title-pages-khawab-ki-haqiqat-tehqiq-ki-roshni-me-copy
ڈاکٹر غلام قادر لون

انسان کبھی نیند کی حالت میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہے جو بیداری اورجاگنے کی حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ عرف عام میں اس کو خواب کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خواب میں روح جسم سے نکل کر عالم علوی اور عالم سفلی میں سیرکرتی ہے جو جاگنے میں نہیں دیکھ سکتی وہ دیکھتی ہے۔ اسے حِسِّ روحانی کہنا چاہیے، حس جسمانی صرف حاضر پر حاوی ہوسکتی ہے اور حِس روحانی حاضر وغائب دونوں کا ادراک و احساس کرتی ہے، اس لئے خواب میں ایسے احوال وکیفیات مشاہدہ میںآ تی ہیں جن سے خود خواب دیکھنے والے کو بڑی حیرت ہوتی ہے، کبھی مسرت انگیز اورکبھی خوفناک تصویریں ذہن میں ابھرتی ہیں اور بیداری کے ساتھ ہی یہ تمام کہانی یکلخت مٹ جاتی ہے۔ قرآن کے متعدد مقامات میں مختلف نوعیتوں سے خواب کا تذکرہ کیا گیا ہے اوراحادیث میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قدرے تفصیل بیان فرمائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواب کا وجود حق ہے۔ انبیاء کرام کے علاوہ دیگر افراد کا خواب اگرچہ حجت شرعی نہیں تاہم یہ فیضان الوہیت اور برکات نبوت سے ہے۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اس سے مراد علم نبوت ہے یعنی رویاء صالحہ علم نبوت کے اجزاء اور حصوں میں سے ایک جزو حصہ ہے۔ (صحیح بخاری ومسلم) غور کیاجائے تو اس حدیث میں آپ ﷺ نے اچھے اور بہتر خواب کی فضیلت و منقبت بیان فرمائی ہے اوراسے نبوت کا پرتو قرار دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" خواب کی حقیقت، تحقیق کی روشنی میں"محترم ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے خواب کی حقیقت کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ا ن کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔(راسخ)

title-pages-khutbat-e-pakistan-copy
سید جلال الدین انصر عمری

مولاناسید جلال الدین عمری ۱۹۳۵ء میں جنوبی ہند میں مسلمانوں کے ایک مرکز ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی۔ پھر عربی تعلیم کے لیے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لے کر ۱۹۵۴ء میں فضیلت کاکورس مکمل کیا۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور فارسی زبان وادب کی ڈگری ’منشی فاضل‘ حاصل کی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے پرائیوٹ سے پاس کیا۔عمر آباد سے فراغت کے بعد مولانا جماعتِ اسلامی ہند کے اُس وقت کے مرکز رام پور آگئے اور وہاں اس کے شعبۂ تصنیف وتالیف سے وابستہ ہوگئے۔ مولانا سید جلال الدین عمری برصغیر ہندو پاک کے ان چند ممتاز علماء میں سے ہیں جنھوں نے اسلام کے مختلف پہلوؤں کی تفہیم وتشریح کے لیے قابل قدر لٹریچر وجود بخشا ہے۔ اسلام کی دعوت، اسلام کے نظام عقائد ومعاملات اور اسلامی معاشرت پر آپ کی کتابیں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ آپ ہندوستان کی تحریک اسلامی کے چوٹی کے رہ نماؤں میں سے ہیں۔ دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں انتہائی مصروف رہنے کے باوجود اسلام کے مختلف پہلوؤں پر آپ کی بیش قیمت تصانیف آپ کی عظمت وقابلیت کا زبردست ثبوت ہیں۔  زیر تبصرہ کتا ب’’خطبات پاکستان ‘‘ جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری ﷾ کے پاکستان میں آمد پر ان کے مختلف اداروں ، جامعات ، میں پیش گئے کے خطبات ومحاضرات اور ان کے سفر کی روداد پر مشتمل ہے۔موصوف 2005ء اور 2012ء میں پاکستان تشریف لائے تو آپ نے اسلام آباد،کراچی ، لاہور میں مختلف اداروں میں خطابات کیے ، مختلف اداروں کے وزٹ کیے اورکئی رسائل وجرائد اورٹی وی چینلز کو انٹرویو بھی دئیے۔ ان دونوں اسفار کی رودادا ور آپ کے خطبات کو مولانا رضی الاسلام ندوی نے ’’خطبات پاکستان ‘‘کے نام سے مرتب کیا ہے ۔(م۔)

pages-from-rajoo-ilallah-ahmiat-aur-taqaazey-jilad-1
اشہد رفیق ندوی

قرآن مجید ایک لائحہ عمل اور نصب العین ہے کہ جس نے بھی اس کو سینے سے لگایا اس کی جہالت اور پریشانیوں و مصائب وآلام کی زنجیریں پا ش پاش ہو کر گر گئیں۔ اور قرآن مجید ہدایت و نور کا سر چشمہ ہے اور زندگی کے جملہ معاملات کا حل ہے جو اس کے حقوق کو پورا کرنے کے بغیر ممکن نہیں۔ رجوع الی القرآن کا مطلب ہے کہ ہم قرآن مجید کو غور سے پڑھیں اس کی تعلیمات کو سمجھیں ان پر عمل پیرا ہوں اور انہیں اپنی زندگی کے ہر سفر میں مشعل راہ بنائیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رجوع الیٰ القرآن اہمیت اور تقاضے‘‘ ادارہ علوم القرآن، علی گڑہ کے زیر اہتمام مذکورہ موضوع کے عنوان پر منعقد کیے گئے دو سیمیناروں میں مختلف اہل علم کی طرف سے پیش کیے گئے علمی و تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے ان مقالات کو محترم جناب اشہد رفیق ندوی صاحب نے بڑی محنت سے دو جلدوں میں مرتب کیا ہے یہ دونوں جلدیں قرآن کریم کے متعلق جملہ موضوعات پر مشتمل بیش قیمت علمی تحفہ ہے۔ (م۔ا)

title-pages-fazelat-e-islam-copy
محمد بن عبد الوہاب

اسلام اللہ کےآخری نبی سیدنا محمد مصطفی ﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین یعنی نظام زندگی ہے جس کا آئین قرآن حکیم ہے، اُس پر مکمل ایمان اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اس کے مطابق زندگی بسر کرنا اسلام ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں  اسلام مسلمانوں کا دین یا نظام زندگی ہے جس میں اللہ کی توحید کا اقرار کرتے ہوئے اس کی حاکمیت اعلیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی ماننا ہے۔ اسلام وہ دین یا نظام حیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام اللہ کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کی جائے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام اللہ کی طرف سے آخری اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے اور آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کو امن اور سکون کی دولت عطا کرتے ہوئے دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخروی نجات کا باعث بن سکتا ہے۔اسلام کو اللہ تعالیٰ  دنیا کےتمام مذاہب پر فضیلت  دی ہے  کیونکہ یہ اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے  جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ’’ آج میں نے تمہارے لیے تمہارادین مکمل کردیا  اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور میں نے اسلام کو بطور دین تمہارے لیے پسند کرلیا ہے ۔‘‘  نیز احادیث مبارکہ میں بھی نبی کریم  ﷺ نے اسلام کی سابقہ ادیان ومذاہب   کی  بہ  نسبت اہمیت وفضیلت کو بیان کیا ہے ۔ زیر تبصرہ   کتاب ’’فضیلت اسلام ‘‘ شیخ الاسلام  محمد بن عبدالوہاب ﷫ کا اسلام کی عظمت وفضیلت کے متعلق تحریر کردہ  عربی رسالہ ’’ فضل الاسلام ‘‘ کا  اردو ترجمہ ہے ۔ ترجمہ کی سعادت   ابو المکرم عبد الجلیل نے نے حاصل کی  ہے  مترجم نے یہ ترجمہ کتاب کے  اس نسخہ کو سامنے رکھ کر کیا ہے  جو شیخ اسماعیل بن محمد انصاری ﷫ اور شیخ  عبد اللطیف آل شیخ ﷾ کی تحقیق وتعلیق کےساتھ دار الافتاء  ریاض سے  شائع ہوا ہے۔شیخ الاسلام   محمد بن عبد الوہاب نے اس مختصر  رسالہ میں  آیات واحادیث کی  روشنی میں اسلام کی عظمت وفضیلت کو  بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-islam-ki-dus-imtyazi-khasosiyat-copy
علامہ سید رشید رضا مصری

اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام  کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی  مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔اسلام ہر انسان کی فلاح وبہبود اور کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ہر انسان فطری اور طبعی طور پر کامیابی چاہتا ہے اور ناکامی سے دور بھاگتا ہے۔لیکن ایک عام انسان اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ آخر اسے یہ کامیابی ملے گی کہاں سے۔ہر انسان اپنی عقل وفکر  کے گھوڑے دوڑا کر کامیابی تک پہنچنا چاہتا ہے۔کوئی مال میں کامیابی تلاش کر رہا ہے تو کوئی دکان مکان میں اور کوئی سلطنت اور حکومت ،لیکن تاریخ انسانیت گواہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی چیز میں کامیابی نہیں ہے۔کامیابی صرف اور صرف اسلام کے مطابق زندگی گزارنے میں پنہاں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام کی دس امتیازی  خصوصیات"علامہ سید رشید رضا مصری ﷫کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلام کی دس امتیازی خصوصیات کو قلمبند کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کو جزائے خیر سے نوازے اور تمام مسلمانوں کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

pages-from-hindustan-key-muslman-hukmranon-key-ahad-key-tamaddani-karnaamey
دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، یو پی

ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی کارنامے‘‘ دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ کے رفقاء کی مرتب کردہ ہے۔ اس کتاب میں سلاطین دہلی اور شاہان مغلیہ کے عہد کے فن تعمیر، رفاہ عام کے کام، شہروں اور گاؤں کی آبادی، باغات، ترقی حیوانات، ترقی تعلیم، کاغذ سازی، کتب خانے او رخطاطی وغیرہ پر تفصیلیر و شنی ڈالی گئی ہے۔ (م۔ا)

title-pages-zuban-ki-hifazat-copy
مریم دانش

زبان اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ یہ وہ عضو ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے احساسات وجذبات کی ترجمانی کرتا ہے انسان اسی کی وجہ سے باعزت مانا جاتاہے اور اسی کی وجہ سے ذلت ورسوائی کا مستحق بھی ہوتا ہے۔ اس نعمت کی اہمیت کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس کے منہ میں زبان ہے لیکن وہ اپنامافی ضمیر ادا نہیں کرسکتاہے۔اللہ کا فرمان ہے : أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ(سورۃالبلد) ’’ کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنایا۔‘‘سب سے زیادہ غلطیاں انسان زبان سے ہی کرتا ہے۔لہٰذا عقلمند لوگ اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ زبان کو غلط اور بری باتوں سے بچا کر اچھے طریقے سے استعمال کرنا زبان کی حفاظت کہلاتا ہے۔ ہمارے دین اسلام میں زبان کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’زبان کی حفاظت ‘‘ نیویارک میں مقیم مولانا عبد اللہ دانش کی صاحبزادی اور شیخ القراء قاری محمد ادریس العاصم کی بہو محترم مریم دانش صاحبہ کی کاوش ہے ۔ اس مختصر کتابچہ میں انہوں نے قرآن واحاديث كی روشنی میں زبان کی حفاظت کے طریقے کو دلچسپ اور عام فہم انداز میں اختصار کے ساتھ یکجا کردیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے قارئین کے لیے اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

title-pages-alme-bala-k-sai-me-copy
پروفیسر قلب بشیر خاور بٹ

ڈرامہ یوں تو ہر زبان میں لیکن بالخصوص اردو ادب میں ایک قلیل التعداد صنف ادب ہے۔یہ کہانی، مکالمہ اور منظر نگاری کا مخلوط فن ہے۔اور تاثر کے لحاظ سے شعر اور افسانے جیسی روانی اور تاثیر اس میں نہیں ہوتی۔اس لئے شعر اور افسانے کے مقابلے میں بہت کم ادیبوں کی توجہ ڈرامہ نگاری کی طرف ہوتی ہے۔ گویا اس میں محنت زیادہ اور حاصل کم ہوتا ہے۔ڈرامہ میں محاکات اور منظر نگاری کے ساتھ ساتھ مکالمات کا فطری پن بے ساختگی اور مطابق حال ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جس میں ذرا سی کمی اور لغزش بھی ڈرامہ کو ناکام بنا دیتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" عالم بالا کے سائے میں "علی احمد باکثیر الیمنی کی عربی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم پروفیسر قلب بشیر خاور بٹ صاحب  نے کیا ہے۔اس کتاب میں مصنف نے سات ڈرامے جمع کئے ہیں، جن میں قیدی، زاد راہ، مالی، باز گشت، مہمان، روشنی کے رشتے اور امام ابن تیمیہ شامل ہیں۔ یہ ڈرامے محض افسانے نہیں ہیں بلکہ تاریخ اسلام کے وہ سچے قصے ہیں جو اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں۔گویا یہ سب ڈرامے مقصدیت اور تاریخی حقائق سے لبریز ہیں۔(راسخ)

pages-from-arab-o-hind-key-taalluqaat
سید سلیمان ندوی

بعثتِ نبوی ﷺ سے بھی پہلے ہندوستان کے مختلف قبائل کے لوگوں کا وجود بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ میں ملتا ہے۔ چناں چہ ۱۰ ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں“ (تاریخ طبری ۳/۱۵۶، بحوالہ برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش از محمد اسحق بھٹی) مزید اسحق بھٹی اپنی مذکورہ کتاب میں فرماتے ہیں: ”کتب تاریخ و جغرافیہ سے واضح ہوتا ہے کہ جاٹ برصغیر سے ایران گئے اور وہاں کے مختلف بلاد و قصبات میں آ باد ہوئے اور پھر ایران سے عرب پہنچے اور عرب کے کئی علاقوں میں سکونت اختیار کرلی“نیز تاریخ میں ان قبائل کا۔ بزمانہٴ خلافت شیخین (حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما) حضرت ابوموسیٰ اشعری﷜ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ قبائل عرب کے ساتھ گھل مل گئے ان قبائل میں سے بعضوں کے بہت سے رشتہ دار تھانہ، بھڑوچ اور اس نواح کے مختلف مقامات میں (جوبحرہند کے ساحل پر تھے) آباد تھے۔بالآخر عرب و ہند کے درمیان شدہ شدہ مراسم بڑھتے گئے یہاں تک کہ برصغیر (متحدہ ہند) اور عرب کا باہم شادی و بیاہ کا سلسلہ بھی چل پڑا، اس ہم آہنگی کی سب سے اہم کڑی عرب و ہند کے تجارتی تعلقات تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عرب وہند کے تعلقات‘‘ علامہ سید سلیمان ندوی﷫ 1929ء میں ہندوستانی اکیڈمی الہ آباد میں دئیے گئے خطبات کا مجموعہ ہے جوکہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں تعلقات کا آغاز اور عرب سیاح۔ باب د وم میں تجارتی تعلقات۔ باب سوم میں علمی تعلقات، باب چہارم میں مذہبی تعلقات۔ باب پنجم میں ہندوستان مسلمانوں کی فتوحات سے پہلے کا تذکرہ کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-ulmae-karam-aur-unki-zimadariyan-copy
نجم الحسن تھانوی

امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء نے انجام دیا ہے او رہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے علماء پیدافرمائے ہیں جنہوں نے امت کو خطرات سےنکالا ہے اوراس کی ڈوپتی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی کوشش کی ہے ، اسلامی تاریخ ایسے افراد سے روشن ہے جنہوں نے حالات کو سمجھا اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے لیے اور ان کو صحیح رخ پر لانے کے لیے انہوں نے ہر طرح کی قربانیاں دی جو اسلامی تاریخ کا سنہرا باب ہے ۔اسلامی معاشرہ میں علمائے کرام کاکرداربڑی اہمیت رکھتا ہے ۔افراد کودینی تعلیم مہیا کرنا معاشرہ کواسلامی خطوط پر قائم رکھنا ،اجتماعی اقدار واخلاق کی تشکیل کے عمل میں حصہ لینا ، معاشرتی برائیوں کےخلاف جہاد ، معاشرہ کےباثر افراد کااحتساب اور محاسبہ ۔ یہ علماء کرام کی وہ ذمہ داریاں ہیں جو اگر صحیح صحیح طریقہ سےاداہوتی رہیں توبلا شبہ نتیجہ خیز بھی ہوتی ہیں اور معاشرہ بھی اسلامی اساس پر قائم رہتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’علمائے کرام اوران کی ذمہ داریاں ‘‘ مولانانجم الحسن تھانوی نے نے دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کےزیراہتمام کروائے جانےتربیتی کورس کے شرکاء کےلیےتحریرکیا ہے ۔جس کامقصد علماء کرام کو تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کےاصول کےتحت ان کی ذمہ درایوں کو یاد دلانا ہے اوران مسائل ومشکلات کی نشاندہی کرنا ہے جو دعوت وتبلیغ کے راستہ میں درپیش ہیں ۔(م۔ا)

title-pages-zuban-ki-halaktain-copy
سعید بن علی بن وہف القحطانی

زبان اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ یہ وہ عضو ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے احساسات وجذبات کی ترجمانی کرتا ہے انسان اسی کی وجہ سے باعزت مانا جاتاہے اور اسی کی وجہ سے ذلت ورسوائی کا مستحق بھی ہوتا ہے۔ اس نعمت کی اہمیت کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس کے منہ میں زبان ہے لیکن وہ اپنامافی ضمیر ادا نہیں کرسکتاہے۔اللہ کا فرمان ہے : أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ(سورۃالبلد) ’’ کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنایا۔‘‘سب سے زیادہ غلطیاں انسان زبان سے ہی کرتا ہے۔لہٰذا عقلمند لوگ اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ زبان کو غلط اور بری باتوں سے بچا کر اچھے طریقے سے استعمال کرنا زبان کی حفاظت کہلاتا ہے۔ ہمارے دین اسلام میں زبان کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ زبان کی ہلاکتیں ‘‘ شیخ سعید بن علی قحطانی کی عربی کتاب آفات اللسان فی ضوء الکتاب والسنۃ کا ترجمہ ہے ترجمہ کی سعادت ابو عثمان خبیب احمد سلیم نے حاصل کی ہے ۔ یہ کتاب آفات زبان کے موضوع پر کلام لٰہی اور فرمانِ نبوی اوراقوال سلف صالحین کا شاندار مجموعہ ہے۔انہوں نے اس کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں زبان کی خرابیوں اور تباہ کاریوں کےسلسلے میں تمام تعلیمات کوایک خوبصورت لڑی میں پرو کر اس موضوع کا حق ادا کردیا ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کے مصنف ،ناشر،مترجم کو جزائے خیر سے نوازے او ر ہرقاری کےلیے اس کا نفع عام کردے۔اس کے مندرجات پرہم سب کوعمل کرنےکی توفیق عطاء فرمائے (آمین)(م۔ا)

pages-from-islam-aur-arbi-tamaddan
شاہ معین الدین احمد ندوی

اسلامی تہذیب وتمدن اور ثفاقت ومدنیت کے خاص اصول واحکام اور مبادی واقدار ہیں۔ جودوسروں سے ممتاز ومنفرد ہیں۔ اس کی مدنیت کے جو ظواہر اور ٹھوس معاملات امور وجود میں آئے وہ ان ہی بنیادی اقدار واصول کے عطاکردہ ہیں۔ اور وہ بھی دوسری تہذیبوں ،تمدن اور ثقافتوں کے ظواہر سے جداگانہ اور ممتاز ہیں ۔اسلامی تہذیب وتمدن بالخصوص نبوی عہد کے تمدن کےدو اہم پہلو ہیں۔ ایک آفاقی وعالمی پہلو ہے اوردوسرا مقامی اور علاقائی پہلوہے۔ عہد نبوی کا تمدن اپنی بنیاد ونہاد میں عربی اسلامی تمدن ہے۔ جس میں عربی مقامی روایات بھی موجود ہیں۔ ان خالص مقامی روایات وظواہر میں سے بھی بعض میں اسلامی آفاقیت موجود ہے اور وہ تمام اقدار واصول کی طرح تمام مسلمانوں اور مسلم علاقوں کےلیے لازمی اگر نہیں بنتی تو پسندیدہ ومسنون ضرور قرار پاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور عربی تمدن‘‘ شام کی مشہور فاضل شخصیت محمد کرد علی کی عربی کتاب ’’ الاسلام والحضارۃ العربیۃ‘‘ کا اردوترجمہ ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں مذہب اسلام اور اسلامی تہذیب وتمدن پر علمائے مغرب کے اہم اعتراضات کا جواب دیا ہے اور یورپ پر اسلام اور مسلمانوں کےاخلاقی، علمی اور تمدنی احسانات او راس کے اثرات ونتائج کی تفصیل بیان کی ہے۔ نیز مسلمانوں کی علمی وتمدنی تاریخ پر اجمالی تبصرہ بھی کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-tarbiyat-e-ulaad-ka-nabwi-andaz-aur-uske-zarien-usool-copy
محمد نور بن عبد الحفیظ سوید

اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تربیت اولاد کا نبوی انداز اور اس کے زرّیں اصول ‘‘ محترم محمد نور بن عبد الحفیظ سوید کی اولاد کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ایک جامع عربی کتاب ’’ منهج التربية النبوية للطفل ‘‘ کا سلیس اور بامحاورہ اردو ترجمہ ہے ۔ فاضل مصنف نے بیسیوں کتب سے استفادہ کرکے اس کتاب کو اس خوبصورت انداز سے مرتب کیا ہے کہ ہرشخص آسانی سے ساتھ کتاب سے مستفید ہو سکتا ہے ۔موصوف نے اولاد کی تربیت کےتمام مراحل کو ترتیب وار بیان کیا ہے اور بچوں کی فکری ،نفسیاتی ، عباداتی ، معاشرتی ، اخلاقی ، جنسی ،علمی اور دیگر بہت سے پہلوؤں کے متعلق نبوی طرزِ تربیت اور اسلاف امت کے انداز کے مطابق وافر مواد جمع کردیا ہے کہ اولاد کی تربیت کے سلسلہ کوئی پہلو اور گوشہ نہیں چھوڑا۔ نیز اولاد کی اصلاح وتربیت سے پہلے والدین اور تربیت کرنے والے حضرات کے متعلق چند اہم ہدایات ذکر کی ہیں تاکہ انہیں بھی معلوم ہوکہ خود انہیں کن صفات سے آراستہ ہونا چاہیے ۔یہ کتاب بچوں کی اصلاح وتربیت کےحوالے سے ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے ۔(م۔ا)

title-pages-ulad-ko-bigerne-se-kaise-bachain-copy
تفضیل احمد ضیغم ایم اے

دینِ اسلام میں بچوں کی تربیت پر بڑا زوردیا گیا ہے چنانچہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سےپہلے بچوں کی صحیح تربیت اور نشوونما کےلیے اپنے اخلاق وعادات کو درست کر کےا ن کےلیے ایک نمونہ بنیں، پھر اس کے بعد ان کےعقائد وافکار اورنظریات کوسنوارنے کےلیے بھر پور محنت کریں اور ان کی اخلاقی اور معاشرتی حالت سدھارنےکے لیے ان کے قول وکردار پر بھر پورنظر رکھیں تاکہ وہ معاشرے کےباصلاحیت اور صالح فرد بن سکیں۔کیونکہ اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’اولاد کوبگڑنے سے کیسے بچائیں ‘‘ محترم جناب تفضیل احمد ضیغم کی کاوش ہے یہ مختصر کتاب نو ابواب پر مشتمل ہے ۔فاضل مصنف نے اس کی تیاری میں خالص شرعی نصوص کو سامنے رکھا ہے اور بقدر ضرورت تربیت اولاد میں جابجا سابقہ علماء کےپُرحکمت اقوال بھی نقل کیے ہیں۔اس مختصر کتاب سے استفادہ کر کے قارئین اپنی اولاد کی اچھی تربیت کر کے انہیں اسلامی معاشرہ کا بہترین فرد بنا سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس عوام ا لناس کےلیے نفع بخش بنائے ۔(آمین)(م۔ا)

pages-from-hikmat-e-quran
حمید الدین فراہی

علامہ حمید الدین الفراہی برصغیر پاک و ہند کے ممتاز قرآنی مفسر اور دین اسلام کی تعبیر جدید کے بانی تصور کئے جاتے ہیں۔ مولانا فراہی بھارت کے صوبہ یوپی (موجودہ اترپردیش) ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں پھریہا میں 18 نومبر 1863ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مولانا شبلی نعمانی کی شاگردی اختیار کی۔ مولانا فراہی کی تعلیم کے دو دور ہیں اور ان میں ہر دور اپنی جگہ نمایاں اور مکمل ہے تعلیم کے پہلے دور میں انہوں نے دینی تعلیم کے علاوہ عربی اور مشرقی علوم سیکھے جس کی تکمیل نجی تعلیمی درسگاہوں میں ہوئی دوسرے دور میں انہوں نے انگریزی اور مغربی علوم کی تحصیل کی جس کے لیے انہوں نے سرکاری تعلیم گاہوں میں داخلہ لیا۔ امام حمید الدین فراہی ایک متبحر عالم اور مجتہد فی المذہب تھے آپ گہری علمیت اور بے مثال وسعت نظری کا عجیب وغریب مرقع تھے، زعمائے ملت کی نظر میں مولانا ایک بلند مقام ومرتبہ رکھتے تھے زمانہ طالب علمی ہی میں مولانا کا علمی پایہ مسلم تھا، عربی وفارسی ہی میں وقت کے بڑے بڑے اساتذہ اور ادیب جن سے انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ فراہی صاحب اپنے دور کے نامور مصنف بھی تھے۔ اردو، عربی وفارسی میں دودرجن سے زیادہ مختلف موضوعات پر علمی کتب تصنیف کیں۔ جن میں سے نظام القرآن اور اقسام القرآن بڑی اہم ہیں۔ موصوف 11 نومبر 1930ء کو اپنے خالق حقیقی سےجاملے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حکمت قرآن‘‘ علامہ حمید الدین فراہی کی دو غیر مطبوعہ عربی کتابوں (حکمۃ القرآن اور النظام فی الدیانۃ الاسلامیۃ) کا اردو ترجمہ ہے۔ حکمۃ القرآن میں انہوں نے بتایا ہے کہ تعلیم حکمت رسول اللہﷺ کے فرائض کا ایک حصہ ہے۔ حکمت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور اس کی رحمت کی تکمیل ہے جو شکر کے نتیجہ کے طور پر بندہ کو حاصل ہوتی ہے۔ نیز علامہ فراہی نے اس کتاب میں ان شرائط کی نشاندہی کی ہے جن کے پورا ہونے سے حکمت نشو و نما پاتی ہے اور حکمت کا اصل خزانہ قرآن مجید ہے۔ کتاب النظام فی الدیانۃ الاسلامیہ میں دین اسلام کے بعض اصولی نظریات کی وضاحت کی ہے۔ (م۔ا)

title-pages-sarmaya-darana-nizam-aik-taruf-copy
ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہرشخص فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "سرمایہ دارانہ نظام، ایک تعارف"محترم ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کا تعارف کروایا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

title-pages-taqwa-ahmiyat-fazilat-aur-fawaid-w-samrat-copy
عمر سلیمان الاشقر

تقویٰ انسانی زندگی کاشرف ہےاور تقویٰ انسانی زندگی وہ صفت ہے جو تمام انبیاء کی تعلیم کا نچوڑ ہے۔اور یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور قرب آسان ہوجاتاہے ۔قرآن میں سیکڑوں آیات تقویٰ کی اہمیت وفادیت پر وارد ہوئی ہیں ۔تمام عبادات کا بنیادی مقصد بھی انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرنا ہےتقویٰ کا مطلب ہے پیرہیز گاری ، نیکی اور ہدایت کی راہ۔ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف اس کو بے تاہانہ تڑپ ہوتی ہے۔ ۔ اللہ تعالیٰ کو تقویٰ پسند ہے۔ ذات پات یا قومیت وغیرہ کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے قابل عزت و احترام وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ ۔ تقویٰ دینداری اور راہ ہدایت پر چلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ بزرگانِ دین کا اولین وصف تقویٰ رہا ہے۔ قرآن پاک متقی لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے۔افعال و اقوال کے عواقب پر غوروخوض کرنا تقویٰ کو فروغ دیتا ہے۔اور روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ روزے، خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر محکم کر دیتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی عزت اور عظمت اس کے دل میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر غالب نہیں آتا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے حکم کی وجہ سے حرام ناجائزاور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کے ارتکاب کی کبھی جرات نہ کرے گا۔ تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ کے مرہون ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت انسان کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔اور اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’تقویٰ اہمیت، فضلیت اور فوائد وثمرات ‘‘عمر سلیمان الاشقر کی تقوی کے موضوع پر عربی زبان میں تحریر شدہ انتہائی جامع کتاب کا اردو ترجمہ اوختصار ہے ۔ترجمہ واختصار کی سعادت حافظ سعید الرحمٰن صاحب نے حاصل کی ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں تقویٰ کی اہمیت وفضلیت اور فوائد وثمرات اور تقویٰ کودلوں میں گھرکرنے کےلیے اسلاف کے واقعات بھی ذکرکیے ہیں ۔ ا اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے اور ہمیں تقوی ٰ اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق دے (آمین) (م۔ ا)

pages-from-islam-mein-mazhabi-rawadaari
سید سباح الدین عبد الرحمان

اسلام کے بڑے بڑے محاسن اور خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ دین، رواداری، عفوودرگذر، رحمت، آسانی اور انسانیت کا دین ہے۔ تمام بنی نوع انسان کے لیے یہ دین خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہے۔ اسلام کی خوبصورتی حسن اور تاثیر کی بنیاد عفو و درگذر، رحمت وعدل اور بلند ترین اخلاق پر قائم ہے۔ انہی اخلاقِ عالیہ ہی کی بدولت لوگ دینِ اسلام میں جوق در جوق داخل ہوئے۔ دین اسلام کی بلند ترین بے مثال اخلاقی، عقدی اور ایمانی اقدار کی بناء پر یہ لوگوں میں مقبول ہوا۔ اسلام کی بلند ترین اور لوگوں کے دلوں پر اثر انداز ہونے کے لحاظ سے گہری ترین قدروں میں سے یہ بھی ہے کہ عفو و در گذر اور رواداری کو اپنایا جائے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں بے شمار اور مسلسل نصوص شرعیہ بیان ہوئی ہیں جو انسان کو اس عظیم اسلامی خوبی سے متصف ہونے پر ابھارتی ہیں۔ نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ میں اس کی عملی مثالیں ملتی ہیں تاکہ دین الٰہی کا روشن چہرہ لوگوں کے سامنے واضح ہو جائے۔ صحابہ کرام، تابعین عظام آج تک اور قیامت تک آنے والے لوگوں نے یہ خوبی آپﷺ کی حیات طیبہ سے ہی سیکھی ہے۔ اسلام نے دوسرے مذھب کے پیرؤوں کے ساتھ رواداری کی بڑی فراخ دلی کے ساتھ تعلیم دی ہے۔ خاص طورپر جو غیر مسلم کسی مسلمان ریاست کے باشندے ہوں، ان کے جان ومال، عزت وآبرو اور حقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قراردیا ہے۔ اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذھب پر عمل کرنے کی آزادی ہو ، بلکہ انہیں روزگار، تعلیم اور حصولِ انصاف میں برابر کے مواقع حاصل ہوں، اُن کے ساتھ حسن ِ سلوک کا معاملہ رکھا جائے اور ان کی دلآزاری سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام میں مذہبی رواداری" انڈیا کے معروف عالم دین سید صباح الدین عبد الرحمن صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلام کی مذہب رواداری پر گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین) (راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2017 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں