pages-from-mangani-aur-mangaitar
ام عبد منیب

منگیتر منگنی سے ماخوذ ہے ۔ یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی کے والدین باہم یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کردیں گے ۔ اس عہد کا نام   ہمارے معاشرے میں منگنی ہے او رایسے لڑکے یا لڑکی کو ایک دوسرے کا منگیتر کہا جاتاہے ۔منگنی کابظاہر مقصد تو صرف اتنا ہے کہ لوگوں پریہ عیاں ہو جائے کہ فلاں کے بیٹے کی فلاں کی بیٹی سے   نکاح کی بات ٹھر گئی ہے ۔لہذا کوئی دوسرا پیغام بھیجنے یاایسا وعدہ لینے کی غلطی نہ کرے ۔لیکن دور حاضر میں اتنی پر تکلف ،مہنگی اور مشکل رسومات کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا سوائے   ریا کاری یا نمود ونمائش کے۔ زیرنظر کتابچہ ’’ منگنی اور منگیتر ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں انہوں نے منگنی کےسلسلے میں   ہمارے معاشرے میں   پائی جانے والی ہندوانہ رسومات کا ذکر تے ہو ئے   اس کے متعلق شرعی احکام ومسائل کودلائل کی روشنی میں   پیش کیا ہے۔ جس کے مطالعہ سے   مروجہ رسوم ورواج سے   بچا جاسکتا ہے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں باقی بھی عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محترم عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم وحکمت،لاہور) نے اپنے ادارے کی تقریبا تمام مطبوعات ویب سائٹ کے لیے ہدیۃً عنایت کی ہیں اللہ تعالی اصلاح معاشرہ کے لیے ان کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔آمین( م ۔ا)

مزيد مطالعہ...

title-pages-moujazate-qurani-copy
ہارون یحییٰ

چودہ صدیاں  قبل  اللہ تعالیٰ نے  انسان کی رہنمائی کےلیے  قرآن نازل فرمایا اور حق کی تلاش کے لیے  اس کتاب کی طرف رجوع کرنے  کا حکم دیا ۔ اپنے  نزول کے دن  سے روز قیامت تک یہی  مقدس کتاب تمام انسانیت کی رہنمائی کا واحد ذریعہ  ہے ۔ قرآن حکیم  کا منفرد اندازِ  بیان اور عظیم  دانائی اس کابین ثبوت ہیں ۔ کہ یہ کلام الٰہی  ہے  ۔ قرآن کی ایک ایک  صفت یہ ثابت کرتی ہے کہ بے  شک  یہ اللہ عزوجل ہی کاکلام ہے کسی  انسان کا کلام نہیں ۔ قرآن عظیم  کی ایک  نمایاں صفت اس میں  بیان کئے گئے وہ سائنسی حقائق ہیں   جن کاآج  سےپہلے  جاننا ممکن نہ تھا ۔مگر قرآن نے  چو دہ  سو برس پہلے  انہیں بیان کردیا۔بلاشبہ قرآن پاک سائنس کی کوئی کتاب نہیں  ہے  لیکن ا س میں بیان کئے  گے  بہت سےسائنسی حقائق جوبیسویں صدی کی ترقی اور ٹیکنالوجی ہی  کی بدولت دریافت ہوئے  ہیں ۔قرآن  حکیم  کے نزول کے وقت ان سائنسی حقائق کاجاننا اور دریافت کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ یہ  حقیقت اس بات کا ثبوت فراہم کرتی  ہے کہ قرآن  پاک خدا  کاکلام ہے ۔زیر نظر کتاب ’’  معجزات قرآنی ‘‘ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے اس کتاب  میں انہوں نے  قرآن پاک کے سائنسی حقائق کےساتھ  ساتھ  قرآن پاک میں بیان کئے گئے ایسے  حقائق  کوبھی  بیان کیا ہے  جن کا تعلق تاریخ اور مستقبل سے  ہے  ۔ اللہ تعالیٰ فاضل  مصنف کی  تمام  کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

 

مزيد مطالعہ...

pages-from-shadi-shohar-aur-singhaar
ام عبد منیب

بننا سنورنا عورت کی فطرت میں داخل ہے،اور اس کے لئے یہ کام ہر معاشرے میں جائز سمجھا گیا ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ بننے سنورنے کے ساتھ ہی عورت میں یہ خواہش شدت سے انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بننے سنورنے کو دیکھے اور پھر اس کے سراپے حسن ،لباس اور زیور وغیرہ کی تعریف بھی کرے۔عورت کی اس فطری خواہش کو اللہ تعالی نے اس طرح لگام دی ہے کہ ہر شادی شدہ عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بن سنور کر رہے ،تاکہ شوہر اس کے حسن ونزاکت سے لطف اندوز ہو ،اس کو دیکھ کر مسرور ہو اور اس کے دل میں بیوی کی محبت دو چند ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی ،شوہر اور سنگھار"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےعورت کے لئے بننے سنورنے کی حدود وقیود اور شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

مزيد مطالعہ...

title-pages-khuliya-ik-qainat-copy
ہارون یحییٰ

قرآن کریم انسانوں کی رہنمائی کےلیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آخری کتاب ہے ۔اس میں تمام سابقہ آسمانی کتابوں کا نچوڑ اور لب لباب موجود ہے اس لیے  یہ کتاب اس   مقام پر اانسان کی رہنمائی کرتی ہے جہاں اس کی عقل اپنی  آخری حدوں کو چھولینے کے بعد حیران راہ جاتی ہے ۔اس کتاب میں  اللہ تعالیٰ نے انسان کوجگہ جگہ اپنی قدرت کی نشانیوں کےذریعے  اپنے آپ کوپہچاننے  کی دعوت دی ہے ۔کہیں انسان کو اپنے  بدن پر غور  کرنے کی دعوت  ہے تو  کہیں اپنے ماحول پر ۔کہیں آسمانوں پر غور  کرنے کو کہا جارہا ہے   توکہیں پانی  اورآگ پر نظر التفات کرنے کی دعوت دی جاتی ہے  ۔اس دعوت کا مقصود صرف اور صرف یہ ہے کہ انسان کی نظر  مادے سے  ہٹا کرمادے  کے خالق کی جانب لگائی جائے ۔زیر نظر کتاب ’’ خلیہ ایک کائنات‘‘ ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے جس  میں  انہوں نے  اپنی دیگر  تصانیف کی طرح  سائنس  اور عقل کی بھول  بھلیوں میں  گم عقل انسانی  کو وحی  کی روشنی میں چلنے   کی دعوت دی ہے ۔اور انہوں نے ہمارے  ماحول میں پھیلے  لاکھوں اور کروڑوں  معجزوں میں سے صرف چند ایک کا تذکرہ  اس کتاب میں کیا ہے  اوراس بارے  میں سائنس کی آخری  حد بیان کرنے کے بعد  اس جانب توجہ دلائی ہے  کہ اس سے  آگے کا کام  اس خالق کائنات کا ہے  جس نے  یہ کارخانہ  تخلیق  کیا ہے  انہوں نے  جگہ جگہ سائنس  کی قلعی  کھولی ہے اور بتایا ہے کہ سائنس ابھی تک کائنات کی حقیقت تو کیا اس کے  کسی ایک جزو کی پور ری ماہیت  کوبھی  نہیں  سمجھ سکی ۔اللہ تعالیٰ مصنف ِ کتاب کی  تمام  کاوشوں کو قبول  فرمائے اور اس کتاب کو  لوگوں  کے  لیے خالق کائنات  کی صحیح معرفت کا ذریعہ  بنائے  (آمین) (م۔ا)

 

مزيد مطالعہ...

title-pages-sinaf-mukhalif-ki-mushabihat-aik-muhlak-bemari-copy
ام عبد منیب

دور  ِحاضر میں  مغرب میں ظاہری طور پر مرد اور عورت کا فرق  مٹ چکا ہے  مساوات کے جنون  میں عورتیں  مردوں کی طرح اور مرد عورتوں کی طرح نظر آنے اورکام کرنے کےجنون میں  مبتلا  ہوچکے ہیں۔لوگ  آپریشن کروا کر اور زنانہ  یا مردانہ ہارمونز کے انجکشن لگوا کر اپنی  جنس تبدیل کروا رہے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تخلیق کردہ  قوانین  فطرت میں بے  جار ردوبدل کرنےکی  گستاخانہ ،مشرکانہ اور سفاکانہ  حرکات جاری ہیں۔صنف نازک کی مشابہت کا  مطلب یہ ہے کہ مردکاعورت کی اورعورت کا مرد کی نقالی کرنا مرد کازنانہ چیزیں اور عادتیں جب کہ عورت کامردانہ چیزیں اور عادتیں اختیار  کرنا ہے۔مشابہت ایک شرعی اصطلاح  ہے جسے  تشبہ بھی  کہا جاتاہے  ۔اگر کوئی شخص اپنا لباس ،حلیہ  ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار   اپنی  صنف یا ہم پیشہ لوگوں کے علاوہ  کسی اورکا لباس ،حلیہ ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار  اپنا لے  تو اسے  تشبہ یا مشابہت کہا جاتا ہے  اسلام نے مشابہت یا  تشبہ اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔ارشاد  نبوی ہے  من  تشبه  بقوم فهو منهم(سنن ابو داؤد) ’’جس  نے کسی کی مشابہت اختیار کی  وہ انہی  میں سے   ہے ‘‘ایک اور حدیث میں  نبی کریم ﷺ نے مخنث مردوں پر اور اسی طرح مرد بننے والی عورتوں پر  بھی لعنت کی ہے۔اس لیے  صنف مخالف کی مشابہت حرام اورممنوع کام  ہے ۔اس کی روک تھام کےلیے  اسلامی حکومت او رمسلمان شہروں کےسربراہوں،امیروں،عاملوں اور کوتوالوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت علاقوں اورلوگوں میں دین  کی تعلیمات عام کریں ،انہیں ممنوعات اور منکرات سے روکیں اور معروف کاموں کی تلقین کریں۔ مسلمان امراء کو چاہیے  کہ مصنوعات تیارکرنے والی کمپنیوں پر یہ پابندی عائدکریں  کہ وہ لڑکیوں اور لڑکوں  کے لیے الگ  الگ شرعی    احکام کے مطابق اشیاء تیار کریں۔اگر پھربھی باز نہ آئیں تو پھر انہیں سزادیں  جو رسول اللہ ﷺ نے  صنف مخالف کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کودی ۔سیدنا ابو ھریرہ ﷜  سے روایت ہے کہ  نبیﷺکے پاس ایک مخنث کو لایاگیا جس نے ہاتھ پاؤں پر میں مہندی لگائی ہوئی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے   دیکھ کر فرمایا : یہ ایسا کیو ں کرتا ہے   ۔صحابہ کرام ﷢ نے عرض کیا: یہ عورتوں کی مشابہت کرتا ہے ۔ آپ ﷺ نے  اسے  نقیع(چراہ گاہ) کی طرف بگا دینے کا حکم دیا  ۔ اور اسی طرح صحابہ کرام کے  دورِ خلافت میں میں بھی عورتوں کی نقالی کرنے والے مردوں کو یہی سزا دی جاتی  رہی ۔زیر نظر کتابچہ  ’’ صنف مخالف کی مشابہت  ایک  مہلک  بیماری ‘‘محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں  انہوں نے  صنف مخالف کی مشابہت اختیار کرنے کی  شرعی حیثیت   اور اس کے مہلک  نتائج واثرات  کو پیش کرنے  کے ساتھ ساتھ   ان امور کو بھی ذکر کیا ہے  جن کی مشابہت سے  ایک  مسلمان کو گریز کرنا چاہیے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت  پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے  ہیں  جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں  باقی بھی  عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محتر م عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم  وحکمت،لاہور) نے اپنے  ادارے کی تقریبا  تمام مطبوعات  ویب سائٹ کے  لیے  ہدیۃً عنایت کی  ہیں  اللہ تعالی  اصلاح معاشرہ کے لیے  ان کی تمام مساعی  کو  قبول فرمائے  (آمین) (م۔ا)

 

مزيد مطالعہ...

pages-from-rubaaiyaat-e-quran-o-hadees
انجینئر عبد المجید انصاری

یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس پر ہر دور میں الگ الگ انداز میں کام ہوا ۔تقریبا ڈیڑھ ہزارسال قرآن مجید نازل ہونے کوہیں لیکن قرآن مجیدکے نکتے اور رموزامڈے ہی چلے آرہے ہیں۔نئے سے نئے انداز میں اس پر کام سامنے آرہےہیں اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ زیرنظر کتاب ’’رباعیات قرآن وحدیث‘‘محترم انجینئر عبدالمجید انصاری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے قرآن وحدیث کے ذخیرے میں ان آیات واحادیث کوجمع کردیا ہے جن میں ان چیزوں کابیان ہے کہ جو قرآن وحدیث میں چار چار مرتبہ یا چار کی تعداد کے حوالے مذکور ہیں۔اس قبل مصنف موصوف کی ’’ثلاثیات قرآن وحدیث ‘‘کے نام سے   بھی   کتاب منظر عام پر چکی ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی وہ آیات اور نبی کریم ﷺًکی وہ احادیث جمع کی تھیں جن میں 3؍3 چیزوں کا ذکر ہے۔اللہ تعالی ٰ ان کی تما م مساعی حسنہ کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

مزيد مطالعہ...

title-pages-khoufe-khuda-copy
ہارون یحییٰ

اللہ تعالیٰ کاخوف ہی دراصل  اللہ پرکامل ایمان   ہونے کاٹھوس  ثبوت اورآخرت کی  زندگی  میں  ملنے  والے  اجر کی  اہم نشانی  ہے ۔  آخرت کی زندگی میں  خود کو نارِ جہنم سے  محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ خوف ِ الٰہی   او رپرہیز گار ی  کو اختیار کرنے میں ہے ۔روز ِحساب ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے  جس  سےبچنا ناممکن  اور جس کے بارے  میں خصوصی طور  پر غور  وفکر  کرنالازم ہے۔ تاہم  یہ خوف صرف ایمان والوں کونصیب ہوتاہے اور یہ ایک خاص قسم  کاخوف ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات  اور نبی کریم  ﷺ  نےاحادیث میں  روزِ  قیامت  پیش  آنے والے  مختلف واقعات  بیان کردیئے ہیں ۔دنیا کی مختصر سی  زندگی میں انسان  جوکام بھی کرتا ہے  اس کے اعمال نامے میں  لکھا جارہا ہے ۔ اورہر انسان  اس دن کی طرف تیزی  سے بڑھ رہا ہے  جب   انسان کواللہ کےحضور پیش ہوکر اپنے اعمال کے لیے  جوابدہ ہونا پڑے گا۔ چنانچہ اہل ایمان کو    یہ  امید کرنی چاہیےکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں میں  شامل کردے  جو اللہ تعالیٰ سے  ڈرتے ہوئےاس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا خوف بڑی چیز ہے  ۔ جسے  یہ دولت  حاصل ہوگی  وہ بہت  بڑا خوش نصیب ہے  ۔ جس  کےدل  میں خوف الٰہی  ہوگا وہ گناہوں  سے دور رہے گا اوراس کےلیے  بڑے  برے درجات ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ(سورۃ الرحمن:46) یعنی  جو  شخص  قیامت کےدن  اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کاڈر  اپنے دل میں رکھتا ہے اوراپنے  تئیں نفس کی خواہشوں سےپچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا ہے۔ زندگانی  کے پیچھے پڑ کر آخرت سے  غفلت نہیں کرتا ،بلکہ آخرت کی فکر زیادہ  کرتا ہےاور اسے  بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے ۔ فرائض بجا لاتا ہے۔محرمات سےرکتا ہے  قیامت کےدن  اسے  ایک  نہیں  بلکہ  دو  جنتیں ملیں گی۔اللہ تعالیٰ تمام  ایمان اہل  کواپنے دلوں میں  اللہ تعالیٰ خوف اور تقویٰ ،پرہیزگاری پیدا کرنے کی توفیق  عطافرمائے ۔زیر نظر کتاب  ’’خوف خدا‘‘  ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے  اپنے  منفرد انداز میں    خوف الٰہی  کی حقیقت اور فوائد وثمرات کو آیات قرآنی  کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو لوگوں کےدلوں  میں اپنا  کاخوف پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے  (آمین )  (م۔ا)

مزيد مطالعہ...

title-pages-shan-e-islam-islami-akhlaq-w-aadab-copy
محمد یعقوب اخلاقی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا ہے تواس میں متعدد تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس کی دوستی اور دشمنی کے معیارات بدل جاتے ہیں۔وہ دنیوی مفادات اور لالچ سے بالا تر ہو کر صرف اللہ کی رضا کے لئے دوستی رکھتا ہے اور اللہ کی رضا کے لئے ہی دشمنی کرتا ہے۔جس کے نتیجے میں کل تک جو اس کے دوست ہوتے ہیں ،وہ دشمن قرار پاتے ہیں اور جو دشمن ہوتے ہیں وہ دوست بن جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔اسلام کی اپنی تہذیب،  اپنی ثقافت،  اپنےرہنے سہنے کے  طور طریقے اور اپنے تہوار ہیں ،جو دیگر مذاہب سے یکسر مختلف ہیں۔تہوار یاجشن کسی بھی قوم کی پہچان  ہوتے ہیں،اور ان کے مخصوص افعال کسی قوم کو دوسری اقوام سے جدا کرتے ہیں۔جو چیز کسی قوم کی خاص علامت یا پہچان ہو ،اسلامی اصطلاح میں اسے شعیرہ کہا جاتا ہے،جس کی جمع شعائر ہے۔اسلام میں شعائر مقرر کرنے کا حق صرف اللہ تعالی کو ہے۔اسی لئے شعائر کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے صرف وہی تہوار منانا جائز ہے جو اسلام نے مقرر کر دئیے ہیں،ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار  میں حصہ لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب "شان اسلام"محترم  محمد یعقوب اخلاقی کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسلام کے انہی محاسن اور امتیازات کو بڑے خوبصورت انداز میں دروس قرآن اور دروس حدیث کے نام پر  جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

 

مزيد مطالعہ...

pages-from-devar-aur-behnoi
ام عبد منیب

دیور اور بہنوئی یہ دونوں رشتے بھی بڑے عجیب ہیں۔ایک رشتہ بہن کا خاوند ہے تو دوسرا خاوند کا بھائی ہے۔خاوند اور بہن دونوں ہی انتہائی قریبی رشتے ہیں۔اس لئے دیور اور بہنوئی کی اہمیت بھی مسلم ہے۔موجودہ معاشرے میں ان سے تعلقات کی نوعیت جو بھی ہو دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے کہ سالی کا بہنوئی سے اور دیور کا بھابھی سے ہنسی ،مذاق اور بے تکلفی اور بعض اوقات تو یہ مذاق بے ہودگی اور بے حیائی تک جا پہنچتا ہے۔اسلامی معاشرت میں باہمی ادب واحترام اور شائستگی کو اولیت حاصل ہے،اس لئے بیہودہ گفتگو یا غیر شائستہ مذاق کی کسی رشتے کے ساتھ کوئی گنجائش نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " دیور اور بہنوئی"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےدیور اور بہنوئی کے ساتھ تعلقات کی حدود وقیود اور ان سے شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔کیونکہ وہ قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اس عورت کے لئے نامحر م ہی رہتے ہیں ،جن سے پردہ کرنا از حد ضروری اور فرض ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

مزيد مطالعہ...

title-pages-kainat-ki-takhleeq-copy
ہارون یحییٰ

یہ لا محدود کائنات ،جس میں ہم رہتے ہیں،کس طرح وجود میں آئی ؟یہ تمام توازن،ہم آہنگی اور نظم وضبط کس طرح سے پیدا ہوئے؟یہ کیونکر ممکن ہوا کہ یہ زمین ہمارے رہنے کے لئے موزوں ترین اور محفوظ قیام گاہ بن گئی؟ایسے سوالات نوع انسانی کے ظہور ہی سے توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ان کے جوابات کی تلاش میں  سرگرداں سائنس دان اور فلسفی ،اپنی عقل ودانش اور عقل سلیم کی بدولت اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ  کائنات کی صورت گری اور اس میں موجود نظم وضبط کسی اعلی ترین خالق مطلق کی موجودگی کی شہادت دے رہے ہیں۔جو اس ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔یہ ایک غیر متنازعہ سچائی ہے ،جس تک ہم اپنی ذہانت استعمال کرتے ہوئے پہنچ سکتے ہیں۔اللہ تعالی نے اس حقیقت کا اعلان اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں واشگاف الفاظ میں کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " کائنات کی تخلیق"ہارون یحیی کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ محترم علیم احمد نے کیا ہے ۔مصنف 1956ء میں انقرہ ترکی میں پیدا ہوئے ۔آپ نے آرٹس کی تعلیم میمار سینان یونیورسٹی سے اور فلسفے کی تعلیم استنبول یونیورسٹی سے حاصل کی۔آپ کی سیاست ،سائنس اور اسلامی عقائد پر متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔آپ کا شمار ان معروف مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے ارتقاء پرستی اور ارتقاء پرستوں کے دعووں کو طشت ازبام کیا اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔آپ کی یہ کتب دنیا کی متعدد زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔آپ کی کتب مسلمانوں ،غیر مسلموں سب کو مخاطب کرتی ہیں خواہ ان کا تعلق کسی عمر،نسل اور قوم سے ہو،کیونکہ ان کتب کا مقصد صرف ایک ہے:خدا کے ابدی وجود کی نشانیوں کو قارئین کے سامنے لا کر ان کے شعور کو اجاگر کرنا۔آپ نے ترکی میں "سائنس ریسرچ فاونڈیشن "قائم کی ہے جو اب ایک مضبوط ادارہ بن چکی ہے۔یہ ادارہ نہ صرف ڈارون پرستی کی تردید میں بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کرتا ہے ،بلکہ جدید دور میں اسلام کی درست تصویر پیش کرنے کی بھی سعی کر رہا ہے۔ اس کتاب میں مولف نے عدم سےکائنات کی تخلیق،مادہ پرستی کی سائنسی شکست،دھماکے میں توازن،ایٹموں میں ہم آہنگی آسمانوں میں نظم وضبط،زمین ایک نیلگوں سیارہ اور پانی میں صورت گری جیسے موضوعات بیان کرتے ہوئے غور وفکر کرنے اور ایک اللہ کو ماننے کی دعوت دی ہے۔(راسخ)

 

مزيد مطالعہ...

title-pages-shahadat-ghaeh-ulfat-me-copy
محمد مسعود عبدہ

اسلام میں شہادت فی سبیل اللہ کو وہ مقام حاصل ہے کہ (نبوّت و صدیقیت کے بعد) کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی اس کی گرد کو نہیں پاسکتا۔ اسلام کے مثالی دور میں اسلام اور مسلمانوں کو جو ترقی نصیب ہوئی وہ ان شہداء کی جاں نثاری و جانبازی کا فیض تھا، جنھوں نے اللہ رَبّ العزّت کی خوشنودی اور کلمہٴ اِسلام کی سربلندی کے لئے اپنے خون سے اسلام کے سدا بہار چمن کو سیراب کیا۔ شہادت سے ایک ایسی پائیدار زندگی نصیب ہوتی ہے، جس کا نقشِ دوام جریدہٴ عالم پر ثبت رہتا ہے، جسے صدیوں کا گرد و غبار بھی نہیں دُھندلا سکتا، اور جس کے نتائج و ثمرات انسانی معاشرے میں رہتی دُنیا تک قائم و دائم رہتے ہیں۔ کتاب اللہ کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں شہادت اور شہید کے اس قدر فضائل بیان ہوئے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور شک و شبہ کی ادنیٰ گنجائش باقی نہیں رہتی۔ زیر تبصرہ کتاب  " شہادت گہ الفت میں"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کے زوج محترم مولانا محمد مسعود عبدہ  کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں صحابہ کرام کے مقام شہادت اور ایمان افروز شہادتوں کے تذکروں کو جمع فرما دیا ہے۔یہ کتاب در اصل ایک چھوٹا سا مقالہ تھا،جس میں ان کی اہلیہ نے بہت زیادہ حصہ ڈالا اور اسے ایک کتاب کی شکل دے دی۔اس میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مولانا محمد عبدہ کی نسبت محترمہ ام عبد منیب کا حصہ زیادہ ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

 

مزيد مطالعہ...

pages-from-hadees-ki-ahmiyyat
ادارہ درس و اشاعت اسلام، لاہور

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی توضیح وتشریح ہی ہے۔کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں۔ پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیین و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (النحل:44) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“(مسند احمد:24601)یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ (احزاب:21)خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ صلى الله عليه وسلم کو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلندی کا وہ مقام بلند نصیب ہے کہ ساری رفعتیں اس کے آگے سرنگوں ہیں حتی کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارے پر بغیر کسی تردد وتوقف کے اپنی مرضی سے دستبردار ہوجانا معیار ایمان و اسلام ٹھہرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"حدیث کی اہمیت" محترم نذیر احمد ناظر خوشنویس کی تصنیف ہے ،جسے ادارہ درس واشاعت اسلام رجسٹرڈ لاہور نے شائع کیا ہے۔مولف نے اس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں حدیث کی اہمیت وفضیلت اور حجیت پر مدلل اور تفصیل سے روشنی دالی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

مزيد مطالعہ...

title-pages-kitabosunnatcom-end-of-time-qayamat-ki-nashanian-aur-zahore-imam-mahdi-copy
ہارون یحییٰ

وقوع  قیامت کا  عقیدہ اسلام کےبنیادی  عقائد میں سےہے اور ایک    مسلمان کے  ایمان کا   حصہ ہے ۔  قیامت آثار  قیامت کو  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث میں  وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے  جیساکہ احادیث میں  میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم ﷤نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی ﷤کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے  سے   ائمہ محدثین نے  کتب احادیث میں     ابواب بندی بھی کی  ہے اور  بعض  اہل علم نے    اس موضوع پر  کتب  لکھی ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’اینڈ آف ٹائم‘‘ بھی اس موضوع پر جدید اور سائنسی علوم کےماہر  ترکی کے  معروف   قلمکار   محترم   ہارون یحییٰ  کی  منفرد  کتاب ہے ۔  اینڈ آف ٹائم  سےمراد  آخری دور ہے اور اسلامی نقطۂ نظر  سے  یہ قرب  قیامت کا دور ہے ۔قرآن  وحدیث کی رو سےآخری زمانہ دو ادوار  پر مشتمل ہے ۔پہلے دور میں  لوگ مادی وروحانی  مشکلات میں مبتلا ہوجائیں گے  جبکہ دوسرا دور سنہری دور  ہوگا اس میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کی  فروانی  ہوگی ۔ اس دور میں  دین  حق  کی ترویج اور اشاعت  ہوگی ۔اسی دور کے اختتام  پر معاشرہ  تباہی  کے  دہانے پر پہنچ جائے گا اور لوگ  قیامت کی گھڑیاں گننا شروع کردیں گے ۔اس کتا ب میں  اسی وقت ِ آخر کاجائزہ قرآن وحدیث کی روشنی میں  پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس  کتاب عوام الناس کے لیے  فائدہ مند بنائے   اور لوگوں کےعقیدۂ  آخرت کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

 

مزيد مطالعہ...

title-pages-shadi-ki-rasomat-dawatain-aur-unme-shirkat-copy
ام عبد منیب

شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر  ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے  اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر  میں  طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ  ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا  اہل  معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے  مالی اور جسمانی  تکلف اور تکلیف کاباعث  ہیں۔دین اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’شادی کی رسومات ‘‘ اصلاح معاشرہ  کے سلسلے  میں محترمہ  ام عبد منیب  صاحبہ کی کاوش  ہے  جس میں انہوں  شادی  بیاہ  کا مسنون طریقہ بیان کرنے کے بعد  اس  موقع پر ناجائز رسومات  اور  ہندوانہ رسوم ورواج اور خرافات کو عام فہم  انداز میں   پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترمہ  کی  اس کاوش کو اہل اسلام کےلیے    فائد مند بنائے (آمین) (م۔ا)

 

مزيد مطالعہ...

title-hujjiyat-e-hadees
حافظ جلال الدین قاسمی

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر کوئی حدیث انکار کردے تو قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر دائرہ اسلام سے نکلی رہی ہے۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی   فتنہ انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی   خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر نظر کتاب ’’ حجیت حدیث در ردّ موقف انکار حدیث‘‘ انڈیاکے معروف جید سلفی عالم   دین   مولانا حافظ جلال الدین قاسمی ﷾ کی   فتنہ انکار حدیث کے رد کےسلسلے میں اہم کاوش ہے ۔اس موضوع پر اگرچہ بہت کتب اور لٹریچر اس سے قبل موجود ہے۔مگر یہ کتاب انتہائی اختصار وجامعیت کے ساتھ عوام وخوام دونوں کےلیے یکساں مفید ہے ۔نیز اس کتاب کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں انہیں اشکلات وشبہات کا ازالہ کیاگیا ہے جنہیں عام طور منکر ین حدیث بڑے طمطراق کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرکے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان شاء اللہ یہ کتاب ان کے پیش کردہ اشکلات وشبہات کو قلع قمع کرنے کے لیے کافی وشافی ثابت ہوگی ۔ مصنف کتاب کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ شریعت اور اسرار شریعت پرگہری نظر رکھتے ہیں۔دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اردو ،عربی ،فارسی، انگریزی کےعلاوہ اور بھی زبانوں میں آپ کو مکمل دسترس حاصل ہے،دنیا کی مشکل ترین زبان سنسکرت کے ادب اور خصوصاً اس کی گرائمر پرمہارت رکھتے ہیں   ۔انہی امیتازی خصوصیات کی بناءپر علمی وادبی حلقوں میں آپ کی شخصیت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔موصوف میدان خطابت کےشہسوار ہیں ان کا ہر خطاب کتاب وسنت کےدلائل سے معمور ہوتا ہے۔ فنِ خطابت پر جو قدرتی ملکہ آپ کو حاصل ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصہ میں آتا ہے ۔2 جولائی 2014 سے پیس ٹی وی پر ان کےعلمی خطابات’’ فیضان کتاب وسنت ‘‘ نامی پروگرام کےتحت نشر کئے جارہے ہیں جنہیں دنیا کے156 ممالک میں دیکھا اور سنا جار ہا ہے ۔نیز صحافت کے میدان میں بھی آپ کی قابل تحسین خدمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ رہنے اور اللہ ورسول کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)م۔ا)  

مزيد مطالعہ...

title-page-hamara-taleemi-buhran-aur-uska-hal-chnd-nazryati-mubahis-copy
ڈاکٹر محمد امین

اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا  دونوں کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے  اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔لیکن افسوس کہ  استعمار کی سازش سے ہمارے تعلیمی  اداروں میں دین ودنیا کو الگ الگ کر دیا گیا ہے۔دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی عاری ہوتے ہیں ،جبکہ دین کے طالب علم  دنیوی تعلیم کے ماہر نہیں ہو پاتے ہیں۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ  دونوں طرح کے اداروں میں ایک مسلمان اور کارآمد بندہ تیار نہیں ہوپاتا ہے۔اسی احساس کو لئے ہوئے  ڈاکٹر محمد امین  صاحب ﷾نے یہ کتاب " ہمارا تعلیمی بحران اور اس کا حل (چند نظریاتی مباحث)" تیار کی ہے ۔جس میں انہوں نے  دین ودنیا دونوں تعلیمات کو اکٹھے پڑھانے پر زور دیا ہے تاکہ یہ مشترکہ تعلیم حاصل کرنے والا ہر طالب علم معلومات کے حصول کے ساتھ ساتھ  معاشرے کا ایک مسلمان اور کارآمد فرد بھی بن جائے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور قوم وملت کے تمام تعلیمی اداروں اور  اساتذہ کو اپنے طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک موثر تربیت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

 

مزيد مطالعہ...

title-pages-saleebi-ganghgu-copy
ہارون یحییٰ

اگرچہ صلیبی جنگوں کے بارے میں اکثر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ یہ جنگیں عیسائی عقیدے کی بنیاد پر لڑی گئیں،لیکن در حقیقت صلیبی جنگوں کی آگ پر جلتی کا تیل مال ودولت کے لالچ نے چھڑکا۔اس وقت کے مغرب میں آج کے برعکس غربت ،افلاس کا دور دورہ تھا،جبکہ مشرق بالعموم اور مسلم معاشرے میں بالخصوص دولت اور خوشحالی کا دور تھا۔اسی ایک نکتے نے یورپین بالخصوص چرچ سے وابستہ افراد کی آنکھیں چندھیا ڈالی تھیں۔دولت کے اس لالچ نے عیسائیت کیی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ۔اور بظاہر مذہبی بنیادوں پر چلنے والی تحریک کے پیچھے مادہ پرستی اور دنیوی خواہشات کا بحر بیکراں تھا۔زیر تبصرہ کتاب " صلیبی جنگجو ،ٹمپلر امراء تاریخ کے آئینے میں"ہارون یحیی کی تصنیف ہے۔مصنف 1956ء میں انقرہ ترکی میں پیدا ہوئے ۔آپ نے آرٹس کی تعلیم میمار سینان یونیورسٹی سے اور فلسفے کی تعلیم استنبول یونیورسٹی سے حاصل کی۔آپ کی سیاست ،سائنس اور اسلامی عقائد پر متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔آپ کا شمار ان معروف مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے ارتقاء پرستی اور ارتقاء پرستوں کے دعووں کو طشت ازبام کیا اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔آپ کی یہ کتب دنیا کی متعدد زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔آپ کی کتب مسلمانوں ،غیر مسلموں سب کو مخاطب کرتی ہیں خواہ ان کا تعلق کسی عمر،نسل اور قوم سے ہو،کیونکہ ان کتب کا مقصد صرف ایک ہے:خدا کے ابدی وجود کی نشانیوں کو قارئین کے سامنے لا کر ان کے شعور کو اجاگر کرنا۔آپ نے ترکی میں "سائنس ریسرچ فاونڈیشن "قائم کی ہے جو اب ایک مضبوط ادارہ بن چکی ہے۔یہ ادارہ نہ صرف ڈارون پرستی کی تردید میں بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کرتا ہے ،بلکہ جدید دور میں اسلام کی درست تصویر پیش کرنے کی بھی سعی کر رہا ہے۔ اس کتاب میں مولف نے صلیبی جنگوں کے پس منظر ،حقائق،اورمقاصد  کو بیان کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کے باسی ٹمپلر امراء کی تاریخ بیان کی ہے۔کہ وہ کیسے منظر عام پر آئے اور ان کے کیا مقاصد تھے۔اور آج کل وہ کس شکل میں موجود ہیں ،اور مسلمانوں کے خلاف کیا سازشیں کر رہے ہیں۔(راسخ)

 

مزيد مطالعہ...

title
ساجد اسد اللہ

حاملینِ قرآن اور پیروکاران انجیل کے باہمی تعلقات کا آغاز نزولِ قرآن کے ابتدائی دور میں ہوگیا تھا۔یہ تعلقات اتار چڑھاؤ کےساتھ تاریخ کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ اٹھارویں صد ی عیسوی کے نصف آخر میں ہندوستان میں مسلم اقتدار کےتنزل اور مغربی استعمار کے غلبہ کے بعد یہاں مسلم مسیحی علمی مجادلہ کاآغا ز ہوا ۔مسلم علماء اور مسیحی مبلغین کی باہمی رزم گاہی سےوسیع مقدار میں   لٹریچر معرض وجود میں آیا ۔ یہ ہندوستان کی مذہبی علمی تاریخ کا ایک اہم جزو ہے ۔اٹھارویں سے بیسویں صدی عیسوی کے عہد کی علمی میراث اور فکری تاریخ پر مبنی یہ لٹریچر دومذہبی گروہوں کے جذبات ،رویوں اور طرزِ عمل کو جانچنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔دور ِ متذکّرہ میں سیاسی مخالفت کی بناپر لکھا جانے والا یہ لٹریچر فریقین میں معاشرتی ومذہبی بُعد کاسبب بنا۔یہ متنوع لٹریچر مختلف جہات کا حامل ہے۔ زیر نظر مقالہ’’ برصغیر میں مسیحی سکالرزکے پیش کردہ قرآنی لٹریچر کا ایک تاریخی،تحقیقی وتنقیدی جائزہ ‘‘پی ایچ ڈی کے لیے لکھا جانےوالا تحقیقی مقالہ ہے جسے مقالہ نگار محترم ساجد اللہ ساجد صاحب نے پرو فیسر ڈاکٹر عبد الروف ظفر ﷾ کی نگرانی میں مکمل کیا اور اسلامیہ یونیورسٹی ، بہاولپور میں پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مقالہ ہذا پانچ ابواب پر مشمتل ہے جس میں برصغیر میں   تاریخ ِمسیحت ،مسیحی اہل قلم کا قرآنی لٹریچر اوران کا ان انتقادی منہج، اس کے رد عمل میں مسلم علماء کی علمی کاوشوں کا تقابل اور برصغیر کی تفسیری ادب پرمسلم مسیحی کشمکش کے اثرا ت کا جائزہ لیا گیا ہے۔(م۔ا)

مزيد مطالعہ...

title-pages-sharah-saba-qaraat-1-copy
ابو محمد محی الاسلام عثمانی پانی پتی

اللہ تعالی کا امت محمدیہ پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے امت پر آسانی کرتے ہوئے  قرآن مجید کو سات مختلف لہجات میں نازل فرمایا ہے۔یہ تمام لہجات عین قرآن اور منزل من  اللہ ہیں۔ان کے قرآن ہونے پر ایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اور ان کا انکار کرنا باعث کفر اور قرآن کا انکار ہے۔دشمنان اسلام اور مستشرقین کا سب سے بڑا حملہ قرآن مجید پر  یہی ہوتا ہے کہ وہ اس کی قراءات متواترہ کا انکار کرتے ہوئے اس میں تحریف وتصحیف کا شوشہ چھوڑتے ہیں،تاکہ مسلمان اپنے اس بنیادی مصدر شریعت سے محروم ہو جائیں اور اس میں شکوک وشبہات کا شکار ہو جائیں۔زیر تبصرہ کتاب " شرح سبعہ قراءات"پاکستان کے معروف قاری المقری ابو محمد محیی الاسلام پانی پتی﷫ کی  اصول قراءات پر ایک منفر داور عظیم الشان تصنیف ہے۔آپ نے اس کتاب میں قراءات سبعہ کے اصول وقواعد تیسیر اور شاطبیہ کے طریق سے بیان فرما دئیے ہیں اور جابجا مفید حواشی کا بھی اضافہ فرما دیا ہے۔یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ،پہلی جلد میں اصول بیان کئے گئے ہیں ،جبکہ دوسری جلد میں قرآن مجید کی سورتوں کی ترتیب کے مطابق فروش کو قلمبند کیا گیا ہے۔اللہ تعالی حفاظت قرآن  کے سلسلے میں کی جانے والی ان کی   ان شاندار  خدمات  کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

 

مزيد مطالعہ...

title-pages-sadaqat-e-islam-copy
پروفیسر عبد الغفار

اسلام ایک سچا دین ہے،جس کی صداقت ثابت کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مصداق ہے۔لیکن آج کے مادی دور میں ہمارا دین کے بارے میں علم بہت کم ہے۔اسی وجہ سے کچھ لوگ دین اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار ہیں۔حالانکہ ایسے بہت سے عالمگیر حقائق ہیں جو اسلام کی صداقت کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔زیر تبصرہ کتابچہ"صداقت اسلام" محترم پروفیسر عبد الغفار صاحب کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے پیشین گوئیوں اور سائنسی حقائق کی روشنی میں  اسلام کی صداقت کو بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔اس کتابچے کے دو حصے ہیں جن میں سے ایک حصہ پیشین گوئیوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا حصہ سائنسی حقائق پر مشتمل ہے۔یعنی اسلام نے جو پیشین گوئیاں کیں وہ بعینہ پوری ہوئیں اور اسلام نے کائنات کے جو جو راز بتلائے آج کی سائنس ان کی تصدیق وتائید کرتی نظر آتی ہے۔اللہ تعالی تمام انسانیت کو اسلام کے جھنڈے تلے جمع فرمائے۔آمین (راسخ)

 

مزيد مطالعہ...

pages-from-ahle-kitab-se-muslmano-key-talluqaat
عبد الرؤف باجوہ

اسلام ایک عالمی مذہب ہے اور مذاہبِ عالم میں یہ واحد مذہب ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ تمام معاملات میں رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم دیتاہے ۔اسلام کے داعی اوّل نبی کریم ﷺ کے دلرُبا کردار کا نقشہ او ر آپ ﷺ کے صحابہ کرام ﷢ کاطر زعمل اس بات کی روشن ددلیل ہے اسلامی معاشرے میں غیر مذہب رعایا کوکیسا مقام حاصل تھا۔روز ِ اول سے ہی مبلغ اسلام رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اسلام کی ترقی اوربقا کےلیے مختلف مذاہب کے ماننے والوں سےبرسرِپیکار ہونا پڑا ۔ مشرکین کے علاوہ جو طاقتیں اسلام کے راستے میں مزاحم ہوئیں ان میں یہودیت ونصرانیت پیش پیش تھیں۔گوکہ یہ دونوں طاقتیں اہل ِ کتاب تھیں لیکن عمومی طور پر انہوں نے اسلام کی مخالفت اور کاروانِ حق کی ناؤ ڈبونے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔لیکن اس کے باوجو درسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب سے   جو تعلقات قائم کیے انہیں عہد حاضر میں بطور نظیر پیش کیا جاسکتاہے ۔آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی فرماتے ہوئے عملی نمونہ پیش کیا۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ نبی ﷺ نے اہل کتاب کودیگر غیر مسلموں پر فوقیت دی اورہر شعبے میں ان کے ساتھ محذ اہل ِکتاب ہونے کی بنا پر دوستانہ اور ہمداردانہ رویہ اپنایا۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ ﷺ نے یہود نصاریٰ سے جو تعلقات قائم کیے اسی نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے خلفائے راشدین نے اہل ِ کتاب سے مراسم قائم کیے۔ مجموعی طور پر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ نے یہود ونصاریٰ کی طرف دوستی کاہاتھ ضرور بڑھایا اوران سے مختلف قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے باہمی معاہدات بھی کیے۔ مگر ان کی اسلام دشمنی کو کبھی فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ ایک حد میں رہتے ہوئے احکام ِ الٰہیہ کی روشنی میں مختاط انداز اختیار کیا۔ زیر نظر تحقیقی مقالہ بعنوان ’’ اہل کتاب سے مسلمانوں کے تعلقات عہد نبوی تا عہد بنوامیہ‘‘مقالہ نگارعبدالرؤف باجوہ نے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب کی زیکر نگرانی مکمل کر کےاسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور سے ایم فل علوم اسلامیہ کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ مقالہ نگار نے اس کو پانچ ابو اب میں تقسیم کر کے اپنی تحقیقی بحث کو پیش کیا ہے۔ مقالہ نگار نے اپنی بساط کے مطابق بھر پور طریقے سے اہل کتاب سے مسلمانوں کےتعلقات کوقرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے طرزِ عمل کی روشنی میں پیش کرنےکی کوشش کی ہے ۔ تاکہ عہدِ حاضر میں ان تعلقات کی روشنی میں استفاد کیا جاسکے ۔اللہ تعالیٰ مقالہ نگار کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔(آمین) م۔ا)

مزيد مطالعہ...

title-pages-sharah-saba-qaraat-1-copy
ابو محمد محی الاسلام عثمانی پانی پتی

اللہ تعالی کا امت محمدیہ پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے امت پر آسانی کرتے ہوئے  قرآن مجید کو سات مختلف لہجات میں نازل فرمایا ہے۔یہ تمام لہجات عین قرآن اور منزل من  اللہ ہیں۔ان کے قرآن ہونے پر ایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اور ان کا انکار کرنا باعث کفر اور قرآن کا انکار ہے۔دشمنان اسلام اور مستشرقین کا سب سے بڑا حملہ قرآن مجید پر  یہی ہوتا ہے کہ وہ اس کی قراءات متواترہ کا انکار کرتے ہوئے اس میں تحریف وتصحیف کا شوشہ چھوڑتے ہیں،تاکہ مسلمان اپنے اس بنیادی مصدر شریعت سے محروم ہو جائیں اور اس میں شکوک وشبہات کا شکار ہو جائیں۔زیر تبصرہ کتاب " شرح سبعہ قراءات"پاکستان کے معروف قاری المقری ابو محمد محیی الاسلام پانی پتی﷫ کی  اصول قراءات پر ایک منفر داور عظیم الشان تصنیف ہے۔آپ نے اس کتاب میں قراءات سبعہ کے اصول وقواعد تیسیر اور شاطبیہ کے طریق سے بیان فرما دئیے ہیں اور جابجا مفید حواشی کا بھی اضافہ فرما دیا ہے۔یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ،پہلی جلد میں اصول بیان کئے گئے ہیں ،جبکہ دوسری جلد میں قرآن مجید کی سورتوں کی ترتیب کے مطابق فروش کو قلمبند کیا گیا ہے۔اللہ تعالی حفاظت قرآن  کے سلسلے میں کی جانے والی ان کی   ان شاندار  خدمات  کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

 

مزيد مطالعہ...

title-pages-rehmat-al-aalameen-ki-janwaron-pr-shafqat-copy
ام عبد منیب

ہمارے  پیارے نبیﷺ  کی آمد سے  قبل عرب کےلوگ بڑے جاہل تھے ۔ وہ بہت  سے ایسے  کام کرتے  جو کھلم کھلا ظلم تھے جانوروں پر بھی  وہ طرح طرح  کے ظلم کرتے تھے ۔ ان ہی مظالم میں سے  ایک یہ تھا کہ جب وہ سفر کرتے  راستے میں کھانے کا سامان  ختم ہو جاتا  تو زندہ جانور  کے جسم  سے گوشت  کاٹ کر کچابھون کر کھاجاتےاوراسی اگر سفر کےدوران پانی  نہ  ملتا تویہ  لوگ اونٹ کا کوہان چیر کر اس میں  سے  پانی نکال کرپی جاتے اور بھی اس طرح کے کئی ظلم  جانوروں پر کرتے ۔ لیکن جب  رحمت کائنات نبی کریم ﷺکی آمد ہوئی تو آپ  ﷺ نے  جانوروں کے معاملے میں لوگوں کوسمجھایا ،انہیں ہدایات دی اور  ان بے زبانوں پر ظلم کاسلسلہ بندکروایا ۔اس طر ح آپ کی  ذات گرامی  جانوروں کے لیے  بھی رحمت بن کر آئی۔اس لیے جانوروں پرترس کھانا، ان  کی خوراک کاخیال رکھنا ،خصوصا بھوک میں ان کو  کھلانا پلانا، ان کوتنگ کرنےسے باز رہنا،ان کی طاقت  کے مطابق ان پر  بوجھ لادنا،زخمی یا بیمار ہونے کی صورت میں انہیں آرام دلانا ایک مسلمان پر فرض ہے ۔اور پیار ے  نبی ﷺ کی سنت بھی  ۔زیر نظر کتاب ’’ر حمۃ اللعالمین کی جانوروں پر شفقت‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی  تالیف ہے  جس میں انہوں نے   نبی ﷺکی آمدسے  قبل  عرب کے  جانوروں پر مظالم کاذکر کرتے ہوئے  نبی ﷺکی  جانوروں کے متعلق شفقت  ورحمت اور ان کے ساتھ حسنِ معاملہ  اور دیگر احکامات کو سیرت نبویہ اور احادیث کی روشنی میں  بڑے احسن انداز سےں  بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

 

مزيد مطالعہ...

pages-from-anajeel-e-arba-key-aham-mazameen-ka-tehqeequi-jaeza
محمد ایاز خان

عیسائیت اوراسلام دونوں اہم اورالہامی مذاہب ہیں دونوں کے انبیاء تاریخ میں امتیازی مقا م کھتے ہیں ۔ حضرت عیسیٰ﷤ بنی اسرائیل اور حضرت محمد ﷺ تمام انبیاء کے آخری رسول ہیں ۔ آج یہ دونوں الہامی مذاہب دنیا میں ایک منفرد درجہ رکھتے ہیں۔اور اس وقت دنیا کے یہی بڑے مذاہب ہیں ۔اسی لیے ان مذاہب کے مبلغین بعض دفعہ یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ مشتر ک تعلیمات پر دونوں کا اتفاق ہونا چاہیے۔توحید ورسالت آخرت اور نوع انسانی کی خدمت ان مذاہب کی بنیادی تعلیمات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے احکام انبیاء کرام کے ذریعے بھیجے اس سلسلے کی پہلی کڑی حضرت آدم ﷤ تھے اور آخر میں انسانوں کا یہ ضابطہ حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہوگیا ۔یہ دین   اللہ تعالیٰ کا آخری مکمل اور تمام بنی نوع انسان کے لیے پیغام ہے ۔ یہ ایسی جامع اور مکمل تعلیمات ہیں کہ اس کے بعد کسی اور ضابطہ حیات کی ضرورت نہیں ۔ اس کے اصول ہمیشہ کے لیے ہر قوم اور ہر زمانے کے لیے کافی ہیں۔اس دین کا ضابطہ حیات قرآن حکیم جوں کاتوں اصلی حالت میں محفوظ ہے ۔ اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ قرآن اور احادیث نبویہ اور تاریخ اس پر گواہ ہیں کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خو مالک کائنات نے لیا ہے۔اس کے مقابلے میں انجیل پر نظر ڈالیے عیسائیوں کی مذہی کتاب جوکہ عبرانی زبان میں حضرت عیسیٰ پر نازل ہوئی۔قرآن مجید میں اسے بشارت قراردیاگیا مگر اصلی حالت میں محفوظ نہیں ۔ موجودہ انجیل صرف کا اس کاترجمہ ہے اور ترجمہ کی اسناد بھی ان کےپاس محفوظ نہیں۔یہاں تک کہ یقینی طور پر اس کے مترجم کا نام بھی آج تک معلوم نہیں ہوسکا ۔ حضرت عیسی ٰ﷤کے بعد عیسائیوں نے ان کی زندگی اور تعلیمات پر کتابیں تصنیف کرنا شروع کیں جو ان مصنفین تک زبانی روایات کے ذریعے سے پہنچی تھیں۔ ہر فرقہ نےاپنی الگ کتاب تصنیف کی اوراسے انجیل کا نام دیا جن کی تعداد چونتیس تک جا پہنچی۔ ان میں سے صر ف ایک انجیل سریانی زبان میں لکھی گئی تھی دیگر اناجیل یونانی زبان میں تھیں۔آج کل عیسائیوں کے نزدیک بنیادی طور پر چار اناجیل (مرقس،متی،لوقا ، یوحنا) مروج ہیں۔ زیر نظر تحقیقی مقالہ میں مقالہ نگار محمد ایاز خان صاحب نے ڈاکٹر محمد اکرم رانا صاحب کی نگرانی میں اناجیلِ اربعہ کے اہم مضامین کا قرآن حکیم کی روشنی میں تحقیقی جائزہ پیش کر کے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔(م۔ا )

مزيد مطالعہ...

title-pages-izala-tul-auham-1-copy
رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی ایک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔نہ اس کی بیوی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے ۔لیکن  اس کے برعکس عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ،جس کے مطابق اللہ تعالی، سیدنا عیسیٰ﷤اورسیدہ  مریم  علیھا السلام تینوں  خدا  ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم علیھا السلام اورسیدنا عیسیٰ ﷤پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا۔زیر تبصرہ کتاب " ازالۃ الاوہام"ہندوستان کے معروف مبلغ ،داعی ،محقق مسیحیت اور عیسائیت کی جڑیں کاٹنے والے اور انگریزی استعمار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے  مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ کی ہے۔آپ نے عیسائیت کے رد  میں عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اور کتابیں لکھی ہیں۔اس کتاب میں موصوف نے عقیدہ تثلیث،تحریف بائبل ،بشارات محمدی اور عیسائیوں کے متعدداعتراضات کا عقلی ونقلی ،الزامی وتحقیقی، مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔رد عیسائیت پر اتنی علمی وتحقیقی کتاب آپ کو عربی زبان سمیت کسی زبان میں نہیں ملے گی۔عیسائیت کے خلاف کام کرنے والے اہل علم کے لئے یہ ایک گرانقدر تحفہ ہے۔اللہ تعالی دفاع توحید کے سلسلے میں انجام دی جانے والی ان کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

مزيد مطالعہ...

title-pages-quran-bible-tourait-ka-taqabli-mutalia-copy
راجہ مشتاق جہلمی

قرآن مجید وہ واحد آسمانی کتاب ہے جو چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج تک ہر طرح کی تحریف وتصحیف سے محفوظ ومامون ہے۔جبکہ دیگر آسمانی کتب مثلا تورات،انجیل اور زبور حوادثات زمانہ کے ہاتھوں تحریف وتصحیف کا شکار  ہو چکی ہیں۔اس کا بنیادی سبب اللہ تعالی کا وہ وعدہ ہے جو اس نے قرآن مجید کی حفاظت کے حوالے سے امت سے فرمایا ہے،قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالی نے لے رکھا ہے ،جبکہ دیگر کتب کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے نہیں لیا ہے۔بلکہ ان کی حفاظت ان کے متبعین پر عائد تھی۔تورات و انجیل اور بائیبل سمیت ان سابقہ کتب میں ہونے والی تحریف وتصحیف کے باوجود ان کتب میں آج بھی متعدد ایسے احکامات موجود ہیں جو  قرآن مجید کے احکامات سے ملتے جلتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب "قرآن ،بائیبل ،توریت کا تقابلی مطالعہ"محترم راجہ مشتاق جہلمی کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے بائبل تورات اور قرآن مجید کے ان احکامات کو جمع فرما دیا ہے ،جو ان تینوں کتب میں مشترک ہیں۔مولف کے کتاب کے شروع میں  لکھے گئے مقدمہ سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ ان چیزوں کو جمع کر  کے وحدت ادیان کی دعوت دینا چاہتے ہیں ،اگر تو موصوف کا مقصد یہی ہے تو ادارہ اس سے متفق نہیں ہے۔یہاں اس کتاب کو پیش کرنے کا وحید مقصد یہ ہے کہ اس کتاب میں جمع کئے گئے  تورات اور بائبل میں موجود ان احکامات کو واضح کیا جائے جو قرآن مجید کے ساتھ مشترک ہیں۔اور تقابل ادیان کا طالب علم اس سے استفادہ کر سکے۔(راسخ)

 

مزيد مطالعہ...

pages-from-al-ahadees-ul-mukhtar-minassaheehain
محمد مظہر شیرازی

خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے کہ جس کے لیے ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ   اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے ۔احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں جن میں ایک 100 احادیث پر مشتمل ایک مجموعہ عارف با اللہ مولانا سید محمد داؤد غزنوی ﷫ نے ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل رااہنمائی موجود ہے۔ زیر نظر کتاب ’’الاحادیث المختارہ من الصحیحین‘‘ محترم محمد مظفر شیرازی ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے دینی جامعات ومدارس کے ابتدائی طلباء کےلیے   صحیح بخاری وصحیح مسلم سے 100 احادیث کا انتخاب کرکے   یکجا کردیا ہے اور ہر حدیث کے اوپر اس سے واضح طور پر سمجھ آنے والا مسئلہ بطور عنوان کے بیان کردیا ہے تاکہ جھوٹی عمر کے طلبہ کوسمجھنے میں آسانی رہے ۔اللہ تعالیٰ شیرازی صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

مزيد مطالعہ...

title-pages-izala-tul-auham-1-copy
رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی ایک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔نہ اس کی بیوی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے ۔لیکن  اس کے برعکس عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ،جس کے مطابق اللہ تعالی، سیدنا عیسیٰ﷤اورسیدہ  مریم  علیھا السلام تینوں  خدا  ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم علیھا السلام اورسیدنا عیسیٰ ﷤پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا۔زیر تبصرہ کتاب " ازالۃ الاوہام"ہندوستان کے معروف مبلغ ،داعی ،محقق مسیحیت اور عیسائیت کی جڑیں کاٹنے والے اور انگریزی استعمار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے  مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ کی ہے۔آپ نے عیسائیت کے رد  میں عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اور کتابیں لکھی ہیں۔اس کتاب میں موصوف نے عقیدہ تثلیث،تحریف بائبل ،بشارات محمدی اور عیسائیوں کے متعدداعتراضات کا عقلی ونقلی ،الزامی وتحقیقی، مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔رد عیسائیت پر اتنی علمی وتحقیقی کتاب آپ کو عربی زبان سمیت کسی زبان میں نہیں ملے گی۔عیسائیت کے خلاف کام کرنے والے اہل علم کے لئے یہ ایک گرانقدر تحفہ ہے۔اللہ تعالی دفاع توحید کے سلسلے میں انجام دی جانے والی ان کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

مزيد مطالعہ...

title-pages-qayam-ul-lail-aur-murawija-shab-bedarian-copy
ام عبد منیب

قیام اللیل کا  مطلب عشاء کی نمازِ فرض کے علاوہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز ادا کرنا ہے ۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے اس عبادت کا غالب حصہ نمازتہجد  سے  ہے ۔ لہٰذا تہجد اور قیام اللیل دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف کےطور پر قرآن وحدیث میں استعمال ہوئے ہیں۔اور رمضان کی راتوں کا یہی  وہ قیام  ہے جسے تراویح بھی کہا جاتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے  رمضان البارک میں  قیام  کرنے کی بڑی  فضیلت  بیان کی ہے ۔ ارشا د نبوی  ہے : «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»لیکن دور حاضر میں  قیام اللیل جیسی عظیم  نفلی عبادت  کو شب بیداریوں کی رنگا رنگ اقسام اختیار کرکے  اسے رواجی  چیزوں کی  گرد سےدھندلا دیاگیا ہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’ قیام اللیل  اور مروجہ شب بیداریاں‘‘ میں  محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ  نے   کوشش کی  ہے کہ  قیام اللیل کو کتاب وسنت کی روشنی میں  واضح کیاجائے اور رواجی  چیزوں کی گرد  کوالگ کرکے  یہ دکھایا اور بتایا جائے کہ اس وقت کی مروجہ شب بیداریوں میں  قرآن  وسنت کے مطابق کیا ہے اور کیااس کے مطابق نہیں ہے۔تاکہ خلوص اور زندہ جذبے کے ساتھ اس  عبادت کوادا کرنے والے لاعلمی میں غلط  کو صحیح سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں تو اس سے بچ کر  قیام اللیل کے مقاصد ،منافع اور فوائد کوسمیٹ سکیں۔اللہ تعالیٰ  محترمہ کی اس کاوش کو عوام الناس  کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

 

مزيد مطالعہ...

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

We have 924 guests and one member online

  • Abu Bakar

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

گوگل میپ