title-pages-ghaltiyon-ki-islaah-ka-nabvi-tareeka
محمد بن صالح المنجد
اس کارگاہ حیات میں جب تک اصلاح احوال کا عمل جاری رہے معاشرے پر جمود طاری نہیں ہوتا۔ دنیا سے انبیاء کے رخصت ہو جانے کے بعد یہ فریضہ وارثین انبیاء علمائے کرام پر عائد ہوتا ہے۔ لوگوں کونصیحت کرتے ہوئے اگر حالات کے تقاضوں کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو وہ نصیحت کے بجائے فضیحت بن جاتی ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں اسی مضمون کو ملحوظ رکھتے ہوئے غلطیوں کی اصلاح کے لیے نبوی طریق کار پر بہت دلکش انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ شیخ صالح المنجد نے انتائی آسان فہم انداز میں یہ کوشش کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ جن افراد سے تھا اور جن حضرات کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی گزری ان کے مقام و مرتبہ کے فرق اور ذہن و فکر کے اختلافات کوسامنے رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غلطیوں کےبارے میں جومختلف انداز کا رویہ اختیارکیا ان اسالیب کو جمع کر دیا جائے۔ کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امر بالمعروف و نہی المنکر کے لیے نبوی طریقہ کار کو پیش نظر رکھنے کے فوائد کس قدر پُر اثر اور دیر پا ہیں۔ کتاب کواردو کے حسین قالب میں عطاء اللہ ساجد صاحب نے ڈھالا ہے۔
title-pages-ghubaar-e-khatir
ابو الکلام آزاد
مولانا ابو الکلام آزاد کا نام سنتے ہی ایک ایسی شخصیت کا تصور ابھرتا ہے جو تحریر و تقریر میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ لفظ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ’غبار خاطر‘ مولانا کی سب سے آخری کتاب ہے جو  ان کی زندگی میں شائع ہوئی۔ 1942 میں جب مولانا آزاد کو حراست میں لے کر مختلف مقامات پر نظر بند کر دیا گیا  تو تقریباً تین سال تک آپ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ اسی زمانے کا ثمرہ یہ کتاب آپ کے سامنے ہے۔ کہنے کو تو یہ کتاب خطوط کا مجموعہ ہے لیکن ان میں مکتوب کی صفت کم ہی پائی جاتی ہے۔ مولانا نے اپنے خیالات کو قرطاس کی زینت بنانے کے لیے عالم خیال میں مولانا حبیب الرحمن خان شروانی کو مخاطب تصور کر لیا ہے اور پھر جو کچھ بھی ان کے خیال میں آتا گیا اسے بے تکلف حوالہ قلم کرتے چلے گئے۔  کتاب میں عربی و فارسی کی مشکل ترکیبیں بہت کم استعمال کی گئی ہیں نثر ایسی شگفتہ اور دلنشیں ہے کہ تقریباً ہر کسی کے لیے قریب الفہم ہے۔

title-pages-aao-la-ilaha-illallah-ki-tarf
حافظ محمد علی فیصل
عقیدہ توحید کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہے۔ جس نے صدق دل سے اس کو پڑھا، سمجھا اور عمل کیا دنیا و عاقبت میں اس کی کامیابی پر شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں اس مبارک کلمہ کے ضمن میں عقیدہ توحید کی وضاحت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کا درس دیا گیا ہے۔ توحید و شرک کے موضوع پر بہت سی ضخیم کتب لکھی جاچکی ہیں لیکن افادہ عام کے لیے یہ مختصر سی کتاب بے نظیر ہے۔












title-pages-aik-gair-muqallid-ki-tawba-tawba-tawba
عبد الہادی عبد الخالق مدنی
دین اسلام میں کسی بھی مسئلہ پر  کتاب وسنت کی راہنمائی معلوم نہ ہونے پر اہل علم کی طرف رجوع کا اصول بیان کیا گیا ہے اور تقلید کے بجائے تحقیق کا رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن کچھ عرصہ قبل ایک کتاب ’ایک غیر مقلد کی توبہ‘ کے نام سے  منظر عام پر آئی جس میں تقلیدی روش ترک کرنے والوں پر بہت سے بے جا اعتراضات کا سلسلہ دراز کیا گیا۔ ان اعتراضات کی حیثیت کیا ہے زیر نظر رسالہ میں ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔ فاضل مؤلف نے مقلدین پر کی جانے والی تمام دشنام طرازیوں کا علمی انداز میں جواب دیتے ہوئے کتاب وسنت کی واضح ہدایت اور صحابہ و سلف کے روشن طریقے کی جانب راہنمائی کی ہے۔

untitled-1
سید ابو الحسن علی ندوی
زیر مطالعہ کتاب ’معرکہ ایمان و مادیت‘ میں سورۃ کہف کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ اس سورۃ کا اکثر حصہ قص پر مشتمل ہے۔ جس میں 1۔ اصحاب کہف کا قصہ 2۔ دو باغ والوں کا قصہ 3۔ حضرت موسیٰ و خضر علیہما السلام کا قصہ اور 4۔ ذو القرنین کا قصہ شامل ہے۔ یہ قصے جو اپنے اسلوب بیان اور سیاق و سباق کے لحاظ سے جدا ہیں، مقصد اور روح کے لحاظ سےایک ہیں اور اس روح نے ان کو معنوی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کر دیا ہے اور ایک لڑی میں منسلک کر دیا ہے۔ کہ ان میں ایمان و مادیت کے مابین کشمکش نظر آتی ہے۔ مولانا ابوالحسن ندوی جو ایک صاحب طرز قلم کار اور متعدد خوبیوں کے حامل شخص ہیں، انہوں نے سورہ کہف کا تفصیلی تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے ۔ اس کے لیے انہوں نے تفسیر قرآن، حدیث، قدیم تاریخ اور حالات حاضرہ کی روشنی میں عبر و نصائح کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے۔

title-pages-fitna-ghamdiyat-ka-ilmi-muhasba
پروفیسر محمد رفیق چودھری
اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں جنم لینے والے بعض فتنوں مثلاً خوارج،معتزلہ،باطنیہ،قادیانیت اور انکار حدیث کی طرح دور حاضر میں ایک بڑا فتنہ تجدد پسند الحادی فکر ہے جس کا مقصد امت مسلمہ کو اس کے ماضی سے کاٹ دینا اور اسے دین اسلام کی چودہ سو سالہ متفقہ اور متوارث تعبیر سےمحروم کر دینا ہے۔جناب جاوید احمد غامدی اسی تجدید پسند الحادی فکر کے علمبر دار ہیں اور تحریر و تقریر اور میڈیا کے ذریعے اس فکر کو پھیلانے میں سر گر م  عمل ہیں۔موصوف اسلامی جہاد کے مخالف ہیں،قرآن مجید کی معنوی تحریف کرتے ہیں،حدیث و سنت کی حجیت کو نہیں مانتے اور حدیث کو دین کا حصہ تسلیم نہیں کرتے۔اجماع امت کے منکر ہیں،شرعی اصطلاحات کے معنی بدلتے ہیں اور مغربی تہذیب کو مسلم معاشرے میں رائج کرنے کے لیے  ہمہ وقت کوشاں ہیں۔زیر نظر کتاب میں غامدی صاحب کے افکار و تطریات کا علمی و تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے،جس سے قارئین کو غامدی تصورات کی حقیقت جاننے کا موقع ملے گا۔اس کتاب سے بحیثیت مجموعی اتفاق کے باوجود انداز تحریر اور بعض مندرجات سے اختلاف ممکن ہے۔(ط۔ا)
title-pages-fatawa-muhammadia
مفتی محمد عبیداللہ خان عفیف
کتاب وسنت کی روشنی میں مسائل زندگی سے متعلق شرعی راہنمائی کا نام اصطلاحی زبان میں ’فتوی‘ہے۔علمائے امت کے فتاوی کی ہزاروں سے متجاوز کتابیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں،جن سے خلق خدا مستفید ہو رہی ہے۔انہی میں ایک ’فتاوی‘مولانا عبیداللہ عفیف دامت برکاتہم کا بھی ہے جو عظیم محدث اور جلیل القدر فقیہ و مفتی ہیں   اور عرصہ دراز سے تدریس و افتاء میں مشغول ہیں۔جماعت اہل حدیث کے بزرگ ترین عالم و مفتی ہیں۔آپ مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں اور قر آن و حدیث اور ائمہ سلف کی کتابوں سے براہ راست استفادہ کرتے ہیں ۔آپ کے فتاوی قوی دلائل پر مشتمل ہو تے ہیں ۔لہذا علماء و عوام میں یکساں لائق اعتماد جانے جاتے ہیں ۔واضح رہے کہ مفتی جماعت مولانا مبشر احمد ربانی بھی مولانا عفیف کے شاگردوں میں شامل ہیں،جس سے استاذ کی جلالت شان کا اندازہ ہوتا ہے۔قارئین اس عظیم الشان فتاوی سے یقیناً بہت فائدہ اٹھائیں گے۔(ط۔ا)

title-pages-fatawa-al-deen-ul-khalis
ابو محمد امین اللہ پشاوری
کتاب و سنت ڈاٹ کام پر علمائے اہل حدیث کے متعدد فتاویٰ پیش کیے جا چکے ہیں ۔الحمد للہ۔زیر نظر  کتاب  ان میں سے ایک منفرد اور خوبصورت اضافہ ہے۔فتاویٰ الدین الخالص محدث زمان فقیہ عصر مولانا امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کے رشخات قلم کا نتیجہ ہےموصوف علمائے سلف کی یادگار ہیں۔زیر نظر فتاویٰ کے چند امتیازات یہ ہیں کہ فتوی کا مدار کتاب وسنت پر رکھا گیا ہے،فتوی میں مذکور احادیث کی تخریج کی گئی ہے اور اس کی صحت و ضعف کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔اس میں احکام کے ساتھ ساتھ عقیدہ،حدیث،تفسیر،معرفت فرق بھی شامل ہیں۔مذاہب علما میں سے کسی خاص مسلک کی پابندی کا التزام نہیں کیا گیا بلکہ دلیل کو اہمیت دی ہے۔اختصار و تطویل سے اجتناب کیا ہے ان خوبیوں کی بنا پر ہر مسلمان کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ شرعی مسائل سے واقف ہو کر ان پر عمل پیرا ہو سکے۔(ط۔ا)
title-pages-iman-billah-ki-haqiqat
ڈاکٹر سید شفیق الرحمن
’لا الہ الا اللہ‘ کے دو جزء ہیں:ایک میں باطل معبودوں کی نفی ہے اور دوسرے میں صرف اللہ کے معبود ہونے کا اقرار ایمان کے لیے ان دونوں کا فہم اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونا ضروری ہے ورنہ ایمان باللہ کی حقیقت تک نہیں پہنچا جا سکتا۔بہت سے لوگ خدائے معبود ہونے کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن غیر اللہ کا انکار نہیں کرتے جس سے وہ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔زیر نظر کتابچہ میں جناب ڈاکٹر شفیق الرحمان نے واضح کیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے اور غیر اللہ کی نفی سے کیامراد ہے؟آخر میں انہوں نے ان امور پر بھی روشنی ڈالی ہے جو صحیح عقیدہ سے انحراف کا سبب بنتے ہیں ۔ہر مسلمان کو اس کتابچہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ صحیح  معنوں میں اللہ پر ایمان کے مفہوم کو سمجھ سکے اور اس کو عملاً اپنا سکے۔(ط۔ا)

1
نواب صدیق الحسن خاں
نواب صدیق حسن خاں صاحب کا شمار ان  صاحب ثروت شخصیات میں سے ہوتا ہے جنہوں نے اپنی دولت کو دینی امور اور مصالح کے لیےاستعمال کیا۔ انہوں نے افادہ عام کے لیے بیسیوں کتابیں شائع کروائیں۔ ان کی زیر نظر کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے والدین اور اولاد کے حقوق پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حقوق کی تقسیم دو اعتبار سے کی ہے ایک اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں اور دوسرے اس کی مخلوق کے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے ان دونوں کی بجا آوری انتہائی  ناگزیر ہے۔ خصوصاً حقوق العباد کے حوالے سے بندہ مسلم کو انتہائی محتاط رہنا چاہئے کیونکہ حقوق العباد کی معافی اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب صاحب حق خود معاف کر دے۔ مولانا نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ حقوق العباد میں سے والدین اور اولاد کے حقوق پر گفتگو فرمائی ہے۔ ان حقوق کی کامل ادائیگی سے ایک گھرانہ جنت نظیر کا منظر پیش کر سکتا ہے۔ لہٰذا ان حقوق کا مطالعہ کیجئے اور ان کی ادائیگی کو اپنا مطمح نظر بنائیے۔

1
سید سابق مصری
دین اسلام ایک فطری اور ہمہ گیر مذہب ہے جس نے انسانی زندگی سے متعلقہ کسی پہلو کو بھی رہنمائی سے تشنہ نہیں چھوڑا۔ خاندانی نظام کو بے رواہ روی سے بچانے کے لیے اسلام نے بہت اہم اقدامات کیے ہیں جو معاشرتی ضروریات کے عین مطابق ہیں۔ اسلام کے بیان کردہ انہی اساسی نظریات کو سید سابق نے اپنی مشہور کتاب ’فقہ السنۃ‘ میں ایک باب کے طور پر نقل کیا جس کو انہوں نے ’نظام الاسرۃ‘ کا نام دیا۔ حافظ محمد اسلم شاہدروی نے اسی باب کو اردو قالب میں ڈھالا اور بعض مقامات پر توضیح و تشریح کر کے بھی مسئلہ کی وضاحت کی۔ اس میں منگنی، نکاح، طلاق، خلع، عدت اور پرورش وغیرہ جیسے احکام کے ضمن میں بیسیوں مسائل پر کتاب و سنت کی آرا سامنے آئی ہیں۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔ کتاب علماے کرام ہی لائق مطالعہ نہیں بلکہ عامۃ المسلمین بھی اس سے استفادہ کر کے اسلام کے خاندانی نظام کو سمجھنے اور مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ کتاب میں موجود احادیث و آثار کی تخریج کی گئی ہے لیکن بہت سی جگہوں پر ایسی احادیث بھی نظر آتی ہیں جو مکمل حوالہ جات سے خالی ہیں۔ بہرحال مجموعی طور پر افادہ عام کے لیے یہ ایک بہترین کتاب ہے۔

title-pages-fataawa-sanaiyya-madniyya-1
حافظ ثناء اللہ مدنی
شرعی احکام و مسائل سے متعلقہ استفسارات کا کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دینا،فتوی کہلاتا ہے۔اردو زبان میں فتاویٰ  پر بے شمار کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔زیر نظر فتاویٰ حضرۃ الاستاذ شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ خاں مدنی حفظہ اللہ کے قلم سے ہے۔آپ جماعت اہل حدیث کے اکابر مفتیوں میں شمار ہوتےہیں اور مجتہد زماں علامہ حافظ عبداللہ صاحب محدث روپڑی رحمہ اللہ کے تلامذہ میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔آپ کے یہ فتاویٰ الاعتصام ،محدث میں شائع ہوتے رہے ہیں ،جنہیں کتابی صورت میں یکجا کر دیا گیا ہے۔تقریباً نوصد(900)صفحات پر مشتمل یہ عظیم الشان فتاوی کی پہلی جلد ہے ،جلد ہی مزید مجلدات بھی منظر عام پر آجائیں گی۔ان فتاویٰ کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں براہ راست کتاب و سنت سے استدلال کیا گیا ہے نیز فتوی دیتے ہوئے فقہ الواقع اور مقاصد شریعت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے ،جس سے ان میں اعتدال و توازن کی جھلک واضح نظر آتی ہے بلا شبہ یہ عصر حاضر میں منہج اہل حدیث پر سب سے مستند فتاویٰ ہے۔اس جلد میں زیادہ تر ’عقائد‘سے متعلقہ فتوے ہیں تاہم دیگر فقہی مسائل بھی موجود ہیں،جن سے عوام و خواص یکساں مستفید ہو سکتے ہیں۔(ط۔ا)

1
سید ابو الحسن علی ندوی
جب نبی مکرمﷺ کا دنیا میں بعثت ہوئی اس وقت انسانیت پستی کی آخری حدوں سے بھی آخرتک پہنچ چکی تھی۔ شرک و بدعات، مظالم و عدم مساوات ان کی زندگی کا جزو لاینفک بن چکا تھا۔ لیکن رسول اللہﷺ نے ان کے عقائد و اخلاق اس طور سے سنوارے کہ کل کے راہزن آج کے راہبر بن چکےتھے۔ نبی کریمﷺ کی تشکیل کردہ اسلامی تہذیب نے دنیا کے تمام معاشروں پر نہایت گہرے اثرات ثبت کئے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اور جہاد، تقویٰ و للہیت ایک اجنبی تصور بن گئے تو امت کا انحطاط وزوال شروع ہوا۔ زیر نظر کتاب میں ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ نے امت کے اسی عروج و زوال کو حکیمانہ اسلوب میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے اسلام سے پہلے کی معاشرت کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے اس کا  محمدی معاشرے سے تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ علاوہ بریں اس عروج کی خوش کن داستان کے بعد دنیا کی امامت و قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے کیسے جاتی رہی، زمام اقتدار کس طرح مادہ پرست یورپ کے ہاتھ میں آئی۔ اور ایسے میں مسلمانوں کا کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ان تمام خیالات کو مولانا احسن انداز میں الفاظ کا زیور پہنایا ہے۔

title-pages-talibane-ulome-nabowat-ka-maqam-aur-unki-zimadariyan-1
سید ابو الحسن علی ندوی
تعلیم وتربیت کاجو کام مدارسِ اسلامیہ  نے سر انجام دیا  ہے اس سے تاریخ  پر نگاہ رکھنے والا ہرانسان واقف ہے  ۔ان  ہی مدارس نے امت کو وہ افراد فراہم کیے ہیں  جنہوں نےمشکل سے مشکل ترین زمانہ میں بھی  امت کی رہنمائی کا کام کیا ہے ۔ان ہی  مدارس نے امت کومجددین ومصلحین بھی  فراہم کیے اور علمائے کبار بھی  بلکہ ان ہی مدارس سے بڑے بڑے  مسلمان فلسفی، سائنس دان  اور اطباء  پیدا  ہوئے ۔فکر اسلامی  کے ماہرین اورمعتدل  مزاج اور فکر رکھنے  والے  علماء بھی  ان ہی  مدارس  کے فیض یافتہ نظر آتے ہیں۔اس سلسلہ کی بنیاد زمانۂ نبوت میں پڑی تھی  اور دور نبوت سے ملے  ہوئے  اصولوں کی روشنی  میں علم کا  یہ سفر شروع ہوا اور نبی کریم ﷺ نے  زبانِ نبو ت  سے حاملین علم   کے فضائل و مناقب  اور  ان کی ذمہ داریوں کو  بیان فرمایا ۔زیر کتاب’’طالبانِ نبو ت کا مقام  اور ان  کی ذمہ داریاں ‘‘ مولانا  سیدابوالحسن  علی ندوی  کے  اس موضوع پر خطبات و تقاریر کا مجموعہ  ہے  جس میں  انہوں  نے  علماء  وطالبانِ علوم نبوت کے مقام ومرتبہ کو بیان کیاہے  اور انہیں معاشرے  میں  ان  کےکرنےکے  کا م اور ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ  مولانا  ندوی کی اشاعت  دین  حنیف کے سلسلے  میں تمام مساعی کو قبول  فرمائے  او ر اس کتاب کے نفع کو عام فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-gazwa-e-hind
پروفیسر ڈاکٹرعصمت اللہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود جس جنگ میں شرکت کی ہو اس غزوہ کا نام دیا جاتا ہے ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے ایسے فرامین بھی جاری ہوئے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے بعد ہونے والی جنگوں اور معرکوں کو بھی غزوہ کا نام دیا ان میں سے ایک غزوہ ہند سے متعلق نبوی پیشگوئی ہے۔ زیر نظر مختصر سی کتاب میں پروفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب نے غزوہ ہند سے متعلق اسی نبوی پیشگوئی کو موضوع بحث بنایا ہے۔ بہت سے اہل علم حضرات غزوہ ہند سے متعلق احادیث کا تو تذکرہ کرتے ہیں لیکن حوالوں سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ مصنف نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ بے شمار کتب مصادر کو کھنگالنے کے بعد موضوع سے متعلق تمام احادیث کو جمع کیا، ترتیب دے کر ان کا درجہ بلحاظ صحت و ضعف معلوم کیا پھر ان ارشادات نبوی سے ملنے والے اشارات و حقائق اور پیشگوئیوں کو آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے مدلل انداز میں واضح کیا ہے کہ خلافت راشدہ سے قیامت تک ہندوستان کے خلاف جتنے بھی حملے ہوں کے ان میں شریک لوگ غزوہ ہند میں ہی تصور کیے جائیں گے۔

title-pages-shiyoon-ka-aiteqaad
عبد اللہ محمدالسلفی
عقائد کی تصحیح اخروی فوز و فلاح کے لیے اولین شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اور انبیاء علیہم السلام سب سے پہلے توحید کا علم بلند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں روافض اور  شیعہ کے اعتقاد پر علمی انداز میں قلم اٹھایا گیا ہے۔  فاضل مصنف نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ ان لوگوں کا مسکت جواب پیش کیا ہےجو ہر وقت آئمہ کی تقدیس اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے لعن طعن کرنے میں رطب اللسان نظر آتے ہیں۔  اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے رافضہ کے مشہور و معروف آئمہ کی اپنی  کتابوں سے ہی  ان کے تمام اعتراضات کا جواب دیا ہے۔علاوہ ازیں روافض کا ظہور کس طرح ہوا، رجعت اور تقیہ کا کیا چیز ہے اس پر قیمتی آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔

title-pages-pages-from-nafsani-khawahishat-sy-najat-k-zaray
ابن قیم الجوزیہ
اسلام ایک دین فطرت ہے جو انسان کوبے لگام گھوڑا  بننے کی اجازت قطعاً اجازت نہیں دیتا بلکہ  نفسانی خواہشات کو اعتدال میں لانے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک مسلمان کے کامل مؤمن بننے کے لیے از حد ضروری ہے کہ اس کی خواہشات شریعت کے فراہم کردہ احکامات کے تابع ہوں۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں علامہ ابن قیم نے انتہائی اثر آفریں انداز میں 50 ایسے علاج پیش کیے ہیں جن کی روشنی میں خواہشات کے دام فریب میں گرفتار لوگ آسانی سے اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اپنے انجام سے بے خبر ہو کر وقتی جذبات کے دھارے میں بہہ جانے والوں کے لیے یہ رسالہ انتہائی مفیدہے۔  رسالہ کو اردو قالب میں ڈھالنے اور مزید اضافہ جات کا سہرا عبدالہادی عبدالخالق مدنی کے سر ہے۔

title-pages-tafseer-siraj-ul-bayan-5
محمد حنیف ندوی
اردو دان طبقے کے لیے مفاہیم قرآن کو سمجھنے کے لیے قرآن کریم کو اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا از حد ضروری ہے صرف ناظرہ قرآن سے قرآن کریم کے اغراض و مقاصد کا ادراک ناممکن ہے۔ زیر نظر تفسیر سراج البیان اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔ اس میں ترجمہ قرآن شاہ عبدالقادر دہلوی اور شاہ رفیع الدین دہلوی کا شامل کیا گیا ہے جو کہ تمام علماء ربانیین کے نزدیک مستند اور معتمد ہے۔ قرآنی آیات کی تفسیر کا بیڑہ علامہ حنیف ندوی نے اٹھایا ہے اور حقیقی معنوں میں تفسیر قرآن کا حق ادا کیا ہے۔ علامہ موصوف کی علمیت کا اندازہ تفسیر سراج البیان کی ورق گردانی سے بخوبی ہو جائے گا۔ علامہ موصوف نے محققانہ انداز میں ہر صفحہ کے اہم مضامین کی تبویب کے ساتھ ساتھ ادبی و لغوی نکات کا تذکرہ کیاہے اور جدید مسائل سے آگاہی بھی فراہم کی ہے۔ اس کےعلاوہ مذہب سلف کی برتری اور تفوق کا اظہار کرتے ہوئے قصری علوم و معارف سے موقع بہ موقع استفادہ کیا گیا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ اس کا مطالعہ کرکے یہ محسوس کریں گے کہ قرآن دنیائے عرب میں سب سے عمدہ اضافہ ہے۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 446 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :