ahnafkarasoolullahseikhtilaf-copy
حافظ فاروق الرحمٰن یزدانی
یہ کتاب مولوی عمر پالن پوری دیوبندی کی کتاب "اہلحدیث کا خلفائے راشدین سے اختلاف" کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔ فاضل مصنف حافظ فاروق الرحمٰن یزدانی چونکہ خود پہلے حنفی رہ چکے ہیں۔اور حنفیت ہی ان کا پسندیدہ موضوع بھی ہے۔ لہٰذا پالن پوری صاحب کے جواب میں انہوں نے  اپنے رشحہ قلم سے تقلید کی نامرادیوں کو خوب طشت از بام کیا ہے۔ مصنف اس حوالے سے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ نہ صرف خود ہی شاہراہ توحید و سنت پر گامزن ہوئے بلکہ دیگر بھائیوں کی رہائی کیلئے بھی کوشاں نظر آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ان کی ایسی ہی ایک بہترین کاوش ہے جس کے پہلے حصے میں احناف کی طرف سے تقلید کی تائید میں پیش کئے جانے والے تار عنکبوت دلائل و شبہات کا خوب محاکمہ کیا ہے۔ اور دوسرے حصے میں فقہ حنفی کے ان مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہیں۔ اس حصے میں مسئلہ کی تشریح و تبیین کیلئے پہلے احادیث ذکر کی گئی ہیں اور بعد میں احناف کے احادیث نبوی کی مخالفت مین اقوال پیش کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب راہ اعتدال کی نشاندہی کرتی ایک لاجواب تصنیف ہے۔

title-page-tablighijamatkatahqiqijaiza-copy
عبید الرحمٰن محمدی
اس کتاب میں تبلیغی جماعت اور اس کی معروف کتاب "فضائل اعمال" کے اصلاح طلب پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ فاضل مصنف نے مسلسل چار سالوں تک تبلیغی جماعت کے رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کرنے کے بعد اپنے تاثرات و مشاہدات کو قلم بند کیا ہے۔ تبلیغی بھائیوں میں یہ مقولہ زبان زد عام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں میں کامیابی ہے، زیر تبصرہ کتاب کی گزارشات جذبہ خلوص کے تحت اسی مقولہ کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں تبلیغی جماعت نے اپنے کام اور طریقہ کار میں ایسی چیزیں شامل کر لی ہوں، جو نہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہو اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ؟ تبلیغی بھائیوں کے لئے جذبہ ہمدردی اور اخلاص کے تحت لکھی گئی اصلاحی تحریر۔

risalatobashriat-copy
محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
قرآن نے جو نقشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل پائے جانے والے نظریات کا کھینچا ہے، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ لوگ یہ تسلیم نہیں کرتے تھے کہ کوئی شخص بشر (انسان) ہو کر اللہ تعالٰی کا رسول بھی ہو سکتا ہے۔ اور آج یہی نظریات مسلمانوں کے ایک خاص گروہ میں پائے جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج کے مسلمان کہلانے والے انہیں رسول مان کر بشر تسلیم نہیں کرتے۔ گویا بشر اور رسول کے ایک ذات میں جمع ہو جانے کے دونوں گروہ منکر ہیں۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے اسی باطل گروہ کے اس باطل عقیدے کا کتاب و سنت کی روشنی سے رد کیا ہے اور ان کی طرف سے پیش کئے جانے والے تار عنکبوت دلائل و شبہات کا خوب علمی محاکمہ کیا ہے۔ نور و بشر کے موضوع پر بے نظیر تصنیف ہے۔

siratemustaqeem-copy
صغیر احمد بہاری
مشہور دیوبندی عالم یوسف لدھیانوی صاحب کی کتاب "اختلاف امت اور صراط مستقیم" کے جواب میں فاضل مؤلف نے نہایت محنت اور دیدہ ریزی سے مدلل اور محققانہ جواب لکھا ہے۔ چونکہ اس کتاب میں فریقین کے موقف سامنے آ گئے ہیں لہٰذا گم گشتان بادہ تقلید کیلئے یہ کتاب اب ایک مینارہ نور کی حیثیت  رکھتی ہے۔ اگرمسلکی تعصب کی عینک اتار کر للّٰہیت اور خلوص قلب سے اصلاح نفس کی خاطر مطالعہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلکی موشگافیوں میں صراط مستقیم کو کھو دینے والا شخص دوبارہ اس شاہراہ روشن کا مسافر بن جائے۔ مسلکی اختلافات پر ایک چشم کشا اور عمدہ ترین تصنیف

jaalijuzzkikahaniaurulemairabbani-copy
حافظ ندیم ظہیر
کچھ ہی عرصہ پہلے بریلوی مکتب فکر کی طرف سے "الجزء المفقود من الجرز الاول من المصنف" عربی میں اور "مصنف عبد الرزاق کی پہلی جلد کے دس گم گشتہ ابواب" اردو میں چھپے ہیں جو الجزء الموضوع (جعلی جزء) کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ اس "دریافت" میں بریلوی حضرات نے حدیث نور سمیت اپنے دیگر باطل عقائد کو سہارا دینے کیلئے احادیث کو گھڑا ہے۔ جس کا رد عالم اسلام کے بہت سے طبقات کی طرف سے کیا گیا ہے۔ عربی و عجمی علماء نے مختلف انداز میں اس نسخہ کا بطلان بہت سے دلائل سے ثابت کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے نام پر سینکڑوں بدعات کو فروغ دینے والے احباب کیلئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کتنے خطرناک طریق پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ و بہتان باندھ رہے ہیں۔ مسلکی تعصب اور تقلیدی جمود کے نتائج ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ اس کتاب میں حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ سمیت ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ، محمد یحیٰ گوندلوی، محمد داؤد ارشد کے علمی مقالات شامل ہیں۔  یہ کتاب ہر اس رہِ گم کردہ مسلمان کو فکر انگیز دعوت دیتی ہے جو ابھی اخلاص کی کچھ مقدار اور ایمان کی کچھ رمق دل میں تازہ رکھتا ہے۔

ghairullahkipukarkishareehaisiat-copy
ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

توحید یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کو اسباب سے بالاتر نہ پکارا جائے۔ لیکن آج کے نام نہاد مسلمانوں نے ہر کام کیلئے الگ الگ پیر بنا لئے ہیں جن سے مختلف قسم کی مافوق الاسباب امداد و استعانت طلب کی جاتی ہے۔ بیٹے دینے والا پیر الگ ہے تو خزانے بخشنے والا کوئی اور۔ بہشتی دروازہ کسی کے پاس ہے تو بیماریاں دور کرنے والا پانی کسی اور کے پاس۔ بالکل اسی طرح جیسے مشرکین الگ الگ بتوں سے الگ الگ کاموں کی توقعات رکھتے تھے۔ فاضل مصنف نے اس نازک اور حساس موضوع پر نہایت ہی عمدہ طریقے سے کتاب و سنت کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کو اسباب سے بالاتر پکارنا شرک ہے۔ غیر اللہ سے مدد طلب کرنے والوں کے تار عنکبوت دلائل اور شبہات کا بھرپور علمی محاکمہ کیا ہے۔

 

 

majlisezikrkeeshareehaisiat-copy
عبد القدوس سلفی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم مین لے جانے والی ہے۔ اتنی سخت وعیدیں ہونے کے باوجود آج مسلمانوں کی اکثریت دین کے نام پر بدعات کا شکار ہے۔ "مجلس ذکر" بھی اسی سلسلہ کا ایک شاخسانہ ہے۔ اللہ کے ذکر کے نام پر سادہ لوح مسلمانوں کو اکٹھا کر کے بدعات کا رسیا بنایا جاتا ہے۔ ان خودساختہ مصنوعی اذکار کی اتنی فضیلت بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالٰی کے بجائے حضرت صاحب اور پیر صاحب سے تعلق گہرا ہوتا ہے۔ پھر امر بھی انہی کا چلتا ہے اور طاعت بھی۔ قرآن کے مطابق یہی تو پیروں کو رب بنانا ہے۔ اس کتابچہ میں مصنف نے ڈائیلاگ کے انداز میں نہایت ہی سادہ اور عام فہم طریق سے مجلس ذکر کی شرعی حیثیت کو واضح کیا ہے ۔

 

 

chorikmutaliqqanoonilahiaurqanoonehanfi-copy
حافظ عبد السلام بن محمد
چوری ایک ایسا قبیح فعل ہے جو دنیا کے ہر قانون میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ جس کے اخلاقاً اور شرعاً جرم ہونے پر کوئی دو رائے نہیں۔ اس لئے اس گناہ کبیرہ کے مرتکب کی عبرت ناک سزا بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو چوری ثابت ہونے پر اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی سزا سے مستثنٰی کرنے پر تیار نہیں لیکن دوسری طرف فقہائے احناف نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس گھناؤنے جرم کے مرتکب کو حد سے بچانے کی سر توڑ کوشش کی ہے۔ اور قانون الٰہی میں بھی تغیر و تبدل سے گریز نہیں کیا مثلاً شیشہ، کتاب اور کفن چور پر حد نہیں ہے۔ مسجد سے چوری پر حد نہیں ہے ۔ وغیرہ۔ جبکہ چوری اس نوعیت کا جرم ہے کہ عدالت میں مقدمہ پیش ہونے کے بعد متاثرہ شخص کے معاف کر دینے سے بھی حد ساقط نہیں ہوتی۔ لیکن صد افسوس ہے کہ فقہ حنفی چوروں کو بھی عدالت اسلامی کے کٹہرے سے نکال کر تقلیدی دامن عافیت میں پناہ دیتی نظر آتی ہے۔ زیر نظر کتاب میں انہی حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو جہاں قابلِ غور ہے وہاں دعوت فکر بھی دیتی ہے۔

title-page-chehre-ka-parda-copy
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
عورت اور مرد کے جسمانی خدوخال کی مخالفت کی وجہ سے شریعت نے ان کے جسم کو چھپانے کے احکامات الگ الگ مقرر کیے ہیں-اس لیے عورت کو ہر وقت پردے میں رہنے کا حکم جبکہ مرد کے مختصر لباس کو بھی جائز قراردیا ہے-عورت کے پردے کے حوالے سے بہت ساری بحثیں موجود ہیں کچھ لوگ عورت کے پردے کے قائل ہیں لیکن چہرے کے پردے کے قائل نہیں اور کچھ چہرے کے پردے کے قائل ہیں-مصنف نے دونوں رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے جانبین کے دلائل کو پیش کرکے قرآن وسنت سے ان کی حیثیت کو واضح کرکے شرعی راہنمائی فراہم کی ہے-علامہ البانی کے چہرے کے پردہ کے قائل نہ ہونے کی وجوہات کچھ اور ہیں اور غامدی اور اس طرح دوسرے لوگوں کے نزدیک عورت کے چہرے کے پردے کا قائل نہ ہونے کی وجوہات کچھ اور ہیں اس لیے مصنف نے ہر گروہ کے افکار ودلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے حساب سے جواب دیتے ہوئے قرآن وسنت سے اپنے موقف کی ترجمانی کو پیش کیا ہے اور اسی طرح کتاب کے آخر میں پردے کے حوالے سے پائے جانے والے مختلف شبہات کو الگ الگ بیان کر کے ان کا بھی علمہ محاکمہ کیا ہے اور کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے ہر بات دلائل کی روشنی میں کی ہے اور ہر باب کے آخر میں تمام حوالہ جات کو بھی پیش کیا ہے تاکہ قاری اگر اصل مراجع ومصادر سے استفادہ کرنا چاہتا ہو تو اس کو آسانی رہے-
roohazabeqabaraursamaemotaa-copy
عبد الرحمن کیلانی
عبدالرحمٰن کیلانی صاحب کی یہ کتا ب دراصل ترجمان الحدیث اور محدث میں چھپنے والے سلسلہ وار مضامین کا مجموعہ ہے۔ کتاب کا موضوع کتاب کے نام سے ظاہر ہے اور شاید مسلمانوں کا کوئی فرقہ اور کوئی طبقہ ایسا نہ ہوگا جو اس موضوع سے گہری دلچسپی نہ رکھتا ہو۔  ان مسائل میں کچھ لوگ اگر افراط کی راہ پر نکل کر گمراہ ہوئے تو کچھ رد عمل میں تفریط کا شکار بنے۔ زیر تبصرہ کتاب اس موضوع پر کتاب و سنت کی صحیح راہنمائی مہیا کرتے ہوئے اعتدال کی راہ دکھاتی ہے۔  اس کتاب میں احناف اور توحیدی گروہ کے بانی کیپٹن عثمانی کے  افراط و تفریط پر مشتمل عقائد پیش کر کے ان کا علمی محاکمہ کیا گیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے عالم برزخ کی زندگی اور دنیاوی زندگی کی صورت حال کو واضح کیا ہے،روح کا سفر اور شہید کی زندگی کا تصور،سماع موتٰی کے بارے میں مختلف اقوال ورائے اور اس کی  استثنائی صورتیں،برزخی جسم اور برزخی قبر کا تعارف، توحیدی گروہ کے بانی کیپٹن عثمانی کے پیدا کردہ مختلف شبہات کا بھرپور علمی رد پیش کیا ہے،اور اسی طرح سماع موتی کی آڑ لے کر اولیاء کو تصرفات کا حامل قرار دینا اور کیا سماع موتی کے عقیدے سے بندہ مشرک ہو جاتا ہے یا نہیں ،ایسی ابحاث کو حتی الامکان معتدلانہ رویے کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے-کتاب کا انداز انتہائی سادہ اور عام فہم ہے اور بات کو نکھارنے اور سمجھانے کی غرض سے مختلف استفسارات اور سوالات کو پیش کرکے ان کا جواب بھی تحریر کر دیا گیا ہے تاکہ سوال کے ساتھ جواب بھی موجود ہو اور بات بالکل واضح ہو کر لوگوں میں حق اور باطل میں فرق کرنے کا شعور بیدار کر سکے-

shariatotareeqat-copy
عبد الرحمن کیلانی
دین رہبانیت، صوفیت، صوفی ازم، طریقت کے متوالوں کو سنہری شریعت دین اسلام کی طرف راغب کرنے کیلئے لکھی گئی بہترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں طریقت کے حق میں دیے جانے والے دلائل اور شخصیات کا احترم آمیز انداز میں بہترین اور باحوالہ علمی محاسبہ کیا گیا ہے۔ ایسی کتاب ہے جو صراط مستقیم کے غیر متعصب  متلاشی کو واقعی راہِ حق دکھانے کی قوت رکھتی ہے۔ دین طریقت کے مختلف بنیادی نظریات، وحدت الشہور، حلول، وحدت الوجود کا علمی محاسبہ۔  ولایت، کرامت، تصوف،  باطنی علوم، قیوم،قطب، ابدال، صوفیاء اور محدثین، اولیاء اللہ اور گستاخی، عشق و مستی، سماع و وجد،  جام و مے، تصور شیخ، حضرت خضر علیہ السلام کی شخصیت، رجال الغیب، پیران پیر، شیعیت، خرقہ، لوح محفوظ، آستانے، مزارات، درگاہیں، ولایت یا خدائی، علم غیب، تصرف، توجہ ،بیعت،شفاعت، اولیاء اللہ کے مقابلے، ولی بننے کے طریقے، کرامات اور استدراج،صوفیائے کرام کی تعلیمات، اولیاء اللہ کی کرامات اور انبیاء کرام کے معجزات کا تقابلی جائزہ، تصرف باطنی، مشاہدہ حق، دیدار الٰہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات و وفات، ذکر قلندریہ، ذکر نور اور کشف قبور، محبت الٰہی، صحبت بزرگان، صوفیائے کرام کا تفسیری انداز، موضوع احادیث و واقعات، شریعت و طریقت کا تصادم، توحید، رسالت،قرآن،نکاح سے گریز، جنت اور دوزخ کا مذاق، ارکان اسلام کا مذاق اشرف علی تھانوی کا اعتراف حقیقت، خورشید احمد گیلانی اور روح تصوف، شریعت و طریقت کاتقابلی جائزہ

title-page-insan-ki-azmat-ki-haqiqat-copy
ابو محمد بدیع الدین راشدی

اہل تصوف جو خود کو اہل حقیقت کہتے ہیں کی اہل توحید سے چپقلش کوئی نئی بات نہیں۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی یہ کتاب ہے۔ یہ دراصل علامہ سید بدیع الدین شاہ صاحب کا لکھا ہوا مقدمہ ہے جو عبد الکریم بیر شریف کی ایک متصوفانہ تقریر بزبان سندھی "انسان کی عظمت" کے جواب میں ایک حنفی المسلک محمد حیات لاشاری صاحب کی طرف سے لکھے گئے جواب کا مقدمہ ہے۔ لاشاری صاحب کی اصل کتاب تو مفقود ہو گئی۔ لیکن شاہ صاحب کے مقدمہ کا مسودہ باقی رہا۔ رسالہ "انسان کی عظمت" میں بہت سی باتیں اسلام کی روح کے خلاف پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالٰی کیلئے مخلوق سے مثالیں، قرآن مجید کی لفظی و معنوی تحریف، موضوع اور ضعیف روایات، صفات الٰہی کی توہین، (نعوذ باللہ) وغیرہ۔۔صوفیانہ افکار اور باطل عقائد کے رد پر نہایت ٹھوس علمی اور دقیق زبان میں شاندار تصنیف ہے۔

 

samaemotaa-copy
پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر ہےلیکن صد افسوس کہ  امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  میں سے بہت سے لوگ  مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے  کا مسئلہ شرک  کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے- موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں-زیر نظر کتاب میں سماع موتی سے متعلق تمام اشکالات کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے-کتابچہ سوال وجواب کی صورت میں مرتب کیا گی ہے جو افہام وتفہیم کا آسان ترین ذریعہ ہےمعمولی پڑھا لکھا آدمی بھی باآسانی مستفید ہوسکتا ہے-جس میں لوگوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے مختلف شبہات کو سوال کی صورت میں پیش کر کے قرآن سنت کی راہنمائی کو جواب کی صورت میں پیش کیا ہے-

mazhabiosayasibaway-copy
امیر حمزہ
دین اسلام میں جتنی مذمت شرک کی کی گئی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی گئی لیکن صد افسوس کہ امت مسلمہ اسی قدر شرک کے اندھیرنگری میں اندھادھند بھٹک رہی ہے- نام نہاد صوفیاء کرام مسلمانوں کے ایمان کے ساتھ آنکھ مچولی کرنے میں مصروف ہیں- زیر نظر کتاب میں مولانا امیر حمزہ نے برصغیر پاک وہند کے بہت سے درباروں کا آنکھوں دیکھا حال پیش کیا ہے –مولانا نے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے وہاں کی درگاہوں اور گدیوں پر ہونے والے شرمناک مناظر سے نقاب کشائی کی ہے- کتاب کے شروع میں اس غلط فہمی کا بھی  ازالہ کر دیا گیا  ہے کہ اہلحدیث حضرات اولیاء کرام کی شان میں گستاخی کرتے ہیں-کتاب اپنے اسلوب، دلائل اور مشاہدات کے اعتبار سے منفرد حیثیت کی حامل ہے-مصنف  نے کتاب میں مختلف نام نہاد پیروں فقیروں کی کرتوں سے بھی نقاب اٹھا کر سادہ لوح لوگوں کو یہ دیکھانے کی کوشش کی ہے کہ جن کو وہ ولی اللہ اور پہنچے ہوئے سمجھتے ہیں وہ حقیقت میں کتنے بھیانک چہرے والے ہیں-بے چارے بھٹکے ہوئے لوگوں کی عزتوں کو تار تار کرنا،زنا کے اڈے بنانا،چرس اور افیون کا کھلا استعمال، پھر ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ ولی تقدیر کو بدل دیتا ہے،جھوٹی کرامتیں،شعبدہ بازیاں،مادر زاد ننگے جسم کے ساتھ جلوہ افروز پیر،بابے کا چاند میں نظر آنا یہ وہ غلط نظریات ہیں جو لوگوں میں بڑی گہرائی کے ساتھ سرایت کر گئے ہیں مصنف نے ان چیزوں کا آنکھوں دیکھا مشاہدہ لوگوں کے سامنے بیان کر کے ان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے-

asbaabikhtilafalfuqaha-copy
ارشاد الحق اثری

زیر تبصرہ کتاب دراصل شیخ محمد عوامہ کی تصنیف "اثر الحدیث الشریف فی اختلاف الفقہاء" ، جس کا خلاصہ دیوبندی آرگن ماہنامہ بینات میں شائع ہوا ، کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔ شیخ عوامہ نے اپنی کتاب میں ائمہ فقہاء کےاختلافات کے حقیقی عوامل بیان کرنے کے بجائے درحقیقت محدثین کرام رحمہم اللہ کے اس عام تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ میں حفظ و ضبط کی کمی تھی اور وہ دوسرے ائمہ حدیث کی نسبت حدیث کا کم علم رکھتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے ائمہ حدیث کے بارے میں اپنے روایتی عناد کا مظاہرہ بھی کیا ۔ ان کی انہی بے اصولیوں کا جائزہ اس کتاب میں لیا گیا ہے ۔ جب قرآن ایک، نبی ایک، قبلہ ایک، دین ایک ۔۔ پھر امت میں اتنے اختلافات کیوں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے متمنی ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ یقیناً بصیرت مہیا کرے گا۔ چونکہ یہ ایک دقیق علمی موضوع ہے۔ اس لئے عام حضرات کیلئے یہ کتاب تفہیم کے لحاظ سے کچھ مشکل ہو سکتی ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم اپنے قارئین سے درخواست کریں گے کہ وہ پھر بھی اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔

 

 

pages-from-toheed-or-ham2-r-copy
بشیر احمد لودھی
عقیدہ توحید ایمان کی بنیادی اساس ہے اس لیے اس کی کوتاہی ناقابل معافی جرم ہے-مصنف نے اس کتاب میں عقیدہ توحید کی اہمیت کے پیش نظر توحید کے معاملے میں پائی جانے والی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے عقیدہ توحید کی وضاحت کی ہے-عقیدے کی خرابیوں میں مذاہب باطلہ کا الہ کے بارے میں تصور اور پھر عقیدے کی خرابی کی چند ایک مثالیں بیان کی ہیں،توحید الوہیت،توحید ربوبیت اور توحید اسماء وصفات،مسئلہ شفاعت كا بيان،وسیلے کا معنی ومفہوم اور اس کا طریقہ کار اور لوگوں کے پائے جانے والے غلط عقائد کی نشاندہی،اور پھر آخر میں دعا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ہر مسلمان کے لیے ثابت کیا کہ وہ ہر مشکل میں خود اللہ تعالی سے دعا کرے اور کسی غیر کے سامنے جھکنے کی بجائے اللہ کے سامنے ہی سجدہ ریز ہونا چاہیے-

jashnemeeladyomewafatpar-copy
ابو عدنان محمد منیر قمر
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  جس قدر بدعات کی مذمت کی ہے ، بدقسمتی سے امت مسلمہ اسی شدومد کے ساتھ بدعات کے طوفان میں گھرتی چلی جارہی ہے-انہی میں سے ایک خطرناک بدعت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر عیدمیلاد النبی کا خصوصی اہتمام ہے، بہت سے نام نہاد روحانی پیشوا اپنے اپنے مفادات کی خاطر اسے ترویج دینے میں ہمہ تن مصروف ہیں-حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی؟ اور آپ کی ولادت پر جشن کا اہتمام کرنا جائز  ہے یا ناجائز؟ زیر نظر کتاب میں مصنف نے اس طرح کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دیتے ہوئے صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور آئمہ کرام کا اس جشن کے حوالے سے مؤقف واضح کیا ہے- کتاب کے آخر میں جشن میلاد النبی منانے والوں کے تمام دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی رد کیا گیا ہے -
teentalaqmajmooamaqalatilmiaconference1-copy
عطاء اللہ حنیف بھوجیانی
یہ مجموعہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی نے تیار کیا ہے جو اصل میں ایک سیمینار کی روداد ہے جو کہ ہندوستان کے مشہور شہر احمد آباد میں نومبر1973میں طلاق ثلاثہ کے حوالے سے ہی منعقد کیا گیا تھا جس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے شرکت کی اور اس حساس موضوع پر اپنے اپنے خیالات کا مقالہ جات کی روشنی میں اظہار کیا ہے-جس کو بعد میں کتابی شکل دے کر مزید اضافہ جات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے-اس میں طلاق ثلاثہ کے حوالے سے مفصل بحث کی گئی ہے اورطلاق ثلاثہ سے متعلق بعد میں علماء کی ایک متفقہ رائے کو بھی پیش کیا گیا ہے-ایک سوالنامہ بنا کر علماء کی خدمت میں پیش کیا گیا جس پر انہوں نے اپنے اپنے مقالے تصنیف کیے-زیر بحث چیزیں طلاق کا طریقہ،مسنون طلاق،طلاق ثلاثہ کا طریقہ،اور غیر شرعی طلاق ثلاثہ کا طریقہ،غصے کی حالت میں دی گئی طلاق کا واقع ہونایا نہ ہونا اور اس کے علاوہ طلاق سے متعلقہ بے شمار مسائل کو بیان کیا گیا ہے-

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2181 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں