ڈاکٹر محمد قاسم

اللہ رب العزت نے دنیا ومافیہا کی رہنمائی کے لیے روز اول سے سلسلہ نبوت جاری کیا جس کی آخری کڑی ہمارے نبیﷺ ہیں جنہیں ایک عظیم الشان کتاب عطا فرمائی گئی۔ جسے ہم قرآن مجید فرقان حمید کے نام سے پڑھتے اور پڑھاتے ہیں اور اس کتاب کو سمجھنے سمجھانے کے لیے اس کی بیسیوں تفاسیر منظر عام پر آ چکی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری وساری ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی آخری پارے کی تفسیر پر مشتمل ہے  اور  اس میں قرآن مجید کی پندرہ سو آیات‘ صحیح احادیث نبویہ اور مستند تفسیروں سے مدد لی گئی ہے۔ آج کل لوگ عدیم الفرصت ہوگئے ہیں اور مطالعہ کتب کا ذوق بھی کافی کمزور پڑ گیا ہے اس لیے یہ ناممکن بات ہے کہ وہ آٹھ یا دس جلدوں پر مشتمل تفسیروں کا مطالعہ کریں اس لیے اسے نہایت اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کا اسلوب عام فہم  ہے اور اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اگرایک شخص روز صرف ایک گھنٹہ اس کا مطالعہ کرے تو دو ماہ میں پوری کتاب پڑھی جا سکتی ہے۔ اس میں تفسیر کرتے ہوئے تفسیر قرآن بالقرآن‘ اقوال صحابہ کی جستجو اور اقوال تابعین  کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ احسن الحدیث ‘‘ ڈاکٹر محمد قاسم کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

محسن فارانی

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم   کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں. حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے۔ اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے   جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب سیرت انسکائیکلوپیڈیا’’اللولؤ المکنون‘‘ 11جلدوں پر مشتمل اپنی نوعیت کا نہایت منور، منفرد اورممتاز علمی وتحقیقی وارمغانِ عقیدت ہے۔ یہ سیرت انسکائیکلوپیڈیا سیدالانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت مطہرہ پر بے مثالی علمی وتحقیقی ہدیہ عقیدت، رسول اللہ ﷺ کی قبل از پیدائش سے آپ ﷺ کی وفات تک کے مستند حالات وواقعات کا مکمل اور جامع تذکرہ، رنگین تصاویر، نقشوں، خاکوں، شجروں ور آیات سیرت پر مشتمل قرآنی خطاطی کا شاہکار۔ تاریخی واقعات اہم مقاما ت سے متعلق معلومات افزا حواشی رنیگین آرٹ پیپر اعلیٰ بیروتی طباعت اور خوبصورت آسان اور دلچسپ اندازِ بیان ہے۔’’اللؤلؤ المکنون‘‘کےمطالعے سےرسالت مآب ﷺکی مقدس زندگی کے ہر گوشے کےبارے میں علم وبصیرت کی بھر پور روشنی ملے گئی۔سیرت انسکائیکلو پیڈیا میں سیدنا محمد رسول اللہًﷺ کی پیدائش سےلے کر آپ کی وفات تک کےاحوال وآثار پوری جزئیات سمیت نہایت جامعیت سےپیش کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔دعوتِ اسلام سے پہلے جزیرہ نمائے عرب کے باشندوں، ان بودوباش ،سماجی رویوں اور جملہ خصائل کےعلاوہ ارد گرد کی اقوام کے حالات بھی بیان کیے گئے ہیں ۔تاکہ تاریخ انسانی کےسب سےعظیم اورسب سےروشن عہد کےآغاز کاپس منظر قارئین کے سامنے آجائے اور یہ حکمتِ الٰہی عیاں ہوجائے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت اوربعثت کے لیے جزیرہ نمائے عرب ہی کوخاص طور پر کیوں منتخب کیاگیا۔سیرت انسائیکلوپیڈیا میں نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ ترتیب زمانی کےمطابق مدون کی گئی ہے اورکوشش کی گئی ہے کہ یہ کتاب اسلوب اور تأثر کےاعتبار سےنبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کے مختلف مراحل اور حالات وواقعات کو ایک خاص معنویت کے ساتھ اجاگر کرے گی ۔ اس کا اسلوب بیان انتہائی سادہ آسان ،دلنشیں اور مدلل ہے۔ کتاب کےشروع میں ایک جامع مقدمہ رقم کیاگیا ہے جس میں سیرت کے موضوع اور اس کےخصوصی مطالعےکی اہمیت وضرورت کےاسباب بتائے گئےہیں۔ مختلف ادوار میں متداول کتبِ سیرت اور سیرت نگاروں کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ نیز مستشرقین اوران کے گرویدہ قلمی طائفے کاعلمی محاسبہ کیاگیا ہے۔ایک واقعے کی تمام روایات کو جمع کرنےکے بجائے مستند اورجامع روایت کا ذکر کیاگیا ہے۔البتہ جہاں روایت مختصر ہو وہاں متعددروایات کو حوالوں سمیت یکجا کردیا گیا ہے۔روایات کی اسناد ومتون کی صحت اور راویوں کے معتبر ہونے کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔ کوشش کی گئی ہےکہ وہی روایات لے جائیں جنہیں محدثین کرام نے سیرت طیبہ کے ضمن میں قابلِ اعتناسمجھا ہے اور جہاں خلا پُر کرنے کے پیش نظر ضعیف روایات کا تذکرہ ضروری سمجھا گیا ہے وہاں ان کا ضعف واضح کردیا گیا ہے۔ تمام جلدوں میں ہر باب سے پہلے اس باب کےموضوع کی مطابقت میں ایک آیت نہایت خوبصورت خطاطی کی شکل میں سجادی گئی ہےجو اس باب کے کلیدی خیال کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ قرآنی آیات اور عربی متون کو سرخ رنگ دے کر امتیازی حیثیت دی گئی ہے ۔متن کتاب میں مذکور مشکل الفاظ کی شرح ،غیر معروف مقامات کی وضاحت وتعین اور مختلف اعلام وقبائل کی تعریف مختصر حواشی میں کردی گئی ہے ۔یہ حواشی ہر جلد کے آخر میں حروف تہجی کے اعتبار سے مذکور ہیں۔اماکن کی تفہیم کےلیے نقشوں کا خاص اہتمام کیاگیا ہے۔ بعض مقامات کی تعین کے لیے خاکوں سے کام لیا گیا ہے۔ تحقیق وتخریج   کابڑا عمدہ اہتما م کیا گیا ہے۔ نقشوں اور خاکوں اورشجروں کی الگ فہرست بھی مرتب کردی گئی ہے۔ اس انسکائیکلوپیڈیا کی آخری جلد اشاریے پر مشتمل ہوگی جس میں قرآنی آیات، احادیث نبویہ ، اقوال ِصحابہ ،اشعار اور مضامین ،مکمل فہرستوں کے ساتھ اعلام، اماکن، قبائل، اور مذاہب وفِرق وغیرہ کی فہرستیں بہی بہ اعتبار حروف تہجی شامل ہوگی۔ اور اس آخری جلد میں سیرت انسکائیکلو پیڈیا کےمصادر و مراجع کی تفصیلی فہرست بھی ہوگی۔ ( ان شاء اللہ )سیرت انسائیکلوپیڈیا دارالسلام کی عظیم الشان پیشکش شاہکار ہے۔ جسے   دارالسلام کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی زیر قیادت ،دارالسلام کے ریسر چ سکالرز کی ٹیم نے بڑی محنتِ شاقہ اور جانفشانی سےتیار کیا ہے اوراس میں عالمی سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ﷫ کےعلاوہ نامور علمائے کرام کے مشورے وتجاویز میں شامل ہیں۔ مزید برآں محقق دوراں مولانا ارشاد الحق اثری﷾ کی تحقیق، تنقیح وتصحیح اوراسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن اور معروف مترجم مولانامحمد خالدسیف﷾ کی نظرثانی سے اس کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس انسائیکلوپیڈیا کی تیاری میں شامل تمام احباب کی محنتوں کو قبول فرمائے اورانہیں اجر عظیم سے نوازے۔ اور امت ِمسلمہ کو اس کتاب سے مستفید فرمائے۔ آمین( م۔ا)

محسن فارانی

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم   کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں. حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے۔ اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے   جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب سیرت انسکائیکلوپیڈیا’’اللولؤ المکنون‘‘ 11جلدوں پر مشتمل اپنی نوعیت کا نہایت منور، منفرد اورممتاز علمی وتحقیقی وارمغانِ عقیدت ہے۔ یہ سیرت انسکائیکلوپیڈیا سیدالانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت مطہرہ پر بے مثالی علمی وتحقیقی ہدیہ عقیدت، رسول اللہ ﷺ کی قبل از پیدائش سے آپ ﷺ کی وفات تک کے مستند حالات وواقعات کا مکمل اور جامع تذکرہ، رنگین تصاویر، نقشوں، خاکوں، شجروں ور آیات سیرت پر مشتمل قرآنی خطاطی کا شاہکار۔ تاریخی واقعات اہم مقاما ت سے متعلق معلومات افزا حواشی رنیگین آرٹ پیپر اعلیٰ بیروتی طباعت اور خوبصورت آسان اور دلچسپ اندازِ بیان ہے۔’’اللؤلؤ المکنون‘‘کےمطالعے سےرسالت مآب ﷺکی مقدس زندگی کے ہر گوشے کےبارے میں علم وبصیرت کی بھر پور روشنی ملے گئی۔سیرت انسکائیکلو پیڈیا میں سیدنا محمد رسول اللہًﷺ کی پیدائش سےلے کر آپ کی وفات تک کےاحوال وآثار پوری جزئیات سمیت نہایت جامعیت سےپیش کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔دعوتِ اسلام سے پہلے جزیرہ نمائے عرب کے باشندوں، ان بودوباش ،سماجی رویوں اور جملہ خصائل کےعلاوہ ارد گرد کی اقوام کے حالات بھی بیان کیے گئے ہیں ۔تاکہ تاریخ انسانی کےسب سےعظیم اورسب سےروشن عہد کےآغاز کاپس منظر قارئین کے سامنے آجائے اور یہ حکمتِ الٰہی عیاں ہوجائے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت اوربعثت کے لیے جزیرہ نمائے عرب ہی کوخاص طور پر کیوں منتخب کیاگیا۔سیرت انسائیکلوپیڈیا میں نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ ترتیب زمانی کےمطابق مدون کی گئی ہے اورکوشش کی گئی ہے کہ یہ کتاب اسلوب اور تأثر کےاعتبار سےنبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کے مختلف مراحل اور حالات وواقعات کو ایک خاص معنویت کے ساتھ اجاگر کرے گی ۔ اس کا اسلوب بیان انتہائی سادہ آسان ،دلنشیں اور مدلل ہے۔ کتاب کےشروع میں ایک جامع مقدمہ رقم کیاگیا ہے جس میں سیرت کے موضوع اور اس کےخصوصی مطالعےکی اہمیت وضرورت کےاسباب بتائے گئےہیں۔ مختلف ادوار میں متداول کتبِ سیرت اور سیرت نگاروں کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ نیز مستشرقین اوران کے گرویدہ قلمی طائفے کاعلمی محاسبہ کیاگیا ہے۔ایک واقعے کی تمام روایات کو جمع کرنےکے بجائے مستند اورجامع روایت کا ذکر کیاگیا ہے۔البتہ جہاں روایت مختصر ہو وہاں متعددروایات کو حوالوں سمیت یکجا کردیا گیا ہے۔روایات کی اسناد ومتون کی صحت اور راویوں کے معتبر ہونے کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔ کوشش کی گئی ہےکہ وہی روایات لے جائیں جنہیں محدثین کرام نے سیرت طیبہ کے ضمن میں قابلِ اعتناسمجھا ہے اور جہاں خلا پُر کرنے کے پیش نظر ضعیف روایات کا تذکرہ ضروری سمجھا گیا ہے وہاں ان کا ضعف واضح کردیا گیا ہے۔ تمام جلدوں میں ہر باب سے پہلے اس باب کےموضوع کی مطابقت میں ایک آیت نہایت خوبصورت خطاطی کی شکل میں سجادی گئی ہےجو اس باب کے کلیدی خیال کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ قرآنی آیات اور عربی متون کو سرخ رنگ دے کر امتیازی حیثیت دی گئی ہے ۔متن کتاب میں مذکور مشکل الفاظ کی شرح ،غیر معروف مقامات کی وضاحت وتعین اور مختلف اعلام وقبائل کی تعریف مختصر حواشی میں کردی گئی ہے ۔یہ حواشی ہر جلد کے آخر میں حروف تہجی کے اعتبار سے مذکور ہیں۔اماکن کی تفہیم کےلیے نقشوں کا خاص اہتمام کیاگیا ہے۔ بعض مقامات کی تعین کے لیے خاکوں سے کام لیا گیا ہے۔ تحقیق وتخریج   کابڑا عمدہ اہتما م کیا گیا ہے۔ نقشوں اور خاکوں اورشجروں کی الگ فہرست بھی مرتب کردی گئی ہے۔ اس انسکائیکلوپیڈیا کی آخری جلد اشاریے پر مشتمل ہوگی جس میں قرآنی آیات، احادیث نبویہ ، اقوال ِصحابہ ،اشعار اور مضامین ،مکمل فہرستوں کے ساتھ اعلام، اماکن، قبائل، اور مذاہب وفِرق وغیرہ کی فہرستیں بہی بہ اعتبار حروف تہجی شامل ہوگی۔ اور اس آخری جلد میں سیرت انسکائیکلو پیڈیا کےمصادر و مراجع کی تفصیلی فہرست بھی ہوگی۔ ( ان شاء اللہ )سیرت انسائیکلوپیڈیا دارالسلام کی عظیم الشان پیشکش شاہکار ہے۔ جسے   دارالسلام کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی زیر قیادت ،دارالسلام کے ریسر چ سکالرز کی ٹیم نے بڑی محنتِ شاقہ اور جانفشانی سےتیار کیا ہے اوراس میں عالمی سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ﷫ کےعلاوہ نامور علمائے کرام کے مشورے وتجاویز میں شامل ہیں۔ مزید برآں محقق دوراں مولانا ارشاد الحق اثری﷾ کی تحقیق، تنقیح وتصحیح اوراسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن اور معروف مترجم مولانامحمد خالدسیف﷾ کی نظرثانی سے اس کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس انسائیکلوپیڈیا کی تیاری میں شامل تمام احباب کی محنتوں کو قبول فرمائے اورانہیں اجر عظیم سے نوازے۔ اور امت ِمسلمہ کو اس کتاب سے مستفید فرمائے۔ آمین( م۔ا)

ڈاکٹر عبد الرزاق بن عبد المحسن البدر

سلف صالحین کے اصول عقیدہ میں سے ہے کہ دل سے پختہ تصدیق‘ زبان سے مکمل اقرار اور ارکان وجوارح کے ساتھ مکمل عمل کا نام ایمان ہے کہ جو اللہ عزوجل اور اس کے نبیﷺ کی مکمل اطاعت کے ساتھ بڑھتا ہے اور معصیت ونافرمانی کے ساتھ کم ہوتا ہے۔ایمان ایک ایسا جوہر ہے جو دل میں ایک وقار رکھتا ہو اور عمل  اس کی تصدیق کرے اور یہ کہ اللہ عزوجل کے احکام کی پیروی کرنے اور اس کے منع کردہ کاموں سے دُور رہنے کے نتیجہ میں ایمان کے ثمرات بالکل واضح ہو جائیں اور اگر علم ایمان‘ عمل سے متجرد ہو تو پھر اس کا کچھ فائدہ نہیں ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی اسی عظیم جوہر یعنی ایمان سے متعلق ہے۔ اس میں ایمان کے مفسدات اور ایمان کو بڑھانے والے اعمالِ صالحہ کو بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کو بڑے اختصار و ایجاز اور سلاست وروانی کے ساتھ عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں دو ابواب مرتب کیے گئے ہیں۔ پہلے میں ایمان میں اضافے کے اسباب اور دوسرے میں ایمان میں کمی کے اسباب کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ ایمان زیادتی اور کمی کے اسباب ‘‘ ڈاکٹر عبد الرزاق بن عبد المحسن البدر﷾  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

وہاب اشرفی

دین اسلام کی بنیاد وحی الٰہی پر قائم ہے اور اس کے سرمدی اصول غیر متبدل اور ناقابل تغیر ہیں۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ وحی الٰہی کی بنیاد پر ترتیب پانے والا معاشرہ نہ تو غیر مہذب ہوتا ہے اور نہ پسماندہ۔ مفکرین یورپ کو اس بات کی پریشانی رہتی ہے کہ وہ کونسی چیز ہو جس کی بنیاد پر مسلم معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا جائے۔ چنانچہ وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے نئی سے نئی تھیوری و فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ گذشتہ صدی ’’جدیدیت‘‘ کی صدی تھی۔ جدیدیت اصل میں ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کا نام ہے جو گزشتہ دو صدیوں کے یورپ میں ’’روایت پسندی‘‘ Traditionalism اور کلیسائی استبداد کے رد عمل میں پیدا ہوئیں اور ’’ما بعد جدیدیت‘‘ ان افکار کے مجموعے کا نام ہے جو جدیدیت کے بعد اور اکثر اس کے ردّ عمل میں ظہور پذیر ہوئے۔ ما بعد جدیدیت کے نظریہ کا گہرائی سے عام لوگوں کو اگرچہ علم نہیں ہوتا لیکن وہ محسوس و غیر محسوس طریقوں سے اپنی عملی زندگی اور روّیوں میں اس کے اثرات قبول کر لیتے ہیں۔ اس کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ افکار، نظریات، آفاقی صداقت، مقصدیت اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دلچسپی کو کم کر دیا جائے۔ اسلام کی نظر میں یہ خطرناک موڑ ہے کہ انسان اصول و مقاصد پر عدم یقینی کی کیفیت میں مبتلاء ہو جائے۔
زیر تبصرہ کتاب ’’ ما بعد جدیدیت مضمرات وممکنات‘‘ وہاب اشرفی صاحب کی کاوش ہے۔ جس میں ما بعد جدیدیت کے تشکیلی پہلو، مغربی مفکرین، نو آبادیات وپس نو آبادیات، تاریخیت اور نئی تاریخیت، تانیثیت، اردو شاعری، اردو فکشن، اردو ڈرامہ اور لوک ادب وغیرہ کو مفصل بیان کیا ہے۔ تا کہ ما بعد جدیدیت  کے مضمرات اور ممکنات کا احاطہ کیا جا سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(رفیق الرحمن)

ہارون معاویہ

اللہ رب العزت نے انسانوں اور ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے۔اور پیدا کرنے کے بعد شریعت محمدیہ نے امت محمدیہ کو ایک دوسرے کے حقوق وفرائض سے آگاہ بھی فرما دیا ہے۔ میاں بیوی کی خوشگوار زندگی بسر ہونے کے لیے جس طرح عورتوں کو مردوں کے جذبات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے‘ اسی طرح مردوں کو بھی لازم ہے کہ عورتوں کے جذبات کا خیال رکھیں‘ ورنہ جس طرح مرد کی ناراضگی سے عورت کی زندگی جہنم بن جاتی ہے اسی طرح عورت کی ناراضی سے مردوں کے لیے وبال جان ہو گی۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی خاص شوہر اور بیوی کی اصلاح کے لیے چند اہم نصائح پر مشتمل ہے کیونکہ ہمارے معاشرے کا بگاڑ ہی ازدواجی زندگی کا بگاڑ ہے اس لیے اس بگاڑ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ افراد کی ازدواجی زندگی کو سنوارا جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم سب ایک دوسرے کے حقوق کو پورا کریں گے۔اس کتاب میں بیوی کے حقوق کی وضاحت کے ساتھ ساتھ شوہر پر ان حقوق کو پورا کرنے کے لیے کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ یہ کتاب’’ بیوی کے حقوق اور شوہر کی ذمہ داریاں ‘‘ مولانا ہارون معاویہ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

حضور اکرمﷺ کی سیرت مبارکہ ایک ایسا وسیع وعمیق موضوع ہے کہ جس پر اس وقت سے ہی کام ہو رہا ہے جب سے انسانی شعور نے فہم ادراک کی بلندیوں کو چھوا ہے۔ نظم ہو یا نثر غرض ہر صنف ادب میں آقاﷺ کی شان اقدس میں ہر کسی نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق ذریعہ نجات سمجھتےہوئے اس سمندر کی غواصی ضرور کی ہے اور پھر یہی کہنا کافی ہے کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔‘‘۔ اور اگر کاغذ قلم اپنی وسعت کائنات ارضی وسماوی تک بھی پھیلا لیں تب بھی یہ کہنا روا نہ ہوگا کہ آقاﷺ کی حیات طیبہ کا مکمل احاطہ کر لیا گیا ہے۔اس کتاب سے قبل بہت سی کتب سیرت طیبہ پر تصنیف کی گئی ہیں لیکن زیرِ تبصرہ کتاب خاص طور نبیﷺ کی مکی زندگی کے حوالے سے  ہے۔ اس میں دس خطبات کو زیربحث لایا گیا ہے۔ پہلے خطبے میں مکی عہد نبوی کی تفہیم ونگارش مؤلفین سیرت کے عجزوقصور کے اسباب کو‘ دوسرے میں قبلِ بعثت مکی حیات طیبہ کی اہمیت تیسرے میں مکی عہد نبوی کے اہم ترین سنگ میل‘ چوتھے میں  مکی دلائل نبوت ومعجزات‘ پانچویں میں مکی دور میں دین وشریعت اسلامی کا ارتقاء‘ چھٹے میں اقتصادی ومعاشی زندگی‘ ساتویں میں مکی دور نبوی میں علوم اسلامی کا ارتقاء‘ آٹھویں میں مکی تہذیب وتمدن‘ نویں میں تعمیر وفن تعمیر اور دسویں میں مکی دور میں علوم وفنون کا ارتقاء بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ خطبات سر گودھا سیرت نبوی کا عہد مکی ‘‘ ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اورکتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

گریس ہال سیل

مغربی دنیا اب تک مختلف ذرائع سے سیاسی، سماجی ، فوجی اور اقتصادی سطح پر مسلمانوں پر حاوی رہی ہے۔ لیکن ایک طرف مسلمانوں میں بیداری پیدا ہونے کے بعد انھیں یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اگر عالم اسلام کو کچھ لائق اور ژرف نگاہ قائد میسر آگئے اور انھوں نے اپنی بکھری قوتوں کا استعمال کر نا سیکھ لیا تو وہ دن دور نہیں جب کہ مغرب کی قیادت کا طلسم چکناچور ہوکر بکھر جائے گا اور عالم اسلام قیادت و جہاں بانی کی نئی بلندیاں طے کرتا ہوا نظر آئے گا۔دوسری طرف اہل مغرب کو خود اپنے ملکوں میں پیر تلے زمین کھسکتی نظر آرہی ہے، مسلمان پورے اسلامی تشخص اور تہذیبی شناخت کے ساتھ ہر میدان میں پورے یورپ و امریکہ میں اپنا وجود تسلیم کرا رہے ہیں۔ جب کہ اسلام نے انسانیت کو عزت دی، مقامِ ممتاز پر فائز کیا، علم، اخلاق، کردار، حیا، تہذیب، شرم و مروت اور امن و عافیت کے جوہر سے آشنا کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انسانیت کی برہم زلفیں سنور گئیں۔ نصیبہ جاگ اٹھا، غیر انسانی رویوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ خیالات کی وادیاں گل زار ہوئیں۔اسلام نے انسان کو انسان بنایا۔ اس کی فکر کی اصلاح کی، عقیدہ وعمل میں سدھار پیدا کیا اور اسے بے راہ رو ہونے سے بچایا۔ جب کہ ادیانِ باطلہ اور تمدنِ جدید کے پجاریوں نے دنیا کو تباہی و بربادی سے دوچار کیا۔ انسانیت کی قبا تار تار کی۔

زیر تبصرہ کتاب ’’ عالم اسلام پر امریکی یلغار کیوں؟‘‘ ایک عیسائی مصنفہ گریس ہال سیل (امریکی صدرکی تقریر نویس)کے قلم سے متعدد متعصب عیسائی اور یہودی شخصیات سے ملاقات اور اسرائیل کا دو مرتبہ دورہ کرنے کے بعد لکھی ہے ۔اس کتاب کو اردو قالب میں جناب ذکی الدین شرفی صاحب نے ڈھالا ہے۔ اس کتاب میں یہودیت اور عیسائیت کے پروپگنڈوں کو مفصل بیان کرتے ہوئے ان کے حل کے لئے اہم تجاویز کو بیان کیا ہے۔ جس کی بنا پر عالم اسلام پر امریکی یلغارکو زیر کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفہ ومترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

ام عبد منیب

خاتم النبیین‘ رحمۃ للعالمین‘ صادق ومصدوق کا منصب جس طرح کائنات میں یکتا وبے مثال ہے‘ اسی طرح آپﷺ کی توصیف کی نمائندگی کرنے والی صنفِ نعت بھی اپنی جگہ منفرد اور ممیز ہے۔ یہ وہ صنف ہے جس کی حدودِ مسافت کے دو رویّہ انتہائی قابلِ احترام‘ صاحب ایمان‘ سراپا علم وعمل‘ محبت رسالت مآب کی خوشبو سے معطر‘ جان نثاری نبوت کے نخلِ عظیم ‘ بہ قامت مستقیم ایستادہ ہیں۔اور نبیﷺ کی سیرت اور مدح پر نبیﷺ کے بعد سے اب تک بہت سی کتب تصنیف کی گئی ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری رہے گا۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی خاص اسی موضوع پر ہے اس میں مؤلفہ نے شرک سے ‘نبیﷺ کے لیے اے اور یا کے لفظ سےاورجو اسمائے ضمیر ادب کے آڑے آ سکتے ہیں ان سے گریز کیا ہے اور اسم محترم محمدﷺ کی بجائے آپ کے القابات کا استعمال کیا گیا ہے۔اسی طرح باقی ایسے الفاظ اور القابات کے استعمال سے اجتناب کیا ہے جو ادب کے خلاف ہیں۔ یہ کتاب’’ مدح مزمل ‘‘ ام عبد منیب کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتی ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

وجود باری تعالی فلسفہ، سائنس اور مذہب تینوں کا موضوع رہا ہے۔ عام طور اصطلاح میں اُس علم کو الہیات (Theology) کا نام دیا جاتا ہےکہ جس میں خدا کے بارے بحث کی گئی ہو۔ اس کتاب میں ہم نے فلسفہ ومنطق، سائنس وکلام اور مذہب وروایت کی روشنی میں وجود باری تعالی کے بارے میں بحث کی ہے۔ وجود باری تعالی کے بارے بڑے نظریات (mega theories) چار ہیں۔ نظریہ فیض، نظریہ عرفان،نظریہ ارتقاء اور نظریہ تخلیق۔ یہ واضح رہے کہ چوتھے نقطہ نظر کو ہم محض اس کی تھیورائزیشن کے عمل کی وجہ سے تھیوری کہہ رہے ہیں کہ اب اس عنوان سے نیچرل اور سوشل سائنسز میں بہت سا علمی اور تحقیقی کام منظم اور مربوط نظریے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جبکہ حقیقت کے اعتبار سے یہ محض تھیوری نہیں بلکہ امر واقعی ہے۔ پہلا اور دوسرا نقطہ نظر فلاسفہ کا ہے کہ جو افلاطونی، نوافلاطونی، مشائین، اشراقین، عرفانیہ اور حکمت متعالیہ میں منقسم ہیں۔ افلاطونی اور مشائین کے علاوہ بقیہ کے ساتھ صوفی ہونے کا ٹیگ بھی لگا ہوا ہے دراں حالانکہ یہ صوفی کی بجائے دراصل افلاطونی، مشائی اور نوافلاطونی ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی گروہ وجود باری تعالی کے مسئلے میں متقدمین اور محققین صوفیاء پر اعتماد نہیں کر رہا بلکہ صحیح معنوں میں افلاطون (348-424 ق م)، ارسطو (348-424 ق م)اور فلاطینوس (205-270ء) کے رستے پر ہیں۔ تیسرا نقطہ نظر دہریوں اور منکرین خدا (Atheists) کا ہے کہ نیچرل سائنسز کے رستے ماہرین حیاتیات (Biologists) اور ماہرین طبیعیات (Physicists) کی ایک جماعت نے اس نظریے کو اختیار کیا ہے۔ وجود کے بارے یہ موقف نظریاتی فزکس اور نظریاتی بائیالوجی کے ماہرین کے ہاں معروف ہے۔ چوتھا نقطہ نظر صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ اربعہ، محدثین عظام، متقدمین صوفیاء اور متکلمین رحمہم اللہ کا ہے۔ دوسرے نقطہ نظر نے صرف خالق کے وجود کو حقیقت جبکہ تیسرے نے صرف مخلوق کو حقیقت جانا۔ اور پہلے اور چوتھے نقطہ نظر میں خالق اور مخلوق دونوں کا وجود الگ الگ حقیقت ہیں۔ اس کتاب میں تین ابواب میں تینوں مکاتب فکر کےچاروں نقطہ ہائے نظر کا عقلی ونقلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر وحید عشرت

۱۹۶۲ء کی بات ہے جب صدر محمد ایوب خان مرحوم نے مارشل لا ختم کرتے وقت نئے دستور کی تشکیل وترتیب کے کام کا آغاز کیا تھا اور پاکستان کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر کے اسے صرف ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی تھی تو دینی وعوامی حلقوں نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو یہ تجویز واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ میری عمر اس وقت چودہ برس تھی اور میں نے بھی بحمد اللہ تعالیٰ اس جدوجہد میں اس طور پر حصہ لیا تھا کہ اپنے آبائی قصبہ گکھڑ میں نظام العلماء پاکستان کی دستوری تجاویز پر لوگوں سے دستخط کرائے تھے اور اس مہم میں شریک ہوا تھا۔ تب سے اب تک ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا کارکن چلا آ رہا ہوں، ہر تحریک میں کسی نہ کسی سطح پر شریک رہا ہوں اور اب بھی حسب موقع اور حتی الوسع اس کا حصہ ہوں۔ کسی دینی جدوجہد کے نتائج وثمرات تک پہنچنا ہر کارکن کے لیے ضروری نہیں ہوتا، البتہ صحیح رخ پر محنت کرتے رہنا اس کی تگ ودو کا محور ضرور رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مرتے دم تک اس جادۂ مستقیم پر قائم رہنے کی توفیق سے نوازیں۔
زیر تبصرہ کتاب ’’ جمہوریت پاکستان میں‘‘ ڈاکٹر وحید عشرت صاحب کی کاوش ہے۔ جس میں جمہوریت کا معنیٰ و مفہوم بیان کرتے ہوئے پاکستان میں پائی جانے والی جمہوریت کی وضاحت کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو  عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

عبد المنان راسخ

اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جس نے امت کے علماء وخطباء اور واعظین  کو عوام الناس کی رشدورہنمائی کے لیے پیدا کیا اور وہ  ہمیشہ جانفشانی اور تندھی سے یہ فریضہ انجام دیا۔اس کٹھن راستے پر ان کو جو تکالیف ومصائب جھیلنا پڑے تو انہوں نے اسے بھی سنت انبیاء سمجھتے ہوئے خندۂ پیشانی سے برداشت کیا۔ یہ مبارک گروہ ان شاء اللہ‘ اللہ کے ہاں اجر عظیم حاصل کرے گا۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں مؤلف نے بڑی دردمندی اور جگر سوزی سے ہماری بعض کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے اور اس کی اصلاح بھی کی ہے۔ اس کتاب میں مولانا نے حکمت‘موعظہ حسنہ اور جدال بطریقہ حسنہ کا اسلوب مد نظر رکھا ہے۔ یہ کتاب حکمت کی عام فہم تشریح سمجھ داری اور عقلمندی سے کی جا سکتی ہے۔اور ہر بات کو دلائل و براہین کے ساتھ مزین کیا گیا ہے اور بات کو مثالوں اور واقعات سے مزید نکھارا بھی ہے۔ یہ کتاب’’ اصلاح کی راہیں ‘‘ مولانا عبد المنان راسخ﷾ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

حکیم محمد عبد اللہ

بیماری اور شفاء کا نظام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔وہ جسے چاہتا ہے بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے صحت جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرما دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی  اس نے بیماری کے وقت ادویات استعمال کرنے اور ظاہری اسباب کو بروئے کار لانے کی ترغیب دی ہے۔اللہ رب العزت نے دنیا میں کوئی بھی بیماری ایسی نازل نہیں فرمائی کہ جس کا علاج نہ ہو‘ ہماری اس علاج کے دریافت کرنے کی کوشش کم اور سست ہو سکتی ہے یا ممکن ہے کہ ہم اس کا علاج دیر سے دریافت کریں لیکن اللہ نے بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل کیا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  فن حکمت سے ذرا سی شدبد رکھنے والا شخص بھی اس کتاب کو ایک عزیز دوست کے طور پر پہچانتا ہے۔ استاذ الحکماء علم الامراض کی بے پناہ وسعتوں اور بہترین مجربات کی گہرائیوں کو انتہائی سلیس اور سادہ زبان میں اس طرح بیان کیا ہے جیسے کوزے میں دریا بند کر دیا ہو۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد بلامبالغہ لاکھوں افراد اپنا اور اپنے احباب کا علاج کر چکے ہیں اور ہزاروں افراد نے حکمت کو بطور پیشہ اختیار کیا ہے۔ اس گراں قدر تصنیف کی عزت افزائی کے طور پر اس کا ایک نسخہ لندن لائبریری نے محفوظ کر لیا ہے۔ طبیب حضرات، کم تعلیم یافتہ اصحاب، طبی امداد سے خالی دور دراز قریوں میں بسنے والے اور خانہ دار مستورات کے لیے یکساں مفید ہے۔ سر سے پائوں تک تمام امراض کی تشریح، اسباب، علامات اور مجرب المجرب نسخے۔ ہر حصہ اپنی جگہ ایک مکمل کتاب۔ کنزالمجربات 3 علیحدہ جلدوں اور یکجا مجلد بھی دستیاب ہے۔ جلد اول ۵۳۹ نسخہ جات، جلد دوم ۳۶۳ نسخہ جات جلد سوم ۵۷۸ نسخہ جات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب’’ کنز المجربات ‘‘ حکیم محمد عبد اللہ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ای وون یازبک حداد

اسلام خدا کی طرف سے آخری دین اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے اور آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کو امن اور سکون کی دولت عطا کرتے ہوئے دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخروی نجات کا باعث بن سکتا ہے ۔ اسلام وہ دین یا نظام حیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام خدا کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کی جائے۔ اُس وحی خداوندی کی روشنی میں فطرت کی قوتوں کو مسخر کرتے ہوئے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لایا جائے۔اُس ضابطہ حیات پر کامل ایمان لاتے ہوئے قوانینِ خداوندی کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرنے کا نام اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے جو نظام اور قانون دیا ہے اس کا نام اسلام ہے۔ اس نظام زندگی کی رہنمائی انبیا اکرام کی صورت میں جاری رہی اور حضور پاک ﷺ پر یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔

زیر تبصرہ کتاب ’’ شمالی امریکہ کے مسلمان‘‘ ای وون یازبک حدّاد اور جین آئیڈلمین اسمتھ کی کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ شاہ محی الحق فاروقی نے کیا ہے۔ جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے بڑے بڑے شہری مراکز میں اسلامی آبادیوں کی پچّی کاری کو بیان کیا ہے۔اور شہری پس منظر میں نسلی آبادیوں پر پردہ چاک کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مترجم کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

محمد عظیم حاصلپوری

اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کو باقی تمام امت پر فضیلت دیتے ہوئے ہمیں تمام رسل سے افضل نبی سے نوازا اور ایسانبی جو نہایت شفیق اور رحمت کا پیکر  ہے اور انسانوں  کے لیے رحمت تو ہے ہی لیکن انسانون کے علاوہ حیوانوں کے لیے بلکہ ساری کائنات کے لیے رحمت وشفقت کی عظیم مثال تھا۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں   نبیﷺ کی رحمتیں‘ شفقتیں جو انسانوں‘ حیوانوں اور دیگر مخلوقات پر تھی ان کا ایک خاکہ پیش کیا گیا ہے تاکہ آپ کی بلند عظمت کا ہر کوئی اعتراف کر کے آپ ہی کی غلامی پر مجبور ہواور آپﷺ کی سچی تابعداری اختیار کر کے فوزوفلاح حاصل کر سکے۔ اس کتاب میں  سب سے پہلے امت کے لیے شفقتوں کا بیان ہے پھر کمزوروں  اور مسکینوں پر شفقتوں کا‘ غلاموں پر شفقتوں کا‘یتیموں پر شفقتوں کا‘بچوں پر شفقتوں کا‘ خواتین پر شفقتوں کا‘ جانوروں پر شفقتوں کا اور آخر میں غیروں پر شفقتوں کا بیان ہے۔کتاب کو حوالہ جات کے ساتھ مزین کیا گیا ہے حوالے میں مصدر کا نام اور کتاب کا نام لکھ کر حدیث کا نمبر دے دیا جاتا ہے۔ یہ کتاب’’ شفقتیں میرے حضور کی ‘‘ الشیخ محمد عظیم حاصل پوری کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

حکیم محمد عبد اللہ

بیماری اور شفاء کا نظام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔وہ جسے چاہتا ہے بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے صحت جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرما دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی  اس نے بیماری کے وقت ادویات استعمال کرنے اور ظاہری اسباب کو بروئے کار لانے کی ترغیب دی ہے۔اللہ رب العزت نے دنیا میں کوئی بھی بیماری ایسی نازل نہیں فرمائی کہ جس کا علاج نہ ہو‘ ہماری اس علاج کے دریافت کرنے کی کوشش کم اور سست ہو سکتی ہے یا ممکن ہے کہ ہم اس کا علاج دیر سے دریافت کریں لیکن اللہ نے بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل کیا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  فن حکمت سے ذرا سی شدبد رکھنے والا شخص بھی اس کتاب کو ایک عزیز دوست کے طور پر پہچانتا ہے۔ استاذ الحکماء علم الامراض کی بے پناہ وسعتوں اور بہترین مجربات کی گہرائیوں کو انتہائی سلیس اور سادہ زبان میں اس طرح بیان کیا ہے جیسے کوزے میں دریا بند کر دیا ہو۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد بلامبالغہ لاکھوں افراد اپنا اور اپنے احباب کا علاج کر چکے ہیں اور ہزاروں افراد نے حکمت کو بطور پیشہ اختیار کیا ہے۔ اس گراں قدر تصنیف کی عزت افزائی کے طور پر اس کا ایک نسخہ لندن لائبریری نے محفوظ کر لیا ہے۔ طبیب حضرات، کم تعلیم یافتہ اصحاب، طبی امداد سے خالی دور دراز قریوں میں بسنے والے اور خانہ دار مستورات کے لیے یکساں مفید ہے۔ سر سے پائوں تک تمام امراض کی تشریح، اسباب، علامات اور مجرب المجرب نسخے۔ ہر حصہ اپنی جگہ ایک مکمل کتاب۔ کنزالمجربات 3 علیحدہ جلدوں اور یکجا مجلد بھی دستیاب ہے۔ جلد اول ۵۳۹ نسخہ جات، جلد دوم ۳۶۳ نسخہ جات جلد سوم ۵۷۸ نسخہ جات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب’’ کنز المجربات ‘‘ حکیم محمد عبد اللہ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

الزبتھ لیاگن

جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ جب ہم دنیا کے موجودہ معاشی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی منظرنامہ پر نظر ڈالتے اور پھر پیچھے مڑ کر اپنے ماضی کی تاریخ میں جھانکتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُسلوبِ حیات میں غیر معمولی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ ایسے تغیرات مسلسل رونما ہورہے ہیں جن کا قبل ازیں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا تھا۔ ابلاغِ عامہ اور ترسیل معلومات کے ایسے ایسے ذرائع اور وسائل ایجاد ہو رہے ہیں جن سے ہماری گذشتہ نسلوں کو سابقہ پیش نہیں آیا۔امت مسلمہ آج سے ایک سو سال قبل جس نو آبادیاتی نظام میں جکڑی،بے بسی اور بے چارگی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔عالم کفر کی اس منہ زور یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی حکمت ِ عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہم خود اسی تکنیکی مہارت سے آراستہ ہو کر اپنی تہذیب و ثقافت کے توانا پہلوؤں کو دنیا کے سامنے نہیں لاتے۔

زیر تبصرہ کتاب ’’ طاقت اور مفادات کا عالمی کھیل‘‘ الزبتھ لیاگن کی تالیف ہے جس کا اردو ترجمہ محب الحق صاحبزادہ نے کیا ہے۔ جس میں بہت سے مغربی مفکرین، پالیسی سازوں، حکومتی اہلکاروں، خفیہ ایجنسیوں کے ذمہ داران کی تحریر و تقریر اور سرکاری اجلاسوں کے نوٹس سے سینکڑوں ایسے اقتباسات پیش کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مترجم کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

محمد اسحاق بھٹی

برصغیر پاک وہند میں مسلک صحابہ کرام اور تابعین عظام اور ان کے پیروکاروں کے مسلک کی ترویج واشاعت میں فحول علماء نے بڑی محنت اور کوشش کیں۔ اس راہ میں انہیں مالی اور بدنی مصائب سہنے پڑے۔ اُن پاک باز ہستیوں نے اپنے اپنے دور میں اشاعت اسلام کی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ یہ ہمارے محسن اور شکریے کے لائق ہیں۔ بیسویں سن عیسوی کے ممتاز علمائے اہل حق میں شیخ الحدیث حضرت مولانا ابو الطیب محمد عطاء اللہ حنیف کا اس گرامی نمایاں نظر آتا ہے۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  مولانا عطاء اللہ حنیف کے احوال وکوائف بیان کیے گئے ہیں۔ مصنف کا بے مثال حافظہ ہے کہ جو انہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے کے واقعات اور احوال وکوائف اور ان کی جزئیات تک اس میں بیان کی ہیں۔اور اس میں انداز بیان بھی دلچسپ ہے کہ آدمی اس کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ اور اس میں دی گئی تفصیلات اگرچہ اوراق پارینہ ہیں لیکن قاری کے لیے اوراق تارزہ ہی ہیں۔ یہ کتاب’’ استاد گرامی مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ‘‘ مولانا محمد اسحاق بھٹی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1860 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :