title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
ابن حجر العسقلانی
’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-dil-ka-bigaar-copy
محمد بن صالح المنجد

قرآنی علوم وفنون ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ یہ بھی قرآن کا ایک معجزہ ہے کہ ہر آنے والا اس موضوع پر لکھتا چلا جاتا ہے، مگر اس علم کی انتہاء ہونے کو نہیں آتی۔ ہر دور میں اس بات کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے کہ صحیح منہج اور مسلک پر چلتے ہوئے ترجیحات متعین کرتے ہوئے نرم اور دھیمے لہجے میں دعوت حق کو پھیلایا جائے۔ یہ سعادت اس دور کےبعض عرب علماء کے نصیب میں وافر طور پر آئی ہے کہ ان کاانداز بیاں اتنا شیریں اور دھیما ہوتا ہے کہ نہ ماننے والے کے دل میں بھی اثر کرجاتا ہے، اور ایسی دعوت کامیاب بھی رہتی ہے۔ حقیقت میں بہترین لوگ وہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو علوم وحی کی خدمت کے لیے وقف کردیا ہے۔ یقیناً یہ اللہ عزوجل کی طرف سے ایسا انعام ہے جو قابل رشک ہے، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر دور کی مناسبت سے قرآنی علوم وفنون، نکات ومعارف، مسائل وغوامض پر لکھا جائے اور الحمد للہ کہ علمائے حق کی ایک جماعت روز اوّل سے یہ خدمت انجام دے رہی ہے، اور روز آخر تک جب تک کہ ایک بھی حق بات کہنے والا زندہ ہے وہ قال اللہ اور قال الرسول کی مبارک صدائیں بلند کرتا رہے گا۔ ان ہی علمائے حق میں سے ایک معاصر عالم محترم فضیلۃ الشیخ صالح المنجد ہیں۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے رسوخ علم سے نوازا ہے۔ موصوف محترم منجھے ہوئے باوقار عالم اور عابد وزاہد شخص ہیں۔ ان کی تحریروں سے لاکھوں لوگ مستفید ہورہے ہیں۔ انہوں نے ایک سلسلۂ رسائل ’’ اعمال القلوب‘‘ اور ’’ مفسدات القلوب‘‘ شروع کیا ۔ جس میں اوّل الذکر میں بارہ رسالے ہیں جبکہ ثانی الذّکر میں دس رسالے ہیں۔اگرچہ یہ رسالے عرب معاشرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے لکھے گئے ہیں، لیکن بالعموم ان موضوعات کا احاطہ ہے، جس سے اس وقت پورا عالم گزر رہا ہے یہ عربی کتاب ’’ سلسلہ مفسدات القلوب ‘‘ کا اردو ترجمہ  ’’ دل کا بگاڑ ‘‘  ہے، اس کتاب میں دل کو سیاہ اور اللہ تعالی ٰسے دور کرنے والے اعمال کا محاسبہ کیا گیا ہے۔ اس کا مطالعہ دل کی اصلاح میں انتہائی معاون ہوگا۔ ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ کریم ومہربان ذات ہمیں کتاب وسنت کی سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔(ک ح)

title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
ابن حجر العسقلانی
’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)
title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
ابن حجر العسقلانی
’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
ابن حجر العسقلانی
’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
ابن حجر العسقلانی
’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-ahle-sunnat-fikar-w-tehreek-imam-ibne-taimiya-ki-roshni-me
محمد عبد الہادی المصری
اللہ کے آخری رسولﷺ نے آسمانی ہدایات کے مطابق اس امت کی شکل میں ایک تحریک کھڑی کی تھی جس کا سب کچھ قیامت تک باقی رہنا یقینی امر ہے او اس تحریک کو زندہ و قائم رکھنے والے لوگوں کا بھی ہر دور میں ایک مستقل اور مسلسل انداز سے باقی رہنا آسمانی خبر کی رو سے قطعی اور حتمی ہے۔ اب وہ کون لوگ ہیں جو اس پیشگوئی کا مصداق بن کر اس عظیم ترین شخصیت کی دعوت برحق کا فکری تسلسل رہے۔ ان کی وہ آئیڈیالوجی کیا ہے جو ان کے امتیاز کی اصل بنیاد رہی؟ اس تحریک کی تاسی کن لوگوں کے ہاتھوں ہوئی اور کن کے ہاتھوں اس کی ترجمانی و تجدید کا کام ہوتا رہا ہے؟ اس کے پیروکاروں کی درجہ بندی اور تقسیم مراتب کیونکر ہوتی رہی؟ اس سے انحرافات کو کس طرح ضبط میں لایا جاتا رہا اور ا س کے مخالفوں کے بارے میں کیا پالیسی اختیا کی جاتی رہی؟ پھر موجودہ دور میں اس کے دائرہ کی حدود کیا ہیں؟ اس کی ترجیحات کا محور کیا ہے؟ اس سے انحرافات کی شکل کیا ہے اور اس کو درپیش اصل چیلنج کون سے ہیں۔ فکر و عمل میں اس کے کردا کو زندہ کرنے کے لیے آغاز کہاں سے ہوا اور زاد راہ کی صورت کیا ہو؟ یہی سوالات اس کتاب کا موضوع ہیں۔(ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
عبد الہادی عبد الخالق مدنی
واقعہ معراج نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ کا ایک منفرد، ممتاز اور عظیم الشان واقعہ ہے۔ وہ ایک طرف رب ذوالجلال کی قدرت کاملہ کا ظہور، الہٰی معجزہ، صداقت نبوت کی آیت اور نشانی ہے تو دوسری طرف اپنے اندر بے شمار عبرت و موعظت اور درس و نصائح کے خزانے سے معمور اور عقیدہ و عمل کے بیش بہا موتیوں سے مالا مال ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں اردو زبان میں یکجا کتابی شکل میں مواد بہت کم موجود ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے واقعات کی صحت و ضعف کی تحقیق میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ اسی کے پیش نظر مولانا عبدالہادی عبدالخالق مدنی نے کمر ہمت باندھی اور اس موضوع پر زیر تبصرہ کتابچہ مرتب کیا۔ مولانا نے صرف صحیح و مستند روایات نیز مقبول و معتبر احادیث و آثار کو جگہ دی ہے ۔ اس سلسلہ میں محدث عصر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی کتاب ’الاسراء والمعراج‘ سے استفادہ کیا گیا ہے نیز مسائل و فوائد کے استنباط میں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی تالیف فتح الباری شرح صحیح بخاری سے زیادہ تر فائدہ اٹھایا گیا ہے۔(ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دنیائے انسانی کی ہدایت کےلیے جو مختلف معجزانہ اسلوبِ بیان اختیار فرمائے ہیں ان میں سےایک یہ بھی ہے کہ گزشتہ قوموں کے واقعات و قصص کے ذریعہ ان کے  نیک و بد اعمال اور ان اعمال کے ثمرات و نتائج کو یاد دلائے اور عبرت و بصیرت کا سامان مہیا کرے۔ قرآن مجید کے قصص و واقعات کا سلسلہ بیشتر گزشتہ اقوام اور ان کی جانب بھیجے ہوئے پیغمبروں سے وابستہ ہے اور جستہ جستہ بعض اور واقعات بھی اس کے ضمن میں آ گئے ہیں۔ مسلمان قوم کی پستی کو دیکھتے ہوئے مولانا محمد حفظ الرحمٰن سیوہاروی نے قرآن مجید میں موجود ان قصص کو یکجا صورت میں پیش کرنے کا اہتمام کیا تاکہ ان سے عبرت و بصیرت حاصل کی جائے۔ اس وقت آپ کے سامنے ’قصص القرآن‘ کی تیسری اور چوتھی جلد ہے جس میں انبیاء علیہم السلام کے سوانح حیات  کے علاوہ باقی قصص قرآنی اصحاب قریہ، اصحاب الجنہ، حضرت لقمان، اصحاب سبت وغیرہ کی مکمل اور محققانہ تفسیر و تشریح کی گئی ہے۔ آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریمﷺ کے واقعات و حالات کا محققانہ و مبصران بیان موجود ہے۔ تمام واقعات کی بنیاد اور اساس قرآن عزیز کو بنایا گیا ہے اور احادیث صحیحہ اور واقعات تاریخی کے ذریعے ان کی توضیح و تشریح کی گئی ہے۔ خاص خاص مقامات پر تفسیری، حدیثی اور تاریخی اشکالات اور بحث و تمحیص کے بعد سلف صالحین کے مسلک کے مطابق ان کا حل پیش کیا گیا ہے۔ ہر پیغمبر کے حالات قرآن عزیز کی کن کن سورتوں میں بیان ہوئے ہیں ان کو نقشہ کی شکل میں ایک جگہ دکھایا گیا ہے۔ علاوہ بریں ’نتائج و عبر‘ یا ’عبر و بصائر‘ کے عنوان سے اصل مقصد اور حقیقی غرض و غایت یعنی عبرت و بصیرت کے پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔(ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دنیائے انسانی کی ہدایت کےلیے جو مختلف معجزانہ اسلوبِ بیان اختیار فرمائے ہیں ان میں سےایک یہ بھی ہے کہ گزشتہ قوموں کے واقعات و قصص کے ذریعہ ان کے  نیک و بد اعمال اور ان اعمال کے ثمرات و نتائج کو یاد دلائے اور عبرت و بصیرت کا سامان مہیا کرے۔ قرآن مجید کے قصص و واقعات کا سلسلہ بیشتر گزشتہ اقوام اور ان کی جانب بھیجے ہوئے پیغمبروں سے وابستہ ہے اور جستہ جستہ بعض اور واقعات بھی اس کے ضمن میں آ گئے ہیں۔ مسلمان قوم کی پستی کو دیکھتے ہوئے مولانا محمد حفظ الرحمٰن سیوہاروی نے قرآن مجید میں موجود ان قصص کو یکجا صورت میں پیش کرنے کا اہتمام کیا تاکہ ان سے عبرت و بصیرت حاصل کی جائے۔ اس وقت آپ کے سامنے ’قصص القرآن‘ کی پہلی اور دوسری جلد ہے جس میں حضرت آدم سے لے کر حضرت یحییٰ علیہما السلام تک کے واقعات نہایت مفصل اور محققانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ تمام واقعات کی بنیاد اور اساس قرآن عزیز کو بنایا گیا ہے اور احادیث صحیحہ اور واقعات تاریخی کے ذریعے ان کی توضیح و تشریح کی گئی ہے۔ خاص خاص مقامات پر تفسیری، حدیثی اور تاریخی اشکالات اور بحث و تمحیص کے بعد سلف صالحین کے مسلک کے مطابق ان کا حل پیش کیا گیا ہے۔ ہر پیغمبر کے حالات قرآن عزیز کی کن کن سورتوں میں بیان ہوئے ہیں ان کو نقشہ کی شکل میں ایک جگہ دکھایا گیا ہے۔ علاوہ بریں ’نتائج و عبر‘ یا ’عبر و بصائر‘ کے عنوان سے اصل مقصد اور حقیقی غرض و غایت یعنی عبرت و بصیرت کے پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔(ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
عامر محمد عامر الہلالی

یہ دنیا تکا لیف اور مصائب کی آماجگاہ ہے۔ جس میں ہر انسان کسی نہ کسی تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرتا ہے، درحقیقت یہ آزمائشیں اور امتحانات کسی انسان کو تکلیف واذیت دینے کی خاطر اس پر نازل نہیں ہوتے بلکہ اسے اپنی اصلاح کرنے اور اپنی روش کا ناقدانہ جائزہ لینے کا موقع مہیا کرتے ہیں۔ اور کسی مومن کےلیے تو ہر آزمائش اور تکلیف اجرو ثواب میں اضافے اور بلندی درجات کا باعث بنتی ہے۔ جس طرح ہر مومن بندہ خوشی اور غمی کے ہر موقع پر صبر وشکر کا مظاہر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ سے وابستہ رہتا ہے ایسے ہی تنگی وتکلیف کے ہر موقع پر بھی اسی ذات بابرکات سے اپنے دکھوں کا مداوا اور آزمائشوں سے نجات طلب کرتا ہے۔ زیر نظر کتاب میں اسی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے دنیاوی تکالیف ومصائب کا مقابلہ کرنے کے43 طریقے لکھے گئے ہیں جن کی سب سے اہم اور امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ کتاب وسنت کے مطابق صحیح منہج کو مد نظر رکھتے ہوئے اسباب وحلول پر بحث کی گئی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اردو داں حضرات کےلیے اسے پیش کیا جارہا ہے۔ امید ہے کہ آج نفسیاتی الجھنوں اور پریشانیوں کا علاج کرنے میں یہ کتاب بےحد مفید ثابت ہوگی۔ مومنوں کی آزمائش ایک نعمت ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر ایک سزا کی شکل میں ہو، اور وہ ان کے حق میں بہتر ہے اگرچہ وہ بظاہر ان کےلیے بری ہو۔ آزمائش ایک پل ہے جو بھلائیوں اور خوشیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ بشرطیکہ بندہ صبر اور ایمان کے اسلحہ سے لیس ہو کر اس پل کو عبور کرے۔ آزمائش کے یہ اچھے نتائج کیوں نہ ہوں، حالانکہ وہ ایک تربیت ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں کے دلوں کو صاف کرے اور اسلام کے ساتھ لوگوں کی قیادت وسیادت کرنے کے اہل بنانے کےلیے خالص کردے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کاوش کو مؤلف ومترجم اور ناشر کےلیے اخروی نجات کا ذریعہ اور بلندی درجات کا باعث بنائے۔ آمین ۔اس کتاب میں تنگی اور تکلیف کے ذریعہ ہونے والی آزمائش سے نمٹنے کے مختلف وسائل اور ذرائع پر بحث کی گئی ہے۔

-copy
علی بن محمد ناصر الفقہی
اس وقت مسلم معاشرہ شرک و بدعات اور اوہام و خرافات کے دلدل میں جس بری طرح پھنسا ہوا ہےوہ کسی صاحب بصیرت سے مخفی نہیں ہے۔ جب سے پوری دنیا نے ایک گاؤں کی شکل اختیار کی ہے ان بدعات کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسے میں اس امر کی ضرورت تھی کہ امت مسلمہ اور نوجوان طبقہ کو صحیح اسلامی عقیدہ اور دین کے اصل مرجع کتاب و سنت سے متعارف کرایا جائے اور بدعات و خرافات کی خطرناکی سے آگاہ کیا جائے اور باطل عقائد اور منحرف خیالات کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی جائے۔ زیر نظر رسالہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جسے مدینہ یونیورسٹی کے ایک سابق استاذ علی بن ناصر الفقیہی نے ترتیب دیا ہے۔ محمد ابوالکلام بن شمس الدین المدنی نے اس کا سلیس اردو ترجمہ کیا ہے۔ 79 صفحات پر مشتمل اس رسالے میں مؤلف نے بدعت اور امت پر اس کے اثرات کو بڑے مدلل طریقے سے بیان کیا ہے۔ بدعت کو مختلف اقسام میں تقسیم کرنے کے بعد مؤلف نے چند بدعتی فرقوں کا تعارف اور ان کے اصولوں پر روشنی ڈالی ہے۔ (ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-science-quran-k-hazoor-me
طارق اقبال سوہدروی
قرآن پاک مذہب اسلام کاایک بڑاماخذ اور وہ کتاب ہے جس کو اس کے ماننے والے یعنی مسلمان مکمل طورپر کلام الٰہی تصورکرتے ہیں۔ مسلمان اس امر پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ قرآن پاک تمام انسانیت کےلیے رہنمائی حاصل کرنے کا ایک عظیم سر چشمہ ہے یہ تمام تر انسانیت کورہنمائی فراہم کرتاہے اور یہ ہر ایک دور سے ہم آہنگ ہے اور جدید سائنس بھی اس کے مندرجات سے انکار نہیں کر سکتی بلکہ اس کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔ زیر نظر کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اسی موضوع پر ترتیب دی گئی ہے ۔ جس کے بارے میں مصنف کا کہنا ہے کہ یہ کتاب میں نے ان مسلمانوں کے لیے مرتب کی ہے جو قرآن مجید کو اپنا ضابطہ حیات قرار دیتے ہیں تاکہ ان کا ایمان مزید پختہ ہو جائے کہ سائنس نے جن حقیقتوں کو آج دریافت کیا ہے ان میں سے کئی ایک کا ذکر قرآن مجید میں کسی نہ کسی شکل میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ کتاب کے مؤلف طارق اقبال سوہدروی ہیں جنھوں نے یہ کتاب ڈاکٹر ذاکر نائک کے اس موضوع پر لیکچرز سے متاثر ہو کر تیب دی ہے۔ (ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-rasomat-e-muslim-mayyat
پروفیسر نور محمد چوہدری
دین نبی کریمﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اب اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔ لین افسوس کی بات یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان ہندؤوں کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے کی وجہ سے ان کی بہت سی غیر شرعی رسومات کو اختیار کر چکے ہیں۔ اس پر نام نہاد ملاں اپنے پیٹ پلیٹ کی خاطر ان بدعات کو سند جواز عطا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ کسی شخص کے دنیا سے رخصت ہو جانے پر بھی رسومات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ انھی رسومات میں سے تیجہ، ساتواں، دسواں اور چہلم وغیرہ بھی ہیں۔ اس کتابچہ میں انھی رسومات کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔(ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-dil-ki-islah
محمد بن صالح المنجد

اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضل و شرف کا معیار ظاہری افعال و اعمال نہیں بلکہ ایمان کے حقائق ہیں۔ عمال کی فضیلت و برتری صاحب عمل کے دل کے اندر قائم دلیل و برہان کے تابع ہوتی ہے یہاں تک کہ دو عمل کرنے والے بظاہر ایک رتبہ دکھائی دیتے ہیں لیکن فضیلت و برتری اور وزن میں ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ قلب کی اصلاح و تزکیہ اور اسے آفات سے پاک رکھنے اور فضائل و خوبیوں سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دینے والی چیزوں میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےاپنے بندوں سے اپنی نگاہ کا مرکز ان کے دلوں کو قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں ماضی قریب کے جید عرب عالم دین شیخ محمد صالح المنجد نے ’سلسلہ اعمال القلوب‘ کے نام سے کتاب لکھی جس کا اردو ترجمہ ’دل کی اصلاح‘ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ اردو ترجمہ نہایت سلیس اور رواں ہے۔ کتاب کومتعدد عناوین میں تقسیم کرنے کے بعد دلوں کی صفائی پر نگارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان عناوین میں اخلاص و للّٰہیت، توکل، محبت، خوف و خشیت، امید کی حقیقت، تقویٰ کی حقیقت، تسلیم و رضا، شکر گزاری، صبر و تحمل، ورع اور مشتبہات سے بچاؤ، غور و فکر اور نفس کا محاسبہ شامل ہیں۔ 750 سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ہر عنوان کے تحت الگ سے مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور ہر بحث کا مکمل تعارف کروانے کے بعد اصل موضوع سے بحث کی گئی ہے۔ انسان کی تمام تر کامیابی کا دارو مدار اسی پر ہے کہ دنیا میں وہ اپنی اصلاح کر لے اور اپنے آپ کو آخرت کےلیےتیار کر لے۔ اس ضمن میں یہ کتاب نہایت مددگار ثابت ہو گی۔ (ع۔م)

title-pages-mahdia
عبد الہادی عبد الخالق مدنی
مسلمانان اہل سنت کا مہدیؑ سے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ قیامت کے قریب پیدا ہوں گے، وہ سات سال تک حکومت کریں گے، روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، ان کے زمانہ ہی میں حضرت عیسیؑ کا نزول ہوگا۔ حضرت عیسیٰ آپ کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔ امام مہدی علیہ السلام حضرت عیسیٰ کے ساتھ مل کر دجال کا مقابلہ کریں گے اور اس کو قتل کریں گے۔ زیر نظر کتابچہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق سب سے پہلے ان احادیث کو بیان کیا گیا ہے جن میں امام مہدی علیہ السلام کا صراحت کے ساتھ تذکرہ ہے، اس کے بعد اس ضمن  میں آثار کو جمع کیا گیا ہے اور پھر ان احادیث کو ذکر کیا گیا ہے جن میں امام مہدی علیہ السلام کا تذکرہ تو موجود ہے لیکن صراحت کے ساتھ نہیں ہے۔ ان تمام احادیث و آثار پر صحت و ضعف کا حکم بھی لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد امام مہدی کے اوصاف، مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کو کیسے پہچانیں؟ کے عنوانات سے مواد موجود ہے اور آخر میں اختصار کے ساتھ چند دعویداران مہدویت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کتابچہ کے مصنف عبدالہادی عبدالخالق مدنی نے کتابچہ کی تیاری میں شیخ عبدالعظیم بستوی کی کتاب ’الأحادیث الواردۃ فی المھدی فی میزان الجرح والتعدیل‘ سے مدد لی ہے۔(ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-karamate-aouliya
عبد الہادی عبد الخالق مدنی
اولیائے کرام اللہ تعالیٰ کے ایسے نیک بندے ہوتے ہیں جو ایمان و تقویٰ، پرہیزگاری اور اطاعت الٰہی سے مزین اور آراستہ ہوتے ہیں۔ اولیائے کرام کی کرامات برحق ہیں۔ سلف صالحین اور ائمہ دین و محدثین نے کبھی ان کا نکار نہیں کیا۔ البتہ کرامات اولیا کے نام پر ہر خشک و تر اور غث و سمین کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ زیر مطالعہ کتاب ’کرامات اولیاء‘ کے نام سے اسی لیے وجود میں لائی گئی ہے تاکہ اس حوالے سے پائے جانے والے افراط و تفریط  اور غلط فہمیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ جس میں کرامات اولیا کو برحق ثابت کیا گیا ہے اور اس حوالہ سے منکرین کرامات اور عقل پرستوں کی تردید کی گئی ہے۔ اہل حدیث اور سلفی حضرات پر منکر کرامات ہونے کی تہمت کے ازالہ کے ساتھ ساتھ رحمانی و شیطانی کرامات کے درمیان خط امتیاز کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شعبدہ بازی اور کرامت میں فرق واضح کرنے کے لیے کرامات اولیا کے شرائط و ضوابط متعین کیے گئے ہیں۔ تسکین قلب کے لیے صحیح اور ثابت شدہ کرامات کے چند نمونے پیش کر دئیے گئے ہیں۔ کرامات اولیا کے حوالے سے اردو زبان میں بہت کم کام ہوا ہے مولانا عبدالہادی عبدالخالق شکریہ کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس سلسلہ میں کسی جانبداری کا مظاہرہ کیے بغیر مضمون کو مکمل کردیا ہے۔(ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنےکے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-islami-qanoon-irtadad
ڈاکٹر تنزیل الرحمن
مرتد کی سزائے قتل کے معاملے میں آنحضرتﷺ کے زمانے سے لے کر عہد حاضرتک تمام ائمہ مجتہدین اور علمائے شریعت کا اتفاق رائے پایا جاتا ہے، لیکن ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا ایک مغرب زدہ گروہ احادیث نبوی، آثار صحابہ، ائمہ مجتہدین کی آرا اور چودہ سو سالہ تعامل کے علم الرغم مرتد کی سزائے قتل کو جائز نہیں سمجھتا۔ ایسے میں محترم ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن  نے زیر نظر کتاب لکھ کر اسلامی قانون میں ارتداد کی سزا سے متعلق کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ یہ کتاب اسلامی قانون میں مرتد کی سزا، مالی تصرفات پر پابندی، وصیت و میراث سے محرومی اور اس کی اولاد کے بارے میں متعلقہ احکام پر مشتمل ہے۔ اس میں سب سے پہلے ارتداد کے لغوی اور شرعی معنی کو قرآن، حدیث اور مستند کتب فقہ کی عبارتوں کے ذریعہ مشخص کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ارتداد کی شرائط ذکر کرنے کے بعد ارتداد کے اثرات اور نتائج سے بحث کی گئی ہے۔ یہ اثرات و نتائج مرتد کی ذات سے متعلق ہیں۔ موجودہ دور میں اہمیت کے اعتبار سے مرتد کی ذات سے متعلق احکام اور بالخصوص ’مرتد کی سزائے قتل‘ کے بارے میں مفصل گفتگو کی گئی ہے۔ مرتد کے بارے میں شرعی نقطہ نظر جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔(ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1695 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں