• title-page-aqeeda-aimma-arba-copy
    ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن
    دین اسلام کے چار بڑے ٹکڑے کرنے والوں کیلئے عبرت آمیز کتاب۔  چار مشہور اماموں کے عقائد کا مدلل بیان۔  دور حاضر کے مقلدین اپنے اماموں کے عقائد  مثلاً توحید، تقدیر، ایمان وغیرہ کی مد میں اپنے اماموں سے کس قدر اختلاف رکھتے ہیں، اس کا اندازہ اس کتاب کو پڑھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ مقلدین حضرات کا دعوٰی ہے کہ جس بات پر چاروں امام متفق ہو جائیں وہ اجماع کے درجے میں جا پہنچتی ہے۔ آئیے دیکھیں کہ عقائد کے معاملات جن میں چاروں امام متفق ہیں، کیوں ان کی تقلید کرنے والے ان اجماعی معاملات میں اختلاف کا رویہ اپنائے بیٹھے ہیں۔ ایک روشن اور راہنما تحریر

  • title-pages-aina-e-toheed
    محمد بن اسماعیل صنعانی
    اللہ تعالیٰ کی عبادت انسان کا سب سے اہم فریضہ ہے۔ اس میں غفلت کسی بھی طور مناسب نہیں ہے۔ دور حاضر میں ایسے لوگ بکثرت موجود ہیں جو اللہ کی عبادت میں مختلف چیزوں کو شریک بنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ کوئی اللہ کی بارگاہ میں سربسجود ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ کسی مقبرہ یا مزار پر بھی اپنی جبین رگڑتا ہے کوئی خانہ خدا میں ’یا غوث اعظم‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہے تو کوئی اللہ کے نام پر قربانی دینا اتنا اہم نہیں سمجھتا جتنا صلحائے امت کی قبروں پر جانور ذبح کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ فضیلۃ الشیخ محمد بن اسماعیل صنعانی نے اسی ناسور کو ختم کرنے کے لیے ’تطہیر الإعتقاد عن درن الالحاد‘ کے نام سے کتابچہ لکھا۔ 50 صفحات پر مشتمل اس کتابچے کا اردو  ترجمہ آپ کے سامنے ہے جو کہ سیف الرحمٰن الفلاح نے کیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-akhrit-ki-kitab-copy
    حافظ عمران ایوب لاہوری

    اُخروی زندگی ہی ابدی زندگی ہے جو وہاں کامیاب ہوگیا وہ ہمیشہ جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا رہےگا او ر جو وہاں ناکام ہوا  وہ دوخ میں جلےگا۔ اگرچہ دنیا میں اللہ کاقانون مختلف ہے اور وہ کافرومومن سب کو زندگی کے آخری لمحہ  تک روزی پہنچاتا ہے  لیکن موت کے بعد  دونوں کے  احوال مختلف ہوجائیں گے  جس کا مقصدِ حیات صرف دنیا طلبی ہوگا اسے جہنم کا ایندھن بنادیا   جائے گا اورجو  آخرت کا طلب گار ہوگا اسے جنت کا وارث بنادیا جائے گا۔ اس لیے دنیا میں رہتے ہوئے ہمیشہ اپنی  آخرت ،موت اور حساب کتاب کویادرکھنا چاہیے  اور اسی فکر میں رہنا چاہیے کہ میں نے جہنم  سے بچاؤ اور جنت میں داخلے کے لیے  کیا عمل کیے  ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’آخرت کی کتاب‘‘ فاضل نوجوان ڈاکٹر حافظ  عمران ایوب لاہوری  ﷾کی تصنیف ہے۔موصوف اسکے علاوہ  بھی کئی کتب  کےمصنف ہے ہیں ۔ اس کتاب میں  موصوف نے نفخِ صور ، روز جزا حساب کتاب، قصاصِ مظالم ،نامہ اعمال ،میزان،شفاعت، حوضِ کوثر،پل صراط جنت کی صفات ، جنت کی نعمتیں،جنت میں لے جانےوالے اعمال، عذابِ جہنم ،جہنم کے اوصاف اور آتشِ جہنم سےبچانے والے اعمال جیسے مضامین کو موضوع بحث بنایا ہے۔ اس کتاب کی ایک  اہم  خوبی یہ ہے کہ  اس میں تخریج وتحقیق کا  خصوصی اہتمام کیا گیا ہے اور تمام دلائل کو حوالہ جات کےساتھ مزین کیاگیا ہے اور شیخ البانی کی تحقیق سے بھی خوب استفادہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش  کو  قبول فرمائے اور یہ کتاب  امت مسلمہ کےلیےاپنی آخرت کو بہتر بنانےکا مفید ذریعہ ثابت ہو۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-akhirat
    حبیب الرحمن
    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا چوتھا یونٹ ہے جس میں عقیدہ آخرت پر ایمان، عقیدہ آخرت کی اہمیت، ضرورت اور عملی زندگی پر اس کے اثرات سے متعلق احادیث نبوی اور ان کا ترجمہ اور مفہوم پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مطالعہ کے بعد قارئین پر یہ بات واضح ہوگی کہ عقیدہ آخرت کا مطلب و مفہوم کیا ہے اور عملی زندگی پر اس عقیدہ کے کیا اثرات پڑتے ہیں۔(ع۔م)

  • title-page-akhri-safar-ki-tayari-copy
    ام عثمان

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔موت انسان کےاپنے اصل گھر کی طرف روانگی کی پہلی منزل ہے ۔ دنیا میں رہتے ایک اچھا مسلمان چاہتا کہ اس کاہر قول،عمل اور طرز زندگی اللہ کےحکم کےمطابق ہو اوررسول اللہ ﷺ کی سنت کےموافق ہو ۔ اسے کےچلے جانے کے بعد اس کےلواحقین کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ اس کی آخری رسومات بھی اسی طرح شرعی طریقے سے پوری کرنے کاحق ادا کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آخری سفر کی تیاری ‘‘ محترمہ ام عثمان صاحبہ کی کاوش ہے انہوں نے اس مختصر کتاب میں آسان فہم انداز میں احادیث کی روشنی میں وفات کےفوراً حاضرین کی ذمہ درایاں ،غسل میت کا طریقہ،کفن دینے کاطریقہ،غسل وکفن کے مراحل میں غیر مسنون افعال، جنازہ لے کر جانا، نماز جنازہ کاطریقہ ، میت کی مغفرت کے لیے مسنون دعائیں، تدفین، زیارت قبور، میت کو ثواب پہنچانے کے مسنون وغیر مسنون طریقوں کوبیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے لوگوں کےلیے نفع بخش بنائے اور تما م اہل اسلام کوخاتمہ بالایمان نصیب فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • aap-jannat-main-apne-darjaat-kaise-buland-karsakte-hain-2
    محمد بن ابراہیم النعیم

    جنت اور اس کے متعلق گفتگو کرنا ایک ایسا طویل موضوع ہے کہ اس سے نہ تو انسان اکتاتاہے اور نہ ہی تھکتا ہے۔ بلکہ پاکیزہ نفوس اس سے مانوس ہوتے ہیں اور ذہن اس سے خوب سیراب ہوتا ہے۔ تو ہم میں سے کون ہے جو جنت کی امید نہ رکھتا ہو؟ہر مسلمان کی یہ خواہش اور ارزو ہے کہ اللہ اس کو جنت الفردوس میں داخلہ نصیب کر کے جھنم کی سختیوں سے بچائے،کیونکہ جنت ایک ایسی نعمت لا یزال ہے کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی اور نا ہی عقل اس کا ادراک کرسکتی۔بلا شک وشبہ جنت ہمارا مطلوبہ ہدف اور پختہ امید اور خواہش ہے۔ یہی وہ عظیم جزا اور بہت بڑا ثواب ہے جسے اللہ نے اپنے اولیاء اور اطاعت گزاروں کے لیے تیار کر رکھاہے۔ یہی وہ کامل نعمتیں ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتاہے،اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اس جنت کی جو تعریف کی اور اس کے جو اوصاف بیان کیے ان سے عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔اس لیے کہ ہم اس کی خوبصورتی، عظمت اور درجات کا تصور کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ جنت   میں ایسی نعمتیں   ہیں کہ جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا تک نہیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا کھٹکا ہواہے۔ جو اس میں داخل ہوگیا وہ انعام پاگیا،وہ کبھی محتاج نہیں ہوگا،اس کے کپڑے بوسیدہ نہ ہونگے، نہ اس کی جوانی   ختم ہو گی اور نہ ہی اپنے مسکن سے کبھی اکتائے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آپ جنت میں اپنے درجات کیسے بلند کرسکتے ہیں‘‘جو کہ در اصل ایک عربی زبان کی کتاب ہےشیخ محمد بن ابراہیم نعیم کی جس کا اردو ترجمہ حافظ عبدالماجد﷾ نے کیا ہے۔ جس میں ان ہو نے ان اعمال کا ذکر کیا ہے جو جنت میں ہمارے درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں اور اس کے لیے صحیح   دلائل کو پیش کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر بر اجرے عظیم سے نوازے آمین۔ (شعیب خان)

  • title-pages-iblees-w-shiateen-se-mutaliq-chnd-haqaiq
    عبد الہادی عبد الخالق مدنی
    جنات غیبی مخلوق ہے ،کتاب وسنت کےدلائل کی روح سے جنات کاو جود اور ان کے توالدوتناسل کا باقاعدہ سلسلہ موجود ہے ،سائنس اس سےانکاری ہے لیکن ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ جنات کے وجو د کو تسلیم کرےاوربالخصوص ابلیس لعین کی سازشوں ،اس کی دسیسہ کاریوں اور وسوسوں سے آگاہ ہواور اس کے حملوں سے بچنے کی کوشش کرے ۔کیونکہ ابلیس انسانیت کاکھلا دشمن ہے اور اس کی دلی آرزو یہ ہے کہ کوئی بھی انسان رحمت الہٰی کی مستحق نہ ٹھہرے ۔بلکہ جیسے وہ درگاندہ راہ ٹھہرا ہے،ایسے ہی تمام انسان بارگاہ ایزدی سے دھتکارے جائیں،ابلیس سمیت دیگر جنات کے بارے معلومات کے متعلق یہ ایک اچھی کتاب ہے ،جس کا مطالعہ قارئین کے لیے نہایت معلومات افزا ہو گا اور اس کتاب کو پڑھ کر شیطانی سازشوں اور حملوں سے بچنے میں کافی آسانی ہوگی۔(ف۔ر)
  • title-pages-armaghan-e-hanif
    محمد اسحاق بھٹی
    مولانامحمدحنیف ندوی علیہ الرحمۃ ایک عظیم مفکر،جلیل القدرعالم اورمنفردادیب اوربلندپایہ فلسفی تھے ۔انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پرتیس کے قریب کتابیں تحریرکیں ۔مولانانے قرآن شریف کی تفسیربھی لکھی جوسراج البیان کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوئی ۔مولانامرحوم بے پناہ صلاحیتوں اورخوبیوں سے اتصاف پذیرتھے اوراسلام کے لیے ان کی خدمات انتہائی قابل قدرہیں ۔لیکن افسوس کہ عوام میں بہت کم لوگ ان سے واقف ہیں ۔ارباب ذوق کوان سسے روشناس کرانے کے لیے زیرنظرکتاب ’’ارمغان حنیف ‘‘پیش کی جاری ہے جس میں ان کی خدمات وسوانح زندگی بیان کیے گئے ہیں ۔یہاں اس حقیقت کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ مولاناکی فکرکے بعض پہلوارباب علم وتحقیق کی نگاہ میں محل نظرہیں ۔رحمہ اللہ تعالیٰ۔



  • title-pages-islam-aur-toheen-e-risalat
    پروفیسر ثریا بتول علوی
    اہل مغرب کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر شخصی حملوں نے عصر حاضر میں ہر مسلم و غیر مسلم کے دل میں توہین رسالت کی حقیقت اور سزا کے بارے علم حاصل کرنے کا ایک جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مغرب نے اس بات کو جانچ لیا ہے کہ اسلام کی اصل بنیادیں کتاب اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ لہٰذا کسی نہ کسی طرح ان کے بارے شکوک وشبہات پھیلا کے عام لوگوں کو ان سے متنفر کر دو تو عوام الناس کا بڑے پیمانے پر اسلام کی طرف میلان اور رجحان خود بخود تھم جائے گا۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی حفاظت کے لیے بہت سے اہل علم نے قلم اٹھایا ہے جن میں سب سے پہلے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’الصارم المسلول‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ نے بھی بہت ہی آسان فہم اسلوب بیان میں توہین رسالت کی سزا کی تاریخ اور اس کے شرعی دلائل پرروشنی ڈالی ہے۔علاوہ ازیں مغرب ان سازشوں کو بھی محترمہ نے بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے کہ جن کی تکمیل کے لیے وہ توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں یا نت نئے ڈرامے رچاتے ہیں۔کتاب اپنے موضوع پر صحافتی انداز میں لکھی گئی ایک عمدہ کتاب ہے اگرچہ ایک جگہ محترمہ نے لکھا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کے لیے نیت کا اعتبار نہیں ہو گا، ہمارے خیال میں محترمہ کا یہ قول محل نظر ہے۔ اسلام میں تو ہر عمل کی بنیاد نیت ہے ، یہاں تک کہ کلمہ کفر کہنے اور نہ کہنے میں بھی نیت کا اعتبار کیا گیا ہے۔

  • title-pages-islam-me-imam-mahdi-ka-tasawar-copy
    حافظ محمد ظفر اقبال

    امام مہدی کا تصور اسلام میں احادیث کی بنیادوں پر امت مسلمہ اور تمام دنیا کے نجات دہندہ کی حیثیت سے پایا جاتا ہے؛ اور سنیوں میں ان کے آخرت یا قرب قیامت کے نزدیک نازل ہونے کے بارے میں ایک سے زیادہ روایات پائی جاتی ہیں جبکہ شعیوں کے نزدیک حضرت امام مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری کے فرزند اور اہلِ تشیع کے آخری امام ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشادات تمام مستند کتب مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ میں ملتے ہیں۔ حدیث کے مطابق ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کے وجود کے بارے میں مسلمان متفق ہیں اگرچہ اس بات میں اختلاف ہےکہ وہ پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک اسلامی حکومت قائم کر کے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں عقائد تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں ملتے ہیں جو آخرِ دنیا میں خدا کی سچی حکومت قائم کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشین گوئیاں ملتی ہیں اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مہدی علیہ السلام ہوں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا اور یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان کی آمد اور ان کی نشانیوں کی حدیث میں تفصیل موجود ہے پھر بھی اب تک مہدویت کے کئی جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے اور فنا ہو گئے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام میں امام مہدی  کاتصور"مولانا حافظ محمد ظفر اقبال  فاضل جامعہ اشرفیہ کی مرتب کردہ ہے جو انہوں نے اپنے استاد محترم مولانا محمد یوسف خان صاحب استاد الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور  کے دروس سے حاصل کئے۔اس کتاب میں انہوں نے امام مہدی کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ، نام ونسب، سیرت وحلیہ،علامات ظہور مہدی،صحیحین میں ظہور مہدی سے متعلق احادیث  بیان کی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ و ہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islam-me-pakki-qabron-ki-haisiyat
    محمد بن علی شوکانی
    دین اسلام شرک وبدعات ،افراط وتفریط اور غلو سے پاک دین ہے ۔شرعی دلائل کی رو سے شرک بہت خوفناک گناہ ہے ،جو انسان  کو رب تعالیٰ سے دور کردیتا اور جہنم کاسزاوار قرار دیتا ہے ۔سو شرکیہ عقائد ونظریات سے بچنے اور وہ اسباب ومحرکات جو شرک کا ذریعہ بنیں ،کتاب وسنت کے دلائل ان سے گریز کرنے کی سخت تاکید کرتے ہیں اورانسانو ں کو شرکیہ وکفریہ اعمال و افعال سے اجتناب کی پرزور تلقین کرتے ہیں۔ان شرکیہ او رکفریہ نظریات میں سے انتہائی خطرناک عقیدہ قبرپرستی اورمزارات کی پوجا ہے ۔شریعت اسلامیہ نے قبروں پر قبے او رمزارات تعمیر کرنے سے منع کیا ہے اور قبروالوں سے حاجات پوری کرانے اور انہیں مشکلات میں پکارنے کو حرام قراردیاہے ،قبروں پر قبوں کی تعمیر اورمزارات سازی امت مسلمہ میں شرک کا بہت بڑا محرک ہے ،جس کی وجہ سے امت مسلمہ کی اکثریت شرک جیسے سنگین جرم میں ملوث ہے اورتقدس و عقیدت کی آڑ میں تمام شرکیہ و کفریہ کام جاری ہیں ۔زیرنظر کتاب قبروں کی پختہ تعمیر ،مزارات و درگاہوں  کی تعمیر اور قبروں میں مدفون اولیا کرام کی پوجا پاٹ کی حرمت پر ایک شاندار علمی تصنیف ہے۔(ف۔ر)
  • title-pages-islami-aqeeda-sawalan-jawaban
    محمد بن جمیل زینو
    زیر تبصرہ رسالہ فضیلۃ الشیخ محمد بن جمیل زینو کے اسلامی عقائد بارے لکھے گئے نہایت جامع کتابچے ’خذ عقیدتک من الکتاب والسنۃ الصحیحۃ‘ کا ترجمہ ہے۔ جسے شیخ الحدیث عبدالستار حماد نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ رسالہ میں توحید اور دیگر عقائد نہایت عام فہم انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ رسالے کا اسلوب سوالاً جواباً ہے جو خاصا مفید اور دلچسپ ہے۔ ہر جواب کے ساتھ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے دلیل دی گئی ہے تاکہ پڑھنے والے کو جواب کے صحیح ہونے کا اطمینان ہو جائے، اس لیے کہ ’عقیدہ توحید‘ ہی انسان کی دنیوی اور اخروی کامیابی و سعادت کی بنیاد ہے۔ رسالہ کے آخر میں موضوع کی مناسبت سے عقیدہ توحید سے متعلق علامہ عبدالرزاق ملیح آبادی رحمۃ اللہ علیہ کا نہایت جامع مضمون، جو انہوں نے 1925ء میں ’کتاب الوسیلۃ‘ اردو ایڈیشن کے مقدمے کے طور پر لکھا تھا، شامل کیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • islamiaqeedakitabosunnatkiroshnimain-copy
    محمد بن جمیل زینو
    عقیدے کے موضوع پر بے شمار تصنیفات موجود ہیں اور لکھی جا رہی ہیں جن میں کچھ متقدمین یونانی فلسفے سے متاثر ہیں یا پھر متکلمانہ اور مناظرانہ اسلوب بیان کی حامل ہیں اور بعد ولوں میں کچھ جدید رجحانات کی وجہ سے متاثر ہو کر بعض لوگوں نے سائنس کی نت نئی موشگافیوں کو لے کر عقائد کو ثابت کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے اکثر مصنفین افراط وتفریط کا شکار ہو گئے کیونکہ سائنس غیبی امور سے متعلق گفتگو نہیں کر سکتی جبکہ عقیدے میں اکثر امور کا تعلق غیب سے ہی ہے اس لیے عقیدے کو سمجھنے کے لیےسب سے بہترین چیز قرآن اور حدیث ہی ہے جس میں نہ تو نت نئی موشگافیوں کو عمل دخل ہے اور نہ ہی افراط وتفریط اور نہ اٹکل پچو سے کام لیا گیا ہے بلکہ جس اللہ کی ذات کے بارے میں عقیدہ اور فرشتوں کے بارے میں عقیدہ ہونا چاہیے وہ خود اللہ رب العزت نے بیان کر دیا ہے جو کہ بالکل برحق اور سچ ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں اسلام اور ایمان کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے بعد اللہ تعالی کے بندوں پر کیا حقوق ہیں اور بندوں کے اللہ تعالی پر کیا حقوق ہیں اس چیز کو واضح کیا ہے اور اسی طرح توحید کی اقسام،شرک کی اقسام،کلمہ طیبہ کی شرائط،عقیدہ توحید کی اہمیت،قبولیت عمل کی شرائط،اسلام کے حکموں کے مطابق دوستی اور دشمنی کے اصول،اللہ کے دوست اور شیطان کے دوست کون لوگ ہیں،اور اسی طرح توحید کے فوائد کے ساتھ ساتھ شرک کے نقصانات کو بھی بیان کیا ہے-اور سب سے بڑھ کر خوبی یہ ہے ان تمام بحثوں کو الگ الگ موضوع کے تحت سوال وجواب کی صورت میں بیان کیا ہے جس سے کسی بھی بات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

  • tilte-pages-islami-maheny-aur-bidat-e-murawja
    تفضیل احمد ضیغم ایم اے

    ہمارے ہاں جس قدر مسلکوں اور فرقوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ بدعات و غیر شرعی رسومات ہمارے معاشرے کا جزو لاینفک بنتی جا رہی ہیں۔ ماہ محرم میں شادیوں پر پابندی ہے تو صفر نحوست کا مہینہ، ربیع الاول میں عید ایجاد کی جا رہی ہے تو رجب میں کونڈوں کے مزے لوٹے جا رہے ہیں۔ پیش نظر کتاب اسی موضوع سے متعلق علمی ذوق رکھنے والے بزرگ محترم شیخ حافظ عبدالسلام بن محمد کی قابل قدر کاوش ہے، جس میں خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں مروج بدعات سے متعلق ان تمام حقائق کو سپرد قلم کیا گیا ہے جن کو تعصب کی عینک نے دھندلا دیا ہے۔ شیخ موصوف نے با حوالہ تمام تحقیقی مواد کو پیش کرتے ہوئے لوگوں کو دعوت فکر دی ہے کہ ان چیزوں سے مکمل احتراز کریں جن کا دین سے دو ر کا بھی تعلق نہیں ہے۔

     

  • title-pages-al-irshad-ila-sabeele-alrishad-copy
    محمد شاہجہانپوری

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت شریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں  امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔زیر نظر کتاب  الارشاد الی سبیل الرشاد فی امرالتقلید والاجتهاد از مولانا ابو یحیٰ  محمد شاہجہان پوری  تقلید  واجتہاد کے موضوع پر  ایک بے  نظیر کتاب ہے  تقلید کی  پوری تاریخ  اس میں  درج ہے  او ر اس میں  اہل تقلید او راہل حدیث  کے طرز ِ عمل  کا موازنہ نہایت شرح وبسط کے ساتھ مدلل طور پر کیا گیا ہے  او رمعترضین کے  جملہ  اعتراضات  کے شافی ومسکت  جوابات  دئیے  گئے دراصل یہ کتاب  مولانا رشید احمد گنگوہی  کے  رساله الشمس اللامعة في كراهة الجماعة الثانية کے جواب  لکھی  گئی ہے  الله  تعالی  مصنف کے درجات بلند  فرمائے  اور  اہل علم کے لیے  اسے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-al-braheen-al-qatiya-fi-radd-il-anwaar-al-satiah
    محمد عبد الجبار عمرپوری
    نبی کریمﷺ پر دین مکمل ہوچکا ہے اب اس میں کسی بھی کمی یابیشی کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ مختلف تاویلات کے ذریعے دین میں بدعات کا دروازہ کھولنے کی سعی کرتے ہیں۔ صاحبان علم و عمل شروع دن سے بدعات کے خاتمے کے لیے ہمہ تن رہے ہیں۔ زیر نظر کتابچہ میں بھی بدعات کو ثابت کرنے کے حوالے سے جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں ان کا محاکمہ کیا گیا ہے۔ یہ رسالہ مولانا عبدالغفار حسن رحمۃ اللہ علیہ کے دادا مولانا عبدالجبار نے 1905ء میں تحریر فرمایا۔ کتابچے کی افادیت کے پیش نظر مولانا صہیب حسن نے اس کو جدید اسلوب اورکتابی صورت میں پیش کیا ہے۔ فارسی اور عربی تراکیب کا ترجمہ حاشیہ میں دے دیا گیا ہے، اور جو احادیث یااقوال حوالہ کے محتاج تھے ان کے حوالے بھی درج کر دئیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-balagh-al-mubeen-fi-ahkam-rabb-ul-alameen-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا  کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا  وغیرہ ایسے اعمال جو  شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"البلاغ المبین فی احکام رب العلمین واتباع خاتم النبین" حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کی فارسی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا محمد علی مظفری صاحب نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں قبر پرستی کی حرمت اور شرک کی مذمت پر گفتگو کی ہے۔مولف کی اس کے علاوہ بھی متعدد کتب ہیں، جو تقلید کے خاتمے اور شرک کی مذمت پر مبنی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی فروغ دین کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-assaarim-ul-maslool-alaa-shatimirrasool
    امام احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ
    جاہلیت جدیدہ کے علم برداروں نے آزادی اظہار کے نام  پر انبیائے کرام علیہم السلام کو بالعموم او رحضور حتمی المرتبت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و اہانت کو اپنا منتہائے نگاہ ٹھہرا لیا ہے،جس کے مظاہر حالیہ چند برسوں میں مختلف یورپی ممالک میں دیکھنے کو ملے۔ان حالات میں یہ لازم تھا کہ جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس و تعظیم کے تصور کو اجاگر کیا جاتا اور توہین رسالت کی شناعت و قباحت اور اس کی سزا وعقوبت کو کتاب وسنت کی روشنی میں واضح کیا جاتا۔اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کرامت کہیے  یا عنداللہ ان کی مقبولیت کہ ناموس رسالت کے دفاع و تحفظ پر جو کچھ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے قلم سے نکلا ہے سات صدیوں  سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اس قدر جاندار،زندہ اور مدلل ہے کہ اس مسئلہ میں آج بھی سند اور اولین مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔زیر نظر کتاب حضرت شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے خاص اسی مسئلہ پر تحریر کی ہے اور اپنے خاص انداز تحریر میں اس قضیہ کے ہر پہلو پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔اس کتاب کے حسن قبول کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو شیخ الاسلام کے سخت ناقد اور مخالف ہیں وہ بھی اس کا اردو ترجمہ کر کے شائع کر رہے ہیں،جیسا کہ اس سے قبل اس ترجمے کو اسی ویب سائٹ پر پیش کیا جا چکا ہے۔اب معروف سلفی عالم اور مصنف و مترجم جناب پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم کا ترجمہ  پیش کیا جارہا ہے۔جو اگرچہ کافی عرصہ سے موجود ہے تاہم اس کی نئی طباعت حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے عقیدہ ناموس رسالت میں پختگی آنے کی اور جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و الفت کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ

  • title-pages-azab-e-qabar-ki-haqiqat-copy
    ابو محمد بدیع الدین راشدی

    عقیدہ عذاب قبر قرآن مجید،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔جس طرح دنیا میں آنے کے لئے ماں کا پیٹ پہلی منزل ہے،اور اس کی کیفیات دنیا کی زندگی سے مختلف ہیں،بعینہ اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کے اعتبار سے قبر کا مقام اور درجہ ہے،اوراس کی کیفیات کو ہم دنیا کی زندگی پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں لیکن اسلام کی خانہ زاد تشریح پیش کرنے والے بعض افراد قرآن وحدیث کی صریح نصوص سے سر مو انحراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’عذاب قبر کی حقیقت‘‘ شیخ العجم والعرب سید بدیع الدین شاہ راشدی ﷫ کا عقیدہ عذاب کے متعلق شاندار رسالہ ہے یہ رسالہ انہوں نے ہندوستان کے شہر جودھپور کے ایک مولوی کا عذاب قبر کے متعلق تحریر کردہ رسالہ بنام ’’ الجزاء بعد القضاء ‘‘ کے جواب میں تحریر کیا ۔ الجزاء بد القضاء کے مصنف نے اپنے اس رسالہ میں عقیدہ عذاب قبر کےسلسلہ میں قرآن وسنت کے صریح نصوص کا انکار کیا تو سید بدیع الدین شاہ راشدی نے قرآن وسنت کےٹھوس دلائل کے روشنی میں زیر تبصرہ رسالہ ’’ القضاء والجزاء بامر اللہ متی یشاء‘‘ کے نام سے اس کے جواب میں تحریر کیا ہے اور اس میں جودھپوری صاحب کےتمام باطل نظریات واعتراضات کے تسلی بخش جوابات دیے اور خوب ان کا علمی پوسٹ مارٹم کیا ۔(م۔ا)

  • Title Page---Allah Aur Insan
    حافظ مبشر حسین لاہوری
    مصنف نے اس کتاب میں معاشرتی برائیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہر کی قباحت اور شرعی حکم کو بیا ن کیا ہے- ان معاشرتی بداخلاقیوں اور کبیرہ گناہوں کو مختلف ابواب کے تحت بیا ن کیا ہے-مصنف نے کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے سات مختلف ابواب میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہر باب کو مختلف فصول میں تقسیم کیا ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں جن موضوعات کا احاطہ کیا ہے وہ اجمالا درج ذیل ہیں:حیا کی فضیلت و اہمیت،شرک و تکبیر سے اجتناب،زبان کی حفاظت،جھوٹ وغیبت سے اجتناب اور نقصانات،گالی گلوچ سے اجتناب،پردے کا احکام،حرام مال سے اجتناب،حرام مال کے مختلف ذرائع،مدارس کے مال اور مختلف خیراتی اداروں کے مال کو خرچ کرنے میں احتیاط کو مدنظر رکھنا،دنیا کی محبت ،مال کی محبت اور بخل سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت واہمیت،سخاوت اور مہمان نوازی کی اہمیت وفضیلت،بغض وعداوت سے بچتے ہوئے تزکیہ نفس کی ضرورت واہمیت کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس چیز پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کو ہروقت اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے-اس کے علاوہ بے شمار شاندار موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے-

  • ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں

    اللہ کہاں ہے؟ یہ ایک محض ایک سوال ہی نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالیٰ  کی ذات مبارک سے متعلق ہے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہیں،لیکن اﷲ تعالیٰ کے عرش پر مستو ی ہو نے کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے جس طرح اﷲتعالیٰ کی شان کے لا ئق ہے اسی طرح وہ عرش پر مستوی ہے ہماری عقلیں اْس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ہرجگہ موجود ہے کیونکہ وہ مکان سے پاک اور مبرا ہے البتہ اْس کا علمِ اور اس کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے، اْس کی معیت ہر کسی کو حا صل ہے جس کی وضاحت کتب عقائد میں موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟‘‘ جمعیت اہل حدیث سندھ کے ایک اسکالر ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں ﷾ کی کاوش ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کہاں ہے کے عقیدے کو واضح کیا ہے اور سلف صالحین ائمہ محدثین﷭ کا موقف بھی بڑے واشگاف الفاظ میں باحوالہ بیان کردیا ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں معلومات کاگنجینہ اور براہین کاخزینہ ہے ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور ہمیں عقیدہ صحیحہ پر قائم دائم رکھے ۔(آمین) (م۔ا)

  • allah-kahaan-hai
    پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری

    دنیا جہان میں مختلف ذہنیتوں کے اعتبار سے اختلاف کا ہونا ایک فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سارے مسالک و مذاہب پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر ہے اور اس کے مخالفین راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق ایسا گروہ حق پر ہے جس کا عمل نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کے عین مطابق ہے۔ دنیا جہان میں کچھ ایسے بھی فرقے پائے جاتے ہیں جو اللہ رب العزت کی صفات میں افراط و تفریط کا شکار ہونے کی وجہ سے راہ اعتدال سے دور ہو گئے۔ ان میں سے معتزلہ، جہمیہ، اشاعرہ، ماتریدیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں، یہ فرقے اللہ تعالیٰ کا استوا علی العرش، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ،پنڈلی، نزول آسمانِ اول اور وہ تمام صفات الٰہی جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں ان میں تلاویلات و تحریفات اور تعطیلات کے قائل ہیں۔ جبکہ فرقہ ناجیہ طائفہ منصورہ اہل سنت و الجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ تمام صفات برحق ہیں اور ان پر ہمارا مکمل ایمان و ایقان ہے۔ ہم بغیر کسی تاویل، تعطیل، تکییف، تشبیہ کے ان پر ایمان لاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب "اللہ تعالیٰ کہاں ہیں" حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوریؒ کا خطبہ جمعہ ہے جسے معروف محقق اعجاز احمد تنویر حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔ مولانا بہاولپوریؒ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا ان کا انداز بیاں سادہ اور قرآن و سنت کے دلائل کے بعد ایسی عقلی توجیہات، سادہ مثالوں سے بات سمجھاتے کہ مخالف کے دل میں اتر جاتی۔ مولانا بہاولپوریؒ نے اپنے اس خطبہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کا استوا علی العرش ہونا، معجزہ کیا ہے، تقلید اور اتباع میں فرق اور دیگر اہم موضوعات پر قرآن و سنت سے دلائل دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کہ میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • title-page-allah-say-jang
    سلیم رؤف

    یہ چھوٹا سا کتابچہ محترم سلیم رؤف صاحب کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل زیر تبصرہ کتابچہ کا موضوع سود کی لعنت اور اس کی وجہ سے ہونے والا دنیوی و اخروی عذاب ہے۔ دردمندانہ انداز میں لکھی گئی ایک خوبصورت اصلاحی تحریر ہے۔

     

  • allah-azzawjal-ki-pehchan
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    دین اسلام دین توحید ہے اور توحید کی اصل معرفت باری تعالیٰ ہے۔ ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے محسن ومنعم اور خالق ومالک کے بارے زیادہ سے زیادہ معلومات اور تعارف حاصل کرے۔ زیر تبصرہ کتاب کا اصل مقصود بھی یہی ہے۔ اس کتاب میں معرفت حق سبحانہ وتعالیٰ کے بارے کتاب وسنت کی نصوص کو حسن ترتیب سے جمع کر دیا گیا ہے۔ یہ کتاب ہمیں اپنے خالق ومالک حقیقی کے بارے ایسی مستند معلومات فراہم کرتی ہے کہ جس سے قلوب انسانی میں اپنے رب کی محبت اور اس کے لیے شکرگزاری کے جذبات نہ صرف پیدا ہوتے ہیں بلکہ بڑھ بھی جاتے ہیں۔
    یہ کتاب توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء وصفات کی ابحاث کو سمیٹے ہوئے ایک عام مسلمان کے لیے اس کے رب کی حقیقی معرفت کو نہایت آسان فہم انداز میں ممکن بناتی ہے۔ کتاب کا بنیادی موضوع معرفت خداوندباری تعالیٰ ہے اور اس موضوع پر یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اپنے عاجز بندوں کی اس حقیر کوشش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین!(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں



  • title-pages-allah-kahan-he
    عادل سہیل ظفر
    اللہ کہاں ہے؟ کتاب کا مذکورہ بالا عنوان محض ایک سوال نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالی  کی ذات مبارک سے متعلق ہے،دیگر بہت سے عقائد  کی  طرح اس عقیدے میں بھی ایسی بات کو اپنایا جاچکا ہے اور اس کی تشہیر و ترویج کی جاتی ہے جو بات قرآن کریم ، رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین، تبع تابعین اور امت کے آئمہ رحمہم اللہ اجمعین  کی تعلیمات کے خلاف ہے۔اس کتاب میں اسی غلطی کو واضح کیا گیا ہے۔وللہ الحمد۔(ک۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-allah-ki-nashaaniyaan
    ہارون یحییٰ

    الحاد، لادینیت اور انکار خدا اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس کی بنیاد اہل سائنس نے مغرب میں رکھ دی ہے۔ ہارون یحی جمہوریہ ترکی کے ایک نامور قلم کار ہیں اور وہ اپنی تحریروں میں جدید مادہ پرستانہ افکار اور نظریات کا شدت سے رد کرتے ہیں۔ ہارون یحی کے خیال میں سائنس اور یہودیوں کی فری میسنز تحریکوں نے انکار خدا کے نکتہ نظر کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہارون یحی کے بقول مادہ پرستوں کے پاس اس کائنات کی تخلیق کی واحد بھونڈی دلیل ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے جس کے حق میں وہ بغیر سوچے سمجھے دلائل دیتے چلے جاتے ہیں اور اس نظریہ کے دفاع کے لیے کٹ مرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں دو نظریات کو بہت پذیرائی ملی ایک ڈارون کا نظریہ اور دوسرا بگ بینگ تھیوی۔ یہ دونوں نظریات اس دوسرے کے مخالف ہیں۔ ڈارون کی تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے بلکہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور اپنی شکلیں تبدیل کرتا رہا ہے یعنی مادہ نے ارتقاء کے مختلف مراحل طے کر کے اس کائنات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ا س تھیوری کے مطابق مادہ دائمی ہے، ازل سے ہے اور مستقل حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس سائنس دنیا میں ایک جدید تھیوری بگ بینگ کے نام سے پیش کی گئی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کائنات اور مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور ایک وقت میں یہ کائنات اور مخلوقات یک دم بغیر کسی ارتقاء سے گزرے ہوئے وجود میں آ ئے ہیں۔ بگ بینگ کی تھیوری کو ماننے کا لازمی نتیجہ ایک خالق کو ماننا نکلتا ہے۔ اپنی اس کتاب میں ہارون یحی نے بگ بینگ کی تھیوی کی وکالت کی ہے اوراسے سائنس اور قرآن سے صحیح ثابت کیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ہارون یحی، اہل سائنس کی طرح محض بگ بینگ ہی کو نہیں مانتے بلکہ وہ اسے ایک منظم اور بامقصد دھماکہ قرار دیتے ہیں جس سے ایک منظم اوربامقصد کائنات پیدا کی گئی ہے جس کا نظم اور مقصدیت اس کے خالق کے وجود اور وحدہ لاشریک ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

  • title-pages-jannat-copy
    امام شمس الدین محمد بن ابی بکر بن القیم الجوزیہ

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمہارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر تبصرہ کتاب’’اللہ کے محبوب بندوں کی آخری جنت ترجمہ حادی الارواح ‘‘ملت اسلامیہ کے عظیم مصلح ومحدث ،مجتہد امام ابن قیم الجوزیہ﷫ کی کتاب ’’ مختصرحادی الارواح الی بلاد الافراح ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں امام موصوف نے تفصیل کےساتھ جنت کی چابی ، جنت کی وسعت ، اس کی تعداد ، اہل جنت کے اوصاف ، وہاں کےعیش وآرام، جنت کی خوش نصیب خواتین، جنت کے بیش بہا محلات ، حوریں ، خدام ، جنت کے بازار،اللہ تعالیٰ کادیدار، اللہ تعالیٰ کےعرش وکرسی کا ذکر وغیرہ کا ایسا تفصیلی ذکر کیا ہے کہ جس کوپڑھ کر جنت کی ایک ایسی تصویر ذہن میں آتی ہے جسے اللہ اور اس کے رسولﷺ نےذکر فرمایا ہے ۔ ورنہ جنت تو حقیقت میں ہمارے وہم وخیال سے بالاتر ہے ۔نیز اس کتاب میں ان خوش نصیب مومنوں کا بھی ذکر ہے جن کےلیے بطور انعام جنت بنائی اور سنواری گئی ہے اور ان اعمال کابھی تفصیل کےساتھ ذکر کیاگیا ہے جن کی وجہ سے یہ جنت ان عاملین اور محبین کےلیے مخصوص کی گئی ہے کہ جنہیں قرآن مجید نے انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کہہ کر پکارا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کتاب ، مترجم وناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م ۔ا)

  • title-pages-al-musnad-fi-azaab-e-al-qabar
    محمد ارشد کمال
    روح اور بدن کی جدائی کا نام  موت ہے۔ موت  عالم دنیا سے عالم آخرت میں داخلے کا ذریعہ ہے،جہاں سے انسان کی ابدی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ عالم آخرت کے دو مرحلے ہیں ایک عالم برزخ ،یعنی موت سے لے کر حساب وکتاب کےلیے دوبارہ اٹھائےجانے تک، اور دوسرا مرحلہ دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد یعنی عالم حشر سے شروع  ہوگا۔ عالم برزخ میں ملنے والی سزا کو عذاب قبر کہا جاتا ہے۔ عقیدہ عذاب قبر اس قدر اہم ہے کہ اس  پر بڑے بڑے محدثین اور آئمہ کرام رحمہم اللہ اجمعین نے باقاعدہ کتب تالیف فرمائی ہیں۔ جیسا کہ امام بیہقی  نے ’’ اثبات عذاب قبر‘‘ امام ابن ابی الدنیا نے ’’کتاب القبول اور کتاب الاہوال‘‘ امام قرطبی نے ’’التذکرہ‘‘ امام ابن رجب نے ’’اھوال القبور ‘‘ امام ابن قیم نے ’’ کتاب الروح‘‘ اورامام  جلال الدین سیوطی نے ’’ شرح الصدور‘‘ جیسی گراں قدر کتب تالیف فرمائیں۔ مگر عقلی گمراہیوں  میں مستغرق بعض  بے دین حضرات نے محض اس وجہ سے عذاب قبر کا انکارکردیا کہ یہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے،  اور ہماری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی ہے۔ ان کی یہ بات انتہائی جاہلانہ اور احمقانہ  ہے،  کیونکہ اس کائنات میں کتنی ہی ایسی اشیاء ہیں، جن کا وجود مسلم ہے، لیکن ہمیں وہ نظر نہیں آتی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’ المسند فی عذاب القبر ‘‘ فاضل مؤلف محمد ارشد کمال  کاوش ہے۔اس میں انہوں نے  عذاب قبر کے اثبات پر ڈیڑھ سو کے قریب صحیح وصریح  مرفوع وموقوف احادیث جمع کر دی ہیں،اورعذاب قبر کےحوالے سے  پیدا ہونے والے بعض اہم مسائل پر  تسلی بخش اور مدلل بحث کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(ک،ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-umm-ul-kitab-mein-allah-ka-taaruf
    محمد ابو الخیر اسدی

    ہم مختلف لوگوں سے سنتے ہيں جو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان کی اپنی عقل وسمجھ کے مطابق کرتے ہيں، اور بعض مسلمان انہی نظريات اور افکار سے متاثر ہو جاتے ہيں۔ اللہ تعالی کے تعارف کو سمجھنے اور اس کے متعلق علم حاصل کرنے کا سب سے بہترين ذريعہ خود اللہ رب العالمين، قران مجيد اور رسول اللہﷺ کا اللہ تعالیٰ کے متعلق تعارف کروانا ہے، جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے فہم کے مطابق سمجھنا چاہيے۔ اللہ تعالیٰ جو اس کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے قرآن کو نازل فرمايا تاکہ ہم اپنی زندگی کو بامعنیٰ بنائيں اور آخرت ميں کامياب ہوں، اگر ہم قران مجيد پر کھلے دل اور دماغ سے غور کريں گے تو ہميں اللہ تعالیٰ کا حقيقی تعارف حاصل ہو سکے گا جس کے ذريعہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق کو سمجھ سکیں گے اور اس کی خالص بندگی کرنے ميں ہميں مدد ملےگی جيسے کے اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ لفظ ’’ اللہ ‘‘يہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، جو صرف اللہ ہی کے ليے خاص ہے کوئی اور ذات اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ لفظ "اللہ" کا معنی يہ ہے کہ "وہ اوصاف کاملہ اور صفات جامعہ کى مالک ذات جو ساری مخلوق کی عبادت کى اکىلى حقدار اور مستحق ہے"۔ اللہ تعالی کا يہ نام قرآن کريم میں سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے تمام افعال میں یکتا اور اکیلا ہے اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق، مالک اور مدبر ہےاور ساری کائنات کا نظام وہی چلا رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب(پالنے والا) ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ناموں اور صفات میں اکیلا ،منفرد اور جداہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے ’’اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔ (الأعراف: 180) اللہ تعالیٰ کاصحیح تعارف حاصل کرنے کابہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید، احادیث صحیحہ اور آسمان وزمین موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ام الکتاب میں اللہ کا تعارف‘‘علامہ ابو الخیر اسدی﷫ کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کاتعارف پیش کیا ہے۔ کیونکہ اس سورت میں معرفت الٰہیہ، رسالت، آخرت کواجمال کے طورپر بیان کیاگیا ہے۔ باقی سارے قرآن میں ان تینوں اصولوں کی تفصیل کے ساتھ تشریح کی گئی ہے۔ (م۔ا)

  • title-ummat-aur-shirak-ka-khatra
    ابوالاسجد محمد صدیق رضا
    انبیاء و رسل کی بعثت کے مقاصد میں سے عظیم ترین مقصد عقیدہ توحید کی شمع کو روشن کرنا تھا اور اللہ کے بندوں کو شرک کی اندھیر نگری سے نکالنا تھا۔ چنانچہ انبیاء و رسل کے ذھبی سلسلہ کی ابتداء حضرت آدم اور انتہا سرور دو عالم حضرت محمدؐ ہیں۔ آپؐ نے جہاں عقیدہ توحید کو واضح کیا وہاں شرک کی تردید کے لئے بھی سعی مسلسل برقرار رکھی۔ رسول کریم ﷺ نے جو پیشین گوئیاں فرمائی ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی وحی میں شامل ہیں۔ ان پیشین گوئیوں میں سے ایک بڑی پیشین گوئی یہ بھی ہے کہ امت مسلمہ میں سے بعض لوگ مشرکین کے ساتھ مل جائیں گے اور اوثان (بتوں، قبروں وغیرہ) کی عبادت کریں گے۔ اس کے برعکس عصر حاضر میں بعض اہل بدعت نے عجیب و غریب بلکہ کتاب و سنت کے منافی دعویٰ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امت مسلمہ میں شرک کبھی نہیں ہو گا۔ زیر نظر کتاب میں کتاب و سنت کی روشنی میں مذکورہ مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ (م۔آ۔ہ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1377 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں