urdu-daira-maarif-e-islamiah-09
دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

title-pages-islam-k-muashrti-adab-sorat-al-hujrat-ki-roshni-me-copy
سید ابو الاعلی مودودی

سورۃ الحجرات قرآن مجید کی 49 ویں سورت جو حضرت محمد ﷺ کی مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس سورت میں 2 رکوع اور 18 آیات ہیں۔سورۃ الحجرات کےمضامین اورتفاسیر بالماثور کےمطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ سورۃ الحجرات ایک ہی دفعہ نازل نہیں کی گئی بلکہ حسب ضرورت اس کانزول کئی حصوں او رمختلف اوقات میں ہوا اس سورت کااجمالی موضوع اہل ایمان اورمسلمانوں کے ان امور کی اصلاح ہے جن کا تعلق ان کے باہمی معاملات او رمجمتع اسلامی سے ہوتاہے۔ ابتدائی پانچ آیتوں میں ان کو وہ ادب سکھایا گیا ہے جو انہیں اللہ اور اس کے رسول کے معاملے میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ پھر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ہر خبر پر یقین کر لینا اور اس پر کوئی کارروائی کر گزرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی اطلاع ملے تو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خبر ملنے کا ذریعہ قابل اعتماد ہے یا نہیں۔ قابل اعتماد نہ ہو تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے تحقیق کر لینا چاہیے کہ خبرصحیح ہے یا نہیں۔ اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ پھر مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فساد برپا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، ایک دوسرے پر طعن کرنا، ایک دوسرے کے برے برے نام رکھنا، بد گمانیاں کرنا، دوسرے کے حالات کی کھوج کرید کرنا، لوگوں کو پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرنا، یہ وہ افعال ہیں جو بجائے خود بھی گناہ ہیں اور معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کرتےہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نام بنام ان کا ذکر فرما کر انہیں حرام قرار دے دیا ہے۔ اس کے بعد قومی اور نسلی امتیازات پر ضرب لگائی گئی ہے جو دنیا میں عالمگیر فسادات کے موجب ہوتے ہیں۔ قوموں اور قبیلوں اور خاندانوں کا اپنے شرف پر فخر و غرور، اور دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنا، اور اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے دوسروں کو گرانا، ان اہم اسباب میں سے ہے جن کی بدولت دنیا ظلم سے بھر گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مختصر سی آیت فرما کر اس برائی کی جڑ کاٹ دی ہے کہ تمام انسان ایک ہی اصل سے پیدا ہوئے ہیں اور قوموں اور قبیلوں میں ان کا تقسیم ہونا تعارف کے لیے ہے نہ کہ تفاخر کے لیے، اور ایک انسان پر دوسرے انسان کی فوقیت کے لیے اخلاقی فضیلت کے سوا اور کوئی جائز بنیاد نہیں ہے۔ آخر میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اصل چیز ایمان کا زبانی دعویٰ نہیں ہے بلکہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کو ماننا، عملاً فرمانبردار بن کر رہنا، اور خلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال کھپا دینا ہے۔ حقیقی مومن وہی ہیں جو یہ روش اختیار کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دل کی تصدیق کے بغیر محض زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہیں اور پھر ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا اسلام قبول کر کے انہوں نے کوئی احسان کیا ہے، تو دنیامیں ان کا شمار مسلمانوں میں ہو سکتا ہے، معاشرے میں ان کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک بھی کیا جا سکتا ہے، مگر اللہ کے ہاں وہ مومن قرار نہیں پا سکتے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام کے معاشرتی آداب ‘‘ عالم اسلام کے عظیم اسلامی اسکالر مفسر قرآن سید ابو الاعلیٰ مودودی ﷫ کی تصیف ہے جسے انہوں نے سورۃ الحجرات کی روشنی میں انتہائی عام فہم انداز میں عامۃ الناس کے لیے مرتب کیا تھا۔یہ کتاب دراصل ان کی تفسیر ’’ تفہیم القرآن ‘‘ سے اخذ شدہ جسے عامۃ الناس کے استفادے کے لیے اسلامک سروسز سوسائٹی نے الگ سے شائع کیا گیا ہے ۔ (راسخ)

urdu-daira-maarif-e-islamiah-08
دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

title-pages-jahanum-k-musafir-copy
پروفیسر نور محمد چوہدری

جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالی نے کافروں،منافقوں،مشرکوں اور فاسقوں وفاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے ۔ زیر نظر کتاب ’’جہنم کے مسافر ‘‘ محترم جناب پروفیسر نور محمد چودہری کی مختصر سی تالیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے سفرجہنم کے ہولناک نتائج سے بچانے کے لیے بلکہ مسافرروں کو صراط مستقیم پر لاکر ان کی عاقبت سنوارنے کے لیے کتاب اللہ اوراحادیث مبارکہ میں جو انتباہ کیے گیے ہیں ان کا اس کتاب میں اختصار سے احاطہ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے (آمین) (م۔ا)

urdu-daira-maarif-e-islamiah-07
دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

title-pages-islami-aqaid--zubaida-aziz--jadeed-audition-copy
زبیدہ عزیز

اسلام کی فلک بوس عمارت عقیدہ کی اسا س پر قائم ہے ۔ اگر اس بنیاد میں ضعف یا کجی پیدا ہو جائے تو دین کی عظیم عمارت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے اسی لیے نبی کریم ﷺ نے مکہ معظمہ میں تیرا سال کا طویل عرصہ صرف اصلاح ِعقائدکی جد وجہد میں صرف کیا ۔ دین اسلام اللہ تعالیٰ کادیا ہوا خوبصورت طریقہ زندگی ہے جو عقائد او ر اعمال پر مشتمل ہے ۔ جہاں عقائد دین میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں وہاں اعمال اس کا عملی مظہر ہیں۔جس طر ح عقیدہ کی خرابی سے تمام عبادات اور معاملات براہ راست متاثرہوتے ہیں اسی طرح آخرت میں نجات کا دارومدار بھی عقیدہ ہی کی درستگی پر ہے ۔آخرت میں اعمال کے حساب وکتاب کےوقت عبادات اور اخلاقیات وغیرہ کی کوتاہی سے درگزر ممکن ہے لیکن وہا ں عقیدے کا فساد قابل معافی نہ ہوگا۔عقیدہ ہی کی بنا پر ایک شخص مومن ومنافق،کافر ومشرک قرار پاتا ہے لہٰذا اصلاح عقائد ہر مسلمان فرد کی بنیادی ضرورت ہے کیونکہ اسی پر اس کےدین کی درستگی کا انحصار ہے ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ عقائد کے باب میں اب تک بہت سی کتب ہر زبان میں شائع ہو چکی ہیں اردو زبان میں بھی اس موضوع پر قابل قدر تصانیف اور تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’اسلامی عقائد‘‘محترمہ زبیدہ عزیز صاحبہ کی مرتب شدہ ہے جسے انہوں نے ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کی نگرانی وراہنمائی میں ’’الہدیٰ انٹر نیشنل کے ڈپلومہ کورس کے نصاب کےلیے تیار کیا ہے۔جس میں عقائد کے متعلق تمام معلومات جامع،مختصر اور آسان فہم انداز میں یکجا کردی گئی ہیں تاکہ ایک طالب علم اپنا محاسبہ کرسکے اور لا علمی اور بےخبری میں فسادِ عقیدہ کا شکار نہ ہو جائے ۔یہ اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن ہے جس میں ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے عقیدہ دیے گئے لیکچرز کا مفید موادبھی شامل کردیاگیا ہے جس سے کتاب کی افادیت میں مزیداضافہ ہوگیا ہے۔ اس ایڈیشن میں تقریباً ساٹھ صفحات کا اضافہ کیا گیا ہے اس لیے اسے بھی سائٹ پر پبلش کردیا گیا ہے ۔یہ کتاب فہم قرآن کلاسز اور شارٹ کورسز کے نصاب میں شامل کرنے کے لائق ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کے عقائد کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

title-pages-islam-k-ahkam-w-adab-copy
ابو زکریّا یحیٰ بن شرف النووی الدمشقی

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی ﷺ سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع ہوچکی ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام کےاحکام وآداب ‘‘ شارح صحیح مسلم امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کی مرتب کردہ اربعین نووی کا ترجمہ وشرح ہے ۔امام نووی ﷫ کا مرتبہ کردہ یہ چالیس احادیث کا ایک جامع مجموعہ ہے ۔امام موصو ف نے اس میں فرد اورمعاشرے کی صلاح وفلاح کےتمام اصول وآداب یکجا کردیے ہیں ۔محترم جناب پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ،سابق استاد الحدیث والفقہ جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ) نے قرآن مجید اورصحیح احادیث کی روشنی میں ’’اسلام کےاحکام وآداب ‘‘ کے نام سے اربعین نووی کی نہایت احسن انداز میں جامع اور مفصل شرح کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مرتب ،مترجم وشارح اور ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ المسلمین کے لیےنفع بخش بنائے ۔(آمین)(م۔ا)

urdu-daira-maarif-e-islamiah-06
دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

title-pages-fehm-e-quran-cource-2-copy
ابو فہد قاری عبد الحفیظ ثاقب

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فہم قرآن کورس ‘‘ مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کے شاگرد رشید محترم جنا ب قاری عبدالحفیظ الرحمٰن ثاقب ﷾(مدیر فہم دین انسٹی ٹیوٹ،لاہور ) کی کاوش ہے انہوں نےاس کتاب کو دوپارٹس میں تقسیم کیا ہے پارٹ اول میں 10 یونٹ اور پارٹ دو م میں بھی 11 سے 20 تک 10 یونٹ ہیں او ردو نوں پارٹس میں فہم قرآن ، عربی زبان کے قوائد وضوابط ، گرائمر پر مشتمل ٹوٹل 50 لیکچر پیش کیے ہیں ۔موصوف نے ان لیکچرز میں فہم قرآن کے طلبہ وطالبات کے لیے عربی زبان کے قواعد کو نہایت آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں تمام مثالیں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ہی پیش کی ہیں ۔مشقوں کی صورت میں قرآن وحدیث کا وہ بنیادی مواد پیش کیا ہے جس سے عبادات ،معاملات او ر اخلاقیات کی اصلاح ہوسکے ۔(م۔ا)

title-pages-islam-aur-asaniyan-copy
محمد عظیم حاصلپوری

دین کی سہولت اور نبی کریم ﷺکےآسانی کرنے کے مظاہر دین کے ہرگوشے میں ہیں ۔جن کا انکار معصیت کا مرتکب ہونے کے مترادف ہے ۔کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جوتھوڑے تقویٰ کےاظہار کے لیے اللہ کی دی ہوئی رخصتوں کا انکار کردیتے ہیں حالانکہ نبی ﷺ کا معمول تھا کہ اگر آپ ﷺ کودوکاموں میں سے ایک کے چناؤ کا اختیار دیا جاتا تو آپﷺ اس کو اختیار کرتے جو آسان ہوتا کیوں کہ جب رخصت ملے تو اس کا استعمال اللہ کو اچھا لگتا ہے ۔جن احکام ومسائل اورامور میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رخصتیں اور آسانیاں دی ہیں وہ کتب وحدیث وفقہ میں موجود ہیں ۔جس عام شخص مستفید نہیں ہوسکتا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور آسانیاں‘‘ محترم جناب مولانا محمد عظیم حاصلپوری ﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے امت مسلمہ کےلیے تمام معاملات وعبادات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت کردہ سہولتوں ، رخصتوں اور آسانیوں کوقرآن وسنت اور مختلف ائمہ محدثین کی کتب سےآسانیوں کاانتخاب کر کےانہیں یکجا کردیا ہے کیونکہ ان رخصتوں اور سہولتوں کو عوام الناس تک پہنچانا بھی دعوت وتبلیغ کا حصہ ہے ۔کتاب وسنت کی روشنی میں احکام اسلام اور شریعت کے دیگر امور میں پائی جانے والی آسانیوں پر مشتمل یہ کتاب ایک گرانقدر مجموعہ اور بیش قیمت تحفہ ہے ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام دعوتی ،تبلیغی ، تحقیقی وتصنیفی اور تدریسی خدمات کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

urdu-daira-maarif-e-islamiah-05
دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

title-pages-fehm-e-quran-cource-1-copy
ابو فہد قاری عبد الحفیظ ثاقب

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فہم قرآن کورس ‘‘ مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کے شاگرد رشید محترم جنا ب قاری عبدالحفیظ الرحمٰن ثاقب ﷾(مدیر فہم دین انسٹی ٹیوٹ،لاہور ) کی کاوش ہے انہوں نےاس کتاب کو دوپارٹس میں تقسیم کیا ہے پارٹ اول میں 10 یونٹ اور پارٹ دو م میں بھی 11 سے 20 تک 10 یونٹ ہیں او ردو نوں پارٹس میں فہم قرآن ، عربی زبان کے قوائد وضوابط ، گرائمر پر مشتمل ٹوٹل 50 لیکچر پیش کیے ہیں ۔موصوف نے ان لیکچرز میں فہم قرآن کے طلبہ وطالبات کے لیے عربی زبان کے قواعد کو نہایت آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں تمام مثالیں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ہی پیش کی ہیں ۔مشقوں کی صورت میں قرآن وحدیث کا وہ بنیادی مواد پیش کیا ہے جس سے عبادات ،معاملات او ر اخلاقیات کی اصلاح ہوسکے ۔(م۔ا)

title-pages-gharelo-zindagi-copy
محمد فاروق رفیع

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔ اگرمسلمانانِ عالم اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دیں تو یقیناً ان کی زندگیاں امن وسکون کاگہوارہ بن سکتی ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ گھریلوزندگی ‘‘مولانا فاروق رفیع ﷾ (مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ) کی تصنیف ہے موصوف تصنیف وتالیف ،تخریج وتحقیق کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں اس کتاب کے علاوہ تقریبا نصف درجن کتب کے مصنف ، اچھے مدرس اور واعظ ہیں۔ اللہ تعالی ٰان کےعلم وعمل او ر زور ِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین) اس کتاب میں مصنف نے رشتہ نکاح کی اہمیت ،انتخاب نکاح میں شرعی نصیحتوں کا بیان ، شادی کے بعد میاں بیوی کےمشترک ومنفرد حقوق ،زوجین کی حقوق میں کوتاہی کےانجام کار اور رشتہ نکاح کی بحالی کی ہرممکن کوشش کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔شادی شدہ جوڑے کےاستحکام کے لیے کتاب وسنت میں جو مفید چیزیں اوردلائل میسر تھے وہ اس کتاب میں جمع کردیے ہیں ،جو عادات اوطوار شادہ شدہ جوڑے کے لیےنقصان کا باعث ہیں ان نقصانات او رنتائج سےآگاہ کردیا ہے ۔ میکے اور سسرال والوں کے مثبت ومنفی کردار کھول کر بیان کیے ہیں تاکہ نکاح کے رشتہ سےمتعلق بھی لوگ اپنا مثبت کردار ادا کر کے اس رشتہ کو مضبوط سے مضبوط تر کریں اور سبھی لوگ خوشحال اور پرسکون زندگی بسر کریں۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں شامل ہر موضوع کو کتاب وسنت کے دلائل سے آراستہ کیا ہے او راس میں درج شدہ احادیث کی بڑی عرق ریزی سے تحقیق وتخریج کی ہے ۔ یہ کتاب گھرکے افراد کی اصلاح و تربیت کا مرقع او رگھرکو پرامن وپرسکون بنانے او راہل خانہ کی شرعی تعلیمات سےآراستہ کرنےکا خوبصورت گلدستہ ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش او ر مصنف کے والدین ،اساتذہ ، او ر ہل خانہ کےلیے ذریعہ نجات بنائے (آمین) (م۔ا)

urdu-daira-maarif-e-islamiah-04
دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

title-pages-al-furqan--sora-al-imran--copy
شیخ عمر فاروق

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور، دار العلم ،اسلام آباد وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور )کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ الفرقان سورۃ آل عمران و سورۃ الحجرات ‘‘ محترم جناب شیخ عمرفاروق صاحب کی کاوش ہے جوکہ قرآن مجید فرقان حمید کی سورۃ آل عمران ، سورۃ الحجرات کے بامحاورہ ترجمہ ، عربی گرائمر ،اورتفسیری نکات پر مشتمل ہے ۔نیز مرتب نےآخر میں آؤ عربی سیکھیں کےعنوان کےتحت15عربی اسباق بھی شامل کیے ہیں۔محترم شیخ عمر فاروق صاحب نے کوشش کی ہےکہ عربی نہ جاننے والے قاری حضرات کے ذہنوں میں قرآن کےالفاظ کی بناوٹ اوراس کی لفظی معانی کی سمجھ پیدا ہو اور قرآن کامفہوم اور پیغام بھی ذہن نشین ہوجائے ۔ اس کےلیے انہوں نے الفاظ کےمادے ،اور صیغے بڑے اہتمام سے دیے ہیں اور پورے مضمون کا پیغام سمجھانے کے لیے انہوں پہلے خود بہت سے قدیم اور جدید تفاسیر کامطالعہ کیا ہے اور پھر حسب ضرورت اپنے دروس میں مختلف تفسیروں کےاقتباسات درج کیے ہیں ۔بالخصوص تفہیم القرآن ، تدبر قرآن ،فی ظلال القرآن، سے استفادہ کر کے ان کے تفسیری نکات کو اس میں جمع کردیا ہے ۔فہم قرآن کےطلبہ وطالبات کے لیے یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔(م۔ا)

title-pages-bidat-kia-he-copy
محمد بن صالح العثیمین

بدعت کا مطلب بغیر کسی مثال کے کسی چیز کووجود میں لانا ہے ۔ لیکن شریعت کی اصطلاع میں ہر وہ کام جسے ثواب یا برکت کاباعث یا نیکی سمجھ کر کیا جائے لیکن شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔ یعنی نہ تویہ کام خود رسول اللہﷺ نے کیا ہواور نہ ہی کسی کو کرنےکا حکم دیا ،نہ ہی اسے کرنے کی کسی کواجازت دی ۔اس کے برعکس جوکام رسول اللہ ﷺ نے ایک بشرکی حیثیت سے بشری ضروریات پوری کرنے کے لیے کیے ،آپ ﷺ نے جو وسائل یا ضروریاتِ زندگی استعمال کیں ،دنیاوی امور میں آپ ﷺ نے جو تدبیریں اختیار کیں ان میں قیامت تک نئے وسائل ،نئی چیزیں اورنئے تجربوں سےفائدہ اٹھانا بدعت نہیں۔بدعت کورواج دینا صریحا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور بدعات وخرافات کرنے والے کل قیامت کو حوض کوثر سے محروم کردیئےجائیں گے ۔ جس کی وضاحت فرمان ِنبوی میں موجو د ہے ۔ زیرتبصرہ رسالہ ’’ بدعت کیا ہے؟ ‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین ومفتی شیخ محمد بن صالح العثیمین ﷫ کے بدعت کے متعلق تحریر شدہ عربی کتابچہ کا اردو ترجمہ ہے ۔شیخ نے اس مختصر کتابچہ میں بدعت کی پہچان ، نقصان اور اس سے اپنےایمان کو کیسے بچانا ہے ؟ کےمتعلق راہنمائی فرمائی ہے ۔استاذ الاساتذہ مولانا عمرفاروق سعیدی ﷾ نے اسے اپنی تعلیقات وحواشی کے ساتھ اردو داں طبقے کے لیے اردوقالب میں ڈھالا ہے تاکہ لوگوں کو حق وباطل میں پہچان کرنےمیں آسانی ہوسکے ۔اللہ تعالیٰ اس مختصر کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

urdu-daira-maarif-e-islamiah-03
دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

title-pages-al-furqan--sora-al-baqrah--copy
شیخ عمر فاروق

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور، دار العلم ،اسلام آباد وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ ’’ الفرقان سورۃ البقرہ‘‘ محترم جناب شیخ عمرفاروق کے ہفت روزہ ’’ ایشیا ‘‘ میں درس قرآن کے عنوان سے سلسلہ وار شائع ہونے والے درس کی کتابی صورت ہے ۔موصوف نے اس میں الفاظ کے مادے ، ان کے ماضی ومضارع اور صیغے بڑےاہتمام سے پیش کیے ہیں ۔ نیز پورے مضمون کے پیغام سمجھانے کےلیے انہو ں نے بہت سےقدیم وجدید تفاسیر کامطالعہ کر کے حسب ضرورت ان دروس میں مختلف مفسرین کے اقتباسات بھی دئیے ہیں ۔بالخصوص تفہیم القرآن ، تدبر قرآن ،فی ظلال القرآن، سے استفادہ کر کے ان کے تفسیری نکات کو اس میں جمع کردیا ہے ۔فہم قرآن کےطلبہ وطالبات کے لیے یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1884 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں