pages-from-tafseer-soorat-ul-faateha
حافظ صلاح الدین یوسف

سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے قرآن مجید کا مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ اس سورت کی عربی اور اردو میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ تفسیر سورۂ فاتحہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی اس سورت کی تفصیلی تفسیر ہے ۔ حافظ صاحب کی مرقوم جامع اور مختصر تفسیر ’’احسن البیان‘‘ کے قبول عام پر   حافظ صاحب کے مقربین نے محسوس کیا کہ انہیں قرآن مجید کی ایک تفصیلی تفسیر بھی لکھنی چاہیے تو حافظ صاحب نے سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کی تفسیر شروع کی ہی تھی کہ یہ کام دیگر علمی مصروفیات کے باعث رک گیا۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کواسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق واسباب عنایت کردے ۔(آمین)حافظ   صاحب نے سورۃ الفاتحہ کے تفسیر ی نکات صحیح احادیث کی روشنی میں شرح وبسط کےساتھ بیان کیے ہیں۔ ان کا استدلال بہت دلنشیں ہے ۔یہ تفسیر اس تفسیر سورۃ الفاتحہ سے الگ ایک نئی تفسیر ہے جو تفسیر’’ احسن البیان ‘‘ میں شامل ہے یہ تفسیرخاص وعام بالخصوص طلبہ ،علماء اور واعظین کےلیے   بے حد مفید ہے (م۔ا)

title-pages-al-tehqiqu-al-rasikh-copy
حافظ محمد گوندلوی

شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’التحقیق الراسخ فی ان احادیث رفع الیدین لیس لہا ناسخ‘‘ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی ﷫ کی رفع الیدین کے موضوع پر علمی اور تحقیقی کتاب ہے یہ دراصل مولوی محمد اشفاق الرحمن کے ایک رسالہ ’’نور العینین‘‘ کے جواب میں لکھی گئی ہے ۔مولوی اشفاق الرحمن نے اس رسالہ میں رفع الیدین کو منسوخ اور مکروہ کہا تھا ۔تو مولانا احمد اللہ ﷫ (شیخ الحدیث دار الحدیث الرحمانیہ دہلی) نے اولاً کا اس کا جواب تحریر کیا اورمؤلف کےجملہ شکوک وشبہات حل فر مادیئے تھے ۔تو مؤلف رسالہ نور العینین نے اسکا کوئی جواب نہ دیا۔ بعد ازاں حافظ محمد گوندلوی ﷫ نے رفع الیدین کےموضوع پر ایک تفصیلی بحث تحریر کی جس میں مسئلہ رفع الیدین مواضع ثلاثہ کا ثبوت ادلہ صحیحہ سےباطریق احسن دیاگیا ہے اور عموماً جملہ منکرین احناف کےتمام شبہات وخدشات کا ازالہ کیاگیا ہے ۔ نیز مولف نور العینین کے جملہ شبہات وایرادات کابھی نہایت اچھے طریقے سے حل فرمادیا ہے۔ 1349ھ میں پہلی یہ کتا ب شائع ہوئی ۔ زیرتبصرہ ایڈیشن 1985ء میں مکتبہ سلفیہ ،لاہور نےشائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کے درجات بلند فرمائے ۔(آمین) (م۔ا) 

title-pages-anhazrat--saww-k-sawalat-sahaba--ra-k-jawabat-copy
سلمان نصیف الدحدوح

نبی اکرم کی حیات مبارکہ قیامت تک انسانیت کے لئے پیشوائی و رہنمائی کا نمونہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ ”تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ زندگی کے جملہ پہلوؤں کی طرح معلم کی حیثیت سے بھی نبی اکرم کی ذاتِ اقدس ایک منفرد اور بے مثل مقام رکھتی ہے۔ نبوت اور تعلیم و تربیت آپس میں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے آپ نے اپنے منصب سے متعلق ارشاد فرمایا:۔’’بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں“ یہ وہ معلم تھے جن کی تعلیم و تدریس نے صحرا کے بدوؤں کو پورے عالم کی قیادت کے لئے ایسے شاندار اوصاف اور اعلیٰ اخلاق سے مزین کیا جس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔تمام بھلائیاں بھی اس میں پوشیدہ ہیں آپ ایک مثالی معلم تھے۔ نبی کریم ﷺ بعض اوقات صحابہ کرام  کو دین  کی تعلیم سوالات کی صورت میں دیا کرتے تھے ۔آپ  ﷺ صحابہ    سے سوال کرتے  اگر  ان کو ان کےمتعلق معلوم ہوتا تو وہ جواب دے دیتے اور جواب نہ دینے کی صورت میں  نبی کریم ﷺ اس سوال کا جواب دیتے ۔نبی کریم  ﷺکے صحابہ کرام سےکیے گئےیہ سوالات  حدیث  کی مختلف میں  موجودد ہیں  ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ آنحضرت ﷺ کےسوالات  صحابہ  کے جوابات‘‘ شیخ 8سلمان نصیف الدحدوح کی عربی کتاب ’’ الرسول یسال والصحابی یجیب‘‘ کا  اردود ترجمہ ہے  اس کتاب میں   مصنف نے   نبی اکرم  کے  صحابہ  کرام   سے کیے گئے  سوالات   اور ان کے جوابات کو کتب  احادیث سے تلاش کر کے ایک جگہ جمع کردیا ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے  عامۃ الناس کےلیے نفع بخش  بنائے (آمین) (م۔ا)

pages-from-aurat-ki-sarbrahi-ka-masla
حافظ صلاح الدین یوسف

اللہ تعالی نے مرد اور عورت کو پیدا فرما کر ان کے دائرہ کار بھی متعین کر دئیے ہیں کہ مرد کی کون کون سی ذمہ داریاں ہیں اور عورت کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔مرد چونکہ عورتوں کی نسبت زیادہ طاقتور، حوصلہ مند اور فہم وفراست کا حامل ہوتا ہے، اس لئے اللہ تعالی اسے قیادت وسیادت جیسی ذمہ داریوں سے سرفراز فرمایا ہے جبکہ عورت نازک ،کمزور اور ناقص العقل ہوتی ہے اسلئے اللہ تعالی نے اس کی سیادت وقیادت کو قبول نہیں فرمایا۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پا سکتی جو اپنی سربراہ عورت کو بنا لیتی ہے۔پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران جن محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنی تو اہل علم نے اس پر تنقید کی اور حق کو واضح کرنے کی کوشش کی کہ اسلامی نقطہ نظر سے کوئی بھی عورت حکمران یا کسی ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات ومغالطات کا ایک جائزہ "پاکستان کے معروف عالم دین اور متعدد کتب کے مصنف سابق مدیر ہفت روزہ الاعتصام لاہور محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے عورت کی سربراہی کے حوالے سے مستند اور مدلل دلائل کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ عورت کا سربراہ بننا شرعا ناجائز،حرام اور شریعت اسلامیہ سے بغاوت ہے۔ اور جو قوم کسی عورت کو اپنا سربراہ بنا لیتی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-ahle-hadith-k-dus-masle-copy
ابو یحیٰ امام خان نوشہری

مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے ۔مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے ۔ پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا لیکن اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا اقرار کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔ضرورت اس امر کی مسلمانوں کو اس تقلیدی گروہ بندی سے نجات دلائی جائےاور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے ۔مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک حقیقی دعوت پیش کرنےوالا مسلک ہے ۔ اہل حدیث کے لغوی معنی حدیث والے اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل ونہار،شب وروز،محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔گویامسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہےجو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ،جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو- زیر تبصرہ کتاب ’’ اہل حدیث کےدس مسئلے‘‘ مولانا ابو یحیٰ امام خاں نوشہروی ﷫ کی تصنیف ہے۔ مولانا نے اس کتاب میں اہل حدیث کے دس مسائل (نماز ،اذان ، جمعہ ، امام کی شرطیں، روزے ، وضو اور طہارت ، زکوٰۃ، حج ، نکاح اورجنازے کےمسائل) کو کتاب وسنت کی روشنی میں سوال وجواب اور ایک دلچسپ مکالمے کی صورت میں بیان کیا ہے جس سے ایک تو مسئلہ سمجھنے میں آسانی اور قاری کوکتاب پڑہتے ہو ئے کوئی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی ۔اور وعظ نصحیت کا یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کے درجات بلند فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا) 

title-pages-al-kalima-al-kafia-fi-qirat-sorah-al-fatiha-copy
قاری محمد اسماعیل اسد حافظ آبادی

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنی پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’ الکلمۃ الکافیۃ فی قراءۃسورۃ الفاتحۃ‘‘ مولانا حافظ قاری محمد اسماعیل اسد حافظ آبادی ﷫ کی کاوش ہے اس میں انہوں نے اختصار کےساتھ کتاب وسنت کی روشنی میں مسئلہ سورۃ فاتحہ خلف الامام کو ٹھوس دلائل کےساتھ پیش کیا ہے۔موصوف نے یہ کتابچہ ایک حنفی مولوی صاحب کے دعووں کے جواب میں تحریر فرمایا تھا جوانہوں نے عدم قر أت کے متعلق کیے تھے ۔ مقلدین کے طرف سے جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان اعتراضات وشکوک کے موصوف نے باحسن طریق جوابات دئیے ہیں ۔ اور مقلدین کے دلائل کو کتا ب وسنت ،تعاملِ صحابہ اور اقوال آئمہ کی روشنی میں تارِعنکبوت سے زیادہ کمزو ر ثابت کیا ہے ۔ الغرض یہ رسالہ مختصر ہونے کے باوجود مضمون کےلحاظ سے ایک بہت بڑی اہمیت کاحامل ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے (آمین) (م۔ا)

pages-from-zakaat-ushar-aur-sadqatul-fitar
حافظ صلاح الدین یوسف

دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ زکٰوۃ، عشر اور صدقۃ الفطر فضائل واحکام ‘‘ مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے زکاۃ کے تمام ضروری مسائل کی وضاحت قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کرنےکی کوشش کی ہے ۔ کیونکہ اس تعبدی حیثیت کا تقاضا ہے کہ اس کی ادائیگی میں اللہ ورسول کے احکام وہدایات کوملحوظ رکھا جائے۔ تو دوسری طرف اس کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیاگیا ہے جن کےذریعے سےزکوٰۃ کے معاشی ومعاشرتی فوائد سامنے آسکیں او رمعاشرے کے ضرورت مند افراد کی فلاح وبہود کےلیےاس زیاد ہ سے زیادہ کام لیاجا سکے ۔اس کےعلاوہ اس کتاب میں ان تمام پہلوؤں کو بھی اجاگر کیاگیا ہے جو علماء کےلیے بھی قابل غور وفکر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

title-pages-namaz-e-tahjud-copy
عبد الرشید سنت نگری

تہجد کی نماز سنت ہے ۔ نبی ﷺ ہمیشہ اس کااہتمام فرماتے تھے اور صحابہ کرام کو بھی اس کے التزام کی ترغیب دیتے تھے ۔ قرآن پاک میں نبیﷺ کواس کی خصوصی تاکید فرمائی گئی ہے ۔نماز تہجد پڑھنے سے بڑی برکات حاصل ہوتی ہیں ۔نماز تہجد اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے ۔ تہجد کا اہتمام کرنےوالوں کو قرآن نے محسن اور متقی قرار دیا ہے ۔ اور ان کواللہ تعالیٰ کی رحمت اور آخرت کی ابدی نعمتوں اور بھلائیوں کامستحق قرار دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تہجد کی نماز نفس اوراخلاق کا تزکیہ کرنے او رراہ حق میں صبر وثبات کی قوت فراہم کرنےکا لازمی اور مؤثر ترین ذریعہ ہے ۔احادیث میں دیگر نمازوں کی طرح نماز تہجد ؍قیام الیل کا طریقہ بھی بیان ہوا ہے اور نماز کےموضوع پر لکھی گئی اکثرکتب میں ا س نماز کا طریقہ موجود ہے۔زیر تبصرہ کتاب ’’ نماز تہجد ‘‘ معروف عالم دین حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ﷫ کے افادات سے اخذ شدہ ہے۔ جسے شیخ الحدیث مولانا عبدلرشید صاحب نے مرتب کیا ہے۔ جس میں تہجد کے فوائد وبرکات ، تہجد اور وتر پڑہنے کا مسنون طریقہ پیش کیاہے ۔اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قارئین کے لیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

pages-from-peyare-rasool-saw-ki-peyari-naseehtain
ناصر الدین البانی

ویسے تو نبی کریم ﷺ کی تمام باتیں اور وصیتیں اپنے موقع محل میں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں او رآ پ کے ارشادات وفرمودات وہ مشعل ہدایت ہیں جن کی روشنی میں انسان کو اپنی فلاح وبہبود کی منزلیں نظر آتی ہیں ۔ آپ کی ہر پند ونصیحت میں اسرار وحکم کے سمندر موجزن ہیں۔ آپ کاکوئی بھی ارشاد حکمت ومصلحت سے خالی نہیں۔ اور کیوں نہ ہو جب کہ آپ ﷺ کی مقدس زبان وحی کی ترجمان ہے ۔ آپ کی زبان مبارک سے وہی باتیں نکلتی ہیں جو اللہ چاہتا ہے۔اس لیے آپﷺ کا ہر قول اور فرمان انسان کےلیے متاع دنیا وآخرت ہے ۔نبی کریم ﷺ کسی تجربہ او رمشاورت کے ساتھ نہیں بلکہ وحیِ الٰہی کی بنیاد پر مخاطبین کووصیت کیا کرتے تھے ۔یہ وصیتیں صرف مخصوص افراد ومخاطبین ہی کے لیے نہیں بیان کی گئیں بلکہ ان کےذریعے سے پوری امت کو خطاب کیا گیا ہے۔ان وصیتوں میں مخاطبین کی دنیا وآخرت دونوں کی سربلندی اور فلاح ونجات کاسامان موجود ہے ۔جو یقیناً تاقیامت آنے والوں کےلیے سر چشمہ ہدایت ونجات ہے ۔اور ان وصیتوں کی ایک نمایاں خوبی الفاظ میں اختصار اورمعانی ومطالب کی وسعت وجامعیت ہے جو نبی کریم ﷺ کے معجزۂ الٰہیہ’’جوامع الکلم‘‘ کا نتیجہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’’پیارے رسول ﷺکی پیاری وصیتیں‘‘ محدث العصر علامہ ناصرالدین البانی ﷫ کی کتب سے ماخوذ شدہ ہیں ۔ اس کتاب میں احادیث وسنن سے وصایا نبویہ پر مشتمل احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔ان نبوی وصیتوں کا سب سے امتیازی پہلو یہ ہے کہ ان میں اختصار کے ساتھ انتہائی مشفقانہ انداز میں امت مسلمہ کےلیے دنیوی واُخروی فوز وفلاح کے کامیاب اصول اور زریں قوانین بیان کیے گئے ہیں جن پر عمل پیرہو کر ہر مسلمان اپنی دنیوی واخروی نجات کا سامان جمع کرسکتا ہے۔ ان وصیتوں اور نصیحتوں میں عقائد واعمال کےعلاوہ زندگی کے بیشتر معاملات کی اصلاح کے لیے ہدایت وتوجیہات موجود ہیں ۔ جو بلا شبہ ایک مسلمان کےلیے سرمایہ حیات ہیں ۔ان احادیث کو جمع وانتخاب میں محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی تحقیقات وتخریجات پراعتماد کرتے ہوئے صرف معتبر ومستند احادیث ہی کو اس کتاب میں شامل کیاگیا ہے ۔علاوہ ازیں اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ تمام احادیث کے ساتھ کبار علمائے امت کی تشریحات کاذکر کا بھی خصوصی التزام کیاگیا ہے ۔ تاکہ نصوص شرعیہ کامعنی ومفہوم سمجھنے میں آسانی ہو اور اس سلسلے میں کسی قسم کی لغزش کا امکان نہ رہے ۔اس اہم کتاب کواردو قالب میں ڈھالنے کا کام حافظ محمد عمر ﷾ (فاضل جامعہ سلفیہ،فیصل آباد ) نے انجام دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ المسلمین کےلیےباعث ہدایت واصلاح بنائے ۔آمین   (م۔ا)

title-pages-harmain-sharifain-ka-tahafuz-aur-yaman-ka-aman-copy
قاری محمد یعقوب شیخ

دنیا کے تمام شہروں میں مکہ مکرم اور مدینہ منورہ سب سے افضل ہیں اور فضیلت کی وجہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا ہونا جبکہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کا ہونا ہے۔ان دونوں کی حرمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔سعودی حکومت کی حرمین  شریفین کے  تحفظ اور دنیا بھر میں  دین اسلام کی نشر واشاعت    ، تبلیغ   کے لیے خدمات  لائق تحسین  ہیں ۔سعودی عرب کا دفاع اور حرمین شریفین کا  تحفظ  عالم اسلام کے مسلمانوں کابھی  دینی  فریضہ ہے ۔ کیونکہ سعودی عرب میں  حرمین شریفین امتِ مسلمہ کےروحانی مرکز ہیں ۔حالیہ ایام میں  سعودی اور یمن  کے مسئلہ ماشاء اللہ  عالم اسلام کے مسلمانوں نے  سعودی  کے  دفاع  اور  حرمین کے تحفظ کے لیے  مثالی کردار ادا کیا  ۔ زیر تبصرہ   ’’ حرمین شریفین کا تحفظ  اور یمن کا امن‘‘ پاکستان کی  دینی جماعتوں  کے قائدین  کے خطابات   اور اخبار  ورسائل  کے ممتاز کالم  نگاروں  کے منتخب مضامین  اور کالموں کا مجموعہ ہے  جسے   جماعۃ الدعوہ   پاکستان کےمرکزی رہنما  قاری محمد یعقوب شیخ ﷾ نے   کتابی  صورت میں مرتب کیا ہے  اور دار الاندلس  نے خوبصورت انداز میں  طبع کیا ہے ۔ سعودی عرب اور  یمن  کے  معاملہ میں پاکستانی مسلمانوں کی  کاوشوں  پر مشتمل  بہترین کتاب ہے ۔اللہ تعالی ٰ  مرتب  اور ناشرین کی  اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

title-pages-khutbat-e-qadasiya-fitna-e-takfeer-copy
پروفیسر حافظ محمد سعید

اسلام امن وسلامتی کا دین  ہے   جس میں انسانوں کے جان ومال کی حفاظت اوراس کی عزت وآبرو کی ضمانت دی گئی ہے رسول اللہﷺ نےباہمی انسانی ہمدردی اور خیر خواہی  پرمبنی دین حق کی طرف  لوگوں کو دعوت دی اور اس کے ساتھ  ساتھ  لوگوں کےدرمیان اتحاد واتفاق پیدا کیا۔ امت  کو اختلاف اور تفرقہ بازی سے بچنے کی تلقین کی اور ایسے تمام فتنوں سے آگاہ کیا  جو امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے ہیں  اور ان فتنوں سے بچنے  کے طریقے بھی بیان فرمائے۔ آپ ﷺ کےبیان کردہ فتنوں میں سب سے  بڑا اورخطر ناک فتنہ’’ فتنۂ تکفیر اور خوارج‘‘ ہے  یعنی ایک مسلمان کادوسرے  مسلمان کو کافر قرار دینے کا فتنہ ، مسلمان حکمرانوں  کےخلاف تلوار اٹھانے  اور مسلح بغاوت  کافتنہ۔مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان کو قتل کرنے ان کا مال  لوٹنے اوران کی عزتوں کو پامال کرنے کافتنہ۔ ان فتنوں نے تاریخ اسلام میں مسلمانوں کوسب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ عصر حاضر میں بھی اس فتنے نے دین ِاسلام کی حقیقی تصویر کو داغ دار او رحق پر مبنی سچی دعوت کو بدنام کیا ہے۔علمائے حق نے اس موضوع پر راہنمائی بھی کی ہے  لیکن اس سلسلے میں زیاد ہ تر مواد  عربی زبان ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ خطبات قادسیہ  فتنہ تکفیر‘‘  جماعۃ الدعوۃ  پاکستان کے امیر   محترم جناب حافظ سعید صاحب ﷾  کے اس موضوع پر  مسلسل بارہ خطبات کامجموعہ ہے ۔یہ خطبات آپ نے مرکز القادسیہ  ،لاہور میں    ارشاد فرمائے  آپ نے  ان  خطبات میں  ’’فتنہ تکفیر اور فتنۂ خوارج‘‘ کی  حقیقت ، اسباب، نقصانات اوراس سےبچاؤ کے طریقے بڑے  عام فہم انداز  اور آسان الفاظ میں  تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اسلام کا  صحیح  عقیدہ اور اس کی حقیقت اور سچی تصویر لوگوں کےسامنے پیش کی ہے  تاکہ عام مسلمان اس فتنے  میں مبتلا ہونے  سے بچ جائیں ۔دارالاندلس نے  حافظ صاحب کے ان  خطبات کو   کتاب شکل میں  مرتب  کر کے  حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے۔اس موضوع پر اردوزبان میں  یہ کتاب بڑی اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ ان خطبات  کوقارئین کے عقائد واعمال کی اصلاح کاذریعہ بنائے    اور حافظ سعید صاحب کی عمر میں خیروبرکت  فرمائے  اور غلبۂ  دین  اسلام کے لیے ان کی اور ان کے  رفقاء کی  تمام مساعی  جمیلہ کو  قبول فرمائے (آمین)  (م۔ا)

title-pages-hayat-al-nisa-copy
میاں مسعود احمد بھٹہ

عورت اور مرد فطری طور پر ایک دوسرے کے  بہترین محل ہیں،اور ان کے درمیان قربت یا ملاپ کی خواہش فطری عمل ہے۔جسے شرعی نکاح کی حدود میں لا کر مرد وزن کو محصن اور محصنہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔نکاح ایک شرعی اور انتظامی سلیقہ ہے،لیکن زوجیت کا اصل مقصد باہمی سکون کا حصول ہے۔اور اگر زوجین کے درمیان سکون حاصل کرنے یا سکون فراہم کرنے کی تگ ودو نہیں کی جاتی تو اللہ تعالی کو ایسی زوجیت ہر گز پسند نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" حیات النساء،عورت کی زندگی " محترم میاں مسعود احمد بھٹہ ایڈوکیٹ کی تصنیف ہےجو تیرہ ابواب پر مشتمل ہے اور زوجیت ومناکحات کے اسلامی نظریات واہلیت زوجیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ اہم موضوعات پر محیط ہے۔ان ابواب میں زوجیت کے مقاصد،اہلیت زوجیت،نکاح کی انتظامی حیثیت،اسلامی نکاح کے تقاضے اور طریقہ کار،متعہ کی حرمت ،تعدد ازواج،حق مہر کی شرعی حیثیت ،نان ونفقہ کا مرد پر لزوم،نکاح حلالہ کی لعنت اور عدت کے مسائل وغیرہ تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

pages-from-haqeeqat-e-hajj
ابو الکلام آزاد

اسلام کی پرشکوہ عمارت جن پانچ ستونوں پر استوار ہےان میں سے ایک نہایت مضبوط و مستحکم ستون حج ہے ۔ حج ایک مقدس فریضہ ہی نہیں ایک نہایت اشرف وافضل عمل ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے ۔ا ور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔  اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔مگر یہ اجر وثواب تبھی ہےجب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے ۔اور منہیات سےپرہیز کیا جائے ورنہ حج وعمرہ کےاجروثواب سےمحروم رہے گا۔حج صر ف ایک عبادت ہی نہیں بلکہ یہ جامع عبادات ہے یعنی اسلام نے عبادت کی جتنی بھی صورتیں مقرر فرمائی ہیں ۔ان سب کی روح اس میں موجود ہےاس میں توحید بھی ہے نماز بھی ہے بلکہ اس مسجد میں جاکر سجدہ ریز ہونا ہے جو تمام مسجدوں کا مرکز ہے اور جس نے دنیا کی تمام مسجدوں کو مسجدیت کے اعزاز سے نوازا ہے۔ اس میں طواف کی ایک ایسی منفرد عبادت ہے جو صرف بیت اللہ ہی میں ادا کی جاسکتی ہے اور جب حاجی کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ طواف کی یہ عبادت اس عبادت سے مشابہہ ہے جوملائکہ مقربین عرش الٰہی کےاردگرد ادا رکررہے ہیں تو اس سےایک غافل انسان کی روح بھی وجد میں آجاتی ہے اور ایک صاحب دل کی جو حالت ہوتی ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے ۔ حج میں زکاۃ کی طرح انفاق فی سبیل اللہ بھی ہے ، روزہ کی طرح روح کو تازہ کرنے کےلیے تبتل الی اللہ بھی اور بہت سی احادیث میں اسے جہاد فی سبیل اللہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔اور پھر سب سے بڑھ یہ کہ انسان پر کبھی کبھی ایسی کیفیت بھی طاری ہوتی ہے کہ اسے اپنے رب کی طرف حددرجہ شوق ہوتا ہے۔محبت الٰہی جوش مارتی ہےاور وہ اس شوق کی تسکین کےلیے اپنے چاروں طرف نظر دوڑاتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہےکہ اسکا سامان صرف حج ہی میں ہے اورحج کرنے سے اس کے دل میں اللہ کی محبت کے چراغ جل اٹھتے ہیں۔ حج کے احکام ومسائل کے بارے میں اردو و عربی زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب بازار میں دستیاب ہیں جن کے مطالعہ سے مسائل حج سے اگاہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حقیقت حج ‘‘مولانا ابوالکلام آزاد﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں فریضۂ حج کی اہمیت،عظمت اور فلسفہ وحکمت کوخوب واضح کیاگیا ہے ۔کتاب کے آخرمیں سوئےحرم جانے والے زائرین کےلیے حج وعمرہ کا مسنون طریقہ بھی درج کردیا گیا ہے تاکہ حرمین شریفین میں حاضری کےشب وروز نبی کریمﷺ کے اسوۂ حسنہ کی تعلیمات کی روشنی میں بسر ہوں۔ اس ایڈیشن میں آیات واحادیث کے ترجمے اور حوالہ کے علاوہ عربی عبارتوں اور فارسی اشعار کےترجمہ کا خاصہ اہتمام کیا گیا ہے ۔ تاکہ قارئین مولانا آزاد کےعلم وفضل سے صحیح طور پر استفادہ کرسکیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو قارئین کےلیےنفع بخش بنائے۔ آمین( م۔ا)

title-pages-fiqhul-islam-sharah-baloogh-ul-maram-copy
حافظ عمران ایوب لاہوری

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب مختصر اور ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے کتاب کی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ۔ شروحات میں بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں علامہ عبد التواب ملتانی  ،مولانا محمد سلیمان کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ بھی اہل علم کے ہاں متعارف ہیں اور اسی طرح عصرکے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے ۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی بڑی اہم ہے یہ تینوں کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ فقہ الاسلام شرح بلوغ المرام ‘‘ عصر ِحاصرکے نوجوان محقق مصنف کتب کثیرہ جناب ڈاکٹر حافظ عمران ایوب لاہوری﷾ کی انتہائی اہم کاوش ہے ۔ موصوف نے متعددشروحاتِ بلوغ المرام سے استفادہ کرتے ہوئے بلوغ المرام کی ایک جدید اور مفید شرع تیار کی ہے ۔ اپنے اسلوب اور منہج کے لحاظ سے بلوغ المرام کی یہ شرح ایک ایسے معیار کو پیش کرتی ہے جس سے اہل علم اور مدارس کےشیوخ کے علاوہ عامۃ المسلمین بھی بخوبی استفادہ کرسکتے ہیں ۔یہ کتاب شروحاتِ بلوغ المرام میں اس لحاظ سے ایک نہایت مفید اضافہ ہے کہ اسے سلفی علماء کی تحقیقات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے ۔ہر حدیث کےتحت پہلے اس کے مشکل الفاظ کی وضاحت کی گئی ہے اور پھر اس کے مسائل وفوائد پر بحث کی گئی ہے ۔ بلاشبہ یہ کتاب اپنی جامعیت ، تحقیق وتخریج کے اعلیٰ معیار اور عام فہم اسلوب کی وجہ سے جہا ں علماء و طلباء کے لیے مفید ہےوہاں عوام الناس کےلیے بھی مشعل راہ کی حثیت رکھتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے اورمصنف کی تمام تصنیفی وتحقیقی خدمات کو قبول فرماکرانہیں مزید توفیق سے نوازے (آمین) (م۔ا)

title-pages-salat-e-nabwi--saww--copy
قاضی عبد الرحیم عباس الفیضی

نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمۂ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے ۔انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے ۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔جیساکہ اس بات میں شبہ نہیں کہ نماز ارکان ِاسلام سے ایک اہم ترین رکن خیر وبرکات سے معمور ، موجب راحت واطمینان ، باعثِ مسرت ولذات اور انسان کے گناہ دھوڈالنے ، اس کے درجات بلند کرنے والی ایک بہترین عبادت ہے مگر یہ امر بھی واضح رہے کہ نمازی اس کی خیر وبرکات سے کما حقہ مستفید اور اس کی راحت ولذت سے پوری طرح لطف اندوز تبھی ہوسکتاہے جب وہ اس کے معانی ا ور مطالب سے واقف ہو۔
زیر تبصرہ کتاب ’’ صلاۃ نبوی ﷺ‘‘ انڈیا کے عالم دین قاضی عبد الرحیم عباس الفیضی کی کاوش ہے اس کتاب کو انہوں نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے اوراس میں حسب ذیل اہم امور کا اہتمام کیا ہے ۔ ہر حدیث کے ذکر کرنے سے قبل راوی حدیث کا نام ذکر کیا ہے ۔اردو عبارت کے ساتھ احادیث کی عربی عبارتیں بھی ذکر کردی گئی ہیں ۔روزہ اور نماز کے الفاظ کے علاوہ ’’صوم وصلاۃ ‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔پوری کتاب میں لفظ ’’خدا‘‘ اور لفظ’’حضرت‘‘ سے اجتناب کیا گیا ہے اور حوالوں میں کتب احادیث کے نام جلد صفحہ باب رقم الحدیث او رمکمل تخریج پیش کی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف اور ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

pages-from-haqooq-ul-zaujain
حافظ صلاح الدین یوسف

آج ہر شخص پریشان ہے کسی کوسکون میسر نہیں ۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل حل کرنے کے لیے دین قیم سے رہنمائی کی روشنی نہیں لیتے بلکہ ان مادہ پرست لوگوں کے ٹمٹماتے چراغوں کے گردیدہ ہیں جو اسلام کے دشمن اور مسلمانوں کے قاتل ہیں۔ اگر ہمیں اپنے موجودہ مصائب ومکروہات سے نجات پانی ہے اور ترقی کی شاہراہ پر آگے برھنا ہے تو ہمیں صرف قرآن وسنت ہی کے دار الشفاء سے وابستہ ہونا پڑے گا۔ اسلام نے فرد اور معاشرے کی اصلاح ، استحکام، فلاح وبہبود اورامن وسکون کےلیے ہر شخص کے حقوق وفرائض مقرر کردیے ہیں۔اسلام کے بیان کردہ حقوق وفرائض میں سے ایک مسئلہ حقوق الزوجین کا ہے ۔ اسلام کی رو سے شادی چونکہ ایک ذمہ داری کانام ہےاس لیے شادی کےبعد خاوند پر بیوی اور بیوی پر خاوند کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنا دونوں پر فرض ہے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کالباس ہیں ایک دوسرے کی عزت ہیں ایک کی عزت میں کمی دونوں کےلیے نقصان کا باعث ہے ہمارا دین ہمیں یہی سکھاتا ہے۔زوجین اگر دینی تعلیمات کے مطابق ایک دوسرے کےحقوق خوش دلی سے پور ے کرنے لگیں تونہ صرف بہت سےمفسدات اور خرابیوں کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ ہمارا معاشرہ سکون وطمانیت کی پیاسی مادہ پرست دنیا کے لیےبھی امید اورآرام کی سبق آموز بشارت بن جائے ۔حقوق الزوجین کےسلسلے میں قرآن وسنت میں واضح احکام موجود ہیں اور اس موضوع پر کئی اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حقوق الزوجین‘‘ دینی کتب کے طباعت کے عالمی ادارے دارالسلام کی طرف سے شائع شدہ حقوق سیریز میں ایک ہے جسے مفسر قرآن جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ نے بڑے احسن انداز سے مرتب کیا ۔ایک شوہر ہونے کےناطے بیوی پر اس کے کیا حقوق ہیں ؟ ایک بیوی کی صورت میں شوہر پر اس کے کیا حقوق ہیں؟ اللہ اوراس کے رسولﷺً نےانہیں کیاحقوق دیے ہیں۔ان تمام سوالوں کے جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کتاب میں موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

title-pages-mutta-ki-shrie-haisiyat-maa-aina-shiya-numa-copy
پیر محمد فیض احمد اویسی

نظام قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس  سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔جس نے ایک طویل عرصے سے اسلام کے بالمقابل اور متوازی ایک مستقل دین ومذہب کی شکل اختیار کر لی ہے۔اور متعہ جیسے زنا اور  اسلام کے حرام کردہ امور کو اپنا مذہب بنا رکھا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " متعہ کی شرعی حیثیت مع آئینہ شیعہ نما " محترم پیر محمد فیض احمد اویسی رضوی کی تصنیف  ہے۔جس میں انہوں نے متعہ سمیت شیعہ کے متعدد عقائد ونظریات کے متعلق بڑی اچھی بحث کی ہے اور بڑی جامعیت کے ساتھ ان کی شاخوں ،،عقائد،ان کی تحریفات وتاویلات،تاریخ اسلام میں ان کے منفی وظالمانہ،تقیہ کے تحت ان کے مخفی خیالات سے حقیقت پسندانہ انداز میں پردہ اٹھایا ہے۔یہ کتاب اس اہم موضوع پر بڑی جامع اور شاندار کتاب ہے اور اردو کے دینی وتاریخی لٹریچر  کے ایک خلا کی بڑی حد تک تکمیل کرتی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس قدیم فتنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-shamael-e-tirmazi--zubair-ali-zai--copy
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

انسانیت کے انفرادى معاملات سے لے کراجتماعى بلکہ بین الاقوامى معاملات اورتعلقات کا کوئی ایسا گوشہ نہیں کہ جس کے متعلق پیارے پیغمبرﷺ نے راہنمائی نہ فرمائی ہو، کتبِ احادیث میں انسانى زندگی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں ہے یعنى انفرادى اور اجتماعی سیرت واخلاق سے متعلق محدثین نے پیارے پیغمبر ﷺ کے فرامین کی روشنى میں ہر چیز جمع فرمادی ہے۔کتب ِ سیرت او رکتب ِ شمائل میں فرق یہ ہے کہ کتب سیرت میں نبی کریم ﷺ سے متعلق ہر بات خوب وضاحت سے بیان کی جاتی ہے ۔ مثلاً ہجرت جہاد وقتال ،غزوات ، دشمن کی طرف سے مصائب وآلام، امہات المومنین کابیان اور صحابہ کرام کے تذکرے وغیرہ ۔جبکہ شمائل وخصائل کی کتب میں صرف آپﷺ کی ذاتِ بابرکت ہی موضوع ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ کا چلنا پھرنا، آپ کا کھانا پینا آپ کی زلفوں کے تذکرے ، آپ کےلباس اور بالوں وغیرہ کے بیانات جو اصلاح فرد کےلیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہیں ۔اسی لیے ائمہ محدثین نے اس طرف بھی خوصی توجہ کی ہے مثلاً امام اورامام ترمذی نے اس موضوع پر الگ سے کتب تصنیف ہیں۔ شمائل ترمذی پا ک وہند میں موجو د درسی جامع ترمذی کے آخر میں بھی مطبوع ہے۔ جسے مدارسِ اسلامیہ میں طلباء کو سبقا پڑھایاجاتا ہے ۔ اور اسے شمائل محمدیہ کےنام سے الگ بھی شائع کیا گیا ہے علامہ شیخ ناصر الدین البانی ﷫ وغیرہ نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے ۔اور کئی اہل علم نے اسے اردو دان طبقہ کے لیے اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ شمائل ترمذی‘‘ امام ترمذی ﷫ کی نبی کریم ﷺ کی خصائل وعادات پر مشمتل کتاب ہے ۔اس کتاب میں امام ترمذی ﷫نے نہایت محنت وکاوش وعرق ریزی سے سیّد کائنات ،سيد ولد آدم، جناب محمد رسول ﷺكے عسرویسر، شب وروز اور سفر وحضرسے متعلقہ معلومات ‏کو احادیث کی روشنى میں جمع کردیا ہے- کتاب پڑھنے والا کبھی مسکراتا اورہنستا ہے تو کبھی روتا اورسسکیاں بھرتا ہے- ‏سیّد کائنات ﷺ کے رخ زیبا کا بیان پڑھتا ہے تو دل کی کلى کھل جاتی ہے اور جب گزر اوقات پر نظر جاتى ہے ‏تو بے اختیار آنسوؤں کی لڑیاں گرنا شروع ہوجاتی ہیں۔ زیر تبصرہ شمائل ترمذی کے ترجمہ وتحقیق وفوائد کا کام حافظ زبیر علی زئی ﷫ نے کیا ہے۔یہ ترجمہ حسب ذیل(دو مستند نسخوں سے سند متن کی تصحیح، ہر روایت کی بہترین تخریج، صحت وضعف کے اعتبار سے ہر حدیث پر حکم، آسان فہم ترجمہ، مختصر مگر جامع ونافع فوائد) خوبیوں کےباعث دیگر تراجم سے ممتاز ہے ۔شیخ الحدیث حافظ عبد الحمید ازہر ،حافظ ندیم ظہیر حفظہما اللہ کی نظر ثانی سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے میں شامل تمام افراد کی مخت کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اہل ایمان کو سیرت طیبہ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین)(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

We have 1378 guests and no members online

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

گوگل میپ