title-pages-asmane-ilam-k-drkhashinda-satare-copy
سید نظر زیدی

مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء  اور نامور شخصیات نے اس فریضے کی ترویج کی۔  زیرِ تبصرہ کتاب چند عظیم شخصیات کے تعارف  وحالات زندگی پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں چودہ نامور شخصیات کو ذکر کیا گیا ہے۔ ان شخصیات کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کے عہد کی تاریخ کو بھی کسی حد تک بیان کیا گیا ہے اور ان کے کارناموں کابھی ذکر ہے۔ کتاب کا اسلوب اور زبان سلیس تو ہے مگر اس میں تاریخی کتب کے حوالے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا  جسے ہم اس کتاب کا نقص کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب’’ آسمان علم کے درخشندہ ستارے ‘‘ ڈاکٹر سعید الرحمان بن نور حبیب کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-nabi-kareem-saww--k-aziz-w-aqarab-copy
محمد اشرف شریف

سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نبی کریم ﷺ کے عزیز و اقارب‘‘ محمد اشرف شریف،ڈاکٹر اشتیاق احمددونوں مصنفین نے انتہائی محنت اور دل لگی سے یہ کتاب لکھی ہے۔ جس میں نبیﷺ کے آباؤ اجداد سے لے کر ننھیال، سسرال اورآل اولاد تک کا تعارف عقیدت بھرے دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔مزید یہ کتاب مستقبل کے مؤرخین اور محققین کے علاوہ عام مسلمانوں کے لیے انتہائی مفیدہو گی۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

pages-from-tarakki-ka-islami-tasawwar
محمد عمر چھاپرا

سلام کا راستہ اعتدال اور میانہ روی کا راستہ ہے۔ وہ انسان کا مادی و عقلی ارتقاء بھی چاہتا ہے۔ اخلاقی بلندی بھی چاہتا ہے اور روحانی پاکیزگی بھی۔ موجودہ زمانے کے نظریات نے انسان کو سمجھنے میں ایک بنیادی غلطی کی ہے۔ وہ انسان کو صرف ایک مادی اور عقلی وجود سمجھتا ہے۔ بندر کے بچے سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ بندر کا صرف مادی وجود ہوگا۔ ڈارون کا بندر صرف مادی وجود ہی تو رکھ سکتا ہے۔ اس کم خیالی، کم نگاہی اور مشاہدے کی کمی کو کیا کہیے گا۔کیا آپ سکونِ قلب نہیں چاہتے؟ کیا آپ اپنے آس پاس امن کی پاسداری اور قانون کی بالا دستی نہیں چاہتے؟ کیا آپ اپنے ماں باپ سے محبت نہیں کرتے؟ کیا اپنی بہنوں کا احترام نہیں کرتے؟ کیا اپنے چھوٹوں کی بھلائی نہیں چاہتے؟ کیا آپ کا دل انسانوں کی مجبوریوں، اور مریضوں کی کراہوں پر نہیں تڑپتا؟ کیا اچھے اور نیک خیالات آنے پر آپ خوش نہیں ہوتے؟جی ہاں آپ ایک اخلاقی وجود ہیں، اور آپ کی روح نیکیوں سے خوش اور بالیدہ ہوتی ہے۔ اسلام نے جتنا زور انسان کے مادی اور عقلی وجود پر دیا ہے اتنا ہی زور یا اس سے زیادہ اخلاقی و روحانی وجود پر دیا ہے۔ اسی لئے اسلام ایک ہمہ جہت، ہمہ پہلو Development کا تصور رکھتا ہے۔ زیر تبصر ہ کتاب "ترقی کا اسلامی تصور، مقاصد شریعت کی روشنی میں" محترم محمد عمر چھاپرہ اسلامی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، جدہ، سعودی عرب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مقاصد شریعت کی روشنی میں ترقی کے اسلامی تصور کا جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول و منطور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-azwaj-al-anmbiya--muhammad-hussain--copy
محمد حسین محوی

اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا اور کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو ہر دور کی ضرورت کے مطابق شریعت دے کر بھیجا اور ہر نبی کا بنیادی موضوع توحید کا پرچار تھا۔  انبیاء کے حالات سے آگاہی بہت بڑا علمی فائدہ ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب انبیاء کرامؑ کی ازواج کا تذکرہ کیا گیا ہے جس میں نبیوں کی بیویوں کے حالات واخلاق کو بیان کیا گیا ہے تاکہ پڑھنے کے بعد ان سےنیک  سبق حاصل کیا جائے۔ ان میں سے بہت سےازواج نے غیر حق کے مقابلہ میں اپنی صداقت کے آگے بادشاہوں کے جبر اور اپنی جان کا خوف نہیں کیا اور بڑی جرات سے کام لیا نیز اپنے شوہروں کی فرمانبرداری اور ایمانداری کا پورا ثبوت دیا ہے۔  اس کتاب کو پڑھ کر ہمیں ایک عمدہ سبق ملے گا اور ہم اپنی روز مرہ زندگی کے اہم مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ اس کتاب کی زبان نہایت سلیس اور اسلوب نہایت عمدہ اپنایا گیا ہے۔ حوالہ جات کا اہتمام تو کیا گیا ہے مگر کہیں کہیں حوالے ناقص بھی ہیں۔  یہ کتاب’’ ازواج الانبیاء ‘‘ مولی محمد حسین محوی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-madina-munawarah-k-saat-jaleelul-qadar-faqaha-copy
قاری عبد الرحمن

علمائے اسلام نے دین اور کتاب و سنت کی حفاظت و صیانت کے لئے ابتداء میں فن اسماء الرجال سے کام لیا۔ آگے چل کر اس فن میں بڑی وسعت پیدا ہوئی جس کے نتبجہ میں سلف اور خلف کے درمیان واسطۃ العقد کی حیثیت سے طبقات و تراجم کا فن وجود میں آیااور ہر دور میں بے شمار علماء، فقہاء، محدثین، اور ہر علم و فن اور ہر طبقہ کے ارباب فضل و کمال کے حالات زندگی اور دینی و علمی کارناموں سے مسلمانوں کو استفادہ کا موقع ملا۔ اور اس کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر علماء نے بہت سے بلاد و امصار کی تاریخ مرتب کر کے وہاں کے علماء و مشائخ کے حالات بیان کئے۔ اس سلسلہ الذہب کی بدولت آج تک اسلاف و اخلاف میں نہ ٹوٹنے والا رابطہ قائم و دائم ہے۔ زیر نظر کتاب’’مدینہ منورہ کے سات جلیل القدر فقہاء‘‘ قاری عبد الرحمن کی ہے۔ جس میں جس میں اسلامی فقہ کی ابتدائی تاریخ و ترویج کی تفصیل،فقہائے سبعہ (سعید ابن المسیب، قاسم ابن محمد، عروہ ابن زبیر، عبید اللہ ابن عبداللہ، ابو بکر ابن عبد الرحمٰن، خارجہ ابن زید، سلیمان ابن یسار) کےحالات و اقعات، کارناموں اور فقہی کاوشوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں عامۃ المسلمین کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس لئے علمی اور فقہی مسائل و مباحث سے تعریض نہیں کیا گیاہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس کتاب کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور مؤلف و ناشر کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

pages-from-shehad-aur-kalwanji
حکیم راحت نسیم سوہدروی

ایمان و یقین کے بعد صحت و عافیت قدرت کا سب سے بڑا انعام ہے۔ اس کائنات میں فطرت نے اس صحت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت سے نباتاتی، حیوانی اور معدنی خزائن عطا کر رکھے ہیں۔ بسا اوقات ہمیں ان نباتاتی خزانوں کا علم و ادراک نہ ہونے کے باعث، ان کی حقیقی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں ہوتاہے۔ حکمائے قدیم اور اطبائے جدید نے انسانی صحت کے لیے ان نباتات کے استعمال پر مسلسل غور و فکر اور تحقیق و تفتیش سے کام لیا ہے۔ اسی طرح شہد بھی دنیا کی قدیم ترین غذاؤں اور دواؤں میں سے ہے۔ ہزاروں سال قبل غاروں میں رہنے والے اپنی غذا میں جنگلی پھلوں کے ساتھ شہد استعمال کرتے تھے۔ چین اور دیگر ممالک کی قدیم کتب میں شہد کو اکسیر اعظم قرار دیا گیا ہے اور جدید تحقیقات نے بھی اس پر مہر ثبت کر دی ہے کہ شہد میں کسی قسم کے جراثیم زندہ نہیں رہ سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نعمت عظمیٰ کے ذریعے انسان کی دوائی و غذائی کفالت کر دی ہے اور اس کی بشارت آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل رسول اکرم ﷺ کے ذریعے"شفاء للناس" کے عنوان سے کر دی تھی، اور اسی طرح کلونجی کے متعلق بھی آپﷺ کا ارشاد ہے کہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔ زیر نظر کتاب"شہد اور کلونجی" حکیم راحت نسیم سوہدری کی ایک شاہکار طبی تصنیف ہے۔ فاضل مصنف طبی دنیا کی ایک معروف شخصیت ہیں۔ موصوف نے اپنی تصنیف میں شہد اور کلونجی کے فوائد اور مختلف امراض میں ان سے علاج و معالجہ کا طریقہ بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے۔ آمین(عمیر)

title-pages-aslaf-k-sunehre-aqwal-copy
محمد اویس سرور

تجربہ انسان کا ایسا ساتھی ہے جو اسے اس وقت ملتا ہے جب وہ بہت کچھ کھو چکا ہوتا ہے اور اس کے پاس ان تجربوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تھوڑی سے فرصت باقی رہ جاتی ہے۔ جوں جوں انسان کی عمر بڑھتی ہے اس کے تجربات بھی بڑھتے رہتے ہیں۔ فطرت کا مشاہدہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے تجربات اس کی اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے ہوتے ہیں۔ اس لیے عقل مند قومیں ہمیشہ اپنے بزرگوں کے تجربات‘ مشاہدات اور آراء سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور انہیں ساتھ لے کر زندگی گزارتی ہیں۔ بزرگوں کے اقوال وتجربات نوجوانوں کے افکار بناتے ہیں اور یہ افکار تخلیق کی جڑ قرار دیئے گئے ہیں۔ ۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اس میں نبیﷺ کے ساتھ ساتھ‘ نبیﷺ کے اصحاب‘ ائمہ دین‘ صوفیا‘ عظام‘ علماء کرام اور اہل علم ودانش میں سے کچھ مایۂ ناز شخصیات کے اقوال کو جمع کیا گیا ہے۔  مصنف نے اختصار کے ساتھ جامع مفاہیم پر مشتمل اقوال کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور ہر قول کو تاریخ وسیر اور حدیث کی معتبر کتابوں سے نقل کیا گیا ہے اور مکمل حوالہ بھی دیا گیا ہے تاکہ ان کی استنادی حیثیت باقی رہے اور پڑھنے والوں کو کامل تشفی حاصل ہو۔ اس میں جمع کردہ اقوال: عقائد وعبادات‘ معاملات ومعاشرت‘ اصلاح وتصوف‘ اخلاق حسنہ کے فضائل اور اخلاق سیئہ کے رذائل وغیرہ کے موضوعات پر مشتمل ہیں۔ ۔ یہ کتاب’’ اسلاف کے سنہرے اقوال ‘‘ مولانا محمد اویس سرور کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-khutbat-e-anbiya-copy
سید اسعد گیلانی

خالق کائنات نے زمین پر انسان کو پیدا کرنے کے بعد ایسے ہی نہی چھوڑ دیا بلکہ اس کی راہ نمائی اور ہدایت کا سامان مہیا کیا۔ اور اسے اپنی مرضی سے آگاہ کرنے کے لیے رسولوں اور نبیوں کا سلسلہ جاری کیا۔ تمام رسول مختلف قوموں اور زمین کے خطوں میں بندگی رب کی ایک ہی دعوت لے کر آتے رہےاور ان کی دعوت ان کا کردار اور طریق کار تقریبا ہر دور اور ہر انسانی معاشرے میں یکساں ہی رہا ہے۔ جس کی پوری تصویر قرآن پاک کی مختلف آیات میں بکھری پڑی ہے۔ اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات انبیاءؐ‘‘اسعد علی گیلانی کی ہے۔ جس میں قرآن مجید کے بیان کردہ انبیاء کی دعوتی تقاریر کو مربوط اور یک جا کر دیا گیا ہے، تا کہ تاثر کی یکسانی سے دعوت فکر اور دعوت حق کی حقانیت کا اظہا رہو۔اور انبیاء کی مستند تقاریر کو دعوتی مراحل اور زمانی ترتیب کا لحاظ کرتے ہوئے مربوط کیا گیا ہے۔ تا کہ وحدثِ تاثر قائم رہے یہ تقاریر صرف قرآن مجید سے ہی اخذ کی گئی ہیں اور بہت ہی کم بائبل اور توریت سےبھی استفادہ کیا گیا ہے تا کہ ان کی تقاریر کو پڑھنے سے قاری کو محسوس ہو کہ بیشتر قوموں نے انبیاء کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کا درد ناک انجام ہوا۔گویا کہ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ تمام انبیاء کی یکساں دعوت بیک وقت لوگوں کے سامنے آ جائے۔ اور انبیاء کی تقریروں کی روشنی میں اسلام کی تعلیمات اب قیامت تک کے لیے انسانوں کی راہ نما ہیں ۔ آخر میں ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

pages-from-ghamdi-nazriat-ka-tehqeequi-o-tanqueedi-jaeza
ڈاکٹر محمد قاسم

موجودہ زمانہ مُہیب وتاریک فتنوں کا زمانہ ہے۔ اگر یہ فتنے کفر والحاد کے لباس میں ہوتے تو ان سے بچنا کم از کم اُس مسلمان کے لیے ایک درجے میں آسان تھا جو اپنی دینی اور ایمانی روایات سے عمل کی کمی بیشی کے باوجود شعوری یا غیر شعوری طور پر وابستہ ہے۔ لیکن یہ فتنے شیطان کے مزین کردہ پردوں میں ظاہر ہو رہے ہیں‘ ایک مسلمان قرآن وسنت کا مطالعہ کرنے والا‘ اسلامی روایات کا حامل‘ مسلم معاشرے کا فرد‘ مسلمانوں کی صفوں میں شامل‘ دینی اجتماعات کا مقرر‘ یکاک اُس کے فکر ونظر میں زبردست تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں تو وہ راہ راست سے ہٹ جاتا ہے اور غلط افکار کی نشریات میں محو مصروف ہو جاتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص ایسے افکار جو قرآن وسنت کے برعکس کی تردید اور وضاحت پر لکھی گئی ہے۔ اس میں غامدی صاحب کے غلط نظریات اور افکار کی قرآن وسنت سے تردید کی گئی ہے اور اس کے اسقام ومعائب کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اور غامدیت کی اصلیت‘ مقاصد واہداف‘ انحرافات‘ اس کے طبعی نتائج واثرات‘ دائرہ کار‘ مآخذ اور سرچشموں پر سیر حاصل اور مدلل بحث کی گئی ہے نیز آسان‘ سہل اور قابل فہم اسلوب میں اس کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ مزید اس کتاب میں سات ابواب قائم کیے گئے ہیں‘ پہلے میں اسلام میں عقیدۂ رسالت کی مرکزیت کو‘ دوسرے میں انکارِ رسالت پر کفر لازم آنے کی توضیحات کو‘ تیسرے میں اسلام عرب ادیان پر غالب ہونے کے لیے آیا ہے یا تمام دنیا کے ادیان پر کو‘ چوتھے میں احادیث نبویﷺ کی تشریعی حیثیت کو‘ پانچویں میں حدیث سے قرآنی حکم کی تخصیص ہو سکتی ہے یا نہیں کو‘ چھٹے میں عورتوں کے حجاب کے بارے میں اور ساتویں باب میں داڑھی کے مسئلے کو مکمل تفصیل کے ساتھ اور مدلل گفتگو کی گئی ہے۔ یہ کتاب ’’غامدی نظریات کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ‘‘ ڈاکٹر محمد قاسم﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-azeem-musalman-danishwar-copy
محمد عبد الرحمن سابق پرنسپل عثمانیہ یونیورسٹی

سائنس کی تنظیم و تٰرقی کی تاریخ ایک مثبت اور باقاعدہ علم ہے۔ ایسے مثبت علم کی تحصیل میں انسان کی مساعی سے ہر وقت اضافہ ہی ہوتا آ رہا ہے۔ کار ہائے صناعی و فنون لطیفہ کا مطالعہ ہم ان اقوام کی ذہنیت سے واقف کراتا ہے جو ان کے بانی ہیں۔اقوام عالم کے ادیان و مذاہب کے ارتقاء کی جانچ بھی انسان کے لیے نہایت ضروری مشغلہ ہے۔ حال تک لوگ سائنس کو دینیات ہی کا ایک جزو تصور کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عظیم مسلمان دانشور‘‘مولوی عبد الرحمٰن (صدر حیدر آباد اکیڈمی، سابق پرنسپل عثمانیہ یونیورسٹی کالج) کی ہے۔ جس میں 1950ء میں قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کی علمی خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔مزیدساتویں صدی عیسوی سے لے کر تیرہویں صدی عیسوی تک تمام سائنسی ادوار، شخصیات اور علمی خدمات کو انتہائی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔یہ کتاب علمی لحاظ سے انتہائی مفید ہےجس کے مطالعہ سے ہمارے دلوں میں جذبات پیدا ہوں گے کہ ہم بھی اپنے سابقہ عظیم شخصیات کی طرح نئے نئے کام سر انجام دیں۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

title-pages-zindagi-aur-waqat-copy
ابو محمد عزیر یونس السلفی المدنی

ہم سب اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ وقت ہی زندگی ہے اور زندگی ہی وقت ہے ۔ اور ان دونوں کا عطا کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالى ہے۔فرمان باری تعالى ہے: ﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ﴿٢﴾...الملك یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہےاور وہ غالب بخشنے والا ہے۔ لہذا ہم سب اپنے انمول بیش قیمت اوقات کو ضائع کرکے اپنی زندگی ضائع نہ کریں۔اور یہ قطعی طور پر جان لیں کہ یہ زندگی ہمارے پاس اللہ کی طرف سے امانت ہے۔ ہمیں جس طرح امانت میں بغیر اس کے مالک کی اجازت کے کوئی تصرف کرنے کا حق نہیں حاصل ہوتا ہے ۔اسی طرح ہمیں اپنی زندگی میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ہے کہ ہم جس طرح چاہیں اپنی زندگی گذاریں ۔ لہذا ہمیں اسی طرح اپنی زندگی گذارنی ہے جس طرح اللہ ارو اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’زندگی اور وقت‘‘ابو محمد عزیز یونس السلفی المدنی کی ہے۔ جس میں وقت کی اہمیت ، اقسام اور اس کے متعلقہ مسائل کو قرآن و سنت ،اقوال صحابہ اور اقوال تابعین و تبع تابعین کی روشنی میں بیان کیا گیا ہےنیز وقت کی اہمیت کے پیشِ نظر عربی اشعار کو بھی قلمبند کیا گیا ہے۔آخر میں ضیاع وقت کے اسباب کو بیان کرتے ہوئے اصلاحی پہلوؤں کو عیاں کیا گیا ہے۔لہذا ہر ایک مسلمان کے لئے اس کا مطالعہ بہت ضروری ہے تا کہ وقت کی اہمیت کو جان کر وقت کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور وقت کو کارآمد بنایا جائے اور اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے مستحق بن جائیں۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

pages-from-seear-e-ansar-part-2
سعید انصاری

اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو چند ساتھی دیے جنہیں حواری کے لفظ سے جانا جاتا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ساتھیوں کو صحابہ کے نام سے۔ ہر نبی کے ساتھیوں کو اتنی عظیمت وشان حاصل نہیں ہے جتنی کہ نبیﷺ کے صحابہؓ   کو حاصل ہے اور پھر آگے صحابہ کرامؓ میں سے بھی کچھ صحابہ فضائل میں دوسروں کی نسبت عظمت والے ہیں اور ہمارے اسلاف کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کے صحابہ کےحالات زندگی محفوظ کیے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتا ب میں مولوی سعید صاحب انصاری ﷾نے انصار صحابہ کے حالات وسوانح‘ اور ان کے علمی‘ مذہبی‘ اخلاقی اور سیاسی کارناموں کی پوری تفصیل بیان کی ہے کیونکہ صحابہؓ کی مقدس صف میں انصار کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے اس لیے انصاری صحابہ کے حالات بیان کیے گئے ہیں اور نام حروف تہجی کے اعتبار سے بیان کیے گئے ہیں۔اور ان کے اسماء کی تفصیل سے پہلے انصار قبیلے کانسب اور تاریخ وغیرہ کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے اور یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں مستند کتابوں سے حوالے بھی دیے گئے ہیں اور اس کی ترتیب عمدہ دی گئی ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے کوئی شخص اُکتاہٹ یا تنگی محسوس نہیں کر سکتا۔ یہ کتاب ’’سیر انصار‘‘ مولانا سعید صاحت انصاری﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-husne-khatima-copy
ڈاکٹر عبید الرحمن محسن

اس زندگی میں ہر شخص اپنے فائدے کےلیے تگ و دو کرتا ہے، اپنے معاملات سنوارنے اور ذرائع معاش کے لیے کوشش کرتا ہے، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دین اور دنیا دونوں کو سنوارتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے دنیا میں خیر سے نوازا اور آخرت میں بھی ان کیلیے خیر و بھلائی ہے، نیز انہیں آگ کے عذاب سے بھی تحفظ دیا ۔جبکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو دنیا کیلیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں لیکن آخرت کو بھول جاتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو گل چھرّے اڑاتے ہیں اور ڈنگروں کی طرح کھاتے ہیں ، ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔موت اس دھرتی پر تمام مخلوقات کا آخری انجام ہے، اس دنیا میں ہر ذی روح چیز کی انتہا موت ہے، اللہ تعالی نے موت فرشتوں پر بھی لکھ دی ہے چاہے وہ جبریل، میکائیل، اور اسرافیل علیہم السلام ہی کیوں نہ ہوں، حتی کہ ملک الموت بھی موت کے منہ میں چلے جائیں گے اور تمام فرشتے لقمۂ اجل بن جائیں گے،موت دنیاوی زندگی کی انتہا اور اخروی زندگی کی ابتدا ہے،موت کے ساتھ ہی دنیاوی آسائشیں ختم ہو جاتی ہیں اور میت مرنے کے بعد یا تو عظیم نعمتیں دیکھتی ہے یا پھر درد ناک عذاب ۔ زیر تبصرہ ’’حسن خاتمہ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمٰن محسن صاحب کی ہے۔جس میں حسن خاتمہ کا معنی و مفہوم ، اہمیت اور حسن خاتمہ کے پانچ اسباب کو اجاگر کیا گیا ہے مزیداس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہو گا کہ زندگی کا حسین خاتمہ کیوں ضروری ہے؟ اس کا حصول کیسے ممکن ہے؟ حسن خاتمہ کی علامات کیا ہیں؟ اور ان تمام سوالوں کے جامع اور مختصر جوابات بھی دئیے گے ہیں ۔اس کتاب کے آخر میں حسن خاتمہ کے متعلق مسنون دعائیں ذکر کی گئی ہیں۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

title-pages-jhote-nabi-copy
ابو القاسم رفیق دلاوری

اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپﷺ کو کامل واکمل شریعت دے کر مبعوث فرمایا اور ایسی شریعت جو قیامت تک کے لیے ہے کیونکہ نبیﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آنا اور نبوت کا سلسلہ نبیﷺ پر آ کر ختم ہو گیا ہے لیکن  نبیﷺ نے اپنی زندگی میں ہی یہ پشین گوئی فرما دی تھی کہ میرے بعد کچھ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے بھی ہوں گے ۔ زیرِ تبصرہ کتاب خاص انہی لوگوں پر تصنیف کی گئی ہے جنہوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ اس کتاب میں ستر کے قریب لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور ان کے نبوت کے دعویٰ کی وجوہات اور ان کے حالات وغیرہ کو تفصیلاً ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کی ترتیب نہایت عمدہ ہے اور اسلوب بھی دلکش ہے اس کے مطالعے سے بوریت کا احساس نہیں ہوتا۔ اور حوالہ جات دیے تو گئے ہیں مگر ناقص حوالہ جات ہیں یعنی صرف اصل مصدر کا نام ذکر کیا گیا ہے ان کی جلد اور صفحہ نمبر کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ یہ کتاب’’ جھوٹے نبی ‘‘ ابو القاسم رفیق دلاوری کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-seear-e-ansar-part-1
سعید انصاری

اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو چند ساتھی دیے جنہیں حواری کے لفظ سے جانا جاتا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ساتھیوں کو صحابہ کے نام سے۔ ہر نبی کے ساتھیوں کو اتنی عظیمت وشان حاصل نہیں ہے جتنی کہ نبیﷺ کے صحابہؓ   کو حاصل ہے اور پھر آگے صحابہ کرامؓ میں سے بھی کچھ صحابہ فضائل میں دوسروں کی نسبت عظمت والے ہیں اور ہمارے اسلاف کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کے صحابہ کےحالات زندگی محفوظ کیے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتا ب میں مولوی سعید صاحب انصاری ﷾نے انصار صحابہ کے حالات وسوانح‘ اور ان کے علمی‘ مذہبی‘ اخلاقی اور سیاسی کارناموں کی پوری تفصیل بیان کی ہے کیونکہ صحابہؓ کی مقدس صف میں انصار کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے اس لیے انصاری صحابہ کے حالات بیان کیے گئے ہیں اور نام حروف تہجی کے اعتبار سے بیان کیے گئے ہیں۔اور ان کے اسماء کی تفصیل سے پہلے انصار قبیلے کانسب اور تاریخ وغیرہ کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے اور یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں مستند کتابوں سے حوالے بھی دیے گئے ہیں اور اس کی ترتیب عمدہ دی گئی ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے کوئی شخص اُکتاہٹ یا تنگی محسوس نہیں کر سکتا۔ یہ کتاب ’’سیر انصار‘‘ مولانا سعید صاحت انصاری﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-ashabe-rasool-k-iman-afroz-waqiyat-copy
خالد سراج

جب عالم دنیا میں ہر طرف شرک و کفر کی آوازیں ہر جگہ سے شروع ہوگئیں اور پوری دنیا میں بت پرستی جیسی بدترین لعنت نے دنیا والوں کو اپنے اندھیروں میں چھپالیا، انسان ذات نے اپنے کریم رب کی بندگی چھوڑدی اور درندوں جیسی زندگی گذارنے کا آغاز کردیا، جہالت اور گمراہی کی وجہ سے اپنے خدا کے رشتوں کو بھلادیا اس وقتآخری پیغمبر و ہادی بناکر دنیا میں انسان ذات کی رہنمائی کے لیے پیدا فرمایا اور نبی  کو چند ساتھی دیے جنہوں نے کما حقہ نبیﷺ کی تعلیمات کو اپنایا اور عوام الناس تک دین کو پہنچانے کا سبب بنے اور اپنی عملی زندگی سے انہوں نے عوام کے لیے سبق آموز واقعات چھوڑے۔۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی   خاص انہی واقعات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں کبار صحابہ کرامؓ کے ایمان کو بڑھانے والے واقعات کا ذکر ہے‘ تاریخ وسیر کی کتب سے استفادہ کر کے اسے تصنیف کیا گیا ہے۔ حوالہ جات میں حوالہ دینے کا کوئی خاص اہتمام نہیں ہے ‘ ایک واقعہ بیان کرنے کے بعد اگلے واقعے کو بیان کر دیا گیا ہے جب کہ حوالہ نہیں دیا گیا  اور کسی ایک آدھے کا حوالہ فٹ نوٹ میں  دیا تو ہے مگر وہ بھی ناقص حوالہ ہے۔ واقعہ بیان کرنے سے پہلے مناسب عنوان بھی دیا گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں اس موضوع پر دیگر کتب کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ رہبر تحقیق ‘‘ ڈاکٹر سعید الرحمان بن نور حبیب کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-ilam-jarah-w-tadeel-copy
ڈاکٹر سہیل حسن

پچھلی صدی میں جدید تعلیم یافتہ طبقے میں سے بعض افراد کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث ہم تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی ہیں۔ اس غلط فہمی کے پھیلنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کو پھیلانے والے حضرات اعلی تعلیم یافتہ اور دور جدید کے اسلوب بیان سے اچھی طرح واقف تھے۔ اہل علم نے اس نظریے کی تردید میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں جو اپنی جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔ جن میں سے ایک امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی "نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر" ہے۔ اس کے برعکس دور جدید ہی کے ایک عرب عالم ڈاکٹر محمود طحان کی کتاب "تیسیر مصطلح الحدیث" پہلے ہی دور جدید کے اسلوب میں لکھی گئی ہے۔ ایسے ہی زیر تبصرہ کتاب ’’علم جرح و تعدیل‘‘ ڈاکٹر سہیل حسن کی ہے جس میں یہ غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی گئی ہےکہ یہ علم (جرح و تعدیل) انتہائی ٹوس بنیادوں پر قائم ہے، صرف سنی سنائی باتوں پر حکم نہیں لگایا گیا، بلکہ اس فن میں علمائے جرح و تعدیل، راویان حدیث کی تمام روایات کا بغور مطالعہ اور پرکھنے کے بعد کوئی رائے قائم کرتے ہیں۔اور اس کتاب علم جرح و تعدیل کے بارے میں تمام مباحث جمع کر دی  گئی ہیں۔ امید ہے یہ کتاب طلباء اور ریسرچ کرنے والے کے لئے انتہائی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم  مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

pages-from-manno-ka-qanoon-aur-islami-qanoon
سید عبد القیوم جالندھری

اسلام ایک مکمل اور ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی کی ہے اور ہر معاملے میں واضح نص نہ بھی ہو تو ایک اصول اور قانون ضرور دیا گیا ہے اور اس اصول اور قانون سے پھر زیرِ بحث آنے والے مسائل کو اجتہاد سے حل کیا جا سکتا ہے۔ اسلام سے محبت کرنے والے ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شب وروز قرآن وسنت اور اسلام کی دی گئی تعلیمات کے مطابق بسر کرے۔ دنیاوی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو اسے قرآن وسنت کے سانچےمیں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسلامی قوانین کو مد نظر رکھ کر زندگی بسر کی جاتی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے مخالفین نے کچھ ایسے قانون بنائے جو سر سر اسلام کے مخالف ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں ایسے قوانین کو بیان کیا گیا ہے جو اسلام کے مخالف ہیں اور ان کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ خاص کر اس کتاب میں قوم ہنود کے بادشاہ منو نے اُس قوم کے لیے جو قوانین واضح کیے تھے جو کہ اس قوم کی تہذیب وعقائد تھے ‘ منو کے قانون کے چند احکام کا اسلام کی تہذیب کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے تو مؤلف نے یہ ثابت کیا ہے کہ منو کے قانون عقل وعدل اور انسانی فطرت کے موافق نہیں اور لغو ہیں۔ جبکہ اسلامی تہذیب وعقائد اور قانون عقل وعدل اور انسانی فطرت کے موافق ہیں۔ اس کتاب میں منو کے قانون اور اسلام کے قوانین میں بہت سارے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور ہندو قوم کی تاریخ‘ تہذیب ‘ عقائد اور ان کے عہدکا تجزیہ بھی لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں قرآنی آیات کا حوالہ ساتھ ساتھ اور دیگر کتب کا حوالہ فٹ نوٹ میں دینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں کتب حدیث اور کتب تفاسیر سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ اس کا اسلوب عام فہم اور اس کی ترتیب بھی عمدہ ہے۔ یہ کتاب’مفتی سید عبد القیوم جالندھری‘ کی کاوش ہے جو کہ تحقیق وتصنیف میں بلند پایہ مقام رکھتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 356 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :