title-pages-droos-al-quran-2-copy
محمد عظیم حاصلپوری

قرآن مجید اللہ رب العزت کی سچی اور لاریب کتاب ہے جو بے مثل اور بے نظیر ہونے کے ساتھ ساتھ سراپا ہدایت اور حکمت ودانائی سے بھری پڑی ہے اس کی تلاوت باعث ثواب بھی ہے اور قاری کو ایسی لذت بھی دیتی ہے جس سے وہ کبھی بھی اُکتاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ یہ اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے اتارا ہوا دستور حیات ہے جو اس کو ٹھکرا کر خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لے وہ ظالم وفاسق اور دنیا وآخرت میں ذلیل ورسوا ہوکر تڑپے گا اور جو شخص قرآنی احکامات کے مطابق عمل کرے وہ جنت کے راستے پر گامزن ہو کر اپنی منزل تک یقیناً پہنچ جائے گا۔ قرآن مجید کو آسان سے آسان انداز میں عوام الناس تک پہنچانے اور انہیں وعظ ونصیحت اور تبلیغ کے لیے کئی ایک طریقے اپنائے گئے اور اس پر بہت سے کتب بھی تالیف کی گئیں مگر زیرِ تبصرہ کتاب  علم وفن کا ایک گہرا سمندر ہے جو بھی اس میں غوطہ زن ہوتا ہے وہ ہیرے‘ جواہرات سے اپنی جھولی بھر کر ہی سطح آب پر نمودار ہوتا ہے۔ اس کی دو جلدیں ہیں پہلی جلد میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی چیدہ چیدہ آیات کی تفہیم وتفسیر ہے اور دوسری جلد میں سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کی منتخب آیات پر دروس مشتمل ہیں جس میں قرآنی آیات کے شان نزول اور  اور ان کی تفسیر ہے۔ تفسیر میں تفسیر بالقرآن اور تفسیر بالحدیث اور صحیح یا حسن درجہ کی احادیث کو بیان کیاگیا ہے۔ بنی اسرائیلی روایت کا ذکر کرنے کے بعد اس کی وضاحت بھی کی جاتی ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے۔ اس کتاب میں حوالہ جات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے‘ حوالے میں سورۂ کا نام اور آیت کا نمبر ذکر کیا جاتا ہے اور حدیث کے حوالے میں مصدر کا نام‘ پھر کتاب کا نام اور حدیث نمبر ذکر کیا جاتا ہے۔یہ کتاب’’ دروس القرآن ‘‘ الشیخ محمد عظیم حاصل پوری  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

pages-from-shah-waliullah-dehlvi-ki-qurani-khidmat
ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی اجتماعیت کے لئے قیامت تک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ نبی کریمﷺ نے قرآنی تعلیمات پر نہ صرف ایک جماعت قائم کی بلکہ ایک زندہ وتابندہ سو سائٹی بھی قائم کر کے دکھائی، جس نے انسانی ترقی کا ایک ایسا منصفانہ نظام زندگی فراہم کیا جس سے آج کا انسان بے نیاز نہیں رہ سکتا ہے۔قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِ ہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم و تشریح اور ترجمہ و تفسیر کرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں۔ خادمین قرآن میں ایک بڑا نام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کا بھی آتا ہے۔ آپ نے خدمت قرآن کے سلسلہ میں بڑی شاندار اور عظیم خدمات انجام دی ہیں۔ چنانچہ آپ کی ان خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں متعدد مقالات پیش کئے گئے۔ زیر تبصرہ کتاب "شاہ ولی اللہ دہلوی﷫ کی قرآنی خدمات" انہی مقالات کا مجموعہ ہیں، جنہیں انڈیا کے معروف عالم دین پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی اور پروفیسر ظفر الاسلام صاحبان نے مرتب فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-droos-al-quran-1-copy
محمد عظیم حاصلپوری

قرآن مجید اللہ رب العزت کی سچی اور لاریب کتاب ہے جو بے مثل اور بے نظیر ہونے کے ساتھ ساتھ سراپا ہدایت اور حکمت ودانائی سے بھری پڑی ہے اس کی تلاوت باعث ثواب بھی ہے اور قاری کو ایسی لذت بھی دیتی ہے جس سے وہ کبھی بھی اُکتاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ یہ اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے اتارا ہوا دستور حیات ہے جو اس کو ٹھکرا کر خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لے وہ ظالم وفاسق اور دنیا وآخرت میں ذلیل ورسوا ہوکر تڑپے گا اور جو شخص قرآنی احکامات کے مطابق عمل کرے وہ جنت کے راستے پر گامزن ہو کر اپنی منزل تک یقیناً پہنچ جائے گا۔ قرآن مجید کو آسان سے آسان انداز میں عوام الناس تک پہنچانے اور انہیں وعظ ونصیحت اور تبلیغ کے لیے کئی ایک طریقے اپنائے گئے اور اس پر بہت سے کتب بھی تالیف کی گئیں مگر زیرِ تبصرہ کتاب  علم وفن کا ایک گہرا سمندر ہے جو بھی اس میں غوطہ زن ہوتا ہے وہ ہیرے‘ جواہرات سے اپنی جھولی بھر کر ہی سطح آب پر نمودار ہوتا ہے۔ اس کی دو جلدیں ہیں پہلی جلد میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی چیدہ چیدہ آیات کی تفہیم وتفسیر ہے اور دوسری جلد میں سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کی منتخب آیات پر دروس مشتمل ہیں جس میں قرآنی آیات کے شان نزول اور  اور ان کی تفسیر ہے۔ تفسیر میں تفسیر بالقرآن اور تفسیر بالحدیث اور صحیح یا حسن درجہ کی احادیث کو بیان کیاگیا ہے۔ بنی اسرائیلی روایت کا ذکر کرنے کے بعد اس کی وضاحت بھی کی جاتی ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے۔ اس کتاب میں حوالہ جات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے‘ حوالے میں سورۂ کا نام اور آیت کا نمبر ذکر کیا جاتا ہے اور حدیث کے حوالے میں مصدر کا نام‘ پھر کتاب کا نام اور حدیث نمبر ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب’’ دروس القرآن ‘‘ الشیخ محمد عظیم حاصل پوری  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-khawateen-e-jannat-copy
عبد السلام بستوی

اسلام کی قدیم تایخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دور حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی ،اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔زیر تبصرہ کتاب’’خواتین جنت ‘‘ مولانا عبد السلام بستوی ﷫ کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے سعادت مند ماؤں اور بہنوں کے سچے حالات کو عصر حاضر کی خواتین کی اصلاح کےلیے تحریر کیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب عورتوں کی اصلاح کر کے انہیں صحیح معنوں میں خواتین جنت بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

pages-from-ibn-e-khaldoon
عبد السلام ندوی

علامہ ابن خلدون 1332ء تیونس میں پیدا ہوئے۔ ابن خلدون مورخ، فقیہ، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ مکمل نام ابوزید عبدالرحمن بن محمد بن محمد بن خلدون ولی الدین التونسی الحضرمی الاشبیلی المالکی ہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد تیونس کے سلطان ابوعنان کا وزیر مقرر ہوا۔ لیکن درباری سازشوں سے تنگ آکر حاکم غرناطہ کے پاس چلا گیا۔ یہ سر زمین بھی راس نہ آئی تو مصر آگیا۔ اور الازھر میں درس و تدریس پر مامور ہوا۔ مصر میں اس کو مالکی فقہ کا منصب قضا میں تفویض کیا گیا۔اسی عہدے پر 74سال کی عمر میں وفات پائی اور اسے قاہر ہ کے قبرستان میں دفن کیاگیا لیکن زمانے کی دست برد سے اس کی قبر کا نشان تک مٹ گیا۔ ابن خلدون کو تاریخ اور عمرانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ ابن خلدون نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور مختلف علوم وفنون کے متعلق چھوٹی بڑی کئی کتب تصنیف کیں۔ا س کی شہرت کی بڑی وجہ اس کی تاریخ ’’العبر‘‘ ہےاس کی تاریخ کا پورا نام ’’کتا ب العبر ودیوان المبتدا والخبر فی ایام العرب والعجم والبربر ومن عاصرھم من ذوی السلطان الاکبر ‘‘ ہےاس کتاب میں ابن خلدون نے ہسپانوی عربوں کی تاریخ لکھی تھی۔ جو مقدمہ ابن خلدون کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تاریخ، سیاست ، عمرانیات ، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے۔مقدمہ ابن خلدون درحقیقت اس کےزمانۂ تالیف تک کے انسانی علوم اور خیالات پر سب سے پہلا تبصرہ اور تاریخ کےواقعات کو سائنس بنانے کی سب سے پہلی کوشش اور اقتصاد اور سوشیالوجی پر ایک فن کی حیثیت سے سب سے پہلی انسانی نگاہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ابن خلدون‘‘ ڈاکٹر طٰہٰ حسین کے فرنچ زبان میں ابن خلدون پر لکھی گئی کتاب کےعربی ترجمے کا اردو ترجمہ ہے ڈاکٹر طٰہٰ حسین نے یہ کتاب 1917ءمیں لکھی اور اس پر سربون یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی ۔پھر کالج دی فرانس نے اسی کتاب کی وجہ سے انہیں سنتور کا مشہور انعام عطا کیا۔ بعد ازاں 1925ء میں محمد عبداللہ عنان نے اس کتاب کو فرنچ زبان سے عربی میں منتقل کیا۔ یہ کتاب اسی عربی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔جوکہ ابن خلدون کے سوانح زندگی اور اس کےفلسفۂاجتماعی کی تشریح وتنقید پر مشتمل ہے ۔علامہ سید سلیمان ندوی ﷫ کے ایما پر مولانا عبد السلام ندوی نے 1940ء میں اسے اردو قالب میں ڈھالا۔(م۔ا)

title-pages-hayat-hazrat-khizar-copy
حافظ ابن حجر عسقلانی

قرآن کی سورۃ کہف میں ہے کہ حضرت موسی اپنے خادم ’’جسے مفسرین نے یوشع لکھا ہے‘‘ کے ساتھ مجمع البحرین جارہے تھے کہ راستے میں آپ کی ملاقات اللہ کے بندے سے ہوئی۔ حضرت موسی نے اس سے کہا کہ آپ اپنےعلم میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں تو بندے نے کہا کہ آپ جو واقعات دیکھیں گے ان پر صبر نہ کر سکیں گے اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کرنا اس قول و قرار کے بعد دونوں سفر پر روانہ ہوگئے۔ راستے میں اللہ کے بندے نے چند عجیب و غریب باتیں کیں۔ کشتی میں سوراخ ، ایک لڑکے کا قتل اور بغیر معاوضہ ایک گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کرنا، جس پر حضرت موسی سے صبر نہ ہو سکا اور آپ ان باتوں کا سبب پوچھ بیٹھے۔ اللہ کے بندے نے سبب تو بتا دیا ۔ لیکن حضرت موسی کا ساتھ چھوڑ دیا۔احادیث مبارکہ میں اس خاص بندےکا نام’’ خضر ‘‘آیا ہے اور مفسرین کی اکثریت کے نزدیک اس سے مرادحضرت خضر ہیں۔مفسرین نے حضرت خضر کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔انہوں نے واقعات وروایات کی چھان بین کرکے ان کے احوال زندگی معلوم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔مورخین نے حضرت خضر کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اورعلماء نے ان کی وفات وحیات پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’ حیات حضرت خضر ‘‘ معروف شارح صحیح بخاری امام احمد بن حجر عسقلانی ﷫کی حضرت خضر کے متعلق تصنیف شدہ عربی کتاب ’’الزھر النضرفی حال الخضر‘‘کا اردو ترجمہ ہے ۔صاحب کتاب نے حضرت خضر کے بارے میں کتب احادیث تواریخ اور سیر میں جس قدر روایات میسر آئیں ان سب کو اس کتاب میں جمع کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور ان روایات کا تحقیقی جائزہ بھی پیش کیا ہے ۔نیز معروف سکالر جناب صلاح الدین مقبول احمد ﷾ نے اس کتاب پر تحقیق اور تفصیلی مقدمۂ تحقیق تحریر کر کے اس کتاب کی اہمیت وافادیت کو چارچاند لگادئیے ہیں ۔محقق موصوف نے اپنے مقدمہ میں حضرت خضرﷺ کے متعلق کبار علماء کی تالیف کردہ سترہ (17) کتب کے نام بھی ذکر کیے ہیں اور امام ابن حجر عسقلانی ﷫ کے حالات زندگی اور حضرت خضر ﷺ کے متعلق مباحث کا خلاصہ تحریر کیا ہے ۔مترجم کتاب ہذا ابوعبد السلام محمد اکرم جمیل صاحب نے بڑے جذبے اور محنت سے اصل کتاب کے قریب قریب رہ کرآسان ترین ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-hazrat-abu-bakar-saddique-k-so-qisse-copy
محمد صدیق منشاوی

انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔جماعت ِ صحابہ میں سےخاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار ، امارت ، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کےاجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے ۔سیدنا ابوبکر صدیق قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمنین ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں کئی نامور اہل قلم نے محفوظ کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حضرت ابو بکرصدیق کے 100 قصے ‘‘ شیخ محمد صدیق المنشاوی کی عربی تصنیف ’’مائة قصة من حياة أبي بكر رضي الله عنه‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔جوکہ خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق کے ان دلچسپ سو قصوں اور واقعات پر مشتمل ہے جو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں راہنمائی فراہم کرتے ہیں کیونکہ سلف صالحین اور اکابرین امت کے قصص واقعات کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کو پڑھ کر نہ صرف یہ کہ ایمان بڑھتا ہے بلکہ عاجزی وانکساری ، صدقہ وخیرات ، زہد وعبادات اور اصلاح نفس جیسے بے شمار اسباق تازہ ہوتے ہیں ۔(م۔ا)

title-pages-hajiyon-ku-wasiyatian-copy
پروفیسر ڈاکٹر صالح بن غانم السدلان

حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبوی ہےکہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب شائع کی جا چکی ہیں ۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’ حاجیوں کووصیتیں‘‘ سعودی عرب کی نامور علمی شخصیت فضیلۃالشیخ صالح بن غانم بن السدلان کے تحریر شدہ عربی رسالہ ’’ وصایا لحجاج بیت اللہ الحرام‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتابچہ میں شیخ موصوف نے قرآن وسنت کی روشنی میں حج کے جملہ احکام ومسائل اور حاجیوں کو جن امور سے اجتناب کرنا چاہیے انہیں اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ محترم جناب حافظ محمد انور صاحب نے اس رسالہ کی افادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-jadeed-arbi-seikhiye-copy
دار السلام ریسرچ سنٹر

اللہ تعالی کاکلام اور نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں ہیں اسی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں سے عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعت اسلامی کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعتِ اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے۔ اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت عربی زبان سے ناواقف ہے جس کی وجہ سے وہ فرمان الٰہی اور فرمان نبوی ﷺ کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ حتی کہ تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کی اکثریت سکول ،کالجز ،یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل اسلامیات کے اسباق کو بھی بذات خود پڑھنے پڑھانے سے قا صر ہے ۔دنيا كي سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان دنیا کے نقشے پر اس لیے جلوہ گر ہوئی تھی کہ اس کے ذریعے اسلامی اقدار اور دینی شعائر کا احیاء ہوگا۔ اسلامی تہذیب وثقافت کا بول بالا ہوگا اور قرآن کی زبان سرزمین پاک میں زند ہ وتابندہ ہوگی۔مگر زبان قرآن کی بے بسی وبے کسی کہ ارض پاکستان میں اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ دور غلامی میں بھی نہ پہنچی تھی۔علماء ومدارس کی اپنی حدتک عربی زبان کی نشرواشاعت کے لیے کوششیں وکاوشیں قابل ذکر ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر حکومت کی طرف کماحقہ جدوجہد نہیں کی گئی۔ زیرتبصرہ کتاب ’’جدید عربی سیکھیے‘‘ دارالسلام ریسرچ سنٹر،لاہور کے سکالرز کی مشترکہ کاوش ہے ۔ اس کتاب کی جدت ،ندرت،اہمیت اور افادیت یہ ہے کہ یہ جدیداحوال وظروف اور وزمرہ معاملات ومسائل کو پیش نظر رکھ کر مرتب کی گی ہے ۔ تدریس وتفہیم میں سہولت کے پیش نظر اسے مکالمات کی صورت میں تیار کیا گیا ہے اور مشکل الفاظ نمایاں کر کے ان کے معانی واضح کردیے گئے ہیں ۔ مدارس دینیہ کے طلباء و مدرسین کے لیے یہ کتاب ایک نادر تحفہ ہے کیونکہ مدارس دینیہ کی اکثریت عربی گرائمر تو جانتی ہے مگر آج کل کی بولی اور لکھی جانے والی عربی زبان سےناواقف ہے ۔اس کتاب کی مدد سے عرب ممالک کے مسافروں کے لیے عربی سیکھنا نہایت آسان ہے ۔ اور یہ کتاب اساتذہ وطلبہ کےلیے عربی بول چال پر ایک شاندار رہنما کتاب ہے ۔(م۔ا)

pages-from-tawaazeh
ابو مریم مجدی فتحی السید

نبیﷺ اپنے علمی‘ عملی اور نبوی درجات کی سب سے بلندی پر فائز تھے‘ بلاشبہ آپ اللہ کے سب سے بڑے متقی‘ سب سے بڑے عالم اور سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے بندے تھے لیکن خود کو سب سے زیادہ متواضع‘ خاکسار اور اللہ کا عاجز بندہ تصور کرتے تھے‘ اور یہی شان آپ ﷺ کے تمام اصحاب کرام میں بھی پائی جاتی تھی‘ دنیا میں اللہ کے محبوب بندے‘ انبیاء‘ صدیقین‘ شہداء اور صالحین تمام اپنے علم وتقوی میں جتنے بلند تھے اسی مناسبت سے اللہ سے ڈرنے والے‘ اس کی بارگاہ میں گردن عجز ونیاز جھکانے والے اور خود کو اللہ کا ادنی بندہ سمجھنے والے بھی تھے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  بھی خاص اسی موضوع پر ہے جس میں ’’التواضع‘‘ پر بڑی جامع‘ بڑی مفید اور مؤثر کتاب ہے۔ اس میں سب سے پہلے تواضع کی تعریف پھر سلف صالحین کے نزدیک تواضع کی تعریف‘  تو اس کے بعد باب بندی کی گئی ہے پہلے باب میں قرآن کریم  اور حدیث سے تواضع کی فضیلت‘ دوسرے باب میں نبیﷺ اور صحابہ کا تواضع‘ اور تیسرے میں صحابہ وتابعین اور علمائے کرام نے تواضع کی کیا فضیلت بیان کی کو‘ چوتھے میں تواضع اختیار کرنے والوں کی صفات اور احوال کو اور پانچویں میں تواضع کے ثمرات کو  بیان کیا گیا ہے۔۔ یہ کتاب’’ تواضع ‘‘ ابو مریم مجدی فتحی السید کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

title-pages-tafseer-aur-usool-e-tafseer-copy
فیصل احمد ندوی بھٹکلی

قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے ۔ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمدﷺ پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد ﷺنے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی قرآنی لفظ ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ہیں۔اصول تفسیر ایسے اصول وقواعد کا نام ہے جو مفسرین قرآن کے لیے نشان منزل کی تعیین کرتے ہیں۔ تاکہ کلام اللہ کی تفسیر کرنے والا ان کی راہ نمائی اور روشنی میں ہر طرح کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رہے اور اس کےمنشاء ومفہوم کا صحیح ادراک کرسکے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر اور اصول تفسیر ضرورت ، تعارف اور اہم کتابیں‘‘اپریل 2013ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء میں کلیۃ الشریعۃ واصول الدین کی طرف سےکے زیر اہتمام ’’ مدارس میں قرآن واصول قرآن کی تفہیم وتدریس –اسلوب ، منہج ،مسائل ومشکلات ‘‘ کےعنوان سےمنعقد کیے گئے دور وزہ مذاکرہ علمی میں محترم جناب فیصل احمد ندوی کی طرف سےپیش کیے مقالہ کی کتابی صورت ہے ۔(راسخ )

title-pages-touzih-al-quran-copy
ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ 1868ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں پائی۔ سات سال کی عمر میں والد اور چودہ برس کی عمر تک پہنچتے والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ بنیادی تعلیم مولانا احمد اللہ امرتسر ﷫سے حاصل کرنے کے بعد استاد پنجاب، مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی ﷫سے علم حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۸۸۹ء میں سندفراغت حاصل کرصحیحین پڑھنے دہلی میں سید نذیرحسین دہلوی ﷫ کے پاس پہنچے۔مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫ وسیع المطالعہ، وسیع النظر، وسیع المعلومات اور باہمت عالم دین ہی نہیں دین اسلام کے داعی، محقق، متکلم، متعلم، مناظر مصنف، مفسر اور نامور صحافی بھی تھے۔ مولانا کے پیش نگاہ دفاعِ اسلام اور پیغمبر اعظم جناب محمد رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کام تھا۔ یہودونصاریٰ کی طرح ہندو بھی اسلام کے درپے تھے۔ مولانا کی اسلامی حمیت نے یہودونصاریٰ، ہندو اورقادیانیوں کو دندان شکن جواب دیے۔ عیسائیت اور ہند مت کے رد میں آپ نےمتعد دکتب لکھیں۔اور آپ نے جس سرگرمی و تندہی سے عقیدہ ختم نبوتﷺ کا دفاع کیا، ایسی سعادت کم ہی مسلمانوں کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے اسلام کی حقانیت کو ہر موڑ پر ہر حوالے سے ثابت کیا۔ ۱۸۹۱ء میں جب مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کیا‘ آپ اس وقت طالب علم تھے۔ زمانہ طالب علمی ہی میں آپ نے ردِ قادیانیت کو اختیار کر لیا۔ قادیانیت کی دیوار کو دھکا دینے میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مرزا غلام احمد کے چیلنج پر اس کے گھر جا کر اسے مناظرے کے لیے للکاراکہ مرزا قادیانی اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ردِ قادیانیت میں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے’’تاریخ مرزا، فیصلہ مرزا، الہامات مرزا، نکات مرزا، عجائبات مرزا، علم کلام مرزا، شہادت مرزا، شاہ انگلستان اور مرزا، تحفہ احمدیہ، مباحثہ قادیانی، مکالمہ احمدیہ، فتح ربانی، فاتح قادیان اور بہااللہ اور مرزا۔‘‘ جیسی کتب لکھیں۔اس کے علاوہ آپ نے لاتعداد مناظرے کیے اور ہر جگہ اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا۔الغرض شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ برصغیر پاک و ہند کی جامع الصفات علمی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ خوبیوں اور محاسن سے نواز رکھا تھا۔آپ اسلام کی اشاعت اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ قادیانیت ،عیسائیت اور ہند مت کے رد کے علاوہ بھی بہت سی کتب لکھیں ۔ تفسیر القرآن بکلام الرحمن (عربی) اور ’’تفسیرِ ثنائی ‘‘ (اردو) قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ توضیح القرآن ‘‘شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کےترجمہ قرآن اوراستاد الاساتذہ مولانا عبد الرشید ﷫ کے تفسیری حواشی پرمشتمل ہے ۔مولانا یہ حواشی جون 1969ء تا نومبر1980ء تقریباً ساڑھے گیارہ سال کے طویل عرصہ میں بڑی محنت سے ترتیب دئیے ۔مولانا نے اس مختصر تفسیر میں سلف صالحین کے منہج کو اپنایا ہے اور اہل سنت کے عقائد کو پیش نگاہ رکھتے ہوئے یہ تفسیری حواشی مرتب کیے ہیں ۔ان تفسیری حواشی کو ترتیب دینے میں تفسیرقرطبی، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، اورتفسیر ثنائی وغیرہ سے خصوصاً استفادہ کیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-pehli-wahi-ka-pegham-copy
عبد اللطیف حلیم

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتا پھر آپ نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہی عبادت میں گذاراکرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل آمین کے ذریعے آپ پر وحی کا نزول ہوا۔پہلی وحی میں سورۂ علق کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئی تھیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پہلی وحی کا پیغام ‘‘محترم جناب مولانا عبداللطیف حلیم ﷾کی پہلی تحریر ی کاوش ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک منفرد انداز میں پہلی وحی میں ناز ل ہونےوالی آیات کی تشریح وتوضیح کو آسان فہم انداز میں بیان کرتےہوئے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی توحید کا اثبات کیا اور شرک کی تردید کی ہے ۔(م۔ا)

title-pages-taleem-al-islam-copy
محمد سعید کلیروی

دین اسلام ایک کامل ضابطہ حیات ہے جس میں تمام افراد بشر کے حقوق وفرائض کو مکمل طور پر بیان کیاگیا ہے ۔لہذا اگر ہر شخص اپنی ذمے داریاں پوری کرے اوردوسروں کے حقوق ادا کرتا رہے تو مسلم معاشرہ امن وامان کا ایک مثالی گہوارہ بن سکتا ہےکیونکہ اس کی تعلیمات میں دینوی واخروی دونوں قسم کے فوائد موجود ہیں جو ایک کامیاب زندگی کی ضمانت ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تعلیم الاسلام ‘‘ مولانا محمد سعید کلیروی ﷾ کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نےاس کتاب میں انتہائی آسان پیرائے سوال وجواب کی صورت میں عوام الناس کے لیے عقائد، عبادات اورمعاملات سےمتعلق اسلامی تعلیمات کوبیان کیا ہے ۔ آخری باب میں سیرت النبی ﷺ کے متعلق ایک باب میں نبی اکرم ﷺ کےحالات ووقعات کے متعلق مفید معلومات جمع کردی ہیں ۔فاضل مصنف نے بھر پور کوشش سے تمام احکام ومسائل کو عام فہم انداز لکھا ہے تاکہ ہر مسلمان اس سے بہ آسانی استفادہ کرسکے ۔(م۔ا)

pages-from-ayyaam-e-mubarakah
المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات، ریاض

اﷲ تعالی نے کچھ مہینوں کو کچھ مہینوں پر، کچھ دنوں کو کچھ دنوں پر، کچھ راتوں کو کچھ راتوں پر ،اور کچھ وقتوں کو کچھ وقتوں پرفضیلت اور بزرگی عطا فرمائی ہے ، رمضان المبارک کا مہینہ تمام مہینوں میں سب سے زیادہ افضل واشرف ہے عرفہ کا دن تمام دنوں میں سب سے زیادہ با برکت ہے تو شب قدر تمام راتوں میں سب سے زیادہ خیر وبرکت والی رات ہے ، اسی طرح عشروں میں ، رمضان المبارک کا آخری عشرہ ، ذی الحجہ کا پہلا عشرہ وغیرہ یہ سب خیر وبرکت سے بھر پور عشرے ہیں ۔اللہ تعالی کی جانب سے نیکیوں کی یہ تنزیلات اسلئے ہیں تاکہ اسکے بندے نیکیوں کے اس موسم کو غنیمت جانیں ، اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرکے اجر عظیم حاصل کرلیں۔ان مبارک عشروں میں سے ایک ، عشرہ ذی الحجہ ہے ، یہ وہ عشرہ ہے جس کے دنوں کی قسم اﷲ رب العالمین نے قرآن مجید میں کھائی ہے ، فرمان باری ہے :” فجر کے وقت کی قسم ، اور (ذی الحجہ کی ابتدائی) دس راتوں کی قسم “ ( فجر : ۔۲) اﷲ تعالیٰ نے اس میں سب سے پہلے فجر کی قسم کھائی ہے ، جس سے مراد اکثر لوگوں کے نزدیک ہر دن کی فجر کا وقت ہے ، لیکن قتادہ ﷫نے اس سے محرم کی پہلی تاریخ کی فجر مراد لی ہے ، مجاہد﷫ نے قربانی کے دن کی فجر بتلایا ہے ، اور ضحاک﷫ نے ذی الحجہ کا پہلا دن مراد لیا ہے اور بعض مفسرین نے اس سے عرفہ کے دن کی فجر مراد لی ہے ۔دوسری آیت میں دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے ، جس کے متعلق امام ابن کثیر ﷫نے سیدنا عبد اﷲ بن عباس﷜کا قول نقل کیا ہے کہ وہ عشرہ ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر) زیر تبصرہ کتاب "ایام مبارکہ "مکتب جالیات المجمعہ کی مرتب کردہ ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم ابو عدنان محمد طیب پھواروی صاحب نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں انہی ایام مبارکہ کے فضائل ومسائل کو جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

title-pages-bachon-ki-hifazat-kaise-krain-copy
متعب بن محمد بن سلیمان

اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جواپنے ماننے والوں کوصرف مخصوص عقائد ونظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر یہ دین مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید او رنبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دوچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہے ہیں گے اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے رہیں گے۔اسلام نے جہاں بڑی عمر کے مردوں اور عورتوں کے حقوق بیان کیے ہیں وہیں بچوں اورچھوٹی عمر کے نونہالوں کے حقوق کاتذکرہ بھی کیا ہے ۔عصر حاضرکے جدید آلات اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے نتیجےمیں پیدا ہونے والے مسائل میں سے بچوں کی بدچلنی اور جنسی بے راہ روی ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے جس کے تدارک ک طرف ہمیں مکمل توجہ دینی چاہیے اوراس کے لیے ہر ممکن تدبیر کو اختیار کرنا چاہیے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’بد چلنی اورجنسی بے راہ روی سے بچوں کی حفاظت کیسے کریں؟ ‘‘ فضیلۃ الشیخ متعب بن محمد بن سلیمان کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بد چلنی کی تاریخ اور اس کی مختلف اقسام ، دور حاضر میں جنسی بے راہ روی پھیلنے کے اسباب ، نوخیز عمری میں بچوں کے لیے حفاظتی تدابیر ، والدین کا ان کے ساتھ طرز عمل اور بچوں کو غلط لوگوں کی صحبت اورراستوں سےمحفوظ رکھنے کے وسائل جیسے مفید موضوعات پر روشنی ڈالی ہے ۔یہ کتاب والدین اور گھریلو سربراہان کےلیے نہایت مفید ثابت ہوسکتی ہے ۔جس کے مطالعے سے وہ بہتر انداز میں اپنے فرائض اد ا کرسکیں گے۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 191 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں