pages-from-islam-ka-siyasi-nizam-kb-kaleyar
مختلف اہل علم

دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی ‏کے نظریہ کومغربی اصطلاح میں سیکولرازم بھی کہا جاتا ہے، جو کلیسا کے منحرف دین کے خلاف یورپ کی الحادی بغاوت کا نتیجہ ہے۔اس نظریے نے ایک جانب اگر یورپیوں کو ‏کلیسا کے استبداد کے مقابلے کے لیے کھڑا کیا تو دوسری جانب یورپی استعماروں نے اسلامی دنیا میں اپنے نظریے کی اشاعت اور پھیلاؤ کے لیے مسلمانوں کو بھی اسلامی نظام کی ‏حاکمیت سے محروم کر دیا۔اردو زبان میں تقریبا تمام اسلامی علوم پر کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن سیاسیات پر کما حقہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا سیاسی نظام" مفتی محمد سراج الدین قاسمی کی مرتب کردہ اور ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں انہوں نے اسلام کے سیاسی نظام کے موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)

title-pages-preshaniyon-se-nijat--jadeed-audition--copy
محمد اختر صدیق

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے اور ان کو مختلف شریعتیں دے کر مبعوث فرمایا گیا جو کہ اپنے دور کے اعتبار سے بہترین تھیں‘مگر دراصل یہ اسلام کے تدریجی مراحل تھے۔پھر آخر میں رسولِ رحمتﷺ مبعوث ہوئے تو اسلام اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو کر تکمیل کے مراحل بھی طے کر گیا۔جب دین اپنی تکمیل کو پہنچا تو اب اہل دنیا سے تقاضا تھا کہ وہ سرتاپا اور مکمل طور پر اسلام میں داخل ہو جائیں  اور اسلام کو سیکھیں‘اور اُس کے شب وروزِ زندگی میں اسلام کے تقاضے کیا ہیں اور اسلام کا اِس سے مطالبہ کیا ہے؟۔تو یقینا یہ سب کچھ جاننے سے پریشانیوں سے نجات ممکن ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پریشانیوں سے نجات‘‘محمد اختر صدیق کی ہے۔ جو کہ چند صفحات پر مشتمل ایک چھوٹا سا عربی کتابچہ  ’’علاج الھموم‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔گویا کہ غموں ، پریشانیوں، دکھوں اور مصائب کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب عام اور خاص کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور اس کتا ب کو اُن کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)(ر،ر)

title-pages-al-afzal-shrah-arbaien-novi-copy
امام ابو زکریا محی الدین النووی

اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث  ہیں جن کی تعلیمات وہدایات  پر  عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے  ضروری ہے ۔ قرآن مجید کی طرح  حدیث بھی دینِ اسلام  میں ایک  قطعی حجت ہے ۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی  ہے ۔احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھیلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ الأفضل شرح اربعین نووی اردو معہ عربی متن  مؤلف امام ابو زکریا محی الدین النووی شارح محمد عبد الرحمٰن ندوی ہیں ۔ اس کتاب میں امام نووی شارح صحیح مسلم کی منتخب تنتالیس مستند احادیث کا مجموعہ سلیس ترجمہ اور مفید اصلاحی شرح سیرۃ الصحابہ، سیرۃ محدثین اور اصطلاحات حدیث پر مشتمل بیش قیمت تحفہ ہے۔ ہم امام مسلم﷫، امام ابو زکریا محی الدین النووی شارح محمد عبد الرحمٰن ندوی اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں جنہوں نے اس کتاب پر کام کیا ہےانھیں اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (ر،ر )

pages-from-islam-mein-mah-e-muharrum-ki-shari-hesiyyat
ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

محرم الحرام چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک اور اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ جہاں کئی شرعی فضیلتوں کا حامل ہے وہاں بہت سی تاریخی اہمیتیں بھی رکھتا ہے۔کیونکہ اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات اس مہینہ میں رونما ہوئے بلکہ یوں کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ نہ صرف تاریخ اُمت محمدیہ کی چند اہم یاد گاریں اس سے وابستہ ہیں بلکہ گزشتہ اُمتوں اور جلیل القدر انبیاء کے کارہائے نمایاں اور فضلِ ربانی کی یادیں بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ لیکن شرعی اصولوں کی روشنی میں جس طرح دوسرے شہور و ایام کو بعض عظیم الشان کارناموں کی وجہ سے کوئی خاص فضیلت و امتیاز نہیں ہے۔ اسی طرح اس ماہ کی فضیلت کی وجہ بھی یہ چند اہم واقعات و سانحات نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اشہرِ حُرُم (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب) کو ابتدائے آفرینش سے ہی اس اعزاز و اکرام سے نوازا ہے۔جس کی وجہ سے دورِ اسلام اور دورِ جاہلیت دونوں میں ان مہینوں کی عزت و احترام کا لحاظ رکھا جاتاتھا اور بڑے بڑے سنگدل اور جفا کار بھی جنگ و جدال اور ظلم و ستم سے ہاتھ روک لیتے تھے۔ اس طرح سے کمزوروں اور ناداروں کو کچھ عرصہ کے لئے گوشۂ عافیت میں پناہ مل جاتی تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام میں ماہ محرم کی شرعی حیثیت‘‘جو کہ ڈاکٹر سید شفیق الرحمن کی تصنیف کردا ہے جس میں انہوں نے ماہ محرم کی فضیلت ،اوراس ماہ میں پائی جانے والی بدعات کو ذکر کیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔آمین(شعیب خان)

title-pages-tabien-copy
شاہ معین الدین احمد ندوی

دنیا میں ہزار وں سماجی مصلحین ،فلاسفہ و حکماء ،مدبرین و سیاست داں ،مقنّنین ومنتظمینِ سلطنت ،انسانوں کا بھلا چاہنے والے اور ان کی فلاح و بہبود کے کام کرنے والے آئے ،لیکن انسانی سماج پر جتنے ہمہ گیر اثرات خاتم النبیین حضرت محمدﷺکی ذاتِ گرامی ، صحابہ اور تابعین  کے مرتب ہوئے ، اتنی اثر آفرینی کسی اور کے حصے میں نہیں آئی ۔ تابعین کی شخصیت کے سحر ،کردار کی عظمت اور اخلاق کی پاکیزگی کی گواہی اپنوں اور پرایوں سب نے دی ہے اور تابعین کی تعلیمات و افکار کی بازگشت دنیا کے ہر خطے میں سنائی دیتی ہے تابعین کی شخصیت اور پیغام کے بارے میں ہر زمانے میں اور دنیا کے ہر خطے میں بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تابعین ‘‘ شاہ معین الدین احمد ندوی کی ہے۔ جس میں چھیانوے اکابر تابعین  رضی اللہ عنہم کۃ سوانح زندگی اور ان کے مذہبی، اخلاقی، علمی، اصلاحی اور مجاہدانہ  کار ناموں کا تفصیلی مرقع بیان  کیا ہے۔مزید جن  اکابرین کا تذکرہ بیان کیا ہے ان کو حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیا ہے۔ امید ہے کہ  یہ کتاب بگڑتے ہوئے معاشرے کی اصلاح کے لئے کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں اس کتاب کو  مسلمان مردوں اور عورتوں     کے لئے رہنمائی کا  ذریعہ  بنائے۔ آمین۔(ر،ر)

title-pages-adab-e-safar-copy
ام عبد اللہ

اﷲ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق و رزق رساں ہے۔ ا س خاکدانِ گیتی پر بسنے والاہر انسان اپنی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے شب و روزدوڑ دھوپ کرتا ہے اور بڑی محنت ومشقت سے اپنا اور اپنے گھر والوںکاپیٹ بھرنے کے لیے روزی روٹی کماتا ہے۔ اگر وہ یہ تمام کام احکامِ الٰہیہ اور سنتِ نبویہ علیۃ التحیۃ والثناء کے مطابق انجام دے تو یہ سب عبادت بن جاتے ہیں۔ لیکن اگروہ ان امورمیں اسلامی ضابطوں کی پابندی نہ کرے اور انہیں توڑتے ہوئے ناجائز طریقے اختیارکرتے ہوئے یا معاشی جدوجہد کے نام پر دوسروں کے حقوق مارنا شروع کردیتاہے تو یہی کوشش اس کے لیے آخرت میں رسوائی کا سامان بن سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آدابِ سفر‘‘ تالیف اُمِّ عبد اللہ  ترجمہ و تخریج ابو القاسم حافظ محمود احمد نے کیا ہے۔ جس میں سفر کی وضاحت لغوی اور اصطلاحی طور پر بیان کی ہے اور آداب سفر بیان کرتے ہوئے اس کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔  باب اول میں  سفر کے فوائد و عیوب کو اجاگر کیا ہے۔ باب دوم آداب سفر ۔ باب سوم دوران سفر آداب۔ باب چہارم میں اختتام سفر کے آداب۔   باب پنجم سفر عیوب و نقائص پر مشتمل ہے۔لہذا یہ کتاب آداب سفر کے حوالے سے انتہائی مفید کتاب ہے جس کو قرآن و سنت کی روشنی میں مدوّن کیا ہے۔ ہم مصنف اور دیگٰر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (ر،ر)

title-pages-kainat-kaise-wajood-me-ie-copy
حافظ عماد الدین ابن کثیر

اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔  ہمارے نبیﷺ کو ایک جامع اور مکمل شریعت دے کر مبعوث فرمایا اور  ہمارے فائدے کے لیے آسمان وزمین ‘پہاڑ‘ پرندے‘ جانور الغرض ہر ضروریات زندگی کو وجود بخشا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کائنات وجود میں تو آ گئی ہے مگر آئی کیسے؟ اس کے لیے زیر تبصرہ کتاب اپنے موضوع پر تفصیلاً کتاب ہے۔ یہ کتاب ’’قصۃ الخلق‘‘ جو کہ عربی زبان میں تھی کا اردو ترجمہ’’ کائنات کیسے وجود میں آئی‘‘ کے نام سے ہے اس میں مصنف نے قرآن کریم وصحیح احادیث نبویہﷺ کی روشنی میں کائنات کی تخلیق اور اس کے عدم سے وجود میں آنے کے حالات پر تفصیل سے کلام کیا ہے‘ نیز اس میں زمین وآسمان کی پیدائش‘ جنت ودوزخ‘ ملائکہ‘ ابلیس‘ جنات‘ لوح محفوظ وغیرہ کی تخلیق ان کے حالات وکیفیات کو قرآن کریم اور صحاح کی احادیث کی روشنی میں پوری جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ کتاب محدثانہ طرز پر احادیث کی مکمل اسناد کے التزام کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے۔ یہ کتاب سائنسی حقائق کے انکشافات کے کتاب نہیں ‘ نہ ہی اس کا مقصد سائنس کے نظریات کی تصدیق یا تکذیب ہے بلکہ قرآن وحدیث کے بیان کردہ یقینی وقطعی حقائق ہیں جن کے غلط اور ابطال ہونے کا ایک مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس میں ان اسرائیلیات سے اجتناب ہے جس کی ہماری شریعت نے نہ تو تکذیب کی ہے اور نہ تصدیق۔ یہ کتاب’’قصۃ الخلق‘‘ کے نام سے امام ابن کثیر کی شاہکار تصنیف ہے۔ آپ تقریباً بیس سے زائد تصانیف کے مؤلف ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-ittebaa-e-sunnat-aur-sahaba-o-aimmah-ra-key-asool-e-fiqha
ڈاکٹر وصی اللہ محمد عباس

اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ، فرمایا:( َ ومَا خَلَقْتُ الْجِنَّوَالْاِنْسَاِلَّالِیَعْبُدُوْن)(الذاریات)میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں)۔ جن وانس کی تخلیق کا مقصد اصلی چونکہ عبادت ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے عبادت کا طریقہ اور اس کی کیفیت بتانے کےلئے انبیائے کرام کاسلسلہ قائم فرمایا۔کیوں کہ کون ساعمل اورکونسی عبادت اللہ کو پسند اور کون ساعمل اور کون سی عبادت اللہ کو ناپسند ہے یہ بندے کو اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ خود نہ بتائے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی خوشی اور ناراضگی کے امور کی اطلاع دی اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْت))النحل: ۳۶(۔ ہم نے ہرامت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف ا للہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو)۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر قوم پر یہ فرض کیا کہ اپنے رسولوں کی بات مانیں ، ان کی اطاعت کریں اور انہیں اپنا اسوہ تسلیم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ )(النساء)۔ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے)۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قبل جتنے بھی نبی بھیجے ہر ایک کے کچھ خاص ساتھی ، مددگار اورصحابہ ہوا کرتے تھے، جونبی کی باتوں کو مانتے اور ان کی سنت کو اپناتے تھے‘‘ (مسلم)۔ یعنی ہرزمانے کے انبیائے کرام کی امتوں پر فرض تھا کہ اپنے نبی کی باتوں پر ایمان لائیں اور ان کی اطاعت کریں جنہوں نے ایسا کیا وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور جنہوں نے انبیائے کرام کی ہدایت اور ان کے طریقے کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا وہ مستحق ہلاکت قرار پائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اتباع سنت اور صحابہ وآئمہ کے اصول فقہ‘‘جوکہ وصی اللہ محمد عباس کی تصنیف کردا ہے ،جس میں انہوں نے اس موضوع کو قرآن وحدیث اور سلف وصالحین کے اقوال سے مرتب کیا ہے،اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(شعیب خان)

title-pages-hafte-k-din-aur-unka-taruf-copy
محمد ارشد کمال

مہینوں کے ناموں کے بعد دنوں کے نام جو انگریزی میں رائج ہیں ان کی وجہ تسمیہ کیا ہے اور اس کے پیچھے کیا مشرکانہ عقائد ہیں اس کی معلومات اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ بالکل اسی سے ملتی جلتی کیفیت دنوں کے ہندی ناموں کی ہے جو ہم عام زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ نام ہندوؤں کے یہاں نہ صرف دیوتاؤں سے وابستہ ہیں بلکہ آج بھی ان کی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔عربی، عبرانی اور فارسی کے نام : عربی میں دنوں کے نام نمبر شمار کے اعتبار سے ہوتے ہیں سوائے جمعہ اور سبت کے۔ ہفتہ کا پہلا دن ناموں کی ترتیب میں اتوار سے شروع ہوتا ہے۔ اوریہ نام الاحد،الاثنین،الثلاثہ، الاربعہ، الخمیس، الجمعہ اور السبت ہوتے ہیں۔جبکہ فارسی کیلنڈر میں بھی دنوں کے نام نمبر شمار کے مطابق ہیں سوائے جمعہ کے۔اس طرح گنتی اگر اتوارسے شروع کریں تویہ دن یکشنبہ ، دو شنبہ، سہ شنبہ ، چہار شنبہ، پنج شنبہ ،جمعہ اور شنبہ ہوتے ہیں ، جہاں تک یہودی یا عبرانی کیلنڈرمیں دنوں کے نام کا تعلق ہے وہاں بھی دنوں کو عربی کے انداز میں نمبر شمارکے حساب سے جانا جاتا ہے سوائے یوم السبت کے۔جیسے اتوار سے گنتی شروع کریں تویوم ریشون Yom Rishonپہلا دن،یوم شینیYom Sheiniدوسرا دن(عربی میں ثانی)،Yom Shlishiتیسرا دن (عربی ثالث) ، یوم ریوائی R’vi’i Yomچوتھا دن، یوم چامیشی Yom Chamishiپانچواں دن،یوم شیشی Yom Shishiچھٹا دن ، یوم شبّت Shabbat Yom ساتواں دن۔یوم السبت یہودیوں کے یہاں آرام کا دن تصور ہوتا ہے جبکہ عیسائیوں کے یہاں اتوار کو یہ مقام حاصل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ہفتے کے دن اور ان کا تعارف‘‘محمد ارشد کمال کی ہے۔  اس کتاب میں آپ کو ہفتہ کے ہر دن کے بارے میں معلومات ملیں گی۔پہلے ان کا تعارف،ان کے ناموں کا معنی و مفہوم اردو کے علاوہ دیگر زبانوں میں ان کے کیا نام ہیں،ان کی صحیح ثابت شدہ فضیلتیں،اس طرح ان کی فضیلتوں میں جو ضعیف اور موضوع روایات بیان کی جاتی ہیں "غیر ثابت شدہ روایات" کے عنوان سے ان کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے اور وجہ ضعف بھی بتا دی گئی ہے۔نیز ان دنوں کے احکام و مسائل ، ان میں رائج بدعات و رسومات کا تذکرہ بھی کر دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ان دنوں میں پیش آمدہ اسلامی تاریخ کے بعض چیدہ چیدہ واقعات جن میں زیادہ تر مشاہیر اسلام کی وفیات ہی ہیں انہیں بھی  بیان کر دیا گیا ہے۔ ہم  مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

pages-from-marawwajah-taveez-aur-muavizaat-e-nabviyyah
ام عبد منیب

اردو میں مستعمل لفظ’’تعویز‘‘ کا عربی نام’’التمیمۃ‘‘ہے عربی زبان میں ’’التمیمۃ ‘‘کے معنی اس دھاگے ،تار،یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسے اور حصے میں باندھا جائے۔ آج کل اس کا استعمال مسلم معاشرہ میں بہت زیادہ   ہو گیا ہے۔ اگر آج  امت محمدیہ کے افراد کی تلاشی لی جائے تو کسی کی گردن میں کاغذی تعویز لٹک رہا ہوگا، کسی میں چھوٹا سا قرآنی نسخہ۔ کسی میں کوڑیاں اور مونگے تو کوئی کالا دھاگہ باندھے ہوگا۔ کوئی امام ضامن پر تکیہ کئے ہوئے ہےتو کسی کو کالی بلی سامنے سے گزر جانے کا خوف ہے۔ کوئی مصیبت سے بچنے کیلئے تعویذ پہنتا ہے تو کوئی محبت کروانے کیلئے تعویذ کروا رہا ہے۔ قرآن سے دوری نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ شرک امت کی رگ رگ میں رچتا بستا چلا جا رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مروجہ تعویذاور معوذات نبویہِﷺ‘‘محترمہ ام عبد منیب کی تصنیف کردا ہے،جس میں وہ بیان کرنا چا ہتی ہیں کہ کس طرح آج کل ہمارے معاشرے تعویز پہننے یا تعویز لٹکانے کا رواج ہے، اور اکثریت غیر شرعی اور شرکیہ تعویزات کا ہی سہار لیتی ہے۔ سادہ لوح لوگ تو سرسے پیروں تک اس شرک میں ڈوبے ہوے ہیں ،اور بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی جانے ان جانے میں اس گناہ میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔آخر میں اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ محترمہ ام عبد منیب کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(شعیب خان)

title-pages-neki-ki-raah--abu-bakar--copy
عبد المحسن بن محمد القاسم

یکی اور بھلائی کے راستے کئی قسم کے ہیں تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے مختلف اوقات میں اطاعت کے مختلف کام سر انجام دے اور اس میں نشاط برقرار رہے۔ بندہ اگر ایک عمل سے اکتا جائے تو دوسرا عمل کرلے۔ وہ اس طرح کہ جس وقت میں جو کام کرنا ہے وہی کیا جائے، یعنی نماز کے وقت نماز ادا کی جائے، جہاد کے وقت جہاد اور اگر مہمان آجائے تو اس وقت اس کی ضیافت کی جائے اور اس کی مہمانی کا حق ادا کیا جائے۔ پس ایسا شخص جو رسم رواج کا پابند نہیں ہوتا بلکہ ہر کام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے وقت اور طریقے پر کرتا ہے تو اس کے لیے خوش خبری ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نیکی کی راہ‘‘ مسجد نبوی کے امام و خطییب ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم کی کتاب ’’خطوات إلى السعادة‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ، شیخ محترم تقوی وطہارت اور حسن صفات کے ساتھ ساتھ مسجد نبوی کے امام وخطیب ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔آپ نے اس کتاب میں مختلف موضوعات سے متعلق کتاب و سنت اور اقوال سلف کی ایسی قیمتی موتیوں کو اکٹھا کیا ہےجو انسان کو عموما اور مسلمانوں کوخصوصا سعادت وکامرانی کے کنارےتک پہنچاتی ہیں نیز وہ اللہ کی رضا و خوشنودی اور جنت کا حقدار بنے گا۔ کتاب کی افادیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے فاضل بھائی محمد عمران سلفی فاضل جامعہ سلفیہ نے اس کو اردو کا جامہ پہنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ رب العالمین کتاب کو مفید عام بنائےاور اس کے مؤلف و مترجم اور کتاب کی تیاری وطباعت کے مرحلہ تک پہنچانے میں جن لوگوں نے بھی تعاون کیا ہےان کے لیے اسے ذخیرۂ آخرت بنائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

title-pages-mian-nazir-hussain-muhaddis-dehalwi-copy
رفیع احمد مدنی

شیخ الکل فی الکل شمس العلما، استاذالاساتذہ سید میاں محمد نذیر حسین محدث دہلوی حسینی حسنی بہاروی ہندی(۱) برصغیر پاک وہند کی عظیم المرتبت شخصیت ہی نہیں بلکہ اپنے دور میں شیخ العرب و العجم، نابغہ روز گار فردِ وحید تھے۔ آپ کی حیات و خدمات کا احاطہ ایک مضمون میں ناممکن ہے۔ بلاشک و شبہ اب تک عظیم اہل قلم نے اپنی تحریروں میں حضرت محدث دہلوی کی حیات وصفات کے کئی پنہاں گوشے نمایاں کئے ہیں۔ زیرنظر مضمون میں بھی خدماتِ حدیث کی تاریخ میں جھانکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاریخ کے دامن میں کتنی جلیل القدر شخصیات ہیں جو اپنی ذات میں انجمن تھیں، انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں گرانقدر خدمات انجام دیں جو ہماری تاریخ کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔ بالخصوص خدمت ِحدیث کے حوالہ سے برصغیر پاک و ہند کے عظیم مجتہد، امام وفقیہ، مفسر ومحدث سید میاں محمد نذیر حسین حسنی حسینی ہندی بہاروی دہلوی جن کا سلسلہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’میاں نذیر حسین محدث دہلوی  چند الزامات کا تحقیقی جائزہ‘‘مولانا رفیع احمد مدنی کی ہے۔جس میں میاں صاحب سے متعلق چند گھناؤنے الزامات کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ ہے۔ آج بھی ایک گروہ مسلسل چبائے ہوئے لقمے کو چبا رہا ہے، جھوٹی اور من گھڑت روایات کی تکرار پر تلا ہوا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دفاع عن السنت سے متعلق اسلاف کی کتابوں کی بار بار اشاعت کی جائے اور ان موضوعات پر لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے ،یہ تحفظ سنت کا فریضہ ہے ۔ اس سے اغماض برتنا دین میں مداہنت ہے ۔ مقالہ کے مرتب جامعہ سلفیہ کے فاضل شیخ رفیع احمد مدنی (مقیم حال سڈنی آسٹریلیا)ہیں۔ فضیلت ثالث کے طلبہ نے اس کی اشاعت کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کتاب انہیں جامعہ کے نصب العین اور اہداف و مقاصد کی ہمیشہ یاد دلاتی رہے گی ۔ اللہ رب العالمین کے حضور دعا گو ہوں کہ اے اللہ! تو ہمارے ایمان اور عقیدے کی حفاظت فرما، ہمارے یہ بچے جو عملی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں ، انہیں دین کا سچا خادم ، داعی اور عالم با عمل بنا ، تو ان کی دینی خدمات کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنا ۔آمین۔(ر،ر)

pages-from-maulana-ghulam-mehar-hayaat-o-asaar-masif
ڈاکٹر محمد آصف اعوان

مولانا مہر غلام رسول (1895-1971) غلام رسول مہر کا وطن جالندھر ہے۔ اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم پائی، بعد ازاں حیدراباد دکن تشریف لے گئے اور وہاں کئی برس تک انسپکٹر تعلیمات کی خدمت انجام دی۔ 1921ء میں لاہور سے نکلنے والے اخبار"زمیندار" کے ادارہ تحریر میں شامل ہو گئے کچھ عرصہ بعد"زمیندار" کے مالک بن گئے۔ پھر مولانا سالک کے ساتھ "انقلاب" کے نام سے اپنا وہ مشہور اخبار نکالا جس نے مسلمانان ہند کے حقوق کے تحفظ میں بڑا حصہ لیا۔ مولانا مہر گول میز کانفرنس میں علامہ اقبال کے رفیق تھے۔ اس دوران انہوں نے یورپ اور مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کا سفر بھی کیا۔"انقلاب"بند ہو جانے کے بعد تصنیف و تالیف میں ہمہ تن گوش ہو گئے۔ لاہور میں سکونت پذیر رہے۔ اور لاہور میں ہی انتقال ہوا۔مولانا مہر نے ایک صحافی کی حیثیت سے شہرت پائی، لیکن وہ ایک اچھے مؤرخ اور محقق بھی تھے۔ تاریخ و سیرت میں انکا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اسلام اور دینی علوم کی جانب زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے متعدد تصانیف اور تالیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ ۔ حضرت سید احمد بریلوی کی سوانح حیات انکا اہم کارنامہ ہے۔ حضرت شہید کے رفیقوں کے حالات بھی سرگزشت مجاہدین کے نام سے لکھے۔ ۔ سوانحی و تاریخی کتابوں کے علاوہ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمے کیے۔ زیر تبصرہ کتاب’’مولانا غلام رسول مہرحیات وآثار‘‘ڈاکٹر محمد آصف اعوان کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کو انہوں نے تیں ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔پہلے باب میں مولانا مہر کے سوانحی حالات دوسرے باب میں مولانا کی علمی خدمات کا تعارف او رتیسرے باب میں اردو وزبان وادب کے حوالے سے مولانا مہر کی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-manazil-e-akhrit-copy
محمد شرف الدین شرف بھاگل پوری

پُر رونق اور زندگی سے بھر پور بستیوں میں سے رہنے والوں میں سے شائد ہی کوئی شخص ایسا ہوگاجس نے کسی شہر خموشاں کا نظارہ نہ کیا ہوگا۔ ہم میں سے بہت لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان جب مر جاتا ہے اور قبر میں دفن کر دیا جاتاہے تو وہ گل سڑ کر مٹی میں مل جاتاہے اور ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتاہے اور اس کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی اور مرنے کے بعد اسے کسی اور چیز کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔یہ بڑی خطرناک غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد ایک نئی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ یہ زندگی برزخ کی زندگی کہلاتی ہے اور برزخ کے بعد آخرت کی زندگی ہوگی جو ہمیشہ رہے گی کبھی ختم نہ ہوگی۔مرنے کے بعد جو کچھ پیش آ گا اسے قرآن حکیم اور احادیث نبویہ میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔ انسان جب مر جاتاہے اور اسے لے جا کر قبر میں دفن کردیا جاتا ہے تو سب سے پہلے اسے قبر کے فتنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قبر کے تصور ہی سے اہل ایمان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’منازل آخرت‘‘محمد شرف الدین بھاگل پوری  کی ہے۔ اس کتاب کو مرتب محمد طفیل احمد مصباحی عفی عنہ نے کیا ہے۔ یہ کتاب لوگوں میں فکر و عمل کی روح پھونکنے والی اور آخرت کے ہولناک واقعات و مناظر سے جسم پر کپکپی طاری کر دینے والی اپنی نوعیت کی منفرد اور لاجواب ہے۔امید ہے اس کتاب کے مطالعہ سے خوف خدا پیدا ہو گا اور منکرین آخرت کی تردید کے لئے لاجواب تحفہ ہے۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

title-pages-babri-masjad-shahadat-se-qabal-2-copy
محمد عارف اقبال

مسلمان اللہ کے گھر کی شہادت کے ساتھ ساتھ اس ملک کی صدیوں قدیم مذہبی آہنگی کے ملیامیٹ ہونے کا غم مناتے ہیں۔ عدلیہ پر اپنے اٹوٹ ایقان کے متزلزل ہونے کا ماتم کرتے ہیں۔ ہم اور ہماری پیشرو نسل کے لوگ بابری مسجد کی تاریخی حقیقت، اہمیت سے بھی واقف ہیں‘ اور اُن لرزہ خیز واقعات کے بھی ٹیلیویژن چیانلس کے ذریعہ چشم دید گواہ بھی ہیں جب تاریخی بابری مسجد کو تاریخ کا ایک حصہ بنانے کے لئے ہندوستان بھر سے کرسیوک جمع ہوئے جنہیں حکومت کی جانب سے سیکوریٹی فراہم کی گئی۔ ساری دنیا سے اکٹھا ہونے والے میڈیا نمائندوں کے سامنے کرسیوکوں نے سنگھ پریوار کے سرکردہ قائدین کی موجودگی میں اُن کے نعرۂ ہائے تحسین کی بازگشت میں بابری مسجد کے گنبدوں پر چڑھ کر کدالوں سے اسے دیکھتے ہی دیکھتے شہید کردیا۔ 6؍دسمبر 1992ء کو ہندوستان کا ہر مسلمان اپنی نظر سے خود گردیا۔ زیر نظر تبصرہ کتاب ’’بابری مسجد شہادت سے قبل‘‘ محمد عارف اقبال کی ہے جس میں مسجد بابری کی معلومات فراہم کی گئی ہے۔بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر ( 1483ء - 1531ء) کے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص میر باقی کے ذریعہ سن 1527ء میں اتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی۔مزید اس کتاب میں بابری مسجد کی دینی و شرعی و تاریخی حیثیت ، بابری مسجدارباب فقہ و فتاویٰ کی نظراور دیگر تنازعات کو اجاگر کیا ہے روزِ روشن کی طرح اور یہاں تک کہ  ساری دنیا سے اکٹھا ہونے والے میڈیا نمائندوں کے سامنے کرسیوکوں نے سنگھ پریوار کے سرکردہ قائدین کی موجودگی میں اُن کے نعرۂ ہائے تحسین کی بازگشت میں بابری مسجد کے گنبدوں پر چڑھ کر کدالوں سے اسے دیکھتے ہی دیکھتے شہید کردیا۔ بابری مسجد کا تنازع اس وقت بھی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان شدید نزاع کا باعث ہے اور اس کا مقدمہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ پاک مساجد کی حفاظت فرمائے اور جو کام محمد اقبال عارف نے کیا ہے اس قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

pages-from-mehfil-e-milaad-quran-o-hadees-ki-roshni-mein-jabir-jazaeri
ابو بکر جابر الجزائری

مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اس سلسلے میں صحابہ کرام ﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہےمتازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور   پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔ہمارے ہاں ہر سال ماہ ربیع الاول کی آمد یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ عیدِ میلاد النبی ﷺ پر جشن وغیرہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ او ر نبی اکرم ﷺکی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی۔ زیر تبصرہ کتاب’’محفل میلاد قرآن وحدیث کی روشنی میں‘‘ معروف عالم دین شیخ ابوبکر جابر الجزائری کے میلاد کے متعلق لکھے گئے عربی رسالہ کا ترجمہ ہے ۔شیخ موصوف نے حقیقت پسندی سے قرآن وحدیث کی روشنی میں محفل میلاد کاجائزہ لیا ہے۔ جناب سیدمشتاق علی ندوی نے 1405ھ میں اس کتابچہ کا سلیس ترجمہ کیا اور مدینہ یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر سید محمد اجتباء ندوی اور ڈاکٹر فواد عبد الرحیم کو چیک کروا کر مصنف کتاب کو پیش کیا تو مصنف کی سفارش پرمترجم نے اس ترجمہ کو دار الافتاء کے صدر شیخ ابن باز ﷫ کے سامنے پیش کیا شیخ نے اس کی اہمیت افادیت کے پیش نظر اس کے پچاس ہزار نسخے چھپوا کر تقسیم کر نے کے احکامات صادر کیے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو بدعات وخرافات میں گھرے مسلمانوں اصلاح کا ذریعہ   بنائے۔ (م۔ا)

title-pages-babri-masjad-shahadat-se-qabal-1-copy
محمد عارف اقبال

فرقہ پرستوں نے اللہ کے گھر مسلمانوں کی ایک عبادت کو شہید نہیں کیا بلکہ ہندوستان کے سیکولر کردار، مذہبی رواداری کی روایت کو پامال کیا۔ مسلمانوں کا جو بھرم تھا اس کو ختم کردیا۔ ان فرقہ پرستوں میں جہاں مذہبی جماعتوں کے کارکن بھی شامل تھے وہیں مفاد پرست سیاستدان بھی۔ مسلمان اللہ کے گھر کی شہادت کے ساتھ ساتھ اس ملک کی صدیوں قدیم مذہبی آہنگی کے ملیامیٹ ہونے کا غم مناتے ہیں۔ عدلیہ پر اپنے اٹوٹ ایقان کے متزلزل ہونے کا ماتم کرتے ہیں۔ ہم اور ہماری پیشرو نسل کے لوگ بابری مسجد کی تاریخی حقیقت، اہمیت سے بھی واقف ہیں‘ اور اُن لرزہ خیز واقعات کے بھی ٹیلیویژن چیانلس کے ذریعہ چشم دید گواہ بھی ہیں جب تاریخی بابری مسجد کو تاریخ کا ایک حصہ بنانے کے لئے ہندوستان بھر سے کرسیوک جمع ہوئے جنہیں حکومت کی جانب سے سیکوریٹی فراہم کی گئی۔ ساری دنیا سے اکٹھا ہونے والے میڈیا نمائندوں کے سامنے کرسیوکوں نے سنگھ پریوار کے سرکردہ قائدین کی موجودگی میں اُن کے نعرۂ ہائے تحسین کی بازگشت میں بابری مسجد کے گنبدوں پر چڑھ کر کدالوں سے اسے دیکھتے ہی دیکھتے شہید کردیا۔ 6؍دسمبر 1992ء کو ہندوستان کا ہر مسلمان اپنی نظر سے خود گردیا۔ زیر نظر تبصرہ کتاب ’’بابری مسجد شہادت سے قبل‘‘ محمد عارف اقبال کی ہے جس میں مسجد بابری کی معلومات فراہم کی گئی ہے۔بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر ( 1483ء - 1531ء) کے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص میر باقی کے ذریعہ سن 1527ء میں اتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی۔مزید اس کتاب میں بابری مسجد کی دینی و شرعی و تاریخی حیثیت ، بابری مسجدارباب فقہ و فتاویٰ کی نظراور دیگر تنازعات کو اجاگر کیا ہے روزِ روشن کی طرح اور یہاں تک کہ ساری دنیا سے اکٹھا ہونے والے میڈیا نمائندوں کے سامنے کرسیوکوں نے سنگھ پریوار کے سرکردہ قائدین کی موجودگی میں اُن کے نعرۂ ہائے تحسین کی بازگشت میں بابری مسجد کے گنبدوں پر چڑھ کر کدالوں سے اسے دیکھتے ہی دیکھتے شہید کردیا۔ بابری مسجد کا تنازع اس وقت بھی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان شدید نزاع کا باعث ہے اور اس کا مقدمہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ پاک مساجد کی حفاظت فرمائے اور جو کام محمد اقبال عارف نے کیا ہے اس قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

qabar-par-matti-dete-waqt
محمد محفوظ حسین

اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ نبیﷺ کے بعد شریعت محمدی کا عَلَم امت کے علماء کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں کچھ خاص لوگوں کو چُنا جو شریعت محمدیﷺ کو لوگوں تک پہنچاتے رہے اور مسلمانوں تک احادیث رسولﷺ کا گراں قدر سرمایہ پہنچانے کے لیے ائمہ حدیث نے بڑی محنتیں کیں اور بہت مشقت اُٹھا کر لمبے لمبے اسفار کیے ہیں اور کئی کتب حدیث کے کئی مجموعے مرتب کیے   اور احادیث کی تحقیق پر بھی کئی کتب تالیف کی گئی جن میں سے ایک زیرِ تبصرہ کتاب بھی ہے اس میں قبر پر مٹی دیتے وقت ’’منہا خلقناکم وفیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارۃ اخری‘‘ پڑھنے والی روایات کی تحقیق کی گئی ہے‘ سب سے پہلے مسند احمد والی‘ پھر سنن بیہقی والی‘ پھر مستدرک حاکم والی روایت کی تحقیق کی گئی ہے۔ اسی طرح متن کے ساتھ ساتھ راویوں کی مختصر تحقیق بھی پیش کی گئی ہے۔ روایت کے بعد خلاصہ تحقیق بھی پیش کیا گیا ہے اور آسانی کے لیے اہم نوٹ بھی دیے گئے ہیں۔ یہ کتاب ’’ قبر پر مٹی دیتے وقت‘‘ محمد محفوظ حسین﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)(ح۔م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 353 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :