pages-from-namaz-key-masael-kitab-o-sunnat-ki-roshni-mein
محمد محمود الصواف

ہرقوم کا اپنا اپنا ایک امتیازی نشان ہوتا ہے اسی طرح مسلمانوں کا امتیازی نشان دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پروردگار کےسامنے باوضوء ہوکر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے مسلمانوں کےلیے یہ پانچ نمازیں اتنی ضروری ہیں کہ ان میں بھی ایک جان بوجھ کر چھوڑ دی جائے تو اس کےمتعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفر‘‘ نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیرتبصرہ کتا ب’’نماز کے مسائل کتاب وسنت کی روشنی میں ‘‘ شیخ محمد محمود الصواف کی عربی کتاب کاترجمہ ہے اس کتا ب میں انہوں نے بڑی تفصیل کےساتھ نماز کےہر پہلو پر بڑے اچھے اسلوب کےساتھ کتاب وسنت سے روشنی ڈالی ہے۔ وضوء سے لے کر نماز کے سلام پھیرنے تک اور اسکے بعد مسنونہ دعائیں ہر نماز کےاوقات اول اور اخیر وقت کو واضح طور پر بیان کرنےکے علاوہ نماز ِجمعہ، جماعت کی اہمیت ، صلاۃ عیدین ،نماز جنازہ، نمازاستخارہ اور نماز قصر کے مسائل بھی درج کردئیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اورمصنف ،مترجم وناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے ۔ آمین) م۔ا)

title-pages-maqalat-e-seerat--mard-hazrat--copy
شعبہ تحقیق و مراجع وزارت مذہبی امور پاکستان

تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں  کہ جب قرون اولیٰ کے مسلمانوں  نے اسلامی اصولوں  کو اپنا شعاربنا کر عملی میدان میں  قدم رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو زیر نگین کرلیا۔مسلمان دانشوروں ، سکالروں  اور سائنسدانوں  نے علم و حکمت کے خزانوں  کو صرف اپنی قوم تک محدود نہیں  رکھابلکہ دنیا کی پسماندہ قوموں  کو بھی استفادہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ چنانچہ اس وقت کی پسماندہ قوموں  نے جن میں  یورپ قابل ذکر ہے مسلمان سکالروں  سے سائنس اورفلسفہ کے علوم بدرس حاصل کئے۔یورپ کے سائنسدانوں  نے اسلامی دانش گاہوں  سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرلی اور یورپ کو نئے علوم سے روشناس کیا۔حیرت کی بات ہے کہ وہی مسلم ملت جس نے دنیا کو ترقی اور عروج کا سبق پڑھایا آج انحطاط کا شکار ہے۔ جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں  کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ یہ اتنا بڑا تاریخی سانحہ ہے جس کے مضمرات کاجاننا امت مسلمہ کے لئے نہایت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" امت مسلمہ کے موجودہ مسائل ،درپیش چیلنجز اور ان کا تدارک"وزارت مذہبی امور ،زکوۃ وعشر حکومت پاکستان کے شعبہ تحقیق ومراجع کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس 2007ء میں پیش کئے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔اس کانفرنس میں متعدد قومی وبین الاقوامی دانشوروں اور سکالرز نے شرکت اور امت مسلمہ کے موجودہ اور سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں ان کے تدارک پر اپنے اپنے مقالے پیش کئے۔جنہیں  ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے۔اس کتاب کو لکھنے کا ان کا مقصد غفلت کی نیند سوئی ہوئی  امت مسلمہ کو جگانا اور بیدار کرنا ہے ،اور اسے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے۔اللہ تعالی مولف کے اس جذبے کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کی اصلاح فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-jamia-tirmazi-mutarjam--tehqiq-w-takhreej-shuda-audition--2-copy
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں حدیث کی ترقیم علامہ فواد عبد الباقی اورعلامہ ناصر الدین البانی﷫ کا حکم صحت وضعف حدیث بھی اس میں شامل ہے ۔نیز جامع ترمذی کے تحقیق وتخریج شدہ اس جدید ایڈیشن کی تسہیل وتہذیب محترم جناب حافظ محمد انور زاہد نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اگر چہ ویب سائٹ پر جامع ترمذہ کا ترجمہ موجود ہے لیکن یہ ایڈیشن چونکہ تحقیق وتخریج شدہ ہے اس لیے اسے بھی اسے ویب سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)( م۔ا)

 

pages-from-namaz-aur-roza-ki-fazeelat
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

نماز اور روزہ اسلام کےبنیادی ارکان میں سےہیں ۔ نماز کی اہمیت کے لیے یہ ہی کافی ہےکہ اس کی فرضیت کےلیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷤ کواپنےپاس بلاکر امت کےلیے فریضۂ نماز بطورِ ہدیہ عطافرمایا۔ پھر قیامت کےدن حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کے متعلق سوال ہوگا۔ اسی طرح روزہ دار کےاستقبال کےلیے بہشت بریں کا ایک الگ دروازہ بنایا گیا ہے جس کانام ’’ ریّان‘‘ ہے اور روزے کی جزاء اللہ تعالیٰ خود عطاکریں گے اور کسبِ تقویٰ کے لیے اسی روزہ کو بنیاد قرار دیاگیا ہے۔ لیکن اکثر مسلمان ان کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ نماز اورروزہ کی فضیلت‘‘ سعودی عرب کےمفتی اعظم   فضیلۃ الشیخ ابن باز﷫ کے نماز اور روزہ کی فضیلت کے متعلق الگ الگ دو عربی کتابچوں کا ترجمہ ہے۔مرکز الدراسات الاسلامیہ نے ان دونوں کتابچہ جات کاترجمہ کر وا کراردودان طبقہ کےلیےیکجا کرکےشائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو نماز اور روزہ کےاہتمام کی توفیق بخشے۔ آمین(م۔ ا)

title-pages-balon-ka-mamla-copy
ابن بشیر الحسینوی

اسلام ایک کامل واکمل دین ہے جس نے انسانوں کی ہرموڑپر رہنمائی کی ہے او رزندگی گزارنے کے تمام سلیقے سکھائے ہیں۔ چھوٹے  سے چھوٹے  مسئلے پر بھی تفصیلی بحث  کی ہے ان میں سے ایک اہم  مسئلہ  بالوں کا ہے۔اس موضوع پر مشاہیرِ اسلام نےاپنے  اپنے  انداز میں لکھا مگر وہ موتی کتب فقہ واحادیث  میں بکھرے ہوئے ہیں ۔ اس  مصروف اور ہیجان انگیز دور میں عام  آدمی کےلیے  ان سب کا چننا اور پھر انہیں ایک لڑی میں پرونا بہت مشکل ہے۔  زیر تبصرہ کتاب ’’بالوں کا معاملہ ‘‘ کے مصنف  جنا ب ابن بشیر حسینوی  ﷾ نے نہایت خوبصورتی اوراختصار کے ساتھ قرآنی آیات ، صحیح احادیث اور آثار صحابہ کے  حوالوں سے عام فہم اور دلنشیں انداز میں  بالوں کا معاملہ مختلف ابواب میں تقسیم کر کے  ان پر روشنی ڈالی ہے ۔ انہوں نے مسلمان مرد کےبالوں کےاحکام ، کنگھی کرنے کےآداب، کن صورتوں میں بال منڈوانا جائز ہے ؟کن حالتوں میں بال کٹوانا ممنوع ہے ؟ سفید بالوں کا  کیا حکم ہے ؟ وضومیں سر کا مسح، نومسلم کےبالوں کا  حکم ، بچے اور عورت کےبالوں کے احکام  ،ابرؤوں کے بالوں کےاحکام ،رخساروں کے بال،الغرض بالوں کے متعلقہ تقریبا 137 احکام پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا ہے ۔ جو کہ انتہائی  قابل قدر  وقابل تحسین ہے ۔ محترم ابن بشیر حسنیوی صاحب  نے ثانوی کی تعلیم جامعہ لاہور الاسلامیہ سے حاصل کی پھر جامعہ التربیۃ الاسلامیہ ، فیصل آباد میں داخلہ  لیااور سندفراغت  حاصل کی پھر تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے  میدان  میں مصروف ہوگے   اور ماشاء اللہ ان کے  کئی مضامین   جماعت کے علمی  رسائل کی زینت بن چکے ہیں۔اور اب مرکز امام احمد بن حنبل کےنام سےایک دینی ادارے  کے  مدیر ومنتظم او رساتھ ساتھ دعوت وتبلیغ کاکام بھی کررہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل میں اضافہ فرمائے  (آمین)  (م۔ا)

title-pages-jamia-tirmazi-mutarjam--tehqiq-w-takhreej-shuda-audition--1-copy
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

جامع ترمذی حدیث کی معروف کتب صحاح ستہ میں سے حدیث کی اہم کتاب ہےامام ترمذی نے اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنادیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہےاس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذیؒ ہرحدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یاضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے؛ پھرآپ آخر ابواب میں مذاہب فقہاء بھی بیان کرتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس درجہ اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔اور جامع ترمذی کی کئی شروح لکھی گئی ہیں جو علماء میں متداول ہیں۔علامہ بدیع الزماں ﷫ نے جامع ترمذی کا بھی اردوترجمہ کیا یہی ترجمہ رائج ہے بعض ناشرین نےاسی ترجمہ کوتسہیل وتہذیب کے ساتھ کے شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ’’جامع ترمذی مترجم اردو‘‘علامہ بدیع الزماں کے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے ۔علاوہ ازیں اس میں حدیث کی ترقیم علامہ فواد عبد الباقی اورعلامہ ناصر الدین البانی﷫ کا حکم صحت وضعف حدیث بھی اس میں شامل ہے ۔نیز جامع ترمذی کے تحقیق وتخریج شدہ اس جدید ایڈیشن کی تسہیل وتہذیب محترم جناب حافظ محمد انور زاہد نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اگر چہ ویب سائٹ پر جامع ترمذہ کا ترجمہ موجود ہے لیکن یہ ایڈیشن چونکہ تحقیق وتخریج شدہ ہے اس لیے اسے بھی اسے ویب سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)( م۔ا)

pages-from-masla-arsaal-ul-yadain-bad-ul-rakoo-rakoo-key-bad-hath-chorna
حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ اقرار شہادتین کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ ارسال الیدین بعد الرکوع (رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنا)" پاکستان کے معروف عالم دین اور مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب ﷾کے تایا جان محترم حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔ اس سے پہلےمحترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫کی کتاب "القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال" اور قاضی مولوی یوسف حسین خانپوری ﷫ کا رسالہ "اتمام الخشوع بوضع الیمین علی الشمال بعد الرکوع" منظر عام پر آچکے تھے، جن سے لوگوں کے اندر رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے یا چھوڑنے کے حوالے سے ایک بحث پیدا ہوچکی تھی۔چنانچہ مولف موصوف ﷫نے اس بحث میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے دلائل کے ساتھ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کا موقف اختیار کیا۔ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کے حوالے سے حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب ﷫ کی ایک کتاب بھی پہلے اپلوڈ کی جا چکی ہے۔ چونکہ دونوں موقف ہی علمی اور اجتہادی محنت پر مشتمل ہیں،لہذا ہم نے دونوں طرح کے موقف پر مشتمل کتابیں ہیں اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ اہل علم دونوں کا مطالعہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اللہ تعالی دونوں مولفین کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-ustad-e-punjab-copy
عبد المجید سوہدروی

علماء علوم نبوت کے وارثوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ہماری اسلامی درسگاہیں انہی علوم ِنبوت کی درس وتدریس ،تعلیم وتعلم اوراس حوالے سے تزکیۂ نفوس کےادارے ہیں۔برصغیر میں اسلامی درسگاہوں کی ایک مستقل اورمسلسل روایت رہی ہے۔ اٹھارویں صدی میں شاہ ولی اللہ کےخاندان نے اس روایت کا سب سےروشن مرکز تشکیل دیا۔ اس خاندان کےایک چشم وچراغ شاہ محمداسحاق دہلوی سے سید نذیر حسین محدث دہلوی نے تیرہ سال تک تعلیم حاصل کی ۔شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی نے کامل 63 سال تک درس وتدریس کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ برصغیر میں علم حدیث کی تدریس کا سب سے مضبوط مرکز اورقلعہ انہیں کی قائم کردہ درسگاہ تھی ۔جس میں شبہ قارہ کے ہر حصے سےطلبہ استفادے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ایسے ہی تلامذہ میں ایک تلمیذ الرشید حافظ عبد المنان وزیرآبادی ہیں۔بیسویں صدی میں علوم حدیث کی روایت کومستحکم کرنے میں حافظ عبد المنان وزیر آبادی نےپنجاب میں سب سے زیاد فیض رسانی کےاسباب پیدا کیے ۔ حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادی اپنےعہد میں پنجاب میں حدیث کے سب سےممتاز استاد تھےجن کےتلامذہ پنجاب کےہر حصے میں بالعموم اوراس علمی اور سلفی روایت کے چراغ روشن کرتے رہے۔مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی ﷫ کو اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ظاہری آنکھوں سے محروم کردیا تھا مگر ان کی دل کی آنکھیں روشن فرمادی تھیں۔ آپ کا شمار ممتاز محدثین میں ہوتا ہے شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محددہلوی ﷫ نےاپنے اس شاگرد کو جوعمامہ عطا فرمایا تھا اس عظیم شاگرد نے اس عمامے کاحق ادا فرمادیا۔پوری زندگی درس حدیث دیا ۔ مسند حدیث پر فائز ہونے کے بعد آپ نے اپنی زندگی میں 100 مرتبہ درس بخاری دیا۔ ایسی مثالیں اسلامی تاریخ میں نظر نہیں آتیں۔ پیش نظر کتاب ’’استاد پنجاب‘‘ مولانا عبدالمجید سوہدروی کی تصنیف ہے یہ کتاب حافظ عبدالمنان وزیر آبادی کی وفات کےچھ سال بعد 1922 میں شائع ہوئی ۔کتاب ہذا اسی طبع کا جدید ایڈیشن ہے۔اس کتاب میں مصنف نے استاد پنجاب کے ابتدائی حالات، حصول تعلیم کےلیے روانگی،استاد پنجاب کا حدیث سے والہانہ شوق،پنجاب اور وزیرآباد کےحالات، مولانا کی اولاد ،اساتذہ، معاصرین اور آپ کے چند تلامذہ کا تذکر ہ بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔مولانا وزیر آبادی کے حالات واقعات اور اور ان کے سوانح حیات پر مشمتل جامع اور مستند کتاب ہے۔مولانا محمد ادریس فاروقی کی تزئین وترتیب سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

title-pages-islam-main-halal-w-haram-copy
ڈاکٹر یوسف القرضاوی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اپنی  عبادت کے لیے پیدا فرمایا اورانبیاء ورسل ﷩ کےذریعے اپنےاحکامات ان تک  پہنچائے۔اللہ تعالیٰ نے اوامر ونواہی کی پابندی کرنا عین عبادت ہے ۔ منہیات  سے بچنا اور حرام سے اجتناب کرنا ایک حدیث کی رو سے عبادت ہی ہے۔ حرام کےاختیار کرنے  سے عبادات ضائع ہوجاتی ہیں اورایک شخص کو مومن ومتقی بننے کے لیے حرام کردہ چیزوں سےبچنا ضروری ہوتا ہےاور اسلام نےبہت سی اشیاء کوحرام قرار دیا ہے جن کی تفصیل قرآن وحدیث کے  صفحات پربکھری پڑی ہے۔اور بعض علما ء نےاس پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے علامہ یوسف قرضاوی  کی  زیرتبصرہ  کتاب بڑی  اہم ہے اس کتاب میں علامہ قرضاوی نےحلال وحرام  پر مفصل بحث کی ہے ۔لیکن انہوں نے چند مقامات پر ٹھوکر کھائی ہےجس پر علامہ البانی اور دیگر علماء نے  ان کاخوب محاکمہ کیاہے۔اورپاکستان کےنامور عالم دین مفتی مبشرربانی  ﷾نے بعض مقامات پر تعلیق لگادی ہے ۔ البتہ مجموعی لحاظ سے کتاب کافی مفید ہے۔محترم طاہر نقاش صاحب نے شیخ  البانی اور شیخ صالح بن فوزان کی تعلیقات  وتحقیقات کواردو قالب میں ڈھال کر اس کتاب(کا فٹ نوٹ میں) حصہ بنا دیاہے ۔کتاب میں مذکورہ احادیث وغیرہ کی مکمل تحقیق وتخریج شامل کردی ہے تاکہ آسانی سے مراجع ومصادر تک رسائی  حاصل ہوسکے ۔اللہ تعالیٰ،مصنف  ، مترجم ،تحقیق وتخریج اور اس  پرحواشی  وغیرہ کا کا م کرنے  والے احباب اور ناشرکی تمام مساعی جمیلہ کو قبو ل فرمائے ۔اورمسلمانوں کوحلال کھانے اور حرام سے اجتناب کرنےکی توفیق بخشے (آمین)( م۔ا)

pages-from-kitab-ul-risaalah-yani-asool-e-fiqha-wa-hadees
ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی

فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔ تمام مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ) کے اہل علم نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کر کے کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب صاحب مسلک امام محمد بن ادریس شافعی ﷫کی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی امجد علی صاحب رامپوری﷫ نے کیا ہے۔امام شافعی﷫ کی یہ کتاب اصول فقہ واصول حدیث کے فن پر سب سے پہلی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے حدیث اور فقہ کے اصول قرآن وحدیث کی روشنی میں مرتب فرمائے ہیں۔ یہ کتاب تمام اہل علم کے ہاں معروف اور دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(راسخ)

title-pages-tehqiq-e-fidak-copy
سید احمد شاہ بخاری

صحابہ کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن شیعہ حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدہ فاطمہ کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمان ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر تبصرہ کتاب " تحقیق فدک ،میراث نبوت اور باغ فدک کے موضوع پر تحقیقی دستاویز"محترم مولانا سید احمد شاہ بخاری  کی تصنیف ہے۔مولف موصوف ﷫نے  اس کتاب میں صحابہ کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

title-pages-allah-tala-ki-bakhshash-k-andaz-copy
علامہ ابن ابی الدنیا

قرآن مجید میں ہے کہ اللہ کریم محتاج بندے کو ایسی جگہ سے رزق عطاکرتے ہیں جہاں سے اس کاگمان بھی نہیں ہوتا۔ بالکل ایسے ہی اللہ کریم اپنے موحد مگر گناہ گار بندوں کوبخشنے کےسامان وذرائع ایسے مقامات سے پیدا کرتے ہیں کہ بندے کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہی نہیں ہوتا۔ بندہ گناہ کرتا ہے ،نافرمانیاں کرتا ہے مگر اللہ ارحم الراحمین اس سے اتنا پیارکرتا ہے کہ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر اس کو معاف کرتا رہتا ہے۔ اس کے گناہ معاف کر کے درجات بلند کرتا رہتا ہے ۔اس کودنیا میں بھی کامیابیاں عطا کرتا ہے اور آخرت میں اپنی رضا وخوشنودی کاسرٹیفکیٹ عطا کر کے جنتوں میں داخل کر دیتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اللہ تعالیٰ کی بخشش کے انداز ‘‘علامہ ابن ابی الدنیا کی عربی کتاب ’’المرض والکفارات‘‘ کا سلیس ورواں اردو ترجمہ ہے ۔مترجم کتاب جناب حافظ فیض اللہ ناصر ﷾(فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) نے ترجمہ کےعلاوہ اصل کتاب میں مزید اضافہ جات ، مقدمہ اور پھر مزید مفید وضاحتیں لکھ کر کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں۔موصوف اس کتاب کےعلاوہ کی کئی کتب کےمترجم ومصنف ہیں۔ اس کتاب میں اللہ تعالیٰٰکےایسے دلربا اندازوں اور طریقوں کا تفصیلی بیان ہےکہ جن کے ذریعہ اللہ کریم بندے کوبخش دیتا ہے۔ مثلاً اگر کسی بندہ کوکوئی تکلیف پہنچی آزمائش آگئی حتیٰ کہ کبھی بخار ہی ہوگیا تو اللہ کریم بخار سے پہنچنے والی اس کی تکلیف کا بہانہ بنا کر اس کو بخش دیتے ہیں۔ اس کتاب میں ایسے ہی اللہ کریم کی بخشش کےکتنے ہی دلربا انداز پیش کیے گئے کہ آپ انہیں پڑھ عش عش کر اٹھیں گے ۔یہ کتاب ہر مریض ، میڈیکل سٹوڈنٹ یا ڈاکٹڑ وحکیم اور طبیب کےلیے ایک خاص تحفہ ہے جبکہ عام لوگوں بیمار وپریشان اور مصیبتوں میں پھنسے افراد کےلیے مشعل راہ اور دنیاوی واُخروی کامیابی کی نوید بہار ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوراس کتاب کوعوام الناس کےلیے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)

title
مخدوم علی اصغر چشتی

کسی بھی عمل کی قبولیت کے لئے اس میں دو شرطوں کا پایا جانا از حد ضروری ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ عمل خالصتا اللہ کی رضا کے لئے کیا جائےاور اس میں ریا کاری ،شہرت اور دیگر مفادات موجود نہ ہوں،دوسری شرط یہ ہے کہ وہ عمل نبی کریم ﷺ کی سنت اور طریقے کے مطابق ہو۔اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ وہ شرک کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گا،جبکہ اس کے علاوہ دیگر تمام گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔عصر حاضر میں امت مسلمہ کی ایک بہت بڑی تعداد شرک جیسے گناہ میں مبتلاء ہے اور درباروں ومزاروں کو شرک کا اڈا بنائے ہوئے ہے۔ اور بعض ایسے بزرگوں کے بھی مزار بنائے جا چکے ہیں جوخود توحید کی دعوت دیتے تھے اور لوگوں کو شرک سے منع کیا کرتے تھے،انہوں نے اپنے مریدوں کو کبھی بھی یہ نہیں کہا تھا کہ ان کی قبروں کو سجدہ گا بنا لیا جائے اور ان کی قبروں پر قبے اور عمارتیں تعمیر کر کے انہیں شرک کے اڈے بنا دیا جائے۔ ایسے بزرگوں میں سے ایک بزرگ بابا فرید الدین مسعود المعروف گنج شکر﷫ کی ہستی ہے۔ جنہوں نے ہمیشہ لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے بچنے کی تلقین کی۔ لیکن افسوس کہ ان کے ماننے والوں نے ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر قبہ بنا دیا اور اسے شرک کے اڈے میں تبدیل کر دیا۔اگر آج وہ زندہ ہو کر آ جائیں تو اس عمل کو کبھی بھی قبول نہ کریں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" عبادت آنسرور ﷺ "مخدوم علی اصغر چشتی پیر زادہ حضرت فرید الدین مسعود ﷫ کی بابا فرید الدین﷫ کی سوانح حیات پر لکھی فارسی تصنیف"جواہر فریدی" کے ایک باب کا اردو ترجمہ ہے۔ ترجمہ محترم عبد الجبار سلفی صاحب نے کیا ہے۔ اس کتاب میں چشتی صاحب نے بابا فرید الدین﷫ کی توحید پر مبنی کوششوں کو جمع کردیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھی توحید کے علمبردار اور قاطع شرک ہستی تھے۔ لہذا ان کے تمام پیروکاروں پر لازم ہے کہ وہ ان کی ان روشن تعلیمات کو اپناتے ہوئے توحید کا علم تھام لیں اور شرک وبدعات سے توبہ تائب ہو جائیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-masla-khatm-e-nabowat-aur-salaf-saliheen--ra--copy
محمد نافع

تمام مسلمانوں کا یہ متفق  علیہ عقیدہ ہے کہ   نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے سب سے آخری نبی رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔( مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ) محمدﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے)  ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا  ہےکہ آپﷺہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔ خود نبی کریم ﷺنے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنی ختمِ نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔(اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَ) اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔اس حدیث پاک سے ثابت ہوگیا کہ آپ ﷺکے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہو گا۔ آپ ﷺ نے نبوت کے ان جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشاندہی کر دی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔سیدنا ثوبان  سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:(أنّه سَيَکُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنّه نَبِیٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ. )میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اب اگر کوئی شخص نبی کریمﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے (خواہ کسی معنی میں ہو) وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ ختم نبوت اور سلف صالحین "بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہےجو محترم مولانا محمد نافع صاحب کی کاوش ہے۔ آپ نے اس کتاب میں سلف صالحین کے اقوال کی روشنی میں مسئلہ ختم نبوت کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

title-pages-200-ahadees-e-mubaraka-copy
محمد نعمان فاروقی

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ  عامۃ الناس  کےلیے  انتہائی دشوار  ہے ۔عامۃ الناس  کی ضرورت کے پیش  نظر کئی اہل علم  نے  مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں۔ زیر  تبصرہ کتاب ’’200 احادیث مبارکہ ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے  جوکہ  مسلم پبلی کیشنز  کے مدیر جناب  مولانا محمد نعمان فاروقی ﷾ کی  کاوش ہےجس میں انہوں نے غیر معروف  مگر صحیح یا حسن  200 احادیث مبارکہ جمع کی  ہیں۔موصوف نے احادیث کی تصحیح وتحسین میں زیاد ہ تر انحصار علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی تحقیق  اور مسند احمد کی تحقیقی کمیٹی پر بھی کیا ہے جس کا اشراف   الشیخ عبد القادر ارناوؤط نے کیاہے ۔مرتب نے کتاب کو دلچسپ بنانے کے لیے   اپیل کرنے  والی ہیڈنگز سےمزین کیا  ہے اور اسلوب کوآسان  سےآسان تر بنانے کی کوشش کی    ہے ۔ اللہ  تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوران احادیث کو عوام الناس کےلیے  فائدہ مند بنائے (آمین) ( م۔ا)

title
عبد الرحمن فاضل دبو بند

نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" صلوۃ النبیﷺ " پاکستان کے معروف عالم دین مولاناعبد الرحمن فاضل دیو بند صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نےنماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے بے نماز کے انجام اور عقاب کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔ آمین(راسخ)

title-pages-hadith-e-saqalaian-copy
محمد نافع

اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی  علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان  دونوں ماخذوں میں سے کسی  ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض قاصد  کا تھا۔(معاذ اللہ)فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" حدیث ثقلین "محترم مولانا محمد نافع صاحب کی تصنیف ہے۔آپ نے اس کتاب میں حدیث وسنت نبوی کی اہمیت وضرورت اور حجیت پر تفصیلی بحث کی ہے اور منکرین حدیث کے اعتراضات کا کافی وشافی جواب دیا ہے۔اللہ تعالی دفاع سنت نبوی کی ان کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-seerat-khadija-tul-kubra--ra--copy
محمد ادریس فاروقی

سیدہ خدیجہ مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ ﷺکی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ ﷺکو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو نبی ﷺ نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ نبی ﷺ صرف پچیس سال کے تھے۔ سیدہ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی ﷺ کی ساری کی ساری اولاد سیدہ خدیجہ سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جوکہ ماریہ قبطیہ سے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبیﷺکوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں۔سید ہ خدیجہ کی وفات کے بعد نبی ﷺ ان کو بہت یاد کرتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن حضور ﷺنے ان کے سامنے حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو کہا کہ یا رسول اللہ ﷺآپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا :’’ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے قبل عام الحزن کے سال ہوئی۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ سیرت خدیجہ الکبریٰ ‘ مسلم پبلی کیشنز کے مدیر مولانا حافظ نعمان فاروقی﷾ کے والد گرامی جناب حکیم محمدادریس فاروقی﷫ کی کاوش ہے انھوں نے اس کتاب میں سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی ولادت ،حسب ونسب،گھرانہ تربیت، جوانی ،شادی ،بیوگی،کاروبار ،رسول اکرم ﷺ سے نکاح آپ کی خدمت واطاعت، اخلاص وایثار سادگی حضورﷺ سے نکاح ،آپ کی خدمت واطاعت ،اخلاص و ایثار سادگی حضورﷺ کےاقربا ء سے حسن سلوک ، محصورین کی امداد،اسلام کی خدمت ، تبلیغی مساعی،زہد وعبادت ،فیاضی وکریمی ، اولاد کی تربیت حدیث کی خدمت اللہ اوراس کے رسول کی رضا جوئی، فضائل ومناقب اور بنات الرسول سیدہ زینب ، سیدہ رقیہ ،سید ام کلثوم،سید فاطمہ الزاہراء رضی اللہ عنھن کے مختصر حالات زندگی نہایت عمدگی اور جامعیت سے یکجا کر دئیے گئے ہیں ۔مصنف کا انداز تحریر سلیس اور دلکش ہے ۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ کی زندگی کے بہت سے گوشے بے نقاب کردیے گئے ہیں کہ جن کےمطالعہ سے قارئین کی دلچسپی نہ صرف برقرار رہتی ہے بلکہ اس میں دگرگوں اضافہ ہوتاہے ۔نیز اس کتاب میں ام المومنین خدیجۃالکبریٰؓ کی زندگی سے برآمد ہونے والے بہترین اسباق ہدیۂ قارئین کیے گئے ہیں جس کی بنا پر اس کا سبقاً سبقاً مطالعہ خواتین اسلام کے لیے بہت مفید اور نافع ثابت ہوسکتاہے۔الغرض یہ کتاب سید ہ خدیجہ الکبریٰ کی بابت معلومات کا خزانہ ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کوقبول فرمائے اور اسے خواتین اسلام کےلیے فائدہ مند بنائے (آمین) (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

We have 972 guests and no members online

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

گوگل میپ