pages-from-esaiyat-key-batil-aqeedon-ki-haqiqat
محمد ایوب عباسی

اللہ  رب العزت نے اپنی مخلوقات پر بے شمار احسانات  کیے ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ مخلوقات کی دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ قائم کیا اور ہر نبی کو اپنے دور کے مطابق معجزات سے نوازا۔ اُن انبیاء میں سے صرف اور صرف نبیﷺ کی تعلیمات واحد ہیں جو محفوظ اور غیر تحریف ہیں وگرنہ یہود ونصاریٰ نے اپنے نبیوں کی شریعت میں تحریف کر دی اور اسے اپنے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی‘ جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ کو الوہیت ربانیت اور تثلیث جیسے عقائد میں منسلک کر دیا اور ان کی پاکیزہ شخصیات کے بارے میں خود ساختہ عقائد کو عام کیا۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں عسائیوں کے ان باطل عقائد اور نظریات کا رد کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے نبی کے بارے میں عام کیے اور عیسائیت اس وقت اسلام کے بالمقابل پھیلنے والا دین ہے  اس لیے ان کے گمراہ کن عقائد کا رد کرنا نہایت ضروری ہے جو کہ اس کتاب میں کیا گیا ہے۔ اور مصنف نے تحقیق کر کے ان معلومات کو کتاب کی زینت بنایا ہے  جن سے ان کے عقائد کا رد ہوتا ہے۔اور عیسیٰؑ کے نبی مبعوث ہونے اور ان کی مصلوبیت کا بھی اناجیل اور قرآن کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔ عام قاری کے لیے یہ کتاب بے حد مفید ہے کیونکہ اس کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ اور سہل زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ عسائیت کے باطل عقیدوں کی حقیقت ‘ قرآن اور بائبل کی روشنی میں‘‘ محمد ایوب عباسی کی تحقیقی اور علمی کاوش ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-kabira-gunahon-ki-haqiqat-copy
ابو عبد الرحمٰن شبیر بن نور

قرآن مجید کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ﴿إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا ﴿٣١﴾ ...النساء اگر کوئی شخص کبیرہ گناہوں سے بچا رہے تو اس کی بخشش ہو جائے گی۔ یہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کی رحمت کا اظہار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بندوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہیں کرنا، اصلاً رحمت اور شفقت کا معاملہ کرنا ہے۔ کبیرہ گناہوں سے بچنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب اصلاً کوئی شخص اپنی زندگی خدا خوفی کے اصول پر گزار رہا ہو۔اور اگر کوئی آدمی ان سے بچا ہوا ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ وہ اصلاً بندگی کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جسے یہ خبر دی گئی ہے کہ اسے گناہوں اور کوتاہیوں کے باوجود خدا کی مغفرت حاصل ہو جائے گی۔اسی لیے اہل علم نے امت کی راہنمائی کے لیے عقائد، فقہ، احکام، آداب اور دیگر موضوعاتپر قلم اٹھا کر گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔حسبِ موقعہ کبائر کا تذکرہ ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’کبیرہ گناہوں کی حقیقت‘‘ ابو عبد الرحمٰن شبیر بن نور کی بہت عمدہ کاوش ہے ۔جس میں کبیرہ گناہوں کو بیان کیا ہے اور ان کے مرتکب پر دنیوی و اُخروی سزا کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔اس کتاب کو امام ابی عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی کی تالیف ’’ الکبائر‘‘ ساتھ ساتھ الشیخ محمد بن عبد الوہاب  کی’’الکبائر‘‘اور مزید دیگر کتب سے استفادہ کر تے ہوئے دو ابواب میں مدون کیا گیا ہے۔باب اول گناہوں کی حقیقت اور اثرات پر مشتمل اور جبکہ باب ثانی کبائر کی تفصیلات پر مبنی ہے۔امید ہے یہ کتاب گناہوں سے بچنے میں کافی معاون ثابت ہوگی۔ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں اس کتاب کو مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔ پ،ر،ر

title-pages-kia-aqleem-hind-me-ishat-e-islam-copy
غازی عزیر مبارکپوری

برصغیر میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق منعدد امور توجہ طلب ہیں کیونکہ ان سے متعلق جو تفصیلات عام لوگوں کو معلوم ہیں وہ زیادہ تر غلط اور بہت کم صحیح ہیں۔ان امور میں بعض کا تعلق عقائد سے بعض کا عمل سے اور بعض کی حیثیت صرف علمی و نظری ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور اسلام کی اشاعت سے متعلق موضوع بھی بعض غلط فہمیوں یا غلط بیانیوں کا شکار ہوا ہے۔جس کی بنا پر تصوف کی تعظیم و تمجید کے لئے ایک بات یہ بھی مشہور کی گئی ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی اشاعت میں صوفیاء کا کردار ہے بے حد عظیم ہے۔ تاریخی طور پر اگر یہ بات ثابت ہو جاتی تو اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہ تھا، لیکن ایک خالص تاریخی و علمی مسئلہ کو عقیدت و احترام کے زور پر ثابت کرنا آج کے علمی معیار و مقام کے شایانِ شان نہیں۔خوشی کا مقام ہے کہ محترم غازی عُزیر صاحب نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ کیا اقلیم ہند میں اشاعتِ اسلام صوفیاء کی مرہونِ منت ہے؟ ‘‘ میں واضح کیا گیا ہے کہ ہندستان میں اسلام صوفیاء کے ذریعہ نہیں بلکہ فقط محدثین کرام اور علمائے حق کے ذریعہ آیا، اور آج جو کچھ ہندستان میں موجود ہے وہ انہی محدثین عظام کی انتھک کاوشوں اور بے لوث خدمات کا ثمرہ ہے۔امید ہے اس کتاب سےبرصغیر میں اشاعت اسلام کی حقیقت عیاں ہو جائے گی اور محدثین کرام نے کس قدر اپنی زندگیوں کو دین اسلام کی سر بلندی کےلئے قربان کیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ محدثین اور غازی عزیر صاحب کی محنتوں کو قبول فرمائے۔آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

pages-from-aqeedah-ahl-e-sunnat-wa-jamaat
محمد بن ابراہیم الحمد

اسلامی عقیدے کی تعلیم وتفہیم اور اس کی طرف دعوت دینا ہر دور کا اہم فریضہ ہے۔ کیونکہ اعمال کی قبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے۔اور دنیا وآخرت کی خوش نصیبی اسے مضبوطی سے تھامنے پر منحصر ہے اور اس عقیدے کے جمال وکمال میں نقص یا خلل ڈالنے والے ہر قسم کے امور سے بچنے پر موقوف ہے۔ زیرِ نظر کتاب’’عقیدہ اہل السنہ والجماعہ‘‘ خاص اسی موضوع’’عقیدہ ومنہج‘‘ پر ہے۔ اس کتاب میں دو ابواب قائم کیے گئے ہیں اور آخر میں خاتمہ پر مشتمل تفصیل بھی ہے۔پہلے باب میں اسلامی عقیدے کا مفہوم اور اس کی خصوصیات کے عنوان سے ہے اور اس کے تحت دو فصلیں بھی ہیں پہلی فصل اسلامی عقیدے کے مفہوم پر ہے جس کے تحت تین مباحث ہیں۔دوسرا باب اہل سنت وجماعت کی خصوصیات کے عنوان سے ہے۔ یہ باب ان خصائص واوصاف پر مشتمل ہے جو اہل السنہ والجماعہ کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔اور خاتمہ ان دلائل کے خلاصے پر ہے جو اس مقالے میں آچکے ہیں اور یہ مقالہ متقدمین اور متاخرین اسلاف کے اقوال کا مجموعہ ہے۔امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد قاری سلف و صالحین کے عقیدہ سے مکمل آگاہی حاصل کر لے گا اور یہ کتاب سب کے عقیدے کے پختگی کا باعث ہوگی کیونکہ مؤلف نے اس کتاب کو بڑی عمدہ ترتیب دی ہے اور ہر بحث پر دلائل دے کر حوالہ جات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’عقیدہ اہل سنت وجماعت‘‘ مولانا عبد الجبار سلفی صاحب کے کیے ترجمے پر مشتمل ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)(ح۔م۔ا)

title-pages-qasas-al-nisa-fil-quran-al-kareem-copy
احمد جاد

قرآن و حدیث کا اسلوب ہر اعتبار سے خاص، ممتاز اور منفرد ہے۔ کسی ادیب، مؤرخ یا سیرت نگار نے کوئی واقعہ بیان کرنا ہو تو وہ مربوط انداز میں وقت، جگہ اور شخصیات کا تذکرہ کرے گا۔ لیکن قرآن مجید کا اسلوب بیان بالکل نرالا ہے اور اس کا مقصد نہایت اعلیٰ و ارفع ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں جس قدر داستانیں بیان کی گئی ہیں، ان میں اخلاقی اور روحانی پہلو خاص طور پر پیش نظر ہوتا ہے۔ بلکہ ہر پہلو داستان کی جان ہوتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’ قصص النساءفی القرآن الکریم ‘‘عربی زبان میں فضیلۃ الشیخ احمد جاد کی ہے اور اس کو اردو قالب میں ابو ضیاء محمود احمد غضنفرڈھالا ہے۔اس کتاب میں پاکباز مومنات خواتین کی مہکتی سیرت کے روح پرور اور ایمان افروز قصّے تذکرے داستانیں بیان کی گئی ہیں جو قرآن مجید نے بیان کی ہیں۔اور قصص کو نہایت مختصر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اور مسلمان بہنوں کو چاہیے کہ وہ مومن عورتوں کی سیرت کا مطالعہ کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت حاصل کریں اور اس کتاب کو مرتب کرنے کا مقصد بھی یہی ہے۔امید ہے کہ یہ کتاب بگڑتے ہوئے معاشرے کی اصلاح کے لئے کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں اس کتاب کو مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔طالب دعا: پ،ر،ر

title-pages-quran-bulata-hi-reh-gya-copy
عبد القدوس سلفی

قرآن مجید ہماری زندگی کا سرمایہ اور ضابطہ ہے۔ یہ جس راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرے ہمیں اُسی راہ پر چلتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ قرآن مجید ہماری دونوں زندگیوں کی بہترین عکاس کتاب ہے۔لہٰذا یہ قرآن ہمیں رہنمائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ پر عمل پیرا ہونے سے تم فلاح پاؤ گے، عزت و منزلت اور وقار حاصل کرو گےاور مجھ سے دوری کا نتیجہ اخروی نعمتوں سے محرومی، ابدی نکامی اور بد بختی کے سوا کچھ نہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ قرآن بلاتا ہی رہ گیا....!‘‘ حافظ عبد القدوس السلفی کی ہے جس میں بکھری ہوئی امتِ محمدیہ کو یکجا کرنے اور کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرنے کی طرف رہنمائی کی ہے۔اس کتاب میں قرآن مجید کی تعلیم کی فضیلت، قرآن کےانتہائی اہم پانچ حقوق بیان کیے گے ہیں۔مزید اس کتاب میں ایک خوبی یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے مکمل حوالہ جات کا اہتمام کیا گیا ہے۔امید ہے اس کتاب کو پڑھنے سے قرآن مجید سے محبت و الفت اور عمل پیرا ہونے کا جذبہ پیدا ہو گا۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں اس کتاب کو اللہ تعالیٰ حافظ عبد القدوس السلفی کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

title-page-shashmahi-rushad--jild-12-shumara-6--2016-copy
لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

اس وقت رشد کا چھٹا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’اجتماعی اجتہاد کا مفہوم: ایک ارتقائی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ہے کہ جسے راقم نے ترتیب دیا ہے۔ اجتماعی اجتہاد ایک جدید اصطلاح ہے جبکہ اس کا تصور قدیم ہے۔ اجتماعی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ علماء کی ایک جماعت مل کر قرآن وسنت کی گہرائیوں اور وسعتوں سے کسی مسئلے کا شرعی حکم نکالنے کے لیے مقدور بھر کوشش کرے۔ آج کل مسلم دنیا کے بہت سے ممالک میں علماء کی سرکاری اور غیر سرکاری قسم کی مجالس اور کمیٹیاں جدید مسائل میں اجتماعی فتویٰ جاری کرتی ہیں جو کہ اجتماعی اجتہاد ہی کی صورتیں ہیں۔ عصر حاضر میں کچھ علماء نے اجتماعی اجتہاد کے اس عمل کو جامع مانع تعریف کی صورت میں مدون کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کے نتیجے میں اجتماعی اجتہاد کی کوئی دس کے قریب اصطلاحی تعریفات وضع ہو چکی ہیں۔ اس مقالے میں ان جمیع تعریفات کا تقابلی اور تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے اس عمل کے لیے مناسب تعریف اور اس کے لیے متعلقہ الفاظ کے انتخاب کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ دوسرے مقالے کا موضوع ’’اصول تفسیر کی تاریخ وتدوین‘‘ ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر جن اصولوں کی روشنی میں کی جاتی ہے، وہ اصول تفسیر کہلاتے ہیں۔ اس مقالہ میں اصول تفسیر کی تاریخ اور تدوین ہر سیر حاصل بحث کی گئی ہے کہ وہ کون کون سے مصادر یا فنون ہیں کہ جن میں اصول تفسیر سے متعلق ابحاث مدون ہوئی ہیں۔ یہ واضح رہے کہ اصول تفسیر کے نام سے اصول تفسیر پر بہت کم کتب لکھی گئی ہیں جبکہ اصول تفسیر کا بیان اکثر طور امہات تفاسیر کے مقدمات، علوم قرآن کی کتب اور اصول فقہ کے مصادر وغیرہ میں ہوا ہے۔ مقالے میں نہ صرف دور صحابہ اور دور تابعین میں تفسیر کے مصادر اور اصولوں کو بیان کیا گیا ہے بلکہ ان دونوں ادوار کی تفاسیر کی امتیازی خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔  تیسرے مقالے کا عنوان ’’خبر واحد کی حجیت: محدثین اور فقہاء کا نقطہ نظر‘‘ ہے۔ قرآن مجید ہو یا سنت رسول، دونوں کے منتقل ہونے کا بنیادی ذریعہ خبر ہی ہے۔ خبر واحد سے مراد ایسی خبر ہے کہ جسے نقل کرنے والے ایک، دو یا تین افراد ہوں۔ قرآن مجید اور خود سنت بھی اس بات پر متفق ہے کہ اگر اللہ کے رسول ﷺ کا قول، فعل اور تقریر (silent assertion) جب خبر واحد کے ذریعہ سے مخاطب تک پہنچے، تو وہ اس کے حق میں حجت (binding) بن جاتا ہے بشرطیکہ وہ خبر صحیح (authentic) ہو۔ اور خبر کے صحیح ہونے کی پانچ شرائط ہیں کہ سند میں راوی عادل ہوں، ضابط ہوں، سند میں انقطاع نہ ہو، سند اور متن میں شذوذاور علت نہ ہو۔ اور فقہاء کی اکثریت نے بھی خبر کے صحیح ہونے میں اسی معیار کو قبول کیا ہے۔  چوتھا مقالہ ’’ہدیہ اور اس کی شرعی حیثیت‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے میں ہدیہ کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس میں اور رشوت میں فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں رشوت کی بہت سی صورتوں کو ہدیے اور تحفے کے نام پر رواج دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقالہ نگار نے رشوت کی ایسی تمام صورتوں کا ایک تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے کہ جنہیں حیلے بہانے سے ہدیہ اور ہبہ بنا کر شرعی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پانچواں مقالہ ’’ عورت کی دیت کا مسئلہ ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے میں احادیث نبویہ، آثار سلف، اجماعِ امت اور قیاس جیسے مصادر کی روشنی میں عورت کی دیت کے مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے۔ اور ثابت کیا گیا ہے کہ وراثت اور گواہی کی مانند دیت میں عورت کا نصف حصہ اس لیے ہے کہ عورت نان و نفقہ اور حق مہر وغیرہ کی صورت میں مالی حقوق تو حاصل کرتی ہے لیکن شرع کی طرف سے اس پر گھر کی کوئی مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے۔ عورت کی نصف دیت کو اس کے حق میں توہین اور استخفاف سمجھنے والے سخت غلطی پر ہیں کیونکہ نسب اور رضاعت وغیرہ جیسے مسائل میں عورتوں کے حقوق کو مردوں پر فائق رکھا گیا ہے اور اس میں مردوں کی کوئی توہین نہیں ہے بلکہ یہ ان کے دائرہ کار کے اعتبار سے حقوق کی مساوی تقسیم کا ایک طریق کار ہے۔ چھٹا مقالہ ’’ مصطلح"الولاية " في القرآن العظیم والحديث النبوي! دراسة وتحليلا ‘‘کے عنوان سے ہے۔اس مقالے میں علوم القرآن کی مباحث میں سے ایک مبحث غریب القرآن پر بحث کی گئی ہے، جو قرآن کریم کا ایک منفرد اعزاز ہے۔ مقالہ ہذا میں قرآن کریم کے مفردات میں سے مفرد (الولي ) کے لغوی واصطلاحی معانی پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور معاشرے پر اس کے انطباقات کو واضح کیا گیا ہے۔(ح۔م۔ز)

pages-from-shabaab-shadi-aur-shara
اعجاز حسن چوہدری

اسلام ایک مکمل اور ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام سے محبت کرنے والے ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شب وروز قرآن وسنت اور اسلام کی دی گئی تعلیمات کے مطابق بسر کرے۔ دنیاوی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو اسے قرآن وسنت کے سانچےمیں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دنیاوی معاملات میں ایک حساس معاملہ شادی کی تقریب کا ہے کہ شادی کی تقریب کو کیسے قرآن وسنت کی روشنی اور رہنمائی کے مطابق انجام دیا جائے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اسی موضوع پر ہے ۔ جس کی تالیف کا سبب بھی یہی تھا کہ شادی کی تقریب میں نامناسب رسوم اور دیگر غلطیوں کی نشاندہی کرنا اور قرآن وسنت کی رہنمائی کو لوگوں تک پہنچانا۔ اس کتاب کو آٹھ حصوں میں اور ہر حصے کو طوالت کی صورت میں مباحث میں تقسیم کیا گیا ہے اور عامۃ الناس کے لیے موضوعا ت کو مختصر ٹکڑوں کی صورت یا نکات کی صورت میں ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔ احادیث کے حوالے کو اختصار سے بیان کرتے ہوئے صرف مذکورہ مرجع کی متعلقہ’کتاب‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ سنن اربعہ کی احادیث ہونے کی صورت میں شیخ البانی کا حکم اجمالی بھی بیان کیا گیا ہے۔ مسائل قرآن وسنت سے بیان کیے گئے اور سلف کے قرآن وسنت سے استنباط شدہ مسائل سے رہنمائی لی گئی ہے۔ آخر میں مشکل الفاظ کے معانی فہرست کی صورت میں دیے گئے ہیں۔ آخر میں اس موضوع پر مزید استفادہ کے لیے فہرست کتب تحریر کی گئی ہے۔یہ کتاب’’شاب‘ شادی اور شرع‘‘ اعجاز حسن چوھدری کی علمی کاوش ہے جو کہ جامعہ اسلامیہ کے فاضل ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-fatawa-salfia-copy
محمد اسماعیل سلفی

دین اسلام جو اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین ہے ۔جس کی اصلی روح قرآن اور حدیث ہیں۔ شرک و بدعات اور اوہام و خرافات اسلامی روح کے منافی ہیں۔ اسلام کی حقیقی اور اصلی روح کو برقرار رکھنے کے لئے ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے پیدا کئے، جنہوں نے نہ صرف دعوت و تبلیغ اور امر و نواہی کا فریضہ انجام دیا، بلکہ اس چشمہ صافی کی ہر طرح سے حفاظت بھی کرتے رہے۔اسلامی دعوت کے اہم عناصر میں ایک عناصر دین کے پچیدہ مسائل میں رہنمائی اور اس کی عقدہ کشائی بھی ہے۔ اس کا ایک اہم جزء فتویٰ نویسی بھی ہے۔برِّ صغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث کی علمی خدمات کے دائرہ میں ان کی فتویٰ نویسی بھی ایک اہم خدمت ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ فتاویٰ سلفیہ‘‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اسماعیل کی ان شگفتہ و دل پذیر تحریروں کا مجموعہ ہے،جو سوال و جواب کی شکل میں جماعت کے مختلف پرچوں، خصوصا ’’الاعتصام‘‘ لاہور میں شائع ہوتے رہے ہیں۔جن کا تعلق روز مرّہ کی زندگی میں پیش آنے والے مسائل سے ہے اور ہر آدمی کے لئے اسے جاننا بہت ضروری ہے۔سلفی صاحب کی پیدائش 1895ء میں تحصیل وزیر آباد کے گاؤں ’’ ڈھونیکے ‘‘ میں ہوئی۔ 20 فروری 1968ء کو اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ بیک وقت مفسر، محدث، فقیہ، مؤرخ، ادیب اور محقق عالم دین تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر آئندہ ایڈیشن میں حسب ذیل تجاویز کو مد نظر رکھا جائے تو کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ بہت ساری جگہوں پر حوالہ جات ناقص ہیں، انھیں مکمل کیا جائے۔حوالہ جات کو فٹ نوٹ میں درج کیا جائے۔ (پ ، ر ، ر )

pages-from-shan-e-ahl-e-bait
ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو چند ساتھی دیے جنہیں حواری کے لفظ سے جانا جاتا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ساتھیوں کو صحابہ کے نام سے ۔ ہر نبی کے ساتھیوں کو اتنی عظیمت وشان حاصل نہیں ہے جتنی کہ نبیﷺ کے صحابہؓ کو۔ ان کی شان اور عظمت کے اعتبار سے بہت سے فرقے الحادو ضلالت کا شکار ہیں ایک گروہ ان سے بغض رکھتا ہے اور ایک گروہ محبت تو کرتا ہےمگر ان کی محبت غلو پر قائم ہےاور ان سے تعلق کے پہلو کو انتہائی عداوت ونفرت سے لیتے ہیں جس کا اظہار سب وشتم سے کرتے ہیں لیکن اہل سنت والجماعت کا منہج یہ ہے کہ وہ اہل بیت رسولﷺ سے محبت کا عقیدہ بھی ہے اور اصحاب رسولﷺ سے بھی اور غلو سے پاک ہے۔ زیرِ نظر کتاب’’ شان اہل بیت اطہارؓ‘‘ بھی اسی موضوع پر ہے جو کہ اپنے موضوع پر ایک جامع اور مکمل کتاب ہے۔ جس میں موضوع سے متعلق تقریبا ہر بات تفصیلا واجمالا موجود ہے۔ البتہ اس کتاب میں صحابہ کرام اور اہل بیت کے درمیان سسرالی رشتہ داریوں کے حوالے سے تشنگی تھی جسے مقدمہ میں پورا کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں تیرہ ابواب مرتب دیے گئے ہیں اور تیرہویں باب کو چھ فصول میں منقسم کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب شاندار اور زُبان میں سلاست موجود ہے جس کی وجہ سے یہ صحابہ کرام اور اہل بیتؓ سے محبت ومودت کا باعث بنے گی کیونکہ اہل بیت اور صحابہ کرام سے محبت دین اسلام کا جزو لا ینفک ہے۔یہ کتاب’’شان اہل بیتؓ‘‘ ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی اور الشیخ حافظ حامد محمود الخضری کی مخلصانہ مساعی کا نتیجہ ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولفین وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-sharah-al-sunnah-copy
امام محمد الحسن بن علی بن خلف البربہاری

کلمہ توحید کا اقرار کر لینے کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت عقیدہ ومنہج کی درستگی پر ہے۔ اگر عقیدہ ومنہج میں کوئی ذرا سی بھی اونچ نیچ ہو تو وہ بڑے سے بڑے عمل کو رائیگاں کرنے کا باعث بن جاتی ہے اور عقیدہ کی درستگی چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی پہاڑ جیسا بنانے میں معاون ہوتی ہے۔عصر حاضر میں مختلف میدانوں میں مسلم ممالک کے خلاف عموماً حرمین شریفین کے خلاف خصوصاً کچھ ایسی سازشیں اور بڑے منصوبے رچے جا رہے ہیں جن میں سے کچھ سازشوں کا تعلق عقیدہ وسلوک سے ہے اور کچھ کا تعلق کتاب وسنت کی تعلیمات کو چھوڑ کر کسی اور چیز پر اعتماد کرنے سے ہے اور حالت تو یہ ہے کہ ملحدانہ لہریں اللہ کےمقام پر ترید کرنے تک پہنچ چکے ہیں اور یہ لہریں وجود الٰہی کا انکار کرنے‘ اس کا مستحق عبادت نہ ہونے اور عصر حاضر میں اس کے دین کے فیصلہ سازی کی صلاحیت مفقود ہونے پر نوجوانوں کو تربیت دے رہی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’ شرح السنہ‘‘ میں بھی اصل عقائد کو مختصر بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اصلا عربی زبان میں ہے جس کا سلیس اور سہل ترجمہ پیش کیا گیا ہے اور ترجمے کے ساتھ ساتھ تشریح کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں باطل فرقوں کا رد بھی کیا گیا ہے۔ کتاب کی ترتیب اور اس کا اسلوب نہایت اعلیٰ ہے مگر اس میں کچھ نقص بھی ہیں کہ یہ کتاب نہ تو عربی میں مکمل شرح کے ساتھ ہے اور نہ ہی مترجم نے اسے اصل کتاب سے توازن کر کے مکمل کیا ہے یہ پوری کتاب کے 172 نکات میں سے صرف 9 نکات کی شرح ہے اور مترجم نے ویسے ہی ترجمہ کر دیا ہے۔ اور حدیث کا حوالہ صرف ’کما جاء فی الحدیث‘‘ کی عبارت سے دیا گیا ہے اور حدیث کی کتاب اور اصل عبارت کو بیان نہیں کیا گیااور  کئی اہم نکات سے تعرض کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔لیکن پھر بھی اس کی تکمیل کے لیے مصنف نے پہلے مصنف سے رہ گئی تخریج کو بھی مکمل کیا ہے اور وہی نسخہ اور اسلوب اپنایا ہے۔شرح کو عنوان بھی دیا ہے۔یہ کتاب ’لامام ابی محمد الحسن بن علی بن خلف البرنہاری‘ کی تالیف کا ترجمہ ’شفیق الرحمان الدراوی‘ نے کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-ahde-nabwi-me-riasat-ka-nashu-w-irtika-copy
ڈاکٹر نثار احمد

حضور اقدسﷺ کی مساعی میں نہ صرف تائید ایز دی شامل تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے قدم قدم پر اُن کی دست گیری کی اور انہیں کامیابی کا راستہ دکھایا۔ حضور اکرمﷺ کا کارنامہ اس قد محیر العقول وعظیم المرتبت ہے کہ اسے کسی انسان کی قابلیت کا ثمرہ سمجھنا محال ہے۔ اس جد وجہد میں ہر  قدم پر ایک معجزہ نظر آتا ہے اس کے علاوہ کسی اور دلیل سے اس حیران کن کامیابی کا راز سمجھ میں نہیں آسکتا۔اس بنیادی حقیقت کے ادراک کے بغیر کہ حضورﷺ کی تمام کوششیں باری تعالیٰ کی ہدایت کی مرہون ہیں اور عہد رسالت کی تاریخ فی الواقعہ قرآن کریم کی تفسیر ہے‘ نہ اسلام تعلیمات کا فہم ممکن ہے نہ ابتدائے اسلام کی تاریخ کا۔عہد رسالت کے موٹے موٹے واقعات کا علم تو عام طور پر محقیقین اور طلبہ کو حاصل ہے لیکن بہت سے ایسے گوشے ہیں جو اپنی انتہائی اہمیت کے باجود لاعلمی یا غلط روایات کے انبار میں پوشیدہ ہیں۔ اس سلسلے میں بہت ذخیم کتب  معرض وجود میں آئیں مگر زیر نظر کتاب ایک جدا گانہ اور منفرد  موضوع پر اپنی سی پہلی تحقیقی کاوش اورعلمی دستاویز ہے۔ یہ کتاب ’ڈاکٹر نثار احمد ‘‘ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو کہ پانچ مستقل ابواب پر تحقیقی کارنامہ ہے۔ باب اول میں بعثت نبوی کے وقت دنیا کے مختلف میں مروج اور موجود نظام ہائے سیاسی پر بڑی مفید گفتگو کی گئی ہے۔دوسرے باب میں تاسیس ریاست یعنی سیاست کی بنیادیں کیا ہیں کی تفصیل ہے اور تیسرے باب میں توسیع ریاست سے متعلقہ‘ چوتھے میں استحکام ریاست سے متعلقہ‘ پانچویں میں انتظام ریاست سے متعلقہ مکمل تفصیل ہے۔ آخر میں اختتامیہ‘ کتابیات اور اشاریہ جات کا بھی ذکر ہے۔ یہ کتاب’’ڈاکٹر نثار احمد‘‘ کی تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے اور آپ نہایت محققانہ مزاج کے حامل ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-rozah-abdur-rehman-khalid
عبد الرحمن بن خالد ریاض

اللہ رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت و رسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘ نبی مکرمﷺ نے اپنے امتیوں کو ہر ہر گوشۂ زندگی سے متعلق رہنمائی فرمائی اور ان میں سے ایک روزہ جیسی ایک عظیم نعمت بھی ہے جس کے بارے میں نبیﷺ نے تفصیل سے بتایا ۔روزہ اسلام کا ایک اہم رکن ہے جس کے بغیر اسلام کی عمارت ادھوری ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی اسی عظیم عبادت سے متعلقہ ہے جس میں روزہ کی تعریف‘ اہمیت‘ روزہ رکھنے کی شرائط‘ سے لے کر اس سے متعلقہ تمام مسائل کو عام فہم‘ آسان اور مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور اس کتاب کی خاصیتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر روزہ دار کے لیے اس کتاب میں کچھ نہ کچھ مفید ضرور ہے۔رؤیت ہلال اور روزے سے متعلقہ دیگر مسائل کو بھی بیان کیا گیا ہے اور روزے کے انسانی جسم پر اعتراضات کو بھی بیان کیا گیا ہے‘ اعتکاف کے مسائل کو بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اور حوالہ جات کا خاص اہتمام ہے‘ حوالہ فٹ نوٹ میں دیا گیا ہے جس میں آیت کا نمبر‘سورۃ کا نمبر اور نام بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’رزوہ‘‘ عبد الرحمن بن خالد ریاض کی جمع ومرتب کردہ ہے۔ آپ تالیف تصنیف اور درس وتدریس کے دلدادہ بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف ﷾کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)(ح۔م۔ا)

title-pages-seerat--saww--ki-roshni-me-payam-e-zindagi-copy
خرم مراد

اللہ  رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘ نبیﷺ کی سیرت پر بہت سے سیرت نگاروں نے اپنے قلموں کو جنبش دی اور سیرت رسولﷺ پر عمدہ ترین مضامین اور کتب تالیف کیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری وساری رہے گا کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کہ اے نبی ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کیا۔زیرِ تبصرہ کتاب’’سیرت کی روشنی میں پیام زندگی‘‘ بھی سیرت مطہرہﷺ پر لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں سیرتِ نبوی‘ دعوت ِ نبوی اور کلام نبویﷺ کو اُجاگر کیا گیا ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ سیرت مطہرہ عملی زندگی میں کیسے اعمال حسنہ کی تکمیل ہے۔اور اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ نبیﷺ کی بے شمار سنتیں ہم خود چھوڑے ہوئے ہیں اور پھر خود کو کیسے شفاعتِ نبویﷺ کے حقدار سمجھ بیٹھے ہیں؟کتاب کو نہایت عمدہ انداز میں مرتب کیا گیا ہےاور اسلوب شاندار اور زُبان کی سلاست کا بھی مکمل خیال رکھا گیا ہے۔قرآنی آیات کے حوالے ساتھ ساتھ دیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں نبیﷺ کی زندگی سے  تمام اعمال صالحہ کو بیان کیا گیا ہے اور ان پر عمل کی توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ کتاب مولانا خرم مراد صاحب کی علمی اور تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے۔آپ تحقیق وتالیف کا ذوق رکھتے ہیں اور آپ نے بہت سے تحریریں بھی لکھی ہیں۔دعا ہے کہ  اللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-seerat-e-habib-saww-copy
ابوبکر جابر الجزائری

اللہ  رب العزت نے ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘ چونکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونا تھا اس لیے ناگزیر تھا کہ آپﷺ کو ایک ایسی آخری اور مکمل تعلیم وہدایت دے کر بھیجا جاتا جو رہتی دنیا تک کافی رہتی‘ اور پیارے نبیﷺ کی زندگی ہمارےلیے نمونہ ہے۔ ان ہی کے سانچے میں ہم نے اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہے اور یہ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے نہایت ضروری ہے اور اسی وجہ سے آپﷺ کی سیرت او رحدیث کے علم کو محفوظ کیا گیا اور علم نبویﷺ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ اور سیرت رسولﷺ پر بہت سی کتب لکھی گئی ہیں جس کا اکثر اور مستند حصہ عربی زبان میں ہے اس لیے اُسے عام حضرات کے فائدے کے لیے اردو زبان میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی عربی زبان میں لکھی گئی کتاب کا اردو ترجمہ ہے جو کہ عام فہم اور سلیس اردو میں کیا گیا ہے۔ دینی اصطلاحوں کو اردو میں منتقل کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ اور اس میں اکثر مقامات پر اشعار کا ترجمہ نہیں کیاگیا۔ اس کتاب کی جمع وترتیب میں تکرار‘ طولانی اور اختصار سے اجتناب کیا گیا ہے اور ایسا طریقہ اختیار کیا گیا ہے جو تقسیم ابواب اور تفصیل کلام کے حسن وجمال کے ساتھ ساتھ نہایت جامع‘ بڑا واضح‘ بہت آسان اور اس فن میں ایک مثال ہے۔اس کتاب کے ہر گوشے کو نتائج وعبر کے تذکرے سے مزین کیا گیا ہے۔ اور اس کتاب کے مطالعے سے ہر گھر میں افرادِ خانہ کے درمیان محبوب پیغمبرﷺ کی محبت پیدا ہوگی۔زیرِ تبصرہ کتاب’’ہذ الحبیب یا محب‘‘ کا اردو ترجمہ’’سیرت حبیب‘‘ کےنام سے کیا گیا ہے جو کہ ہمارے فاضل بھائی محترم پروفیسرآصف جاویدصاحب نے کیا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف اور مترجم ودیگر معاونین  کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-rehnuma-e-hajj
وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، حکومت پاکستان

حج اسلام کا پانچواں اہم رکن ہے ‘ ہر مسلمان کی دلی آرزو ہوتی ہے کہ وہ فریضہ حج ادا کرے‘ خانہ کعبہ کی زیارت کرے اور حضور نبی کریمﷺ کے روضہ اقدس پر حاضر ہو کر درود وسلام پیش کرے۔اسی طرح حج ایک عالمی اور اجتماعی عبادت ہے۔ اس کی تاریخیں قمری مہینے کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔ اور لوگ اپنی خوش نصیبی پر ناز کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انہیں اپنے گھر کی حاضری اور اپنے محبوب کے روضہ کی زیارت کا موقع فراہم کیا۔ یہ کتاب’’وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی حکومت پاکستان‘‘ کی طرف سے شائع کردہ ایک عمدہ لٹریچر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کو مرتب کرتے وقت اس بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ عازمین حج کو مناسک حج اور دیگر متعلقہ انتظامی امور کے بارے میں جامع انداز میں بنیادی تعلیمات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اس کی مدد سے مناسب حج آسانی سے ادا کر سکیں۔ اس کتاب میں سات ابواب کو قائم کیا گیا ہے‘ پہلے باب میں حاجی پاکستان میں کیا تیاری کریں کے متعلق‘ دسرے میں سر زمین سعودی عرب سے متعلق‘ تیسرے میں عمرہ کا طریقہ‘ چوتھے میں حج کا طریقہ‘ پانچویں میں زیارت مدینہ منورہ سے متعلقہ‘ چھٹے میں یاد رکھنے سے متعلقہ اور ساتویں میں حج کے لیے کم سے کم بنیادی باتیں تفصیلاً معلومات ہیں ۔یہ لٹریچر ’’وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی حکومت پاکستان‘‘ کی اہم کاوش ہے اور یہ تنظیم ہر سال ایک لٹریچر عوام کی خدمت اور رہنمائی کے لیے لکھتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنفین اور اس حکومتی تنظیم کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-sayyad-al-qounain-copy
محمد صادق سیالکوٹی

خُدا نے ہر چیز کو انسان کی خدمت‘ فائدے اور نفع کی خاطر پیدا کی اور اُسے صرف اپنی خالص عبادت کے لیے جلوہ بار کیا۔ خدا کی خالص عبادت کرنا انسان از خود نہیں جان سکتا اس لیے انسانوں میں ے ہی اس نے نبیوں کو منتخب فرمایا اور ان پر وحی نازل کر کے اپنی عبادت کے طریقوں کو متعین کیا۔ فانی‘ ہنگامی اور عارضی زندگی بسر کرنے کا لائحہ عمل بتایا تاکہ اس مستقر کو چھوڑنے کے بعد انسان اپنے اصلی گھر میں پہنچ کر ہمیشہ کی زندگی‘ ابدی‘ آرام اور چین پائے۔ سلسلہ انبیاء کی آخری کڑی جناب محمد الرسول اللہﷺ ہیں جن کی بشارت پہلے نبیوں نے بھی دی اور خدا تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ اگر ان کی موجودگی میں نبی آخر الزمان کا ظہور ہو تو وہ اپنی شریعت کو چھوڑ کر اُن کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔اور نبیﷺ کی سیرت پر بہت سی کتب اور بہت سارے مضامین لکھے جا چکے ہیں جو کہ نبیﷺ کی عزت وتکریم کی روشن مثال ہیں۔ ان کتب میں سے ایک کتاب’’سید الکونین‘‘ کےنام سے تالیف کی گئی ہے جس کا مقصد نبیﷺ کے حالات مسلمانوں کے سامنے آجائیں اور ہزار جان سے ان پر قربان ہو کر انہیں اپنائیں۔ اور اس کتاب کے مطالعے سے مسلمانوں کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ نبیﷺ کو کتاب وسنت اور دینِ اسلام کی تبلیغ کے لیے کن خارزاروں سے گزرنا اور کیسی کیسی تکلیفوں‘ مصیبتوں اور دکھوں سے دو چار ہونا پڑا ہے۔اس کتا ب میں نبیﷺ کی پیدائش پاک سے لے کر وفات تک تمام ضروری باتیں جمع  کی گئی ہیں۔ یہ کتاب نہ اتنی طویل اور ضخیم ہے کہ وقت کی قلت اور مشاغل کی کثرت اس کے مطالعہ میں مانع ہو اور نہ ہی اتنی مختصر ہے کہ نا مکمل کہلائے۔ تمام حالات اور واقعات تاریخ اور سیرت کی معتبر اور مستند کتابوں سے لیے گئے ہیں ۔ عقائد اور اعمال سے متعلق تمام باتیں قرآن اور حدیث سے درج کی گئی ہیں۔یہ کتاب حکیم مولانا محمد صادق سیالکوٹی کی علمی کاوش کا نتیجہ ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-deen-e-islam-par-sabit-qadmi-key-wasael
محمد بن صالح المنجد

اللہ کے دین پر ثابت قدم رہنا ہر سچے مسلمان کا بنیادی مقصد ہے اور رشدو عزیمت کے ساتھ صراط مستقیم پر گامزن رہنا ہی اولین مقصد ہے۔ آج جن حالات میں مسلمان زندگی بسر کر رہے ہیں کہ گوں ناگوں فتنے اور دلفریب چیزیں جن کی آگ میں وہ جل رہے ہیں اور قسم در قسم خواہشات اور شبہات جن کے سبب دین اجنبی ہو کر رہ گیا ہے۔ اہل دانش کو اس حقیقت سے قطعاً شک وشبہ نہیں ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کو دین پر استقامت کے لیے گذشتہ ادوار کے مسلمانوں کی نسبت وسائل کی زیادہ ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر مؤلف نے زیرِ تبصرہ کتاب کو تالیف کیا۔ اس میں صاحب کتاب نے دین اسلام پر استقامت کے وسائل کو بیان کیا ہے اور ہر وسیلہ کو بیان کر کے اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور اختصار کے پیش نظر چند اہم وسائل کا تذکرہ کیا گیاہے۔مثلا چند ایک وسائل یہ ہیں: قرآن پر توجہ‘ اللہ کی شریعت مطہرہ اور صالح اعمال کی پابندی‘ انبیاء کے پاکیزہ واقعات میں غور کر کے ان کو اسوۂ بنانا دعا کرنا ذکر الہٰی صحیح راہ کا حریص ہونا‘تربیت اور راستے پر اعتماد وغیرہ۔ اس کتاب میں زُبان کے سہل اور سلیس ہونے کا خیال رکھا گیا ہے اور حوالہ جات کا بھی اہتمام ہے اور زیادہ تر حوالے قرآن مجید سے ہی دیے گئے ہیں۔ اور یہ کتاب اصلاً عربی میں ہے جس کا نہایت آسان اور سلیس ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ دین اسلام پر ثابت قدمی کے وسائل ‘‘ مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری﷾ کا کیا ہوا ترجمہ ہے۔ آپ نے اس کتاب کے علاوہ دو کتب کے اور بھی تراجم کیے ہیں اور آپ تالیف وتصانیف کے ساتھ ساتھ خطابت کا عمدہ ذوق بھی رکھتے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین) (ح۔م۔ا )

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 407 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :