title-1
پیر محمد کرم شاہ الازہری

ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری  ایک عظیم صوفی و روحانی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مایہ ناز مفسر، سیرت نگار، ماہر تعلیم، صحافی، صاحب طرز ادیب اور دیگر بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔ آپ ۲۱یکم جو لائی ۱۹۱۸ بھیرہ شریف میں پیدا ہو ئے۔سات سال کی عمر میں 1925 کو پرائمری سکول میں داخل ہوئے ۔ اور 1936ء میں گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔1941ء میں اوریئنٹل کالج لاہور میں داخلہ لیا اور فاضل عربی میں شیخ محمدعربی، جناب رسول خان صاحب، مولانا نورالحق جیسے اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ آپ نے 600 میں سے 512 نمبر لیکر پنجاب بھر میں پہلی پوزیش لیکر فاضل عربی کا امتحان پاس کیا۔علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت کے بعد 1942ء سے 1943ء دورہ حدیث مکمل کیا اور بعض دیگر کتب بھی پڑھیں۔1941ء میں جامعہ پنجاب سے بی۔اے کا امتحان اچھی پوزیشن سے پاس کیا۔ستمبر 1951ء میں جامعہ الازہر مصر میں داخلہ لیا ایم۔اے اور ایم۔فِل نمایاں پوزیشن حاصل کی ۔ یہاں آپ نے تقریباً ساڑھے تین سال کا عرصہ گزارا۔1981ء میں 63 سال کی عمر میں آپ وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے اور 16 سال تک اس فرض کی پاسداری کرتے رہے۔ آپ نے متعدد تاریخی فیصلے کیے جو عدالتی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔7 اپریل 1998ء طویل علالت کے بعد آپ کا وصال ہوا۔سینکڑوں مشائخ اور علما ء نے نماز جنازہ میں شرکت فر مائی۔ آپ نے متعدد تصانیف لکھیں اور ماہنامہ ضیائے حرم جاری کیا ۔ آپ کی مایہ ناز تصنیف زیر تبصرہ کتاب ’’ تفسیر ضیا ء القرآن‘‘ ہے یہ تفسیر 3500 صفحات اور 5 جلدوں پر مشتمل ہے جسے آپ نے 19 سال کے طویل عرصہ میں مکمل کی۔اس کی پہلی جلد کا پہلا ایڈیشن ۱۹۶۵ء میں شائع ہوا۔ انھوں نے اپنی تفسیر میں عام فہم اسلوب اختیار کیا ہے۔ وہ ان مقامات کی تفسیر کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں جن کی تفسیر میں عام طور پر اختلاف ہے یا جن کی بنیاد پر بریلوی مکتبۂ فکر کی طرف شرک یا بدعت کی نسبت کی جاتی ہے۔ ایسے مقامات پر انھوں نے قرآن مجید پر براہِ راست غور کرکے کوئی راے قائم کرنے کے بجاے کسی روایت یا تفسیری قول ہی کو اپنی ترجیح کی بنیاد بنایا ہے۔ اسی طرح وہ معاصر تفاسیر سے بھی وسعت قلب کے ساتھ استفادہ کرتے ہیں۔اس تفسیر کے بعض حصے چونکہ یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں اس لیے   طلباء کے اصرار پر اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ہے ۔ تفسیر کے مندرجات سے ادار ے   کا کلی اتفاق ضرورری نہیں ہے۔ (م۔ا)

title-pages-kitab-al-salat--imam-ahmad-bin-hanbal-copy
امام احمد بن حنبل

نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" کتاب الصلوۃ " امام المحدثین امام احمد بن حنبل ﷫ کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم شیخ علی جواد  صاحب نےکیا ہے۔مولف نے اس کتاب میں نماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے بے نماز کے انجام اور عقاب کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

title-pages-madina-tu-al-nabi-saww-copy
ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی کریمﷺ کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ ﷺ کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔اس شہر میں بہت سے تاریخی نشانات ، اور بکثرت اسلامی آثار وعلامات پائے جاتے ہیں جن سے شہر کی عظمت ورفعت شان کا پتہ چلتا ہے۔اس کی فضیلت میں بہت سی احادیث شریفہ وارد ہوئی ہیں ۔سیدنا عبد اللہ بن زید  نبی کریمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا:سیدناابراہیم  نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا کی، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم  نے مکہ حرم  قرار دیا، میں مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں یہاں کے مُد میں  اس کے صاع میں (برکت ہو) جس طرح ابراہیم  نے مکہ کے لئے دعاکی۔سیدناجابر بن عبد اللہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: مدینہ لوہار کی بھٹی کے مثل ہے جو یہاں کے خبث وگندگی کو دور کرتا ہے اور اچھائی کو نکھارتا ہے،سیدناابو ہریرہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: بلا شبہ ایمان مدینہ میں  اسطرح سمٹ کر آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں آجاتا ہے۔یہ اور اس معنی کی متعدد احادیث سے مدینہ منورہ کے فضائل ومناقب کا علم ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مدینۃ النبی ﷺ "محترم ڈاکٹر رانا محمد اسحاق ﷫اور ان کے فرزند ارجمند ڈاکٹر رانا خالد مدنی ﷾کی تصنیف وتحقیق ہے۔جس میں انہوں نے مدینہ منورہ سے متعلق جمیع معلومات کو ایک جگہ جمع فرما کر ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کر دیا ہے۔اور جابجا کلرڈ نقشے سجا کر اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔یہ کتاب مدینہ منورہ کی تاریخ کے حوالے سے ایک مستند اور باحوالہ ذخیرہ ہے ،جس میں مدینہ منورہ سے متعلق تقریبا ہر طرح کی معلومات موجود ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفین کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-tafsire-mazhari
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی

قاضی ثناء اللہ پانی پتی 1810ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ آپ شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء کی اولاد سے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اور بعد میں دوسرے علوم کی تحصیل میں مشغول رہے۔ تحصیل علم کی خاطر دہلی گئے۔ جہاں شاہ ولی محدث دہلوی  سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے شاہ محمد عابدستانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے وصال کے بعد حضرت میرزا مظہر جان جاناں سے کسبِ فیض کیا۔علم کی تحصیل کے بعد وطن واپس آئےاور بقیہ عمر افتاء، تصنیف وتالیف اور نشر علوم میں گزاری دی۔ آپ نے پانی پت میں منصب قضاء بھی اختیار کیا اور اس بلند عہدے کا نہایت احسن طریقے سے حق ادا کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنے عہد کے عظیم فقیہ، محدث، محقق اور مفسر تھے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں بیہقی وقت کہا کرتے تھے۔ فقہ اصول میں آپ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ تفسیر وکلام میں وتصوف میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ کی تیس سے زائد تصانیف وتالیفات ہیں۔ ان میں مشہور تصنیف زیر تبصرہ کتاب تفسیر مظہری عربی زبان میں دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کو آپ نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانجاناں کے نام سے منسوب کیا۔ تفسیر کا انداز محدثانہ ہے۔ یہ تفسیر قدمائے مفسرین کے اقوال اور تاویلات جدیدہ کی جامع ہے۔ اس کا اردو ترجمہ کے فرائض ادارہ ضیاء المصنفین، بھیرہ شریف کے تین فضلاء نے انجام دئیے اور مذکور ادارے کے پچاس سے زائد فضلاء نے اس کے مصادر کی تخریج کی۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز نے اسے دس جلد وں شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-jarabon-pr-masah-jaiz-he-copy
عبد الرشید انصاری

زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جرابیں چمڑے کی بنی ہوئی ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب"جرابوں پر مسح جائز ہے؟"محترم مولانا عبد الرشید انصاری صاحب  کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل کے ساتھ جرابوں پر مسح کے جواز کو ثابت کیا ہے۔کسی مسئلے کے ثبوت کے لئے مولف کا اپنا ہی ایک نرالا انداز ہے کہ وہ ہر مسئلے میں عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں،اور بڑے بڑے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔اگرچہ ان کے اس طریقہ کار سے کوئی بھی متفق نہیں ہے لیکن اس کتاب میں انہوں نے چونکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے دلائل کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،لہذا اسے  فائدے کی غرض سے اسےقارئین کی  خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-kitab-al-salat--ibne-qayyam--copy
امام ابن قیم الجوزیہ

نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" کتاب الصلوۃ " تاریخ اسلامی کے معروف عالم دین محقق امام ابن قیم الجوزی﷫ کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ اور حواشی وتخریج کا کام محترم مولانا عبد الرشید حنیف صاحب نےکیا ہے۔مولف نے اس کتاب میں نماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے بے نماز کے انجام اور عقاب کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

pages-from-tafsire-mazhari
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی

قاضی ثناء اللہ پانی پتی 1810ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ آپ شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء کی اولاد سے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اور بعد میں دوسرے علوم کی تحصیل میں مشغول رہے۔ تحصیل علم کی خاطر دہلی گئے۔ جہاں شاہ ولی محدث دہلوی  سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے شاہ محمد عابدستانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے وصال کے بعد حضرت میرزا مظہر جان جاناں سے کسبِ فیض کیا۔علم کی تحصیل کے بعد وطن واپس آئےاور بقیہ عمر افتاء، تصنیف وتالیف اور نشر علوم میں گزاری دی۔ آپ نے پانی پت میں منصب قضاء بھی اختیار کیا اور اس بلند عہدے کا نہایت احسن طریقے سے حق ادا کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنے عہد کے عظیم فقیہ، محدث، محقق اور مفسر تھے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں بیہقی وقت کہا کرتے تھے۔ فقہ اصول میں آپ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ تفسیر وکلام میں وتصوف میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ کی تیس سے زائد تصانیف وتالیفات ہیں۔ ان میں مشہور تصنیف زیر تبصرہ کتاب تفسیر مظہری عربی زبان میں دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کو آپ نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانجاناں کے نام سے منسوب کیا۔ تفسیر کا انداز محدثانہ ہے۔ یہ تفسیر قدمائے مفسرین کے اقوال اور تاویلات جدیدہ کی جامع ہے۔ اس کا اردو ترجمہ کے فرائض ادارہ ضیاء المصنفین، بھیرہ شریف کے تین فضلاء نے انجام دئیے اور مذکور ادارے کے پچاس سے زائد فضلاء نے اس کے مصادر کی تخریج کی۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز نے اسے دس جلد وں شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-islami-nazriya-e-zrorat-copy
عبد المالک عرفانی

دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعدد ادارے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے آغاز سے ہی اس طرف توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔چنانچہ فقہ اسلامی  کے اہم موضوعات پر تحقیقی کام کے علاوہ اساسی کتب کے تراجم اور جدید اسلوب میں شریعہ مونو گرافکس کی ترتیب واشاعت کاکام بھی جاری وسار ی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی نظریہ ضرورت " بھی اسی سلسلےکی ایک کڑی ہے،جس میں اسلامی نظریہ ضرورت پر جدید اسلوب میں بحث کی گئی ہے۔یہ کتاب محترم ڈاکٹر عبد المالک عرفانی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ضرورت،اکراہ،ضرر ،مشقت،حاجت ،عموم البلوی،خصوص البلوی،حرج ،خوف ،فساد اور تخفیف ورخصت کی مباحث پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-islam-ka-nizame-aman-w-salamti-copy
ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

اس دنیا میں انسانوں کے مختلف طبقات میں چھوٹے سے لیکر بڑے تک ،بچے سے لیکر بوڑھے تک،ان پڑھ جاہل سے لیکر ایک ماہر عالم اور بڑے سے بڑے فلاسفر تک،ہر شخص کی جد وجہد  اور محنت وکوشش میں اگر غور سے کام لیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اگرچہ محنت اور کوشش کی راہیں  مختلف ہیں مگر آخری مقصد سب کا قدرے مشترک ایک ہی ہے ،اور وہ ہے امن وسکون کی زندگی۔نبی کریم ﷺاسی امن وسلامتی کا علم بردارمذہب لے کر آئے۔ اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔اسلام  کی بدولت ایک ایسا معاشرہ تشکیل پایا جو تاریخ انسانی کا سب سے زیادہ باکمال اور شرف سے بھرپور معاشرہ تھا اور اس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت نے ایک طویل عرصے تک زمانے کی چکی میں پس کر اور اتھاہ  تاریکیوں میں ہاتھ پاؤں مار کر تھک جانے کے بعد پہلی بار چین کا سانس لیا۔نبی کریم ﷺ نے انسانیت کی بقاء کے لئے سب سے پہلے جان،مال،عزت،خاندان کے تحفظ کا حق اور اجتماعی طور پر پورے انسانی معاشروں کے تحفظ کے حقوق کا نہ صرف رسمی اعلان کیا بلکہ یقینی طور پر  اس کے عملی نفاذ کی ضمانت فراہم کرکے جبر واستبداد اور استحصال طرز زندگی کا ناطقہ بند کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظام امن وسلامتی" محترم ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے  اسلام کے اسی وصف  اور امتیاز کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ  تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-tafsire-mazhari
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی

قاضی ثناء اللہ پانی پتی 1810ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ آپ شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء کی اولاد سے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اور بعد میں دوسرے علوم کی تحصیل میں مشغول رہے۔ تحصیل علم کی خاطر دہلی گئے۔ جہاں شاہ ولی محدث دہلوی  سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے شاہ محمد عابدستانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے وصال کے بعد حضرت میرزا مظہر جان جاناں سے کسبِ فیض کیا۔علم کی تحصیل کے بعد وطن واپس آئےاور بقیہ عمر افتاء، تصنیف وتالیف اور نشر علوم میں گزاری دی۔ آپ نے پانی پت میں منصب قضاء بھی اختیار کیا اور اس بلند عہدے کا نہایت احسن طریقے سے حق ادا کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنے عہد کے عظیم فقیہ، محدث، محقق اور مفسر تھے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں بیہقی وقت کہا کرتے تھے۔ فقہ اصول میں آپ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ تفسیر وکلام میں وتصوف میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ کی تیس سے زائد تصانیف وتالیفات ہیں۔ ان میں مشہور تصنیف زیر تبصرہ کتاب تفسیر مظہری عربی زبان میں دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کو آپ نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانجاناں کے نام سے منسوب کیا۔ تفسیر کا انداز محدثانہ ہے۔ یہ تفسیر قدمائے مفسرین کے اقوال اور تاویلات جدیدہ کی جامع ہے۔ اس کا اردو ترجمہ کے فرائض ادارہ ضیاء المصنفین، بھیرہ شریف کے تین فضلاء نے انجام دئیے اور مذکور ادارے کے پچاس سے زائد فضلاء نے اس کے مصادر کی تخریج کی۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز نے اسے دس جلد وں شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-fiqah-islami-ki-nazriya-sazi-copy
ڈاکٹر جمال الدین عطیہ

نظریہ ذہن میں قائم ہونے والا ایک تصور ہے ،خواہ یہ تصور فکر منطقی کے تسلسل سے پیدا ہو یا فرعی وجزئی احکام کے استقراء سے ماخوذ ہو۔یہ تصور تجریدیت سے متصف ہوتا ہےکیونکہ اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ تطبیقی صورتحال سے بلند ہو کر اس تطبیق کے پیچھے کارفرما نظریہ وتصور تک رسائی حاصل کی جائے۔نظریہ ایسا جامع تصور ہوتا ہے جو موضوع کے تمام مراتب ودرجات اور اس کے تمام اثرات سے بحث کرتا ہے۔نظریہ جس جامع تحریری تصور کا نام ہے اسے دریافت کرنے کے لئے اس موضوع سے تعلق رکھنے والے تمام ظواہر واحکام میں پائے جانے والی مشترک صفات کا پتہ لگایا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ اس موضوع کے مشترک اور عام قواعد معلوم کئے جائیں۔فقہی نظریہ کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ فقہی نظریہ اس مجرد تصور کا نام ہے جو جزئی فرعی احکام کو منضبط کرنے والے قواعد عامہ کو یکجا کرے۔ زیر تبصرہ کتاب "فقہ اسلامی کی نظریہ سازی " عالم عرب کے معروف سکالر محترم ڈاکٹر جمال الدین عطیہ صاحب کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عتیق احمد قاسمی صاحب نے کیا ہے۔یہ کتاب مولف موصوف کے ان لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نے قطر یونیورسٹی کے کلیۃ الشریعہ (شریعت کالج ) کے طلباء وطالبات کے لئے فقہی نظریات کے نصاب کی تمہید اور مقدمہ کے طور پر تیار کئے اور پیش کئے،اور پھر بعد میں ان کی افادیت کے پیش نظر شائع کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-islah-e-ibadaat-quran-w-hadith-ki-roshni-me-copy
حبیب اللہ بن محمد شفیع

عام طور پور لوگ  دینِ اسلام کی طرف رجحان ،عقیدت اور  دینی لگاؤ رکھتے ہیں لہذا ان غیر مسنون دعاؤں اور وظائف کو ہی حرز جان بنالیتے ہیں  جن کا  پڑھنا محض کار عبث ہے کیونکہ دین اسلام کی بنیاد ہی درحقیقت دو چیزوں پر ہے  ایک قرآن مجید یعنی کتاب اللہ اور دوسری سنت رسول اللہﷺ ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں انہی اعمال کا وزن ہوگا  جو مسنون ہوں گے۔ زیر نظر کتاب میں  صاحب  کتاب نے  ان دعاؤں او روظائف کو پیش کیا  ہے  جو احادیث صحیحہ  سے ثابت ہیں  اور جن کاحکم نبیﷺ نے دیا یا خود اس پر عمل  فرمایا یا جن کی صحابہ کرام   کو کرنے کی  اجازت دی۔اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس کاوش  کو قبول فرمائے اور  اسے عوا م الناس کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

pages-from-tafsire-mazhari
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی

قاضی ثناء اللہ پانی پتی 1810ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ آپ شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء کی اولاد سے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اور بعد میں دوسرے علوم کی تحصیل میں مشغول رہے۔ تحصیل علم کی خاطر دہلی گئے۔ جہاں شاہ ولی محدث دہلوی  سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے شاہ محمد عابدستانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے وصال کے بعد حضرت میرزا مظہر جان جاناں سے کسبِ فیض کیا۔علم کی تحصیل کے بعد وطن واپس آئےاور بقیہ عمر افتاء، تصنیف وتالیف اور نشر علوم میں گزاری دی۔ آپ نے پانی پت میں منصب قضاء بھی اختیار کیا اور اس بلند عہدے کا نہایت احسن طریقے سے حق ادا کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنے عہد کے عظیم فقیہ، محدث، محقق اور مفسر تھے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں بیہقی وقت کہا کرتے تھے۔ فقہ اصول میں آپ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ تفسیر وکلام میں وتصوف میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ کی تیس سے زائد تصانیف وتالیفات ہیں۔ ان میں مشہور تصنیف زیر تبصرہ کتاب تفسیر مظہری عربی زبان میں دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کو آپ نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانجاناں کے نام سے منسوب کیا۔ تفسیر کا انداز محدثانہ ہے۔ یہ تفسیر قدمائے مفسرین کے اقوال اور تاویلات جدیدہ کی جامع ہے۔ اس کا اردو ترجمہ کے فرائض ادارہ ضیاء المصنفین، بھیرہ شریف کے تین فضلاء نے انجام دئیے اور مذکور ادارے کے پچاس سے زائد فضلاء نے اس کے مصادر کی تخریج کی۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز نے اسے دس جلد وں شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-fiqah-hazrat-usman-ra-copy
ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی

ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ شام کے معروف عالم دین  ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی﷾ ظہران یونیورسٹی سعودی عرب کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔اب تک وہ چاروں خلفاءے راشدین  کی فقہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن مسعود   اور جلیل القدر فقیہ سیدنا امام ابراہیم نخعی ﷫کی فقہ پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا مرتب کر چکے ہیں اور شاید ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ اس سلسلے کو دیگر ائمہ و فقہاء تک لے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہ حضرت عثمان  " اسی انسائیکلو پیڈیا کی تیسری جلد اور تیسری کڑی ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا الیف الدین ترابی صاحب﷾ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-haqiqat-ul-fiqah-copy
محمد یوسف جے پوری

جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " حقیقۃ الفقہ" محترم  مولانا حافظ محمد یوسف جے پوری ﷫ کی تصنیف ہے،جس کی تصحیح ونظر ثانی شیخ الحدیث مولانا محمد داود راز صاحب نےکی ہے۔مولف موصوف ﷫ نے اس کتاب میں تقلید کا معنی ومفہوم،تقلید کے رد میں صحابہ کرام،تابعین عظام اور ائمہ فقہاء کے اقوال اور حدیث کی عظمت وشان جیسی مباحث بیان کرتے ہوئےفقہ کے متعدد ابواب کو بیان کیا ہے اور پھر اس میں فقہاء کرام کے اقوال بیان کرتے ہوئے راجح موقف کی بھی وضاحت فر دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین  (راسخ)

pages-from-tafsire-mazhari
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی

قاضی ثناء اللہ پانی پتی 1810ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ آپ شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء کی اولاد سے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اور بعد میں دوسرے علوم کی تحصیل میں مشغول رہے۔ تحصیل علم کی خاطر دہلی گئے۔ جہاں شاہ ولی محدث دہلوی  سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے شاہ محمد عابدستانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے وصال کے بعد حضرت میرزا مظہر جان جاناں سے کسبِ فیض کیا۔علم کی تحصیل کے بعد وطن واپس آئےاور بقیہ عمر افتاء، تصنیف وتالیف اور نشر علوم میں گزاری دی۔ آپ نے پانی پت میں منصب قضاء بھی اختیار کیا اور اس بلند عہدے کا نہایت احسن طریقے سے حق ادا کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنے عہد کے عظیم فقیہ، محدث، محقق اور مفسر تھے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں بیہقی وقت کہا کرتے تھے۔ فقہ اصول میں آپ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ تفسیر وکلام میں وتصوف میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ کی تیس سے زائد تصانیف وتالیفات ہیں۔ ان میں مشہور تصنیف زیر تبصرہ کتاب تفسیر مظہری عربی زبان میں دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کو آپ نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانجاناں کے نام سے منسوب کیا۔ تفسیر کا انداز محدثانہ ہے۔ یہ تفسیر قدمائے مفسرین کے اقوال اور تاویلات جدیدہ کی جامع ہے۔ اس کا اردو ترجمہ کے فرائض ادارہ ضیاء المصنفین، بھیرہ شریف کے تین فضلاء نے انجام دئیے اور مذکور ادارے کے پچاس سے زائد فضلاء نے اس کے مصادر کی تخریج کی۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز نے اسے دس جلد وں شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

title-pages-fiqah-hazrat-imam-hasan-basri-ra-copy
ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی

ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصیت اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ شام کے معروف عالم دین  ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی﷾ ظہران یونیورسٹی سعودی عرب کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔اب تک وہ چاروں خلفاءے راشدین  کی فقہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن عباس ،سیدنا عبد اللہ بن عمر ، جلیل القدرتابعی فقیہ سیدنا امام ابراہیم نخعی ﷫کی فقہ پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا مرتب کر چکے ہیں اور شاید ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ اس سلسلے کو دیگر ائمہ و فقہاء تک لے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہ حضرت امام حسن بصری﷫" اسی انسائیکلو پیڈیا کی آٹھویں جلد اورکڑی ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد القیوم صاحب﷾ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-islah-ul-al-rasoom-copy
مولانا اشرف علی تھانوی

عصر میں اکثر مسلمانوں کو  دیکھا جاتا ہےکہ   وہ اپنی رسومِ  اختراعیہ کے  اس قدر پابند ہیں کہ فرض وواجب کےکی ادائیگی چھوڑ دیتے  ہیں  مگر ان رسم ورواج کوپورے کرنے میں رائی برابر بھی کمی نہیں آنے دیتے۔اور ان کی بدولت طرح طرح  کی پریشانی اور تنگ دستی اور مصیبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں او ردین ودنیا دونوں کھو دیتے ہیں۔اور چونکہ رسم ورواج    عام ہے  اس لیے  ان کی برائی بھی دل میں بس برائے نام  ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب  مولانا اشرف علی تھانوی﷫ کی  تصنیف ہے جس میں  انہو ں نے  برصغیر  پاک وہند کے مسلمانوں  میں عبادت سمجھ کر  کی جانے والی بدعات ورسومات   کوبیان کیا ہے  جن کا  دین حق سے کوئی  تعلق نہیں۔مولانا  صاحب نے  رسومات  کی خرابیوں اور قباحتوں کوخوب واضح کیا ہے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر لاجواب کتاب ہے ۔اللہ اس کتاب کو  رسومات کے خاتمے کا ذریعہ بنائے (آمین ) (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

We have 1456 guests and no members online

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

گوگل میپ