title-pages-aqaliyaton-k-hoqoqe-aur-islamo-fobia
مختلف اہل علم
چندصدیاں پہلے مختلف مذہبی اور نسلی اکائیاں الگ الگ بود و باش اختیار کرتی تھیں اور ان کے درمیان اختلاط و اشتراک بہت کم پایا جاتا تھا ۔ اس لئے اقلیتوں کا وجود کم ہوتا تھا ۔ سترویں صدی کے انقلاب اور جمہوری نظام حکومت کے ارتقاء کے باعث صورتحال میں تبدیلی آئی ۔ اور کثیر مذہبی ، کثیر لسانی ، کثیر تہذیبی اور کثیر نسلی سماج کو ارتقاء حاصل ہوا ۔ چناچہ آج بحثیت مجموع دنیا میں اقلیتیں زیادہ ہیں ۔ خود مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا میں مسلمان اقلیتوں کا تناسب  پچاس فی صد ہے ۔ ان حالات نے  عالمی سطح پر اقلیتوں  کے حقوق کے مسلہ کو اہم بنا دیا ہے ۔ بین الاقوامی قوانین میں بھی اس کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ۔ انسانی حقوق کے چارٹ میں اس کو شامل کیا گیا ہے ۔ اور اسی طرح دنیا کے تمام ممالک کے ملکی قوانین میں بھی اس کی رعایت کی گئی ہے ۔ کیونکہ اکثریت کا استبداد بعض اوقات اقلیت کے لئے  معاشرہ کو ظلم و جور کی بھٹی بنا دیتا ہے ۔ اسی لئے اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ  مسلمانوں نے اپنے اقتدار اور غلبہ کے دور میں بڑی حد تک اس کو ملحوظ رکھا ہے ۔ درج ذیل کتاب  اسی حوالے  سے انڈیا میں منعقد کرائے گئے ایک سیمینار میں کئے گئے مختلف خطابات کا مجموعہ ہے ۔ جس میں متعلقہ موضوع کے تمام پہلووں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئ ہے ۔ (ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-islami-muashra-main-orat-ka-muqam
امین احسن اصلاحی
اسلام زندگی کے ہر شعبوں میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ کسی پہلو کے متعلق اس نے کوئی تشنگی نہں چھوڑی ۔ ہر باب میں اصولی اور جامع رہنمائی اس نے فراہم کر دی ہے ۔ انسانی معاشرت کا ایک اہم ترین اور اساسی مسلہ عورت اور مرد کے باہمی تعلقات کا ان کے تعین میں کئی انسانی سماجوں نے  ٹھوکریں کھائیں ہیں ۔ اور اس باب میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے ہیں ۔ اسلام  نے اس نازک ترین پہلو کی طرف ایک مناسب اور معتدل تعلیم دی ہے ۔ دوسری طرف وہ انسانی معاشرے جو اس حوالے سے  افراط کا شکار ہوئے ہیں ان میں سے ایک موجودہ مغرب بھی ہے ۔ صد افسوس کہ  اس سلسلے میں ان کے افکار و خیالات سے مسلمان بھی متاثر ہو رہے ہیں اور بالخصوص ہماری قوم کا وہ طبقہ ان سے متاثر ہو رہا ہے جو قیادت و سیادت کے منصب پر فائض ہے ۔ وہ ایک طرف تو دیکھتے ہیں کہ جس قوم کی وہ قیادت کر رہے ہیں وہ بڑی پختگی کے ساتھ  اسلامی روایات کو تھامے رکھنے کا عزم کیے بیٹھی ہے ۔ اور دوسری طرف وہ مغربی ذہن و فکر  کے حامل ہونے کی وجہ سے  مغربی اقدار کو بھی اپنانا چاہتے ہیں ۔ ان حالات میں انہوں نے منافقت کی روش بطور پالیسی  کے اپنا رکھا ہے ۔ تاکہ قوم کے اندر بھی اعتماد بحال رہے اور  اپنی مغرب نوازی کا فریضہ بھی ادا ہوتا رہے ۔ اور بتدریج قوم کے اندر تبدیلی لانے میں بھی کامیاب ہوجائیں ۔ زیرنظرکتاب میں انہی دو پہلوؤں کی طرف بالخصوص روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک طرف عورت کے بارے میں اسلام کی دی گئی   اصولی  ہدایات واضح کرنے  کوشش کی گئی ہے اور دوسری طرف مسلم لیڈر شپ کے  منافقانہ روش  کو آشکار کیا گیا ہے ۔ (ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-hamari-badalti-qadrain
پروفیسر ثریا بتول علوی
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جن کی  اساس  ایک نظریہ اور تصور حیات ہے ۔ بلکہ اگر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا  کہ  ساری دنیا  میں صرف یہی ایک  واحد ملک  ہے  جو اپنی ایک  اسلامی نظریاتی اساس  رکھتا ہے ۔ استعمار نے اولیں کوششوں میں تو اسے سنجیدہ نہیں لیا تھا  لیکن  انیس سو  پینسٹھ  کی جنگ میں اہل پاکستان کی باہمی یگاگنت ، اتحاد و اتفاق  اور اخوت وایثار کی بے مثال قربانیاں دیکھیں  تو  اسے اندازہ ہو گیا کہ مملکت خداد  کا  انہدام و زوال اتنا آسان نہیں اور لہذا  دشمن نے ضروری جاناکہ پہلے  ان کے دماغوں سے  اسلام کی  محبت و تصور  کھرچ دیا جائے تو اس کے بعد ان کی تسخیر ممکن ہے ۔ چناچہ انہوں نے  اس سلسلے میں  کوئی محاذ نہ چھوڑا اور  نظام تعلیم کو بالخصوص اپنا ہدف بنا ڈالا ۔ پاکستانیوں کو اپنی زبان  سے بیگانہ کیا  جانے لگا۔انہیں اپنے نظریاتی سانچے میں ڈھالا جانے لگا۔آج اس  کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ  پاکستانی لوگ وہی تہوار اور روایات منارہے ہیں جو  کہ غیر مسلم یا یہود و ہنود  منا رہے  ہیں ۔ مثلا عالمی یوم خواتین ، مزدوروں کا عالمی دن ، ماؤوں کا  عالمی دن ، آبادی  کا عالمی دن وغیرہ ، اس کتاب میں   یہ واضح  کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ   اسلامی شریعت سے  تصادم کس طرح ہے ۔ اسی طرح میرا تھن ریس ،اپریل فول اور ویلنٹائن ڈے بھی مغربی تہوار ہیں ۔اور بسنت تو خالص  تو خالص ہندوانہ تہوار ہے  جن کو پاکستان میں سرکاری سطح پر معروف کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ زیرنظر  کتاب میں  ان موسمی  اور شرکیہ تہواروں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔(ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

title-jadeed-fiqhi-masail
خالد سیف اللہ رحمانی
جدید صنعتی اور فکری انقلاب نے جو بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں ان میں ایک جدید دور میں پیدا ہونے والے مسائل کا فقہی اور شرعی حل بھی  ہے ۔ جو جدید ایجادات  اور نئے معاملات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان  مسائل کا حل کرنا ایک مشکل اور دشوار کام ہے ۔ اس لئے کہ ان کے لیے قرآن و حدیث اور فقہ کے قدیم  ذخیرہ میں ان کی نظائر اور ان سے قریب ترین صورتیں تلاش کرنی ہوتی ہیں ۔ احکام کی علتوں اور  اسباب پر غور کرنا ہوتا ہے ۔ اور اپنے زمانہ کے عرف اور رواج کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے ۔ اس  مشکل اور دشوار کام کو حل کرنا علما کے ذمہ ہے ۔ اور وہی ان کے صحیح حل تلاش کرنے کے اہل ہیں ۔ چناچہ ہر زمانہ کے اہل علم اور اہل افتا نے اپنے اپنے دور کے مسائل حل کیے ہیں ۔ موجودہ دور میں بھی ایسی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں ۔ زیر نظرکتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ مؤلف نے ایسے تمام جدید مسائل کو جن کا تعلق عبادات ، معاشرت اور معاملات اور اجتماعی مسائل سے ہے  یکجا کر دیا ہے ۔ اور نہائت اختصار و ایجاز کے ساتھ ، سہل ، عام فہم زبان اور دل نشین اسلوب میں مسائل پر گفتگو کی ہے اور ہر مسلہ مستند کتابوں سے حوالے اور نظائر  کی روشنی میں لکھا گیا ہے ۔ مصنف کی قابل تحسین بات یہ ہے کہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ  اختلاف سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔ اور جہاں علما کی رائے سے اختلاف کیا ہے وہاں اپنی رائے فتوی کی بجائے تجویز کے لب و لہجہ میں پیش کی ہے ۔ نیز  اس  کے  وجوہ دلائل بھی بیان کر دئیے ہیں ۔( ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-jadeed-fiqhi-masail
خالد سیف اللہ رحمانی
جدید صنعتی اور فکری انقلاب نے جو بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں ان میں ایک جدید دور میں پیدا ہونے والے مسائل کا فقہی اور شرعی حل بھی  ہے ۔ جو جدید ایجادات  اور نئے معاملات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان  مسائل کا حل کرنا ایک مشکل اور دشوار کام ہے ۔ اس لئے کہ ان کے لیے قرآن و حدیث اور فقہ کے قدیم  ذخیرہ میں ان کی نظائر اور ان سے قریب ترین صورتیں تلاش کرنی ہوتی ہیں ۔ احکام کی علتوں اور  اسباب پر غور کرنا ہوتا ہے ۔ اور اپنے زمانہ کے عرف اور رواج کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے ۔ اس  مشکل اور دشوار کام کو حل کرنا علما کے ذمہ ہے ۔ اور وہی ان کے صحیح حل تلاش کرنے کے اہل ہیں ۔ چناچہ ہر زمانہ کے اہل علم اور اہل افتا نے اپنے اپنے دور کے مسائل حل کیے ہیں ۔ موجودہ دور میں بھی ایسی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں ۔ زیر نظرکتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ مؤلف نے ایسے تمام جدید مسائل کو جن کا تعلق عبادات ، معاشرت اور معاملات اور اجتماعی مسائل سے ہے  یکجا کر دیا ہے ۔ اور نہائت اختصار و ایجاز کے ساتھ ، سہل ، عام فہم زبان اور دل نشین اسلوب میں مسائل پر گفتگو کی ہے اور ہر مسلہ مستند کتابوں سے حوالے اور نظائر  کی روشنی میں لکھا گیا ہے ۔ مصنف کی قابل تحسین بات یہ ہے کہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ  اختلاف سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔ اور جہاں علما کی رائے سے اختلاف کیا ہے وہاں اپنی رائے فتوی کی بجائے تجویز کے لب و لہجہ میں پیش کی ہے ۔ نیز  اس  کے  وجوہ دلائل بھی بیان کر دئیے ہیں ۔( ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-jadeed-fiqhi-masail
خالد سیف اللہ رحمانی
جدید صنعتی اور فکری انقلاب نے جو بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں ان میں ایک جدید دور میں پیدا ہونے والے مسائل کا فقہی اور شرعی حل بھی  ہے ۔ جو جدید ایجادات  اور نئے معاملات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان  مسائل کا حل کرنا ایک مشکل اور دشوار کام ہے ۔ اس لئے کہ ان کے لیے قرآن و حدیث اور فقہ کے قدیم  ذخیرہ میں ان کی نظائر اور ان سے قریب ترین صورتیں تلاش کرنی ہوتی ہیں ۔ احکام کی علتوں اور  اسباب پر غور کرنا ہوتا ہے ۔ اور اپنے زمانہ کے عرف اور رواج کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے ۔ اس  مشکل اور دشوار کام کو حل کرنا علما کے ذمہ ہے ۔ اور وہی ان کے صحیح حل تلاش کرنے کے اہل ہیں ۔ چناچہ ہر زمانہ کے اہل علم اور اہل افتا نے اپنے اپنے دور کے مسائل حل کیے ہیں ۔ موجودہ دور میں بھی ایسی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں ۔ زیر نظرکتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ مؤلف نے ایسے تمام جدید مسائل کو جن کا تعلق عبادات ، معاشرت اور معاملات اور اجتماعی مسائل سے ہے  یکجا کر دیا ہے ۔ اور نہائت اختصار و ایجاز کے ساتھ ، سہل ، عام فہم زبان اور دل نشین اسلوب میں مسائل پر گفتگو کی ہے اور ہر مسلہ مستند کتابوں سے حوالے اور نظائر  کی روشنی میں لکھا گیا ہے ۔ مصنف کی قابل تحسین بات یہ ہے کہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ  اختلاف سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔ اور جہاں علما کی رائے سے اختلاف کیا ہے وہاں اپنی رائے فتوی کی بجائے تجویز کے لب و لہجہ میں پیش کی ہے ۔ نیز  اس  کے  وجوہ دلائل بھی بیان کر دئیے ہیں ۔( ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-jadeed-fiqhi-masail
خالد سیف اللہ رحمانی
جدید صنعتی اور فکری انقلاب نے جو بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں ان میں ایک جدید دور میں پیدا ہونے والے مسائل کا فقہی اور شرعی حل بھی  ہے ۔ جو جدید ایجادات  اور نئے معاملات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان  مسائل کا حل کرنا ایک مشکل اور دشوار کام ہے ۔ اس لئے کہ ان کے لیے قرآن و حدیث اور فقہ کے قدیم  ذخیرہ میں ان کی نظائر اور ان سے قریب ترین صورتیں تلاش کرنی ہوتی ہیں ۔ احکام کی علتوں اور  اسباب پر غور کرنا ہوتا ہے ۔ اور اپنے زمانہ کے عرف اور رواج کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے ۔ اس  مشکل اور دشوار کام کو حل کرنا علما کے ذمہ ہے ۔ اور وہی ان کے صحیح حل تلاش کرنے کے اہل ہیں ۔ چناچہ ہر زمانہ کے اہل علم اور اہل افتا نے اپنے اپنے دور کے مسائل حل کیے ہیں ۔ موجودہ دور میں بھی ایسی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں ۔ زیر نظرکتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ مؤلف نے ایسے تمام جدید مسائل کو جن کا تعلق عبادات ، معاشرت اور معاملات اور اجتماعی مسائل سے ہے  یکجا کر دیا ہے ۔ اور نہائت اختصار و ایجاز کے ساتھ ، سہل ، عام فہم زبان اور دل نشین اسلوب میں مسائل پر گفتگو کی ہے اور ہر مسلہ مستند کتابوں سے حوالے اور نظائر  کی روشنی میں لکھا گیا ہے ۔ مصنف کی قابل تحسین بات یہ ہے کہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ  اختلاف سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔ اور جہاں علما کی رائے سے اختلاف کیا ہے وہاں اپنی رائے فتوی کی بجائے تجویز کے لب و لہجہ میں پیش کی ہے ۔ نیز  اس  کے  وجوہ دلائل بھی بیان کر دئیے ہیں ۔( ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-jadeed-fiqhi-masail
خالد سیف اللہ رحمانی
جدید صنعتی اور فکری انقلاب نے جو بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں ان میں ایک جدید دور میں پیدا ہونے والے مسائل کا فقہی اور شرعی حل بھی  ہے ۔ جو جدید ایجادات  اور نئے معاملات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان  مسائل کا حل کرنا ایک مشکل اور دشوار کام ہے ۔ اس لئے کہ ان کے لیے قرآن و حدیث اور فقہ کے قدیم  ذخیرہ میں ان کی نظائر اور ان سے قریب ترین صورتیں تلاش کرنی ہوتی ہیں ۔ احکام کی علتوں اور  اسباب پر غور کرنا ہوتا ہے ۔ اور اپنے زمانہ کے عرف اور رواج کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے ۔ اس  مشکل اور دشوار کام کو حل کرنا علما کے ذمہ ہے ۔ اور وہی ان کے صحیح حل تلاش کرنے کے اہل ہیں ۔ چناچہ ہر زمانہ کے اہل علم اور اہل افتا نے اپنے اپنے دور کے مسائل حل کیے ہیں ۔ موجودہ دور میں بھی ایسی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں ۔ زیر نظرکتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ مؤلف نے ایسے تمام جدید مسائل کو جن کا تعلق عبادات ، معاشرت اور معاملات اور اجتماعی مسائل سے ہے  یکجا کر دیا ہے ۔ اور نہائت اختصار و ایجاز کے ساتھ ، سہل ، عام فہم زبان اور دل نشین اسلوب میں مسائل پر گفتگو کی ہے اور ہر مسلہ مستند کتابوں سے حوالے اور نظائر  کی روشنی میں لکھا گیا ہے ۔ مصنف کی قابل تحسین بات یہ ہے کہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ  اختلاف سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔ اور جہاں علما کی رائے سے اختلاف کیا ہے وہاں اپنی رائے فتوی کی بجائے تجویز کے لب و لہجہ میں پیش کی ہے ۔ نیز  اس  کے  وجوہ دلائل بھی بیان کر دئیے ہیں ۔( ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-ulmae-deen-aur-umraaye-islam
عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری
علم خدا کا اپنے بندوں پر ایک بہت بڑا احسان ہے ۔ اور پھر بالخصوص علم دین  تو  ایک نعمت عظمی سے کم نہیں ۔ قرآنی آیات اور احادیث میں علم دین اور اس علم کو حاصل کرنے والوں کے بہت زیادہ فضائل نقل ہوئے ہیں ۔ کہیں فرمایا کہ فرشتے دینی طالب علم کے قدموں کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں ۔ اور کہیں فرمایا کہ دنیا میں سب سے افضل اور اعلی انسان  ہی وہ  ہے جو اللہ کےقرآن کے تعلیم دیتا ہے ۔ اسی طرح عبداللہ بن مبارک  نے اس علم کی طلب میں پیدا ہونے والی لذت کے بارے میں فرمایا کہ اگر بادشاہوں کو علم ہو جائے کہ اس علم میں کس قدر لذت ہے تو وہ اپنی شان و شوکت والی زندگی چھوڑ کر ہم سے یہ چھیننے آجائیں ۔ اسی طرح  یہ بھی ایک حقیقت  ہے کہ اس علم کی اشاعت میں  امیر ورئیس مسلمانوں نے  حصہ لیا ہے وہ  اسلامی تاریخ میں حیرت انگیز مثالیں ہیں ۔ بالخصوص اس وقت جب  ان طالبان دینی اور اہل  علم معاشی کفالت  و سرپرستی حکومت نے ختم کر دی ۔ ان تاجران دینی نے رضائے الہی کے لئے اس کام بیڑا اٹھایا ۔ زیرنظرکتاب میں انہی دونوں گروہوں کی قربانیاں اور اہم شخصیات کاتذکرہ کیا گیا ہے ۔(ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-tareekhi-uloom-main-tahzeeb-e-islami-ka-maqaam
ڈاکٹر فواد سیزگین
ازمنہ وسطی میں یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا ۔ توہمات و خرافات اس کے دینی عقائد کی حیثیت رکھتے تھے ۔ پھر یکایک تاریخ کے افق پرنشاۃ  ثانیہ  کے دور کا آغاز ہوا ۔جس میں یورپ بیدار ہو گیا ۔ اس  نے مذہبی توہمات کو دفن کر کے سائنس کو اپنا رہبر بنا لیا ۔ تاہم اس کےساتھ ساتھ مذہب کےخلا کو پرکرنے کے لیے الحاد کی طرف مائل ہوگیا ۔ یورپ میں عام طور پر یہ متصور کرایا جاتا ہے کہ اہل یورپ کی یہ بیداری کا سفر یونان  سے شروع ہوا ۔ اور یونان سے  یورپ  اس شاہراہ پر گامزن ہوا ۔ اس دوران مسلمانوں کو تاریخ  کے صفحات سے حذف کر دیا جاتا ہے ۔ زیرنظر کتاب اس اعتراض کو یا اس طرح دیگر اعتراضات کو رفع کرنے کے لیے خطبات کا ایک مجموعہ ہے جو محترم نو مسلم موصوف نے  ریاض  یونیورسٹی  میں  دیے تھے ۔ جن میں اسلام کی ابتدا سے  لے کر چار سو تیس ہجری  تک کے عربی زبان میں مختلف علوم و فنون کا ایک فاضلانہ جائزہ لیا گیا ہے ۔ چناچہ اس سلسلے میں اس کتاب کا مقصد قرآن ، حدیث ، تاریخ ، فقہ ، عقائد ، تصوف ، شاعری  ، لغت  ،  نحو ، بلاغت  ، طب ، بیطرہ ، علم الحیوان ،کیمیا ، نباتیات ، زراعت ، ریاضیات ، فلکیات ، احکامالنجوم ، آثارعلویہ ، فلسفہ ، منطق ، نفسیات ، اخلاق ، سیاسیات ، علم الاجتماع ، جغرافیہ ، طبعیات ، ارضیات اور موسیقی جیسے متنوع میدانوں میں مسلمانوں اور عربوں کے کام کا تعارف کروانا ہے ۔ اور ان علوم پر پائے جانے والے دنیا بھر میں عربی مخطوطات  کی  نشاندہی  کرنا ہے ۔ (ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-taqwa-kaise-ikhtiyar-karain
امام ابوبکر احمد بن محمد بن الحجاج المروذی
دین اسلام میں تقوی اور احسان  کوبہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔اول الذکر کی بنیادخوف جبکہ مؤخرالذکر کی اساس شوق ہے ۔ دونوں ہی ایسے رویے ہیں جن میں اللہ کےتعلق کا اظہار ہوتا ہے ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں تعلیم کتاب حکمت کےساتھ ساتھ تزکیہ نفس پر بھی بہت زور دیا گیا ہے ۔ علمائے امت نے جہاں پہلے میدان میں اپنے اپنے جواہرات بکھیرے ہیں وہاں دوسرا بھی ان کی جولانیوں کا مرکز و محور رہا ہے ۔ چناچہ زیرنظر کتاب امام احمد بن حنبل  جیسے عظیم المرتبت استاذ کے عظیم شاگرد امام ابوبکر احمد بن محمد بن الحجاج المروزی کی مایہ ناز تصنیف ہے ۔ جسے جناب اختر فتح پوری صاحب نے بہت احسن طریقے سے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کچھ  اضافے بھی فرمائے ہیں ۔ ظاہر بات ہے دین میں تقوی کی اساس یہی ہے کہ اللہ سے ڈر کر اور خوف کھاتے ہوئے ان احکام پر عمل کیا جائے جو اس نے اپنے پیغمبر کے ذریعے نازل فرمائے ہیں ۔ اورقرآن میں بھی آیا ہے کہ ائے لوگو! اپنے رب کا تقوی اختیار کرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا ۔ کہیں فرمایا ائے لوگو! جو ایمان لائے ہو صحیح معنوں میں اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ اس کتاب میں دینی احکام کی اسی  روح کو بیدار کیا گیا ہے ۔ اللہ مصنف  اور مترجم  کو  اجر جزیل  سے  نوازے آمین ۔ (ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-taaruf-jamat-e-mujahideen
پروفیسر چوہدری عبد الحفیظ
برصغیرمیں احیائےاسلام کےسلسلےمیں جوکوششیں ہوئی ہیں  ان میں جماعت مجاہدین کاایک نمایاں مقام ہے۔بلکہ اس حوالےسے اگریہ کہہ دیاجائےتوبےجا نہ ہوگاکہ یہ سب سے پہلی جماعت ہےجس نےباقاعدہ ایک نظم کےتحت برصغیرمیں غلبہءاسلام کی جدوجہدکی  اس جماعت کے فکری بانی شاہ ولی اللہ ہیں اور عسکری طورپر اسے ایک نظم کےتحت لانے والے سید احمد شہید ہیں ۔ تقریبا ایک سوسال تک یہ جماعت مسلسل کسی نہ کسی طریقے سے  جدوجہدآزادی میں شریک رہی۔برصغیرکےلوگوں کےاندرجذبہءآزادی  کی روح بہت حدتک اسی جماعت کےرہین منت ہے۔پھربعدمیں یہ جماعت تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہہ گئی ۔اس کی تاریخ کواحاطہءصفحات میں لانےکےلیے سب سے زیادہ کاوشیں مولاناغلام رسول مہر نےکیں۔اس کےعلاوہ بھی بہت سے مصنفین نے اس باب میں دلچسپی لی ۔زیرنظرکتاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔جس میں مصنف نےکچھ نادرمخطوطات کو احاطہءتحریر میں لانےکی کوشش کی ہے۔اس کےعلاوہ مصنف کاکہنا ہےکہ مولانافضل الہی جواس جماعت کےآخری امیرتھے ان کے اہل وعیال کے پاس  اس حوالےسے بہت سا موادپڑھاہواہےبس وہ کسی صاحب قلم کی توجہ کامحتاج ہے۔اسےایک منظم اندازمیں مرتب کرکےمنظرعام پرلایاجائے۔تاکہ اس کےبارےمیں زیادہ سے زیادہ معلومات  میں اضافہ ہو اور مولانا غلام رسول مہر کی یہ بہت خواہش رہی کہ مولانافضل الہی کےپاس چندلمحات گزارنےکاموقع ہاتھ آجائے تاکہ وہ اس کام کو بحسن خوبی سرانجام دے سکیں۔زیرنظرکتاب اسی آرزوکوپایہءتکمیل میں پہنچانےکی ایک کڑی ہے۔(ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-shukartouba-aur-ham
بشیر احمد لودھی
توبہ توفیقات الہی میں سے ایک حسین تحفہ اور مغفرت ،انعامات الہی کاایک بہترین ثمر ہے۔انسان اپنے نفس امارہ کے ہاتھوں اور ماحول کی پراگندگی میں ملوث ہو کر بداعمالیوں کاشکار ہوجاتاہے۔بعض اوقات اسلامی تعلیمات سے بےخبری اورمشرکانہ رسوم ورواجات سے وہ اپنےاعمال کو روشن کرنےکی بجائے سیاہ کرتارہتاہے۔برصغیرکےمسلمانوں کاتو بالخصوص یہ المیہ ہےکہ انہوں نےہندوانہ اورمتصوفانہ  اثرات کےتحت دین اسلام کےمقابلےمیں ایک مشرکانہ ثقافت کو اپنارکھاہے۔یہ طرزعمل آخرت میں رسوائی کا مستوجب بن سکتاہے۔ پیش نظر کتاب میں بشیراحمدلودھی صاحب نے دوسری جنگ عظیم کےبعد احوال عالم میں پیداہونےوالے مشرکانہ رسوم ورواجات  اور ہندوانہ شعارکی نفی اور ابطال کیاہے۔یہ کتاب انفرادی اور اجتماعی توبہ کےایک ایسے راستےکو واضح کرتی ہے جوکتاب وسنت کا واضح تقاضہ اور امت مسلمہ کے موجودہ فساد کو امن میں بدلنے کا واحد راستہ ہے۔مصنف نے بحر وبر کےاس موجودہ فسادانگیز ماحول میں شکر گزار اور ناشکر ےبندوں کےکردارکو بھی واضح کیاہے۔امیدہےیہ کوشش عامۃ المسلمین کے لیےمفیدثابت ہوگی۔(ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-marka-mazhab-wa-science
ڈاکٹر جان ولیم ڈریپر
ازمنہ وسطی کے کلیسائی ظلم و جبر کے خلاف جب یورپ میں ایک بیداری کی لہر اٹھی تو اہل یورپ میں بغاوت مذہب کے میلانات شدت پکڑ گئے ۔ مذہب سے سرعام اظہار تنفر کیا جانے لگا ۔ بلکہ اپنی زندگی کی اساس ہی مخالفت مذہب پر اٹھائی جانے لگی ۔ نتیجۃ ایک ایسی زندگی سامنے آئی جس میں سوسائیٹی کی بنیاد لامذہبیت قرار پائی ۔ اور مذہب کا خلا سائنس سے پر کرنے کی کوشش کی جانے لگی ۔ اس کے لیے تمام تر مفکرین یورپ متحد ہو گئے اور بھرپور کوشش کرنے لگے کہ ایسے نظریات اور افکار سامنے لائے جائیں جو ایک طرف تمدن و تہذیب کی اساس بنیں اور دوسری طرف ضرورت مذہب ختم کریں ۔ زیر تبصرہ کتاب کے مصنف ڈاکٹر ڈرائپر نے مذہب اور سائنس کی اس کشمکش کو جو صدیوں پر محیط تھی اسے تاریخی طور پر سامنے لانے کی کوشش کی ہے ۔ اس سلسلے میں موصوف یونان سے لیکر جدید یورپ تک کی تمام تاریخ کو سامنے لے کر آئے ہیں ۔ تاہم درمیان میں جب مسلمانوں کے حوالے سے تذکرہ کرتے ہیں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موصوف کی اس بارے میں معلومات انتہائی ناقص ہیں ۔ مثلا وہ کہتے ہیں کہ محمدﷺ نے جو پیغام دنیا کو دیا تھا وہ نسطوری عیسائیوں سے لیا گیا تھا ۔ وغیرہ تاہم مولانا ظفر علی خان جو کہ اردو کے مایہ ناز ادیب ہیں انہوں  نے  جہاں اسے بہترین اردو قالب میں ڈھالا ہے وہاں اس طرح غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے ۔ (ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-seerat-e-ayeshara
سید سلیمان ندوی
آج مسلمانوں کے اس دور انحطاط میں ، ان کے انحطاط کا بحصہ رسدی آدھا سبب عورت ہے ۔ وہم پرستی ، قبر پرستی ، جاہلانہ مراسم ،غم و شادی کے موقعوں پر مسرفانہ مصارف اور جاہلیت کے دوسرے آثار ، صرف اس لیے ہمارے گھروں میں زندہ ہیں کہ آج مسلمان بیبیوں کے قالب میں تعلیمات اسلامی کی روح مردہ ہو گئی ہے ، شاید اس کا سبب یہ ہو کہ ان کے سامنے مسلمان عورت کی زندگی کا کوئی مکمل نمونہ نہیں ۔ آج ہم ان کے سامنے اس خاتون کا نمونہ پیش کرتے ہیں ، جو نبوت عظمی کی نو سالہ  مشارکت  زندگی کی بنا پر خواتین خیرالقرون کے حرم میں کم و بیش چالیس برس تک شمع ہدایت رہی ۔ ایک مسلمان عورت کے لیے سیرت عائشہ میں اس کی زندگی کے تمام تغیرات ، انقلابات اور صائب ، شادی  ، رخصتی ، سسرال ، شوہر، سوکن ، لاولدی ، بیوگی ، غربت ، خانہ داری ، رشک و حسد ، غرض  اس کے ہر موقع اور ہر حالت کے لیے تقلید کے قابل نمونے موجود ہیں ۔ پھر علمی ، اخلاقی ہر قسم کے گوہر گرانما یہ سے یہ پاک زندگی مالال ہے ۔ اس لیے سیرت عائشہ اس کے لیے ایک آئینہ خانہ ہے جس میں صاف طور پر یہ نظر آئے گا کہ ایک مسلمان عورت کی زندگی کی حقیقی تصویر کیا ہے ؟ اس کے علاوہ بھی  سیرت عائشہ کا مطالعہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ ایک دنیا کی عظیم ترین انسان کی سیرت کا مطالعہ ہے ۔ اللہ تعالی ہماری خواتین کو ان کے نقوش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔(ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-seerat-e-aazad
عبد المجید سوہدروی
مولانا ابو الکلام  آزاد کی ذات  تعارف کی محتاج نہیں ۔ آپ ایک منفرد حیثیت کی حامل شخصیت تھے ۔ آپ علوم اسلامیہ کے بحرذ خار تھے ۔ وہ اپنے علمی تبحر اور اپنے علم و فضل کے ساتھ جامع الکمالات شخصیت کے حامل تھے ۔ وہ بیک وقت مفسر قرآن ، محدث ، مؤرخ ، محقق ، متکلم ، فلسفی ، فقیہ ، معلم ، ادیب ، شاعر ، نقاد ، دانشور ، سیاست دان اور مبصر بھی تھے ۔ غرض ان کے راہوار قلم کی جولانیوں سے کوئی میدان بھی محروم نہیں رہا ۔ ادب و تنقید کا میدان ہو ، یا تاریخ و سیر کا ، قرآن مجید کی تفسیر ہو یا حدیث نبوی ﷺ کی تشریح و توضیح ، سیاسی موضوعات ہو یا دقیق علمی مباحث ، ہر موضوع پر ہر وقت ان  کا اشہب قلم یکساں جولانی دکھاتا تھا۔ اور ان سب تخلیقات کے پس منظر میں مولانا ابوالکلام  آزاد کی رنگا رنگ شخصیت قوس و قزح کی طرح نمایاں رہتی ہے ۔ ان اعتدال اور توازن بدرجہ اتم موجود تھا ۔ خود آرئی سے نفرت ، انکسار، تواضع ، سادگی ، خاکساری حق گوئی ، عالی ظرفی ، ثابت قدمی جیسی صفات پائی جاتی تھیں ۔ وہ اپنی ذات میں مرقع حیات تھے ۔ شورش کے الفاظ میں وہ ہندستان کے ابن تیمیہ تھے ۔ زیرنظر کتاب میں بھی ان کی شخصیت کے چند گوشوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔(ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-salatu-al-mustafasaww
محمد علی جانباز
نماز اسلام کا دوسرا بڑا اہم رکن ہے ، جو تمام عبادات اور نیکیوں کی جڑ اور اصل الاصول ہے ۔ یہ اسلام کا وہ فریضہ ہے جس سے کوئی مسلمان متنفس ، جب تک اس میں کچھ بھی ہوش و حواس باقی ہے ، کسی حالت میں بھی سبکدوش نہی ہو سکتا ۔ قرآن مجید میں سو سے زیادہ مرتبہ اس کی تعریف ، اس کی بجاآوری کا حکم اور اس کی تاکید آئی ہے ۔ اس کے ادا کرنے میں سستی اور کاہلی نفاق کی علامت اور اس کا ترک کفر کی نشانی بتائی گئی ہے ۔ نماز کے بنیادی طور پر دو پہلو  ہیں ایک اس کی ترغیب و ترہیب جبکہ دوسرا اس کے احکام و مسائل کے حوالے سے ہے ۔ زیر مطالعہ کتاب نماز کے مؤخرالذکر پہلو پر ہے ۔ اس میں قاری کو فرائض کے علاوہ سنن ، نوافل مثلا صلاۃ استسقا ، نماز سورج و چاند گرہن ، نماز جنازہ اور استخارہ وغیرہ کی مفصل کیفیات بھی پڑھنے کو ملیں گی ۔ اور پھر یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مذکورہ نمازوں میں کہاں کہاں کن کن ادعیہ کو پڑھنا مسنون ہے ۔ ساتھ ساتھ ان سب کے دلائل بھی مع حوالہ درج ہیں ۔ پھر مزید یہ ہے کہ اختلافی مسائل کو احادیث صحیحہ کے علاوہ خود مشاہیر علمائے احناف کے اقوال و فتاوی سے بھی مزین کیا گیا ہے ۔ اللہ مصنف کو اجر جذیل سے نوازے اس سے پہلے وہ نماز کے ترغیب و ترہیب کے پہلو پر ایک مفصل کتاب لکھ چکے ہیں ۔(ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-quran-wa-hadith-ki-roshni-main-naam-aur-alqab
محمد مسعود عبدہ
ناموں کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے اسی علم کی بنا پر حضرت انسان نے فرشتوں پر فوقیت پائی تھی اور اسی کی وجہ سے انسان مسجود ملائک بنا ۔  رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ انسان کی شخصیت میں اس کے نام کی بہت تاثیر ہوتی ہے ۔ اگر نام اچھا ہو گا تو یعنی اس کا معنی اچھا ہو گا تو  انسان کے اوپر اس کا اثر بھی اچھا ہی پڑے گا اور اگر نام برا ہو گا تو اس کا اثر بھی برا ہی پڑے گا ۔ پھر یہ ہے کہ نام ہمیشہ ایسا ہونا چاہیے جو اسلامی تعلیمات کے منافی نہ ہو یا جس کے بارے میں اسلام نے ناپسندیدگی کا اظہار نہ کیا ہو ۔ بلکہ ہمیشہ ایسا نام رکھنا چاہیے جو اسلام کی تعلیمات کے عین  مطابق ہو ۔ نام ہی وہ واحد مظہر ہے جو بتاتا ہے موسوم کیا ہے؟ کون ہے؟ کیسا ہے؟ نام حواس کے لئے کسی چیز کی ماہیت دریافت کرنے کا سب سے پہلا ذریعہ ہے ۔ نام رابطے ، محبت اور حسن سلوک میں زینے کا کام دیتا ہے ۔ نام اگر خوبصورت چیز سے وابستہ ہو تو سن کر دل و نگاہ  عقیدت سے جھک جاتے ہیں ۔ نام اگر محبوب سے تعلق رکھتا ہو تو سن کر آتش شوق بھڑک اٹھتی ہے ۔ زیرنظر کتاب میں تفصیلی طور پر اس بات کی طرف  رہنمائی کی گئی ہے کہ نام کونسے رکھنے چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ ناموں کی ایک تفصیل بھی دی ہے ۔(ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 866 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں