pages-from-aik-baap-ka-apne-bete-key-nam-khat
محمد عظیم حاصلپوری

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام کی انہی روشن تعلیمات میں سے ایک اہم مسئلہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے ورثاء کے لئے کوئی وصیت کرنا بھی ہے۔انبیاء کرام کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ اپنے لمحات میں اپنی اولاد کو نیکی اور اطاعت الہی کی وصیتیں کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب"ایک باپ کا اپنے آخری لمحات میں اپنے بیٹے کے نام وصیت نامہ "محترم محمد عظیم حاصل پوری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انبیاء کرام کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیتوں کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

title-pages-sayyadna-muawiya-ghumrahkun-ghalatfehmiyon-ka-izala-copy
محمد ظفر اقبال

سیدنا معاویہ  ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں،جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے کتابت وحی جیسے عظیم الشان فرائض سر انجام دئیے۔سیدنا علی   کی وفات  کے بعد  ان کا دور حکومت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں سے ہے۔جس میں اندرونی طور پر امن اطمینان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بھی بیٹھی ہوئی تھی۔لیکن افسوس کہ بعض نادان مسلمان بھائیوں نے ان پر اعتراضات اور الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگا رکھا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گردوغبار میں روپوش ہو کر رہ گیاہے۔اور امر کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ تاریخ کی روشنی میں اصل حقیقت کو واضح کیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" سیدنا معاویہ ، گمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ" محترم محمد ظفر اقبال صاحب کی تصنیف ہے، جبکہ اس کے شروع میں مسلک دیو بند سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خاں صاحب  کی تقریظ موجود ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں صحابی رسول سیدنا معاویہ   کی سیرت،آپ کے فضائل ومناقب ،آپ کے عہد حکومت کے حالات کو بیان کرتے ہوئے  آپ پر کئے گئے  مخالفین کے اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-subul-ussalam-1-copy
محمد بن اسماعیل صنعانی

خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-11
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-darse-maqamat-copy
ابن الحسن عباسی

عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " درس مقامات، مقامات حریری کے دس مقاموں کی جدید شرح "محترم ابن الحسن عباسی، رفیق شعبہ تصنیف واستاذ جامعہ فاروقیہ کراچی کی کاوش ہے، جو عربی ادب کی معروف  کتاب مقامات حریری کے پہلے دس مقامات کی نئی شرح ہے۔یہ کتاب عربی زبان وادب  سیکھنے کے حوالے سے یہ ایک مقبول ترین کتاب ہے ،جو متعدد دینی مدارس اور سکولوں وکالجوں کے نصاب میں داخل ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

title-pages-tafseer-e-nasos-k-usool-w-manahij-copy
ڈاکٹر شیخ محمد ادیب صالح

قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی اجتماعیت کے لئے قیامت تک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے قرآنی تعلیمات پر نہ صرف ایک جماعت قائم کی بلکہ ایک زندہ وتابندہ سو سائٹی بھی قائم کر کے دکھائی، جس نے انسانی ترقی کا ایک ایسا منصفانہ نظام زندگی فراہم کیا جس سے آج کا  انسان بے نیاز نہیں رہ سکتا ہے۔قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب"تفسیر نصوص کے اصول ومناہج " شام کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر شیخ محمد ادیب صالح کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے، جس میں انہوں نے نصوص کی تشریح وتفسیر کے اصول ومناہج کو بیان فرمایا ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد ارشد معروفی، استاذ دار العلوم دیو بند نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-10
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-tazkia-e-nafas-copy
امام ابو محمد علی بن احمد بن حزم رحمہ اللہ

شریعت اسلامیہ میں تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کوان ممنوع معیوب اور مکروہ امور سے پاک صاف رکھے جنہیں قرآن وسنت میں ممنوع معیوب اورمکروہ کہا گیا ہے۔گویا نفس کو گناہ اور عیب دارکاموں کی آلودگی سے  پاک صاف کرلینا اور  اسے  قرآن وسنت کی روشنی  میں محمود ومحبوب اور خوب صورت خیالات  وامور سے آراستہ رکھنا نفس کا تزکیہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے  انبیاء کرام  کو جن اہم امور کےلیے مبعوث  فرمایا ان میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے۔  جیسا کہ  نبی اکرم ﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘اس  آیت سے معلوم ہوتاہےکہ رسول اکرم ﷺ پر نوع انسانی کی اصلاح کےحوالے جو اہم ذمہ داری  ڈالی گئی اس کےچار پہلو ہیں ۔تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت،تزکیہ انسانی۔ قرآن مجید میں یہی مضمون چار مختلف مقامات پر آیا ہے  جن میں ترتیب مختلف ہے  لیکن ذمہ داریاں یہی دہرائی گئی ہیں۔ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت آیات اورتعلیم کتاب وحکمت کا منطقی نتیجہ بھی تزکیہ ہی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تزکیہ نفس" امام ابو محمد علی بن احمد بن حزم ﷫کی عربی  تصنیف کا اردو ترجمہ  ہے۔ اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر عبد الرحمن یوسف مدنی صاحب نے کیا ہےمولف نے اس کتاب میں  تزکیہ نفس کے حوالے سے تفصیلی گفتگو فرمائی ہےاور اس کی  متعدد جزئیات پر قلم اٹھایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں تزکیہ نفس کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-tehqiq-manat-ki-natbeek-me-kotahi-k-nataij-copy
ڈاکٹر ہانی احمد عبد الشکور

جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔منجملہ اصول فقہ میں سے ایک مناط(علت) کی تحقیق اور تطبیق بھی ہے۔اگر مناط کی تطبیق میں کوتاہی واقع ہو جائے تو نتائج کہیں کے کہیں کا پہنچتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " حقیقۃ الفقہ" محترم ڈاکٹر ہانی احمد عبد الشکور کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم شعبہ حسنین ندوی صاحب نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  وہ مولف اور مترجم  کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین  (راسخ)

page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-09
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہو سکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-behtar-badla-copy
ابراہیم بن عبد اللہ الحازمی

دین اسلام اپنے ماننے والوں کو اچھے اخلاق کی ترغیب دیتا ہے اور انہیں برے اور بد اخلاقی سے روکتا ہے، ہر وہ عادت جو معاشرہ میں خیر و بھلاائی کو فروغ دینے والی ہے اسلام اس کی دعوت دیتا ہے اور جو عادت معاشرہ میں شر اور فسادکو عام کرتی ہے اسلام اس سے منع کرتا ہے، ایک انسان کا اچھے اخلاق والا ہونا اسلام میں مطلوب اور مرغوب ہے ، اسلام نے اچھے اخلاق کو ایمان اور اسلام کی نشانی بتایا ہے، اور مسلمانوں کو یہ درس دیا ہے کہ برے اور گندے اخلاق کسی بھی  مومن  کے شایان شان نہیں ہیں۔ ایک انسان جسم اور روح کا مرکب ہوتا ہے، اس کا ظاہر اور باطن ہوتا ہے، اسلامی اخلاق اس انسان کے باطنی شکل وصورت کی ایک تصویر اور تمثیل ہے، جس کی اصل جگہ انسان کا اپنا دل ہے، اور یہی باطنی تصویر ایک مسلمان کی شخصیت کا اہم عنصر ہے، درحقیقت انسان اپنی لمبائی، چوڑائی، رنگ وروپ، فقیری اور مالداری سے نہیں جانا جاتا ہے بلکہ حقیقت میں انسان اپنے اخلاق اور اپنے سلوک سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔اخلاق حسنہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان اللہ کے لئے کسی چیز کو چھوڑ دے، اور جب کوئی آدمی اللہ کے لئے کوئی چھوڑتا ہے تو اللہ تعالی اسے اس سے بہتر بدلہ عطا فرماتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" بہتر بدلہ " فضیلۃ الشیخ ابراھیم بن عبد اللہ الحازمی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بہتر بدلے کے حوالے سے حیرت انگیز واقعات اور نصیحت آموز حکایات کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم فضیلۃ الشیخ سعید الرحمن ہزاروی صاحب نے جبکہ نظر ثانی حافظ عبد اللہ سلیم نے کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

title-pages-tehreek-azadi-me-ulma-ka-kirdar-copy
فیصل احمد ندوی بھٹکلی

تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940ء کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہیں جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں ۔1930 ءمیں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک آزادی 1857ء سےبھی پہلے شروع ہو چکی تھی، جس میں علماء کرام نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ زیر تبصرہ کتاب" تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار "محترم فیصل احمد ندوی بھٹکلی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے 1857ء سے پہلے تحریک آزادی میں علماء کرام کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی ہےاور قیام پاکستان کے اسی پس منظر کو تفصیل سے بیان  کیا ہے۔(راسخ)

page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-08
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-barkat-k-asbab-aur-mehnat-ki-ahmiyat-copy
آصف نسیم

آج کی مادی دنیا میں لوگ اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ انہیں سوائے دولت اکٹھی کرنے، اسی کے لئے بھاگ دوڑ کرنے اور زندگی کی ساری راحتیں اس خیالی راحت کو حاصل کرنے میں کھپا دینے کے علاوہ اور کسی بات کو سوچنے کی فرصت ہی نہیں ملتی ہے۔درحقیقت ہماری زندگی حقیقی رنگ، لذت، سرور اور نزاکت احساس کھو چکی ہے اور لطف یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" برکت کے اسباب اور محنت کی اھمیت "محترم مولانا آصف نسیم صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شریعت کی روشنی میں برکت کے اسباب اور محنت کی اھمیت پر گفتگو فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

title-pages-ikkeeswi-sadi-k-samaji-masail-aur-islam-copy
محمد رضی الاسلام ندوی

اکیسویں صدی جہاں سائنسی ایجادات و اکتشافات، ٹیکنالوجی ، آزادی، مساوات، عدل و انصاف، بنیادی انسانی حقوق، حقوقِ نسواں جیسے تصورات کی صدی قرار پائی وہیں یہ صدی اپنے جلو میں بے شمار سماجی اور اختلافی مسائل بھی ساتھ لے کر آئی ہے۔ ان مسائل نے انسانی زندگی کو پیچیدہ بنانے، فتنہ وفساد، پریشان خیالی اور بے راہ روی سے دوچار کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا فتنہ و فساد کی آماج گاہ، اخلاق و شرافت سے عاری اور مادرپدر آزادی کے ساتھ انسان کو حیوان اور معاشرے کو حیوانی معاشرے کی صورت میں پیش کر رہی ہے۔اس صدی کی رنگارنگی اور بوقلمونی سے جنم لیتے مسائل تو بے شمار ہیں لیکن ان میں سے چند اہم مسائل پر معروف عالم دین،محقق اور مصنف ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے قلم اُٹھایا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب " اکیسویں صدی کے سماجی مسائل اور اسلام "میں کل گیارہ مضامین ہیں ، جن میں نکاح کے بغیر جنسی تعلق، جنسی بے راہ روی اور زناکاری، رحم مادر کا اُجرت پر حصول، ہم جنسیت کا فتنہ، مصنوعی طریقہ ہاے تولید، اسپرم بنک: تصور اور مسائل، رحمِ مادر میں بچیوں کا قتل، گھریلو تشدد، بوڑھوں کے عافیت کدے، پلاسٹک سرجری اور عام تباہی کے اسلحے کا استعمال شامل ہیں۔ ان مسائل پر تحقیقی انداز میں بحث کے ساتھ ساتھ اسلام کا نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہےاور وقت کی ایک اہم ضرورت پوری کی گئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

page-from-musannaf-ibn-e-abi-shaibah-vol-07
امام ابن ابی شیبہ

خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-islami-fiqah-k-usool-w-mubadi-copy
ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صدیقی

دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اہل علم اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی فقہ کے اصول ومبادی "محترم ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں فقہ اسلامی کے  اصول ومبادی کو بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-islam-ka-nazriya-aitidal-copy
ڈاکٹر یوسف القرضاوی

اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی  ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظریہ اعتدال اور اس کے اہم عناصر "عالم عرب کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلام نے نظریہ اعتدال اور اس کے اہم عناصر کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1234 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں