title-pages-islami-tehzeeb-k-chnd-darkhushan-pehlu-copy
ڈاکٹر مصطفٰی سباعی

نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی تہذیب کے چند درخشاں پہلو " شام کے معروف عالم دین اور نامور ادیب محترم ڈاکٹر مصطفی سباعی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اردو ترجمہ سید معروف شاہ شیرازی نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کےاب  میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

pages-from-ilhaad-e-jadeed-key-maghrabi-aur-muslim-mashron-par-asraat
مبشر نذیر

الحاد کا لفظ عموما لادینیت اور خدا پر عدم اعتماد کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ نام نہاد فکری سور ماؤں نے انسانی زندگی کو مسائل اور پیچیدگیوں سے پاک اور امن وسکون کا گہوارہ بنانے کی جتنی کوششیں کی ہیں۔ان میں انہیں شکست فاش کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے مسائل کو سلجھانے کی جتنی تدبیریں کیں، ان تدبیروں نے مسائل کو نہ صرف مزید الجھا دیا بلکہ ان میں کئی گنا اضافہ بھی کر دیاہے۔اس ناکامی کا بدیہی سبب یہ ہے کہ یہ حضرات بالعموم اپنی کوششوں کی بنیاد اسی الحاد اور مادہ پرستی پر رکھتے ہیں جو سارے بگار کی اصل جڑ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کو موجودہ فکری بحران، سماجی انتشار اور اخلاقی پستی سے نجات دلانا مقصود ہے تو پھر سب سے پہلے اس کفر والحاد پر کاری ضرب لگانی ہو گی جس کی بنیاد پر موجودہ تہذیب کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔اسلام ہی وہ حقیقی بنیاد ہے جس پر عمل کرنے انسانیت اپنے مسائل حل کر سکتی ہے، اور دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات " محترم مبشر نذیر صاحب کی عربی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے جدید الحاد کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات کے حوالے گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-title-pages-islam-aur-wahdat-e-adyan
حافظ محمد شعیب سیالکوٹی

عصر حاضر کے بے شمار فتنوں میں سے ایک بڑا فتنہ نظریہ وحدت ادیان ہے۔جس کے مطابق  تمام مذاہب یکساں اور بر حق ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی پیروی سے کا ئنات کے خالق اللہ رب العالمین کی رضا اور خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے۔لہذا کسی ایک مذہب والے کا اس بات پر اصرار  کرنا کہ اب تا قیا مت نجات کی سبیل صرف ہمارا دین و مذہب ہے یہ ایک بے جا سختی اور تشدد یا انتہا پسندی ہے، جس کا خاتمہ از حد ضروری ہے۔پھر اس’’نظریہ وحدت ادیان‘‘ کی تفصیل کچھ یوں بیا ن کی جاتی ہے کہ ’’ جب منزل ایک ہو تو راستوں کے جدا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے‘‘ یعنی ہر مذہب والا ایک بزرگ و بر تر ذات کی بات کرتا ہے جسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے ، کبھی اللہ تو کبھی بھگوان اور کبھی God جبکہ حقیقتاٌ تمام مذاہب اللہ کی بندگی اور خوشنودی حاصل کرنے کے ذرائع ہیں ، اس لئے ہر مذہب میں حق و انصاف ، انسان دوستی اور انسانی بھائی چارے کی تعلیم دی گئی ہے لھذا تمام انسانوں کو تمام مذاہب کا برابر کا احترام کرنا چاہیے، کسی ایک مذہب یا دین کی پیروی پر اصرار تشدد اور بے جا سختی ہے ، وغیرہ وغیرہ۔صاحب علم و صاحب مطالعہ حضرات یقیناًاس بات سے اتفاق کرینگے کہ یہ ’’نظریہ وحدت ادیان ‘‘ ایک جدید اصطلاح ہے  جسے اسلام دشمن عناصر نے یا احباب نما اغیار نے ایجاد کیا ہے۔اور یہ ایک انتہائی اور اسلام مخالف اصطلاح ہے ،جس کا اسلام نے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔چنانچہ متعدد  اہل علم  میدان میں آئے اور انہوں نے اس باطل نظرئیے کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔ زیر تبصرہ  کتاب" اسلام اور وحدت ادیان" محترم مولانا حافظ محمد شعیب سیالکوٹی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اس باطل نظریئے کی ابتداء ،اس کے علم بردار  اور اسے فروغ دینے والوں کو منکشف کرتے ہوئے قرآن وحدیث سے اس کا رد کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-islami-nizam-e-hukamran-k-dunyawi-fawa-copy
محمد عبد اللہ حنیف

اسلام کا نظام ِ حکومت سیاسی دنیا کےلیے ناموسِ اکبر ہے حاکمیت کی جان ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کا مآخذ اللہ کاآخری قانون ہے۔تمام برائیوں کا خاتمہ کرتاہے ۔اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی حکومت کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور حکومت کے بارے میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’اسلامی نظام ِ حکمرانی کے دنیاوی فوائد وثمرات‘‘ محمد عبداللہ حنیف صاحب کی تصنیف ہے ۔انہوں اس کتاب میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی زمین کے جس خطے پر اسلامی نظام حکمرانی اپنے پورے مقتضیات ولوازمات کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے ۔ وہاں امن وسکون، عدل وانصاف،اخوت ومساوات ،معاشی خوشحالی ، جان ومال اورعزت وآبرو کا تحفظ ، نیکی اور بھلائی کا چلن ، فحاشی اور عریانی کا خاتمہ ، باعزت روزگار ،احترام آدمیت ، خادم خلق حکمران اور پاکیزہ ترین معاشرہ وجود میں آتاہے ۔ گویا وہ خطہ دنیا کا جنت نظیر خطہ بن جاتا ہے ۔(م۔ا)

pages-from-islami-shariat-ka-amoomi-nazriah
ڈاکٹر جمال الدین عطیہ

جو انسان کسی چیز کو بناتا ہے وہی اس کے استعمال اور فوائد ونقصانات سے بھی اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔انسان بھی اپنے آپ پیدا نہیں ہوا ہے، نہ اس کی پیدائش میں اس کی مرضی کا کوئی دخل ہے اور نہ ہی وفات میں۔ انسان کو پید اکرنے والی ذات اللہ تعالی کی ذات ہے اس لئے ہمارے نفع ونقصان سے کے حوالے سے اللہ سے بڑھ کر کوئی ذات واقف نہیں ہو سکتی ہے۔ اور یقینا اس کی ہدایات پر عمل کر کے ہم کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالی نے انسان کو جو ہدایت نامہ عطا فرمایا ہے اسی کو شریعت کہتے ہیں۔ اللہ تعالی اپنا آخری پیغام قرآن مجید کی شکل میں نازل فرمایا ہے جو تاقیامت محفوظ رہے گا۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی شریعت کا عمومی نظریہ" فاضل مفکر ڈاکٹر جمال الدین عطیہ کی عربی تصنیف "النظریۃ العامۃ للشریعۃ الاسلامیۃ"کا اردو ترجمہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا عتیق احمد قاسمی نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں شریعت کے عمومی نظریات کو جمع فرما دیا ہے، جسے ایفا پبلیکیشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-islam-aur-ijtmaiyat-copy
صدر الدین اصلاحی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا ہے تواس میں متعدد تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس کی دوستی اور دشمنی کے معیارات بدل جاتے ہیں۔وہ دنیوی مفادات اور لالچ سے بالا تر ہو کر صرف اللہ کی رضا کے لئے دوستی رکھتا ہے اور اللہ کی رضا کے لئے ہی دشمنی کرتا ہے۔جس کے نتیجے میں کل تک جو اس کے دوست ہوتے ہیں ،وہ دشمن قرار پاتے ہیں اور جو دشمن ہوتے ہیں وہ دوست بن جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔اسلام کی اپنی تہذیب،  اپنی ثقافت،  اپنےرہنے سہنے کے  طور طریقے اور اپنے تہوار ہیں ،جو دیگر مذاہب سے یکسر مختلف ہیں۔تہوار یاجشن کسی بھی قوم کی پہچان  ہوتے ہیں،اور ان کے مخصوص افعال کسی قوم کو دوسری اقوام سے جدا کرتے ہیں۔جو چیز کسی قوم کی خاص علامت یا پہچان ہو ،اسلامی اصطلاح میں اسے شعیرہ کہا جاتا ہے،جس کی جمع شعائر ہے۔اسلام میں شعائر مقرر کرنے کا حق صرف اللہ تعالی کو ہے۔اسی لئے شعائر کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے صرف وہی تہوار منانا جائز ہے جو اسلام نے مقرر کر دئیے ہیں،ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار  میں حصہ لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور اجتماعیت"محترم صدر الدین اصلاحی  صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اجتماعیت پر گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-islam-aur-masla-talab-w-rasad-copy
عنایت اللہ طور

دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور مسئلہ طلب ورسد " محترم مولانا عنایت اللہ طور صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے  اسلامی تعلیمات کی روشنی میں طلب ورسد کے مسائل کو پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس خدمت کو  اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

pages-from-yahood-o-nisara-se-mukhalfat
حافظ محمد ابراہیم سلفی

یہود ونصاری پہلے دن ہی سے دین اسلام سے حسد کرتے چلے آرہے ہیں۔ دونوں قوموں کو شروع سے "اہلِ کتاب" ہونے کا زعم تھا۔ یہود بنی اسرائیل میں آخری نبی کی آرزو لیے بیٹھے تھے۔لیکن بنی اسماعیل میں آخری نبی کے ظہور نے انہیں اسلام کا بدترین دشمن بنادیا۔ مدینہ میں انہوں نے غزوہ خندق میں معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئےمسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی۔ نبی کریمﷺ نے انہیں مدینہ سے نکال دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی سازشوں کی وجہ سے انہیں آخر جزیرۃ العرب سےہی نکال باہرکیا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا جملہ اچھی طرح یاد ہے۔" یہود ونصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکال دو۔ (ابوداود: 2635)ان دونوں قوموں نے مسلسل اپنی سازشیں جاریں رکھیں اور مسلمانوں کو بڑا نقصان پہچانے کی کوششوں میں رہے اورمسلمانوں کو ان سے بعد میں بہت سی جنگیں لڑنی پڑیں۔ ان کے ان سب تخریبی کاموں کے باوجود مسلم اقوام میں کبھی تذبذب، اضطراب اور جذبہ شکستگی کا احساس تک نہ پیدا ہوا، بلکہ انہوں نے ہر میدان میں ثابت قدمی کا ثبوت پیش کیا،اور ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" یہود ونصاری سے مخالفت، کیوں اور کیسے؟" جماعۃ الدعوہ کے مرکزی رہنمامحترم حافظ محمد ابراہیم سلفی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے یہود ونصاری کی مخالفت کرنے کی وجوہ اور اس کے طریقہ کار پر گفتگو کی ہے۔امت مسلمہ کا درد رکھنے والے اہم دل حضرات کے لئے یہ ایک شاندار اور مفید ترین کتابچہ ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو تمام میدانوں میں قیادت وسیادت عطا فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-hazrat-umar-bin-abdul-aziz-r-a--kamr-copy
کامران اعظم سوہدروی

امیر المومنین سیدنا عمر بن عبد العزیز ﷫ کوپانچواں خلیفہ راشد تسلیم کیا گیا ہے ۔ حضرت عمربن عبد العزیز ﷫ عمرثانی کی حیثیت سےابھرکر سامنے آئے ۔جیسے سیدنا عمرفاروق اعظم نےاپنے 10 سالہ عہد خلافت میں ہزاروں مربع میل پر فتح حاصل کی۔حضرت عمر بن عبد العزیز نےگو اڑھائی سال خلافت کوسنبھالا مگر انہوں نے بھی متعدد علاقوں کو فتح کر کے اسلامی حدود میں شامل کیا۔ انہوں نے جہاد کے علاوہ دعوت الی اللہ پر بھی خاصہ زور دیا اور کفر کےدلوں کو اسلام کی برکات سےآراستہ کر کے ان کو دین اسلام میں داخل کیا ۔حدیث وسیراور تاریخ ورجال کی کتب میں ان کے عدل انصاف ،خشیت وللہیت،زہد وتقوٰی ،فہم وفراست اور قضا وسیاست کے بے شمار واقعات محفوظ ہیں اور آپ کی سیرت پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عمر بن عبد العزیز ﷫‘‘امیر المومنین خلفیہ راشد سیدنا عمرفاروق کے حقیقی جانشین عمرثانی کی سیرت وخدمات اور خلافت کے حالات واقعا ت پر مشتمل ہے ۔یہ کتاب جناب کامران اعظم سوہدروی کی کاوش ہے ۔انہوں نے اس کتاب کو تیرا ابواب میں تقسیم کیا ہے۔دلچسپ پیرائیوں اور عنوانات باندھ کر حضرت عمربن عبدالعزیز ﷫ کی پوری حیات کے ہر پہلو کو بحوالہ درج کیا ہے اور حضرت عمر بن عبد العزیز ﷫ کی صحیح تصویر کشی کی ہے ۔ کہیں غلو یا تنقیص کا عنصر نہیں ہے ۔یہ کتاب مناسب معلومات پر مبنی ہے جو بے جاتطویل واختصارسے مبرّا ہے۔ فاضل مصنف نے پوری کتاب میں دلچسپی کو برقرار رکھا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-hizabullah-kon-he-copy
علی الصادق

لبنان میں حزب اللہ شیعہ کی ایک انتہائی طاقتور سیاسی اور فوجی تنظیم خیال کی جاتی ہے۔ ایران کی پشت پناہی سے انیس سو اسی میں تشکیل پانے والی اس جماعت نے لبنان سے اسرائیلی فوجی دستوں کے انخلاء کے لیے جدوجہد کی۔تنظیم کو مئی دوہزار میں اپنے اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس عمل کے پس منظر میں جماعت کی عسکری شاخ اسلامی مزاحمت یا اسلامک ریزسسٹینس کا ہاتھ تھا۔لبنان پر اسرائیلی قبضے کے بعد علماء کے ایک چھوٹے سے گروہ سے ابھرنے والی اس تنظیم کے اوائلی مقاصد میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت اور لبنان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء تھا۔اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لبنان کی کثیر المذہبی ریاست کی جگہ ایرانی طرز کی اسلامی ریاست بنائی جائے مگر بعد میں اسے یہ خیال ترک کرنا پڑا۔ زیر تبصرہ کتاب" حزب اللہ کون ہے؟" محترم علی الصادق صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے لبنان ، ایران اور خلیجی ممالک میں سر گرم تنظیم حزب اللہ کے بارے میں انکشافات فرمائے ہیں۔اور اس کے کام کے طریقہ کار کو بیان کیا ہے۔(راسخ)

pages-from-nabi-kareem-saw-par-jadu-ki-haqiqat
قاری عبد الستار

سحر اور جادو کا مسئلہ امت مسلمہ کے مسلمہ نظریات میں سے ایک ہے۔ اس کا عارضی نبی کریمﷺ کو لاحق ہوا، پھر اللہ تعالی نے شفائے کاملہ عاجلہ نصیب فرمائی، اور اس مسئلے کا تذکرہ ان احادیث کی کتب میں موجود ہے جن کی صحت پر ائمہ جرح وتعدیل کا اتفاق واتحادہے۔لیکن طوائف مبتدعہ اور فرق ضالہ نے دسائس شیطانیہ اور وسائل طاغوتیہ کو بروئے کار لاتے ہوئے ان میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی اور عوام الناس کی گمراہی کا باعث ہو کر ضلوا واضلوا کا مصداق بن گئے۔عصر حاضر کے کئی ایک معتزلہ نے اہل سنت کے لبادے میں اپنی دسیسہ کاریوں کا تماشہ عوام الناس کے سامنے پیش کیا اور سحر علی النبی ﷺ کے مسئلہ کو اچھال کر کتب احادیث کو مخدوش ومکذوب بنانے کی مذموم کوششیں کیں۔لیکن اللہ تعالی نے ہر دور میں ایسے علماء کرام کو پیدا کیا جنہوں نے معترضین کا مسکت جواب دیا اور حق کو ثابت کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب" نبی کریمﷺ پر جادو کی حقیقت " قاری عصمت اللہ ثاقب ملتانی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے سحر علی النبیﷺ کے مسئلہ کو ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-deen-e-kamil-k-imtiazat-copy
عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی

اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا ہے۔دینِ اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمتِ الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے زیر تبصرہ کتاب’’دین کامل کے امتیازات ‘‘تفسیر سعد ی کے مصنف مفسر قرآن فضیلۃ الشیخ عبدالرحمٰن بن ناصر سعدی﷫ کی عربی کتاب ’’ الدرۃ المختصرۃ فی محاسن الدین الاسلامی ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے معاشرے پر اسلامی عقائد ونظریات اور شرعی احکام کے خوبصورت اثرات کاجائزہ لیتے ہوئے بڑے سلیقے سے سے قاری پر واضح کیا ہے کہ ایک سچا اسلامی معاشرہ کن وجوہ کی بناپر دیگر تمام معاشروں سے بہتراورافضل ہے ۔اور اسلامی معاشرے دین اسلامی کی حقیقی تعلیمات سے اعراض کر کے کن کن فوائد وثمرات اور فیوض وبرکات سے محروم ہور ہے ہیں ۔(م۔ا)

title-pages-deeni-taleem-w-tarbiyat-k-usool-w-adab-copy
عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانیت کی ہدایت وراہنمائی اور تربیت کے لیے جس سلسلۂ نبوت کا آغاز حضرت آدم سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ پر کیا گیا۔۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ وتربیت کاسلسلہ جاری وساری ہے ۔ اپنے اہل خانہ او رزیر کفالت افراد کی دینی اور اخلاقی تربیت ایک اہم دینی فریضہ او رذمہ داری ہے جس کے متعلق قیامت کےدن ہر شخص جواب دہ ہوگا ۔دعوت وتبلیع اور اصلاح امت کی ذمہ داری ہر امتی پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا عائد ہوتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’دینی تعلیم وتربیت کے اصول وآداب‘‘ مولانا عبدالرؤف خان رحمانی جھنڈا نگری ﷫ کے تعلیم وتربیت کے موضوع پر تحریر کیے گئے مضامین کی کتابی صورت ہے ۔موصوف نے قرآن وحدیث کی روشنی میں دینی تعلیم وتربیت کےاصول ومبادی بیان کیے ہیں اور ان کےساتھ ساتھ طلبائے علم کے لیےتشجیع وترغیب کی خاطر علمائے سلف اور عصر حاضر کے ائمہ تجدید کےحیرت انگیز واقعات اور سبق آموز نصائح کا تذکرہ بھی کیا ہے ۔ یہ مضامین ہفت روزہ الاعتصام ،لاہور میں 13 مئی 1994ء تا 8 جولائی 1994ء کو 8 اقسام میں شائع ہوئے تھے ۔ان مضامین کی افادیت کی خاطر محترم جناب حافظ شاہد محمود ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے ان مضامین کو یکجا کر کے کتابی صورت میں مرتب کیاہے ۔تاکہ دینی علوم کےطلبا اسے پڑھ کر اپنے لیے نصیحت وموعظت کاسامان جمع کر سکیں اور ائمہ دین کےحیران کن قصص دیکھ کر علم کی راہ میں موجود مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس راہ میں موجود عملی کوتاہیوں سےاپنے دامن کوآلودہ ہونے سے بچا سکیں۔(م۔ا)

pages-from-muslman-aurton-key-fiqhi-masael
ابو حماد عبد الغفار مدنی

دین کے اکثر مسائل مردوں اور عورتوں کے درمیان مشترکہ ہیں لیکن بعض مسائل ایسے ہیں جو صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہیں۔ جن کو جاننا خواتین کے لئے انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ہو کراسلام کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عورتیں نہ تو خود مطالعہ کرتی ہیں اور نہ ہی کسی مستند عالم دین سے مسئلہ دریافت کرنے کی تکلیف گوارہ کرتی ہیں۔ بعض باتیں بڑی شرم و حیا کی ہوتی ہیں جن کے دریافت کرنے میں حجاب محسوس ہوتا ہے لیکن ایسی باتیں جب دین اور شریعت سے متعلق ہوں تو ان کے دریافت کرنے میں شرم نہیں کرنی چاہئے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ شرع میں شرم نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مسلمان عورتوں کے فقہی مسائل" محترم ابو حماد عبد الغفار مدنی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مسلمان عورتوں کے فقہی مسائل کو بیان کیا ہے تاکہ مسلمان خواتین ان مخصوص مسائل کا مطالعہ کر کے ان پر عمل پیرا ہو سکیں اور انہیں کسی سے سوال کرنے کی بھی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول و منطور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-bachon-se-ghuftghu-kaise-krain-copy
حفصہ صدیقی

قرآن مجید میں جہاں والدین کےحقوق کاتذکرہ آیا ہے وہیں اولاد کے حقوق کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے ۔جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوشک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔اولاد کرہ ارض پر اللہ تعالیٰ کاسب سے خوبصورت تحفہ ہے اس کی تربیت والدین کی اولین ذمہ داری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’بچوں سے گفتگو کیسے کریں ‘‘ محترمہ حفصہ صدیقی کی مرتب شدہ ہے انہوں نےاس کتاب کو کئی انگریزی ، اردو کتب اور دیگر ذرائع سےاستفادہ کر کے مرتب کیا ہے اور کوشش کی کہ یہ کتاب علمی سے زیادہ عملی طریقوں سے واقفیت دلائے ۔فاضل مرتبہ نے اس کتاب کو منظم انداز میں ترتیب دیا ہے ۔ ذہنی اور تحریری مشقوں اور اکثرباتوں کو واقعات کی مدد سے سمجھانےکی کوشش کی ہے ۔کتاب میں والدین اور بچوں کے لیےمکمل راہنمائی موجود ہے ۔ کتاب سے استفادہ تب مفید ہوسکتا ہے جب شروع سے آخر تک اس کا یکسوئی سے مطالعہ کیا جائے کیونکہ اس کا ہر باب دوسرے سے منسلک ہے ۔(م۔ا)

title-pages-bayan-al-mukhtarat-copy
حافظ بلال اشرف

ہر زبان میں ادب میں وہی حیثیت ہوتی ہے جو انسانی جسم میں دل کی ہے۔کیونکہ کسی بھی زبان کی برائی یا اچھائی اس کے ادب سے پہچانی جاتی ہے۔عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " بیان المختارات " محترم سید ابو الحسن علی ندوی کی عربی  ادب پر لکھی گئی عربی  تصنیف "مختارات من ادب العربی"کا ارود ترجمہ ہے،اردو ترجمہ محترم حافظ بلال اشرف صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان  کتاب کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-maldeep-ki-hzarah
قاری محمد یونس ایم اے

ایک اسلامی ملک ہے اور ہمیشہ نامور سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ جمہوریہ مالدیپ ،چھوٹے بڑے تیرہ سو جزائر پر مشتمل بحرہند کے اندر ایک اسلامی ریاست ہے۔سمندر کے اندرپانچ سو دس (510)میل لمبا شمال سے جنوب اور اسی (80)میل چوڑا مشرق سے مغرب اس ملک کا کل رقبہ ہے۔ مالی یہاں کا دارالحکومت ہے جو سری لنکا سے جنوب مغرب میں چارسو (400)میل کے فاصلے پر بنتاہے۔ دار الحکومت ہونے باعث حکومت کے مرکزی دفاتر،اعلی عدالتیں اور تعلیم کے بہترین ادارے یہاں موجود ہیں۔ مالدیپ کے ان جزائر میں چھوٹے بڑے پہاڑی سلسلے بھی چلتے ہیں لیکن پھر بھی یہ جزائر سمندر کے برابر یا معمولی سے بلند ہیں اورکوئی جزیرہ بھی سطح سمندر سے چھ فٹ سے زیادہ اونچا نہیں ہے۔مون سون ہوائیں یہاں پر بارش کا سبب بنتی ہیں اور بارش کی سالانہ اوسط چوراسی(84) انچ تک ہی ہے جبکہ سالانہ اوسط درجہ حرارت 24سے 30ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے، گویا یہ ایک معتدل آب و ہوا کا بہترین قدرتی خطہ ہے۔ بعض جزائر ریتلے ساحلوں پر مشتمل ہیں اور ان میں پام کے درخت اور صحرائی جھاڑیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ یہاں مچھلی بکثرت کھائی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مالدیپ کی حضارۃ اور ادب پر اسلام کے اثرات "محترم قاری محمد یونس صاحب کی کاوش ہے، جو انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر تیار کی۔ صاحب مقالہ چونکہ ایک عرصہ تک دینی خدمات کے سلسلے میں مالدیپ میں مقیم رہے، لہذا انہوں نے اسی موضوع کا انتخاب کیا۔ ( راسخ)

title-pages-asma-allah-al-husna-qawaid-marif-copy
شفیق الرحمٰن الدراوی

اللہ تعالی ٰ کے بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ توحید کی معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔ قرآن واحادیث میں اسماء الحسنٰی کوپڑھنے یاد کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے اچھے نام ہیں تو اس کوانہی ناموں سےپکارو۔اور اسی طرح ارشاد نبویﷺ ہے«إِنَّ لله تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ»یقیناً اللہ تعالیٰ کے نناوےنام ہیں یعنی ایک کم 100 جس نےان کو یاد( یعنی پڑھنا سمجھنا،یادکرنا) کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری )اسماء الحسنٰی کے سلسلے میں اہل علم نے عربی اردو زبان میں مستقل کتب تصنیف کی ہیں اور بعض نے ان اسماء کی شرح بھی کی ہے۔ زیرنظر کتاب ’’ اسماء اللہ الحسنیٰ ‘‘ محترم پیر زادہ شفیق الرحمٰن شاہ الدراوی ﷾کی تصنیف ہے ۔فاضل مصنف نے کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کےاسماء حسنیٰ کےعلم ذریعہ سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت کروائی جائے اور ان اسماء کے تقاضے اور ثمرات بتائے جائیں تاکہ لوگ ان سے صحیح معنوں میں مستفید ہوسکیں ۔ اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی اور بزرگی کا نور روشن ہو۔فاضل مصنف نے اپنے ایک نوٹ میں لکھتے ہیں کہ میں نے اس کتا ب میں ہرجگہ پر اللہ تعالیٰ کے لیے ادب واحترام بجا لاتے ہوئے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے ۔جبکہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی احترام تو اللہ تعالیٰ کی واحدانیت پر ایمان لانے اور پھراللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اوامر ونواہی پر عمل پیر اہونے میں ہے ۔بلکہ پاکستان کی معروف علمی شخصیت علامہ عبداللہ ناصر رحمانی ﷾ آف کراچی نے تو اپنے خطاب میں بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے لیے واحد کا صیغہ ہی استعمال کرنا چاہیے ۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 890 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں