title-page-shamara-8-copy
لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

محترم قارئین کرام!
اس وقت ششماہی رشد کا آٹھواں شمارہ (جولائی تا دسمبر 2017ء ) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ "روایت تصوف میں تزکیہ نفس کے ذرائع: ایک تجزیاتی مطالعہ" کے عنوان سے ہے۔ راقم نے اس مقالے میں واضح کیا ہے کہ تصوف کے بارے امت میں دو نقطہ ہائے نظر معروف ہیں، ایک یہ کہ یہ عین دین اسلام ہے اور دوسرا یہ کہ یہ دین اسلام کے متوازی ایک نیا دین ہے۔ اس مضمون میں تصوف کی روایت میں تزکیہ نفس کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع پر گفتگو کی گئی ہے کہ مراقبہ، سماع اور وجد، فناء اور بقاء، علائق دنیویہ سے انقطاع، مبشرات، کرامات اور متصوفانہ ادب وغیرہ کا اصلاح نفس میں کتنا کردار ہے؟ اس کے ساتھ یہ بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کتاب وسنت اور سلف صالحین کی نظر میں اصلاح نفس کے ان ذرائع کا کیا مقام اور مرتبہ ہے۔ دوسرا مقالہ "شریعت اور مقاصد شریعت: معانی اور مفاہیم" کے موضوع پر ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ امام شاطبی ﷫کی الموافقات کے بعد علماء کے حلقوں میں مقاصد شریعت کا مطالعہ ایک باقاعدہ فن کے طور ہونے لگا لہذا بہت سے علماء نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی کہ جس سے اس کی متنوع جہات تک رہنمائی حاصل ہوئی۔ اس مقالہ میں مقاصد شریعت کے متنوع معانی اور مفاہیم کو جمع کر کے اس کے اصل جوہر تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تیسرے مقالے میں "علم حدیث میں درایتی نقد کی حیثیت" کے موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ مقالہ نگاران کے مطابق عصر حاضر میں بعض متجددین نے محدثین کے ہاں متفق علیہ طور پر ثابت شدہ صحیح روایات کو اپنی تحقیق کا موضوع بناتے ہوئے انہیں من گھڑت اصولوں پر ضعیف قرار دیا ہے۔ ان متجددین نے حدیث کو جس تحقیقی معیار پر پرکھا ہے، وہ ان کے نزدیک "درایتی معیار" کہلاتا ہے۔ اس مقالے میں حدیث کی جانچ پڑتال کے اس جدید درایتی معیار ِ نقد کا تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے کہ کیا یہ معیار عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں اس قابل ہے کہ اس پر حدیث کی جانچ پڑتال کی جائے؟ مزید برآں ان احادیث کی عقلی ونقلی توجیحات پیش کی گئی ہیں کہ جنہیں اس طبقے کی طرف سے عقل ونقل کے خلاف ہونے کے دعوی کے ساتھ رد کیا گیا ہے۔  چوتھا مقالہ " التلفيق في الفقه الإسلامي وحكمه: دراسة فقهية مقارنة " کے موضوع پر ہے یعنی ایک فقہ کے مقلدین کسی مسئلے میں دوسری فقہ کی اتباع کر لیں تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ مقالہ نگار نے اس موضوع پر فقہاء کے اقوال جمع کیے ہیں کہ بعض اس کے جواز کے قائل ہیں اور بعض اس کے انکاری ہے اور بعض کچھ شروط کے ساتھ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ مقالہ نگار کی رائے میں کچھ شروط کے ساتھ تلفیق کی اجازت ہونی چاہیے کہ یہ بات شریعت کے مقاصد کو پورا کرنے والی ہے۔ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

title-page-sahaba-karam-ka-ahde-zareen-copy
سید محمد میاں

نبیﷺ کے جانثار صحابہ کرامؓ جنہیں انبیائے کرام کے بعد دنیا کی مقدس ترین ہستیاں ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جن کے بارے میں قرآں کریم کی رضی اللہ عنہ ورضوا عنہ کی ضمانت موجود ہے اور جنہیں آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحابی کالنجوم فرما کر ستاروں کی مانند قرار دیا ہے‘ روئے زمین پر وہ مبارک ہستیاں تھی جن کی سانس قرآن وسنت کی معطر خوشبووں سے لبریز تھیں اور جن کا ہر ہر لمحہ قال اللہ وقال الرسول کی مکمل عکاسی کرتا تھا۔ ایسی شخصیات اور ان کے عہد کا تعارف  اور ان کے کارنامے عوام تک پہنچانا قابل تعریف اور قابل سعادت ہے کیونکہ وہ ہمارے رہنماء تھے اور دین کو ہم تک پہنچانے میں انہوں نے بہت سے قربانیاں پیش کی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  صحابہؓ کے عہد زریں کا ہی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس میں اسلوب سادہ اور عام فہم اپنایا گیا ہےاور ترتیب ایسی دی گئ ہے کہ کوئی مضمون چھوٹنے نا پائے اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق بھی ہے۔اور اہم باتوں کی وضاحت اور تفصیل کے لیے حاشیہ کی مدد لی گئی ہے ۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب’’ صحابہ کرامؓ کا عہد زریں ‘‘ مولانا سید محمد میاں   کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-azmat-e-zakat-copy
ساجد علی مصباحی

اللہ عزوجل نے اپنے بندوں پر ایمان وعقیدہ کے بعد جو عبادتیں فرض فرمائی ہیں ان میں سے کچھ کا تعلق جسم اور مال دونوں سے ہے ‘ کچھ کا صرف جسم سے ہے او رکچھ کا صرف مال سے ۔ زکاۃ وہ عبادت ہے جس کا تعلق صرف مال سے ہے اور مال انسانوں کی وہ محبوب چیز ہے جس کی تحصیل کے سلسلے میں عام طور سے انسان کسی حد پر پہنچ کر قناعت نہیں کرتا بلکہ مزید سے مزید حاصل کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بہت سے خدا نا ترس لوگ مال کی خاطر جائز وناجائز کی بھی پروا نہیں کرتے۔ ہمارے معاشرے میں امیر بھی ہیں اور غریب بھی لیکن اللہ نے غرباء ومساکین کو ان کے حال پر نہیں چھوڑا بلکہ ان کی مدد کے لیے زکاۃ کا قانون نافذ کر دیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں بھی زکاۃ کے احکام ومسائل کو تفصیلا  ذکر کیا گیا ہے اور اس میں تمہید کے بعد پانچ ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ تمہید میں زکاۃ کی اہمیت اور فوائد کو بیان کیا ہے۔ پہلے باب میں زکاۃ ادا کرنے کی تاکید اور فضائل قرآن وحدیث سے بیان کیے ہیں‘ دوسرے میں زکاۃ نہ دینے کے نقصانات کو‘ تیسرے میں زکاۃ کے اہم احکام ومسائل کو‘ چوتھے میں بھیک مانگنے کی مذمت کو اور پانچویں صدقہ وخیرات کے فضائل وفوائد کو بیان کیا ہے۔ اور آخر میں خاتمہ کے تحت صدقہ وخیرات کرنے والوں کے بعض واقعات کو درج کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ عظمت زکات ‘‘ مولانا ساجد علی مصباحی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-page-touheed-aqeeda-aur-fiqah-k-mufeed-mubadiyat-copy
ابو عبد الرحمن یحیی بن علی الجوری

اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے جتنے بھی انبیاء کو مبعوث فرمایا سب کا اولین مقصد عقیدے کی درستگی رہا ہے اور  انبیاء کے بعد اسلامی عقیدے کی تعلیم وتفہیم اور اس کی طرف دعوت دینا ہر دور کا اہم فریضہ ہے۔ کیونکہ اعمال کی قبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے۔اور دنیا وآخرت کی خوش نصیبی اسے مضبوطی سے تھامنے پر منحصر ہے اور اس عقیدے کے جمال وکمال میں نقص یا خلل ڈالنے والے ہر قسم کے امور سے بچنے پر موقوف ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  خاص عقائد اور توحید کے حوالے سے ہے اس میں سوال جواب کے انداز میں مسائل کو سمجھایا گیا ہے اور اس کا ترجمہ نہایت سلیس اور اسلوب شاندار ہے اور بات کی مزید تفصیل بتانے کے لیے فٹ نوٹ میں حاشیہ بھی دیا گیا ہے اور ہر مسئلے کے تحت قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کو بھی پیش کیا گیا ہے لیکن حوالہ جات کی کمی ضرور ہے کیونکہ قرآنی حوالے میں تو سورۂ کا نام اور آیت نمبر دیا گیا ہے لیکن حدیث کے حوالے میں کہیں کہیں صرف مصدر کا نام ذکر کیا گیا ہے مزید تفصیل نہیں ہے۔ یہ کتاب’’ توحید‘ عقیدہ اور فقہ کے مفید مبادیات ‘‘ ابو عبد الرحمان یحی بن علی الحجوری کی تصنیف  کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-ayathul-kursi-aur-azmat-ilahi-copy
جلال الدین قاسمی

نبی کریم ﷺ کی متعدد احادیث  سے  ثابت  ہے کہ  آیۃ الکرسی قرآن  کریم  کی عظیم ترین آیت ہے اس لیے  کہ  اس میں  ذات باری تعالیٰ کی توحید اس کی عظمت اوراس کی صفات کا بیان  ہے۔ آیات قرآنیہ میں سےیہ واحد آیت کریمہ  ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے بطور وظیفہ کثرت سے تلاوت کیا ہے  اور صحابہ کرام  اور امت مسلمہ کو تلاوت کی بار بار تاکید فرمائی ہے ۔ مثلاً پانچ نمازوں کے بعد ،رات کوسوتے وقت ، اپنی  مادی چیزوں کو  جن وانس سے محفوظ رکھنے کے لیے  خصوصی  طور  تلاوت کی تعلیم عطا فرمائی ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے  کہ وہ اس کو بطور وظیفہ اپنانے کی  مقدور بھر کوشش کرے  اور اس آیت کے فیوض وبرکات کوسمیٹنے کا اہتمام کرے ۔
زیر تبصرہ کتاب’’ آیۃ الکرسی اور عظمت الٰہی ‘‘ محترم حافظ جلال الدین قاسمی کی کاوش ہے ۔ جو کہ اللہ رب العزت کی عظمت اولیٰ پر مشتمل ہے ۔ مصنف موصوف نے   آیۃ  الکرسی کی فضیلت اور فضیلت کے اسباب کو بیان کرتے ہوئے مزید آیۃ الکرسی کے دس مستقبل جملے بیان کئے ہیں۔ان میں  عقیدۂ توحید کومختصر بیان کیا  گیا ہے ۔ اسلام کا  عقیدہ شفاعت  کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب اس  آیت میں موجود ہے ۔ علم کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے ۔اسی جیسی کئی دیگر صفات الٰہی کا بیان اس میں موجود ہے ۔مصنف نے   بڑے احسن انداز میں  احادیث کی روشنی میں  بیان کیا ہے کہ اس آیت کی تاثیر کیا ہے ۔اور ہماری زندگیوں کےلیے  اس کی اہمیت وضرورت کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے  اور اسے  عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے ۔ آمین۔(رفیق الرحمن)

title-pag-shamara-7-copy
لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

محترم قارئین کرام!
اس وقت ششماہی رشد کا ساتواں شمارہ (جنوری تا جون 2017ء ) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ "علوم عربیہ سے استفادہ میں افراط وتفریط اور اعتدال کی راہیں" کے عنوان سے ہے کہ جس کا موضوع مولانا حمید الدین فراہی ﷫کے اصول تفسیر ہیں۔ مقالہ نگار کا کہنا یہ ہے کہ مولانا فراہی ﷫نے تفسیر قرآن مجید میں لغت عرب کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور ان کے نزدیک قرآن مجید کی تفسیر کا اولین اصول، ادب جاہلی ہے۔ مقالہ نگار نے مولانا فراہی ﷫کے اس اصول کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل سنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ ادب جاہلی مصادر تفاسیر میں سے ایک مصدر ہے لیکن اولین مصدر نہیں ہے لہذا اگر قرآن مجید کی لغوی تفسیر اور اس تفسیر بالماثور میں اختلاف ہو جائے تو پھر حدیث میں موجود تفسیر اور صحابہ کی تفسیر کو اس تفسیر پر ترجیح حاصل ہو گی جو عربی معلی کی روشنی میں کی گئی ہے۔ اور مولانا حمید الدین فراہی صاحب﷫ کا موقف اس کے برعکس ہے کہ وہ حدیث میں موجود تفسیر اور صحابہ کی تفسیر پر لغت سے تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں اور اس بارے تفسیر بالماثور سے اعتناء نہیں فرماتے ہیں۔ شمارے کے دوسرے مقالے کا عنوان "امام ابن قیم ﷫ کا منہج بحث وتالیف" ہے۔ امام ابن قیم﷫قرون وسطی کے معروف فقیہ، مصنف اور محقق ہیں اور اس مقالے میں ان کے منہج بحث وتحقیق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ امام ابن قیم﷫ ان فقہاء میں سے ہیں جو فقہی اور کلامی اختلاف کی صورت میں مسالک وفرق کی بجائے کتاب وسنت کی طرف رجوع کی دعوت پر زور دیتے ہیں۔ اور اگر کوئی مسئلہ صراحتا کتاب وسنت میں منقول نہ ہو تو اقوال صحابہ کو حجت سمجھتے ہیں۔ مقالہ نگار کی تحقیق کے مطابق امام ابن قیم﷫کسی بھی مسئلہ پر تحقیق کرتے ہوئے اس کے جمیع جوانب کا احاطہ بہت ہی منظم صورت میں پیش کرتے ہوئے کسی رائے کو راجح قرار دیتے ہیں۔ وہ استدلال واستنباط میں شریعت کے مقاصد اور حکمتوں کو مد نظر رکھنےکے علاوہ تقوی واحسان کی کیفیات کو بھی اس سارے عمل کا لازمی جزء سمجھتے ہیں۔ تیسرے مقالے کا موضوع "قانون اتمام حجت اور قانون جہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ" ہے۔ اس مضمون میں راقم نے جاوید احمد غامدی صاحب کے قانون اتمام حجت اور قانون جہاد کا ایک تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے بقول قرآن مجید میں جس اقدامی قتال کا ذکر ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کا خاصہ ہے لہذا رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی قسم کا اقدامی قتال جائز نہیں ہے البتہ دفاعی جہاد ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اقدامی جہاد در اصل اللہ کی طرف اس قوم کے لیے ایک عذاب تھا کہ جس نے رسول اللہﷺ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور اس عذاب کو وہ "قانون اتمام حجت" کا نام دیتے ہیں کہ یہ عذاب ان سابقہ انبیاء کی اقوام پر نازل ہوتا رہا ہے کہ جنہوں نے اپنے وقت کے نبی کا انکار کر دیا تھا۔ راقم کی رائے میں اقدامی جہاد کے بارے یہ نقطہ نظر قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ کے نصوص کے مطابق نہیں ہے۔ چوتھا مقالہ ایسی روایات کی تحقیق کے متعلق ہے کہ جن میں بعض ایسی سورتوں کو قرآن مجید کا حصہ کہا گیا ہے جو کہ امر واقعہ میں قرآن مجید کا جز نہیں ہیں۔ یہ اصطلاحا قراءت شاذہ کا موضوع ہے یعنی ایسی قراءات کہ جن کے قرآن مجید ہونے کا دعوی تو کیا گیا ہو لیکن وہ بطور قرآن ثابت نہ ہو سکی ہوں۔ ان قراءات میں سورۃ الخلع اور سورۃ الحفد کی قراءات بھی ہیں کہ جن کے بارےمروی تمام روایات ضعیف اور غیر ثابت شدہ ہیں۔ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

title-pages-muhammad-arbi--saww--encyclopedia-copy
ڈاکٹر ذوالفقار کاظم

حضور اکرمﷺ کی سیرت مبارکہ ایک ایسا وسیع وعمیق موضوع ہے کہ جس پر اس وقت سے ہی کام ہو رہا ہے جب سے انسانی شعور نے فہم ادراک کی بلندیوں کو چھوا ہے۔ نظم ہو یا نثر غرض ہر صنف ادب میں آقاﷺ کی شان اقدس میں ہر کسی نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق ذریعہ نجات سمجھتےہوئے اس سمندر کی غواصی ضرور کی ہے اور پھر یہی کہنا کافی ہے کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔‘‘۔ اور اگر کاغذ قلم اپنی وسعت کائنات ارضی وسماوی تک بھی پھیلا لیں تب بھی یہ کہنا روا نہ ہوگا کہ آقاﷺ کی حیات طیبہ کا مکمل احاطہ کر لیا گیا ہے۔اس کتاب سے قبل بہت سی کتب تصنیف کی گئی ہیں لیکن زیرِ تبصرہ کتاب  سوالاً جواباً کی حد تک لکھی جانے والی تمام کتب کی نسبت انتہائی جامع‘ مدلل اور مفصل کتاب ہے۔اس میں نبیﷺ کے سلسلہ نسب اور پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام واقعات کے ساتھ ساتھ معمولات اور اخلاق وکردار کا بہت حد تک بھر پور احاطہ کیا گیا ہے اور چھوٹی چھوٹی جزئیات کوبھی حتی المقدور پیش کیا گیا ہے۔ اہل بیت کے ساتھ ساتھ خاص احباب’صحابہ وصحابیات‘ اور ان افراد کے بارے میں معلومات شامل ہیں جن کا کسی بھی حوالے سے آپﷺ سے تعلق رہا۔اس کتاب کو مستند اور معتبر تفاسیر‘کتب احادیث ‘ کتب تواریخ اور کتب سیرت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں حوالہ جات کا بھی خاص اہتمام ہے۔ یہ کتاب’’ محمد عربیﷺ انسائیکلوپیڈیا ‘‘ ڈاکٹر ذوالفقار کاظم کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from------copy
محمد افضل احمد

حق وباطل کے مابین عروج و زوال کی کشمکش اور غلبے کی مسابقت کو مشیت خداوندی میں ایک تکوینی مسلمہ کا مقام حاصل ہے ۔ اہل باطل اس امر سے واقف ہیں کہ اہل حق پر مکمل غلبے کے لیے محض جنگی مشینوں میں یورش اور فوجی یلغار کافی اور دیر پا نہیں ہو سکتی ، کیونکہ کہ دوسری اقوام سے مختلف ، ملت اسلامیہ کی قوت وتوانائی اور عزم وحوصلہ کااصل سرچشمہ اساسیات دین اور اس کی اسلامی تہذیبی اقدار اور اخلاقی ضابطے ہیں ۔ لہٰذا اس قوت کو مضمحل اور کمزور کر دینا صرف فکری و نظریاتی یلغار ہی سے ممکن ہے ۔ تاہم قرآن پاک کی آیت مبارکہ، انما المومنون اخوۃ کے مطابق تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ان سب کا دکھ درد اور ان کے مسائل ایک ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’نظام عالم اور امت مسلمہ‘‘ محمد افضل احمدکی ہے۔ جس میں اصول و عقائد،عبادات و اطاعت، صفحہ ہستی یے مٹ جانےوالی معذب قومیں،مختلف فرقہ جات اور امت مسلمہ کا خون ارزاں کے حوالے سے مبحوث پیش کی ہیں اور  امت مسلمہ کے ان افرادکو ان کا فرض منصبی یاد دلانے کی ادنیٰ سی کوشش کی گئی ہے۔ جن کی یہ آرزو ہو کہ امت مسلمہ دنیا بھر میں پژر سے بلند ہو اور یہ کہ جو خود اپنے آپ کو، اپنے اہل عیال کوکو عذاب دنیا اور آخرت سے بچانے اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا و تحفظ کا سامان مہیا کرنے کا اپنے اندر داعیہ، حوصلہ اور جرات پیدا کرلیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین- (رفیق الرحمن)

tatil-pag-copy
عبد الکریم اثری

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید  پر عربی واردو زبان میں بے شمار کتب موجود ہیں،جن میں سے ایک یہ کتاب بھی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب ’’ القرآن الکریم  مع طریقۃ تلاوۃ القرآن....‘‘ عبد الکریم اثری صاحب کی کاوش ہے۔جو ان کی سالہا سال کی محنت وکوشش اور عرصہ دراز کی تحقیق وجستجو کا نتیجہ ہے۔اور شائقین علم تجوید اور اردو زبان کے ذریعے قرآن مجید کو سمجھنے  کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ محترم قاری صاحب نے تجوید کے قواعد بیان کرنے کے بعد شعبہ ناظری،حفظ اور قراءات پڑھنے والے طلباء کے لئے الگ الگ پڑھانے کے طریقے بیان کئے ہیں کہ  کس درجہ کے طلباء کو کس انداز میں پڑھایا جائے اور یہ طریقے اساتذہ کے لئے انتہائی مفید اور کار آمد ہیں۔تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

title-pages-muhammad--saww--k-zamane-ka-hindustan-copy
قاضی اطہر مبارکپوری

بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پہلے ہندوستان کے مختلف قبائل: زط (جاٹ)، مید، سیابچہ یا سیابجہ، احامرہ، اساورہ، بیاسرہ اور تکرّی (ٹھاکر) کے لوگوں کا وجود بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ میں ملتا ہے۔ چناں چہ ۱۰ ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں“ (تاریخ طبری ۳/۱۵۶، بحوالہ برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش از محمد اسحق بھٹی) بالآخر عرب و ہند کے درمیان شدہ شدہ مراسم بڑھتے گئے یہاں تک کہ برصغیر (متحدہ ہند) اور عرب کا باہم شادی و بیاہ کا سلسلہ بھی چل پڑا، اس ہم آہنگی کی سب سے اہم کڑی عرب و ہند کے تجارتی تعلقات تھے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے نت نئے اشیائے خوردونوش وغیرہ: ناریل، لونگ، صندل، روئی کے مخملی کپڑے، سندھی مرغی، تلواریں، چاول اور گیہوں اور دیگر اشیاء عرب کی منڈیوں میں جاتی تھیں۔جنوبی عرب سے آنے والے تجارتی قافلوں کی ایک منزل مکہ مکرمہ تھا، یہ قافلے ہندوستان اور یمن کا تجارتی سامان شام اور مصر کو لے جاتے تھے، اثنائے سفر میں یہ لوگ مکہ مکرمہ میں قیام کرتے اور وہاں کے مشہور کنوئیں”زمزم“ سے سیراب ہوتے اوراگلے دن کے لیے بقدر ضرورت زمزم کا پانی ساتھ لے جاتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب محمد ؑﷺ کے زمانے کا ہندستان مع ہندستان صحابہ   کے زمانہ میں‘‘مورخ اسلام الحاج مولانا عبدالحفیظ صاحب قاضی اطہر مبارکپوری کی ہے  جس میں ایک حصہ عہد رسالت میں  عرب و ہند کے حالات وقعات،رسوم و رواج ، قدیم تجارتی تعلقلت، عرب میں ہندستانی اقوامیں اور ان کو دعوت اسلام کے بارے میں تفصیلی خاکہ ہے۔ اور دوسرا حصہ خلفائے راشدین  اور ہندستان ، غزوات و فتوحات اور دیگر اصحاب پر مشتمل ہے۔امید ہے یہ کتاب طلباء اور ریسرچ کرنے والے کے لئے انتہائی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم  مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

title-pages-zahor-imam-mehdi-aik-atal-haqiqat-copy
ابو عدنان محمد منیر قمر

ظہور امام مہدی کے مسئلہ میں بہت سے لوگوں نے ٹھوکر کھائ ہے۔ بعض وہ ہیں جو حضرت عیسٰیؑ اور امام مہدی کو ایک ہی شخصیت قرار دیتے ہیں ‘ بعض وہ ہیں جو آنحضرت  کی اس پیشگوئی کا مصداق حضرت عمر بن عبد العزیز کو ٹھراتےہیں‘ ایک گروہ ایسا ہے جو اپنے امام منتظر محمد بن حسن عسکری کو مہدی بنانے پر تلاا ہوا ہے‘ بعض انتہا پسند وہ ہیں جو آئے دن مہدی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور بعض نے تو سرے سے ہی امام مہدی کا انکار کر دیا ہے۔اس طرح کے دیگر اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو وارد شدہ احادیث پر اعتراضات کی صورت میں یا انکار کی صورت میں عوام الناس کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں مصنف﷾ نے تمام دعاوی کا محققانہ جائزہ لیتے ہوئے ان کا واضح رد کرنے کے ساتھ ساتھ درست موقف وعقیدہ’’ظہور امام مہدی۔ ایک اٹل حقیقت‘‘ کو دلائل وبراہین کی روشنی میں خوب مجلی ومنور کیا ہے۔ دلائل قرآن مجید واحادیث صحیحہ سے اور متواتر ائمہ وعلماء کا بھی تذکرہ ہے جو اس موقف کے حاملین میں سے ہیں۔ کبار اہل علم کے اقوال اور سعودی عرب کے دار الافتاء کی دائمی کمیٹی کے فتاوی جات بھی نقل کیے ہیں۔ حدیث کے رواۃ کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔۔ یہ کتاب’’ ظہور امام مہدی ایک اٹل حقیقت ‘‘ ابو عدنان محمد منیر قمر﷾  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-akhtar-ul-musallam-copy
ابو عبیدہ مشہور بن حسن آل سلمان

نماز  انتہائی اہم ترین فریضہ اورا سلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے ۔ کلمۂ توحید کے  اقرار کےبعد  سب سے پہلے  جو فریضہ  انسان  پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی  ہے ۔ بے نماز  کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن  اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال  ہوگا۔ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر  اہم ہے کہ سفر وحضر  ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی  نماز ادا کرنا ضروری  ہے۔اس لیے ہرمسلمان مرد اور  عورت پر پابندی کے ساتھ وقت پر نماز  ادا کرنا لازمی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب’’ اخطاء المصلین ‘‘شیخ ابو عبیدہ  مشہور بن حسن آل سلمان کی نماز کی اہمیت وفضیلت کے موضوع پر ایک عربی کتاب ہے جس كا اردو ترجمہ ریاض احمد محمد سعید السلفی نے کیا  ہے۔اس کتاب میں شیخ ابو عبیدہ  مشہور بن حسن آل سلمان نے وضو، اذان، تکبیرتحریمہ، نماز کے لیے  آنا او رجانا، باجماعت نماز، جمعہ اور  نمازعیدین وغیرہ کی اہمیت وفضلیت پر خو ب روشنی ڈالی  ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف،مترجم   وناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے  عامۃ المسلمین کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین) (رفیق الرحمن)

title-pages-valentine-day-besharmi-ka-tehwar-copy
محمد نور الہدیٰ

یوم ویلنٹائن" 14فروری " کوبالخصوص یورپ میں یوم محبت کے طور پر منایا جاتا ہے، یوم ویلنٹائن کی تاریخ ہمیں روایات کے انبار میں ملتی ہے اور روایات کا یہ دفتر اسرائیلیات سے بھی بدتر ہے ، جس کا مطالعہ مغربی تہذیب میں بے حیائی ،بے شرمی کی تاریخ کے آغاز کا اشارہ دیتا ہے ، اس بت پرستی کے تہوار کے بارے میں کئی قسم کی اخباررومیوں اوران کے وارث عیسائیوں کے ہاں معروف ہیں ۔ چوتھی صدی عیسوی تک اس دن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کا رتبہ حاصل ہوگیا اور برطانیہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھرے خطوط' پیغامات' کارڈز اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج پا گیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ویلنٹائن ڈے بے شرمی کا تہوار‘‘محمد نور الہدیٰ کی ہے۔ جس میں ویلنٹائن ڈے کی اصل حقیتتاریخی اعتبار سے بیان کی ہے ۔ اور اس دن کو منانے کے حوالہ سے جن نقصانات کا مستقبل میں سامنا کرنا پڑتا ہے ان کو اجاگر کیا ہے۔اور مزید مسلمانوں کو اپنی اصلاح کرنے کی رغبت دلائی گی ہے۔ امید ہے اس کتابچہ سے معاشرہ کی اصلاح ممکن ہو۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ مسلمانوں کی عزتوں کی حفاظت فرمااو رمصنف کے کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین۔(رفیق ارحمن)

title-pages-sharooh-sahih-bukhari-copy
غزالہ حامد

صحیح بخاری (عربی :الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليہ وسلم وسننہ وأيامہ:مختصر نام الجامع الصحيح ) یا عام طور سے البخاری یا صحیح بخاری شریف بھی کہا جاتا ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کا مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہ احادیث ہے جو صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ اکثر سنی مسلمانوں کے نزدیک یہ مجموعہاحادیث روئے زمین پر قرآن کے بعد سب سے مستند کتاب ہے۔ ابن الصلاح کے مطابق صحیح بخاری میں احادیث کی کل تعداد 9086 ہے۔ یہ تعداد ان احادیث کو شامل کر کے ہے جو ایک سے زیادہ مرتبہ وارد ہوئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ تعداد میں وارد احادیث کو اگر ایک ہی تسلیم کیا جائے تو احادیث کی تعداد 2761 رہ جاتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔  زیر نظر   ’’شروح صحیح بخاری‘‘ غزالہ حامدبنت پروفیسر عبد القیوم مؤلفہ نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،انوار الباری، لامع الدراریاور فضل الباری سے استفادہ کرتے ہوئے اس کتاب کو چار ابواب میں منقسم کیا ہے۔ پہلا باب تعارف حدیث پر مشتمل، دوسرا باب امام المحدثین امام بخاری کے حالات پر مبنی، تیسرا باب الجامع الصحیح اور چوتھا باب شروح صحیح بخاری پر مشتمل ہے گویا کہ    یہ  کتاب طالبان علوم ِنبوت کےلیے  بیش قیمت  علمی  تحفہ ہے ۔  اللہ  تعالی فاضلہ مؤلفہ کی اس عظیم  کاوش کو قبول فرمائے۔  (آمین)(رفیق االرحمن)

title-pages-from-copy
حافظ عبد اللہ امر تسری

بیت اللہ کا حج  ارکانِ اسلام میں ایک اہم ترین  رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اورآرزو ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر  زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے، اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ کہ آپ نےفرمایا "الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة "حج مبرور کا ثواب جنت کے  سوا کچھ نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’ الدر المکنون فی الحج المسنون ‘‘ شیخ محمد  عبد اللہ امر تسر  کی کاوش ہے ۔ جس میں انہوں  حج  کی فضیلت، اہمیت، اور اقسام کو بیان کرتے ہوئے مزید حج سے متعلق  مردوں و عورتوں کے تمام مسائل وغیرہ اور اس دوران پڑھی جانے والی دعائیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جمع کر دی گئی ہیں ۔اور اس کے ساتھ رسول اللہﷺ  کے خطابات  بھی نہایت اختصار مگر دلائل اور جامعیت کے ساتھ بیان کر دیئے ہیں۔ان کی مرتب کردہ یہ دلکش کتاب خود پڑھنے اور عزیز واقارب دوست احباب کو تحفہ دینے کے لائق ہے تاکہ حج وعمرہ   کے فرائض مسنون طریقے سے ادا کیے جاسکیں اللہ تعالی ان  کی اس کاوش کو اہل اسلام کے لیے مفید بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمٰن)


pages-from-islami-aqeeda-ahkam-o-masaael
سید آصف عمری

ر اجماع ہے کہ دینِ اسلام کامل ہے او راس میں کسی قسم کی زیادتی او رکمی کرنا موجب کفر ہے ۔اس لیے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی نے ہم مسلمانوں پر صرف اللہ اور اس کے رسول کے امر کوواجب قرار دیا ہے کسی اور کی بات ماننا واجب اور فرض نہیں خاص طور پر جب اس کی بات اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مخالف ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی عقیدہ احکام ومسائل‘‘فاضل مصنف سیدآصف عمری کی تصنیف کرداہ ہے جس میں انہوں نے اسلامی عقیدہ کے احکام ومسائل کوسوال وجواب کی شکل میں بیان کیا ہے، اور خصوصا   موجودہ دور کی گمراہیاں شرک ،بدعات خرافات ورسومات کی مذمت کی ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام الناس کی کثیر تعداد محض کتاب وسنت کی تعلیمات ومسائل سے لاعلمی کی بنیاد پر ایسے اعمال پر کار بند ہے جن کا دارو مدار محض آباء واجداد کی اندھی تقلید معاشرے کی رسم ورواج ، خاندانی روایات،بدعات اور غیر قوموں کے تصورات پر ہے۔ اور ایسے رسم ورواج جو قرآن وسنت سے ثابت نہ ہو ان پر انسان کو عمل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے ۔آمین(شعیب خان)

title-pages-from-copy
ابو عمار عبد الغفار بن عمر

شریعتِ اسلامیہ میں عبادات اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان مناجات کانام ہے اور بندے کا اپنے خالق سےقلبی تعلق کا اظہار ہے ۔ایک مسلمان جب اپنی غمی،خوشی اور زندگی کے دیگر معاملات میں اللہ سےرہنمائی حاصل کرتا ہے تو اس کا یہ تعلق اس کے رب سے اور بھی گہرا ہوجاتا ہے ۔ عبادات کاایک حصہ ان دعاؤں پر مشتمل جو ایک مسلمان چوبیس گھنٹوں میں نبی ﷺ کی دی ہوئی رہنمائی کے مطابق بجا لاتا ہے او ر یقیناً مومن کےلیے سب سے بہترین ذریعہ دعا ہی ہے جس کے توسل سے وہ اپنے رب کو منالیتا ہے اور اپنی دنیا وآخرت کی مشکلات سے نجات پاتا ہے۔کتبِ احادیث نبی کریمﷺ کی دعاؤں سے بھری پڑی ہیں ۔مگر سوائے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے تمام احادیث کی کتب میں صحیح ضعیف اور موضوع روایات مل جاتی ہیں ۔دعاؤں پر لکھی گئی بے شمار کتب موجود ہیں اوران میں ایسی بھی ہیں جن میں ضعیف وموضوع روایات کی بھر مار ہے۔ ۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں انہی اذکار وادعیہ کو کتاب  کی زینت بنایا ہے جو صحیح ہیں اورجن کی بدولت انسان اپنے رب کی طرف سے ملنے والے اجر جزیل کو حاصل کر سکتا ہے اور اپنے دن اور رات کا اللہ کے حضور شکر ادار کرسکتا ہے۔ اس کتاب کی ترتیب نہایت عمدہ دی گئی کہ جس  میں خصوصاً صبح کے وقت کیے جانے والے اذکار کو الگ سُرخی کے تحت بیان کیا گیا ہے جو کہ تعداد میں اُنیس ہیں اور پھر صبح اور شام دونوں وقتوں میں ہونے والے اذکار کو بیان کیا ہے جو کہ تعداد میں دو ہیں اور اس کے بعد شام کے وقت ہونے والے اذکار کو بیان کیا گیا ہے جو کہ  تعداد میں اٹھارہ ہیں۔ اور ہر ایک کو نقل کرنے کے بعد مصدر کا نام اور حدیث نمبر اور اس کا اجمالی حکم بھی نقل کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ صبح اور شام کے صحیح اذکار نبویﷺ ‘‘ ابو عمار عبد الغفار بن عمر کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-kalma-e-shahadat-copy
محمد افضل احمد

دین اسلام جو اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین ہے ۔جس کی اصلی روح قرآن اور حدیث ہیں۔ شرک و بدعات اور اوہام و خرافات اسلامی روح کے منافی ہیں۔ اسلام کی حقیقی اور اصلی روح کو برقرار رکھنے کے لئے ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے پیدا کئے، جنہوں نے نہ صرف دعوت و تبلیغ اور امر و نواہی کا فریضہ انجام دیا، بلکہ اس چشمہ صافی کی ہر طرح سے حفاظت بھی کرتے رہے۔ چنانچہ اسلامی عقیدے کی تعلیم وتفہیم اور اس کی طرف دعوت دینا ہر دور کا اہم فریضہ ہے۔ کیونکہ اعمال کی قبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے۔اور دنیا وآخرت کی خوش نصیبی اسے مضبوطی سے تھامنے پر منحصر ہے اور اس عقیدے کے جمال وکمال میں نقص یا خلل ڈالنے والے ہر قسم کے امور سے بچنے پر موقوف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’کلمۂ شہادت‘‘محمد افضل احمد کی ہے۔جس میں کلمۂ شہادت کی اہمیت و فضیلت کی وضاحت ( کلمۂ طبیہ اور کلمۂ خبیثہ) کرتے ہوئے اس کتاب کو سات ابواب میں تقسیم کیا ہے۔اور پہلے تین ابواب تو کلمۂ شہادت پرمبنی ہیں۔ چوتھا باب اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت ایمان کی شرط قرار دیا ہے۔ پانچواں باب اسلام کی معرفت کے حوالے سے ہے۔ چھٹا باب کفر کی تحقیرپر مبنی ہے اور آخری باب علم و عقل کی اہمیت بیان کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد قاری سلف وصالحین کے عقیدہ سے مکمل آگاہی حاصل کر لے گا اور یہ کتاب سب کے عقیدے کے پختگی کا باعث ہوگی کیونکہ مؤلف نے اس کتاب کو بڑی عمدہ ترتیب دی ہے اور ہر بحث پر دلائل دے کر  حوالہ جات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( رفیق الرحمن)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 356 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :