title-pages-tazkra-ulmae-ahle-hadith-3-copy
پروفیسر میاں محمد سجاد

برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺاور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے ہاں سند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گاہ کا رخ کررہے تھے۔ ان کی درس گاہ سے جو نامور اُٹھے ان میں ایک مولانا محمد ابراہیم صاحب آروی (م1320ھ) تھے۔ جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیادڈالی ۔اس درس گاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق صاحب ڈیانوی عظیم ابادی (م1329ھ) صاحب عون المعبود فی شرح ابی داؤد ہیں جنہوں نے کتب حدیث کی جمع اور اشاعت کو اپنی دولت اور زندگی کامقصد قرار دیا اوراس میں وہ کامیاب ہوئے۔تصنیفی لحاظ سے بھی علمائے اہلحدیث کاشمار برصغیر پاک و ہند میں اعلیٰ اقدار کا حامل ہے۔ علمائے اہلحدیث نے عربی ، فارسی اور اردو میں ہر فن یعنی تفسیر، حدیث، فقہ،اصول فقہ، ادب تاریخ او رسوانح پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ الغرض برصغیر پاک وہندمیں علمائےاہل حدیث نےاشاعت اسلام ، کتاب وسنت کی ترقی وترویج، ادیان باطلہ اور باطل افکار ونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید اور شرک وبدعات ومحدثات کےاستیصال اور قرآن مجید کی تفسیر اور علوم االقرآن پر جو گراں قدر نمایاں خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ اہل حدیث کاایک زریں باب ہے ۔مختلف قلمکاران اور مؤرخین نے علمائے اہل حدیث کےالگ الگ تذکرے تحریر کیے ہیں اور بعض نے کسی خاص علاقہ کے علماء کا تذکرہ وسوانح حیات لکھے ہیں۔ جیسے تذکرہ علماء مبارکپور ، تذکرہ علماء خانپور وغیرہ ۔ علما ئے عظام کے حالات وتراجم کو جمع کرنے میں مؤرخ اہل حدیث جناب مولانامحمد اسحاق بھٹی ﷫ کی خدمات سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تذکرہ علماء اہل حدیث پاکستان ‘‘ پروفیسر میاں محمد یوسف سجاد کی تصنیف ہے جو انہوں نے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے ارشاد پر ساڑھے تین سال کی محنت شاقہ سے مرتب کی ہے ۔اس کتاب کی تین جلدیں ہیں لیکن ہمیں پہلی جلد نہیں مل سکی اس لیے جلد دوم اور سوم ویب سائٹ پر پبلش کی جارہی ہے ۔محترم پروفیسر یوسف سجاد صاحب نے جلددوم میں 141 اور جلد سوم میں 147 علمائے کرام کے تراجم پیش کیے ہیں ۔اس کتاب کومرتب کروانےکےاصل محرک شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید تھے ۔8 فروری 1983ء کوعلامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے جید علماء اہل حدیث کی ایک نمائندہ میٹنگ منعقد کی اور اس میں علماء کو جماعت اہل حدیث کی طرف سے تصنیف وتالیف کے کام کوتیز کرنے کی طرف توجہ دلائی بالخصوص علمائے اہل حدیث کے حالات لکھنے کی ضرورت پر بہت زور دیاگیا اور یہ کا م شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے سپرد کیا گیا موصوف اپنی تدریسی ودیگر مصروفیات کےباعث اس کام کو خود تونہ کرسکے انہوں اپنے شاگرد رشید پروفیسر میاں یوسف سجاد سے اس کام کوشروع کروا کر پائہ تکمیل تک پہنچایا۔اللہ تعالیٰ تمام کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔(آمین)

pages-from-noor-e-tauheed-az-sanaullah-amartasri
ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌکہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔ معبود برحق جو بےنیاز ہے۔ نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ (سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات 73)توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ رسالہ" نور توحید " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، امام المناطرین مولانا حافظ ثناء اللہ امرتسری﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے توحید کو بیان فرماتے ہوئے شرک وبدعات کی جڑیں کاٹ دی ہیں۔ یہ رسالہ انہوں نے شمع توحید کے جواب میں فرقہ غالیہ کی طرف سے لکھے گئے ایک چھوٹے سے پمفلٹ موسومہ پروانہ تنقید کے جواب میں لکھا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو عقیدہ توحید اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-tazkra-molana-muhyadeen-lakhwi-halat-khidmat-copy
محمد اسحاق بھٹی

برصغیر بالخصوص پنجاب میں دین اسلام کی نشرو اشاعت، دعوت وتبلیغ، سماجی ورفاہی خدمات لکھوی خاندان کا طرۂامتیاز رہا ہے۔ بے شمار لوگ ان کے بزرگوں کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں توحید وسنت کی روشنی سے فیض یاب ہوئے۔عوامی خدمت کے اسی جذبے کے تحت یہ نصف صدی سے زائد عرصے سے سیاست میں بھی ہیں۔اگرچہ اس خاندان سے علمی وروحانی وابستگان کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہو ا ہے، تاہم ضلع قصور کاحلقہ این اے 140 ان کی انتخابی سیاست کا مرکز ہے، جہاں سے مولانا معین الدین لکھویؒ تین بار قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔ ۔1951ءمیں پنجاب میں ہونے والے پہلے انتخاب میں مولانا معین الدین کے بڑے بھائی  اور معروف اسلامی سکالر  پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے والد گرامی مولانا محی الدین لکھوی ﷫ تحصیل چونیاں سے ایم این اے منتخب ہوئے ۔ لکھوی خاندان  بالخصوص مولانا معین الدین لکھوی اور مولانا محی الدین لکھوی کے  متعلق کئی رسائل وجرائد میں  متعدد مضامین شائع ہوئے ہیں جو مختلف جگہ پر منتشر ہیں  مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھی ﷫ نے اس کتاب’’ تذکرہ مولانا محی الدین لکھوی ﷫ ‘‘ میں  تفصیل سے مولانا محی الدین لکھوی ﷫  کی حیات ، خدمات کے ضمن میں لکھوی خاندان  کا تفصیلی تعارف کو یکجا کردیا ہے ۔ اس  کتاب  میں شامل  پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے تفصیلی مقدمہ سے اس کتاب کی اہمیت دوچند ہوگئی  ہے ۔یہ کتاب مولانا محی الدین لکھوی اور لکھوی خاندان کے تعارف  وخدمات کے سلسلے میں ایک  دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ (م۔ا)

title-pages-tazkra-ulmae-ahle-hadith-2-copy
پروفیسر میاں محمد سجاد

برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺاور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے ہاں سند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گاہ کا رخ کررہے تھے۔ ان کی درس گاہ سے جو نامور اُٹھے ان میں ایک مولانا محمد ابراہیم صاحب آروی (م1320ھ) تھے۔ جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیادڈالی ۔اس درس گاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق صاحب ڈیانوی عظیم ابادی (م1329ھ) صاحب عون المعبود فی شرح ابی داؤد ہیں جنہوں نے کتب حدیث کی جمع اور اشاعت کو اپنی دولت اور زندگی کامقصد قرار دیا اوراس میں وہ کامیاب ہوئے۔تصنیفی لحاظ سے بھی علمائے اہلحدیث کاشمار برصغیر پاک و ہند میں اعلیٰ اقدار کا حامل ہے۔ علمائے اہلحدیث نے عربی ، فارسی اور اردو میں ہر فن یعنی تفسیر، حدیث، فقہ،اصول فقہ، ادب تاریخ او رسوانح پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ الغرض برصغیر پاک وہندمیں علمائےاہل حدیث نےاشاعت اسلام ، کتاب وسنت کی ترقی وترویج، ادیان باطلہ اور باطل افکار ونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید اور شرک وبدعات ومحدثات کےاستیصال اور قرآن مجید کی تفسیر اور علوم االقرآن پر جو گراں قدر نمایاں خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ اہل حدیث کاایک زریں باب ہے ۔مختلف قلمکاران اور مؤرخین نے علمائے اہل حدیث کےالگ الگ تذکرے تحریر کیے ہیں اور بعض نے کسی خاص علاقہ کے علماء کا تذکرہ وسوانح حیات لکھے ہیں۔ جیسے تذکرہ علماء مبارکپور ، تذکرہ علماء خانپور وغیرہ ۔ علما ئے عظام کے حالات وتراجم کو جمع کرنے میں مؤرخ اہل حدیث جناب مولانامحمد اسحاق بھٹی ﷫ کی خدمات سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تذکرہ علماء اہل حدیث پاکستان ‘‘ پروفیسر میاں محمد یوسف سجاد کی تصنیف ہے جو انہوں نے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے ارشاد پر ساڑھے تین سال کی محنت شاقہ سے مرتب کی ہے ۔اس کتاب کی تین جلدیں ہیں لیکن ہمیں پہلی جلد نہیں مل سکی اس لیے جلد دوم اور سوم ویب سائٹ پر پبلش کی جارہی ہے ۔محترم پروفیسر یوسف سجاد صاحب نے جلددوم میں 141 اور جلد سوم میں 147 علمائے کرام کے تراجم پیش کیے ہیں ۔اس کتاب کومرتب کروانےکےاصل محرک شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید تھے ۔8 فروری 1983ء کوعلامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے جید علماء اہل حدیث کی ایک نمائندہ میٹنگ منعقد کی اور اس میں علماء کو جماعت اہل حدیث کی طرف سے تصنیف وتالیف کے کام کوتیز کرنے کی طرف توجہ دلائی بالخصوص علمائے اہل حدیث کے حالات لکھنے کی ضرورت پر بہت زور دیاگیا اور یہ کا م شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے سپرد کیا گیا موصوف اپنی تدریسی ودیگر مصروفیات کےباعث اس کام کو خود تونہ کرسکے انہوں اپنے شاگرد رشید پروفیسر میاں یوسف سجاد سے اس کام کوشروع کروا کر پائہ تکمیل تک پہنچایا۔اللہ تعالیٰ تمام کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔(آمین)

pages-from-namaz-e-janaza-key-masael
محمد رئیس ندوی

ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں احکامات الٰہی کو مد نظر رکھے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تقلیدی رجحانات کی وجہ سے بعض ایسی چیزیں در آئی ہیں جن کا قرآن وسنت سے ثبوت نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق رکھے ہیں جن کو ادا کرنا اخلاقی اور شرعی فرض بنتا ہے اور انہیں حقوق العباد کا درجہ حاصل ہے۔ ان پانچ حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بھائی فوت ہو جائے تو اس کی نمازہ جنازہ ادا کی جائے اور یہ نمازہ جنازہ حقیقت میں اس جانے والے کے لیے دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اگلی منزل کو آسان فرمائےاس لیے کثرت سے دعائیں کرنی چاہیں۔لیکن بدقسمتی یہ ہے عوام الناس میں اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو جنازے کے مسائل تو دور کی بات جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیں بھی یاد نہیں ہوتیں جس وجہ سے وہ اپنے جانے والے عزیز کے لیے دعا بھی نہیں کر سکتے۔جبکہ اس کے مقابلے میں بعد میں مختلف بدعات کو اختیار کر کے مرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ ظاہر کرنا چاہتے ہوتے ہیں جو کہ درست نہیں اورشریعت کےخلاف ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’نماز جنازہ اور اس کے مسائل‘‘ جامعہ سلفیہ، بنارس کے استاد مولانا محمد رئیس ندوی﷾ کی تصنیف ہے۔ انہوں نے اپنی بصیرت وسعت معلومات، قوت استدلال، کتاب و سنت کے مشتملات پر گہری نظر اور رواۃ واسانید پر مفصل بحث کی ہے اور جنازے کے متعلقہ مسائل کو پوری طرح واضح کردیا ہے نیز انہوں نے اس کتاب میں اس بات کی مفصل ومدلل تحقیق وتنقیح پیش کی ہے کہ نصوص شرعیہ کےمطابق غائبانہ نماز جنازہ مشروع ومسنون ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین کی ان شاء اللہ تمام ذہنی الجھنیں دور جائیں گی۔ (م۔ا)

title-pages-seer-us-sahabiyaat-ma-uswa-e-sahabiyaat-copy
مختلف اہل علم

اسلام کی قدیم تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دور حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی ،اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’سیر الصحابیات مع اسوۂ صحابیات ‘‘ صحابیات کے حوالے سے تین مختلف کتابوں کا مجموعہ ہے ۔ اسوۂ صحابیات مولانا سعید انصاری ، سیر الصحابیات مولانا عبدالسلام ندوی اور مسلمان عورتوں کی بہادری علامہ سید سلیمان ندوی کی مشترکہ تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میںدور حاضر کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے ازواج مطہرا ت طیباتؓ ، اکابر صحابیات ؓاو ر نامور مسلمان بہادرخواتین کے مستند اور مؤثر واقعات کا ایک مجموعہ مرتب کردیا ہے تاکہ دور حاضرین کی خواتین اورلڑکیاں صحابیا ت ؓ کی اخلاقی،معاشرتی اوربہادری کے واقعات کو اپنے لیے نموہ بنا سکیں۔(م۔ا )

title-pages-tarikh-arzul-quran-kamil-copy
سید سلیمان ندوی

ارض قرآن سے مراد وہ سرزمیں مبارکہ ہے جس میں سید الانبیاء امام الانبیاء سیدنا محمد ﷺ پیدا ہوئے اور جس سرزمین پر اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب قرآن مجید نازل ہوا۔اور قرآن مجید نے جسے وادی غیر ذی زرع کا خطاب دیا ہے لیکن جس کی روحانی سیر حاصلی کی فروانی کا یہ عالم ہےکہ آج دنیا میں جہاں بھی روحانی کھیتی کاکوئی سرسبز قطعہ موجود ہے تو وہ اسی کشتِ زاد الٰہی کے آخری کسان کی تخم ریزی وآب سیری کا نتیجہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’’تاریخ ارض القرآن ‘‘ برصغیر کے مشہور ومعروف مؤرخ وادیب ، سیر ت نگار مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ کی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب دو جلدوں میں یکجا شائع ہوئی ہے ۔جلداول قرآن مجید کی تاریخی آیات کی تفسیر، سرزمیں قرآن (عرب) کاجغرافیہ، اور قرآن میں جن عرب اقوام وقبائل کا ذکر ہے ان کی تاریخی اور اثری تحقیق اور جلد دوم بنو ابراہم کی تاریخ اور عربوں کی قبل اسلام تجارت زبان اورمذہب پر حسب بیان قرآن مجید وتطبیق آثار وتوراۃ وتاریخ یونان وروم کی تحقیقات ومباحث پر مشتمل ہے ۔(م۔ا)

title-pages-seerat-e-rasool-quran-k-aine-me-copy
ڈاکٹر عبد الغفور راشد

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیرت رسول ﷺ قرآن کے آئینے میں ‘‘ مرکزی جمعیت اہل پاکستان کے مرکزی رہنما محترم جناب پرو فیسر ڈاکٹر عبد الغفور راشد ﷾ کی سیرت کے موضوع پر ایک اچھوتی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں سیرت کے تمام اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ کتاب کا آغاز بعثت رسول ﷺ سے قبل ادیان ومذہب کی صورت حال پر بہت مفید اور دلچسپ حقائق سے ہوتا ہے ۔ اس کے بعد کتب سماویہ میں رسول کریم ﷺ کے ظہور کی پیشن گوئیوں کوبیان کیاگیا ہے ۔جس سے آپ ﷺ کی صداقت کا ایک نیا اسلوب پیداہوتا ہے ۔امتیازات رسول ﷺ کے عنوان سے جو لوازمہ پیش کیا گیا ہے وہ ایمان افروز بھی ہے اور لائق مطالعہ بھی ۔تمام سیرت نگاروں کی طرح اس تصنیف لطیف میں بھی غزوات وسرایا کاباب موجود ہے ۔کتاب کےآخری ابواب میں یہود ونصاریٰ سے دوستی ،ازدواجی زندگی ، معجزات ،ہجرت مدینہ اور رسالت وبشریت کے حوالے سے بہت اہم گفتگو کی گئی ہے ۔ یہ کتاب سیرت نگاری کے پاکیزہ سفر میں ایک نقش محکم کا درجہ رکھتی ہے ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیوں کوسیرت کے قالب میں ڈھالنے کی توفیق عطافرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

title-pages-seerat-fatima-al-zuhra--jadeed-audition--copy
عبد المجید سوہدروی

سید البشرحضرت محمد رسول اللہ ﷺکی چا ربیٹیاں تھیں،سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سب سے چھوٹی تھیں۔رسول اکرم ﷺ کو ان سے خاص محبت تھی۔اسی لیے فرمایا کہ فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہونگی۔،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم ﷺ سے بہت مشابہت رکھتی تھیں،چال ڈھال اور نشست وبرخاست میں ہوبہو اپنے والد محمد مصطفیٰﷺکی تصویر تھیں۔ان کی زندگی میں خواتین اسلام کے لیے بڑا درس موجود ہے آٖج جبکہ امت کی بیٹیاں تہذیب کفر کی نقل میں اپنی ناموس وعزت سے بے خبر ہورہی ہیں انہیں سیرت فاطمہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک آئیڈیل خاتون اسلام کی زندگی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکیں۔ایک مسلمان خاتون کے لیے سیرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا میں اس کی زندگی کے تمام مراحل بچپن، جوانی، شادی، شوہر، خادنہ داری، عبادت، پرورش اولاد، خدمت اور اعزا اقربا سے محبت غرض ہر مرحلہ حیات کے لیے قابل تقلید نمونہ موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا‘‘ مولانا عبدالمجید سوہدروی ﷫ کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں انہوں نے جگر گوشۂ رسول سیدہ بتول حضرت فاطمۃ الزاہراء کی سیرت کردار اوراخلاق وگفتار کو بڑے آسان فہم انداز میں واضح کردیا ہے۔موجودہ ایڈیشن سے قبل اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔اس ایڈیشن کو مسلم پبلی کیشنز ،لاہورکے مدیر جناب محمد نعمان فاروقی ﷾ نے نئےانداز میں تخریج کےساتھ شائع کیا ہےجس اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

pages-from-kitab-uz-zakaat
حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری

دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے کئی کتب کتب موجود ہیں۔زیر تبصرہ کتاب’’ کتاب الزکوٰۃ ‘‘ حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری ﷫ کی تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میں زکاۃ کے مسائل کو نہایت مدلل طریقے سے تحریر کیا ہے (م۔ا)

pages-from-qaul-maqbool
عبد القادر حصاروی

نبی کریم ﷺاﷲ کے برگزیدہ نبی اور انسان تھے ۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سلسلہ انسانیت سے پیدا کیا تھا اورجس طرح ہر انسان کا سایہ ہوتا ہے اسی طرح آپ کا بھی سایہ مبارک موجود تھا۔ بہت سی غلط باتوں کی طرح معاشرے میں ایک یہ بات بھی شہرت پاگئی ہے کہ رسول ﷲ ﷺ کا سایہ نہیں تھا، بعض سادہ فطرت اور جذباتی اسلاف نے تو اس بے اصل خیال کا چرچا کیا ہی تھا لیکن ہندوستان میں اسے پھیلانے کی ذمہ داری قبرپرستوں پر عموماً اورمولانااحمد رضا خان صاحب پر خصوصاً ہے۔صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ آپﷺ کا سایہ موجود تھا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور عین نماز  کے دوران آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اچانک آگے بڑھایا ، پھر جلد ہی پیچھے ہٹا لیا ۔ ہم نے آپ ﷺسے آپ کے اس خلاف معمول نماز میں جدید عمل کے اضافہ کی وجہ دریافت کی تو ہمارے اس سوال کے جواب میں آپ ﷺنے فرمایا کہ میرے سامنے ابھی ابھی جنت لائی گئی ۔ میں نے اس میں بڑے اچھے پھل دیکھے تو میں نے چاہا کہ اس میں سے کوئی گچھا توڑلوں ۔ مگر معاحکم ملا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ میں پیچھے پلٹ گیا ۔ پھر اسی طرح جہنم بھی دکھائی گئی ۔ حتى رأيت ظلى وظلكم  میں نے اس کی روشنی میں اپنا اور آپ لوگوں سایہ دیکھا ۔ دیکھتے ہی میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ (مستدرك الحاكم ج4ص 456) زیر تبصرہ کتاب "قول مقبول در اثبات ظل رسولﷺ" محقق اسلام مولانا عبد القادر صاحب عارف حصاروی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ نبی کریمﷺ کا سایہ ثابت کیا ہے اور جو لوگ سائے کے منکر ہیں ان کا مسکت جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنطورفرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-seerat-e-rasool-aur-hum-copy
سید احمد عروج قادری

سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع  ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو  آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " سیرت رسول ﷺ اور ہم "مولانا سید احمد عروج قادری صاحب کے سیرت نبوی پر مشتمل مقالات کا مجموعہ ہے، جنہیں محترم ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی صاحب نے مرتب کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

title-pages-seerat-e-rasool-ka-sayasi-pehlu-copy
محمد طاسین

دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ زیر نظر کتاب’’ سیرت رسول کا سیاسی پہلو ‘‘مولانا محمد طاسین صاحب کی کاوش ہے یہ کتابچہ دراصل دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کےزیراہتمام کروائے جانےتربیتی کورس کے شرکاء کےلیے مرتب کیا گیا ہے ۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے سرورکائنات سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیات طیبہ کے سیاسی پہلو پر اختصار سے روشنی ڈالی ہے ابتدا میں لفظ سیاست کے معانی ومطالب سےمتعلق بھی مختصر بحث کی ہے ۔(م۔ا)

pages-from-qabar-se-hashar-tak
محمد ابو القاسم بنارسی

اس بات سے آج تک کوئی انکار نہیں کرسکا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے زندگی ملی اسے موت بھی دوچار ہوناپڑا، جو آج زندہ ہے کل کو اسے مرنا ہے،موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سے دو چار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کے کھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔ کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہے ایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہے جس کے لیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کے لیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔ہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر کو موت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے گزرنا پڑتا ہے۔ یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کو خالی کرنے کے لیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے۔ ایسے موقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچ سکتے ہیں اور موت کےبعد پیش آنے والے مراحل میں کامیاب ہو سکتے ہیں جنہوں نے اپنی آخرت کی بہتری کے لیے دینوی زندگی میں مناسب تیاری کی ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قبر سے حشرتک‘‘ جامعہ سلفیہ بنارس کے مدرس مولانا محمد ابو القاسم سلفی﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے دنیا سے رخصت ہونے کی حالات، حیات برزخ، جنت اور جہنم اور حشر و نشر کے تما مناظر کو ترتیب وار بیان کیا ہے۔ موضوع سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کوی کجا کردیا ہے۔ احادیث کے انتخاب میں نہایت ہی احتیاط کے کام لیا اور غیر صحیح احادیث کے ذکر سے اجتناب کیا ہے۔ کتاب کا انداز بیان نہایت ہی عام فہم اور سلیس ہے کم پڑھے لکھے لوگ بھی اس سے پوری طرح مستفید ہو سکتے ہیں۔ (م۔ا)

title-pages-seerat-e-nabwi-k-drechon-se-copy
محمد رضی الاسلام ندوی

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ اوراسی طرح بعض علماء کرام نے مکمل سیرت النبی کو خطبات کی صورت میں بیان کیا اور پھر اسے مرتب بھی کیا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب’’ سیرت کےدریچوں سے ‘‘ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی ﷾ کے سیرت نبوی کےمختلف پہلوؤں پر مختلف اوقات لکھے گئے مضامین ومقالات کا مجموعہ ہے ۔یہ مقالات پاک و ہند کےموقر علمی وتحقیقی مجلات میں شائع ہوئے تو اہل علم اور اصحاب ذوق کے حلقوں میں انہیں پسندید گی کی نظر سے دیکھا گیا۔ تو صاحب مقالات نے مختلف مجلات علمیہ میں مطبوعہ مضامین کا ایک انتخاب عوام الناس کےلیے کتابی صورت میں پیش کیا ہے۔(م۔ا)

title-pages-seerat-e-nabwi-pr-aitrazat-ka-jaiza-copy
ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی

سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع  ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو  آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " سیرت نبوی ﷺ پر اعتراضات کا جائزہ "محترم ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی صاحب  کی تصنیف ہے ،جس  میں انہوں نے سیرت نبوی ﷺ پر کئے گئے اعتراضات کا جائزہ لیا ہے  اور ان کی علمی واستنادی حیثیت کو پرکھا ہے۔۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-ilam-ul-meraas
صفی احمد مدنی

فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ، وراثت یا ورثہ کہتے ہیں۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کے بارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے۔ چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نے بھی صحابہ کواس علم کے طرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا۔ صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا زیدبن ثابت﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کے بعد زمانےکی ضروریات نے دیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک   شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غور و فکر کر کے تفصیلی و جزئی قواعد مستخرج کیے۔ اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’علم المیراث‘‘ مولانا صفی احمد مدنی﷾ کی مرتب شدہ ہے۔ جو علم میراث کے تمام ضروری مسائل پر مشتمل ہے جس سے ایک مبتدی طالب علم سےلے کر دین کا عام ادراک رکھنے والا بھی ضروری مسائل سے واقف ہوسکتا ہے۔ فاضل مصنف اس کتاب کے علاوہ بھی متعدد کتب کے مصنف ومترجم ہیں۔ (م۔ ا)

title-pages-sahih-seerat-e-anmbiya--as--copy
سیف اللہ خالد

ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام انسانوں میں سے بلند ہے ۔انبیاء ﷩ اللہ تعالیٰ کے وہ برگزیدہ بندے ہیں جنہیں روئے زمین میں لوگوں کی راہنمائی کے لیےمنتخب کیاگیا انہوں نےاپنی اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کے لیے دن رات محنت کی ۔انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔قرآن مجید میں ہر نبی کا تذکرہ مختلف مقامات پر حالات وواقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیاگیا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ صحیح سیرت انبیاء ‘‘ مفسر قرآن تفسیر دعوۃ القرآن کےمصنف جناب مولاناسیف اللہ خالد کی انبیاء ﷩ کی سیرت کےمتعلق قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں مرتب قابل قدر اور معتبر روایات کامجموعہ ہے ۔یہ کتاب سیرت انبیاء کے متعلق ایک منتخب موضوع ہی نہیں بلکہ عقیدہ کےاہم مباحث اور اسلام کےبینادی اعتقادات کا شاندار گلدستہ بھی ہے اور پند ونصائح کا ایسا مجموعۂ نافعہ ہے کہ جو ملتِ اسلامیہ کرہنماؤں اور مقتدر طبقوں کوبالخصوص اور عامۃ الناس کے لیےبالعموم منبع رشد وہدایت ہے جس میں ان اولو العزم ہستیوں کے صبر واستقامت ،ثابت قدمی ، اللہ کی نصرت کےمناظر ،عبرت وبصیرت اور وعظ ونصیحت کابھی تذکرہ ہے اور داعیان راہِ حق کے لیے ایک روشن قندیل ہے اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیوں کوسیرت کے قالب میں ڈھالنے کی توفیق عطافرمائے۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1761 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں