title-pages-muashre-ki-muhlak-bimariyan-aur-unka-ilaaj--maktaba-islamia--copy
احمد بن حجر قاضی دوحہ قطر

گناہ چھوٹا ہو یابڑا ہر قسم کے گناہ سے اپنے دامن کو بچانا ضروری ہے لیکن بعض گناہ ایسے ہیں جونہ صرف فرد واحد کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ پورے معاشرے پر تباہ کن اثرات چھوڑتے ہیں ۔ جیسا کہ امم سابقہ کی تباہی وبربادی کفر وشرک کے علاوہ مختلف گناہ اورجرائم کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ لیکن انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’معاشرے کی مہلک بیماریاں اوران علاج ‘‘ عالم عرب کے معروف عالم دین علامہ شیخ احمد بن حجر کی عربی تصنیف کا ترجمہ ہے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے ۔ شیخ موصوف نےاس کتاب میں 78 کبیرہ گناہوں کو ذکرکیا ہے ۔ اور ہر اس گناہ کی نشاندہی کی ہےکہ جسے ہمارے معاشرے میں غیر معمولی سمجھ کر عام کیا جاتاہے حالانکہ وہ کبیرہ گناہوں میں سے ہیں اور ان کے اثرات بد پورے معاشرے کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ یہ کتاب گناہوں کی حقیقت اور معاشرے پر ان کے اثرات سے متعلق منفرد تحریر ہے ۔اس کتاب کے اس سے قبل مختلف مقامات سے کئی ایڈیشن شائع ہوئے ہیں اور کتاب وسنت سائٹ پر موجود بھی ہیں ۔ زیرتبصرہ ایڈیشن کی خصوصیت یہ ہےکہ عصر حاصر کےتقاضوں کےمطابق جدید تحقیق وتخریج سےمزین ہے اس لیے اسے بھی سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-payam-e-rasalat-islah-e-muashrah-ka-paigham-copy
عبد الستار سلام قاسمی

ہر صاحب عقل یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ معاشروں کی اصلاح وتعمیر میں قوموں کی فلاح وکامیابی وترقی چھپی ہے تاریخ گواہ ہےکہ ماضی میں جب تک مسلمانوں نےاپنے معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنائے رکھا اس وقت تک مسلم قوم سر بلند رہی او رجیسے جیسے معاشرہ تباہ ہوگیاہے ویسے ویسے امتِ مسلمہ بھی اخلاقی زبوں حالی جڑ پکٹرتی چلی گئی چنانچہ معلوم ہوا کہ فوز وفلاح وکامیابی کے لیے اپنے معاشرے کی اصلاح کرناضرروی ہے معاشرےکی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں اور اصولوں کو اپنانا چاہیے او راسی پاک اوربے عیب ذات سے اصلاح طلب کرنی چاہیے۔سرور کائنات ﷺ کی بعثت کے وقت عرب معاشرہ جن گھناؤنے اعمال کامرتکب تھا قرآن وحدیث ہی کا نورتھا جس نے تاریک معاشرے کو روشن کرکردیا ان کی برائیوں کونیکیوں میں تبدیل کردیا ۔رزائل وفضائل کالباس پہنا دیا کہ وہ لوگ شرافت،دیانت،محبت ،اخوت، شرم وحیا اوراخلاق فاضلہ کے پتلے بن گئے ترقی کے زینے چڑہتے چڑہتے وہ اوج ثریا پر جا پہنچے اور نجات ِآخرت کی بشارتیں انہیں قرآن نے سنائیں۔حکومت ربانی کا فرض کہ وہ قانون کے زورسے بدیوں کو مٹاکر معاشرے کی اصلاح کر ے اور علمائے ربانی کوبھی چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی اصلاح اورمعاشرےکو گناہوں کی آلوگی سے پاک کرنے کے لیے ان کو اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے ڈرائے۔ زیر تبصرہ کتاب’’پیام رسالت اصلاح معاشرہ کا پیغام ‘‘ مولانا عبد الستار سلام قاسمی کی تصنیف ہے جو ان کے مختلف رسائل وجرائد میں اصلاح معاشرہ کےسلسلے میں پیام رسالت کے عنوان سے شائع ہونے والےمضامین کا مجموعہ ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے عبادات ، اخلاق ، فضائل کے متعلق احادیث کا انتخاب کر کے ان کا ترجمہ وتشریح ،مشکل الفاظ کےمعانی اور علمی نقات کو آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

pages-from-anwaar-ul-badar-namaz-mein-seeney-par-hath-bandhna
ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی، اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔ اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریمﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا: تم ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ نماز کے اختلافی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ سینے پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں ہے۔ زیر نظر کتاب "انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر" انڈیا سے تعلق رکھنے والے عالم دین ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں سینے پر ہاتھ باندھنے کو ثابت کیا ہے، تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریمﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔ کتاب کے شروع میں معروف عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری صاحب﷾ کا علمى مقدمہ بھی موجود ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین۔ (راسخ)

title-pages-khawateen-ka-almi-din-copy
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

8مارچ 1907 سے دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے اور اب کئی سالوں سے پاکستان میں بھی عام ہورہا ہے۔ یہ سلسلہ اس مغربی معاشرے کے ایک شہر نیویارک سے شرو ع ہوا جہاں خواتین نے اپنی ملازمت کی شرائط کو بہتر بنوانے کے لئے مظاہرہ کیا، جلسے جلوس ہوئے، خواتین پر تشدد بھی ہوا اور بالآخر مطالبات مان لئے گئے اسی لئے اس دن کو اقوام متحدہ نے عالمی یوم خواتین قرار دیا اور تمام ملکوں پر یہ ایجنڈا لاگو کردیا جس کی رو سے خواتین اور مردوں میں ہر قسم کا امتیاز ختم کیا گیا۔ صرف اسے دن خواتین کے حقوق پر بات کی جاتی ہے اور سارا سال فراموش کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’ خواتین کا عالمی دن ‘‘ معروف دینی سکالر محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ کے ایک مضمون بعنوان ’’ خواتین کا عالمی دن‘‘ اور محترمہ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ کی پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالہ کےلیے تیار کی تیار کی گئی ایک تحقیقی رپورٹ بعنوان’’ عورت پر خاندان کی تباہی کے اثرات ‘‘ پر مشتمل ہے ۔اس مختصر کتابچہ میں خواتین کے عالمی دن کے متعلق چشم کشا رپوٹس پیش کی گئی ہیں اور اس بات کوواضح کیاگیا ہے کہ عورت کی ترقی راز خاندان کےاستحکام اور اس کے ساتھ وابستگی میں پنہاں ہے ۔مغرب اس راز کو اپنے خاندانی نظام کے ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جانےکے بعد جان گیا ہے اب ہمیں اس سے پہلے ہی اس کا ادراک کرلینا چاہیے ۔(م۔ا)

title-pages-manhaj-e-tarbiyat-copy
ابو احمد نوید قمر

اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے  اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔لیکن افسوس کہ ہمارے تعلیمی  اداروں میں معلومات تو دے دی جاتی ہیں ،مگر ایک مسلمان اور کارآمد بندہ تیار نہیں ہوپاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " منہج تربیت، کارکنان ومسؤلین کے لئے اصلاحی تحاریر " جماعۃ الدعوہ کے مرکزی رہنما محترم ابو احمد نوید قمر صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  جماعت کے کارکنان اور مسؤلین کی اصلاح کے لئے ایک تربیتی نصاب تیار کیا ہے تاکہ وہ اس کے مطابق جماعتی نظم سے جڑ کر رہیں۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور قوم وملت کے تمام تعلیمی اداروں اور  اساتذہ کو اپنے طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک موثر تربیت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

pages-from-hindustan-arbon-ki-nazar-mein-jilad-2
ضیاء الدین اصلاحی

تجارت کی غرض سے عرب تاجر ہندوستان کے ساحلوں پر آتے جاتے رہتے تھے اس سلسلے میں ایک بڑی تعداد سری لنکا میں آباد ہو گئی تھی اس کے علاوہ مکران کے ساحلی علاقوں میں بھی عرب مسلم آبادیاں تھیں ایک روایت کے مطابق فتح سندھ سے قبل عرب مسلمان سندھ میں بستے تھے پانچ سو عرب مسلمان مکران سے سندھ میں آکر آباد ہو گئے تھے دیبل کی بندرگاہ کی وجہ سے بھی سندھ میں مسلمان آبادیاں تھیں۔ بعض روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب مسلمانوں کا دوسرا مرکز ہندوستان کا وہ آخری کنارہ تھا جس کو ہندوؤں کے پرانے زمانے میں "کیرالہ" کہتے تھے اور بعد کو "ملیبار" کہنے لگے یہاں تجارت کی غرض سے آنے والے بہت سے عرب تاجر بس گئے تھے۔ تجارت کے علاوہ عربوں کے ہندوستان پر حملوں کو بھی تاریخ میں عربوں کی آمد کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’ہندوستان عربوں کی نظر میں‘‘ ضیاء الدین اصلاحی کی کاوش ہے۔ جسے انہوں نے ہندوستان کے متعلق قدیم عربی مصنفین خصوصاً جغرافیہ نویسوں اور ساحوں کی عربی کتابوں سے استفادہ کر کے اردو میں دو جلدوں میں پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-islam-me-tasweer-ka-hukam-copy
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

اسلام نے تصویر کو حرام قرار دیاہے ، اور اس کی حرمت کے حوالے سے قطعی نصوص صحیح بخاری ومسلم ودیگر کتب حدیث میں بکثرت موجود ہیں ۔ ان نصوص میں محض تصویر کی حرمت کا ذکر نہیں بلکہ تصویر کشی سے پیدا ہونے والے ایک ایک ناسور کا ذکر ہے جس میں وضاحت سے بیان کیا گیاہے کہ اگر امت اس گھناؤنے جرم میں مبتلا ہوگئی یہ ایک کینسر ہے جو معاشرے کی رگ رگ میں پھیل جائے گا اور بالآخر لا علاج ہوجائے گا ۔ شرعی نصوص میں تصویر کشی کی جو قباحتیں بیان ہوئی ہیں ان میں چند ایک ملاحظہ ہوں ۔تصویر بنانے والوں کو سب سے سخت ترین عذاب دیا جائے گا ، تصویر بنانے والےاللہ تعالیٰ کی صفت خلق میں اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔تصاویر بنانے والوں کو روز قیامت حکم ہوگا کہ جو بنایا ہے اس میں روح ڈالو لیکن وہ ایسا نہ کرسکیں گے۔ رسول اللہ ﷺ تصاویر سے سخت نفرت کرتے تھے اس گھر میں داخل نہ ہوتے جہاں تصاویر پائی جاتیں ۔ امام بخاری ومسلم اور اصحاب سنن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا جس میں تصاویر تھیں ، جب نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اور گھر میں داخل نہ ہوئے ، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار محسوس کرلئے ۔ تو کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ’’ میں اللہ اور اس کے رسول کے حضور توبہ کرتی ہوں میں نے کیا گناہ کیاہے ؟ آپ نے فرمایا : اس تکیہ کا کیا ماجرا ہے ؟ میں کہنے لگی :’’ میں نے اسے آپ کیلئے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا’’ یہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے روز عذاب دیا جائے گا ، اور انہیں کہا جائے گا : اسے زندہ کرو جو تم نے پیدا کیا اور بنایا ہے ۔ ،اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوتی ہیں ‘‘۔(بخاری ومسلم )تصویروں کو مٹانے اور توڑنے کیلئے رسول اللہ ﷺ نےقاصد روانہ کئے ‘‘ سیدنا علی نے ابی ھیاج الاسدی سے کہا کیا میں تمہیں اس مشن پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے روانہ کیا تھا ۔ کہ کسی تصویر کو نہ چھوڑنا کہ اسے مٹادینا اور کسی قبر کو جو زمین سے بلند ہو اسے زمین کے برابر کردینا ۔‘‘ ( صحیح مسلم )انسانی وجود کے رونگٹے کھڑے کردینے والی وعید پر مشتمل ان نصوص کے باوجود جب انسان عجیب وغریب تأویلات کے ذریعے تصویر کو جائز قرار دے اور معاشرے میں اس کے رواج کا باعث بنےتو یہ کتنی ہی لا پرواہی کی بات ہے ۔اسلام شخصیت پرستی اور بت پرستی سے منع کرتا ہے،جو شرک کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔شرک کی ابتداء اسی امر سے ہوئی کہ لوگوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر پہلے تو اپنے نیک اور بزرگ لوگوں کی تصویریں بنائیں،پھر انہیں مجسمے کی شکل دی اور پھر ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔مغرب کی بے دین حیوانی تہذیب میں بت سازی ،تصویر سازی اور فوٹو گرافی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،اور بد قسمتی سے مسلمان سیاست دانوں کی سیاست بھی مصورین اور فوٹو گرافروں کے گھیرے اور نرغے میں آ چکی ہے۔نبی کریم ﷺ کی اسلامی تحریک اورسیاست نہ صرف تصویر سے خالی تھی بلکہ تصویروں اور مجسموں کو مٹانا آپ ﷺ کے لائحہ عمل میں شامل تھا۔اگر دعوت وجہاد اور سیاست وحکومت میں تصویروں کی کوئی اہمیت ہوتی تو حرمین میں نبی کریم ﷺ کی تصویروں کے بینر لٹکا دئے جاتے،اور سیرت کی کتب میں اس کا تذکرہ موجود ہوتا۔فوٹو گرافی تو عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ میں موجود نہیں تھی،البتہ تصویر سازی کے ماہرین ہر جگہ دستیاب تھے۔اگر تصویر بنانا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ضرور نبی کریم ﷺکی تصاویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لیتے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’اسلام میں تصویر کا حکم ‘‘ گزشہ صدی کے فقیہ ومحدث فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز ﷫ کے تصویر کے متعلق کیے گئے ایک سوال کا مفصل جواب کا اردو ترجمہ ہے ۔شیخ موصوف نے اس رسالے میں اس موضوع سے متعلق تمام گوشوں کوکتاب وسنت کی روشنی میں واضح کرتے ہوئے کسی قسم کی کوئی تشنگی باقی نہیں چھوڑی۔( م۔ا)

title-pages-kitab-al-bayou-copy
محمد بن اسماعیل بخاری

ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔ نبی کریم ﷺ نے تجارت کو بطور پیشے کے اپنایا او رآپ کے اکثر وبیشتر صحابہ کرام کا محبوب مشغلہ تجارت تھا۔ امت مسلمہ کے لیے حضو ر ﷺ کی حیات طیبہ میں اسوہ حسنہ موجود ہے اورآپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کی پاک زندگیاں ہمارے لیے معیار حق ہیں۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اکل حلال اور کسبِ معاش کاعمل آج کے دور میں بھی تجارت کےذریعے پوراکیا جاسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ کتاب البیوع ‘‘ قرآن مجید کےبعد صحیح ترین کتاب صحیح بخاری سے کتاب البیوع کا اردو ترجمہ ، تشریح وفوائد ہے ۔ امام بخاری ﷫ نے کتاب البیوع میں خرید وفروخت کےمسائل پر مشتمل 247 مرفوع احادیث بیان کی ہیں۔ اور ان احادیث پر 113چھوٹے بڑے عنوان قائم کیے ہیں جو علم معیشت میں اساسی قواعد کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان قواعد واصول سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تجارت کے کےنام پر لوٹ مار کےکھلے راستوں کےساتھ ساتھ ان تمام پوشیدہ راہوں کو بھی مسدود کردیا ہے جو تجارت کوعدل وانصاف اور خیر خواہی سے ہٹا کر ظلم وزیادتی کے ساتھ دولت سمیٹنے کی طرف لے جانے والے ہیں ۔آپ ﷺ نے انتہائی باریک بینی سے نظام تجارت کا جائزہ لیا اور اس کی حدود وقیود کا تعین فرماکر عمل تجارت کو ہر طرح کےظلم اور استحصالی ہتھکنڈوں سےپاک کردیا۔ صحیح البخاری کے کتاب البیوع کا یہ ترجمہ وتشریح جماعت کے معروف مفتی وشارح صحیح بخاری شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبدالستار حماد﷾ نے کیا ہے ۔یہ ترجمہ و تشریح دورِ حاضر کی ضروریات کےمطابق احادیث کی تشریح، حدیث اور عنوان حدیث میں مطابقت ، بظاہر متعارض احادیث میں علمی تطبیق ،منکرین احادیث کےشبہات کا ازالہ اور حدیث سےمتعلقہ دیگر روایات میں آمدہ اضافوں کی صراحت پرمشتمل ہے ۔نیز حافظ عبد الستار حماد﷾ نے کتاب البیوع کی تشریح وفوائد میں صحیح احادیث کا التزام کیا ہے اور احادیث کی تحقیق وتخریج بھی کی ہے ۔خرید وفروخت کے متعلق عصری غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کےساتھ ساتھ تجارت کے بے شمار پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔موضوع کی مناسبت کے پیش نظر کتاب البیوع کےساتھ کتاب السلم کوبھی شامل کردیاکیا ہے ۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائےاور اسے کاروباری حضرات اور تاجرین کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-hindustan-arbon-ki-nazar-mein-jilad-1
ضیاء الدین اصلاحی

تجارت کی غرض سے عرب تاجر ہندوستان کے ساحلوں پر آتے جاتے رہتے تھے اس سلسلے میں ایک بڑی تعداد سری لنکا میں آباد ہو گئی تھی اس کے علاوہ مکران کے ساحلی علاقوں میں بھی عرب مسلم آبادیاں تھیں ایک روایت کے مطابق فتح سندھ سے قبل عرب مسلمان سندھ میں بستے تھے پانچ سو عرب مسلمان مکران سے سندھ میں آکر آباد ہو گئے تھے دیبل کی بندرگاہ کی وجہ سے بھی سندھ میں مسلمان آبادیاں تھیں۔ بعض روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب مسلمانوں کا دوسرا مرکز ہندوستان کا وہ آخری کنارہ تھا جس کو ہندوؤں کے پرانے زمانے میں "کیرالہ" کہتے تھے اور بعد کو "ملیبار" کہنے لگے یہاں تجارت کی غرض سے آنے والے بہت سے عرب تاجر بس گئے تھے۔ تجارت کے علاوہ عربوں کے ہندوستان پر حملوں کو بھی تاریخ میں عربوں کی آمد کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’ہندوستان عربوں کی نظر میں‘‘ ضیاء الدین اصلاحی کی کاوش ہے۔ جسے انہوں نے ہندوستان کے متعلق قدیم عربی مصنفین خصوصاً جغرافیہ نویسوں اور ساحوں کی عربی کتابوں سے استفادہ کر کے اردو میں دو جلدوں میں پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-islam-ka-nizam-e-masajid-copy
محمد ظفیر الدین

مساجد کی تعمیر اور آبادکاری ایمان کی علامت ہے ۔مساجد دین اسلام میں ایک عظیم دینی شعار اور درخشاں علامت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ روئے زمین کا سب سے بہتر ٹکڑا ہیں۔اسلام اور مسلمانوں کا مرکزی مقام اور ہیڈ کوارٹر یہی مساجد ہیں ۔ مسجد سے قلبی لگاؤ اور پابندی کے ساتھ اس کی حاضری ایمان کی نشانی ہے۔ مساجد روزِ اوّل سے رشد وہدایت، اسلام کی تبلیغ واشاعت اور ملی جدوجہد کا مرکز رہی ہیں۔ یہیں سےپیغامِ اسلام ساری ساری دنیا میں نشر ہوتاہے ۔ ملت اسلامیہ کی علمی، ثقافتی اور روحانی قوتوں کا یہی سرچشمہ ہیں۔ یہیں سے امت محمدیہ نے ماضی میں بھی اسلام کا سبق لیا اور آئندہ بھی سب سے بڑا علمی اور ثقافتی مرکز مساجد ہی رہیں گی۔ (ان شاء اللہ ) مگر افسوس مسلمانوں کےملی انحطاط سے مساجد بھی متاثر ہوئی ہیں۔ مسجد اپنے شرعی مقاصد اور روح سےخالی ہوتی جارہی ہیں۔ دین سے جاہل ،دنیوی جاہ جلال اور ٹھاٹھ باٹھ کےپجاری متولیان کی اجارہ داری کے سبب مساجد کا ماحول بے رو ،وحشت ناک اور خستہ ہوتا جارہا ہے۔ جس سے ملتِ اسلامیہ کی تربیت اور نشوو نما پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے ضرورت اس امر کی ہےکہ مساجد کا حقیقی مقام اور اصلی حیثیت بحال کی جائے ۔ زیرنظر کتاب ’’ اسلام کا نظام مساجد‘‘ مولانا ظفیرالدین ﷫ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں اسلام کے نظام مساجد کے تمام گوشوں پر مکمل اور دلپذیر بحث کی ہے جس میں مسلمانوں کے لیے مسجد سے متعلق ہر قسم کی معلومات نہایت عام فہم انداز میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جمع کردی ہیں ۔(م۔ا)

title-pages-islam-me-khidmat-e-khalq-ka-tasawar-copy
سید جلال الدین انصر عمری

انسان اپنی فطری ،طبعی، جسمانی اور روحانی ساخت کے لحاظ سے سماجی اور معاشرتی مخلوق ہے ۔یہ اپنی پرورش،نشو ونما،تعلیم وتربیت،خوراک ولباس اور دیگر معاشرتی ومعاشی ضروریات پور ی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کا لازماً محتاج ہوتا ہے ۔یہ محتاجی قدم قدم پر اسے محسوس ہوتی او رپیش آتی ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس لیے اس نے اس کی تمام ضروریات اور حاجات کی تکمیل کاپورا بندوبست کیا ہے۔ یہ بندو بست اس کےتمام احکام واوامر میں نمایا ں ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے انبیاء کرام کے اہم فرائض میں اللہ کی مخلوق پر شفقت ورحمت او ران کی خدمت کی ذمہ داری عائد کی ۔اس ذمہ داری کو انہوں نے نہایت عمدہ طریقہ سے سرانجام دیا ۔اور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ میں رفاہی، اصلاحی اور عوامی بہبود کی ریاست کی قائم کی ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام میں خدمت خلق کا تصور ‘‘ انڈیا کےنامور اسلامی اسکالر محترم جناب سید جلال الدین عمری ﷾ کی تصنیف ہے ۔ا س کتا ب میں انہوں نے خدمت خلق کے تمام پہلوؤں پر قرآن وحدیث کی روشنی میں بحث کی ہے موصوف نے کوشش کی ہے کہ موضوع سے متعلق آیات واحادیث کابڑی حد تک احاطہ ہوجائے اور موقع ومحل کی مناسبت سےان کا صحیح مفہوم واضح ہوجائے ۔ اس ضمن میں خدمت خلق کے وہ پہلو بھی سامنے آجائیں جن کا موجودہ دور تقاضا کرتا ہے ۔( م۔ا)

pages-from-maa-asar-wa-maarif-yani-25-maqalaat-ka-majmooah
قاضی اطہر مبارکپوری

خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع و تدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔چنانچہ صحیحین، سنن اربعہ،اصول خمسہ،اور صحاح ستہ وغیرہ اصطلاحات علماء کے ہاں معروف اور متداول چلی آ رہی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’مآثر و معارف‘‘ مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری﷫ کی تصنیف ہے جوکہ ان کے تحریر کردہ مختلف پچیس مقالات کا مجموعہ ہے۔ اولاً یہ مقالات مختلف علمی وتحقیقی رسائل میں شائع ہوچکے ہی۔ ان مقالات میں تدوین حدیث وعلومِ حدیث کی تاریخ ، کتب حدیث وفقہ کاتعارف، اسلامی علوم کاتعلیمی ارتقاء ، مسلمانوں کی علمی سرگرمی، یورپ میں اسلامی علوم وفنون کی ترویج اور کئی اسلامی شخصیات اور علمی کتابوں کا حال وغیرہ مستند طریقے پر درج   ہے۔ ان مقالوں میں ہرمقالہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے قیمتی معلومات کا خزانہ ہے۔ (م۔ا)

title-pages-islam-aur-amne-alim-copy
مختلف اہل علم

اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔اسلام امن وآشتی اور صلح وسلامتی کا مذہب ہے، اس نے انسانی زندگی کی حرمت کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے، اور اگر کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیت آباد ہو تو اس کی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور انہیں اپنی نجی زندگی میں اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی گئی ہے۔اسلام نے ظلم وتعدی سے منع کیا ہے، بلکہ ظلم کے جواب میں بھی دوسرے فریق کے بارے میں حد انساف سے متجاوز ہونے کو ناپسند کیا ہے اور انتقام کے لئے بھی مہذب اور عادلانہ اصول وقواعد مقرر کئے ہیں۔لیکن افسوس کہ دشمنان اسلام نے اسلام اور دہشت گردی کو ایک ساتھ جوڑ دیا ہے۔چنانچہ ضروری تھا کہ اعدائے دین کی ان سازشوں کو طشت ازبام کیا جاتا اور ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلام اور امن عالم" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلام اور امن عالم کے  موضوع پر  متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-islam-ka-nizam-e-aman-w-jang-copy
ڈاکٹر مصطفٰی سباعی

اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔اسلام امن وآشتی اور صلح وسلامتی کا مذہب ہے، اس نے انسانی زندگی کی حرمت کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے، اور اگر کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیت آباد ہو تو اس کی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور انہیں اپنی نجی زندگی میں اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی گئی ہے۔اسلام نے ظلم وتعدی سے منع کیا ہے، بلکہ ظلم کے جواب میں بھی دوسرے فریق کے بارے میں حد انساف سے متجاوز ہونے کو ناپسند کیا ہے اور انتقام کے لئے بھی مہذب اور عادلانہ اصول وقواعد مقرر کئے ہیں۔لیکن افسوس کہ دشمنان اسلام نے اسلام اور دہشت گردی کو ایک ساتھ جوڑ دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام کا نظام امن وجنگ ‘‘ شام کے معروف ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی کی عربی تصنیف ’نظام السلم والحرب فی الاسلام‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔فاضل مصنف نےاس کتاب میں امن وجنگ کااسلامی نقظۂ نظر پیش کیا ہے اور قرآن وحدیث نیز تاریخی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ اسلام امن کا داعی ہے ۔ (م۔ا)

pages-from-qawaed-e-urdu-1
مولوی عبد الحق

ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔ کیونکہ کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی اس کے اصول و قواعد ہیں۔ زبان پہلے وضع ہوتی ہے اور قواعد بعد میں لیکن زبان سے پوری واقفیت حاصل کرنے کے لیے قواعد زبان سے آگاہی ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قواعد اردو‘‘ مولوی عبد الحق علیگ کی تصنیف ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ارودو زبان کے گرائمر کے قواعد کو بیان کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اردو کی صرف و نحو کو سنسکرت زبان کے قواعد سے اسی قدر مغائرت ہے جتنی عربی زبان کی صرف نحو سے۔ فاضل مصنف نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ کسی زبان کے قواعد لکھتے وقت اس کی خصوصیات کو کبھی نظر انداز نہ کیا جائے اور محض کسی زبان کی تقلید میں اس پر زبردستی قواعد اور اصول کے نام سے ایسا بوجھ نہ ڈال دیاجائے جس کی وہ متحمل نہ ہوسکے۔ مصنف نے کتاب ہذا میں اسی اصول کومدنظر رکھا ہےاوراس امر کی کوشش کی ہے جدھر زبان کا رجحان ہو ادہر ہی اس کا ساتھ دیا جائے۔ (م۔ا)

title-pages-insani-dil-aur-qabol-e-islam-copy
ڈاکٹر گوہر مشتاق

جس طرح انسان مٹی اور روح کا حسین امتزاج ہے، اسی طرح انسان کو اللہ تعالی نے ذہن اور دل عطا کئے ہیں۔جس طرح اس دنیا کی زندگی روح اور جسم کے درمیان ایک داستان ہے، بالکل اسی طرح اس حیات دنیاوی میں انسان کے دل اور دماغ میں ایک کشمکش رہتی ہے۔اگر اکثر مواقع پر دماغ اپنی من مانی کرتا ہے تو دل بھی کئی مواقع پر دماغ پر فتح حاصل کر لیتا ہے اور انسان سے وہ کرواتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔قرآن وحدیث میں انسانی دل کو ذہانت کا منبع اور جذبات واحساسات رکھنے والا عضو قرار دیا گیا ہے۔تاہم بیسویں صدی کے وسط میں سائنس نے پہلی مرتبہ یہ حیرت انگیز دریافت کی کہ انسانی دل میں بھی انسانی دماغ کی طرح ذہانت کے خلئے پائے جاتے ہیں۔اس انقلابی  دریافت کے بعد پھر انسانی دل پر بحیثیت منبع ذہانت کے مغرب میں کئی سائنسی تحقیقات ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب " انسانی دل اور قبول اسلام، ایک مذہبی، سائنسی تجزیہ "محترم ڈاکٹر گوہر مشتاق صاحب،پی ایچ ڈی امریکہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے یہی واضح کیا ہے کہ جو چیز اسلام نے آج سے 1400 سو سال پہلے بتا دی تھی ، سائنس آج انہیں دریافت کر رہی ہے، جو اسلام کے مذہب حق ہونے پر دلیل ہے۔(راسخ)

title-pages-islam-aourat-aur-yourap-copy
ابو سعد احسان الحق شہباز

اللہ تعالی نے عورت کو معظم بنایا لیکن قدیم جاہلیت نے عورت کو جس پستی کے گھڑے میں پھینک دیا اور جدید جاہلیت نے اسے آزادی کا لالچ دے کر جس ذلت سے دو چار کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ایک طرف قدیم جاہلیت نے اسے زندگی کے حق سے محروم کیا تو جدید جاہلیت نے اسے زندگی کے ہر میدان میں دوش بدوش چلنے کی ترغیب دی اور اسے گھر کی چار دیواری سے نکال کر شمع محفل بنادیا ۔ جاہل انسانوں نےاسے لہب ولعب کاکھلونا بنا دیا اس کی بدترین توہین کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتاہے کہ ہر عہد میں عورت کیسے کیسے مصائب ومکروہات جھیلتی رہی اور کتنی بے دردی سے کیسی کیسی پستیوں میں پھینک دی گئی اور عورت اپنی عزت ووقار کھو بیٹھی آزادی کے نام پر غلامی کا شکار ہوگئی۔ ۔ لیکن جب اسلام کا ابرِ رحمت برسا توعورت کی حیثیت یکدم بدل گئی ۔محسن انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نے انسانی سماج پر احسان ِعظیم فرمایا عورتوں کو ظلم ،بے حیائی ، رسوائی اور تباہی کے گڑھے سے نکالا انہیں تحفظ بخشا ان کے حقوق اجاگر کیے ماں،بہن ، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سےان کےفرائض بتلائے اورانہیں شمع خانہ بناکر عزت واحترام کی سب سےاونچی مسند پر فائز کردیااور عورت و مرد کے شرعی احکامات کو تفصیل سے بیان کردیا ۔آج مغربی اقوام بھی عورت کی غلام بنام آزادی سے تنگ آچکی ہیں ۔ کیونکہ مغربی تمدن میں اس بے جا آزادی کے نتائج ،زنا کاری اور بے حیائی کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں افسو س اس بات کا ہے کہ مسلمان عورت بھی آج اسی آزادی کے حصول کی کوشش میں سرگرداں نظر آتی ہے جبکہ اسلام قرآن کے ذریعے اس کا قرآن وحدیث کے لیے اس کا مقام ، حیثیت اور حقوق وفرائض متعین کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام عورت اور یورپ ‘‘ مولانا احسان الحق شبہاز کی تصنیف ہے ۔ انہوں نےاس کتاب میں عورت پر اسلام کے عظیم الشان احسانات کا تذکرہ اور مغرب کے مظام کا پردہ چاک کرتے ہوئے اسلام کے عورت پر احسانات اور مغرب کے آزادی کےنام عورت کیے جانے والے مظام کا تقابل کیا ہے ۔اسلام نےعورت کو گھر کی ملکہ بنایا ،یورپ نے اسے سربازار رسوا کیا ۔ اسلام نے ماں ،بہن ، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے تقدس دیا یورپ نے انسانیت کی تمام حدود پھلانگتے ہوئے زنا ، بدکاری اور بے راہ روی کی بدترین بنیادوں پر معاشرہ تباہ کیا۔اسلام نے پردہ کےاحکامات کے ذریعے عفت وعصمت کے آبگینے کی حفاظت کا اہتمام جبکہ یورپ نےسینما گھر ، وی سی آر، ڈش ، اور کیبل نیٹ کے شیطانی جال بچھا کر عفت مآب خاندانوں کو ذلت آمیز انجام سےدو چار کیا۔ مخلوط تعلیم دلوا کر آشناؤں کے ساتھ فرار کے راستے دکھائے۔ اپنے عدالتی نظام کے ذریعے کورٹ میرج کروائے اوراپنے سیاسی نظام کے ذریعے اسمبلیوں کی زینت بنایا۔یورپ نے عورت کی فطری نزاکتوں کو اسلام کےخلاف اس برے طریقے سےاستعمال کیا اوراتنا غلیظ پروپگنڈہ کیاکہ آج یوں محسوس ہوتا ہے گویا اسلام عورتوں کے حقوق کامخالف اوریورپ ان کامحاظ ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں نہایت جامع ہے۔یورپ سےمتاثر طبقے بالخصوص خواتین کو اس کالازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔ تاکہ ان کےسامنے حق واضح ہوجائے اور کفر وطاغوت کی سازشوں کاقلع قمع ہوجائے ۔(م۔ا)

pages-from-qurani-imraniyaat
ڈاکٹر سید ضمیر علی اختر

عمرانیات یا سماجیات سماجی رویے، اس کے مآخذ، ترقی، تنظیم اور اداروں کے مطالعے کا علم ہے۔ یہ ایک ایسا سماجی علم ہے جو مختلف تجرباتی تفتیشی طریقوں اور تنقیدی جائزوں کے ذریعے معاشرتی نظم، بدنظمی اورمعاشرتی تبدیلی کے بارے میں ایک علمی ڈھانچہ وضع کرتا ہے۔ ایک ماہر عمرانیات کا عمومی ہدف سماجی پالیسی اور فلاح کے لیے براہ راست لاگو ہونے والی تحقیق منعقد کرنا ہوتا ہے، تاہم عمرانیات کے علم میں معاشرتی عمل کی تصوراتی تفہیم کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔ موضوعاتی مواد کا احاطہ فرد کے کردار اور عمل سے لے کر پورے نظام اور سماجی ڈھانچے کی تفہیم تک جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآنی عمرانیات‘‘ ڈاکٹر سیدضمیر علی اختر کی کاوش ہے۔ انہوں نے یہ کتاب اسلامی عمرانیات کے نصاب کے مطابق مرتب کی ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں انہوں نے نے بعض غلط فہمیوں کو دور کرنے اور انہیں صحیح اسلامی مناظر میں پیش کرنےکی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب قرآنی عمرانیات علوم مروجہ کے علاوہ جامعات میں ایک روز افزوں مقبولیت حاصل ہونےوالے مضمون عمرانیات کی ایک نصابی ضروریات کوپورا کرتی ہے۔ (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1027 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں