس حقیقت کو جانتے ۔(عنکبوت:64)نبی کریم ﷺ نے دنیا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: آدمی کہتا ہے میرا مال میرا مال،حالانکہ اس کا مال صرف تین چیزیں ہیں: ایک وہ جو اس نے کھا لیا۔ دوسرا وہ جو اس نے پہن لیا اور بوسیدہ کرلیا ،اور تیسرا وہ جواپنے ہاتھ سے اللہ کے راہ میں دے دے کل قیامت کو اس کو اس کا بدلہ ملے گا کیونکہ وہ تو اللہ کے پاس چلا گیا اور اللہ کے پاس چلا گیا تو آخرت میں اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ فرمایا :اس کے علاوہ جو بھی مال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ گئے یہ اس کا مال نہیں ہے۔ یہ تو ورثاء کا مال ہے پھر ورثاء بعد میں لڑتے بھی ہیں۔دوسری جگہ فرمایا: میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی چھاؤں میں گرمیوں کی کوئی دوپہر گزارنے بیٹھ جائے ۔ وہ کوئی پل آرام کر ے گا تو پھر اٹھ کر چل دے گا۔تیسری جگہ فرمایا: ”یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافرکوا س دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا۔ زیر تبصرہ کتاب" دنیا کا مسافر یا آخرت کا راہی "مولانا سعد حسن خان یوسفی ٹونکی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے۔۔آمین۔یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی سائٹ پر موجود تھی لیکن وہ اس کتاب کا پرانا ایڈیشن ہے ۔اب ہمیں اس کتاب کا جدید ایڈیشن دستیاب ہو لہٰذا ا سے بھی سائب پر پبلش کیا جارہا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-aalam-e-uqba
    محمد صادق سیالکوٹی
    اس عالم فانی کی چند روزہ زندگی محض افسانہ ہے۔ آج یا کل اس دار مکافات سے  ہرایک لازما کوچ کرنا ہے۔ موت سے کسی کو مفر نہیں۔ پھر غور کرنا چاہیے کہ موت کے بعد کیا ہوگا؟ کہاں جائیں گے؟ کیا پیش آئے گا؟ کہاں رہیں گے؟ امن وچین ملے گا یا درد وعذاب سے دو چار ہونگے ؟ کن احوال وظروف کا سامنا ہوگا ٰ؟  جو شخص موت کے بعد کے احوال وکوائف  اور حالات وواقعات  پر نظر نہیں رکھتا، وہ بڑا غافل اور ناعاقبت اندیش انسان ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ اس مادی دور میں مسلمان آخرت کو بھلا چکے ہیں ۔ دنیا کی زیب وزینت  اور آرائش، اس کی حلاوت وطراوت ، تازگی وخنکی، عیش وشادمانی، خوشی وخرمی، نقش ونگار، حسن وجمال، دل فریبی اور دل ربائی کے نشے میں ایسے چور ہیں کہ اس مدہوشی اور بے خودی میں آخرت کے بارے میں ضعیف الاعتقاد ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ کے قرآن مجید نے توحید کے بعد آخرت ، قیامت اور معاد کےعقیدےپر بڑا زور دیا ہے۔ اور قیامت و آ خرت کےمنکر کو کافر قرار دیا ہے۔ زیر تبصرہ یہ کتاب معروف عالم دین مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی کی کاوش ہے۔اس  میں انہوں نے برزخ، بعثت، حشر، نشر، قیامت، میزان، صراط، احوال حشر، مسلہ شفاعت، زندگی کا حساب، جنت اور دوزخ کے حالات کو  کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے۔جن پر یقین واعتقاد رکھنا ہرمسلمان پر واجب اور ضروری ہے۔اللہ تعالی ہم سب کی دنیا وآخرت دونوں کو بہترین بنائے۔آمین(ک۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-qurab-e-qiyamat-key-fitney-aur-jangain-ma-qiyamat-key-bad
    حافظ عماد الدین ابن کثیر

    وقوع قیامت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سےہے اور ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ قیامت آثار قیامت کو نبی کریم ﷺ نے احادیث میں وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے جیساکہ احادیث میں میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم ﷤نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی ﷤کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے سے ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں  ابواب بندی بھی کی ہے اور بعض اہل علم نے   اس موضوع پر کتب لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قرب قیامت کے فتنے اور جنگیں مع قیامت کےبعد کے احوال ‘‘ مشہور ومعروف مؤرخ ومفسر قرآن علامہ حافظ ابن کثیر کی کتاب النہایۃ فی الفتن والملاحم کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب آخری زمانے کے فتنوں اور آثار قیامت کے بارے میں انتہائی اعلیٰ درجے کی کتاب ہے ۔حافظ ابن کثیر ﷫ نے اس کتاب میں ان قرآنی آیات اور احادیث کو ذکر کیا ہے جو آخری زمانے کے فتنوں اور علامات قیامت سے متعلق ہیں کہ قیامت سے پہلے کون کون سے بڑے واقعات رونما ہونگے۔ چھوٹی بڑی نشانیاں کو ن سی ہیں؟ اس دار فانی سے جانے کے بعد صبح دوام زندگی تک کیا ہوگا ؟ میدان حشر میں کیا ہوگا؟شفاعت او رحساب کتاب اوردیدار الٰہی سے متعلق بہترین گفتگو کی ہے ۔خلیل مامون شیحا کی تخریج احادیث اور محمد خیر طعمہ حلبی کی تعلیق سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-qayamat-qareeb-aa-rahi-he-copy
    ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی

    وقوع قیامت کا عقیدہ اسلام کےبنیادی عقائد میں سےہے اور ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ قیامت آثار قیامت کو نبی کریم ﷺ نے احادیث میں وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے جیساکہ احادیث میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک عیسیٰ بن مریم نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔قیامت پر ایمان ویقین سےانسان کی دینوی زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے اور آخرت سنور جاتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں ایمان بالآخرۃ اور روز قیامت پر ایمان لانا فرض ہےاوراس کےبغیر بندہ کاایمان صحیح نہیں ہوسکتا۔علامات قیامت کے حوالے سے ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں ابواب بندی بھی کی ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر کتب لکھی ہیں ۔ زیرتبصرہ کتا ب’’قیامت قریب آرہی ہے ‘‘ شاہ سعود یونیورسٹی ، الریاض کے پروفیسر جناب محمد بن عبد الرحمٰن العریفی کی احوال قیامت ، علامات قیامت کے متعلق لکھی جانے والی عربی تصنیف ’’ نہایۃ العالم ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں نہایت جامع ہے اور علامات قیامت کےمتعلق بہترین تصویری کتاب ہے ۔اس کے عنوانات پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہےکہ کوئی اہم مبحث نہیں جو اس میں زیر بحث نہ آئی ہو۔ (م۔ا)

  • title-pages-qayamat-kb-ae-ghi-copy
    یوسف بن عبد اللہ الوابل

    وقوع قیامت کا عقیدہ اسلام کےبنیادی عقائد میں سےہے اور ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ قیامت آثار قیامت کو نبی کریم ﷺ نے احادیث میں وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے جیساکہ احادیث میں میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔قیامت پر ایمان ویقین سےانسان کی دینوی زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے اور آخرت سنور جاتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں ایمان بالآخرۃ اور روز قیامت پر ایمان لانا فرض ہےاوراس کےبغیر بندہ کاایمان صحیح نہیں ہوسکتا۔علامات قیامت کے حوالے سے ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں ابواب بندی بھی کی ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر کتب لکھی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قیامت کب آئے گئی؟‘‘شیخ یوسف بن عبد اللہ الوابل کی عربی کتاب ’’ اشراط الساعۃ‘‘ کااردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر نہایت ہی جامع اور محقق ومدلل ہے اس میں قیامت کی نشانیوں کے علاوہ اس پر ایمان لانے کے فوائد اورانسانی زندگی پر اس کے بہتر ثمرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔(م۔ا)

  • pages-from-muslmaan-ka-safar-e-akhrat
    محمد صادق سیالکوٹی

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔انسان کی ولات اور وفات کے درمیان کا وقفہ وجود ابن آدم کااہم ترین وقفہ ہے اللہ تعالیٰ نے اسے یہ زندگی دکے آزمانا چاہا ہےکہ وہ خیر وشر کے دونوں راستوں میں کس پر چلتا ہے وہ اپنے پیدا کرنےوالے کی عبادت کرتا ہےاوراس کی خوشنودی کے کام کرتا ہےیا سرکش ونافرمان بن کر اپنی زندگی گزارتا ہےاور کفر وشرکی راہ اختیارکرتا ہے۔اس لیےہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر اسےموت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مسلمان کا سفر آخرت ‘‘ مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی تصنیف ہے ۔انہوں نےاس کتاب میں موت کی یاد دلائی ہےصحیح اسلامی عقیدہ اور اتباع قرآن وسنت کی دعوت دی ہے، شرک وبدعات سے ڈرایا ہے اور بتایا ہےکہ مشرک کےتمام اعمال صالحہ رائیگاں ہوجاتے ہیں ۔نیز انہوں اس کتاب میں وہ تمام عقائد واعمال بیان کیے ہیں جن کاجاننا ایک مسلمان کےلیے نہایت ضروری ہے۔اور جس کی شخص کی موت کا وقت قریب ہوتو اسے اور اس کے عزیز واقارب کو کیا کرناچاہیے ، ایک مسلمان کے اچھے اور برے خاتمہ کی علامات کوقرآن وسنت سے ماخوذ دلائل کی روشنی میں بیان کیاہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-youme-hisab-copy
    ہارون یحییٰ

    یوم حساب سے مراد روز ِقیامت ہے۔اس دن لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب اور جزا کے لیے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔قیامت کے روز تمام انسانی اعمال کے حساب وکتاب اور ان کی جزا و سزا کے اثبات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کیں،رسول بھیجے جو احکام شریعت وہ لائے تھے انہیں قبول کرنا اور ان احکام الٰہیہ  پر عمل کرنا واجب ہے۔اللہ تعالیٰ  نےقرآن مجید میں  کئی  مقامات  پر  قیامت اور  یوم حساب کا ذکر کیا ہے ۔زیر نظرکتاب ’’یوم حساب ‘‘ترکی کے  نامور مصنف  ہارون یحییٰ  کی تصنیف ہے ۔جوکہ روزِحساب اور اس روز پیش آنےوالے  واقعات سے اگاہ کرتی  اور اس روز کی سختیوں سےخبر دار کرتی ہے ۔اہم بات یہ  کہ  یوم ِ حساب سب لوگوں کےلیے  حقیقت ہے  او ر اسے  نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کتاب  ہذا آپ کو روزِ حساب کی سچائی او ر اس کی  حقیقیت پر  قرآنی آیات کی روشنی میں  سوچنے  میں مدد دے گی۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو  عوام الناس کے لیے   روزمحشر اور یوم حساب  کی حقیقت کوسجھنے اور اس کی   صحیح تیاری کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 199 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں