حکیم محمود احمد ظفر

نبی کریمﷺ نے مختلف قدغنوں اور پابندیوں زنجیروں میں گرفتار دنیا کو انسانی حقوق سےآشنائی بخشی اور انہیں انسانیت کی قدر ور قیمت سے آگاہ کیا۔رسول اللہﷺ نے حقوق کی دوقسمیں بتائیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد حقوق اللہ سے مراد عبادات ہیں یعنی اللہ کے فرائض اورحقوق العباد باہم انسانوں کے معاملات اور تعلقات کا نام ہے۔اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت حقوق اللہ سے بھی کئی لحاظ سے زیادہ ہے ۔اسلام نے ہرانسان پر دوسرے انسانوں بلکہ حیوانوں اور بے جان چیزوں تک کےحقوق رکھے گئے ہیں جنہیں ہر انسان کو اپنے امکان کے مطابق اداکرنا ازحد ضروری قرار دیا گیا ہے ۔اسلام نےحقوق کوبہت وسعت دی ہےکہ نہ صرف کائنات ارضی کے حقوق انسان کے ذمہ ہیں بلکہ خودانسان کے وجود کے ہر عضو کا حق بھی اس کے ذمہ رکھا گیا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’پیغمبر اسلام اور بنیادی انسانی حقوق‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے قرآن وسنت میں بکھرے ہوئے جمادات سے انسان تک حقوق کو مختلف کتابوں سے اکٹھا کر کے جمع کردیا ہے۔اور اس میں مختلف ابواب بھی قائم قائم کیے ہیں ۔ موصوف نے قرآن وسنت اور آثار صحابہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ انسانی حقوق جن کے دعوے موجودہ دور میں مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کیے جاتے ہیں وہ غلط ہیں بلکہ یہ حقوق موجودہ تنظیموں سےبھی زیادہ اسلام نےانسان کو چودہ وسوسال پہلے دے دئیے تھے۔یہ کتاب اپنی افادیت وجامعیت کے لحاظ سے حقوق وفرائض کی ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔(م۔ا)

مختلف اہل علم

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام نے جہاں  اعلی اخلاقیات کا حکم دیا ہے وہیں مجرموں اور قیدیوں کے حقوق بھی بیان کر دئیے ہیں تاکہ کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہو سکے۔ زیر تبصرہ کتاب" قیدیوں کے حقوق،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں "ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے اٹھارہویں فقہی سیمینار منعقدہ 28 فروری تا 2 مارچ 2009ء میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم

اسلام  کے بڑے بڑے محاسن اور خوبیوں میں سے ایک  خوبی یہ بھی ہے کہ یہ دین، رواداری، عفوودرگذر، رحمت، آسانی اور انسانیت کا دین ہے۔ تمام بنی نوع انسان کے لیے یہ دین خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہے۔ اسلام کی خوبصورتی حسن اور تاثیر کی بنیاد عفوودرگذر، رحمت وعدل اور بلند ترین اخلاق پر قائم ہے۔ انہی اخلاقِ عالیہ ہی کی بدولت لوگ دینِ اسلام میں جوق در جوق داخل ہوئے۔ دین اسلام کی بلندترین بے مثال اخلاقی، عقدی اور ایمانی اقدار کی بناء پر یہ لوگوں میں مقبول ہوا۔ اسلام کی بلند ترین اور لوگوں کے دلوں پر اثر انداز ہونے کے لحاظ سے گہری ترین قدروں میں سے یہ بھی ہے کہ عفوودرگذر اور رواداری کو اپنایا جائے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں بے شمار اور مسلسل نصوص شرعیہ بیان ہوئی ہیں جو انسان کو اس عظیم اسلامی خوبی سے متصف ہونے پر ابھارتی ہیں۔ نبی کریم ﷺکی حیات طیبہ میں اس کی عملی مثالیں ملتی ہیں تاکہ دین الٰہی کا روشن چہرہ لوگوں کے سامنے واضح ہو جائے۔ صحابہ کرام، تابعین عظام آج تک اور قیامت تک آنے والے لوگوں نے یہ خوبی آپﷺکی حیات طیبہ سے ہی سیکھی ہے۔ اسلام نے دوسرے مذھب کے پیرؤوں کے ساتھ رواداری کی بڑی فراخ دلی کے ساتھ تعلیم دی ہے ۔ خاص طورپر جو غیر مسلم کسی مسلمان ریاست کے باشندے ہوں ، ان کے جان ومال ، عزت وآبرو اور حقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قراردیا ہے ۔ اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذھب پر عمل کرنے کی آزادی ہو ، بلکہ انہیں روزگار ، تعلیم اور حصولِ انصاف میں برابر کے مواقع حاصل ہوں ، اُن کے ساتھ حسن ِ سلوک کا معاملہ رکھا جائے اور ان کی دلآزاری سے مکمل پرہیز کیا جائے ۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام میں مذہبی رواداری "انڈیا کے معروف عالم دین سید صباح الدین عبد الرحمن صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلام کی مذہب رواداری پر گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

قاضی مجاہد الاسلام قاسمی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے، اور نکاح پر مبنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " نکاح میں شرط اور مشروط مہر،فقہ اسلامی کی روشنی میں " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے آٹھویں فقہی سیمینار مؤرخہ 22 تا 24 اکتوبر 1995ء  منعقدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  انڈیا میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

نا معلوم

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے۔اللہ تعالی نے جہاں نکاح  کرکےبندھن میں بندھنےکے احکام بیان کئے ہیں ، وہیں اگر یہ بندھن قائم رکھنا مشکل ہو جائے تو اسے طلاق کے ذریعے ختم کرنے کے احکام بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " غیر مسلم ممالک میں عدالتوں  کی طلاق " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اس موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

اشتراکیت یا کمیونزم کے معاشی تصورات انتہا پسندانہ اور افراط وتفریط کا شکار ہیں ۔ ان کے خونیں پنجے میں انسانیت ابھی تک سسک رہی ہے ۔ ان سیکولر قوتوں نے چھوٹے اور غریب ملکوں کا استحصال کر کے انہیں ایک مستقل غریب اور پسماندگی کا شکار کردیا ہے ۔ان دونوں معاشی نظاموں کی افراط وتفریط کےمقابلے میں اسلام کا عادلانہ معاشی نظام عدل اجتماعی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کا ایک مستند تاریخی ریکارڈ رکھتا ہے۔ تمام معاشی نظاموں کا حقیقی ہدف انسانیت کو غربت سے نجات دلا کر ایک خوشحال زندگی کے وسائل وذرائع فراہم کرتا ہے مگر مادی سطح کے معاشی نظاموں میں کوئی بھی آج تک اس ہدف کے حتمی اور یقینی نتائج وثمرات حاصل نہیں کرسکا۔ مغرب کےان نظاموں میں فلاحی مملکت یامعاشرے کا تصور بھی حقیقی فلاح سے بہت بعید اور مواخات کی روح سے خالی دکھائی دیتا ہے۔اسلام کے معاشی نظام میں استحصال کی ہر شکل کو ممنوع اور مکروہ قرار دیا گیا ہے۔اسلام نےسود اور اس کی اساس پیدا ہونے والے فساد کوجڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے ۔ اور معاشی نظام میں شرکت ومضاربت وتجاتی زندگی کے توازن کو عادلانہ سطح برقرار رکھا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام میں غریبی کا علاج‘‘ عالم اسلام کے نامور سکالر ڈاکٹر یوسف القرضاوی ﷫ کی ایک عربی تصنیف کا ترجمہ ہے ۔ڈاکٹر قرضاوی نےاپنی اس وقیع علمی کتاب کو نو مستقل ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔اور اس مختصر کتاب میں اسلامی اقتصادیات کے اس مخصوص حصے سے بحث کی ہے جس کا تعلق غریبی اور اس کے علاج سے ہے ۔جس میں غریبی کے حقوق اور خاص طور پر ان وسائل پر روشنی ڈالی گئی ہےجن کےسہارے سماج کایہ پسماندہ طبقہ چین کا سانس لے سکے اور اسلامی دستور کے زیر سایہ اپنی خودی اور عزت کرسکے۔علامہ قرضاوی نے غربت وافلاس کےعلاج کو کتاب وسنت اور فقہائے مجتہدین کے مسلمہ اصولوں سے گہرا تقابل کرلینے کے بعد اس کتاب میں درج کیا ہے۔کتاب کے مطالعے سے قارئین کو خود اندازہ ہوگا کہ اسلام شروع سے غربت اور اس کے علاج، غریبوں کے حقوق کی حمایت اور ان کی مادی اور بنیادی ضرورتوں میں تعاون کا قائل رہا ہے ۔اوریہ ایسا امتیاز ہے جس سے ان مذاہب اور ازموں کادامن سدا خالی رہا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

داؤد راز دہلوی

مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔ کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تحریک جماعت اسلامی اور مسلک اہل حدیث " مسلک اہل حدیث کے معروف عالم دین، مفسر قرآن، شارح صحیح بخاری علامہ محمد داود راز دہلوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے جماعت اہل حدیث اور تحریک جماعت اسلامی میں موجود بنیادی فرق کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

محمد تقی امینی

معاشرے کی حالت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی،بلکہ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، یہ تبدیلی کبھی معمولی ہوتی ہے جو حالات کے اتار چڑھاو سے رونما ہوتی ہے اور کبھی ہمہ گیر ہوتی ہے  جو ایک دور کے بعد دوسرے دور کے آنے سے ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔پہلی صورت میں زیادہ کدوکاوش کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ چند احکام ومسائل کے موقع ومحل میں تبدیلی سے کام چل جاتا ہے۔لیکن دوسری صورت میں چند مسائل پر بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے قانونی نظام کو نئے انداز میں ڈھالنے اور نئے قوانین وضع کرنے کی ضرورت  ہوتی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس نے عبادت،سیاست ،عدالت اور تجارت سمیت زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اور یہ ایک عالمگیر مذہب ہے جو تاقیامت پیش آنے والے مسائل کا حل اپنے پاس رکھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" احکام شرعیہ میں حالات وزمانہ کی رعایت " مسلک دیو بند سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین مولانا محمد تقی امینی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے تاریخ اسلام کی روشنی میں اسلام کی اسی عالمگیریت کو بیان کیا ہے۔(راسخ)

مختلف اہل علم

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل رہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔اس وقت بینکوں کی جانب سے متعدد انواع کے کارڈ جاری کئے جاتے ہیں ، جن میں سے اکثر سودی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام "اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی جانب سے شائع کی گئی ہے جس میں اکیڈمی کے پندرہویں سیمینار منعقدہ 11-13 مارچ 2006ء میسور میں اے ٹی ایم کارڈ ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ سے متعلق پیش کئے گئے تحقیقی مقالات ومناقشات اور فیصلوں کا مجموعہ  پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

قاری محمد اسمٰعیل صادق خورجوی

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔ اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے،اور قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔ انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم قاری محمد اسماعیل صادق خورجوی خادم مدرسہ تعلیم القراءات خورجہ صاحب﷾نے بچوں کے لئے تجویدی قاعدہ مرتب کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس قاعدے میں حروف مفردہ،حروف مستعلیہ ،متشابہ الصوت حروف،حروف قلقلہ ،حروف مدہ اور حرکات وغیرہ کی ادائیگی انتہائی آسان اور سہل انداز میں سوال وجواب کی شکل میں کروائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

ڈاکٹر محمد سعد صدیقی

نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ہر مسلمان پر فرض ہے کہ قرآن مجید اور حدیث نبوی کی تعلیم حاصل کرے۔پاکستانی تعلیمی اداروں میں حدیث  نبوی پر باقاعدہ کورسز کروائے جاتے ہیں اور ان کے نصاب کی مطبوعہ کتب موجود ہیں۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " مطالعہ حدیث، کوڈ نمبر 972"محترم ڈاکٹر محمد سعد صدیقی صاحب کی کاوش ہے، جس کی نظر ثانی محترم ڈاکٹر معین الدین ہاشمی صاحب نے فرمائی ہے ۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ حدیث وسیرت، کلیہ عربی علوم اسلامیہ نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔اس کورس میں بخاری شریف کے کتاب العلم اور سنن ابو داود شریف کے کتاب الآداب کی احادیث مبارکہ  کے ترجمے ،تشریح اور اس سے مستنبط مسائل کی تفصیلات پیش کی گئی  ہیں۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ہر مسلمان پر فرض ہے کہ قرآن مجید اور حدیث نبوی کی تعلیم حاصل کرے۔پاکستانی تعلیمی اداروں میں حدیث  نبوی پر باقاعدہ کورسز کروائے جاتے ہیں اور ان کے نصاب کی مطبوعہ کتب موجود ہیں۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " مطالعہ حدیث، ایم اے علوم اسلامیہ ، کوڈ نمبر 4622 "محترم ڈاکٹر علی اصغر چشتی صاحب اور محترم معین الدین ہاشمی صاحب  کی مشترکہ کاوش ہے ۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ حدیث وسیرت، کلیہ عربی علوم اسلامیہ نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔اس کورس میں بخاری شریف کے کتاب العلم اور سنن ابو داود شریف کے کتاب الآداب کی احادیث مبارکہ  کے ترجمے ،تشریح اور اس سے مستنبط مسائل کی تفصیلات پیش کی گئی  ہیں۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

ابو یحیٰ امام خان نوشہری

مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے ۔مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے ۔ پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا لیکن اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا اقرار کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔ضرورت اس امر کی   مسلمانوں کو اس تقلیدی گروہ بندی سے نجات دلائی جائےاور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے ۔مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک حقیقی دعوت پیش کرنےوالا مسلک ہے ۔ اہل حدیث کے لغوی معنی حدیث والے اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل ونہار،شب وروز،محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔گویا مسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہےجو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ،جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو- زیر تبصرہ کتاب ’’ اہل حدیث کے دس مسائل‘‘ مولانا ابو یحیٰ امام خاں نوشہروی ﷫ کی تصنیف ہے۔ مولانا نے اس کتاب میں اہل حدیث کے دس مسائل (نماز ،اذان ، جمعہ ، امام کی شرطیں، روزے ، وضو اور طہارت ، زکوٰۃ، حج ، نکاح اورجنازے کے مسائل) کو کتاب وسنت کی روشنی میں سوال وجواب اور ایک دلچسپ مکالمے کی صورت میں   بیان کیا ہے جس سے ایک تو مسئلہ سمجھنے میں آسانی اور قاری کوکتاب پڑہتے ہو ئے کوئی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی ۔اور وعظ نصحیت کا یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔ یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی سائٹ پر موجود تھی لیکن اس میں تخریج کا اہتمام نہیں ہے ۔یہ ایڈیشن تخریج شدہ ہے اس لیے اسے بھی سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مولانا کے درجات بلند فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

فواد محمد سزگین

بیسویں صدی مسلمانوں کے سیاسی و علمی عروج و زوال کی صدی رہی ہے۔ اس صدی کے پہلے نصف میں مسلمانانِ عالم جہاں علمی و تحقیقی اور سیاسی و معاشی زوال کی انتہا کو پہنچ رہے تھے، وہیں اس صدی کے نصف ثانی میں انہوں نے علمی و تحقیقی میدان میں عروج وارتقاء کی ایک دوسری داستان لکھی۔ چنانچہ جہاں بہت سارے مسلم ممالک نے استعمار کے چنگل سے نجات پائی، وہیں فکر و تحقیق کے میدان میں بہت سے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے علم و تحقیق، تصنیف وتالیف اور بحث و ریسرچ کی ان تابندہ روایات کو پھر سے زندہ کیاجو کبھی اسلاف کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھیں۔ ان بڑی اورعظیم محقق شخصیات میں محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ، ڈاکٹر محمد حمیداللہ(پیرس) ، پروفیسرفوادسیزگین وغیرہ جیسی شخصیات بھی ہیں جن کو علوم اسلامیہ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فواد سیزگین (Fuat Sezgin) چوبیس اکتوبر1924ء کو ترکی کے مقام بطلس میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے علاقہ میں پانے کے بعد استنبول آگئے، جہاں انہوں نے جامعہ استنبول میں داخلہ لیا اور 1947ء میں اس کی فیکلٹی آف آرٹس سے گریجویشن کیا، یہیں سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور عربی زبان و ادبیات میں 1954ء میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا، جس کے نگراں جامعہ استنبول میں اسلامی علوم اور عربی ادبیات کے ماہر ایک جرمن مستشرق پروفیسرہیلمٹ رٹر  تھے۔ پی ایچ ڈی کے بعد فواد سیزگین اسی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوگئے۔ ان سے قریبی زمانہ میں ایک مشہور جرمن مستشرق کارل بروکلمن نے عربی اور اسلامی ادبیات پر تاریخ آداب اللغۃ العربیہ کے نام سے ایک مبسوط کام کیا تھا۔لیکن اس کتاب میں کافی نقائص تھے ۔ فواد سیزگین  نے کارل بروکلمن کی  کتاب ’’ تاریخ ادبیات عربی‘‘ پر نظرثانی کی اور بروکلمان کی غلطیوں کی اصلاح کی اور بہت سے مفید اضافے کیے اور اس کے نقائص اُن پر اچھی طرح واضح کیا ۔ ان کی مشہور عالم کتاب ’’تاریخ التراث العربی‘‘ اسی طرح منصۂ شہود پر آئی۔ یہ کتاب انہوں نے جرمن میں لکھی اور اسی کی بنیاد پر ان کو فیصل ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔اس کتاب کی اہمیت وافادیت کےپیش نظر   جامعہ امام  محمد  بن سعود  نے ڈاکٹر محمود فہمی سے عربی زبان  میں اس کا ترجمہ کروایا اوراسے دس جلدوں میں شائع۔کتاب   ہذا ’’تاریخ  علوم اسلامیہ‘‘ اسی  کتاب کی جلد سوم کا  اردو ترجمہ   ہے یہ ترجمہ شیخ نذیر حسین  نے کیا ہےیہ حصہ علوم فقہ کے متعلق ہے۔(م۔ا)

پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ہر مسلمان پر فرض ہے کہ قرآن مجید اور حدیث نبوی کی تعلیم حاصل کرے۔پاکستانی تعلیمی اداروں میں سنت نبوی پر باقاعدہ کورسز کروائے جاتے ہیں اور ان کے نصاب کی مطبوعہ کتب موجود ہیں۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہ السنہ، ایم اے علوم اسلامیہ (تخصص فی الحدیث)" محترم ڈاکٹر علی اصغر چشتی صاحب، محترم ڈاکٹر ضیاء الحق صاحب اور محترم معین الدین ہاشمی صاحب  کی مشترکہ کاوش ہے ۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ حدیث وسیرت، شعبہ اسلامک لاء (فقہ) نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔اس کورس میں احادیث نبویہ کی روشنی میں طہارت، نماز، روزہ، حج ، زکوۃ تجارت، وصیت، وراثت، نکاح، طلاق، جہاد، حدود وتعزیرات نذر وغیرہ کے مسائل کی تفصیلات پیش کی گئی  ہیں۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے۔ مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے۔ پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا لیکن اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا اقرار کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی   مسلمانوں کو اس تقلیدی گروہ بندی سے نجات دلائی جائے اور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے۔ مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک حقیقی دعوت پیش کرنے والا مسلک ہے۔ اہل حدیث کے لغوی معنی حدیث والے اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل و نہار، شب و روز، محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔ گویامسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت، جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہل حدیث کےامتیاز ی مسائل‘‘ محدث العصر شیخ الحدیث و التفسیر حضرت العلام حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک حنفی مولوی اشرف علی تھانوی کے تحریر کردہ رسالہ ’’ الاقتصاد فی التقلید والاجتہاد‘‘ میں ذکر کردہ پندرہ مسائل پر دلائل صحیحہ کی روشنی میں بحث کی ہے۔ یہ رسالہ مسلک اہل حدیث کی پوری دستاویز ہے جس کے اندر دو باتیں ہیں ایک تو مذہب اہل حدیث کے مسائل دوسرا مخالفین کے جوابات۔یہ رسالہ پہلی مرتبہ 1925ء میں طبع ہوا تھا۔ موجودہ ایڈیشن 1972ء کاطبع شدہ اس میں محدث روپڑی کا مختصر تعارف بھی شامل اشاعت ہے۔ (م۔ا)

ڈاکٹر جمال الدین عطیہ

اسلام ساری انسانیت کے لیے آیاہے، ہرزمانے کے لیے ہے، اور ہر خطے میں اس کی تعلیمات کے مطابق ایک پرسکون معاشرے کی تشکیل عمل میں آسکتی ہے ۔اسلام انسان کی  بنیادی ضرورتوں کا رکھوالا ہے ۔ بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ اسلام انسانیت کی نجات کا ضامن ہے ، اسلام دین کی حفاظت کرتا ہے، جان کی حفاظت کرتا ہے،عقل کی حفاظت کرتا ہے،عزت کی حفاظت کرتا ہے،اور مال کی حفاظت کرتا ہے ۔ اصولِ فقہ کے ذیلی مباحث میں ایک عنوان " مقاصد شریعت "  بھی آتا ہے۔اس موضوع پر  متعدد قدیم وجدید علماء نے کتب لکھی ہیں۔ جن  میں مقاصد شریعت پر گفتگو کی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مقاصد شریعت، عصری تناظر میں "ڈاکٹر جمال الدین عطیہ صاحب کی  تصنیف ہے ، جسے ایفا پبلیکیشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے  مقاصد شریعت سے متعلقہ مسائل،مقاصد کا جدید تصور اور  مقاصد کی حیویت اور فعالیت،  وغیرہ جیسی مباحث بیان فرمائی ہیں۔اپنے موضوع پر یہ ایک تحقیقی اور علمی تصنیف ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

قاضی مجاہد الاسلام قاسمی

جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مباحث فقہیہ، اصول فقہ اور فقہ کے چند اہم مسائل پر اہم معاصر تحقیقی بحثیں " محترم قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب  کی تصنیف ہے، جسےایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ و ہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1227 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں