title-pages-islam-aur-jadeed-muashi-tasawwurat-copy
ڈاکٹر نعیم صدیقی

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلامی اقتصادی نظام قرآن وسنت کی گرانمایہ تعلیمات پر مبنی ہے کیونکہ ان کے توسل سے ہی ہدایات ملتی ہیں۔ اس کے اصول پختہ‘ ابدی اور درخشندہ ہیں۔ اگر معاشی نظام ان پر استوار کیا جائے تو اسے دوم واستمرار حاصل ہو گا اور وہ دیگر سب نظاموں پر سبقت لے گا۔ اسلام کا معاشی نظام ایک ایسے ہمہ گیر فلسفہ پر قائم ہے جس کا نام اسلام ہے جو عالمگیر دعوت اور ہمہ گیر انقلاب کا داعی ہے۔ دنیائے انسانی کی صرف معاشی اصلاح وفلاح کا ہی خواہشمند نہیں ہے بلکہ روحانی‘مذہبی‘ اخلاقی‘ سیاسی‘ معاشرتی اور معاشی  غرض ہر قسم کی دینی ودنیوی فلاح وبہبود اور رُشد وہدایت کا علمبردار ہے۔معاشی  مسائل کے حوالے سے بہت سا کام ہو چکا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی معاشی مسائل اور اسلام کی تعلیمات  کے حوالے سے عظیم کاوش ہے۔ اس میں معاشیات کی تعریف‘ تعارف ودیگر تفصیل نہایت عمدگی کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ اسلامی معاشی اقدار‘ معاشی سرگرمیوں کی اہمیت ونوعیت  ‘اسلام میں تقسیم دولت‘انتقال دولت یا ارتکاز دولت کی ممانعت‘اسلام میں معاشی ترقی ومنصوبہ بندی‘اسلامی ریاست کی مالیاتی پالیسی اور معاشی کردار‘ مسلم ریاست کی ذمہ داریاں اور پاکستان کے معاشی مسائل جیسے اہم عناوین کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام اور جدید معاشی تصورات‘‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم صدیقی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-islam-insani-khushi-ka-darwaza-copy
بدیع الزماں سید نورسی ترکی

اسلام اللہ کا وہ بہترین اور پسندیدہ مذہب ہے جو قیامت تک ساری دنیا کے لیے رشدوہدایت کا سبب ہے‘ وہی ذریعہ نجات ہے‘ رضائے الٰہی کا سبب ہے۔ اس عظیم کا مذہب کا مرجع ومصدر اور اس کی بنیادوہ وحی الٰہی ہے ۔ اوریہی ضابطۂ حیات ہے‘ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے بغیر دنیا میں زندگی بسر کرنا ناممکن سی بات ہے اس لیے اسلامی تعلیمات سے آگاہی اور اس کو دوسروں تک پہنچانا فرض ہے اور بسا اوقات حالات کے پیش نظر قرض بھی ہونے لگتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنا ہی در حقیقت باعث مسرت ہوتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں بھی اسلامی تعلیمات کے حوالے سے ہی لکھا گیا ہے ۔ اس میں بسم اللہ کی فضیلت‘ قناعت کا راستہ‘ اللہ کا راستہ ہی بہتر ہے‘مقررہ نمازوں کے فوائد‘ ایمان والوں کی صحیح تربیت‘ عظیم الشان کاروبار‘ انسانیت کے لیے خوشی کا راستہ‘ مذہب انسان کی ضرورت جیسے اہم مضامین کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام ‘ انسانی خوشی کا دروازہ ‘‘ بدیع الزمان سید نورسی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-taleemaat-e-islam-aur-maseehi-aqwaam
قاری محمد طیب

دور حاضر میں مادی تمدّن کی چمک دمک اور ظاہری کرشمہ آرائیوں کی سراب نے دنیا کی نگاہوں کو اس درجہ فریب خوردہ بنا دیا ہے کہ حقیقت کی روشنی نہ صرف نگاہوں سے اوجھل ہو گئی بلکہ دنیا اُس سے بالکل مستغنی اور بے فکر ہی ہو بیٹھی ہے۔قومیں اور حکومتیں انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے آج اپنی بقاء ترقی کا راز صرف ان ہی وسائل تمدن میں پوشیدہ سمجھنے لگی ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی تھی کہ عقل ونقل اور تجربہ کی روشنی میں بتلایا جائے کہ اس مادی تمدن کی حقیقت کیا ہے؟اس سلسلہ میں زیرِ تبصرہ کتاب کے مؤلف نے دنیا کی چار بڑی قوموں (مشرکین‘ یہود‘ نصارٰی اور مسلمان) کی قومی ذہنیتوں اور اُن کے طبعی اسباب وعلل پر حکمۃ شرعیہ کے ماتحت تبصرہ کرکے حاصل یہ نکالا کہ اس وقت دو  ہی قومیں ہیں جن کے ہاتھ ہمہ گیر ترقیات کا میدان لگنا چاہیے تھا وہ دو قومیں مسلمان اور مسیحیت ہے۔  اس کتاب میں مصنف نے دونوں قوموں کا موازنہ کیا ہے کہ امت اسلامیہ اور امت نصرانیہ میں باہمی نسبت اور کاروباری توازن کیا ہے اور حقیقی ترقی کس نے کی ہے؟اور نصرانی تمدن اور اسلامی تمدن کا تقابل کیا گیا ہے کہ آج کی تمدنی فکریات اور سائنٹفک ایجادات کو اسلام کے اخلاقی نظام سے کیا نسبت ہے ؟ یعنی اسلامی تعلیمات اور مسیحی تعلیمات کا تقابل کیا گیا ہے۔ مصنف نے عمدہ اسلوب کی ساتھ ساتھ زبان کی سلاست کا بھی خیال رکھا ہے اور قارئین کے لیے ایک مشکل بھی ہے کہ مصنف  نے حوالہ جات کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا حتی کہ قرآنی آیات کے حوالے میں بھی صَرف نظر سے کام لیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام‘‘ مولانا قاری محمد طیب کی شاہکار تصنیف ہے اور آپ خط وکتابت کے میدان میں ایک مایۂ ناز شخصیت کا مقام رکھتے تھے  اور جس بھی موضوع پر آپ نے قلم اُٹھایا اس کا حق ادا کر دیا۔ دعا ہے کہاللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-wahi-hadith-copy
ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

فکر وخیال کی آمد اور اس کے ذریعہ پر انسانی بحث ومباحثہ میں گونا گونی‘ اختلاف اور نزاع پایا جاتا ہے۔ مادی وجوہ واسباب پر کلی انحصار کرنے والے اسے صرف انسانی دماغ وذہن کی کارستانی سمجھتے ہیں‘ اپنے مطالعہ وفکر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ روحانیت کی دنیا میں بسنے والے اسے سرا سر کشف‘الہام‘ القاء گردانتے ہیں اور خالص اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والا انعام بتاتے ہیں۔ تعقل وتدبر اور الہام والقاء کے دو دھاروں میں امتزاج پیدا کرنے والے انسانی ملکہ کی صیقل گری وترقی کے ڈانڈے عالمِ علوی سے ملا دیتے ہیں۔ بہر حال انسانی فکر وخیال کے وجود اور اس کے ذرائع کا معاملہ ہے بہت عجیب وغریب اور صرف ایک قسم کے ذریعہ پر انحصار تعقل کے خلاف بھی ہے۔اخلاص ‘ علم وعمل دونوں کی بنیادی شرط ہے اور اسی سے محنت ومشقت کی شرط وابستہ ہے۔ صحیح سمت اور صراطِ مستقیم سے پیوستگی بھی ضروری ہے۔ صراط مستقیم اسی صورت ممکن ہے جب ہم قرآن وسنت کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھیں اور قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث نبویﷺ کو بھی وحی تسلیم کریں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں حدیث کے وحی ہونے سے متعلقہ تفصیل موجود ہے۔ اس میں وحی الٰہی‘ وحی قرآنی کے مماثل وحی حدیث‘ رویائے صادقہ کے ذریعہ وحیِ حدیث‘ حدیث اسراء ومعراج‘ بیداری میں کشف نبوی‘ حضرت جبریل کی وحیِ حدیث وغیرہ جیسے اہم مضامین کو  کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ آخر میں خاتمہ کلام یعنی حاصل کلام کو بیان کیا گیا ہے اور پھر اس موضوع پر دیگر کتب کی طرف نشاندہی کی گئی ہے تاکہ قاری مزید تفصیل یا رہنمائی کے لیے ان کتب کی طرف رجوع کر سکے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ وحی حدیث ‘‘ مولانا پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-title-pages-walidain-ki-nafarmani-ka-injam-copy
ابراہیم بن عبد اللہ الحازمی

اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی کی بقاء اور حفاظت اور دنیوی واخروی کامیابی کے پیش نظر ہمارے لیے ہر قسم کے رشتے اور تعلق کے حقوق وفرائض بیان فرمائے ہیں‘ جن کی بجا آوری کے ذریعے سے ہم اپنی زندگی کو سکون واطمینان والی بنا سکتے ہیں اور معاشرتی محبت ومودت کو پھیلا سکتے ہیں۔ ان رشتوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ اور اہم تعلق والدین کا ہے۔ جن کے ساتھ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے احسان کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا خصوصی حکم فرمایا ہے۔عصر حاضر میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اپنے بچوں کی اصلاح کے لیے ان کے سامنے والدین کے حقوق کو اُجاگر کیا جائے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انہیں ادا کرنے کی تلقین کی جائے‘ تاکہ مسلم معاشرے کی امتیازی صفات کو قائم رکھا جا سکے‘ جس میں ہر چھوٹا بڑے اور بڑا چھوٹے کے حقوق فرائض کو پورا کرتے نظر آئے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں کتاب وسنت اور حقیقی واقعات کی روشنی میں والدین کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی نافرمانی پر مترتب ہونے والے انجام سے خبر دار کیا گیا ہے اور نصیحت آموز واقعات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ نصیحت کے ساتھ ساتھ جب عملی نمونہ یا عملی واقعہ بھی موجود ہو تو نصیحت زیادہ اثر کرتی ہے اس لیے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ اور واقعات کی صحت کا التزام کیا گیا ہے اور حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ والدین کی نافرمانی کا انجام‘‘ فضیلۃ الشیخ ابراہیم بن عبد اللہ الحازمی کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-peyaam-e-mustafa-saw-ki-kirnain
حمید اللہ خان عزیز

ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا و آخرت کی ہر قسم کی اصلاح و فلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیاجس کی آخری کڑی ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ ہیں نبیﷺ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام اور دین اسلام پوری انسانیت تک پہنچایا اور امت کو شریعت اسلامیہ کے عقائد ومسائل پوری بصیرت کے ساتھ انتہائی تفصیل کے ساتھ سمجھائے۔ آپ ﷺ نے قولاً بھی بتایا اور عملی طور پر بھی اس کا نمونہ پیش کر دکھایا۔لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کی اکثریت نبیﷺ کی تعلیمات کے خلاف اپنی زندگی بسر کر رہی ہے‘ گمراہ کن میڈیا نے اہل اسلام کے عقائد وافکار کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے مسلمان قوم عمل کے میدان میں بہت پیچھے ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی احادیث رسولﷺ کے پیغامات پر مشتمل ہے تاکہ لوگ مسنون زندگی اور عام زندگی کا فرق معلوم کر سکیں اور اس کتاب میں ان لغو اور فضول کاموں کی احادیث کی روشنی میں نشاندہی کی گئی ہے جن کو عموماً لوگ حیلوں‘ بہانوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اپنی بے عملی اور بے راہ روی کی دلیل بنا کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے اپنی تشریحات کی بجائے صرف احادیث مبارکہ کا صحیح سلیس اور رواں ترجمہ پیش کیا ہے۔ اور یہ کتاب عقائد واعمال‘ سنن اور سیرت النبی‘ سیاسیات واقتصادیات‘ دعوت وجہاد اور دیگر روز مرہ زندگی کے حوالے سے پیش آمدہ مسائل پر احادیث کا مجموعہ ہے اور صحت حدیث کا التزام بھی کیا گیا ہے۔ اور یہ کتاب عام قارئین کے لیے ایک خزینہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب مولانا ’’حمید اللہ خان عزیز‘‘ کی عمدہ تصنیف ہے اور اس کتاب کے علاوہ آپ کی دیگر اور بھی کتب زیرِ طبع ہیں جن میں سے الموضوعات القرآن فی تفسیر دعوۃ القرآں‘ پیام قرآن کی کرنیں‘تجلیات قرآن‘ اور اسلام اور عجمی مذہب وغیرہ۔دعا ہے اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-namaze-punj-ghana-ki-rakatain--jadeed-audition--copy
ابو عدنان محمد منیر قمر

نماز دین کا ستون اور اسلام کا بنیادی  رکن ہے،نماز صحت ایمان کی شرط ہے کہ تارک نماز کا اسلام سے تعلق ہی منقطع ہو جاتاہے ،اس لحاظ سے نماز کی پابندی ہر مسلمان پر لازم ہے، پھر نمازکے طریقہ کار سے آگاہی بھی نہایت اہم ہے نیز فرض و نفل نمازوں کے اوقات اور تعدادکا علم بھی ضروری ہے ۔ نماز کی رکعتوں کی تعداد اور اوقا ت کے متعلق یہ ایک اچھی کتاب ہے ،جس میں فرض و نفل نمازوں کی تعداد اور اوقات کی وضاحت کی گئی ہے ،پھرسنت مؤکدہ و غیر مؤکدہ کی توضیح اور وتر نماز کے عدم وجوب سمیت رکعات وتر اور وتر کی ادائیگی کے مختلف طریقوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔نماز کی رکعات کے متعلق یہ ایک  نہایت معلوماتی کتاب ہے،جس کا مطالعہ قارئین کی علمی تشنگی کاکافی مداوا  ثابت ہو گا۔(ف۔ر)


title-pages-nimaz-ba-jamat-copy
پروفیسر ڈاکٹر صالح بن غانم السدلان

نماز کے لیے ’جماعت‘ کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی خود نماز کی ہے‘ نماز دین کا ستون ہے‘ نماز کفر اور اسلام کے درمیان حد فاصل ہے‘ جس نے اپنی زندگی میں نماز کا اہتمام کیا‘ اس نے عرش الٰہی کے نیچے اپنی جگہ بنائی‘ جس نے نماز ضائع کی اس نے دین کا سب کچھ ضائع کر دیا نماز  وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔ نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ نماز دین کاستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے ترک کردیا ہے اس نے دین کی عمارت کوڈھادیا ۔ نماز مسلمان کے افضل اعمال میں سے ہے۔نماز ایک ایسا صاف ستھرا سرچشمہ ہے جس کےشفاف پانی سے نمازی اپنے گناہوں اور خطاؤں کودھوتا ہے ۔کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے  جس میں نماز باجماعت کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اس موضوع پر جامع‘ مکمل اور نہایت مدلل کتاب ہے۔ اس میں سب سے پہلے نماز کی اہمیت اور دین میں اس کے مقام ومرتبہ کا نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا ہے اور اس سے متعلقہ  جملہ امور کا بھی تفصیل سے بیان ہے۔نماز باجماعت کے حوالے سے دیگر شکوک وشبہات کا ازالہ کر کے درست مؤقف بھی عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ نماز باجماعت ‘‘ العلامہ الشیخ صالح بن غانم السدلان کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-aimah-arbah-seerat-aqaed-aur-khidmaat
محمد ایوب سپرا

دین اسلام‘ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا ہے‘ جو کتاب وسنت کی تکمیل سے مکمل ہو چکا ہے۔دین اسلام کے تمام احکام مکمل‘ نمایاں اور واضح ہیں۔ اپنے تمام مسائل کا حل بھی انہی میں تلاش کرنا چاہیے۔اور اللہ عزوجل نے ہمیں یہ اصول بتلایا ہے کہ رسول اللہﷺ جس کام کو کرنے کا حکم دیں‘ اس پر عمل پیرا ہونا ہے اور جس کام سے روک دیں‘ اس سے باز رہنا ہے اور اسی عمل کا نام دین پر چلنا ہے۔بنا بریں صحابۂ کرامؓ اسی سنہری اصول کے مطابق زندگی بسر کرتے رہے۔خلفائے راشدین کے دور (632ء۔661ء) تک فتاویٰ کا کوئی ایسا مجموعہ تیار نہیں ہوا تھا جس کی پیروی کی جاتی۔ اسلامی ریاست کے پھیلاؤ کے بعد صحابہ بھی دور دراز علاقوں میں جا کر آباد ہوتے چلے گئے تاہم صحابہؓ کو تمام مسائل زندگی یاد تھے۔ اور اپنے مسائل کا حل قرآن وحدیث سے لیتے اور اگر وقتی طور پر قرآن وحدیث میں مسئلہ نہ ملتا تو حالات کے مطابق اجتہاد کرتے اور مسئلے کا حل نکالتے مگر وہ اصول نا ہوتا تھا۔پھر ائمہ دین قرآن وحدیث سے مسائل استنباط کرنے کی طرف راغب ہوئے اور انہوں نے مستقل اصول وضع کرتے ہوئے امت کی رہنمائی فرمائی۔ ان ائمہ دین میں سے چار ائمہ زیادہ معروف ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب انہی ائمہ کے حالات زندگی‘ تعلیم وتربیت‘ علمی‘ تصنیفی اور فقہی کاوشوں پر مشتمل ہے۔ ان ائمہ دین کے نام پر تعصب کی جو فضا قائم کی گئی ہے اس سے لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے ‘ نیزتقلید اور پھر تقلید جامد کے نقصانات سے بھی لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور اس کتاب میں فقہ کی تعریف‘موضوع‘ فقہ کے مآخذ اور فقہ اسلامی کی تاریخ کاذکر ہےاور فقہاء کے اختلاف کےلغوی اسباب بھی مذکور ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب ’محمد ایوب سپرا‘‘ کی تحقیقی اور مختصر مگر جامع تصنیف ہے۔اورتحریرو تصنیف کے میدان میں اچھا نام رکھتے ہیں ‘کئی کتب کے مصنف بھی ہیں مثلا اسماء الحسنی‘ کتاب الصلاۃ‘ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ اور یا ایہا الناس(اے بنی نوع انسان) وغیرہ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)

title-pages-nazre-bad-se-bachao-k-tarike-aur-ilaj-copy
عبد اللہ بن محمد السدحان

جادو اور نظر بد کی ہلاکتوں ‘ بربادیوں اور تباہیوں سے کون واقف نہیں!! ہم اپنی روز مرہ زندگی میں آئے دن نظر بد کے تیروں سے بسمل انسانوں کی ماہئ بے آب کی طرح تڑپتے دیکھتےہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے مجروح ومقتول ہوتے ہیں کہ بولنے وبیان کرنے سے ہی قاصر ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ گم ہم کیفیت میں قبروں میں جا سوتے ہیں۔ یہ نظر کا تیر اپنے پرائے‘ چھوٹے بڑے‘ عزیز ورشتہ دار کسی کو نہیں چھوڑتا۔ شاید ایسے ہی کسی موقع پر نظر بد کو’’نگاہ ناز‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نظر بد تلوار کی طرح وار کر کے حضرت انسان کو کاٹ ڈالتی  ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہےجس میں نظر بد سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اور طریقے وعلاج بتایا گیا ہے۔قرآن وسنت کی روشنی میں ایسی رہنمائی فراہم کی گئی ہے کہ جو پڑھنے والے کی بنجر وویران زندگی میں بہار کے جھونکوں کی آمد کی پیامبر ثابت ہوگی۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد نظر بد‘ حسد وبغض کی ہلاکت خیریوں سے بچنے کے لیے فائدہ بخش طریقے اور نظر بد کے چکروں سے نجات اور شافعی علاج  ممکن ہوگا۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے‘ حوالے فٹ نوٹ میں دیے گئے ہیں اور احادیث کا اجمالی حکم بھی دیا گیا ہے اور اصل مصدر ذکر کرنے کے بعد حدیث کا نمبر درج کر دیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ نظر بد سے بچاؤ کے طریقے اور علاج ‘‘ عبد اللہ بن محمدالسدحان کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-nijat-yafta-kon-copy
محمد بن جمیل زینو

تاریخ انسانی اس بات کی شاہد ہے کہ دنیا میں کبھی طاغوتی نظام کے پجاریوں کا  غلبہ رہا اور کبھی حزب الرحمٰن کا۔ اس ضمن میں سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ جس دور میں بھی اہل ایمان نے اپنے اصلی منہج سلیم وطریق نبوی کو چھوڑ کر تفرقہ بندی اور بدعات وخرافات والا راستہ اپنایا‘ اللہ تعالیٰ کے باغیوں اور شیطانی کارندوں نے اُن پر غلبہ حاصل کر کے دنیا کو جہنم کی راہ پر چلا دیا‘ جس کے نتیجے میں قومیں کی قومیں دنیا کے نقشہ سے مٹا دی گئیں۔ روئے زمین پر جا بجا پائے جانے والے کھنڈرات اور آثار قدیمہ اس سچائی کا منہ بولتا ثبوت اور قرآن حکیم میں مندرج واقعات اس پر برہان قاطع وساطع ہیں۔آج ملت اسلامیہ محمدیہ بھی اپنے دین کے بگاڑ‘ بدعات وخرافات کی اندھی پیروی اور تفرقہ بندی کا مکمل طور پر شکار ہو چکی ہے۔ایسی صورتحال میں لوگوں کی رہنمائی کی ضرورت ہے ۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی گئی ہے اور ان کی رہنمائی اور اصلاح کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے اور عرب کے ہاں اسے بڑی مقبولیت بھی ہے تو افادۂ عام کی غرض سے اس کا آسان فہم‘ سلیس اور با محاورہ اردو ترجمہ کیا گیا ہے اور دو عظیم کتب کا اس میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں مسلمانوں کو فرقہ بندی کے چنگل سے آزاد کر کے قرآن وسنت اور سلف صالحین کے منہج کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب خالص توحید اور نجات پانے والی شخصیات پر ہے۔ اس میں  حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ نجات یافتہ کون؟ ‘‘ محمد بن جمیل زینو﷾ اور ابو اسامہ سلیم بن عید الہلالی﷾ کی تالیف کردہ ہے۔آپ  دونوں حضرات تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفین وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-imaniyaat-e-islam
عبد المجید عزیز الزندانی

اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس پر ایک کڑی ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اس کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور اللہ رب العزت کی عبادت کے ساتھ ساتھ اُس پر ایک فرض اور عائد ہوتا ہے کہ وہ ایسا علم بھی حاصل کرے جس سے وہ اپنے خالق حقیقی کے بارے میں معرفت حاصل کرے اور ایسا علم حاصل کرے جس سے اس کے دل میں یقین اور اللہ اور اس کے رسول کی پہچان اور نبیﷺ کی رسالت کی حقانیت کے بارے میں معرفت حاصل ہو۔ اور جس مقصد کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے اس کا علم اور ان احکامات کی پیروی بھی وہ اسی صورت کر سکے گا جب اسے ان کا علم ہوگا۔ جب یہ بات طے ہے کہ علم کی عظمت اس متعلقہ چیز سے منسلک ہے جس کا علم حاصل کیا جا رہا ہے تو واضح رہے کہ علم ایمان کا تعلق اللہ تعالیٰ کی معرفت سے ہے‘ اس کی رسول کی معرفت اور دین الٰہی کی معرفت سے ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی ایمانیات اسلام پر مبنی ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ اپنایا گیا ہے ۔ اس کتاب میں حقیقت ایمان اور اللہ پر‘ اس کی صفات پر ایمان کے دلائل ‘ نبیﷺ پر ایمان اور قیامت کی نشانیاں بھی بیان کی گئی ہیں‘عبادات کی اقسام اور متعلقہ تفصیل بھی مذکور ہے‘ رسولوں‘ فرشتوں ‘تقدیر پر ایمان اور ایمان کے تقاضے کیا ہیں؟اور کن کاموں کی وجہ سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے کا بیان ہے‘ اور آخر میں شرک کی قسمیں بھی بیان کی گئی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب مولانا ابو عبد الرحمان شبیر بن نور نے مولانا عبد المجید الزندانی کی عربی کتاب کا ترجمہ کیا ہے جو کہ نہایت عمدہ اور سلیس ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-muqaddima-mishkaq-al-masabih-maslihat-al-hadith-copy
محمد عبد الحق محدث دہلوی

اللہ رب العزت نے اپنی آخری نبیﷺ کو مبعوث فرمایا تو امت کے رہنمائی کے لیے دو بنیادی اصول یا کتب بھی دیں ایک قرآن مجید اور ایک احادیث مبارکہ۔ ان دونوں پر عمل ہی حقیقی اسلام تصور کیا جاتا ہے۔ اور ان دونوں کتب کی تشریح وتوضیح کے لیے بہت سا گراں قدر علم وکتب لکھی جا چکی ہیں۔ نبیﷺ کی احادیث وسنت مبارکہ کے علمی وتحقیقی حیثیت سے مشائخ حدیث نے چار اہم شعبے قرار دیئے ہیں(حدیث کی روایت‘ حدیث کی درایت‘ حدیث کے درجات اور حدیث کے ناقلین ورواۃ کے درجات)۔حدیث کی روایت کو علم روایت حدیث اور حدیث کی درایت کو علم اصول حدیث کہتے ہیں۔ علم روایت حدیث کے ہر طالب وشائق کو اس کی درایت کے اصول معلوم کرنا از بس ضروری ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص حدیث اور علم اصول حدیث کے حوالے سے ہے جس میں اردو زبان میں حدیث پڑھنے اور سیکھنے سے متعلقہ اصول کو بیان کیا گیا ہے جو کہ اردو دان طبقے کے لیے بے حد نافع ہے۔ اور فن حدیث سے متعلق ایسی بنیادی اور ابتدائی معلومات فراہم کی گئی ہیں اور علم حدیث کے وہ اصول وقواعد بیان کیے گئے ہیں جن کا جاننا  از حد ضروری ہے۔ مفیدباتوں اور فوائد کو فٹ نوٹ میں ذکر کیا گیا ہے اورحوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مقدمہ مشکوۃ المصابیح مصطلحات الحدیث‘‘ حضرت علامہ شیخ محمد عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-nabi-e-rehmat-apne-ghar-me-copy
حافظ ثناء اللہ خاں

اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کی رہنمائی کے لیے انہی میں سے ایک نبی کومبعوث فرمایا جن کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے اور اس بات کا اعلان خود اللہ رب العزت نے سورۃ الممتحنہ میں فرمایا۔ اللہ کے نبیﷺ نے ہمیں زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ رہنمائی دی وہ شعبہ چاہے معاشی ہو‘ سیاسی ہو یا معاشرتی۔ انسان کے لیے گھر سکون اور راحت کا منبع ہوتا ہے‘ بلکہ ابدی سعادت ایک پر سکون ازدواجی گھونسلے کی مرہون منت ہے اورآج ہم میں سے کون سا بد نصیب ہے جو اپنا پر سکون گھر آباد کرنا اور اپنی ہم مزاج بیوی کی زلفوں کے سائے میں سکون حاصل کرنا اور ایسی نیک اورلاد کا خواہش مند نہ ہو جسے دیکھ کر آنکھوں کو تسکین اور ٹھنڈک ہو‘ ایسا گھر اور ماحول تب ہی میسر ہو گا جب ہم نبیﷺ کی بتائی گئی تعلیمات کو خود سیکھیں اور اپنائیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے جس میں نبیﷺ کی گھریلو زندگی کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ وہی ہمارے رول ماڈل ہیں اور ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ اللہ کے نبیﷺ گھرانے تمام حوادث وواقعات ومشکلات کے باوجود ہر مردوزن کے لیے بہترین نمونہ ہیں جنکو اس کتاب کی زینت بنایا گیا ہے اور علمی زندگی کی چند جھلکیاں اس کتاب میں دکھائی گئی ہیں۔ اور ان قصص وحالات کو بیان کرنے کا مقصد معاشرے میں امن وچین اور پر سکون ماحول کو پیدا کرنا ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ نبی رحمتﷺ اپنے گھر میں ‘‘ ابو انیس حافظ ثناء اللہ خان کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-asool-o-mubaadi-par-tehqeeki-nazar
ڈاکٹر ابو المحسن

دین اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی ہر موڑ پر رہنمائی کرتا ہے تاکہ انسان اپنے انجام خیر کو پہنچ سکے۔اس مقصد کی تکمیل کے لیے اللہ نے اپنے آخری نبی محمدﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ انسانیت کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کے راستے پر گامزن فرمائیں۔نبیﷺ نے اپنے قول‘ فعل اور تقریر کے ذریعہ (جسے حدیث کہا جاتا ہے) دین اسلام کی وضاحت فرمائی۔قرآن مجید کی قطعیت پر آج سارے مسلمانوں کا اجماع ہے لیکن احادیث کے بارے میں مسلمان کسی ایک نتیجے پر جمع نہیں ہیں وہ اس کی قطعیت میں متزلزل ہیں لیکن ہمارے اسلاف قرآن مجید کی طرح حدیث کو بھی قطعی تسلیم کرتے تھے۔اور اسلاف نے حدیث کے قبول ورد کے اعتبارسے کچھ ہمیں اصول دیے ہیں جن پر کسی بھی حدیث کی سند اور اس کے متن کو پرکھا جا سکتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں بھی ان اصولی قواعد پر بحث ملے گی جس پر آج مستشرقین حملہ آور ہوئے ہیں اور اس کتاب میں ثابت کیا جائے گا کہ اصول حدیث میں وہی اصول مقبول ہیں جن کی بنیاد محدثین نے رکھی اور ان اصولوں میں ترمیم کرنا ضیاع وقت ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ ہے اور عبارتوں کے ربط کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ غامدی صاحب کی بیان کردہ اصطلاحات کو بیان کر کے ان پر جرح بھی کی گئی ہے اور ان کے اصولوں کو بھی بیان کر کے مفصل گفتگو کی گئی ہے۔ یہ کتاب ابو عمر محمد یوسف کی شاہکار تصنیف ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور ان کے میزان حسنات کو بھر دے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-masail-e-touheed-copy
عبد اللہ بن عبد الرحمن الجبرین

علم توحید تمام علوم وفنون سے زیادہ اشرف وافضل‘ قدر ومنزلت کے اعتبار سے سب سے زیادہ اعلیٰ وارفع اور ضرورت وتقاضے کے لحاظ سے سب سے زیادہ اہم علم ہے‘ اس لیے کہ اس علم کا تعلق براہِ راست اللہ رب العزت وحدہ‘ لا شریک لہ‘ کی ذات‘ اسماء وصفات اور بندوں پر اس کے حقوق سے متعلق ہے اور یہی علم اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ اور تمام آسمانی شریعتوں کی بنیاد ہے۔ سارے انبیاء ورسل علیہم السلام نے توحید کی طرف دعوت دی ہے۔ انبیاء ورُسل کی زندگیاں اور جملہ کوششیں اس کام کے لیے وقف تھیں اور اسی کام کو محمد رسول اللہﷺ نے حرزِ جاں بنایا۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص توحید کے  موضوع پر ہے ۔اس میں عبد اللہ بن عبد الرحمن الجبرین﷾ سے چند سوالات کیے گئےتو آپ نے ان سوالات کا جامع اور خالص علمی بنیادوں پر جواب دیا تو حمد بن ابراہیم الحریقی نے اسے ترتیب دیا۔ اس میں توحید وعقیدے سے متعلق سارے سوالات وجوابات‘ شرک‘ بدعات‘ خرافات‘ غیر شرعی رسومات‘ اسلامی شریعت سے متصادم عقائد از قسم قبر پرستی‘ پیر پرستی‘کہانت اور جادو گری جیسے موضوعات کا احاطہ  کیا گیا ہے۔اصلاً عربی میں کتاب تھی جس کا عام فہم‘ سلیس‘ سہل اور آسان اردو زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مسائل توحید ‘‘ حمد بن ابراہیم الحریقی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-mutanaza-masail-k-muhammadi-faisle--jadeed-audition--copy
ابو عبد اللہ آصف محمود

قرآ وحدیث کے فہم اوراس کی تشریح وتوضیح میں اختلاف ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں ۔ اختلاف صحابہ   تابعین﷭ کے درمیان بھی موجود تھا لیکن اس کے سبب وہ فرقوں اور گروہوں میں تقسیم نہیں  ہوئے اس لیے کہ اس ااختلاف  کے باوجود سب کامرکز اطاعت او رمعیارِ عقیدت ایک تھا  قرآن اور حدیث رسول ﷺ۔ وہ اپنے اختلاف کو کتاب وسنت  کی کسوٹی پر پیش کرتے تھے ۔لہذا جس کی  بات معیار پر پوری اترتی وہ سچا ہوتا  او ر دوسرا اپنی رائے اور موقف کوچھوڑ دیتا جب تک  لوگ اس نہج پر کار بند رہے  امت محمدیہ فرقہ وگروہ بندی سے محفوظ رہی ۔ زیر نظر کتاب   ’’ متنازعہ مسائل کے  محمدی  فیصلے ( جدید ایڈیشن ) ‘‘  محترم   ابو عبد اللہ  آصف محمود ﷾کی  تصنیف  ہے جس میں  انہوں نے  صرف  ایسی صحیح یا حسن احادیث کا انتخاب کر  کے  پیش کیا ہے کہ جن احادیث  میں امت  میں پائے  جانے  متنازعہ مسائل کا حل موجود ہے ۔نیزکتاب کے آخر میں  مشرکین کے اس پروپیگنڈے  کا بھی مدلل جواب دیاہے  کہ امت محمد یہ میں  شرک کا وجود نہیں ۔بازار میں  ’’ متنازعہ مسائل کے  خدائی فیصلے ‘‘ کے نام سے بھی ایک کتاب ہے  جس میں فقہی باب بندی کے ساتھ ترجمےکے ساتھ  قرآن مجید کی وہ تمام آیات جمع کردی  گئی  ہیں جو متنازعہ  واختلافی مسائل کا شافی حل پیش کرتی ہیں  ۔ اللہ  تعالی سے  دعا کہ وہ مؤلف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں  قبول فرمائے،اور تمام اہل اسلام کی  ہدایت کا ذریعہ بنائے (آمین)

pages-from-asmaaullah-al-husnaa
قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

اللہ رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور اللہ کا ذاتی نام ’’اللہ‘‘ اور اس کے علاوہ اللہ کے ننانوے صفاتی نام مشہور ہیں۔ ان میں سے بیشتر قرآن میں موجود ہیں اگرچہ قرآن میں ننانوے کی تعداد مذکور نہیں مگر یہ ارشاد ہے کہ اللہ کو اچھے اچھے ناموں سے پکارا جائے۔ قرآن پاک کی آیت’’قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى‘‘ اور’’وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ‘‘ ان دونوں آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے نام توقیفیہ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے روسول نے بتائے ہیں۔ ان اسماء کے علاوہ اسماء سے اللہ تعالیٰ کو پکارنا جائز نہیں ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی اللہ رب العزت کے اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے اور ان اسماء کی مصنف نے مختصر تشریح بھی کی ہے اور کتاب کو بہت احسن انداز کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے‘ جملوں کی ترتیب اور عبارت کے حسن کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ اسمائے حسنیٰ میں سے انتخاب سب سے پہلے قرآن مجید سے کیا گیا ہے۔اور آیت اور سورۃ کا نمبر بھی دیا گیا ہے اس کے بعد صحاح ستہ کی کتب میں سے جس کتاب میں بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی نام ملا وہ درج کیا گیا ہے او راس کی تشریح کی گئی ہے اور کتاب اور باب کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور جو اسماء غیر ثابت ہیں ان کی بھی وضاحت کی گئی ہے اور ان احادیث پر مدلل جر ح بھی کی گئی ہے۔ مصنف نے چار باب قائم کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسماء اللہ الحسنیٰ‘‘ مولانا قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری کی شاہکار تصنیف ہے‘ آپ1867ءمیں منصور پورہ میں پیدا ہوئے اور 30 مئی 1930ء کو حج بیت اللہ سے واپس آتے ہوئے بحری جہاز میں وفات پائی۔ آپ عاجزی وانکساری کی ایک مثال تھے اور آپ  نے بہت سی کتب بھی تصنیف فرمائیں مثلاً الجمال والکمال‘ مہر نبوت‘ رحمۃ للعالمین‘ غایت المرام‘ تائید الاسلام‘ خطبات سلمان‘ تاریخ المشاہیر‘ مسح جراب‘ استقامت‘ مکاتیب سلمان‘ برہان‘ سفر نامہ حجاز‘ الصلاۃ والسلام اور آئینہ تصوف وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 412 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :