title-page-mughalon-k-zawal-se-qayam-e-pakistan-tak-copy
سید ہاشمی فرید آبادی

مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔ سلطنتِ مغلیہ کا بانی ظہیر الدین بابر تھا، جو تیمور خاندان کا ایک سردار تھا۔ ہندوستان سے پہلے وہ کابل کا حاکم تھا۔ 1526ء کو سلطنتِ دہلی کے حاکم ابراہیم لودھی کے خلاف مشہورِ زمانہ پانی پت جنگ میں بابر نے اپنی فوج سے دس گُنا طاقتور افواج سے جنگ لڑی اور انہیں مغلوب کر دیا کیونکہ بابر کے پاس بارود اور توپیں تھیں جبکہ ابراہیم لودھی کے پاس ہاتھی تھے جو توپ کی آواز سے بدک کر اپنی ہی فوجوں کو روند گئے۔ یوں ایک نئی سلطنت کا آغاز ہوا۔ اس وقت شمالی ہند میں مختلف آزاد حکومتیں رائج تھیں۔ علاوہ ازیں وہ آپس میں معرکہ آرا تھے۔ 1526ء میں دہلی اور آگرہ کی فتح کے بعد صرف چند ماہ میں بابر کے سب سے بڑے بیٹے ہمایوں نے ابراہیم لودھی کی تمام سلطنت کو زیر کر لیا۔ 1527ء میں میواڑ کے حاکم سنگرام نے اجمیر اور مالوہ کو اپنی عملداری میں لے رکھا تھا۔ یہ بات واضح ہے کہ مغل سلطنت کا سرکاری مذہب اسلام تھا تاہم اکبراعظم کے دور میں کچھ عرصے تک اکبر کا ایجاد کردہ مذہب (دین الٰہی ) رائج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس کا عوام پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ بہت جلد ہی ختم ہوگیا۔ باقی تمام شہنشاہوں کے دور میں اسلام ہی سرکاری مذہب تھا اور مغل شہنشاہان اسلام کے بہت پابند ہوا کرتے تھے۔ان میں اورنگزیب عالمگیر زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ باقی شہنشاہ بھی اسلام کی پیروی کے لحاظ سے جانے جاتے ہے۔انہوں نے نہ صرف اسلامی قوانین رائج کیے اور اسلامی حکومت کو برصغیر کے کونے کونے میں پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔مغل ثقافت بھی عمومًا اسلام پر مشتمل تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مغلوں کے زوال سے قیام پاکستان تک‘‘ سید ھاشمی فرید آبادی صاحی کی عمدہ کاوش ہے۔ جس میں مغلی حکومت کے زوال کے اسباب و آثار کو بیان کرتے ہوئے قیام پاکستان تک کے تمام حالات وواقعات کو قلمبند کیا گیا ہے۔ (رفیق الرحمن)

title-page-alal-asnad-w-matoon-k-ikhtlaf-fiqah-pr-asrat-copy
یاسر فاروق

سنت سے استدلال واستنباط میں کئی عوارض اور عوامل ایسے پیش آئے جن سے مختلف مذاہبِ فقہیہ کو وجود ملا۔مثال کے طور پر ایک امام یا فقیہ کے ہاں دورانِ استدلال سامنے آنے والی حدیث میں کوئی مخفی سبب ہوتا ہےجو کسی دوسرے کے سامنے نہیں ہوتا۔لہٰذااستدلال میں اختلاف آجاتا ہے۔اسی طرح بسااوقات کسی فقیہ کے سامنے کسی خاص مسئلہ میں حدیث صحیح ہوتی ہے جبکہ اس کے بالمقابل دوسرے کے پاس ضعیف،جس سےاستدلال میں تنوّع آجاتا ہے۔یہ سب مصنوعی عوامل و اسباب ہیں جن پر فقہی مذاہب کی بنیاد پڑی۔ان کا تذکرہ اور ان جیسے دیگر عوامل کا استقصاء کرتے ہوئے علماء نے مستقل تصانیف لکھیں۔اسی طرح کے اسباب جن کی بنا پر فقہاء کے مذاہب مختلف ہوئے ہیں اور ان کے اسالیبِ اجتہاد میں تنوّع پیدا ہوا ہے وہ احادیث میں موجود ’علل‘ہیں اور یہ جن احادیث میں پائی جاتی ہیں ان کو ’معلّل‘کہا جاتا ہے۔لغوی اعتبار سے ’معلّل‘، أعلّ کا اسم مفعول ہے۔ حدیث کے ماہرین کی نزدیک لفظ معلل کا استعمال غیر مشہور معنی میں ہے اور وہ ہے کمزور اور مسترد کیا ہوا۔ اصطلاحی مفہوم میں یہ اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں کسی پوشیدہ خامی کی وجہ سے اس کا صحیح ہونا مشکوک ہو گیا ہو اگرچہ بظاہر وہ حدیث صحیح لگ رہی ہو۔ اگر کسی حدیث کے راوی پر ‘وہمی‘ ہونے کا الزام ہو تو اس کی حدیث معلل ہو جاتی ہے۔جبکہ ’’علل‘ ‘ جس کی مفرد علت ہے، ایسی پوشیدہ خامی کو کہتے ہیں جس کے نتیجے میں حدیث کے صحیح ہونے پر اعتراض کیا جا سکے۔ حدیث کے ماہرین کے نزدیک ‘علت‘ کی دو لازمی خصوصیات ہیں: ایک تو اس کا پوشیدہ ہونا اور دوسرے اس کے نتیجے میں حدیث کی صحت کا مشکوک ہو جانا۔اگر ان دونوں میں سے ایک بھی شرط نہ پائی جائے تو حدیث کے ماہرین کی اصطلاح میں اسے علت نہ کہا جائے گا۔ مثلاً اگر حدیث میں کوئی خامی ہے لیکن وہ ظاہر ہے، پوشیدہ نہیں ہے یا خامی تو پوشیدہ ہے لیکن اس سے حدیث کی صحت مشکوک نہیں ہوتی تو اس صورت میں اس خامی کو علت نہیں کہا جائے گا۔ علل حدیث کو جاننے کا علم، علوم حدیث میں مشکل ترین ہے اور اس کا درجہ دیگر علوم سے بلند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علم کے ذریعے احادیث میں پوشیدہ خامیوں کو تلاش کیا جاتا ہے جو کہ سوائے علوم حدیث کے ماہرین کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اس علم کے ماہرین کے لئے اعلی درجے کا حافظہ، معلومات اور دقت نظر درکار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس میدان میں سوائے چند قلیل ماہرین جیسے ابن مدینی، احمد، بخاری،ابن ابی حاتم اور دارقطنی رحمھم اللہ کے علاوہ کسی نے قدم نہیں رکھا۔ ’’علل‘‘کی پہچان ایک بہت ہی دقیق اور خالص علمی وتحقیقی نوعیت کا کام ہے۔جس کی معرفت نہایت راسخ العلم اور اسماءرجال سے گہری واقفیت کے حامل علماء ومحدثین ہی رکھتے ہیں۔اس لیےکہ روایات میں موجود مخفی اسباب کا علم اس وقت تک نہیں ہوسکتاجب تک کہ حدیث کے متون اور اسناد نیز روات کے احوال وآثار پر کامل دسترس اور عبور نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس علم میں کبار اورمشاہیر کے علاوہ کسی نے قلم نہیں اٹھایا۔ان کی کتب اس علم میں انتہائی جامعیت اور معنویت ومانعیت کی حامل ہیں۔تاہم ان سے استفادہ ہرکس وناکس کے بس میں نہیں۔لہٰذا ان سے استفادہ کی غرض جو کہ بعد ازاں عوامّ کے لیے بھی مفید ہو اس موضوع کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کردینے والاامر ہے۔زیرِ نظر مقالہ ایم فل علومِ اسلامیہ کی سند کے حصول کے لیے پیش کیا گیا ہے ،جس میں محقق نے نہایت ہی جانفشانی اور عرق ریزی سے علم عللِ احادیث کو موضوع بناکرفقہ اسلامی پر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا ہے۔اس مقالے کا عنوان ’’عللِ اسنادومتون کے اختلافِ فقہاء پر اثرات‘‘ہے،جودرج ذیل اعتبارات سے اہمیت کاحامل ہے: موضوع ھٰذا فقہ ِاسلامی میں فقہاء کے اسالیبِ اجتہادکی ’’علم علل الحدیث‘‘کی روشنی میں تفہیم کا ذریعہ ہے،’’علم علل الحدیث‘‘کااختصاصی مطالعہ اس تحقیق میں حاصل ہوتا ہے،حدیث وفقہ میں فقہاء ومحدثین کےاجتہادی ومستنبط احکامات ومسائل کی بنیادیں واضح ہوتی ہیں،ان اصول وقوانین کا ادراک ہوتا ہے جن پر چلتے ہوئے محدثین نے عللِ احادیث پر اطلاع پائی اور فقہاء نے ان کی رعایت رکھتے ہوئے اپنے اپنے استدلالات پیش کیے۔اورسب سے اہم بات یہ ہے کہ امت کے لیے فقہاء کے ان علل کی بنیاد پراختلافات جو کہ اجتہادی ہیں،ان میں وسعت کا پہلو سامنے آتا ہے۔مسائل واحکام کے استنباط میں فقہاء نے جب اختلاف کیا تو درحقیقت یہ ترجیح وعدمِ ترجیح کی صورتیں ہیں،جن میں بہرحال گنجائش موجود ہے کہ دلائل کی بنیاد پر کوئی بھی موقف راجح قرار دیا جاسکتا ہے۔ حافظ محمد اکرام

title-page-iqbal-ki-ibtdai-zindagi-copy
ڈاکٹر سید سلطان محمود حسین

علامہ محمد اقبالؒ ہماری قوم کے رہبر و رہنما تھے،آپ کو شاعر مشرق کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل مشرق کے جذبات و احساسات کی جس طرح ترجمانی کا حق اقبال مرحوم نے ادا کیا ہے اس طرح کسی دوسرے نے نہیں کیا ہے ۔شاعری کسی فکرونظریہ کودوسروں تک پہنچانے کاموثرترین طریقہ ہے ۔شعرونظم سے عموماً عقل کی نسبت جذبات زیادہ متاثرہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ وحی الہیٰ کے لیے شعرکواختیارنہیں کیاگیا۔تاہم اگرجذبات کی پرواز درست سمت میں ہوتوانہیں ابھارنا بجائے خودمقصودہے ۔۔ ان کی شاعری عروج رفتہ کی صدا ہے ۔ ان کے افکار و نظریات عظمت مسلم کے لئے ایک بہترین توجیہ اور جواز فراہم کرتے ہیں،اوراسلام کی انقلابی ،روحانی اوراخلاقی قدروں کاپراثرپیغام ہے ۔ان کی شاعری میں نری جذباتیت نہیں بلکہ وہ حرکت وعمل کاایک مثبت درس ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اقبال کی ابتدائی زندگی‘‘ ڈاکٹر سید سلطان محمود حسین کی تصنیف ہے۔ جس میں ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کے خاندان کا تعارف اور ان کی ساری زندگی کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مصنف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

title-page-iqbal-sayyad-sulaiman-nadwi-ki-nazar-me-copy
اختر راہی

علامہ محمد اقبالؒ ہماری قوم کے رہبر و رہنما تھے،آپ کو شاعر مشرق کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل مشرق کے جذبات و احساسات کی جس طرح ترجمانی کا حق اقبال مرحوم نے ادا کیا ہے اس طرح کسی دوسرے نے نہیں کیا ہے ۔شاعری کسی فکرونظریہ کودوسروں تک پہنچانے کاموثرترین طریقہ ہے ۔شعرونظم سے عموماً عقل کی نسبت جذبات زیادہ متاثرہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ وحی الہیٰ کے لیے شعرکواختیارنہیں کیاگیا۔تاہم اگرجذبات کی پرواز درست سمت میں ہوتوانہیں ابھارنا بجائے خودمقصودہے ۔۔ ان کی شاعری عروج رفتہ کی صدا ہے ۔ ان کے افکار و نظریات عظمت مسلم کے لئے ایک بہترین توجیہ اور جواز فراہم کرتے ہیں،اوراسلام کی انقلابی ،روحانی اوراخلاقی قدروں کاپراثرپیغام ہے ۔ان کی شاعری میں نری جذباتیت نہیں بلکہ وہ حرکت وعمل کاایک مثبت درس ہے ۔اس سے انسان میں خودی کے جذبے پروان چڑھتے ہیں اورملت کاتصورنکھرتاہے ۔بنابریں یہ کہاجاسکتاہے کہ اقبال نے اسلامی تعلیمات کونظم میں بیان کیاہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اقبال سید سلیمان ندوی کی نظر میں‘‘ اختر راہی کی تصنیف ہے۔ جس میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی ’اسرار خودی‘، رموز بے خودی، خضرِ راہ، پیام مشرق، مثنوی مسافر، بال جبریل، ضرب کلیم اور دیگر اقبال سے متعلق افکار پر سید سلیمان ندوی کے نظریات کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مصنف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

محمد موسی بھٹو

آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں‘ یہ مغربی تہذیب کے غلبہ کا دور ہے۔یہ تہذیب اپنے طاقتور آلات کے ذریعہ ملکی سرحدوں کی حدود‘ درسگاہوں اور گھروں کی دیواروں کو عبور کر کے‘ افراد کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ  چکی ہے۔ عورت ومرد اس تہذیب کے مظاہر پر فریفتہ ہو رہے ہیں۔ اس تہذیب کی پیدا کردہ ایجادات نے اگرچہ انسان کو بہت ساری سہولتیں بھی پہنچائی ہیں‘ آمد ورفت اور رابطہ میں آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں‘ گرمی وسردی سے بچاؤ کےلیے انتظامات ہو گئے ہیں‘ خوبصورتی اور زیب وزینت کے نت نئے سامان ایجاد ہوئے ہیں‘ انسانی جسم کو لاحق بعض اہم بیماریوں کے علاج میں سہولتیں پیدا ہو گئی اور ظاہری روشنی اور چمک دمک میں اضافہ ہو ا ہے لیکن اس کے کئی ایک نقصانات بھی جیسا کہ رشتوں کی اہمیت گنوا دی گئی ہے لوگ ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور مالداروں کو احساس برتری اور غریبوں کو احساس کمتری کے امراض میں مبتلا کر دیا گیا ہے غرض اس مادی تہذیب نے رونق اور زیب وزینت کے نت نئے سامان کی قیمت پر انسان کے دل اور روح کو آخری حد تک بے چین کر دیا ہے۔ دل روح کی بڑھتی ہوئی اس بے چینی نے ہی انسان سے انسانیت اور محبت ورواداری‘ ہمدردی اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آنے کی حسوں کو مسدود کر دیا ہے۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں حقیقی بندہ مومن کے حالات‘ احساسات اور تفکرات کے حوالے سے انہی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور معاشرہ کی مختلف طبقات کی کمزوریوں کی بڑی دردمندی وفکر مندی اور تفصیل سے نشاندہی کر کے‘ اصلاح کا لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مادیت کی دلدل اور بچاؤکی تدابیر ‘‘محمد موسیٰ بھٹو کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-page-america-muslim-dunya-ki-be-itmanani-copy
پروفیسر خورشید احمد

مغربی دنیا اب تک مختلف ذرائع سے سیاسی، سماجی ، فوجی اور اقتصادی سطح پر مسلمانوں پر حاوی رہی ہے۔ لیکن ایک طرف مسلمانوں میں بیداری پیدا ہونے کے بعد انھیں یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اگر عالم اسلام کو کچھ لائق اور ژرف نگاہ قائد میسر آگئے اور انھوں نے اپنی بکھری قوتوں کا استعمال کر نا سیکھ لیا تو وہ دن دور نہیں جب کہ مغرب کی قیادت کا طلسم چکناچور ہوکر بکھر جائے گا اور عالم اسلام قیادت و جہاں بانی کی نئی بلندیاں طے کرتا ہوا نظر آئے گا۔دوسری طرف اہل مغرب کو خود اپنے ملکوں میں پیر تلے زمین کھسکتی نظر آرہی ہے، مسلمان پورے اسلامی تشخص اور تہذیبی شناخت کے ساتھ ہر میدان میں پورے یورپ و امریکہ میں اپنا وجود تسلیم کرا رہے ہیں۔ جب کہ اسلام نے انسانیت کو عزت دی، مقامِ ممتاز پر فائز کیا، علم، اخلاق، کردار، حیا، تہذیب، شرم و مروت اور امن و عافیت کے جوہر سے آشنا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ امریکہ مسلم دنیا کی بے اطمینانی 11 ستمبر سے پہلے اور بعد‘‘پروفیسر خورشید احمد کی تصنیف ہے۔ جس میں 11 ستمبر سے پہلے نیو ورلڈ آرڈر، دعوے اور چیلنج،چیلنج اور اسلام، پاکستان ، امریکہ تعلقات اور امریکہ کے عالمی کردار سے بے زاری کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور 11 ستمبر کے بعد نئی صلیبی جنگوں کا آغاز، افغانستان پر امریکی حملے، افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کا جائزہ، نیا استعمار اہداف وحکمت عملی اور جوابی لائحہ عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مصنف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

title-page-asas-e-islam-copy
غلام احمد حریری

دین دو باتوں ،فکر وکردار یا عقیدہ وعمل سے تعبیر ہے۔قرآن مجید کی اصطلاح میں ،ایسا عقیدہ جو عمل کی اساس بنے ،کردار وسیرت کی تشکیل کرے اور بجائے خود تخلیقی نوعیت کا حامل ہو ایمان کہلاتا ہے۔اور اگر اس سے زندگی ،عمل اور تخلیق وآفرینش کی نشاط کاریاں چھین لی جائیں تو پھر وہ عقیدہ ہو سکتا ہے ،یا اسلام کا ادنی درجہ بھی اسے کہہ سکتے ہیں،ایمان نہیں۔سمجھ لوکہ مشرق و مغرب یعنی کوئی بھی سمت مقصود نہیں، اصل مقصود تو رضائے ربّ محبوب ہے اور اُس کی بنیادیں یہ ہیں کہ دیکھو کون اللہ پر،یوم آخرت پر،فرشتوں پر،کتاب الہٰی پر اور اللہ کے نبیوں پر ایمان لایا ہے۔بس یہی نیکی ہے اور ایسا ہی نیک بخت، خوش بخت، نیک نصیب ہے۔ یہ تو ہوئے اَجزائے ایمان…ان پانچوں میں سے کسی ایک کا انکار بھی دائرہ اسلام و ایمان سے خارج کر دے گا۔اور کوئی کتنا ہی نیک عمل اور بھلے اَخلاق و کردار والا ہو،ان پانچ بنیادوں میں سے اگر کوئی ایک اس میں نہ ہوگی یعنی ان پانچوں کو اس نے اپنا ایمان و عقیدہ نہ بنایا ہو گا تو اس کے سارے اعمال اکارت جائیں گے…کسی چھوٹے سے مکان کی بنیادیں کچرے اور گھاس کے گٹھوں پر رکھ دی جائیں تو زلزلہ تو دور کی بات آندھی اور تیز ہوا اور معمولی بارش بھی اس مکان کو گرانے کے لئے کافی ہو گی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اساس اسلام‘‘ غلام احمد حریری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں اسلام کا معنیٰ ومفہوم ، امتیازی خصوصیات، اسلام کے بنیادی عقائد، اسلام کا تصور عبادت اور اسلامی عبادات، اسلامی نظام زندگی اور اسلام کے معاشی اصولوں کو مفصل بیان کیا ہے۔ جو کہ اسلامی معلومات کے حوالہ سے یہ کتاب انتہائی مفید ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مصنف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

مولانا محمد نعمان

فقہ اسلامی کا سب سے پہلا اور بنیادی ماخذ قرآن کریم ہے‘ قرآن کریم تشریع اسلامی کی بنیاد اور قانون اسلامی کا اصلِ اصلو ہے‘ قرآن بلا فرق وامتیاز تمام انسانوں کے لیے امام وپیشوا ہے‘ قرآن کریم کی حیثیت بنیادی دستور کی ہے‘ اس لیے اس میں اصول وکلیات کے بیان پر اکتفاء کیا گیا ہے اور معاملات کی تفصیلات اور مسائل کی فروع وجزئیات سے بحث نہیں کی گئی ہے اور اگر کہیں کی گئی ہے تو بہت کم‘ ایسا ہی ہونا بھی چاہیے تھا اگر قرآن مجید میں بالعموم مسائل ومعاملات پر تفصیلی بحثیں کی جاتیں تو پھر طوالت کے باعث اس کی دستوری شان باقی نہیں رہتی‘ اور اگر قیامت تک پیش آنے والے مسائل اس میں بیان کر دیئے جاتے تو قرآن ضخیم کتاب کی شکل میں ہوتا تو اس سے استفادہ دشوار ہو جانا تھا ۔فروعی مسائل کے حل کے لیے بہت سی کتب تصنیف کی گئی ہیں جن میں کتب فقہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی کتب فقہ میں سے ایک ہے جس میں  فقہ کی مآخذ کو بیان کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن‘سنت اور اجماع تین بڑے بنیادی مآخذ ہیں لیکن ان کے ذیل میں آنے والے موضوعات پر اردو میں قدرے تفصیل کام بہت کم ہے جیسا کہ قیاس‘ استحسان‘ استصحاب حال‘ مصالح مرسلہ‘ عرف وعادت‘ قولِ صحابی‘ سدِّ ذرائع اور شرائع من قبلنا۔اس کتاب میں ان تمام کو قدرے تفصیل اور آسان فہم میں عوام تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہر بات کو باحوالہ اور عربی عبارات نقل کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے تاکہ اہل علم حضرات اصل مرجع کا خود ہی مطالعہ کریں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ فقہ اسلامی کے ذیلی ماخذ ‘‘مولانا محمد نعمان صاحب کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-page-pakistan-muashra-aur-saqafat-copy
سٹینلی میرن

پاکستان کا معاشرہ اور ثقافت مغرب میں بلوچ اور پشتون اور قدیم درد قبائل جیسے پنجابیوں، کشمیریوں، مشرق میں سندھیوں، مہاجرین، جنوب میں مکرانی اور دیگر متعدد نسلی گروہوں پر مشتمل ہے جبکہ شمال میں واکھی، بلتی اور شینا اقلیتیں. اسی طرح پاکستانی ثقافت ترک عوام، فارس، عرب، اور دیگر جنوبی ایشیائی، وسطی ایشیاء اور مشرق وسطی کے عوام کے طور پر اس کے ہمسایہ ممالک، کے نسلی گروہوں نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے. کسی بھی معاشرے کے افراد کے طرزِ زندگی یا راہ عمل جس میں اقدار ، عقائد ، ر سم ورواج اور معمولات شامل ہیں ثقافت کہلاتے ہیں، ثقافت ایک مفہوم رکھنے والی صطلاح ہے اس میں وہ تمام خصوصیات ( اچھائیاں اور برائیاں ) شامل ہیں جو کہ کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہیں دنیا میں انسانی معاشرے کا وجود ٹھوس ثقافی بنیادوں پر قائم ہے انسان ثقافت و معاشرہ لازم و ملزوم ہیں ، ہم ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتے ، ثقافت کے اندر انسانی زندگی کی تمام سر گرمیاں خواہ وہ ذہنی ہوں یا مادی ہوں شامل ہیں سی سی کون کا کہنا ہے کہ ” انسان کے رہن سہن کا وہ مجموعہ جو سیکھنے کے عمل کے ذریعے نسل در سنل منتقل ہوتا رہا ہے‘‘ ثقافت کہلاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان معاشرہ اور ثقافت‘‘ مصنفین: جان ائیرڈ، جان جے، ہونگمن، ڈینس برناٹ، میری جین کینیڈی، لوسین برناٹ، جیمز ڈبلیو، سپین زکیہ ایگلر، ہربرٹ ایچ اور وریلنڈ کی تصنیف ہے۔ جس کا اردو ترجمہ غلام رسول مہر اور عبد المجید سالک نے کیا ہے۔جس میں پاکستان جغرافیہ، معاشرہ اور ثقافت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مترجمین کی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

title-page-payam-e-ajal-copy
ضیاء الحسن محمد سلفی

زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پیامِ اجل‘‘ ضیاء الحسن محمد سلفی (استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مئو ناتھ بھنجن، یو، پی) کی تصنیف ہے۔ جس میں موت کا مفہوم، قبر اور غذاب قبر کوبیان کیا ہے۔ ا س کتاب میں ان احوال کوذکر کرنے اور جمع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے آگاہی حاصل کر کے اپنی موت کے لمحات کوکامیاب وکامران بنائیں ۔کیونکہ یہ لمحات دوسری زندگی میں داخلہ کے لیے سنگ میل اور پہلی سیڑھی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس میں انہوں نے مرتے وقت شیطان کے حملے سےبچ کر ثابت قدم رہنے کے لیے قرآن وحدیث کی روشنی میں راہنمائی فراہم کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مومن نے موت کے وقت شیطان کے حملے سے اپنے آپ کوکیسے بچانا ہےاور تکلیف کے باوجود عقیدہ توحید اوردین اسلام پر ثابت قدم وکاربند کیسے رہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مسلمانوں کے لیے شیطان کے حملوں اور شرور سے بچنے کا باعث ورہنما بنائے۔ آمین (رفیق الرحمن)

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

افراد اور اقوام کی زندگی میں جو انقلابات اور تغیرات واقع ہوتے ہیں، ان سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنے مستقبل کی تعمیر وتشکیل اور اپنی قسمت کے بناؤ بگاڑ پر قادر نہیں ہے۔ہر فرد اور ہر قوم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت سے آگے کی جانب قدم نہ  بڑھا سکے تو کم از کم پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور نہ ہو۔اگر ترقی  اور اصلاح کی منازل طے نہ کر سکے تو اپنے آپ کو پستی اور ذلت سے محفوظ رکھے۔لیکن اس قسم کی کوششیں بارہا ناکام ہو جاتی ہیں۔افراد پر خوشحالی  اور آسودگی کے بعد اکثر اوقات تنگی اور افلاس کا دور آ جاتا ہے۔قومیں عروج وترقی کے بعد محکومی اور ذلت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔لیکن جب کسی گروہ یا خاندان پر خوشحالی اور قوت واقتدار کا ایک طویل دور گزر جاتا ہے تو اس کے افراد اس دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کی یہ صورت حال ہمیشہ باقی رہے گی اور ان کی حکومت کبھی ختم نہ ہوگی۔اور اگر کبھی شکست کا دور آ جائے تو اسے ایسے اسباب سے نتھی کر دیتے ہیں  جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص تاریخ کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے سب سے پہلے ایک ضخیم مقدمہ قائم کیا ہے‘ اس کے بعد غیر مسلم اور باطنی خود کش حملہ آوروں کی تاریخ بیان کی ہے‘ پھر تاریخ انسانی کا پہلا خود کش حملہ اور بائبل کا عنوان دیا ہے او ر اس کا خلاصہ ونتائج بیان کیے ہیں۔خود کشی کی ابتدائی صورتیں اور مختلف تاریخی واقعات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ غیرمسلم خود کش حملہ آور تا ریخ تجزیہ ‘‘ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-page-kainat-copy
کیرول اسٹوٹ

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ دینِ فطرت بھی ہے جو اُن تمام اَحوال و تغیرات پر نظر رکھتا ہے جن کا تعلق اِنسان اور کائنات کے باطنی اور خارجی وُجود کے ظہور سے ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اِسلام نے یونانی فلسفے کے گرداب میں بھٹکنے والی اِنسانیت کو نورِ علم سے منوّر کرتے ہوئے جدید سائنس کی بنیادیں فراہم کیں۔ قرآنِ مجید کا بنیادی موضوع ’’اِنسان‘‘ ہے، جسے سینکڑوں بار اِس اَمر کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش وُقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات اور حوادثِ عالم سے باخبر رہنے کے لئے غور و فکر اور تدبر و تفکر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ شعور اور قوتِ مُشاہدہ کو بروئے کار لائے تاکہ کائنات کے مخفی و سربستہ راز اُس پر آشکار ہوسکیں۔ سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کا نام روشن کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کائنات 1001 حقائق پر مبنی سائنسی معلومات‘‘ کیرول اسٹوٹ اور کِلنٹ ٹوِسٹ کی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ یاسر جواد نے کیا ہے۔ اس کتاب میں کائنات، کہکشائیں، ستارے، نظام شمسی اور سیارے کے معنی ومفہوم بیان کرتے ہوئے وضاحت کی گئی ہے۔ مزید خلائی تحقیق، اہم ماہرین فلکیات، دریافتوں اور کارناموں کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفین ومترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(رفیق الرحمن)

title-page-shaikh-ul-islam-moulana-hussain-ahmad-madni-aik-sayasi-mutalia-copy
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور برما وغیرہ پر مشتمل برصغیر کی علمی، دینی، سیاسی، تحریکی اور فکری جدوجہد کے دو عظیم نام ہیں۔ جن کے تذکرہ کے بغیر اس خطہ کے کسی ملی شعبہ کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی، اور خاص طور پر دینی و سیاسی تحریکات کا کوئی بھی راہ نما یا کارکن خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقہ سے ہو ان سے راہ نمائی لیے بغیر آزادی کی عظیم جدوجہد کے خد و خال سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا۔شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ دارالعلوم دیوبند کے اولین طالب علم تھے جو اپنی خداداد صلاحیتوں اور توفیق سے اسی مادر علمی کے سب سے بڑے علمی منصب صدر المدرسین تک پہنچے۔ وہ تعلیمی اور روحانی محاذوں کے سرخیل تھے لیکن ان کی نظر ہمیشہ قومی جدوجہد اور ملی اہداف و مقاصد پر رہی۔ حتیٰ کہ ان کا راتوں کا سوز و گداز اور مسند تدریس کی علمی و فنی موشگافیاں بھی ان کے لیے ہدف سے غافل کرنے کی بجائے اسی منزل کی جانب سفر میں مہمیز ثابت ہوئیں۔ اور بالآخر انہوں نے خود کو برطانوی استعمار کے تسلط سے ملک و قوم کی آزادی کی جدوجہد کے لیے وقف کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شیخ الاسلام مولاناحسین احمد مدنی﷫ ایک سیاسی مطالعہ‘‘ ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری کی تصنیف ہے۔ جس میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی صاحب کی شخصیت وسیرت، مشاہدات وتاثرات، سیاسی افکار وخدمات، خطوط، مکتوبات اور تاریخی وسیاسی بیان و تقریرات کو بھی مدون کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مصنف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

رؤف پاریکھ

لغت میں کسی زبان کے الفاظ کو کسی خاص ترتیب کے لحاظ سے املا، تلفظ، ماخذ اور مادہ بیان کرتے ہوئے حقیقی، مجازی، یا اصطلاحی معنوں کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق الفاظ کی شکلوں میں تبدیلی اور صحیح محل استعمال کی وضاحت کی جاتی ہے۔لغت نویسی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ دو مختلف زبانوں کے بولنے والے افراد، گروہ یا جماعتیں، جب ایک دوسرے سے زندگی کے مختلف شعبوں میں ربط پیدا کرتی اور اسے برقرار رکھتی ہیں تو انھیں ایک دوسرے کی زبان کے الفاظ سیکھنے پڑتے ہیں۔ تعلقات کے استحکام، وسعت اور ہمہ گیری سے ذخیرہ الفاظ میں اضافے ہوتے جاتے ہیں۔ قربت بڑھتی ہے تو ایک قوم کی زبان کے الفاظ دوسری قوم کی زبان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک قوم کا ادب جب ارتقائی دمارج طے کرتا ہے تو اس سفر میں الفاظ کی شکلیں بدلتی ہیں۔ معانی میں تبدیلی آتی ہے۔ ادب کے نقاد ان تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور استعمال کے مطابع الفاظ کو معنی دیے جاتے ہیں۔ ۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص  لغت نویسی پر ترتیب دی گئی ہے کیونکہ یہ ایسا موضوع ہے جو ایم اے اور ایم فل سطح پر مضمون کی طور پر بھی پڑھایا جاتا ہے لیکن اس پر اس کتاب سے پھلے کوئی ایسا مواد ترتیب نہیں دیا گیا۔  اس کتاب میں مصنف  نے مختلف اہل علم کے علمی مضامین کو جمع وترتیب دیا ہے اور کئی ایک اضافہ جات کیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ لغت نو یسی اور لغات روا یت اور تجزیہ ‘‘ رؤف پاریکھ  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-page-nisab-al-nahaw-copy
مجلس المدینہ العلمیہ

کسی بھی زبان کی تعلیم و تعلم کے لیے اس کے قواعد و ضوابط کا علم ہونا نہایت ضروری ہے۔ علم نحو تمام عربی علوم و معارف کے لئے ستون کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تمام عربی علوم اسی کی مدد سے چہرہ کشا ہوتے ہیں ۔ علوم نقلیہ کی جلالت و عظمت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار و رموز اور معانی و مفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ۔ حق یہ ہے کہ قرآن و سنت اور دیگر علوم سمجھنے کے لئے علم نحو کلیدی حیثیت رکھتا ہے ، علم نحو کی اس اہمیت کے پیش نظر عربی ، فارسی اور دیگر زبانوں میں اس فن کی مفصل و مطول ، متوسط اور مختصر ہر طرح کی کتابیں لکھی گئیں ۔ اردو زبان میں صرف و نحو کی کتابیں لکھنے کا مقصد لسانی اصول و قواعد کی تسہیل و تفہیم اور عربی زبان کی ترویج و اشاعت ہی تھا ۔ کیونکہ فن تعلیم کا اصول اور تجربہ یہ ہے کہ اگر ابتدائی طور پر کوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہو جائے تو پھر اسے کسی بھی اجنبی زبان میں تفصیل و اضافہ سمیت بخوبی پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے ۔  زیر تبصرہ کتاب ’’نصاب النحو‘‘ مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوت اسلامی) کی پیشکش ہے۔ جس میں علم النحو کے تمام قواعد کو انتہائی آسان انداز میں بیان کر دیئے گے ہیں۔قواعد کی تعریفیں بہت آسان انداز میں بیان کی ہیں، چند نئی اصطلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ اسباق کی ترتیب متداول عربی گرامر کی کتب کے مطابق ہے۔ یہ کتاب اساتذہ اور طلباء کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ (رفیق الرحمن)

title-page-toufan-hazrat-nooh-as-copy
محمد اسحاق دہلوی

ایک بہت بڑا سیلاب جو نوح علیہ السلام کے زمانے میں آیا جس میں نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار انسانوں اور جانوروں کے علاوہ سب ڈوب گئے۔ اس طوفان میں زمین مسلسل پانی اگلتی رہی اور آسمان مسلسل بارش برساتا رہا۔ روایات اور سائنسی شواہد کی رو سے یہ طوفان بنیادی طور پر عراق کے علاقے مابین النھرین (میسوپوٹیمیا) میں آیا تھا۔ اس کا ذکر تورات، انجیل اور قرآن تینوں میں آتا ہے۔گویا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ کہ اللہ تعالیٰ اس دنیامیں اپنی نافرمانی کرنےوالوں کو مختلف طریقوں میں عذاب میں مبتلاکرتاہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو عذاب سے دو چار ہونے پڑے گا۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی کثرت سے مثالیں موجود ہیں ۔ جیسے قرآن مجید میں سابقہ اقوام پراللہ کا عذاب نازل ہونے کےواقعات موجود ہیں اور اسی طرح کئی ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنےنافرمانوں کوفرداً فرداً بھی عذاب میں مبتلا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’طوفانِ حضرت نوح ‘‘ مولانا محمد اسحاق دہلوی کی تصنیف ہے۔ جس میں مشہور پیغمبرحضرت نوح اور ان کی قوم کے حالات ت اور قوم اور ان کے لڑکے پر اللہ تعالیٰ کا طوفانی عذاب وغیرہ کےواقعات کو قرآن مجید ، کتب حدیث ، سیرت وتاریخ سے اخذ کر کے مرتب کیا گیا ہے ۔(رفیق الرحمن) 

title-page-muqadima-e-bosnia-copy
محمد الیاس انصاری

بوسنیا و ہرزیگووینا (bosnia-herzegovina) یورپ کا ایک نیا ملک ہے جو پہلے یوگوسلاویہ میں شامل تھا۔ اس کے دو حصے ہیں ایک کو وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا کہتے ہیں اور دوسرے کا نام سرپسکا ہے۔ وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا اکثریت مسلمان ہے اور سرپسکا میں مسلمانوں کے علاوہ سرب، کروٹ اور دیگر اقوام بھی آباد ہیں۔ یہ علاقہ یورپ کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 51،129 مربع کلومیٹر ( 19،741 مربع میل) ہے۔ تین اطراف سے کرویئشا کے ساتھ سرحد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی یورپی اقوام نے اس علاقے کی آزادی کے وقت اس بات کو یقینی بنایا کہ اسے ساحلِ سمندر نہ مل سکے چنانچہ اس کے پاس صرف 26 کلومیٹر کی سمندری پٹی ہے اور کسی بھی جنگ کی صورت میں بوسنیا و ہرزیگووینا کو محصور کیا جا سکتا ہے۔ مشرق میں سربیا اور جنوب میں مونٹینیگرو کے ساتھ سرحد ملتی ہے۔ سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت سرائیوو ہے جہاں 1984 کی سرمائی اولمپک کھیلوں کا انعقاد ہوا تھا جب وہ یوگوسلاویہ میں شامل تھا۔ تاحال آخری بار ہونے والی 1991ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 44 لاکھ تھی جو ایک اندازا کے مطابق اب کم ہو کر 39 لاکھ ہو چکی ہے۔ کیونکہ 1990 کی دہائی کی جنگ میں لاکھوں لوگ قتل ہوئے جن کی اکثریت مسلمان بوسنیائی افراد کی تھی اور بے شمار لوگ دوسرے ممالک کو ہجرت کر گئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مقدمۂ بوسنیا‘‘ محمد الیاس انصاری کی تصنیف ہے۔ جس میں صلیبی جنگوں کے مناظر،مسلمانان بوسنیا کا الم اور ، بوسنیاکا زمانہ حال اور مستقبل کو مفصل بیان کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے اس موضوع پر ایک شاندار اور مفید کتاب ہے ،جس کا ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

title-page-tarikh-e-islam-k-masakh-karda-haqaiq-copy
حافظ سید محمد علی حسینی

اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔ تاہمصدر اسلام میں جب خلفائے راشدین تاریخ اسلام کے ابواب صفحہ ہستی پر منقوش کر رہے تھے تو عجمی دسیسہ کار تاریخ اسلام کے ان زریں اور تابناک ابواب کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ہمارا ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات تمام صنف اناث میں ہی نہیں بلکہ انبیائے کرام کے بعد تمام انسانوں سے شرف مجد میں بلند ترین مقامات پر فائز تھیں۔مگر عجمیت کے شاطر،عیار، اورخبیث افراد نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر بڑی چابکدستی سے اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور امہات المومنین پر طرح طرح کے بہتانات لگائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تاریخ اسلام کے مسخ کردہ حقائق‘‘حافظ سید محمد علی حسینی کی تصنیف ہے۔ جس میں تاریخ اسلام کے مسخ کردہ حقیقتوں کو واضح کیا ہے۔ مزید اس کتاب میں خاندان بنی عبد الشمس اور بنی ہاشم، خلافت اور خلافت راشدین کے متعلق تاریخ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(رفیق الرحمن)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2326 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :