pages-from-seerat-e-umar-farooq-ra
محمد رضا

اللہ تعالیٰ نے امت ِاسلامیہ میں چند ایسے افراد پیدا کیے جنہوں نے دانشمندی ، جرأت بہادری اور لازوال قربانیوں سے ایسی تاریخ رقم کی کہ تاقیامت ا ن کے کارنامے لکھے اور پڑھے جاتے رہے ہیں گے تاکہ افرادِ امت میں تازہ ولولہ اور جذبۂ قربانی زندہ رہے۔ آج مغرب سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ مسلمان ممالک کے لیے ایسی تعلیمی نصاب مرتب کیے جائیں جوان ہیروز اور آئیڈیل افراد کے تذکرہ سے خالی ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان پھر سےوہی سبق پڑھنے لگیں جس پر عمل پیرا ہو کر اسلامی رہنماؤں نے عالمِ کفر کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردیا تھا۔ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں غیر مسلموں (ہندوؤں،عیسائیوں ،یہودیوں) کے کارنامے تو بڑے فخر سے پڑھائے جارہے ہیں مگر دینی تعلیمات او رااسلامی ہیروز کے تذکرے کو نصاب سے نکال باہر کیا جارہا ہے ۔ سیدنا فاروق اعظم ﷜کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ کاوہ روشن باب ہے جس نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ آپ نے حکومت کے انتظام   وانصرام بے مثال عدل وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ انسانی رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم ﷜ کا ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ سادگی فروتنی اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر فاروق ﷜ کے اسلام لانے اور بعد کے حالات احوال اور ان کی   عدل انصاف پر مبنی حکمرانی سے اگاہی کے لیے مختلف اہل علم اور مؤرخین نے   کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،مولانا عبد المالک مجاہد(ڈائریکٹر دار السلام)   وغیرہ کی کتب قابل ذکر ہیں ۔ زیرنظر کتاب ’’ سیرت عمر فاروق ﷜‘‘ محترم محمد رضاکی تصنیف ہے جوکہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب ﷜ کی سیرت اورکارناموں پر مشتمل ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر فاروق﷜ہوتے ‘‘ آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی حدود بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ غیر مسلم دانشور یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر ایک عمر او رپیدا ہوجاتا تو دنیا میں کوئی کافر باقی نہ رہتا۔ اللہ تعالی مصنف ،مترجم ،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق اور عالم اسلام کے حکمرانوں کو سیدنا عمر فاروق ﷜کے نقشے قدم   پرچلنے   کی توفیق عطا فرمائے(آمین)(م۔ا)

مزيد مطالعہ...

title-pages-aasan-qurani-arbi-copy
محمد رفیق چودھری

قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کا کلام او راس کی آخری کتاب ہدایت ہے ۔اس عظیم الشان کتاب نے  تاریخ انسانی کا رخ  موڑ دیا ہے ۔ یہ واحد آسمانی  کتاب ہے جو قریبا ڈیڑھ ہزار سال سے اب تک اپنی اصل زبان میں  محفوظ  ہے ۔ اس پر ایمان لانامسلمان ہونے کی ایک ضروری شرط اوراس کا  انکار کفر کے مترادف ہے اس  کی  تلاوت باعث برکت وثواب ہے  ،اس کا فہم رشد وہدایت اوراس کے مطابق عمل  فلاح  وکامرانی کی  ضمانت  ہے ۔کتاب اللہ  کی اسی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے ہر مسلمان اسے زیادہ سے زیادہ  سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اگر چہ آج  الحمد للہ  اردو  میں  قرآن مجید کے بہت سے تراجم وتفاسیر ہیں،تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کو قرآن کی زبان میں سمجھنے کا  جو مقام ومرتبہ ہےوہ  محض  ترجموں سے حاصل نہیں ہوسکتا ہے ۔عربی زبان اور قرآن مجید کی تعلیم وتفہیم کےلیے  مختلف نے اہل علم  نے  تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعے  کوششیں کی  ہیں ۔جن سے متفید ہوکر   قرآن مجیدمیں  موجود احکام الٰہی  کو سمجھا جاسکتا ہے ۔زیر  نظر کتاب ’’آسان قرآنی  عربی ‘‘ماہنامہ  محدث کے  معروف   کالم نگار  اور  کئی کتب کے مصنف  ومترجم محترم  مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی  تصنیف ہے۔یہ  قرآن  مجید  کاترجمہ سکھلانے والے  جدید کتاب ہے ۔ جس کا  بنیادی مقصد براہِ  راست قرآن فہمی ہے  ۔جسے   مصنف  موصوف  نہائت عمدہ اسلوب  سے  مرتب کرتے ہو  قرآنی مثالوں سے مزین  کیا ہے۔ جو  لوگ قرآن حکیم کواس کی زبان میں سمجھنا چاہتے ہیں ۔ ان  شاء اللہ  وہ اس کے ذریعے  صرف دو ماہ کے مختصر عرصے میں اتنی استعداد بہم  پہنچا سکتے ہیں  کہ  قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھ  سکیں ۔ کتاب کے  مصنف  محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی  شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب سے  گہرا  شغف ہے  او ر طالبانِ علم  کو  مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے ۔ (آمین) (م۔ا)

 

مزيد مطالعہ...

title-pages-abdul-aziz-bin-abdul-rehman-aale-soud-copy
بحر اللہ ہزاروی

بانی مملکت  سعودی  شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د  1886ء میں پید اہوئے  ۔والدین  نے  ان کی  تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم  الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ  اور توحید کی تعلیم  الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے  حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر  بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے  تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے  شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ  ان کے والد کس طرح کویت میں  جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی  کا خواب دیکھتے رہتے  تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے  ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی  کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے  اپنے والد گرامی کےسائے میں  کویت میں  صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے  1902 میں  اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض  پر حملہ کر کے  ریاض  کو الرشید  کے  قبضہ  سے  آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز  ہوا اور پر  تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی  حکومت قائم کی ۔شاہ  عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے  آباؤ اجداد کے وقت میں  تھیں۔ان کی کوششوں سے  سعودی  عرب  صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے  اللہ تعالی نے   ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ  اسلام  کے لیے شاہ عبدالعزیز  کی خدمات   قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں  1953ءکو طائف میں  وفات پائی ۔زیر  نظر  کتاب  بحر اللہ ہزاروی  کی تصنیف ہے جس میں  انہوں نے   شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن  آل سعود کی  بچپن سے  جوانی اور  سعودی عرب میں  اسلامی حکومت قائم کرنے کے  تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز  میں  تحریر کیا ہے ۔ کتاب  کے مصنف  نے طویل عرصہ  سعودی عرب میں  پاکستان کےسفارتی  مشن  میں خدمات  انجام دیں  اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس  کے اثرات‘‘ کےعنوان پر  پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ  اور آل سعود کے  حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ  ایک   منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی  حکام  سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور  اس پر قائم رہنے کی  توفیق دے  (آمین)(م۔ا)

 

مزيد مطالعہ...

pages-from-seerat-abu-bakar-ra
محمد رضا

سیدنا ابوبکر صدیق﷜ قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق﷜ ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمن ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر ﷜ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔زیر نظر کتاب بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹی جامعہ ازہر کی لائبریری کے انچارج   علامہ محمد رضا مصر ی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے   سیدنا ابو بکر   صدیق ﷜ کی حیات مبارکہ کے تعارف،آپ کی خلافت کی تشریح آپ کی حکمت عملیوں کو واضح کوبڑے احسن انداز میں واضح کر دیا ہے کتاب ہذا کے مصنف موصوف نے اس کتاب کے علاوہ سیدنا عمر فاروق ،سیدنا عثمان غنی ، سیدنا علی المرتضیٰ ،اور سیدنا حسن وحسین ﷢ کی سوانح حیات بھی   کتب تصنیف کی ہیں ۔ تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین) (م۔ا)

مزيد مطالعہ...

title-pages-usoole-hadith--dr-hameed-ullah--copy
ڈاکٹر حمید اللہ عبد القادر

علم  اصولِ حدیث ایک ضروری علم  ہے ۔جس کے بغیر حدیث  کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات  استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے  تاکہ  وہ اس  علم   میں کما حقہ درک حاصل   کر سکے ، ورنہ  اس کے فہم  وتفہیم  میں  بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر   ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں جو اس راہ کے سالکان کے لیے  مشعل راہ ہیں۔ حافظ ابن  حجر ﷫ کی کتاب شرح نخبۃ الفکر  عمدہ ترتیب اور اچھے اسلوب کی وجہ سے   یہ بہت  مقبول  کتاب ہے۔یہ اپنی افادیت کے پیش نظر  اکثرمدارس دینیہ  اورایم اے  علوم اسلامیہ کے نصاب میں شامل ہے ۔ شرح  نخبۃ الفکر  چو نکہ عربی زبان میں  ہے  اس  لیے  اسے آسان او رقابل فہم انداز میں اصول حدیث کی اصطلاحات کو بیان  کرنےکی  ضرورت ہے ۔زیر نظر کتاب ’’ اصول حدیث ‘‘ ڈاکٹر  حمید  اللہ عبد القادر ﷾(سابق استاذ الحدیث والفقہ ادارہ علوم اسلامیہ  ،پنجاب یونیورسٹی ،لاہور   کی تصنیف ہے ۔اس انہوں  شرح نخبۃ الفکر  کے  مباحث  کو سادہ  اور عام  انداز میں پیش کیا ہے ۔محترم ڈاکٹر  صاحب نے اصطلاحات کی تعریف عربی اور اردو زبان دونوں میں کی  ہے  اورہر اصطلاح کے ساتھ مثالیں بھی دی ہیں۔اللہ تعالی ان کی اس سعی کوقبول  فرمائے  اور طالبانِ حدیث کے لیے  اس کو مفید بنائے (آمین) (م۔ا )

 نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

title-pages-walidi-w-mashfiqi-copy
عطا ء الرحمن شیخو پوری

خطیبِ  پاکستا ن مولانا محمد حسین شیخوپوری﷫ 1918ء ميں اس دنيا ميں تشريف لايا اور تقريباً پینسٹھ سال تك مختلف گلستانوں ميں چہچہاتا رہا اور وما جعلنا لبشر من قبلك الخُلد كے ازلى قانون كے تحت 6؍اگست 2005ء ميں ہميشہ كے لئے خاموش ہوگيا۔ آپ كو اللہ تبارك و تعالىٰ نے لحنِ داوٴدى عطا فرمايا تها اور جب آپ اپنى رسیلى اور سُريلى آواز سے قرآن كى آيات اور حضرت رسالت مآب كى مدح ميں اشعار پڑهتے تو لاكهوں سامعين وجد ميں آكر جهومنے لگتے۔ آپ نے كراچى تا خيبر چاروں صوبوں ميں لاتعداد جلسوں سے خطاب كيا، آپ كى زبان ميں الله تبارك و تعالىٰ نے بلا كى تاثير ركهى تهى۔جس جلسہ ميں آپ كا خطاب ہوتا اسے سننے كے لئے ديہاتوں كے گنوار اور شہروں كے متمدن لوگ يكساں طور پر كشاں كشاں چلے آتے۔ عموماً آپ كا وعظ رات ڈيڑھ دو بجے شروع ہوتا اور اذانِ فجر تك جارى رہتا۔ سامعين آپ كے وعظ كو يوں خاموش ہوكر سنتے جيسے ان كے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور اُنہيں يوں معلوم ہوتا تها كہ وحى الٰہى اب ہى نازل ہورہى ہے۔ بڑے سے بڑے مذہبى مخالف اپنے نرم و گرم بستروں كو چهوڑ كر آپ كى مجلسِ وعظ ميں آبیٹھتے تهے۔آپ نے زندگى بهر امر بالمعروف ونهى عن المنكر كا فريضہ احسن انداز ميں انجام ديا۔ آپ كا پُر اثر وعظ سن كر كتنے سود خوروں نے سود خورى سے اور رشوت خوروں نے رشوت خورى سے توبہ كرلى بلكہ آپ كے ايك وعظ ميں سولہ كے قريب پوليس افسروں نے پوليس ملازمت ہى چهوڑ دى اور مسلک حنفی کے کئی نامور علماء نے   آپ کے خطابات سے متاثر ہوکر مسلک اہل حدیث  اختیار کیا۔۔ مولانا مرحوم اللہ تعالىٰ كى توفيق وعنايت سے سارى زندگى اتحاد بين المسلمین كے داعى رہے اور مكّے كى مثال دے كر سمجھاتے رہے كہ مسلمانوں ايك مُكے كى طرح متحد ہوجاؤ، ديكهو اكيلى انگشت ِشہادت، وسطىٰ، بنصر، خنصر اور انگوٹها كچھ نہيں كرسكتے ليكن جب يہ متحد ہوجاتے ہيں تو مُكا بن كر بہت كچھ كرسكتے ہيں۔ لہٰذا اے مسلمانوں تم مُكے كى طرح متحد ہوجاوٴ اور بنيانِ مرصوص بن كر دشمن كا مقابلہ كرو اور باہم ايك دوسرے كو قتل كركے يہود و ہنود كا راستہ صاف نہ كرو۔ آپ نہ صرف يہ كہ اسلاميانِ پاكستان كے خطيب تهے بلكہ آپ اسلاميانِ برطانيہ، امريكہ، كويت اور سعودى عرب كے مقبول عام خطيب بهى تهے۔آپ اكثر و بيشتر توحيد ور سالت كى عظمت بيان كرتے اور آياتِ قرآنيہ اتنى سريلى آواز سے پڑهتے كہ سننے والے وجد ميں آجاتے اور جب شانِ مصطفى بيان فرماتے تو آپ كے سر مبارك سے لے كر پاوٴں مبارك تك كے اوصاف پر مبنى اشعار پڑھ كر اس انداز سے بيان كرتے كہ سامعين فرطِ عقيدت سے جهومنے لگتے۔اس دو ر ميں واعظ تو بے شمار ہيں، جن ميں شيريں بيانى اور اثر آفرينى بهى اپنى اپنى جگہ بہت ہے، ليكن مولانا شیخوپورى جيسا خلوص ركهنے والے اور شب ِزندہ دار مبلغ خال خال ہيں۔ مولانا كے ساتھ سفر وحضر كے ساتهى بيان كرتے ہيں كہ رات 2 بجے بهى طويل خطاب سے فارغ ہونے كے بعد آپ چند لمحے آرام كے بعد دوبارہ تين بجے نمازِ تہجد كے لئے جائے نماز پر آكهڑے ہوتے۔آپ نے سارى زندگى توحيد وسنت كى دعوت وتبليغ ميں صرف كردى اور اس كے لئے پاكستان كا قريہ قريہ  چهان مارا۔آپ نے اپنى تعليم كا آغاز حافظ عبد اللہ محدث روپڑى﷫ كى زير نگرانى كمیرپور ميں قائم درسگاہ سے كيا، جہاں ان كے برادرِ خورد حافظ عبدالرحمن روپڑى﷫ سے آپ نے پہلا سبق ليا اور صرف ونحو كى كتب بهى اُنہيں سے پڑھیں۔ اس دور كے عظيم خطیب مولانا حافظ محمداسمٰعيل روپڑى ﷫نے آپ كو خطابت كے رموز واسرار سكهائے اور اس فن ميں طاق كيا۔اس لیے آپ کے روپڑی خاندان سے گہرے مراسم تھےمولانا شيخوپورى  بیان  کرتے ہیں۔دعوتى ميدان ميں اللہ تعالىٰ نے مجهے د و بہترين ساتهى عطا كرديے تهے: حافظ عبد القادر روپڑى اور حافظ محمد اسمٰعيل روپڑى۔ دونوں بهائى مجهے اپنا تيسرا بهائى قرار دے كر اكثر جلسوں ميں ساتھ ركهتے، پہلے ميرى تقريركراتے۔ ميں اكثر سنتا كہ ميں تقرير كررہا ہوتا اور حافظ محمد اسمٰعيل ميرے پیچھے بیٹھے ميرے لئے دعا كررہے ہوتے: اللهم أيده بروح القدسان كى پرخلوص دعاؤں كا نتيجہ ہے كہ اللہ تعالىٰ نے بہت تيزى سے مجهے سٹيج پر آنے كى توفيق بخشى۔آپ كى ذات اپنے  دو رميں ايك مخلص داعى اسلام كا ايك جيتا جاگتا نمونہ تهى۔عمر مبارك كى چلتے پهرتے ستاسى بہاريں گزارنے كے بعد آپ كو مختصر سا بخار ہوا اور  6؍اگست 2005ء آپ كى وفات كى خبر جنگل كى آگ كى طرح ملك اوربيرونِ ملك ميں پھیلى، دور دور سے آپ كے عقیدت مند اور روحانى فرزند ہزاروں كى تعداد ميں آپ كى نمازِ جنازہ ميں شريك ہوئے- پہلى نمازِ جنازہ حضرت مولانا معين الدين لكھوى نے نہايت رقت سے پڑهائى كہ لوگوں كى آہيں نكل گئيں اور وہ سسكياں بهركر رو رہے تهے ۔ دوسرى مرتبہ كمپنى باغ شيخوپورہ ميں آپ كى نمازِ جنازہ حافظ محمد یحیىٰ ميرمحمدى نے پڑهائى۔ آپ کی  وفات کے روز  مسلسل بارش کے باوجود  آپ  کے عقیدت مند نصف پنڈليوں تك پانى ميں صفیں باندھ كر نمازِ جنازہ ميں دعائيں مانگتے رہے۔اللہ تعالی ان کے درجات  بلند فرمائے  اور  ان ک  مرقد  پر  اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے اور آپ كو اپنے جوارِ رحمت ميں جگہ نصيب فرمائے ۔اور ان کی دینی ودعوتی خدمات کو  قبول فرمائے آمین) ۔ زیر نظر  ’’کتاب والدی  ومشفقی‘‘  مولانا   عطاء الرحمن ﷫  کی  اپنے والدگرامی  شیخ  القرآن  مولانا  مولانا محمد حسین   ﷫ کی  سوانحی حیات پر مشتمل کاوش ہے  ۔جس میں انہوں نے مختلف علماء کے  اپنے  والد گرامی کے متعلق تاثرات   کے بعد  مولانا کی ابتدائی تعلیم  اور دعوت وتبلیع کے سلسلے  میں پیش آنے والے  اہم   حالات وواقعات  اوران کی اہم تقریریں،تفسیر ی نکات اور آخر میں   مولانا کے اردو  او رپنجابی اشعار کو تحریر کیا ہے   ۔ یہ کتاب مولانا شیخوپوری کی  وفات سے  چار سال قبل شائع ہوئی تھی۔لہذا ان کی زندگی کے آخری  سال اور لمحات ،وفات اور نماز جنازہ کے  متعلق معلومات کےلیے   مختلف رسائل وجرائد میں بکھرے ہوئے مضامین کوایڈٹ کرکے اس کتاب میں شامل  کرنے کی ضرورت ہے  (م۔ا)

نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

pages-from-masnoon-rakaat-e-traveeh-dalael-ki-roshni-mein
ابوالفوزان کفایت اللہ سنابلی

صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد آٹھ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’مسنون رکعات تراویح دلائل کی روشنی میں ‘‘انڈیا   جید عالم دین مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہو ں رکعات تراویح کے سلسلے میں وارد   احادیث کی مکمل تحقیق پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ تعداد رکعات تراویج بشمول وتر کل گیارہ رکعات ہیں اور صحابہ کرام ﷢کا عمل بھی اسی پر تھا نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢ کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں او ر حضرت عمر ﷜ نے   بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔(م۔ا)

مزيد مطالعہ...

title-pages-tehqiq-k-usool-w-zawabat-ahdees-e-nabwiya-ki-roshni-me-copy
کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر عمر فاروق غازی

علم  حدیث اسلامی علوم میں شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے ۔آیات کے شانِ نزول اوران کی تفسیر ،احکام القرآن کی تشریح وتبین ،اجمال کی تفصیل ،عموم کی تخصیص ،مبہم کی تبین سب علم  حدیث کے  ذریعہ  معلوم ہوتی  ہیں ۔اسی طرح حامل ِقرآن حضر ت  محمد ﷺ کی سیرت اور حیات ِطیبہ اخلاق وعادات مبارکہ آپﷺ کے اقوال واعمال علم حدیث کے  ذریعہ  ہم تک پہنچے  ہیں ۔علمائے اسلام  نے  علم حدیث کی حفاظت ،جمع وتدوین، اور تحقیق وتدقیق کے سلسلہ میں  قابل قدر کاوشیں سر انجام دی ہیں۔احادیث کی چھان بین کے لیے  انہوں  نے  جرج وتعدیل کے اصول  وضع کیے ہیں جن کی بدولت اسماء الرجال  کا مستقل فن معرض وجود میں  آیا اور کم وبیش چھ صدیوں تک جرح وتعدیل اور  فن اسماء الرجال بر  پر کتابیں لکھی جاتی  رہیں ۔ایک  جرمن مستشرق ڈاکٹر سپرنگر کے بقول  علم اسماء الرجال کی وساطت سے مسلمانوں نے  کم ازکم پانچ لاکھ راویوں کی حالات محفوظ کیے ہیں  جن کا مقصد صرف ایک ذاتِ مقدس کے حالات کو معلوم اور محفوظ کرنا تھا۔زیر نظر کتاب ’’‘‘ ڈاکٹر کرنل  (ر) عمر فاروق غازی  کی   کاوش ہے جس میں  انہوں نے  تحقیق کے اصول  وضواط  کو احادیث کی   روشنی میں بڑے جامع انداز سے  پیش  کرتے ہوئے  تحقیق کی ضرورت واہمیت ،تحقیق کامفہوم ،غرض غایت،اصول حدیث  میں   تحقیق  کے اصول وضوابط،علم حدیث میں تحقیق وغیرہ جیسے  اہم موضوعات کو  بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔اللہ تعالی ان  کی کاوش کو قبول فرمائے  (آمین)  (م۔ا)

 نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

title-pages-tuhfa-e-islahi-copy
ڈاکٹر مفتی عبد الواحد

مولانا امین احسن اصلاحی﷫ نے  اپنی تفسیر "تدبر قرآن " کے علاوہ اصول تفسیر میں" مبادی تدبر قرآن "اور اصول حدیث میں "مبادی تدبر حدیث" بھی لکھی ہیں۔جن میں انہوں نے اسلاف سے ہٹ کر چند منفرد اصول بیان کئے ہیں۔چنانچہ مولف کتاب ہذا  ڈاکٹر مفتی  عبد الواحد﷫نے   مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کی ان دونوں کتب کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ لیا اور اپنے اس جائزے کو اپنی کتاب "ڈاکٹر اسرار احمد﷫ کے افکار ونظریات تنقید  کی میزان میں"کے ساتھ ہی شائع کر دیا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر اسرار احمد﷫ نے  اپنے چار منبع فہم قرآن میں سے ایک مولانا حمید الدین فراہی﷫ اور مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کو شمار کیا تھا۔بعد میں وہ جائزہ کچھ اضافوں کے ساتھ مضمون کی شکل میں جامعہ مدنیہ کے رسالہ انوار مدینہ میں قسط وار شائع ہوا۔اب  کے بار مولف﷫ نے اس کی نظر ثانی کرتے ہوئے اسے دوبارہ کتابی شکل میں شائع کردیا ہے ،تاکہ مولانا امین احسن اصلاحی﷫ کے شاگردان رشید اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور اپنے افکار ونظریات پر نظر ثانی کریں۔مولانا امین احسن اصلاحی﷫ تو دنیا میں نہیں رہے ،لیکن ان کے شاگردوں کو تو اصلاح احوال کی گنجائش حاصل ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کتاب کو اصلاح احوال کا ذریعہ بنا دے ۔آمین(راسخ)

نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

pages-from-kitabat-o-tadveen-e-hadees-sahabah-kram-key-qalam-se
ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صدیقی

دورِجدید میں بعض تعلیم یافتہ حضرات کے ذہنوں میں یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی احادیثِ مبارکہ اپنے اولین دور میں ضبطِ تحریر میں نہیں لائیں گئیں بلکہ صرف زبانی نقل وروایت پر اکتفاء کیاگیا۔اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دروخلافت میں کم از کم ایک صدی گزرجانے کے بعد احادیث کے لکھے جانے اور ان کو مدون کئے جانے کے کام کا آغاز ہوا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے اورعلمی وتاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے نزدیک علم سے مراد علم ِنبوت تھا (یعنی قرآن وحدیث) انہوں اپنی تمام زندگیاں قرآن وحدیث کے علم کے حصول میں لگا دیں۔ حضرت ابو ھریرہ ﷜نےزندگی میں کوئی مشغلہ اختیارنہیں کیا سوائے احادیث رسول اللہ ﷺ کے حفظ کرنے اوران کی تعلیم دینے کے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر و العاص، حضرت انس ، حضرت علی ﷢ کے پاس احادیث کے تحریر ی مجموعے موجود تھے ۔ زیر نظر کتاب ’’کتابتِ وتدوین حدیث صحابہ کرام﷢ کے قلم سے ‘‘ مصر سے طبع شدہ ایک عربی کتاب ’’کتابۃ الحدیث بالاقلام الصحابۃ‘‘ کا ترجمہ ہے محترم ڈاکر ساجدالرحمن صدیقی صاحب نے اسے بعض جزوی تبدیلیوں اور چند اضافوں کے ساتھ اردو کےقالب میں ڈھالا ہے۔ جس   میں فاضل مصنف نے مستند حوالوں کے ساتھ اس حقیقت کو ثابت کیا ہے کہ صحابہ کرام﷢ نے احادیث کےمحموعے اور صحائف مدون اور مرتب کئے اور احادیث مبارکہ کو خود زمانۂ نبوت میں نبی کریم ﷺ کی اجازت اور آپ کے حکم سےضبط تحریر میں لاتے رہے۔ پہلی صدی ہجری میں کتابت وتدوین حدیث کا بہت عظیم الشان کام ہوا او رپھر اس کام کو حضرت عمر بن عبد العزیز نےباقاعدہ سرکاری سرپرستی میں آگے بڑھایا۔اللہ تعالی ٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

مزيد مطالعہ...

title-pages-tehqiq-k-bunyadi-awamal-w-arkan-quran-ki-nazar-me-copy
کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر عمر فاروق غازی

اسلامی تاریخ میں  تحقیق اس کی اہمیت اور اصول وضوابط کو سمجھنے کے لیے سب سےنمایاں مثال جمع وتدوین قرآن کی  ہے  ۔قرآ ن  کریم  کے متن کی تدوین ادبی دنیا کا  عظیم ترین شاہکار ہے ۔تحقیق کا مقصد اور اس کی غرض وغایت کیا ہواس کےبارے میں بھی  قرآن وحدیث میں واضح طور پر رہنمائی موجود  ہے۔زیر نظرکتاب’’تحقیق کے بنیادی عوامل وارکان قرآن کی نظر میں ‘‘ کرنل  (ر)عمر فاروق غازی کی  تحقیق کے حوالے سے  دوسری تصنیف ہے ۔جس میں  انہوں نے  مختلف مشہور  کتب تفسیر اور دیگر عربی کتب کے مطالعہ سے   قرآن کے حوالے سے  تحقیق کا مفہوم ،تحقیق کے اغراض ومقاصد ،تحقیق کےتقاضے تحقیق کے بنیادی عوامل وارکان اور تحقیق کے مختلف طریقوں  کو  دلائل سے مزین کر کے پیش کیا ہے ۔ یہ کتاب  شائقین تحقیق کے لیے  مفید اور موزوں ثابت ہوگی ۔(م۔ا)

 نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کری

مزيد مطالعہ...

title-pages-tarteel-al-quran-copy
حافظ محمد یحیی عزیز میر محمدی

نبی کریم ﷺکی  زبان عربی تھی اور قرآن حکیم اسی زبان میں نازل ہوا ۔ جنت میں بھی یہی زبان بولی جائے گی ۔اگر چہ نزولِ قرآن کا مقصد تو اس کو سمجھنا اوراس پر عمل کرنا ہے ۔ لیکن  ادب  اور محبت کےساتھ اس کی تلاوت بھی  عبادت ہے ۔تلاوت ِ قرآن مجید کے لیے  اس بات کو ملحوظ رکھنا  انتہائی ضروری ہے کہ عربی زبان میں ہر حرف کی  آواز جدگانہ ہوتی ہے ۔ اگر وہ صحیح ادا نہ ہو تو معنی بدل جاتا ہے ۔اس علم کی ضروری باتیں سیکھے بغیر قرآن کا تلفظ صحیح نہیں   ہوتا ۔اور قرآن  مجید کو غلط پڑھنا گناہ ہے اور تلاوت ِقرآن کا  بھر پور اجروثواب اس  امر پرموقوف ہے  کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم  کی تلاوت  کا صحیح  طریقہ جاننا او رسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے  ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ  وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی  حاصل کرے۔ تجوید وقراءات پر مختلف چھوٹی بڑی  کئی کتب موجود ہیں۔زیر نظرکتاب’’ ترتیل القرآن ‘‘  عالم باعمل  حافظ یحیٰ عزیز میر محمدی﷫ کی   علم تجوید پر پہلی آسان کتاب ہے ۔جس میں انہو ں  بڑے عام فہم انداز میں ضرروی اصطلاحات کو بیان کرنے کے بعد تجوید کے اصول   وضوابط کو مختصراً بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم  کو  جنت  الفردوس   میں  اعلیٰ مقام عطا فرمائے  اور ان کی  مرقد پر  اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے  اور ان کی دینی ،تبلیغی ودعوتی خدمات کو  قبول فرمائے (آمین) ( م۔ ا)

 نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

pages-from-alwajeez-fi-asool-e-fiqha
عبد الکریم زیدان

وہ علم جس میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے ، استدلال کے مراتب اور استدلال کی شرائط سےبحث کی جائے او راستنباط کے طریقوں کووضع کر کے معین قواعد کا استخراج کیا جائے کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے مجتہد تفصیلی دلائل سے احکام معلوم کرے ، اس علم کا نام اصول فقہ ہے ۔علامہ ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص:452) جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے اس زبان کے قواعد واصول کو سمجھنا ضروری ہے اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول فقہ میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ فقہاء و محدثین نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً امام شافعی نے الرسالہ کے نام سے   کتاب تحریرکی پھر اس کی روشنی میں دیگر اہل علم نے کتب مرتب کیں۔ زیر نظر کتاب ’’ الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ سید عبدالکریم زیدا ن کی اصول فقہ   کے موضوع پر جامع عربی کتاب کا ترجمہ ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو   چارابو اب(باب اول :حکم کی مباحث۔ باب دوم :احکام کے دلائل کی بحث میں۔باب ثالث:احکام کے استنباط کے طریقہ اور قواعد اور ان کے ساتھ ملحق قواعد ترجیح اور ناسخ ومنسوخ۔باب چہارم : اجتہاد ا راس کی شرائط ،مجتہد،تقلید اوراس کےتعریف۔) میں تقسیم کرکے   مثالوں کے ساتھ   تفصیلی مباحث پیش کی ہیں ۔یہ اپنی افادیت او رجامعیت کے پیش نظر   وفاق المدارس سلفیہ او راکثر مدارس دینیہ میں شامل نصاب ہے ۔(م۔ا)

مزيد مطالعہ...

titel-pages-islami-talemat
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی

اسلام دینِ حق ہےاس کے عقائد سچے او رخالص ہیں ،اس کی عبادات سادہ او رانسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس کےپیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں جن کی سیرت مطہرہ بنی نوع انسان کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ، آپ سب سے عظیم انسان ہیں جس کا اعتراف بعض انصاف پسند غیرمسلموں نے بھی ہے ۔انگریز مصنف مائکل ہارٹ نے تاریخ انسانی کے سو بڑے آدمیوں کی فہرست مرتب کی تو اس نے نبی کریم ﷺکے نام کو سرفہرست رکھا ۔سلسلہ انبیاء کےآخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں اور اسلام آخری او رحتمی دین ہے جو قیامت تک تمام لوگوں کے لیے جامع اورعالمگیر منبع ہدایت ہے اسی فکری وعملی دعوت کے لیے شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی ،لاہور گزشتہ نصف صدی سے نہایت اخلاص سےمصروف عمل ہے۔اس یونیورسٹی میں پروفیشنل تعلیم کے ساتھ ساتھ علوم اسلامیہ او رمطالعہ پاکستان ( سال اول اور سال دوم میں) بطور لازمی مضمون پڑھایا جاتا ہے ۔اس کے معاشرے پر مثبت اثرات نمایا ں نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ اس مضمون کامقصد یہی ہے کہ ایک اچھے انجنیئر کے ساتھ ساتھ اچھے باکردار مسلمان کا ہونا بھی لازمی اور ضروری ہے۔زیر نظر کتاب '' علوم اسلامیہ'' انجنیئرنگ یونیورسٹی ،لاہورکے طلباء کے لیے نصابی کتاب ہے جسے پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی(چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی،لاہور )اورڈاکٹر حافظ محمد شہباز( لیکچر شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی،لاہور) نے انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے سال دوم کے طلباء وطالبات کے لیے مرتب کیا ہے ۔ مرتبین نے اس کتاب میں اگرچہ زیادہ تفسیر ی وتشریحی نکات بیان نہیں کئے تاہم انہوں نے انجنیئرنگ یونیورسٹی کے طلباء طالبات کو بطور خاص اور دوسرے اداروں کے طلباء کوبالعموم قرآن فہمی اور علم حدیث کی بنیادی معلومات فراہم کردی ہیں ۔لہذا اہل اسلام کےلیے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہے ۔ افادۂ عام کےلیے اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا کیا گیا ہے اللہ تعالی سے دعا کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ہمارے سینوں کوفہم قرآن وحدیث کےلیے کھول دے (آمین)(م۔ا)

 

نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

مزيد مطالعہ...

title-pages-uloome-islamia
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی

اسلام دینِ حق ہےاس کے عقائد سچے او رخالص ہیں ،اس کی عبادات سادہ او رانسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس کےپیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں جن کی سیرت مطہرہ بنی نوع انسان کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ، آپ سب سے عظیم انسان ہیں جس کا اعتراف بعض انصاف پسند غیرمسلموں نے بھی ہے ۔انگریز مصنف مائکل ہارٹ نے تاریخ انسانی کے سو بڑے آدمیوں کی فہرست مرتب کی تو اس نے نبی کریم ﷺکے نام کو سرفہرست رکھا ۔سلسلہ انبیاء کےآخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں اور اسلام آخری او رحتمی دین ہے جو قیامت تک تمام لوگوں کے لیے جامع اورعالمگیر منبع ہدایت ہے اسی فکری وعملی دعوت کے لیے شعبہ علوم ِاسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی ،لاہور گزشتہ نصف صدی سے نہایت اخلاص سےمصروف عمل ہے۔زیر نظر کتاب ''علوم اسلامیہ'' انجنیئرنگ یونیورسٹی ،لاہورکے طلباء کے لیے نصابی کتاب ہے جسے پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی(چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی،لاہور )، ڈاکٹر حافظ محمد شہباز( لیکچر شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی،لاہور) نے انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے سال اول کے طلباء وطالبات کے لیے مرتب کیا ہے ۔ مرتبین نے اس کتاب کو سات حصوں (قرآن ، الحدیث ، عقائد اسلام ،سیرت النبیﷺ، اسلام او رجدید سائنس،اخلاقیات ) میں تقسیم کیا ہے تاہم دیگر اہل اسلام کےلیے بھی اس کتاب کا مطالعہ مفید ہے ۔لہذا افادۂ عام کےلیے اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے (م۔ا)

 

نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

مزيد مطالعہ...

pages-from-al-muhallah
امام ابن حزم اندلسی

زیر تبصرہ کتاب"المحلی"پانچویں صدی ہجری کے مسلمہ مجتہد امام ابن حزم اندلسی ﷫کی شہرہ آفاق تصنیف ہے،جسے علماء محققین عموما اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ اور امام ابن قیم ﷫جیسے اساطین علم وتحقیق خصوصا بڑی اہمیت دیتے ہیں۔یہ کتاب عبادات کے علاوہ زندگی کے تمام اہم معاملات پر حاوی،تقریبا اڑھائی ہزار مسائل واحکام پر مشتمل ہے۔عصر حاضر کے عربی ومصری اہل علم نے عصری مسائل کی تحقیق میں اس سے خوب خوب استفادہ کیا ہے۔جس دور میں امام ابن حزم﷫ نے یہ کتاب تصنیف فرمائی ،اس زمانے میں اندلس میں فقہ مالکی کا دور دورہ تھااور مالکی فقہاء پر تقلید جامد ایسی چھائی ہوئی تھی کہ اس کے مقابلے میں نصوص صحیحہ وصریحہ سے بھی بے اعتنائی عام تھی اور اس کی بنیاد بھی زیادہ تر" قیاس "پر ہوتی تھی۔ایسے ماحول میں امام ابن حزم ﷫نے یہ کتاب تالیف فرمائی جس میں ہر مسئلے کی بنیاد قرآن وحدیث اور وضاحتی آثار پر رکھی،اور چونکہ فقہاء میں "قیاس" کے حوالے سے غلو پایا جاتا تھااس وجہ سے قدرتی طور پر تقلید پر تنقید بھی شدید کیاور قیاس کے سلسلے میں امام داود ظاہری﷫ کے مسلک کو اپنایا جو ان معنوں میں قیاس کو نہیں مانتے تھے ،جو اہل تقلید کا مبنی تھا۔خطا ونسیان ،انسانیت کا خاصا ہے۔امام موصوف﷫ نے اگرچہ ہر مقام پر اہل تقلید کی موشگافیوں کے مقابلے میں نصوص کی برتری کو ملحوظ رکھا ہے ،تاہم بعض مقامات پر "ظاہریت محضہ "کے باعث شذوذ اور تفرد کا بھی شکار ہو گئے ہیں۔اور اہل باطل بسااوقات ان شذوذات سے غلط استدلال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔بہر حال ان کی یہ اجتہادی غلطیاں بموجب فرمان نبوی قابل عفو ہیں،بلکہ ایک اجر کا باعث ہیں۔اللہ تعالی مولف﷫ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کو ان کے لئے ذریعہ نجات بنائے۔آمین(راسخ)

مزيد مطالعہ...

title-pages-tahreek-khatm-e-nabuwwat-copy
ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)

 

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

title-pages-rasoole-kareem-saww-ki-jangi-sceem-copy
عبد الباری

نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ کا ایک بہت بڑا حصہ غزوات اور مغازی پر مشمل ہے ،جس پر باقاعدہ  مستقل کتب لکھی گئی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں۔مگر آپ کی جنگیں اور غزوات تاریخ انسانی میں غیر معمولی طور پر ممتاز ہیں۔اکثر دگنی،تگنی اور بعض اوقات دس گنی بڑی قوت کے مقابلہ میں آپ ہی کو قریب قریب ہمیشہ فتح حاسل ہوئی۔دوران جنگ اتنی کم جانیں ضائع ہوئیں کہ انسانی خون کی یہ عزت بھی تاریخ عالم میں بے نظیر ہے!آخر یہ جنگیں کیوں اتنی ممتاز وبے نظیر ہیں؟ان کی نوعیت کیا ہے؟ان جنگوں میں کیا کیا حربی تدابیر اختیار کی گئیں؟کامیابی کا کیا راز تھا؟زیر تبصرہ کتاب (رسول کریم ﷺ کی جنگی اسکیم) میں انہی سوالات اور باتوں کو نمایاں کیا گیا ہے ،تاکہ نبی کریم ﷺ کی جنگی اسکیم کی خوبصورتی مسلمانوں اور غیر مسلموں سب پر واضح ہو جائے۔یہ کتاب محترم عبد الباری ایم اے کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺکے تمام غزوات کی تفصیلات نقشوں کی مدد سے پیش کر دی ہیں۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

 نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

pages-from-islam-aur-fiqhi-makatab-e-fikar
محمد سلطان المعصورمی

انسان کی طبیعت اور اس کا مزاج ہے کہ وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے،اور اس کا یہ طرز عمل زندگی کے تمام معاملات میں ہوتا ہے۔اسی طرح اس کے دین کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں بھی خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہےاور پھر دین اسلام سے بھلا اور کونسا دین خوب تر ہوگا۔تو بہر کیف کسی مسلمان کا مقلد بب جانا ایک ایسی سائیکل پر سوار ہونے کے مترادف ہے کہ جس کے پہیے تو گھومتے ہیں مگر وہ ایک جگہ پر ہی کھڑی رہتی ہے،جس سے ورزش کاکام تو لیا جا سکتا ہے مگر سفر طے نہیں کیا جاسکتا ہے۔لہذا تقلید کو اختیار کرنا انسان کے فطری مزاج اور طبیعت کے خلاف ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں غیر مسلم ملت اسلامیہ سے ہر میدان میں پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔کاش کی ہم بھی دل کی آنکھیں کھول لیتے اور کتاب وسنت سے حقیقی راہنمائی حاصل کر کے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتے۔زیر تبصرہ کتاب(اسلام اور فقہی مکاتب فکر)جناب محمد سلطان المعصومی الخجندی المکی ﷫کی عربی تالیف "ھل المسلم ملزم باتباع مذھب من المذاھب الاربعۃ"یعنی کیا مسلمان مذاہب اربعہ میں سے کسی خاص مذہب کا پابند ہے،کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محمد یوسف نعیم نے حاصل کی ہے۔کتاب اگرچہ کچھ نو مسلم جاپانیوں نے چند سوالات کے جوابات اور رد تقلید کے موضوع پر لکھی گئی ہے،مگر مجموعی طور پر اس کی افادیت عمومی اہمیت کی حامل ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائےاور امت مسلمہ کو تقلید کے جمود سے نکال کر اجتہاد کے مقام پر فائز کر دے۔آمین(راسخ)

مزيد مطالعہ...

title-pages-tahreek-khatm-e-nabuwwat-copy
ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)

 

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

pages-from-muhammad-rasool-ullah-pbuh-mustashrkeen-k-khialat-ka-tajzia-copy
پروفیسر محمد اکرم

اللہ تعالی کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی  حیات مبارکہ پر بے شمار کتابیں تحریر کی  گئی ہیں ۔ تاریخ انسانی کی کوئی شخصیت ایسی نہیں  جس کی  زندگی پر اتنا وسیع اور تمام جزئیات کے ساتھ ہمہ جہت علمی کام ہوا ہو ،جتنا     نبی ﷺ پر ہوا ہے ۔ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اب تک دنیا کی مختلف زبانوں میں آپ ؐ   کی سیرت پر مسلم  وغیر مسلم  اہل علم  نے لاکھوں کی تعداد میں تصنیف  وتالیف کا وقیع کام کیا ہے ۔انیسویں اور بیسویں صدی  میں  مغربی اہل علم نے  حضور اکرم ﷺ پر متعدد کتابیں تحریر کیں۔سیکڑوں مغربی اہل دانش   نے حضور  اکرم ﷺکی تحسین وتعریف میں زورِ قلم صرف کیا ہے  ، لیکن  مغربی مصنفین نے ایک  بڑی تعداد نے  آپؐ پر  گوناگوں اعتراضات بھی کیے ہیں۔ہرچند کہ ان کے  اعتراضات  نہایت بودے ،غیر معقول اور بے  وزن ہیں تاہم مسلمان اہل علم  نے ان اعتراضات کامدلل ومسکت جواب تحریر کیا ہے۔اردو زبان میں  اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔زیر نظر کتاب ’’  محمد رسول  اللہ ﷺ  مستشرقین  کے  خیالات  کا تجزیاتی  مطالعہ ‘‘پروفیسر  محمد اکرم طاہر   کی  تصنیف ہے  جس میں انہوں نے   نبی کریم ﷺ سیرت طیبہ   کے متعلق  شکوک وشبہات کا  مدلل جواب دینے کی  کوشش کی ہے ۔فاضل  مصنف نے اہل مغرب میں سے چند ممتاز اہل قلم  کے سیرت النبی ﷺ کے متعلق افکار ونظریات پر بحث کر کے  ان اعتراضات  کےسطحی پن کا پول کھولا ہے۔کارلائل ،منٹگمری واٹ ،مائکل ایچ ہاٹ اور برناڈلیوس  کے ان افکار کا جواب بھی  لکھا ہے  جن  کے اثرات پورے یورپ  کے اہل علم میں سرایت کیے ہوئے ہیں ۔  فاضل مصنف  نے بطور ایک مسلمان اپنے جذبات عقیدت کو بھی کتاب میں سمودیا ہے ۔ اللہ تعالی ٰ ان اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

 نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

title-pages-tahreek-khatm-e-nabuwwat-copy
ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)

 

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

title-pages-islami-sahafat-copy
سید عبید السلام زینی

معاشرے کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لئے اصلاح وتجدید کی جو کوششیں ہو رہی ہیں،ان کا تقاضا ہے کہ معاشرے کے ہر شعبے کے بارے میں اسلامی تعلیمات کو مرتب شکل میں پیش کرنے کی سعی کی جائے۔صحافت اور ذرائع ابلاغ بھی جدید معاشرے کا نہ صرف اہم شعبہ ہیں ،بلکہ یہ دوسرے تمام شعبوں پر اثر انداز ہو کر  ان کی صورت گری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہین۔اس لئے اس شعبے کا اسلامی بنیادوں پر استوار ہونا نہایت ضروری ہے،لیکن بد قسمتی سے اب تک اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اور اس باب میں کوئی سنجیدہ علمی کوشش نہیں کی گئی ہے۔اس شعبے میں اسلامی اصول واحکام کی کماحقہ پابندی نہ ہونے کے مضمر اثرات  بہت نمایاں ہیں۔ایک طرف صحافت اور اہل صحافت کا اخلاقی معیار متاثر ہو رہا ہے تو دوسری طرف اس کمی کے باعث ہمارے معاشرے میں گوناگوں خرابیوں کو راہ مل رہی ہے۔زیر تبصرہ کتاب (اسلامی صحافت) سید عبید السلام زینی  کی تصنیف ہے جو اسلامی صحافت کے اصولوں پر لکھی گئی اپنی طرز کی  ایک پہلی کتاب ہے۔فاضل مولف نے حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے صحافت کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا ہے اور کئی سال کی محنت اور عرق ریزی کے بعد یہ کتاب مرتب کر کے صحافت کے  اسلامی اصول مرتب فرما دیئے ہیں۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفرد اور پہلی کتاب ہے،صحافت کے تمام طالب علموں کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے اور اپنی صحافتی خدمات کو اسلام کی خدمت میں کھپا دینا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

pages-from-tazkara-abu-ul-wafa
عبدالرشید عراقی

شیخ الاسلام مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری﷫(1868۔1948ء) کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔آپ امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ مولانا غلام رسول قاسمی ، مولانا احمد اللہ امرتسری ، مولانا احمد حسن کانپوری ، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی اور میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحہم اللہ سے علوم دینیہ حاصل کیے۔ مسلک کے لحاظ سے اہل حدیث تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ اور بہت سی کتب لکھیں ۔ فنِّ مناظرہ میں مشاق تھے۔ سینکڑوں کامیاب مناظرے کئے ۔ آب بیک وقت مفسر قرآن ، محدث ، مورخ ، محقق ،مجتہدو فقیہ ،نقاد، مبصر ،خطیب ومقرر ،دانشور ،ادیب وصحافی ، مصنف ، معلم ،متکلم ،مناظر ومفتی کی جملہ صفات متصف تھے۔قادیانیت کی   تردیدمیں نمایا ں خدمات کی وجہ سے آپ کو فاتح قادیان کے لقب سے نوازا گیا ۔ برصغیر کے نامور اہل قلم و اہل علم نے آپ کے علم و فضل، مصائب و بلاغت، عدالت و ثقاہت، ذکاوت ومتانت، زہد و ورع، تقوی و طہارت، ریاضت وعبادت، نظم و ضبط اور حاضر جوابی کا اعتراف کیا ہے۔علامہ سید سلیمان ندوی نے آپ کی وفات پر اپنے رسالہ معارف اعظم گڑھ میں لکھا: ”مولانا ثناء اللہ ہندوستان کےمشاہیرعلماء میں تھے۔ فن مناظرہ کے امام تھے۔ خوش بیان مقرر تھے۔متعدد تصانیف کے مصنف تھے۔ موجودہ سیاسی تحریکات سے پہلے جب شہروں میں اسلامی انجمنیں قائم تھیں اور مسلمانوں اور قادیانیوں اور آریوں اور عیسائیوں میں مناظرے ہوا کرتے تھے، تو مرحوم مسلمانوں کی طرف سے عموما نمائندہ ہوتے تھے۔ اور اس حوالے سے وہ ہمالیہ سے لے کر خلیج بنگال تک رواں دواں رہتے تھے۔اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف جس نے بھی زبان کھولی اور قلم اٹھایا اس کے حملے کو روکنے کے لئے ان کا قلم شمشیر بے نیام ہوتا تھا۔ اور اسی مجاہدانہ خدمت میں انہوں نے عمر بسر کر دی۔ مرحوم اسلام کے بڑے مجاہد سپاہی تھے۔ زبان اور قلم سے اسلام پر جس نے بھی حملہ کیا۔ اس کی مداخلت میں جو سپاہی سب سے آگے بڑھتا وہ وہی ہوتے۔ اللہ تعالی اس غازی اسلام کو شہادت کے درجات و مراتب عطا کرے‘‘(معارف اعظم گڑھ مئی ١٩٤٨ء)آپ کی حیات حدمات کے حوالے مختلف   اہل علم نے   کتب تصنیف کی ہیں ۔اور پاک وہند کے رسائل وجرائد میں   اب بھی آپ کی خدمات جلیلہ کے سلسلے میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تذکرۂ ابو الوفا‘‘ معروف   مضمون نگار اور مؤرخ مولانا عبدالرشید عراقی﷾ کی تصنیف ہے ۔ جس میں عراقی صاحب نے شیخ الاسلام فاتح   قادیان ،امام المظاظرین مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کے حالات زندگی اور آپ کی علمی خدمات پر سیر حاصل بحث  اورجامع تبصرہ پیش کیا ہے ۔اللہ تعالی شیخ الاسلام کی دفاع اسلام کے لیے   خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی ٰمقام عطافرمائے (آمین) م۔ ا

مزيد مطالعہ...

pages-from-rasool-e-akram-paighambar-e-aman-o-salamti
مفتی محمد شفیع

اس دنیا میں انسانوں کے مختلف طبقات میں چھوٹے سے لیکر بڑے تک ،بچے سے لیکر بوڑھے تک،ان پڑھ جاہل سے لیکر ایک ماہر عالم اور بڑے سے بڑے فلاسفر تک،ہر شخص کی جد وجہد اور محنت وکوشش میں اگر غور سے کام لیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اگرچہ محنت اور کوشش کی راہیں مختلف ہیں مگر آخری مقصد سب کا قدرے مشترک ایک ہی ہے ،اور وہ ہے "امن وسکون کی زندگی"اور نبی کریم اسی امن وسلامتی کا علم بردارمذہب لے کر آئے۔ اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔زیر تبصرہ کتاب(رسول اکرم ﷺ پیغمبر امن وسلامتی) پاکستان کے مسلک دیو بند کے معروف عالم دین مولانا مفتی محمد شفیع کے ایک خطاب کی مطبوعہ شکل ہے۔جس میں انہوں نے پیغمبر اسلام کے اسی وصف اور امتیاز کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمالے۔آمین(راسخ)

مزيد مطالعہ...

title-pages-tahreek-khatm-e-nabuwwat-copy
ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)

 

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

title-pages-ibadat-copy
محمد قطب

پوری  کائنات اور کائنات کی ہرہر چیز اللہ رب العزت کی عبادت گزار ہے  البتہ عبادت کا طریقہ ہر مخلوق کےلیے  الگ الگ ہے ۔عبادت پورے نظام زندگی  کانام  ہے  جس  میں تجارت  و معیشت بھی ہے  اور سیاست ومعاشرت بھی،اخلاقیات بھی ہیں  اور معاملات بھی  حقوق وفرائض ِ انسانی کی تفیصلات بھی ہیں ۔ اور روح وباطن کی تسکین واصلاح کے لیے  عبادات کا سلسلہ بھی ۔جب انسان کی تخلیق عبادت کے لیے  ہوئی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے  کہ اس کی عبادت کا انداز  کیا ہو؟ اسے کس طرح اپنے  رب کی بندگی کرنی  ہے ؟ اور عبادت کہتے کسے  ہیں ؟ان سوالات  کو  کتاب وسنت کے  ورشنی میں  سمجھنے اور سمجھانے کے لیے   یہ  مختصر کتابچہ عربی  سے  اردو زبان  ترجمہ  کر کے  شائع کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا کہ  وہمیں اپنے دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہم اللہ کی عبادت اس کرح کریں جیسے کرنے کا حق  ہے (آمین) (م۔ا)

 نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

pages-from-islami-tehzeeb-o-saqafat
سید ابو الحسن علی ندوی

نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔زیر تبصرہ کتاب "اسلامی تہذیب وثقافت"ہندوستان کے معروف مؤرخ ،محقق اور عالم دین مولانا سید ابو الحسن ندوی ﷫کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

مزيد مطالعہ...

title-pages-tuhfa-nikah-sawalan-jawaban-quran-w-hadith-ki-roshni-main-copy
ابو عبیدہ ولید بن محمد

اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے  پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش  آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے  لیے  نبی ﷺ کی  ذات مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں  گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص  برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں  اور ان  رسومات میں بہت  زیادہ  فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے  جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ان  مواقع پر  تمام  رسوم تو ادا کی جاتی  ہیں  ۔لیکن  لوگوں کی اکثریت  فریضہ  نکاح کے  متعلقہ مسائل  سے  اتنی غافل ہے  کہ میاں  کو بیو ی کے حقوق  علم نہیں ،  بیوی  میاں  کے حقوق  سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے  نابلد ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’تحفہ نکاح سوالاً جواباً‘‘  فضیلۃ الشیخ  ابو عبیدہ  ولید بن  محمد  ﷾ عربی رسالہ هدية العروسين كا  اردو ترجمہ  ہے  ۔ یہ  رسالہ  مسائل نکاح پر مشتمل ہے س میں  منگنی سے لے کر شبِ زفاف کے آداب اور ولیمہ تک کے مسائل سوالاً جواباً  مختصر اور عام فہم انداز میں خوش اسلوبی سے  قرآن واحادیث کی  روشنی  بیان کیے گئے  ہیں ۔نکاح سے  قبل  اس کتاب کا مطالعہ  انتہائی مفید ہے  عزیزواقارب کے لیے شادی کے  تحائف میں  شامل کرنے  کےلائق  ہے ۔اللہ تعالی ٰ  اس کتاب کے  مولف،مترجم ،ناشر اور دیگر معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے  اور  عوام الناس  کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

pages-from-allah-ki-pasand-w-napasand-copy
محمد رفیق چودھری

اللہ کی پسند وناپسند ہر مسلمان کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے  کیونکہ اسی معیار پر اس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے ۔اگر بندے اللہ تعالی کےپسندیدہ کام کریں گے تو وہ ان سے راضی  اور خوش ہوگا او ران کو مزید نعمتوں اور بھلائیوں سے نوازے گا ۔لیکن اگر وہ   اللہ کےناپسندیدہ کام کریں گے  تو وہ ان سے ناراض ہوگا اور انہیں سزا دےگا۔پہلی صورت میں بندوں کےلیے  کامیابی  اور فلاح  ہے  اور دوسری   صورت میں ان کے لیے   ناکامی اور خسارا ہے ۔لہذا یہ ضروری ہے کہ ہم دنیا  اور آخرت  میں اپنی کامیابی اور فلاح کےلیے  صرف وہی  کام کریں جو اللہ تعالیٰ کوپسند ہیں اور جن کے  کرنے کا اس نے ہمیں حکم دیا ہے  خواہ وہ حکم  ہمیں  قرآن مجید   کے ذریعے  سےدیا گیا ہے یا سنت  کےذریعے سے ۔اسی طرح ہمیں دنیا اور آخرت میں ناکامی  اور خسارے  سےبچنے کے لیے  ایسے کاموں سےباز رہنا چاہیے جو  اللہ تعالیٰ  کو ناپسند ہیں اور جن سے اس نے  ہمیں منع فرمایا ہے  خواہ وہ ممانعت قرآن میں کی گئی  ہو یا سنت میں ۔اور ایمان  کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ایسے کام کیے جائیں جن سے اللہ  اور اس کا رسول ﷺ راضی ہو  جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِين (سورۃ توبہ :62)’’اللہ  اور اس کے رسول ﷺ زیادہ حق دار ہیں  کہ انہیں راضی کریں اگر  وہ مومن  ہیں ‘‘اس کے علاوہ ہرمسلمان اللہ تعالی کے اطاعت اور اس کےرسولﷺ کی اطاعت کاپابند ہے ۔زیرنظر کتاب  ’’اللہ کی پسند و پسند‘‘  ماہنامہ  محدث کے  معروف   کالم نگار  اور  کئی کتب کے مصنف  ومترجم محترم  مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی  تصنیف ہے  جس میں  انہوں نے  کتاب کو دوحصوں میں  تقسیم کرکے  ایسی بہت سے  قرآنی آیات اور احادیث پیش کی  ہیں کہ جن میں  وضاحت کی گئی ہے کہ کون کون سی چیزیں اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور کون کون سی ناپسند۔حصہ اول  میں  جو امو ر اللہ تعالیٰ کوپسند   ہیں ان کو بیان کیا ہے اور حصہ  دوم میں  جوامور اللہ کو ناپسند ہیں  ان کو   جمع کردیا ہے ۔ اللہ تعالی  فاضل مصنف کی اس کاوش کو  قبول فرمائے اور  تمام اہل اسلام کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے  (آمین) (م۔ا)

 نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزيد مطالعہ...

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

We have 2264 guests and no members online

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

گوگل میپ