title-pages-khutbat-w-maqalat-ubaidullah-sindhi-copy
مفتی عبد الخالق آزاد

امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی کی شخصیت برصغیر پاک و ہند میں کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ 28 مارچ 1876ء بمطابق 12 محرم الحرام 1289ھ کو ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں چیلانوالی کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے۔1884ء میں آپ نے اپنے ایک ہم جماعت سے مولانا عبیداللہ پائلی کی کتاب “تحفۃ الہند“ لے کر پڑھی۔ اس کے بعد شاہ اسماعیل شہید کی کتاب “تقویۃ الایمان“ پڑھی اور یوں اسلام سے رغبت پیدا ہوگئی۔ 15 برس کی عمر میں 19 اگست 1887ء کو مشرف با اسلام ہوئے۔اردو مڈل تک کی تعلیم آپ نے جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ پھر قبول اسلام کے بعد 1888ء میں دیوبند گئے اور وہاں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور تفسیر و حدیث، فقہ و منطق و فلسفہ کی تکمیل کی۔1901ء میں گوٹھ پیر جھنڈو میں دالارشاد قائم کیا۔1909ء میں اسیر مالٹا محمود الحسن کے حکم کی تعمیل میں دارالعلوم دیوبند گئے اور وہاں طلباء کی تنظیم “جمیعت الانصار“ کے سلسلے میں اہم خدمات انجام دیں۔1912ء میں دلی نظارۃ المعارف کے نام سے ایک مدرسہ جاری کیا جس نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت میں بڑا کام کیا ہے۔ترکی میں 1924ء میں اپنی ذمہ داری پر تحریک ولی اللہ کے تیسرے دور کا آغاز کیا۔ اس موقع پر آپ نے آزادئ ہند کا منشور استنبول سے شائع کیا۔ترکی سے حجاز پہنچے اور 1939ء تک مکہ معظمہ میں رہے۔ اسی عرصہ میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق اور دینی مسائل کو تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ عوام تک پہنچایا۔ساری زندگی قائد حریت کی حیثیت سے اسلامی اور سیاسی خدمات انجام دیتے رہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات ومقالات مولانا عبید اللہ سندھی ‘‘ مفتی عبد الخالق آزاد کی مرتب شدہ ہے ۔یہ کتاب مولانا سندھی کے تحریک آزادی کے تناظر میں تحریر کئے جانے والے سیاسی، اقتصادی، دستوری وتاریخی مقالات وخطبات کا مجموعہ ہے ۔ مولانا سندھی کے معرکۃ الاراء خطبات او رآئینی دفعات پر مشتمل دستوری خاکے اور جماعتوں کےاغراض ومقاصد بھی اس اس کتاب کا حصہ ہیں۔غرض یہ کتاب مولانا سندھی اور شیخ الہند کے افکار وخیالات کا ایک بہترین مرقع ہے۔مرتب نے تمام مقالات کو سالوں کی ترتیب کے مطابق مرتب کیا ہے۔(م۔ا)

title-pages-maqalat-professor-abdul-qayoom-1-copy
ڈاکٹر محمود الحسن عارف

پروفیسر عبد القیوم﷫ علمی دنیا خصوصاً حاملین علو م اسلامیہ و عربیہ کے حلقہ میں محتاج تعارف نہیں ۔ موصوف 1909ء کولاہور میں پیدا ہوئے۔پروفیسر مرحوم کےخاندان کی علمی اور دینی یادگاروں میں مسجد مبارک کی تاسیس اور اس کی تعمیر وترقی میں نمایاں حصہ لینابھی شامل ہے ۔ جس میں پروفیسر صاحب کے والد محترم او رنانا مولوی سلطان دونوں کابڑا حصہ ہے ۔آپ کےخاندان کی نیک شہرت کا اندازہ اس ا مر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کےہاں متعدد اہل علم ، مثلاً مولانا قاضی سلیمان سلمان منصورپوری، مولانا سید سلیمان ندوی ، شیخ الاسلام مولانانثاء اللہ امرتسری﷭آمدورفت رکھتے تھے۔پروفیسر صاحب نے ابتدائی عمر میں قرآن مجیدناظرہ پڑھنے کےبعد اپنی تعلیم کا آغاز منشی فاضل کےامتحان سےکیا۔1934ء میں اوری اینٹل کالج سے ایم عربی کا امتحان پاس کیا۔اور پھرآپ نے1939ء سے لے کر1968ء تک تقریباتیس سال کا عرصہ مختلف کالجز میں عربی زبان وادب کی تدریس اور تحقیق میں صرف کیا ۔ لاہور میں نصف صدی سے زیادہ انہوں نےتعلیم وتعلم کی زندگی گزاری۔ ان کے سیکڑوں شاگرد تعلیم تدریس اورتحقیق کے میدان میں مصروف عمل ہیں ۔علمی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ محبت اور خدمت کا مرکز کالج کی سرگرمیاں ، مقالات نویسی اور مسجد مبارک تھی جس کی وہ بے لوث خدمت کرتے رہے ۔اور مختلف ادوار میں انہوں نے علمی وتحقیقی مقالات بھی تحریر کیے ۔پروفیسر صاحب تقریباً دس سال تک جامعہ پنجاب کی عربک اینڈ پرشین سوسائٹی کےسیکرٹری رہے اور انہوں نے متعد کانفرنسوں میں اعلیٰ تخلیقی وتحقیقی مقالات پیش کیے ۔اور لسان العرب کا ایسا اشاریہ تیار کیا جسے اندروں وبیرون ملک کے ماہرین نےبے حد سراہا۔ ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مقالات پروفیسر عبدالقیوم ‘‘ پروفیسر عبدالقیوم ﷫ کے تحریر کردہ علمی وتحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے ۔ان مضامین کو موصوف نے خودہی مرتب کرنے کا آغاز کیا تھا لیکن زندگی نے وفا نہ کی آپ چار ماہ بستر پر گزار کر 8ستمبر1989ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔بعد ازاں ان کےبیٹے میجر زبیرقیوم بٹ کے شوق وتعاون سے پرو فیسر موصوف کے شاگرد ڈاکٹر محمودالحسن عارف نے پروفیسر مرحوم کے بکھرے ہوئے مضامین اور بعض غیر مطبوعہ مقالات کو دو جلدو ں میں مرتب کیا۔ایک جلد علمی وتحقیقی مقالات اور دو سری جلد عام مضامین وخطبات پر مشتمل ہے۔(م۔ا)

pages-from-taleem-ul-waqaf-ma-sharah-tafheem-ul-wasaf
قاری محمد اسماعیل صادق

وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ"کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سےاعادہ" (النشر:۱؍۲۴۰) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کااحساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سےقرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اسی طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ۔اوروجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے :’’اورقرآن مجید کوترتیل کے ساتھ پڑھو ۔‘‘(المزمل:4) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:’’الترتیل ہو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵) اس تفسیر میں ترتیل کے دوجز بیان کیے گئے ہیں 1۔تجوید الحروف 2۔معرفۃ الوقوف ۔پس تجوید الحروف کی طرح معرفۃ الوقوف بھی ترتیل کا ایک جزء اور اس کا ایک حصہ ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" تعلیم الوقف (کامل) مع شرح تفھیم الوصف " محترم جناب قاری محمد اسماعیل صادق خورجوی مکی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں علم وقف کی علمی وفنی مباحث کو ایک جگہ جمع فرمادیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-dar-al-musannifeen-ki-tarikhi-khidmat-copy
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی

دار المصنفین اعظم گڑھ کا شمار ہندوستان کے انتہائی اہم علمی اداروں میں ہوتا ہے، یہ ادارہ صرف علامہ شبلی مرحوم کے خوابوں کی تعبیر ہی نہیں بلکہ مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا عبد السلام ندوی کی علمی کاوشوں اور مولانا مسعود علی ندوی کی عملی جدوجہد کی زندہ تصویر بھی ہے۔1915ء میں  جب اس کی تاسیس ہوئی تو مسلمانوں کا ایسا کوئی دوسرا ادارہ پورے ہندوستان میں موجود نہیں تھا ، اپنی تاسیس کے بعد اس ادارے نے جس طرح مصنفین کی متعدد نسلوں کی تربیت کی اس کو بھی اس کی انفرادیت اور اولیت میں شمار کرنا چاہئے۔دار المصنفین کے مصنفین کے متعدد اور متنوع موضوعات پر تصنیفات لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک موضوع ادبی بھی ہے جس پر انہوں نے اپنی قلم آزمائی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب" دار المصنفین کی تاریخی خدمات"محترم ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دار المصنفین کی خدمات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-khatot-e-majdi-copy
عبد الماجد دریا بادی

خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا سیدنا  سلیمان   کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین  نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں اورتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’خطوط ماجدی‘ بھی اسی سلسلہ کی  کڑی ہے ۔جوکہ معروف  ادیب  ومفسر  مولانا  عبد الماجد دریاآبادی کے  علمی وادبی  خطوط کا مجموعہ ہے۔اس مجموعے میں کچھ خطوط مکتوبات ماجدی سے اور بیشتر خطوط اخبارات ورسائل سے محترم جناب ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہانپوری نےنےجمع کر کے مرتب کیے ہیں۔مولانا   دریاآبادی کے خطوط  کےمجموعہ ہذا کے علاوہ  مکتوبات ماجدی  اور رقعات ماجدی کے نام سےبھی دو مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ (م۔ا)

title-pages-from-molana-faiz-ur-rehman-souri-copy
حافظ محمد اسلم شاہدروی

مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ ﷫ بہاولپور کے معروف تاریخی مقام "اچ" کے قریب آباد ہونے والے کسرانی یا قیصرانی بلوچ قبیلے کے ایک فرد تھے۔آپ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم دین تھے۔آپ کو علم رجال پر خاص عبور حاصل تھا۔آپ ایک خاموش طبع اور انتہائی سادہ مزاج انسان تھے۔کسرانی قبیلے میں سب سے پہلے علم دین حاصل کرنے اور علم حدیث کی خدمت کرنے والی شخصیت" مولانا سلطان محمود محدث ﷫ '' کی تھی۔آپ ان کے قریبی عزیز اور لائق شاگرد تھے۔مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ نے تحقیق حدیث خصوصا علم الرجال کے میدان کو چنا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی کے لئے وقف کر دیا۔ آپ نے جب اس میدان میں کام شروع کیا تو  پورے برصغیر میں حدیث کے حوالے سے تحقیقی کام کی اشاعت کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ زیر تبصرہ کتاب " مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ ، ماھر علم الرجال وممتاز نقاد " دار المعارف اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ محمد اسلم شاہدروی صاحب ﷾ کی  کاوش ہے، جس میں انہوں نے مولانا فیض الرحمان ثوری صاح ﷫ ب کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں اور انکی علمی خدمات کو مرتب فرما دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی ایم فل کی اسائنمنٹ تھی، جسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مرتب موصو ف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

حکیم محمود احمد ظفر

نبی کریمﷺ نے مختلف قدغنوں اور پابندیوں زنجیروں میں گرفتار دنیا کو انسانی حقوق سےآشنائی بخشی اور انہیں انسانیت کی قدر ور قیمت سے آگاہ کیا۔رسول اللہﷺ نے حقوق کی دوقسمیں بتائیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد حقوق اللہ سے مراد عبادات ہیں یعنی اللہ کے فرائض اورحقوق العباد باہم انسانوں کے معاملات اور تعلقات کا نام ہے۔اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت حقوق اللہ سے بھی کئی لحاظ سے زیادہ ہے ۔اسلام نے ہرانسان پر دوسرے انسانوں بلکہ حیوانوں اور بے جان چیزوں تک کےحقوق رکھے گئے ہیں جنہیں ہر انسان کو اپنے امکان کے مطابق اداکرنا ازحد ضروری قرار دیا گیا ہے ۔اسلام نےحقوق کوبہت وسعت دی ہےکہ نہ صرف کائنات ارضی کے حقوق انسان کے ذمہ ہیں بلکہ خودانسان کے وجود کے ہر عضو کا حق بھی اس کے ذمہ رکھا گیا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’پیغمبر اسلام اور بنیادی انسانی حقوق‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے قرآن وسنت میں بکھرے ہوئے جمادات سے انسان تک حقوق کو مختلف کتابوں سے اکٹھا کر کے جمع کردیا ہے۔اور اس میں مختلف ابواب بھی قائم قائم کیے ہیں ۔ موصوف نے قرآن وسنت اور آثار صحابہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ انسانی حقوق جن کے دعوے موجودہ دور میں مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کیے جاتے ہیں وہ غلط ہیں بلکہ یہ حقوق موجودہ تنظیموں سےبھی زیادہ اسلام نےانسان کو چودہ وسوسال پہلے دے دئیے تھے۔یہ کتاب اپنی افادیت وجامعیت کے لحاظ سے حقوق وفرائض کی ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔(م۔ا)

مختلف اہل علم

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام نے جہاں  اعلی اخلاقیات کا حکم دیا ہے وہیں مجرموں اور قیدیوں کے حقوق بھی بیان کر دئیے ہیں تاکہ کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہو سکے۔ زیر تبصرہ کتاب" قیدیوں کے حقوق،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں "ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے اٹھارہویں فقہی سیمینار منعقدہ 28 فروری تا 2 مارچ 2009ء میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم

اسلام  کے بڑے بڑے محاسن اور خوبیوں میں سے ایک  خوبی یہ بھی ہے کہ یہ دین، رواداری، عفوودرگذر، رحمت، آسانی اور انسانیت کا دین ہے۔ تمام بنی نوع انسان کے لیے یہ دین خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہے۔ اسلام کی خوبصورتی حسن اور تاثیر کی بنیاد عفوودرگذر، رحمت وعدل اور بلند ترین اخلاق پر قائم ہے۔ انہی اخلاقِ عالیہ ہی کی بدولت لوگ دینِ اسلام میں جوق در جوق داخل ہوئے۔ دین اسلام کی بلندترین بے مثال اخلاقی، عقدی اور ایمانی اقدار کی بناء پر یہ لوگوں میں مقبول ہوا۔ اسلام کی بلند ترین اور لوگوں کے دلوں پر اثر انداز ہونے کے لحاظ سے گہری ترین قدروں میں سے یہ بھی ہے کہ عفوودرگذر اور رواداری کو اپنایا جائے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں بے شمار اور مسلسل نصوص شرعیہ بیان ہوئی ہیں جو انسان کو اس عظیم اسلامی خوبی سے متصف ہونے پر ابھارتی ہیں۔ نبی کریم ﷺکی حیات طیبہ میں اس کی عملی مثالیں ملتی ہیں تاکہ دین الٰہی کا روشن چہرہ لوگوں کے سامنے واضح ہو جائے۔ صحابہ کرام، تابعین عظام آج تک اور قیامت تک آنے والے لوگوں نے یہ خوبی آپﷺکی حیات طیبہ سے ہی سیکھی ہے۔ اسلام نے دوسرے مذھب کے پیرؤوں کے ساتھ رواداری کی بڑی فراخ دلی کے ساتھ تعلیم دی ہے ۔ خاص طورپر جو غیر مسلم کسی مسلمان ریاست کے باشندے ہوں ، ان کے جان ومال ، عزت وآبرو اور حقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قراردیا ہے ۔ اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذھب پر عمل کرنے کی آزادی ہو ، بلکہ انہیں روزگار ، تعلیم اور حصولِ انصاف میں برابر کے مواقع حاصل ہوں ، اُن کے ساتھ حسن ِ سلوک کا معاملہ رکھا جائے اور ان کی دلآزاری سے مکمل پرہیز کیا جائے ۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام میں مذہبی رواداری "انڈیا کے معروف عالم دین سید صباح الدین عبد الرحمن صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلام کی مذہب رواداری پر گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

قاضی مجاہد الاسلام قاسمی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے، اور نکاح پر مبنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " نکاح میں شرط اور مشروط مہر،فقہ اسلامی کی روشنی میں " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے آٹھویں فقہی سیمینار مؤرخہ 22 تا 24 اکتوبر 1995ء  منعقدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  انڈیا میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

نا معلوم

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے۔اللہ تعالی نے جہاں نکاح  کرکےبندھن میں بندھنےکے احکام بیان کئے ہیں ، وہیں اگر یہ بندھن قائم رکھنا مشکل ہو جائے تو اسے طلاق کے ذریعے ختم کرنے کے احکام بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " غیر مسلم ممالک میں عدالتوں  کی طلاق " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اس موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

اشتراکیت یا کمیونزم کے معاشی تصورات انتہا پسندانہ اور افراط وتفریط کا شکار ہیں ۔ ان کے خونیں پنجے میں انسانیت ابھی تک سسک رہی ہے ۔ ان سیکولر قوتوں نے چھوٹے اور غریب ملکوں کا استحصال کر کے انہیں ایک مستقل غریب اور پسماندگی کا شکار کردیا ہے ۔ان دونوں معاشی نظاموں کی افراط وتفریط کےمقابلے میں اسلام کا عادلانہ معاشی نظام عدل اجتماعی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کا ایک مستند تاریخی ریکارڈ رکھتا ہے۔ تمام معاشی نظاموں کا حقیقی ہدف انسانیت کو غربت سے نجات دلا کر ایک خوشحال زندگی کے وسائل وذرائع فراہم کرتا ہے مگر مادی سطح کے معاشی نظاموں میں کوئی بھی آج تک اس ہدف کے حتمی اور یقینی نتائج وثمرات حاصل نہیں کرسکا۔ مغرب کےان نظاموں میں فلاحی مملکت یامعاشرے کا تصور بھی حقیقی فلاح سے بہت بعید اور مواخات کی روح سے خالی دکھائی دیتا ہے۔اسلام کے معاشی نظام میں استحصال کی ہر شکل کو ممنوع اور مکروہ قرار دیا گیا ہے۔اسلام نےسود اور اس کی اساس پیدا ہونے والے فساد کوجڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے ۔ اور معاشی نظام میں شرکت ومضاربت وتجاتی زندگی کے توازن کو عادلانہ سطح برقرار رکھا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام میں غریبی کا علاج‘‘ عالم اسلام کے نامور سکالر ڈاکٹر یوسف القرضاوی ﷫ کی ایک عربی تصنیف کا ترجمہ ہے ۔ڈاکٹر قرضاوی نےاپنی اس وقیع علمی کتاب کو نو مستقل ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔اور اس مختصر کتاب میں اسلامی اقتصادیات کے اس مخصوص حصے سے بحث کی ہے جس کا تعلق غریبی اور اس کے علاج سے ہے ۔جس میں غریبی کے حقوق اور خاص طور پر ان وسائل پر روشنی ڈالی گئی ہےجن کےسہارے سماج کایہ پسماندہ طبقہ چین کا سانس لے سکے اور اسلامی دستور کے زیر سایہ اپنی خودی اور عزت کرسکے۔علامہ قرضاوی نے غربت وافلاس کےعلاج کو کتاب وسنت اور فقہائے مجتہدین کے مسلمہ اصولوں سے گہرا تقابل کرلینے کے بعد اس کتاب میں درج کیا ہے۔کتاب کے مطالعے سے قارئین کو خود اندازہ ہوگا کہ اسلام شروع سے غربت اور اس کے علاج، غریبوں کے حقوق کی حمایت اور ان کی مادی اور بنیادی ضرورتوں میں تعاون کا قائل رہا ہے ۔اوریہ ایسا امتیاز ہے جس سے ان مذاہب اور ازموں کادامن سدا خالی رہا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

داؤد راز دہلوی

مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔ کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تحریک جماعت اسلامی اور مسلک اہل حدیث " مسلک اہل حدیث کے معروف عالم دین، مفسر قرآن، شارح صحیح بخاری علامہ محمد داود راز دہلوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے جماعت اہل حدیث اور تحریک جماعت اسلامی میں موجود بنیادی فرق کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

محمد تقی امینی

معاشرے کی حالت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی،بلکہ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، یہ تبدیلی کبھی معمولی ہوتی ہے جو حالات کے اتار چڑھاو سے رونما ہوتی ہے اور کبھی ہمہ گیر ہوتی ہے  جو ایک دور کے بعد دوسرے دور کے آنے سے ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔پہلی صورت میں زیادہ کدوکاوش کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ چند احکام ومسائل کے موقع ومحل میں تبدیلی سے کام چل جاتا ہے۔لیکن دوسری صورت میں چند مسائل پر بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے قانونی نظام کو نئے انداز میں ڈھالنے اور نئے قوانین وضع کرنے کی ضرورت  ہوتی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس نے عبادت،سیاست ،عدالت اور تجارت سمیت زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اور یہ ایک عالمگیر مذہب ہے جو تاقیامت پیش آنے والے مسائل کا حل اپنے پاس رکھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" احکام شرعیہ میں حالات وزمانہ کی رعایت " مسلک دیو بند سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین مولانا محمد تقی امینی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے تاریخ اسلام کی روشنی میں اسلام کی اسی عالمگیریت کو بیان کیا ہے۔(راسخ)

مختلف اہل علم

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل رہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔اس وقت بینکوں کی جانب سے متعدد انواع کے کارڈ جاری کئے جاتے ہیں ، جن میں سے اکثر سودی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام "اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی جانب سے شائع کی گئی ہے جس میں اکیڈمی کے پندرہویں سیمینار منعقدہ 11-13 مارچ 2006ء میسور میں اے ٹی ایم کارڈ ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ سے متعلق پیش کئے گئے تحقیقی مقالات ومناقشات اور فیصلوں کا مجموعہ  پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

قاری محمد اسمٰعیل صادق خورجوی

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔ اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے،اور قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔ انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم قاری محمد اسماعیل صادق خورجوی خادم مدرسہ تعلیم القراءات خورجہ صاحب﷾نے بچوں کے لئے تجویدی قاعدہ مرتب کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس قاعدے میں حروف مفردہ،حروف مستعلیہ ،متشابہ الصوت حروف،حروف قلقلہ ،حروف مدہ اور حرکات وغیرہ کی ادائیگی انتہائی آسان اور سہل انداز میں سوال وجواب کی شکل میں کروائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

ڈاکٹر محمد سعد صدیقی

نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ہر مسلمان پر فرض ہے کہ قرآن مجید اور حدیث نبوی کی تعلیم حاصل کرے۔پاکستانی تعلیمی اداروں میں حدیث  نبوی پر باقاعدہ کورسز کروائے جاتے ہیں اور ان کے نصاب کی مطبوعہ کتب موجود ہیں۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " مطالعہ حدیث، کوڈ نمبر 972"محترم ڈاکٹر محمد سعد صدیقی صاحب کی کاوش ہے، جس کی نظر ثانی محترم ڈاکٹر معین الدین ہاشمی صاحب نے فرمائی ہے ۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ حدیث وسیرت، کلیہ عربی علوم اسلامیہ نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔اس کورس میں بخاری شریف کے کتاب العلم اور سنن ابو داود شریف کے کتاب الآداب کی احادیث مبارکہ  کے ترجمے ،تشریح اور اس سے مستنبط مسائل کی تفصیلات پیش کی گئی  ہیں۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ہر مسلمان پر فرض ہے کہ قرآن مجید اور حدیث نبوی کی تعلیم حاصل کرے۔پاکستانی تعلیمی اداروں میں حدیث  نبوی پر باقاعدہ کورسز کروائے جاتے ہیں اور ان کے نصاب کی مطبوعہ کتب موجود ہیں۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " مطالعہ حدیث، ایم اے علوم اسلامیہ ، کوڈ نمبر 4622 "محترم ڈاکٹر علی اصغر چشتی صاحب اور محترم معین الدین ہاشمی صاحب  کی مشترکہ کاوش ہے ۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ حدیث وسیرت، کلیہ عربی علوم اسلامیہ نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔اس کورس میں بخاری شریف کے کتاب العلم اور سنن ابو داود شریف کے کتاب الآداب کی احادیث مبارکہ  کے ترجمے ،تشریح اور اس سے مستنبط مسائل کی تفصیلات پیش کی گئی  ہیں۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1602 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں