title-pages-ahkam-e-iddat-copy
محمد علی جانباز

اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جواپنے ماننے والوں کوصرف مخصوص عقائد ونظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر یہ دین مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید او رنبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دوچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہے ہیں گے ۔حیات انسانی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں اسلام نے اس کی راہنمائی نہ فرمائی ہو ۔عبادات ومعاملات سے متعلق مسائل واحکام وآگاہی اسلامی معاشرہ کے ہر فرد کی ضرورت ہوتی ہے انہی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ عدت وسوگ کا ہے۔موت کےرنج والم کی کیفیت کا شریعت اسلامیہ کے ضوابط کے تحت سامنا کرنے کا نام سوگ ہے ۔لیکن ہمارے پاک وہند کے معاشرےمیں اس حوالے سے ہندوؤانہ رسوم ورواج کا اس قدر چلن عام ہوچکا ہے کہ سوگ کے متعلق ہم کتاب وسنت کی ہدایات کوفراموش کر چکے ہیں۔عورت کی عدت سے مراد وہ ایام کہ جن کے گزر جانے پر اس سے نکاح کرنا حلال ہو جاتا ہے۔عورت کے عدت گزارناواجب ہے اس پر تمام علماء امت کا اجما ع ہے ۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’احکام عدت ‘‘ شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی کاوش ہے ۔ اس میں انہوں نے مسئلہ عدت وسوگ کی جملہ جزئیات کا احکاطہ کرتے ہوئے عدت او ر سوگ کےجملہ اہم وضروری مسائل کو اردو زبان میں تحریر کیا ہے تاکہ بوقت ضرورت اردو طبقہ بھی اس اسے استفاد ہ کرسکے ۔(م۔ا)

pages-from-fazael-aamaal-ki-kitab
حافظ عمران ایوب لاہوری

انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہےکہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنا چاہتی ہے ۔اور شریعتِ اسلامیہ میں دینی احکام ومسائل پر عمل کی تاکید کے ساتھ ساتھ ان اعمال کی فضیلت وثواب بیان کرتے ہوئے انسانی نفوس کو ان پر عمل کرنے کے لیے انگیخت کیا گیا ہے ۔یہ اعمال انسانی زندگی کے کسی بھی گوشہ سے تعلق رکھتے ہوں خواہ مالی معاملات ہوں، روحانی یا زندگی کے تعبدی معاملات مثلاً نماز، روزہ، حج زکوٰۃ ودیگر عباداتی امو ر۔انسانی طبیعت کےرجحان کے مطابق انسان ہمیشہ یہ طمع ولالچ کرتا ہے کہ کم سےکم عمل کرکے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرے، تھوڑے وقت میں تھوڑے عمل سےاپنے خالق ومالک کو خوب خوش کرے اوراس کی رضا حاصل کر کے جنتوں کا پروانہ تھامے اوردل بہار بہشتوں کا مالک بن جائے۔ تھوڑے وقت میں چھوٹے اعمال جوبہت بڑے ثواب کا عث بنتے ہیں بڑی فضیلتوں کے حامل ہوتے ہیں انسان ان کو ڈھونڈتا پھرتا ہے ۔کیونکہ کسی عمل کی فضیلت،اجر و ثواب اورآخرت میں بلند مقام دیکھ کر انسانی طبیعت جلد اس کی طرف راغب ہوجاتی ہے اوران پر عمل کرنا آسان معلوم ہوتا ہے دین اسلام میں کئی ایسے چھوٹے چھوٹے اعمال بتائے گئے ہیں جن کا اجروثواب اعمال کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ مختلف اہل علم نے ایسے اعمال پر مشتمل کتب بھی مرتب کی ہیں یہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فضائل اعمال کی کتاب‘‘ ڈاکٹر حافظ عمران ایوب﷾ (مصنف کتب کثیرہ، لیکچرر یونیورسٹی آف، لاہور) کی تفہیم سنت سیریز کی بائیسویں کتاب ہے۔ موصوف نے صرف مستند دلائل سے ثابت فضائل اعمال کو جمع کرکے موضوعاتی ترتیب سے مرتب کیا ہے لہذا کسی بھی موضوع سے متعلق فضائل کی تلاش آسانی سے کی جاسکتی ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب کو حوالہ جات اور تخریج وتحقیق سے مزین کیا ہے جوکہ اس کے استناد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے (آمین) (م۔ ا)

title-pages-achai-ka-hukam-krna-aur-burai-se-rokna-copy
امام ابن تیمیہ

امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے ۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں ، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کوروکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے ۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہمیت دی گئی ہے کہ تمام مومن مردوں اورتمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے ۔اوراللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کی ایک ایت کریمہ میں حکمرانوں کوبھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔ نیز ان حکمرانوں سےمدد کا وعدہ فرمایا ہے جو حکومت کی قوت اور طاقت سے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔اسلام صرف عقائد کانام نہیں ہے۔بلکہ مکمل نظام حیات ہے جس میں اوامر بھی ہیں اور نواہی بھی۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق تبلیغ ،تذکیر اوروعظ ونصیحت کے ساتھ ہے جس پر عمل کرنا والدین ، اساتذہ کرام، علماء وفضلاء اور معاشرے کے دیگر افراد پر واجب ہے جس سے افراد میں ایمان، تقویٰ ،خلوص، خشیت الٰہی جیسی صفات پیدا کر کے روح کا تزکیہ اور تطہیر مطلوب ہے ۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق حکومت کی طاقت اور قوتِ نافذہ کے ساتھ ہے ۔ مثلاً نظام ِصلاۃ ، نظام ِزکاۃ ،اسلامی نظامِ معیشت، اسلامی نظامِ عفت وعصمت اور قوانین حدود وغیرہ جس سے سوسائٹی میں امن وامان ، باہمی عزت واحترام اور عدل وانصاف جیسی اقدار کو غالب کر کے پورے معاشرے کی تطہیر اور تزکیہ مطلوب ہے۔ جب تک اوامرونواہی کے ان دونوں ذرائع کو موثر طریقے سےاستعمال نہ کیا جائے معاشرے کا مکمل طور پر تزکیہ اور تطہیر ممکن نہیں ۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ کی ذات مبارک خود بھی شریعت کے اوامر ونواہی پر عمل کرنے میں سب سے آگے تھی ۔ فرد اور پوری سوسائٹی کے تزکیہ اورتطہیر کے اعتبار سے آپ ﷺ کا عہد مبارک تمام زمانوں سے افضل اوربہتر ہے ۔رسول اکرمﷺ کی وفات کے بعد عہد صدیقی میں شدید فتنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بڑی فراست ،دوراندیشی اور استقامت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو کر تمام فتنوں کا استیصال فرمایا۔ اوراسی طرح سیدنا عمر فاروق نے بھی بعض دوسرے سرکاری محکموں کی طرح نظام احتساب اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کابھی باقاعدہ محکمہ قائم فرمایا۔ حضرت عثمان اور حضرت علی نےبھی اپنے عہد میں اس نظام کو مضبوط بنایا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نےنظام احتساب کے حوالے سے ایک بار پھر حضرت عمر بن خطاب کی یاد تازہ کردی۔اموی ،عباسی اوربعد میں عثمانی خلفاء کےادوارمیں بھی امر بالمعروف عن المنکر کانظام کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا ۔دین کے مرکز حجاز یعنی سعودی عرب میں آج بھی نظام احتساب کا ادارہ الرئاسة العامة لهئية الامربالمعروف والنهى عن المنكر کے نام سے بڑا موثر کردار کررہا ہے ۔روزانہ پانچ نمازوں کے اوقات میں تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں کے کاروبار بند کروانا گلی گلی محلے محلے نمازوں کے اوقات میں گھوم پھر کر لوگوں کونماز کےلیے مسجد میں آنے کی دعوت دینا، بے نمازوں کوتلاش کرنا ، انہیں پکڑ کر تھانے لانا چوبیس گھنٹے تک انہیں وعظ ونصیحت کرنا اورنماز پڑھنے کا وعدہ لے کر رہا کرنا ادارہ امربالمعروف ونہی عن المنکر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔اور اسی طرح زکاۃ کی ادائیگی کے بغیر کوئی کمپنی سعودی عرب میں اپنا کاروبار نہیں کرسکتی، رمضان المبارک کے مہینے میں غیر مسلموں پر بھی رمضان کااحترام کرنا واجب ہے ۔ ہر سال احترام رمضان کے بارے میں رمضان سےقبل شاہی فرمان جاری ہوتا ہے اگر کوئی نام نہاد مسلمان یا غیر مسلم احترام ِرمضان کےفرمان کی پابندی نہ کرے تو اس کا ویزہ منسوخ کر کے اسی وقت اسے ملک بدر کردیا جاتا ہے ۔سعودی عرب میں رہائش پذیر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مملکت میں واقعی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ موجود ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہا ہے۔سعودی حکومت دیگر اداروں کی طرح امربالمعروف وعن المنکر اوردینی کی اشاعت وترویج میں مصروف عمل اداروں کو اسی طرح سالانہ بجٹ میں فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں جس طرح مملکت کے دیگراداروں کومہیا کیے جاتے۔بلاشبہ سعودی حکومت اس معاملے میں تمام اسلامی ممالک کےمقابلہ میں ایک امتیازی شان رکھتی ہے۔ اور قرآن وحدیث کی روسے تمام اسلامی ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے ادارے قائم کریں اوراسلامی ریاست کو غیر اسلامی ممالک کے سامنے پورے اعتماد کے ساتھ ایک ماڈل کی حیثیت سے پیش کریں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ اچھائی حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کے ایک مختصر عربی رسالہ الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر کا ترجمہ ہے شیخ موصوف نے اس کتابچہ میں قرآن اور سنت کی روشنی میں اس موضوع پر اسلا م کا نقطہ نظر بیان کیا ہے ۔ جونہایت ہی قابل قدر عمل ہے ۔ محترم رانا خالد مدنی ﷾ نےاسی لیے اس کتابچہ کو اردو زبان میں منتقل کیا ہے كہ عوام الناس بھی اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔ (م۔ا)

title-pages-adab-e-zindagi-copy
امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ کتب احادیث میں دیگر عنوانات کے ساتھ ایک اہم عنوان الآداب یا البر والصلۃ والآداب بھی شامل ہے ۔جس میں معاشرتی زندگی کے آداب ومعاملات شخصی عادات کی اصلاح وتحسین ،اقربا واحباب کے حقوق ، جانوروں کے حقوق ، عام اشیاء کے استعمال کرنے نیز شخصی واجتماعی رویوں سے متعلق احادیث ائمہ محدثین نے جمع کیا ہے ۔ زیرنظر کتاب ’’آداب زندگی ‘‘ امام بیہقی ،ابوبکراحمد بن حسین بن علی (384۔458ھ) کی اخلاقیات وآداب کے موضوع پر مایہ ناز کتاب ’’الآداب‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔امام موصوف نے اس میں 11095 احادیث کومختلف ذیلی عنوانات کےتحت جمع کیا ہے ۔یہ کتاب اخلاقیات وآداب کے تمام گوشوں کواس قدر محیط ہے کہ کامل سیرابی کاہر دم یقین ہوتا ہے او رکسی بھی موضوع پر تشنگی کایکسر احساس نہیں ہوتا ۔اس کتاب کا رواں اور سلیس ترجمہ انڈیا کے جید عالم دین مولانا زبیر احمد سلفی نے کیا ہے ۔مترجم نےترجمہ کے ساتھ ساتھ صحیح اور ضعیف احادیث کی نشاندہی بھی کی ہے ۔اوراحادیث کے اصل مصادر سے تخریج او رشیخ البانی ﷫کی تحقیق سے استفادہ کیا ہے ۔گو یا کہ یہ کتاب آداب واخلاقیات کے موضوع پر گراں قدر مستنداور محقق مجموعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

pages-from-azaab-e-ilahi-aur-us-key-asbaab
ابن ابی الدنیا

یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ کہ اللہ تعالیٰ اس دنیامیں اپنی نافرمانی کرنے والوں کو مختلف طریقوں میں عذاب میں مبتلاکرتاہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو عذاب سے دو چار ہونے پڑے گا۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی کثرت سے مثالیں موجود ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں سابقہ اقوام پراللہ کا عذاب نازل ہونے کےواقعات موجود ہیں اور اسی طرح کئی ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنےنافرمانوں کوفرداً فرداً بھی عذاب میں مبتلا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ عذاب الٰہی اوراس کے اسباب‘‘ ابن ابی الدنیا کی عربی کتاب ’’ العقوبات‘‘ کا اردوترجمہ ہے۔ اس کتاب میں دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے پر نافرمانوں کو دئیے گئے عذاب کے واقعات کو قرآن مجید، کتب حدیث، سیرت و تاریخ سے اخذ کر کے مرتب کیا گیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-seerat-imam-ahmad-bin-hanbal-copy
عبد الرشید عراقی

امام احمد بن حنبل( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ امام احمد بن حنبل ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آپ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے مسند کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت امام احمد بن حنبل ‘‘وطن عزیز کے معروف مضمون نگار ، سیرت نگار مصنف کتب کثیرہ محترم جنا ب عبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے ۔ انہوں نےاس کتاب میں امام احمد بن حنبل ﷫ کے حالات زندگی ، اساتذہ، وتلامذہ کا تذکرہ ،ان کے دو رابتلاء کی تفصیل ، تصانیف اور ان کی مشہور کتاب مسند احمد بن حنبل کا تعارف اور فقہ حنبلی کے مختلف پہلوؤں پر مختصر اً اظہار کیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-wafat-al-nabi-copy
امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

عام انسانوں کی طرح نبی کریم ﷺکی بھی وفات ہوئی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ :سیدناابوبکر صدیق نے فرمایا : لوگو ! دیکھو اگر کوئی محمد ﷺکو پوجتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت محمد ﷺکی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ کی پوجا کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔پھر ابوبکر نے سورہ الزمر کی یہ آیت پڑھی) : اے پیغمبر ! تو بھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مریں گے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے۔ (آل عمرٰن : 144)۔نبی کریم ﷺ کی زندگی کےآخری ایام ، مرض اور وفات کا تذکرہ اور کیفیت کا بیان کتب حدیث وسیرت میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ وفاۃ النبی ﷺ ‘‘امام ابو عبد الرحمٰن النسائی ﷫ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب وفاۃ النبی ﷺ کے متعلق احادیث کا خوبصورت ، مختصر ،جامع اور بے مثال مجموعہ ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی علالت کی ابتدا ، ایام مرض کی سختیاں ، تکلیفوں پر صبر وفات کی گھڑی ، غسل ، نماز جنازہ ،قبر مبارک کی کیفیت، تدفین ،صحابہ کرا م کی اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی جدائی میں حالت اور اس موضوع سے جڑی بے شمار علمی معلومات اس کتاب کا حصہ ہیں ۔ محترم جناب ابو امامہ نوید احمد بشار ﷾ نے امام نسائی کی عربی کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہے تاکہ اردو دان طبقہ بھی اس سے مستفید ہوسکے۔ اور مولاناغلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری ﷾ نے اس کتاب کو تحقیق وتخریج اور علمی فوائد سے مزین کیا ہے جس سے اس کتاب کی افادیت میں مزیدا ضافہ ہوگیا ہے۔(م۔ا)

pages-from-sahifah-hammaam-bin-munabbah

صحابہ کرام ﷢نے نبی کریمﷺ سے جو احادیث منضبط کی تھیں انہیں صحیفہ کا نام دیا گیا۔ ان صحائف میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا تھا کہ احادیث کی تعداد کتنی ہے۔ مثلاً حضرت ابو ایوب انصاری ﷜ اور بریدہ بن حصیب﷜ کے صحیفوں میں 150 سے زیادہ احادیث تھیں۔ جبکہ عبداللہ بن عمرو بن عاص اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے صحیفوں میں ایک ہزار سے زائد احادیث موجود تھیں۔ سیدنا ابو ہریرۃ ﷜کی ان 139 روایات کا مجموعہ ہےجوانھوں نے اپنے شاگرد ہمام بن منبہ بن کامل الصنعانی کو لکھوائی تھیں اسے ’صحیفہ ہمام بن منبہ‘ کہا جاتا ہے۔ صحیفہ ہمام بن منبہ اگرچہ کتب احادیث میں متعدد جگہوں میں بکھرا ہوا تھا لیکن اصل صحیفہ مفقود تھا۔ اللہ تعالیٰ محترم ڈاکٹر حمیداللہ کی قبر پر رحمت نازل فرمائے، کہ انہوں نے دمشق اور برلن کی لائبریری سے مکمل صحیفے کو دریافت کیا اور 1953ء میں پہلی بار اسے شائع کیا جس میں احادیث کی تعداد 138 ہے۔ بعدازاں مصر کے ڈاکٹر رفعت فوزی کومصر کی ایک لائبریری’ دار الکتب المصریہ ‘‘ سے اس صحیفہ کا ایک مخطوطہ ملا۔اس میں احادیث کی تعداد 139 ہے۔ اسے المکتبہ الخانجی ،مصر نے ’’صحیفہ ہمام بن منبہ عن ابی ہریرہ﷜‘‘ کے نام سے 1985ء میں شائع کیا۔ زیر تبصرہ صحیفہ ہما م بن منبہ کا ترجمہ ڈاکٹر رفعت فوزی والے صحیفہ کوسامنے رکھتے ہوئے کیاگیا۔ نیز فاضل مترجم جنا ب محترم مولانا محمد رفیق چودھری﷾ نے اس کے آغا ز میں ایک علمی دیباچہ تحریر کیا ہے او رتمام احادیث کی عربی عبارات پر اعراب لگائے ہیں، ہرحدیث کاعنوان قائم کیا ہے، ترجمہ کے ساتھ ساتھ ہر حدیث کی ضروری تشریح وتوضیح کردی ہے، صحیفہ میں مذکور احادیث کے حوالے دئیے ہیں۔ اور کتاب کے آخر میں حروف تہجی اور مضامین کے اعتبار سے فہرست بھی بنائی ہے ۔صحیفے میں وارد تمام احادیث قدسیہ کی فہرست بھی الگ سے مرتب کردی ہے۔ فاضل مترجم کی زندگی کا طویل حصہ قرآن مجید سمجھنے سمجھانے اور اس کی نحوی وتفسیری مشکلات حل کرنے میں گزرا ہے۔ کتاب ہذا کے علاوہ آپ کئی دینی کتب کے مصنف ومترجم ہیں جن میں قرآن کریم کا اردو وانگلش ترجمہ اور تفسیر البلاغ بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے۔ آمین(م۔ ا)

title-pages-quran-majeed-mutajum--21-to-30--copy
فتح محمد جالندھری

قرآن ِ مجید انسانوں کی راہنمائی کےلیے رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی آخری کتاب ہے ۔اور قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے رشد وہدایت کا سرچشمہ اور نوعِ انسانی کےلیے ایک کامل او رجامع ضابطۂ حیات ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے کہ اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس کی تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیاکی میں کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو فرزند شاہ رفیع الدین ﷫اور شاہ عبد القادر﷫ ہیں ۔ اب تو اردو زبان میں بیسیوں تراجم دستیاب ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن مجید مترجم مع اردو تلفظ‘‘ مکتبہ قدوسیہ ،لاہور کے مدیران قدوسی برادران کی ایک منفرد کاوش ہے۔کہ انہوں نے اس مصحف میں متن قرآن کے ساتھ ساتھ مکمل قرآن مجید کے الفاظ کو ہجوں کی صورت میں بھی پیش کیا ہے تاکہ جن حضرات کوقرآن مجید پڑہنےمیں مشکل پیش آتی ہے وہ آسانی سے قرآن مجید روانگی سےپڑھنا سیکھ جائیں ۔اس قرآن مجید کی ضخامت زیادہ تھی جس وجہ اس کاسائز زیاد ہ بن رہا تھا اس لیے اس کی دس دس پاروں کی تین فاعلیں بنا کر ویب سائٹ پر پبلش کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-sahaba-ki-dastan-e-hayat-roshan-sitare-copy
عبد الوارث ساجد

صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحابہ کی داستان حیات روشن ستارے ‘‘ محترم جناب عبدالوارث ساجد صاحب کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے ان 13 جانثار صحابہ کرام کا بڑے دلچسپ اور دلنشیں انداز میں تذکرہ پیش کیا ہے جنہوں نے کافروں کے ہاتھوں تکلیفیں برداشت کر کے جہاد کے میدانوں میں اپنا خون بہاکر ہم تک اسلام کی روشنی پہنچائی۔ ان کی زندگی کا لمحہ لمحہ ہمارے لیے راہنمائی مہیا کرتا ہے ۔(م۔ا)

pages-from-shafaaf-naimatain
پروفیسر محمد رفیق چودھری

امام الانبیاء محمد رسول اللہﷺ کی محبت جزو ایمان ہے اس کے بغیر ایمان کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا محبت کے جذبات میں شعرونظم کے پیکر میں ڈھلتے ہیں تو انہیں نعت کہا جاتا ہے رسول اکرمﷺ کی مدح وستائش اور آپ ﷺ کے اوصاف کریمہ کابیان باعث شادابی ایمان ہے۔ محبت رسولﷺ سوز وگداز، ادب واحترام، سنجیدگی و مانت، حقیقت نگاری اور حفظ مرابت، سچی اور حقیقی نعت گوئی کے عناصر ترکیبی ہیں۔ حفظ مراتب سےمراد یہ ہے کہ نعت کہنے والا اللہ اور بندے میں یعنی خالق اور مخلوق میں فرق وامتیاز کو ہر حال میں ملحوظ رکھے ورنہ وہ الحاد، شرک اور زندقہ مبتلا ہو جائے گا۔ زیرتبصرہ کتاب ’’شفاف نعتیں‘‘ ماہنامہ محدث کے معروف مضمون نگار اور کئی کتب کے مصنف ومترجم محترم مولانا محمد رفیق چودھری﷾ کا مرتب شدہ مجموعۂ نعت ہے۔ اس میں ایک حمد اور 69 تعتیں شامل ہیں۔ اس میں خصوصاً یہ امر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ کسی نعت میں کوئی مضمون ایسا نہ ہو جو خلاف شریعت ہو یا جس پر اسلامی تعلیمات کے حوالے سے کو اعتراض وارد ہوسکتاہو۔فاضل مصنف کی زندگی کا طویل حصہ قرآن مجید سمجھنے سمجھانے اور اس کی نحوی و تفسیری مشکلات حل کرنے میں گزرا ہے۔کتاب ہذا کے علاوہ آپ کئی دینی کتب کے مصنف ومترجم ہیں جن میں قرآن کریم کا اردو وانگلش ترجمہ اور تفسیر البلاغ بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر مائے۔ آمین ( م۔ ا)  

title-pages-quran-majeed-mutajum--11-to-20--copy
فتح محمد جالندھری

قرآن ِ مجید انسانوں کی راہنمائی کےلیے رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی آخری کتاب ہے ۔اور قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے رشد وہدایت کا سرچشمہ اور نوعِ انسانی کےلیے ایک کامل او رجامع ضابطۂ حیات ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے کہ اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس کی تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیاکی میں کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو فرزند شاہ رفیع الدین ﷫اور شاہ عبد القادر﷫ ہیں ۔ اب تو اردو زبان میں بیسیوں تراجم دستیاب ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن مجید مترجم مع اردو تلفظ‘‘ مکتبہ قدوسیہ ،لاہور کے مدیران قدوسی برادران کی ایک منفرد کاوش ہے۔کہ انہوں نے اس مصحف میں متن قرآن کے ساتھ ساتھ مکمل قرآن مجید کے الفاظ کو ہجوں کی صورت میں بھی پیش کیا ہے تاکہ جن حضرات کوقرآن مجید پڑہنےمیں مشکل پیش آتی ہے وہ آسانی سے قرآن مجید روانگی سےپڑھنا سیکھ جائیں ۔اس قرآن مجید کی ضخامت زیادہ تھی جس وجہ اس کاسائز زیاد ہ بن رہا تھا اس لیے اس کی دس دس پاروں کی تین فاعلیں بنا کر ویب سائٹ پر پبلش کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-safar-nama-hijaz--saeed-ahmad--copy
سعید احمد چنیوٹی

شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ 1868ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں پائی۔ سات سال کی عمر میں والد اور چودہ برس کی عمر تک پہنچتے والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ بنیادی تعلیم مولانا احمد اللہ امرتسر ﷫سے حاصل کرنے کے بعد استاد پنجاب، مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی ﷫سے علم حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۸۸۹ء میں سندفراغت حاصل کرصحیحین پڑھنے دہلی میں سید نذیرحسین دہلوی ﷫ کے پاس پہنچے۔مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫ وسیع المطالعہ، وسیع النظر، وسیع المعلومات اور باہمت عالم دین ہی نہیں دین اسلام کے داعی، محقق، متکلم، متعلم، مناظر مصنف، مفسر اور نامور صحافی بھی تھے۔ مولانا کے پیش نگاہ دفاعِ اسلام اور پیغمبر اعظم جناب محمد رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کام تھا۔ یہودونصاریٰ کی طرح ہندو بھی اسلام کے درپے تھے۔ مولانا کی اسلامی حمیت نے یہودونصاریٰ، ہندو اورقادیانیوں کو دندان شکن جواب دیے۔ عیسائیت اور ہند مت کے رد میں آپ نےمتعد دکتب لکھیں۔اور آپ نے جس سرگرمی و تندہی سے عقیدہ ختم نبوتﷺ کا دفاع کیا، ایسی سعادت کم ہی مسلمانوں کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے اسلام کی حقانیت کو ہر موڑ پر ہر حوالے سے ثابت کیا۔ ۱۸۹۱ء میں جب مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کیا‘ آپ اس وقت طالب علم تھے۔ زمانہ طالب علمی ہی میں آپ نے ردِ قادیانیت کو اختیار کر لیا۔ قادیانیت کی دیوار کو دھکا دینے میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مرزا غلام احمد کے چیلنج پر اس کے گھر جا کر اسے مناظرے کے لیے للکاراکہ مرزا قادیانی اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ردِ قادیانیت میں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے’’تاریخ مرزا، فیصلہ مرزا، الہامات مرزا، نکات مرزا، عجائبات مرزا، علم کلام مرزا، شہادت مرزا، شاہ انگلستان اور مرزا، تحفہ احمدیہ، مباحثہ قادیانی، مکالمہ احمدیہ، فتح ربانی، فاتح قادیان اور بہااللہ اور مرزا۔‘‘ جیسی کتب لکھیں۔اس کے علاوہ آپ نے لاتعداد مناظرے کیے اور ہر جگہ اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا۔الغرض شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ برصغیر پاک و ہند کی جامع الصفات علمی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ خوبیوں اور محاسن سے نواز رکھا تھا۔آپ اسلام کی اشاعت اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ قادیانیت ،عیسائیت اور ہند مت کے رد کے علاوہ بھی بہت سی کتب لکھیں ۔ تفسیر القرآن بکلام الرحمن (عربی) اور ’’تفسیرِ ثنائی ‘‘ (اردو) قابل ذکر ہیں ۔مولانا کی حیات خدمات کے سلسلے میں معروف قلماران او رمضمون نگاران نے بیسیوں مضامین لکھے ہیں جو پاک وہند کے رسائل کی کی زینت بنتے رہتے ہیں اور بعض اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’سفرنامہ حجاز ‘‘ برصغیر کی نامور شخصیت شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کے سفرِِ حج کی روداد پرمشتمل ہے ۔مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے یہ سفر 1926 کو اختیار کیا اور اجتماعی سفر حج کا اعلان کیا تو ہندوستان بھر سے تقریباً پانچ صد افراد کا قافلہ آپ کے ساتھ شریک سفر تھا۔مولانا کایہ سفر 26 اپریل 1926ء سے 20 اگست تک تھا۔اس چار ماہ کے سفر میں جن واقعات ومشاہدات کا سامنا ہوا وہ انہیں تحریری صورت میں ہر ہفتہ بذریعہ ڈاک ہندوستان روانہ کرتے رہے جو ہفت روزہ اہل حدیث امرتسر میں 13 اقساط میں مسافرحجاز کا مکتوب کے عنوان سے شائع ہوئے ۔مولانا سعید احمد چنیوٹی نےان مکتوبات کی تاریخی اہمیت کی بنا پر ان مکاتیب کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔تاکہ اس دور کی سیاسی وعلمی اور مذہبی تاریخ سے آگہی ہوسکے اور ارض حجاز اور ہندوستان کےحالات کاعلم ہوسکے ۔یہ کتاب علمی سیاسی اور تاریخی معلومات کاخزانہ اورتاریخی دستاویز ہے ۔(م۔ا)

pages-from-shah-wali-ullah-dehlvi-aik-taaruf
ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے۔ وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔ آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے۔ ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔ اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی شخصیت وحکمت کا ایک تعارف‘‘ شاہ ولی اللہ دہلوی ریسرچ سیل،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پرو فیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی صاحب کا مرتب شدہ ہے۔ اس کتابچہ انہوں نے فکر ولی اللّٰہی کےبنیادی اور مستقل پہلووں پر توجہ مرکوز رکھی ہے او ران کے بعض ثانوی افکار اور وقتی کارناموں سے بحث نہیں کی گئی۔ تجزیہ وتحلیل سے ضروری کام لیا ہے اور تنقید وتبصرہ سے عمداً کریز کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-quran-majeed-mutajum--1-to-10--copy
فتح محمد جالندھری

قرآن ِ مجید انسانوں کی راہنمائی کےلیے رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی آخری کتاب ہے ۔اور قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے رشد وہدایت کا سرچشمہ اور نوعِ انسانی کےلیے ایک کامل او رجامع ضابطۂ حیات ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے کہ اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس کی تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیاکی میں کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو فرزند شاہ رفیع الدین ﷫اور شاہ عبد القادر﷫ ہیں ۔ اب تو اردو زبان میں بیسیوں تراجم دستیاب ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن مجید مترجم مع اردو تلفظ‘‘ مکتبہ قدوسیہ ،لاہور کے مدیران قدوسی برادران کی ایک منفرد کاوش ہے۔کہ انہوں نے اس مصحف میں متن قرآن کے ساتھ ساتھ مکمل قرآن مجید کے الفاظ کو ہجوں کی صورت میں بھی پیش کیا ہے تاکہ جن حضرات کوقرآن مجید پڑہنےمیں مشکل پیش آتی ہے وہ آسانی سے قرآن مجید روانگی سےپڑھنا سیکھ جائیں ۔اس قرآن مجید کی ضخامت زیادہ تھی جس وجہ اس کاسائز زیاد ہ بن رہا تھا اس لیے اس کی دس دس پاروں کی تین فاعلیں بنا کر ویب سائٹ پر پبلش کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-rizak-e-halal-aur-rishwat--janbaz--copy
محمد علی جانباز

اسلام نے ہر اس ذریعہ اکتساب کو منع اور حرام قرار دیا ہے جس میں کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ کمایاجائے۔انہی حرام ذرائع میں سے ایک نہایت قبیح ذریعہ اکتساب رشوت ہے، جو شریعت کی نظر میں انتہائی جرم ہے اور یہ جرم آج ہمارے معاشرے میں ناسور کی مانند پھیل چکا ہے، جس کا سد باب مسلمان معاشرے کے لئے ضروری ہے۔رشوت انسانی سوسائٹی کا وہ بد ترین مہلک مرض ہے جو سماج کی رگوں میں زہریلے خون کی طرح سرایت کر کے پورے نظام انسانیت کو کھوکلا اور تباہ کر دیتا ہے ۔ رشوت ظالم کو پناہ دیتی ہے ۔ اور مظلوم کو جبراً ظلم برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ رشوت کے ہی ذریعے گواہ ، وکیل اور حاکم سب حق کو ناحق اور ناحق کو حق ثابت کرتے ہیں ۔ رشوت قومی امانت میں سب سے بڑی خیانت ہے ۔اسلامی شریعت دنیا میں عدل و انصاف اور حق و رحمت کی داعی ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے ہی انسانی سماج کی اس مہلک بیماری کی جڑوں اور اس کے اندرونی اسباب پرسخت پابندی عائد کی ۔ اور اس کے انسداد کے لیے انتہائی مفید تدابیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ۔ جن کی وجہ سے دنیا ان مہلک امراض سے نجات پا جائے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ رزق حلال اور رشوت ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں رشوت کی حرمت پر خامہ فرسائی کی ہے ۔ تاکہ عامۃ الناس اس کے اخلاقی وروحانی مفاسد کو جان سکیں اور اس گناہ سے بچ سکیں۔ اللہ تعالیٰ اس مختصر کتاب کو اہل اسلام کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-ziyada-sawab-aur-sakhat-azab-waley-qaleel-amal
ام ساجد کیلانی

کہ اس نے انسان کو نیکی کی طرف راغب کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے اعمال کے بدلے عظیم نیکیاں او راجروثواب کا وعد ہ کیا ہے۔ انسان کی فطرت بھی یہ ہے کہ وہ اعمال نامے میں اضافہ کے لیے ان ترغیبات پر انحصار کرتاہے۔ اور انسانوں سے کچھ ایسے اعمال بھی سرزد ہوجاتے ہیں چھوٹے سےعمل کی وجہ سے بہت زیادہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں شامل ہوجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’زیادہ ثواب اور سخت عذاب والے قلیل عمل‘‘ ام ساجد کیلانی کی مرتب شدہ ہے اس کتاب کو انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے چالیس احادیث حصہ اول میں ہیں اور چالیس احادیث دوسرے حصہ میں ہیں۔ پہلے حصہ میں وہ احادیث جمع کی ہیں جو انتہائی آسان اور بے مشقت ہیں جبکہ اجر وثواب کے لحاظ سے قابل رشک ہیں ۔دوسرے حصے میں وہ احادیث جمع کی ہیں جن میں بظاہر بہت معمولی باتوں کا تذکرہ ہے لیکن ان کا گناہ یا عذاب بہت زیادہ ہے۔ پہلے حصے کا نام ’’عمل قلیل اور ثواب کثیر‘‘ اوردوسرے حصے کا نام ’’ عمل قلیل اور عذاب کثیر ‘‘ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اہل اسلام کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

title-pages-qurani-dastore-hayat-copy
ابو یحیٰ امام خان نوشہری

واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اور اثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔فی زمانہ بچے بڑے جھوٹے اورلغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچےواقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآنی دستور حیات ‘‘مولانا ابو یحییٰ امام خان نوشہروی ﷫ کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تقریباً 80 قریب موضوعات کو قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کی روشنی میں بیان کیا ہے اور کتب حدیث وسیرت سے ماخوذ 439 دلچسپ اسلامی واقعات کو اس کتاب میں جمع کردیا ہے ۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 877 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں