علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
علامہ عبد الرحمن ابن خلدون
    title-pages-tareekh-ibne-khalidoonpart-1
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    کسی بھی معاشرے کی تعمیر کے لیے یہ عنصر خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ معاشرہ اپنی تاریخی روایات سے سبق سیکھتا رہے۔ تاریخ ہی اس بات سے پردہ اٹھاتی ہے کہ کن اسباب کی بناء پر ایک قوم ترقی کرتی ہے کس قسم کے نقائص کی وجہ سے ایک قوم زبوں حالی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کی تیسری جلد کا پہلا حصہ آپ کے سامنے ہے جس میں اسلامی تاریخ کے نہایت درخشاں دور کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا گیا ہے۔ علامہ عبدالرحمن ابن خلدون نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ زمانہ قبل ازاسلام کے واقعات کو مختصراً قلمبند کرنے کے بعد ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر وفات تک کے تمام قابل ذکر واقعات کو بیان کیا ہے۔  اس کے بعد خلفائے راشدین کے زریں عہد خلافت پر روشنی ڈالی گئی ہے اس میں خلفائے راشدین کی زندگیوں، ان کے دور میں ہونے والی فتوحات اور مسلمانوں کے کارناموں کو پوری تفصیل و توضیح کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس حصے کے ترجمے کے لیے حکیم احمد حسین الہ آبادی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور ترتیب و تبویب کے فرائض شبیر حسین قریشی نے بخوبی نبھائے ہیں۔

     

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘ کی گذشتہ جلد میں ممالیک بحریہ کی مصرو شام پر متحدہ سلطنت کے حالات اور سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں کے دوبارہ عروج و ترقی کے احوال شامل تھے۔ زیر نظر دسویں حصہ میں ممالیک بحریہ کی سلطنت کے خاتمے کی داستان درج کی گئی ہے۔ علامہ ابن خلدون نے اپنے مخصوص اندا ز میں ممالیک جراکسہ کی سلطنت، یمن کے رسول شاہی سلاطین، تاتاری چنگیز خانی سلاطین اور خاندانی دوشی خان کی سلطنت سے متعلق حقائق بیان کرتے ہوئے بلاد روم کے حکام اور بنوارتنا کی حکومت اور ترکی میں آل عثمان کی سلطنت کے آغاز پر تفصیلی بحث کی ہے۔

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘ کا گیارہواں حصہ آپ کے سامنے ہے۔ تاریخ کا یہ حصہ دوسرے حصوں سے اس اعتبار سے تفوق رکھتا ہے کہ اس میں ابن خلدون نے جوکچھ لکھا ہے اس میں ان کا اپنا مشاہدہ، تجربہ اور تحقیق شامل ہے۔ ابن خلدون نے اپنی زندگی کے آخری شب و روز مصر اور افریقہ کے دوسرے علاقوں میں بسر کئے تھے اور وہیں وفات پائی تھی یہ تاریخ وہاں کی قوموں اورحکمرانوں کے حالات و واقعات سے عبارت ہے۔ اس میں ان تمام خاندانوں کے حالات مندرج ہیں جنہوں نے اپنی حکومتیں شمالی افریقہ کے مختلف علاقوں میں قائم کی تھیں۔ اگرچہ یہ  حکمراں اورقبائل دوسرے حکمرانوں کی طرح پر شکوہ اور پرچشم نہیں تھے لیکن ان کے ہاتھوں بعض ایسے کارنامے انجام پائے جو اسلامی دور کی عظمت کی یاد دلاتے رہیں گے۔

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    اس وقت آپ کے سامنے ’تاریخ ابن خلدون‘ کی بارہویں اور آخری جلد ہے ۔ جس میں علامہ ابن خلدون نے 350ھ سے 800ھ تک دنیائے عرب میں پائے جانے والے ان قبیلوں کے سربراہوں اور ان کی قائم شدہ حکومتوں کا حال بیان کیا ہےجن کو مؤرخین نے تاریخ میں بت کم جگہ دی ہے۔ علامہ ابن خلدون کواس میدان میں دوسرے مؤرخین سے اس اعتبار سے بھی امتیازی حیثیت حاصل ہے کہ اس نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کا سفر کیا تھا وہاں کے رہنے والوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ سلاطین اور حاکموں کے درباروں میں شریک ہوا تھا اس لیے جو معلومات اس کو مہیا ہو سکتی تھیں دوسروں کے لیے ممکن نہ تھا یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے بیانات ہر قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر ہیں۔

     

    title-pages-tareekh-ibne-khalidoon-part-2
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘ کے گذشتہ حصہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی زندگی کے مختلف گوشےواکرتے ہوئے تاریخی حقائق سے نقاب کشائی گئی تھی۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کی زیر مطالعہ جلد میں خلفائے راشدین کے دور خلافت کے بعد 41 ھجری میں حضرت حسن کی صلح اور حضرت معاویہ کی خلافت عامہ سے لے کر 132ھ تک کے مکمل حالات کو قلمبند کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر خلافت راشدہ کے بعد قائم ہونے والی 91 سالہ  خلافت کو مسخ کر کے ایک مخصوص رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن علامہ ابن خلدون کی تاریخ کے زیر نظر حصہ کے مطالعہ کےبعد اندازہ ہوتا ہے کہ درحقیقت یہ زمانہ ہماری تاریخ کا اہم ترین دور ہے اور یہ زمانہ تمدن آفرینی اور کشور کشائی کے اعتبار سے بہترین زمانہ ہے۔ کتاب میں اس دور حکمرانی میں پیش آنے والےتمام تر واقعات و سانحات کوغیر جانبداری کےساتھ سپرد قلم کیا گیا ہے۔

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    132ھ میں مروان بن الحکم کی اولاد میں سے آخری فرماں روا مروان ثانی کو قتل کر دیا گیا اس کے قتل کے ساتھ مروانی دور حکومت اپنے اختتام کو پہنچا اور عباسی خلفاء کا دور شروع ہوا۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کے اس حصہ کی ابتدا آل مروان سے بنو عباس کی طرف خلافت کی منتقلی سے ہوتی ہے۔ کس طرح اقتدار مروانی خلفاء کے ہاتھوں سے نکل کر عباسی خلفاء میں آیا اور عباسی خلافت کن حالات میں قائم ہوئی اور کیسے قائم ہوئی ، کن کن مؤثرات نے کام کیا، کون کونسی تحریکیں چلائی گئیں ان سب حقائق سے آگاہی حاصل ہوگی ’تاریخ ابن خلدون‘ کےاس حصہ سے۔ آپ جہاں یہ دیکھ سکیں گے کہ خلافت بنی عباس کن حالات اور کن اسباب کی بناء پر قائم ہو سکی وہاں آپ سے وہ اسباب بھی پوشیدہ نہ رہ سکیں گے جو کسی حکومت کے زوال کو ایک فیصلہ قضاء و قدر کی طرح ضروری بنا دیتے ہیں۔

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘ کا یہ حصہ خلافت بنی عباس کے ساتھ منسلک ہے پہلے  حصے میں خلافت بنو عباس کی ابتدا سے لے کر احمد بن متوکل معتمد علی اللہ کے عہد تک کی مکمل داستان رقم کی گئی تھی۔ کتاب کا یہ حصہ احمد بن موفق معتضد باللہ کی خلافت سے لے کر  بنی عباس کے آخری خلیفہ احمد بن ابو بن علی حسن حاکم بامر اللہ کی خلافت تک کے تمام حالات و واقعات پر مشتمل ہے۔ علامہ ابن خلدون نے زوال بغداد کی ابتداء سے اس وقت تک کے واقعات، حوادث اور عبر کو اپنی خداد داد قابلیت اور حقیقت شناسی کے ساتھ بیان کیا ہے جبکہ زوال بغداد اپنی انتہا کو پہنچ کر ہلاکو خان کی صورت میں بغداد آ پہنچا اور خواجہ نصیر الدین کی آتش انتقام بھڑک کر سوا پانچ سو سال پرانے تہذیب و تمدن کو سیاہ کر گئی۔

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    افریقہ کے نامور گورنر اور یورپ کے فاتح موسیٰ بن نصیر کے جواں سال لیفٹیننٹ نے صرف سات ہزار مجاہدوں کے ساتھ بحیرہ روم پار کر کے اندلس کی تسخیر کے بعد صدیوں پرانی تاریخ کا رخ ہی بدل ڈالا۔ کائنات کے پر اسرار شہسواروں کے قدم ابھی پوری طرح اندلس میں جمنے بھی نہ پائےتھے کہ جہانبانوں کی ایک ٹولی نے جزیرہ صقلیہ سسلی کی طرف لگام اٹھائی ان کی دوسری لہر اندلس کو فرانس سے کاٹنے والے کوہستان پیری نیز کو پھلانگتی ناریون کو پامال کرتی فرانس اور جرمنی کی سرحد پر دریائے طورس کے کنارے سے جاٹکرائی۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کے زیر نظر حصہ میں تاریخ کے ان جواں بختوں کی فتوحات کا تفصیلی اور دلچسپ تذکرہ موجود ہے۔علامہ ابن خلدون نے امیر عبدالرحمان الداخل سے لے کر آخری دور زوال تک گلستان اندلس کی کہانی، اور اس کے بعد ایک بے مثال تمدن کی ابتدا و انتہا، مشرقی خلافت کے اندر فرقوں کی پیداوار، ترکوں کی یلغار اور فاطمیوں کے عروج و زوال کی عبرتناک داستان اپنے مخصوص انداز میں بیان کی ہے۔ حکیم احمد حسین الہ آبادی کے بامحاورہ اور بے ساختہ ترجمہ نے کتاب کی شان کو بڑھا دیاہے۔

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    تاریخ ابن خلدون کے چھٹے حصے میں غزنوی اور غوری سلاطین کے دو مختلف دور یکجا کئے گئے ہیں۔ محمود غزنوی وہ مرد مجاہد ہے جس کواس کے باپ امیر سبکتگین نے قلعے کے اندر نہیں بلکہ میدان جنگ میں شہسواری، شمشیر زنی اور تیر اندازی کی تعلیم دی تھی۔ محمود غزنوی اپنے والد کی وفات کی بعد کمسنی ہی میں اپنے لشکر سمیت راوی کے کنارے اترا اور انند پال کے ٹڈی دل کو گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندتے ہوئے لاہور پر قابض ہوگیا۔ پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ملتان سے بھٹیز، دلی سے بندرا بن، کالنجر سے قنوج اور گوالیار سے گجرات کاٹھیا واڑ تک بت پرستوں کی صفوں کو کاٹتا ہوا سومنات کے مندر تک بڑھتا چلا گیا اور پھر سومنات کے سب سے بڑے شکتی مان بت کو اپنے ہاتھوں سے پاش پاش کیا۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کے اس حصہ میں جہاں غزنویوں کی شاندار فتوحات کا تذکرہ ہے وہیں اس شہاب الدین غوری کا بھی تذکرہ ہے جس نے ترواڑی کے میدان میں دلی اجمیر کے چوہان مہاراجہ رائے پتھورا پرتھوی راج سے شکست کھانے کے بعد اگلے ہی سال تراوڑی میں رائے پتھورا کو عبرتناک شکست سے نوازا۔علامہ ابن خلدون نے  اس جنگ کا بھی تذکرہ کیا ہے جب برصغیر کے ایک سو ایک راجاؤ ں نے اشوک اعظم کے دیس کو مسلمانوں سے محفوظ رکھنے کی قسم کھائی تھی۔ یہ گھمسان کی جنگ بھی تراوڑی کے میدان میں لڑی گئی اور مسلمانوں کوایسی فتح نصیب ہوئی کہ آنے والی کئی صدیوں تک برصغیر ہندوستان اسلامی پرچم کے پرسکوں سائے سمٹا پڑا رہا۔

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘کا زیر نظر حصہ سلجوقی اور خوارزم شاہی خانوادوں اور فتنہ تاتار پر مشتمل خون سے رنگی ہوئی وہ  داستان جس میں ہر طرف کٹے پھٹے انسانی لاشے اور کھوپڑیوں کے مینار نظر آتے ہیں۔ سلاطین سلجوقیہ میں الپ ارسلان بانی دولت سلجوقیہ، قزل ارسلان، ملک شاہ سلجوقی، سلطان سنجر، قطلمش والی قونیہ و بلاد روم، توران شاہ تاج دار فارس بڑے بڑے اولوالعزم حکمران گزرے ہیں۔ ملوک خوارزم کی سلطنت انہی سلجوقیوں کی سلطنت کی ایک شاخ ہے۔ انہی کے زمانہ میں چنگیز خان تاتاریوں کو لےکر نکلااور اسلامی حکومت کا شیرازہ بکھیرکر خوشحال شہروں کو آہوں اور سسکیوں میں بدلتا بلا روک ٹوک آگے بڑھتا چلا گیا۔ علامہ ابن خلدون نے ان کے حالات و انساب، خانہ جنگیاں، تاتاریوں اور سلجوقیوں کی لڑائیوں کو کمال تحقیق اور تدبر سے نقل کیا ہے۔ تاریخ ابن خلدون کے ساتویں حصے کے متعلق چوہدری محمد اقبال سلیم گاہندری کہتے ہیں کہ سچ پوچھئے تو یہ علامہ عبدالرحمن ابن خلدون جیسے صاحب نظر، محقق مؤرخ کے درد مند دل کی گہرائیوں سے نکلا اور خون جگر میں ڈوبا ہوا مرثیہ ہے انہوں نے یہ طویل، عبرتناک مرثیہ، عربوں کی عین عنفوان شباب ہی میں واقع ہونے والی موت پر کیا تھا۔

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    تاریخ ابن خلدون کی یہ جلد زنگی فرمانرواؤں اور ایوبی سلاطین کے دور حکومت پر مشتمل ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ہلاکو خان تاتاری کے ہاتھوں تباہی بغداد اور اس کے اثرات ما بعد کا بیان بھی اس میں موجود ہے۔ 583ھ میں اسلام کے ایک بطل جلیل سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو صلیبی نصرانی بادشاہوں کے 91 سالہ قبضہ، ظلم اور تعدی سے نجات دلائی تھی۔ پچھلے 91 سال سے بیت المقدس پر تعصب و کم ظرفی کے پیکر یورپ کے نصرانی بادشاہ قابض تھے اور اس یقین میں مبتلاتھے کہ کوئی شخص بیت المقدس کو ان کے خون آلود آہنی پنجوں سے نہیں چھڑ ا سکتا۔ ان کا یہ غرور خاک میں مل گیا اسد الدین شیر کوہ کے بھتیجے اورسلطان نور الدین کے سابق فوجی افسر سلطان صلاح الدین ایوبی کی شمشیر خاراشگاف نے غرور و تکبر کے پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دیا اور بیت المقدس کو آزاد کر ا لیا۔  اس جلد کا اردو ترجمہ مولانا رشید احمد ارشد نے کیا ہے جو کہ جامعہ کراچی کے پروفیسر ہیں اور ایک جانے پہچانے صاحب علم و قلم ہیں۔

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    تاریخ ابن خلدون کے پیش نظر حصہ میں ممالیک بحریہ مصر و شام پر متحدہ سلطنت  اور سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں کے دوبارہ عروج و ترقی کے حالات  مذکور ہیں۔ سقوط بغداد اور عباسی خلافت کا خاتمہ اسلامی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ ہے۔ مگر یہ مسلمانوں کی تباہی کا آخری باب تھا کیونکہ اس سے پیشتر چنگیز خان اور اس کی اولاد ایران، خراسان اور ترکستان کی اسلامی سلطنتوں اور ان کے با رونق شہروں کو فنا کر چکی تھی۔ ان المناک حادثات کی بدولت مسلم قوم نہ صرف مادی اور سیاسی حیثیت سے تباہ ہوئی بلکہ وہ اخلاقی، علمی اور روحانی حیثیت سے بھی مفلوج ہو گئی تھی۔ ایسے موقع پر سلاطین ممالیک بحریہ کی فوج نے فتنہ تاتار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور نہ صرف مصرو شام کو ان کی یلغار اور تباہ کاریوں سے بچایا بلکہ یورپ اور باقی ماندہ دنیا کو ان کے وحشیانہ حملوں سے محفوظ رکھا ۔ تاریخ ابن خلدون کے اس حصہ کا ترجمہ بھی حافظ سید رشید احمد ارشد نے نہایت شستہ اردو میں کیا ہے۔

     

    pages
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    تاریخ ایک انتہائی دلچسپ علم ہے خاص طور پر اسلامی تاریخ، جس میں صداقت کو خصوصاً ملحوظ رکھا گیا ہے دنیا کی تاریخ جھوٹے سچے واقعات سے پُر ہے، جس سےاس کی افادیت کا پہلو دھندلاگیا ہے ۔ تاریخ اسلامی پر مشتمل علامہ عبدالرحمن ابن خلدون کی زیر مطالعہ کتاب کی ورق گردانی سے آپ جان سکیں گے کہ اسلامی تاریخ میں تاریخی واقعات کو حقیقی رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کے رطب و یابس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ آپ کےسامنے اس وقت ’تاریخ ابن خلدون‘ کا پہلا اور دوسرا حصہ ہے۔ پہلے حصے میں علامہ موصوف نے حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد چھٹی صدی عیسوی تک کے حالات و انساب تفصیل کےساتھ درج کیے ہیں۔ ان میں انبیائے بنی اسرائیل و عرب اور بابل و نینوا و موصل و فراغہ کے صحیح اور سچے واقعات شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک تقریباً چھ سو سال کے مکمل حالات، عقائد و افکار میں تغیرات، مراسم اور توہمات کی پیداوار اور ان کے نتائج کی پوری تفصیل و استناد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

     

    title-page-1
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    مؤرخین کی جانب سے تاریخ اسلام پر متعدد کتب سامنے آ چکی ہیں لیکن ایسی کتب معدودے چند ہی ہیں جن میں ایسے اصولوں کی وضاحت کی گئی ہو جن کی روشنی میں معلوم کیا جا سکے کہ بیان کردہ تاریخی واقعات کا تعلق واقعی حقیقت کے ساتھ ہے۔ علامہ ابن خلدون نے تاریخ اسلام پر ’کتاب العبر و دیوان المبتداء والجز فی ایام العرب والعجم والبریر‘ کے نام سے ایک شاندار کتاب لکھی اور اس کے ایک حصے میں وہ اصول اور آئین بتائے جن کے مطابق تاریخی حقائق کو پرکھا جا سکے۔ انہی اصول وقوانین کا اردو قالب ’مقدمہ ابن خلدون‘ کے نام سے آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے رواں دواں ترجمے کےلیے علامہ رحمانی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مقدمے کی تقسیم چھ ابواب اور دو جلدوں میں کی گئی ہے۔ دونوں جلدیں تین، تین ابواب پر محیط ہیں۔ پہلے باب میں زمین اور اس کے شہروں کی آبادی، تمول و افلاس کی وجہ سے آبادی کے حالات میں اختلاف اور ان کے آثار سے بحث کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں بدوی آبادی اوروحشی قبائل و اقوام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرے باب میں دول عامہ، ملک، خلافت اور سلطانی مراتب کو قلمبند کرتے ہوئے کسی بھی سلطنت کےعروج و زوال کے اسباب واضح کیے گئے ہیں۔ چوتھے باب میں شہروں، مختلف آبادیوں اور ان کے تمدن کو واضح کیا گیا ہے نیز مساجد اور مکانوں کی تعمیر سے بھی بحث کی گئی ہے۔ پانچواں باب معاش و کسب و صنائع پر مشتمل ہے تو چھٹا اور آخری باب علوم اور ان کی اقسام، تعلیم اور اس کے طریقوں اور مختلف صورتوں پر مشتمل ہے۔

    title-page-2
    علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    مؤرخین کی جانب سے تاریخ اسلام پر متعدد کتب سامنے آ چکی ہیں لیکن ایسی کتب معدودے چند ہی ہیں جن میں ایسے اصولوں کی وضاحت کی گئی ہو جن کی روشنی میں معلوم کیا جا سکے کہ بیان کردہ تاریخی واقعات کا تعلق واقعی حقیقت کے ساتھ ہے۔ علامہ ابن خلدون نے تاریخ اسلام پر ’کتاب العبر و دیوان المبتداء والجز فی ایام العرب والعجم والبریر‘ کے نام سے ایک شاندار کتاب لکھی اور اس کے ایک حصے میں وہ اصول اور آئین بتائے جن کے مطابق تاریخی حقائق کو پرکھا جا سکے۔ انہی اصول وقوانین کا اردو قالب ’مقدمہ ابن خلدون‘ کے نام سے آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے رواں دواں ترجمے کےلیے علامہ رحمانی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مقدمے کی تقسیم چھ ابواب اور دو جلدوں میں کی گئی ہے۔ دونوں جلدیں تین، تین ابواب پر محیط ہیں۔ پہلے باب میں زمین اور اس کے شہروں کی آبادی، تمول و افلاس کی وجہ سے آبادی کے حالات میں اختلاف اور ان کے آثار سے بحث کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں بدوی آبادی اوروحشی قبائل و اقوام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرے باب میں دول عامہ، ملک، خلافت اور سلطانی مراتب کو قلمبند کرتے ہوئے کسی بھی سلطنت کےعروج و زوال کے اسباب واضح کیے گئے ہیں۔ چوتھے باب میں شہروں، مختلف آبادیوں اور ان کے تمدن کو واضح کیا گیا ہے نیز مساجد اور مکانوں کی تعمیر سے بھی بحث کی گئی ہے۔ پانچواں باب معاش و کسب و صنائع پر مشتمل ہے تو چھٹا اور آخری باب علوم اور ان کی اقسام، تعلیم اور اس کے طریقوں اور مختلف صورتوں پر مشتمل ہے۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 338 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :