title-pages-wajood-e-hasti-aur-tasawwure-touheed-copy
بدیع الزماں سید نورسی ترکی

اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنا مخلوق کا سب سے ارفع مقصد جبکہ اُس ذات باری تعالیٰ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ علم رکھنا انسانیت کا اعلیٰ ترین مقصد ہے۔ جنوں اور انسانوں کے لیے حقیقی خوشی‘ اللہ کی محبت اور عرفانِ الٰہی میں مضمر ہے۔ انسان کی سچی روحانی خوشی اور قلب انسانی کی تابندگی اللہ جل شانہ کی محبت میں پنہاں ہے تمام سچی خوشیاں اور حقیقی مسرت اللہ جل شانہ کی محبت بھری عنایتیں اللہ کی محبت اور معرفت الٰہی کے طفیل ہیں۔ وہ جو صحیح علم رکھتے ہیں اور حق تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں وہی لافانی خوشی بے پایاں عنایت‘ ہدایت ربانی اور اس سے وابستہ اسرار ورموز کا بھید پا سکتے ہیں اور وہ جو ایسا نہیں کرتے‘ روحانی وجسمانی آزار‘ رنج والم اور خوف میں مبتلا کر دیئے جاتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے  جس میں اللہ رب العزت کے تعارف سے لے کر ان کی ذات سے متعلقہ تمام اشکالات اور باطل عقائد کا رد کیا گیا ہے۔اور تصور توحید کو عیاں کرنے اور عوام الناس کے سامنے صحیح اور درست عقیدہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں لوگوں کے ذہنوں اور دلوں سے جمع شدہ جھوٹے اعتقادات اور نظریات  کی تلچھٹ کو دور کرنے اور انہیں شعوری اور روحانی طور پر پاک کرنے کی سعی کی گئی ہے اور انداز تحریر نہ تو عالمانہ ہے اور صحافانہ بلکہ احساسات کے ذریعے اصلاح کی گئی ہے۔ اور حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ عکس وجود باری تعالیٰ ‘‘ بدیع الزمان سید نورسی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-daie-haqq-ka-pegham-ahle-islam-k-naam-copy
عبد الرشید انصاری

خاتم الانبیاءﷺ کی بعثت کا مقصد دنیا بھر میں دین حق کو تمام دینوں پر غالب کرنا  تھا اور کتاب ہدیٰ یا دین حق سے مراد دینِ اسلام ہے اور یہی اسلام عند اللہ محبوب اور مقصود ہے۔ اور دین اسلام صرف قرآن وحدیث میں بند ہے اور کتاب وسنت کے سوا کسی بھی دوسری چیز کو ماننے یا عمل کرنے سے خالق کائنات نے منع فرمایا ہے اور یہی دو اصول ہیں جن کی پیروی ہر مسلمان اور ذی شعور انسان کے لیے لازمی ہے اور نبیﷺ کے بعد علماء ہی اس دین حق کے وارث ہیں کہ وہ دین کو لوگوں تک پہنچائیں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دیں اور اسلام کی اصل صورت عوام کے سامنے پیش کریں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں مصنف نے دین کے اصل تصور اور اس کی اصل شکل کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے اور  عوام کے باطل عقائد واعتراضات کا لکھ کر نوٹس کے ذریعے جواب دیا گیا مگر معترض راہ فرار اختیار کرتا رہا ان سب نوٹس کو جمع کیا گیا ہے اور  دعوت دینے کی اہمیت اور فرضیت کو کتاب وسنت کے دلائل کے ذریعہ بیان کیا ہے۔ کتاب کو حوالہ جات سے مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ داعی حق کا پیغام اہل اسلام کے نام ‘‘ عبد الرشید انصاری کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-hasool-e-ilm-key-zraaye
ام عمیر سلفی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے بنی انسان کو ایک خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا‘ اور اسے اس مقصد کے حصول کے لیے وافر علم وفہم سے بھی نوازا اور توفیق خیر سے سر فراز فرمایا ہے‘ وہ لوگ انتہائی سعادت مند اور خوش بخت ہیں جو اپنے اس عظیم الشان مقصدِ تخلیق سے واقف اور اس کے حصول کے لیے مصروف عمل ہیں اور ان سے بھی بڑھ کر سعادت مند ہیں وہ لوگ جو خود بھی صراطِ مستقیم پر گامزن ہیں اور اپنے دیگر ابناءِ جنس کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلنے کی تگ ودو کرتے ہیں‘ دعوت الی اللہ کا عظیم الشان فریضہ انبیاء ورسل کا وظیفہ ہے اور اصلاح معاشرہ کا بہترین طریق کار ہے۔معاشرے کی تمام تر فلاح وبہبود کا دار ومدار اسی فریضہ پر ہے۔ زیر نظر کتاب’’ حصول علم کے ذرائع ‘‘ مؤلفہ نے اسی جذبہ خیر خواہی اور اصلاح معاشرہ کا فریضہ سر انجام دینے کے لیے تالیف کی ہے جس میں بنیادی چیز علم پر توجہ مرکوز رکھی ہے اور تقلید وجامد کے بارے میں مناسب گفتگو کی ہے۔ علم کے فضائل‘ حصول علم کے ذرائع‘ طلبِ علم کے آداب وغیرہ سمجھنے کے لیے یہ کتاب نہایت عمدہ اور قابل قدر ہے جس میں مصنفہ کے جذبہ اخلاص کی جھلک نظر آتی ہے۔ اور کتاب وسنت کے دلائل اور سلف صالحین کے مبارک طرز عمل سے استدلال کرتے ہوئے بہت ہی مفید علم صفحہ قرطاس کی زینت بنایا ہے۔ صحیح بخاری کے مکمل کتاب العلم کو مختلف ابواب کے تحت انتہائی جامعیت‘ اختصار‘سادگی اور سہل الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔مؤلفہ نے اس کتاب کو نہایت احسن انداز سے مرتب کیا ہے اور یہ کتاب چھ فصول پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں نہایت عمدہ واقعات درج کر کے سلف کے شوق علم اور ذوق تخلیق کا بڑا دل نشین نقشہ کھینچا ہے۔یہ کتاب’’ حصول علم کے ذرائع ‘‘ معلمہ ام عمیر سلفی﷾ کی تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-hadya-tu-al-muslimeen--izafa-shuda-audition--copy
حافظ زبیر علی زئی

نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے جس کے تارک کے بارے میں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: (بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاۃ) ‘‘شرک و کفر اور آدمی کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے(صحیح مسلم:82) اور علمائے اسلام نے بھی اس رکن کے تارک کو ملت اسلامیہ سے خارج سمجھا ہے۔اس گئے گزرے دو رمیں جبکہ بدعات و خرافات او رباطل عقائد رواج پاچکے ہیں او ران نظریات کی زد سے نماز جیسی عبادت بھی نہ بچ  سکی۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا (صلوا کما رأیتمونی اصلی) (صحیح بخاری:631) ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔‘‘اب ہر مکتبہ فکر اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ا س کی بیان کردہ نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہے اور ہر گروہ  کی نماز کا ذریعہ اخبار اقوال و افعال رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کو ثابت کرنے کے لیے ہم تک پہنچنے والی مختلف خبریں  ہی  اس اختلاف کی وجہ ہیں۔ لہٰذا ان اخبار  کی استنادی حالت جانچنے کے لیے علم اسماء الرجال پر عبور حاصل کرنا او رمحدثین کے اصولوں پر ہر خبر کو پرکھ کر اس پر عمل کرنا اختلافات کے خاتمے کے لئے از بس ضروری ہے۔ لیکن آج ہمیں جو نماز کے مختلف  ایڈیشن نظر آتے ہیں  افسوس کہ لوگ محدثین کے اخبار کو لینے کے معیارات کو استعمال نہیں کرتے اور اپنے اپنے مسلک کے نماز کے ایڈیشن کو ثابت کرنے کے لیے  معیار تحقیق سے گری پڑی روایات کو بھی اپنی دلیل بنا کر پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔  زیر نظر کتاب محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی مرتبہ ہے۔  حافظ صاحب عہد حاضر کے ایک کہنہ مشق محقق ہیں اور اسماء الرجال پر  ان کی بہت گہری نگاہ ہے۔ مذکورہ کتاب میں وضو اور نماز کا طریقہ اور اس سے متعلقہ مسائل جو اللہ کے رسولﷺ سے ثابت تمام افعال و اقوال بیان کردیئے ہیں اور محقق فاضل نے ہر  دلیل کو اسماء الرجال کے فن پر پرکھتے ہوئے اس کی تخریج او رحکم کے ساتھ نشاندہی بھی کردی ہے۔ حدیث کی وضاحت اور مسائل  کے استنباط کے علاوہ قاری کے ذہن میں معاشرے میں گردش کرنے والی نماز کی جزئیات سے متعلق متضاد اخبار  و مسائل کا تجزیہ بھی کردیا گیا ہے۔ ہر حدیث کی استنادی حالت اپنے حوالوں کے ساتھ درج ہے۔ جس کی وجہ سے اس تحریر پر اعتماد بڑھ جاتا ہے ۔ لہٰذا ان تمام خوبیوں کی وجہ سے یہ کتاب لائق مطالعہ ہے۔(ک۔ط)

title-pages-nabi-e-rehmat-ki-ratain-copy
عمر فاروق قدوسی

اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کی رہنمائی کے لیے انہی میں سے ایک نبی کومبعوث فرمایا جن کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے اور اس بات کا اعلان خود اللہ رب العزت نے سورۃ الممتحنہ میں فرمایا۔ اللہ کے نبیﷺ نے ہمیں زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ رہنمائی دی وہ شعبہ چاہے معاشی ہو‘ سیاسی ہو یا معاشرتی۔اسلام کا حسن ہے کہ اس نے جزئیات میں بھی انسانیت کے راہنمائی فرمائی ہے۔ لوگوں کو شتر بے مہار نہیں چھوڑا۔ انہیں امن وسکون اور ترتیب وتنظیم سے زندگی گزارنے کے لیے بعض قواعد وضوابط کا پابند ٹھہرایا۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہےجس میں ان ہی قواعد وضوابط کا بیان ہے جن پر چل کر ایک معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اس میں سونے جاگنے اور نیند سے متعلقہ احکام ومسائل کا احادیث صحیحہ کی روشنی میں بیان ہے۔ سونے کے آداب‘ سوتے وقت کے اذکار‘ رات کو بیداری‘ نماز تہجد وغیرہ عنوانات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔نبیﷺ کی راتوں کا بیان اس کتاب کا خاص موضوع ہے اسی مناسبت سے نبیﷺ کے خوابوں‘جہادی اسفار‘ ان واقعات کا بیان جن میں نبیﷺ بے ہوش ہوئے‘ گھریلو زندگی سے بعض نورانی راتوں کا بیان ہے اور ہر بات کو صحیح احادیث سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ نبی رحمتﷺ کی راتیں ‘‘ عمر فاروق قدوسی﷾ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-hurmat-e-rasool-saw-aur-azadi-e-raaye
رانا محمد شفیق خاں پسروری

ہم پر اللہ رب العزت ٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘پیارے نبی‘رسول رحمتﷺ کی ذاتِ مقدسہ ومبارکہ فضیلت وشوکت کے اعلیٰ ترین مقام ومرتبہ پر ہے۔ساری عزتیں ان کی عزت وتوقیر کے سائے میں رکھ دی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کےذکر کو رفعت واشرافیت کی انتہاؤں سے نوازا ہے اور حدِ ادراک سے وسیع وسعتوں سے ہم کنار کیا ہے۔اس موضوع پر جن سیرت نگار وں نے بہت عمدہ لکھا ہے ان میں سے ایک زیرِ تبصرہ کتاب کے مؤلف بھی ہیں۔ اُن کی یہ کتاب اُن کے ایسے کالموں اور مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں مغربی ممالک کی طرف سے ہادی عالم اور محسن کائنات کی شان میں کی جانے والی گستاخیوں کے جواب میں اور ان کے متعلق تحریر کئے ہیں۔ اس کتاب میں توہین رسالت ایکٹ سے لے کر مغربی ممالک میں ہلاس فیمی کے موجود قوانین کا جائزہ اور اُن کا تجزیہ کیا گیا ہے‘ اور توہین رسالت کے خوفناک انجام اور عواقب سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اور اس کے علاوہ بیش بہا معلومات کا بھی ذخیرہ ہے اور قارئین کے لیے ایک تحفے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور یہ کتاب’’حرمت رسول اور آزادی رائے‘‘ مولانا رانا محمد شفیق خان پسروری﷾ کی تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے۔ آپ﷾ خط وکتابت کے ساتھ ساتھ خطیب‘ صحافی اور کالم نگار بھی ہیں۔عام معلوماتی کالموں کے علاوہ دینی موضوعات پر بھی ان کے کالم’’روز نامہ پاکستان‘‘ میں باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف ﷾کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-majmoua-fatawa-abdul-rehman-mubarikpuri-copy
حافظ شاہد محمود

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے اور ان پر مختلف شریعتیں نازل فرمائیں۔ انسانیت کی رشدوہدایت کے لیے ہر شریعت اپنے دور کے اعتبار سے بہترین تھی مگر در اصل یہ اسلام کے تدریجی مراحل تھے۔ پھر آخر میں رسولِ رحمت مبعوث ہوئے تو اسلام اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو کر تکمیل کے مراحل بھی طے کر گیا  اور دین اسلام مکمل ضابطۂ حیات بھی ہے اور دین نے ہر معاملے میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور ہمیں اصول دے دیے گئے ہیں اور ان اصولوں کو پیش نظر رکھ کر علماء نے دیگر مسائل زندگی کو اخذ کیا اور سوال وجواب کی صورت میں اپںے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے جس میں مختلف فتاوٰی جات کو جمع کیا گیا ہے اور یہ کتاب  علامہ محمد عبد الرحمان مبارک پوری کی  ہے جن کا شمار برصغیر کے ان اکابر علماء ومحدثین میں ہوتا ہے جنہوں نے ساری زندگی توحید وسنت کی اشاعت میں بسر کی اور اس سلسلے میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ مولانا مرحوم نے زیادہ تر اپنی توجہ کا مرکز تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کا بنایا اور اس میدان میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑے کہ آج تک عرب وعجم کے طلباء وعلما ان کے اثرات وثمرات سے اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مخلصانہ خدمات کو اس قدر مبارک بنایا کہ تلامذہ کی کثیر تعداد ہے جو ان سے مستفید ہوئی اور ان کی مجتہدانہ بصیرت اور تفقہ فی الدین سے کیا عرب اور کیا عجم‘ ہر طرف آج تک لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ اس کتاب میں مصنف سے ملک کے اطراف واکناف سے آنے والے استفسارات کو ترتیب دیا گیا ہے اور پھر ان فتاویٰ جات کو فقہی ترتیب سے مرتب کیا گیا ہے اور ہر فتوی کی ایک کیٹگری بنا کر اس میں کتنے فتاوٰی جات ہیں بتایا گیا ہے اور ہر موضوع کو کتاب وسنت کے دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مجموعہ فتاوٰی ‘‘ علامہ محمد عبد الرحمان مبارکپوری  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-masla-takfeer-aur-uske-usool-w-zawabit--izafa-shuda-audition--copy
ابو الحسن مبشر احمد ربانی

اسلام امن وسلامتی اور باہمی اخوت ومحبت کا دین ہے۔انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ اسلامی شریعت کے اہم ترین مقاصد اور اولین فرائض میں سے ہے۔کسی انسان کی جان لینا، اس کا ناحق خون بہانا اور اسے اذیت دینا شرعا حرام ہے۔کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزاجہنم ہے۔ عصر حاضر میں مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں کے افراد کے خلاف ہتھیار اٹھانے ، اغوا برائے تاوان، خود کش دھماکوں اور قتل وغارت گری نے ایک خطرناک فتنے کی صورت اختیار کر لی ہے۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارے جرائم اسلام اور جہاد کے نام پر کئے جارہے ہیں۔یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی  ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔ مسلمانوں کو ہی کافر قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام میں کسی کو کافر قرار دینے کے اصول وضوابط موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول وضوابط"جماعۃ الدعوہ کے مرکزی رہنما محترم مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول وضوابط پر گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور تمام مسلمانوں کو متحد ومتفق فرمائے۔ آمین(راسخ)

pages-from-jannat-ka-raasta
عبد اللہ بن احمد العلاف

اللہ رب العزت نے جن وانس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جس مقصد کے لیے بنی نوع انسان کی تخلیق کی گئی ہے اس مقصد کو پورا کریں اور دنیا یا اس کی آسائش کو حاصل کرنے میں اپنی قیمتی لمحات نہ گزار دیں جو نہ تو مستقل، نہ ہی اس کی کوئی اہمیت بلکہ ایک مسافر خانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے اپنے لیے آخرت کی تیاری کرتے ہوئے دنیا میں گناہوں سے اجتناب کرے اور عبادت الٰہی میں مگن ہو جائے۔ ہماری تخلیق کا جب مقصد ہی عبادت الٰہی ہے تو ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھیں اور اپنے عقل وشعور کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آپ کو سلفِ صالحین کی راہ پرگامزن کریں اور عبادت کے لیے وہی طریقہ اختیار کریں جو نبیﷺ سے صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت ہے اور اپنے عزیز واقارب کو بھی دعوت دیں کہ اپنی تخلیق کا اصل مقصد یاد رکھیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں خاص اسی سبق کو یاد کروایا گیا ہے اور جس کا عنوان’جنت کا راستہ‘ دیا گیا ہے اور اس میں عقائد‘ ارکان اسلام‘ ایمان‘ فضائل اعمال‘ اوامر ونواہی پر مشتمل ہر خاص وعام کے لی مفید مضامین جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کتاب کو ہر حوالے سے مکمل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ بھی رہنمائی کی گئی ہے کہ اگر کوئی دشواری ہو تو کسی مستند عالم سے رجوع کیا جائے۔اور اس کتاب میں جنت میں لے جانے والی راہوں کو بیان کیا گیا ہے تاکہ ان پر چل کر ہم اپنی راہیں ہموار کر سکیں۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ جنت کا راستہ ‘‘ عبد اللہ بن احمد العلاف﷫ کی تصنیف کردہ اور خلیق الرحمن قدر﷾ کی مترجم کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-akse-wajood-bari-tala-copy
بدیع الزماں سید نورسی ترکی

اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنا مخلوق کا سب سے ارفع مقصد جبکہ اُس ذات باری تعالیٰ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ علم رکھنا انسانیت کا اعلیٰ ترین مقصد ہے۔ جنوں اور انسانوں کے لیے حقیقی خوشی‘ اللہ کی محبت اور عرفانِ الٰہی میں مضمر ہے۔ انسان کی سچی روحانی خوشی اور قلب انسانی کی تابندگی اللہ جل شانہ کی محبت میں پنہاں ہے تمام سچی خوشیاں اور حقیقی مسرت اللہ جل شانہ کی محبت بھری عنایتیں اللہ کی محبت اور معرفت الٰہی کے طفیل ہیں۔ وہ جو صحیح علم رکھتے ہیں اور حق تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں وہی لافانی خوشی بے پایاں عنایت‘ ہدایت ربانی اور اس سے وابستہ اسرار ورموز کا بھید پا سکتے ہیں اور وہ جو ایسا نہیں کرتے‘ روحانی وجسمانی آزار‘ رنج والم اور خوف میں مبتلا کر دیئے جاتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے  جس میں اللہ رب العزت کے تعارف سے لے کر ان کی ذات سے متعلقہ تمام اشکالات اور باطل عقائد کا رد کیا گیا ہے۔ اس میں لوگوں کے ذہنوں اور دلوں سے جمع شدہ جھوٹے اعتقادات اور نظریات  کی تلچھٹ کو دور کرنے اور انہیں شعوری اور روحانی طور پر پاک کرنے کی سعی کی گئی ہے اور انداز تحریر نہ تو عالمانہ ہے اور صحافانہ بلکہ احساسات کے ذریعے اصلاح کی گئی ہے۔ اور حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ عکس وجود باری تعالیٰ ‘‘ بدیع الزمان سید نورسی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-sharah-hadith-e-jibreel--jadeed-audition--copy
عبد المحسن العباد

یہ کتاب دراصل الشیخ عبدالمحسن العباد کی تالیف ہے۔ جسے اردو ترجمہ کے قالب میں محقق العصر الشیخ الحافظ زبیر علی زئی نے ڈھالا ہے۔ یہ دراصل حدیث جبریل، کہ جس میں اسلام، ایمان اور احسان کا بیان ہے اور جس کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے آئے تھے، کی مستقل شرح ہے۔ علماء کی ایک جماعت سے اس حدیث کی بڑی شان منقول ہے۔ یہ حدیث ظاہری و باطنی عبادات کی تمام شروط کی شرح پر مشتمل ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم، آداب اور لطائف کی اقسام جمع ہیں۔ بعض علماء تو اس حدیث کو ام السنۃ کی طرح کہتے ہیں یعنی سنت کی ماں۔ کیونکہ اس نے علم سنت کے بنیادی جملے اکٹھے کر لئے ہیں۔(ف۔ر)

pages-from-jadu-ki-haqeeqat-us-ka-shari-hukam
مسفر بن عزم اللہ الدمینی

قرآن مجید کے مطالعے سے ہمیں بعض ایسے حقائق کا علم ہوتا ہے‘ جنہیں ناپسندیدہ تصور کیا گیا ہے اور ان کا علم شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ایسے امور میں ایک غیر شرعی علم وعمل جادو یا ساحری سے تعلق رکھا ہے۔ساحری یا جادو ٹونا ایک ابلیسی اور شیطانی عمل ہے ۔جہالت اور لا علمی کے باعث آج دنیا میں بہت سی اقوام اور افراد اس ابلیسی علم کے چنگل میں گرفتار ہیں۔امت مسلمہ کے افراد کی بھی ایک بہت بڑی تعداد نہ صرف یہ کہ جادو ٹونے کے علم پر یقین رکھتی ہے بلکہ عملاً اس کی ہلاکتوں میں گرفتار ہے۔ کتاب وسنت کے چشمۂ صافی سے جس طرح تمام گمراہیوں اور گناہوں سے بچنے کا طریقہ ملتا ‘ ساحری‘ کہانت‘عرافت‘ طلسم اور جادو ٹونے سے بھی بچاؤ کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’جادو کی حقیقت‘ اس کا شرعی حکم اور اس کا علاج‘‘ اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے لیکن فائدہ عام کے لیے اسے اُردو زبان میں بھی ٹرانسلیٹ کر دیا گیا ہے اور ترجمے میں انداز نگارش اور اسلوب بہت واضح‘ سلیس اور رواں ترجمہ ہے۔ مترجم نے شگفتہ اردو زبان میں ترجمہ کر کے اردو خواں حضرات کے لیے اس کی افادیت کا سامان پیدا کیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد جادو کی تاریخ کا مکمل علم ہو گا‘ اس علم کی حقیقت کیا ہے اور اس شیطانی فساد میں مبتلا اشخاص اس سے کیسے نجات حاصل کر سکتے ہیں؟نیز اس کی مشروع اور مسنون تعلیمات بھی ملتی ہیں۔ اس میں فاضل مصنف نے جادو کی تعریف‘ اقسام اور اس کی نوعیت کے بارے میں سیر حاصل مواد یا لوازمہ پیش کیا ہے۔مؤلف نے بہت عمدگی کے ساتھ جادو کی مختلف آٹھ اقسام کا ذکر کرنے کے بعد‘ معجزے‘کرامت اور جادو کا فرق بھی واضح کیا ہے۔مصنف نے محدثین کے طریقہ پر ان احادیث اور ان کی اسناد اور متون کا ذکر کرنے کے بعد ان سے ماخوذ بعض اہم مسائل بھی مخصوص عنوان کے ساتھ ذکر کر دیے ہیں جیسے نبیﷺ پر ہونے والے جادو کی ابتداء اور مدت وغیرہ۔کتاب کے آخری باب میں ایک مفید بحث اس موضوع پر ہے کہ وہ حضرات جنہوں نے اس موضوع پر پیش کردہ احادیث پر اعتراضات یا شبہات وارد کئے ہیں‘ ان کا علمی جواب دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور اُن کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-khasail-e-nabvi-urdu-sharh-shamael-e-tirmazi--jadeed-audition--copy
امام ترمذی

انسانیت کے انفرادى معاملات سے لے کراجتماعى بلکہ بین الاقوامى معاملات اورتعلقات کا کوئی ایسا گوشہ نہیں کہ جس کے متعلق پیارے پیغمبرﷺ نے راہنمائی نہ فرمائی ہو، کتب احادیث میں انسانى زندگی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں ہے یعنى انفرادى اور اجتماعی سیرت واخلاق سے متعلق محدثین نے پیارے پیغمبر ﷺ کے فرامین کی روشنى میں ہر چیز جمع فرمادی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ خصائل نبوی اردو شرح شمائل ترمذی‘‘ امام ترمذی ﷫ کی نبی کریم ﷺ کی خصائل وعادات پر مشمتل کتاب شمائل ترمذی کا ترجمہ ہے۔ شمائل ترمذی پا ک وہند میں موجو د درسی جامع ترمذی کے آخر میں بھی مطبوع ہے۔ جسے مدارسِ اسلامیہ میں طلباء کو سبقا پڑھایاجاتا ہے۔ اور اسے شمائل محمدیہ کےنام سے الگ بھی شائع کیا گیا ہے علامہ شیخ ناصر الدین البانی ﷫ وغیرہ نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے ۔اور کئی اہل علم نے اسے اردو دان طبقہ کے لیے اردوزبان میں منتقل کیا ہے ۔ اس کتاب میں امام ترمذی ﷫نے نہایت محنت وکاوش وعرق ریزی سے سیّد کائنات ،سيد ولد آدم، جناب محمد رسول ﷺكے عسرویسر، شب وروز اور سفر وحضرسے متعلقہ معلومات ‏کو احادیث کی روشنى میں جمع کردیا ہے- کتاب پڑھنے والا کبھی مسکراتا اورہنستا ہے تو کبھی روتا اورسسکیاں بھرتا ہے- ‏سیّد کائنات ﷺ کے رخ زیبا کا بیان پڑھتا ہے تو دل کی کلى کھل جاتی ہے اور جب گزر اوقات پر نظر جاتى ہے ‏تو بے اختیار آنسوؤں کی لڑیاں گرنا شروع ہوجاتی ہیں۔ زیر تبصرہ شمائل ترمذی کے نسخہ کا ترجمہ وشرح کا کا م جناب علامہ منیراحمد وقار﷾ اور مولانا عبدالصمد ریالوى ﷾ اور احادیث کی تخریج کا فریضہ محترم نصیر کاشف صاحب نے بڑی محنت ولگن سے سرانجام دیا ہے۔ یاد رہے کہ احادیث ‏کی تحقیق ودراسہ میں علمائے متقدمین اورمحدث عصر ناصرالدین البانىؒ کے منہج کو مدّ نظررکھا گیا ہے۔ اللہ تعالی کتاب کے مصنف ،مترجم اور ناشرین کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اہل ایمان کو سیرت طیبہ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ آمین(م۔ا)

title-pages-seerat-ummul-momineen-sayyadah-aisha-sadiqa--ra--copy
مختلف اہل علم

بے شک امت اسلامیہ پے در پے زخموں سے چور اپنے بدن پر متواتر تیر سہہ رہی ہے اور ہمیشہ سے اسلام کے اندرونی وبیرونی دشمن اس پر زہریلے تیر برسا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی شریعت اور اس کے عقیدے کو بدنما کر ڈالیں۔دشمنانِ اسلام نے اُمت اسلامیہ کو جن تیروں کا نشانہ بنایا ہوا ہے‘ ان میں سب سے سخت  واذیت ناک تیر پیغمبر اسلامﷺ کی عزت پر حملہ ہے۔ جو تمام انسانیت کے قائدہیں‘ ان کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداللہﷺ ہے۔چونکہ دشمنانِ اسلام نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ بن ابی بکر صدیقؓ کی ذات پر بہتان تراشی کر دی اور کتاب وسنت میں جو کچھ آ چکا ہے‘ سیدہ کے ارد گرد انہوں نے شبہات پھیلا دیے یا ان کی ذات اطہر پر جھوٹا افسانہ چسپاں کرنے کی کوشش کی لیکن الحمد للہ! دشمنوں نے جو چاہا نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور اللہ رب العزت نے  اپنا خاص فضل وکرم کیا کہ جب بھی کوئی آزمائش آتی ہے تو ساتھ ہی عطیاتِ رحمانی بھی ہوتے ہیں۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی خاص اللہ کے نبیﷺ کی ناموس کی حفاظت پر ہے کیونکہ ازواج مطہرات کی ناموس کی حفاظت ہی ناموس رسالت ہے۔ اس کتاب میں ام المؤمنین کی سیرت کے چھپے گوشوں کو نمایاں کیا گیا ہے اور آلِ بیت عظامؓ کے ساتھ والہانہ شیفتگی ومؤدت کا اظہار کیا گیا ہے اور سیدہ عائشہؓ کی ناموس کے خلاف یا ان پر ہونے والے اعتراضات کو رفع کیا گیا ہے ۔ اس کتاب میں بہت سے مقالہ جات کا نچوڑ موجود ہے‘ علمی وتحقیقی مقالات سے اہم اور مفید مواد کو یکجا کیا گیا ہے اور اس کی بھی کانٹ چھانٹ کر کے کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس میں بے شمار اضافہ جات کر کے نامکمل عبارات ومواد کو مکمل کیا گیا ہے تاکہ ام المؤمنینؓ کی سیرت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔کتاب میں وارد ہونی والی احادیث وآثار کی پہلی مرتبہ مکمل تخریج وتحقیق کی گئی ہے۔ لغت کی کتابوں سے مشکل الفاظ کے معانی اور احادیث وغیرہ کی شرح کی گئی ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ ‘‘ علماء مشائخ کمیٹی سعوی عرب کی مرتب کردہ ہے۔یہ کمیٹی تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتی  ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ بھی اس  کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-tobah-o-istighfaar-key-fawaed
ذکاء اللہ بن محمد حیات

یہ حقیقت ہے کہ ہر انسان خطا کاپتلا ہے‘ کوئی بھی پارسائی اور پاکدامنی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔تمام اولاد آدم(ما سوائے حضرات انبیاء کرام) سے گناہوں‘ خطاؤں اور غلطیوں کا سر زد ہونا ممکن ہے لیکن سب سے بہترین انسان وہ ہے جو غلطی کے ندامت کا اظہار کرتا ہے‘ اپنے خالق حقیقی کے در پر آکر دو چار آنسو گراتا ہے اور اپنے مالک کے سامنے گڑ گڑاتےہوئے صدق دل سے توبہ واستغفار کرتا ہے۔ ایسا انسان سب سے بہترین ہے جو غلطی کے بعد صدق دل سے توبہ کرتا ہے۔دنیا میں بسنے والے خاکی حضرات کو منانا تو مشکل ہو سکتا ہے مگر اللہ رب العزت کو راضی کرنا مشکل نہیں ہے۔اور خود اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر توبہ واستغفار کرنے کاحکم دیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’توبہ واستغفار کے فوائد‘‘ اسی موضوع کو اُجاگر کرنے کےلیے تصنیف کیا گیا ہے۔ اس میں توبہ و استغفار کی اہمیت اور فوائد کو واضح کرنے کے لیے قرآن وحدیث کی نصوص اور ائمہ ومفسرین کے اقوال‘ گلدستہ کی صورت میں قارئین کی خدمت میں پیش کیے گئے ہیں اور اس کتاب کو مصنف نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ تصنیف کیا ہے۔ اس کتاب میں توبہ واستغفار کی لغوی واصطلاحی معانی بیان کر کے ان میں فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ توبہ کی شرائط کو درج کر کے توبہ و استغقار کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے اور مختلف مقامات پر استغفار کی کیفیت اور اس کا اثبات بھی بیان کیا گیا ہے اور توبہ کے ثمرات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب کے مؤلف جناب ذکاء اللہ بن محمد حیات﷾ ہیں جو کہ تالیف وتصنیف میں ایک عمدہ ذوق وشوق رکھتے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-al-muntaqa-copy
ابو محمد عبد اللہ بن علی بن جارود نیساپوری

جو لوگ اس رزمگاہِ خیر وشر میں’پہلی غلطی‘‘ کا اعادہ نہیں کریں گے۔ اب شجرہ ممنوعہ کو نہیں چکھیں گے‘ بالکل اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس کی ہدایت پر شب وروز بسر کریں گے۔ تو اللہ بزرگ وبرتر انہیں بہشت بریں عطا کرے گا۔ اور جو لوگ اس دار مکافات میں من مانیاں کریں گے۔ احکام الٰہی سے بے اعتنائی برتیں گے۔ منع کیے ہوئے پھلوں کو قوت لایموت بنائیں گے۔ معصیت کی زندگی گزارنے والے یہ لوگ محروم الارث ہو کر رہ جائیں گے۔یعنی جنت میں واپس جانے کے لیے آسمانی ہدایت کی پیروی کرنا‘ اسی پر چلنا اور جو آسمانی ہدایت اور احکام الٰہی کی پابندی نہ کریں گے وہ بہشت سے محروم کر دیے جائیں گے۔ جنت میں لے جانے والے اعمال واسباب کو کتب احادیث میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں حدیث کی اہمیت‘حجیت اور قرآن کی مانند اس کا لابدی ہونا ثابت کیا گیاہے اوراس کتاب میں احادیث پر اعراب بھی لگایا گیا ہے۔ سلیس اردو ترجمہ کیا گیا ہے اور اردو دان طبقے کی آسانی کے لیے مفہومی ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس میں آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی روشنی میں احادیث کی تشریح وتوضیح پیش کی گئی ہے اور مختلف فیہ مسائل میں زیادہ تر صرف راجح قول پیش کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے اور فقہی مباحث بھی موجود ہے۔ علامہ البانی اور شیخ شعیب الارناؤط جیسے محققین کے اجمالی حکم کو ذکر کیا گیا ہے۔ ۔ اور حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے حوالے دینے میں جس حدیث کو امام بخاری ومسلم یا کسی ایک نے بھی ذکر کیا ہے تو ان ہی کا حوالہ دیا گیا ہے‘ اور جو صحیحین میں نہ ہوں اور سنن اربعہ میں  ہوں تو ان کا حوالہ دیا گیا ہے کیونکہ صحیحین کے بعد ان کو امتیاز حاصل ہے۔ اور جو حدیث کتب ستہ میں نہ ہو اور دوسری کتب میں ہوں تو ان کا احاطہ نہیں کیا گیا بلکہ تخریج میں معروف کتب کا ذکر کیا گیا ہے اور تخریج کرتے ہوئے احادیث پر صحیح یا ضعیف کا حکم لگانے میں ’الموسوعۃ الحدیثیۃ‘ کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ المنتقی ‘‘ ابو محمد عبد اللہ بن علی بن جارود نیسابوری  کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-pakistani-asatiza-k-liye-roll-model-copy
ڈاکٹر محمد اسلام صدیق

آنحضرتﷺ نے جن علمی وتعلیمی روایات کی بنیاد رکھی‘ صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کے اسوہ کے مطابق اسے آگے بڑھایا اور تعلیمی میدان میں انقلاب برپا کر دیا۔ بعد کے مسلمان اساتذہ نے اس روایت کو قائم رکھا اور ایک ترقی یافتہ معاشرہ کی بنیاد رکھی۔ تعلیم کی مختلف تعریفوں کا جائزہ لیں تو دنیا کی پہلی پانچ سو یونیورسٹیاں دوسرے ممالک میں ہیں ودیگر ایجادات کے حوالے سے ہم پیچھے ہیں۔ کیوں؟ ہمارے ہاں ذہین افراد پیدا نہیں ہوتےٰ؟ کیا ہمارا تعلیمی نظام افراد کی تعلیمی وعملی صلاحیت نکھارنے میں ناکام رہا ہے؟ کیا ہمارے اُستاد کے سامنے رول ماڈل کے طور پر مثالی اُستاد کا نمونہ موجود ہے؟ وجہ صرف یہی ہے کہ ہم  اخلاقیات‘ فرض شناسی‘ لگن اور اخلاص جیسے اسلامی اقدار سے دور ہیں۔انسان فانی ہے‘ موت برحق ہے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا بھی اَٹل حقیقت ہے۔ ہمارے دنیا کے چلے جانے کے بعد صرف تین اعمال ایسے ہیں جن کا ثواب ہمیں قیامت تک ملتا رہے گا ان میں سے ایک نفع بخش علم کسی کو دے کر چلے جانا۔تدریس سب سے اعلیٰ وارفع پیشہ ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے جس میں اساتذہ کے لیے اعلیٰ اقدار اور رول ماڈل شخصیات کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں قرآن وحدیث کے عربی متن کو احتیاط سے دیکھا گیا ہے۔اس میں رول ماڈل اساتذہ کے حالات‘ واقعات کی صحت کے بارے میں انتہائی احتیاط کی گئی ہے۔ پرائمری وسکینڈری سورسز سے واقعات اکٹھے کیے گئے ہیں۔اس کتاب کو سامنے رکھ کر یا اس کا مطالعہ کر کے ایک استاد عمل کرے تو ایک رول ماڈل ضرور بن سکتا ہے۔اس میں پانچ ابواب ترتیب دیے گئے ہیں۔ پہلے میں علم‘ اساتذہ وغیرہ سے متعلق اہم مضامین کا تعارف دیا گیا ہے اور دوسرے میں متعلقہ لٹریچر کا جائزہ لیا گیا ہے اور تیسرے میں طریقہ تحقیق بتائے گئے ہیں‘ چوتھے میں تجزیہ وضاحت آراء اور چیک لسٹ سے متعلقہ تفصیل اور پانچویں میں خلاصہ‘نتائج۔ حاصلات اور سفارشات اور چیک لسٹ وغیرہ کا بیان ہے۔کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ پاکستانی اساتذہ کے لیے رول ماڈل‘‘ ڈاکٹر محمد اسلام صدیق‘ ثمینہ اسلام کی تالیف کردہ ہے۔آپ دونوں تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-tafseer-ul-fatiha-muhammad-bin-abdul-wahab
محمد بن عبد الوہاب

اللہ رب العزت نے ہر اُمت کی رہنمائی کے لیے ہر دور کی ضرورت کے مطابق انبیاء کا سلسلہ قائم کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد رسول اللہﷺ ہیں اور ہمارے نبیﷺ کو اللہ رب العزت نے ایک اعلیٰ وارفع شریعت دی اور عظیم کتاب بھی دی جسے ہم قرآن مجید کے نام سے جانتے ہیں ۔ قرآن مجید کی پہلی سورت ’سورۃ الفاتحہ‘‘ ہے یہ وہ عظیم سورہ ہے جسے ’’ام القرآن‘‘ اور اساس القرآن بھی کہتے ہیں۔سات آیات پر مشتمل ہے اور اسے نبیﷺ نے ’سبع المثانی‘‘ کا مصداق بھی قرار دیا ہے۔ اس سورہ کی بہت سی تفسیریں لکھی گئی ہیں اور ہر صاحب علم نے اپنی بساط کے مطابق اس کے مطالب ومفاہیم کو سمجھا اور بیان کیا ہے۔ لیکن زیرِ تبصرہ کتاب’’تفسیر سورۃ الفاتحہ‘‘ مولانا محمد بن عبد الوہاب کی تفسیر کو ایک خصوصی اور امتیازی مقام حاصل ہے۔ یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ کرتے ہوئے علامہ حکیم محمد جمیل شیدا رحمانی﷾ نے بڑی لطافت اور نزاکت سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اور یہ ایسی تفسیر ہے کہ جو نہ تو طویل اور اکتا دینے والی ہے اور نہ مختصر اور اُلجھے معنوں والی ہے۔ اور عوام الناس کے فہم سے بالا بھی نہیں یعنی ہر خواص وعلماء کے مطلوب مقصود سے قاصر وکوتاہ بھی نہیں ہے۔ اور شیخ نے ایسی تفسیر لکھی ہے کہ جو بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات وسرگوشی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب مولانا محمد بن عبد الوہاب کی مایۂ ناز تصنیف ہے آپ  1115ھ میں پیدا ہوئے اور 1153ھ میں وفات پائی۔ آپ نے ذخیم تعداد میں تالیفات کیں جن میں سے کتاب التوحید‘ کتاب الایمان فضائل الاسلام‘ فضائل القرآن‘ کشف الشبہات‘ آداب المشی الی الصلاۃ وغیرہ شاہکار تالیفات ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 405 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :