title-pages-bidat-w-rasoom-ki-tabah-kariyan-copy
عبد السلام رحمانی

دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں ۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں کتاب وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا ۔ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے ۔ اور اس وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے راہبوں ،صوفیوں، نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور طرح طرح کی بدعات وخرافات نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے اسلام کی اصل شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی ہے۔دن کی بدعات الگ ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔ الغرض ہمارے معاشرے میں فی الوقت جو مروج ہے وہ اسلام نہیں کچھ اور ہی چیز ہے ۔ اسلام کو اصل روپ میں دیکھنا ہو تو اس کو رسوم وبدعات سے پاک کرنا ہوگا ہے ۔ تب ہی وہ دین حاصل ہوگا جو عند اللہ مقبول ہے ۔ وہ اعمال سرزد ہوں گے ۔ جو میزان کو بھاری کردیں ان نیکیوں کا ارتکاب ہوگا جورائیگاں نہیں جائیں گی۔ رسوم وبدعات سے اجتناب کے لیے ان سے واقفیت بھی از حد ضروری ہے ۔جید اہل علم نے بدعات اور اس کے نقصانات سے روشناس کروانے کے لیے اردو وعربی زبان میں متعدد چھوٹی بڑی کتب لکھیں ہیں جن کے مطالعہ سے اہل اسلام اپنے دامن کو بدعات سے خرافات سے بچا سکتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ بدعات ورسوم کی تباہ کاریاں ‘‘ مولانا عبد السلام رحمانی کی کاوش ہے ۔ جس انہوں نے مصر کےمعروف شیخ علی محفوظ طنطاوی کی کتاب ’’ الابداع فی مضار الابتداع‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا ہے ۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے عقائد وعبادات ومعاملات کے اعتبار سےبدعی امور اور روسوم معاشرہ ومنکرات کا قرآن وحدیث کےدلائل کی روشنی میں جائزہ لیا ہے ۔ (م۔ا)

title-pages-deen-me-bighar-ka-sabab-ghaluw-copy
عبد الغفار حسن

اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی  ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" دین میں بگاڑ کا سبب غلو،  دین میں اعتدال کی راہ" فضیلۃ الشیخ عبد الغفار حسن صاحب، سابق پروفیسر مدینہ یونیورسٹی اورمولانا محمد خالد سیف صاحب  کےدو مقالات پر مبنی ہے، جس میں سے پہلا مقالہ دین میں بگاڑ کا سبب غلو کے موضوع پر ہے جبکہ دوسرا مقالہ دین میں اعتدال کی راہ کے موضوع پر ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  دونوں مقالہ نگار حضرات کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-dunia-ka-musafir-ya-akhrat-ka-rahi-jadeed-audition--copy
سعد حسن خان یوسفی ٹونکی

دنیا میں انسان کا اس کی رفتارکاپہلا قدم ہے جب سے یہ دنیا میں آیا ہے اس کو ایک منٹ کےلیے قرارنہیں۔دنیا ایک عارضی اور فانی جگہ ہے،ہر انسان نے یہاں سے چلے جانا ہے۔جبکہ آخرت دائمی اور ہمیشہ رہنے والی جگہ ہے،اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے ،آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے ،کاش وہ اس حقیقت کو جانتے ۔(عنکبوت:64)نبی کریم ﷺ نے دنیا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: آدمی کہتا ہے میرا مال میرا مال،حالانکہ اس کا مال صرف تین چیزیں ہیں: ایک وہ جو اس نے کھا لیا۔ دوسرا وہ جو اس نے پہن لیا اور بوسیدہ کرلیا ،اور تیسرا وہ جواپنے ہاتھ سے اللہ کے راہ میں دے دے کل قیامت کو اس کو اس کا بدلہ ملے گا کیونکہ وہ تو اللہ کے پاس چلا گیا اور اللہ کے پاس چلا گیا تو آخرت میں اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ فرمایا :اس کے علاوہ جو بھی مال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ گئے یہ اس کا مال نہیں ہے۔ یہ تو ورثاء کا مال ہے پھر ورثاء بعد میں لڑتے بھی ہیں۔دوسری جگہ فرمایا: میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی چھاؤں میں گرمیوں کی کوئی دوپہر گزارنے بیٹھ جائے ۔ وہ کوئی پل آرام کر ے گا تو پھر اٹھ کر چل دے گا۔تیسری جگہ فرمایا: ”یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافرکوا س دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا۔ زیر تبصرہ کتاب" دنیا کا مسافر یا آخرت کا راہی "مولانا سعد حسن خان یوسفی ٹونکی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے۔۔آمین۔یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی سائٹ پر موجود تھی لیکن وہ اس کتاب کا پرانا ایڈیشن ہے ۔اب ہمیں اس کتاب کا جدید ایڈیشن دستیاب ہو لہٰذا ا سے بھی سائب پر پبلش کیا جارہا ہے ۔(م۔ا)

pages-from-pakbaaz-khawateen-key-amli-karnaamey
ازہری احمد محمود

اسلام کی قدیم تایخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دور حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی ،اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکباز خواتین کے عملی کارنامے‘‘ شیخ ازہری احمد محمود کی عربی تصنیف ’’نساء لھن مواقف‘‘ کا اردو ترجمہ ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں ازواج مطہرات صحابیات، اوردیگر نیک خواتین میں سے چند خواتین کی زندگی کے کچھ نمونہ جات پیش کیے ہیں جنہوں نے اعلیٰ شرافت کو اپنایا اور نیک نسل کے لیے سچا نمونہ تھیں اور بلند مقاصد کو حاصل کرنے والی تھیں۔ یہ ایسی عظیم عابدات، صالحات، زاہدات اور عزت و شرف والی خواتین تھیں کہ ہماری خواتین ان نیک خواتین کے راستے کی اقتداء کر کے اوران کی عادات کو اختیار کرکے ان جیسا عزت وشرف حاصل کرسکتی ہیں۔ (م۔ا)

title-pages-aqeeda-touheed-aur-uske-manafi-amoor-copy
صالح بن فوزان الفوزان

اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ عقیدہ توحید اوراس کے منافی امور ‘‘ سعودی عرب کےنامور عالم دین فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان کی توحید اورعقائد کے دیگر امور کےمتعلق تصنیف شدہ عربی کتاب ’’ عقیدۃ التوحید وبیان مایضادہا من الشرک الاکبر والاصغر والتعطیل والبدع وغیر ذلک ‘‘ کا سلیس ورواں ترجمہ ہے ۔شیخ موصوف نےاس کتاب میں توحید کا معنیٰ ،اسکی اقسام ، کلمہ طیبہ کامطلب،اس کے تقاضے ،شرائط، ارکان ونواقض کوبیان کرنےکے بعد عبادت کا معنیٰ واقسام ، دین کے مراتب اورآپس میں ان کے تعلق کو واضح کیا ہے ۔اور ان افعال واعتقادات کو بیان کیا کہ جن کواختیار کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے یا اس کےایمان میں کمی آجاتی ہے ۔(م۔ا)

title-pages-azab-e-qabar-ki-haqiqat-copy
ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی

عقیدہ عذاب قبر قرآن مجید،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔جس طرح دنیا میں آنے کے لئے ماں کا پیٹ پہلی منزل ہے،اور اس کی کیفیات دنیا کی زندگی سے مختلف ہیں،بعینہ اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کے اعتبار سے قبر کا مقام اور درجہ ہے،اوراس کی کیفیات کو ہم دنیا کی زندگی پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں لیکن اسلام کی خانہ زاد تشریح پیش کرنے والے بعض افراد قرآن وحدیث کی صریح نصوص سے سر مو انحراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ عذاب قبر کی حقیقت ‘‘ کراچی کی معروف علمی شخصیت ڈاکٹر ابوعبد اللہ جابر دمانوی ﷾ کی کتاب’’ الدین الخالص‘‘ کا اختصار وانتخاب ہے جس میں انہوں نے منکرین حدیث اور منکرین عذاب کے رد کیا اور عقیدہ اثبات عذاب پر قرآن وحدیث سے ٹھوس دلائل پیش کیے ہیں ۔ محدث العصر حافظ زبیر علی زئی ﷫ کے اس کتاب کا علمی مقدمہ تحریر کرنے سےکتاب کی افادیت مزید دو چند ہوگئی ہے ۔(م۔ا)

pages-from-islam-mein-aulad-key-haqooq
ڈاکٹر خالد علوی

انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کا نائب ہے۔ اس لیے اسے بہت سے فرائض سونپے گئے ہیں۔ ان میں اولاد کی تربیت سب سے اہم فریضہ ہے۔اللہ رب العزت قیامت کےدن اولاد سےوالدین کے متعلق سوال کرنے سےپہلے والدین سےاولاد کےمتعلق سوال کرے گا۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اولاد کی اچھی تربیت میں کوتاہی کے بہت سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ شیر خوارگی سے لڑکپن اور جوانی کےمراحل میں اسے مکمل رہنمائی اور تربیت درکار ہوتی ہےاس تربیت کا آغاز والدین کی اپنی ذات سے ہوتاہے۔ اولادکے لیے پاک اور حلال غذا کی فراہمی والدین کے ذمے ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ رزقِ حلال کمائیں۔ والدین جھوٹ بولنے کےعادی ہیں تو بچہ بھی جھوٹ بولے گا۔ والدین کی خرابیاں نہ صرف ظاہری طور پر بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ باطنی طور پر یہ خرابیاں اس کے اندر رچ بس جاتی ہیں۔ والدین کےجسم میں گردش کرنے والےخون میں اگر حرام ،جھوٹ، فریب، حسد، اور دوسری خرابیوں کے جراثیم موجود ہیں تویہ جراثیم بچے کوبھی وراثت میں ملیں گے۔ بچوں کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کے حقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اور اس بات میں کوشک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’اسلام میں اولاد کے حقوق‘‘ محترم پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی مرحوم کامرتب کردہ ہے انہوں نےاس رسالے میں حقوق کے موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور اسلام میں اولاد کے حقوق کووضاحت سے پیش کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہماری اولاد کو اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض بھی یادر رہیں تاکہ انہیں اپنے والدین کی خدمت کی سعادت بھی حاصل رہے۔ (آمین) ( م۔ا)

title-pages-almi-youm-e-hijab-4-september-copy
وومن اینڈ فیملی کمیشن لاہور

اسلام ایک پاکیزہ  دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔اور پردہ کرنے میں اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ سے پردہ کیا جائے اور کس سے نہ کیا جائے۔2004 ء میں  جب فرانس میں حجاب پر پابندی کا قانون منظور ہوا تو عالمی اسلامی تحریکوں کے ایک اجتماع میں امت مسلمہ کے جید عالم دین مفکر اسلام علامہ یوسف قرضاوی کی قیادت میں یہ فیصلہ ہوا کہ ہر سال 4 ستمبر کو یوم حجاب منایا جائے گا اور اسی سال سے اس کا آغاز ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب " عالمی  یوم حجاب، 4 ستمبر "جماعت اسلامی پاکستان کے شعبہ وومن اینڈ فیملی کمیشن کی جانب سے شائع کی گئی ہے، جس میں اسی مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے  کہ وہ مسلمانوں کو اسلام پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور  پردہ کرنے کی راہ میں موجود  مشکلات کو دور فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-aqeeda-al-salaf-aur-ashab-ul-hadith-copy
ابو عثمان اسماعیل بن عبد الرحمن الصابونی

عقیدے کے مسائل بلا شبہ بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔اور تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس کی تعلیم تمام ابواب ومسائل کے ساتھ اہل علم سے حاصل کریں۔یہ بات کافی نہیں ہے کہ ادھر ادھر سے بلا ترتیب افراتفری میں عقیدے سے متعلق سوالات کئے جائیں،کیونکہ جس قدر بھی کثرت سے سوالات کئے جائیں اور ان کے جواب حاصل کئے جائیں،قریب ہے کہ جہالت اور بھی بڑھ جائے ۔لہذا جو لوگ خود اپنے آپ کو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو صحیح معنوں میں نفع پہنچانا چاہتے ہیں ،ان پر واجب ہے کہ وہ معروف اہل علم سے  اول تا آخر عقیدہ کا علم حاصل کریں،اور اس کو تمام ابواب ومسائل کے ساتھ جمع کریں۔ساتھ ہی اسے اہل علم اور اسلاف کی کتب سے حاصل کریں۔اس طریقے سے جہالت بھی دور ہو جائے گی اور کثرت سوالات کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔پھر وہ لوگوں کو تعلیم دینے اور ان کے سوالات کو حل کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب "عقیدۃ السلف اور اصحاب الحدیث" بھی عقیدے کے  چند اہم مسائل پر مشتمل ہے ،جوپانچویں صدی ہجری کے امام ابو عثمان اسماعیل بن عبد الرحمن الصابونی﷫  کی عربی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم ابو صاریہ احسان یوسف الحسینوی صاحب نے جبکہ تحقیق وتخریج کا کام محترم محمد ابراھیم بن بشیر الحسینوی اور ابو خزیمہ عمران معصوم انصاری صاحبان نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف، مترجم اور محققین کی ان عظیم خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

pages-from-bidaat-e-murawwajah
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا و آخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں کتاب و سنت کی ہی پابندی ضروری ہے۔ صحابہ کرام﷢ نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا۔ ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے اور اس وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جید اہل علم نے بدعات اور اس کے نقصانات سے روشناس کروانے کے لیے   اردو وعربی زبان میں متعدد چھوٹی بڑی کتب   لکھیں ہیں جن کے مطالعہ سے اہل اسلام اپنے دامن کو بدعات سے خرافات سے بچا سکتے ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’مروجہ بدعات‘‘ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ ابن باز﷫ کےرد بدعات کے موضوع پر ایک عربی کتابچہ التحذیر من البدع کا اردو ترجمہ ہے۔ شیخ﷫ نے اس کتابچہ میں نبی کریمﷺ کی ولادت کے سلسلے میں کی جانے بدعات، معراج کی رات خاص اہتمام کا حکم، شعبان کی پندرھویں رات کو لوگوں کا عبادت کے لیے اکٹھا ہونا، ایک جھوٹے وصیت نامے کی حقیقت جیسے موضوعات کا آیات قرآنی اوراحادیث نبویہ کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ثابت کیا کہ ان کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں یہ ساری بدعات ہیں جو گمراہی وضلالت پر مبنی ہیں۔شیخ ابن باز﷫ کے اس رسالے کا مختلف اہل علم نے ترجمہ کیا ہے۔ زیر تبصرہ ترجمہ شیخ الحدیث کرم الدین سلفی ﷫ کا ہے اللہ   تعالیٰ شیخ مرحوم اورمترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ آمین( م۔ا)

title-pages-allah-aur-uske-rasool-se-mohabbat-k-taqaze-copy
ابو تیمیہ ساجد الرحمن چوہدری

اس جہانِ رنگ و بو میں شیطان کے حملوں سے بچتے ہوئے شریعتِ الٰہیہ کے مطابق زندگی گزارنا ایک انتہائی دشوار امر ہے۔مگر اللہ ربّ العزت نے اس کو ہمارے لئے یوں آسان بنا دیا کہ ایمان کی محبت کو ہمارے دلوں میں جاگزیں کر دیا۔اسلام اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانے کا نام ہے اور اس ایمان کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ انسان کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبت ہو اللہ کی محبت ایسی محبت کہ اس کے ساتھ کوئی بڑ ے سے بڑ ا انسان بھی اس محبت میں شریک نہیں ہو سکتا۔اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے تقاضے "محترم ابو تیمیہ ساجد الرحمن چوہدری صاحب کی انگریزی تصنیف ہے، جس کا  اردو ترجمہ محترم ابو یحیی محمد زکریا زاہد صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں اللہ تعالی اور نبی کریم ﷺ سے محبت کے تقاضے بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم  کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں  اللہ تعالی اورآپ ﷺ سے محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

title-pages-allahu-akbar-copy
وحید الدین خاں

خدا کو پا لینا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے۔کوئی انسان جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لئے ایک ایسی زلزلہ خیز دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے۔وہ ایک نیا انسان بن  جاتا ہے۔اس کی سوچ نئے رخ پر چلنے لگتی ہے۔اس کا عمل کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔اس کی تمام کاروائیاں ایک ایسے انسان کی کاروائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا کو دیکھ لے، جو قیامت کی ترازو کھڑی ہونے سے پہلے اپنے آپ کو قیامت کی ترازو پر کھڑا محسوس کرنے لگے۔مومن اور غیر مومن کا فرق یہ ہے کہ غیر مومن پر جو کچھ قیامت میں گزرنے والا ہے، وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔غیر مومن جو کچھ آخرت میں دیکھے گا، وہ مومن اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔غیر مومن  کل کے دن جو کچھ مجبور ہو کر مانے گا اس کو مومن بندہ آج کے دن کسی مجبوری کے بغیر مان لیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اللہ اکبر، خدا کی خدائی کا نغمہ، خدا کی عظمت کا بیان"محترم مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں اللہ تعالی کی ذات کا تعارف قلم بند فرمایا ہے تاکہ انسان اللہ کی معرفت حاصل کر کے اس کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کر سکے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

pages-from-gunahon-ko-mitane-wale-aamaal
محمد ارشد کمال

انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق و مالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک   کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہو کر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتے ہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔ گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہو چکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلے جاتے ہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کو آواز دیتا ہے کہ: اے دنیا والو! ہے کوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرتِ انسان پر بہت بڑا احسان کیا کہ انسان سے سرزد ہونے والے گناہوں کی معافی کے لیے ایسے نیک اعمال کی کی ترغیب دلائی ہے کہ جس کے کرنے سےانسان کے زندگی بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں ان اعمال کی تفصیل موجود ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’گناہوں کو مٹانے والے اعمال‘‘ فاضل نوجوان متعدد کتب کے مصنف مولانا محمد ارشد کمال﷾ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے حسن کمال کے ساتھ کتاب وسنت کے بکھرے ہوئے حسین و جمیل پھولوں کو چن کر ایک ایک شاندار گلدستہ مرتب کردیا ہے۔ یہ کتاب گناہوں کو مٹانے والے اعمال کا شاندار خزینہ، عقیدہ وعمل کا آئینہ اور اخروی نجات کا دفینہ ہے اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اسے عوام الناس کے نفع بخش بنائے۔ آمین (م۔ا)

title-pages-ahle-sunnat-ka-manhaj-e-tamil-copy
ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے بعد ضروری ہے کے اللہ تعالیٰ کے دوستوں کے ساتھ محبت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ عداوت ونفرت قائم کی جائے چنانچہ عقیدہ اسلامیہ جن قواعد پر قائم ہے، اُن میں سے ایک عظیم الشان قاعدہ یہ ہے کے اس پاکیزہ عقیدے کو قبول کرنے والا ہر مسلمان اس عقیدے کے ماننے والوں سے دوستی اور نہ ماننے والوں سے عدوات رکھے۔اسلام میں دوستی اور دشمنی کی بڑی واضح علامات بیان کی گئی ہیں، ان علامات کو پیش نظر رکھ کر ہر شخص اپنے آپ کو تول سکتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام کی دوستی اور دشمنی کے معیار پر پورا اُتر رہا ہے۔ الولاء عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی دوست ،مدگار، حلیف کے ہیں۔ عقیدہ الولاء کی رو سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سےاس کےبعد رسول اکرمﷺ سے اور اس کے بعد تمام اہل ایمان سے محبت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔البراء بھی عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا یا دشمنی کا اظہار کرنایا کسی سے قطع تعلق کرنا ہے ۔عقیدہ البراء کی روہ سے اسلام دشمن کفار سے شدید نفرت اور بیزاری کااظہار کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور موقع ملنے پر ان کے خلاف جہاد کرنا ان کی قوت توڑنا او ران سے ظلم کا بدلہ لینا فرض ہے ۔شریعت ِاسلامیہ میں عقیدہ ’’الولاء والبراء‘‘ بہت اہمیت رکھتاہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کی کوئی ایک سورت بلکہ کوئی ایک صفحہ ایسا نہیں جس میں ’’ الولاء والبراء‘‘ کےبارے میں احکام نہ دئیے گئے ہوں یا کسی نہ کسی طرح ’’ الولاء والبراء‘‘کا تذکرہ نہ کیا گیا ہو۔قرآن مجید کی ابتداء سورۃ الفاتحہ سے ہوتی ہے جس میں صرف سات آیات ہیں لیکن اس میں سورۃ میں بھی ’’ولاء‘‘ اور ’’براء‘‘ کا مضمون بھر پور انداز میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اہل سنت کا منہج تعامل ‘‘ ڈاکٹر سیدشفیق الرحمٰن کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں نہایت ہی احتیاط اوراعتدال کے ساتھ امت کو جوکہ فرقہ پرستی کی آگ کے شعلہ جوالہ میں جل رہی ہے وحدت واتحاد کا جام شریں پیش کیا ہے ۔ اور خلاف شریعت کاموں پر اور نظریات پر جونفرت ہونی چاہیے اسے بھی روشناس کیا ہے۔اور بہت سےعلمی اور فکری فتنوں کا تذکرہ کر کے فکر صحابہ کو ہی صائب اوردرست قرار دیا ہے ۔یہ کتاب عقائد کا مختصر اورنہایت عمدہ مجموعہ ہے ۔یہ کتاب اپنے عام فہم اسلوب کی وجہ سے جہاں علماء وطلباء کے لیے مفید ہے وہاں عوام الناس کے لیے بھی اس پُرفتن دور میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔(م۔ا)

title-page-akhri-safar-ki-tayari-copy
ام عثمان

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔موت انسان کےاپنے اصل گھر کی طرف روانگی کی پہلی منزل ہے ۔ دنیا میں رہتے ایک اچھا مسلمان چاہتا کہ اس کاہر قول،عمل اور طرز زندگی اللہ کےحکم کےمطابق ہو اوررسول اللہ ﷺ کی سنت کےموافق ہو ۔ اسے کےچلے جانے کے بعد اس کےلواحقین کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ اس کی آخری رسومات بھی اسی طرح شرعی طریقے سے پوری کرنے کاحق ادا کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آخری سفر کی تیاری ‘‘ محترمہ ام عثمان صاحبہ کی کاوش ہے انہوں نے اس مختصر کتاب میں آسان فہم انداز میں احادیث کی روشنی میں وفات کےفوراً حاضرین کی ذمہ درایاں ،غسل میت کا طریقہ،کفن دینے کاطریقہ،غسل وکفن کے مراحل میں غیر مسنون افعال، جنازہ لے کر جانا، نماز جنازہ کاطریقہ ، میت کی مغفرت کے لیے مسنون دعائیں، تدفین، زیارت قبور، میت کو ثواب پہنچانے کے مسنون وغیر مسنون طریقوں کوبیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے لوگوں کےلیے نفع بخش بنائے اور تما م اہل اسلام کوخاتمہ بالایمان نصیب فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-yazeed-bin-muaawiah-par-ilzamaat-ka-tehqueequi-jaeza
ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

کسی بھی مسلمان کی عزت وآبرو کا دفاع کرنا انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ سیدنا ابو درداء﷜ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی عزت سے اس چیز کو دور کرے گا جو اسے عیب دار کرتی ہے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ کو دور کر دے گا۔ (ترمذی:1931)اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی بھی مسلمان کی عزت کا دفاع کرنا ایک مستحب اور بے حدپسندیدہ عمل ہے۔ اور اگر ایسی شخصیات کی عزتوں کا دفاع کیا جائے جو صاحب فضیلت ہوں تو اس عمل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ مثلا اگرکسی صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہےاور ان پر غلط الزامات لگائے جاتے ہیں تو ایسے صحابی کی عزت کادفاع کرنا بہت بڑی عبادت اور بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔ یزید بن معاویہؓ تابعین میں سے ہیں اور صحابی رسول سیدنا امیر معاویہ﷜ کے بیٹے ہیں۔ بعض روافض اور مکار سبائیوں نے ان پر بے شمار جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور ان کی عزت پر حملہ کیا ہے۔ ان کی عزت کا دفاع کرنا بھی اسی حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "یزید بن معاویہ﷜ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ" انڈیا کے معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ ابو فوزان کفایت اللہ سنابلی﷾ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے یزید بن معاویہ ؓپر کئے گئے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک علمی، تحقیقی اور منفرد وشاندار کتاب ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-islam-ki-amarat-ko-dha-dene-wale-dus-umoor-copy
شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

اسلام سے خارج کر دینے والے امور کو نواقض اسلام کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ باتیں جو آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہیں اور آدمی پر آگ واجب ہو جاتی ہے۔ ان کے پائے جانے کی صورت میں نماز، روزہ اور زکوٰۃ خیرات تو کیا حتیٰ کہ کلمہ بھی فائدہ نہیں دیتا.... تاآنکہ ان سے توبہ نہ کر لی جائے۔ کیونکہ نواقض اسلام ہیں ہی وہ باتیں ہیں جن کی سب سے پہلے کلمہ پر ہی زد پڑتی ہے۔چنانچہ ضروری ہے کہ آدمی کو نواقض اسلام بھی معلوم ہوں۔ کچھ بھی ہو جائے ایسی بات کے تو آدمی قریب تک نہ جائے جس سے اس کا کلمہ ہی ضائع ہو جائے اور یوں اس پر سے اللہ کی رحمت کا سایہ اٹھ جائے اور پھر وہ جتنے بھی اعمال کرے سب کے سب مقبولیت سے محروم رہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ اسلام کی عمارت کو ڈھا دینے والے دس امور (نواقض الاسلام) ‘‘شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ﷫ کا کتابچہ ہے اس میں انہو ں ایسے دس امور پیش کیے ہیں جن کا ارتکاب کر کے انسان دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔اگر انسان اسی حالت میں فوت ہوجائے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا۔اس لیے ہر مسلمان مرد وعورت پر لازم ہے کہ وہ اسلام کو ختم کرنے والے امور کو اچھی طرح جان لے ۔ایسا نہ ہوکہ کوئی مسلمان ان کفریہ امور کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے خبر بھی نہ ہو کہ یہ کفر ہے۔ایسے امور کو جاننے کےلیے اس کتاب کامطالعہ ضرور کریں۔(م۔ا)

title-pages-maqyas-e-haqiqat-bajwab-maqyas-e-hanfiyat--jadeed-audition--copy
حکیم محمد اشرف سندھو

مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک حقیقی دعوت پیش کرنےوالا مسلک ہے ۔ اہل حدیث کے لغوی معنی حدیث والے اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل ونہار،شب وروز،محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔گویامسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہےجو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ،جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد دو چيزوں قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"مقیاس حقیقت بجواب مقیاس حنفیت"محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے جوایک بریلوی عالم مولوی محمد عمر اچھروی کی کتاب "مقیاس حنفیت" کا کافی وشافی جواب ہے۔ مقیاس حنفیت کے مصنف مولوی اچھروی نے اپنی کتاب میں تاریخی غلط بیانی ، جعلسازی اور فریب کاری کے ایسے جوہر دکھائے ہیں کہ مسلمان توکیا اگر کوئی غیر مسلم ذی شعور بھی دیکھ پائے توحیران رہ جائے ۔کذب اور غلط بیانی پر مبنی اس کتاب کےبارے یو ں چیلنج کیا کہ :’’ایک ہزار روپے انعام اس شخص کودیا جائے گا جو اس کتاب کا ’’ مقیاس حنفیت‘‘ کا جواب نمبر وار پیش کر کے شائع کرے گا۔اور یک صد روپیہ ہر اس شخص کو دیا جائے گا جو اس کتاب کا ایک حوالہ غلط ثابت کردے او ر جتنے حوالے ثابت کر ے اتنے سو روپے انعام حاصل کرے‘‘(طبع ثالث ص64) مولوی عمر اچھروی نے اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی کتاب میں مسلک اہل حدیث کے خلاف نہایت گندی زبان اور حقارت آمیز رویہ استعمال کیا ہے جسے کتاب کے اندر جابجا ملاحظہ کیاجا سکتا ہے۔محترم حکیم محمد اشرف سندھو ﷫نے بھی رد عمل کے طور پربعض جگہوں پر سخت زبان کااستعمال کیا ہے۔ مصنف﷫نے اس کتاب میں بریلویوں کی طرف سے مسلک اہل حدیث پر لگائے گئے الزامات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ یہ مسلک اہل حدیث کے حوالے سےایک لاجواب اور قابل مطالعہ نایاب کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ یہ کتاب پہلے الگ الگ دوحصوں میں شائع ہوئی تھی۔زیر تبصرہ ایڈیشن میں دونوں حصوں کویکجا کردیا گیا ہے۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2373 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں