تاریخ فرشتہ جلد دوم(6958.1#)

محمد قاسم فرشتہ
عبد الحئی خواجہ
المیزان ناشران و تاجران کتب، لاہور
338
8450 (PKR)
8.6 MB

ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔تاریخ ہندوستان  کے متعلق بے شمار کتب  موجود ہیں   ان  میں سے تاریخ فرشتہ  بڑی اہم کتاب ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ تاریخ فرشتہ ‘‘محمد قاسم فرشتہ (متوفی 1620ء) کی تصنیف ہے ہندوستان کی عمومی کتب ہائے تواریخ میں سے ایک مشہور تاریخی کتاب ہےیہ ہندوستان کی مکمل  تاریخ  ہے ۔ محمد قاسم فرشتہ نے  یہ کتاب ابراہیم عادل شاہ ثانی، سلطانِ بیجاپور (متوفی 1627ء) کے حکم سےفارسی زبان میں تصنیف کی صاحب کتاب  نے  اِسے ’’گلشن ابراہیمی‘‘ کا نام دیا مگر عوام میں یہ تاریخ فرشتہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ممبئی کے انگریز گورنر لارڈ الفنسٹن نے پہلی بار نہایت اہتمام کے ساتھ بڑی تقطیع کی دو ضخیم جلدوں میں  1832ء میں اسے  شائع کروایا۔ اِس کے بعد لکھنؤ سے مطبع منشی نول کشور نے اِس کے متعدد ایڈیشن شائع کیے جو1864ء، 1865ء اور 1884ء میں شائع ہوئے۔ انگریزی زبان میں اِس کے بیشتر تراجم شائع ہوئے ہیں جن میں پہلا انگریزی ترجمہ 1868ء میں لندن سے شائع ہوا تھا۔ اردو زبان میں پہلا ترجمہ 1309ھ میں لکھنؤ سے مطبع منشی نول کشور نے شائع کیا تھا۔زیر تبصرہ  ترجمہ  عبدالحئی خواجہ کا ہ ے  جو انہوں نفیس اکیڈمی کراچی کی فرمائش پر کیا  تھا جسے نفیس اکیڈمی  نے دو جلدوں میں شائع کیا زیرتبصرہ  نسخہ چار جلدوں میں    ہےجوکہ  المیزان ،لاہورکا مطبوعہ ہے ۔(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

خاندان سادات

365

سید خضر خان بن ملک سلیمان

365

امارت

365

خضر خاں کا حسب ونسب

365

عہدے اور مراتب

365

خضر خاں کا انتقال

367

معز الدین ابو الفتح مبارک بن خضر خاں

369

جاگریں اور عہدے

369

مبارک شاہ کی فتوحات

369

میوات پر حملہ

372

ملک فدوی کی گرفتاری

373

فتح خاں کی موت

375

امیر شیخ کا حملہ

376

مبارک آباد کی بنا

377

مبارک شاہ کا قتل

377

محمد شاہ بن فرید خاں بن خضر خاں

379

محمد شاہ کی تخت نشینی

379

سرور الملک کا قتل

380

جاگیریں اور عہدے

380

مہملت

380

سلطان محمود خلجی کا حملہ

381

محمد شاہ کا انتقال

382

سلطان علاؤ الدین بن سلطان محمد شاہ

383

کردار

383

مہمات

383

استحکام سلطنت کی تجاویز

383

دیپالپور کا سفر

384

علاؤ الدین کا انتقال

384

سلطان بہلول لودھی

385

لودھی خاندان

385

اسلام خاں کا اقتدار

385

حمید خاں کی گرفتاری

388

مہمات

388

وسعت سلطنت کی تدابیر

388

جونپور کا سفر

389

شمس آباد میں وردو

390

حسین مشرقی کی والدہ کا انتقال

390

سلطان حسین شرقی کا گوالیار جانا

391

بہلول کی بیماری

393

بہلول لودھی کا انتقال

393

سلطان عادل نظام خاں سکندر لودھی

395

تخت نشینی

395

امرائے سلطنت

395

جاگیریں اور عہدے

396

مہمات

396

شمس آباد کا سفر

397

حاکم بنگالہ پر حملہ

398

سنبھل میں قیام

399

حاکم بیانہ کا انتقال

400

غیر مسلموں کی تباہی وبربادی

401

قلعہ نرو ر کی فتح

402

شہاب الدین شہزادہ مالوہ کی آمد

403

دھولپور کی روانگی

403

چند یری میں خطبہ وسکہ

404

سکندر لودھی کا انتقال

405

سکندر لودھی کا کردار شخصیت

405

شیخ بہاؤ الدین سے عقیدت

406

سکندر کی دانشمندری کا ایک وقعہ

406

علمی ذوق

406

نصیر الدین ہمایوں

450

ہمایوں کی تخت نشینی

450

قلعہ کا لنجر کا فتح

450

بہادر شاہ کی ہنگامہ خیزی

451

چتوڑ کی فتح کا ارادہ

451

بہادر شاہ اور ہمایوں میں جنگ

452

گجراتیوں پر حملہ

453

بہادر شاہ کا تعاقب

453

قلعہ پر قبضہ

453

احمد آباد پر قبضہ

454

برہان پور کو روانگی

454

شیر خاں

455

بنگال کا رخ

455

کامران مرزا کا خواب حکمرانی

456

صلح کی گفتگو

457

بد عہدی

457

لشکر کی ابتری

458

ہمایوں کا فرار

458

سیوان کا محاصرہ

459

راجہ مالدیو کی بدنیتی

459

اکبر کی ولادت

460

ہمایوں سیستان میں

460

ہرات میں ورود

460

نظام الملک کا اقتدار

661

نظام الملک اور عمادی پر ناکام قاتلانہ حملہ

662

نظام الملک کا شہر سے چلے جانا

662

نظام الملک یک واپسی

662

ملک احمد کی روانگی جنیر

662

قوام الملک صغیر کی بغاوت

662

بیٹے کا خط باپ کے نام

663

زین الدین علی کا خط یوسف عادل کے نام

663

نظام الملک کا زوال

663

نظام الملک کی بغاوت

664

وپسند خاں کی چال

664

نظام الملک کا قتل

664

محمود شاہ کی عیاشی

664

بادشاہ کے قتل کی سازش

664

دشمن کی ناکامی

665

معرکہ آرائی

665

بادشاہ کی خوش قسمتی

665

باغیوں کا قتل

665

قتل عام

666

جشن مسرت

666

سیاسی ابتری

666

قاسم کا غلبہ

667

قاسم برید اور دلاور حبشی کا معرکہ

667

دلاور خاں حبشی کی موت

667

قاسم کی میر جملکی

668

والی بیجا نگر کا یوسف عادل پر حملہ

668

ملک احمد کا عزم بیدر

668

محمد شاہ گجراتی کی شکایت

669

بہادر گیلانی سےجنگ کی تیاریاں

669

بہادر گیلانی

669

بہادر گیلانی کی دست درازیاں

669

بادشاہ کا فرمان

670

بادشاہ کی روانگی ارو جام کھنڈی میں جنگ

670

قلعہ منگیر پر قبضہ

370

بہادر گیلانی کو دوستوں کا مشورہ

671

شرائط صلح

671

بہادر گیلانی کا بڑا بول

671

قلعہ کی فتح

671

بادشاہ کا عزم کو لاپور

671

بہادر گیانی کی ندامت

672

عہد نامہ صلح

672

خواجہ جہاں اور بہاد گیلانی میں جنگ

672

بہادر گیلانی کا قتل

673

بادشاہ کی بیجا کوروانگی

673

احمد شاہ بہمنی بن سلطان محمد شاہ بہمنی المعروف بہ احمد شاہ ثانی

679

تخت نشینی

679

برائے نام بادشاہت

679

مرصع تاج کا ٹوٹنا

679

انتقال

679

علاؤ الدین بن احمد شاہ

680

تخت نشینی

680

عقل وفراست

680

آزادانہ زندگی

680

شاہ ول یاللہ بن سلطان محمود شاہ

680

کلیم اللہ بہمنی بن محمود شاہ بہمنی

682

بابر کے نام خط

682

پایہ تخت سے فرار

682

برہان نظام شاہ کا اظہار خلوص

682

وفات

682

اس کتاب کی دیگر جلدیں

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1667
  • اس ہفتے کے قارئین: 7326
  • اس ماہ کے قارئین: 39845
  • کل مشاہدات: 44106574

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

777