pages-from-qadyaniat-key-do-chehrey
مشتاق احمد چنیوٹی

اللہ تعالی نے نبی کریم کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت کی سب سے آخری اینٹ ہیں، جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔ آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔ آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے، جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔ لیکن اللہ رب العزت نے اس کی حقیقت کو جھوٹ وفریب کا بے نقاب کرد یا۔ چنانچہ اس کے خلاف ایک زبر دست تحریک چلی جو اس کے دھوکے اور فریب کو تنکوں کی طرح بہا لے گئی۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے اسے اور اس کے پیرو کاروں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک عظیم الشان فیصلہ کر کے ایک تاریخ رقم کردی۔ زیر نظر کتاب "قادیانیت کے دو چہرے" محترم مولانا مشتاق احمد چنیوٹی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے قادیانیوں کے بدترین کفریہ عقائد و عزائم پر مبنی عکسی شہادتیں اکٹھی کر دی ہیں۔ اور اس کی طرف سے کئے جانے والے جھوٹے دعووں اور کفریہ عقائد و قابل اعتراض باتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے، تاکہ ان کے جرائم کو تمام مسلمان پہچان سکیں۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو قادیانیوں کے اس خطرناک فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-aonul-bari-fi-manasbit-tarajum-al-bukhari-2-copy
محمد حسین میمن

محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ،جسے امت  کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔امام بخاری﷫کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ بھی  ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ بھی  ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوتِ استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔ صحیح بخاری کی   کئی مختلف اہل علم نے شروحات ،ترجمے اور حواشی وغیرہ کا کام کیا ہے شروح صحیح بخاری میں فتح الباری کو ایک امتیازی مقام اور قبولِ عام حاصل ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب " عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری "محترم مولانا محمدحسین میمن صاحب کی تصنیف ہے، جس کی نظر ثانی شیخ الحدیث محترم مولانا مقصود احمد سلفی صاحب نے فرمائی ہے اور اس پر تقدیم محقق العصر محترم مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے لکھی ہے۔ یہ کتاب صحیح بخاری کے ابواب اور احادیث میں مناسبت کا بیش بہا مجموعہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اوراور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-hadith-pr-amal-kaise-copy
یاسمین حمید

ٖ اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی  علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان  دونوں ماخذوں میں سے کسی  ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض ہرکارے  کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" حدیث پر عمل کیسے؟"محترمہ یاسمین حمیدصاحبہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  نبی کریم ﷺ کی چند معروف احادیث کی تشریح بیان فرمائی ہے۔ (راسخ)

pages-from-arbi-khat-ki-tareekh-o-irtiqaa
عبد الحیی عابد

تاریخ کے جھروکے سے قبطی قوم حضرت ابراہیمؑ کی نسل سے تعلق رکھتی تھی۔ حضرت اسماعیلؑ کے صاحب زادے نیابت تھے اور ان کا بیٹا نیا بوط تھا جن کے نام پر قبطی قوم کی بنیاد پڑی۔ قبطی نیم خانہ بدوش تاجر تھے لیکن دو تین صدی ق م میں انہوں نے سینائی میں شمالی عرب سے جنوبی شام تک وسیع قلمر و قائم کرلی۔ ان کے شہری مراکز میں ہنجر بصرہ اور قطرہ (سلیج) کو خاصی شہرت حاصل ہے۔ قطرہ ان کا دار الحکومت بھی تھا۔ فینقیوں کے رسم الخط کو آرامیوں نے اپنی سہولت کے مطابق ترمیم و اضافہ کے ساتھ ترقی دی اور جلد ہی اس خط نے قریب کی ریاستوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ قبطی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انھوں نے دوسری صدی ق م سے پہلے ہی آرامی خط اپنا لیا اور بعد میں اس میں اضافہ کر کے نیا رسم الخط وضع کر لیا جو قبطی خط کہلایا جس کے کئی کتبے اور سکوں پر تحریر دستیاب ہو چکی ہے۔ قبطی خط کے اثرات سینا کے علاقے تک پہنچے اور یہ خط پانچویں صدی عیسوی تک وہاں نظر آتا ہے۔ عربی رسم الخط عربی رسم الخط کے بارے میں محققین خطاطی کا خیال ہے کہ یہ سرزمین عرب اور ارد گرد کی زبانوں خاص طور پر اپنی ہم مآخذ پہلوی، کفروشتی، عبرانی کی نسبت خاصی تاخیر سے متعارف ہوا لیکن بقول ڈاکٹر اعجاز راہی صاحب ان کے نزدیک یہ پہلو قابل قبول نہیں کیونکہ عرب اقوام میں زمانۂ ماقبل تاریخ ایسے شواہد ملتے ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ عربی النسل اقوام میں فن تحریر رائج تھا۔ بہر کیف جس وقت رسول مقبولؐ نے اعلان نبوت فرمایا‘ اس وقت حجاز میں فن تحریر کا آغازہو چکا تھا جس کو آج ہم خط قدیم کوفی حیرہ یا حمیرہ کہتے ہیں۔ یہ دراصل ایک ہی خط تھا اور اسے اسلام کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ترقی کی وہ منزل نصیب ہوئی کہ تاریخ خطاطی کا سب سے مقبول خط بن گیا اور اسلامی حکومت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی وسعت اختیار کرتا چلا گیا۔ زیر تبصرہ کتاب" عربی خط کی تاریخ اور ارتقاء "محترم عبد الحی عابد صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے عربی خط کی تاریخ اور ارتقاء کو بیان کیا ہے۔ یہ کتاب در اصل ان کا ایم اے عربی کا تحقیقی مقالہ ہے جو انہوں نے ایم اے عربی کی ڈگری کے لئے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے جناب ریاض الرحمن قریشی کی زیر نگرانی مکمل کیا تھا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-shuhriyat-aur-iske-mutaliq-masail-copy
مختلف اہل علم

اللہ تعالی نے کائنات کی یہ وسیع وعریض بستی اپنے تمام بندوں کے لئے بسائی ہے۔انسان کے علاوہ اللہ تعالی کی دوسری مخلوقات نے عملی طور پر اس آفاقیت کو باقی رکھا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ایک ملک کے شیر کو کو دوسرے ملک میں جانے کی اجازت نہ ہو، یا ایک خطے کے جانوروں اور پرندوں کو دوسرے ملک میں جانے کے لئے ویزہ لگوانا پڑے۔لیکن انسان کی فطرت میں کچھ ایسی تنگ نظری واقع ہوئی ہے کہ اسے اپنے ہی ہم جنسوں کا وجود گوارہ نہیں ہے۔اسی لئے تو اس نے دنیا کو براعظموں، ملکوں اور صوبوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔اور اسی نام نہاد تقسیم سے شہریت کا مسئلہ پیدا ہو ا ہے۔ہر ملک کے لوگوں نے اپنی سرحدوں کو باہر کے لوگوں کے لئے بند کر رکھا ہے۔سرحد سے باہر کے لوگ چاہے ایک ہی زبان بولنے والے ہوں، ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہوں اور ایک ہی مذہب کو ماننے والے ہوں،انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہےاور نہ ہی انہیں سرحد کے اس پار رہنے والوں کے مماثل حقوق واختیارات حاصل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" شہریت اور اس سے  متعلق مسائل " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے 23 ویں فقہی سیمینار منعقدہ جمبوسر (گجرات) بتاریخ  28،29  ربیع الثانی ویکم جمادی الاولی 1435ھ بمطابق 1تا 3 مارچ 2014ء میں شہریت کے مسائل کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-aonul-bari-fi-manasbit-tarajum-al-bukhari-1-copy
محمد حسین میمن

محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ،جسے امت  کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔امام بخاری﷫کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ بھی  ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ بھی  ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوتِ استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔ صحیح بخاری کی   کئی مختلف اہل علم نے شروحات ،ترجمے اور حواشی وغیرہ کا کام کیا ہے شروح صحیح بخاری میں فتح الباری کو ایک امتیازی مقام اور قبولِ عام حاصل ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب " عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری "محترم مولانا محمدحسین میمن صاحب کی تصنیف ہے، جس کی نظر ثانی شیخ الحدیث محترم مولانا مقصود احمد سلفی صاحب نے فرمائی ہے اور اس پر تقدیم محقق العصر محترم مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے لکھی ہے۔ یہ کتاب صحیح بخاری کے ابواب اور احادیث میں مناسبت کا بیش بہا مجموعہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اوراور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-dawati-sawalaat
محمد ریاض موسی ملیباری

اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادت یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’’زمانہ گواہ ہے کہ انسان ضرور ضرور خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ ‘‘دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " دعوتی سوالات اور میرے جوابات "محترم شیخ محمد ریاض موسی ملیباری کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے دعوت دین کے میدان میں پیش آنے والے مختلف سوالات کے جوابات جمع فرما دئیے ہیں۔ اللہ تعالی اسے مولف ﷫سے قبول فرمائے اور ہمیں دعوتی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

title-pages-plastic-surgery-fiqah-islami-ki-roshni-me-copy
مختلف اہل علم

اللہ تعالی نے انسان کو بہترین قالب اور شکل وصورت میں پیدا فرمایا ہے۔ اور پھر اس کے حسن کو دوبالا کرنے کے لئے اس میں جذبہ آرائش بھی ودیعت فرمایا ہے۔نیز اپنے آپ کو آراستہ کرنے کا ایک سے ایک سلیقہ بھی دیا ہے۔چنانچہ انسان شروع ہی سے زینت وآرائش کے مختلف طریقے استعمال کرتا رہا ہے۔جب سیدنا آدم اوراماں حوا کو جنت سے نکالا گیا اور وہ جنتی لباس  سے محروم ہو گئے تو انہوں نے بے ساختہ اپنے جسموں پر درختوں کے پتے لپیٹنا شروع کر دئے۔یہ واقعہ جہاں اس بات کو واضح کرتا ہے کہ شرم وحیا انسان کی فطرت کا بنیادی عنصر ہے، وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی کی فطرت میں لباس وپوشاک کی خواہش رکھی گئی ہے۔اور لباس صرف جسم کو چھپاتا ہی نہیں بلکہ انسان کے لئے باعث زینت بھی ہے۔عصر حاضر میں خوبصورتی  میں اضافے کے لئے بے شمار مصنوعات سامنے آ چکی ہیں۔ان میں سے ایک "پلاسٹک سرجری" ہے، جس میں جسم کے ایک حصے سے چمڑہ، گوشت یا ہڈی لے کر جسم کے دوسرے حصے میں پیوست کر دیا جاتا ہے۔اس کا مقصد کبھی اپنی شناخت کو چھپانا، کبھی کسی عیب کو دور کرنا، کبھی جسمانی تکلیف کا ازالہ کرنا اور کبھی خوبصورتی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے اٹھارہویں فقہی سیمینار منعقدہ 28 فروری تا 2 مارچ 2009ء میں پلاسٹک سرجری کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-saleeqa-e-ikhtlaf-copy
ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید

انسانی دنیا میں اختلاف کا پایا جانا ایک مسلمہ بات ہے ۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق میں ایک سنت۔ چنانچہ لوگ اپنے رنگ وزبان اور طبیعت وادراکات اور معارف وعقول اور شکل وصورت میں باہم مختلف ہیں ۔امت محمدیہ آج جن چیزوں سے دوچار ہے ،اور آج سے پہلے بھی دو چار تھی ،ان میں اہم ترین چیز بظاہر اختلاف کا معا ملہ ہے جو امت کے افراد وجماعتوں، مذاہب وحکومتوں سب کے درمیان پایا جاتا رہا اور پایا جاتا ہے یہ اختلاف کبھی بڑھ کر ایسا ہوجاتا ہے کہ گروہ بندی تک پہنچ جاتا ہے اور یہ گروہ بندی باہمی دشمنی تک اور پھر جنگ وجدال تک ذریعہ بنتی ہے ۔اور یہ چیزیں اکثر دینی رنگ وعنوان بھی اختیار کر لیتی ہیں جس کے لیے نصوصِ وحی میں توجیہ وتاویل سے کام لیا جاتا ہے ، یا امت کے سلف صالح صحابہ وعلماء واصحاب مذاہب کے معاملات وحالات سے استناد حاصل کیا جاتا ہے ۔اور اختلاف اساسی طورپر دین کی رو سے کوئی منکر چیز نہیں ہے ،بلکہ وہ ایک مشروع چیز ہے جس پر کتاب وسنت کے بے شمار دلائل موجود ہیں۔علم الاختلاف سے مراد ان مسائل کا علم ہے جن میں اجتہاد جاری ہوتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سلیقۂ اختلاف‘‘ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید ( سابق امام وخطیب بیت اللہ الحرام ) کے جامعہ ام القریٰ ، مکۃ المکرمہ کے لیکچرز ہال میں اہل علم اور طلبا واساتذہ کے سامنے دئیے گئے محاضرات کی کتابی صورت ’’ ادب الخلاف‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ان محاضرات کو اہل علم کے ہاں بڑی پزیرائی حاصل ہوئی تو شیخ موصوف کی نظرثانی کےبعد اس کے ’’ ادب الخلاف ‘‘ کےنام سے مختلف مقامات سے متعدد عربی ایڈیشن شائع ہوئے۔بعد ازاں رابط عالم اسلامی نے اپنے ہفتہ وار ترجمان ’’العالم الاسلامی‘‘ میں اسے قسط وار شائع کیا ۔اس کتاب کی افادیت کے باعث اسے اردو داں طبقہ کے لیے اردو قالب میں ڈھال کر وزارت اسلامی امور سعودی عرب نےاسے کثیر تعدا د میں شائع کر کے تقسیم کیا ۔(م۔ا)

pages-from-main-ne-salfi-manhaj-kiyon-apnaya
ڈاکٹر محمد سلیم بن عبید الہلالی

مسلک اہل حدیث یا سلفی منہج ایک نکھرا ہوا اور نترا ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔ اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ"اہل"ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ "حدیث" ہے۔ حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔ پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔ کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا" محترم سلیم بن عید الہلالی تلیذ رشید علامہ ناصر الدین البانی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے، اردو ترجمہ محترم عبد العظیم حسن زئی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-madical-insurance-fiqah-islami-ki-roshni-me-copy
مختلف اہل علم

صحت اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور حتی المقدور اس کی حفاظت انسان کا فریضہ اور اس کی ذمہ داری بھی ہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں صنعتی انقلاب، ماحولیاتی عدم توازن اور غذائی اجناس میں اضافہ کے لئے نئے نئے تجربات کی وجہ سے بیماریوں بڑھ رہی ہیں اور امراض پیچیدہ  تر ہوتے جارہے ہیں۔اس کے ساتھ امراض کی تشخیص اور علاج کے نت نئے زود اثر طریقے بھی دریافت ہو رہے ہیں۔لیکن جدید طریقہ علاج اتنا مہنگا اور گراں ہو چکا ہے کہ متوسط معاشی صلاھیت کے حامل لوگوں کے لئے اس کے اخراجات ناقابل برداشت ہو جاتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ ہےکہ  طب وعلاج جو خدمت خلق کا ایک ذریعہ  اور باعزت پیشہ تھا اب اس نے تجارت کی صورت اختیار کر لی ہے۔اس صورت حال نے میڈیکل انشورنس کو وجود بخشا ، جس کی متعدد صورتیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" میڈیکل انشورنس فقہ اسلامی کی روشنی میں" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں  انہوں نے پندرہویں فقہی سیمینار منعقدہ میسور مؤرخہ  11 تا 13 مارچ 2006ء میں میڈیکل انشورنس فقہ اسلامی کی روشنی میں کے موضوع پر  اہل علم کی طرف سے پیش کئے گئے تحقیقی مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)

title-pages-meeras-w-wasiyat-se-mutaliq-baaz-masail-copy
مختلف اہل علم

دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ان دونوں کے بر عکس اسلام کا معاشی نظام ایک زبر دست نظام ہے۔جس میں انسان کو ملکیت بھی دی گئی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں پر خرچ کرنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔اسلام کے مالی نظام میں ایک اہم باب وصیت ووراثت  کا ہے ، جس کے مطابق وارث اپنے موروث  کی موت کے بعد اس کے ترکے کا وارث بن جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" میراث ووصیت سے متعلق بعض مسائل "ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے 23 ویں فقہی سیمینار منعقدہ جمبوسر (گجرات) بتاریخ  28،29  ربیع الثانی ویکم جمادی الاولی 1435ھ بمطابق 1تا 3 مارچ 2014ء میں وراثت اور ہبہ کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-molna-rehmatullah-kiranvi
اسیر ادروی

مولانا رحمت اللہ بن خلیل الرحمٰن کیرانوی﷫ کیرانہ ضلع مظفر نگر (یوپی ۔بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب اکتیس واسطوں سے سیدنا عثمان غنی﷜ سے ملتا ہے۔ مولانا کیرانوی نے بارہ برس کی عمر میں قرآن کریم اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں پھر تحصیل علم کےشوق میں دہلی چلے آئے اور مولانا حیات کے مدرسہ میں داخل ہوکر درس نظامی کی تکمیل کی اور شاہ عبد الغنی وغیرہ سے دورہ حدیث پڑھا طب کی تعلیم حکیم فیض محمد حاصل کی۔ تعلیم سےفراغت کے بعد کچھ عرصہ دہلی میں ملازمت کی اس دوران والد کا انتقال ہوگیا تو آپ وطن واپس آکر درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ رحمت اللہ کیرانوی اسلام بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، کیرانوی اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں کے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ 1270ھ بمطابق 1854ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔جنگ آزادی 1857ء میں کیرانوی صوفی شیخ حضرت حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معرکہ میں بھی شریک ہوئے۔ انگریز کی فتح کے بعد کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں آپ نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں عیسائیوں سے مناظرے کیے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مجاہد اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫‘‘ محترم جناب اسیرادروی کی مرتب شدہ ہے۔ موصوف نے اس کتاب کو مستند ترین مآخذ سے استفادہ کر کے اس کتاب کو ترتیب دیا ہے۔ موصوف نے اس کتاب کوبیس ابواب میں تقسیم کیا ہے جن میں مولانا کیرانوی کا نام ونسب، خاندان اور وطن، ولادت، تعلیم وتربیت اور درس وتدریس، اسلامی ہند پر عیسائیت کی یلغار، مولانا کیرانوی میدان عمل میں، پادری فنڈر سے خط وکتابت، مولانا کے مناظر ے اور ان کی تصانیف کا تذکرہ کاکیا ہے۔ آخری ابواب میں مولانا کیرانوی کے مکہ مکرمہ میں زندگی کے شب روز کا تذکرہ کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-8--part-2--copy
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

title-pages-hiba-se-mutaliq-baaz-masail-copy
مختلف اہل علم

دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ان دونوں کے بر عکس اسلام کا معاشی نظام ایک زبر دست نظام ہے۔جس میں انسان کو ملکیت بھی دی گئی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں پر خرچ کرنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔اسلام کے مالی نظام میں ایک اہم باب 'ہبہ' کا ہے،  ہبہ اسلام میں انفرادی ملکیت اور اپنی املاک میں تصرف کے بنیادی حق کا مظہر ہے۔حاکم ہو یا محکوم، آجر ہو یا مزدور، عالم ہو یا جاہل، مرد ہو یا عورت، شریعت نے ہر ایک کو اپنی ملکیت میں تصرف کا آزانہ حق دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ھبہ سے متعلق بعض مسائل "ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے 23 ویں فقہی سیمینار منعقدہ جمبوسر (گجرات) بتاریخ  28،29  ربیع الثانی ویکم جمادی الاولی 1435ھ بمطابق 1تا 3 مارچ 2014ء میں ھبہ کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-aqaed-e-batila-ka-radd
رحمت اللہ ربانی

ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔ اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے، ان کی تفصیلات قرآن مجید میں، اور نبی کریم نے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔124 مسائل ایسے تھے جو نبی کریم اور مشرکین مکہ کے درمیان متنازعہ فیہ تھے۔ اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں جن کا ہر مسلمان کے علم میں آنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ان میں اور اسلامی تعلیمات میں مشرق ومغرب کی دوری ہے۔ان کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" عقائد باطلہ کا رد " محترم مولانا رحمت اللہ ربانی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ باطل عقائد کا رد فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-7-copy
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

title-pages-fiqhul-al-sunnah-copy
محمد عاصم

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دین میں تفقہ سب سے افضل عمل ہے۔جو اللہ کی ذات، اس کے اسماء وصفات، اس کے افعال، اس کے دین وشریعت اور اس کے انبیاء ورسل کی معرفت کانا م ہے،اور اس کے مطابق اپناایمان ،عقیدہ اور قول وعمل درست کرنے کا نام ہے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا :اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "فقہ السنہ" معروف عالم دین محمد عاصم صاحب کی کاوش ہے،جسے انہوں نے  معروف فقہی ترتیب پر مرتب کرتے ہوئے قرآنی آیات ،واحادیث نبویہ سے مزین کر دیا ہے ۔اور فروعی مسائل میں صرف ایک ہی قول راجح وصحیح کوبیان کر دیا ہے تاکہ پڑھنے والوں کے لئے سمجھنا آسان ہو اور مبتدی قاری اپنا مطلوب پا لے۔انہوں نے اس کتاب کو مختصر اور مفید بنانے کی از حد کوشش کی ہے ،تاکہ اس سے عابد اپنی عبادت کے لئے ،واعظ اپنی وعظ کے لئے ،مفتی اپنے فتوی کے لئے ،معلم اپنی تدریس کے لئے قاضی اپنے فیصلے کے لئے ،تاجر اپنی تجارت کے لئے اور داعی اپنی دعوت کے لئے فائدہ اٹھا سکے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2414 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں