title-pages-manhaj-e-ahle-hadith-copy
محمد طیب محمدی

اہل حدیث نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی " والے" اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کردیں تو معنی ہونگے، " حدیث والے" اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام سے مراد"قرآن و حدیث" ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے۔اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلاناہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ منہج اہل حدیث‘‘ محمد طیب محمدی صاحب کی ہے۔ جس میں وحی کا معنیٰ و مفہوم، صحابۂ کرام کے اعمال، دین اسلام کا کامل ہونا، اتباع رسول کا معنی و اہمیت، ترک سنت کی سزا ، ترک تقلید، اعمال کی قبولیت کی شرائط، بدعت کی تاریکیاں، اہمیت حدیث اور آخر میں اختلافات کے جل کو اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے عناوین کے اعتبار سے انتہائی معتبر کتاب ہے۔اہل حدیث کا منہج یہی ہے کہ لوگوں کو راہِ راست پر لانا اور گمراہی سے بچنے کی تلقین کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ محمد طیب صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے لئے اس کتاب کو صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔( رفیق الرحمن) 

page-from-al-mustadrak-alas-sahihain-1
حافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم نیساپوری

اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ للامام الحافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری کی ہے جس کا اردو ترجمہ الشیخ الحافظ ابی الفضل محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی نے خوبصورت اسلوب میں کیا ہے۔ المستدرک علی الصحیحین اس کی چھ جلدیں ہیں اور اسے مستدرک بھی کہتے ہیں اہل سنت کے مشہور عالم امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ حاکم نیشا پوریالحاکم نیشاپوری (متوفی 405ھ) کا مرتب کیا ہوا احادیث کا مجموعہ ہے۔ جو الحاکم نیشاپوری نے 72 سال کی عمر میں ترتیب دیا۔ حاکم نیشاپوری کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب کی تمام احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم یا دونوں کے معیار کے مطابق حسن اور صحیح احادیث ہیں۔ یہ کتاب المستدرک الحاکم کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن علماء اہل حدیث کا کہنا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ حدیث کی تصحیح میں متساہل تھے جس کی بنا پر مستدرک میں بہت ساری ضعیف اور موضوع حدیثیں ذکر کر ڈالی ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کتاب کا اختصار کیا اور اس پر بعض مفید تعلیقات بھی چڑھائی ہیں. بہرحال احادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے۔ ہم امام حاکم﷫، محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی اور دیگر سا تھیوں کے لئے دعا گو ہیں جنہوں نے اس کتاب پر کام کیا ہےانھیں اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (پ،ر،ر )

title-pages-mazloom-sahabiyat-copy
ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

اسلام کی قدیم تایخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دور حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی ،اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں ۔ زیر تبصرہ ’’ مظلوم صحابیات ‘‘ڈاکٹر حافظ محمد شہباز حسن کی ہے۔ اس کتاب میں مظلوم صحابیات الرسول کی دلفریب ودلنشیں او ر پر نورسیرت کے روح پر ور اور ایمان افروز ومناظر پر مشتمل ہے۔ لہذا یہ کتاب عصر حاضر کی مظلوم خواتین کے لئے راہنما ئی کرنے والے ہے۔ اللہ تعالی خاندانوں کی خدمت اور تربیت کرنے والی مومنات کواس کامطالعہ کر کے اپنی زندگی کو ان صحابیات کی سیرت کے سانچے میں ڈھال کر معاشرے میں ایک نمونہ بننے کی توفیق بخشے اور مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت بخشے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

title-pages-maslak-ahle-hadith-k-bare-me-copy
طیب شاہین لودھی

مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ اہل حدیث نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے ۔مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے ۔ پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا لیکن اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا اقرار کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ مگر مسلک اہل حدیث پر دیگر مسالک نے کیچڑ اچھالنے کی بہت کوشش کی ہے مگر اللہ رب العزت کی نصرت سے مسلک اہل حدیث کامیاب ترین اور نبیﷺ کے نقش قدم پر چلنے ولا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مسلک اہل حدیث کے بارے میں چند مغالطوں کا ازالہ‘‘پروفیسر طیب حسین لودھی کی ہے۔جس میں مسلک اہل حدیث پر لگائے گے مغالطوں کا ازالہ کیا ہے۔اور مسلک اہل حدیث کی اہمیت و فضیلت کو اجاگر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور ان کی مساعی جمیلہ کوشرف قبولیت سے نوازے (آمین) (رفیق الرحمن ) 

title-pages-majmua-maqalat-pr-salfi-tehqiqi-jaiza-copy
محمد رئیس ندوی

علمائے اسلام نے دینِ اسلام او رعقیدۂ توحید کی ترویج دعوت وتبلیغ ،درس وتدریس ، تصنیف وتالیف ،مضامین ومقالات کے ذریعہ کی ہے بعض علماء نے مختلف موضوعات پر ضخیم کتب او رچھوٹے رسائل و کتا بچہ جات تحریر کئے ہیں۔ قارئین کے لیے بڑی ضخیم کتب کی بنسبت ان چھوٹے رسائل،کتابچہ جات اور مضامین ومقالات سے استفادہ کرنا آسان ہے۔بعض ناشرین کتب نے ان رسائل کو افادۂ عام کے لیے یکجا کر کے شائع کیا ہے جیسے کہ مقالات شبلی، مقالات راشدیہ،مقالات محدث گوندلوی ، مقالات مولانا محمد اسماعیل سلفی،مقالات شاغف، مقالات اثری، مقالات پر وفیسر عبد القیو م وغیرہ یہ مذکورہ تمام مقالات تقریبا کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ‘‘ وکیل سلفیت علامہ محمد رئیس ندوی﷾ (استاذ جامعہ سلفیہ بنارس) کی ہے۔ یہ کتاب قرآن و حدیث کی روشنی فتنہ تقلید پرستی میں روک تھام کے لیے ایک مکمل نصاب ہے، جو کہ دیو بندی تحفظِ سنت کانفرنس (2،3 مئی 2001ء) کے موقع پر شائع کردہ انتیس مجموعہ مقالات پر مبنی ہے۔جس میں اکابر صحابہ و محدثین کرام اور دیگر شیوخ کے حالات و واقعات کو بیان کرتے ہوئے نماز کے متعلق احکامات وغیرہ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف اور دیگر معاونین کتاب کی اس کو کاوش کو قبول فرمائے ۔آمین۔ رفیق الرحمن

title-pages-muhammadiyat-copy
محمد جونا گڑھی

دینِ اسلام کاابلاغ او راس کی نشر واشاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہذا اس انعام الٰہی کی وجہ سےایک عام مسلمان کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ اصلاحِ انسانیت کےلیے اللہ تعالیٰ نےامت مسلمہ کو ہی منتخب فرمایا ۔اور ہر دور میں مسلمانوں نےاپنی ذمہ داریوں کومحسوس کیا اور دین کی نشر واشاعت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔دور حاضر میں ہر محاذ پر ملت کفر مسلمانوں پر حملہ آور ہے او راسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور نفرت انگیز رویہ اپنائے ہوئےہیں او ر آئے دن نعوذ باللہ پیغمبر اسلام کی ذات کوہدف تنقید کا نشانہ بنا کر انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ تو یقینا ایسی صورت حال میں رحمت کائناتﷺ کےاخلاقِ عالیہ اور آپﷺ کےپاکیزہ کردار اور سیرت کے روشن ،چمکتے اور دمکتے واقعات کو دنیا میں عام کرنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ اسے پڑھ کر امت مسلمہ اپنے پیارے نبیﷺ کے خلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے آگا ہ ہوسکے اور آپ کی سیرت وکردارکوروشنی میں اپنی آنے والی نسل کی تربیت کر سکے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ محمدیات‘‘ مولانا محمد صاحب جونا گڑھی کی ہے۔ جس میں انہوں نے فقہ حنفی کے (فاتحہ خلف الامام، فاتحہ خوانی اور دیگر بدعات کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

title-pages-qabroon-ki-ziyarat-aur-sahibe-qabar-se-faryad
امام ابن تیمیہ

آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا وغیرہ ایسے اعمال جو شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فریاد ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی تالیف کا ثمر صادق احمد حسین نے اردو ترجمہ کیا ہے۔یہ کتاب درحقیقت رد قبر پرستی کے موضوع پر لکھے گئے ان کے متعدد مضامین کا مجموعہ ہے۔ اور ان دلائل کا مختصراً جائزہ لیا گیا ہے جو قبرپرستی جیسے شرکِ صریح کے جواز میں بالعموم بریلوی علماء یا ان کے ہمنوا اہل قلم کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں ۔ اور اس کے متعلق شیطان اور اس کے نمائندوں کی طرف سے پھیلائے گئے شکوک وشبہات اور تاویلات فاسدہ کی حقیقت قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کر کے ان کا خوب بطلان کرتے ہوئے احقاق حق کا فریضہ سرانجام دیا ہے ۔ اللہ تعالی مولف کی فروغ دین کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

title-pages-lughat-e-arab-k-ibtdai-qawaid-copy
ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

شریعت اسلامی کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعتِ اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے۔ اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت عربی زبان سے ناواقف ہے جس کی وجہ سے وہ فرمان الٰہی اور فرمان نبوی ﷺ کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ حتی کہ تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کی اکثریت سکول ،کالجز ،یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل اسلامیات کے اسباق کو بھی بذات خود پڑھنے پڑھانے سے قا صر ہے ۔ علماء ومدارس کی اپنی حدتک عربی زبان کی نشرواشاعت کے لیے کوششیں وکاوشیں قابل ذکر ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر حکومت کی طرف کماحقہ جدوجہد نہیں کی گئی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ لغت عرب کے ابتدائی قواعد اور جدید عربی بول چال مع قصص النبین‘‘ ڈاکٹر حافظ محمد شہباز حسن (شعبہ علوم اسلامیہ، انجینئر یونیورسٹی) کی ہے۔ جس میں عرب زبان کی خصوصیات، قواعد، ہفتے، مہینوں کے نام اور دیگر الفاظ کو بیان کیا ہے۔ مزید اس کتاب میں عربی زبان کو سیکھنے کے حوالے سے انبیاء کرام قصوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ تا کہ مدارس دینیہ کے طلباء و مدرسین کے لیے یہ کتاب ایک نادر تحفہ ہے کیونکہ مدارس دینیہ کی اکثریت عربی گرائمر تو جانتی ہے مگر آج کل کی بولی اور لکھی جانے والی عربی زبان سےناواقف ہے ۔اس کتاب کی مدد سے عرب ممالک کے مسافروں کے لیے عربی سیکھنا نہایت آسان ہے ۔ اور یہ کتاب اساتذہ وطلبہ کےلیے عربی بول چال پر ایک شاندار رہنما کتاب ہے۔(رفیق الرحمن) 

title-pages-qabar-parasti-aur-samaa-mouta-copy
محمد قاسم خواجہ

آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا  کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا  وغیرہ ایسے اعمال جو  شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قبر پرستی اور سماع موتیٰ ‘‘محترم محمد قاسم خواجہ کی تصنیف ہے۔یہ کتاب درحقیقت رد قبر پرستی کے موضوع پر لکھے گئے ان کے متعدد مضامین کا مجموعہ ہے۔ اور ان دلائل کا  مختصراً جائزہ  لیا گیا ہے جو قبرپرستی جیسے  شرکِ صریح کے جواز  میں بالعموم بریلوی علماء یا ان  کے ہمنوا اہل قلم  کی طرف سے  پیش کیے جاتے ہیں ۔ اور اس کے متعلق شیطان اور اس کے  نمائندوں کی طرف سے پھیلائے گئے  شکوک وشبہات اور تاویلات فاسدہ کی حقیقت  قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کر کے  ان کا خوب بطلان کرتے  ہوئے احقاق حق کا فریضہ سرانجام دیا ہے ۔ اللہ تعالی مولف کی فروغ دین کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

title-pages-qadiyani-aur-jandhai-khandan-copy
سید بدیع الدین شاہ راشدی

اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔ زیر نظر کتاب ’’ قادیانی اور جھنڈائی خاندان ‘‘  مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقت پر لکھی گئی ہے۔جو قادیانی فتنے کے خلاف لکھنے والے معروف قلمکار عبد الرحمن میمن نے  علامہ سید بدیع الدین  شاہ راشدی صاحب کی کتاب ’’بینھما برزخ لا یبغیان ‘‘  کا اردو ترجمہ کیاہے۔مولف موصوف کی  قادیانیوں کے حوالے سے اس سے پہلے بھی کئی کتب سائٹ پر اپلوڈ کی جا چکی ہیں ۔ان سے پہلے محترم محمد متین خالد بھی اس فتنے کے خلاف ایک موثر آواز اٹھا چکے ہیں۔مولف نے اس میں قادیانیوں کے حوالے سے   تہلکہ خیز انکشافات،ناقابل یقین حقائق اور چشم کشا واقعات سے پردہ اٹھایا گیا ہے،اور قادیانی کلچر سے متعلق ہوش ربا مشاہدات وتجربات  کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

title-pages-aqliyat-quran-e-kareem-copy
ڈاکٹر فاطمہ اسماعیل مصری

تقلید اور اختلاف امت دین، دلیل، برہان، غور وفکر، تحقیق اورتخلیق کے ضد کے طور پر ابھرا ہے۔ دین، یعنی قرآن پاک اپنی اصلی شکل میں محفوظ ہے جس کے تحفظ کی ذمہ داری تاقیامت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لی ہوئی ہے۔ وحی کے الفاظ، جس وقت یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارے گئے تھے، ہو بہو وہی ہیں۔ قرآن کی حقانیت تمام فرقوں میں مسلم ہے۔ اس لئے یہی وہ نکتہ ہے جس سے امت میں اتفاق اور یگانگت کی فضا فروغ پا سکتی ہے۔ قرآنی نقطہ نظر سے دین کو سمجھنا انتہائی آسان ہے۔ تاہم اس کو کھلے ذہن کے ساتھ، قرآن کی تفسیر قرآن کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے (قرآن اپنی تفسیر خود اپنی آیات سے کرتا رہتا ہے) نہایت آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔ قرآن کریم، وحی خدا وندی ہے۔ دین اپنی اساس میں قدیم سے جدید ہے۔ اس لئے دین کو فطرت کے اصولوں کے مطابق، حواس خمسہ اور عقل وفکر کے ذریعے معروضی حالت کے تناظر میں پرکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ عقلیات قرآن  کریم ‘‘ ڈاکٹر فاطمہ اسماعیل مصری کی ہے جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی نے کیا ہے۔اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن نے اسلامی عقیدے کی تعمیر میں عقل کو بڑا مقام دیا ہے۔ قرآن کی 6236 آیات کا تعلق عقائد سے ہے جن میں اعتراضات و شبہات کے جوابات میں عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ قرآن اپنے مخاطبین کو دعوت دیتا ہے کہ اسلامی عقیدے کو پہلے اپنی عقل کی روشنی میں پرکھیں اور پھر ایمان لائیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے عقل، فکٰر اور اجتہاد کو استعمال کر کے عقلی استلال کے جس قرآنی منہاج کی طرف رہنمائی فرمائی ہے، صحابہ کرام اور ہر دور میں امت کےعلماء، متکلمین اور فلاسفہ نے اس کی پیروی اور اسے فروغ دیا۔ لہذا دین کو فطرت کے اصولوں کے مطابق، حواس خمسہ اور عقل وفکر کے ذریعے معروضی حالت کے تناظر میں پرکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ ہم  مصنف  کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

title-pages-sahih-khutbat-e-rasool--saww--copy
ابراہیم ابو شادی

سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔سیرت نبوی ﷺ کے متعدد پہلو ہیں جن میں ایک پہلو آپ ﷺ کے خطبات بھی ہیں۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں بے شمار خطبات ارشاد فرمائے ،مگر یہ سب خطبے اول تا آخر مکمل صورت میں کسی ایک کتاب میں ایک جگہ نہیں ملتے ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح خطبات رسولﷺ ‘‘محترم ابو انس محم سرور گوہر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے آپﷺ کے خطبات کو صحیح احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)

pages-from-imam-ibn-e-taimiah-ghulam-jelani-barq
ڈاکٹر غلام جیلانی برق

مسلمانوں کا قدیم علمی ورثہ ایک ایسا بحرِ زخّار ہے جس میں ایک سے ایک بڑھ کر سچے موتی موجود ہیں لیکن جوں جوں ہم قدیم سے جدید زمانے کی طرف بڑھتے ہیں یہ موتی نایاب ہوتے جاتے ہیں لیکن ان جواہرات میں سے ایک جوہر ایسا بھی مل جاتا ہے جو یکبارگی ساری محرومیوں کا ازالہ کردیتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کی جامع الصفات شخصیت بلا شبہ ملت اسلامیہ کے لیے سرمایہ صد افتخار ہے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اسلامی تعلیمات کو خالص کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی بنیاد پر پیش کیا اور اس ضمن میں وہ تمام آلودگیاں جو یونانی افکار و خیالات کے زیر اثر اسلامی تعلیمات میں راہ پا رہی تھیں یا عجمی مذہبیت کی حامل وہ صوفیانہ تعبیرات جو نیکی اور تقدس کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھیں امامؒ نے ان سب کی تردید کی۔ ان کی حقیقت کو بے نقاب کیا اور ان کے برے اثرات سے عالم اسلام کو بچانے کے لیے عمر بھر سیف و قلم سے جہاد کرتے رہے۔ امام ابن تیمیہؒ پانچ سو(500) کے مصنف، مجتہد اور تاریخ اسلام کی انقلاب آفرین شخصیت تھے۔ زیر نظر کتاب"امام ابن تیمیہؒ" جو کہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تصنیف ہے۔ جس میں امام موصوف ہی کے مختصر سوانح حیات، اساتذہ، تصانیف اور زندگی کے تمام ضروری گوشوں کو ناظرین کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ امام ابن تیمیہؒ کو غریق رحمت کرے اور ان کی لحد مبارک پر رحمت کی برکھا برسائے اور اس مصنف ہذا کو بھی اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

title-pages-sahaba-aur-quran-copy
محمد طیب محمدی

صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت  میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے   انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام   وصحابیات سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام ﷢  وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان  افروز  تذکرے سوانح حیا ت کے  حوالے  سے  ائمہ محدثین او راہل علم  کئی  کتب تصنیف کی  ہیں عربی زبان  میں  الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ  قابل ذکر ہیں  ۔اور اسی طرح اردو زبان میں  کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ صحابہ اور قرآن ‘‘ محمد طیب محمدی صاحب کی تصنیف ہے ۔ صحابہ اور قرآن کے تعلق پر 30 ابواب پر مشتمل مدلل کتاب ہے۔مزید اس کتاب  میں قرآن کریم  کی پاکیزہ روشنی میں صحابۂ کرام کی سیرت طیبہ کےمختلف پہلوؤں کا جامع ،خوبصورت اور ایمان افروز تذکرہ کیا ہے ۔ یعنی صاحب قرآن ﷺ کے اصحاب کامقدمہ  قرآن کی ابدی عدالت میں  یاصاحب قرآن  کےاصحاب کی سیرت کو قرآن کی زبان   میں  آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ (رفیق الرحمن)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 263 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں