page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-05
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-25-masail-ka-ilami-w-tehqiqi-jaiza-copy
حکیم محمد صفدر عثمانی

اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپﷺ کو کامل واکمل شریعت دے کر مبعوث فرمایا اور ایسی شریعت جو قیامت تک کے لیے ہے اور وہ شریعت مکمل ضابطۂ حیات ہے‘ جس نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی دی اور انہیں زندگی کے ہر مسئلے کا حل دیا‘ لیکن بسا اوقات کسی مسائل کا حل کوئی شخص کچھ بتاتا ہے اور دوسرا کچھ اور جس کے وجہ سے عوام الناس تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی  چند ایسے مسائل کے حل پر لکھی گئی ہے جس میں  پچیس مسائل کا علمی وتحقیقی جائزہ لیا گیا ہے اور یہ مصنف کی مدلل اور مکمل تحریری گفتگو کا مجموعہ ہے جن کو فریق مخالف اپنے موقف میں صحیح اور مرفوع ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مصنف نے اس کتاب  میں اُن دلائل اور دعووں خوبصورت انداز اور احسن اسلوب سے  ردپیش کیا ہے۔ ان مسائل میں سے اکثر مسائل عبادت سے تعلق رکھتے ہیں مثلا  مسجد نبوی میں نماز‘ تحیۃ المسجد‘ وضو کے دوران کلمہ شہادت‘ عید کے دو خطبے‘ نماز مغرب کے بعد چھ نوافل‘ صف سے نمازی نکالنا‘ گردن کا مسح‘ امام تسمیہ کہے اور مقتدی تحمید‘ پہلے تشہد میں عبدہ ورسولہ پڑھ کر اُٹھ جانا وغیرہ۔ یہ کتاب’’ پچیس مسائل کا علمی وتحقیقی جائزہ‘‘ حکیم محمد صفدر عثمانی﷾ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں اور تحقیق وتصنیف میں ید طولیٰ رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-namaz-kaise-parain-copy
ابو الحسن مبشر احمد ربانی

نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ نماز دین کاستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے ترک کردیا ہے اس نے دین کی عمارت کوڈھادیا ۔ نماز مسلمان کے افضل اعمال میں سے ہے۔نماز ایک ایسا صاف ستھرا سرچشمہ ہے جس کےشفاف پانی سے نمازی اپنے گناہوں اور خطاؤں کودھوتا ہے ۔کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے ۔ اور نمازکی عدم ادائیگی پر وعید کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے ۔انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے ۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔  زیرتبصرہ کتاب’’نماز کیسے پڑھیں‘‘ وطن عزیز کی معروف علمی شخصیت مفتی جماعت فضیلۃ الشیخ مولانامبشراحمد ربانی ﷾ کی نماز کی اہمیت ، احکام ومسائل پر مشتمل تصنیف ہے۔شیخ نے اس مختصر سی کتاب میں ماز کی ادائیگی کا مختصر طریقہ اور اس کے اہم مسائل صحیح اور حسن احادیث سے درج کردئیے ہیں تاکہ عام مسلمان اسے پڑھ کر نماز کو ترجمے سمیت یاد بھی کرلیں اورنماز کی ادائیگی بھی سنت کے مطابق کریں۔اللہ تعالیٰ شیخ محترم کی تمام علمی وتحقیقی،تدریسی وتبلیغی خدمات کو شرف قبولیت سےنوازے اور اس کتاب کو لوگو ں کےلیے نفع بخش بنائے ۔(آمین)( راسخ )

page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-04
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-musalman-bache-copy
شیخ عمر فاروق

اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ مسلمان بچے کتاب وسنت کی روشن ہدایات ‘‘ محترم جناب شیخ عمرفاروق صاحب کی کاوش ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں قرآن مجید سے بچوں کے متعلقہ تقریباً 550 سے زائدآیات کا انتخاب کر کے اس میں جمع کیا ہے اور ہر آیت کا عنوان قائم کر کے ترجمہ بھی دیا ہے آخر میں نبی کریم ﷺ کے ارشادات سے 40 احادیث بحولہ ترجمہ کے ساتھ پیش کی ہیں او ران حادیث کا منظوم ترجمہ بھی دیا ہے تاکہ بچے اسے آسانی یاد کرسکیں اور ان کی قرآن سے محبت بڑھ جائے ۔ان کے اخلاق درست ہوں اور وہ زندگی میں اچھے مسلمان او رکامیاب انسان بن کر پھلیں پھولیں۔عبد القدوس سلفی کی تخریج سے کتاب کی افادیت مزید دوچند ہوگی ہے ۔(م۔ا)

title-pages-museebton-se-kaise-nimtain-copy
ڈاکٹر فضل الٰہی

دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مصائب اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہیں اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔دنیاوی زندگی کے اندر انسان کوپہنچنے والی مصیبتوں میں کافر اور مومن دونوں برابر ہیں مگر مومن اس لحاظ سے کافر سےممتاز ہےکہ وہ اس تکلیف پر صبرکرکے اللہ تعالیٰ کےاجر وثواب اور اس کےقرب کاحق دار بن جاتا ہے۔اور حالات واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ مومنوں کوپہنچنے والی سختیاں تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کافروں کوپہنچنے والی سختیاں ،تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں۔مصائب، مشکلات ، پریشانیوں اور غموں کے علاج اور ان سےنجات سےمتعلق کئی کتب چھپ چکی ہیں ہرایک کتاب کی اپنی افادیت ہے زیر تبصرہ کتا ب’’مصیبتوں سے کیسے نمٹیں؟ ‘‘ محترم جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے کتاب وسنت اور سلف وصالحین کی سیرت کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات دنیے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔ • مصیبتیں کیوں آتی ہیں ؟ • مصیبتوں کے آنے سے پہلے کیا کریں؟ • مصیبتیں آنے کے بعد کیا کریں؟ مصیبتوں کے ختم ہوجانے کے بعد کیا کریں؟ (م۔ا)

page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-03
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-mohsan-e-insaniyat-ka-safar-e-akhrit-aur-wasiyatain-copy
صلاح بن فتحی ابو خبیب

ویسے تو نبی کریم ﷺ کی تمام باتیں اور وصیتیں اپنے موقع محل میں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں او رآ پ کے ارشادات وفرمودات وہ مشعل ہدایت ہیں جن کی روشنی میں انسان کو اپنی فلاح وبہبود کی منزلیں نظر آتی ہیں ۔ آپ کی ہر پند ونصیحت میں اسرار وحکم کے سمندر موجزن ہیں۔ آپ کاکوئی بھی ارشاد حکمت ومصلحت سے خالی نہیں۔ اور کیوں نہ ہو جب کہ آپ ﷺ کی مقدس زبان وحی کی ترجمان ہے ۔ آپ کی زبان مبارک سے وہی باتیں نکلتی ہیں جو اللہ چاہتا ہے۔اس لیے آپﷺ کا ہر قول اور فرمان انسان کےلیے متاع دنیا وآخرت ہے ۔نبی کریم ﷺ کسی تجربہ او رمشاورت کے ساتھ نہیں بلکہ وحیِ الٰہی کی بنیاد پر مخاطبین کووصیت کیا کرتے تھے ۔یہ وصیتیں صرف مخصوص افراد ومخاطبین ہی کے لیے نہیں بیان کی گئیں بلکہ ان کےذریعے سے پوری امت کو خطاب کیا گیا ہے۔ان وصیتوں میں مخاطبین کی دنیا وآخرت دونوں کی سربلندی اور فلاح ونجات کاسامان موجود ہے ۔جو یقیناً تاقیامت آنے والوں کےلیے سر چشمہ ہدایت ونجات ہے ۔اور ان وصیتوں کی ایک نمایاں خوبی الفاظ میں اختصار اورمعانی ومطالب کی وسعت وجامعیت ہے جو نبی کریم ﷺ کے معجزۂ الٰہیہ’’جوامع الکلم‘‘ کا نتیجہ ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’محسن انسانیت کا سفر آخرت اور وصیتیں ‘‘ صلاح بن فتحی ابو خبیب کی عربی تصنیف ’’مرض النبی ﷺ ووصایا عند موتہ ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے جسے جامعہ دار العلوم ، کراچی کے استاذ جناب مولانا محمد زکریا اقبال نے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ فاضل مصنف نے اس مختصر کتاب میں نبی اکرم ﷺ کی وفات کےمتعلق احادیث نبویہ ﷺ کے اصل ذخیرہ اورمآخذ سے وہ منتخب احادیث جمع کی ہیں جو رسول اکرم ﷺ کے مرض وفات اوردنیا سےپردہ فرمانے کےاحوال اوراس وقت آپ نے صحابہ کرام اوراپنی امت کےلیے جو وصیتیں کی انہیں اس کتاب میں جمع کرکیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-muhabbat-e-rasool-farziyat-ahmiyat-aur-taqaze-copy
عبد اللہ ناصر رحمانی

حبِ رسول ﷺ اہل ایمان کے لیے ایک روح افزاءباب کی حیثیت رکھتا ہے۔ حبِ رسول ﷺ کے بروئے شریعت کچھ تقاضے ہیں۔ خود نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنی جان، مال، اولاد، ماں باپ غرض جمیع انسانیت سے بڑھ کر محبوب نہ سمجھے‘‘۔ محبت رسول ﷺ کا مظہر اطاعتِ رسول ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کےبغیر مومن ہونے کا دعویٰ منافقت کی بیّن دلیل ہے اور حب رسول ﷺ ہی وہ پیمانہ ہےجس سے کسی مسلمان کے ایمان کوماپا جاسکتا ہے۔ دعوائے محبت ہو اوراطاعت مفقود ہو تو دعویٰ کی سچائی پر حرف آتاہے۔ حب رسولﷺ کےتقاضوں میں سے ایک تقاضا تو نبی ﷺ کا ادب و احترام کرنا، آپ سے محبت رکھنا ہے۔ ۔پیغمبر اعظم وآخر الزمان ﷺ کا یہ اعجاز بھی منفرد ہے ہک آپ کے جان نثاروں کی زندگیاں جہاں محبتِ رسول کی شاہکار ہیں وہاں ہر ایک کی زندگی سنت رسولﷺ کی آئینہ دار ہے۔ ان نفوس قدسہ نے دونوں جہتوں میں راہنمائی کا عظیم الشان معیار قائم فرمایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’محبت رسولﷺ کی فرضیت ،اہمیت اور تقاضے ‘‘ دار السلام ،لاہور کے شبعہ تحقیق وتالیف کے ریسرچ سکالر حافظ عبد اللہ ناصر مدنی﷾ کی کاوش ہے ۔انہوں نے نہایت اختصار اور جامعیت سے موضوع کا حق ادا کیا ہے ان کی یہ تحریر اولاً ماہنامہ ضیائے حدیث میں شائع ہوئی تھی بعد ازاں اسے کتابچے کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔(م۔ا)

page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-02
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریمﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-barkat-kaise-hasil-krain-copy
ڈاکٹر امین عبد اللہ الشقاوی

ہر مسلمان کو برکت کی معرفت اور اس کے اسباب وموانع کی پہچان حاصل کرنی چاہئے، تاکہ وہ اپنی زندگی میں ایسی عظیم خیر کو حاصل کر سکےاور ایسے تمام اقوال وافعال سے اجتناب کر سکے جو مسلمان کے وقت، عمر، تجارت اور مال وعیال میں برکت کےحصول میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ہر قسم کی خیر وبرکات کا حصول قرآن وسنت کی تعلیمات کے ذریعے ہی سے ممکن ہے، کیونکہ جس ذات بابرکات نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اسی نے وحی کے ذریعے سے انہیں آگاہ کیا ہے کہ کون سے راستے پر چلنے والے لوگ برکت ورحمت کے مستحق ہوتے ہیں اور کس راستے کے راہی نقمت ونحوست کے سزاوار ٹھہرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" ھم اپنے مال، وقت اور زندگی میں برکت کیسے حاصل کریں؟"محترم ڈاکٹر امین عبد اللہ الشقاوی کی عربی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم حافظ محمد عمر صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب میں برکت کے اسباب وموانع پر روشنی ڈالی گئی ہے اور قرآن وسنت کی روشنی میں  بیان کیا  گیاہے کہ آج ہم اپنے وقت، زندگی، مال اور معاملات میں کس طرح برکت حاصل کر سکتے ہیں؟اور وہ کون سے اسباب ہیں جن کو بروئے کار لا کر ہم اپنی زندگی میں برکات وخیرات سمیٹ سکتے ہیں؟ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-ramzan-kaise-guzarain-copy
محمد علی جانباز

رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں سے ممتاز ہے ۔رمضان المبارک ہی وہ مہینہ ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ جنت کے دروازے کھول دیتا ہے او رجہنم کے دروازے بند کردیتا ہے اور شیطان کوجکڑ دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندے کو اس طر ح گمراہ نہ کرسکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے اور یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیاد ہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔ کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے کتاب الصیام کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے ۔ اور کئی علماء اور اہل علم نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل وفضائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ احکام ومسائل رمضان المبارک .. رمضان کیسے گزاریں..؟ ‘‘ شیخ الحدیث شارح سنن ابن ماجہ مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی کاوش ہے جو انہوں نے ان کے ایک معتقد حاجی مقصود احمد کی فرمائش پرمرتب کیا اور اس میں رمضان المبارک کے ضروری مسائل واحکام کو قرآن واحادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-01
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-ghair-sharie-rasoom-w-rawaj-copy
تفضیل احمد ضیغم ایم اے

اللہ تعالیٰ کا ہم پریہ احسان ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری آسانی کے لیے زمانے کو بارہ مہینوں میں تقسیم فرمادیاہے او ر جب سے اللہ نے زمین وآسمان پیدا فرمائے ہیں مہینوں کی کل تعداد بارہ ہے اور ان میں سے چار مہینے(محرم، رجب، دوالقعدہ اور ذو الحج)حرمت والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حرمت والے مہینوں کا ذکرکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اورزمین کوپیدا کیا ،اسی دن سے اللہ کےنزدیک اس کی کتاب میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے ۔ ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ یہی صحیح دین ہے،پس تم ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو ‘‘سورہ توبہ :36) محسنِ انسانیت سیدنا محمدﷺ نے بعض مخصوص مہینوں کے لیے کچھ اعمال او ران کے عظیم فضائل وبرکات بیان فرمائے ہیں کتب حدیث میں ان کی وضاحت موجود ہے ۔لیکن ہمارے معاشرے میں لوگوں سارے مہینوں میں طرح طرح کی بدعات وخرافات انجام دیتے ہیں کہ جو صریحاً شریعت اسلامیہ کے خلاف ہیں ۔قمری سال اور اس کے مہینوں کے تعارف کے سلسلے میں عربی اوراردومیں مختصر اور مفصل کئی کتب ترتیب دی گی ہیں جن میں ان مہینوں میں پیش آنے والے تاریخی واقعات اور ان میں کی جانے والی عبادات کا تذکرہ کیا گیا ہے لیکن ان میں اکثر کتب غیر مستند اور ناقابل اعتماد ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی مہینوں کے غیر شرعی رسوم ورواج ‘‘ محترم جناب تفضیل احمد ضیغم کی تالیف ہے ۔ فاضل مصنف نے ا س کتاب میں اسلامی مہینے اوربدعات مروجہ میں رمضان المبارک اور غیر شرعی امور ، شب برات اوراسلام ، رجب کےکونڈے ،محرم اوربدعات محرم ، مروجہ عید میلاد النبی جیسے مسائل کو باحوالہ اور ضعیف روایات سے اجتناب کرتے ہوئے علمی اور تحقیقی انداز میں مرتب کر کے لوگوں کودعوت فکر دی ہے کہ ان چیزوں سے مکمل اجتناب واحتراز کریں جن کا دین سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو شرف قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے اور ہمارے معاشرے سے بدعات وخرافات کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-saat-tarajim-saat-tafaseer-noor-al-quran-copy
محمد صدیق بخاری

قرآن ِ مجید انسانوں کی راہنمائی کےلیے رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی آخری کتاب ہے ۔اور قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے رشد وہدایت کا سرچشمہ اور نوعِ انسانی کےلیے ایک کامل او رجامع ضابطۂ حیات ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے کہ اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس کی تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیاکی میں کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو فرزند شاہ رفیع الدین ﷫اور شاہ عبد القادر﷫ ہیں ۔ اب تو اردو زبان میں سیکڑوں تراجم دستیاب ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نور القرآن سات تراجم سات تفاسیر ‘‘ محترم جناب محمد صدیق بخاری صاحب کی مرتب شدہ ہے اس میں انہوں نے سورۃ البقرہ کے سات تراجم سات تفاسیر کو ایک جگہ جمع کردیا ہے ۔ یعنی ہر آیت کے سات ترجمے اور سات تفسیریں اس میں جمع کردیں ہیں مترجمیں میں شاہ عبد القادر، مولانا اشرف علی تھانوی ، مولانا احمد رضا خان ،مولانا محمد جوگڑھی ،مولانا امین احسن اصلاحی ﷭ اور جاوید غامدی کے اسماء گرامی شامل ہیں اور تفاسیر میں مولانا شبیر احمد کی تفسیر عثمانی ، مفتی محمدشفیع کی معارف القرآن ، مولانا محمدنعیم الدین مرادآبادی کی خزائن العرفان ، مولانا سیدابوالاعلی مودودی ، کی تفہیم القرآن ، مولانا حافظ صلاح الدین یوسف کی احسن البیان ، پیر کرم شا ہ الازہری کی ضیاءالقرآن ، مولانا عبد الماجد درآبادی کی تفسیر ماجدی ، مولاناامین احسن اصلاحی کی تدبر قرآن اورجاوید احمدغامدی یک البیان شامل ہے ۔مرتب نے بغیر کی کسی تبصرے کے مذکورہ احباب کےتراجم اور تفاسیر کو محض ایک جگہ جمع کردیا ہے ۔(م۔ا)

pages-from-sunan-tirmazi-4
امام ترمذی

اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سنن ترمذی‘‘ صحیح ترمذی (عربی: جامع الترمذی یا سُنَن الترمذي) یا عام طور سے صحیح ترمذی شریف یا جامع ترمذی شریف بھی کہا جاتا ہے ابوعیسی محمد بن سورہ بن شداد کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو صحاح ستہ کی مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کتاب میں آسان اور خوبصورت پیرائے میں احادیث نبویہ کی جمع و تدوین کا اہتمام کیا گیا ہے۔ چناں چہ امام ترمذی  نے اس تالیف میں عقائد، عبادات، اور معاملات سے متعلق احادیث کا عظیم ذخیرہ جمع کیا اور اسے فقہی ترتیب سے مدون کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب کا مراجعہ او ر تقدیم ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی نے کیا ہے۔ اس کتاب کا (عربی متن، اردو ترجمہ، تخریج و حاشیہ) مجلس علمی دار الدعوۃ نے تیار کیا ہے اور اس کو مکتبہ بیت السلام ریاض اور لاہور والوں نے چھاپہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اوراس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔

title-pages-daie-azam-ki-alimghir-nabowat-copy
پروفیسر توقیر عالم فلاحی

اللہ  رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘ نبیﷺ کی سیرت پر بہت سے سیرت نگاروں نے اپنے قلموں کو جنبش دی اور سیرت رسولﷺ پر عمدہ ترین مضامین اور کتب تالیف کیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری وساری رہے گا کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کہ اے نبی ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کیا۔زیرِ تبصرہ کتاب’’ داعی اعظم کی عالمگیر نبوت ‘‘ بھی سیرت مطہرہﷺ پر لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں سیرتِ نبوی‘ دعوت ِ نبوی اور کلام نبویﷺ کو اُجاگر کیا گیا ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ سیرت مطہرہ عملی زندگی میں کیسے اعمال حسنہ کی تکمیل ہے۔اور اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ نبیﷺ کی  نبوت کو عالمگیریت حاصل ہے۔ اس میں پانچ ابواب کو مرتب کیا گیا ہے ‘ پہلے باب میں  قرآن میں نبیﷺ کی بیان کردہ صفات کا تذکرہ ہے‘ دوسرے میں قرآن مجید سے نبیﷺ کا داعیانہ کردار‘ تیسرے میں مکی زندگی میں نبیﷺ کا دعوت کا طریقہ اور امت مسلمہ‘ چوتھے میں نبیﷺ کی عالمگیر نبوت اور پانچویں میں حقوق انسانی کا عالمی منشور خطبہ حجۃ الوداع کو تفصیل بیان کیا گیا ہے۔ اورہر باب کے بعد خلاصہ مبحث اور حوالے وحواشی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ داعی اعظم کی عالمگیر نبوت‘‘ پروفیسر توقیر عالم فلاحی  کی علمی اور تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے۔آپ تحقیق وتالیف کا ذوق رکھتے ہیں اور آپ نے بہت سے تحریریں بھی لکھی ہیں۔دعا ہے کہ  اللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-nabi--saww--ki-qabar-masjad-nabwi-me-he-copy
پروفیسر ڈاکٹر صالح بن عبد العزیز سندی

اسلام کی بنیاد توحید الہی ہے ، اور شرک سے بچنے کی تاکید کی گئی ، صالحین کی تعظیم میں غلو قبر پرستی کا اہم سبب ہے ، جو کہ واضح اور کھلا شرک ہے ، دین اسلام میں ایسی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ مسلمان شرک میں مبتلا ہونا تو دور کی بات اس کا ذریعہ بننے والی چیزوں سے بھی دور رہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کے آخری ایام میں یہود و نصاری پر لعنت کرتے رہے کہ انہوں نے انبیاء و صالحین کو قبروں کوسجدہ گاہ بنالیا تھا ، آپ کی واضح تعلیمات کی روشنی میں نہ قبر کو سجدہ گاہ بنانا درست ہے اور نہ ہی کسی سجدہ گاہ یعنی مسجد میں قبر بنانے کا کوئی جواز ہے ،امہات المؤمنین ، آپ کی اولاد ، دیگر عزیز و اقارب اور کئی جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین آپ کی حیات مبارکہ میں اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے ، آپ نے کسی کو مسجد کے اندر دفن کیا ، اور نہ ہی ان کے مدفن کو سجدہ گاہ بنانے کی ترغیب دی ۔ زیر تبصرہ کتاب’’نبی ﷺ کی قبر مسجد نبوی میں ہے؟ شبہات کا ازالہ خضر حیات صاحب نے پروفیسر ڈاکٹر صالح بن عبد العزیز سندی کی کتاب ’’ الجواب عن شبهة الاستدلال بالقبر النبوي على جواز اتخاذ القبور مساجد‘‘ کا ترجمہ کیا ہے۔جس میں قبر پرستی کی قرآن و سنت کی روشنی میں تردید کی گئی ہے اور نبی ﷺ کی قبر کے بارے میں پیدا ہونے والے اشکالات کو دلائل سے رد کیا ہے۔یہ کتاب 5 حصوں پر مشتمل ہے۔ اول : قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت میں وارد احادیث اور ان کا معنی و مفہوم۔ دوم : مسجد نبوی کی مختلف زمانوں میں ہونے والی توسیعات کا مختصر تعارف اور ان کا مسجد نبوی پر اثر ۔ سوم : قبرپرستوں کے ایک شبہ ( کہ بعض صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں دفن کرنے کی رائےدی تھی اور کسی نے ان کی بات کا انکار نہیں کیا تھا ) کا ذکر اور اس کا جواب ۔ چہارم :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو مسجد میں داخل کرنے سےقبر پرستوں کا استدلال اور اس کا جواب ۔ نجم : حجرہ عائشہ کو مسجد میں شامل کرنے کے بارے میں سلف کا موقف ۔امید ہے اس کتاب کے مطالعے سے لوگ شرک کی دلدل سے نکل کر توحید پرست بن جائیں گئے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس کتاب کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور مؤلف و نمترجم کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 913 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں