title-pages-auliyaa-allah-w-auliyaa-al-shaitan-copy
ابو الکلام آزاد

نبی کریمﷺ اورآپ کی امت کے بہت زیادہ فضائل و خصائص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو دوستوں اور دشمنوں کے درمیان فرق بتانے کا ذمہ دار ٹھیرایا۔ اس لیے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حضورﷺ پر اور جو کچھ وہ لائے ہیں اس پر ایمان نہ لائے اور ظاہر و باطن ان کی اتباع نہ کرے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت اور ولایت کا دعویٰ کرے اور حضور نبی کریمﷺ کی پیروی نہ کرے وہ اولیاء اللہ میں سے نہیں ہے۔ بلکہ جو ان سے مخالف ہو تو وہ اولیاء الشیطان میں سے ہےنہ کہ اولیاء الرحمٰن میں سے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاپنی کتاب میں اوراپنے رسول ﷺ کی سنت میں بیان فرما دیا ہےکہ لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے دوست بھی ہیں اور شیطان کے بھی اور اولیاء رحمٰن اور اولیاء شیطان کے درمیان جو فرق ہے وہ بھی ظاہر کردیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اولیاء اللہ واولیاء الشیطان ‘‘ امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد ﷫ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں اللہ کےبندوں کا ایمان افروز تذکرہ اور شیطان کے دوستوں کے خوفناک انجام کو بیان کیا ہے ۔ قرآن کی زبان صداقت سے اولیاء اللہ اور اولیاء الشیطان کی تعریف ووضاحت اور تعین کی ہے ۔ ان کے حسن وبد انجام کی خبر دی ہے ۔اس موضوع پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے ’’الفرقان بین اولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان‘‘ کے نام سے شاندار کتاب تالیف کی۔ جس میں اللہ کے دوستوں اور شیطان کے دوستوں کے مابین حقیقی فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ (م۔ا)

pages-from-quran-aur-science-afadaat-e-sayyed-qutab

قرآن مجید وہ عظیم الشان آخری آسمانی کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی نے انسانیت کی رشد وہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے۔یہ اسلام کا سب سے پہلا منبع ومصدر ہے۔ جب تک مسلمانوں نے اسے تھامے رکھا، دنیا کی سپر پاور اور راہبر و راہنما رہے، اور جب اسے ترک کر دیا تو ذلت ورسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے۔دشمنان اسلام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کو اس مصدر اول اور منبع ہدایت سے دور کردیں یا اس کے بارے میں اس کے قلوب واذہان میں شکوک وشبہات پیدا کر دیں۔چونکہ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالی نے لے رکھا ہے ،چنانچہ دشمنوں کی سازشوں اور اپنوں کی جہالتوں کے باوجود قرآن مجید آج بھی بالکل صحیح سلامت اور تحریف وتصحیف سے محفوظ رنگ کائنات پر جلوہ افروز ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "قرآن اور سائنس "محترم پروفیسرمحمد نجات اللہ صدیقی صاحب اور محترم سلطان احمد اصلاحی صاحب کی مشترکہ کاوش ہے، جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن نے آج سے چودہ سو سال پہلے جو کچھ بتا دیا تھا، آج کی جدید سائنس اس کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-ale-mustafa-copy
محمد علی جانباز

نبی کریم ﷺ کی آل اور اہل بیت کے بارے میں  امت میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔جبکہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک صحیح بات یہی ہے کہ اس سےمراد رسول اللہ ﷺکے وہ رشتے دار مراد  ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ان میں آپ کی  ازواج مطہرات اور اولاد اور عبد المطلب کی نسل میں سے ہر مسلمان مرد وعورت جنہیں بنو ہاشم کہا جاتا ہے،شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا﴾ (الاحزاب: 33)(اے(پیغمبر کے) اہلِ بیت اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی(کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے)۔ زیر تبصرہ کتاب " آل مصطفیﷺ "پاکستان کے معروف عالم دین شیخ الحدیث محترم مولانا محمد علی جانباز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اہل بیت کی تعیین کے حوالے سے قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل گفتگو فرمائی ہے ۔اس کتاب  میں مولف موصوف نے بیان فرمایا ہے کہ اہل بیت کون ہیں؟ اہل سنت والجماعت کا اہل بیت کے متعلق کیا عقیدہ ہے؟ قرآن وسنت میں اہل بیت کے بارے میں کیا فضائل وارد ہوئے ہیں؟ صحابہ کے نزدیک آل بیت کا کیا مقام ومرتبہ تھا ؟وغیرہ جیسے موضوعات کے بارے میں تفصیلى معلومات اس کتاب میں جمع کر دی گئی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-ao-nimaz-sekhain-copy
قاری احسان الٰہی بخاری

نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ نماز دین کاستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے ترک کردیا ہے اس نے دین کی عمارت کوڈھادیا ۔ نماز مسلمان کے افضل اعمال میں سے ہے۔نماز ایک ایسا صاف ستھرا سرچشمہ ہے جس کےشفاف پانی سے نمازی اپنے گناہوں اور خطاؤں کودھوتا ہے ۔کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے ۔ اور نمازکی عدم ادائیگی پر وعید کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے ۔انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے ۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیرتبصرہ مختصر کتابچہ ’’ آؤ نماز سیکھیں ‘‘ اداہ معارف اسلامی ،مبارک مسجد لاہور کے رفیق قاری احسان الٰہی بخاری صاحب کی کاوش ہے جس میں انہوں نے نماز کے متعلقہ احکام وفرامین اور نماز میں پڑھی جانے والی دعا ئیں اور نمازکےبعدکےاذکارکوبڑے آسان انداز میں اختصار کے ساتھ بحوالہ مرتب کیاہے ۔یہ مختصر کتابچہ پاکٹ سائز ہےجسے بچے ،بڑے آسانی سے اپنے پس رکھ کر مسنون نماز کا طریقہ اور دعائیں یاد کرسکتے ہیں ۔ (م۔ا)

pages-from-fikri-tarbiyyat-key-aham-taqaazey
ڈاکٹر یوسف القرضاوی

ماضی قریب میں عالم عرب کی کم ہی شخصیات ہوں گی جنہیں اردو دنیا میں وہ شہرت ومقبولیت حاصل ہوئی ہو جو محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب کے حصے میں آئی ہے۔ ان کی تصنیفات کا ایک بڑا حصہ اردو میں منتقل ہو کر قبول عام حاصل کر چکا ہے،اور مسلسل اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔زیر تبصرہ کتاب "فکری تربیت کے اہم تقاضے" بھی انہی کی من جملہ تصانیف میں سے ایک ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم سلطان احمد اصلاحی صاحب نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں علمی وفکری تیاری کے ذیل میں دین کے داعی کے لئے ان اہم نکات کی نشاندہی کی ہے جن کا لحاظ کئے بغیر وہ اپنی دعوت کا حق ادا نہیں کر سکتا ہے۔ان کے نزدیک کسی بھی داعی کے لئے عربی زبان سے آگاہ انتہائی ضروری ہے، کیونکہ تمام دینی علوم عربی زبان میں موجود ہیں۔اسلامیات کے ایک عام طالب علم کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ افادیت سے خالی نہیں ہوگا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-ahle-fikar-k-liye-yad-dehani-copy
امتیاز احمد

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اہل فکر کے لئے یاد دہانی "محترم امتیاز احمد صاحب، ماسٹر آف فلاسفی کی تصنیف ہے ، جس  کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر حافظ سلمان الفارس نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں اسلام کی روشن تعلیمات اور آفاقی اصولوں پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-aina-kitab-w-sunnat-copy
محمد منیر عاجز

مسلک اہل حدیث ایک نکھرا ہوا اور نترا  ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث  ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ کتاب وسنت، مقلد اور غیر مقلد کب سے ہیں "محترم محمد منیر عاجز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں  نے بڑے ہمدردانہ انداز میں مقلدین کو مسلک اہل حدیث اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-khuzil-kitaba-biquwwatinn
یاسمین حمید

اللہ رب العالمین کی لا تعداد انمول نعمتوں میں ایک عظیم ترین نعمت قرآن مجید کا نزول ہے۔ جس میں پوری انسانیت کی فلاح وبہودی کا سامان ہے۔ جو سراپا رحمت اور مینار رشد وہدایت ہے جو رب العالمین کی رسی ہے جسے مضبوطی سے پکڑنے والا دنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی سے ہم کنار ہوگا۔ جو سیدھی اور سچی راہ دکھاتا ہے۔ مکمل فطری دستور حیات مہیا کرتا ہے۔ اس کی ہدایات پر عمل کر نے والا سعادت دارین سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کی مبارک آيات کی تلاوت کر نے والا عظیم اجر وثواب کے ساتھ ساتھ اطمینان وسکون، فرحت وانبساط اور زیادتی ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ جو کثرت تلاوت سے پرانا نہیں ہوتا نہ ہی پڑھنے والا اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے۔ بلکہ مزید اشتیاق وچاہت کے جذبات سے شادکام ہوتا ہے کیونکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے۔ یہ قرآن مجید مکمل شفاء ہے، دلوں کو استقامت بخشتا ہے، شکوک وشبہات کے روگیوں کو نسخہ کیمیا عطاء کرتا ہے، خواہشات نفسانی اور طاعت شیطانی کے اسیر مریضوں کے لیے ربانی علاج تجویز کرتا ہے۔ یہ فرقان حمید ہے جو حق وباطل کے درمیان واضح تفریق کرتا ہے۔ شرک وکفر اور نفاق کے اوصاف وعلامات سے آگاہ کرتا اور مذموم صفات واخلاق اور عقائد فاسدہ کے حاملین کے مکر وخداع اور دجل وفریب سے متنبہ کرتا ہے۔جو قوم قرآن کریم کو اپنا دستور حیات بنا لیتی ہے،خدا اسے رفعت اور بلندی سے سرفراز فرماتا ہے اور جو گروہ اس سے اعراض کا رویہ اپناتا ہے وہ ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "خذ الکتاب بقوۃ " محترمہ یاسمین حمید صاحبہ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید پر عمل کرنے ترغیب دلائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-ahkam-e-witr-copy
محمد علی جانباز

وتر کےمعنیٰ طاق کےہیں۔ احادیث نبویہ کی روشنی میں امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں نمازِ وتر کی خاص پابندی کرنی چاہیے؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ سفروحضر میں ہمیشہ نمازِ وتر کا اہتمام فرماتے تھے، نیز نبیِ اکرم ﷺ نے نماز ِوتر پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے حتی کہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص وقت پر وتر نہ پڑھ سکے تو وہ بعد میں اس کی قضا کرے۔ آپ ﷺ نے امت مسلمہ کو وتر کی ادائیگی کاحکم متعدد مرتبہ دیا ہے۔ نمازِ وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح ہونے تک رہتا ہے۔رات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد پڑھ کر نماز ِوتر کی ادائیگی افضل ہے، نبی اکرم ﷺکا مستقل معمول بھی یہی تھا۔ البتہ وہ حضرات جورات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد اور نمازِ وتر کا اہتمام نہیں کرسکتے ہیں تو وہ سونے سے قبل ہی وتر ادا کرلیں ۔آپ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ ،سات اور نو رکعات کےساتھ نماز وتر کی ادائیگی ثابت ہے۔کتب احادیث وفقہ میں نماز کے ضمن میں صلاۃوتر کےاحکام ومسائل موجود ہیں ۔ نماز کے موضوع پر الگ سے لکھی گئی کتب میں بھی نماز وتر کے احکام موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احکام وتر ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫کی تصنیف ہے۔مولانا کی یہ آخری تصنیف ہے اس کتاب کو لکھنے کا کام جاری تھا کہ اسی دوران مولانا بیمار ہوگئے اور کتاب کی تکمیل نہ کرسکے بالآخر تین سےچار مہینے بیمار رہنے کے بعد 13 دسمبرر 2008ء کومولانااپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔بعد ازاں ان کے معاون خصوصی محمد اشتیاق شاہد صاحب (مدرس جامعہ رحمانیہ ،سیالکوٹ ) نےاس کتاب کومکمل کیا شرح طلب امور کی وضاحت کی مکمل کتاب کی تخریج کی اور اس کتاب میں کچھ اضافہ جات بھی کیے ۔یہ اپنےموضوع میں ایک تحقیقی اور علمی کاوش ہے جس میں تماز وتر کے متعلق جملہ احکام ومسائل کو علمی انداز میں جمع کردیاگیاہے ۔(م۔ا)

title-pages-ahkam-w-waqaf-w-hiba-copy
محمد علی جانباز

کسی بھی چيز کی اصل کو روک کر رکھنے اور اس میں ہبہ یا وراثت کے تصرف نہ کرنے بلکہ کسی بھی قسم کا تصرف نہ کرنے کو وقف کہا جاتا ہے تاکہ اس چيز کے نفع کو وقف کرنے والے کےارادہ کے مطابق خیر و بھلائی کے کاموں میں صرف کیا جا سکے ۔سب سے بہتر وقف یہ ہے کہ اسے خیر و بھلائی کے کاموں میں وقف کیا جائے۔ اور ہبہ ، ہدیہ اور صدقہ وقف کی ذیلی اقسام ہیں غریبوں اورضرورت مندوں کی مدد کے طریقے ہیں جن کی ترغیب کتاب وسنت میں دلائی گئی ہے ۔ لغوی اعتبار سے اگر کوئی ریئس ، بادشاہ وغیرہ کسی چھوٹے کوکوئی عطیہ دے تواسے ہبہ کہاجاتا ہے جبکہ اگر چھوٹا کسی بڑے کوکچھ نذرکرے تو اسے ہدیہ کہاجاتاہے ۔ اصطلاح میں ہبہ ایک شخص کا دوسرے کوجائیداد منقولہ یا غیرمنقولہ کا فوری اور بلامعاوضہ مالک بنا دینے اورشی موہوبہ کےحق ملکیت سےدستبردار ہونے کا نام ہبہ ہے۔ ہبہ کا لفظ ایک مخصوص اصطلاح فقہ کے طور پر عہدنبوی ہی میں بکثرت استعمال ہونے لگا تھا۔ متاخر عہد فقہاء نےشرح وبسط سےاس کےتفصیلی احکام بیان کیے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احکام وقف وہبہ ‘‘شیخ الحدیث مولانامحمد علی جانباز ﷫ کی تصنیف ہے ۔یہ رسالہ انھوں نے 1987ء میں لاہور ہائیکورٹ کووقف کےمتعلق درپیش معاملہ پر تحریر کی ۔کیونکہ وکلا حصرات نے مولانا سے وقف ،ہبہ کے متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں معلومات طلب کی تھیں اور مولاناجانباز﷫ نے اس رسالہ میں تین مسائل (وقفہ ، ہبہ ، شفعہ ) متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی مواد جمع کر کے وکلا کے سامنےپیش کیا ۔ بعد ازاں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کردیا گیا تاکہ عوام الناس اور وکلاء حضرات اس سے مستفید ہوسکیں۔(م۔ا)

pages-from-islami-bedari-mustaqbil-key-tanazir-mein
ڈاکٹر مانع حماد الجھنی

مسلم دنیا میں آج ہر جگہ اسلام کی طرف واپسی اور اس خدائی نظام کی پیروی کا رجحان نظر آ رہا ہے، جس کی اساس قرآن وسنت کے مصادر پر ہے، اس رجحان اور فضا کو آج اصطلاحی طور پر اسلامی بیداری سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔اسلامی بیداری اب وہ عمومی رجحان ہے جس نے انیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں سے ساری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے۔مسلم ہوں یا غیر مسلم ان کی ایک بڑی تعداد اس میں دلچسپی لے رہی ہے، کچھ تو اسے خوش آمدید کہہ رہے ہیں اور پر امید ہیں، کچھ خوف اور اندیشوں میں مبتلا ہیں، کچھ اس کی وضاحتیں کر رہے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں، کچھ اس سے ڈر رہے ہیں اور اس پر تنقید کر رہے ہیں، کچھ اس کی رہنمائی کر رہے ہیں تو کچھ اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کا رویہ اپنے مقصد اور دلچسپی کے لحاظ سے ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی بیداری مستقبل کے تناطر میں "سعودی عرب کے معروف عالم دین اور ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ، ریاض کے سیکرٹری جنرل محترم ڈاکٹر مانع حماد الجھنی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مظہر سید عالم نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے اسلامی بیداری کے حوالے اپنے تجربے کو پیش کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کی درست سمت رہنمائی فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)(تاریخ اسلام)

title-pages-ahkam-e-qasam-w-nazar-copy
محمد علی جانباز

اسلامی شریعت میں نذر ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہےکسی خیر کے کام کا عہد کرلینا۔یعنی نذریا منت ایک وعد ہ ہے  جو اللہ تعالیٰ سےکیا جاتا ہے ۔ لہذا تمام وعدوں کے نسبت اس وعدے کو پورا کرنا زیادہ اہم اور قابل ترجیح ہے ۔ اگرچہ عہد کوئی بھی ہو اسے پورا کرنا مسلمان پر لازم ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا(الاسراء:34) ’’اور عہد پورا کرو بے  شک  عہد کے متعلق سوال کیاجائے گا‘‘۔ نذرماننے میں قسم  کھانے کامفہوم خود بخود شامل ہے  لہذا یہ ایک  وعدہ ہے  کہ جس کے متعلق قسم کھائی جاتی ہے کہ اسے  ضرور پورا کروں گا۔نذ ر ماننا  فرض نہیں  لیکن  جب کوئی نذر مان لے  توپھر اسے پورا کرنا فرض ہوجاتا ہے اور نذرپوری نہ کرنا سخت گناہ ہے ۔روزہ مرہ زندگی میں   اکثر وبیشتر قسم ونذر کا استعمال ہوتا ہے ۔اکثر لوگوں کو شریعت کے مسائل کا  علم نہیں ہوتا اس لیے ان مسائل میں اکثر غلطیاں کرجاتے ہیں  بلکہ بعض اوقات ایسی فاش غلطیاں ہوتی ہیں جو شرک کے دائرہ  میں آتی ہیں ۔ شارح سنن ابن ماجہ     شیخ الحدیث  مولانا محمد علی جانباز ﷫ نے زیر تبصرہ   رسالہ ’’ احکام قسم ونذر  ‘‘  میں لوگوں کو انہی مسائل سے  آگاہ کیا  ہے کہ لوگ جس میں اکثر وبیشتر غلطیاں کرتے  ہیں ۔مصنف موصوف نے   احکام  قسم کو بیان کرتے ہوئے  قسم کا  حکم ، قسم کی اقسام  او رکفار قسم کو  وضاحت سے پیش کیا ہے  اس کے بعد  احکام نذر کو بیان کرتے  ہوئے نذر کی تعریف ،  نذر کی اقسام  ، کفارہ  نذر  وغیرہ کو آسان فہم انداز میں تحریر کیا ہے ۔اردو طبقہ کےلیے  احکام  قسم ونذر سمجھنے کے لیے یہ رسالہ گراں قد ر تحفہ  ہے ۔اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی دعوتی ، تدریسی، تحقیقی وتصنیفی  خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-ahkam-e-shariyat-me-hadith-w-sunnat-ka-maqa-copy
حافظ عبد الرشید اظہر

قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر شریعت اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی اور فہم قرآن سے دوری ہے ۔سنت رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم کا دعو یٰ نادانی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں قرآنی آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری فرماکر دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان کی فرضیت کے بارے میں ابہام پیدا کرکے کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے سنت کی شرعی حیثیت کو مجروح کر کے دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن الحمد للہ ہر دو ر میں محدثین اور علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ احکام شریعت میں حدیث وسنت کا مقام ‘‘ دارالفلاح ،لاہور کی طرف سے 2005ء میں تعلیم وتربیت پرمشتمل منعقد کیے گئے پروگرام میں ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر ﷫ کے خصوصی خطاب کی کتابی صورت ہے ۔موصوف حافظ صاحب اس پروگرام مہمان خصوصی کےطور پر مدعو تھے جس میں آپ نے خطاب کرتے ہوئے طلبہ نصیحت کی وہ دین کی چند بنیادی باتیں اورکچھ صرف ونحو سیکھ لینے کی بنا پر یہ نہ سمجھنے لگ جائیں کہ وہ عالم بن گئے یا اساتذہ سے مستغنی ہوگئے ہیں ۔نیز حافظ صاحب مرحوم نے اس پروگرام میں ’’احکا م شریعت میں حدیث وسنت کامقام‘‘ کے عنوان پر دلائل سے مزین علمی خطاب ارشاد فرمایا ۔محترم جناب مولانا محمد ارشد کمال ﷾ نے ﷾ نے حافظ عبد الرشید اظہر ﷫ کے اسی خطاب کو مرتب کرکے اس کی تخریج بھی کی ہے ۔ جسے مکتبہ افکار اسلامی ،لاہور نے استفادۂ عام کے لیے شائع کیا ہے اللہ تعالیٰ حافظ صاحب مرحوم کو جنت الفردو س میں اعلی وارفع مقام عطا فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-moharramaat-e-ilahi
قاری سیف اللہ ساجد

حرام چیزوں کابیان علمِ دین کا ایک اہم ترین جز ہے اورجب تک آدمی حرام چیزوں سے نہ بچے نہ اس کا اسلام معتبر ہے او رنہ ہی عبادت قبول ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل کی تباہی کا بڑا سبب اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنا، احکام شریعت کامذاق اڑانا مختلف تاویلوں سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا تھاجس کی وجہ سے اللہ تعالی نےان پر پے درپے عذاب نازل کیے۔حرام چیزوں کو بیان کرنے کے لیے علماء کرام نے متعدد کتب تالیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’محرمات الٰہی‘‘ عالم اسلام کے مشہور عالمِ دین فضیلۃ الشیخ محمد صالح المنجد ﷾کی عربی تصنیف ’’محرمات استهان بها الناس‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں شریعت اسلامیہ کے دلائل کی روشنی میں حرام چیزوں کو بیان کر کے ان کی قباحتوں کو بھی واضح کیا ہے۔ محترم جناب قاری سیف اللہ ساجد قصوری نے اردو دان طبقہ کے لیے اس کتاب کواردو قالب ڈھالا ہے۔ یہ کتاب روزہ مرہ کے معمول بن جانے والے 70 محرمات کامجموعہ ہے جن سے بچنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

title-pages-ahkam-e-masajid-copy
محمد منیر قمر

مساجد روئے زمین پر زمین کا سب سےبہتر حصہ ہیں احتراما انہیں بیت اللہ یعنی اللہ کاگھر بھی کہا جاتاہے اسلا م اور مسلمانوں کامرکزی مقام یہی مسجدیں ہیں اور مسجد اللہ کا وہ گھر ہے جس میں مسلمان دن اوررات میں کم ازکم پانچ مرتبہ جمع ہوتےہیں اوراسلام کا سب اہم فریضہ ادا کرکے اپنے دلو ں کوسکون پہنچاتے ہیں ،مسجد وہ جگہ ہے جہاں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے بندگی کااظہار کرتے ہیں،او رمسجد ہی زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے پاکیزہ متبرک اوربہترین جگہ ہے ۔قرآن مجید میں اور احادیث نبویہ ﷺ میں بے شمار مقامات پر مسجد کی اہمیت اور قدر منزلت کوبے بیان کیا ہے۔او ر کئی اہل علم نے مسجد کی فضیلت اور احکام ومسائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’احکام مسجد ‘‘ فضیلۃ الشیخ مولانا محمدمنیر ﷾ مصنف کتب کثیرہ کی کاوش ہے ۔ اس کتاب انہوں نے قرآ ن وحدیث کی روشنی میں مسجد تعمیر کرنےکی فضیلت ،مسجد نبوی کی تجدید وتوسیع ، مساجد کی صفائی وستھرائی کا احکا م ،مساجد میں گمشدگی کا اعلان کرنا ، مساجدمیں خرید وفروخت ، مساجد میں شعر گوئی ، مساجد کےخطباء کی ذمہ داریاں ، مساجد میں دنیاوی بات وچیت ، بدبو دار چیز کھا کر مسجد میں جانا ،مساجد میں کھانا پکانا ،مساجد میں سونے یا لینے کے آداب ،مسجد میں بے وضو داخل ہونا، مساجد میں حدود وتعزیرات کا نفاذ،مساجد سےجلوس نکالنا ، مسجد میں ہاتھوں کی انگلیوں انگلیا ں ڈالنا ،مساجد کے نام رکھنا وغیرہ عنوانات قائم کر کے مسجد کے جملہ احکام ومسائل کو قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-ahkam-e-nikah-copy
محمد علی جانباز

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں گھیرے ہوئے ہیں بالخصوص برصغیر پاک وہند میں شادی بیاہ کے موقع پر بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ان رسومات میں بہت زیادہ فضول خرچی اور اسراف سے کا م لیا جاتا ہے جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ان مواقع پر تمام رسوم تو ادا کی جاتی ہیں ۔لیکن لوگوں کی اکثریت فریضہ نکاح کے متعلقہ مسائل سے اتنی غافل ہے کہ میاں کو بیو ی کے حقوق علم نہیں ، بیوی میاں کے حقوق سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے نابلد ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ احکام نکاح ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے نکاح کا معنی ٰ، نکاح کی اہمیت وضرورت ،نکاح کاحکم، نکاح کے ارکان وشرائط ،شادی وبیاح کی رسومات ،مسنون نکاح ، آداب زفاف ، مسئلہ تعدد زواج ، نکاح کی اقسام ، زوجین کےحقوق وغیرہ کو قرآن وسنت کےدلائل کی روشنی میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی دعوتی ، تدریسی، تحقیقی وتصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-faham-e-deen-aur-us-key-bunyadi-mutalbaat
فاروق احمد

اللہ تعالیٰ نو ع انسانیت کو پیدا کر کے انہیں زندگی گزارنے کے لیے مکمل نظام حیات عطا فرمایا ہے جسن کو ’’الدین‘‘ کےنام سےموسوم فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَام ’’الله كى نزديك دين صرف اسلام ہے۔‘‘ فہم دین کاتمام دار ومدار قرآن وحدیث پر ہے اور ہر مسلمان مردو عورت کی یہ ذمہ دار ی ہے کہ وہ اگر رسوخ فی العلم حاصل نہیں کرسکتا تو کم ازکم اتنا فہم دین ضرور حاصل کرے جس سے دین اسلام کے بنیادی عقائد وعبادات اور مسائل سے واقف ہوجائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فہم دین اور اس کے بنیادی مطالبات‘‘ مولانافاروق احمد صاحب کی کاوش ہے جو کہ قرآن مجید کی101 آیات اور ایک سو اکیاسی (181) احادیث کامجموعہ ہے۔ فاضل مصنف نے ان قرآنی آیات اور احادیث کو قارئین کی سہولت کے لیے عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ تاکہ مندرجات کو سمجھنے میں آسانی رہے ۔کتاب کے آغاز میں مصنف نے قرآن مجید کی چار آیات کے ذریعے دین، فہم دین، اقامت دین او رغلبہ دین کی طرف رہنمائی کی ہے۔ نیز چند سورتوں اور آیات کے فضائل، نمازوں میں اور نمازوں کے بعد قرآن مجید کی سورتوں اورآیات کی تلاوت، سونے سے پہلے اورروز مرہ کی بطور ورد و وظائف تلاوت اور فہم قرآن کےحلقات واجتماعات کی فضیلت بھی اس کتاب کے اہم مباحث ہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (م۔ا)

title-pages-afwahon-ki-sharie-haisiyat-copy
راشد حسن

ہمارے دین کامل اسلام میں جھوٹ بہت بڑا عیب اور بد ترین گناہ ہے ۔جھوٹ کا مطلب ہے وہ بات جو واقعہ کے خلاف ہویعنی اصل میں وہ بات اس طرح نہیں ہوتی ۔جس طرح بولنے والا اسے بیان کرتا ہے ۔اس طرح وہ دوسروں کو فریب دیتا ہے ۔جو اللہ اور بندوں کے نزدیک بہت برا فعل ہے ۔جھوٹ خواہ زبان سے بولا جائے یا عمل سے ظاہر کیا جائے ۔مذاق کے طور پر ہو یا بچوں کو ڈرانے یا بہلانے کےلئے ہر طرح سے گناہ کبیرہ اور حرام ہے ۔جھوٹ گناہوں کا دروازہ ہے کیونکہ ایک جھوٹ بول کر اسے چھپانے کےلئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ۔قرآن و حدیث میں اس قبیح عادت کو چھوڑنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔جھوٹ بولنا مومن کا شیوہ نہیں اور جس کےدل میں ایمان ہوتا ہے وہ جھوٹ بولنے سے کتراتا ہے کیونکہ اس میں رب الٰہی کی ناراضگی ہے ۔ارشاد نبوی ﷺ ہےکہ ’’ جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس کے منہ کی بدبو سے 70 میل دور چلے جاتے ہیں ۔ایک حدیث میں ہےکہ بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور وہ اس میں اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ و ہ اللہ کےہاں بھی جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ جو انسان جھوٹ کو اپنا لیتا ہے اس کا معاشرے میں کوئی وقار نہیں ہوتا اپنے پرائے سب اس سے دور چلے جاتے ہیں اور وہ لوگوں کی نظروں میں گر جاتاہے۔جھوٹ کی ایک قسم افواہ سازی بھی ہے جو کہ انسان بنا کچھ سوچے سمجھے کوئی بات کسی سے سن کر لوگوں میں پھیلادیتے ہیں جب کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ۔جس سے انسان کی عزت پر حرف آتا او رمسلمان کی عزت کو نبی کریم ﷺ نے کعبہ کی حرمت سے بڑھ کر قرار دیا ہے ۔افواہ سازی کے عصر حاضر میں مختلف ذرائع بن چکے ہیں ۔ بالخصوص میڈیا کا کردار اس میں سرفہرست ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’افواہوں کی شرعی حیثیت وجوہات ، اقسام ، اثرات ‘‘ محترم جناب راشد حسن صاحب کی ایک منفرد کاوش ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں افواہ سازی کے طریقہ واردات کو سمجھنے کے لیےتمام مطلوبہ معلومات فراہم کی ہیں اور افواہ کی شرعی حیثیت کو دلائل کی روشنی میں واضح کیا ہے ۔ نیز میڈیا کے مثبت اور منفی کردار پر کتاب میں سیر حاصل بحث کی ہے اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کولوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے اور تمام مسلمانوں کو عمل کی توفیق عطا فرمائے اور افواہ سازی سے دور رکھے ۔ (آمین) ( م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1322 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں