• aap-jannat-main-apne-darjaat-kaise-buland-karsakte-hain-2
    محمد بن ابراہیم النعیم

    جنت اور اس کے متعلق گفتگو کرنا ایک ایسا طویل موضوع ہے کہ اس سے نہ تو انسان اکتاتاہے اور نہ ہی تھکتا ہے۔ بلکہ پاکیزہ نفوس اس سے مانوس ہوتے ہیں اور ذہن اس سے خوب سیراب ہوتا ہے۔ تو ہم میں سے کون ہے جو جنت کی امید نہ رکھتا ہو؟ہر مسلمان کی یہ خواہش اور ارزو ہے کہ اللہ اس کو جنت الفردوس میں داخلہ نصیب کر کے جھنم کی سختیوں سے بچائے،کیونکہ جنت ایک ایسی نعمت لا یزال ہے کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی اور نا ہی عقل اس کا ادراک کرسکتی۔بلا شک وشبہ جنت ہمارا مطلوبہ ہدف اور پختہ امید اور خواہش ہے۔ یہی وہ عظیم جزا اور بہت بڑا ثواب ہے جسے اللہ نے اپنے اولیاء اور اطاعت گزاروں کے لیے تیار کر رکھاہے۔ یہی وہ کامل نعمتیں ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتاہے،اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اس جنت کی جو تعریف کی اور اس کے جو اوصاف بیان کیے ان سے عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔اس لیے کہ ہم اس کی خوبصورتی، عظمت اور درجات کا تصور کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ جنت   میں ایسی نعمتیں   ہیں کہ جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا تک نہیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا کھٹکا ہواہے۔ جو اس میں داخل ہوگیا وہ انعام پاگیا،وہ کبھی محتاج نہیں ہوگا،اس کے کپڑے بوسیدہ نہ ہونگے، نہ اس کی جوانی   ختم ہو گی اور نہ ہی اپنے مسکن سے کبھی اکتائے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آپ جنت میں اپنے درجات کیسے بلند کرسکتے ہیں‘‘جو کہ در اصل ایک عربی زبان کی کتاب ہےشیخ محمد بن ابراہیم نعیم کی جس کا اردو ترجمہ حافظ عبدالماجد﷾ نے کیا ہے۔ جس میں ان ہو نے ان اعمال کا ذکر کیا ہے جو جنت میں ہمارے درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں اور اس کے لیے صحیح   دلائل کو پیش کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر بر اجرے عظیم سے نوازے آمین۔ (شعیب خان)

  • title-pages-jannat-copy
    امام شمس الدین محمد بن ابی بکر بن القیم الجوزیہ

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمہارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر تبصرہ کتاب’’اللہ کے محبوب بندوں کی آخری جنت ترجمہ حادی الارواح ‘‘ملت اسلامیہ کے عظیم مصلح ومحدث ،مجتہد امام ابن قیم الجوزیہ﷫ کی کتاب ’’ مختصرحادی الارواح الی بلاد الافراح ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں امام موصوف نے تفصیل کےساتھ جنت کی چابی ، جنت کی وسعت ، اس کی تعداد ، اہل جنت کے اوصاف ، وہاں کےعیش وآرام، جنت کی خوش نصیب خواتین، جنت کے بیش بہا محلات ، حوریں ، خدام ، جنت کے بازار،اللہ تعالیٰ کادیدار، اللہ تعالیٰ کےعرش وکرسی کا ذکر وغیرہ کا ایسا تفصیلی ذکر کیا ہے کہ جس کوپڑھ کر جنت کی ایک ایسی تصویر ذہن میں آتی ہے جسے اللہ اور اس کے رسولﷺ نےذکر فرمایا ہے ۔ ورنہ جنت تو حقیقت میں ہمارے وہم وخیال سے بالاتر ہے ۔نیز اس کتاب میں ان خوش نصیب مومنوں کا بھی ذکر ہے جن کےلیے بطور انعام جنت بنائی اور سنواری گئی ہے اور ان اعمال کابھی تفصیل کےساتھ ذکر کیاگیا ہے جن کی وجہ سے یہ جنت ان عاملین اور محبین کےلیے مخصوص کی گئی ہے کہ جنہیں قرآن مجید نے انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کہہ کر پکارا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کتاب ، مترجم وناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م ۔ا)

  • pages-from-bachao-apne-ap-ko-aur-ghar-walon-ko-jahannam-ki-aag-se
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے اچھائی اور برائی ،خیر وشر،نفع   ونقصان میں امتیاز کرنے اور اس میں صحیح فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے ۔اچھے کام کرنے اور راہِ ہدایت کو اختیار کرنے کی صورت میں اس کے بدلے میں جنت کی نوید سنائی ہے ۔ شیطان اور گمراہی کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں اس کے لیے   جہنم کی وعید سنائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے راہ ہدایت اختیار کرنے کےلیے اپنے انبیاء کرام کو   مبعوث فرمایا تاکہ انسانوں کو شیطان کے راستے سے ہٹا کر رحمٰن کے راستے پر چلائیں۔تاکہ لوگ اپنے آپ کو جہنم سے بچا کر جنت کا حق دار بنالیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ(سورۃ التحریم :6)’’اے ایمان والوں اپنے آپ کوجہنم کی آگ سے بچاؤ جس کاایدھن لوگ اورپھتر ہیں ‘‘اس لیے   گھر کے ذمہ دار کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ اپنے گھر والوں کو ایسے اعمال کرنے کا کہےکہ جن کے کرنے سے جہنم کی آگ سے بچا جاسکے۔ زیرنظر کتاب ’’ بچاؤ اپنے آپ کو اور گھر والوں کوجہنم کی آگ سے ‘‘ میں محترمہ ام عب منیب صاحبہ نے یہ واضح کیاہے کہ اہل میں کون لوگ شامل ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل کو بچانے کا حکم کیوں دیا؟انبیاء کرام نے اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچانے کا فریضہ کس طر ح ادا کیا اور ہمیں یہ فریضہ کس طرح ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو   اہل ایمان کےلیے جہنم سے آزادی کے ذریعہ بنائے ( آمین) م۔ا)

  • title-pages-jannat-aur-jahanam-ki-rahain-copy
    حافظ ثناء اللہ ثاقب

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ اور جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالی نے کافروں،منافقوں،مشرکوں اور فاسقوں وفاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’جنت اور جہنم کی راہیں‘‘ ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے اس کتاب میں فاضل مصنف نے جنت میں لے جانے والے تیس اسباب کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جو بھی شخص ان عمال پر کاربند ہوگا اللہ کےفضل سے یہ کام اسے جنت میں لے جانے کےسبب بن جائیں گے ۔ لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ جوکوئی یہ اعمال کرے وہ ضرور ہی جنت میں جائے گا، خواہ اس کاعقیدہ کیسا ہی کیوں نہ ۔ بلکہ جنت میں صرف اور صرف حقیقی مؤمن ہی جائے گا۔ اگر کوئی کافر یا مشرک ان میں سے بعض اعمال پر کاربند ہویا یہ سارے ہی اعمال کرلے تو بھی اس کو قعطاً کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اور وہ جنت میں ہر گز نہیں جاسکےگا۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 123
    سعید بن علی بن وہف القحطانی
    یہ دنیا دار العمل ہے جزاء و سزا کا فیصلہ آخرت میں ہوگا۔جن و انس کی تخلیق کا مقصد عبادت الہیٰ ہے۔عبادت کی تفصیلات بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام بھیجے جنہوں نے خدا کا پیغام انسانوں تک پہنچا دیا۔اب یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر عمل پیرا ہو۔جو کامیاب ہو وہ جنت میں جائے گا اور ناکام شخص جہنم  کا رزق بنے گا،ہر مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ جہنم  سے بچ کر جنت میں داخل ہو جائے اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔زیر نظر کتاب میں قرآن و حدیث کے حوالے سے نہایت سلیس اور موثر انداز میں جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب کا ایک موازنہ پیش کیا ہے،یہ کتاب عربی سے اردو میں منتقل کرنے کا فریضہ جناب عنایت اللہ بن حفیظ اللہ سنابلی نے سر انجام  دیا ہے جس پر وہ اردو دان طبقہ کے شکریہ کے سزاوار ہیں۔خداتعالیٰ مؤلف و مترجم کو جزا دے او رہمیں جنت کے راستے پر گامزن فرمائے۔آمین

  • title-pages-jannat-ki-rah-copy
    ابو عبد الرحمٰن شبیر بن نور

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جنت کی راہ ‘‘ مولانا ابو عبد الرحمن شبیربن نور کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کوانہوں نے تین ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ باب اول میں جنت کیسی ہوگی اوراہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا کیا عنائتیں اور نوازشیں ہوں گی کا بیان ہے ۔ اور باب دوم میں جنت میں داخلے کی لازمی شرطوں کابیان ہے ۔ تیسرے باب میں ان ’’سو (100) اعمال کا تذکرہ ہے جو کسی مومن کو جنت میں لے جانے کاسبب بن سکتے ہیں ۔اور شروع میں ایک مفصل تمہید ہے جس میں مبادی واصول بیان کیے گئے ہیں ۔ نیز ڈاکٹر محمد نذیر مسلم کا جامع اورعلمی طویل مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔ فاضل مصنف نے تمام مسائل کو کتاب اللہ اور ثابت شدہ احادیث کے حوالے سے بیان کیاہے اور اقوال، قصے ،کہانیاں، ذاتی آراء، خواب اوراس طرح کے غیر مستند ذرائع معلومات سےمکمل اجتناب کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو جنت میں داخلہ نصیب فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • untitled-1
    نایف بن ممدوح بن عبد العزیز آل سعود
    یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے جس کے خاتمے کے بعد دائمی زندگی کا آغاز ہو جائے گا۔ جب تک انسان کی سانسیں چل رہی ہیں اس کو اختیار ہے اپنے لیے عیش و آرام والی زندگی کا انتخاب کر کے اس کے لیے محنت کرے یا پھر زمانے کی مصلحتوں کا شکار ہو کر آتش جہنم کو اپنا مقدر بنا لے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ  نے بہت سے ایسے اعمال بتلا دئیے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان نہایت آسانی سے اللہ کی رحمت کے ساتھ جنت کا مستحق ہو سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب میں ان تمام اعمال کے فضائل پر روشنی ڈالی گئی ہے جو دراصل جنت میں جانے کا سبب اور نہایت آسان راستے ہیں۔ اصل کتاب عربی میں تھی جس کو نایف بن ممدوح آل سعود نے تالیف کیا جس کو اردو میں مجلس تحقیق الاسلامی کے سابقہ رکن محمد اسلم صدیق نے منتقل کیا۔ ہمارے ہاں ذکر و اذکار اور فضائل اعمال پر بہت سی کتب مروج ہیں لیکن ان میں صحت و ضعف کا خاص اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے ان پر انحصار درست نہیں ہے۔ جبکہ کتاب ہذا کے مؤلف نے صرف مستند اور صحیح احادیث سے ثابت اعمال کو جمع کیا ہے۔ ترجمہ بامحاورہ اور سلیس ہے۔ احادیث کی تحقیق کے لیے علامہ البانی کی تحقیق پر اعتما د کیا گیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-jannat-ki-kunjiyaan
    عبد الہادی بن حسن وہبی

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا   آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے   اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حورو غلمانملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے۔ لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ جنت واجب کرنے والے اعمال‘‘ شیخ عبد الہادی بن حسن وھبی کی عربی کتاب کا ترجمہ ہےانہوں نے اس کتاب میں صحیح احادیث کی روشنی میں ان اعمال کا حسین انتخاب پیش کیا ہے۔جن کا التزام ہر مسلمان کےلیے جنت میں داخلہ یقینی بنا سکتاہے۔ محترم حافظ عمران ایو ب لاہوری ﷾ نے اس کتاب کو اردوقالب میں ڈھالنے کے ساتھ ساتھ اس کی تخریج اور مختصر فوائد کا   کا م بھی کیا ہے۔نیز ہرحوالہ کو علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی تحقیق سے مزین کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ المسلمین کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین)

  • title-pages-jannati-kon-dozakhi-kon-quran-ki-roshni-me-copy
    پروفیسر محمد رفیق چودھری

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ اور جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالی نے کافروں،منافقوں،مشرکوں اور فاسقوں وفاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’جنتی کون؟دوزخی کون؟ قرآن کی روشنی میں ‘‘ماہنامہ محدث کے معروف کالم نگار اور کئی کتب کے مصنف ومترجم محترم مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میں ایسےتمام امور بیان کرنے کی کوشش کی ہےجن کی بنا پر قرآن نے انسانوں کےجنتی یا دوخی ہونےکاذکرکیا ہے۔اختصار کےپیش نظر ہر حوالے کےلیے ایک ہی متعلقہ آیت اور اس کااردوترجمہ دے دیا ہے ۔مزید حوالہ جات کوتکرار سےبچنے کےلیے صرف سورتوں کےناموں اورآیتوں کےنمبروں تک محدود رکھا ہے اوران کامتن اورترجمہ نہیں دیا۔فاضل مصنف نے کتاب کے دوحصے کیے ہیں پہلے حصے میں ایسے 35اوامرذکر کیے ہیں جن کی پابندی کر کے کوئی شخص جنت کامستحق ہوسکتاہے۔ پھر ساتھ ہی 10 ایسے نواہی بیان کیے ہیں جن سے اجتناب کر کے کوئی آدمی جنت کاحق دار ہوسکتاہے ۔دوسرے حصے میں ایسے 72امور بیان کیے ہیں جن کےارتکاب پر کوئی آدمی آخرت میں دوزخ کے عذاب کا مستوجب ہوگا۔اگرچہ قرآن مجید کےعلاوہ صحیح احادیث میں بھی جنتیوں اور دوزخیوں کی کچھ مزید نشانیاں بیان ہوئی ہیں تاہم مصنف نے صرف قرآن کی روشنی میں جنتیوں اور جہنمیوں کی نشانیاں بیان کی ہیں ۔ کتاب کے مصنف محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب اور علوم قرآن سے گہرا شغف ہے او ر طالبانِ علم کو مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔ قرآن مجید کا لفظی وبامحاورہ ترجمہ کرنے کے علاوہ قرآن مجید کی تفسیر لکھنے میں مصروف ہیں جس کی کچھ جلدیں طبع ہوکر منظر عام آچکی ہیں مزید کام جاری ہے اللہ تعالیٰ انہیں تکمیل کی توفیق دے ۔اور ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے ، اس کتاب کواہل اسلام کے لیے نفع بخش بنائے اور ہمیں ایسے کام کرنے کی توفیق دے جس کےنتیجے میں ہم اُخروی زندگی میں دوزخ کے عذاب سےبچ سکیں اور اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوجائیں(آمین) (م۔ا)

  • untitled-1
    محمد اسلم صدیق
    جہنم واقعتاً ایک دل دہلا دینے والا مقام ہے، لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ کی اکثریت جہنم کی اندھیر نگریوں اور ان عذابات سے واقفیت کے باوجود اس سے بچاؤ میں تساہل کا شکار نظر آتی ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس دنیا کی عارضی ہونے پر کامل ایمان رکھ کر حقیقی دنیا کی تیاری میں لگے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو بھی یقیناً ایسے انسان ہی مطلوب ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب کا بھی بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو جہنم کی وادیوں سے آگاہی دی جائے اور اس سے بچاؤ کے لیے خدا تعالیٰ کی فراہم کردہ تدابیر پر عمل کیا جائے۔ کتاب کے مصنف مجلس التحقیق الاسلامی کے سابقہ رکن محترم محمد اسلم صدیق صاحب ہیں، جو علمی  دنیا کی جانی پہچانی شخصیت ہیں اور صاحب علم انسان ہیں۔ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب جہنم کے وحشت مناظرپر مشتمل ہے۔ دیگر ابواب میں جہنمیوں کی حالت زار، جہنم میں لے جانے والے گناہ اور سلف صالحین کے جہنم سے خوف کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ آخری باب میں اختصار کے ساتھ وادی جہنم سے بچنے کا راستے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-tareeq-ul-jnnat-ul-maroof-jannat-ka-rasta
    حافظ زبیر علی زئی

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کے لیے بےشمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔ پس انسان کے لیےلازم ہےکہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی اداکرے۔ اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہے تو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہےکہ صراط مستقیم ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہے جس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور آخرت میں بھی جنت اس کا مقدر بنے۔دنیا وآخرت میں کامیابی کا حصول صرف تعلیمات اسلام میں ہےیہ واحد دین ہےجو انسان کی ہر ضرورت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"طریق الجنۃ" مولانا زبیر علی زئیؒ کی محنت کا نتیجہ ہےموصوفؒ کسی تعارف کی محتاج شخصیت نہیں اور مسلک حق اہل حدیث کےلیے ان کی بے پناہ تحقیقات کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موصوفؒ نے اپنی تصنیف میں مختصر صحیح عقائد، نماز کے احکام، قیام رمضان، فاتحہ خلف الامام، اور تقلید وغیرہ کے موضوعات پر تحقیقی بحث کی ہے اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازے اور ان کے لیے سامان مغفرت بنائے۔ آمین(عمیر)

  • عبد المنان راسخ

    کسی انسان کاامت محمدیہ کافرد ہونا اس کی بہت بڑی خوش بختی اور سعادت مندی ہے کیونکہ یہ وہ امت ہے جوپہلی امتوں سےبہتر اور افضل ہےآپ کاارشاد گرامی ہے ’’کہ تم سترویں امت ہو اگرچہ اس دنیا میں آخری امت ہو لیکن فضیلت میں تم سب سابقہ امتوں سے اللہ کےبہتر اور معزز ہو۔لیکن انسان کی یہ کس قدر بدبختی اور بدقسمتی ہےکہ جس کو اس کی بعض بری اور قبیح حرکتوں اور بعض جرائم کی وجہ سے امام کائنا ت صاحب ہذہ الامۃ نے اپنی مبارک زبان سے امت سے خارج کردیں یا امت سے تعلق ورشتہ ٹوٹ جانے کی خبر سنائیں۔کتب احادیث میں کئی ایسی احادیث موجود ہیں جن میں ایسے گناہوں کا ذکر ہے کہ جن کواختیار کرنے سے انسان امت محمدیہ سےخارج ہونے کا حق دار ٹھرتا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ فلیس منا وہ ہم سے نہیں ‘‘ محترم جناب عبد المنان راسخ ﷾ مصنف کتب کثیرہ ومعروف مبلغ کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں انہوں نےوہ تمام احادیث صحیحہ جمع کردی ہیں جن میں ایسے گناہوں کا ذکر ہےجن کےارتکاب کی بنا پر انسان اس سخت وعید کا حق دار بن جاتا ہے۔ اور رسول اللہﷺ نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتےہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ایسے شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کوہماری اصلاح کاذریعہ بنائے اور ہمیں اس وعید سے بچائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • pages-from-main-jannat-jana-chahta-hon
    عفیفہ بٹ

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں، چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں کی بھر مار ہوتی ہے۔ ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب" مجھے جنت میں جانا ہے"محترمہ عفیفہ بٹ صاحبہ کی کاوش ہے،جو جامعہ لاہور الاسلامیہ سے منسلک بچیوں کی تعلیم کے ادارے اسلامک انسٹی ٹیوٹ کی طالبہ ہیں۔ جس میں انہوں نے اس کمی کو دور کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہےاورقرآن وحدیث کی روشنی میں چار سال سے لیکر سات سال کے بچوں کے لئے بامقصد ودلچسپ انداز میں بنیادی عقائد اور اسلامی تعلیمات کو اردو وانگریزی دونوں زبانوں میں تصاویر کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ اگرچہ کوئی تحقیقی یا علمی کتاب نہیں ہے لیکن سائٹ پر بچوں سے متعلقہ مواد نہ ہونے کے سبب اسے بچوں کے بطور تحفہ پیش کیا جارہا ہے۔(راسخ)

  • title-pages-muftah-ul-jannah
    ابو خزیمہ محمد حسین ظاہری
    تمام انبیاء کرام علیہم السلام ایک  ہی پیغام  اور  دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔ انبیاء کرام  سالہاسال تک مسلسل  اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے  ۔انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے۔  حضرت  نوح   نے ساڑھے نوسوسال   کلمہ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد  مصطفیٰ ﷺ نےبھی  لا اله  الا الله کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔زیرنظر  كتاب ’’مفتاح الجنۃ‘‘ بھی    اس موضوع پر شیخ محمد حسین ظاہر ی کے خطبات کا  مجموعہ ہے۔  اس میں  موصوف نے انتہائی عمدہ انداز میں کتاب وسنت کے دلائل  کی روشنی  میں    لا اله  الا الله   کا معنی ومفہوم،حقیقت ،شرائط کو  تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ اللہ تمام مسلمانوں کو صحیح معنوں میں  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا معنی ومفہوم جاننے او راس کے  مطابق عقیدہ وعمل صالح اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2300 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں