title-pages-qurbani-k-ahkam-w-masail-copy
حافظ محمد اسماعیل اسد

اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے او رعبادات کی مختلف اقسام ہیں ۔مثلاً قولی،فعلی ، مالی اور مالی عبادت میں ایک عبادت قربانی بھی ہے۔قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جاتا ہے ۔تخلیق انسانیت کے آغازہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے ۔ قرآن مجید میں حضرت آدم کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم کی عظیم ترین سنت ہے ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا کہ اس عمل کوقیامت تک کےلیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضر ت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر اہلِ اسلام کواس اہم عمل کی خاصی تاکید ہے اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام ومسائل اور تعلیمات موجو د ہیں ۔کتب احادیث وفقہ میں کتاب الاضاحی کے نام سے ائمہ محدثین فقہاء نے باقاعدہ ابواب بندی قائم کی ہے ۔ اور کئی اہل علم نے قربانی کےاحکام ومسائل اور فضائل کے سلسلے میں کتابیں تالیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قربانی کے احکام ومسائل ‘‘ حافظ آباد کے معروف خطیب مولانا محمد اسماعیل حافظ آبادی کی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب انہوں نے عیدین کے احکام ومسائل بیان کرنے علاوہ جذعہ ، مسنہ ، اور قربانی کے چاردنوں کے متعلق تفصیل سے علمی وتحقیقی بحث پیش کی ہے ۔(م۔ا)

pages-from-yahoodi-maghrib-aur-muslmaan
ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

تہذیبیں گروہ انسانی کی شدید محنت اور جاں فشانی کا ثمرہ ہوتی ہیں۔ ہر گروہ کو اپنی تہذیب سے فطری وابستگی ہوتی ہے۔ جب تک اس کی تہذیب اسے تسکین دیتی ہے، وہ دیگر تہذیبوں سے بے نیاز رہتا ہے۔ جب کوئی بیرونی تہذیب اس پر دباؤ ڈالنے لگتی ہے تو معاشرہ اپنی تہذیب کی مدافعت کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، اور مخالف تہذیب کو اپنی تہذیب پر اثر انداز ہونے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ مدافعت اکثر حربی ٹکراؤ کی صورت اختیار کر جاتی ہے،اور اگر حربی مدافعت کی قوت باقی نہیں رہ جاتی تو غالب معاشرے کے خلاف سرد جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ تاآنکہ دونوں میں سے کسی ایک کو قطعی برتری حاصل نہ ہو جائے۔ بصورت دیگر کوئی نئی تہذیب وجود میں آتی ہے جس میں متحارب معاشرے ضم ہوجاتے ہیں۔ مستشرقین بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور اس کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "یہودی مغرب اور مسلمان" محترم ڈاکٹرعبید اللہ فہد فلاحی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مغربی یہودیوں کی اسلام کے خلاف کی جانے والی اقتصادی، عسکری اور فکری سازشوں کو طشت ازبام کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-ghussa-mat-karain-copy
ابو عبیدہ عبد الرحمن بن منصور

غصہ اطمینان اور رضامندی کی نقیض اور ضد ہے اس میں قوت ، جوش ،غضب ،برہمگی ، ناراضی ، طیش او رجھلاہٹ کا معنیٰ پایا جاتا ہے ۔غصہ اور جارحیت انسان کا فطری ،انسانی اور صحت مندجذبہ ہے لیکن یہ اس کاغیر اخیتاری فعل ہے ۔غصہ انسان کو تباہی کے کنارے پر لے جاتا ہے اورہلاکت کی وادیوں میں پھینک دیتا ہے اس لیے اس کے نقصانات اور ہلاکت خیزیوں سے آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ اس کے شر سے بچا جاسکے۔غصے اور جذبات پر قابو نہ کرنے کی وجہ سے آج ہمارے معاشرے میں بہت دور رس اثرات مترتب ہور ہے ہیں اور ہمارے باہمی ، معاشرتی تعلقات روبہ زوال ہیں جس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم ان امور میں اسلامی تعلیمات کونظر انداز کر ر ہے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ تو ایسے شخص کوبڑا پہلوان قرار دیتے ہیں جو غصے میں اپنے اوپر قابورکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی پر ظلم اورزیاتی نہیں کرتا۔ زتبصرہ کتاب ’’ غصہ مت کریں ‘‘ شیخ ابو عبیدہ عبد الرحمٰن بن منصور کی عربی تصنیف ’’لا تغصب ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں غصے کے موضوع پر روشنی ڈالی ہے اور اس سلگتے ہوئے انسانی المیے اور معاشرتی اصلاح اور بگاڑ میں اس جذبے کی صحیح حدود وقیود بیان کی ہیں۔آخر میں والدین کے لیے بچوں کے ساتھ رویے اور تعامل میں غصے کےمتعلق بڑی مفید اور کارآمد نصیحتیں درج کی ہیں ۔نیز فاضل مصنف نے غصے کے متعلق تحریروں سےاستفاد ہ کر کے اس کتاب میں غصے کے پچاس کے قریب نقصانات پیش کیے ہیں ۔اپنے موضوع میں یہ بڑی بہترین کتاب ہے ۔ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)

title-pages-mere-maan-baap-ap-pr-qurban-copy
حافظ ابوبکر اسماعیل

حبِ رسول ﷺ اہل ایمان کے لیے ایک روح افزاءباب کی حیثیت رکھتا ہے۔ حبِ رسول ﷺ کے بروئے شریعت کچھ تقاضے ہیں۔ خود نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنی جان، مال، اولاد، ماں باپ غرض جمیع انسانیت سے بڑھ کر محبوب نہ سمجھے‘‘۔ محبت رسول ﷺ کا مظہر اطاعتِ رسول ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کےبغیر مومن ہونے کا دعویٰ منافقت کی بیّن دلیل ہے اور حب رسول ﷺ ہی وہ پیمانہ ہےجس سے کسی مسلمان کے ایمان کوماپا جاسکتا ہے۔ دعوائے محبت ہو اوراطاعت مفقود ہو تو دعویٰ کی سچائی پر حرف آتاہے۔ حب رسولﷺ کےتقاضوں میں سے ایک تقاضا تو نبی ﷺ کا ادب و احترام کرنا، آپ سے محبت رکھنا ہے۔ ۔پیغمبر اعظم وآخر الزمان ﷺ کا یہ اعجاز بھی منفرد ہے کہ آپ کے جان نثاروں کی زندگیاں جہاں محبتِ رسول کی شاہکار ہیں وہاں ہر ایک کی زندگی سنت رسولﷺ کی آئینہ دار ہے۔ ان نفوس قدسہ نے دونوں جہتوں میں راہنمائی کا عظیم الشان معیار قائم فرمایا ہے۔صحابہ کرام نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کرتے تھے اوراس محبت میں مال ودولت کیا جان تک قربان کردیتے تھے تاریخ میں ایسی ایک نہیں سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ صحابہ کرام کا یہی وہ جذبہ اور ایسی ہی محبت آج بھی دلوں میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فداک ابی وامی میرے ماں باپ آپ پر قربان ‘‘ مولانا ابوبکر اسماعیل کی کاوش ہے جس میں انہوں نے حب النبی ﷺ کے متعلق روشنی ڈالی ہے ۔محترم جناب مولانا محمد عظیم حاصلپوری ﷾ نے نبی اکرم ﷺ سے صحابہ کی محبت اور جان نثاری پرجامعہ مقدمہ تحریر کر کے کتاب میں چار چاند لگادیے ہیں ۔نیز انہوں نے فوائد اور صحابہ کے حالات ، فضائل اور افادیت کا ذکر کر کے اس کتاب کو جامع اور پر اثر بنادیا ہے ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف اور ناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-namaz-mein-sar-dhanpane-ka-masalah
محب اللہ شاہ راشدی

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔ آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ نماز کے اختلافی مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ سر ڈھانپنے کے بارے میں ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ "نماز میں سر ڈھانپنے کا مسئلہ" جماعت اہل حدیث کے نامور محقق اور عالم دین محترم مولانا سید محب اللہ شاہ راشدی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے نماز میں سر ڈھانپنے کے حوالے سے گفتگو فرمائی ہے، تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-sahih-bukhari-k-rawat-sahaba-ka-dil-nasheen-tazkra-copy
محمد عظیم حاصلپوری

صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ صحیح بخاری کے رواۃ صحابہ کا دلنشین تذکرہ ‘‘ مولانا محمد عظیم حاصلپوری ﷾ (مصنف کتب کثیرہ ) کی ایک منفرد کاوش ہے ۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے ہرصحابی کےنام ونسب او رکنیت ولقب کے ساتھ ساتھ ان کے قبول اسلام کی داستاتوں کو تحریرکیا ہے ، ہرصحابی کی حتی الوسع مرویات کی تعداد ،ہرصحابی وصحابیہ کے تذکرے کے آخر میں ان سے مروی ایک حدیث صحیح بخاری سے بطور نمونہ باترجمہ درج کردی ہے ،کتاب کے آخر میں صحابہ کرام کے اسمائے گرامی تحریر کردیے ہیں جو اپنی کنیت سے مشہور ہیں ۔ نیز فاضل مصنف نے شروع میں امام بخاری وصحیح بخاری کے متعلق ضروری اور قیمتی معلوماات درج کردی ہیں ۔فاضل مصنف نے تقریباً یکصد کتب مصادر سے ان صحابہ کرام کے واقعات حیات کشید کر کے درج کیے ہیں کہ جن کی احادیث کو امام بخاری﷫ نے صحیح البخاری میں درج کیا ہے ۔اس کتاب میں ہر صحابی کے نام ونسب اور کنیت ولقب کی تحقیق کی گئی ہے ،ان کے قبول اسلام کی داستانوں کو تحریر کیا گیا ہے ۔ان کی ذہانت ، عظمت علمیہ، ایثار نفسی ، جر أت ، زہد وروع اور شرافت ودیانت کے دلچسپ اور قابل رشک واقعاتِ حیات کو احاطۂ تحریر میں لایا گیا ہے ۔اپنے موضوع میں یہ کتاب صحابہ کرام کے فضائل ومناقب پر منفرد کاوش ہے ۔ مفتی جماعت شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی اس کتاب پر نظر ثانی سے کتاب کی افادیت دوچند ہوگئی ہے اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام تحقیقی وتصنیف ،صحافتی ،تدریسی اور تبلیغی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-sunan-nisai-4-copy
امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام نے احادیث نبویہ کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدون او ر علماء امت نے کتب احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئ ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی کوششوں سےتحقیق حدیث کاجو ذوق پورے عالم اسلام میں عام ہوا اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف رویات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔سننِ اربعہ کی عربی شروحات میں تحقیق وتخریج کا اہتمام تو موجود تھا لیکن اردو تراجم میں نہیں تھا تو جب ان کے نئے ترجمے کر کے شائع کیے گیے اوران میں احادیث کی تخریج وتحقیق کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔جیسے دارالسلام سے مطبوعہ سنن ابن ماجہ ، سنن نسائی، سنن ابو داؤد، میں احادیث کی مکمل تخریج وتحقیق پیش کی گئی ہے ۔اور اسی طرح بعض دوسرے اداروں نے بھی یہ کام کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو سنن نسائی ‘‘عربی متن کےساتھ آسان اورسلیس اردو ترجمہ ،تخریج ،صحت وضعف کے حکم، اس کی تعلیل وتوجیہ اور مفید جامع اورمختصر تعلیقات وحواشی پر مشتمل ہے ۔اس میں ترجمہ کا کام مولانا محمد مستقیم سلفی ، مولانا خالدعمری ، مولانا محمد بشیر تمیمی اورمولانا ابو البرکات اصلاحی نے کیا ہے ۔حواش وفوائد مولانا احمد مجتبیٰ مدنی ،مولانا محمد مستقیم سلفی اور مولانا رفیق احمدسلفی نے تحریر کیے ہیں ۔کتاب کی مکمل تخریج مولانا احمد مجتبیٰ مدنی اور مولانا عبد المجید مدنی نے کی ہے ۔آخرمیں پورے مسودے کا مراجعہ اور بہت سے خامیوں کی اصلاح ومناسب حذف واضافہ ڈاکٹر عبد الرحمٰن عبد الجبار الفریوائی ﷾(استاذ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ،الریاض)نے کیا ہے اور گراں قدر جامع علمی مقدمہ بھی تحریرکیا ہے ۔محقق العصر مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ کے علمی مقدمہ سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اس کتاب کواشاعت کے قابل بنانے میں شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبو ل فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-asool-ul-karkhi
عبید اللہ بن الحسین الکرخی

جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟ قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے اپنے اپنے اصول وضع کئے ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "کلیات فقہ حنفی المعروف بہ اصول الکرخی" امام عبید اللہ بن الحسین الکرخی﷫ کی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر شہباز حسن صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-sahih-adab-w-akhlaq-copy
ناصر الدین البانی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق آداب ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی آپﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے“۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھاکر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی ”بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں“۔ آپ ﷺ لوگوں کوبھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کےبارے میں حضرت انس کہتے ہیں۔ رایتہ یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’ صحیح آداب واخلاق‘‘ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی کتب سے ماخوذ اخلاق وآداب اسلامی کے موضوع پر مجموعہ احادیث بعنوان ’’ صحیح الآداب والأخلاق‘‘ کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب میں احادیث نبویہ کے ذخیرے میں سے وہ احادیث وسنن جمع کی ہیں جوہمارے سامنے پیغمبر اسلام ﷺ کےاخلاق کریمہ پر روشنی ڈالتی ہیں تاکہ ہرمسلمان انہیں پڑھ کر نبی کریم ﷺ کے اخلاق وشمائل کی روشنی میں اپنی عادات واعمال کی اصلاح کر سکے ۔کتاب میں مذکورہ احادیث وسنن کے جمع وانتخاب کے سلسلے میں فاضل مصنف نے علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی تحقیقات وتخریجات پر اعتماد کیا ہےاور صرف معتبر ومستند احادیث ہی کو اس کتاب میں شامل کیا ہے تاکہ قارئین بلا کھٹکے ان نصوص شرعیہ پر عمل پیرا ہوسکیں او ر ان کی صحت واستناد کے متعلق کسی کے ذہن میں کوئی شبہ نہ رہے ۔ نیز متون احادیث کی تشریح میں اکابر علمائے امت کےاقوال وشروح کو بھی کتاب کی زینت بنایاگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-sunan-nisai-3-copy
امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام نے احادیث نبویہ کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدون او ر علماء امت نے کتب احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئ ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی کوششوں سےتحقیق حدیث کاجو ذوق پورے عالم اسلام میں عام ہوا اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف رویات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔سننِ اربعہ کی عربی شروحات میں تحقیق وتخریج کا اہتمام تو موجود تھا لیکن اردو تراجم میں نہیں تھا تو جب ان کے نئے ترجمے کر کے شائع کیے گیے اوران میں احادیث کی تخریج وتحقیق کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔جیسے دارالسلام سے مطبوعہ سنن ابن ماجہ ، سنن نسائی، سنن ابو داؤد، میں احادیث کی مکمل تخریج وتحقیق پیش کی گئی ہے ۔اور اسی طرح بعض دوسرے اداروں نے بھی یہ کام کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو سنن نسائی ‘‘عربی متن کےساتھ آسان اورسلیس اردو ترجمہ ،تخریج ،صحت وضعف کے حکم، اس کی تعلیل وتوجیہ اور مفید جامع اورمختصر تعلیقات وحواشی پر مشتمل ہے ۔اس میں ترجمہ کا کام مولانا محمد مستقیم سلفی ، مولانا خالدعمری ، مولانا محمد بشیر تمیمی اورمولانا ابو البرکات اصلاحی نے کیا ہے ۔حواش وفوائد مولانا احمد مجتبیٰ مدنی ،مولانا محمد مستقیم سلفی اور مولانا رفیق احمدسلفی نے تحریر کیے ہیں ۔کتاب کی مکمل تخریج مولانا احمد مجتبیٰ مدنی اور مولانا عبد المجید مدنی نے کی ہے ۔آخرمیں پورے مسودے کا مراجعہ اور بہت سے خامیوں کی اصلاح ومناسب حذف واضافہ ڈاکٹر عبد الرحمٰن عبد الجبار الفریوائی ﷾(استاذ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ،الریاض)نے کیا ہے اور گراں قدر جامع علمی مقدمہ بھی تحریرکیا ہے ۔محقق العصر مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ کے علمی مقدمہ سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اس کتاب کواشاعت کے قابل بنانے میں شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبو ل فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-fraifatgi
خالد بن ابراہیم صقعبی

اسلام امن پسند مذہب ہے اور مکمل ضابطہ حیات ہے، جس کے ذریعہ انسان بشریت کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے، تاریکیوں کو اجالوں میں بدل سکتا ہے۔ اسلام اور اسلامی نظام ِ حیات‘ ایک پاک وصاف معاشرے کی تعمیر اور انسانی اخلاق وعادات کی تہذیب کرتا ہے۔ اسلام نے جاہلیت کے رسم ورواج اور اخلاق وعادات کو جو ہرقسم کے فتنہ وفساد سے لبریز تھے‘ یکسر بدل کر ایک مہذب معاشرے اور تہذیب کی داغ بیل ڈالی‘ جس سے عام انسان کی زندگی میں امن چین اور سکون ہی سکون در آیا۔ اسلام اپنے ماننے والوں کی تہذیب اور پرامن معاشرے کے قیام کے لئے جو پہلی تدبیر اختیار کرتا ہے‘ وہ ہے: انسانی جذبات کو ہرقسم کے ہیجان سے بچانا‘ وہ مرد اور عورت کے اندر پائے جانے والے فطری میلانات کو اپنی جگہ باقی رکھتے ہوئے انہیں فطری انداز کے مطابق محفوظ اور تعمیری انداز دیتاہے‘اسلام یہ چاہتا ہے کہ عورت کا تمام ترحسن وجمال‘ اس کی تمام زیب وزینت اور آرائش وسنگھار میں اس کے ساتھ صرف اس کا شوہر شریک ہو‘ کوئی دوسرا شریک نہ ہو‘ عورت اپنی آرائش اور جمال صرف اپنے مرد کے لئے کرے۔اگر دیکھا جائے تو عورت درحقیقت تمام تر سنگھار وآرائش مرد کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور اس کی خصوصی توجہ کے حصول کے لئے ہی کرتی ہے ۔ عورت کے حسن وجمال کو اس کی زیب وزینت کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شوہر کی دل بستگی اور توجہ کے لئے محدود کردیا ہے‘ تاکہ وہ اپنی ساری توجہ اپنی بیوی کی طرف مرکوز رکھے اور اس کی عورت غیروں کی ہوس ناک نظروں سے محفوظ ومامون رہے۔ اللہ تعالیٰ نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ یہ ان کی قربت اور ہم نفسی کی علامت ہے‘ اسلام جب پردے کی تاکید کرتا ہے تو اس سے مراد ایک نہایت پاک وصاف سوسائٹی کا قیام ہے۔ اگر ہم اپنے چاروں اطراف نظر ڈالیں تو بخوبی اندازا کر سکتے ہیں کہ احکام الٰہی سے اعراض اور روگردانی کے کیسے کیسے بھیانک اور عبرت ناک مناظر سامنے آرہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "فریفتگی، اسباب، نقصانات، ظاہری شکلیں اور علاج" سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ خالد بن ابراہیم الصقعبی کی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم زبیر احمد سلفی صاحب نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں بے پردگی کے نقصانات واضح کرتے ہوئے پردہ کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-sunan-nisai-2-copy
امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام نے احادیث نبویہ کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدون او ر علماء امت نے کتب احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئ ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی کوششوں سےتحقیق حدیث کاجو ذوق پورے عالم اسلام میں عام ہوا اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف رویات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔سننِ اربعہ کی عربی شروحات میں تحقیق وتخریج کا اہتمام تو موجود تھا لیکن اردو تراجم میں نہیں تھا تو جب ان کے نئے ترجمے کر کے شائع کیے گیے اوران میں احادیث کی تخریج وتحقیق کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔جیسے دارالسلام سے مطبوعہ سنن ابن ماجہ ، سنن نسائی، سنن ابو داؤد، میں احادیث کی مکمل تخریج وتحقیق پیش کی گئی ہے ۔اور اسی طرح بعض دوسرے اداروں نے بھی یہ کام کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو سنن نسائی ‘‘عربی متن کےساتھ آسان اورسلیس اردو ترجمہ ،تخریج ،صحت وضعف کے حکم، اس کی تعلیل وتوجیہ اور مفید جامع اورمختصر تعلیقات وحواشی پر مشتمل ہے ۔اس میں ترجمہ کا کام مولانا محمد مستقیم سلفی ، مولانا خالدعمری ، مولانا محمد بشیر تمیمی اورمولانا ابو البرکات اصلاحی نے کیا ہے ۔حواش وفوائد مولانا احمد مجتبیٰ مدنی ،مولانا محمد مستقیم سلفی اور مولانا رفیق احمدسلفی نے تحریر کیے ہیں ۔کتاب کی مکمل تخریج مولانا احمد مجتبیٰ مدنی اور مولانا عبد المجید مدنی نے کی ہے ۔آخرمیں پورے مسودے کا مراجعہ اور بہت سے خامیوں کی اصلاح ومناسب حذف واضافہ ڈاکٹر عبد الرحمٰن عبد الجبار الفریوائی ﷾(استاذ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ،الریاض)نے کیا ہے اور گراں قدر جامع علمی مقدمہ بھی تحریرکیا ہے ۔محقق العصر مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ کے علمی مقدمہ سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اس کتاب کواشاعت کے قابل بنانے میں شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبو ل فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-tazkra-w-khidmat-shaikh-ul-hadith-hafiz-muhammad-bhutwi-w-ulmae-bhutta-copy
محمد طیب بھٹوی

تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷭ ، مولانا حافظ صلاحالدین یوسف وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’تذکرہ خدمات شیخ الحدیث حافظ محمد بھٹوی وعلمائے بھٹہ محبت‘‘ قاری محمدطیب بھٹوی ﷾کی مرتب شدہ ہے ۔اس کتاب میں اولاً جماعۃ الدعوۃ ،پاکستان کے مرکزی رہنما شیخ التفسیر والحدیث مولانا حافظ عبد السلام بھٹوی ﷾ کے والد گرامی شیخ الحدیث محمدبھٹوی ﷫ اورپھر موضع بھٹہ محبت کے 83 علما کی حالات قلمبند کیے ہیں ۔ حافظ محمدبھٹوی ﷫ کا تذکرہ فاضل مصنف نےخاصی تفصیل سے کیا ہے ا ور اس کے بعد تمام بھٹوی علماء کرام کے حالات بیان کیے ہیں ۔اس کتاب میں مذکور32،33 علماء وہ ہیں جو براہ راست شیخ الحدیث حافظ ابو القاسم محمد بھٹوی﷫ کے شاگرد ہیں ۔ اور تقریباً چھبیس علماء ایسے ہیں جن کا خاندانی تعلق بریلوی پیر پرست خاندانوں سے تھا مگر دین کا علم پڑھنے کی وجہ سے ان کے خاندان مسلک اہل حدیث قبول کرچکے ہیں ۔ان کے علاوہ کچھ نوعمر طلباء جو مختلف مدارس دینیہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ ان کے اسماء گرامی آخر میں مستقبل کے علماء کرام کےعنوان کےتحت لکھ دیے ہیں ۔(م۔ا)

title-pages-seerat-khair-ul-bashar-copy
علامہ محب الدین طبری

ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ہیں۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیر ت خیرالبشر ‘‘ مشہورمؤرخ علامہ محب الدین طبری کی سیرت النبی کی مشہور ومفید کتاب ’’ خلاصۃ السیر‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کے ترجمے کا آغاز مولانامفتی محمود حسن گنگوہی نے کیا تھا لیکن وہ پورا نہ کرسکے بعد ازاں مولانا اظہار الحسن کاندھلوی نے یہ ترجمہ مکمل کیا ہے ۔اولاً یہ ترجمہ دہلی سے طبع ہوا ۔بعد میں کئی ناشرین نےاسے مختلف مقامات سے شائع کیا ۔ زیرتبصرہ ایڈیشن الفتح پبلی کیشن ،راولپنڈی سے شائع شدہ کاعکس ہے ۔اس طباعت کی افادیت یہ کہ اس کے آخر میں ضروری الفاظ کے معانی (فرہنگ)شامل ہیں کہ جس کی مدد سے بچے اور کم پڑھے اصحاب بھی اس سے مسفید ہوسکتے ہیں ۔(م۔ا)

title-pages-sunan-nisai-1-copy
امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام نے احادیث نبویہ کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدون او ر علماء امت نے کتب احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئ ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی کوششوں سےتحقیق حدیث کاجو ذوق پورے عالم اسلام میں عام ہوا اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف رویات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔سننِ اربعہ کی عربی شروحات میں تحقیق وتخریج کا اہتمام تو موجود تھا لیکن اردو تراجم میں نہیں تھا تو جب ان کے نئے ترجمے کر کے شائع کیے گیے اوران میں احادیث کی تخریج وتحقیق کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔جیسے دارالسلام سے مطبوعہ سنن ابن ماجہ ، سنن نسائی، سنن ابو داؤد، میں احادیث کی مکمل تخریج وتحقیق پیش کی گئی ہے ۔اور اسی طرح بعض دوسرے اداروں نے بھی یہ کام کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو سنن نسائی ‘‘عربی متن کےساتھ آسان اورسلیس اردو ترجمہ ،تخریج ،صحت وضعف کے حکم، اس کی تعلیل وتوجیہ اور مفید جامع اورمختصر تعلیقات وحواشی پر مشتمل ہے ۔اس میں ترجمہ کا کام مولانا محمد مستقیم سلفی ، مولانا خالدعمری ، مولانا محمد بشیر تمیمی اورمولانا ابو البرکات اصلاحی نے کیا ہے ۔حواش وفوائد مولانا احمد مجتبیٰ مدنی ،مولانا محمد مستقیم سلفی اور مولانا رفیق احمدسلفی نے تحریر کیے ہیں ۔کتاب کی مکمل تخریج مولانا احمد مجتبیٰ مدنی اور مولانا عبد المجید مدنی نے کی ہے ۔آخرمیں پورے مسودے کا مراجعہ اور بہت سے خامیوں کی اصلاح ومناسب حذف واضافہ ڈاکٹر عبد الرحمٰن عبد الجبار الفریوائی ﷾(استاذ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ،الریاض)نے کیا ہے اور گراں قدر جامع علمی مقدمہ بھی تحریرکیا ہے ۔محقق العصر مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ کے علمی مقدمہ سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اس کتاب کواشاعت کے قابل بنانے میں شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبو ل فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-sahabah-kiram-khasoosan-hazraat-e-sheikhain
نور الحسن راشد کاندھولوی

صحابہ کرام ﷢ وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔ تمام صحابہ کرام ﷢ خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔ کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام ﷢ کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔ زیر تبصرہ کتاب "صحابہ کرام﷢"محترم نور الحسن راشد کاندھلوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے صحابہ کرام خصوصا حضرات شیخین (ابو بکر وعمر) سے سیدنا علی بن ابی طالب اور خانوادہ حسنین کی قریب کی متواتر رشتہ داریاں، قرابتیں، باہمی اعتماد اور طرفین کے مسلسل روابط کے بارے چند ناقابل تردید حقائق بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی مولف کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

title-pages-dawat-e-deen-ahmiyat-aur-adab-copy
سید احمد عروج قادری

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا اوران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے۔ دعوت الیٰ اللہ میں انبیاء ﷩ کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے ۔ ان کی جدوجہد کو زیر بحث لائے بغیر دعوت کا کوئی تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ سے ہے۔ اور دعوتِ دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، دعوت الی اللہ بنیادی طور پر ایک عملی پروگرام ہے جو تعلیم وتعلم ،تربیت واصلاح کی عملی کشمکش پر مشتمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دعوت دین اہمیت اورآداب ‘‘ مولاناسیداحمد عروج قادری﷫ کے دعوت دینیہ کے سلسلے میں مامہ نامہ زندگی ،رامپور میں شائع مقالات کی کتابی صورت ہے ۔ان مقالات میں انہوں نے دعوت اسلامی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے ۔ابتدائی دومقالات میں دعوت دین کی اہمیت اور انبیائے کرام کے طریقۂ دعوت سے بحث کرتے ہوئے سیدنا ابراہیم کا اسوہ پیش کیا ہے ۔ ان مقالات میں ایک مقالہ اس موضوع پر ہے کہ دعوت کی ذمہ داری صرف مسلمان مردوں پر نہیں عائد ہوتی بلکہ مسلمان خواتین بھی اس میں برابر کی شریک ہیں۔الغرض اس کتاب میں دعوت سے متعلق جن موضوعات سے بحث کی گئی ہے و ہ راہِ دعوت میں کام کرنے والوں کے بڑے اہم ہیں ۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 224 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں