pages-from-apni-shakhsiyyat-kese-pasandeeda-banaen
مبشر حمید

اسلام ایک مکمل اور ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام واحد دین ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر گوشے اور ہر پہلو کی رہنمائی کی ہے۔ اسلام سے محبت کرنے والے ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شب وروز قرآن وسنت اور اسلام کی دی گئی تعلیمات کے مطابق بسر کرے۔ دنیاوی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو اسے قرآن وسنت کے سانچےمیں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دنیاوی معاملات میں ایک اہم معاملہ اپنی شخصیت کو کیسے اور کس قدر سنوارنا ہے کہ لوگ اُسے پسند کریں اور ظاہر ہے کہ شریعت نے ہر معاملے میں رہنمائی فرمائی ہے۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ وہ رہنمائی کیا ہے جو شریعت نے دی ہے؟ زیرِ تبصرہ کتاب میں اسی بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے اور تفصیلاً گفتگو بھی کی گئی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب اور اسلوب عمدہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں مؤلف نے سات ابواب قائم کیے ہیں۔ پہلے باب میں انسانی شخصیت کے بارے میں کچھ اہم باتیں مذکور ہیں کہ اس میں کیا کیا صفات ہوں‘ دوسرے باب میں ملاقات کے اسلوب بتائے گئے ہیں‘ تیسرے میں ملنے والوں کو مختلف انداز میں اہمیت دینے کے بارے میں‘ چوتھے میں ملاقات کرنے والے کو مختلف زاویوں سے سمجھنا ‘ پانچویں میں مجلس کے آداب کو‘ چھٹے باب میں صبر کے حوالے سے اور ساتویں باب میں تعصب کی حقیقت اور اس کی صورتوں کا ذکر ہے۔ حوالہ جات میں تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات کے حوالے ساتھ ساتھ دیے گئے ہیں ‘ احادیث کے حوالے فٹ نوٹ میں مذکور ہیں اور حدیث کے حوالے میں پہلے کتب حدیث کا نام اور اس کی کتاب کا نام لکھ کر حدیث کا نمبر درج کیا گیا ہے اور کتب سیر میں صرف کتاب کا نام دیا گیا ہے مزید تفصیل نہیں یعنی ناقص حوالے ہیں۔ اس کتاب میں فارسی زبان کی کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے اور فارسی اشعار پیش کر کے ان کا ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔یہ کتاب’’ قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنی شخصیت دوسروں کے لیے کیسے پسندیدہ بنائیں ‘‘ مبشر حمید صاحب﷾ کی عظیم کاوش ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-touhfa-al-muslim-shrah-sahih-muslim-1-copy
امام مسلم بن الحجاج

اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔  نبیﷺ کے بعد شریعت محمدی کا عَلَم امت کے علماء کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے  ہر زمانے میں  کچھ خاص لوگوں کو چُنا جو شریعت محمدیﷺ کو لوگوں تک پہنچاتے رہے اور مسلمانوں تک احادیث رسولﷺ کا گراں قدر سرمایہ پہنچانے کےلیے ائمہ حدیث نے بڑی محنتیں کیں اور بہت مشقت اُٹھا کر لمبے لمبے اسفار کیے ہیں اور کئی کتب حدیث کے کئی مجموعے مرتب کیے  جن میں سے ایک کتاب ’’صحیح مسلم‘‘ کے نام سے معروف ہے جس کی کئی شروح لکھی گئی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی  صحیح مسلم کی شرح پر مشتمل ہے جس میں  سب سے پہلے امام مسلم کے مقدمہ کی تشریح وتوضیح کی گئی ہے‘ پھر اپنی کتاب کی احادیث کو انتہائی عمدہ اور مضامین کی ترتیب کے لحاظ سے لکھا ہے اور پھر سند کا ترجمہ کیا گیا ہے ‘ اگر کہیں اس میں کوئی اشکال ہو تو فوائد میں اس کو حل کیا ہے‘ متن کا مکمل ترجمہ کیا ہے اور لفظی ترجمہ کو نظر انداز نہیں کیا گیا‘ فوائد کے عنوان کے تحت حدیث کی مکمل تشریح کی ہے اور تشریح وتوضیح میں بہت طوالت سے گریز کر کے  فہم وتفہیم میں اگر کوئی اشکال ہو تو اس کو بھی حل کیا ہے‘ احادیث میں بیان کردہ احکام ومسائل کی ضروری توضیح وتفصیل بیان کر دی ہے‘ احکام ومسائل میں شہسوار ائمہ کی آراء کو بھی بیان کر کے راحج مؤقف کی نشاندہی بھی کی گئی ہے‘ جن شارحین نے صحیح احادیث سے غلط مسائل  کے استنباط کی کوشش کی ہے ان کا مناسب انداز میں جواب دیتے ہوئے ان کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ یہ کتاب ’’ تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم ‘‘ مولانا عبد العزیز علوی﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-deen-al-haqq-bajawab-jaa-al-haqq-part-2-copy
ابو صہیب محمد داؤدارشد

سابقہ اقوام کی گمراہی کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈالا اور خواہشات نفس کو مقدس سمجھا-بدقسمتی سے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو جنہوں تقلیدی جکڑبندیوں کی وجہ سے کتاب وسنت کے صریح احکامات میں رخنہ ڈالنے  کی بھرپور سعی کی جس کی ایک مثال ''جاء الحق'' نامی کتاب ہے جو کہ بریلوی علماء میں سے ایک عالم احمد یار کی ی تصنیف ہے- زیر نظر کتاب ''دین الحق '' اسی کتاب کے جواب میں لکھی گئی ہے جس میں فاضل مؤلف نے نمازوں کے اوقات، نمازکے ارکان وشرائط اور بہت سے دیگر فروعی مسائل میں احمد یار صاحب کے مؤقف کی انتہائی جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ تردید کی ہے-مصنف نے بریلوی حضرات کے تمام اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کسی جگہ پر بھی کتاب وسنت کے  دلائل وبراہین کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا- زیر نظر کتاب ''دین الحق '' ''جاء الحق'' کے جواب میں لکھی گئی ہے جس میں فاضل مؤلف نے نمازوں کے اوقات، نمازکے ارکان وشرائط اور بہت سے دیگر فروعی مسائل میں احمد یار صاحب کے مؤقف کی انتہائی جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ تردید کی ہے-مصنف نے بریلوی حضرات کے تمام اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کسی جگہ پر بھی  کتاب وسنت کے دلائل وبراہین کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا-(ع ۔ ر)

pages-from-fazalullah-al-ahad-urdu-sharah-al-adab-ul-mufrad
محمد بن اسماعیل بخاری

اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کی رہنمائی کے لیے انہی میں سے ایک نبی کو مبعوث فرمایا اور مبعوث فرمانے کےبعد انہیں تعلیمات دینے کے لیے قرآن مجید اور احادیث نبویہﷺ کا عظیم تحفہ بھی عنائیت فرمایا۔ نبیﷺ سے پہلے انبیاء کی نبوت جز وقتی تھی اور ان کے جانے کے بعدان کی تعلیمات تحریف کا شکار ہو گئیں لیکن نبیﷺ کی شریعت قیامت تک کے لیے تھی اس لیے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے لے لیا اور احادیث نبویہﷺ کی حفاظت کے لیے اللہ رب العزت نے امت کے اکابر علماء کو چُن لیا اور انہوں نے اس کی حفاظت بھی کی اور آج قرآن مجید اور نبیﷺ کے فرامین اپنی اصل حالت میں بنا تحریف کے موجود ہیں۔ اور ان کی جمع وتدوین کا ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جس کی مثال اس امت سے پہلےکوئی اُمت یا قوم پیش نہیں کر سکی۔ اور احادیث اور فن حدیث پر بے شمار کتابیں تالیف ہو چکی ہیں اور یہ ایسا بحر ذخار ہے کہ جس کے ساحل پر پہنچنے کے لیے ایک مدت دراز درکار ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں بھی احادیث کے ایک مجموعے کو بزبانِ اُردو ترجمہ‘ تخریج اور تشریحات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور اس کتاب کو مروجہ انداز سے ہٹ کر جدید ترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں 644 ابواب اور کل مرفوع وموقوف روایات کی تعداد 1322 ہے۔ اس کتاب میں اگرچہ امام بخاری نے صحیح احادیث کا التزام نہیں کیا مگر ایسی احادیث کو بھی نہیں بیان کیا جو محدثین کے نزدیک پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ یہ کتاب اصلا عربی میں ہے لیکن افادۂ عام کے لیے اس کا اردو ترجمہ عام فہم اور سلیس رکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے اور لمبی بحثوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ اور اس کتاب میں امام صاحب نے ان احادیث کا التزام کیا ہے جنہیں ’’ زندگی گزارنے کے سنہرے اصول‘‘ کا عنوان دیا جا سکتا ہے اور یہ کتاب فضائل و اعمال کا مجموعہ بھی ہے۔مرفوع احادیث کے ساتھ ساتھ آثار صحابہ اور اقوال تابعین بھی ہیں۔ یہ کتاب اصلا عربی میں امام بخاری کی تالیف ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا عثمان منیب﷾ نے کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف ‘متبرجم وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-armaghan-allama-alauddin-sadiqi-copy
پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت

بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام علامہ علاؤ الدین صدیقی صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص علامہ علاؤ الدین صدیقی کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان علامہ علاؤ الدین صدیقی ‘‘پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-armaghan-profaisor-hafiz-ahmad-yaar-copy
پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت

بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام پروفیسر حافظ احمد یار صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص پروفیسر حافظ احمد یار کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار ‘‘پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾ اور پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ دونوں کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-ashaab-e-badar
قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

غزوہ بدر 17 رمضان 2 ہجری بروز جمعہ ہوا۔ اس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ سامان جنگ تھا جبکہ مسلمان تین سو تیرہ (313) تھے اور ان میں سے بھی اکثر نہتے تھے، مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں، آٹھ تلواریں اور ستر اونٹ تھے۔جبکہ صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔ صحابہ کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ کرام میں سے بعض صحابہ کرام ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ صحابہ کرام کےایمان افروز تذکرے اورسوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم نے کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اصحاب بدر" ہندوستان کے نامور صاحب قلم اورمورخ محترم قاضی محمد سلیمان منصور پوری﷫کی تصنیف ہے۔جس میں معروف روایت کے مطابق جمیع اصحاب بدر کا احاطہ کیا ہے آسان فہم انداز میں جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کے نام اور مختصر حالات زندگی کو بیا ن کیا ہے۔قاضی صاحب ایک معروف مصنف اور مورخ ہیں ۔ان کے قلم سے متعدد کتب شائع ہو کر درجہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔اور سیرت نبوی ﷺ پر ان کی کتاب "رحمۃ للعالمین "ہر صاحب علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین ) طالب دعا: پ،ر،ر

title-pages-armaghan-profaisor-malik-muhammad-aslim-copy
ڈاکٹر حافظ محمود اختر

بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام پروفیسر ملک محمد اسلم صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص ملک محمد اسلم کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان پروفیسر ملک محمد اسلم ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر﷾ اور پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ دونوں کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-galba-e-room-copy
ظفر علی خاں

قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔  زیرِ تبصرہ کتاب ’’ غلبۂ روم سورۂ روم کی ابتدائی آیات کی تاریخی تفسیر‘‘مولانا ظفر علی خاں کی ہے۔ جس میں جو پیشین گوئی اس سورت کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے، وہ قرآن مجید کے کلامِ الٰہی ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رسولِ برحق ہونے کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے تاکہ ان تاریخی واقعات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالی جائے جو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

pages-from-al-baabiah-arz-o-naqad
علامہ احسان الہی ظہیر

اللہ رب العزت نے ہمارے نبیﷺ کو ایک کامل واکمل شریعت دے کر مبعوث فرمایا اور نبیﷺ نے اپنی تعلیمات عامۃ الناس تک پہنچا ہی نہیں دیں بلکہ حق بھی ادا کر دیا‘ پھر ان تعلیمات کو صحابہ نے تابعین تک انہوں نے آگے لوگوں تک پہنچائیں اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے‘ انیسوی صدی مسلمانوں کی مظلومیت اور مغلوبیت کی صدی تھی‘ اِس صدی میں مسلمانوں کو ان کے وطنوں سے محروم کیا گیا‘اور مسلمانوں پر حملہ آور طاقتوں کی یہ کوشش رہی کہ وہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی اسلام سے مرتد کر دیں اور انہوں نے بہت سے حربے بھی استعمال کیے اور مسلمانوں میں بہت سے مصنوعی عقائد بھی داخل کرنے کی بھی کوشش کی گئی تاکہ مسلمان شکوک وشبہات کا شکار ہو جائیں اور وہ مسلمانوں میں بھیس بدل کر داخل ہوئے انہوں نے بہت سے فرقے مسلمانوں میں چھوڑے جن میں سےدو فرقے’’بابیہ‘‘اور ’’بہائیہ‘‘ ہیں‘ جن کا مقصد مسلمانوں سے اسلام کو جڑ سے نکال دینا اور مسلمانوں کو جہاد وقتال سے دور کرنا تھا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الباییہ عرض و نقد‘‘ مولانا احسان الہی ظہیر شہید کی تصنیف ہے جو کہ پاکستان کے نامور عالم دین اور عظیم سیاسی ومذہبی رہنما ء ، خطیب اور اچھے مصنف بھی تھے آپ نے بہت زیادہ کتب تصانیف فرمائیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور آپ کی چند مشہور ومعروف کتب یہ ہیں: الشیعہ والسنہ‘ الشیعہ واہل بیت‘ الشیعہ والتشع فرق و تاریخ‘ الشیعہ والقرآن‘ الاسماعیلیہ، تاریخ وعقائد اور البابیہ، عرض و نقد و غیرہم۔ اس کتاب میں بابی اور بہائی فرقوں کا ذکر ہے اور جو کتاب میں عبارتیں مذکور ہیں وہ ان ہی کی کتب سے ماخوذ ہیں‘ عبارت کے ذکر کے ساتھ مصادر‘ حوالہ جات‘ کتاب کی جلد نمبر اور صفحہ نمبر وغیرہ بھی مذکور ہیں۔ اور مصنف نے اس کتاب میں ان دو فرقوں کے خلاف وہ دلائل ذکر کیے ہیں جو اِن سے پہلے کسی نے نہیں بیان کیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

title-pages-nabwi-dalail-w-amsal-copy
محمد جلیل خان

اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپﷺ کو کامل واکمل شریعت دے کر مبعوث فرمایا اور ایسی شریعت جو قیامت تک کے لیے ہے۔ نبیﷺ کے بعد شریعت محمدی کا عَلَم امت کے علماء کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے  ہر زمانے میں  کچھ خاص لوگوں کو چُنا جو اس شریعت کا پرچار کرتے رہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی شریعت محمدیﷺ کے پرچار کا سبب ہے اس میں سات ابواب کو ترتیب دیا گیا ہے۔پہلے باب میں بگاڑ کے اسباب‘ دوسرے میں مآلِ کار‘ تیسرے میں مقامِ رسالت‘ چوتھے میں سیرت وکردار‘ پانچویں میں حلال وحرام‘ چھٹے باب میں فہم دین اور ساتویں میں سر براہ سے متعلقہ مسائل کو بیان کیا گیا ہے اور ہر باب کے عنوان سے مناسبت رکھنے والے انتخابات کو ان کے عنوانات کے تحت عربی متن‘ اردو ترجمہ اور مختصر تشریح کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ احادیث کا یہ انتخاب اردو دان خواتین وحضرات اور بچوں کے لیے بھی سنت کی رہنمائی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ حدیث کو بیان کرنے کے بعد اس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے حوالے میں جلد‘باب کا نام‘ صفحہ نمبر اور مکتبہ اشاعت اور سن اشاعت کو بھی درج کیا گیا ہے۔ ۔ یہ کتاب ’’ نبوی دلائل وامثال‘‘ مولانا محمد جلیل خان﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-quran-e-kareem-farman-e-khudawandi-copy
ڈاکٹر ذاکر نائیک

اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن حکیم بلا شبہ وہ زندہ و جاوید معجز ہے جو قیامت تک کے لئے انسانیت کی راہنمائی اور اسے صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے کافی و شافی ہے۔ قرآن کریم پوری انسانیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا انعام ہے کہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی دولت اس کی ہمسر نہیں کر سکتی۔یہ وہ کتاب ہےجس کی تلاوت، جس کا دیکھنا: جس کا سننا اور سنانا، جس کا سیکھنا اور سکھانا، جس پر عمل کرنا اور جس کی کسی بھی حیثیت سے نشر و اشاعت کی خدمت کرنا دونوں جہانوں کی عظیم سعادت ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ قرآن کریم فرمانِ خدا وندی ؟‘‘ سید خالد جاوید مشہدی کی ہے ۔ جس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ایک طویل خطاب اور بعد میں ہونے والے سوال و جواب کو قلمبند کیا ہے۔قرآن مجید کے بارے میں اعتراضات کا جواب قرآن مجید میں موجود ہے ۔مگر اس کتاب میں جدید سائنس میں ہونے والی تحقیق کے ساتھ مختلف مذاہب کے لوگوں کی موجودگی میں معترضین کا منہ بند کیا ہے۔لہذا یہ کتاب معترضین کو بے بس کرنے میں شاندار کتاب ہے اور اس کا مطالعہ خاص کر ان لوگوں کے لئے بہت ضروری ہے جن کا سامنا غیر مسلموں سے ہوتا رہتا ہے۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

title-pages-ayat-e-qurani-k-shan-e-nazool-copy
ابو الحسن علی بن احمد الواحدی النیسابوری

اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن حکیم بلا شبہ وہ زندہ و جاوید معجز ہے جو قیامت تک کے لئے انسانیت کی راہنمائی اور اسے صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے کافی و شافی ہے۔ قرآن کریم پوری انسانیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا انعام ہے کہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی دولت اس کی ہمسر نہیں کر سکتی۔یہ وہ کتاب ہےجس کی تلاوت، جس کا دیکھنا: جس کا سننا اور سنانا، جس کا سیکھنا اور سکھانا، جس پر عمل کرنا اور جس کی کسی بھی حیثیت سے نشر و اشاعت کی خدمت کرنا دونوں جہانوں کی عظیم سعادت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ آیات قرآنی کے شان نزول‘‘ امام نیشا پوری کی عربی کتاب ’’ اسباب النزول‘‘ کامولانا خالد محمود صاحب نے اردو ترجمہ کیا ہے۔اس کتاب میں قرآن مجید کی سورتوں کی ترتیب کے ساتھ قرآنی آیات کے شان نزول کو بیان کیا ہے۔علمائے امت نے شان نزول کے موضوع پر متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔جن میں سے مشہور ترین کتاب اسباب النزول کا پہلاسلیس اردو ترجمہ ہے۔لہذا یہ کتاب قرآنی آیات کے شان نزول کی معرفت کے لئے عظیم قدر تحفہ ہے۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

pages-from-armaghaan-molana-muhammad-ishaaq-bhatti

اس دنیائے فانی میں بسنے والے ہر انسان کا لمحہ بتدریج اس کی شخصیت کی تکمیل کرتا ہے۔ زمانہ اسے مبلغ، محدث، مؤرخ، محقق، مقرر، مصلح، مربی و محسن کے خطابات عطا کرتا ہے۔ ایسے شخص کی زندگی سراپا علم و عمل، سراپا جہاد اور عالم انسانیت کے لیے سرچشمہ ہوتی ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے تو محترم و مکرم ہو کر زندگی کے لمحات گزارتا ہےاور اس عالمِ فنا سے منہ موڑتا ہے تو اپنے پیچھے نہ بھلائے جا سکنے والے کارناموں کی ایک تاریخ رقم کر جاتا ہے۔ ایک پورا زمانہ، ایک پورا عہد اس کی شخصیت سے منسوب ہو جاتا ہے۔ مستقبل کے محرر و مؤرخ اسے اوراقِ تاریخ میں یاد گار زمانہ قرار دیتے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ارمغان مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫‘‘ حمید اللہ خاں عزیز کی ہے۔ جس میں مؤرخ اسلام مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی سحر انگیز شخصیت، اعلیٰ علمی کردار، رندانہ افعال اور تاریخ ساز افکار پر مشتمل یہ ’’ارمغان‘‘ ہے۔ اس کتاب کو پندرہ ابواب کی شکل میں مولانا صاحب﷫ کی شخصیت و کردار کو مختلف حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ہم حمید اللہ خاں صاحب کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے علم، عمل، عمر اور مالی و سائل میں اضافہ فرمائے اور انھیں زیادہ سے زیادہ خدمت﷭ دین کے مواقع میسر آئیں۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

title-pages-ahle-mazahib-ku-quran-ki-dawat-copy
محمد رضی الاسلام ندوی

قرآن مجید لا ریب کتاب ہے ، فرقان حمید اللہ رب العزت کی با برکت کتاب ہے۔یہ رمضان المبارک کے مہینے میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل فرمائی گئی۔پھر اسے تئیس سالوں کے عرصہ میں نبی ﷺپر اتارا گیا۔قرآن مجید ہماری زندگی کا سرمایہ اور ضابطہ ہے۔ یہ جس راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرے ہمیں اُسی راہ پر چلتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ قرآن مجید ہماری دونوں زندگیوں کی بہترین عکاس کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہل مذاہب کو قرآن کی دعوت‘‘ ڈاکٹر محمد الاسلام ندزی کی ہے۔ جس میں اسلام کا تعارف کرتے ہوئے تمام مذاہب کو مخاطب کیا گیا ہے مگر خاص طور پر اس کتاب کا فوکس یہود و نصاریٰ پر ہے۔اس لیے قرآن کریم میں عموما انہی کو مخاطب کیا گیا ہے۔مزید اس کتاب میں آیات قرآنی کی تشریح میں قدیم و جدید کتب تفسیر سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔کہیں کہیں تائید میں بائبل کے حوالے بھی پیش کیے گئے ہیں۔چنانچہ راہ دعوت میں کام کرنے والے اگر دیگر اہل مذاب سے گفتگو کرتے ہوئے اس کتاب کو ملحوظ رکھیں تو امید ہے کہ ان کی گفتگو مؤثر اور نتیجہ خیز ہو گی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کا فائدہ عام کرے اور اس کے اجر سے نوازے۔ آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

pages-from-secularism
ڈاکٹر سفرالحوالی

العزت نے ہم پر احسان کرتے ہوئے سب سے افضل نبیﷺ کو مبعوث فرمایا اور انہیں کامل واکمل شریعت دی۔شریعت اسلامی انسانی زندگی کے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہ تین بنیادی علوم’ عقیدہ‘ تزکیہ نفس اور فقہ‘ پر مشتمل ہے جو انفرادی واجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہیں۔ شریعت جیسی عظیم نعمت اُس وقت تک کما حقہ فائدہ نہیں دیتی جب تک اُس کو اپنے دور کے حالات پر منطبق نہ کیا جائے۔ موجودہ دور میں شریعت کے انطباق کا سب سے بڑا موضوع مغرب کے افکار‘ تہذیب‘ علوم وفنون‘ نظام اور طرز زندگی ہے۔موجودہ دور میں شریعت کی روشنی میں مغربی تہذیب کا فہم حاصل کیے بغیر ہم شریعت کے تقاضوں کو بجالانے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ اسلام کے زوال اور شکست و ریخت کا صحیح اندازہ بھی اُس وقت ہوتا ہے جب ہم مخالف فکر کو تمام فکر ی وعملی پہلوؤں سمیت سمجھنے کی کوشش کریں۔ زیرِ نظر کتاب العلمانیہ جس کا اردو ترجمہ’سیکولرزم کے نام سے ہے یہ ڈاکٹر سفر الحوالی کا ایم اے کا مقالہ ہے جو مدینہ یونیورسٹی میں لکھا ہے۔ اس مقالے کو جامعیت‘ اختصار‘ سہل پن اور شرعی اسلوب کی وجہ سے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہ کتاب مستقل مکتب فکر کی بنیاد ہے جو مغربی فکر وعمل اور اسلامی فکری مسائل کو شرعی تناظر میں دیکھنے کا ملکہ پیدا کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یورپ میں دین عیسائیت کے خلاف لادینیت کی فضا کیسے پیدا ہوئی اور پروان چڑھی اور دین کو بتدریج سیاست‘معاشرت‘اخلاق‘ امور نسوانیت‘معیشت کے میدانوں سے کس طرح بے دخل کیا گیا۔ اس میں مغربی افکار کا فہم پیش کیا ہے اور ساتھ ساتھ نقد وجرح بھی کی گئی ہے۔ اور مؤلف کا اسلوب تحریر مورخانہ اور صحافیانہ ہے انہوں نے خالص فلسفیانہ لب ولہجہ استعمال نہیں کیا۔ یہ کتاب بیس ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب کے آخر میں اہم اصطلاحات کا تعارف بھی دیا گیا ہے اور بعض جگہ سُرخیوں کی کمی تھی تو ترجمے میں ان کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اہم الفاظ‘ اشخاص‘مقامات کو جلی حروف میں لکھا گیا ہے تاکہ ایک ہی نظر میں آسانی سے سمجھ آ سکے۔ یہ کتاب ’’سیکولرزم‘‘ ڈاکٹر سفر الحوالی کی مایۂ ناز کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ محمد زکریا رفیق نے کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف‘ مترجم وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-quran-e-hakeem-k-khule-raaz-copy
بدیع الزماں سید نورسی ترکی

یہ بات اِنتہائی قابلِ توجہ ہے کہ سائنس نے جو دریافتیں بیسویں صدی اور بالخصوص اُس کی آخری چند دہائیوں میں حاصل کی ہیں قرآنِ مجید اُنہیں آج سے 1,400 سال پہلے بیان کر چکا ہے۔ تخلیقِ کائنات کے قرآنی اُصولوں میں سے ایک بنیادی اُصول یہ ہے کہ اِبتدائے خلق کے وقت کائنات کا تمام بنیادی مواد ایک اِکائی کی صورت میں موجود تھا، جسے بعد ازاں پارہ پارہ کرتے ہوئے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اِس سے کائنات میں توسیع کا عمل شروع ہوا جو ہنوز مسلسل جاری و ساری ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ سائنسی معاشرے کی نشوونما کی تمام تاریخ حقیقت تک رسائی کی ایسی مرحلہ وار جستجو پر مشتمل ہے جس میں حوادثِ عالم خود بخود اِنجام نہیں پاتے بلکہ ایک ایسے حقیقی اَمر کی عکاسی کرتے ہیں جو یکے بعد دیگرے امرِ ربّانی سے تخلیق پاتا اور متحرک رہتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن حکیم کے کھلے راز‘‘بدیع الزماں سید نورسی (ترکی) کی ہے۔ جس میں قرآن مجید کی معجزاتی فصاحت کو نمایاں کرنے والی آیات کو نمایاں کیا گیا ہے۔اس کتاب میں الہامی عقل اور انسانی فکر کے حوالے سے چار بنیادی اصولوں کو بیان کیا ہے۔مزید قرآن مجید فصاحت اور سائنس، معجزاتی قرآن اور قرآن کریم کے متعلق نو نکات کو بیان کیے ہیں۔اور یہ کتاب رسالہ نور سے اخذ کی گئ ہے۔بدیع الزماں 1873ء ۔ 1960ء اپنے مسلسل اثر و نفوذسے مسلم دنیاں میں ایک اہم مفکر اور مصنف تھے اوٰر اب بھی ہیں۔مصنف نے کمیونزم کے خلاف جد و جہد کرتے ہوئے لوگوں کی اصلاح کے لئے گامزن رہے۔ ہم مصنف کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(پ،ر،ر)

title-pages-qurani-tashbihat-w-istearat-copy
ڈاکٹر ابو النصر محمد خالدی

قرآن ِ مجید انسانوں کی راہنمائی کےلیے رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی آخری کتاب ہے ۔اور قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے رشد وہدایت کا سرچشمہ اور نوعِ انسانی کےلیے ایک کامل او رجامع ضابطۂ حیات ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے، اس کی تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآنی تشبیہات و استعارات‘‘ڈاکٹر ابو النصر محمد خالدی کی ہے جس کو مرتب عطاء الرحمن قاسمی صاحب نے کیا ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر ابو النصر محمد خالدی مرحوم نے قرآنی تشبیہات و استعارات میں 67 سورتوں میں واقع تشبیہات و استعارات کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔اس موضوع پر ابن ناقیہ کی کتاب ’’الجمان فی تشبیہات القرآن‘‘ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن اس میں صرف انیس آیات کا ذکر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کے ذریعہ شائع کی گئی ہے۔امید ہے یہ کتاب علمی و ادبی حلقوں میں مقبول ہو گی اور مصنف کے لئے ذخیرہ آخرت ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ مصنف کے دٰرجات کو بلند فرمائے۔ آمین (پ،ر،ر)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 343 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :