pages-from-akhlaaq-e-nabvi-key-sunehrey-waqiyaat
عبد المالک مجاہد

اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھاکر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ ﷺ لوگوں کوبھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کےبارے میں حضرت انس﷜ کہتے ہیں۔ رایتہ یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات‘‘ اشاعت کتب کے معروف انٹر نیشنل ادارے دار السلام کے ڈائریکٹر جناب مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی ایک منفر د کاوش ہے۔ موصوف نے مختلف کتب سیرت و تاریخ سے استفادہ کر کے ان واقعات کو ایک جگہ یکجا کردیا ہے۔ ان واقعات سے ہمیں آپﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں اخلاق نبویﷺ کے ایک سو سنہرے واقعات کو جمع کیا ہے اور پوری کوشش سے صرف ان واقعات کو شامل کیا ہے جو صحیح ہیں اور ان کاتذکرہ مستند کتابوں میں ہے۔ درالسلام لاہور برانچ کی ریسرچ ٹیم کی اس کتاب پر تحقیق وتخریج سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-siraf-panch-mint-ka-madrisa-2-copy
مختلف اہل علم

خطابت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے، جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات  کودوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے۔ زیرتبصرہ کتاب"صرف پانچ منٹ کا مدرسہ" مختلف علماء کرام کی مشترکہ کاوش ہے، جس میں انہوں نے خطباء اور واعظین کے لئے پورے عربی سال کے حساب سے تین سو ساٹھ دروس اکٹھے کر دئیے ہیں اور ان میں طریقہ کار یہ اختیار کیا ہے کہ ہر درس میں دس عنوانات بنائے ہیں،جنہیں آدمی پانچ منٹ میں مقتدیوں، طلبہ اور بچوں کے سامنے پڑھ سکتا ہے۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد محرم تا جمادی الثانی تک جبکہ دوسری جلد رجب سے ذی الحجہ تک مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-wahdat-e-ummat-copy
مفتی محمد شفیع

وحدت و اتحاد ایک ایسی ضرورت ہے جس کی طرف اسلام باربار دعوت دیتا ہے اور تاکید کرتاہے کہ جس امت کادین ایک، دینی شعائر ایک، شریعت و قانون ایک، منزل ایک اور خدا و رسول ایک ہو، اسے بہرحال خود بھی ایک ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک نے جہاں امت کو ایک ہوکر اللہ کی رسی کو پکڑنے کی تاکید کی ہے اور افتراق و انتشار سے روکا ہے، وہاں خطاب واحد کے بجائے جمع کے صیغوں سے کیاہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر فرد جزو  امت ہے وہ کسی صورت میں امت سے جدا نہیں ہوسکتا ہے۔ وحدت امت کی فرضیت، اہمیت اور ضرورت کی اس سے بڑی دلیل اور کیاہوسکتی ہے کہ شریعت اسلام نے امت کو دن میں پانچ بار جمع ہوکر نماز قائم کرنے کاحکم دیا، پھر ہفتہ میں ایک بار اس سے بڑے اجتماع کے لئے جمعہ کو فرض قرار دیا اور پھر نماز عید کی شکل میں سالانہ اجتماع کا اہتمام کیا اور تاکید کی کہ یہ اجتماع آبادی سے نکل کر کھلے میدان میں منعقد ہو اور مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی اس میں شرکت کی ترغیب دی پھر اس سے بڑا اہتمام یہ کیاکہ فرضیت حج کے ذریعہ مشرق و مغرب، جنوب شمال اور دنیا کے اطراف و اکناف میں بسنے والی امت کو ایک مرکز پر جمع ہونے، ایک ہی جیسے لباس میں جمع ہونے، ایک ہی کلمہ ادا کرنے اور ایک ہی جیسے افعال ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ انفرادی عبادت کے مقابلہ میں اجتماعی عبادت کی جو اہمیت ہے اس میں من جملہ دوسری باتوں کے امت کے اتحاد کا نکتہ بھی شامل ہے۔ زیر نظر کتاب " وحدت امت " دیو بندی مکتب فکر کے معروف عالم دین  محترم مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کی ایک گرانقدرتصنیف  ہے، جس میں انہوں نے لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو اتفاق واتحاد کی دعوت دی ہے اور انہیں تفرقہ بازی اور انتشار سے بچنے کی ترغیب دی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

pages-from-mohabbat-ishaq-o-mohabbat-key-mdaaraj-ka-shari-tajzia
سمیر حلبی

محبت کا لفظ اردو میں بھی کئی معانی رکھتا ہے۔ یہ محبت عام کسی شے سے بھی ہے اور کسی خاص ہستی، شخص یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ محبت کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلا مذہبی پیار، اللہ ورسول اور دین سےمحبت ،کسی خاص رشتے سے پیار، حب الوطنی یعنی وطن کے لیے پیار، کسی بندے کے لیے پیار۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور عشق ایک جنون کا نام ہے جو اپنی انتہا پر پہنچتا ہے تو انسان اپنا عقل و شعور کھو بیٹھتا ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے ۔عشق کا معنی اور مفہوم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یہ اللہ، رسول، نبی یا کسی محبت کرنے والے رشتے سے محبت کے اظہار کےلیے استعمال کیا جائے کیونکہ عشق میں محبت ہوتی ہی نہیں ہے عشق میں تو صرف حرص و ہوس ہوتی ہے جو کہ شہوت سے پُر ہوتی ہے۔آسانی کے طور پر آپ اسے یوں سمجھیں کہ گر ہم کہیں کہ ہمیں اپنے اہل خانہ سے محبت ہے ۔۔۔ مجھے اپنے والدین سے محبت ہے ۔۔۔ مجھے اپنی بہنوں سے محبت ہے۔۔۔۔ مجھے اپنی بیٹیوں سے محبت ہے یا کوئی شخص ایسے کہہ سکتا ہے یا ایسی بات زبان پر لاسکتا ہے کہ میں اپنی والدہ، بہن یا بیٹی کا عاشق ہوں ؟ کجا لوگ یہ کہتے پھریں کہ میں رسول ﷺ کا عاشق ہوں یا عشق الہی میں غرق ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’محبت‘‘ شام کی فاضل شخصیت علامہ سمیر حلبی کی کتاب ’’المحبة‘‘ کا اردو ترجمہ ہے یہ بامحاورہ رواں دواں ترجمہ ممتاز عالم دین شیخ الحدیث حافظ محمد امین﷾ نے کیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں جذبۂ محبت کے تمام نقاب الٹ دئیے، واردات عشق کے سارے بھید کھول دیے ہیں اور ایک ایک جز سمیت پوری تفصیل سے بتادیا ہے کہ محبت کیا چیز ہے محبت کی کتنی قسمیں ہیں؟ محبت کیوں ہو جاتی ہے؟ محبت کس سے ہونی چاہیے؟ محبت کا اصل حقدار کون ہے؟ نوجوانوں کو نفسانی محبت کا روگ کیوں لگ جاتا ہے اور اس روگ سے چھٹکارا پانے کا کیا طریقہ ہے؟۔نیز فاضل مصنف نے بتایا ہےکہ جو نوجوان روغنی چہروں پر فریفتہ ہوجاتے ہیں، ان کی محبت درحقیقت دماغی معصیت اور ذہنی آذوارگی ہے۔ انہیں توبہ کرنی چاہیے اوراس مقدس پروردگار سےمحبت کرنے چاہیے جس کے جمالِ جہاں آرا سے بڑھ کر دنیا وآخرت میں کوئی زیبائی نہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم، ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اور اسے سب کی رہنمائی کےلیے مینارۂ نور بنا دے۔ (آمین)(م-ا)

title-pages-qudas-ko-yahodi-shehar-banane-ki-koshash-copy
ڈاکٹر انور محمود زناتی

بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور بیت المقدس میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو سیدنا عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں ۔اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ نےیہ مسئلہ پیدا کر کے گویا اسلام کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں اسرائیل کے قیام کےبعد یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے دخل کر کے انہیں کمیپوں میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔ دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید ، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قدس کویہودی شہر بنانےکی کو شش ‘‘ ڈاکٹر انور محمد زناتی کی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب اسرائیل کے ارض فلسطین پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سلسلے میں ایک معتبر، مفصل، حقیقت پر مبنی اوراسرائیل سازش کودوپہر کی دھوپ کی طرح واضح کرنے دینے والی دستاویزی تالیف ہے ۔ جس میں سرکاری وثائق ، تصویروں اور نقشوں کے ذریعے اسرائیل کی تاریخی دہشت گردی کو واضح کیاگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عالمِ اسلام کی غیرت کو بیدار کرنے کاذریعہ بنائے اور بیت المقدس جلد اس کےحقداروں کے ہاتھ آجائے ۔ (آمین) (م۔ا)

title-pages-siraf-panch-mint-ka-madrisa-1-copy
مختلف اہل علم

خطابت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے، جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات  کودوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے۔ زیرتبصرہ کتاب"صرف پانچ منٹ کا مدرسہ" مختلف علماء کرام کی مشترکہ کاوش ہے، جس میں انہوں نے خطباء اور واعظین کے لئے پورے عربی سال کے حساب سے تین سو ساٹھ دروس اکٹھے کر دئیے ہیں اور ان میں طریقہ کار یہ اختیار کیا ہے کہ ہر درس میں دس عنوانات بنائے ہیں،جنہیں آدمی پانچ منٹ میں مقتدیوں، طلبہ اور بچوں کے سامنے پڑھ سکتا ہے۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد محرم تا جمادی الثانی تک جبکہ دوسری جلد رجب سے ذی الحجہ تک مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-sultan-zangi-ki-bewah
ڈاکٹر اختر حسین عزمی

خلفائے راشدین﷢ اور حضرت عمر بن عبد العزیز﷫ کے بعد جن مسلمان حکمرانوں کی عظمت کردار نے آسمان کی رفعتوں کو چھو لیا ان میں ملک العادل سلطان نورالدین محمود زنگی﷫ کا نام نامی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہردور کے مورخ، دوست اور دوشمن سبھی نے اسکی شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں نمایاں جگہ دی ہے۔ بعض مورخین نےخلفائے راشدینؓ کےبعد تمام فرماں روایان اسلام میں اس کوسب سےبہتر قرار دیا ہے۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28 سال حکومت کی۔ اس نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد عمر میں رکھنے کے لیے اس نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ اس کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی حملے کی تیاریاں ہی کررہا تھا کہ زنگی کو حشیشین نے زہر دیا۔ جس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا هو گئی جو کہ ان کی موت کا باعث بنی 15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت نورالدین کی عمر 58سال تھی۔ نور الدین زنگی کی وفات کے بعد جب ان کا کم سن بیٹا مفاد پرست امراء کے ہاتھ میں کھلونا بن گیا تو قدرت حق نے صلاح صلاح الدین ایوبی کو سلطان زنگی کے مشن کا وارث بنا کر کھڑا کردیا۔ عظمت اسلام کے مشن سے منحرف سلطان زنگی مرحوم کے بیٹے کے مقابلے میں خود اس کی ماں یعنی سلطان زنگی کی بیوہ نے جس طرح اندرونی محاذ پر مزاحمت کر کے دمشق کی سلطنت کے بگڑے ہوئے تشخص کو پھر سے بحال کردیا اسلامی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سلطان زنگی کی بیوہ‘‘ میں جناب ڈاکٹر اختر حسین عزمی نے ایک دلچسپ ناول کے انداز میں سلطان نور الدین زنگی کی وفات کےبعدان کی بیوہ کے مثالی تاریخی کردار کو پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-payare-naam-copy
فاروق اصغر صارم

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جو چیز بھی پیدا کی ہے خواہ وہ انسان ہو جاندار، بے جان ۔غرض ہر چیز کی پہچان اس کے نام سے ہوتی ہے ۔ اور نام انسان کی شناخت کاسب سے اہم ذریعہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو بھی سب سے پہلے ناموں کی تعلیم دی تھی جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک مرحلہ نام رکھنے کا ہوتاہے خاندان کا بڑا بزرگ یا خاندان کے افراد مل کر بچے کا پسندیدہ نام رکھتے ہیں۔ اور بعض لوگ اپنے بچوں کے نام رکھتے وقت الجھن میں پڑ جاتے ہیں اور اکثر سنے سنائے ایسے نام رکھ دیتے ہیں جو سراسر شر ک پر مبنی ہوتے ہیں۔ اور نام رکھنےوالوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جو نام رکھا اس کامطب معانی کیا ہے اور یہ کس زبان سے ہے حالانکہ اولاد کے اچھے اچھے نام ر کھنے کی شریعت میں بہت تاکید کی گئی۔اچھے ناموں سے بچے کی شخصیت پر نہایت مثبت اور نیک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’پیارے نام ‘‘ معروف عالم دین فاروق اصغر صارم ﷫ (سابق مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے قرآن مجید ، کتب احادیث سیروتواریخ کی کتب اور اسماء الرجال پر لکھی گئی عربی اردو کتب کے علاوہ ڈکشنریوں سے استفادہ کر کے یہ کتاب مرتب کی ہے ۔ یہ کتاب ضروری مسائل پر محیط ، قدیم وجدید ناموں کا مرقع ہے منتخب اور چیدہ چیدہ ناموں کا گلدستہ ہے ۔نیز انہوں نے اس میں کتاب بچوں کے حقوق ، نام کی اہمیت اور اس کے شرعی احکام وآداب کے ساتھ ساتھ نام رکھنے کے سلسلے میں کی جانی والی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور ان کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے اور شرکیہ اور کفریہ ناموں کی نشاندہی کرنے کے علا وہ کتاب کے آخرمیں مکروہ ناموں کی فہرست پیش کردی ہے ۔ (م۔ا)

title-pages-qalam-k-aansu-2-copy
محمد طاہر نقاش

محترم طاہر نقاش صاحب (مدیر ) دار الابلاغ ،لاہور کی شخصیت اہل علم کے ہاں محتاج تعارف نہیں آپ جامعہ محمد یہ ،گوجرانوالہ سے فارغ تحصیل ہیں اور ایک عرصہ جماعۃ الدعوۃ کے پلیٹ فارم سے گراں قدر صحافتی خدمات دیتے رہے ہیں ۔موصوف کا شمار وطن عزیز کے ان چند قلمکاروں میں ہوتا ہے جن کےقلم کو اللہ تعالیٰ نے تاثیر کی دولت سےنوازا ہے ۔ آپ نےجماعۃ الدعوۃ کا مؤقر رسالہ ’’ الدعوۃ ، غزوہ، جرار وغیرہ میں بیسیوں مضامین سپرد قلم کیے جنہیں قارئین کے ہاں بڑا قبول عام حاصل ہو ا حتی کہ ان مضامین کو کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا ہے ۔ان کےمضامین میں چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی حکمت وعمل کی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔وہ اپنے قلم کی تبلیغ سے تبلیغ کا اچھوتا انداز اپنائے ہوئے ہیں ۔موصوف نے دینی صحافت میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ’’ دار الابلاغ‘‘ کے نام سے اشاعت کتب دینیہ کا ادارہ قائم کیا جو چند سالوں میں معاشرےکی ضرورت کے اہم موضوعات پر بیسیوں دینی کتابیں شائع کرچکا ہے ۔طاہر صاحب خودبھی کئی کتب کے مصنف ومترجم مرتب ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قلم کےآنسو جلددوم ‘‘پاکستان کے معروف کالم نگار محترم جناب طاہر نقاش صاحب کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے جماعت الدعوۃ پاکستان کے ہفتہ وار چھپنے والے اخبار غزوہ میں شائع ہونے والی مضامین کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی نے موصوف کو رواں قلم اور شستہ تحریر کی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔آپ نے اپنے ان کالمز میں معاشرتی مسائل کی نشاندہی کی ہے اور ان کالمز کو پڑھ کر بے شمار لوگوں نے اپنی اصلاح کی اور سیدھے راستے پر چلنا شروع کردیا۔آپ کے یہ کالم قارئین غزوہ میں انتہائی مقبول ومعروف تھے۔ان مضامین کی اسی مقبولیت کی بناء پر انہیں ایک جگہ جمع کرکے دارالابلاغ کی طرف سے بڑے خوبصورت انداز میں شائع کیا گیا ہے ۔یہ کتاب سلگتے معاشرتی مسائل کا آئینہ اور خاندان کی اسلامی تربیت کے لیے بہترین راہنما کتاب ہے ۔یہ قلم کے آنسو کی دوسری جلد ہے جلداول اس قبل سائٹ پر پبلش کردی گئی ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(م۔ا)

pages-from-jama-o-tadveen-e-quran
ڈاکٹر حافظ محمد عبد القیوم

قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب ِ ہدایت میں انسان کو پیش   آنے والے تمام مسائل کو   تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشاد گرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔ مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اورسمجھا نہ جائے۔ اسے پڑھنے اور سمجھنے کا شعور اس وقت تک پیدا نہیں ہوتا جب تک اس کی اہمیت کا احساس نہ ہو۔ اور قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اٹھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج تک اس کی میں کوئی تحریف و تصحیف سامنے نہیں آئی۔ اور اگر کسی نے یہ مذموم کوشش کی بھی تو اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل وخوار کر کے رکھ دیا۔ قرآن مجید عہد نبویﷺ سے ہی زبانی حفظ کے ساتھ ساتھ کتابی شکل میں بھی لکھا جاتا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے متعدد صحابہ کرام کو کاتب وحی کے طور پر مقرر کر رکھا تھا۔ خلیفہ ثالث سید نا عثمان ﷜ نے اپنے دور خلافت میں قرآن مجید کو مکمل کتابی صورت میں جمع کیا اور اس کے نسخے مختلف علاقوں کی طرف بھی روانہ کیے۔ لیکن قرآن مجید پر اعتراض کرنے والے مستشرقین نے قرآن کریم پر جہاں مختلف پہلوؤں سے اعتراضات کیے ہیں وہاں انہوں نے قرآن مجید کی تدوین اورجمع کرنے کے متعلق بھی اعتراضات کیے ہیں۔ جن کے علماء امت محمدیہ نے شافی کافی جوابات بھی تحریرکیے ہیں۔ زیر نظر مقالہ ’’جمع وتدوین قرآن‘‘ محترم جناب ڈاکٹر حافظ محمدعبد القیوم صاحب کے ایم فل کے لیے لکھے گے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت ہے۔ یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے۔ فاضلہ مقالہ نگار نے ابتداء میں اس کا جائزہ لیا ہے کہ قرآن کریم پر اعتراضات کی ابتدا کب ہوئی اور کس کے ہاتھوں میں ہوئی۔ معترضین کی کتابوں کے حوالہ سے انہوں نے اعتراضات کا احاطہ کیا اور پھر بڑی منطقی ترتیب سے علمی انداز میں ان کے جوابات تحریرکیے ہیں۔ یہ کتاب جمع وتدوینِ قرآن کی تاریخ پر مشتمل بڑی اہم کتاب ہے۔ (م۔ا)

title-pages-masjad-aqsa-hamare-dilon-me-copy
مختلف اہل علم

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو سیدنا عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں ۔اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ نےیہ مسئلہ پیدا کر کے گویا اسلام کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں اسرائیل کے قیام کےبعد یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے دخل کر کے انہیں کمیپوں میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔ دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید ، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مسجد اقصیٰ ہمارے دلوں میں ‘‘ دولۃالکویت سے شائع ہونے والے عربی مجلہ’’ الواعی الاسلامی ‘‘ میں بیت المقدس کے متعلق شائع ہونے والے مختلف شخصیات کے مضامین کے مجموعہ کا ترجمہ ہے ان مضامین کو جناب ڈاکٹر جاسم محمد مطر شہاب نے مرتب کیا ہے اور پھر مولانا ضیاء الدین قاسمی ندوی خیرآبادی نے اسے اردو داں طبقہ کے اردو زبان میں منتقل کیا ہے ۔ (م۔ا)

title-pages-muslim-kon-copy
جاوید اقبال سیالکوٹی

دین اسلام  کے پانچ ارکان  ہیں، جن پر اسلام کی بیاد رکھی گئی ہے۔ان  میں سے  پہلا رکن اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریمﷺکی نبوت اور رسالت کا اقرار ہے۔ دوسرا رکن نماز، تیسرا روزہ، چوتھا زکوٰۃ اور پانچواں حج ہے۔ ان پانچوں ارکان  میں سے ہر ایک کے بارے میں متعدد آیات اور اَحادِیث وارِد ہوئی ہیں۔ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا ’’ اِسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قایم ہے، اِس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺاﷲ کے رسول ہیں، نماز قایم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان مبارک کے روزے رکھنا اور بیت اﷲ کا حج کرنا اُس شخص کے لیے جو اُس تک جانے کی طاقت رَکھتا ہو۔‘‘ اِن پانچ اَرکان کو ایک مومن کی شخصیت سنوارنے اور اس کا مثالی کردار بنانے میں بہت بڑا دخل ہے۔ سب سے پہلے رُکن کلمۂ شہادت کو لے لیجیے، جس کے ذریعے ایک مومن اَپنے رَب کی وحدانیت کا اِقرار کرکے مخلوق کی عبودیت سے آزاد ہوجاتا ہے اور نبی کریمؐ کی رِسالت کا اِقرار کرکے زِندگی گزارنے کا رَاستہ متعین کرلیتا ہے۔ یہ اِیمان کی بنیاد اور یہی وہ بنیادِی عقیدہ ہے جس پر باقی اَرکان اور اِسلامی تعلیمات کا دار و مدار ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے عقیدۂ توحید اور رِسالت پر بہت زور دِیا ہے اور سیکڑوں آیات میں اسے بیان کیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسلم کون؟"محترم جاوید اقبال سیالکوٹی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے ارکان اسلام کی روشنی میں مسلمان کا جائزہ لیا ہے کہ کون مسلمان ہے اور مسلمان نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

pages-from-molana-faiz-ur-rehman-sauri
حافظ محمد اسلم شاہدروی

مولانا فیض الرحمان ثوری﷫ بہاولپور کے معروف تاریخی مقام "اچ" کے قریب آباد ہونے والے کسرانی یا قیصرانی بلوچ قبیلے کے ایک فرد تھے۔ آپ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم دین تھے۔ آپ کو علم رجال پر خاص عبور حاصل تھا۔ آپ ایک خاموش طبع اور انتہائی سادہ مزاج انسان تھے۔ کسرانی قبیلے میں سب سے پہلے علم دین حاصل کرنے اور علم حدیث کی خدمت کرنے والی شخصیت"مولانا سلطان محمود محدث﷫'' کی تھی۔ آپ ان کے قریبی عزیز اور لائق شاگرد تھے۔ مولانا فیض الرحمان ثوری﷫ نے تحقیق حدیث خصوصا علم الرجال کے میدان کو چنا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی کے لئے وقف کر دیا۔ آپ نے جب اس میدان میں کام شروع کیا تو پورے برصغیر میں حدیث کے حوالے سے تحقیقی کام کی اشاعت کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "مولانا فیض الرحمان ثوری﷫، ماھر علم الرجال وممتاز نقاد" دار المعارف اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ محمد اسلم شاہدروی صاحب﷾ کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے مولانا فیض الرحمان ثوری صاحب کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں اور انکی علمی خدمات کو مرتب فرما دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی ایم فل کی اسائنمنٹ تھی، جسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصو ف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-khutbat-sorah-yaseen-copy
حافظ عبد الستار حامد

سورۃیٰسین مکی سورت ہے اس سورۃکا آغاز “ی” (یا) اور “س” (سین) دو حرفوں سے ہوا ہے اس مناسبت سے اس کا نام سورہ یٰس ہے۔اس کے مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے درمیانی دور کے اخیر میں نازل ہوئی ہو گی۔سورۃ یٰسین کا مرکزی مضمون آخرت کے انجام سے خبردار کرنا ہے اس طور سے کہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ جاگ اٹھیں اور انہیں اپنے مستقبل اور اپنی نجات کی فکر دامن گیر ہو۔ رسول کی بعثت اسی لیے ہوتی ہے کہ وہ خبردار کرنے کا یہ فریضہ انجام دے۔اس سورت کی فضلیت کے متعلق کتب احادیث میں متعدد احادیث موجود ہیں لیکن اسناد کے اعتبار سے یہ صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتیں۔ اور یہ بات بھی ثابت نہیں ہے کہ صحابہ اس سورہ کو کسی شخص کی جانکنی کے موقع پر پڑھا کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ یٰسین ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ یٰسین‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات جمعۃ المبارک کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز مارچ 1993ء میں جامع مسجد توحید اہل حدیث وزیر آباد میں کیا اور 12 خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ہر واقعہ، ہر حدیث اور ہربات مستند اور باحوالہ تحریرکرنے کی کوشش کی ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃیٰسین کی منفرد تفسیر ہے ۔ (م۔ا)

title-pages-maqalat-e-rabaniya-copy
ابو الحسن مبشر احمد ربانی

فضیلۃ الشیخ مولانا مفتی مبشر احمد ربانی ﷾ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں آپ ایک عرصہ سے جماعۃ الدعوۃ پاکستان سے منسلک ہیں ۔ جماعت کے ساتھ دعوت وتبلیغ کےفرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ تحریری میدان میں قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔احکام دینیہ اور تحقیق مسائل فقہیہ کی تبیین وتحقیق ان کا پسندیدہ موضوع ہے ۔ان کے عام فہم فتاویٰ جات اور مناظرے ومباحثے قارئین وسامعین اورعلمی حلقوں میں یکساں مقبول ومعروف ہیں۔ان کے اس فن میں رسوخ اور مہارت تامہ رکھنے کی بدولت تبیین حق اورابطال باطل کے ذریعے سے بہت سےمتلاشیان حق کوقرآن وسنت پر عمل پیراہونےکی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ موصوف جماعۃ الدعوۃ کی مرکزی درسگاہوں میں تدریسی فرائض بھی انجام دیتے ہیں رہے ہیں پچھلے چند سالوں سے جامعہ لاہور الاسلامیہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی دعوتی، تدریسی، تحقیقی وتصنیفی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) زیر تبصرہ کتاب ’’ مقالات ربانیہ ‘‘ مولانا مبشر ربانی ﷾ متعد د موضوعات پر مختلف اوقات میں مختلف جرائد ومجلات میں شائع شدہ علمی وتحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے انہی مطبوعہ مضامین کو مفید اضافوں کےساتھ ’’ ’’ مقالات ربانیہ ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے جن میں مسئلہ مجلس واحدکی تین طلاقوں کا حکم ، عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت ، اسلام میں پختہ قبر کا حکم ، مقام صحابہ ، مسنون تراویح، پردے کی شرعی حیثیت، جنات اور جادوٹونے کی شرعی حیثیت ، محمد رسول اللہ ﷺ کی شان وغیرھم پر بحث کی گئی ہے اور قرآن وسنت کی نصوص ظاہرہ اور براہین قاطعہ سےمسئلہ کی پوری توضیح وتنقیح کی گئی ہے ۔یہ مجموعہ مقالات احکام ومسائل کی تبیین وتفہیم کے لیے مستند اورقابل اعتماد مصادر کے حوالہ جات پر مشتمل علمی نوادرات کا مجموعہ ہے۔ ان مقالات میں تجدد پسند علماء ، مغرب زدہ دانشوروں اور روشن خیال مفکرین کے پیدا کردہ شکوک وشبہات کے مسکت ومدلل جوابات ہیں۔(م۔ا)

pages-from-guftagoo-ka-saleeka
پروفیسر امیر الدین مہر

گفتگو ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے دل میں اتر جاتا ہے یا لوگوں کے دل سے اتر جاتاہے۔ دل اور زبان انسانی جسم کے سب سے اہم دو حصے ہیں۔ زبان دل کی ترجمان ہے اس لیے اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ آدمی کی گفتگو ہی اس کاعیب و ہنر ظاہرکرتی ہے۔ گفتگو کرتے وقت زبان سے وہی گفتگو کریں جس کا مقصد خیر ہو، کسی کی غلطی کی اصلاح کرتے وقت حکمت کومد نظر رکھیں، اگر مخاطب کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو ضرورت کے تحت دہرائیں۔ ناحق اور بے جا بحث کرنے سے، حق پر ہونے کے با وجود لڑائی جھگڑے، درمیان میں بات کاٹنے سے، غیبت و چغلخوری اور لگائی بجھائی، جھوٹ او ر خلاف حقیقت کوئی بات کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ نیز آداب گفتگو میں سے یہ بھی ہےکہ   مخاطب کی بات کو غور سے سنیں اسے بولنے کاموقعہ دیں، درمیان میں اس کی بات نہ کاٹیں اور ادھر ادھر توجہ کرنے کی بجائے اس کی طرف پوری توجہ رکھیں۔ نبی کریم ﷺ نے گفتگو کے آداب کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب تین لوگ ایک جگہ اکٹھے بیٹھے ہوں تو ان میں سے دو آپس میں کھسر پھسر نہ کریں اس سے تیسرے کی دل شکنی ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’گفتگو کا سلیقہ‘‘ پروفیسر امیرالدین مہر کی تصنیف ہے۔ فاضل مصنف نے گفتگو کو شیریں، دلپسند اور دلنواز بنانے کے لیے قرآن و حدیث، حکماء علماء کے کلام سے منتخب کردہ شہ پاروں، جامع کلمات کی عبارتوں، حکمتوں، لطیفوں، جملوں فقروں کی روشنی میں اس کتاب کو مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب ہرطبقے کے افراد کے باہم گفتگو کرنے، دوسرے کو اپنی بات پر قائل کرنے اور اپنی طرف متوجہ کرنے کےلیے ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اور اداروں کے سربراہوں، دینی وتبلیغی جماعتوں و تنظیموں کے ذمہ داروں، این جی اوز کے منتظمین، مساجد کے ائمہ، خطباء اور واعظین حضرات، مجالس میں گفتگو کرنے والے اصحاب کے لیے بہترین کتاب اور خیر جلیس ہے۔

title-pages-khutbat-sorah-kusar-copy
حافظ عبد الستار حامد

سورۃ کوثرمکی سورۃ ہے مکی سورتوں کی اہم خصوصیت قرآن کی آفاقی فصاحت و بلاغت ہے۔وہ عرب لوگ جو اپنی زبان کے مقابلے میں دوسروں کو’’ عجمی‘‘یعنی گونگا کہتے تھے وہ بھی قرآن کے سامنے بے بس ہو چکے۔قرآن نے اہل مکہ کو چیلنج دیا کہ ایک کتاب یا ایک سورۃ یا ایک آیت ہی بنا لاؤ لیکن وہ عرب اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے اور ماند پڑ گئے۔ایک بار مکہ میں قصیدہ نویسی کا مقابلہ ہوا ،کم و بیش چالیس قصائد خانہ کعبہ کی دیوار پر لٹکائے گئے،ان میں سے بعض اپنی طوالت میں بے مثال تھے ۔آخر میں سورۃ کوثر بھی آویزاں کی گئی اور ہر فیصلہ کرنے والا اس سورۃ پر آن کر اٹک جاتااور سب لوگوں نے بالاتفاق کہا کہ یہ کسی انسان کی کاوش نہیں ہو سکتی۔الکوثر سے ایک نہر مراد ہے ، جو جنت میں آپ ﷺ کو عطا کی جائے گی۔واضح رہے کہ نہر کوثر اور حوض کوثر میں فرق ہے کہ ، حوض کوثر میدان حشر میں ہو گا ـ جبکہ کوثر یا نہر کوثر جنت میں ہے ، البتہ یہ ضرور ہے کہ حوض میں جو پانی ہے اس کا مصدر نہر کوثر ہی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ کوثر‘‘ پرو فیسر عبد الستار حامد ﷾ کی سورۃ الکوثر کی تفسیر میں 12 خطبات کا مجموعہ ہے جوکہ خطیبانہ انداز میں فضائل رسول ﷺ کا منفرد تذکرہ پر مشمل ہے ۔موصوف نےان خطبات میں رسول اکرم ﷺ کی خصوصیات کے حوالے سے ’’ کوثر‘‘ کے چند معروف مفاہیم کو خطبات جمعہ میں بیان کیا اور بعد ازاں اسے کتابی صورت میں مرتب کر کے شائع کیا ہے ۔موصوف اس کے علاوہ سورۃ یوسف ، سورۃ مریم ، سورۃ یٰسین، سورۃ کہف، سورۃ نور، سورۃ فاتحہ اور آیت الکرسی پر اپنے خطبات کو مرتب کر کےشائع کرچکے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل اور زور قلم میں مزید اضافہ فرمائے ۔(آمین)

title-pages-khutbat-sorah-maryam-copy
حافظ عبد الستار حامد

سورۃ مریم قرآن مجید کی مکی سورتوں میں سے ہے اس سورۃ کا بنیادی موضوع حضرت عیسٰی اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں صحیح عقائد کی وضاحت اوران کے بارے میں عیسائیوں کی تردید ہے اگرچہ مکہ مکرمہ میں جہاں یہ سورت نازل ہوئی عیسائیوں کی کوئی خاص آبادی نہیں تھی لیکن مکہ مکرمہ کے بت پرست کبھی کبھی آنحضرت ﷺکے دعوائے نبوت کی تردید کے لئے عیسائیوں سے مدد لیا کرتے تھےاس کے علاوہ بہت سے صحابہ کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کررہے تھے جہاں عیسائی مذہب کی حکمرانی تھی اس لئے ضروری تھا کہ مسلمان حضرت عیسی ،حضرت مریم ،حضرت زکریا اور حضرت یحیی علیہم السلام کی صحیح حقیقت سے واقف ہوں چنانچہ اس سورت میں ان حضرات کے واقعات اسی سیاق وسباق میں بیان ہوئے ہیں اور چونکہ یہ واضح کرنا تھا کہ حضرت عیسی اللہ تعالیٰ کے بیٹے نہیں ہیں جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے بلکہ وہ انبیائے کرام ہی کے مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہیں اس لئے بعض دوسرے انبیاء کرام ﷩ کا بھی مختصر تذکرہ اس سورت میں آیا ہے لیکن حضرت عیسی کی معجزانہ ولادت او راس وقت حضرت مریم علیہا السلام کی کیفیات سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ ا سی سورت میں بیان ہوئی ہیں اس لئے ا س کا نام سورۂ مریم رکھا گیا ہے۔ صحابی رسول ﷺسیدنا جعفر طیار حبشہ میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں اسی سورت کی تلاوت کی تھی جسے سن کر وہ خود اور اسے کے درباری آبدیدہ ہوگئے تھے اور مسلمانوں کواپنےہاں حبشہ پناہ دی اور انہیں بڑے عزت واحترام رکھا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ مریم ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ مریم‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات جمعۃ المبارک کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز مارچ 1994ء میں کیا اور بیس خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ہر واقعہ، ہر حدیث اور ہربات مستند اور باحوالہ تحریرکرنے کی کوشش کی ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃمریم کی منفرد تفسیر ہے ۔ (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1504 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں