title-pages-tafseer-quran-k-usool-w-qawaid-copy
ڈاکٹر عبید الرحمن محسن

قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے ۔ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمدﷺ پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد ﷺنے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی قرآنی لفظ ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ہیں۔اصول تفسیر ایسے اصول وقواعد کا نام ہے جو مفسرین قرآن کے لیے نشان منزل کی تعیین کرتے ہیں۔ تاکہ کلام اللہ کی تفسیر کرنے والا ان کی راہ نمائی اور روشنی میں ہر طرح کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رہے اور اس کےمنشاء ومفہوم کا صحیح ادراک کرسکے ۔ لیکن برصغیرکے جدید مفسرین نے اپنی مرضی سےاپنے ہی اصول تفسیر قائم کر کے اپنی عقل وفکر سے اپنی تفاسیر میں بعض آیات وسور کی ایسی تفسیر پیش کی ہے جو صریحاً مفسر صحابہ کرام ، تابعین عظام ﷭ اور قرون اولیٰ کے مشہور مفسرین ائمہ کرام ﷭ کی تفاسیر مختلف ہے۔ان مفسرین میں سر سید ، حمید الدین فراہی ، امیں احسن اصلاحی ، غلام احمد پرویز ، جاوید احمد غامدی وغیرہ کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تفسیر قرآن کے اصول وقواعد‘‘معروف واعظ ومبلغ شیخ الحدیث مولانا یوسف راجووالوی﷫کے صاحبزادے پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمٰن محسن﷾(مدیر دار الحدیث ،راجووال) کی تصنیف ہے۔جوکہ ڈاکٹر صاحب کے پی ، ایچ ، ڈی کے لیے لکھے گئے تفصیلی علمی وتحقیقی مقالے کاایک حصہ ہےجسے معمولی ترمیم واضافے کےساتھ الگ شائع کیا ہے۔فاضل مؤلف نےاس کتاب میں چاروں مکاتب فکر ( تفسیر بالماثور، تفسیر بالرأی المحمود، فراہی مکتب فکر، تفسیر با لرأی المذموم) کے اصول تفسیر کو سامنے رکھا اور ان کاتنقیدی جائزہ لیا ہےاور خیر القرون میں تفسیر بالماثور کے مسلمہ اصول تفسیر واضح طور پر مرتب کرنے کی بھر پور اور کامیاب کوشش کی ہے ۔ نیز فن تفسیر میں دستیاب عربی اور اردو لٹریچر کا ایک جامع خلاصہ پیش کیا ہے ۔اس کتاب میں بیان کردہ اصول تفسیر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی فرد واحد کےخود ساختہ نہیں ،بلکہ جمہورمفسرین انہی اصولوں کےتحت قرآن کےسعادت حاصل کرتے رہے ہیں ۔یہ کتاب اپنی افادیت کے اعتبار سے قیمتی اور نادر موتیوں کی ایک لڑی ہے جو دینی مدارس کےمنتہی طلبہ ،اساتذہ اوردورات تفسیر کےفاضل طلباء وطالبات کے لیےایک اکسیر اور خاصے کی چیز ہے ۔مفتی جماعت شارح صحیح بخاری شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ کی اس کتاب پر نظر ثانی سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی تدریسی ،دعوتی ، تحقیقی وتصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-machli-ki-khareed-o-farokhat-fiqh-islami-kir-roshni-mein
اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات، تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت، اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں، بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشی زندگی کے حوالے سے راہنما اصول مہیا کرتا ہے۔ اسلام نے ہر اس تجارت سے منع کر دیا ہے جس میں بائع یا مشتری میں سے کسی ایک کو بھی دھوکہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ زیر تبصرہ کتاب "مچھلی کی خرید وفروخت، فقہ اسلامی کی روشنی میں" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے نویں فقہی سیمینار مؤرخہ11 تا 14 اکتوبر 1996ء منعقدہ جامعۃ الہدایہ جے پور انڈیا میں مچھلی کی خرید وفروخت کے بارے میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-6-copy
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

title-pages-fiqah-islami-taruf-aur-tarikh-copy
پروفیسر اختر الواسع

فقہ اسلامی فرقہ واریت سے پاک ایک ایسی فکر سلیم کا نام ہے جو قرآن وسنت ِ رسول کی خالص تعلیمات میں سینچی گئی ۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت کواپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کو ہی ہر حال میں ترجیح دی۔ یہ تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایسا عطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر کے طور پر عطا کردیتا ہے۔ اور فقہ اسلامی قرآن وسنت کے عملی احکام کا نام ہے ۔ کچھ قرآن اور سنت کے متعین کردہ ہیں اورکچھ احکام قرآن وسنت کےاصولوں سےمستنبط کیے ہوئے ہیں ۔ ان دونوں قسم کےاحکام سےمل کرفقہ اسلامی عملی قانون بن کر سامنے آتی ہے۔ اس لحاظ سے فقہ اسلامی ہی دراصل انسانی زندگی سے ہر قدم پر اور ہر لمحہ مربوط رہتی ہے ۔ اور یہ قرآن وسنت کی روشن تعلیمات کو نمایاں کرتی ہے ۔فقہ کا علم کتاب وسنت سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول وغبار کواڑا کر ماحول کوصاف وشفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم کے بعض نابغۂ روگار متخصصین ایسےبھی ہیں جن کے علم وفضل اوراجتہادات سےایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ فقہ اسلامی تاریخ اور تعارف ‘‘ اسلامی فقہ کےاجمالی تعارف وتاریخ پر مشتمل پروفیسر اختر الواسع کی گراں قدر تصنیف ہے اس کتاب کو انہوں نے نوابواب میں تقسیم کیا ہے ان ابواب میں انہوں نے فقہ اسلامی کے آغاز سے لے کےموجود دور تک کی عہد بہ عہد تاریخ اور ہر عہد کی خصوصیات وخدمات فقہ اسلامی کی تعریف وتعارف ، فقہ اسلامی کے مصادر ، فقہی مسالک ، فقہی علوم وفنون، فقہی اختلاف کی حیثیت واسباب اور فقہی مسالک میں تطبیق ، اجتہاد وتقلید کی حقیقت وتعارف ، مختلف فقہی مسالک کی معروف فقہی کتابوں کا تعارف پیش کیا ہے اور آخر میں سو سے زائد مروج فقہی اصطلاحات کی فرہنگ بھی پیش کی ہے ۔یہ کتاب موضوع کی متوع ہمہ گیری کے ساتھ ساتھ متوازن ضخامت کی حامل ہے ۔ نہ تو اتنی مفصل ہےکہ مطالعہ کے لیے وقت فرصت مہیا نہ ہوسکے اور نہ اتنی مختصر کہ موضوع پر گفتگو تشنہ رہ جائے ۔کتاب کا موضوع اگرچہ خشک اور اصطلاحات سےگراں بار بھی ۔لیکن فاضل مصنف نے حتی الامکان اسے آسان زبان اور سہل اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔اور جدید اسلوب کے مطابق ضروری معلومات کےبعد ان کےحوالے درج کردیے ہیں تاکہ تفصیلی مطالعہ کےشائقین ان کی طرف رجوع کرسکیں۔(م۔ا)

pages-from-hujjiyet-e-hadees-aur-inkar-e-hadees
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

انکار حدیث اور حجیت حدیث دراصل دو موضوعات ہیں۔ انکار حدیث سے مراد حدیث کے انکار کا فتنہ ہے کہ جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں اشارہ فرما گئے ہیں کہ میرے بعد ایک شخص پیدا ہو گا جو گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھا ہو گا اور یہ کہے گا کہ قرآن مجید کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور جو اس میں حلال ہے، اسے حلال سمجھو۔ اور جو اس میں حرام ہے، اسے حرام قرار دو۔ پس اس کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ لوگوں کو باور کروائے کہ قرآن مجید کے علاوہ تمہیں کسی چیز کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس چیز کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ٹھہرایا ہے تو وہ بھی ویسے ہی حرام ہے جیسا کہ وہ شیء حرام ہے کہ جسے اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں حرام کہا ہے۔ یہ روایت سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابو داؤد اورمسند احمد وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ التوبہ کی آیت 29 میں اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس کو حرام نہیں سمجھتے کہ جسے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو۔ قرآن مجید کی اس آیت سے واضح طور معلوم ہواکہ کچھ چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا اور کچھ کو اللہ کے رسول نے حرام قرار دیا ہے۔پس اس آیت اور روایت سے معلوم ہوا کہ اسلام کے بنیادی مصادر دو ہیں۔ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ اب جن لوگوں نے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کا بنیادی ماخذ ماننے سے انکار کر دیا تو وہ منکرین حدیث کہلائے اور ان کا یہ رویہ انکار حدیث کہلاتا ہے۔ پس اس امت میں کچھ لوگ تو ایسے ہو گزرے کہ جنہوں نے حدیث کا کلیتاً انکار کیا جبکہ کچھ گروہ ایسے بھی پیدا ہوئے کہ جنہوں نے بعض احادیث کو مان لیا اور بعض کا انکار کر دیا۔ اس کتابچے میں ہم نے دونوں گروہوں کے افکار کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے اگرچہ دونوں کا حکم فرق ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ “انکارِحدیث” اور “ردِ حدیث” میں فرق ہے۔ اگر آپ تحقیق کے رستے کسی حدیث کو ضعیف یا موضوع (fabricated) ثابت ہونے کی وجہ سے مردود (rejected) قرار دے رہے ہیں تو یہ رویہ درست ہے لیکن اگر آپ اصول حدیث کی روشنی میں اور ائمہ محدثین کی تحقیق کے نتیجے میں صحیح ثابت ہو جانے والی احادیث کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں تو یہ رویہ انکارِ حدیث کہلاتا ہے۔ انکار حدیث ایک جارحانہ رویہ (aggressive approach) ہے کہ جس میں پہلے سے طے ہوتا ہے کہ ہم نے حدیث کو رد کرنا ہے جبکہ حدیث کا قبول ورد ایک علمی رویہ (academic approach) ہے کہ جس میں اصولِ تحقیق ِحدیث کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کو قبول کیا جائے گا یا رد کیا جائے گا۔ انکارِ حدیث کے جواب میں جو علم مسلمانوں میں مدون ہوا، وہ حجیت حدیث کا فن تھا۔ انکارِ حدیث میں حدیث کا انکار کرنے والوں کے دلائل کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو حجیت حدیث میں حدیث کے حجت (authority) ہونے کے دعوی کے دلائل کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پس اس کتاب میں حدیث کے بارے ان دونوں پہلوؤں کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ جہاں انکارِ حدیث کے دلائل کا تجزیہ کیا گیاہے، وہاں حدیث کی حجیت کے دلائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ انکارِ حدیث سلبی پہلو ہے تو حجیت حدیث ایجابی پہلو ہے۔حجیت حدیث کے پہلو سے زیادہ تر تحقیقی اورفکری جبکہ انکارِ حدیث کے حوالے سے زیادہ تر تنقیدی اور تجزیاتی ابحاث شامل کتاب کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں اس بحث کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ حدیث کی حجیت کس اعتبار سے ہے کہ حدیث تو مقطوع روایات کو بھی کہہ دیتے ہیں اور حدیث تو تاریخ کے بیان کو بھی شامل ہے اور حدیث تو غیر معمول بہ بھی ہوتی ہے وغیرہ

title-pages-masla-takfeer-aur-uske-usool-w-zawabit-copy
ابو الحسن مبشر احمد ربانی

اسلام امن وسلامتی اور باہمی اخوت ومحبت کا دین ہے۔انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ اسلامی شریعت کے اہم ترین مقاصد اور اولین فرائض میں سے ہے۔کسی انسان کی جان لینا، اس کا ناحق خون بہانا اور اسے اذیت دینا شرعا حرام ہے۔کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزاجہنم ہے۔ عصر حاضر میں مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں کے افراد کے خلاف ہتھیار اٹھانے ، اغوا برائے تاوان، خود کش دھماکوں اور قتل وغارت گری نے ایک خطرناک فتنے کی صورت اختیار کر لی ہے۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارے جرائم اسلام اور جہاد کے نام پر کئے جارہے ہیں۔یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی  ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔ مسلمانوں کو ہی کافر قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام میں کسی کو کافر قرار دینے کے اصول وضوابط موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول وضوابط"جماعۃ الدعوہ کے مرکزی رہنما محترم مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول وضوابط پر گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور تمام مسلمانوں کو متحد ومتفق فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-5-copy
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

pages-from-tehreek-tajaddad-aur-mutajaddideen
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

تحریک تجدد اور متجددین کے عنوان سے میرے کچھ مضامین ماہنامہ میثاق، لاہور میں دسمبر 2010ء سے جولائی 2011ء کے دوران پبلش ہوئے۔ یہی مضامین ماہنامہ الاحرار، ملتان میں بھی جون 2010ء سے مئی 2011ء کے دوران شائع ہوئے۔ انہی مضامین کو اب افادہ عام کے لیے کتابی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کتاب میں مصر، برصغیر پاک وہند اور ترکی میں تجدد پسندی کی حالیہ تحریک اور افکار کا ایک مختصر اور ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں شیخ جمال الدین افغانی، مفتی محمد عبدہ، شیخ رشید رضا، طہ حسین، توفیق الحکیم، شیخ یوسف القرضاوی، شیخ وہبہ الزحیلی، مصطفی کمال پاشا، سر سید احمد خان، غلام احمد پرویز اور پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے افکار کا مختصر انداز میں تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا اسلوب تحقیقی نہیں رکھا گیا کہ ہر اہم بات کا حواشی میں مفصل حوالہ درج کیا جائے۔ یہ کتاب دراصل مصنف کا حاصل مطالعہ ہے کہ جسے تحریر کی صورت میں ڈھال دیا گیا ہے اور مطالعہ کے مصادر کو علیحدہ سے بیان کر دیا گیا ہے۔ جب یہ مضامین مجلہ میثاق اور مجلہ الاحرار میں شائع ہوئے تھے تو اس وقت تو ترتیب یہی تھی کہ ہر مضمون کے آخر میں اس کے مصادر ومراجع بیان کر دیے جاتے تھے۔ اور اب ان تمام مضامین کے مصادر ومراجع کو آخر کتاب میں اسی عنوان سے جمع کر دیا گیا ہے۔

title-pages-islam-ka-sayasi-nizam-copy
مختلف اہل علم

دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی ‏کے نظریہ کومغربی اصطلاح میں سیکولرازم بھی کہا جاتا ہے، جو کلیسا کے منحرف دین کے خلاف یورپ کی الحادی بغاوت کا نتیجہ ہے۔اس نظریے نے ایک جانب اگر یورپیوں کو ‏کلیسا کے استبداد کے مقابلے کے لیے کھڑا کیا تو دوسری جانب یورپی استعماروں نے اسلامی دنیا میں اپنے نظریے کی اشاعت اور پھیلاؤ کے لیے مسلمانوں کو بھی اسلامی نظام کی ‏حاکمیت سے محروم کر دیا۔اردو زبان میں تقریبا تمام اسلامی علوم پر کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن سیاسیات پر کما حقہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا سیاسی نظام" مفتی محمد سراج الدین قاسمی کی مرتب کردہ اور ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں  انہوں نے اسلام کے سیاسی نظام کے  موضوع پر  متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)

title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-4-copy
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

title-pages-istaghfar-w-tawuz-fazail-w-samrat-copy
شعبہ تصنیف و تالیف دار السلام

اللہ تعالیٰ نے توبہ واستغفار کا دروازہ کھلا رکھا ہے جب تک انسان کاآخری وقت نہیں آجاتا وہ توبہ کرسکتا ہے اوراس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے لیکن جب آخری لمحات آجائیں موت سامنے نظر آنے لگے جب انسان کو یقین ہوجائے کہ بس اب وقت آگیا ہے اس وقت اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے تو اس کی اس توبہ کا کوئی اعتبار نہیں یا اس وقت کی توبہ قابل قبول نہیں۔انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور استغفار کرتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں۔ نبی کریمﷺ خو د ایک دن سو سے زائد مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے ۔استغفار کرنے سے انسان کے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں جن کو انسان شمار بھی نہیں کر سکتا،لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس ان گناہوں کا پورا پورا ریکارڈ ہوتا ہے،جبکہ انسان بھول جاتا ہے۔استغفار کرنا نبی کریمﷺ کی اقتداء اور پیروی کا اظہار ،کیونکہ نبی کریمﷺ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔اور استغفار گناہوں سے بچنے اور اطاعت کرنے میں کوتاہی کا اعتراف ہے،کیونکہ جب انسان اپنی کوتاہی کا اعتراف کر لیتا ہے تب وہ زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرتا ہے اورنیک اعمال کر کے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کوشش کرتا ہے۔ استغفار دل کی سلامتی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ان العبد اذا أخطا خطیئة نکتت فی قلبه نکتة سوداء ،فان هو نزع واستغفر وتاب،صقل قلبه ‘‘(رواہ الترمذی)’’جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے،اگر انسان اس گناہ کو چھوڑ دے اور اس پر توبہ واستغفار کرے تو اس کے دل کودھو کر چمکا دیا جاتا ہے۔‘‘ حضرت شداد بن اوس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یقین کامل کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی دن شام سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا،اسی طرح جو شخص یقین کامل کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی رات صبح سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔سید الاستغفار یہ ہے: "اللھم أنت ربی لااله الا أنت،خلقتنی وأنا عبدک ،وأنا علی عهدك ووعدک مااستطعت،أعوذبک من شر ما صنعت ، أبوء لک بنعمتک علی وأبوء بذنبی ،فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا أنت [رواہ مسلم] ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوںجس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوںاور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔‘‘ زير تبصره كتاب ’’ استغفار وتعوذ فضائل وثمرات ‘‘ اشاعت کتب کے انٹرنیشنل ادارے ، دار السلام کے سکالر زکی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں میں انہوں نےاستغفار کی اہمیت وضرورت، استغفار کی قرآنی ونبوی دعائیں ، استغفار کے مستحب اوقات ومواقع ،استغفار کے فوائد وثمرات کو بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں تعوذ کی ضرروت واہمیت ، قرآنی تعوذ تعوذ کےمستحب اوقات کو قرآن واحادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-insani-dil-aur-qabol-e-islam-copy
ڈاکٹر گوہر مشتاق

جس طرح انسان مٹی اور روح کا حسین امتزاج ہے، اسی طرح انسان کو اللہ تعالی نے ذہن اور دل عطا کئے ہیں۔جس طرح اس دنیا کی زندگی روح اور جسم کے درمیان ایک داستان ہے، بالکل اسی طرح اس حیات دنیاوی میں انسان کے دل اور دماغ میں ایک کشمکش رہتی ہے۔اگر اکثر مواقع پر دماغ اپنی من مانی کرتا ہے تو دل بھی کئی مواقع پر دماغ پر فتح حاصل کر لیتا ہے اور انسان سے وہ کرواتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔قرآن وحدیث میں انسانی دل کو ذہانت کا منبع اور جذبات واحساسات رکھنے والا عضو قرار دیا گیا ہے۔تاہم بیسویں صدی کے وسط میں سائنس نے پہلی مرتبہ یہ حیرت انگیز دریافت کی کہ انسانی دل میں بھی انسانی دماغ کی طرح ذہانت کے خلئے پائے جاتے ہیں۔اس انقلابی  دریافت کے بعد پھر انسانی دل پر بحیثیت منبع ذہانت کے مغرب میں کئی سائنسی تحقیقات ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب " انسانی دل اور قبول اسلام، ایک مذہبی، سائنسی تجزیہ "محترم ڈاکٹر گوہر مشتاق صاحب،پی ایچ ڈی امریکہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے یہی واضح کیا ہے کہ جو چیز اسلام نے آج سے 1400 سو سال پہلے بتا دی تھی ، سائنس آج انہیں دریافت کر رہی ہے، جو اسلام کے مذہب حق ہونے پر دلیل ہے۔(راسخ)

pages-from-almi-tehzeeb-o-saqafat-par-islam-key-tasraat
محمود علی شرقاوی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اس کی اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت ہے جو دنیا کی ساری تہذیبوں اور ثقافتوں سے منفرد اور ممتاز حیثیت کی حامل ہے۔ آج مسلمانان عالم کو کسی بھی احساس محرومی میں مبتلاہوئے بغیر اس سچائی ودیانت پر ڈٹ جاناچاہئے کہ درحقیقت اسلامی تہذیب اور قرآن و سنت کے اصولوں سے ہی دنیاکی دیگر اقوام کی تہذیبوں کے چشمے پھوٹے ہیں۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ مغربی و مشرقی یورپی ممالک اس حقیقت اور سچائی کو تسلیم ہی نہیں کرتے ہیں اور الٹا وہ اس حقیقت سے کیوں منہ چراتے ہیں۔ تہذیب عربی زبان کا لفظ ہے جو اسم بھی ہے اور شائستگی اور خوش اخلاقی جیسے انتہائی خوبصورت لفظوں کے مکمل معنوں کے علاوہ بھی کسی درخت یا پودے کو کاٹنا چھاٹنا تراشنا تا کہ اس میں نئی شاخیں نکلیں اور نئی کونپلیں پھوٹیں جیسے معنوںمیں بھی لیاجاتاہے ا ور اسی طرح انگریزی زبان میں تہذیب کے لئے لفظ ”کلچر“ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ میرے خیال سے آج دنیا کو اس سے بھی انکار نہیں کرناچاہے کہ ”بیشک اسلامی تہذیب و تمدن سے ہی دنیا کی تہذیبوں کے چشمے پھوٹے ہیں جس نے دنیاکو ترقی و خوشحالی اور معیشت اور سیاست کے ان راستوں پر گامزن کیا ہے کہ جس پر قائم رہ کر انسانی فلاح کے تمام دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ مورخین نے یہ بھی تسلیم کیاہے کہ اکثر قدیم علوم و فنون بھی مسلمانوں اور اسلامی تہذیب سے ہی یورپ کے لوگوں تک پہنچے ہیں کیوں کہ مشرقی یورپ و مغربی یورپ کی تہذیبوں سمیت چینیوں اور ہندووں کی تہذیبیں بھی ایک دوسرے کی تہذیبوں کو اتنا متاثر نہیں کرپائیں۔ جتنا اسلامی تہذیب نے ان سب کو متاثرکیا ہے کیوں کہ اسلامی تہذیب نے ایک ایسے عالمگیر ضابطہ حیات قرآن کریم فرقان حمید کی روشی میں تشکیل پائی ہے جو رہتی دنیاتک بنی انسان کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "عالمی تہذیب وثقافت پر اسلام کے اثرات" محترم محمود علی شرقاوی صاحب کی عربی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ محترم صہیب عالم اور محترم نجم السحر ثاقب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-2-copy
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

title-pages-islam-aur-asre-jadeed-copy
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

آج روئے زمین پر واحد دین اسلام ہے جو اپنی اصل حالت میں باقی ہے جس کی تعلیمات زندہ ہیں جس کے مآخذ دستیاب ہیں اور جس کے پاس نبی کریم محمد رسول اللہ جیسی ہستی نمونہ عمل کے لیے ہے ۔ انسانی اذہان کے پیدا شدہ افکار ونظریات دم توڑ چکے ہیں اور اب آنے والا دور اسلام کا دور ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ آنے والی تاریخ کرے گی۔یورپ اور امریکا جیسی مادیت پرست دنیا میں اسلام کی روز افزوں ترقی اس کا واضح ثبوت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام اور عصر جدید‘‘ کی جناب محمد تنزیل الصدیقی الحسینی کے اسلام اور عصر جدید کے متعلق تحریر گئے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو وقتاً وقتاً مختلف رسائل میں اشاعت پذیر ہوئے۔ان مضامین میں انہوں نے مسلمانوں کی توجہ عہد جدید کی روشن حقیقتوں کی طرف مبذول کروائی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام انسانوں کا واحد دین ، نبی کریم ﷺ انسانی زندگی کےواحد رہبر اور قرآن انسانی ہدایت کی کامل کتاب ہے ۔اسلام ایک عالمگیر دین ہے یہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے فریضہ ہے کہ وہ گمراہ انسانیت کو ان کی دولت بے پایاں اور متاع گم گشتہ سےآگاہ کریں۔(م۔ا)

title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-3-copy
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

pages-from-saaliheen-kiram-key-dilchasp-aur-iman-afroz-waqiyaat
ابو مسعود عبد الجبار سلفی

اسلامی تعلیمات کا یہ اعجاز ہے کہ ان کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی اعلیٰ درجے کے افراد پیدا ہوئے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ مختلف ادوار میں بے مثال کردار اور خوبیاں رکھنے والے حکمران،علماء، سپہ سالار اور ماہرین فن موجود رہے،جن پر آج بھی انسانیت کا سر فخر سے بلند ہے۔ لیکن افسوس کہ بعض غیر محتاط اور متعصب مؤرخین نے اسلامی تاریخ کو اس طرح بگاڑا ہے کہ آج کی نئی نسل اپنے اسلاف سے بد ظن ہو چکی ہے اور ان کی روشن تاریخ کو اپنے ہی منہ سے سیاہ قرار دینے لگی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’صالحین کرام کے دلچسپ اور ایمان افروز واقعات‘‘ مولانا ابومسعود عبدالجبارسلفی﷾ تاریخی معلومات پر مشتمل بڑی ہی دلچسپ کاوش ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ہمارے اسلاف کی شجاعت وبسالت، رافت ورحمت، فہم وفراست، جودوسخا، بدل وعطا، عفووحلم، حق گوئی وبیباکی، ہمدردی و غمگساری کے دلچسپ بے نظیر واقعات کو ایسے دل کش ادبی اسلوب میں بیان کیا ہے کہ قارئین ان واقعات کو اطمینان سے پڑھے بغیرسونا پسند نہ کریں اور انہیں یقین ہوجائے گایقیناً ہمارے اسلاف کے اندر یہی وہ خوبیاں تھیں جنہیں سن کر قیصر و روم اوراس کا فوجی دربار جھوم اٹھا تھا اور مان گیا تھا کہ یقیناً ان کی فتوحات کا سبب ان کی یہی خوبیاں ہیں۔ (م۔ا)

title-pages-hinduon-ki-ilmi-w-taleemi-taraki-copy
سید سلیمان ندوی

سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ ایک  غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر  زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات  سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار  مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا  میں مسلمانوں  اور اسلام کا نام روشن کیا۔مسلم حکمرانوں نے جہاں ساری دنیا کو اپنی ایجادات سے فائدہ پہنچایا وہیں ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کے ہندوؤں  کی تعلیمی ترقی میں بھی بھر پور حصہ لیا۔ زیر تبصرہ کتاب" ہندوؤں کی علمی وتعلیمی ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں" علامہ سید سلیمان ندوی صاحب  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے ہندوؤں کی علمی وتعلیمی ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2126 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں