ڈاکٹر محمد خالد مسعود

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حیات رسول امیﷺ‘‘ خالد مسعود کی ہے۔ جس میں آپﷺ کی ولادت لاسعادت سے قبل عرب کے حالات و واقعات ، ولادت با سعادت سے ما بعد مکی ، مدنی زندگی اور وفات تک 63 سال کی زندگی کو موتیوں کی لڑی میں پرو کر رکھ دیا ہے۔ اسلوب میں ادبی چاشنی اور سطر سطر سے نبی کریم ﷺ سے محبت کے جھلکتے آثار اس کتاب کی نمایاں خوبیاں ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ مصنف کی اس عظیم خدمت کو قبول فرمائے اور آخرت میں بخشش کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔(رفیق الرحمن)

امیر افضل خان

سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حضور پاکﷺ کا جلال و جمال‘‘ حضور پاکﷺ کے سپاہی امیر افضل خان کی ہے۔ جس میں ستائیس ابواب کی صورت میں اسلامی اور غیر اسلامی فلسفہ حیات،بعثت رسولﷺکی ساری حیات مبارکہ تمام پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے اسلام کا دفاع کیا ہے غیراسلامی فلفسات اور دیگر پروپیگنڈوں سے، کتاب کے آخر میں اسلامی نظام حکومت و حاکم وقت اور لوگوں کی ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔ آپ کی حیات مبارکہ رشد و ہدیت کا منبع ہیں۔ ان کا بار بار مطالعہ کرنا انہیں سمجھنا اور ان پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)

مولانا محمد یوسف بنوری

مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک امام غزالی بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب   مولانا یوسف بنوری کی عربی کتاب’’الاستاذ المودودی وشیئ من حیاتہ وافکارہ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے جس میں مودودی صاحب کے افکارونظریات کا منصفانہ تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کتاب در اصل عالم عرب کے لیے لکھی گئی تھی لیکن افادۂ عام کے لیے اس کا سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ مودودی صاحب کے افکار ونظریات کی کجی اور ان کے قلم کی شوخی وبے احتیاطی سے لوگ واقف ہوں۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ابو الاعلی مودودی اپنے افکار و نظریات کے آئینہ میں ‘‘ مولانا محمد یوسف بنوری کی مرتب کردہ ہے اور اس کتاب کے مترجم مولانا اعجاز احمد اعظمی ہیں۔۔آپ دونوں تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

حافظ محمد سعد اللہ

سیرۃ النبیﷺ ایک وسیع وعریض موضوع ہے جس پر گذشتہ چودہ صدیوں سے مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی سیرت رسولﷺ پر بہت کچھ تحریر کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن ابھی تک اس ایک ذات  کی صفات کا تذکرہ تکمیل پذیر نہیں ہو سکا اور ہو بھی کیسے ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کا اعلان تو قیامت تک کے لیے ہے جس کا ظہور یہ ہے کہ ہر زمانے میں آپﷺ کی سیرۃ پاک کے مختلف گوشوں پر مختلف انداز میں آپ کے شیدائی اور نقظہ چین قلم اُٹھاتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری رہے گا۔ان شاء اللہ۔ زیرِ تبصرہ کتاب  بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس میں نبیﷺ کی حیات مقدسہ کے ایسے واقعات جمع کیے گئے ہیں جن میں آپﷺ کی غریبوں اور بے کسوں سے محبت‘ ان کے لیے ہمدردی اور ان کی کارسازی کے لیے آپﷺ کی بے قرار کا تذکرہ ہے۔آپﷺ نے معاشرے کے گرے پڑے لوگوں کو جس طرح دیگر سوسائٹی کے برابر کرنے پر زور دیا ہے اور اس مسئلہ میں جو تعلیمات اپنی امت کو دی ہیں ان کا اطلاق آپﷺ نے خود کیسے کیا ان سب باتوں کوبیان کیا گیا ہے۔اس کتاب میں چار ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب’’ غریبوں کا والی ‘‘ حافظ محمد سعد اللہ  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ابن قیم الجوزیہ

انسان کی فطرت سلیم ہے تو وہ طبعاً چاہتا ہے کہ جانوروں کی طرح آزاد اور شترِ بے مہار نہ ہو‘ کچھ اصول وضوابط کا وہ خود کو پابند بناتا ہے جن کے مطابق زندگی گزار کر وہ ایک کامیاب انسان کہلانا پسند کرتا ہے۔ ہر انسان کا وجود اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے‘اسی کا دیا کھاتا اور پیتا  اور پہنتا ہے‘ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ ان احکامات کی پیروی کرے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان کاموں سے بچے جن سے منع کیا گیا ہے پھر ہی کامیابی ہمارا مقدر ٹھہرے گی۔اور وہی احکامات ہمارے لیے اصول وضوابط کی حیثیت ہیں جن پر چل کر ہم بہتر سے بہترین کا سفر کر سکیں گے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں نبیﷺ سے کیے ہوئے ان سوالات کے جوابات بیان کیے گئے ہیں جو صحابہ کرامؓ نے وقتاً فوقتاً نبی سے پوچھے اور نبیﷺ نے ان کے جوابات دے کر ان کا خلجان دور کیا اور انہیں مطمئن کیا۔ یہ کتاب فتاوی کے تمام مجموعوں اور سیکڑوں جلدوں پر بھاری ہے‘ یہ کتاب جامعیت کے لحاظ سے اصل الاصول ہے اور اختصار کی وجہ سے سہل الحصول بھی ہے اور یہ کتاب درحقیقت امام ابن قیم کی اعلام الموقعین کے آخری باب کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب’’ فتاوٰی رسول اللہﷺ ‘‘ علامہ ابن قیم   کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

علامہ قاری محمد وسیم اکرم القادری

آج کا دور مصرفیتوں کا دور ہے۔ ہماری معاشرت کا انداز بڑی حد تک مشینی ہو گیا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے دلوں کی آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ فکرونظر کا ذوق اور سوچ کا انداز بدل جانے سے ہمارے ہاں ہیرو شپ کا معیار بھی بہت پست سطح پر آگیا ہے۔ آج کھلاڑی‘ ٹی وی اور بڑی سکرین کے فن کار ہماری نسلوں کے آئیڈیل اور ہیرو قرار پائے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے وہ عظیم سپوت اور روشنی کی وہ برتر قندیلیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔اس لیے مسلمانوں کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسے صحابی رسولﷺ کی سیرت سے آگاہ کرکے ان میں ایمانی جوش پیدا کرنا ایک ضروری اور لازمی امر ہے۔ کیونکہ آج کا مسلمان دین کو چھوڑ کر دنیا میں اُلجھ گیا ہے‘ اسے دین کی طرف جاتا کوئی راستہ نظر ہی نہیں آتا۔ ہر طرف دنیا ہی دنیا کو دیکھنا چاہتا ہے‘ اسے صرف مال ودولت کی حرص وطمع ہے‘ دین کی کوئی پرواہ نہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں حضرت بلالؓ کی سیرت کو بیان کر کے ان میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ہمارے سلف کیا تھے انہوں نے دین کے لیے کیا کچھ کیا ‘ کیا کیا مصیبتیں جھلیں اور دوسری طرف ہمارے احوال کیا ہیں؟ کتاب میں سب سے پہلے صحابہ کی شان کو بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد حضرت بلالؓ کی سوانح حیات کو مکمل تفصیل اور وضاحت کے ساتھ اور ان کی زندگی کے ہر پہلو کو کتاب کی زینت بنانے کی عظیم کاوش ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ دنیائے اسلام کا پہلامؤذ ن ‘‘ علامہ قاری محمد وسیم اکرم القادری کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

امام ترمذی

شریعت محمدی ﷺ میں دو بنیادی مآخذ ہیں۔ ایک قرآن مجید اور دوسرا مآخذ سنت نبویہﷺ۔ قرآن مجید میں اصول اور حدیث رسولﷺ میں ان کی تشریح وتوضیح پائی جاتی ہے۔ لیکن فتنوں کے اس دور میں شیطان نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے ہر طرف بے راہ روی کے جال بچھا رکھے ہیں۔ کہیں انکارِ حدیث تو کہیں تجدد کی آڑ میں دین کی نت نئی تاویلات۔ کہیں مستشرقین کی تلبیسات تو کہیں اپنوں کی نفس پرستی‘ ایسے پر فتن دور میں سنت رسولﷺ کا احیاء سعادت ہی نہیں‘ فرض بھی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  کا مقصدبھی احیائے دین اور احیائے سنت ہے۔ اصلاً کتاب عربی زبان میں ہے جس کی وقتاً فوقتاً اور نت نئی تشریحات وتوضیحات ہو رہی ہیں کیونکہ یہ کتاب ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتی ہے اور یہ کتاب جامع ہونے کے ساتھ ساتھ سنن بھی ہے۔ اس کتاب میں  میں ترجمے کی سلاست کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مشکل الفاظ کے معانی بیان کرنے کے ساتھ ان کی وضاحت بھی ہے اور افادۂ عام کے لیے توضیحی فوائد بھی درج کیے گئے ہیں۔ احادیث کو بیان کرنے سے قبل کتاب کا تعارف اور ہر باب اور اس سے متعلق احادیث کا ترجمہ‘ امام ترمذی کی وضاحت اور مسائل کا خلاصہ بھی درج کیا گیا ہے اور علامہ البانی کے حکم پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ جامع سنن تر مزی متر جم مع فو ائد و توضیح ‘‘ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی  کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

بدر الزمان محمد شفیع نیپالی

اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا نام دُعا ہے اور یہی عبادت بھی ہے‘ ہر عبادت تسبیح اور دعا پر مشتمل ہوتی ہے لیکن دعا کے آداب میں اس کی افادیت اور اہمیت کو ہم میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ بہت سے حضرات مسنون اور غیر مسنون دعاؤں میں امتیاز نہیں کر سکتے حالانکہ صحیح اور مسنون دعائیں ہی بارگاہ الٰہی میں شرفِ قبولیت حاصل کر سکتی ہیں۔ غیر مسنون دعائیں الفاظ وعبارت کے لحاظ سے کیسی ہی دلکش اور دل نشیں نظر آئیں ‘ دین میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  فاضل مؤلف نے خاص دعا کے ہی موضوع پر تصنیف کی ہے اس میں  مستند ومعتبر دعاؤں کو مکمل حوالہ جات کے ساتھ اور مختلف عناوین کے تحت جمع کیا ہے۔ ساتھ ہی دعاؤں کا سلیس اردو ترجمہ بھی دے دیا ہے تاکہ عربی زبان سے ناواقف مسلمان سمجھ کر دعائیں کر سکیں۔ اور توبہ کی فضیلت واہمیت ‘ اذکار کی فضیلت اور دعا کی قبولیت کی شرائط وآداب وغیرہ کو بھی نقل کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ دعائیں‘‘ مولانا بدر الزماں محمد شفیع نیپالی  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

حکیم محمود احمد ظفر

آج کا دور مصرفیتوں کا دور ہے۔ ہماری معاشرت کا انداز بڑی حد تک مشینی ہو گیا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے دلوں کی آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ فکرونظر کا ذوق اور سوچ کا انداز بدل جانے سے ہمارے ہاں ہیرو شپ کا معیار بھی بہت پست سطح پر آگیا ہے۔ آج کھلاڑی‘ ٹی وی اور بڑی سکرین کے فن کار ہماری نسلوں کے آئیڈیل اور ہیرو قرار پائے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے وہ عظیم سپوت اور روشنی کی وہ برتر قندیلیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔ اسلام کی تاریخ بڑی تابناک تاریخ ہے اور دنیا میں کسی قوم کی تاریخ ایسی نہیں ہے جیسی کہ مسلمانوں کی تاریخ ہے‘ خصوصی طور پر صحابہ کرامؓ کے زمانہ کی تاریخ کیونکہ حدیث میں اس کو بہترین زمانہ کہا گیا ہے اور اس زمانہ کے لوگوں کو بہترین لوگ کہا گیا ہے اور بارہ افراد ایسے ہیں جن کی خلافت کے حوالے سے کوئی شک وشبہ نہیں ہو سکتا ان میں سے ایک عمر بن عبد العزیز کی شخصیت ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی موضوع پر ہے جس میں ان کے مجددانہ کارناموں اور ان کے حالات زندگی کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے خلافت میں پیدا ہونے والی بہت سی خرابیوں کی اصلاح فرمائی۔ اور ان کی شخصیت عدل پر حریص‘ وافر العلم‘ فقیہ النفی اور ظاہر الذکاء جیسے صفات کے حامل تھی۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ سیدنا عمر بن عبد العزیز تا ریخ کی رو شنی میں ‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

امام ترمذی

شریعت محمدی ﷺ میں دو بنیادی مآخذ ہیں۔ ایک قرآن مجید اور دوسرا مآخذ سنت نبویہﷺ۔ قرآن مجید میں اصول اور حدیث رسولﷺ میں ان کی تشریح وتوضیح پائی جاتی ہے۔ لیکن فتنوں کے اس دور میں شیطان نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے ہر طرف بے راہ روی کے جال بچھا رکھے ہیں۔ کہیں انکارِ حدیث تو کہیں تجدد کی آڑ میں دین کی نت نئی تاویلات۔ کہیں مستشرقین کی تلبیسات تو کہیں اپنوں کی نفس پرستی‘ ایسے پر فتن دور میں سنت رسولﷺ کا احیاء سعادت ہی نہیں‘ فرض بھی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  کا مقصدبھی احیائے دین اور احیائے سنت ہے۔ اصلاً کتاب عربی زبان میں ہے جس کی وقتاً فوقتاً اور نت نئی تشریحات وتوضیحات ہو رہی ہیں کیونکہ یہ کتاب ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتی ہے اور یہ کتاب جامع ہونے کے ساتھ ساتھ سنن بھی ہے۔ اس کتاب میں  میں ترجمے کی سلاست کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مشکل الفاظ کے معانی بیان کرنے کے ساتھ ان کی وضاحت بھی ہے اور افادۂ عام کے لیے توضیحی فوائد بھی درج کیے گئے ہیں۔ احادیث کو بیان کرنے سے قبل کتاب کا تعارف اور ہر باب اور اس سے متعلق احادیث کا ترجمہ‘ امام ترمذی کی وضاحت اور مسائل کا خلاصہ بھی درج کیا گیا ہے اور علامہ البانی کے حکم پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ جامع سنن تر مزی متر جم مع فو ائد و توضیح ‘‘ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی  کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس

اسلام امن وسلامتی کا دین ہے ۔اسلام کے معنی اطاعت اور امن وسلامتی کے ہیں ۔یعنی مسلمان جہاں اطاعت الٰہی کا نمونہ ہے وہاں امن وسلامتی کا پیکر بھی ہے ۔ اسلام فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے ۔دنیا میں اس وقت جو فساد بپا ہے اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور نظریہ میں نہیں ۔ بد قسمتی سے فسادیوں اور دہشت گردوں نے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے اس مہم کا جواب ضروی ہے ۔یہ جواب فکر ی بھی ہونا چاہیے اورعملی بھی۔ زیر نظر کتاب ’’ دہشت گردی کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں ‘‘ معالیالشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد العزیز السدیس (صدر امور مسجد حرام و مسجد نبوی امام و خطیب مسجد حرام) کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہےکہ اسلام امن ہے اور کفر فساد ودہشت گردی ہے ۔مزید اس کتاب میں دہشت گردی کے خاتمے میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی عالم ِاسلام اور مسلمانوں کو کفار کی سازشوں اور فتنوں سے محفوظ فرمائے (آمین) رفیق ارحمن)

پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

خدائے برتر رحمن ورحیم نے ہمیں ایک خطۂ زمین جو حسین مناظر اور قدرت کی فیاضیوں سے مالا مال ہے جہاں بلند پہاڑ اور ان کی سفید برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں تیز وتند دریا‘ زرخیز میدانی علاقے‘ معدنی دولت سے بھر پور ہیں اور کئی جگہوں میں خشک پتھریلے پہاڑ اور وسیع ریگستانی علاقے ہیں آسمانی ماحول چاند ستارے سیارے سب کے سب جگ مگ کرتے ہیں اور سورج کی روشنی فصلوں اور صحت کو فیضیاب کرتی ہے‘ قدیم تہذیبی‘ ثقافت لاثانی ہے اور خطہ زمین ذہانت اور قلبی لگاؤ کا ثبوت ہے کہ یہاں بزرگان دین مشعل اسلام بن کر آئے اور اسلام کا یہ خطہ قائد اعظم محمد علی جناح کی بڑی کاوشوں ‘ لگاتار جد وجہد‘ سیاسی قوت‘ آل انڈیا مسلم لیگ کی رہنمائی میں حاصل ہوا اور اس سفر آزادی میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات بے شمار اور ان گنت ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص محترمہ فاطمہ جناح کی سیرت اور کردار اور ان کے شخصی تعارف پر مبنی ہے۔ اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ انہوں نے کس طرح تحریک پاکستان مین برصغیر کی مسلمان خواتین میں سیاسی شعور بیدار کیا۔ مادر ملت نےکیسے ہندوستان کی مسلم خواتین کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا اور ان کو تعلیم حاصل کرنے‘ سماجی خدمت کے لیے راغب کیا اور انہیں ان کے حقوق کا احساس دلایا اور قائد اعظم کی وفات کے بعد انہوں نے کیسے حالات کو سنبھالا اور کیا کیا خدمات سر انجام دیں تفصیل کے ساتھ کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مادرمحترم فاطمہ جناح حیات و افکار ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صُوفی کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ساجد علی مصباحی

اسلام امن وسلامتی کا دین ہے ۔اسلام کے معنی اطاعت اور امن وسلامتی کے ہیں ۔یعنی مسلمان جہاں اطاعت الٰہی کا نمونہ ہے وہاں امن وسلامتی کا پیکر بھی ہے ۔ اسلام فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے ۔دنیا میں اس وقت جو فساد بپا ہے اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور نظریہ میں نہیں ۔ بد قسمتی سے فسادیوں اور دہشت گردوں نے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے اس مہم کا جواب ضروی ہے ۔یہ جواب فکر ی بھی ہونا چاہیے اورعملی بھی۔ زیر نظر کتابچہ ’’ دہشت گردی اسلام کی نظر میں ‘‘ ساجد علی مصباحی (استاد جامعہ اشرفیہ، مبارک پوری، ضلع اعظم گڑھ، یوپی) کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہےکہ اسلام امن ہے اور کفر فساد ودہشت گردی ہے ۔ اللہ تعالی عالم ِاسلام اور مسلمانوں کو کفار کی سازشوں اور فتنوں سے محفوظ فرمائے (آمین) رفیق ارحمن)

امام ترمذی

شریعت محمدی ﷺ میں دو بنیادی مآخذ ہیں۔ ایک قرآن مجید اور دوسرا مآخذ سنت نبویہﷺ۔ قرآن مجید میں اصول اور حدیث رسولﷺ میں ان کی تشریح وتوضیح پائی جاتی ہے۔ لیکن فتنوں کے اس دور میں شیطان نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے ہر طرف بے راہ روی کے جال بچھا رکھے ہیں۔ کہیں انکارِ حدیث تو کہیں تجدد کی آڑ میں دین کی نت نئی تاویلات۔ کہیں مستشرقین کی تلبیسات تو کہیں اپنوں کی نفس پرستی‘ ایسے پر فتن دور میں سنت رسولﷺ کا احیاء سعادت ہی نہیں‘ فرض بھی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  کا مقصدبھی احیائے دین اور احیائے سنت ہے۔ اصلاً کتاب عربی زبان میں ہے جس کی وقتاً فوقتاً اور نت نئی تشریحات وتوضیحات ہو رہی ہیں کیونکہ یہ کتاب ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتی ہے اور یہ کتاب جامع ہونے کے ساتھ ساتھ سنن بھی ہے۔ اس کتاب میں  میں ترجمے کی سلاست کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مشکل الفاظ کے معانی بیان کرنے کے ساتھ ان کی وضاحت بھی ہے اور افادۂ عام کے لیے توضیحی فوائد بھی درج کیے گئے ہیں۔ احادیث کو بیان کرنے سے قبل کتاب کا تعارف اور ہر باب اور اس سے متعلق احادیث کا ترجمہ‘ امام ترمذی کی وضاحت اور مسائل کا خلاصہ بھی درج کیا گیا ہے اور علامہ البانی کے حکم پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ جامع سنن تر مزی متر جم مع فو ائد و توضیح ‘‘ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی  کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

حکیم محمود احمد ظفر

سر کار دو عالمﷺ کی نظر کیمیا اثر نے صرف بڑے بڑے محدث‘ فقہاء‘ فلسفی اور سائنس دان ہی پیدا نہیں کیے بلکہ دنیا کے بڑے بڑے جرنیل بھی پیدا کیے جن کی فن سپہ گری کا لوہا پوری دنیا نے مانا ہے۔ وہ ایسے جرنیل تھآ کہ جس طرف بھی رخ کرتے کامیابی وکامرانی ان کی ہم رکاب ہوتی‘ اس وقت دنیا ان کے حیرت انگیز کارناموں کو دیکھ کر انگشت بدندان ہو جاتی‘ اور آج بھی ان کے کارنامے مشعل راہ ہیں۔ ان لوگوں نے صرف انسانوں کے خون سے زمین کو رنگین نہیں کیا بلکہ اللہ کے باغیوں کی سرکوبی کر کے انسانیت کو امن وسکون اور رشد وہدایت کی راہ دکھلائی‘ اور پوری دنیا امن وسلامتی کا گہوارہ بن گئی۔ان عظیم جرنیلوں میں سے ایک موسی بن نصیر بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص موسی بن نصیر کے حالات زندگی‘ کارناموں اور ان کی خدمات کی عکاسی کرتی ہے۔ موسی بن نصیر اپنے زمانہ کے ایک بہت بڑے کمانڈر اور جرنیل تھے انہوں نے اپنی پوری زندگی جس طرف کا رخ کیا کامرانی حاصل کی اور ایک تاریخ رقم کی۔ اور موسی کو پہنچنے والی مختلف اذیتوں اور صعوبتوں کو کتاب میں بیان کیا گیا ہے اور اس کتاب کا بیشتر مواد عربی اور انگریزی کتابوں کے علاوہ تاریخ اندلس حصہ اول سے لیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مو سی بن نصیر ‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

احمد غزالی

بے آب و گیا ہ صحرائے چولستان جو کسی زمانے میں بین الاقوامی تجارتی گزر گاہ تھا اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لئے دریائے ہاکڑا کے کنارے جیسلمیر کے بھٹی راجاﺅں کے دور حکمرانی 834ہجری میں تعمیر ہونے والا قلعہ ڈیراور جو اپنے اندر کئی صدیوں کے مختلف ادوار کی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ اس قلعہ کو نواب صادق محمد خاں اول نے والئی جیسلمیر راجہ راول رائے سنگھ سے فتح کیا جس وقت قلعہ ڈیراور عباسی خاندان کی ملکیت بنا تو عباسی حکمرانوں نے قلعہ کے تمام برج پختہ اینٹوں سے تعمیر کروا کر اس قلعہ کا ہر برج اپنے ڈیزائن میں دوسرے سے جدا ڈیزائن میں کیا ۔ قلعہ کے اندر شاہی محل ،اسلحہ خانہ ، فوج کی بیرکیں اور قید خانہ بھی بنایا گیا تھا ۔ قلعہ کے مشرقی جانب عباسی حکمرانو ں نے ایک محل بھی 2منزلہ تعمیر کرایاجہاں تاج پوشی کی رسم اد اکی جاتی تھی۔ اس وقت قلعہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود تھا ۔ ریاست بہاولپور کا پاکستان سے الحاق ہونے کے بعد اور والئی ریاست بہاولپورعباسیہ خاندان کے آخری فرمانروا نواب سر صادق محمد خاں خامس عباسی مرحوم کی وفا ت کے بعد چولستان کے وارثوں اور حکمرانوں کی عدم توجہی اور سی ڈی اے کے منہ زور عملہ کی مبینہ نا اہلی کے باعث انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تباہی کی جانب تیزی سے گامزن ہے ۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ چولستان‘‘ احمد غزالی کی تالیف ہے۔ جس میں دریا کی کہانی، ہاکڑہ دریا کی کہانی، چولستان کی وجہ تسمیہ، طول و عرض، ٹوبھے اور کُنڈ، مٹی اور مزاج، صحرائی ہوا، راستے اور سفر کی روایت، پر اسرار روشنی، خواجہ فرید کی شاعری اور چولستان، سانپ اور لوک علاج، لال سہانرا نیشنل پارک، قومیں، چولستان کے روایتی زیور، رسم و رواج، آوازیں اور شگون، چولستانی دستکاریاں، مشہور مقامات، اکھان اور نامور صحرانشینوں کے تذکرے بیان کیے گے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

امام ترمذی

شریعت محمدی ﷺ میں دو بنیادی مآخذ ہیں۔ ایک قرآن مجید اور دوسرا مآخذ سنت نبویہﷺ۔ قرآن مجید میں اصول اور حدیث رسولﷺ میں ان کی تشریح وتوضیح پائی جاتی ہے۔ لیکن فتنوں کے اس دور میں شیطان نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے ہر طرف بے راہ روی کے جال بچھا رکھے ہیں۔ کہیں انکارِ حدیث تو کہیں تجدد کی آڑ میں دین کی نت نئی تاویلات۔ کہیں مستشرقین کی تلبیسات تو کہیں اپنوں کی نفس پرستی‘ ایسے پر فتن دور میں سنت رسولﷺ کا احیاء سعادت ہی نہیں‘ فرض بھی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  کا مقصدبھی احیائے دین اور احیائے سنت ہے۔ اصلاً کتاب عربی زبان میں ہے جس کی وقتاً فوقتاً اور نت نئی تشریحات وتوضیحات ہو رہی ہیں کیونکہ یہ کتاب ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتی ہے اور یہ کتاب جامع ہونے کے ساتھ ساتھ سنن بھی ہے۔ اس کتاب میں  میں ترجمے کی سلاست کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مشکل الفاظ کے معانی بیان کرنے کے ساتھ ان کی وضاحت بھی ہے اور افادۂ عام کے لیے توضیحی فوائد بھی درج کیے گئے ہیں۔ احادیث کو بیان کرنے سے قبل کتاب کا تعارف اور ہر باب اور اس سے متعلق احادیث کا ترجمہ‘ امام ترمذی کی وضاحت اور مسائل کا خلاصہ بھی درج کیا گیا ہے اور علامہ البانی کے حکم پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ جامع سنن تر مزی متر جم مع فو ائد و توضیح ‘‘ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی  کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

عبد الحمید جودۃ السحار

آج کا دور مصرفیتوں کا دور ہے۔ ہماری معاشرت کا انداز بڑی حد تک مشینی ہو گیا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے دلوں کی آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ فکرونظر کا ذوق اور سوچ کا انداز بدل جانے سے ہمارے ہاں ہیرو شپ کا معیار بھی بہت پست سطح پر آگیا ہے۔ آج کھلاڑی‘ ٹی وی اور بڑی سکرین کے فن کار ہماری نسلوں کے آئیڈیل اور ہیرو قرار پائے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے وہ عظیم سپوت اور روشنی کی وہ برتر قندیلیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔ آج بڑی شدت سے اس بات کی ضرورت ہے کہ عہد ماضی کے ان نامور سپوتوں اور رجال عظیم کی پاکیزہ سیرتوں اور ان کے اُجلے اُجلے کردار کو منظر عام پر لایا جائے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی حوالے سے ہے جس میں حضرت ابو ذر غفاریؓ کی سیرت اور ان کے کردار کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ صحابہ کرامؓ کی باکمال جماعت ان قدسی صفات انسانوں پر مشتمل تھی جن کے دلوں کی سر زمین خدا خوفی‘ خدا ترسی‘ جود وسخا‘ عدل ومساوات صدق وصفا اور دیانت داری سے مرصع ومزین تھی۔ صحابہ میں سے ایک بے مثال‘ حق کی تلاش میں مسلسل سر گرداں اور دنیا وآخرت کی سرفرازیوں سے نوازے جانے والے حضرت ابو ذر غفاریؓ بھی ہیں۔ یہ کتاب سلاست اور روانی کی عجب شان رکھتی ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ابوذر غفاریؓ ‘‘ عبد الحمید جودۃ السحار کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1850 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :