pages-from-jama-o-tadveen-e-quran
ڈاکٹر حافظ محمد عبد القیوم

قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب ِ ہدایت میں انسان کو پیش   آنے والے تمام مسائل کو   تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشاد گرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔ مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اورسمجھا نہ جائے۔ اسے پڑھنے اور سمجھنے کا شعور اس وقت تک پیدا نہیں ہوتا جب تک اس کی اہمیت کا احساس نہ ہو۔ اور قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اٹھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج تک اس کی میں کوئی تحریف و تصحیف سامنے نہیں آئی۔ اور اگر کسی نے یہ مذموم کوشش کی بھی تو اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل وخوار کر کے رکھ دیا۔ قرآن مجید عہد نبویﷺ سے ہی زبانی حفظ کے ساتھ ساتھ کتابی شکل میں بھی لکھا جاتا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے متعدد صحابہ کرام کو کاتب وحی کے طور پر مقرر کر رکھا تھا۔ خلیفہ ثالث سید نا عثمان ﷜ نے اپنے دور خلافت میں قرآن مجید کو مکمل کتابی صورت میں جمع کیا اور اس کے نسخے مختلف علاقوں کی طرف بھی روانہ کیے۔ لیکن قرآن مجید پر اعتراض کرنے والے مستشرقین نے قرآن کریم پر جہاں مختلف پہلوؤں سے اعتراضات کیے ہیں وہاں انہوں نے قرآن مجید کی تدوین اورجمع کرنے کے متعلق بھی اعتراضات کیے ہیں۔ جن کے علماء امت محمدیہ نے شافی کافی جوابات بھی تحریرکیے ہیں۔ زیر نظر مقالہ ’’جمع وتدوین قرآن‘‘ محترم جناب ڈاکٹر حافظ محمدعبد القیوم صاحب کے ایم فل کے لیے لکھے گے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت ہے۔ یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے۔ فاضلہ مقالہ نگار نے ابتداء میں اس کا جائزہ لیا ہے کہ قرآن کریم پر اعتراضات کی ابتدا کب ہوئی اور کس کے ہاتھوں میں ہوئی۔ معترضین کی کتابوں کے حوالہ سے انہوں نے اعتراضات کا احاطہ کیا اور پھر بڑی منطقی ترتیب سے علمی انداز میں ان کے جوابات تحریرکیے ہیں۔ یہ کتاب جمع وتدوینِ قرآن کی تاریخ پر مشتمل بڑی اہم کتاب ہے۔ (م۔ا)

title-pages-masjad-aqsa-hamare-dilon-me-copy
مختلف اہل علم

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو سیدنا عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں ۔اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ نےیہ مسئلہ پیدا کر کے گویا اسلام کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں اسرائیل کے قیام کےبعد یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے دخل کر کے انہیں کمیپوں میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔ دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید ، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مسجد اقصیٰ ہمارے دلوں میں ‘‘ دولۃالکویت سے شائع ہونے والے عربی مجلہ’’ الواعی الاسلامی ‘‘ میں بیت المقدس کے متعلق شائع ہونے والے مختلف شخصیات کے مضامین کے مجموعہ کا ترجمہ ہے ان مضامین کو جناب ڈاکٹر جاسم محمد مطر شہاب نے مرتب کیا ہے اور پھر مولانا ضیاء الدین قاسمی ندوی خیرآبادی نے اسے اردو داں طبقہ کے اردو زبان میں منتقل کیا ہے ۔ (م۔ا)

title-pages-muslim-kon-copy
جاوید اقبال سیالکوٹی

دین اسلام  کے پانچ ارکان  ہیں، جن پر اسلام کی بیاد رکھی گئی ہے۔ان  میں سے  پہلا رکن اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریمﷺکی نبوت اور رسالت کا اقرار ہے۔ دوسرا رکن نماز، تیسرا روزہ، چوتھا زکوٰۃ اور پانچواں حج ہے۔ ان پانچوں ارکان  میں سے ہر ایک کے بارے میں متعدد آیات اور اَحادِیث وارِد ہوئی ہیں۔ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا ’’ اِسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قایم ہے، اِس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺاﷲ کے رسول ہیں، نماز قایم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان مبارک کے روزے رکھنا اور بیت اﷲ کا حج کرنا اُس شخص کے لیے جو اُس تک جانے کی طاقت رَکھتا ہو۔‘‘ اِن پانچ اَرکان کو ایک مومن کی شخصیت سنوارنے اور اس کا مثالی کردار بنانے میں بہت بڑا دخل ہے۔ سب سے پہلے رُکن کلمۂ شہادت کو لے لیجیے، جس کے ذریعے ایک مومن اَپنے رَب کی وحدانیت کا اِقرار کرکے مخلوق کی عبودیت سے آزاد ہوجاتا ہے اور نبی کریمؐ کی رِسالت کا اِقرار کرکے زِندگی گزارنے کا رَاستہ متعین کرلیتا ہے۔ یہ اِیمان کی بنیاد اور یہی وہ بنیادِی عقیدہ ہے جس پر باقی اَرکان اور اِسلامی تعلیمات کا دار و مدار ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے عقیدۂ توحید اور رِسالت پر بہت زور دِیا ہے اور سیکڑوں آیات میں اسے بیان کیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسلم کون؟"محترم جاوید اقبال سیالکوٹی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے ارکان اسلام کی روشنی میں مسلمان کا جائزہ لیا ہے کہ کون مسلمان ہے اور مسلمان نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

pages-from-molana-faiz-ur-rehman-sauri
حافظ محمد اسلم شاہدروی

مولانا فیض الرحمان ثوری﷫ بہاولپور کے معروف تاریخی مقام "اچ" کے قریب آباد ہونے والے کسرانی یا قیصرانی بلوچ قبیلے کے ایک فرد تھے۔ آپ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم دین تھے۔ آپ کو علم رجال پر خاص عبور حاصل تھا۔ آپ ایک خاموش طبع اور انتہائی سادہ مزاج انسان تھے۔ کسرانی قبیلے میں سب سے پہلے علم دین حاصل کرنے اور علم حدیث کی خدمت کرنے والی شخصیت"مولانا سلطان محمود محدث﷫'' کی تھی۔ آپ ان کے قریبی عزیز اور لائق شاگرد تھے۔ مولانا فیض الرحمان ثوری﷫ نے تحقیق حدیث خصوصا علم الرجال کے میدان کو چنا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی کے لئے وقف کر دیا۔ آپ نے جب اس میدان میں کام شروع کیا تو پورے برصغیر میں حدیث کے حوالے سے تحقیقی کام کی اشاعت کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "مولانا فیض الرحمان ثوری﷫، ماھر علم الرجال وممتاز نقاد" دار المعارف اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ محمد اسلم شاہدروی صاحب﷾ کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے مولانا فیض الرحمان ثوری صاحب کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں اور انکی علمی خدمات کو مرتب فرما دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی ایم فل کی اسائنمنٹ تھی، جسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصو ف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-khutbat-sorah-yaseen-copy
حافظ عبد الستار حامد

سورۃیٰسین مکی سورت ہے اس سورۃکا آغاز “ی” (یا) اور “س” (سین) دو حرفوں سے ہوا ہے اس مناسبت سے اس کا نام سورہ یٰس ہے۔اس کے مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے درمیانی دور کے اخیر میں نازل ہوئی ہو گی۔سورۃ یٰسین کا مرکزی مضمون آخرت کے انجام سے خبردار کرنا ہے اس طور سے کہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ جاگ اٹھیں اور انہیں اپنے مستقبل اور اپنی نجات کی فکر دامن گیر ہو۔ رسول کی بعثت اسی لیے ہوتی ہے کہ وہ خبردار کرنے کا یہ فریضہ انجام دے۔اس سورت کی فضلیت کے متعلق کتب احادیث میں متعدد احادیث موجود ہیں لیکن اسناد کے اعتبار سے یہ صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتیں۔ اور یہ بات بھی ثابت نہیں ہے کہ صحابہ اس سورہ کو کسی شخص کی جانکنی کے موقع پر پڑھا کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ یٰسین ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ یٰسین‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات جمعۃ المبارک کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز مارچ 1993ء میں جامع مسجد توحید اہل حدیث وزیر آباد میں کیا اور 12 خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ہر واقعہ، ہر حدیث اور ہربات مستند اور باحوالہ تحریرکرنے کی کوشش کی ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃیٰسین کی منفرد تفسیر ہے ۔ (م۔ا)

title-pages-maqalat-e-rabaniya-copy
ابو الحسن مبشر احمد ربانی

فضیلۃ الشیخ مولانا مفتی مبشر احمد ربانی ﷾ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں آپ ایک عرصہ سے جماعۃ الدعوۃ پاکستان سے منسلک ہیں ۔ جماعت کے ساتھ دعوت وتبلیغ کےفرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ تحریری میدان میں قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔احکام دینیہ اور تحقیق مسائل فقہیہ کی تبیین وتحقیق ان کا پسندیدہ موضوع ہے ۔ان کے عام فہم فتاویٰ جات اور مناظرے ومباحثے قارئین وسامعین اورعلمی حلقوں میں یکساں مقبول ومعروف ہیں۔ان کے اس فن میں رسوخ اور مہارت تامہ رکھنے کی بدولت تبیین حق اورابطال باطل کے ذریعے سے بہت سےمتلاشیان حق کوقرآن وسنت پر عمل پیراہونےکی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ موصوف جماعۃ الدعوۃ کی مرکزی درسگاہوں میں تدریسی فرائض بھی انجام دیتے ہیں رہے ہیں پچھلے چند سالوں سے جامعہ لاہور الاسلامیہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی دعوتی، تدریسی، تحقیقی وتصنیفی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) زیر تبصرہ کتاب ’’ مقالات ربانیہ ‘‘ مولانا مبشر ربانی ﷾ متعد د موضوعات پر مختلف اوقات میں مختلف جرائد ومجلات میں شائع شدہ علمی وتحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے انہی مطبوعہ مضامین کو مفید اضافوں کےساتھ ’’ ’’ مقالات ربانیہ ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے جن میں مسئلہ مجلس واحدکی تین طلاقوں کا حکم ، عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت ، اسلام میں پختہ قبر کا حکم ، مقام صحابہ ، مسنون تراویح، پردے کی شرعی حیثیت، جنات اور جادوٹونے کی شرعی حیثیت ، محمد رسول اللہ ﷺ کی شان وغیرھم پر بحث کی گئی ہے اور قرآن وسنت کی نصوص ظاہرہ اور براہین قاطعہ سےمسئلہ کی پوری توضیح وتنقیح کی گئی ہے ۔یہ مجموعہ مقالات احکام ومسائل کی تبیین وتفہیم کے لیے مستند اورقابل اعتماد مصادر کے حوالہ جات پر مشتمل علمی نوادرات کا مجموعہ ہے۔ ان مقالات میں تجدد پسند علماء ، مغرب زدہ دانشوروں اور روشن خیال مفکرین کے پیدا کردہ شکوک وشبہات کے مسکت ومدلل جوابات ہیں۔(م۔ا)

pages-from-guftagoo-ka-saleeka
پروفیسر امیر الدین مہر

گفتگو ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے دل میں اتر جاتا ہے یا لوگوں کے دل سے اتر جاتاہے۔ دل اور زبان انسانی جسم کے سب سے اہم دو حصے ہیں۔ زبان دل کی ترجمان ہے اس لیے اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ آدمی کی گفتگو ہی اس کاعیب و ہنر ظاہرکرتی ہے۔ گفتگو کرتے وقت زبان سے وہی گفتگو کریں جس کا مقصد خیر ہو، کسی کی غلطی کی اصلاح کرتے وقت حکمت کومد نظر رکھیں، اگر مخاطب کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو ضرورت کے تحت دہرائیں۔ ناحق اور بے جا بحث کرنے سے، حق پر ہونے کے با وجود لڑائی جھگڑے، درمیان میں بات کاٹنے سے، غیبت و چغلخوری اور لگائی بجھائی، جھوٹ او ر خلاف حقیقت کوئی بات کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ نیز آداب گفتگو میں سے یہ بھی ہےکہ   مخاطب کی بات کو غور سے سنیں اسے بولنے کاموقعہ دیں، درمیان میں اس کی بات نہ کاٹیں اور ادھر ادھر توجہ کرنے کی بجائے اس کی طرف پوری توجہ رکھیں۔ نبی کریم ﷺ نے گفتگو کے آداب کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب تین لوگ ایک جگہ اکٹھے بیٹھے ہوں تو ان میں سے دو آپس میں کھسر پھسر نہ کریں اس سے تیسرے کی دل شکنی ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’گفتگو کا سلیقہ‘‘ پروفیسر امیرالدین مہر کی تصنیف ہے۔ فاضل مصنف نے گفتگو کو شیریں، دلپسند اور دلنواز بنانے کے لیے قرآن و حدیث، حکماء علماء کے کلام سے منتخب کردہ شہ پاروں، جامع کلمات کی عبارتوں، حکمتوں، لطیفوں، جملوں فقروں کی روشنی میں اس کتاب کو مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب ہرطبقے کے افراد کے باہم گفتگو کرنے، دوسرے کو اپنی بات پر قائل کرنے اور اپنی طرف متوجہ کرنے کےلیے ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اور اداروں کے سربراہوں، دینی وتبلیغی جماعتوں و تنظیموں کے ذمہ داروں، این جی اوز کے منتظمین، مساجد کے ائمہ، خطباء اور واعظین حضرات، مجالس میں گفتگو کرنے والے اصحاب کے لیے بہترین کتاب اور خیر جلیس ہے۔

title-pages-khutbat-sorah-kusar-copy
حافظ عبد الستار حامد

سورۃ کوثرمکی سورۃ ہے مکی سورتوں کی اہم خصوصیت قرآن کی آفاقی فصاحت و بلاغت ہے۔وہ عرب لوگ جو اپنی زبان کے مقابلے میں دوسروں کو’’ عجمی‘‘یعنی گونگا کہتے تھے وہ بھی قرآن کے سامنے بے بس ہو چکے۔قرآن نے اہل مکہ کو چیلنج دیا کہ ایک کتاب یا ایک سورۃ یا ایک آیت ہی بنا لاؤ لیکن وہ عرب اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے اور ماند پڑ گئے۔ایک بار مکہ میں قصیدہ نویسی کا مقابلہ ہوا ،کم و بیش چالیس قصائد خانہ کعبہ کی دیوار پر لٹکائے گئے،ان میں سے بعض اپنی طوالت میں بے مثال تھے ۔آخر میں سورۃ کوثر بھی آویزاں کی گئی اور ہر فیصلہ کرنے والا اس سورۃ پر آن کر اٹک جاتااور سب لوگوں نے بالاتفاق کہا کہ یہ کسی انسان کی کاوش نہیں ہو سکتی۔الکوثر سے ایک نہر مراد ہے ، جو جنت میں آپ ﷺ کو عطا کی جائے گی۔واضح رہے کہ نہر کوثر اور حوض کوثر میں فرق ہے کہ ، حوض کوثر میدان حشر میں ہو گا ـ جبکہ کوثر یا نہر کوثر جنت میں ہے ، البتہ یہ ضرور ہے کہ حوض میں جو پانی ہے اس کا مصدر نہر کوثر ہی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ کوثر‘‘ پرو فیسر عبد الستار حامد ﷾ کی سورۃ الکوثر کی تفسیر میں 12 خطبات کا مجموعہ ہے جوکہ خطیبانہ انداز میں فضائل رسول ﷺ کا منفرد تذکرہ پر مشمل ہے ۔موصوف نےان خطبات میں رسول اکرم ﷺ کی خصوصیات کے حوالے سے ’’ کوثر‘‘ کے چند معروف مفاہیم کو خطبات جمعہ میں بیان کیا اور بعد ازاں اسے کتابی صورت میں مرتب کر کے شائع کیا ہے ۔موصوف اس کے علاوہ سورۃ یوسف ، سورۃ مریم ، سورۃ یٰسین، سورۃ کہف، سورۃ نور، سورۃ فاتحہ اور آیت الکرسی پر اپنے خطبات کو مرتب کر کےشائع کرچکے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل اور زور قلم میں مزید اضافہ فرمائے ۔(آمین)

title-pages-khutbat-sorah-maryam-copy
حافظ عبد الستار حامد

سورۃ مریم قرآن مجید کی مکی سورتوں میں سے ہے اس سورۃ کا بنیادی موضوع حضرت عیسٰی اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں صحیح عقائد کی وضاحت اوران کے بارے میں عیسائیوں کی تردید ہے اگرچہ مکہ مکرمہ میں جہاں یہ سورت نازل ہوئی عیسائیوں کی کوئی خاص آبادی نہیں تھی لیکن مکہ مکرمہ کے بت پرست کبھی کبھی آنحضرت ﷺکے دعوائے نبوت کی تردید کے لئے عیسائیوں سے مدد لیا کرتے تھےاس کے علاوہ بہت سے صحابہ کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کررہے تھے جہاں عیسائی مذہب کی حکمرانی تھی اس لئے ضروری تھا کہ مسلمان حضرت عیسی ،حضرت مریم ،حضرت زکریا اور حضرت یحیی علیہم السلام کی صحیح حقیقت سے واقف ہوں چنانچہ اس سورت میں ان حضرات کے واقعات اسی سیاق وسباق میں بیان ہوئے ہیں اور چونکہ یہ واضح کرنا تھا کہ حضرت عیسی اللہ تعالیٰ کے بیٹے نہیں ہیں جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے بلکہ وہ انبیائے کرام ہی کے مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہیں اس لئے بعض دوسرے انبیاء کرام ﷩ کا بھی مختصر تذکرہ اس سورت میں آیا ہے لیکن حضرت عیسی کی معجزانہ ولادت او راس وقت حضرت مریم علیہا السلام کی کیفیات سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ ا سی سورت میں بیان ہوئی ہیں اس لئے ا س کا نام سورۂ مریم رکھا گیا ہے۔ صحابی رسول ﷺسیدنا جعفر طیار حبشہ میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں اسی سورت کی تلاوت کی تھی جسے سن کر وہ خود اور اسے کے درباری آبدیدہ ہوگئے تھے اور مسلمانوں کواپنےہاں حبشہ پناہ دی اور انہیں بڑے عزت واحترام رکھا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ مریم ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ مریم‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات جمعۃ المبارک کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز مارچ 1994ء میں کیا اور بیس خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ہر واقعہ، ہر حدیث اور ہربات مستند اور باحوالہ تحریرکرنے کی کوشش کی ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃمریم کی منفرد تفسیر ہے ۔ (م۔ا)

pages-from-islami-aloom-o-fanoon-hindustan-mein
سید عبد الحئی ندوی

حکیم سید عبد الحی ندوی عالم اسلام کے معروف اسلامی سکالر و ادیب،مصنف کتب کثیرہ مولانا سید ابو الحسن ندوی ﷫ کے والد گرامی ہیں۔ موصوف اپنے وقت کے معروف عالم دین اور مؤرخ تھے مولانا عبد الحی صاحب کی آٹھ جلدوں میں مبسوط نزھۃ الخواطر کو آج بھی دینی وعلمی حلقوں میں حوالے کی کتاب کے طور پر بلند مقام حاصل ہے۔ اس میں انھوں نے ساڑھے چار ہزار سے زائد شخصیات کے حالات قلمبند کئے ہیں اس کے علاوہ گل رعنا اور معارف الموارف فی انواع العلوم و المعارف (عربی) جیسی ان کی تصانیف برصغیر پاک وہند کے علمی ذخیر ے میں امتیازی شان کی حامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی علوم و فنون ہندوستان میں ‘‘مولانا حکیم سید عبد الحی کی ہندوستان کی تہذیب وثقافت کے متعلق تصنیف کردہ عربی کتاب ’’الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ مولاناابو العرفان ندوی نے کیا ہے یہ ترجمہ پہلے 1970ء میں شائع ہوا تھا   زیر تبصرہ ایڈیشن اسی کا جدید معیاری ایڈیشن ہے جسے دار المصنفین نے 2009ء میں شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے ہندوستانی علما ومصنفین کی تصانیف کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔ یہ تنہاکتابوں کی فہرست نہیں ہے بلکہ اس کے ضمن میں ہندوستانی مسلمانوں کی پوری علمی تعلیمی اور ذہنی و فکری تاریخ بھی آگئی ہے۔ (م۔ا)

title-pages-khutbat-sorah-fatiha-copy
حافظ عبد الستار حامد

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنیٰ پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’خطبات سورۃ فاتحہ ‘‘پروفیسر حافظ عبدالستار حامد﷾ کے سورۃ فاتحہ کے متعلق بیان کے گئے خطبات کا مجموعہ ہے ان خطبات کا آغاز موصوف نے جولائی 1998ء میں او ر 15 خطبات میں اس عظیم الشان اور بابرکت سورۃ کی تفسیر وتوضیح مکمل کی ۔پروفیسر عبد الستار حماد صاحب نے اس سورت مقدسہ کے خطبات میں عوام کو دقیق تفسیری نکات میں الجھانے سے گریز کرتے ہوئے عام فہم اورسادہ اندازمیں قرآنی احکام سمجھانے اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کی کوشش کی ہے ۔(م۔ا)

title-pages-khutbat-sorah-kahaf-copy
حافظ عبد الستار حامد

سورت کہف قرآن مجید کی 18 ویں سورت جو مکہ میں نازل ہوئی۔ اس میں اصحاب کہف، حضرت خضر اور ذوالقرنین کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔یہ سورت مشرکین مکہ کے تین سوالات کے جواب میں نازل ہوئی جو انہوں نے نبی ﷺکا امتحان لینے کے لیے اہل کتاب کے مشورے سے آپ کے سامنے پیش کیے تھے۔ اصحاب کہف کون تھے؟ قصۂ خضر کی حقیقت کیا ہے؟ اور ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے؟ یہ تینوں قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ سے متعلق تھے۔ حجاز میں ان کا کوئی چرچا نہ تھا، اسی لیے اہل کتاب نے امتحان کی غرض سے ان کا انتخاب کیا تھا تاکہ یہ بات کھل جائے کہ واقعی محمد ﷺ کے پاس کوئی غیبی ذریعۂ علم ہے یا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ اپنے نبی کی زبان سے ان کے سوالات کا پورا جواب دیا بلکہ ان کے اپنے پوچھے ہوئے تینوں قصوں کو پوری طرح اُس صورتحال پر چسپاں بھی کردیا جو اس وقت مکہ میں کفر و اسلام کے درمیان درپیش تھی۔اس سورت کی فضیلت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے والے کے لئے دو جمعوں کے درمیانی عرصہ کے لئے روشنی رہتی ہے ۔ ( سنن بیہقی ص249 ج 3 ) زیر تبصرہ کتاب’’خطبات سورۃ کہف ‘‘ پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ کہف کے متعلق تفسیری خطبات کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز نومبر1994ء میں کیا اور بیس خطبات یعنی پانچ ماہ میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت میں مکمل بیان کیا ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃ کہف کی منفرد تفسیر ہے ۔(م۔ا)

pages-from-samaaji-braiyon-ka-insidaad-aur-qurani-taleemat
اشہد رفیق ندوی

قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سماج میں پائی جانے والی برائیوں کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ اسے ایمان کا تقاضا قرار دیا کہ مومن برائی کو برائی سمجھے اور حتی الوسع اس کی روک تھام کی کوشش کرے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس کے فرائض میں شامل اور داخل ہے ۔قرآن کریم نے اخلاق اور حقوق کےادا کرنے پر پورا زور دیا ہے۔ وہ والدین کے حقوق ہوں یا رشتہ داورں اور پڑسیوں کے یا عام انسانوں کے۔ جھوٹ، جھوٹی گواہی، حسد، غیبت، بہتان، تمسخر، کبر وغرور، فتنہ وفساد، چوری، ناحق قتل، ظلم وتشدد، ڈاکہ زنی، رہزنی، دھوکہ دہی اور باہمی کشیدگی سے روکا ہے کیونکہ یہ چیزیں سماج کو کھوکھلا کرنے والی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سماجی برائیوں کا انسداد اور قرآنی تعلیمات‘‘ ادارہ علوم القرآن علی گڑھ کے زیراہتما م مذکورہ موضوع پر منعقد کیے گئے سیمینار میں پیش کیے گئے تقریباً پچیش تحقیقی وعلمی مقالات کا مجموعہ ہے۔ ان مقالات کو جناب اشہد رفیق ندوی صاحب نے حسن ترتیب سے مرتب کرکے عامۃ الناس کے استفادہ کے لیے پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-khutbat-e-rehmani-copy
عبد اللہ ناصر رحمانی

فضیلۃالشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی ﷾بلاشبہ پاکستان کے لئے علمی لحاظ سے سرمایہ اعزاز افتخار ہیں۔آپ کی لِلاہیت،تقویٰ، طہارت، رسوخ فی العلم کے اپنے خواہ غیر سبھی معترف ہیں، آپ ایک اچھے منتظم، بلند پایہ محقق، مثالی مدرس، داعی الی الحق ،بیدارمغز ،صاحب طرز ادیب وانشاءپرداز، اور سنجیدہ خطیب شمار کیے جاتے ہیں۔آپ طلباء کے لئے مشفق ،علماء کرام کے قدردان، اپنے پرائے سبھی کی بات خندہ پیشانی سے سننے کی عادت سے سرفراز ہیں۔ آئے دن آپ کے مقالات ومحاضرات علمیہ، ملکی اور غیر ملکی جرائد کی زینت بنے نظر آتے ہیں، جن سے آپ کی علمی بصارت وبصیرت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔شیخ موصوف۲۸دسمبر۱۹۵۵ء کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے،آپ کا بچپن اور جوانی اسی شہر میں گزری آپ کا ابتدائی اسم گرامی شکیل احمد تجویز ہوا تھا، مگر آپ کے استا د گرامی قدر مولانا کرم الدین سلفی نے تبدیل کرکے عبداللہ رکھا جس سے آپ نے شہرت پائی ،پرائمری کے بعد آپ کو آپ کے والد گرامی نے دین کے لیے وقف کردیا اور دارالحدیث رحمانیہ کراچی میں دینی تعلیم کےحصول کےلیے داخل کروایا۔اس وقت یہ دینی دانش گاہ بڑی شہرت کی حامل تھی۔ جہاں آپ نے آٹھ سال بڑی محنت ولگن سے تعلیم حاصل کی اور امتیازی نمبروں سے سندالفراغ اور دستار بندی سے سرفراز ہوئے۔ مزید علمی تشنگیٔ دور کرنے کی غرض سے آپ نے جامعہ الامام محمد بن سعود اسلامیہ یعنی ریاض یونیورسٹی میں داخلہ لیا، اور وہاں چار سال تعلیم حاصل کی او رپھر وطن واپس آکر جامعہ رحمانیہ کراچی جیسے باوقار اسلامی ادارہ میں پورے آٹھ سال تک’’شیخ الحدیث‘‘ کے منصب جلیل پر فائزہوکر وطن عزیز کے طلبا کو علمی فائدہ پہنچاتے رہے۔ شیخ کو تفسیر،حدیث،اصول حدیث،فقہ،تاریخ ،سیرو فن رجارل پرمکمل دسترس حاصل ہے ۔ آپ نے دار الحدیث رحمانیہ ، جامعہ ابی بکر میں تدریسی فرائض انجام دینے کےساتھ دعوت وتبلیغ اور تصنیف وتالیف کا کام بھی تندہی سے جاری رکھا آپ کی دعوت کا حلقہ بڑا وسیع ہے سامعین آپ کے علمی خطبات کو بڑے ذوق وشوق سے سنتے ہیں دعوت کےسلسلے میں آپ نے کئی بیرونی ممالک کے سفربھی کیے ہیں۔آپ جمعیت اہل حدیث سندھ کے امیر ہیں اور دعوت وتبلیغ کے سلسلے میں آپ سید بدیع الدین شاہ راشدی﷫ کےبعد بڑا نمایاں کام کیا ہے۔نیز آپ نے معهد السلفى للتعليم والتربية کراچی کے بانی و مدیر بھی ہیں اللہ تعالٰی اشاعت دین کے لیے آپ کی تمام کاوشوں کو شرف فبولیت سے نوازے ۔آمین زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات رحمانی ‘‘ شیخ عبداللہ ناصر حمانی ﷾ کے خطبات کامجموعہ ہے جسے جناب مولانا محمد طیب محمدی﷾ نے شیخ کی اجازت سے ان کےخطبات کو سی ڈیز سے سن کر جمع کر کے حسن ترتیب سےمرتب کیا ہے ۔طیب محمدی صاحب نے ابو الوفا عبداللہ محمدی صاحب کے تعاون سےشیخ عبداللہ ناصرحمانی ﷾ کےدعوت اہل حدیث سندھ میں مطبوعہ خطبات کو بھی اس کتاب میں شامل کردیا ہے ۔مولانا محمد طیب محمدی ﷾ نے فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی کے خطبات کوجمع ومرتب کے ان کی عصر حاضر کے منہج تخریج کے مطابق بہترین تخریج بھی کی ہے جس سے ان خطبات کی افادیت دو چند ہوگی ہے ۔(م۔ا)

pages-from-rajoo-ilallah-ahmiat-aur-taqaazey-jilad-2
اشہد رفیق ندوی

قرآن مجید ایک لائحہ عمل اور نصب العین ہے کہ جس نے بھی اس کو سینے سے لگایا اس کی جہالت اور پریشانیوں و مصائب وآلام کی زنجیریں پا ش پاش ہو کر گر گئیں۔ اور قرآن مجید ہدایت و نور کا سر چشمہ ہے اور زندگی کے جملہ معاملات کا حل ہے جو اس کے حقوق کو پورا کرنے کے بغیر ممکن نہیں۔ رجوع الی القرآن کا مطلب ہے کہ ہم قرآن مجید کو غور سے پڑھیں اس کی تعلیمات کو سمجھیں ان پر عمل پیرا ہوں اور انہیں اپنی زندگی کے ہر سفر میں مشعل راہ بنائیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رجوع الیٰ القرآن اہمیت اور تقاضے‘‘ ادارہ علوم القرآن، علی گڑہ کے زیر اہتمام مذکورہ موضوع کے عنوان پر منعقد کیے گئے دو سیمیناروں میں مختلف اہل علم کی طرف سے پیش کیے گئے علمی و تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے ان مقالات کو محترم جناب اشہد رفیق ندوی صاحب نے بڑی محنت سے دو جلدوں میں مرتب کیا ہے یہ دونوں جلدیں قرآن کریم کے متعلق جملہ موضوعات پر مشتمل بیش قیمت علمی تحفہ ہے۔ (م۔ا)

title-pages-khawab-ki-haqiqat-tehqiq-ki-roshni-me-copy
ڈاکٹر غلام قادر لون

انسان کبھی نیند کی حالت میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہے جو بیداری اورجاگنے کی حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ عرف عام میں اس کو خواب کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خواب میں روح جسم سے نکل کر عالم علوی اور عالم سفلی میں سیرکرتی ہے جو جاگنے میں نہیں دیکھ سکتی وہ دیکھتی ہے۔ اسے حِسِّ روحانی کہنا چاہیے، حس جسمانی صرف حاضر پر حاوی ہوسکتی ہے اور حِس روحانی حاضر وغائب دونوں کا ادراک و احساس کرتی ہے، اس لئے خواب میں ایسے احوال وکیفیات مشاہدہ میںآ تی ہیں جن سے خود خواب دیکھنے والے کو بڑی حیرت ہوتی ہے، کبھی مسرت انگیز اورکبھی خوفناک تصویریں ذہن میں ابھرتی ہیں اور بیداری کے ساتھ ہی یہ تمام کہانی یکلخت مٹ جاتی ہے۔ قرآن کے متعدد مقامات میں مختلف نوعیتوں سے خواب کا تذکرہ کیا گیا ہے اوراحادیث میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قدرے تفصیل بیان فرمائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواب کا وجود حق ہے۔ انبیاء کرام کے علاوہ دیگر افراد کا خواب اگرچہ حجت شرعی نہیں تاہم یہ فیضان الوہیت اور برکات نبوت سے ہے۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اس سے مراد علم نبوت ہے یعنی رویاء صالحہ علم نبوت کے اجزاء اور حصوں میں سے ایک جزو حصہ ہے۔ (صحیح بخاری ومسلم) غور کیاجائے تو اس حدیث میں آپ ﷺ نے اچھے اور بہتر خواب کی فضیلت و منقبت بیان فرمائی ہے اوراسے نبوت کا پرتو قرار دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" خواب کی حقیقت، تحقیق کی روشنی میں"محترم ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے خواب کی حقیقت کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ا ن کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔(راسخ)

title-pages-khutbat-e-pakistan-copy
سید جلال الدین انصر عمری

مولاناسید جلال الدین عمری ۱۹۳۵ء میں جنوبی ہند میں مسلمانوں کے ایک مرکز ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی۔ پھر عربی تعلیم کے لیے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لے کر ۱۹۵۴ء میں فضیلت کاکورس مکمل کیا۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور فارسی زبان وادب کی ڈگری ’منشی فاضل‘ حاصل کی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے پرائیوٹ سے پاس کیا۔عمر آباد سے فراغت کے بعد مولانا جماعتِ اسلامی ہند کے اُس وقت کے مرکز رام پور آگئے اور وہاں اس کے شعبۂ تصنیف وتالیف سے وابستہ ہوگئے۔ مولانا سید جلال الدین عمری برصغیر ہندو پاک کے ان چند ممتاز علماء میں سے ہیں جنھوں نے اسلام کے مختلف پہلوؤں کی تفہیم وتشریح کے لیے قابل قدر لٹریچر وجود بخشا ہے۔ اسلام کی دعوت، اسلام کے نظام عقائد ومعاملات اور اسلامی معاشرت پر آپ کی کتابیں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ آپ ہندوستان کی تحریک اسلامی کے چوٹی کے رہ نماؤں میں سے ہیں۔ دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں انتہائی مصروف رہنے کے باوجود اسلام کے مختلف پہلوؤں پر آپ کی بیش قیمت تصانیف آپ کی عظمت وقابلیت کا زبردست ثبوت ہیں۔  زیر تبصرہ کتا ب’’خطبات پاکستان ‘‘ جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری ﷾ کے پاکستان میں آمد پر ان کے مختلف اداروں ، جامعات ، میں پیش گئے کے خطبات ومحاضرات اور ان کے سفر کی روداد پر مشتمل ہے۔موصوف 2005ء اور 2012ء میں پاکستان تشریف لائے تو آپ نے اسلام آباد،کراچی ، لاہور میں مختلف اداروں میں خطابات کیے ، مختلف اداروں کے وزٹ کیے اورکئی رسائل وجرائد اورٹی وی چینلز کو انٹرویو بھی دئیے۔ ان دونوں اسفار کی رودادا ور آپ کے خطبات کو مولانا رضی الاسلام ندوی نے ’’خطبات پاکستان ‘‘کے نام سے مرتب کیا ہے ۔(م۔)

pages-from-rajoo-ilallah-ahmiat-aur-taqaazey-jilad-1
اشہد رفیق ندوی

قرآن مجید ایک لائحہ عمل اور نصب العین ہے کہ جس نے بھی اس کو سینے سے لگایا اس کی جہالت اور پریشانیوں و مصائب وآلام کی زنجیریں پا ش پاش ہو کر گر گئیں۔ اور قرآن مجید ہدایت و نور کا سر چشمہ ہے اور زندگی کے جملہ معاملات کا حل ہے جو اس کے حقوق کو پورا کرنے کے بغیر ممکن نہیں۔ رجوع الی القرآن کا مطلب ہے کہ ہم قرآن مجید کو غور سے پڑھیں اس کی تعلیمات کو سمجھیں ان پر عمل پیرا ہوں اور انہیں اپنی زندگی کے ہر سفر میں مشعل راہ بنائیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رجوع الیٰ القرآن اہمیت اور تقاضے‘‘ ادارہ علوم القرآن، علی گڑہ کے زیر اہتمام مذکورہ موضوع کے عنوان پر منعقد کیے گئے دو سیمیناروں میں مختلف اہل علم کی طرف سے پیش کیے گئے علمی و تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے ان مقالات کو محترم جناب اشہد رفیق ندوی صاحب نے بڑی محنت سے دو جلدوں میں مرتب کیا ہے یہ دونوں جلدیں قرآن کریم کے متعلق جملہ موضوعات پر مشتمل بیش قیمت علمی تحفہ ہے۔ (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1337 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں